Translater

02 اپریل 2022

مکان خالی کروانے کیلئے باو ¿نسروں کا استعمال !

سپریم کورٹ کو یہ جان کر حیرانی ہوئی کہ راجدھانی میں واقع خان مارکیٹ کے قریب سجان سنگھ پارک میں مقیم سرکار حکام سے مکان خالی کروانے کے لئے پرائیویٹ فرم اپنے باو¿نسر بھیجتی ہے ۔چیف جسٹس این وی رمن کی بنچ کو سرکاری وکیل تشار مہتا نے جمعہ کو یہ جانکاری دی جس میں بتایا کہ سجان سنگھ پارک کے فلیٹ میں رہنے والے حکام سے باو¿نسر بھیج کر زبردستی فلیٹ خالی کرنے کے لئے دباو¿ بنایا جارہا ہے ۔اس پر تشار مہتا کی بات سن کر چیف جسٹس بولے بھارت سرکار کےخلاف باو¿نسر کیسے بھیج سکتے ہیں ؟ سرکار وکیل مہتا کا کہنا تھا جس حکم کیخلاف سپریم کور ٹ آئے ہیں اس سے دوسرے فریق کو مکان خالی کرنے کی اجازت دی گئی ہے ۔مہتا نے معاملے کی فوری سماعت کے لئے چیف جسٹس سے درخواست کی تھی اور اس کے بعد انہوں نے سماعت کے لئے معاملے کو پینل کرنے کاحکم دیا ۔اس معاملے میں سپریم کورٹ میں ہائی کورٹ کے حکم کو چیلنج کیا گیا تھا ۔ہائی کورٹ نے پچھلی سال جنوری میں مرکز کوحکم دیا تھا کہ سوما سنگھ اینڈ سنس کو بقایا کرایا ادا کیا جائے ۔اس فرم نے مزید کرایا کنٹرول کی عدالت میں فلیٹ خالی کرانے کا دعویٰ کیا تھا ۔عدالت نے فیصلہ فرض کے حق میں سنایا تھا ۔ (انل نریندر)

ضرورت مندوں کو مفت راشن ملتا رہے گا

بڑھتی مہنگائی کے دوران غریبوں کے لئے سرکار بڑی راحت لے کر آئی ہے ۔وزیراعظم نریندر مودی کی سربراہی میں ہوئی کیبنیٹ کمیٹی نے اب اس سال ستمبرتک اسی کروڑ آبادی کو مفت راشن دینے کا فیصلہ کیا ہے ۔کورونا کی شروعا ت ہونے پر سال 2020اپریل میں غریبوں کو مفت راشن دینے کے لئے مودی سرکار نے پردھان منتری غریب کلیان اناج یوجنا کی شروعات کی تاکہ وبا کے دوران غریبوں کو غذا یقینی کی جاسکے ۔اس سال 31مارچ کو مفت راشن کی اس سکیم کی میعاد ختم ہونے والی تھی ۔مانا جا رہا تھا کہ یوکرین جنگ کی وجہ سے بڑھ رہی مہنگائی کو دیکھتے ہوئے سرکار نے غریبی سے جڑی انن یوجنا کوجاری رکھنے کا فیصلہ کیا تاکہ ان پراناج خریدنے کا مالی بوجھ نہ پڑے ۔اس سال اپریل سے ستمبر تک 80کروڑ جنتا کو مفت راشن دینے سے سرکار پر 80ہزار کروڑ روپے کا فاضل مالی بوجھ پڑے گا ۔اب تک ا س اسکیم کے تحت اپریل سے لے کر اور اس سال مارچ تک سرکار 2.60لاکھ کروڑ روپے کاخرچ اٹھا چکی ہے ۔اس کے تحت ہر شخص کو ماہانہ پانچ کلو راشن مفت ملتا رہے گا ۔یوپی سمیت چارریاستوں کے چناو¿ میں بھاجپا کو ملی شاندار جیت کا کریڈٹ دیہی علاقوں میں غریب کلیان انن یوجنا کا بھی فائدہ بھاجپا کو ملا ہے ۔یہ مانا جا رہا ہے مہنگائی کے سبب جو ناراضگی سرکار کے تئیں تھی اس اسکیم سے کم ہو گئی ۔اور مرکزی سرکار نے پھر اس اسکیم کو جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ۔حالانکہ اس وقت کورونا ختم ہو چکا ہے ۔کورونا کی وجہ سے لاک ڈاو¿ن کے وقت شروع ہوئی اس اسکیم کو پانچ بار بڑھایا گیا ۔جسے پورے دو سال ہو چکے ہیں اب چھٹی بار چھ مہینہ اور اس اسکیم کا فائدہ ملے گا ۔ویسے غریبوں کو راحت اور رعایت دینے کی اسکیمیں انہیں خود کفیل بنانے کو ٹارگیٹ کو ذہن میں رکھتے ہوئے چلائی جانی چاہیے ناکہ سیاسی فائدے کے مقصد سے کئی بار ایسی اسکیمیں غریبوں کے لئے بیساکھی بن کر رہ جاتی ہیں ۔کچھ لوگ اپنے پیروں پر کھڑے ہونے کی کوشش کرنا چھوڑ دیتے ہیں ۔ (انل نریندر)

چین کو سنائی کھری کھری!

بھارت نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ چین کے ساتھ اس کے رشتے ٹھیک نہیں ہیں ۔وزیرخارجہ ایس جئے شنکر نے چینی وزیر خارجہ وانگچی کے ساتھ بات چیت کی جانکاری دینے کے سلسلے میں ایک سوال کے جواب میں بتایا میں بلا ہچک کے کہتا ہوں کہ چین کے ساتھ بھارت کا رشتہ اب پہلے جیسا نہیں ہے ۔اور جب تک سرحد پر حالات بہتر نہی ہوتے تو رشتے بھی بہتر نہیں ہوں گے ۔سرحد پر کشیدگی کم کرنے کے مسئلے پر وزیرخارجہ نے بتایا کہ چینی وزیر خارجہ نے یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ اپنے حکام سے بات کریں گے ۔اور اعتراف کیا کہ 1993-96کے معاہدوں کی خلاف ورزی ہوئی ہے اس سے بڑی تعداد میں فوجیوں کی موجودگی ہے ۔اس کو دیکھتے ہوئے ہمارے چین سے تعلقات کشیدہ ہیں ۔حالیہ صورتحال میں ایک ورک ان پروگریس کہوں گا حالانکہ یہ کام کافی دھیمی رفتار سے چل رہا ہے ۔اسے آگے لے جانے کی ضرورت ہے ۔کیوں کہ ڈس ایگریمینٹ کے لئے ضروری ہے ادھر قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوبھال نے چین کے وزیرخارجہ سے ملاقات کے دوران مشرقی لداخ میں باقی بچے سبھی متنازعہ علاقوں سے فوجیوں کو جلد سے جلد اور پوری طرح پیچھے ہٹنے پر زور دیا ہے ۔ا ن کا کہناتھا کہ ڈابھول نے باہمی رشتوں کو فطری طور سے بنائے رکھنے میں آنے والی رکاوٹوں کی دور کرنے کی بھی یقین دہانی کرائی ۔وانگ کا یہ دورہ کافی اہم اس لئے تھا کہ دونوں دیشوں کے درمیان پچھلے سال سے جاری تعطل کے درمیان چین کا کوئی سینئر وزیر پہلی بار بھارت آیا ہے ۔چوکانے والی بات یہ ہے کہ چین وزیرخارجہ کا یہ دورہ کوئی پہلے سے طے نہیں تھا ۔بلکہ وہ قابل سے اچانک دہلی آئے ایسے میں وانگ کا دہلی آنا اس بات کابھی اشارہ مانا جاسکتا ہے کہ شاید چین فی الحال تنازعات پر روک لگانا چاہتا ہے ۔جو دیش حال تک بھارت سے سیدھے منھ بات کرنے کو تیار نہیں تھا اب اس کے وزیرخارجہ نے بھارت آنے کی پہل کرکے بڑا پیغام دیا ہے ۔وزیر خارجہ نے مسلم دیشوں کی انجمن او آئی سی میں کشمیر کے مسئلے پر بھی چین کے وزیرخارجہ کے تبصرے پر بھارت کا سخت موقف رکھا ۔ہندوستانی وزیرخارجہ جئے شنکر نے کہا کہ یہ ہمارا اندرونی معاملے ہے چین کا اس سلسلے میں آزاد پالیسی اپنانی چاہیے ۔کسی دیش کے بہکاوے میں آکر رائے زنی نہیں کرنی چاہیے ۔کل ملا کر چین پر بھارت یقین نہیں کر سکتا ۔اس میں غور کی بات چیت پر حیرانی کی بات یہ ہے کہ بات چیت کو ہر دور میں چین کچھ نہ کچھ اڑیل رخ دکھاتا رہا ہے ۔جس سے تعطل دور ہونے کا نام نہیں لے رہا ہے ۔دیکھیں تیل کی دھار دیکھیں ۔ (انل نریندر)

01 اپریل 2022

امت شاہ نے کرایا تاریخی معاہدہ !

آسام اور میگھالیہ کے درمیان گزرے پچاس برسوں سے جاری سرحدی تنازعہ پر بریک لگ گیا ہے ۔دونوں ریاستوں کے درمیان ایک تاریخی معاہدہ ہوا ہے ۔دہلی میں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کی موجودگی میں دونوں ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ نے ایک معاہدہ پر اتفاق رائے ظاہر کیا ہے ۔منگلوار کو آسام کے وزیراعلیٰ ہیمنت بسوا شرما ممبر پارلیمنٹ دلیپ سیکیا اور میگھالیہ کے وزیراعلیٰ گونارائیڈ سنگھوا نے راجدھانی دہلی میں وزیرداخلہ امت شاہ سے ملاقات کی تھی ۔اس سرحدی تنازعہ کا حل نکالنے کے لئے ایک معاہدہ کیا گیا اس دوران مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا کہ دونوں ریاستوں 70فیصد سرحد تنازعہ سے آزاد ہو گئی ہے ۔دونوں ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ نے بتایا کہ آگے کا جھگڑا بھی ہم بات چیت سے سلجھا لیں گے ۔انہوں نے کہا کہ آج بہت اچھا اور بڑا کام ہوا ہے اور دنوں ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ اور ٹیم کو وزیراعظم مودی اور بھارت سرکار کی طرف سے شکریہ کہا گیا ۔انہوں نے کہا کہ ایک تیار نارتھ ایسٹ کا جو خواب پی ایم مودی نے دیکھا تھا وہ جلد تعبیر ہوگا ۔امت شاہ نے بتایا کہ اب تک تقریباً چار ہزار آٹھ سو زیادہ ہتھیار قانونی اتھارٹی کو سرینڈر کر دئیے گئے ہیں ۔انہوں نے کہا وزیراعظم نریندرمودی نے نارتھ ایسٹ کی شان کے لئے یہ کام کیا ہے ۔انہوں نے پی ایم کے نارتھ ایسٹ سرحد کے بارے میں بات کی تھی ۔سب سے پہلے 2019تریپورہ میں مسلح جنگی گروپ کے درمیان معاہدہ ہوا ۔دراصل 1972میں جب آسام کو کاٹ کر میگھالیہ کو الگ ریاست بنایا گیا تھا ۔تبھی سے دونوں ریاستوں کو 12سرحدی علاقوں کی حد بندی کو لیکر تنازعہ کھڑا ہو گیا تھا ۔دونوں ریاستوں کے درمیان قریب 885کلو میٹر لمبی سرحد کا یہ بڑا حصہ ہے جس کے سبب ان کے درمیان کئی بار ٹکراو¿ کے حالات بن گئے ۔دونوں ریاستوں کے درمیان سرحدی تنازعہ کتنا پیچیدہ رہا ہے اس کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایک دہائی پہلے جنوری 2012میں میگھالیہ میں گوہاٹی کے اس وقت کے وازیراعلیٰ ترون گوگوئی کی یہ سرکار ی رہائش گاہ کی زمین کو اپنا بتا دیا تھا ۔یہاں تک کہ 1985میں دیش کے ریٹائرڈ چیف جسٹس وائی وی چندرچور کی سربراہی میں بنی کمیٹی بھی کوئی حل نہیں نکال سکی ۔ایسے میں آسام کے وزیراعلیٰ ہیمنت بسو اشرما اور میگھالیہ میں وزیراعلیٰ کونورائیڈ سنگھما دونوں ریاستوں کے 70فیصدی سرحدی تنازعہ کو سلجھانے کے لئے معاہدہ تک پہونچانا واقعی ایک بڑاکارنامہ ہے ۔دونوں ریاستوں کے درمیان اس سال جنوری میں اتفاق رائے ہوگیا تھا ۔جسے اب امت شاہ نے سمجھوتیہ کی شکل دے دی ہے ۔امید کی جاتی ہے اسی طرح دیگر ریاستوں کی سرحد سے متعلق تنازعوں کو بیٹھ کر ٹیبل سلجھا لیا جائے گا ۔ (انل نریندر)

بھارت میں بنے گا روس یوکرین جنگ خاتمہ کا سمجھوتہ !

ہندی اخبار دینگ بھاسکر کی ایک رپورٹ کے مطابق دنیا میں امن قائم کرنے کے لحاظ سے آنے والے کچھ دن بے حد اہم ثابت ہو سکتے ہیں ۔روس -یوکرین کے درمیان ایک ماہ عرصہ سے جاری جنگ کو بند کرانے کا فارمولہ بھارت میں بنانے کی تیاری ہے ۔روس کے وزیرخارجہ سرگئی لاوہ روف کا اچانک بھارت دورہ اس سمت میں اہم قدم ہے ۔وزیر خارجہ جلد بھارت آئیںگے حالانکہ یہ طے ہے ان کا دورہ اسرائیل کے وزیراعظم نتالی بینٹ کے دورہ سے ٹھیک پہلے ہوگا ۔نتالی دو اپریل کو بھارت تشریف لا رہے ہیں روسی وزیرخارجہ سے بات چیت کے بعد وزیراعظم نریندر مودی نتالی کے ساتھ بات چیت کریں گے ۔ان کا دورہ ختم ہونے کے بعد وزیراعظم مودی صدر ولادیمیر پوتن اور یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی سے بات کریں گے ۔دوسری طرف نتالی بھی یہی کریں گے ۔بین الاقومی اسٹیج پر مسلسل جنگ بندی کی وکالت کررہا ہے ۔اس کے لئے اقوام متحدہ میں ایک دن دودن میں ووٹنگ میں بھارت نے حصہ نہیں لیا تھا ۔ایک تجویز یوکرین کے حق مین تھی دوسری روس کے حق میں ۔امن کے فارمولہ پر مفصل بات چیت روس یوکرین کے درمیان بھی جاری ہے ۔بھارت اسرائیل کے رول کے اہم پہلوو¿ں کو سلجھانے کا ہے ۔25مارچ کے امریکی وزیر نائب وزیر خارجہ ویکٹوریہ جیورن اسی مقصد سے بھارت آئیں تھیں ۔بھارت کے رشتے اچھے ہیں اسی طرح یوکرین کے پیچھے کھڑا امریکہ سے بھی بھارت کے تعلقات ہیں ۔موجودہ عالمی حالات میں روس اور امریکہ دونوں کو ہی بھارت کی ضرورت ہے اس لئے تنازعہ سلجھانے میں بھارت اہم رول نبھا سکتا ہے ۔کوارڈ میں بھارت کی حصہ داری کو لیکر امریکہ بہت خواہشمند ہے وہیں ۔برکس میں پوتن کی چاہت ہے کہ وہ مودی اور شی زنپنگ کے ساتھ کھڑے ہو کر پوری دنیا کو روس چین اور بھارت کی یکجہتی دکھائیں ۔اسرائیل کا سب سے قریبی دوست امریکہ ہے ۔دوسری طرف یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی یہودی ہیں ۔جو اسرائیل کے لئے اہم ہے نتالی اس لئے بھی ثالثی کی پہل کررہے ہیں ۔یوکرین میں جنگ ختم کرانے کو لیکر بھارت پہلے ہی سے کوششیں کرتا رہا ہے ۔وزیراعظم نریندر مودی نے پچھلے ایک مہینے میں پوتن اور زیلنسکی کے ساتھ فون پر دو بار لمبی بات کی ہے ۔فرانسیسی صدر ایمیونول میکرون پوتن سے دوبار لمبی بات چیت کرچکے ہیں ۔اسی دوران میکرون اور مودی کے درمیان بھی لمبی بات چیت ہوئی ہے ۔ان کوششوں کا مقصدجنگ روکنا ہی تھا ۔امریکہ بھی یہی چاہتا ہے کہ بھارت اسرائیل جنگ روکنے کا فارمولہ تیار کریں ۔ (انل نریندر)

31 مارچ 2022

حکام کے ہاتھوں میں ہوگی کمان !

یونیفائیڈ ایم سی ڈی کی کمان سینئرآئی ایس افسران کے ہاتھوں میں رہے گی اس کے علاوہ ایم سی ڈی کے بھی سینئر افسران ہی محکموں کے ہیڈ بنے رہیں گے اور تینوں ایم سی ڈی میں برے عہدوں پر ان کے ایگزیکٹو افسران کے علاوہ آئی ایس اور غیر آئی ایس افسران معمور ہیں دراصل یونیفائیڈ ایم سی ڈی کے وقت کونسلر رہے زیادہ تر نیتا بزرگ ہو چکے ہیں اور ان میں سے زیادہ سیاست سے توبہ کر چکے ہیں اس طرح ایم سی ڈی نے زیادہ تر کونسلر نوجوان ہونے کا امکان سامنے آنا جتایا جا رہا ہے ۔مگر ایم سی ڈی کے حکام کافی تجربہ کار اور سینئر ہوں گے ۔سال 2012میں ایم سی ڈی کی تقسیم ہونے تک اس کے تمام بڑے عہدوں پر سینئر افسران معمور تھے ۔ذرائع کے مطابق پہلے کی طرح میونسپل کمشنر کے عہدے پر ایک بار پھر سیکریٹری سطرح کے آئی ایس افسر کو مقرر کیا جائے گا ۔اسی طرح ایڈیشنل کمشنر ،ڈپٹی کمشنر اور ڈائرکٹر کے عہدوں پر ان کی ساکھ کے تحت آئی ایس افسر مقرر ہوں گے ان عہدوں پر میونسپل کارپوریشن کے سینئر افسران کو مقرر کیا جائے گا ۔مانا جارہا ہے پہلے کی طرح ایم سی ڈی میں آئی ایس افسر فی تقرری آنے میں دلچسپی لیں گے ۔اس طرح مرکزی سرکار دہلی سرکار اور دوسری ریاستوں سے دیگر سروسز کے حکام کو ایم سی ڈی میں نمائندہ مقرر کرنے کی جگہ پر تقرری میں مشکل ہو جائے گی ۔تینوں ایم سی ڈی میں کمشنر کے عہدوں پر ایگزیکٹوا ٓئی ایس افسر معمو ر ہیں اس کے علاوہ ڈپٹی کمشنر کے عہدوں پر کچھ ہی ایگزیکٹو آئی ایس افسر سنبھالے ہوئے ہیں ۔تینوں کارپوریشنوں میں ایڈیشنل کمشنر مرکزی سرکار دہلی سرکار اور دیگر ریاستوں سے مختلف سروسز کے حکام مقرر ہیں ۔ (انل نریندر)

نتیش پر حملہ :سیکورٹی انتظام میں بھاری چوک!

بہار کے وزیراعلیٰ نتیش کمار کی سیکورٹی میں اتوار کو ایک بڑی چ¾وک کا معاملہ سامنے آیا ہے ان کے آبائی شہر پٹنہ ضلع کے بختیار پور میں ایک ذہنی طور پر پاگل لڑکے نے پیچھے سے ان پر حملے کی کوشش کی شام پانچ بجے کے قریب یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب وزیراعلیٰ کے ذریعے مجاہد آزادی پنڈت شیل بھدر مانجھی کے مجسمہ پر گلہائے عقیدت پیش کرنے جا رہے تھے ۔وزیراعلیٰ ان دنوں اپنے پرانے لوک سبھا حلقے باڑ کے مختلف جگہوں پر پرانے لوگوں سے مل رہے ہیں ۔اسی کڑی میں وہ بختیار پور بھی گئے تھے ۔اس پورے پروگرام سے وابسطہ کئی ویڈیو وائرل ہوئے ۔واردات کے سلسلے میں بتایا گیا کہ وزیراعلیٰ بختیار پور کی سیڑھی دھار کے قریب اپنے حمایتیوں سے ملنے کے بعد این ایم پر واقع اپنے گھر چلے گئے گھر پر کچھ وقت گزارنے کے بعد وہ بختیار پور بازار کی طرف نکلے وہاں ہیلتھ سینٹر کمپلیکس میں مجاہد آزادی پنڈت شیل بھدر مانجھی کا مجسمہ لگا ہے ۔طے پروگرام کے تحت انہوںنے مجسمہ پر پھول چڑھانے تھے ۔وزرائے اعلیٰ اپنے سیکورٹی حملے اور حکام کے ساتھ کمپلیکس میں پہونچے تو گیٹ کو بند کر لیاگیا ۔کچھ فوٹو گرافروں کے ساتھ حملہ آور لڑکا بھی اس کمپلیکس میں گھس گیا ۔وزیراعلیٰ جب مجسمہ کے چبوترے پر پہونچے تو لڑکا تیزی سے بڑھ کر ان کے قریب پہونچ گیا اور پیٹھ کی طرف سے حملے کا زبردست کوشش کی ۔وزیراعلیٰ حیرت زدہ رہ گئے ۔سیکورٹی عملے نے فوراً حملہ آور لڑکے کو اپنی حراست میں لے لیا اور چبوترے سے ہٹا دیا ۔وزیراعلیٰ گلہائے عقیدت پروگرام کے بعد وہاں سے چلے گئے وزیراعلیٰ نے اپنے اوپر حملے کی کوشش کرنے والے لڑکے پر کسی طرح کا ایکشن نہ لینے کی ھدایت دی ۔ان کا کہنا تھا کہ جس لڑکے نے یہ کوشش کی ہے وہ ذہنی طور سے کمزور ہے ۔افسران اس کی پریشانی کو دور کرنے میں مدد کریں ۔اے ڈی جی جتیندر سنگھ نے کہا جس آدمی نے حرکت کی ہے اسے سیکورٹی عملے نے فوراً حراست میں لے لیا ۔پہلی نظر میں لڑکا دماغی طور پر مینٹل محسوس ہو رہا تھا ۔جس طرح سے یہ لڑکا وزیراعلیٰ تک پہونچ گیا اور ان پر حملہ کرنے میں کامیاب ہوگیا ،اس سے تو اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔سیکورٹی میں اس خامی کا نتیجہ مانا جا سکتا تھا ۔آخر وہاں خاص طور سے وزیراعلی کے لئے ہی تعینات سیکورٹی ملازمین کے ہوتے ہوئے وہ لڑکا اتنی آسانی سے نتیش کمار تک کیسے پہونچ گیا ۔غور طلب ہے کہ نتیش کمار کی سیکورٹی میں شامل متعلقہ ایجنسیوں کی لاپرواہی بھی سامنے آئی ہے ۔جب انہیں نشانہ بنا کر حملے کی کوشش پہلے بھی کی گئی تھی ۔قاعدے سے وزیراعلیٰ جیسی شخصیت کا سیکورٹی انتظام ہر وقت چاک و چوبند ہونا چاہیے تاکہ کسی بھی مجرمانہ ذہنیت والے شخص کو کوئی ناپسندیدہ حرکت کرنے کے بارے میں سوچنے تک کا موقع نہ ملے ۔لیکن اکثر ایسا دیکھا جاتا ہے کہ اندیشات کے باوجود کئی بار سیکورٹی میں تعینات لوگ آس پاس کے ماحول کو دیکھ کر سب کچھ محفوظ ہونے کے تئیں بے پرواہ ہو جاتے ہیں ۔جبکہ کوئی حملہ آور ایسے ماحول ک طاق میں ہو سکتا ہے جب سیکورٹی عملہ اپنی ڈیوٹی کو لیکر تھوڑا لاپرواہ ہو جائے یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ نتیش پر حملے کی یہ کوشش پوری خفیہ اور سیکورتی مشینری کی لاپرواہی کی خامی کانتیجہ ہے ۔ (انل نریندر)

30 مارچ 2022

گوبر کا بریف کیس !

منگلوار کا دن رائے پور میں بجٹ کا بریف کیس بنانے والی رضاکار گروپ کی خواتین کے لئے تب یادگار بن گیا جب خود وزیراعلیٰ بھوپیش بھگیل نے انہیں اسمبلی میں واقع دفتر میں بلا کر سمانت کیا وزیراعلیٰ سے اعزاز پاکر یہ رضاکار گروپ کی دیدیاں جذباتی ہو گئیں اور کہا کہ انہوں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ ان کے کام کا احترام خود وزیراعلیٰ کریں گےاس موقع پر وزیراعلیٰ بھوپیش بھگیل نے رضاکار تنظیم کی دیدیوں نیلم اگروال مومن پال کو مٹھائی بھی پیش کی ۔وزیراعلیٰ نے ان بہنوں سے کہا آپ کے ذریعے گوبر سے بنائے گئے بریف کیس کی تعریف پورے دیش میں ہو رہی ہے ۔اور آپ کا یہ کام بنیادی حق ہے ۔ساتھ ہی ہمارے گو¿دھن کا بھی سمان ہے ۔مومن نے وزیراعلیٰ کو بتایا ہم لوگ گوبر سے پینٹ بنانے کی تیاری کررہے ہیں ساتھ ہی گوبر کی اینٹ بنا کر چھتیس گڑھ مہتاری کا مندر بھی بنانے کا پلان ہے ۔وزیراعلیٰ بھوپیش بھگیل نے کہا کہ آپ کی کوششوں میں ہم پورا تعاون دیں گے ۔گروپ کی ایک خاتون کے شوہر کے ندھن کے بعد مومن کا گھر چلانا مشکل ہوگیا تھا ۔چھ مہینہ بہت دکت ہوئی لیکن اب گو¿دان کے ذریعے گوبر سے تیار کئی سامان بن رہے ہیں اور مہینہ میں تقریباً 15ہزار روپے کما لیتے ہیں ۔ہولی میں گوبر سے تیار 150کلو سے زیادہ گلال بیچ چکے ہیں ۔دہلی سے بھی گلال کا آرڈر ملا ہے لیکن وقت کی کمی کے چلتے ہم نے منع کر دیا ۔گوبر کی لکڑی کے لئے مورتی اور چپل بڑی تعداد میں بنا رہے ہیں آپ کو بتا دیں ۔بجٹ بریف کیس نگر پبلک کارپوریشن رائے پور کے گوکل دھام گودام میں کام کرنے والی ایک پہلی خاتون و رضاکار گروپ کی ایم ایم جی دیدی مومن پال کے ذریعے بنایاگیا تھا ۔ (انل نریندر)

یوگی آدتیہ ناتھ سے امیدیں!

یوگی آدتیہ ناتھ نے گزشتہ جمعہ کی شام لکھنو¿ کے اکانا اسٹیڈیم میں بھارتیہ جنتا پارٹی تمام ورکروں دوسری ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ کی موجودگی میں دوسری مرتبہ اترپردیش کے وزیراعلیٰ کی شکل میں حلف لیا ۔یوگی آدتیہ ناتھ کا ریاست کے 22ویں وزیراعلیٰ کی شکل میں حلف لینا کئی معنوں میں تاریخی ہے ۔پچھلے قریب چار رہائیوں میں یوگی آدتیہ ناتھ اترپردیش کے پہلے ایسے وزیراعلیٰ ہیں جو اپنے عہد کی پانچ سالہ میعاد پوری کرکے پھر وزیراعلیٰ بنے ہیں ۔انہوںنے دہائیوں پرانے نوئیڈا جانا وزیراعلیٰ کے عہدے کے لئے مانا جاتا تھا ۔انہوں نے اس دقیانوسی روایت کو توڑدیا ۔نئی سرکار نے نئے چہروں کی شکل میں سابق آئی اے ایس افسر اسیم ارون سے لے کر سابق آئی ایس افسر اروند شرما سے لے کر دانش آزاد جیسے نئے چہروں کو جگہ ملی ہے ۔اس کے ساتھ ہی دہلی سرکار میں نائب وزیراعلیٰ رہے دنیش شرما سے لے کر ستیش مہاجن ، سدھارتھ ناتھ سنگھ ، آسو توش ٹنڈن جیسے بڑے لیڈروں اور منتری رہے کل 22لیڈروں کو اس بار کیبنیٹ میں شامل نہیں کیا ۔چناو¿ کے نتیجے آنے کے بعد سے بی جے پی نیتا کہہ رہے تھے کہ اتر پردیش کی جنتا نے ان کے کام کو دیکھتے ہوئے ایک بار پھر ان پر بھروسہ جتایا ہے ۔ان بائیس لیڈروں میں سے کئی لوگوں کو کیبنیٹ میں نہ رکھنے جانے پر کسی کو تعجب نہیں ہوا ۔انہوں نے چناو¿ میں ٹھیک سے توجہ نہیں دی ۔زیادہ تر لوگوں کو مقامی سطح پر ناراضگی تھی ۔بڑی مشکل سے مودی اور یوگی کے نام پر جیت کر آئے ہیں ۔شکایتیں تو انکے خلاف پہلے سے ہی تھیں لیکن کورونا کی وجہ سے سب ٹل گیا ۔صاف تھا کہ یا تو وہ پرفارمنس دکھائیں یا پھر کنارے بیٹھ جائیں جو اچھی پرفارمنس دے گا وہ ہی رہے گا ۔جو نہیں کرے گا اسے جانا ہوگا ۔سدھارتھ ناتھ سنگھ کا محکمہ بدل گیا تھا ۔اسی سے انہیں اشارہ دیا گیاتھا ہیلتھ وزارت سے انہیں ہٹایاگیا ۔پارٹی وہی کررہی ہے جو کسی بھی سیاسی پارٹی میں ہونا چاہیے ۔جیسے ممبر اسمبلی کی شکل میں اس کی پرفارمنس کیسی ہے چناو¿ حلقہ کے لوگ آپ سے کتنے مطمئن ہیں اگر آپ سرکار میں ہیں تو آپ کے کام کاج کی پرفارمنس کیسی رہی آپ کی ایمیج کیسی ہے ؟ اتر پردیش کی پچھلی سرکار میں یوگی آدتیہ ناتھ کے قریبی مانے جانے والے مہیندر سنگھ کی بات کریں یا شری کانت شرما کی ہو سدھارتھ ان تینوں کو کیبنیٹ سے باہر رکھنے کی ایک وجہ ہے ان تینوں پر مالی گھوٹالے جیسے الزام تھے ۔اور عام آدمی کے لئے زراعت پر زیادہ انحصار اور مشرقی اور مغربی اترپردیش کے درمیان اقتصادی غیر یکسانیت کے لئے علاوہ بھی لیبر ساجھیداری شرح اور نوجوان بے روزگار کے محاذ پر اتر پردیش کی پرفارمنس قومی پرفارمنس سے کم ہے ۔جس پر اس سال بھی اگر سرکار کو فلاحی اسکیمیں موثر طریقہ سے لاگو کی گئی ہوتیں یقین طور سے یوگی اترپردیش کی تصویر بدل سکتے ہیں ۔چناو¿ منشور کے مطابق کسانوں کو سینچائی کے لئے مفت بجلی دستیاب کرائی گئی تو موجودہ مالی برس میں اترپردیش کا قرض بڑھ کر اس کی جی ڈی پی کا ایک تہائی ہو جائے گا ایسے میں زیادہ سیاسی طاقت کے ساتھ لوٹے یوگی سے صوبہ کی معیشت کو بہتر بنانے کی امیدبھی رکھنا فطری طور سے اور بھی بڑھ گیا ہے ۔چناو¿ میں جو ایک اشو عورتوں کا زیادہ بھایا وہ ریاست میں قانون و نظم اور عورتوں کی سیکورٹی ،یوگی جی سے بہت امیدیں ہیں انہیں جنتا کی امیدوں پر کھرا اترنا ہی ہوگا ۔پھر 2024کے چناو¿ میں یوپی کا اہم رول ہوگا۔ (انل نریندر)

29 مارچ 2022

سی بی آئی کے پاس ایک ہزار سے زیادہ معاملے اٹکے ہوئے !

مرکزی تفتیش بیورو (سی بی آئی )کے پاس جانچ کے لئے اٹکے پڑے ایک ہزار سے زیادہ معاملوں کا ذکر کرتے ہوئے پارلیمنٹ کی ایک کمیٹی نے کہا کہ انصاف میں دیری ہونا انصاف نہ ہونے کے برابر ہے ۔معاملوں کو دہائیوں تک لٹکایا نہیں جا سکتا۔کمیٹی نے سی بی آئی سے لٹکے پڑے معاملوں کو نپٹانے کے لئے ایک خاکہ تیار کرنے کو کہا ۔پرسنل ٹریننگ محکمہ کی گرانٹ مانگوں (2022-23) پر بحث کے دوران پرسنل و پبلک شکایات و سسٹم پر بنی شعبہ ذاتی سے متعلق پارلیمانی کمیٹنی نے پارلیمنٹ میں اپنی رپورٹ رکھی جس میں کہاگیا ہے کہ لٹکے معاملوں کے سوال پر سی بی آئی نے ایک تحریری جواب میں بتایا کہ سال 31جنوری کو 225کیسز کی جانچ التوا میں ہے جن میں سے 66معاملے سال بھر سے زیادہ سے لٹکے ہوئے ہیں اس سے لگتا ہے کہ اگر انسانی سمجھداری اور انصاف کی ضرورت پر توجہ دی جائے تو لٹکے ہوئے کیسز کو زوردار طریقہ سے کم کیا جا سکتا ہے ۔کمیٹی نے سفارش کی تھی کہ سی بی آئی پر انحصار کم کرنے کی کوشش کی جانی چاہیے ۔پولیس پر انحصار سے زیادہ فائدہ ہو سکتا ہے ۔ (انل نریندر)

اکھلیش نے اسمبلی کی ممبری کیوں چنی ؟

سماجوادی پارٹی کے چیف اکھلیش یادو نے لوک سبھا کی ممبر شپ سے استعفیٰ دے کر یہ تو صاف کر دیا ہے کہ اب ان کی پوری توجہ یوپی کی سیاست پر ہوگی انہیں سرکار بنانے کا بھلے ہی موقع نہ ملا ہو لیکن وہ ایوان میں بھاجپا سرکار ایک مضبوط اپوزیشن کے رول کا احساس ضرور کرائیں گے اس استعفیٰ کو سال 2024میں ہونے والے لوک سبھا چناو¿جوڑ کر دیکھا جا رہا ہے ۔اکھلیش یادو ، اعظم خان ،ماتا پرساد پانڈے ،شیو پال یادو ،سینئر ممبر اسمبلی ہیں ۔اب دیکھناہوگا نیتا اپوزیشن کون ہوتا ہے ؟ اکھلیشن کرہل سیٹ سے پہلی بار ممبر اسمبلی چنے گئے ہیں ۔سیٹ کو بچا کر انہوں نے یہ پیغام دینے کی کوشش کی ہے کہ کنبہ ذاتی اور روایتی سیٹ سے ان کا سیاسی لگاو¿ ہے اب دیکھنا ہوگا کہ اعظم خان اس چناو¿ میں رام پور سے دسویں مرتبہ ممبر اسمبلی چنے گئے ہیں اور جیل میں ہیں ۔اسمبلی میں ان کا رول جیل سے آنے کے بعد ہی شروع ہو پائے گا ۔اکھلیش جب پارلیمنٹ میں تھے توان کا زیادہ تروقت دہلی میں گزررہا تھا ۔استعفیٰ کے سہارے وہ یہ بھی پیغام دینا چاہتے ہیں کہ اسمبلی چناو¿ میں ہار کے بعد وہ یوپی کی سیاست پر دھیان دیں گے ۔سپا کا اعظم گڑھ کی سیٹوں پر اچھی پرفارمنس رہی ایسے میں اکھلیش کو بھروسہ ہے کہ ضمنی چناو¿ میں یہ سیٹ پھر سے سپا کے کھاتے می جائے گی ۔اکھلیشن آبادی کے لحاظ سے دیش کی سب سے بڑی ریاست پانچ سال تک وزیراعلیٰ رہے ہیں ۔ان کا پورا خاندان سیاست میں ہے ۔والد ملائم سنگھ یادو تو دیش کے سیاسی سورماو¿ں میں شمار کئے جاتے ہیں ۔اکھلیش کو حالیہ اسمبلی چناو¿ نتائج سے سمجھ میں آگیا ہے ۔پارٹی کے مفاد میں ان کا یوپی میں رہنا ضروری ہے ۔بجائے وہ دہلی میں رہیں ۔اب وہ یوپی اسمبلی میں رہ کر یوگی سرکار کی پالیسیوں پر سخت نظر رکھ پائیں گے ۔ہر اس موقع کو اپنی پارٹی کے مفاد میں بھنائیں گے جہاں یوگی سرکار کی تھوڑی سی بھی کمزوری دکھائی دے گی ۔ (انل نریندر)

تو کیا لوک سبھا کے ساتھ ہوں گے ایم سی ڈی چناو ¿؟

دہلی میں یونیفائڈ میونسپل کارپوریشن چناو¿ جلد ہونے کی امید نہیں ہے ۔بل میں وارڈوں کی زیادہ سے زیادہ تعداد 250کرنے کی سہولت ہے اس سے نئے سرے سے وارڈ بنانے ہوں گے اس کاروائی میں ایک سال تک کا وقت لگ سکتا ہے ۔دوسری طرف مرکزی سرکار نے بل میں کہا ہے کہ میونسپل کارپوریشن بننے کے بعد جو مردم شماری ہوگی اس کے بعد اس کی بنیاد پر دہلی کے وارڈوں کی تعداد متعین ہوگی ۔ماہرین کے مطابق سرکار نے بل میں سہولت رکھی ہے کہ وارڈ کی حد بندی نئی مردم شماری کی بنیاد پر ہوگی ۔ابھی 2021کی مردم شماری پوری نہیں ہوئی ہے ایک اندازہ کے مطابق مردم شماری کی رپورٹ آنے میں دو سال لگ سکتے ہیں اس صورت میں دو سال پہلے نئے سرے سے وارڈ نہیں بنائے جا سکتے ۔اصل میں مانا جارہا ہے کہ 2011کی مردم شماری سے زیادہ ووٹروں کی تعداد ہو چکی ہے اس سبب مردم شماری و ووٹروں کے معاملے میں وارڈوں کی پوزیشن برابر نہیں ہو سکتی ۔ادھر دہلی اسٹیٹ الیکشن کمیشن کے حکام نے بتایا مردم شماری رپورٹ ملنے کے بعد نئے سرے سے وارڈ بنانے میں کم سے کم ایک برس کا وقت لگے گا ۔سال 2016میں وارڈوں کی حد بندی کرنے میں پورا ایک برس لگ گیا تھا ۔وارڈ بنانے میں مردم شماری محکمہ سے تفصیلات لینی پڑتی ہیں اس کے بعد وارڈ بننے کی کاروائی شروع ہو جاتی ہے ۔وارڈوں کے علاقہ کا خاکہ بنانے کے بعد سیاسی پارٹیوں کے علاوہ عام جنتا سے اعتراضات اور تجاویز و مشورے حاصل کئے جاتے ہیں ۔یہ کاروائی پوری ہونے کے بعد وارڈوں کے علاقوں کو فائنل شکل دے دی جاتی ہے ۔آئین کے ماہر اور دہلی اسمبلی کے سابق سیکریٹری ایس کے شرما کا کہنا ہے کہ اگر وارڈوں کو موجودہ تعداد 272سے گھٹائی جاتی ہے اس کے لئے حد بندی کاروائی کی ضرورت ہوگی ۔اور اس میں بہت وقت لگے گا ۔بتادیں دہلی میونسپل کارپوریشنوں (تینوں) کی میعاد 22مئی کو ختم ہو رہی ہے ۔میونسپل کارپوریشن بھنگ ہونے کے ساتھ ہی اس کی کمان اسپیشل افیسر کے ہاتھ میں سونپی جائے گی ۔جو سیدھے دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر کو رپورٹ کریں گے ۔پیش بل کے بارے میں کہا گیا ہے کہ انہیں میونسپل کارپوریشن کے طریقہ نظام میں مداخلت کرنے کا پورا اختیار ہوگا اس بل سے سرکار دہلی میں میئر ان کونسل سسٹم لاگو کرنے میں بھی دلچسپی رکھتی ہے اس بل میں اس طرح کوئی بحث نہیں ہوگی ۔حالانکہ کہا گیا ہے کہ اس کی جانکاری گزٹ نوٹیفکیشن میں دے دی جائے گی ۔بل میں ڈائرکٹ لوکل باڈیز کا انتظام کو جاری رکھنے کی بات ضرو ر کی گئی ہے ۔ (انل نریندر)

27 مارچ 2022

ہر تیسری عورت گھریلو مارپیٹ کا شکار!

خواتین کی حفاظت کے لئے تمام قاعدے قانون خاص کر گھریلو تشدد قانون 2005ہونے کے باوجود دیش میں ہر تین عورتوںمیں سے ایک عورت گھریلو مارپیٹ کا شکار ہے ۔گھروں میں ہونے والی اسطرح کے تشدد کے معاملے زیادہ تر قطع نہیں چلتے اس کی وجہ سے عورت کا اقتصادی طور سے شوہر یا خاندان پر ذمہ دار ہونا ہے ۔وہیں گھریلو تشدد معاملے میں جھگڑوں کا سبب آپسی نااتفاقی ہونا بھی اس کی بڑی وجہ ہے یہ بات آئینی ایپکس کے سروے میں سامنے آئی ہے جس میں این سی آر اور نیشنل فیملی ہیلتھ رپورٹ کے اعداد شمار کی بنیاد پر بتایا گیا ہے اس کی وجہ عورتوں سے جڑے جرائم میں سزا نہ ملنا بھی ایک بڑی وجہ ہے ۔جرائم قانون کے ماہر ڈاکٹر ایم پی شرما کا کہنا تھا گھریلو تشدد کے معاملوں کی زیادہ تر شکایت نہیں کی جاتی اس تشدد کے وہی معاملے در کئے جاتے ہیں جن میں تشددسنگین قسم کا ہوتا ہے ۔بیوی کے ساتھ گھر میں مارپیٹ اذیت رسانی اور عام طور سے اچھا برتاو¿ نا ہونا گھریلو تشد د ہے لیکن اسے رپورٹ نہیں جاتا ایسے معاملے بڑے شہروں میں جو سامنے آجاتے ہیں لیکن چھوٹے قصبوں دیہات سے اس طرح کے معاملے تھانے تک نہیں جاتے ۔ان کا کہنا تھا کہ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ قانون کی جانکاری ہونے کے باجود بھی عورت کو گھر میں ٹارچر کیا جاتا ہے عورتیں جرم سہتی ہیں لیکن جرم کی رپورٹ نہیں کرتیں یہ زیادہ تر ایسے معاملات میں ہوتا ہے جہاں عورتیں مالی تنگی سے شوہر یا پریوار پر منحصر ہیں دوسرے سماج کا رخ بھی ایک اہم ترین پہلو ہے ۔شوہر یا پریوار کی شکایت لے کر پولیس میں جانے والی عورت کو سماج میں اچھی نظروں سے نہیں دیکھا جاتا پھر بھی وہ شکایت ہے کرتی ہے تواس کی کوئی بات سنی نہیں جاتی اور وہ اکیلی پڑ جاتی ہے کئی بار پولیس بھی ایسے معاملوں کو ایسے گھریلوں معاملوں کو بات چیت کے ذریعے رفع دفع کرانے کی کوشش کرتی ہے ۔اور ایسے معاملوں میں کاروائی سے گریز کرتی ہے ۔ہاں اگر سنگین معاملہ ہوتو وہی پولیس حرکت میں آجاتی ہے ۔ان اسباب سے متاثرہ عورت کے پاس سمجھوتہ کرنے کے بجائے کوئی راستہ نہیں ہوتا عورتوں کے خلاف جرائم میں سزا دی جانے کی شرح محض 23.7فیصدی ہے ۔جبکہ وہیں اس طرح کے معاملوں کے لٹکے ہونے کی شرح 91.2ہے اس کا سبب خصوصی عدالتوں کا کاروائی میں لمبی ہونا اور ڈھیلائی برتنا گواہوں کا سامنے نہ آنا بھی ایک وجہ ہے ۔ (انل نریندر)

مہنگائی کا مہینہ مارچ!

پانچ ریاستوں کے چناو¿ کے سبب 131دن پیٹرول ڈیزل کی قیمتیں ٹھہری رہیں لیکن دوسرے دن بھی 80پیسے بڑھا دی گئیں یعنی دو دن میں 1.60روپے فی لیٹر تھی ۔کچے تیل 115ڈالر بیرل کے پار ہو چکا ہے ۔چار نومبر کو یہ 81.6ڈالر بیرل تھا ۔تیل کمپنیاں 17روپے لیٹر تک دام بڑھا سکتی ہیں ۔پیٹرول پر ایکسائز ڈیوٹی ابھی پری کووڈ سے 8اور ڈیزل پر 6روپے زیادہ ہے ۔دیش کی سب سے بڑی تیل کمپنی انڈین آئل نے 166دن بعد رسوئی گیس سلینڈر 50روپے تک مہنگا کر دیا ہے ۔مدھیہ پریش یوپی ،بہار ،جھارکھنڈ اور چھتیس گڑھ کے 11شہروں میں سلینڈر 1000روپے سے پار ہو گیا ہے ۔دہلی میں ابھی یہ ریٹ 949.3روپے ہو گیا ہے ۔مارچ 2021کے نتیجے 819روپے تھا یعنی سال بھیر میں ہی 140روپے مہنگا ہو گیا ۔روس یوکرین جنگ سے کچا تیل قریب 40فیصد مہنگا ہو چکا ہے ۔یہ 185ڈالر تک جا سکتا ہے ایسے میں ضروری چیزوں کی قیمتیں اور بڑھنے کا اندیشہ ہے ۔مارچ کے مہینہ میں مہنگائی کا یہ حال ہے ۔پیٹرول مصنوعات کے ساتھ ہی دودھ کافی میگی اور سی این جی مہنگی ہو گئی ہے ۔امول ،مدرڈیری ،پراگ نے دود ھ دو روپے فی لیٹر مہنگا کر دیا ہے ۔مدھیہ پردیش میں ملک نے 5روپے اضافہ کیا ہے ۔میگی بھی دو روپے سے تین روپے مہنگی ہو گئی ہے ۔چھوٹے پیک پر دو روپے اور بڑے پیک پر تین روپے کا اضافہ ہو گیاہے ۔نائس کیفے کلاسک اور بروکافی اوت تاج محل چائے کی قیمتوں میں 3سے 7فیصد اضافہ کیا گیاہے ۔دہلی میں سی این جی 50پیسہ کلو تک مہنگی ہو گئی ہے ۔پچھلے کچھ عرصہ سے روز مرہ کی اشیائے ضروریہ کی قیمتیں عام لوگوں کی پہونچ سے باہر ہوتی جارہی ہیں کھانے پینے کی چیزوں تک کے دام لمبے عرصے سے جس سطح پر ہیں اس سے بہت سے لوگوں کے سامنے الگ الگ طرح کی مشکلات کھڑی ہوتی جارہی ہیں ۔عجب یہ ہے کہ جب کبھی بین الاقوامی بازار میں کچے تیل کے دام میں گراوٹ آتی ہے تو شاید ہی کھلے بازار میں پیٹرول ڈیزل کے دام میں کمی کی جاتی ہے ۔سوال یہ ہے اگر بڑی گاڑیوں یا کاروباری اداروں ہوائی اڈوں ،اور صنعتی استعمال میں کھپت کے لئے اونچی قیمت پر ڈیزل خریدنا چاہیں تو کیا اس کا اثر متعلقہ بجنس مین پر نہیں پڑے گا ؟ کیا تھوک میں مہنگے تیل کی وجہ سے مال ڈھلائی مسافر کرایہ ،نہین بڑھے گا ؟ دراصل گزشتہ دنوں پیٹرول ،ڈیزل کے دام ٹکے رہے مانا جا رہا تھا اس کے پیچھے اسمبلی انتخابات بڑی وجہ رہے ۔جس سے مہنگائی کااثر ووٹروں پر پڑ سکتاتھا ۔اب پانچ ریاستوں میں چونکہ چناو¿ ختم ہو گئے ہیں اس لئے قیمتیں بے لگام بڑھ رہی ہیں ۔سرکار کو چاہیے کم سے کم روز مرہ کی چیزوں کی قیمتوں پر کنٹرول کریں ۔غریب آدمی روز کھانے کمانے والا کس حالت میں جی رہا ہے یہ بھی تو جانیں ۔ (انل نریندر)

میلانیا نے امریکہ میں یہ نئی جنگ چھیڑ دی

ایران جنگ میں سیز فائر ہوتے ہی امریکہ کے اندر ایک اور جنگ شروع ہو گئی ہے ۔آپ حیران ہوں گے کہ یہ کون سی جنگ ہے ؟ بتادیں کہ ایپسٹین فائلس کی ...