Translater

28 مئی 2016

مودی حکومت کے دو برس۔ کچھ کٹھے کچھ میٹھے نتائج

وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت والی ا ین ڈی اے سرکار دو سال پورے ہونے پر ان دنوں خوب جائزے ہورہے ہیں مودی سرکار نے 26مئی 2014 کو حلف لیاتھا۔ یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ مودی حکومت کے بارے میں عام رائے یہی سامنے آئی ہے کچھ بے شک چناوی وعدے پورے کرنے میں بھلے ہی اس حکومت کاریکارڈ بہت مثبت نہ رہا ہوں لیکن عام طور پر عوام کی نظروں میں اس کی ساکھ ایک سرگرم اور نیک نیت بنی ہے۔ کچھ میڈیا ہاؤس کی اس حکومت کی بخیہ اُدھیڑ رہے ہیں تو کچھ تعریفیں کرنے میں لگے ہوئے ہیں مودی حکومت کے دو سال پورے ہونے پر سبھی وزراء اپنے اپنے کارنامے گنا رہے ہیں لیکن یہ کہنا ہوگا کہ بے شک اس حکومت نے بہت سی ترقیاتی اسکیمیں شروع کی ہیں اس کا نتیجہ بھی آئے گا لیکن ان اسکیموں کے نتائج آنے میں وقت لگتا ہے کئی سال لگیں گے مثبت نتائج آنے میں۔ دوسری طرف ہمیں یہ کہنے میں قباحت نہیں ہے کہ سابقہ حکومت نے جنتا کی عادتیں خراب کردی ہیں۔ عوام اب بغیر محنت کئے اور بغیر انتظار کئے نتیجہ چاہتی ہیں زیادہ تر عوام کو روٹی روزی سے مطلب ہیں۔ وہ مہنگائی سے نجات پانا چاہتی ہے۔ سلامتی چاہتی ہے۔ روزگار چاہتی ہے۔ وہ بھی فوراً ان سیکٹروں میں مودی سرکار سے ناخوش ہے۔ وہ اس حکومت سے زیادہ فلاحی کاموں میں راحت چاہتی ہیں حال ہی میں ختم ہوئے تاملناڈو اسمبلی چناؤ میں ہم نے دیکھا کہ کس طرح جے للیتا نے نہ صرف ایسی فلاحی اسکیموں پر اپنی توجہ مرکوز کی، اماں برانڈ آٹا، اماں کینٹین، اماں ساڑی، اماں کلینک وغیرہ ایسی اسکیمیں تھیں جس سے عوام کی روزمرہ کی ضرورتیں پوری ہوتی ہیں۔اسی کا انہیں فائدہ ملا جب سے نریندر مودی نے عہدہ سنبھالا ہے تبھی سے دیش کے کچھ طبقات جن میں سیاسی حریف بھی ہے، اقلیتوں کا ایک طبقہ، صحافی اور میڈیا سے جڑے ہوئے طبقات، کچھ دانشور اس سرکار کے خلاف ہیں۔ اس کی وجہ سے جنتا کے ایک طبقے میں خاص کر اقلیتوں میں عدم تحفظ کا احساس بڑھا ہے دیش کچھ حد تک تقسیم ہوا ہے اس سرکار کو اس عدم تحفظ کے احساس کو کم کرنے، اس خلیج کو پر کرنے اور دیش کو متحد کرنے کی اور ٹھوس کوششیں کرنی ہونگی۔ مودی سرکار کے دو سال سے لوگوں میں مایوسی تو ہے ، لیکن غصہ نہیں۔ لیکن زیادہ تر کہتے ہیں کہ دو سال کا وقت بہت کم ہوتا ہے ہمیں نتیجہ آنے کاانتظار کرناہوگا۔ ہمیں یہ کہنے میں کوئی ہچک نہیں ہے کہ عوام کی امیدیں ضرورت سے زیادہ بڑھ گئی تھیں۔ اچھے دنوں کا جو وعدہ کیاگیا تھا وہ ابھی تک نہیں پورا ہوا لیکن انہیں پوراکرنے کی کوشش ضرور ہورہی ہیں۔ اسے زمین پر اتارنے میں وقت لگے گا ۔ مرکزی سرکار کے کام زمینی سطح پر دکھائی دینے میں ریاستی حکومت کا رول ہوتا ہے کیونکہ زیادہ تر اسکیمیں ریاستوں کو ہی نافذ کرنی ہوتی ہیں۔ مودی حکومت کو ریاستوں کے ساتھ ا پنا ریپو قائم کرنے کے لئے بہتر تال میل قائم کرنے کی ضرورت ہے۔ ایک دو آتنکی حملوں کو چھوڑ دیں تو گھریلو محاذ پر موٹے طور پر دیش میں امن ہی رہا ہے۔میڈیا و دیگر اداروں کے ذریعے گنائے جانے والی ناکامیوں کو سرے سے مستردکرنا صحیح نہیں ہے اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے مثال کے طورپر ایسو اچیم نے حکومت نے آگاہ کیا ہے کہ وہ سنبھال جائے کیونکہ ٹیکس تنازعوں اور بینکنگ سسٹم میں پھنسے ہوئے قرض کی بھاری بھرکم رقم کافی پریشان کرنے والی ہے۔ کاروباری منڈی کو ذہن میں رکھتے ہوئے اس مسئلے پر بڑھتی تشویشات پر ابھی بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے اس معاملے میں سرکار اور ریزرور بینک آف انڈیا کو کافی احتیاط سے کام کرنے کی ضرورت ہے اس کے علاوہ ٹیکس تنازعوں کا نپٹارہ زرعی اصلاحات، سرمایہ کاری اور اہم جی ایس ٹی بل پر سرکار کو ابھی بہت کچھ کام کرنے کی ضرورت ہے۔ یعنی این ڈی اے سرکار کاکام پرگتی پر ہے۔ابھی اس کو مزید ٹھیک کرنا ہوگا جب تک کہ ریلوے اور قومی شاہراہوں کے سیکٹر میں کئے گئے ٹھوس کاموں کے نتائج سامنے نہیں آتے بین الاقوامی سیکٹر میں اس سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ نریندر مودی نے دنیا کی نظروں میں ہندوستانیوں کی عزت بڑھائی ہے اب اس کا دنیا میں احترام ہوناشروع ہوگیا ہے اور بھارت ایک ابھرتی طاقت بن کر سامنے آیا ہے۔ انگریزی اخبار اکانومک ٹائمز اور بک ٹریڈ فرم موومنٹ میگنٹ اپنے ایک آن لائن سروے کرکے مودی سرکار کے د وسال کے کام کاج کے بارے میں لوگوں کی رائے لی ہیں۔ اس سروے کے لئے سوشل میڈیا پر لوگوں سے بات چیت، بلاگس اور نیوز سائڈ پر ٹوپکس کی بنیاد بنا کر نتیجہ نکالا گیا ہے۔ یہ اسٹڈی 1جون 2015سے لے کر 20 اپریل 2016 تک انٹر نیٹ پر 15000 سے زیادہ بات چیت پر مبنی ہے۔ اس کے مطابق مودی سرکار کی پہلی سالگرہ پر 48 فیصدی لوگوں کا رویہ مثبت دیکھاگیا ہے لیکن اس سال یہ 8 فیصدی منفی ہوگیا۔اسٹڈی کے مطابق سرکار پر ہوئی بات چیت میں 46 فیصدی لوگ مثبت دکھائی دیئے وہی 54 فیصد ناخوش لوگوں کا مودی سرکار کی طرف جھکاؤ پہلے سال کے مقابلے +48 کے مقابلے دوسرے سال-8 فیصد گر گیا ہے۔ مودی سرکار سے ہم امید کرتے ہیں کہ انہیں اس مایوسی کا علم ہوگا۔ آنے والے دو سال میں چیک میک یا بریک موومنٹ ہوگا۔ اس دوران نہ صرف وعدوں کو پورا کرنے کے لئے پوری تیزی لانی ہوگی بلکہ وہ زمین پر بھی دکھائی دے اس کے لئے بھی تمام کوششیں کرنی ہونگی۔ اگلے ایک سال ہی 2019 میں مودی سرکار کی قسمت طے ہوگی۔ اگلے سال میں پانچ ٹھوس اشو ہیں نکتہ ہے جو مودی سرکار کے لئے بہت اہم ہے۔ ان دو برسوں میں کہیں نہ کہیں یہ آواز اٹھنے لگی ہے کہ حکومت نے اقتصادی محاذ پر اتنے بولڈ قدم نہیں اٹھائے ہیں جتنی توقع تھی ایسے میں اگلے برس جی ایس ٹی سمیت لیبر ، بینک، زمینی اصلاحات جیسے محاذ پر سرکار کو بڑے قدم اٹھانے ہونگے۔ دو سال بعد بھی اقتصادی ترقی زور نہیں پکڑ سکی۔ اور برآمد ات کم ہوئی ہیں ۔شہری معیشت کی حالت خستہ ہے اور نئے پروجیکٹ آگے نہیں بڑھ رہے ہیں۔ دوسال پورا کرنے تک سرکار ایسی منفی اور عالمی بحران ( معیشت) کے درمیان بحال یہ پیغام سرکار دینے میں کچھ حد تک کامیاب رہی ہیں کہ اس نے جو قدم اٹھایا ہے اس کااثر جلد دکھائی دینے لگے گا ایسے میں اگلے برس ان دعووں پرکتنا گھرا اترتی ہے اس سے حکومت کا مستبقل طے ہوگا ۔ یوپی اے سرکار میں گھوٹالوں کے بعد مودی سرکار اقتدار میں آئی ہیں اس نے اقتدار میں آنے کے بعد کرپشن پر لگام لگانے میں کامیابی پائی ہیں لیکن اب الزامات سے کام نہیں چلے گا وہ ہنی مون پیریڈ ختم ہوچکا ہے اگر ٹھوس کارروائی ان گھوٹالوں میں نہیں ہوئی تو اس کے ارادے پر سوال اٹھیں گے کل ملا کر ہم کہہ سکتے ہیں کہ مودی سرکار کے دو برس کے عہد کے نتیجے گھٹے میٹھے رہے ہیں۔
(انل نریندر)

26 مئی 2016

کئی معنوں میں تاریخی ہے مودی کا ایران دورہ

وزیر اعظم نریندر مودی کا ایران دورہ بیحد کامیاب رہا۔بھارت اور ایران کے درمیان سمجھوتہ ہماری ڈپلومیسی میں ایک نیا باب جوڑنے والے ہیں۔ بھارت اور ایران نے آتنک واد ، شدت پسندی اور سائبر اسپیس سے مل کر سوموار کو نپٹنے کا فیصلہ کیا۔ وزیر اعظم کے ایران دورہ کے دوران ہوا چاہ بہاربندرگاہ کو ترقی دینے سے متعلق سمجھوتہ دوطرفہ تعلقات کے لحاظ سے ہی نہیں بلکہ سیاسی حکمت عملی کے طور پر بھی بیحد اہم ہے۔ یہ چین کے ذریعے پاکستان میں گوادر بندرگاہ سے ہوکر بنائے جارہے بھاری بھرکم معاشی گلیارے کا جواب ہو یا نہ ہو اس سے افغانستان تک پہنچنے کیلئے بھارت کو پاکستان پر نربھر رہنے کی ضرورت پوری طرح سے ختم ہوجائے گی۔اس طرح بھارت سیدھے وسطی ایشیا اور روس تک بھی اپنی پہنچ بنا سکے گا۔ امریکہ کے ترچھے تیور کے باوجود وزیر اعظم نریندر مودی کا ایران دورہ اس بات کا بھی اشارہ ہے کہ ہم دھیرے دھیرے آزادانہ سوچ پر مبنی ایک متوازن ڈپلومیسی کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ یہ کسی سے چھپا نہیں ہے کہ گذشتہ کچھ سالوں میں ہماری سیاست پر امریکی اثر بہت کچھ زیادہ ہی گہرا دکھائی دینے لگا تھا۔ بھارت کے ساتھ ایران کے رشتے ہمیشہ سے اچھے رہے ہیں لیکن اب اسے اور زیادہ ٹھوس شکل دینی ہوگی۔ اٹل بہاری واجپئی کے عہد میں 2003ء میں چاہ بہار کو ڈیولپ کرنے پر اتفاق ہوا تھا جس کے تحت بھارت نے افغانستان کو اس سے جوڑنے والی سڑک کی تعمیر بھی کی ہے۔ مگر ایران کے الگ تھلگ پڑنے کے بعد سے یہ پروجیکٹ بھی سست پڑ گیا تھا۔ دوسری جانب بھارت لمبے وقت سے ایران اور پاکستان سے ہوکر گیس پائپ لائن لانے کی کوشش کررہا تھا مگر اب تک یہ پروجیکٹ سرے نہیں چڑھ سکا ہے۔ گزشتہ مہینے بھارت میں ایران کے سفیر نے تو سمندر کے اندر سے ہوکر مجوزہ2700 کلو میٹر لمبے اس پروجیکٹ کو ایک طرح سے دفن ہونے کا اشارہ بھی کردیا۔ایران اپنے اٹامک پروگرام کی وجہ سے بین الاقوامی سطح پر الگ تھلگ پڑ جانے کا دورہ ختم ہونے کے بعد سے ایران کا سارا زور اب اپنی معاشیات کو رفتار دینے اور اپنا ڈپلومیٹک الگاؤواد ختم کرنے پر ہے۔ چونکہ بھارت سے اس کے رشتے ہمیشہ سے اچھے رہے ہیں لیکن اب وہ انہیں زیادہ ٹھوس شکل دینا چاہتا ہے۔ ایران سے ہوئے مختلف سمجھوتوں میں چاہ بہار سمجھوتہ اس لئے بھی اہم ہے کیونکہ اس کے ذریعے ہم نے گوادر پورٹ کے ارد گرد جاری چین اور پاکستان کے نئے ڈپلومیٹک کھیل کو کرارا جواب دیا ہے۔ دراصل چین کی طرف سے پاکستان میں یہ بندرگاہ اس کے دور رس مفاد کو دھیان میں رکھ کر بنائی جارہی ہے۔ اس پورٹ کے پیچھے چین کا مقصد ہند مہا ساگر میں سیدھی نکاسی کے علاوہ کھاڑی علاقہ میں اپنا اثر بڑھانا ہے لیکن اب گوادر کے ٹھیک بغل میں چاہ بہار بندرگاہ بھی کھڑی ہوگی۔ابھی پاکستان و چین اس میں اڑنگا لگا رہے تھے۔ دونوں ہی نہیں چاہتے کہ اس علاقے میں بھارت مضبوط ہو لیکن چاہ بہار بندرگاہ سے چین سمیت کئی بڑی طاقتوں کے ڈپلومیٹک حکمت عملی پلٹ سکتے ہیں۔ وزیر اعظم نریندر مودی اور ایرانی راشٹرپتی حسن روحانی کی موجودگی میں قریب ایک درجن قرار ناموں پر دستخط ہوئے ہیں جن میں بھارتیہ تعاون سے یوریا اور ایک الیمونیم پلانٹ کی تعمیر بھی شامل ہے۔ خود وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ چاہ بہار بندگاہ اور اس سے جڑے بنیادی ڈھانچے سے متعلق قرار تاریخی حصولیابی ہے۔ اس سے اس علاقہ میں معاشی ترقی کو بڑھاوا ملے گا۔ ہم ان سمجھوتوں کو جلد عملی شکل میں لانے کے لئے پر عہد ہیں۔ ایران کے صدر حسن روحانی نے کہا ایران کے لوگوں کے لئے یہ بہت اہم دن ہے۔ آج ایران۔ بھارت اور افغانستان کے بیچ تعاون کا ایک نیا باب شروع ہوگیا ہے۔ 23 مئی کو اب ہر سال’’ چاہ بہار دوس‘‘ کی شکل میں منایا جائے گا۔
(انل نریندر)

کرکٹ، پیار اور فکسنگ کی کہانی ’’اظہر‘‘

’بھاگ ملکھا بھاگ‘ اور’ میریکام‘ کے بعدڈائریکٹر بایوپک فلموں پر ہاتھ آزمارہے ہیں۔ بلیو اور باس جیسی مسالہ ایکشن فلمیں بنانے والے ڈائریکٹر ٹونی ڈیسوزہ کی انڈین کرکٹ ٹیم کے کپتان رہے مشہور بلے باز محمد اظہر الدین پر بنی فلم کو دیکھنے کے لئے میں بے چین تھا اور میں نے دیکھی بھی۔ امید تھی کہ اس بار ہمیں ایک شاندار بایوپک دیکھنے کو ملے گی اور پتہ چلے گا کہ اظہر پر میچ فکسنگ کے الزامات کی سچائی کیا ہے؟ لیکن فلم دیکھنے کے بعد ایسا لگا کہ ڈائریکٹر ڈیسوزہ نے محمد اظہر الدین کے اسی رخ کو ہی اپنی فلم کا حصہ بنایا جو اظہر شاید اپنے فینز کے ساتھ شیئر کرنا چاہتے تھے۔ انہوں نے اظہر سے جڑے کئی سنگین حصوں کو فلموں میں شامل کرنے کی کوشش نہیں کی جو میرے جیسے فلم بین دیکھناچاہتے تھے۔شاید یہی اس فلم کی سب سے بڑی کمزوری بھی ہے۔ شروع سے آخر تک فلم اظہر کے کردار میں نظر آرہے عمران ہاشمی پر ٹکی ہے اور انہوں نے ایمانداری سے یہ کردار نبھانے کی کوشش بھی کی ہے۔ اظہر کا رول کرنے کے لئے عمران نے یقینی طور پر بڑی محنت کی ہوگی۔ قریب 5 مہینے تک کرکٹ کی باریکیاں سیکھیں اور کرکٹ گراؤنڈ میں جاکر پسینہ بہایا۔ عمران نے اظہر کے کردار کو جاننے کی ایماندار کوشش کی ہے اور اس میں کافی حد تک کامیاب بھی رہے ہیں۔پہلے پراچی اور بعد میں نرگس کے ساتھ ان کے سرخیوں میں چھائے کس سین بھی فلم میں موجود ہیں۔ ایکٹریس سنگیتا کے کردار میں نرگس فخری اظہر کی دوسری بیوی کے کردار میں نظر آتی ہیں۔ اظہر کے ماما بنے کل بھوشن کربندہ اپنی چھاپ اور پہچان چھوڑنے میں کامیاب رہے تو وکیل بنی لارا دتہ نے اپنے کردار کو ٹھیک سے ادا کیا۔ اظہر کا کیس لڑ رہے وکیل کے کردار میں کنال رائے کپور کی ایکٹنگ قابل تعریف ہے۔لگاتار کامیابی کی جانب بڑھ رہے اظہر کے کردار میں ٹرن اس وقت آیا جب اس کی خوشحال زندگی میں میچ فکسنگ کے الزام کے ساتھ ہی ایکٹریس سنگیتا بجلانی کی اینٹری ہوتی ہے۔ خوبصورت بیوی نورین (پراچی ڈیسائی) کو طلاق دینے کے بعد اظہر ایکٹریس سنگیتا کے ساتھ دوسری شادی کرلیتا ہے۔ اسی دوران اظہر کا نام میچ فکسنگ کے ساتھ جڑتا ہے اور انڈین کرکٹ ٹیم سے اظہر کو باہر کردیا جاتا ہے۔ کل تک اظہر کی ایک جھلک پانے کو بیتاب اس کے فینز اب اس کے پتلے جلاتے نظر آتے ہیں۔ میچ فکسنگ کے الزام کے بعد اظہر کی مقبولیت ختم ہوچکی ہے ایسے میں خود کو بے گناہ ثابت کرنے اور اپنی امیج کو بے داغ ثابت کرنے کے لئے اظہر ان الزامات کو کورٹ میں چیلنج کرتے ہیں۔ بتا دیں کہ سال2000ء میں میچ فکسنگ کی جانچ کرنے والی سی بی آئی ٹیم کے ممبر 1986 ء بیچ کے آئی پی ایس ایم۔ اے گنپتی نے تصدیق کی ہے کہ دو گھنٹے سے زیادہ کی پوچھ تاچھ میں اظہر نے الزامات قبول کرلئے تھے۔ جانچ رپورٹ وزارت داخلہ کو بھیج دی گئی تھی۔ پوچھ تاچھ کی ریکارڈنگ بھی ہے ساتھ ہی گینگستر ابو سلیم سے بات چیت کا وہ ٹیپ بھی موجود ہے جس میں وہ میچ ہارنے کی بات کررہے ہیں۔ لیکن اس وقت فکسنگ کو لیکر قانون نہیں ہونے کی وجہ سے کیس آگے نہیں بڑھا۔ ساؤتھ افریقہ کے سابق کپتان ہینسی کرونئے نے بیان دیا تھا کہ اظہر نے انہیں فکسروں سے ملوایا تھا۔ اس معاملے میں بھارت کے اجے شرما، اجے جڈیجہ اور منوج پربھاکر پر بھی پابندی لگی تھی۔ 99 ٹیسٹ کھیلے اظہر نے 22 سنچری،6215 رن بنائے۔انہوں نے 334 ونڈے میں 9378 رن بنائے جس میں 7 سنچریاں شامل تھیں۔ ثبوتوں کی کمی میں 8 نومبر 2012 ء کو آندھرا پردیش ہائی کورٹ نے اظہر پر لگے زندگی بھر کی پابندی کو ہٹا دیا تھا۔ عدالت نے پابندی کو غیر قانونی ٹھہرایا تھا ساتھ ہی جانچ ایجنسی کے کام پر بھی سوال اٹھائے۔ 2013ء میں وزیر قانون کپل سبل نے آئی پی سی میں فکسنگ کو لیکر نیا قانون بنانے کا پرستاؤ رکھا تھا۔انوراگ ٹھاکر نے نیشنل گیمس ایتھکس کمیشن کو لیکر بل پیش کیا جس میں10 سال جیل کی تجویز ہے۔ اظہر الدین نے ایک اخبار کے لئے انٹرویو میں کہا اس وقت لوگ میری بات سننے کو تیار نہیں تھے اب یہ فلم دیش کے سامنے میری بات رکھے گی۔ میں اس وقت بے قصور تھا۔
(انل نریندر)

25 مئی 2016

امریکہ نے اسامہ کی طرح منصور کو پاک میں گھس کر مارڈالا

اسامہ بن لادن کی طرح کی پاکستانی فوج کی ناک کے نیچے رہے افغان طالبان چیف اختر منصور کو امریکہ نے مار گرانے میں زبردست کامیاب پائی ہے۔ ایتوار کو افغانستان کی خفیہ ایجنسی نیشنل ڈائریکٹوریٹ آف سکیورٹی نے منصور کے مارے جانے کی جانکاری دی۔ اس سے پہلے پینٹاگن نے منصور کو مارنے کا اعلان کیا تھا۔ منصور پاکستان کے چھاؤنی شہر کوئٹہ میں چھپا ہوا تھا اور اس کا ایک دوسرا ساتھی سنیچر کو ہمارے ڈرون حملہ میں اس وقت مارا گیا جب وہ پاکستان کے کوئٹہ میں گاڑی میں کہیں جارہا تھا۔ پینٹاگن کے مطابق امریکی ایجنسی کچھ وقت سے منصور پر نظر رکھ رہی تھیں۔ اس فوجی کارروائی کی اجازت اور ڈرون حملہ کی منظوری خود امریکی صدر براک اوبامہ نے دی تھی۔ منصور اختر کے مارے جانے سے آتنکی تنظیم طالبان کو بڑا جھٹکا لگا ہے۔ جنگ سے تباہ حال افغانستان میں امن عمل کے لئے یہ بڑی کامیابی مانا جارہا ہے۔ افغانستان میں پیدا ہوا منصور 1990ء کی دہائی میں افغان طالبان کے ممبر کے طور پر تنظیم میں شامل ہوا تھا۔منصور نے ملا عمر کی موت کے بعد پچھلے سال جولائی میں افغان طالبان کی کمان سنبھالی تھی۔ ملا عمر کا معاون رہ چکے منصور کو طالبان کے دیگر لیڈروں کی بھی حمایت حاصل تھی۔ حالانکہ کئی طالبانی کمانڈر منصور کی تقرری کے خلاف تھے اور انہوں نے الگ گروپ بنا لیا تھا۔پاک وزارت خارجہ کے ایک افسر نے بتایا کہ کار میں بیٹھے جس شخص کو منصور بتایا جارہا ہے اس کے پاس ولی محمد نام سے پاسپورٹ تھا اور وہ ایران سے لوٹ رہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ابھی باقاعدہ طور پر اس کی پہچان ہونا باقی ہے۔ امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے کہا منصور امریکی ملازمین افغانستان کے شہریوں اور افغان سکیورٹی فورسز کے لئے بڑا خطرہ تھا۔ وہ طالبان اور افغان حکومت کے درمیان امن مذاکرات کا بھی مخالف تھا اس کے جانے کے بعد افغان اور طالبان میں امن بات چیت شروع ہوسکتی ہے۔ اسامہ کی طرح ہی منصور کے بھی پاک سرحد کے اندر گھس کر امریکہ کے ذریعے مارنے سے تلملائے اسلام آباد نے اس پورے واقعہ پر امریکہ سے صفائی مانگی ہے۔ حالانکہ پاک حکومت نے اس معاملے میں دو متضاد بیان جاری کئے ہیں۔ اپنی سرزمیں پر امریکہ کے ذریعے اچانک ڈرون حملہ کئے جانے سے بھڑکے پاکستان نے اسے پاک کی سرداری کی خلاف ورزی بتایا۔ پاک وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا ہم اپنا احتجاج جتا رہے ہیں۔ ادھر امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے بھی کہا انہوں نے پاک پی ایم نواز شریف کو فون پر اس حملہ کی جانکاری دے دی ہے۔
(انل نریندر)

انوراگ کے نوجواں کندھوں پر بی سی سی آئی کی ذمہ داری

بھاجپا میں ٹائیگر کے نام سے مشہور نوجوان ایم پی انوراگ ٹھاکر نے بھارتیہ کرکٹ کنٹرول بورڈ (بی سی سی آئی) کے اعلی عہدے پر پہنچ کر یہ مثال پیش کردی ہے کہ ’’پوت کے پاؤں پالنے میں نظر آتے ہیں‘‘ دنیا کی سب سے بڑی طاقتور کرکٹ انجمن کی کمان اب41 سالہ انوراگ ٹھاکر کے ہاتھ میں ہے ۔ جو اس چھوٹی سی ریاست ہماچل پردیش سے تعلق رکھتے ہیں جو ابھی تک صرف سیب ریاست کی شکل میں ہی زیادہ مشہور تھا۔ بی سی سی آئی کے چیئر مین بنے انوراگ کی میعاد 2017 ء تک رہے گی۔ وہ بھاجپا کے پہلے ممبر پارلیمنٹ ہیں جو یہ عہدہ سنبھال رہے ہیں۔ انوراگ بورڈ کے دوسرے سب سے کم عمر کے چیئرمین ہیں۔ ان سے پہلے 1963ء میں فتح سنگھ گائکوارڈ نے33 سال کی عمر میں یہ عہدہ سنبھالا تھا۔ بی سی سی آئی کے چیئرمین ششانک منوہر کے استعفے کے بعد یہ عہدہ خالی ہوا تھا۔ ابھی جتنی ان کی عمر ہے(41 سال) اتنی عمر میں تو لوگ کرکٹ میدان میں ہی سرگرم رہتے ہیں لیکن انہوں نے میدان کی جگہ باہر بیٹھ کر کھیل کا مستقبل بہتر بنانے کا بیڑا اٹھایا ہے۔ سپریم کورٹ کے ذریعے مقرر جسٹس آر ایم لوڈھا کمیٹی کی بورڈ میں اصلاح کے لئے انقلابی سفارشیں نافذ کرنے کی بات کہی ہے۔ اس اشو پر انوراگ ٹھاکر کا خیال ہے کہ وہ بورڈ میں اصلاحات کے حامی رہے ہیں لیکن ضروری اصلاحات کو ہی نافذ کیا جاسکے گا۔ چیئرمین کی کرسی سنبھالنے کے بعد انوراگ نے کہا میں اس دن صرف یہی کہہ سکتا ہوں کہ اگر آپ آج ٹوئٹر رپورٹ کو دیکھیں تو کوئی تیزی سے بڑھتی ہوئی لیگ ہے تو وہ ہے آئی پی ایل۔ اگر آپ اس کا الگ پہلو دیکھنا چاہتے ہیں تو سب سے زیادہ پیسہ گھریلو سیریز اور اشتہارات سے آتا ہے۔ ریاستی فیڈریشن اپنا خود ڈھانچہ بنا رہی ہیں۔ بھارت میں جہاں باقی کھیلوں کے لئے بنیادی ڈھانچہ سرکار بناتی ہے تو وہیں بھارت میں صرف کرکٹ میں یہ کام بی سی سی آئی کرتی آئی ہے۔ بی سی سی آئی کے چیئرمین کے عہدہ پرفائز ہونے سے مخالفین اندر سے اس انوراگ سے حیران ہیں جنہوں نے حمیر پور کی تین نفری پارلیمانی چناؤ کی جنگ جیت کر کانگریس کو مردہ کررکھا ہے۔ بہرحال ہماچل کرکٹ فیڈریشن کے چیف کی ذمہ داری کے دوران 2008ء کے ضمنی چناؤ لڑائی میں زبردست کامیابی سے پریم کماردھومل کی اس وراثت کو 34 برس کی عمر میں آگے بڑھایا جو خوددھومل نے 1989ء میں 45 سال کی عمر میں ہی حاصل کی تھی۔ بی سی سی آئی میں بڑے کرکٹ ایڈمنسٹریٹر کے طور پر انوراگ کا کارنامہ یقیناًوالد دھومل کے لئے قابل فخر ہے۔ انوراگ جس ذمہ داری کو سنبھال رہے ہیں اسے کبھی جگموہن ڈالمیہ، مادھوراؤ سندھیا، راج سنگھ ڈونگر، شرد پوار، منوہر جیسی سرکردہ شخصیات سنبھال چکی ہیں۔ ہم انوراگ ٹھاکر کو اس شاندار کارنامے پر اپنی مبارکباد دیتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ وہ نئے عہدے پر کامیاب ہوں گے۔
(انل نریندر)

24 مئی 2016

دہلی میں جنگل راج: ہائی کورٹ کے سخت ریمارکس

جو تبصرہ بہار کے سلسلے میں کبھی پٹنہ ہائی کورٹ نے کیا تھا ویسے ہی ریمارکس دہلی ہائی کورٹ نے راجدھانی دہلی کے بارے میں دئے ہیں۔ دہلی میں خواتین کی سلامتی کو لیکر جاری سماعت کے دوران دہلی ہائی کورٹ نے مرکز اور دہلی حکومت پر سخت رائے زنی کی۔ ہائی کورٹ نے کہا یہ حالات جو جنگل راج والے ہیں ایسے میں کوئی بھی چاہے کچھ بھی کر سکتا ہے۔ عدالت ہذا نے کہا کہ راجدھانی میں جرائم پر قابو پانے کے لئے دہلی پولیس نے فاضل پولیس فورس کی تقرری وزارت داخلہ کررہی ہے اور وزارت مالیات منع کررہی ہے۔ ایسے میں ہم جاننا چاہتے ہیں ایسے میں ہم جاننا چاہتے ہیں کہ حکومت کا رخ کیا ہے؟ اس پر مرکزی حکومت کی جانب سے وکیل نے کہا کہ اس بارے میں ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو جلد ہی اپنی رپورٹ سونپے گی۔ عدالت نے کہا دہلی پولیس کے مطابق قریب 11 ہزار نمونے جانچ کے لئے فورنسک لیب میں رکھے ہوئے ہیں۔ اس سے چھان بین متاثر ہوگی۔ اسے لیکر کوئی (مرکز اور دہلی حکومت) بھی سنجیدہ نہیں ہے۔ کیا آپ (مرکز کے وکیل) یہ چاہتے ہیں کہ ہم کہیں کہ دیش کی حکومت کو دہلی کے لوگوں کی سلامتی کی کوئی فکر نہیں ہے؟ ہم آپ کو نرمی کیساتھ یہ بتا رہے ہیں لیکن آپ کو سمجھ میں نہیں آرہا ہے۔ ہائی کورٹ نے اس سے پہلے دہلی پولیس میں نئے جوانوں کی بھرتی کا حکم جاری کیا تھا لیکن اس پر مرکز کی جانب سے کورٹ کو بتایا گیا کہ اس معاملے میں جو بھی کرنا ہے وہ وزارت مالیات کو کرنا ہے۔ جسٹس بی ڈی احمد، سنجیو سچدیو کی بنچ اس پر بھی بھڑک گئی، کہا کہ آپ اس معاملے میں صاف تجویز لے کر آئیں۔ ہم کب تک آپ کا انتظار کریں گے؟ آپ کے پاس اگر پیسہ نہیں ہے تو آپ بتائیے ہم کیس بند کردیں گے۔ راجدھانی میں جرائم رکنے کا نام نہیں لے رہے ہیں۔ خاص کر خواتین اور بزرگوں کے تئیں جرم بڑھتے جارہے ہیں۔ اسی حالت میں نربھیا کانڈ کے بعد عدالت نے خود نوٹس لیتے ہوئے خواتین سلامتی کے اشو پر کارروائی شروع کی تھی۔ کچھ حد تک بہتری آئی بھی لیکن بعد میں اس کی سنجیدگی کو اقتدار اعلی نے عمل کی سطح پر ہی بند کردیا۔ یہاں تک مہلا سکیورٹی کے نمبر اور100 نمبر کو بھی عام آدمی کی طرف سے لے کر جج صاحبان تک نے بے جواب پایا۔ ایک طرف غیر جوابدہی کی یہ حد تو دوسری طرف دہلی پولیس میں ہزاروں اسامیاں خالی پڑی ہیں۔ دراصل پٹنہ ہائی کورٹ نے قریب15 سال پہلے بہار میں قانون و نظم کے بگڑتے حالات کے تجزیئے کے بعد ہی وہاں جنگل راج سے تشبیہ دی تھی۔ اس کے بعد تو بہار میں قانون و نظام بگڑنے کی چھوٹی سے چھوٹی واردات کے بعد کوئی بھی جنگل راج لوٹنے کی بات کہہ دیتا ہے۔ مانو جنگل راج بہار کی علامت بن چکا ہے لیکن دہلی اس تشبیہ کے ساتھ نہیں چل سکتی۔ اس کو لا اینڈ آرڈر کے حالات کو بہتر بنانا ہی ہوگا۔
(انل نریندر)

امر۔ بینی کی گھر واپسی : ملائم کے ایک تیر سے کئی نشانے

اندرونی مخالفت کے باوجود 6 سال بعد امر سنگھ کو راجیہ سبھا کیلئے نامزد کر سماجوادی پارٹی کے سربراہ نے ایک تیر سے کئی نشانے لگانے کی کوشش کی ہے۔ یہ فیصلہ چونکانے والا اس لئے بھی تھا کیونکہ پارٹی سے معطل امر سنگھ کی پارٹی میں باقاعدہ واپسی نہیں ہوئی ہے اور ملائم سنگھ کے ساتھ ان کی نزدیکی کے علاوہ ایسا کوئی اشارہ نہیں تھا جس سے سماجوادی پارٹی نے ان کی گھر واپسی کے اشارے ملتے۔ امر سنگھ کے نام پر اعظم خاں نے جم کر مخالفت کی تھی۔ ہوا بھی وہی جس کا اندیشہ تھا۔ امر سنگھ کو پارٹی میں پھر سے اینٹری ملی اور ادھر اعظم خاں و پروفیسر رام گوپال یادو نے ناراضگی ظاہر کردی۔ اعظم خاں یہ کہنے سے نہیں چوکے کے آخر پارٹی تو ملائم سنگھ کی ہی ہے۔ اعظم خاں اور رام گوپال نے پارلیمانی پارٹی بورڈ کی میٹنگ بیچ میں ہی چھوڑدی اور جاری سپا کی لسٹ میں ان بلڈر سنجے سیٹ کا نام بھی ہے جنہیں کئی کوششوں کے بعد پارٹی ایم ایل سی نامزد نہیں کرواسکی تھی۔ امرسنگھ کے نام پر اعظم خاں کا اعتراض اور رام گوپال یادو کی خاموشی اختیار کرلینا بتاتا ہے کہ پارٹی چیف کے فیصلے کو مان لینے کے سوا دوسرا متبادل نہیں ہے۔ ظاہر ہے کہ امر سنگھ کو اپر ہاؤس میں بھیجنے کا فیصلہ صرف ملائم سنگھ سے ہی ان کی پرانی دوستی کی وجہ نہیں مانی گئی ہوگی۔ اس کے پیچھے ملائم سنگھ کے ذریعے ایک تیر سے کئی شکار کرنے کا مقصد بھی پوشیدہ ہے۔ لگتا ہے کہ ملائم سنگھ نے امر سنگھ کو راجیہ سبھا کا ٹکٹ دینے کا اعلان کرنے سے پہلے خاصا ہوم ورک کیا ہے۔ انہوں نے پارٹی میں امر مخالفین کو سمجھانے کا کام قسطوں میں کیا۔ قریب دو مہینے پہلے یہ آواز بیچ بیچ میں اٹھتی رہی تھی۔ امر سنگھ نے بھی سپا میں اپنے مخالف سکریٹری جرل رام گوپال یادو کے ساتھ اختلاف دور کرنے کی کوشش کی تھی لیکن اعظم خاں کے ساتھ اس طرح کی کوئی کوشش نہیں ہوئی۔ اگلے سال اترپردیش اسمبلی کے چناؤ ہونے والے ہیں سرکار مخالف ہوا کے خطرے سے لڑ رہی ہے ظاہر ہے امر سنگھ کو راجیہ سبھا میں بھیجنے کا فیصلہ صرف ملائم سے ان کی پرانی دوستی کی وجہ سے نہیں لیا گیا ہوگا۔ اس کے پیچھے اسمبلی چناؤ میں ٹھاکروں کے ووٹ پانے کی حکمت عملی بھی کام کررہی ہوگی۔ جن 7 لوگوں کو راجیہ سبھا کے لئے نامزد کیا گیا ہے وہ اگڑے اور پچھڑے دونوں فرقوں کی نمائندگی کرتے ہی ہیں۔ ابھی بھی امر کے ساتھ لوٹے بینی پرساد ورما اور ملائم سنگھ کے پرانے دوست روتی رمن سنگھ کو اپر ہاؤس میں لانے کے پیچھے یہی سیاسی حساب کتاب ہے۔ چناؤ لڑنے کے لئے کسی بھی پارٹی کو پیسے کی ضرورت ہوتی ہے اور امر سنگھ ایسے کمائی میں ماہرہیں لہٰذا ملائم نے ان کو پارٹی میں لا کر یہ مقصد بھی پورا کرنے کی کوشش کی ہے لیکن امر سنگھ کی گھر واپسی سے نہ صرف سپا کے اندرونی تجزیئے بدلیں گے بلکہ یہ تبدیلی کئی سطحوں پر متاثر کرے گی۔ راجیہ سبھا میں بھاجپا ایم پی ڈاکٹر سبرامنیم سوامی کی کاٹ کرنے کیلئے ایوان میں تیز طرار امر سنگھ اب موجود ہوں گے۔ ملائم کے سامنے پارٹی کے اندر بھی صحیح اطلاعات صحیح وقت پر اور ٹھیک سے نہ ملنے کی پریشانی تھی۔ پارٹی نے حالانکہ پریوار کے لوگ باگ ڈور سنبھال رہے ہیں لیکن وہ کئی بار اپنے مفادات کے حساب سے ہی ملائم تک جانکاری پہنچاتے ہیں۔ اس وجہ سے پارٹی کوکئی بار نقصان ہوجاتا ہے۔ اب امر سنگھ کے آنے سے ملائم سنگھ کو ایک طرف پرانا بھروسے مند مل گیا ہے اور بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار نیا خطرہ پیدا کرنے کی کوشش میں ہیں اس لحاظ سے بھی کرمی فرقے کے بینی پرساد ورما کو پھر سے ساتھ لیکر راجیہ سبھا میں بھیجنے کا فیصلہ کیا لگتا ہے۔ باقی تو وقت ہی بتائے گا لیکن اتنا طے ہے کہ ملائم نے ایک تیر سے کئی نشانے سادھنے کی کوشش کی ہے۔
(انل نریندر)

22 مئی 2016

پانچ ریاستوں کے نتائج سے بھاجپا اور علاقائی پارٹیوں کی طاقت بڑھی ہے

پانچ ریاستوں میں اسمبلی چناؤ کے جو مینڈیٹ آئے ہیں اس سے دو تین باتیں سامنے آجاتی ہیں پہلی یہ کہ ان انتخابات میں کانگریس اوندھے منہ گری ہے۔ بھاجپا کا کانگریس مکت ابھیان کافی حد تک کامیاب ہوتا نظر آرہا ہے۔ جہاں کبھی کانگریس سال 2000 ء میں 15 ریاستوں میں حکمرانی کرتی رہی وہیں یہ گھٹ کر صرف6 چھوٹی ریاستوں تک سمٹ گئی ہے۔ پوڈوچیری اور بہار کو ملا دیں تو 8 ریاستوں میں کانگریس حکومت رہ گئی ہے۔ کانگریس دیش کی صرف15.6 فیصدی آبادی پر ہی راج کررہی ہے جبکہ یہ 50 فیصدی سے زیادہ میں حکمرانی کیا کرتی تھی۔ اس پر سوشل میڈیا میں ایک پوسٹ وائرل ہوا ہے جس میں جملہ لکھا ہے ’’سونیا ۔ راہل ہم تم ایک جنگل میں بیٹھے ہوں اور مودی آجائے۔۔۔‘‘ حقیقت میں 5 ریاستوں میں چناؤ نتیجوں پر یہ طنز صحیح اترتا ہے۔ آسام میں کرسی چھنی، مودی نے قبضہ کرلیا۔ چائے بیچنے والے نے تو چائے باغانوں پر ہی قبضہ کرلیا۔ کیرل میں بھی لیفٹ نے قبضہ کرلیا۔ مغربی بنگال میں اپنی سیاسی ناعاقبت اندیشی کی وجہ سے ممتا بنرجی کے آفر کو ٹھکرا کر لیفٹ کے ساتھ اتحاد کرلیا۔ اب وہاں نہ تو لیفٹ ہی بچا ہے اور نہ کانگریس، کیا اسے کانگریس مکت بھارت کی شروعات نہ مانی جائے۔
مغربی بنگال میں لیفٹ پارٹیوں نے اور تاملناڈو میں ڈی ایم کے نے کانگریس کے ساتھ جو اتحاد کیا تھا، لیکن کراری ہار کے بعد لیفٹ اور ڈی ایم کے دونوں نے اس کا ٹھیکرا کانگریس کے ہی سر پھوڑ دیا ہے۔ ڈی ایم کے نے کہا کہ کانگریس سے گٹھ جوڑ کرنے کی وجہ سے اسے ہار کاسامناکرنا پڑا۔ وہیں مارکسوادی پارٹی نے کہا کہ کانگریس کے ساتھ ہاتھ ملانا ایک بڑی بھول تھی، ایک بڑی غلطی بھی تھی۔ ریاست کے لوگوں نے اس اتحاد کے لئے لیفٹ پارٹیوں کو ذمہ دار مانتے ہوئے اسے پوری طرح سے مسترد کردیا۔ دوسری بڑی اہم بات جو ابھر کر سامنے آتی ہے وہ ہے پانچ ریاستوں کے چناؤ میں بھارتیہ جنتا پارٹی نے صرف پایا ہی ہے کھویا کچھ نہیں ہے۔ اہم یہ ہے کہ اس چناؤ نتیجوں کا اثر اگلے سال ہونے والے اسمبلی چناؤ پر نظر آئے گا اور پھر اس کی گونج لوک سبھا چناؤ میں بھی سنائی دے سکتی ہے۔ پارٹی کا سب سے بڑا کارنامہ یہ رہا ہے کہ اس نے نارتھ ایسٹ میں پہلی بار کسی ریاست میں چناوی جیت حاصل کی ہے اور وہ سرکار بنانے جارہی ہے۔ اس کے علاوہ اس نے کیرل جیسی ریاست میں بھی اپنا کھاتہ کھول لیا ہے۔ مغربی بنگال میں بھی پارٹی نے نہ صرف ووٹ بڑھایا ہے بلکہ اپنی پچھلی سیٹوں کی تعداد میں بھی اضافہ کیا ہے۔ بھاجپا کے لئے آسام کے نتیجے ایک طرح سے سنجیونی ہیں۔ 
یہ پہلی ریاست ہے جہاں لوک سبھا چناؤ کے بعد پارٹی نے نریندر مودی کے علاوہ پارٹی کے ہی نیتا کا چہرہ پیش کیا۔ پارٹی کا یہ داؤ کامیاب رہا۔ اس سے پہلے بہار میں بغیر چہرے کے اور دہلی میں باہر سے کرن بیدی کو لاکر چناؤ لڑنے سے بھاجپا کی کراری ہار ہوئی تھی لیکن سروانندسونوال کو خاص طور سے وزیر اعلی کے امیدوار کے طور پر پیش کر پارٹی نے داؤں چلا اور یہ پوری طرح کامیاب رہا۔ یہ اس معنی میں بھی اہم ہے کہ لوک سبھا چناؤ میں بھاری جیت حاصل کرنے کے باوجود یہ سوال اٹھتے رہے ہیں کہ بھاجپا نہ تو نارتھ ایسٹ میں ہے اور نہ ہی ساؤتھ اس لئے اسے نیشنل پارٹی کیسے کہا جاسکتا ہے؟ بھاجپا کا اب 13 ریاستوں میں حکومت قائم ہوچکی ہے جو دیش کی 43.1 فیصد آبادی بنتی ہے۔ 5 ریاستوں کے چناؤ میں سے بھلے ہی بی جے پی ایک ریاست میں اپنی سرکار بنانے میں کامیابی پائی ہو لیکن ان نتیجوں کا سب سے بڑا اثر پی ایم مودی اور پارٹی صدر امت شاہ کی جوڑی پر نظرآئے گا۔ دہلی اور بہار میں ملی کراری ہار کے بعد مودی کے کرشمے اور شاہ کی سیاست سمجھ کر سوال اٹھنے لگے تھے لیکن اب دونوں کی پوزیش مضبوط ہوتی نظر آئے گی۔اور اب بات کرتے ہیں علاقائی پارٹیوں کی بڑھتی سیاست حیثیت پر۔ 
ہمارا خیال ہے کہ کانگریس کا کمزور ہونا دیش کے مفاد میں ہیں ہے جو سیاسی خلا کانگریس چھوڑتی جارہی ہے اسے ممتا بنرجی اور جے للتا جیسی لیڈر بھرتی جارہی ہیں۔ مغربی بنگال میں ووٹروں نے ممتا بنرجی پر دوبارہ بھروسہ جتایا ہے اور یہ صاف پیغام دیا ہے کہ وہاں جنتا کے بیچ جاکر جو کام کرے گا، وہی راج کرے گا۔ تاملناڈو میں این جی آر کے بعد کوئی حکمراں پارٹی مسلسل دوسری بار اقتدار میں لوٹی ہے تو اس کا سہرہ جے للتا کو ہی جاتا ہے۔ جے للتا چھٹی بار صوبے کی وزیر اعلی بنیں گی۔ جے للتا کی جیت کے پیچھے ان کی فلاحی اسکیموں کا اثر صاف دکھائی دیا، ’اماں کینٹین‘ ، ’اماں اوشدھیالیہ‘، ’راشن رعایتی کارڈ‘ والوں کو 20 کلو چامل، مفت مکسر گرائنڈر،دودھ دینے والی گائے۔بکریوں کو بانٹنا اور عورتوں کے لئے منگل سوتر کے لئے 4 گرام سونا دینا‘ جیسی اسکیمیں رنگ لائی ہیں۔ مرکزی سرکار کو بھی ترقیاتی اسکیموں کے ساتھ فلاحی اسکیموں پر بھی اماں سے سبق لینا چاہئے۔ لگاتار دو چناؤ جیتنے کے بعد ممتا بنرجی اور جے للتا کی مرکز میں دھمک بڑھنا طے مانا جارہا ہے۔ مرکزی سرکار کو ترنمول اور انا ڈی ایم کے سے راجیہ سبھا میں اٹکے پڑے جی ایچ ٹی سمیت کئی اہم بلوں پر حمایت کی ضرورت پڑے گی۔ کانگریس نے مغربی بنگال میں ممتا اور تاملناڈو میں جیہ کے خلاف چناؤ لڑا تھا۔ ایسے میں یہ مانا جاسکتا ہے کہ راجیہ سبھا میں ترنمول کانگریس اور انا ڈی ایم کے کے رشتے کانگریس کے ساتھ پہلے جیسے رہنا مشکل ہیں۔ایسے میں بھاجپا کو اس کا فائدہ ہوسکتا ہے کیونکہ پارٹی کے پاس راجیہ سبھا میں اکثریت نہیں ہے۔ پارٹی کو امید ہے کہ ممتا اور جیہ للتا اقتصادی اصلاحات میں مرکز کا ساتھ دے سکتی ہیں۔ ان دونوں ریاستوں میں نہ صرف ان دونوں لیڈروں نے اپنا جادو برقرار رکھا ہے بلکہ نئے ریکارڈ بھی قائم کئے ہیں۔
(انل نریندر)

میلانیا نے امریکہ میں یہ نئی جنگ چھیڑ دی

ایران جنگ میں سیز فائر ہوتے ہی امریکہ کے اندر ایک اور جنگ شروع ہو گئی ہے ۔آپ حیران ہوں گے کہ یہ کون سی جنگ ہے ؟ بتادیں کہ ایپسٹین فائلس کی ...