Translater

15 مارچ 2014

ممتا نے فلاپ ریلی کر اپنی اور انا کی فضیحت کروائی!

ترنمول کانگریس کی سربراہ ممتا بنرجی کی مغربی بنگال سے باہر پیر پھیلانے اور اس کے ذریعے یا یوں کہیں انا ہزارے کے ذریعے مرکز کی سیاست کا کنگ میکر بننے کی پہلی ہی کوشش دھارا شاہی ہوگئی ہے۔ دہلی کے رام لیلا میدان میں ہوئی ترنمول کی ریلی میں نہ تو بھیڑ اکھٹی ہوئی اور نہ ہی انا ہزارے آئے۔ عین موقعے پر وہ غچہ دے گئے۔ دہلی میں ہی تھے لیکن ریلی میں نہ آنا بہتر سمجھا۔ بے وجہ بتائی گئی بیماری جبکہ صبح کہا گیا تھا کہ وہ ریلی میں آئیں گے اور کئی دنوں سے یہ پروپگنڈہ بھی کیا جارہا تھا لیکن وہ نہ پہنچے اور نہ ہی بھیڑ آئی۔ آخر کار 10 بجے شروع ہونے والی ریلی ڈیڑھ بجے شروع ہوسکی۔ ممتا اپنے حمایتیوں کے ساتھ جب میدان میں آئیں تو مشکل سے مٹھی بھر لوگ موجود تھے۔ رام لیلا میدان میں 80فیصدی کرسیاں خالی تھیں۔ خیال کیا جاتا ہے کہ انا نے ان کے سہارے قومی خواہشات کی تکمیل کرنے کیلئے ممتا کی سیاست کو بھانپ کر اور ریلی سے دوری بنا لی۔ حالانکہ فلاپ ریلی اور انا کی غیر موجودگی کے باوجود ممتا نے کہا کہ وہ قومی سطح پر ایک متبادل کھڑا کرنے کی کوششیں پوری شدت کے ساتھ جاری رکھیں گی انہوں نے کہا کہ انا ہزارے خود اپنی ریلی میں کیوں نہیں آئے؟ یہ ریلی تو انا کی تھی جس میں شرکت کی انہیں دعوت دی گئی تھی۔ خاص بات یہ ہے کہ ریلی میں شرکت کرنے انا منگلوار کو ہی دہلی پہنچ چکے تھے مگر راجدھانی میں موجود رہنے کے باوجود ریلی سے کنارہ کرلیا۔ بتایا گیا ہے کہ طبیعت خراب ہونے کی وجہ سے یہ دوری بنائی مگر یہ بات کسی کے گلے اتر نہیں رہی کے جس انا نے اسی رام لیلا میدان میں کئی دن تک انشن کیا ، اپنی صحت کا خیال تک نہیں رکھا اور انشن پر پڑے تھے حالانکہ انہوں نے طبیعت ٹھیک ہونے کی دلیل پر کیسے ریلی میں شرکت سے منع کردیا۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ ریلی میں امید سے کم لوگوں کو دیکھتے ہوئے انانے اپنے قدم پیچھے کھینچ لئے۔ یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں ممتا بنرجی انا ہزارے کے ذریعے اپنی پارٹی کا مینڈیٹ بڑھانا چاہتی تھیں۔ دہلی میں ریلی منعقدہ کرنے کے پیچھے ان کی قومی تمنائیں اجاگر ہوتی ہیں یہ بات انا کیسے نہیں بھانپ پائے؟ جب ترنمول نے اس ریلی کا خاکہ تیار کیا تو جس جذباتی یا اصولی دباؤ میں انا ہزارے نے اس میں حصہ لینے کی حامی بھرلی اور اس کے لئے دہلی تک بھی آئے۔ کیا یہ سمجھا جائے کرپشن اور جن لوک پال کے اشو پر رام لیلا میدان میں جو ساکھ انا کی بنی تھی وہ اب ختم سی ہوگئی ہے۔ لوک پال بل بننے اور اسے منظور کرنے کے بعد انا کا گراف تیزی سے گرا ہے پھر وہ کس بنیاد پر ممتا بنرجی کے ساتھ جڑ گئے سمجھنا مشکل ہے۔ انا ہزارے کی ساکھ ایماندار سماجی رضاکار کی رہی ہے۔ سیاسی عمل کے حق میں وہ کبھی نہیں رہے اس لئے جب انہوں نے عام آدمی پارٹی سے خود کو الگ کیا تو لوگوں کو اس پر حیرت نہیں ہوئی لیکن ممتا بنرجی کے ساتھ کھڑے ہوئے تو فطری طور سے ان پر انگلیاں اٹھنے لگیں۔ اس صورتحال کے لئے انا خود ذمہ دار ہیں۔
(انل نریندر)

تاکہ سیاست میں داغیوں کو دور رکھا جائے!

داغیوں پر پہنچی سیاسی پارٹیاں بھلے ہی سیاست کررہی ہوں لیکن عزت مآب سپریم کورٹ معاملہ میں نہ صرف سخت ہے بلکہ یہ سختی بڑھاتی جارہی ہے۔ پچھلی جولائی میں سپریم کورٹ نے ایم پی اور ممبران اسمبلی کی ممبر شپ کو عوامی نمائندگی قانون کی دفعہ 8(4) کے تحت ملی سکیورٹی ختم کردی گئی تھی۔ اس نے فیصلہ دیا کہ جن ممبران و ممبران اسمبلی کو سال یا اس سے زیادہ قیددینے والے معاملوں میں سزا ہوگی تو ان کی ممبر شپ ختم ہوجائے گی۔ اپنے تازہ فیصلے میں بڑی عدالت نے جس طرح کا سخت رویہ اپنایا ہے اس سے صاف ہے کہ آنے والے دن مجرمانہ مقدموں کو سامنا کررہے عوامی نمائندوں کے لئے تکلیف دہ ثابت ہوسکتے ہیں۔ بڑی عدالت نے نچلی عدالتوں کو کہا ہے کہ وہ ایم پی اور ممبران اسمبلی پر چل رہے کرپشن اور دیگر سنگین معاملوں کی سماعت ایک سال کے اندر پوری کریں ضروری ہونے پر ان معاملوں کی سماعت روزانہ کرنے کو بھی کہا گیا ہے۔ سیاست سے وابستہ لوگوں خاص کر عوامی نمائندوں سے متعلق لمبے عرصے تک عدالتوں میں مقدمے چلتے رہتے ہیں اور ان پر فیصلہ نہیں آپاتا۔ اسی نقطہ نظر سے یہ پیغام بھی جاتا ہے کہ مقدمے کے چلتے رہنے سے ان کے خلاف کچھ ہونے والا نہیں ہے۔ عدالت کو فیصلہ اس عرضی پر دینا تھا کہ جن ایم پی اور ایم ایل اے کے خلاف عدالت میں کوئی جرائم کے مقدمات طے ہوگئے ہیں ان کی ممبر شپ ختم کردی جائے۔ اگر کورٹ اس حد تک نہیں جا سکتا تو اس کے لئے ضروری قانون موجود نہیں ہے۔ اگر الزام طے ہونے کے باوجود عدالتی کارروائی لیٹ لطیفی کے سبب متعلقہ ایم پی و ایم ایل اے بے میعاد اپنے عہدے پر بنے رہتے ہیں ،اس رواج کو توڑنے کے لئے بڑی عدالت کا فیصلہ لائق تحسین ہے اور مناسب بھی ہے۔ اگر نچلی عدالتیں ایک سال میں ایسے داغیوں کا مقدمہ نہیں نمٹا پائیں اس صورت میں اسے متعلقہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو اس کی تحریری وجہ بتانی ہوگی۔ صاف ہے سپریم کورٹ نے عوام کے نمائندوں کے خلاف لٹکے مقدموں کو فوری نمٹانے کے لئے پٹری پر لا دیا ہے اس کی اہمیت دوطرفہ ہے۔ بہت سی سیاسی پارٹیوں کو یہ شکایت رہتی ہے کہ انہیں جانبداری یا سیاسی بدلے کے جذبے سے جھوٹے مقدموں میں پھنسایا گیا ہے۔ فرضی مقدمہ کسی کے لئے ایک ہتھیار اور عزت کو ٹھیس پہنچانے والا ہوتا ہے جو لوگ عوامی زندگی میں سرگرم ہیں ان کے لئے یہ اور بھی برا ثابت ہوتا ہوگا۔ بدقسمتی یہ ہے کہ سیاسی پارٹیوں کو پرانی شکایت کے باوجود اس سے نکلنے کے کوئی قانونی پہل یعنی آئین سازیہ کی طرف سے نہیں ہوئی۔ اگر ہم عوامی نمائندوں کی بات کریں تو دیش کے وزیر خارجہ سلمان خورشید کا تازہ بیان دیکھیں جو اپنے بیباک اور کبھی کبھی قابل اعتراض بیانوں کے لئے مشہور ہیں انہوں نے سپریم کورٹ اور چناؤ کمیشن دونوں کا مذاق اڑایا ہے۔ خورشید اسکول آف اورینٹل اینڈ افریقن اسٹڈیز کے پروگرام میں بول رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا چناؤ کمیشن نے حال ہی میں ہمیں جو ہدایت دی ہیں اس کے مطابق ہمارا چناوی منشور ایسا ہونا چاہئے جس میں سڑکوں کوبنانے کا وعدہ شامل نہیں ہونا چاہئے۔سپریم کورٹ کے کردار پر سلمان خورشید نے کہا عدالت ان اشوز پر رائے دے رہی ہے جن پر جمہوری اصولوں کے مطابق پارلیمنٹ ، سرکار کو فیصلہ کرنا ہے یعنی مطلب صاف ہے عدالتیں ہمیں داغیوں پر کوئی ہدایت نہ دیں۔ہم خود فیصلہ کریں گے۔
(انل نریندر)

14 مارچ 2014

آر ایس ایس چیف موہن بھاگوت کے ایک تیر سے کئی نشانے!

بینگلورو میں منعقدہ نمائندگی اجلاس کو خطاب کرتے ہوئے آر ایس ایس کے چیف موہن بھاگوت نے جو کچھ کہا اس کے کئی مطلب نکلتے ہیں۔ دراصل انہوں نے ایک تیر سے کئی نشانے لگائے ہیں۔اس سے پہلے کے ہم بتائیں کہ انہوں نے کیا کہا کس کو کہا یہ سمجھنا ضروری ہے یہ باتیں کیوں کہیں؟ کونسی پریشانی انہیں ستا رہی ہے؟ آج سیاسی حالت یہ ہے کہ پورے دیش میں نریندر مودی کی لہر ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کو دہلی کی گدی نظر آنے لگی ہے لیکن جیسے ہی مودی کا گراف بڑھتا ہے بھاجپا کے دوسرے لیڈر کوئی نہ کوئی تنازعہ کھڑا کردیتے ہیں اور جو گراف بڑھتا ہے وہ پھر نیچے آجاتا ہے۔بھاجپا کے سامنے گول پوسٹ ہیں،گول مارکر 2014ء لوک سبھا چناؤ جیتنے کی پوزیشن میں ہے اور موہن بھاگوت کو پریشانی یہ ہے کہیں آخری لمحوں میں ٹیم فائنل کر دوسرے کو پینلٹی نہ تھمادے۔ آخری لمحوں میں جیتا میچ ہار جائے۔ 2004ء کا انڈیا شائننگ مثال ہے۔ آج بھی وہ لوگوں کے دلوں میں تازہ ہے جب ضرورت سے زیادہ بھروسہ یا جسے کہیں توقع سے زیادہ اعتماد۔ بھاجپا چناؤ ہار گئی۔ کہیں تاریخ اپنے آپ کو دوہرانہ دے اسی بارے میں وارننگ دے رہے ہیں بھاگوت۔ ان کا یہ کہنا کہ زیادہ ’نمو نمو‘ نہ جپا جائے۔ موہن بھاگوت نے کہا آر ایس ایس سیاست میں نہیں ،ہمارا کام ’نمو نمو‘ کرنا نہیں ہے۔ ہمیں اپنے مقصد کے حصول کے لئے کام کرنا ہے اس لئے آپ مریادا میں رہ کر کام کریں اور آر ایس ایس کے اصولوں سے کھلواڑ نہ کریں۔ بھاگوت نے صاف کردیا کہ ہمیں کسی شخص خاص کے پروپگنڈے سے دور رہنا چاہئے۔ موہن بھاگوت نے ایک تیر سے کئی نشانے لگائے ہیں جن پر نشانہ لگایا وہ اتفاق سے اسٹیج پر اس وقت موجود تھے۔ میں بھاجپا صدر راجناتھ سنگھ کی بات کررہا ہوں۔ سنگھ اور بھاجپا میں تال میل کرنے والے رام لال کی بات کررہا ہوں۔ وارنسی اور لکھنؤ سیٹ پر چھری ٹکٹ جنگ سے بھاجپا کی پوزیشن خراب ہوئی ہے۔ جنتا کو یہ کہنے کا موقعہ مل گیا کہ بھاجپا کے تو اندرونی جھگڑے ختم ہوتے نہیں دکھائی دے رہے یہ دیش کیا چلائیں گے؟ سارے تنازعے کی جڑ راجناتھ سنگھ جو غازی آباد سے بھاگنا چاہتے ہیں اور لکھنؤ سے چناؤ لڑنا چاہتے ہیں۔ لکھنؤ کی خاص اہمیت ہے یہیں سے اٹل بہاری واجپئی چناؤ جیتا کرتے تھے۔ یہاں سے مودی کے چناؤ لڑنے سے یوپی اور پوروانچل مل کر 28-30 سیٹوں پر اثر پڑتا ہے اسی لئے مودی کو یہاں سے لڑنے کی صلاح دی گئی ہے لیکن کیونکہ راجناتھ خود یہاں سے لڑنا چاہتے ہیں اس لئے انہوں نے مودی کو سمجھا کہ وہ بنارس سے لڑ لیں۔بنارس سے ڈاکر مرلی منوہر جوشی چناؤ جیتے تھے لکھنؤ سے لال جی ٹنڈن۔ یہ دونوں بڑے لیڈر اپنی سیٹیں چھوڑنے کو تیار نہیں ہیں۔ مودی کی خاطر چھوڑ بھی سکتے ہیں لیکن راجناتھ کی خاطر شاید ہی؟ اس لئے پہلا پیغام تو راجناتھ سنگھ کے لئے تھا آپ اپنی چالاکی سے باز آجاؤ اور جیتی ہوئی بازی ہروا نہ دینا۔ دوسرا پیغام رام لال کے لئے تھا کہ آپ سنگھ کا نام لیکر بھاجپا میں ایک خاص شخص کی پیروی نہ کریں۔ آپ آر ایس ایس کا نام لیکراپنی سیاست کرنے سے باز آئیں۔ تیسرا پیغام خود مودی کے لئے تھا۔ بھاگوت نے مودی کو یہ بتانے کی کوشش کی کہ آپپارٹی سے بڑے نہیں ہو۔ آج حالت کیا ہے؟ آج مودی بھارتیہ جنتا پارٹی سے بہت اوپر ہوچکے ہیں اب سنگھ کو ڈر لگ رہا ہے کہ مودی کسی کے بھی کنٹرول سے باہر ہیں۔ انہوں نے گجرات میں یہ کر دکھایا ہے۔ انہیں نہ تو آر ایس ایس کی پرواہ ہے اور نہ ہی دوسری تنظیموں کی۔ وشو ہندو پریشد کو تو ٹھکانے لگادیا گیا۔ ڈاکٹر پروین توگڑیا جیسے کٹر لیڈر کو گھر بٹھا دیا ہے۔ آر ایس ایس کو ڈر ہے کل کو اس پر کون کنٹرول کرے گا کہیں وہ اتنے بے قابو نہ ہوجائیں کہ سبھی کے کنٹرول سے باہر ہوجائیں؟ ایک پیغام دیش کی اقلیتوں کے لئے بھی تھا کہ سنگھ نہ تو اتنا کٹر ہے اور نہ ہی نمو نمو جپنے والا ہے۔ بھاجپا کے سینئر لیڈر لال کرشن اڈوانی ، ڈاکٹر مرلی منوہر جوشی کو جس ڈھنگ سے نظرانداز کیا جارہا ہے اس سے بھی موہن بھاگوت پریشان ہیں اس لئے انہوں نے راجناتھ سنگھ اور مودی جوڑی کو یہ سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ سب کو ساتھ لیکر چلو گے تو بہتر رہے گا۔ آخر میں آر ایس ایس چیف موہن بھاگوت نے بھاجپا کو یہ بتانے کی کوشش کی کہ آپ ہمارے چنگل سے نہیں نکل سکتے۔ جتنا مرضی پھڑ پھڑا لو رہو گے تو ہمارے ہی تحت۔ جلد ہی پتہ چل جائے گا کہ بھاگوت کی تجاویز کا کیا اثر ہوا ہے۔
(انل نریندر)

اروند کیجریوال’ نائک‘ یا’ کھلنائک‘؟

پچھلے سال دہلی اسمبلی چناؤ سے پہلے عام آدمی پارٹی اور اس کے سربراہ اروند کیجریوال کی نیک نیتی اور جنتا کے حمایتی اور کرپشن دور کرنے والے ایک خدمت خلق لیڈر کی طرح ساکھ بنی تھی اور کیجریوال پورے دیش کے ہیرو بن کر ابھرے تھے لیکن آہستہ آہستہ ان کی بدامنی اور بات بات پر مذمت کرنا اور ہوا میں اڑنا، مقبولیت اور ٹی وی میں چھائے رہنے کے لئے بلا وجہ کے تنازعے کھڑے کرنے والے لیڈر کی ساکھ میں بدل رہی ہے۔اب تو خود انہی کی پارٹی کے لوگ انہیں طرح طرح کے نام دے رہے ہیں۔ اور کوئی نہیں بلکہ عام آدمی پارٹی کے ممبر اور قانونی سیل کے چیف اشونی کمار اپادھیائے نے حال ہی میں کیجریوال پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ آپ (کیجریوال) جھوٹ بول رہے ہیں۔ نوین جندل سی آئی اے کے ایجنٹ ہیں ان کی دلالی کررہے ہیں۔ شری اپادھیائے کی باتوں کو سرے سے مسترد نہیں کیا جاسکتا۔ وہ عام آدمی پارٹی کے بانی ممبر ہیں اور قانونی سیل کے چیف ہیں وہ ان الزامات کی سنجیدگی کو سمجھتے ہوں گے۔ پارٹی میں بغاوت کی بات کریں تو اب پارٹی کے بڑے لیڈر بھی بغاوت پر اتر آئے ہیں۔ چناؤ کے ٹکٹ بٹوارے کو لیکر سبھی بڑی پارٹیوں میں ناراضگی کے جھٹکے لگتے ہیں لیکن ٹکٹ کے جھگڑے نے عام آدمی پارٹی کے سامنے اس کے وجود کے لئے خطرہ کھڑا کردیا ہے کیونکہ ٹکٹ کو لیکر ناراضگی پائی جاتی ہے۔ سینئر لیڈر شپ میں دراڑ پڑ گئی ہے۔ اروند کیجریوال کے طریقہ کار سے شازیہ علمی، کمار وشواس جیسے بڑے لیڈر بغاوتی انداز میں بولنے لگے ہیں۔شازیہ علمی نے تو کھل کر کہہ دیا پارٹی کے اندر جو طور طریقہ اپنایا جارہا ہے وہ اچھا نہیں۔ شازیہ دہلی سے چناؤ لڑنا چاہتی تھیں لیکن ان کو ٹکٹ نہیں دیا گیا اور زبردستی انہیں رائے بریلی سے سونیا گاندھی کے خلاف چناؤ لڑنے کو کہا جارہا ہے۔ رائے بریلی سے چناؤ لڑنا نہیں چاہتیں۔ اسی طرح کمار وشواس کو امیٹھی سے راہل کے خلاف چناؤ لڑوانے پر کیجریوال بے چین ہیں۔ وشواس بریلی سے چناؤ نہیں لڑنا چاہتے۔ اسی طرح آئے دن کیجریوال کے ہٹلری رویئے سے ’آپ‘ کے ورکر دھرنے اور مظاہرے کررہے ہیں۔ یہ تو سب جانتے ہیں الیکٹرانک میڈیا میں چھائے رہنا کیجریوال کا اہم حصہ ہے۔ وہ میڈیا میں بنے رہنے کے لئے کسی بھی حد تک جاسکتے ہیں۔ حال ہی میں کیجریوال نے ایک ٹی وی اینکر کو انٹرویومیں کچھ حصوں پر خاص زور دئے جانے کو لیکر خاصہ واویلا کھڑا ہوا۔ کیجریوال پر میڈیا سے اپنے مفادات کی بات کو ترجیح سے دکھانے کے لئے زوردیا جس سے سوال کھڑے ہونے لگے۔ میڈیا پر جانبدارانہ الزام لگانے والے کیجریوال ویڈیو میں ’آج تک ‘ کے ایک سینئر ٹی وی اینکر پنے پرسن واجپائی سے انٹرویو کے خاص حصوں کو دکھانے کی درخواست کرتے نظر آرہے ہیں۔ ویڈیو سے یہ تو صاف لگتا ہے کہ ’آپ‘ پارٹی اور ان کے نیتا اپنی ساکھ چمکانے کے لئے کیسا چھل کرتے ہیں۔ وہ اپنی الگ ساکھ کو پیش کرتے ہیں رنگے ہاتھوں پکڑے جانے پر بھاجپا نیتا ارون جیٹلی کا دلچسپ تبصرہ تھا کیجریوال خود اپنی ساکھ پیش کررہے ہیں جو سچ نہیں ہے۔ اصلیت اور دکھاوے میں کوئی میل نہیں ہے جب پننے سے پاپ ملتا ہے تو آپ سازش کی امید نہیں کرتے لیکن کیجریوال کو ان الزامات سے فرق نہیں پڑتا اوراس کو لیکر چندہ بھی خوب مل رہا ہے۔
(انل نریندر)

13 مارچ 2014

منفی سیاست میں ماہرکیجریوال نے گجرات کو ہی کیوں چنا؟

عام آدمی پارٹی کے کنوینر اروند کیجریوال اپنے نشانے بیحد ہوشیاری سے لگاتے ہیں اور نشانہ انتخاب کے بعد انہیں سناتے ہیں اور پھر انہیں بھول جاتے ہیں۔ دہلی اسمبلی میں انہوں نے اس وقت کی وزیر اعلی محترمہ شیلا دیکشت اور انل امبانی کو اپنی چناؤ مہم میں نشانہ بنایا تھا۔ ویسے بجلی، پانی، کرپشن، مہلا تحفظ اور جن لوک پال بل سمیت کئی اور اشوز بھی لئے تھے لیکن خاص طور سے ان دونوں کو نشانہ بنایا تھا۔ اب لوک سبھا چناؤ کمپین میں بھی انہوں نے دو لوگوں کو ہی نشانے پر لیا ہے ان میں بھاجپا کے پی ایم ان ویٹنگ نریندر مودی اور مکیش امبانی ہیں۔ ایسے میں کیجریوال کا چناؤ کا اعلان ہوتے ہیں کہیں نہ کہیں بلکہ گجرات اسٹڈی ٹور پر جانا کم سے کم ہمیں تو سمجھ میں آتا ہے۔ ان کا تنہا نشانہ نریندر مودی ہیں۔ بھاجپا کے نیتا اور سابق مرکزی وزیر ڈاکٹر سبرامنیم سوامی نے اروند کیجریوال کے گجرات دورے کو آڑے ہاتھوں لیا ہے اور الزام لگاتے ہوئے کہا کیجریوال خود کرپٹ ہیں اور دوسروں کو نصیحت کرتے ہیں۔ ان کا گجرات دورہ محض دکھاوا تھا۔ میڈیا کی توجہ پانے کے لئے وہ کسی بھی حد تک گر سکتے ہیں۔ خودپرائیویٹ کمپنی کے چارٹرڈ پلین میں سفر کرتے ہیں اور دوسروں پر انگلیاں اٹھاتے ہیں۔ بیرونی ممالک سے ملے پیسوں کا استعمال انہوں نے چناؤ مہم میں کیا ہے اور الزام لگایا کے کیجریوال جو بھی کرتے ہیں اس میں کانگریس کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ کانگریس کی لکھی کہانی کے مطابق کام کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا وزارت داخلہ کی رپورٹ میں یہ ظاہر ہوچکا ہے کیجریوال نے اپنی سیاست میں غیر ملکی چندے کا استعمال کیا اس لئے انہیں فوراً گرفتار کرکے ان کے خلاف کارروائی ہونی چاہئے۔ اس سے متعلق کاغذات بطور ثبوت ان کے پاس موجود ہیں۔ اروند کیجریوال کا گجرات دورہ پہلے ہی تنازعات میں تھا اور اب ان کا وہاں شو بری طرح فلاپ ہوگیا ہے۔ بیشک سوشل میڈیا میں ان کی حمایت اور ان کی ریلی میں لاکھوں لوگوں کے شامل ہونے کا دعوی کررہے ہوں لیکن حقیقت یہ ہے باپو نگر میں ان کے پروگرام میں بمشکل50-60 لوگ آئے تھے اور وہاں بھی مودی کی مذمت کے بعد ان کے خلاف نعرے گونجے۔ اس روڈ شو اور اس کے بعد ریلی کو لیکر کیجریوال بہت زیادہ ہی امید لگائے ہوئے تھے لیکن احمد آباد کی مقامی عوام نے انہیں کوئی اہمیت نہیں دی۔ دراصل کیجریوال یہ چاہتے تھے کہ کسی بھی طرح احمد آباد کو لیکر بحث میں رہیں لیکن انہیں اس معاملے میں مات کھانے پڑی۔ اتنا ہی نہیں دہلی میں ’آپ‘ کے وکروں نے بھاجپا کے دفتروں پر جو حملہ کیا اسے لیکر بھی پولیس نے کئی بڑے لیڈروں کے خلاف ایف آئی آر درج کرائی۔ جنتا کے درمیان آپ کے بارے میں منفی پیغام جارہا ہے۔دراصل اروند کیجریوال کی سیاست صرف مخالفت پر مبنی ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ ان کی مخالف جتنے بڑے اور طاقتور ہوں گے ان کی مہم اتنی ہی زیادہ سرخیوں میں چھائی رہے گی۔ آپ کی سیاست کے خاکے کے مطابق فی الحال پارٹی کے سامنے نریندر مودی یا مکیش امبانی سے بہتر کوئی حریف نہیں ہوسکتا۔ گجرات ایک ایسی ریاست ہے جہاں کیجریوال ان دونوں مخالفوں پر نشانہ لگا کر زیادہ قومی سطح پر لوگوں کو اکھٹا کرسکتے ہیں۔ میڈیا کی سرخیوں میں بنے رہ سکتے ہیں، عام آدمی پارٹی کا خیال ہے بی جے پی ابھی بھی براہمنوں ، بڑے بزنس مین، چھوٹے بزنس مین اور امیرو ں کی پارٹی ہے۔ پارٹی کے مطابق کیجریوال اور ’آپ‘ پارٹی ان دونوں کو ایک ہی متبادل دے رہے ہیں جو بی جے پی کو ووٹ دینا نہیں چاہتے مثلاً اقلیتیں، دلت و سرکاری ملازم۔ حالانکہ گجرات اسلامک ریلیف کمیٹی کے ہیڈ ڈاکٹر شکیل احمد کا کہنا ہے عام آدمی پارٹی ابھی بھی ہمارے لئے متبادل نہیں ہے۔ ووٹر اپنا ووٹ برباد کرنا نہیں چاہتا۔ کیجریوال بار بار یہ ہی بات کرتے آئے ہیں کہ میں نریندر مودی کے خلاف چناؤ لڑوں گا چاہے جہاں سے بھی وہ کھڑے ہوں۔ مودی کے قریبی ساتھی امت شاہ نے کیجریوال کو چنوتی دیتے ہوئے کہا کہ وہ لوک سبھا چناؤ میں وکاس کے اشو پر گجرات کے وزیر اعلی کے خلاف چناؤ لڑ کر دکھائیں۔ آخر میں گجرات کے فلاپ اس دورے میں کیجریوال نے زندہ لوگوں کو ہی مردہ سمجھ کر شردھانجلی دے ڈالی۔ کیجریوال نے احمد آباد میں اپنی ریلی میں چار آر ٹی آئی ورکروں کو شردھانجلی دی جبکہ ان میں تین زندہ ہیں۔کیجریوال نے اپنی تقریر کے دوران سماج کے مفاد کے لئے گجرات سرکار کے خلاف لڑتے لڑتے شہید ہونے والوں میں امت جیٹھوا، بھانو دیوانی اور منیش گوسوامی وغیرہ وغیرہ شامل ہیں، کو شردھانجلی دیتے ہوئے کہا گزشتہ 10 برسوں میں گجرات کرپشن کے خلاف لڑتے ہوئے اپنی جانوں کی قربانی دی ہے۔20 جولائی 2010ء کا گجرات ہائی کورٹ کے سامنے مبینہ طور سے امت جیٹھوا کو مار دیا گیا تھا۔باقی تین ابھی زندہ ہیں۔
(انل نریندر)

اجیت کمار ۔امر کی جوڑی یوپی کی سیاست میں اب کیا گل کھلائے گی؟

چناوی موسم میں نئے نئے سیاسی اتحاد اور جوڑ توڑ کی بہار سی آئی ہوئی ہے۔ کون کہاں آرہا ہے ،کون کہاں جارہا ہے اس کا تو حساب بھی رکھنا مشکل ہوگیا ہے۔ اسی سلسلے میں کبھی سماجوادی پارٹی کے ملائم کے داہنے ہاتھ رہے امر سنگھ اب اجیت سنگھ کی راشٹریہ لوک دل میں شامل ہوگئے ہیں۔ایک عرصے کے بعد امر سنگھ پھر سے کسی سیاسی پارٹی کا حصہ بنے ہیں ان کے ساتھ فلم اداکارہ جیہ پردہ بھی آر ایل ڈی میں شامل ہوئی ہیں۔ بتایا جاتا ہے چودھری اجیت سنگھ اور امر سنگھ کے درمیان دوستی کی پینگیں اچانک شروع نہیں ہوئیں۔ امر سنگھ کو اچھی طرح معلوم تھا کہ ان کو لیکر کانگریس صدر اور نائب صدر سونیا گاندھی۔ راہل گاندھی کو کئی اعتراض ہیں اسی وجہ سے کانگریس متنازعہ ساکھ کے لیڈر امر سنگھ کو اپنے ساتھ جوڑنے سے ہچک ہی تھی جبکہ طویل عرصے سے کانگریس کے حلقوں میں ان دونوں کے آنے کی قیاس آرائیاں جاری تھیں ۔ امر سنگھ کو نوئیڈا اور جیہ پردہ کو رامپور یا مرادآباد سے ٹکٹ مل سکتا ہے۔ کانگریس لیڈر شپ کو جیہ پردہ کے معاملے میں کوئی اعتراض نہیں تھا لیکن امر سنگھ کو پارٹی کے لینے کے سوال پر راجیو شکلا جیسے کئی کانگریس لیڈر ان کی مخالفت میں تھے۔ ان لوگوں نے سونیا گاندھی تک سے اپیل کی تھی اور آگاہ کیا تھا امر کے ہاتھ بہت لمبے ہیں ،مودی سے لیکر تمام حریف لیڈروں تک ان کی پہنچ ہے۔ ایسے میں وہ کانگریس کے اندر آ گئے تو بھاری خطرہ کھڑا ہوسکتا ہے۔ذرائع کے مطابق راہل گاندھی مسلسل اعتراض کررہے تھے کہ امر سنگھ کو پارٹی میں لیا گیا تو منفی پیغام جائے گا اس لئے امر سنگھ کو لیکر فیصلہ ٹلتا رہا۔ اس ہچکچاہٹ کو دیکھ کر امر سنگھ نے سونیا گاندھی سے براہ راست رابطہ قائم کیا تو وہاں گول مول جواب ملا۔ اس کے بعد امر سنگھ نے اجیت سنگھ کی طرف ہاتھ بڑھایا اور آخر کار وہ ان کی پارٹی میں آ ہی گئے۔ اس موقعے پر کسان لیڈر اجیت سنگھ کو اپنا لیڈر مانتے ہوئے امرسنگھ نے یوپی کے بٹوارے کی وکالت کی۔ انہوں نے ملائم سنگھ یادو کا بھی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ میں نے سیاست ملائم سنگھ سے ہی سیکھی ہے۔ جیہ پردہ نے امر سنگھ کوا پنا گوڈ فادر بتاتے ہوئے اشاروں اشاروں میں ملائم کو آڑے ہاتھوں لیا جبکہ امر سنگھ نے جس نیتا کے لئے خود کو وقف کردیا تھا اس نے مشکل وقت میں اسے پہچانا تک نہیں۔ اعلان کیا کہ رامپور سے انہیں بہت پیار ملا ہے اور اب یوپی کو ہی اپنی کرم بھومی بنائیں گی۔جیہ پردہ بجنور سے چناؤ لڑتی ہیں تو وہاں کا سیاسی ماحول گرم ہو جائے گا۔ رامپور سے ایم پی رہی اور نام کمانے والی جیہ پردہ کے فلمی دنیا سے جڑے ہونے کی وجہ سے بجنور سیٹ یقینی طور سے سرخیوں میں آجائے گی۔ راشٹریہ لوکدل یوپی میں8 سیٹوں پر چناؤ لڑے گی۔ ابھی پارٹی امیدواروں کا نام اعلان نہیں ہوا لیکن سیاسی حلقوں میں مانا جارہا ہے کہ امر سنگھ کے ساتھ آنے سے اجیت سنگھ کو مغربی اترپردیش میں نئی طاقت ملے گی کیونکہ مظفر نگر فسادات کے بعد جاٹ برادری میں بھی پارٹی کی پکڑ کمزور ہوئی ہے لیکن مرکزی سرکار کے ذریعے جاٹوں کو ریزرویشن دے کر اس کمی کو پورا کیا جاسکتا ہے ۔ کیونکہ مانا جارہا ہے کہ اس کے پیچھے مرکزی وزیر چودھری اجیت سنگھ کا ہی رول رہا ہے۔ دیکھیں اجیت امر کی جوڑی سیاست میں کیا گل کھلاتی ہے؟ خبر آئی ہے کہ امر سنگھ کوفتحپورسیکری ،جیہ پردہ کوبجنور سے ٹکٹ آر ایل ڈی نے دے دیا ہے۔
(انل نریندر)

12 مارچ 2014

لوک سبھا چناوی اکھاڑا: یوپی میں لڑائی بھاجپا بنام بسپا!

اترپردیش نہ صرف دیش کا سب سے بڑا صوبہ ہے بلکہ ہمارے دیش کی سیاست میں خاص درجہ رکھتا ہے کیونکہ یہاں سے سب سے زیادہ 80 لوک سبھا ایم پی آتے ہیں۔اس کے پیش نظر سبھی سیاسی پارٹیاں یوپی میں اپنی پوری طاقت جھونک دیتی ہیں۔ اس بار لوک سبھا چناؤ میں اہم کھلاڑی میدان میں ہیں۔ بھاجپا ۔ کانگریس۔ سپا اور بسپا ۔ سارا چناوی اکھاڑا انہی کے ارد گرد گھومے گا۔ ٹی وی نیوز چینل سی این این ۔آئی بی این کی جانب سے سی ایس ڈی ایس کے اشتراک سے سروے کرایا گیا ہے اس کے مطابق اگر ابھی لوک سبھا چناؤ ہوں تو یوپی میں بھاجپا کو 80 میں سے 41سے49 سیٹیں مل سکتی ہیں۔ 36 فیصدی لوگوں نے بھاجپا کو ووٹ دینے کی خواہش ظاہر کی ہے جبکہ 22 فیصدی لوگوں نے سپا کو ووٹ دینے کی بات کہی ہے۔ کانگریس کے تئیں 13فیصدی لوگوں نے ہی دلچسپی دکھائی ہے۔ بسپا کو 17 فیصدی ووٹ ملنے کی بات کہی گئی ہے۔ وہیں عام آدمی پارٹی کو صرف5 فیصدی ووٹ ملنے کا امکان ہے۔ سروے کے نتیجے بتاتے ہیں کہ یوپی میں بھاجپا کو62 فیصدی ووٹ براہمن اور54 فیصدی راجپوت اور 45 فیصدی جاٹ ووٹ مل سکتے ہیں۔ اترپردیش کے وزیر اعلی اکھلیش یادو نے بھی تسلیم کیا ہے کہ سیاسی طور سے اہم ان کی ریاست میں بھاجپا کی پہنچ کافی حد تک بڑھی ہے۔زور دیکر کہا گیا کہ صوبے میں مودی لہر جیسی کچھ نہیں۔ سماجوادی پارٹی کا حال خراب ہے۔ خود سپا کے چیف ملائم سنگھ نے ایک بار پھر اکھلیش سرکار کو آڑے ہاتھوں لیا۔ وزیر اعلی کے سرکاری مکان پر منعقدہ بجلی پروجیکٹوں کے آغاز کے پروگرام میں بیٹھے وزرا سے انہوں نے کہا کچھ منتری چناؤ میں دھوکے بازی کررہے ہیں۔ خبردار کیا اگر چناؤ میں مجھے دھوکہ دیا تو نہ وہ منتری رہیں گے اور نہ ہی ممبر اسمبلی شپ ملے گی۔وزیر اعلی کو بھی نصیحت دی کے وہ اور ان کی سرکار چاپلوسوں سے گھری ہوئی ہے۔ چاپلوسی پسند لوگ دھوکہ کھاتے ہیں۔ تلخ لہجے میں بولے کہ پارٹی کو کمزور کررہی ہے سرکار۔ کب نیتا جی پارٹی کے پردھان ہوجاتے ہیں اور کب پتا ہوجاتے ہیں میں سمجھ نہیں پاتا۔ لوک سبھا چناؤ کی چوکھٹ پر ایک بار پھر بہوجن سماج پارٹی کی سیاسی سوشل انجینئرنگ فارمولہ داؤ پر لگ رہا ہے۔ سال2009ء میں ہوئے لوک سبھا چناؤ میں میرٹھ، سہارنپور، مراد آباد زون کی 14 سیٹوں میں سے 5 سیٹوں پر جیت درج کرکے بسپا ایم پی بنے تھے۔ اس بار بسپا لیڈر شپ نے اس علاقے میں مسلمانوں ،گوجروں پر زیادہ بھروسہ کیا ہے۔ بسپا چیف مایاوتی کو اترپردیش کے اقلیتوں پر پورا بھروسہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کی طاقت پر بسپا نئی طاقت کے طور پر ابھرے گی جو مرکز کے اقتدار میں کنگ میکر بنے گی۔ تیسرے مورچے کو پہلے ہی مسترد کرچکی بہن جی کا دعوی ہے کہ ان کے بغیر مرکز میں سرکار نہیں بنے گی۔ اقلیتیں سپا کے بہکاوے میں نہیں آنے والی ہیں۔ مظفر نگر ،شاملی کے فسادات کا جو منظر تھا رکھا تھا اسے وہ کیسے بھلا دیں گے؟ سپا کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔ مودی و ملائم کی مسلسل کئی ریلیوں پر بھڑکتے ہوئے مایاوتی نے کہا ریاست کے لوگوں کو فساد میں تباہ کرنے والے ملائم اور گجرات میں قتل عام کرانے والے مودی ایک ہی تھالی کے چٹے بٹے ہیں۔ مایاوتی نے کہا مودی کو روکنے کے لئے ان کی پارٹی پوری طاقت جھونک دے گی۔ رہا سوال کرپشن اور مہنگائی کے مسئلے پر گھری کانگریس کو چناؤ سے عین پہلے کئی جھٹکے لگے ہیں۔ پارٹی سے ناراض لوگوں کی ہجرت جاری ہے۔ سابق مرکزی وزیر ڈی پرندیشوری کے بی جے پی میں جانے کے بعد ایک بار پھر کانگریس کو جگدمبیکا پال کی شکل میں زبردست جھٹکا لگا۔ وہ اکیلے جانے والوں میں نہیں کئی دوسرے لیڈر بھی کانگریس کو پہلے ہی بائے بائے کرچکے ہیں۔ وہیں کئی باہر جانے کے موڈ میں ہیں لیکن کانگریس ۔آر ایل ڈی اتحاد مغربی اترپردیش میں بھاجپا کو زبردست چنوتی دیتا دکھائی دے رہا ہے۔ کانگریس اور اجیت سنگھ کی راشٹریہ لوکدل میں سمجھوتے کے تحت صوبے کی کل80 سیٹوں میں سے فی الحال 8 پر آر ایل ڈی چناؤ لڑے گی۔کانگریس نے باغپت، کرانا، بجنور، نگینہ، امروہہ، ہاتھرس، متھرا، بلند شہر، اجیت کی پارٹی کے لئے چھوڑی ہیں۔ مظفر نگر فسادات کے بعد بنے ماحول میں بھاجپا کو اس ماحول کا فائدہ دکھائی دے رہا ہے لیکن یوپی اے سرکار نے جاٹ ریزرویشن کا داؤ چل دیا۔ 2009ء میں اکیلے لڑی کانگریس مغربی بنگال کی27 سیٹوں میں سے2 پر جیتی تھی۔ 4 پر نمبر دو پر رہی تھی۔ ادھر آر ایل ڈی سے مل کر لڑے چناؤ میں بھاجپا 5 سیٹوں پر چناؤ جیتی تھی جبکہ سپا۔ بسپا آگے رہیں تھیں۔ اس مرتبہ آر ایل ڈی۔ کانگریس اتحاد میں طاقت آئی توبھاجپا کو نقصان ہو سکتا ہے۔ گذشتہ چناؤ میں آر ایل ڈی اپنی کمزور پوزیشن میں بھی دو فیصد ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہورہی تھی۔ اتنے کم ووٹ پانے کے باوجود آر ایل ڈی کانگریس کو ساری امید جاٹ ریزرویشن پر ہے رہی بھاجپا ۔بسپا جاٹ لیڈروں کے لئے اپنی پارٹی کی خاطر کچھ کرکے دکھانے کا سنکٹ ضرور آگیا ہے۔ اہم مقابلہ تو بھاجپابنام بسپا ہونے والا ہے۔
(انل نریندر)

لاپتہ ملیشیائی جہاز آتنکی سازش کا شکار تو نہیں ہوا؟

پچھلے جمعہ کو کوالالمپور انٹر نیشنل ہوائی اڈے سے ملیشیائی ایئرلائنس کے ایک جہاز بوئنگ 777200 نے بیجنگ کے لئے اڑان بھری۔ طیارے میں پانچ ہندوستانی، کینیڈائی شہریوں سمیت 227 مسافر اور جہاز کے عملے کے 12 افراد سوار تھے۔ پرواز بھرنے کے ایک گھنٹے کے بعد طیارہ ایسے لاپتہ ہوا کے پانچ چھ دن گزرنے کے باوجود اس کا پتہ نہیں چل سکا۔آخر یہ جہاز گیا کہاں؟ جہاز کی تلاش کے لئے چھ ملکوں کی خفیہ اور تفتیشی ایجنسیاں لگی ہوئی ہیں لیکن ابھی تک اس بدنصیب طیارے کا کوئی سراغ نہیں لگ پایا۔ دو مسافرکا پتہ لگا ہے کہ یہ اٹلی اور آسٹریلیا کے شہری تھے۔ انٹر پول نے بھی اپنے ڈاٹا کی بنیاد پر اس بات کی تصدیق کی ہے کہ کم سے کم دو پاسپورٹ گم تھے یا چوری ہوگئے تھے وہ مل گئے ہیں۔ ان لوگوں نے ان کا استعمال کیا تھا۔ اسی کے بعد جہاز کے پراسرار طریقے سے غائب ہونے کی وجہ اب اس کے پیچھے آتنکی پہلو مان رہے ہیں۔ طیارے حادثے کو لیکر ملیشیائی وزیر اعظم نجیب رزاق نے کہا کہ ہم آتنکی کارروائی سمیت سبھی پہلوؤں پر غور کررہے ہیں اور سازِ کے اندیشے کو اٹلی اور آسٹریلیا کے وزارت خارجہ نے تصدیق کی ہے۔ اس نے کہا کہ مسافروں میں جس اطالوی شہری لوئنگی میرالڈی کا پاسپورٹ میں نام ہے وہ دراصل تھائی لینڈ میں سفر کررہا تھا اور طیارے میں سوار نہیں تھا۔ اس شخص نے اگست میں اپنا پاسپورٹ چوری ہونے کی رپورٹ درج کرائی تھی۔ وہیں آسٹریلیا کے وزارت خارجہ نے کہا کہ جس آسٹریلیائی پاسپورٹ کی بنیاد پر اس میں ان کے دیش کے شہری ہونے کی بات کہی گئی ہے دراصل وہ تو تھائی لینڈ میں دو سال پہلے ہی چوری ہوگیا تھا۔ ویتنامی ایئر فورس کے طیاروں نے دیش کے جنوبی ساحل کے قریب سمندر میں 15-20 کلو میٹر دائرے میں تیل پھیلا ہوا دیکھا ہے۔ اس سے مانا جارہا ہے کہ طیارہ سمندر میں ہی گر کر تباہ ہوا ہے۔ حالانکہ ابھی اس دلیل کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔ یہ تیل طیارے کا ہی ہے یا کسی دوسری ایئرلائنس فلپائن ،سنگاپور کے مالبردار جہاز کا ہے لیکن ملیشیا کے لاپتہ طیارے کی تلاش میں ایجنسیاں لگی ہوئی ہیں۔ طیارے میں 14 دیشوں کے 239 مسافر سوار تھے۔ ان میں 153 چینی، 38 ملیشیائی، 7 انڈونیشیائی، 6 آسٹریلیائی، 5 ہندوستانی، 3 فرانسیسی وغیرہ شامل تھے۔ تلاشی آپریشن سے جڑے افسر نے بتایا کہ اس سے پہلو کی بھی جانچ کی جارہی ہے کہ کہیں یہ طیارہ 35 ہزار فٹ کی اونچائی پر حادثے کا شکار تو نہیں ہوا۔ اگر ایسا ہوا ہوگا تو اس کا ملبہ سمندر میں گرا ہوگا۔افسران اس پہلو پر کام کررہے ہیں۔طیارے کے غائب ہونے کے اتنے گھنٹے گزرنے کے بعد بھی تفتیشی ٹیم جہاز کے ملبے کے بارے میں کچھ بتانے کی پوزیشن میں نہیں۔ کیا طیارے کا اغوا ہوا تھا؟ لاپتہ طیارے سے اڑان بھرنے والے دوسرے جہاز کے معاون پائلٹ نے بتایا کے اس نے طیارے کے پائلٹوں سے رابطہ قائم کیا تھا۔ جیسے ہی طیارہ راڈار سے غائب ہوا تو ویتنام کے حکام نے ان سے رابطہ قائم کرنے کو کہا۔ کچھ منٹ بعد ہی طیارے سے رابطہ قائم ہوگا۔ معاون پائلٹ نے اس طیارے کے پائلٹوں سے پوچھا کیا وہ ویتنام کے آسمان سے گزر رہے ہیں۔ ادھرسے کئی آوازیں آرہی تھیں اور کچھ پھسپھساہٹ بھی سنائی دے رہی تھی۔ بہرحال بدنصیب ملیشیائی طیارے کی گمشدگی کا ابھی معمہ بنا ہوا ہے۔ تفتیشی ایجنسیاں جانچ میں لگی ہیں۔ آنے والے دنوں میں سچائی سامنے آنے کا امکان ہے کے طیارہ کہاں گیا؟
(انل نریندر)

11 مارچ 2014

لوک سبھاچناوی اکھاڑہ! بہار میں سہ رخی جنگ کے آثار

دیش کی سیاست میں اترپردیش اور بہار کی ہمیشہ سے اہمیت رہی ہے۔40 اور 80 لوک سبھا کی سیٹوں کی وجہ سے ان دونوں ریاستوں میں سبھی سیاسی پارٹیاں اپنی اپنی پوری طاقت جھونک دیتی ہے اس بار اس چناؤ میں بھی ایسا ہورہا ہے۔اب بہار میں چناوی منظر صاف ہونے لگا ہے ریاست میں کم سے کم تین مورچہ ابھرے ہے جس وجہ سے مقابلہ سے سہ رخی ہونے کاامکان ہے رام ولاس پاسوان کی ایل جے پی نے بھاجپا سے خود کو جوڑ کر مقابلہ دلچسپ بنا دیا ہے اس سے پہلے ہم مختلف محاذوں ومورچہ کی بات کریں تو ہم پہلے بہار کے اہم کرداروں کی بات کرناچاہتے ہیں۔ اس میں تین اہم کردار ہے جن میں بڑے نیتا لالو پرساد یادو۔ نتیش کمار۔ رام ولاس پاسوان شامل ہے ۔لالوپرسادیادو آج بھی بہار میں ایک طاقت ہے اقلیتی ووٹ بینک آج بھی کافی حد تک ان کے ساتھ ہے کانگریس کے ساتھ آر جے ڈی سے اتحاد ہوگیا ہے لیکن ٹکٹوں کے بٹوارے کو لے کر لالو کی پارٹی سے کئی بڑے نیتا چلے گئے ہیں۔ تازہ مثال لالو پرساد کے قریبی اور پارٹی کے جنرل سکریٹری رام کرپال یادو ہے جو پالٹی پتر لوک سبھا سیٹ سے ٹکٹ نہ ملنے سے پارٹی کے سبھی عہدے چھوڑ دیئے ہیں کانگریس میں کافی اختلافات کے باوجود لالو کی پارٹی آر جے ڈی سے تال میل کرنے کا آخر کار فیصلہ کرناپڑا۔ نتیش کمار اور ان کی جنتا دل یو کے اتحاد میں لیفٹ پارٹیاں ہیں مالے ، سپا اوربسپا الگ الگ چناؤ لڑیں گے۔ پچھلے دنوں نتیش کمار نے یہ اشارے دیئے کہ وہ وزیراعظم کی دوڑ میں شامل ہے ایک ٹی وی نیوز چینل سے بات چیت میں خود کو پی ایم عہدے کے لئے بہتر امیدوار مانتے ہیں مگر یہ صاف کردیا ہے کہ وہ کسی بھی قیمت پر این ڈی اے میں نہیں لوٹیں گے جب ان سے پوچھا گیاکیا این ڈی اے میں لوٹیں گے تو بولیں بہار کی مٹی میں دفن ہوجاؤں گا لیکن این ڈی اے میں نہیں لوٹوں گا۔ اس طرح بھاجپا جنتا دل متحدہ اور آر جے ڈی تین الگ الگ مورچے کی رہنمائی کریں گے تینوں طاقتور ہے ان تینوں میں کون کتنا کس سے آگے ہیں اس بارے میں ابھی کوئی قیاس آرائی کرنا جلد بازی ہوگی۔ ویسے کچھ سیاسی مبصرین کے مطابق بھاجپا اتحاد کو بہار میں بھی فی الحال تھوڑی بہت مقبولیت ملی ہے۔ یہ بات کہی جارہی ہے کہ جنتا دل متحدہ اور ریاست میں کسی پارٹی کو اقلیتوں کے ووٹ زیادہ ملے گے وہی بھاجپا کو سخت ٹکر دے پائے گا آر جے ڈی چیف لالو پرساد یادو نے اس چناو میں اپنی پوری طاقت جھونک دی ہے اپنی بیوی رابڑی دیوی اور سب سے بڑی بیٹی میسا بھارتی کو سارن اور پالٹی پتر لوک سبھا سیٹوں سے اتارا گیا ہے۔ سارن سے لالو خود جیتیں تھے لیکن چارہ گھوٹالہ میں قصوروار ٹھہرائے جانے کے بعد انہیں یہ سیٹ چھوڑنی پڑی تھی۔بہرحال اس فہرست میں حیرت میں ڈالنے والا میسا بھارتی کا رہا ہے ان کی ا میدواری پر آر جے ڈی میں سبھی حیرت میں پڑے ہوئے تھے لالو کے سب سے بھروسے مند رام کرپال یادو نے اس فیصلے کے خلاف پارٹی کے سبھی عہدے سے استعفی دے دیا ہے لالو نے کہا انہوں نے یادو اور مسلم مسلمانوں میں اپنے روایتی ووٹ بینک کو لبھانے کے مقصد سے اپنی برادری کے آٹھ اوراقلیتی فرقے کے 6 لوگوں کو ٹکٹ دیا ہے۔ سوان میں پہلی بار خطاب کرتے ہوئے لالو نے خود کو پسماندہ اوردلتوں کا ہمدرد بتاتے ہوئے فرقہ وارانہ طاقتوں کو ہر قیمت پر روکنا ضروری ہے یہ طاقتیں کبھی بھی اقلیتوں کے مفاد میں نہیں سوچتی بھاجپا کو مودی کی لہر کافائدہ مل رہا ہے۔ کہا تو یہ بھی جارہا ہے آر جے ڈی جنتا دل متحدہ میں سے جو بھی پارٹی اتحاد اس چناؤ میدان میں بھاجپا کے خلاف مضبوط دکھائی دے گا زیادہ تر اقلیتی ووٹ اس کو ملیں گے لوک سبھاچناؤ میں جنتا متحدہ کو قریب 24% بھاجپا کوقریب 14% ووٹ ملے تھے انہیں 40سے 32سیٹیں ملی تھی جب کہ جنتا دل کو 20 اور بھاجپا کو12سیٹیں ملی تھی۔ دو سیٹیں کانگریس کو ملی آزاد کو 4 لیکن آر جے ڈی کامیاب ہواتھا آر جے ڈی کوقریب 19% اور ایل جے پی7% فیصد ووٹ ملے تھے کانگریس نے اکیلے چناؤ لڑا تھا اس کو 10% فیصد ووٹ ملے تھے اقلیتی ووٹوں کے بارے میں ابھی غیریقینی پوزیشن بنی ہوئی ہے۔یہ آر جے ڈی کانگریس اتحاد اور جنتا دل متحدہ میں بٹنے کاامکان ہے جنتا دل متحدہ کے ساتھ انتہائی پسماندہ ، مہا دلت مہیلا کورمل اوردیگر ووٹ ہے لیکن انہیں ایک تو بھاجپااتحاد ٹوٹنے اور ناراض ووٹ سے مقابلہ کرنا پڑے گا بھاجپا کے پاس ضرور مودی کی ہوا کی پونجی ہے لیکن ذات پات ووٹ بینک اس کی اصل دولت چھوٹی ہے دیکھنا ہے آنیوالے دنوں میں چناؤ کمپین کے دوران تینوں محاذ کیا کھوٹے ہیں یا نیا پاتے ہیں۔
(انل نریندر)

جب کیجریوال کو نیرج کمار نے سنائی کھری کھری

عام آدمی پارٹی کے کنوینر و چیف اروند کیجریوال کو شاید اب لگتا ہو کہ میں نے دہلی میں انڈیاکنکلیو میں شرکت کر بہت بڑی غلطی کی ہے کیونکہ اس میں موجود لوگوں نے کیجریوال سے ایسے ایسے سوال پوچھے اور رائے زنی کی کہ کیجریوال کو وہاں سے بھاگنا پڑا۔ اس سے پہلے میں بتاؤ کہ اس پروگرام میں کیا ہوا۔ ہوا یہ کہ کیجریوال کے اس پروگرام میں جے پور سے پہنچنے پر بھی تنازعہ کھڑا ہوگیا ہے بڑی پارٹیوں کے لیڈروں پر کارپوریٹ کے چارٹر جہازوں کااستعمال کرنے کو لے کر جم کر تنقید کرنے والے اروند کیجریوال کو کٹگھرے میں کھڑتے ہوئے پوچھا گیا کہ آپ جے پور سے دہلی کے ایک چارٹرڈ جہاز سے کیوں آئے؟ اس پر جھپنتے ہوئے کیجریوال کو صفائی دینی پڑی کہ میں نے ایک میڈیا گروپ ( انڈیا ٹوڈے) کے چارٹرڈ آنے کو مجبور تھا کیونکہ دوسرے جہاز میں سیٹ نہیں ملی تھی اور انڈیا ٹوڈے نے مجھے پروگرام کے لئے مدعو کیا تھا اور خرچ بھی انہوں ن ے برداشت کیاہے بھاجپا کے لیڈر اسمرتی ایرانی نے کیجریوال پر سوال کھڑے کرتے ہوئے کہا کہ وہ پاکھنڈی ہے کیونکہ وہ وی آئی پی کلچر کے خلاف ہونے کے خلاف دعوی کرتے ہیں جب کہ وہ خود اس کلچر کو اپناتے ہیں انہوں نے اپنی 49 دن کی سرکار کے وقت یہ ثابت کیاتھا کہ کیجریوال کی سب سے بڑی مشکل گھڑی اس وقت آئی جب دہلی پولیس کے سابق کمشنر نیرج کمار نے انہیں کھری کھوٹی سنا ڈالی۔ اسی اسٹیج پر کیجریوال بھی تھے انہوں نے کیجریوال کے ذریعے اسٹیج سے دیئے گئے بیان کے ان دو نقطوں کو غلط مانا اور جھوٹا ثابت کردیا کیجریوال نے کہا تھا کہ دہلی میں 1600 آبروریزی میں سے ایک بھی کیس کی گتھی نہیں سلجھی۔ا نہوں نے کہا یہاں تقریبا90% فیصد آبروریزی کے معاملے سلجھالئے جاتے ہیں ۔ پھر کیجریوال نے کہا تھا کہ اناہزارے کو تہاڑ میں کال کوٹھری خطرناک آتنک وادیوں کے اورجرائم پیشہ کے درمیان رکھاگیا اس کو نیرج کمار نے جھوٹ قرار دیتے کہا ہے کہ انا کو ڈائریکٹر جنرل جیل کے دفتر میں بنے اسپیشل کمرے میں رکھا گیا تھا ۔ اس کے بعد نیرج کمار نے وہ کیجریوال سے سوال تو نہیں پوچھنا چاہتے لیکن ان کے بارے میں آئے ایک ایس ایم ایس کو پڑھ کر سنانا چاہتے ہیں اس بات پر کیا کہوں اور تالیوں کے درمیان پڑھے گئے ایس ایم ایس کے حصے دیکھئے:’’ قسم سے بہت یادو آؤں گے کیجریوال وہ میٹروں میں جانا وہ رک رک کر نزاکت سے کھانسنا، وہ تیرا نیلی ویگن آر ماروتی کار کا دیوانہ پن، وہ قرینے سے مفلر لپیٹنا، وہ بات بات پر دھرنے پر بیٹھنا، وہ روز روز پریس کانفرنس کرنا، کہ نٹ کھٹ پن، ہر بات پر چڑنا، وہ گرگٹ کا رنگ بدلنا، وہ جنتا کو بجلی پانی کاٹنا اور وہ جھاڑو مارتے مارتے خود کیچرا ہوجانا یاد رہے گاکیجریوال، قسم سے بہت یادآؤں گے کیجریوال، ٹاٹااسٹیل سے بھاگ گئے، سرکاری نوکری سے بھاگ گئے، جنتا دربار سے بھاگ گئے، وزیراعلی کے عہدہ چھوڑ کر بھاگ گئے، اتنا بھاگتے بھاگتے چالیس سے پینتالیس دن ہوتے ہیں کیجریوال نے ثابت کردیا ہے۔۔۔۔ مفلر والی ٹھنڈ میں آئے اور ٹھنڈ میں ہی چلے گئے، ایک گرمی تو دیکھ لیتے بھائی۔
(انل نریندر)

09 مارچ 2014

لوک سبھا چناؤ اکھاڑا: تیسرا مورچہ بنام ’آپ‘ پارٹی!

کل میں نے یوپی اور این ڈی گٹھ بندھن کی بات کی تھی۔آج میں مبینہ تیسرے ۔چوتھے مورچے کی بات کروں گا۔ اس مورچے کو بنانے کے لئے ایک کہاوت کافی ہے ’’کہیں کی اینٹ کہیں کا روڑا۔ پرکاش کرات نے کنبہ جوڑا‘‘۔ یہ ماکپا جنرل سکریٹری کی ہی کوشش ہے کہ وہ حال میں دہلی میں 11 پارٹیوں کو ایک منچ پر لائے اور اس کو تھرڈ فرنٹ کی شکل دی۔یہ چھوٹے بڑے صوبیدار اپنی اپنی وجوہات سے اس منچ پر کھڑے نظر آئے۔ کچھ تو لوک سبھا چناؤ اس لئے لڑ رہے ہیں تاکہ ان کی قومی پہچان بنی رہے تو کچھ اپنے اپنے کارکنوں کا منوبل بڑھانے کیلئے چناوی دنگل میں ایک ساتھ کھڑے دکھ رہے ہیں۔ زیادہ تر2014ء کی لوک سبھا اگر معلق آتی ہے تو اس صورت میں وہ دباؤ بنانے کی حالت میں آجائیں، سودے بازی کرنے کی حالت میں آجائیں اس لئے ساتھ آئے ہیں۔ ان میں سے کچھ تو معلق لوک سبھا میں پردھان منتری بننے کا بھی اپنا خواب پورا کرنا چاہتے ہیں۔ بہار کے مکھیہ منتری نتیش کمار نے کہا کہ پردھان منتری بننے کے لئے جو لوگ ادھر ادھر گھومتے پھر رہے ہیں میں تو ان سے کہیں زیادہ قابل اور لائق ہوں۔ نتیش کا اشارہ صاف تھا کہ میں نریندر مودی سے بہتر پردھان منتری ہوسکتا ہوں۔ ادھر جے للتا نے بھی صاف اشارے دئے ہیں کہ وہ بھی پی ایم کی ریس میں شامل ہیں۔حال ہی میں بنے اس تیسرے مورچے میں ممتا بنرجی کو شامل نہیں کرنے سے ناراض ممتا نے اسے تھکا ہوا مورچہ قراردیا ہے۔ ممتا کو یقین ہے کہ آئندہ لوک سبھا چناؤ کے بعد الگ طرح کے فیڈرل مورچے کا دیش میں ساشن ہوگا۔ ممتا کو جب سے انا ہزارے کا سمرتھن ملا ہے تب سے ان کے پاؤں زمین پر نہیں ٹک رہے۔ترنمول کانگریس نے چناؤ میں ’ایکلا چلو رے‘ پر چلتے ہوئے پشچمی بنگال کی سبھی42 سیٹوں کے لئے امیدواروں کا اعلان کردیا ہے۔ تھرڈ فرنٹ بننے کے ساتھ ساتھ بکھرنا بھی شروع ہوگیا۔ تاملناڈوں کی مکھیہ منتری جے للتا کی پارٹی انا درمک اور لیفٹ پارٹیوں سے گٹھ بندھن ہوا تھا۔ سی پی آئی اور سی پی ایم نے اے آئی اے ڈی ایم کے سے گٹھ بندھن توڑتے ہوئے اعلان کیا کہ سیٹوں کے بٹوارے کو لیکر ہوئے اختلاف کی وجہ سے ہم یہ گٹھ بندھن توڑ رہے ہیں اور اب چناؤ ہم اپنے بلبوتے پر لڑیں گے۔ لیفٹ سے الگ ہوتے ہی چرچا ہے کہ جے للتا اب بی جے پی کے ساتھ لوک سبھا چناؤ میں گٹھ بندھن کرسکتی ہیں لیکن اگر وہ بی جے پی کے ساتھ جاتی ہیں تو ان کا پی ایم بننے کا خواب ختم ہوجائے گا۔ غیر کانگریس۔ غیر بھاجپا والے تیسرے مورچے میں شامل پارٹیوں کی نیتیوں میں کافی فرق ہے۔ ان میں سے کچھ دل پہلے یوپی اے اور این ڈی اے کا حصہ رہ چکے ہیں۔ جنتا دل (یو) نے کچھ دن پہلے ہی این ڈی اے سے ناطہ توڑا ہے وہیں سپا یوپی اے سرکار کو باہر سے سمرتھن دے رہی ہے۔ تھر فرنٹ کی اگر طاقت کی بات کریں اپنی اپنی ریاستوں میں یہ جن آدھار والے نیتا اور دل ہیں۔ اگر انت تک اکٹھا رہتے ہیں تو یہ مل کر دباؤ بنانے کی حالت میں آسکتے ہیں لیکن ان کی کمزور یہ ہے کہ ہر اہم مدعوں پر ان کی رائے الگ الگ ہے جس میں پی ایم عہدے کے امیدوار کا مدعا بھی شامل ہے۔ویسے جب جب تیسرا مورچہ کیندر میں اقتدار میں آیا ہے دیش 10-15 سال پیچھے چلا جاتا ہے۔ ہم نے شری دیوگورا کا وقت دیکھا جب وہ کرناٹک سے باہر ہٹ کر ہی نہیں سوچ پائے۔ ان صوبیداروں کا ویژن قومی نہیں ہے بین الاقوامی تو چھوڑیں یہ اپنی اپنی ریاست تک ہی سوچ سکتے ہیں۔ تیسرے مورچے کی بات تو ہم کرچکے ہیں اب چوتھے مورچے کی بات کرتے ہیں یہ ہے اروند کیجریوال اور ان کی آپ پارٹی کا مورچہ۔ اروند کیجریوال نے دہلی کے مکھیہ منتری کی گدی کو لات مار کر قومی سیاست میں صرف اور صرف ایک مقصد سے آئے ہیں۔ یہ ہے نریندر مودی اور بھاجپا کے بڑھتے قدموں کو روکنا۔ تبھی تو چناؤ تاریخوں کا اعلان ہوتے ہیں کیجریوال کا پہلا اسٹاپ تھا احمد آباد اور بہانہ تھا گجرات کا اسٹڈی ٹور۔ 10 سال کے وکاس کو کیجریوال پتہ نہیں کس اسٹڈی ٹور میں دیکھ سکتے تھے یہ بحث کا مدعا ہے پر چھوٹتے ہی مودی کو نشانے پر لیا۔اپنی اپنی رائے ہوسکتی ہے، ہماری رائے میں کیجریوال اور ان کی’آپ‘ پارٹی کی وشوسنیتا اور مقبولیت دونوں میں بھاری گراوٹ آئی ہے۔ ’آپ ‘ پارٹی نے لوک سبھا چناؤ کے لئے 200 کروڑ روپے اکٹھا کرنے کا ٹارگیٹ بنایا تھا۔ ایک پرمکھ انگریزی اخبار ’ٹائمس آف انڈیا‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق گذشتہ منگلوار تک پارٹی صرف 10.56 کروڑ روپے ہی اکٹھا کر پائی ہے جو کہ ٹاگیٹ کا محض پانچ فیصدی ہے۔جو چندے کا لیول 29-30 لاکھ روپے روزانہ تھا وہ گر کر4.92 لاکھ رہ گیا۔ جس انا ہزارے کے کندھے پر چڑھ کر ان کے آندولن کو ہائی جیک کرکے کیجریوال یہاں تک پہنچے وہی انا آج کہتے ہیں ممتا بنرجی کے مقابلے اروند کیجریوال نے کم تیاگ کیا ہے۔انا ہزارے نے ایک سوال کے جواب میں کہا میں ممتا کو ان کی شخصی سوچ کی بنیاد پر پردھان منتری کے اہل مانتا ہوں۔ بی جے پی دہلی ادھیکش ڈاکٹر ہرش وردھن نے تو کیجریوال کو بھگوڑا و سی آئی اے ایجنٹ تک کہہ ڈالا۔ دہلی کی مختلف عدالتوں میں ’آپ‘ پارٹی کے نیتاؤں کے خلاف کیس چل رہے ہیں۔ خود کیجریوال کو چناؤ آیوگ چناؤ سے بین کرسکتا ہے۔چناؤ تاریخوں کا اعلان ہوتے ہی ’آپ‘ پارٹی نے ہنسا شروع کرے کے یہ اشارہ دے دیا ہے کہ اس چناؤ میں ہنسا ان کا سب سے بڑا ہتھیار ہوگا۔ اروند کیجریوال نے خود قبول کیا کے میں انارکسٹ ہوں، اراجک ہوں،بھارت کے نظام کو بدلنے آیا ہوں،سدھار کرنے نہیں آیا۔ کمیونسٹ اور ماؤوادی خیالات کو آگے بڑھانے کے لئے کیجریوال ہر معاملے میں ریاستی مشینری سے ٹکرانے کو تیار ہیں۔ عام آدمی پارٹی میں ٹکٹوں کے بٹوارے کو لیکر بھی سنگین الزام لگ رہے ہیں۔ پارٹی کارکنوں کا کھلا الزام ہے کہ زیادہ تر لوک سبھا ٹکٹ پہلے سے ہی طے تھے اور فورڈ فاؤنڈیشن سے تعلق رکھنے والے امیدواروں کو ٹکٹ دئے گئے ہیں۔ یہ الزام اور کوئی نہیں بلکہ ’آپ‘ پارٹی کی قومی پریشد کے ممبر اشونی کمار نے لگایا ہے۔’آپ‘ کے سنستھاپک ہونے کا دعوی کرنے کے ساتھ ہی انہوں نے یہ گمبھیر الزام بھی لگایا کہ مراد آباد سیٹ کا ٹکٹ ایک کروڑ روپے میں بیچا گیا۔ مجھے معلوم ہے کہ دہلی ودھان سبھا چناؤ کے وقت زیادہ تر سروے غلط ثابت ہوئے پر اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ تمام سروے ہمیشہ غلط ہوتے ہیں۔ حال ہی میں سی این این۔ آئی بی این۔ سی ایس ڈی ایس کا ایک سروے آیا ہے اس کے مطابق عام آدمی پارٹی کو 1سے5 سیٹیں ملنے کے امکانات ہیں۔ این ڈی اے کو212 سے232۔ یوپی اے کو119 سے139۔ تیسرا مورچہ 79سے85 ۔ اور عام آدمی پارٹی 01 سے05 ۔
(انل نریندر)

لوک سبھا چناؤ اکھاڑا: تیسرا مورچہ بنام ’آپ‘ پارٹی!

کل میں نے یوپی اور این ڈی گٹھ بندھن کی بات کی تھی۔آج میں مبینہ تیسرے ۔چوتھے مورچے کی بات کروں گا۔ اس مورچے کو بنانے کے لئے ایک کہاوت کافی ہے ’’کہیں کی اینٹ کہیں کا روڑا۔ پرکاش کرات نے کنبہ جوڑا‘‘۔ یہ ماکپا جنرل سکریٹری کی ہی کوشش ہے کہ وہ حال میں دہلی میں 11 پارٹیوں کو ایک منچ پر لائے اور اس کو تھرڈ فرنٹ کی شکل دی۔یہ چھوٹے بڑے صوبیدار اپنی اپنی وجوہات سے اس منچ پر کھڑے نظر آئے۔ کچھ تو لوک سبھا چناؤ اس لئے لڑ رہے ہیں تاکہ ان کی قومی پہچان بنی رہے تو کچھ اپنے اپنے کارکنوں کا منوبل بڑھانے کیلئے چناوی دنگل میں ایک ساتھ کھڑے دکھ رہے ہیں۔ زیادہ تر2014ء کی لوک سبھا اگر معلق آتی ہے تو اس صورت میں وہ دباؤ بنانے کی حالت میں آجائیں، سودے بازی کرنے کی حالت میں آجائیں اس لئے ساتھ آئے ہیں۔ ان میں سے کچھ تو معلق لوک سبھا میں پردھان منتری بننے کا بھی اپنا خواب پورا کرنا چاہتے ہیں۔ بہار کے مکھیہ منتری نتیش کمار نے کہا کہ پردھان منتری بننے کے لئے جو لوگ ادھر ادھر گھومتے پھر رہے ہیں میں تو ان سے کہیں زیادہ قابل اور لائق ہوں۔ نتیش کا اشارہ صاف تھا کہ میں نریندر مودی سے بہتر پردھان منتری ہوسکتا ہوں۔ ادھر جے للتا نے بھی صاف اشارے دئے ہیں کہ وہ بھی پی ایم کی ریس میں شامل ہیں۔حال ہی میں بنے اس تیسرے مورچے میں ممتا بنرجی کو شامل نہیں کرنے سے ناراض ممتا نے اسے تھکا ہوا مورچہ قراردیا ہے۔ ممتا کو یقین ہے کہ آئندہ لوک سبھا چناؤ کے بعد الگ طرح کے فیڈرل مورچے کا دیش میں ساشن ہوگا۔ ممتا کو جب سے انا ہزارے کا سمرتھن ملا ہے تب سے ان کے پاؤں زمین پر نہیں ٹک رہے۔ترنمول کانگریس نے چناؤ میں ’ایکلا چلو رے‘ پر چلتے ہوئے پشچمی بنگال کی سبھی42 سیٹوں کے لئے امیدواروں کا اعلان کردیا ہے۔ تھرڈ فرنٹ بننے کے ساتھ ساتھ بکھرنا بھی شروع ہوگیا۔ تاملناڈوں کی مکھیہ منتری جے للتا کی پارٹی انا درمک اور لیفٹ پارٹیوں سے گٹھ بندھن ہوا تھا۔ سی پی آئی اور سی پی ایم نے اے آئی اے ڈی ایم کے سے گٹھ بندھن توڑتے ہوئے اعلان کیا کہ سیٹوں کے بٹوارے کو لیکر ہوئے اختلاف کی وجہ سے ہم یہ گٹھ بندھن توڑ رہے ہیں اور اب چناؤ ہم اپنے بلبوتے پر لڑیں گے۔ لیفٹ سے الگ ہوتے ہی چرچا ہے کہ جے للتا اب بی جے پی کے ساتھ لوک سبھا چناؤ میں گٹھ بندھن کرسکتی ہیں لیکن اگر وہ بی جے پی کے ساتھ جاتی ہیں تو ان کا پی ایم بننے کا خواب ختم ہوجائے گا۔ غیر کانگریس۔ غیر بھاجپا والے تیسرے مورچے میں شامل پارٹیوں کی نیتیوں میں کافی فرق ہے۔ ان میں سے کچھ دل پہلے یوپی اے اور این ڈی اے کا حصہ رہ چکے ہیں۔ جنتا دل (یو) نے کچھ دن پہلے ہی این ڈی اے سے ناطہ توڑا ہے وہیں سپا یوپی اے سرکار کو باہر سے سمرتھن دے رہی ہے۔ تھر فرنٹ کی اگر طاقت کی بات کریں اپنی اپنی ریاستوں میں یہ جن آدھار والے نیتا اور دل ہیں۔ اگر انت تک اکٹھا رہتے ہیں تو یہ مل کر دباؤ بنانے کی حالت میں آسکتے ہیں لیکن ان کی کمزور یہ ہے کہ ہر اہم مدعوں پر ان کی رائے الگ الگ ہے جس میں پی ایم عہدے کے امیدوار کا مدعا بھی شامل ہے۔ویسے جب جب تیسرا مورچہ کیندر میں اقتدار میں آیا ہے دیش 10-15 سال پیچھے چلا جاتا ہے۔ ہم نے شری دیوگورا کا وقت دیکھا جب وہ کرناٹک سے باہر ہٹ کر ہی نہیں سوچ پائے۔ ان صوبیداروں کا ویژن قومی نہیں ہے بین الاقوامی تو چھوڑیں یہ اپنی اپنی ریاست تک ہی سوچ سکتے ہیں۔ تیسرے مورچے کی بات تو ہم کرچکے ہیں اب چوتھے مورچے کی بات کرتے ہیں یہ ہے اروند کیجریوال اور ان کی آپ پارٹی کا مورچہ۔ اروند کیجریوال نے دہلی کے مکھیہ منتری کی گدی کو لات مار کر قومی سیاست میں صرف اور صرف ایک مقصد سے آئے ہیں۔ یہ ہے نریندر مودی اور بھاجپا کے بڑھتے قدموں کو روکنا۔ تبھی تو چناؤ تاریخوں کا اعلان ہوتے ہیں کیجریوال کا پہلا اسٹاپ تھا احمد آباد اور بہانہ تھا گجرات کا اسٹڈی ٹور۔ 10 سال کے وکاس کو کیجریوال پتہ نہیں کس اسٹڈی ٹور میں دیکھ سکتے تھے یہ بحث کا مدعا ہے پر چھوٹتے ہی مودی کو نشانے پر لیا۔اپنی اپنی رائے ہوسکتی ہے، ہماری رائے میں کیجریوال اور ان کی’آپ‘ پارٹی کی وشوسنیتا اور مقبولیت دونوں میں بھاری گراوٹ آئی ہے۔ ’آپ ‘ پارٹی نے لوک سبھا چناؤ کے لئے 200 کروڑ روپے اکٹھا کرنے کا ٹارگیٹ بنایا تھا۔ ایک پرمکھ انگریزی اخبار ’ٹائمس آف انڈیا‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق گذشتہ منگلوار تک پارٹی صرف 10.56 کروڑ روپے ہی اکٹھا کر پائی ہے جو کہ ٹاگیٹ کا محض پانچ فیصدی ہے۔جو چندے کا لیول 29-30 لاکھ روپے روزانہ تھا وہ گر کر4.92 لاکھ رہ گیا۔ جس انا ہزارے کے کندھے پر چڑھ کر ان کے آندولن کو ہائی جیک کرکے کیجریوال یہاں تک پہنچے وہی انا آج کہتے ہیں ممتا بنرجی کے مقابلے اروند کیجریوال نے کم تیاگ کیا ہے۔انا ہزارے نے ایک سوال کے جواب میں کہا میں ممتا کو ان کی شخصی سوچ کی بنیاد پر پردھان منتری کے اہل مانتا ہوں۔ بی جے پی دہلی ادھیکش ڈاکٹر ہرش وردھن نے تو کیجریوال کو بھگوڑا و سی آئی اے ایجنٹ تک کہہ ڈالا۔ دہلی کی مختلف عدالتوں میں ’آپ‘ پارٹی کے نیتاؤں کے خلاف کیس چل رہے ہیں۔ خود کیجریوال کو چناؤ آیوگ چناؤ سے بین کرسکتا ہے۔چناؤ تاریخوں کا اعلان ہوتے ہی ’آپ‘ پارٹی نے ہنسا شروع کرے کے یہ اشارہ دے دیا ہے کہ اس چناؤ میں ہنسا ان کا سب سے بڑا ہتھیار ہوگا۔ اروند کیجریوال نے خود قبول کیا کے میں انارکسٹ ہوں، اراجک ہوں،بھارت کے نظام کو بدلنے آیا ہوں،سدھار کرنے نہیں آیا۔ کمیونسٹ اور ماؤوادی خیالات کو آگے بڑھانے کے لئے کیجریوال ہر معاملے میں ریاستی مشینری سے ٹکرانے کو تیار ہیں۔ عام آدمی پارٹی میں ٹکٹوں کے بٹوارے کو لیکر بھی سنگین الزام لگ رہے ہیں۔ پارٹی کارکنوں کا کھلا الزام ہے کہ زیادہ تر لوک سبھا ٹکٹ پہلے سے ہی طے تھے اور فورڈ فاؤنڈیشن سے تعلق رکھنے والے امیدواروں کو ٹکٹ دئے گئے ہیں۔ یہ الزام اور کوئی نہیں بلکہ ’آپ‘ پارٹی کی قومی پریشد کے ممبر اشونی کمار نے لگایا ہے۔’آپ‘ کے سنستھاپک ہونے کا دعوی کرنے کے ساتھ ہی انہوں نے یہ گمبھیر الزام بھی لگایا کہ مراد آباد سیٹ کا ٹکٹ ایک کروڑ روپے میں بیچا گیا۔ مجھے معلوم ہے کہ دہلی ودھان سبھا چناؤ کے وقت زیادہ تر سروے غلط ثابت ہوئے پر اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ تمام سروے ہمیشہ غلط ہوتے ہیں۔ حال ہی میں سی این این۔ آئی بی این۔ سی ایس ڈی ایس کا ایک سروے آیا ہے اس کے مطابق عام آدمی پارٹی کو 1سے5 سیٹیں ملنے کے امکانات ہیں۔ این ڈی اے کو212 سے232۔ یوپی اے کو119 سے139۔ تیسرا مورچہ 79سے85 ۔ اور عام آدمی پارٹی 01 سے05 ۔
(انل نریندر)

میلانیا نے امریکہ میں یہ نئی جنگ چھیڑ دی

ایران جنگ میں سیز فائر ہوتے ہی امریکہ کے اندر ایک اور جنگ شروع ہو گئی ہے ۔آپ حیران ہوں گے کہ یہ کون سی جنگ ہے ؟ بتادیں کہ ایپسٹین فائلس کی ...