Translater

30 دسمبر 2025

اناؤ متاثرہ کو انصاف دلانے کا سوال!


یہ انتہائی دکھ اور تشویش کاموضوع ہیں کہ قانونی نکتوں کا فائدہ اٹھا کر آبرو ریزی جیسے گھناونے جرائم کےقصور وروں کو بھی رعایت دے دی جاتی ہے ۔غور طلب ہے۔یوپی کے اناؤ میں نابالغ لڑکی سے آبرو ریزی کے معاملے میں سال 2019 میں سابق بھاجپا ممبر اسمبلی لکدیپ سنگھ سینگر کو عمر قید کی سزا ہوئی تھی ۔عدالت نے آئی پی سی کے دفعہ کے تحت آبرو ریزی کے معاملے اور بچے بچیوں سے جنسی استحصال قانون پاسکوکے تحت سزا دی تھی۔تب یہ واردات دیش بھر میں بھاری تشویش اور ناراضگی کا سبب بنی تھی۔اگر اب دہلی ہائی کورٹ نے سنیگر کی سزا کو معطل کرنے کا حکم دیا لیکن معاملہ سپریم کورٹ پہنچا اور اس نے عدالت کے فیصلے پر روک لگا دی۔ سینگر کو عمر قید قصوروار ثابت ہونے کے بعد نچلی عدالت نے حکم سنا یا تھا اور صاف کہا تھا سینگر کو زندگی بھر جیل میں رہنا ہوگا۔ دہلی ہائی کورٹ نے2017 کےاس ناؤ بدفعلی معاملے میں بھاجپا سے اخراج نیتا کلدیپ سنگھ سینگر کو جیل کی سزا معطل کر کے ضمانت دے دی تھی ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف جنتا سڑکوں پر اتر آئی اور انصاف کی اپیل کرنے پر مجبور ہو گی۔ متاثرہ کے خاندان اور دیگر خاتون ورکروں نے جمعہ کے روز دہلی ہائی کورٹ کے باہر سینگر کی ضمانت کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا اور اپنی ناراضگی ظاہر کی۔جنتا کے احتجاج کر دیکھتے ہوئے سی بی آئی نے ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف جمعہ کو ہی سپریم کورٹ میں خصوصی اجازت عرضی دائر کی ۔ادھر وکیل انجلی پٹیل اور پوجا شلپکار نے بھی سپریم کورٹ میں عرضی دائر کی ہے جس میں دہلی ہائی کورٹ کے حکم پر روک لگانے کی مانگ کی گئی دلیل دی گئی کی ہائی کورٹ نے اس سچائی پر غور کئے بے غیر حکم پاس کر دیا کی ٹرائل کورٹ نے کہا تھا کہ سینگر کو اپنی باقی زندگی جیل رہنا چاہئے۔ہائی کورٹ نے سینگر کو ضمانت کی سزا معطل میں قانون اور دلیل میں سنگین خامی ہے جب کہ سنگین کرائم میں اسکی شمولیت کو دھیان نہیں دیا گیا۔ در اصل اس واردات کی بعد متاثرہ کو جن حلات کا سامنا کرنا پڑا اور اس کو زندگی بھر جس طرح کے خطرات تھے وہ بے حد غیر متوقع تھے مگر اس سے صاف تھاکہ سنگین جرائم کے بعد ایک اونچے رسوخ والا ملزم متاثرہ کو خاموش کرنے کیلئے کس حد تک جا سکتا ہے ۔اس دوران متاثرہ کے والد کی جان چلی گئی ایک ٹرک نے اس کار کو ٹکر مار دی جس میںوہ گھر والوں کے ساتھ جارہی تھی۔اس واردات میں متاثرہ اور اس کا وکیل بری طرح زخمی ہو گئے جب کہ اسکی دو خالاؤں کی موت ہو گئی۔سمجھا جا سکتا ہے کہ اس پورے معاملے میں متاثرہ کو کس طرح کے حالات کا سامنا کرنا پڑا ۔جب کسی رسوخ والے کرمنل کی سزا کو لیکررعایت برتنے کی خبر آتی ہے تب یہ سمجھنا مشکل ہو جاتا ہے کہ آخر قانون کے کام کرنے کا طریقہ کیا ہے؟کہا جاتا ہے کہ انصاف صرف ہونا ہی نہیں چاہئے بلکہ انصاف ہوتے ہوئے نظر بھی آنا چاہئے امید ہے کہ سپریم کورٹ میں متاثرہ اور اسکے خاندان کو سینگر کی رہائی کے حکم پر روک لگاکر ایک طرح سے انصاف دلایا ہے۔
انل نریندر

25 دسمبر 2025

ایپسٹین فائلوں میں دبے ہیں کئی راز!

امریکی محکمہ انصاف نے نام نہاد فائنانسر اور جنسی کرمنل جیفری ایپسٹین سے جڑے معاملوں کی جانچ سے متعلق 13 ہزار سے زیادہ فائلیں کھول کر رکھ دی ہیں ۔یہ دستاویز اس قانون کے تحت جاری کئے گئےہیں جس پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پچھلے مہینہ دستخط کئے تھے ۔حالانکہ طویل انتظار کے باوجود ان فائلوں سے ابھی تک کوئی چونکانے والے انکشافات نہیں ہو پائے ہیں۔زیادہ تر دستاویزوں کو بھاری شکل سے بلاک کئے گئے ہیں ۔جیفری ایپسٹین کی موت ہو چکی ہے ۔امریکی سینٹ نے ایک قانون پاس کیا تھا جس کے تحت جمعہ تک سبھی فائلوں کو پوری طرح منظر عام پر ظاہر کرنا ضروری تھا ۔لیکن اب تک کچھ ہی دستاویز ہی جاری کئے گئے ہیں ۔وہ بھی کئی جگہ کثیر کانٹ چھانٹ کے ساتھ ان دستاویزوں کو پبلک کرنے کے لئے دباؤ بنانے والے سینٹروں نے محکمہ کی کوششوں کو غیر ذمہ دارانہ بتایا ہے وہیں کچھ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اتنی زیادہ کانٹ چھانٹ سے سازش سے وابستہ دفعات اور مضبوط ہوسکتی ہیں ۔جاری میٹر میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا فوٹو بھی جاری کیا گیا ہے ۔حالانکہ انہیں بچانے کی پوری کوشش کی گئی ہے ۔فائلوں میں ایک فوٹو شامل ہے جس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جیفری ایپسٹن میلونیا ٹرمپ اور گجلیپ میکس ویلر ایپسٹین کی گرل فرینڈساتھ نظر آرہے ہیں ۔جسٹس محکمہ نے ان فائلوں کے ہٹانے کو لے کر اب تک کوئی صفائی نہیں دی ہے۔جو فائلیں پبلک کی گئی ہیں ان میں امریکہ کے سابق صدر بل گلنٹن ۔ برطانیہ کے شاہی خاندان سے وابستہ اینڈریو ماؤنڈ بیٹن ،وڈسر ،مشہور گلوکار مک جیگر اور مائیکل جیکسن کے نام شامل ہیں ۔حالانکہ ان فائلوں میں کسی کا نام ہونا یا ان کی تصویر ہونا یہ ثابت نہیں کرتاکہ انہوں نے کوئی غلط کام کیا ہے۔جن لوگوں کے نام ان دستاویزات میں آئے ہیں یا پہلے بھی ایپسٹین سے جڑے معاملوں میں سامنے آئے تھے ،ان میں سے کئی نے کسی بھی طرح کی غلط سرگرمیوں میں ملوث ہونے سے انکار کیا ہے ۔جاری کی گئی تصاویر میں امریکہ کے سابق صدر بلکلنٹن سوئمنگ پول میں دو عورتوں کے ساتھ تیرتے دکھائی پڑتے ہیں ۔یہ تصویر ہاٹ ٹب کی لگتی ہے ۔1990 کی دہائی اور 2000 کے آغاز کے برسوں میں بل کلنٹن کی جیفری ایپسٹین کے ساتھ کئی مرتبہ تصویریں لی گئی تھیں ۔کلنٹن حالانکہ یہ کہتے ہیں کہ انہیں ایپسٹین کے جنسی جرائم سے کوئی معلومات نہیں تھی ۔دستاویزوں کے مطابق جیفری ایپسٹین نے مبینہ طور پر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات ایک 14 سال کی لڑکی سے کرائی تھی ۔امریکی محکمہ انصاف نے جو فائلیں جاری کی ہیں ان میں صدر ٹرمپ کا بھی ذکر ہے ۔اسپتال کے کاغذوں کے مطابق یہ ملاقات فلوڈا کے یور ے لگے ریزورٹ میں1990 کی دہائی بتائی جاتی ہیں ۔دستاویز میں کہا گیا ہے کہ ایپسٹین نے ٹرمپ کو کہنی مار کر لڑکی کی جانب اشارہ کیا اور مذاقیہ انداز میں پوچھا کہ اچھی ہے نا ؟ ٹرمپ مسکرائے اور رضامندی سے سر ہلایا۔دستاویز کے مطابق اسے لے کر دونوں ہنسے تھے اور لڑکی کو تھوڑی پریشانی محسوس ہوئی لیکن اس وقت وہ اتنی چھوٹی تھی کہ وہ اس ہنسی کی وجہ کو سمجھ نہیں پائی۔ملاقاتی کا الزام ہے کہ ایپسٹین نے کئی برسوں تک اسے بہکایا اور اس کی جنسی استحصال کیا ۔حالانکہ عدالت میں دائر کاغذوں میں لڑکی نے ٹرمپ پر کوئی الزام نہیں لگایا ۔ان دستاویزوں پر رائے زنی کرتے ہوئے وائٹ ہاؤس کی ترجمان اینڈی گیل جیکسن نے بیان دیا کہ ٹرمپ انتظامیہ کی تاریخ سب سے صاف انتظامیہ کی ہے ۔انہوں نے کہا ہزاروں صفحات کے دستاویز جاری کئے گئے ہیں ۔ہاؤس کی اویئر کمیٹی کی جانچ میں تعاون دیا گیا ہے۔ادھر ڈپٹی اٹارنک جنرل ٹارڈ بلانش نے کہا ہے کہ کئی لاکھ صفحات کی بھی اتنی جانچ چل رہی ہے یہ دستاویز ابھی پبلک نہیں کئے گئے ہیں ۔وائٹ ہاؤس اویئر کمیٹی کے ڈیموکریٹک ممبران نے ٹرمپ سے جڑی تصویر کے غائب ہونے پر سوال اٹھائے ہیںاور پوچھاکہ کیا چھپایاجارہا ہے ۔ابھی تک کھیل شروع ہوا ہے آگے آگے دیکھیے کیا ہوتا ہے ؟ (انل نریندر)

23 دسمبر 2025

پھر اٹھی بنگلہ دیش میں شورش کی لہر!

بنگلہ دیش میں یوتھ لیڈر شریف عثمان ہادی کے قتل کے بعد ایک بار پھر شورش اور تشدد کی لہر دوڑ گئی ہے ۔15 ماہ بعد پھر سے تشدد بھڑک اٹھا ہے ۔بھارت مخالف طالب علم لیڈر شریف عثمان ہادی کی موت کے بعد کٹر پسندوں نے جمعرات کو دیر رات مٹوگرام میں ہندوستانی ہائی کمیشن پر حملہ کر دیا ۔یہاں ہائی کمشنر کی رہائش گاہ بھی ہے ۔بلوائیوں نے جم کر پتھراؤ کیا اور یمن سنگھ کے ملوکا میں بلوائیوں نے توہین رسالت کا الزام لگا کر ہندو لڑکے دیپو چندر داس کو پیٹ پیٹ کر مارڈالااور پیڑ پر لٹکا کر لاش کو جلا دیا۔بتادیں کٹر پسند ہادی نے پچھلے سال اگست میں طلباء تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا ۔ہادی حال ہی میں جماعت اسلامی سے جڑے اقبال منچ میں شامل ہوگیا تھا ۔وہ 12 فروری کو ہونے والے چناؤ میں ڈھاکہ -8 سیٹ سے اتھلاؤ منچ کا امیدواری تھا۔ڈھاکہ میں 12 دسمبر کو عثمان ہادی کو دو لڑکوں نے گولی مار دی تھی اس کو سنگاپور میں علاج کے دوران جمعرات کو موت ہو گئی ۔بھارت کے ساتھ رشتے مسلسل بگڑتے جارہے ہیں ۔پاکستان کے بڑھتے قدم اور بنگلہ دیش سے بگڑتے رشتوں پر پارلیمانی رپورٹ میں ان چیلنجوں کا ذکر کیا گیاہے۔سال 1971 کی جنگ کے بعد بھارت کو بنگلہ دیش میں سب سے بڑے حکمت عملی بحران کا سامنا کرنا پڑرہا ہے یہ کہنا غلط نہ ہوگا۔نیشنلزم کے ابھارت ، اسلامی تنظیموں کی دوبارہ سرگرمی اور چین پاکستان کے بڑھتے اثر نے بنگلہ دیش میں بھارت کے سامنے نئی چنوتیاں کھڑی کر دی ہیں ۔اگر وقت رہتے بھارت نے اپنی پالیسی میں تبدیلی نہیں کی تو وہ بنگلہ دیش میں ایک طرح سے پنگو ہو جائے گا ۔یہ باتیں بھارت میں خارجی امور کی ایک پارلیمانی کمیٹی کی رپورٹ میں بتائی گئی ہیں ۔99 صفحات پر مشتمل رپورٹ میں کمیٹی نے بھارت بنگلہ دیش کے رشتوں سے وابستہ ان چنوتیوں کا ذکر کیا ہے جو اگست 2024 کے بعد درپیش ہوئیں ہیں ۔اگست 2024 یہ وہ مہینہ تھا جب بنگلہ دیش میں وسیع لوگ سڑکوں پر اترنے کے بعد دیش کی اس وقت کی وزیراعظم شیخ حسینہ کو دیش چھوڑ کر بھار ت میں پناہ لینی پڑی تھی تب سے وہ یہاں رہ رہی ہیں اور دیش میں ایڈمنسٹریٹر محمد یونس کی قیادت والی انترم سرکار کام کررہی ہے ۔پارلیمانی کمیٹی کی رپورٹ تیار کرنے کے لئے ایم پی ششی تھرور کو اس کمیٹی کی سربراہی کے لئے چنا گیا ۔کمیٹی نے وزارت خارجہ کے نمائندوں سے بات چیت کی اور گزشتہ 29 جون کو 4 ماہرین کی رائے بھی سنی ہے ۔ان ماہرین میں سابق نیشنل سیکورٹی مشیر شیو سنکر ، و ریٹائرلیفٹننٹ جنرل سید عطا حسنین وزارت خارجہ کی سابق سیکریٹری رینا گانگولی و دیگر ممبر شامل تھے ۔تجزیہ نگار کے حوالے سے بنگلہ دیش کے ساتھ بھارت کے رشتوں میں موجودہ چیلنجوں کے پیچھے خاص وجہ بھی گنائی گئی ہیں ۔اقلیتوں پر حملے کے پیچھے آئی ایس آئی کے ہاتھ ہونے سے انکار نہیں کیاجاسکتا ۔بنگلہ دیش میں چین کی بڑھتی موجودگی بھی ایک چنوتی ہیں ۔لال منیہار ایئر بیس کی چینی مدد سے بنایا جانا بھارت کی سلامتی کے لئے ایک خطرہ ہے ۔جماعت اسلامی پارٹی کے لیڈروں کے حالیہ چین دورہ کا بھی رپورٹ میں ذکر کیا گیا ہے اور کہا کہ اس سے بنگلہ دیش میں الگ تھلگ سیاسی گروپوں کے ساتھ چین کی گہری بات چیت کا اشارہ ملتا ہے جس کی وہاں اس کی موجودگی اور مضبوط ہورہی ہے۔کمیٹی نے سفارش کی ہے کہ سرکار بنگلہ دیش میں غیر ملکی طاقتوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھے کیوں کہ کسی بھی ایسے دیش جن کے ساتھ بھارت کے رشتے اچھے نہیں ہیں ۔پاک چین اپنا وہاں فوجی اڈہ بنانے کی کوشش کرے گا۔بھارت کی سلامتی کے لئے وہاں بڑا خطرہ ہوسکتا ہے۔محمد یونس بنگلہ دیش میں تازہ تشدد پر صرف کھاناپوری والے بیان دیتے نظر آرہے ہیں اگر یونس واقعی سست ہو گئے ہیں اور کٹر پسند مشینری بدامنی پھیلانے کے لئے آزاد ہے تو یہ نہ تو بنگلہ دیش کے لئے اچھا ہے اور بھارت کے لئے تو بہت ہی باعث تشویش ہے ہی ۔فی الحال بنگلہ دیش میں جس طرح کی بدامنی پھیل رہی ہے اور اس کے سائے میں بہت کچھ جھلسنے کا اندیشہ ہے ۔اسے دیکھتے ہوئے بھارت سرکار کو چاہیے کہ وہ ڈپلومیٹک سطح پر ان مسئلوں کو بنگلہ دیش کی انترم سرکار کے سامنے ٹھوس طریقہ سے اٹھائے ۔ (انل نریندر)

20 دسمبر 2025

قومی صدر کی جگہ کارگزار صدر!

بھارتیہ جنتا پارٹی نے پٹنہ کی بانکی پور سیٹ سےممبر اسمبلی اور بہار کے وزیر نتن نوین سنہا کو پارٹی کا نیا کارگزار صدر مقرر کر سب کو حیران کر دیا ہے ۔شاید ہی کسی نے امید کی ہو کہ نوین بابو کو اتنا اہم ترین عہدہ دیا جائے گا ۔پچھلے کئی ماہ سے یہ بحث چھڑی ہوئی تھی کہ بی جے پی اپنا نیا صدر چننے والی ہے کیوں کہ شری نڈا کی میعاد بہت پہلے ہی ختم ہو چکی تھی ۔اور وہ توسیع میعاد پر چل رہے تھے۔نتن نوین بھاجپا کی تاریخ میں جے پی نڈا کےبعد دوسرے نگراں صدر ہوں گے ۔پارٹی کے آئین میں نگراں صدر کا کوئی باقاعدہ عہدہ نہیں ہے لیکن سال 2019 کے بعد بی جے پی میں فل فلیج صدر مقرر کرنے سے پہلے نگراں صدر تقرر کرنے کی ایک روایت شروع ہوئی ہے ۔بی جے پی میں صدر کے عہدے کے لئے چناؤ کب ہوگا ابھی صاف نہیں ہے لیکن میڈیا کی رپورٹس میں پارٹی کے سینئر لیڈروں کے حوالے سے دعویٰ کیاجارہا ہے کہ اگلے سال جنوری میں یہ خانہ پوری کی جاسکتی ہے ۔موجودہ بھاجپا صدر جے پی نڈا کی میعاد جنوری تک ہی ہے ۔ایسے میں یہ سوال اٹھ رہے تھے کہ جب کچھ دنوں بعد قومی صدر کی تقرری ہونی ہے تو پارٹی نے نگراں صدر کیوں مقرر کیا ہے ؟ اس کا کوئی صاف جواب تو نہیں ہے لیکن یہ ماناجارہا ہے کہ پارٹی اپنے آئین کے حساب سے ہونے والے قومی صدر کےچناؤ کو اتفاق رائے اور بلامقابلہ طور پر چاہتی ہے۔سینئر صحافی نے بی بی سی کو بتایا کہ بی جے پی جنوری میں قومی صدر کے چناؤ کی کاروائی شروع کرے گی ۔پارٹی میں رسمی خانہ پوری ہے ایسے میں تو کوئی چناؤ نہیں ہورہا ہے لیکن نامزدگی تاریخ ، چناؤ تاریخ میں خانہ پوری کی کاروائیاں ہوتی ہیں۔پارٹی کو انہیں کرنا ہوتا ہے وہیں سینئر صحافی ونود شرما کے مطابق نگراں صدر اعلان کربی جے پی نے یہ صاف کر دیا ہے کہ نتن نوین ہی اگلے نئے صدر ہوں گے ۔بی جے پی میں صدر چننے کا ایک لمبا پروسیس ہے۔بی جے پی کے پارلیمانی بورڈ نے نتن نوین سنہا کو پارٹی کا نگراں نامزد کیا ہے ۔26 سال کی عمر میں پہلی بار ممبر اسمبلی بنے جانے کے بعد نتن نوین پانچ بار مسلسل ممبر اسمبلی چلے آرہے ہیںاور بی جے پی کے پہلے نگراں صدر ہوں گے ۔45 سالہ نتن نوین کا بھاجپا کا کارگزار صدر بن جانا ضرور حیران کررہا ہے ۔لیکن تجزیہ نگار اس سے حیران نہیں ہے ۔بہار چناؤ کے دوران وزیر داخلہ امت شاہ نے نتن نوین سے دو گھنٹے بات چیت کی تھی ۔نتن نوین پارٹی کے چھتیس گڑھ اسمبلی چناؤ کے انچار ج تھے اور بی جے پی نے یہ چنا ؤ بھاری اکثریت سے جیتا تھا یعنی نتن نوین اپنی تنظیمی صلاحیت پہلے ہی ثابت کر چکے ہیں ۔سوال یہ بھی اٹھ رہا ہے کہ کیا نتن نوین کی تقرری کے پیچھے کوئی خاص وجہ یا پارتی کی کوئی خاص حکمت عملی ہے ؟ تجزیہ نگار مانتے ہیں کہ پارٹی میں یہ تبدیلی کا دور ہے اور وقت کی ضرورت کےحساب سے اٹھایا گیا قدم ہے ۔وجے ترویدی اور ونود شرما دونوں ہی مانتے ہیں کہ پارٹی جنریشن چینج یعنی پیڑ ی میں تبدیلی سے گزررہی ہے ۔پارٹی میں پرانی پیڑی کے لیڈروں کی جگہ نئے نیتاؤں کو آگے بڑھایاجارہا ہے ۔راجستھان ،ہریانہ ،مدھیہ پردیش ،چھتیس گرھ میں وزیراعلیٰ کی شکل میں پرانے لیڈروں کو ہٹانا اور نئے چہروں کو لانا پارٹی کی اسی حکمت عملی کا حصہ ہے اور نتن نوین کا نگراں صدر بنایاجاناکہیں نرالا قدم ہے ۔پارٹی لیڈر نئی لیڈر شپ کو آگے لانا چاہتی ہے اور یہ تقرری بھی اسی سمت میں ہے ۔ وہیں سینئر صحافی ونود شرما اس بات پر زور دیتے ہیں کہ بی جے پی میں ایسے لیڈروں کو آگے لایاجارہا ہے جو کسی بھی طرح سے نریندر مودی یا امت شاہ کے لئے چیلنج نہ پیش کریں ۔ونود شرما کہتے ہیں کہ نتن نوین کی تقرری حیران اس لئے نہیں کررہی ہے کہ سہولت کے حساب سے بنایا گیا ہے ۔کسی ایسے نیتا کومضبوط عہدے پر نہیں لایاجارہا ہے جو آگے چل کر کسی بھی طرح کی سینئر لیڈر شپ کو چنوتی پیش کر سکے ۔شخص ایسا ہونا چاہیے جو بی جے پی اور آر ایس ایس دونوں کو ہی منظور ہو ۔تجزیہ نگار یہ بھی مان رہے ہیں کہ نتن نوین کا نام ان چنندہ لوگوں میں رہا ہوگا جنہیں آر ایس ایس سے بھی منظوری حاصل ہوئی ہے ۔ (انل نریندر)

18 دسمبر 2025

قتل عام کرنے والے باپ -بیٹا!

آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں اتوار کو جشن منا رہے بانڈی بیچ پر لوگوں پر دو دہشت گردوں نے حملہ کر دیا ۔اس دوران 40 سالہ احمد الاحمد نے اپنی جان کی پرواہ کئے بغیر دہشت گردوں سے لوہا لے لیا اور کئ لوگوں کی جانیںبچائیں ۔ہوا یوں کہ اتوار کو سڈنی کے بانڈی بیچ پر یہودیوں کے ہنووکا تہوار پر بیچ کا مزہ لے رہے تھے ۔ہنوکا یہودیوں کا سالانہ تہوار ہے ۔اس دوران دو بندوقچیوں نے اندھا دھند فائرنگ کرنی شروع کر دی ۔گولیوں کی آوازیں سن کر بیچ پر افرا تفری مچ گئی اور لوگ ادھر اُدھر بھاگنے لگے ۔اس اندھا دھند فائرنگ میں بتایا جاتا ہے 16 لوگوں کی موت واقع ہو گئی تھی اور درجنوں زخمی ہوئے تھے ۔دہشت گردوں کی نشاندھی ہو چکی ہے ۔اے بی وی پی کی رپورٹ کے مطابق اس دہشت گردانہ واردات کو انجام دینے والے باپ اور بیٹے ہیں جن میں سے ایک کی تو موقع پر موت ہو گئی ۔آسٹریلیا تفتیشی ایجنسیوںنے ملزم کے بیک گراؤنڈ کی جانچ شروع کردی ۔فائرنگ میں شامل والد 50 سالہ کی موقع پر ہی موت ہو گئی جبکہ اس کا 24 سالہ بیٹا شدید زخمی حالت میں اسپتال میں زیر علاج ہے ۔سڈنی حملے میں پاکستانی کنکشن سامنے آیا ہے۔آسٹریلیا کی جانچ ایجنسیاں اس واقعہ کو لے کر بہت سنجیدہ ہیں ۔اور اہم بات یہ بھی ہے کہ حملہ میں شامل بیٹا بیٹے کی پہچان پاکستانی نژاد کی شکل میں ہوئی ہے ۔وہیں امریکی خفیہ ایجنسیوں نے بھی دونوں دہشت گردوں کو پاکستانی شہری بتایا ہے ۔حملہ آور پاکستانی شہری تھے اور سڈنی میں مقیم تھے ۔جانچ میں یہ بھی سامنے آیا ہے فائرنگ کے بعد پاس کی ایک سڑک پر ایک کار سے کئی امپروائزڈ ایسکلوزو ڈیوائز یعنی دھماکوں چیزیں برآمد کی گئی ہیں ۔جس میں اندیشہ ہے کہ حملے کی سازش اس سے کافی زیادہ تباہی مچانے اور زیادہ سے زیادہ لوگوں کو مارنے کی تھی ۔آسٹریلیائی خفیہ ایجنسیوں نے تصدیق کی ہے کہ حملہ آوروں میں سے ایک پہلے سے سیکورٹی ایجنسیوں کی نظر میں مشتبہ تھا۔لیکن اسے فوری خطرے کی شکل میں فہرست نہیں کیا گیا تھا ۔ادھر دونوں دہشت گرد گولیاں برسا رہے تھے اُدھر 44 سالہ محمد الاحمد اپن جان کی پرواہ کئے بغیر ہمت دکھاتے ہوئے پیچھے سے آتنکی پر جھپٹ پڑا اور اس سے بندوق چھین لی ۔جس سے کئی لوگوں کو محفوظ نکالنے کا موقع مل گیا۔لوگ اب احمد کو آسٹریلیا کا نیا ہیرو کہہ رہے ہیں ۔احمد جب دہشت گرد سازش سے مڈبھیڑ کرنے جارہا تھا تب ان کے بھائی نے اسے روکا تھا ۔تب انہوں نے کہا تھا کہ اگر مجھے کچھ ہوا تو پریوار کو بتانا کہ میں لوگوں کی جان بچاتے ہوئے مارا گیا ۔احمد پھل سبزی کی دوکان چلاتا ہے حالانکہ بین الاقوامی سطح پر اس حملے کی مذمت ہوئی ہے ۔آسٹریلیائی سرکار سے لے کر مسلم عرب ممالک کی جانب سے بھی دہشت گرداور تشدد کی سبھی شکلوں کو مسترد کیا گیا ہے مگر یہ بھی سچ ہے کہ بین الاقوامی سطح پر نکتہ چینی اور احتجاج کے باوجود کسی فرقہ سے نفرت کے جذبہ میں ڈوبے لوگوں کو روک پانا ایک مشکل چنوتی ہے یہ فطری ہے کہ اس آتنکی حملے کی عالمی سطح پر مذمت ہوگی اور تعزیتی نظریات و خیالات ظاہر کئے جائیں گے لیکن صرف اتنا کافی نہیں ہے ۔دنیا بھر میں جہادی دہشت گرد ی کا خطرہ جس طرح ابھر رہا ہے اس کا مقابلہ تبھی کیا جاسکتا ہے جب پوری عالمی برادری مل کر اس خطرے کا ایمانداری سے سامنا کرے اور مل کر مقابلہ کرنے کے لئے قدم بڑھائے ۔بانڈی بیچ پر ہوئے حملے نے ایک بار پھر پاکستان کو بے نقاب کردیا ہے ۔دونوں ہی آتنکی پاکستانی نژاد نکلے۔یہ کسی سے چھپہ نہیں ہے کہ پاکستان دنیا کی سب سے بڑی آتنکی فیکٹری ہے ۔یہاں سال در سال ہزاروں دہشت گرد تیار کئے جاتے ہیں بھارت تو بار بار اس بات کو کہتا رہتا ہے لیکن دنیا ماننے کو تیار نہیں ہے۔پہلگام حملہ بھی اسی طرح کے آتنکیوں نے کیا تھا لیکن دنیا ماننے کو تیارنہیں تھی ۔اب تو آسٹریلیا کے سڈنی شہر میں حملہ ہوا ہے اب دنیا کو اس پر کیا کہنا ہے ؟ (انل نریندر)

16 دسمبر 2025

چناؤاصلاحات پر بحث !

چناؤ اصلاحات پر سڑک سے پارلیمنٹ تک بحث چھڑی ہوئی ہے۔شاید یہ ضروری بھی تھا کیوں کہ پچھلے کئی دنوں سے یہ موضوع بحث بنی ہوئی ہے ۔ویسے بھی دیش کو 12 ریاستوں و مرکزی حکمراں پردیشوں میوں ووٹر لسٹوں کی گہری نظر ثانی تیز رفتار سے جاری ہے۔لیکن یہ بھی دیکھنے والی بات ہے کہ اتنی تیزی سے اس پر سیاست بھی ہورہی ہے ۔لوک سبھا میں چناؤ اصلاحات کے مسئلے پر بدھ کے روز وزیر داخلہ امت شاہ نے اس بحث کے دوران لوک سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر راہل گاندھی کے ذریعے ووٹ چوری معاملے کے جواب میں جواہر لال نہرو اور اندرا گاندھی کا بھی نام لیا اور اپنی بات رکھی۔اور الزام لگایا کہ انہوں نے جھوٹ پھیلایا ہے اور دیش کی جنتا کو گمراہ کرنے کی کوشش کی ہے ۔امت شاہ نے کہا ایس آئی آر ووٹر لسٹ کا شدھی کرن ہے تاکہ جن کی موت ہوگئی ان کے نام کٹ جائیں اور جو 18 سال سے بڑے ہیں ان کے نام ووٹر لسٹ میں جڑ جائیںجو دو جگہ ووٹر ہے ان کے نام ایک جگہ سے کٹ جائیں اور جو غیر ملکی شہری ہے ان کو چن چن کر ووٹر لسٹ سے ہٹایاجا ئے ۔انہوں نے کہا کہ کیا کوئی بھی دیش کی جمہوریت تبھی محفوظ رہ سکتی ہے جب دیش کا وزیراعظم اور راجیہ کا وزیراعلیٰ کون ہو یہ گھس پیٹھیے طے کریں گے ۔ایس آئی آر سے کچھ پارٹیوں کے سیاسی مفادات کو چوٹ ہوتی ہے۔فیصلہ کرنا پڑے گا کہ دیش کی پارلیمنٹ اور اسمبلیوں کو چننے کے لئے غیر ملکیوں کو ووٹ دینے کا حق دینا ہے یا نہیں ؟ اس کے بعد راہل گاندھی کھڑے ہوئے اور امت شاہ سے پوچھا کہ ہندوستان کی تاریخ میں چناؤ کمشنروں کو پوری طرح معافی دی جائے گی اس کا جواب دیں۔ ہریانہ کی ایک مثا ل انہوں نے ’’وزیر داخلہ امت شاہ ‘ ‘ کو دی۔اپنی تقریر میں راہل گاندھی نے کئی اہم سوال اٹھائے اس دوران انہوں نے ایس آئی آر کا نام لیا ۔راہل گاندھی کا کہنا تھا کہ یکساں جذبہ ایس آئی آر کو دقت ہے ۔سنگھ نے پبلک اداروں پر قبضہ کرلیا ہے اس پر لوک سبھا اسپیکر اوم برلا نے انہوں نے ٹوکا اور کہا کہ چناؤ اصلاحات پر بحث کیجئے ۔ لیڈر آف اپوزیشن کا مطلب یہ نہیں کہ کچھ بھی بولو۔راہل گاندھی نے بحث کی شروعات کھاید سے کی انہوں نے کہا ہمارا دیش ایک فیبرک کی طرح ہے کپڑا کئی دھاگوں سے بنتا ہے ویسے ہی ہمارا دیش بھی کئی طرح کے لوگوں سے مل کر بنا ہے ۔دیش کے سارے دھاگے ایک جیسے اور اہم ہیں ۔دیش کے سبھی لوگ برابر برابر ہیں۔راہل گاندھی نے کہا ووٹ کے لئے دیش کے پبلک اداروں نے حکمراں پارٹیوں نے قبضہ کر لیاہے ۔اسی جیسے سی بی آئی ،ای ڈی سب پر قبضہ کر لیا ہے ۔راہل گاندھی نے چناؤ کمیشن پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ چناؤ کمیشن اقتدار اعلیٰ سے ملا ہوا ہے ۔ہم نے اس بات کے ثبوت بھی سرکار کو دیے ۔سرکار اسی کا استعمال کررہ ہے ۔راہل گاندھی نے کہا چناؤ کمشنر منتخب کرنے کی کاروائی کو کیوں بدلا گیا ؟ اسی کاروائی سے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو کیوں ہٹایاگیا ؟ کیا سرکار کو سپریم کورٹ کے چیف جسٹس پر بھروسہ نہیں ہے؟ انہوں نے الزام لگایا کہ چناؤ کمیشن اقتدار اعلیٰ کے اشاروں پر چلتا ہے ۔حکمراں فریق ہی چناؤ کمیشن کو چلارہا ہے ۔راہل گاندھی نے برازیل کے ماڈل کا بھی ذکر کیا انہوں نے کہا کہ برازیل کا ماڈل کا نام 22 بار ووٹر لسٹ میں آیاہے۔ایک عورت کا نام 200 بار ووٹر لسٹ میں آیا ہے ۔چنا ؤ کمیشن کو سی سی ٹی وی فوٹیج ضائع کرنے اور کنٹرول کا مطلب کیا ہے۔اور کیوں اس فوٹیج کو کچھ وقت بعد ہٹانے کا فیصلہ لیا گیا ؟ فوٹیج ضائع کرنے کی طاقت کیوں دی گئی ؟ چناؤ کمشنروں کو سزا کی سہولت کو کیوں ہٹایاگیا ۔ہریانہ چناؤ کا ذکرکرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا ہریانہ کا چناؤ ووٹ چوری سے کیا گیا ۔اورجہاں تک چناؤ کمیشن کا سوال ہے تو اسے اٹھ رہے سوالوں کا جواب دینا ترجیح ہونا چاہیے ۔شفافیت کی سب سے بڑی ذمہ داری چناؤ کمیشن پر ہے ۔چناؤ آج سے دو دہائی پہلے کیسے ہوا کرتے تھے اس سے زیادہ ضروری ہے کہ اب جو چنا ؤ ہوں سوالوں سے پرے ہوں ۔جمہوریت کے اصلی مالک و محافظ ووٹر ہیں جنتا ہے ۔اس کا چناؤ پروسیس پر پورا بھروسہ ہونا چاہیے یہی بھارت کی جمہوریت کی بنیاد ہے ۔ (انل نریندر)

11 دسمبر 2025

ہمایوںکبیر نے رکھی بابری مسجد کی بنیاد!

مغربی بنگال کے مرشد آباد ضلع کے ریزی نگر میں سنیچر کے روز بابر ی جیسی مسجد کی بنیاد رکھی گئی ۔ایودھیا میں متنازعہ ڈھانچہ عرف مسجد ڈھانے (چھ دسمبر 1992 کی برسی پر منعقدہ پروگرام میں تمام مولوی موجود رہے۔بابری مسجد بنوانے کے اعلان کے سبب ترنمول کانگریس سے معطل ممبر اسمبلی ہمایوں کبیرنے اس کا سنگ بنیاد کیا ۔انہوں نے مرشد آباد ضلع میں بیل ڈانگر سے لگے علاقہ میں سینکڑوں حمایتیوں کے ساتھ علامتی طور پر فیتا کاٹ کر مسجد کی بنیاد رکھی ۔ہمایوں کبیر مغربی بنگال کے مرشد آباد ضلع کی بھرت پور سیٹ سے ممبر اسمبلی ہیں ۔وہ پچھلے کئی دنوں سے دعویٰ کرتے رہے ہیں کہ چھ دسمبر کو وہ بھرت پور کے بیل ڈانگہ میں بابری مسجد بنوانے کے لئے بنیاد رکھیں گے ۔ان کے حمایتی اور دیگر لوگ صبح سے ہی سر پر اینٹ رکھ کر تعمیراتی جگہ پہنچنے لگے تھے ۔ہمایو ں کبیر نے تعمیراتی جگہ سے ایک کلو میٹر دور بنے اسٹیج پر مولویوں کی موجودگی میں فیتا کاٹ کر تقریب کے دوران اللہ اکبر کے نعرے لگائے ۔اس موقع پر سعودی عرب کے علماء بھی موجود تھے۔اس دوران فرقہ وارانہ کشیدگی کے اندیشہ کود یکھتے ہوئے ریجو نگر اور نلڑی بیل ڈانگہ علاقہ میں پولیس ، آر اے ایف اور مرکزی فورسز کی کچھ ٹکڑیاں تعینات کی گئی تھیں جنہوں نے علاقہ میں فلیگ مارچ کیا ۔بنیاد رکھنے کے بعد خبر رساں ایجنسی سے بات چیت میں ہمایوں کبیر نے کہا کہ ایک سال پہلے میں نے اعلان کیا تھا کہ مرشد آباد کے بیل ڈانگہ میں ایک نایاب بابر ی مسجد بنانی ہوگی ۔اور مسجد کے ساتھ ساتھ اسلامی ہاسپٹیل ، میڈیکل کالج ،ہوٹل ،ریستوراں ،پارک اور ہیلی پیڈ بنانے کی اسکیم ہے ۔یہ 300 کروڑ روپے کا پروجیکٹ ہے ۔اس مسجد کی بنیاد رکھے جانے سے پہلے بی جے پی نے الزام لگایا تھا کہ ترنمول کانگریس فرقہ وارانہ رنگ دے رہی ہے۔بی جے پی نیتا امت مالویہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر لکھا ، وزیراعلیٰ ممتا بنرجی سیاسی فائدے کے لئے مسلمانوں کو پولرائز کے لئے اس ممبر اسمبلی کا استعمال کررہی ہے وہ آگ سے کھیل رہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ بیل ڈانگہ سے آرہی رپورٹوں نے سنگین تشویش پیدا کر دی ہے ۔مالویہ نے دعویٰ کیا کبیر کے حمایتیوں کو اس عمارت کی تعمیر کے لئے اینٹیں لے جاتے ہوئے دیکھا گیا۔جسے انہوں نے بابر ی مسجد بتلایا ہے ۔وہیں ٹی ایم سی نیتا سیونی بھوش نے کہا کہ بی جے پی کو ہمارا ایک ہی پیغام ہے کہ کھیلاہووے ،2026 میں ممتا بنرجی چوتھی بار مغربی بنگال کا اقتدارسنبھالیں گی ۔کیوں کہ مغربی بنگال کی جنتا ان کے ساتھ ہے اور وہ اب تک کے سب سے بڑے جنادیش میں سے ایک بار پھر جیت حاصل کرنے جارہی ہیں ۔انہوں نے کہا کوئی بھی مندر بنا سکتا ہے کوئی بھی مسجد بنا سکتا ہے ۔لیکن اگر اس کے پیچھے کسی کی منشا یہاں مذہبی نفرت اور سورش پھیلانے کی ہے تو سب جانتے ہیں کہ انہیں بی جے پی سے پیسہ مل رہا ہے ۔اور بی جے پی انہیں مغربی بنگال میں حالات بگاڑنے کے لئے اکسا رہی ہے ۔62 سالہ ہمایوں کبیر نے سیاست کا آغاز کانگریس پارٹی سے کیا تھا او ر سال 2012 میں کانگریس سے اسمبلی چناؤ جیتنے کے ایک سال بعد ترنمول کانگریس میں شامل ہوگئے تھے۔2015 میں کبیر کو ٹی ایم سی سے باہر کا راستہ دکھا یا گیا ۔انہوں نے کہا وزیراعلیٰ ممتا بنرجی اپنے بھتیجے ابھیشیک بنرجی کو راجہ بنانا چاہتی ہیں بھاجپا نیتاؤں نے اسے ووٹ بینک کی سیاست بتاتے ہوئے ہمایوکبیر کی گرفتاری تک کی مانگ کر ڈالی ۔بھاجپا نیتا سکانت مجمومدار نےکہا کہ ممتا 15 برسوں سے خوشامدی اور فرقہ وارانہ سیاست کرتی آرہی ہیں ۔مگر سچ میں یہ نہیں چاہتی کہ بابری مسجد بنے تو انہیں ہمایو کبیر کو گرفتار کرنا چاہیے تھا ۔ٹی ایم سی نے جواب میں کبیر پر بھاجپا اور آر ایس ایس کے ساتھ ملی بھگت کرکے حالات بگاڑنے کی کوشش کا الزام لگایا ۔مغربی بنگال اسمبلی چناؤ جیسے جیسے قریب آرہے ہیں روز نئی نئی باتیں سننے کو ملیں گی ۔ (انل نریندر)

09 دسمبر 2025

کیا یہ سنکٹ جان بوجھ کر بنایا گیا؟

دیش کی سب سے بڑی ائر لائن انڈیگو میں پچھلے کچھ دنوں سے بھاری بدنظمی کا سامان کررہی ہے ۔ایک طرف اڑانوں کا وسیع پیمانہ پر منسوخ ہونا تو دوسری طر ف آسمان چھوتے مسافر کرائے نے مسافروں کی ناک میں دم کر دیا ہے ۔ایئر لائن نے ذمہ داری نئے ایف ڈی ٹی ایل ( فلائٹ ڈیوٹی ٹائم لمیٹیشن ) قواعد پر ڈالی ہے ۔لیکن ماہرین کا خیال ہے کہ انڈیگو کے پاس تیاری کے لئے درکار وقت تھا۔اس کی وجہ یہ الزام بھی سنگین ہو گیا ہے کہ ایئر لائن نے قواعد میں ڈھیل پانے کے لئے سرکار پر دباؤ بنانے کا راستہ چنا ۔ایویشن ماہرین کے مطابق اس بحران کی جڑ جنوری 2024 میں دائر اس عرضی میں ہے جس میں پائلٹ یونین نے دہلی ہائی کورٹ کے سامنے تھکان اور لمبی ڈیوٹی کو سنگین سیکورٹی خطرہ بتایا تھا ۔کورٹ کی ہدایت کے بعد ڈی جی سی اے نے ایف ڈی ٹی ایل قواعد میں تبدیلیاں کیں اور انہیں ایک جولائی 2025 سے لاگو کر دیا ۔ان قواعد میں پائلٹوں کو ہفتہ وار چھتیس گھنٹے کے بجائے 48 گھنٹے کا ضروری آرام دیا ۔اور کسی بھی چٹھی کو ویکلی ریسٹ ماننے سے روک لگا دی ۔نومبر 2025 میں اس کا دوسرا مرحلہ لاگو ہوا ، جس میںلگاتار نائٹ شفٹ پر بڑی پابندی لگا دی گئی۔انہیں تبدیلیوں کا اثر انڈیگو پر سب سے زیادہ پڑا ۔12 دسمبر کو دہلی ،ممبئی اور بنگلورو جیسے بڑے ہوائی اڈوں پر اڑانیں غیر ریگولر ہونا شروع ہوئیں۔اور آن ٹائم پرفارمنس گر کر 35 فیصد پر آگئی ۔3 دسمبر کو یہ حالت اور بگڑی اور آپریشن پرفارمنس 19.7 فیصد تک گر گئی ۔4 دسمبر کو حالات تقریباً ٹھپ ہو گئے ۔قریب 800 اڑانیں منسوخ کرنی پڑیں اور او ٹی پی صرف 8.5فیصد پر رہ گیا ۔کئی روٹس پر ٹکٹ کا کرایہ 10 ہزار سے بڑھ کر 40 ہزار 50 ہزار دیکھا گیا ۔کیا یہ مسئلہ منوپولی کی وجہ سے ہوا؟ سال 2006 کے اگست میں دہلی ،ممبئی کے بیچ اڑان سے شروع ہوئی انڈیگو کی کہانی اور اس موڑ پر آجائے گی تب راہل بھاٹیہ اور راکیش گنگوال نے خواب میں بھی نہیں سوچا ہوگا جنہوں نے 2005 میں انڈیگو کو مالک انٹر گلوبل انٹر پرائز کی بنیاد رکھی تھی ۔آج بھارت کے جہاز رانی مارکیٹ میں انڈیگو سب سے بڑی کھلاڑی ہے اور اس کے پاس قریب 64 فیصدی حصہ داری ہے اب یہی بڑھا قد اس کی ہزاروں اڑانیں کینسل ہونے اور مسافروں کو ہوئی بے شمار پریشانیون کے چلتے سوالوں کے گھیرے میں ہے ۔پارلیمنٹ میں انڈیگو کی قیمت منوپلی یعنی ایک طرفہ سوال اٹھے ۔راہل گاندھی نے کہا کہ اس بحران کے لئے مرکزکی منوپلی ماڈل ذمہ دارہے ۔جہاز رانی سیکٹر کے ماہرین کہہ رہے ہیں کہ جو کچھ ہوا یہ جان بوجھ کرکیا گیا یا بنایاگیا ۔اس بحران سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ایک منوپلی کمپنی جب چاہے دیش کو اپنی انگلیوں پر نچا سکتی ہے ۔سرکار نے ایئر انڈیا کو پیچھے دھکیل کر انڈیگو کو ایک طرفہ حق دے دیا جس سے وہ جہازی سیکٹر میں من مرضی کر سکے جو کچھ ہوا ہے اس میں یہ ساکھ بنی کہ کوئی ایک بڑی کمپنی بھارت میں جہازرانی قواعد میں تبدیلی کروا سکتی ہے لہذا اس واقعہ سے کسی ایک کمپنی نہیں بلکہ دیش کے پورے جہازرانی سیکٹر کی ساکھ پر آنچ آئی ہے۔ایویشن سیفٹی فرم کونسلنگ کے سی ای او ماک ڈی مارٹن نے کہا کہ ایک طرف اختیار بڑی وجہ ہے ۔جس طرح سے یہ معاملہ ہوا ہے اس سے دنیا بھر میں یہ پیغام گیا ہے کہ بھارت میں ایویشن ریگولیشن میں دم نہیں ہے ۔ (انل نریندر)

06 دسمبر 2025

عمران خان زندہ ہیں!

جی ہاں عمران خان زندہ ہیں یہ دعویٰ کیا ہے عمران خان کی بہن عظمیٰ خان نے ۔بتادیں کہ پچھلے کئی دنوں سے یہ اندیشہ جتایاجارہا تھا کہ عمران خان کو جیل میں قتل کردیا گیا ہےاور اسے چھپایاجارہا ہے ۔عمران خان کے خاندان والوں نے دعویٰ کیا تھا کہ ادیال جیل میں بند عمران خان کوتقریباً ایک ماہ سے سابق وزیراعظم اور ان کے بھائی عمران کو کسی سے ملنے نہیں دیاجارہا ہے۔آخر کار عمران کے کنبہ اور ان کے حمایتیوں کے بڑھتے دباؤ کی وجہ سے عمران خان کی بہن کو اپنے بھائی سے جیل کے اندر ملنے کی اجازت دے دی گئی ۔پی ٹی آئی کے ایک ترجمان اور ادیالہ جیل کے ایک افسر نے بی بی سی سے بات چیت میں اس کی تصدیق کی ہے کہ عظمیٰ خاں کو عمران خان سے ملنے کی اجازت مل گئی ہے ۔منگل کے روز جب عمران خاں کی تین بہنیں علیمہ خانم ، نورین نیازی اور عظمیٰ خاں ملاقات کے لئے ادیالہ جیل کے پاس پہنچی تو وہاں تعینات پولیس حکام نے انہیں راستے میں روک دیا تھا۔حالانکہ کچھ دیر بعد جیل حکام نے ایک افسر کے عمران خاں کی بہنوں کے پاس بھیجا اور میسج دیا کہ ملاقات کے لئے عظمیٰ خاں کے نام پر منظوری مل گئی ہے ۔ادیالہ جیل میں 20 منٹ کی ملاقات کے بعد عظمیٰ جب باہر آئیں تو انہوں نے اخبار نویسوں سے اپنے بھائی کے حال چال کے بارے میں بتایا ۔عظمیٰ خاں نے بتایا کہ وہ عمران خان بڑے غصہ میں تھے اور کہہ رہے تھے کہ ہمیں یہ جیل میں مینٹل ٹارچر کررہے ہیں سارے دن ایک کمرے میں بند رکھتے ہیں اور تھوڑی دیر کے لئے باہر جانے دیتے ہیں۔کسی سے کوئی بات چیت کی اجازت نہیں ہے جو سب کچھ ہورہا ہے اس کے لئے پاکستانی فوج کے فوجی سی ڈی ایس عاصم منیر ذمہ دار ہیں ۔اس کے ساتھ ہی عظمیٰ خاں نے بتایا کہ ان کی بس 20منٹ کے لئے بات چیت ہو پائی اور ان کی عمران کی صحت بالکل ٹھیک ہے اس سے پہلے ان کے گھر والوں نے دعویٰ کیا تھا کہ انہیں تقریباً چھ ماہ سے پہلے سابق پردھان منتری سے ملنے کی اجازت نہیں دی گئی تھی ۔سرکاری افسر نہیں چاہتے کہ عمران خاں کو کوئی بھی پیغام جیل سے باہر آئے ۔بی بی سی سے ایک انٹرویو میں عمران خاں کی بہن نورین خاں نے الزام لگایا کہ انہیں سرکاری حکام ( کو بس اس بات کی فکر ہے کہ عمران خاں کی باتیں باہر بتائی جارہی ہیں اس لئے انہوں نے ملنا ملانا پوری طرح سے بند کر دیا ہے ۔عمران کی بہنوں کا کہنا ہے کہ پہلے وہ کورٹ کے حکم کے مطابق ہر منگل کو اپنے بھائی سے ملنے جایاکرتی تھیں لیکن عمران سے ان کی آخری ملاقات 4 نومبر کو ہوئی تھی۔نورین خاں نے مزید یہ بھی الزام لگایا پاکستانی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ عمران خاں سے 9 مئی کی ذمہ داری قبول کریں کہ وہ 9 مئی کو توڑ پھوڑ کروائی تھی انہوں نے ہی اپنے لوگوں کو گولی ماری ۔نورین خاں کے مطابق عمران نے جواب دیا تھا کہ آپ سی سی ٹی وی فوٹیج نکال لیں چھاونی کے اندر چیک پوسٹ ہے فوج کی نظر میں آئے بغیر یا کیمرے میں قید ہوئے بنا یہاں اندر نہیں جاسکتا ۔گھر والوں سے ملنے کی اجازت نہ ملنے کی خبروں پر جیل کے حکام کی جانب سے کوئی واضح بیان جاری نہیں کیا گیا لیکن وزیراعظم شہباز شریف کے سیاسی امور کے مشیر ثناء اللہ نے الزام لگایا کہ عمران خاں جیل میں بیٹھ کر بد امنی اور بے نظمی پھیلانے کی کوشش کررہے ہیں ۔انہوں نے نیوز ٹی وی کو ایک پروگرام میں مانا کہ قانون ایک قیدی کو اس کے گھر والوں یا وکیلوں سے ملنے کی اجازت تو دیتا ہے لیکن ایسا کوئی قانون میں نہیں لکھا ہے کہ کسی قیدی کو سرکار کے خلاف بدا منی یا بغاوت یا بد انتظامی ، تحریک یا آگ زنی کی اجازت دے ۔ادھر نورین خاں نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر انہوں نے عمران خاں کے ساتھ کچھ کیا تو یاد رکھیں کہ وہ نا پاکستان میں رہنے کے قابل ہوں گے اور نہ ہی دنیا کے کسی کونے میں ۔ (انل نریندر)

02 دسمبر 2025

چناؤ کمیشن کے ہاتھ خون سے رنگے ہیں!

یہ کہنا ہے ترنمول کانگریس کے اس نمائندہ وفد کا جو چناؤ کمیشن کی پوری بنچ کے ساتھ دو دن پہلے ملا تھا ۔مغربی بنگال میں جاری ووٹر لسٹ نظر ثانی پروسیس کے درمیان ، ترنمول کانگریس کے راجیہ سبھا ایم پی ڈیرک اوبرائن کی سربراہی میں پارٹی کے دس ممبری نمائندہ وفد نے چناؤ کمیشن سے ملاقات کی ۔اوبرائن نے میٹنگ کے بعد کہا کہ پارٹی نے چناؤ کمیشن کے سامنے پانچ سوال اٹھائے لیکن چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار نے ان کا کوئی جواب نہیں دیا ۔ترنمول کے ممبران کا کہنا تھا کہ اگر ایس آئی آر کا مقصد فرضی ووٹروں اور دراندازوں کا پتہ لگانا ہے تو پھر بنگال ہی کیوں ؟ ،میگھالیہ اور تریپورہ میںکیوں نہیں؟ جبکہ ان ریاستوں کی سرحدیں بھی بنگلہ دیش سے ملتی ہیں ۔حالانکہ ترنمول کانگریس ممبران پارلیمنٹ کی بات سننے کے بعد چناؤ کمیشن نے صاف کیا کہ ایس آئی آر سبھی ریاستوں میں ہونے ہے ۔ڈیرک اوبرائن نے کہا کہ ہم ایس آئی آر کے آئینی جواز پر سوال نہیں اٹھارہے ہیں بلکہ اس کے طریقہ پر اٹھا رہے ہیں ۔جس طریقہ سے جلد بازی میں اسے نافذ کیا جارہا ہے اس پر اعتراض ہے ۔ایس آئی آر کے لئے انہوں نے وقت بڑھانے کے لئے مانگ کی تھی ۔ترنمول کانگریس کے نمائندہ وفد نے جب جمعہ کو چناؤ کمیشن کی پوری بنچ سے ملاقات کی تو انہوں نے کھل کر الزام لگایا کہ مغربی بنگال میں ایس آئی آر کے سبب کم سے کم چالیس لوگوں کی موت ہوئی ہے ۔انہوں نے الزام لگایا کہ چیف الیکشن کمشنر کے ہاتھ خون سے رنگے ہیں ہم نے پانچ سوال اٹھائے اور چناؤ کمیشن نے ایک گھنٹے تک بنا رکے ہم سے بات کی ۔جب ہم بول رہے تھے تب ہمیں بھی نہیں روکا گیا لیکن ہمارے پانچ سوالوں سے کسی کا جواب نہیں ملا ۔لوک سبھا ایم پی مہوا موئترا نے بتایا کہ نمائندہ وفد نے چیف الیکشن کمشنر نے مل کر انہیں چالیس ایسے لوگوں کی فہرست دی جن کی موت مبینہ طور پر ایس آئی آر پروسیس سے وابستہ تھی ۔حالانکہ انہون نے کہا چناؤ کمیشن نے انہیں صرف الزام کہہ کر خارج کر دیا ۔ممبران پارلیمنٹ کی چناؤ کمیشن سے قریب 40 منٹ میں کلیان بنرجی ،مہوا موئترا ،ممتا بالا ٹھاکر نے اپنی باتیں رکھیں ۔اور جو کہنا تھا وہ انہوں نے کہہ ڈالا انہوں نے کہا اس کے بعد چیف الیکشن کمشنر نے ایک گھنٹے بغیر رکے ان سے بات کی ۔جب ہم بول رہے تھے تب ہمیں بھی نہیں ٹوکا گیا لیکن ہمیں ہمارے پانچ سوالوں میں سے کسی ایک کا بھی جواب نہیں ملا ۔ایس آئی آر کے دوسرے مرحلے کو لیکر تنازعہ بڑھتا جارہا ہے ٹی ایم سی ممبران کے سوالوں کا تشفی بخش جواب نہ دینا اس پروسیس کے جواز اور منصفانہ پر سوال اٹھ رہے ہیں ۔ایس آئی آر سے جڑے شک و شبہات کا دور نہ ہونا اچھا اشارنہیں ہے ۔ایس آئی آر کے سیاسی پہلو کو سمجھا جاسکتا ہے ۔خاص کر بنگال میں جہاں بی جے پی اور ترنمول کی سخت مقابلہ ہونے کا اندازہ ہے لیکن اس سے جڑی تشویشات کو بھی مسترد نہیں کر سکتے ۔ایس آئی آر کے جواز پر کوئی سوال نہیں ہے اور نہ ہی چناؤ کمیشن کے اختیار پر ۔سپریم کورٹ بھی یہ بات کہہ چکا ہے حالانکہ اپوزیشن کی تشویشات کو دور کرنا ہی چناؤ کمیشن کی ہی ذمہ داری ہے ۔اپوزیشن کو اگر ادارے کو نہ صرف ان کا تسلی بخش جواب دینا ہوگا ۔بلکہ آزادانہ اور منصفانہ چناؤ پروسیس بھی اپنانا ہوگا ۔ (انل نریندر)

29 نومبر 2025

ایک بار پھر سرخیوں میں افغانستان!

پچھلے کچھ دنوں سے ایک بار پھر افغانستان سرخیوں میں ہے ۔دو واقعات رونما ہوئے ہیں جنہوں نے افغانستان کو سرخیوں میں لا دیا ہے ۔پہلی واردات امریکہ کی ہے ۔امریکی راجدھانی واشنگٹن ڈی سی میں دل دہلا دینے والی واردات ہوئی ۔وائٹ ہاؤس سے کچھ دوری پر بدھوار کی دوپہر دو بجے ویسٹ ورجینیا نیشنل گارڈس کے جوانوں پر اچانک کی گئی فائرنگ نے پورے شہر کو ہلا کر رکھ دیا ۔وائٹ ہاؤس میں تالا بندی کر دی گئی۔دونوں فوجیوں کی تکلیف دہ موت ہو گئی ۔واشنگٹن کی میئر نیورل بگوچر نے اسے وارگیٹڈ شوٹنگ بتایا ہے ۔صدر ٹرمپ نے حملہ آور کو جان کر بتاتے ہوئے انجام بھگتنے کی وارننگ دی ہے ۔یہ فائرنگ اس وقت ہوئی جب گارڈ کے ممبر ایک میٹرو اسٹیشن کے پاس تعینات تھے ۔حملہ آور اچانک بھیڑ سے آیا اور بغیر کسی وارننگ کے گولی چلانے لگا وہیں آس پاس موجود دیگر فوجیوں نے فوراً بھاگ کر موقع پر پہنچے اور حملہ آور پر قابو کر لیا ۔گولی چلانے والے کا نام رحمت اللہ لکن وال ہے ۔(29)سال کا بتایا جاتا ہے کہ یہ افغانستان کا شہری ہے ۔جو 2021 میں امریکہ آیا تھا کہاجارہا ہے کہ یہ افغانستان میں امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے لئے بھی کام کر چکا ہے۔صدر ٹرمپ نے بائیڈن سرکار کے تحت امریکہ میں آئے افغانستان کے ہر شہری کی پھر سے جانچ کرانے کا بھی وعدہ کیا ۔ٹرمپ نے فلوریڈا سے شوشل میڈیا پر رائے زنی کرتے ہوئے حملہ آور کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ وہ بہت بڑی قیمت چکائے گا ۔حملہ آور نے حملہ کیوں کیا اس کی معلومات ابھی نہیں آئی ہے اس لئے اس کی پہلی سرخی افغانستان کی تب بنی جب وہ وائیٹ ہاؤس کے باہر گولی چلانے والا ایک افغانی نکلا ۔دوسری سرخی تب بنی جب تین دن پہلے افغانستان کے ایک میڈیا چینل نے یہ خبر چلائی کہ پاکستان کے سابق وزیراعظم اور تحریک انصاف پارٹی کے چیف عمران خان کو جیل میں مار ڈالا گیا ہے ۔اس خبر کے آتے ہی پاکستان میں آگ لگ گئی ۔بتادیں کہ عمران خاں پچھلے دو سال سے راول پنڈی کی عدیالہ جیل میں کرپشن کے الزامات میں بند ہیں ۔عمران خان کی سیکورٹی کو لے کر کئی طرح کی باتیں کہی جارہی ہیں ۔اس درمیان عمران خان کے بیٹے قاسم خان نے بھی اپنے والد کی حفاظت کو لے کر ایکس پر ایک پوسٹ لکھا ۔میرے والد 845 دن سے جیل میں ہیں پچھلے چھ ہفتوں سے انہیں ایک ڈیتھ سیل میں تنہائی میںرکھا گیا ہے جہاں کسی طرح کی صاف صفائی نہیں ہے ۔عدالت کے واضح حکم ہونے کے باوجود ان کی بہنوں کو ہر ملاقات سے محروم رکھا گیا ہے ۔نہ کوئی فون نہ کوئی ملاقات نہ ہی ان کے زندہ ہونے کا کوئی ثبوت اور میرے بھائی ہم دونوں اپنے والد سے کوئی رابطہ نہیں کر پائے ۔قاسم نے لکھا ہے کہ یہ پوری طرح سے بلیک آؤٹ کوئی سیکورٹی پروٹوکول نہیں ہے ان کی حالت کو چھپانے اور ہمارے خاندان کو یہ جاننے سے روکنے کا ایک سوچی سمجھی کوشش ہے ۔اور میرے والد کی حفاظت اور اس غیر انسانی تنہائی سنٹرکے ہر نتیجہ کے لئے پاکستان سرکار کو اخلاقی اور بین الاقوامی سطح پر پوری طرح جوابدہ ٹھہرایا جائے گا ۔ہم امید کرتے ہیں کہ عمران کی موت محض افواہ ہو اور وہ صحیح سلامت ہوں ۔ (انل نریندر)

25 نومبر 2025

بہار میں محکمہ داخلہ سمراٹ چودھری کو ملے گا!

نتیش سرکار کے وزراءکے قلمدان کے بٹوارے کے ساتھ جمعہ کو بہار کے اقتدار اعلیٰ میں بڑی تبدیلی نظر آئی ۔2005 کے بعد مسلسل محکمہ داخلہ وزیراعلیٰ نتیش کمار ہی سنبھالے ہوئے تھے جوعام طور پر سبھی وزیراعلیٰ اپنے پاس ہی رکھتے ہیں لیکن تازہ ذمہ داری تقسیم میں یہ اہم ترین محکمہ ان سے چھینا گیا ہے اور مرکزی وزیرداخلہ امت شاہ کے نور نظر سمراٹ چودھری کو دے دیا گیا ہے ۔اس سے ان قیاس آرائیوں کو تقویت ملی ہے کہ بہار میں بی جے پی کا سرکار پر پورا کنٹرول ہوچکا ہے ۔نتیش کمار محض ایک ریموٹ وزیراعلیٰ بن گئے ہیں۔بی جے پی کی برسوں سے یہی کوشش رہی ہے کہ بہار کا کنٹرول بی جے پی کے ہاتھ میں آجائے اسی مقصد سے چناو¿ سے پہلے بھاجپا نے یہ اعلان نہیں کیا تھا کہ نتیش ہی اگلے وزیراعلیٰ ہوں گے ۔بی جے پی کے اس مقصد کی حصولی میں ابھی پوری کامیابی نہیں ملی ہے ۔چناو¿ نتائج نے ثابت کر دیا ہے کہ بہار میں نتیش آج سب سے بڑے قدآور لیڈر ہیں جنہیں نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔اس مجبوری کے چلتے نتیش کو بی جے پی کی یہ شرط ماننی پڑی کہ محکمہ داخلہ ان کے پاس نہیں ہوگا ۔بی جے پی کے پاس رہے گا ۔اور نتیش کو آخر جھکنا پڑا اور امت شاہ کے بھروسہ مند سمراٹ چودھری کو نائب وزیراعلیٰ کے ساتھ ساتھ وزارت داخلہ بھی مل گیا ۔اگر یہ کہا جائے کہ اب نتیش کمار ریموٹ وزیراعلیٰ ہیں تو شاید غلط نہ ہو ۔اصل کنٹرول تو دہلی سے ہی ہوگا ۔ اب تمام انتظامی پولیس لاءاینڈآرڈر وغیرہ سمراٹ چودھری کے ہاتھ میں ہی ہوگا ۔بہار میں لالو راج ختم ہونے کے بعد نتیش کمار نومبر 2005 سے اقتدار میں چل رہے ہیں اس کے بعد لگاتار 20 سال سے محکمہ داخلہ ان کے پاس تھا ۔لالو کے راج کو جسے جنگل راج کی بات اس چناو¿ میں لاءاینڈآرڈر اور دہشت کے طور پر پیش کیا گیا کہ اس دور کو ختم کیا اب امن و امان لاگو کروانے میں نتیش کا خاص اشتراک رہا ۔کرائم پر نکیل کسی ،فاسٹ ٹریک کورٹ بنائی گئی۔پولیس کو کھلی چھوٹ دی اور سخت قانون و نظام کے ذریعے یہ خیال بنا کہ جرائم پیشہ چاہے کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو سیاسی دبدبہ بھی رکھتا ہو، قانون کی نظر سے کوئی بچ نہیں سکتا۔گڈ گورننس کی حکمرانی میں ایسا ماحول بنا کہ نتیش کمار گڈ گورننس بابو کہلانے لگ گئے ۔دو دہائی کے دوران بہار میں کوئی بڑا فساد بھی نہیں ہوا ۔نتیش کمار سے اس بار محکمہ داخلہ ملنا چونکانے والا ضرور ہے ۔لوگ اس کے مطلب کئی نکال رہے ہیں کیا بی جے پی یہ اشارہ دے رہی ہے کہ مجبوری کے چلتے نتیش کو وزیراعلیٰ تو بنا دیا لیکن کتنے د ن تک وہ اس عہدے پر ٹکے رہیں گے۔اس پر قیاس آرائیوں کا بازار گرم ہے لیکن حلف برداری سے پہلے نتیش کمار کو یہ سمجھا دیا گیا تھا کہ چونکہ بی جے پی کی سیٹیں جے ڈی یو سے زیادہ ہیں اس لئے یہ محکمہ داخلہ ہمارے پاس ہی رہے گا ۔نتیش کمار نے اپنے پیروں پرپہلے ہی کلہاڑی مار لی اس لئے اسے قبول کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے اور نہ ہی متبادل ہوگا لیکن نتیش منجھے ہوئے کھلاڑی ہیں وہ اتنی آسانی سے ہار ماننے والے نہیں ہیں ۔کیا مستقبل قریب میں بہار میں کوئی نیا کھیلا بھی ہونے والا ہے اور دیکھنے کو مل سکتا ہے ؟ویسے بی جے پی کو محکمہ داخلہ ملنے سے ریاست میں جرائم پیشہ پر تو نکیل کسے گی ہی لیکن اگر ایسا نہیں ہوا تو اس کا الٹا اثر بھی ہوسکتا ہے ۔محکمہ داخلہ بی جے پی کو ملنے سے پارٹی مخالفین خاص کر آر جے ڈی کانگریس میں بے چینی بڑھنا فطری ہے۔آخر میں جن سوراج پارٹی کے بانی پرشانت نے الزام لگایا کہ بہار میں نتیش کمار سرکار کی نئی کابینہ کرپٹ اور جرائم پیشہ سے بھری ہے ۔یہ کابینہ بہار کے لوگوں کے منہ پر ایک طمانچہ ہے ۔ (انل نریندر)

22 نومبر 2025

پی کے کیوں چاروں کھانے چت ہوئے

2025 کے بہار اسمبلی انتخابات پرشانت کشور اور ان کی جن سورج پارٹی کے لیے پہلا بڑا انتخابی امتحان تھا۔ اس انتخاب نے پرشانت کشور کی اپنی پیشین گوئی کو ثابت کر دیا کہ ان کی پارٹی یا تو اوپر اٹھے گی یا نیچے گر جائے گی۔ نتائج نے پارٹی کو نیچے رکھا۔ پرشانت کشور کی تصویر پر بنائی گئی جارحانہ اور وسیع مہم کے باوجود جن سورج پارٹی اپنے ابتدائی جوش کو ووٹوں میں تبدیل کرنے میں ناکام رہی۔ اس نے 243 میں سے 238 سیٹوں پر الیکشن لڑا، ایک بھی سیٹ جیتنے میں ناکام رہی۔ دس میں سے چار رائے دہندگان (تقریباً 39 فیصد) نے فون کال، ایس ایم ایس، واٹس ایپ، یا سوشل میڈیا کے ذریعے پارٹی کی طرف سے کم از کم ایک سیاسی پیغام موصول کرنے کی اطلاع دی، جس میں سب سے زیادہ تعداد بی جے پی کی ہے۔ اسی طرح 43 فیصد نے گھر گھر رابطہ کرنے کی اطلاع دی، جس سے جن سورج پارٹی ووٹروں سے رابطہ کرنے کے اس طریقہ کار کے لحاظ سے تیسری سب سے بڑی پارٹی بن گئی۔ رابطے کی اس سطح نے پارٹی کو عملی طور پر بہار کی بہت سی زیادہ قائم پارٹیوں کے برابر کر دیا ہے۔ اتنی موجودگی کے باوجود اس کی حمایت محدود رہی۔ اس کے بعد سے یہ سوالات اٹھ رہے ہیں کہ کیا پرشانت کشور سیاست چھوڑ دیں گے۔ منگل کو پٹنہ میں ایک پریس کانفرنس میں پرشانت کشور نے اپنے بیان کی وضاحت کی۔ انہوں نے کہا، "میں بالکل اس پر قائم ہوں، اگر نتیش کمار کی حکومت نے ووٹ نہیں خریدے تو میں سیاست سے ریٹائر ہو جاؤں گا۔" پریس کانفرنس میں ایک صحافی نے جواب دیتے ہوئے پوچھا کہ جب انہوں نے یہ بیان دیا تو انہوں نے شرائط کیوں نہیں بتائیں۔ پرشانت کشور نے جواب دیا، "میں کون سا عہدہ رکھتا ہوں کہ میں استعفیٰ دوں گا؟ میں نے یہ نہیں کہا تھا کہ میں بہار چھوڑ دوں گا۔ میں نے سیاست چھوڑ دی ہے، میں اب سیاست دان نہیں ہوں، لیکن میں نے یہ نہیں کہا کہ میں بہار کے لوگوں کے مسائل کو اٹھانا چھوڑ دوں گا۔" جن سورج پارٹی کا دعویٰ ہے کہ نتیش کمار کی حکومت نے انتخابات سے قبل متعدد اسکیمیں شروع کیں اور بہار کے لوگوں کے کھاتوں میں رقم منتقل کی۔ ان اسکیموں نے این ڈی اے کو دوبارہ اقتدار میں لایا، اور جن سورج پارٹی کو شکست ہوئی۔ تاہم، پرشانت کشور خود اپنی جن سورج پارٹی کے لیے بہت کچھ حاصل کرنے میں ناکام رہے۔ انتخابی مہم کے دوران انہوں نے کئی مواقع پر دعویٰ کیا کہ اس بار بہار میں تبدیلی آئے گی اور نتیش کمار وزیر اعلیٰ نہیں بنیں گے۔ تجزیہ کاروں کا یہ بھی ماننا ہے کہ پرشانت کشور اس شکست کے باوجود سیاست نہیں چھوڑیں گے۔ وہ لمبی دوری کا رنر ہے۔ انہوں نے پڑھے لکھے لوگوں سے رابطہ قائم کرنے کی کوشش کی اور اچھے مسائل اٹھائے۔ پرشانت کشور نے نامہ نگاروں سے کہا، "جہاں گزشتہ 50 سالوں سے ذات پات کی سیاست کا غلبہ ہے، وہاں ہماری پہلی کوشش میں 10 فیصد ووٹ حاصل کرنا ہمارا کرشمہ ہے یا کچھ اور، فیصلہ آپ کریں۔" پرشانت کشور نے مزید کہا، "اگر ہماری پارٹی کو 10 فیصد ووٹ ملے ہیں تو یہ میری ذمہ داری ہے، اگر یہ میری اکیلے کی ذمہ داری نہیں ہے تو بھی میں پیچھے ہٹنے والا نہیں ہوں۔ اس 10 فیصد کو بڑھا کر 40 فیصد کرنا ہوگا۔ چاہے ایسا ایک سال میں ہو یا پانچ سال میں۔" -انیل نریندر

20 نومبر 2025

بہار نتائج قومی سیاست پر گہرا اثر کریں گے

بھارت میں 10 سال سے مرکز اور زیادہ تر ریاستوں میں سرکار چلا رہی بی جے پی جب لوک سبھا چناؤ2024 میں 240 سیٹوں پر اٹک گئی اور بیساکھیوں کے سہارے اقتدار میں آئی تو کئی تجزیہ نگاروں کو لگا تھا کہ یہاں سے ہندوستانی سیاست میں شاید بی جے پی ڈھلان پر آجائے لیکن اسکے بعد سے دیش کی کئی ریاستوں میں ہوئے چناؤ میں مسلسل جیت کر بی جے پی نے ثابت کر دیا کہ یہ جائز ے کہیں نہ کہیں غلط تھے ۔ہریانہ مہاراشٹر دہلی اور اب بہار میں جیت درج کرنے کے بعد بی جے پی نے یہ ثابت کر دیا وہ چناؤ جیتنا جانتی ہے ۔آج بھی چناؤی حکمت املی بنانے اور اسے کامیاب کرنے میں بی جے پی کے سامنے کوئی سیاسی پارٹی ٹھہرتی نہیں ہے تازہ مثال بہار کی ہے ۔اب بھارت کے اہم ہندی زبان والی ریاست بہار میں بھی بی جے پی ،جے ڈی یو اور کئی علاقائی پارٹیوں کے این ڈی اے اتحاد نے غیر متوقع اور بے مثال جیت درج کی ہے ۔بہار اسمبلی چناؤ کا نتیجہ بھارت و قومی سیاست پر گہرا اور دورندیشی اثر ڈال سکتا ہے۔یہ نتیجہ بی جے پی کےلئے ایک بڑی جیت اور مثبت اشارے کی شکل میں دیکھا جا رہا ہے جس نے مرکز کی این ڈی اے سرکار اور اسکی قیادت کو مضبوطی دی ہے وہیں اپوزیشن کےلئے ےہ چنوتی اور زمینی ستہ پر تنظیم کو مضبوط کرنے کا الرٹ ہے۔تجزیہ نگار مانتے ہیں کہ اپوزیشن کو اپنی پالیسیوں و قیادت اور حکمت املی میں وسیع بہتری لانے ہوگی تاکہ وہ قومی ستح پر ٹھوس چنوتی پیش کر سکیں۔اس میں کوئی دو رائے نہیں ہو سکتی کہ بی جے پی نتائج سے اور مضبوط ہو کر ابھرے گی اور اسکا اثر کئی آنے والے انتخابات پر دیکھائی دے گا ۔تجزیہ نگار یہ بھی مان رہے ہیں بی جے پی کے اندر نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ اور مضبوط ہوں گے بھاجپا کے چانکیہ امت شاہ کی چناؤی حکمت املی ایک بار پھر سہی ثابت ہوئی ۔بہار چناؤ نتیجے نے بی جے پی ،نریندر مودی اور امت شاہ کی لیڈر شپ کر پھر سے مضبوط کر دیا ہے۔تجزیہ نگار ہمنت ورنی کے مطابق بہار چناؤ نے مرکز کی سرکار کی پوزیشن جو 2024 کے لوک سبھا چناؤ میں اقلیتی پوزیشن کا سامنا کر رہی تھی اب کھل کر اپنے ایجنڈے کو چلا سکے گی۔ اب اسے مرکزی سرکار کی کمزوری پر لگتے سوالیہ نشانوں کی زیادہ فکر نہ ہوگی ۔اب بی جے پی اور اسکی حکمت املی پر اپوزیشن کے حملے کم ہو سکتے ہیں اور بی جے پی دلتوں پجھڑوں طبقوں سے حمایت حاصل کرنے کی اپنی صلاحیت کو پیش کرے گی ۔بی جے پی صدر کا فیصلہ جو پچھلے کئی ماہ سے لٹکہ ہوا تھا اب اسکا فیصلہ بھی جلد ہو سکتا ہے۔اب پھر سے اس نظریہ کو تقویت ملے گی کی مودی اجے ہیں انہیں کوئی بھی اقتدار سے ہلا نہیں سکتا۔اس سے اپوزیشن کے حوصلے پر بھی اثر پڑے گا۔سی ایس ڈی ایس کے ڈائریکٹر پروفیسر سنجے کمار مانتے ہیں کہ ہندوستانی سیاست پر بھاجپا کا ایک طرفہ راج مضبوط ہو رہا ہےجو لوک سبھا چناؤ کے بعد لگنے لگا تھا کہ شائد بی جے پی کا اثر کم ہو رہا ہے ۔لیکن لگاتار کئی ریاستوں میں پارٹی کی جیتنے ثابت کر دیا ہے کہ وہ اجے ہیں اور چناؤ حکمت املی میں اس کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا۔ بہار کے چناؤ نتیجوں سے بی جے پی کا بھروسہ اور وبڑھے گا پارٹی کےلئے یہ ایک جوش بڑھانے والا نتیجہ ہے ،خاص کر ،آسام تامل ناڈو،کیرل اور مغریبی بنگال کے چناؤ سے پہلے ۔تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ کسی ایک ریاست کے نتیجے سے کچھ سبق تو سکھے جا سکتے ہیں لیکن اس سے پورے دیش کا مزاج بدلنا مشکل نظر آتا ہیں۔تجزیہ نگار اس بات سے متفق ہیں بہار نتیجوں نے یہ ثابت کیا ہے اب عورتوںکو الگ ووٹر گروپ کی شکل میں دیکھا جائے بہار نتیجوں کا سبق یہ ہے کہ سیاسی پارٹی خاتون ووٹر کی اہمیت سمجھیں گےاور یہ سمجھ بڑھے گی کی عورتوں کو اپنے ساتھ رکھنا ہے اور اپنے چناؤی منشور میں اس بات کا خیال رکھ کر اسکیمیں بنانی ہوں گی۔این ڈی اے اتحاد نے یہ دیکھایا کی کچھ ایسے واعدے کریں جنہیں پورا کر سکیں آنے والی وقت میں ہندوستانی سیاست پر بہبود یعنی سماجی بہبودی اسکیموں کا اثر زیادہ نظر آ سکتا ہے۔ یہ بات این ڈی اے کی بہار جیت سے صاف ہو چکی ہے۔ انل نریندر

18 نومبر 2025

بہار میں نتیش کمار کی بھروسہ مندی!



بہار اسمبلی چناؤ کے نتیجوں نے یہ تو ثابت کر ہی دیا ہے کہ 20سالہ عہد کے بعد بھی نتیش کمار کا ابھی بھی بھروسہ بنا ہوا ہے۔آج بھی نتیش بہار کے سب سے بڑے مظبوط لیڈر ہیں۔ اسمبلی چناؤ مہم کے دوران انکی صحت اور سرگرمی پر سوال چھائے رہے۔میڈیا سے انکی دوری کچھ سطحوں سے انکے بیان اور انکے ترج عمل پر لوگ سوال پر سوال اٹھا رہے تھے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کے اسٹیج پر انکی غیر موجودگی اور روڈ شو میںبرابر نہ شامل ہونا تنازعہ اشو بنا ہوا تھا۔بہار کے اپوزیشن لیڈر تجسوی یادو نتیش کمار لاچار وزیر اعلی کہتے تھے لیکن یہ سب کے باوجود بہار کے عوام کہ رہے تھے نتیش کمار کی پارٹی اس مرتبہ اچھی پرفارمینس پیش کرے گی۔جے ڈی یو نے غیر متوقع جیت درج کی پارٹی دفتر سے لےکر وزیر اعلی ہاؤس تک پوسٹر لگے۔ٹائگر ابھی زندہ ہے جے ڈی یو کے نگراں صدر سنجے جھا پہلے سے ہی اپنے انٹرویو میں کہہ چوکے تھے نتیش کمار کو جب جب ہلکے میں لیا جاتا ہے تو وہ اپنی پرفارمینس میں لوگوں کو چوکاتے ہیں۔ اس بار بہار میں 67.3فیصد پولنگ ہوئی جو پچھے چناؤ سے 9.6فیصد زیادہ ہے۔مردوں کے مقابلے میں عورتوں کا پولنگ 8.15فیصد زیادہ رہا۔عام طور پر یہ مانا گیا تھا نتیش کمار کو اس مرتبہ عورتوں کی بھاری حمایت مل رہی ہے اور یہ چناؤ نتائج میں بھی نظر آیا۔ ممکن ہے کہ ایم جے بی کو بھی اسکا احساس تھا۔اس لئے پہلے مرحلے کی پولنگ سے مہج 15دن پہلے تجسوی یادو نے جیویکا دیدیوں کیلئے پکی نوکری تیس ہزار تنخواہ ،قرض معافی دو سال تک سودھ نجات کریڈت ،دو ہزار کا مزید بھتہ ،پانچ لاکھ تک کا بیمہ کرنے جیسے لمبے چوڑے وعدہ کئے اسکے باوجود نتیجہ انکے حق میں نہیں آئے مہا گٹھ بندھن نے چناؤ سے ایک ماہ پہلے نتیش کمار سرکار کی طرف سے جیویکا دیدیوں کے خاتے میں دس دس ہزار روپے کیش بنے پھر فائدہ این ڈی اے کو ہوا۔ایسا نہیں کہ اپنی طویل معاد میں نتیش نے فلاحی اسکیمیں نہیں چلائی ۔سال 2007میں ہی نتیش نے اس اسکیم کی شروعات کر دی تھی انہوں نے پہلے عہد میں ہی اسکول جانے والی لڑکیوں کے لئے سائکل ،اسکول وردی وار میٹرک امتحان میں فرسٹ ڈیویزن پاس کرنےوالی طالبہ کو دس ہزار روپے دئے اور بارویں میں فرسٹ کلاس پاس ہونے پر 25ہزار روپے اور گریجویشن میں50ہزار روپے کی حوصلہ افجا رقم دی جانے لگی۔اپنے پہلے عہد میں نتیش کمار نے عورتوں کو پنچایت چناؤ میں 50 فیصد ریزرویشن دیا۔پولس بھرتی میں 35 فیصد ریزرویشن کی سہولت دی اور وعدہ کیا تھا کہ اگر انکی سرکار بنی تو ریاست کی سرکاری نوکریوں میں بھی عورتوں کو 35 فیصد ریزرویشن دیا جائے گا۔اس مرتبہ نتیش کمار کو انتہائی پسماندہ طبقے کی حمایت ملی اہم برادریوں کے خلاف او بی سی برادریاں متحد نظر آئیں انہو ںنے این ڈی اے کو ووٹ دیا جس برادری سے نتیش کمار آتے ہیں وہ بہار کے آبادی کا صرف 2.91فیصد اسکے باوجود انتے بڑے اتحاد کے نیتا بنے۔عام طور پر مانا جا رہا ہے کہ تیجسوی کےلئے اب بھی پتا لالو پرساد یادو کی جنگل راج والی امیج سے نکل پانہ مشکل ہو گیا تھااور چناؤ میں یہ ایک اشو ضرور بنا دوسری طرف نتیش کمار کی اچھی سوشاسن بابو کی اپنی شاخ کو بنائے ہوئے رکھے ہیں۔20 سال اقتدار میں رہنے کے باوجود انکی صاف ستھری امیج ہے ان پر اب تک کرپشن کا الزام نہیں لگا ہےاور یہ انکے مخالفین بھی کہتے ہیں کہ نتیش کمار کی قیادت میں ڈبل انجن کی سرکار ہوتے ہوئے بھی بہار دیش کا سب سے غریب ریاست ہے اور وہاں سے ہجرت بھی ایک بہت بڑی حقیقت ہے نتیش نے ان اشوز کو سنجیدگی سے نہیں لیا اور ان پر کام کرنا اب این ڈی اے سرکار کےلئے ایک بڑی چنوتی ہے۔تجزیہ نگاروں کا خیال ہے نتیش کمار کو حمدردی ووٹ بھی ملے ہیں اور ےہ الیکشن نتیش کمار کو بدائی دےنے کا چناؤ تھا بہار کے ووٹروں نے ووٹ کے ذریعہ اچھی جیت دلائی لوگوں میں ایک پیغام تھا کہ یہ شائد نتیش کمار کا آخری چناؤ ہے۔
انل نریندر

15 نومبر 2025

یہ ڈاکٹرس آف ڈیتھ !

راجدھانی کے اسکولوں اور اسپتالوں کے آتنکی خطرے سے متعلق کئی سرکاری عمارتوں کو بم سے اڑانے کی دھمکی بھرے ای میل 30 اپریل 2024 سے مسلسل آرہے ہیں ۔اس وجہ سے ڈیڑھ سال سے دہلی این سی آر میں دہشت کا ماحول بناہوا ہے ۔لیکن مرکزی جانچ ایجنسیوں سے لے کر خفیہ ایجنسیاں اس کی تہہ تک نہیں پہنچ پائیں ۔اچانک پیر کو 10 نومبر کی شام لال قلعہ میٹرو اسٹیشن کے گیٹ نمبر 1 کے پاس زوردار دھماکہ نے دیش کو ہلا کر رکھ دیا ۔یہ 14 سال بعد راجدھانی میں ہوا بڑا بم دھماکہ تھا ۔یہ ہماری خفیہ ایجنسیوں کی زبردست ناکامی تھی ۔چونکانے والی بات یہ ہے کہ یہ دھماکہ پیر کو فرید آباد کے پاس ایک کشمیری ڈاکٹر کے کرائے کے مکان سے 360 کلو گرام امونیم نائیٹریٹ اور اے کے 47ر ائفل سمیت ہتھیار برآمد ہونے کے کچھ گھنٹوں بعد ہوا ۔دراصل دیش بھر میں 15 دن تک چلی کاروائی کے ذریعے جموں وکشمیر پولیس نے جیش محمد اور انصار غزوة الہند سے وابستہ ایک آتنکی سازش کا پردہ فاش کیا جس میں کئی آتنکی سازش جس میں ڈاکٹر سمیت 8 مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا ۔ان سے 2900 کلو دھماکو سامان ضبط کیا گیا ۔اس کے تار کشمیر ،ہریانہ ،اتر پردیش تک جڑے ہوئے ہیں ۔اس سے صاف ہوتا ہے کہ دیش بھر میں کئی آتنکی سرگرم ہیں جو دہشت پھیلانے میں لگے ہوئے ہیں ۔دہلی میں پیر کی شام جو دھماکہ ہوا اس میں 12 لوگوں کی جان جا چکی ہے اور درجنوں زخمی ہوئے تھے ۔دھماکہ کو انجام دینے والا جہادی ذہنیت کا ایک ڈاکٹر ہے جموں وکشمیر پولیس نے ہریانہ پولیس کے ساتھ مل کر فرید آباد کے فتح پر تانگا گاو¿ں میں داکٹر مزمل شکیل کے ذریعے کرائے پر لئے گئے دو گھروں پر چھاپہ ماری کے دوران 2900 کلو گرام آئی ای ڈی بنانے کا سامان بھی ضبط کیا تھا۔باوجود اس کے شام کو ہی لال قلعہ میں بلاسٹ ہو گیا ۔ایسے میں سوال اٹھ رہے ہیں کہ ٹیرر ماڈیولس کو ڈاکٹر س آف ڈیتھ کہا اس معاملے کی کہانی پہلے ہی لکھ چکے تھے یا پھر اپنے ساتھیوں کی گرفتاری کے بعد بدلہ لینے کے لئے اس بلاسٹ کی پلاننگ کی گئی کیوں کہ کار میں سوار پلوامہ کا ڈاکٹر عمر محمد بھی اسی سازش کا حصہ بتایاجارہا ہے ۔حالانکہ معاملے پر ابھی کھل کر کچھ نہیں بول رہا ہے ۔اب سرکار نے بھی یہ مانا ہے کہ یہ ایک آتنکی حملہ تھا جس کے تار جیش محمد سے جڑتے ہیں۔جتنی مقدار میں دھماکو سامان برآمد ہوا ہے اس سے صاف تھا اس کی سازش کچھ بڑا کرنے کی تھی جس طرح عمر نے کار کو لال قلعہ کی پارکنگ میں گھنٹوں کھڑا رکھا اور پھر لال قلعہ کے جین مندر کے پاس بلاسٹ ہو گیا ایسے میں وہاں کی سیکورٹی انتظام پر بھی سوال کھڑے ہورہے ہیں۔کیوں کہ اتنی سرکشا ہی فرید آباد میں دھماکہ ہوا تھا ۔باوجود اس کے بعد لال قلعہ پر سیکورٹی انتظام کا یہ حال تھا ۔کہ باہر گاڑیاں کھڑی تھیں اور آتنک کا چہرہ اب اور زیادہ پراسرار اور خوفناک ہوتاجارہا ہے ۔سب سے بڑی تشویش کی بات یہ ہے کہ سادگی کا نقاب اوڑھے یہ چہرے آپ کے آس پاس ہی سرگرم ہیں کہ تھوڑی سی لاپرواہی ہوئی تو یہ جرائم پیشہ بھی اپنا شکار بنانے میں دیر نہیں کریں گے ۔فرید آباد میں دھماکو سامان کی برآمدگی اور دہلی میں لال قلعہ کے پاس ہوئے دھماکہ سے ثابت ہو گیا ہے کہ دیش آتنکی کی نئی پودکٹر پنتھی نظریہ کی اکڑ میں ڈوبی ہے۔ڈاکٹروں سے پوچھ تاچھ آتنکی نیٹورک میں دیش کے کئی حصوں میں قہر برپانے کی خوفناک سازش رچی تھی ۔سہارنپور کے مشہور ہسپتال میں تعینات ڈاکٹر عادل کی ایک ماہ کی چٹھی پر تھا اور اس دوران پوسٹر لگانے میں چوک ہی دیش کی سیکورٹی ایجنسیوں کے لئے اہم کڑی بنی۔دراصل جموں وکشمیر کے آننت ناگ میں جیش محمد کے حمایت میں دھمکی بھرے پوسٹر لگاتے وقت ڈاکٹر عدیل ،مولانا عرفان کے ساتھ سی سی ٹی وی میں قید ہو گیا تھا ۔اسی فوٹیج کی بنیاد پر سری نگر پولیس نے پہلے مولانا کو حراست میں لیا اور پھر ڈاکٹر عادل تک پہنچی ۔دہلی این سی آر اور سہارنپور میں سرگرم دہشت گردوں کے ڈاکٹر گروہ کے خطرناک منصوبوں کا انکشاف حیران کرنے والا ہے ۔ظاہر ہے کہ اس حادثہ کا اثر دہلی تک محدود نہیں ہے بلکہ پورے دیش کے اتحاد اور امن کے لئے خطرہ ہے ۔قصورواروں کو سزا یقینی کرنے کی سمت میں جانچ ایجنسیاں سرکار تو اپنا کام کررہی ہیں لیکن لوگوں کو بھی چوکس رہنا ہوگا اور کسی بھی مشتبہ سرگرمی کی فوراً اطلاع دینے کے لئے الرٹ رہنا ہوگا ۔ (انل نریندر)

13 نومبر 2025

عاصم منیر کو تاناشاہ بنانے کی راہ پر !


پاکستان کی تاریخ میں فوجی حکمرانی سے بھری ہوئی ہے ۔یہاں چنی ہوئی حکومت تھوڑا وقت کے لئے چلتی ہے اور پھر کوئی نہ کوئی جنرل حکومت کا تختہ پلٹ دیتا ہے ۔تازہ مثال پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ہی لے لو پاکستان میں شہباز شریف کی سرکار بھارت کے آپریشن سندھور سے سبق لیتے ہوئے آئین میں ترمیم کی تیاری میں ہے ۔جس میں فوج کےچیف عاصم منیر کو سی ڈی ایف بنانے کا پلان ہے ۔اس سے ان کے اختیارات آئینی سے بڑھ جائیں گے ۔پاکستان کی شہباز شریف نے لگتا ہے کہ ایک بار پھر اپنے چیف مارشل عاصم منیر کو اقتدار کی چوٹی پر پہنچانے کا فیصلہ کیا ہے ۔8 نومبر کو پارلیمنٹ میں پیش 27 آئینی ترمیم بل کے ذریعے سیکورٹی فورسز کے چیف آف اسٹاف ڈیفنس نامی ایک نیا طاقتور عہدہ نکالا ہے ۔سیدھے منیر کے لئے یہ قدم اٹھایا گیا ہے ۔لگتا ہے یہ ترقی مئی 2025 میں بھارت کے ساتھ ہوئی چار روزہ لڑائی کے بعد ملے فیلڈ مارشل کے اعزاز کے ٹھیک چھ ماہ بعد آرہا ہے ۔لیکن سوال اٹھتا ہے دہشت گردی کے مبینہ سرپرست منیر کو یہ دہری مہربانی آخر کیوں ؟ کیا مئی کی لڑائی ہی وہ کارنامہ ہے ۔یاپھر پاکستان کے اندرونی عدم استحکام کی صورتحال اور فوجی تاناشاہی کو مضبوط کرنے کی سازش ؟ بین الاقوامی سطح پر منیر کو اثامہ باللادین ان سوٹ کہا جاتا ہے اور اب یہ ترقی کے دہرے چہرے ایک طرف دہشت گردی اسپانسر اور دوسری طرف علاقائی عدم استحکام کی اصلیت اجاگر کررہی ہے ۔آئینی ترمیم منیر کو کمان کوآئینی پٹری ، لیکن جمہوریت پر قانون منتری اعظم نظیر تارڑن نے کابینہ کی منظوری کے بعد سینٹ میں پیش کئے گئے اس بل میں آئین کی سیکشن 243میں وسیع تبدیلی کی تجویز ہے ۔جو مسلح افوا ج کی کمان کے ڈھانچے کو پوری طرح نئے سرے سے تشکیل نو کرنے کی ۔یہ 27 ویں آئینی ترمیم بل پاکستان کے آئین میں ایک بڑی تبدیلی لانے والا مجوزہ بھی شامل ہے ۔جس کے تحت سیکورٹی فورسز کے چیف کا عہدہ باقاعدہ طور سے فوج کے سربراہان کو سونپا جائے گا ۔انہیں تاحیات فیلڈ مارشل کا عہدہ دیا جائے گا ۔اگر یہ بل پاس ہوا تو فوج کے چیف عاصم منیر تاحیات فیلڈ مارشل کے عہدے پر بنے رہیں گے ۔حالانکہ اس کا اپوزیشن پرزور مخالفت کررہی ہے ۔پاکستان سرکارکا دعویٰ ہے یہ تبدیلی دیش کی دفاعی ضروریات اور فوجی کمان کو جدید بنانے کے لئے کیاجارہا ہے ۔پاکستان نے سی ڈی ایف کا جو مسودہ پیش کیا ہے وہ بھارت کے چیف آف ڈیفنس اسٹاف آرمی (سی ڈی ایس) کے خاکے کی چوری کی ہے ۔مجلس وحدت مسلمین پارٹی کے چیف علامہ رضا ناصر عباس نے کہا ہے کہ پاکستان نے جمہوری ادارے پنگو ہو چکے ہیں ۔قوم کو مجوزہ 27 ویں آئینی ترمیم کے خلاف قدم اٹھانا چاہیے ۔
(انل نریندر)

11 نومبر 2025

بہار یونہی نہیں جمہوریت کا جنم داتہ !

پولنگ کے پہلے مرحلے میں جمعرات کو ہوئی بمپر پولنگ نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ بہار یونہی نہیں جمہوریت کا جنم داتہ ۔64.46 فیصد پولنگ بتارہی ہے کہ یہاں کے جمہوری اصولوں کی کتنی اہمیت ہے ۔اگر کئی پولنگ مراکز پر لائٹ نہ جاتی اور کئی مقامات پر ای وی ایم خرابی کی شکایتیں نہیں آتیں تو یہ فیصد دو تین فیصد اور بڑھ جاتا ۔پولنگ میں جنتا کی ساجھیداری زیادہ ہونے کا مطلب صاف ہے کہ بھارت میں ابھی بھی جمہوریت زندہ ہے ۔اس کا ایک مطلب یہ بھی نکلتا ہے کہ عوام سیاست سے مایوس نہیں ہے۔جمہوریت میں ایسا ہی ہونا چاہیے ۔سال 2025 کے بہار اسمبلی چناو¿ کے پہلے مرحلے کی 121 سیٹوں پر جمعرات کو پہلی بار کے مقابلے 31 لاکھ 81 ہزار 885 زیادہ ووٹ پڑے ۔بہار کے چیف الیکشن آفیسر (سی ای او) ونود سنگھ گنیال نے بتایا کہ ووٹر بیدار ، ووٹر لسٹ کی صفائی اور خواتین ،نوجوان اور بزرگ ووٹروں کے جوش کی وجہ سے ووٹ فیصد بڑھانے میں معاون بنا۔انہوں نے امید جتائی کہ دوسرے مرحلے کی پولنگ میں بھی ووٹروں کا جوش بڑھ چڑھ کر ووٹ کرے گا ۔سی ای سی نے کہا کہ بہار میں دیش کو راہ دکھائی ہے پہلے مرحلے میں مہا گٹھ بندھن کے سی ایم عہدے کے امیدوار تیجسوی یادو اور ڈپٹی وزیراعلیٰ وجے کمار سنہا ، سمراٹ چودھری سمیت کئی بڑے لیڈروں کی قسمت داو¿ پر لگی ہے ۔اس مرحلے میں بہار میں دو دہائیوں سے بر سر اقتدار نتیش کمار یا ان کی جگہ کوئی اور اس دور کے چناو¿ میں ایک بڑی بحث کا اشو رہا ۔حالیہ چناو¿ میں یہ سوال اتنی مضبوطی کے ساتھ کبھی نہیں پوچھا گیا ۔جنتاجو بھی فیصلے لے گی وہ ریاست کی سماجی ،سیاسی سمت طے کرے گی۔سب سے مثبت بات یہ رہی کہ بہار کی عوام نے اس بات کو سمجھا اور 2020 کے مقابلے میں تقریباً 14 فیصد زیادہ ووٹ دیا ۔بہار کے 18 اضلاع میں پھیلی 121 سیٹوں کے لئے ریکارڈ پولنگ پر دونوں اتحادی لیڈر ورکروں کے ذریعے تجزیہ کرنے میں لگے ہیں ۔دونوں ہی طرف سے حالانکہ جیت کے دعوے پہلے ہی کر دیے گئے ہیں ۔این ڈی اے نیتا بمپر ووٹنگ کو خواتین ووٹروں کے معجزے کی شکل میں دیکھ رہے ہیں تو مہا گٹھ بندھن اپنے لئے بہتر مان رہا ہے ۔پولنگ مراکز پر خواتین ووٹروں کی لمبی قطاریں نظر آنے کے بعد این ڈی اے میں کہا جارہا ہے یہ سی ایم نتیش کمار کے ذریعے خواتین روزگار یوجنا کے ذریعے ایک کروڑ چالیس لاکھ عورتوں کو دیے گئے 10-10 ہزار روپے کے بعد پیدا بھروسہ کے لئے وہ اٹھ رہے ہیں ۔سی ایم کی یہ اسکیم آگے بھی جاری رہنی ہے ۔اور اس کے علاوہ پی ایم مودی کی مرکزی حکومت کے ذریعے کئے جارہے کاموں پر بھی بھروسہ کا ووٹ ہے ۔لیکن آر جے ڈی سے تیجسوی یادو کے ذریعے سرکار بنتے ہی آنے والی مکر سکرانتی پر 14 جنوری کو 30 ہزار روپے (ہر ماہ ) دو ہزار روپے کی اسکیم دینے کے وعدے کے لئے کیا گیا ووٹ ہے ۔کانگریس کو بھروسہ ہے نوجوان طبقہ نے ووٹ چوری کے اشو کو لے کر حکمراں اتحاد کے خلاف ووٹ دیا ہے ۔اس بار چناو¿ میں ایس آئی آر اور ووٹ چوری بھی اشو رہے ۔نوجوان طبقہ میں بے روزگاری سب سے بڑا اشو تھا اور لگتا بھی ہے کہ اس بار 18-25 برس (زین جی ) کے نوجوانوں نے بھی بڑھ چڑھ کر ووٹ دیا ہے ۔یاد رہے کہ ووٹنگ کے ایک دن پہلے ہی راہل گاندھی نے چناو¿ کمیشن پر نئے الزام لگائے پھر ایس آئی آر کے سبب پہلے مقابلے 47 لاکھ ووٹ کم تھے ۔اس کے باوجود جنتا نے پولنگ بوتھوں پر پہنچ کر اپنی رائے زور شور سے جتائی ۔چناوی دھاندلیوں کے الزام بھی لگ رہے ہیں۔کہیں تو اسٹارنگ روم میں غیر مجاز لوگوں کی اینٹری بتائی جارہی ہے کہیں وی وی پیٹ کی پرچیاں سڑکوں پر پھینکی جار ہی ہیں تو کہیں پر ووٹنگ مشین خراب ہونے بجلی کاٹنے کے الزام لگ رہے ہیں ۔نیتاو¿ں کو بھگایا جارہا ہے۔تو گوبر تک پھینکا گیا ۔این ڈی اے سرکار کو ہر مورچہ پر ناکام بتاتے ہوئے لالو پرساد یادو کی رائے زنی زور دار رہی ۔اپنے ایکس ہینڈل پر لالو نے لکھا توے پر روٹی پلٹتی رہنی چاہیے نہیں تو جل جائے گی۔ (انل نریندر)

08 نومبر 2025

ممدانی کی تاریخی جیت !

امریکہ میں اس سال یعنی 2025 میں دو ایسے اہم چناو¿ ہوئے ہیں جس کا اثرپوری دنیا پر پڑا ہے اور پڑے گا ۔پہلا 20 جنوری کو ہوا جب ڈونلڈ ٹرمپ امریکہ کے پھر صدر بنے اس کا پوری دنیا پر اثر پڑارہا ۔دوسرا چناو¿ 4 نومبر کو ہوا جب ظہران ممدانی نیویارک سٹی کے میئر کا چناو¿ جیتے ۔یہ کوئی معمولی چناو¿ نہیں تھا کئی معنوں میں یہ تاریخی چناو¿ تھا ۔پہلی بار 1892 کے بعد سے نیویار ک کے سب سے نوجوان میئر ظہران ممدانی کی جیت رہی ہے وہ نیویارک سٹی کے پہلے مسلم میئر بھی ہوں گے ۔انہوں نے پچھلے سال ہی سیاست میں قدم رکھا تھا اس وقت ان کے پاس نہ تو کوئی بڑی پہچان تھی اور نہ ہی بہت سارے پیسے اور نہ ہی پارٹی کی حمایت تھی ۔یہی وجہ ہے کہ ان کی اینڈریو کوسومو اور رپبلکن امیدوار کیٹرس سلپا پر ملی جیت نے صرف غیر معمولی تھی۔لیکن کئی معنوں میں تاریخی بھی ہے ۔ممدانی نوجوان اور کرشمائی ہیں ۔فری مائلڈ کیئر پبلک ٹرانسپورٹ کے پھیلاو¿ اور فری مارکیٹ سسٹم نے سرکاری دخل جیسے لیفٹ اشوز کی حمایت کی۔ نیویار ک شہر میں تقریباً 48 فیصدی عیسائی 11 فیصدی یہودی ہیں ۔یہاں مسلم 9 فیصدی ہیں۔جو امریکہ میں سب سے بڑی مسلم آبادی ہے ۔کہا جاتا ہے 9/11 کے بعد کے اسلامی فوبیا کی وراثت سے یہ شہر اب تک نکل نہیں سکا ۔یہاں آج تک کوئی مسلم میئر رہا بھی نہیں۔اس کے باوجود اگر ممدانی کو جیت ملی ہے تو یہ صرف ان کی شخصی جیت نہیں بلکہ ان کی فلاحی مہم کی جیت زیادہ لگتی ہے ۔34 سال کے جس نوجوان کو کم تجربہ کی وجہ سے پہلے چناوی لڑائی میں کمزور ماناجارہا تھا بعد میں وہی سنورنے اور اہم سیکٹر ثابت ہوا ان کی خاصیت رہی جنتا سے وابستگی انہوں نے اشتہاروں پر خرچ کرنے کے بجائے سیدھے لوگوں سے مل کر بات چیت کی۔ عام شہروں کے مسائل کو سمجھا اور کئی ایسے وعدے کئے جو نیویارک کے باشندوں کو سمجھ میں آگئے۔ممدانی نے اپنے چناوی مہم کے دوران مین ہیٹن اور نیویارک سٹی میں آباد بڑے کارپوریٹ اور کاروباریوں کی سخت نکتہ چینی کی تھی اس لئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایلن مسک اور تمام صنعتکاروں نے ممدانی کی جم کر مخالفت بھی کی۔ٹرمپ نے تو دھمکی بھی دے ڈالی کہ اگر ممدانی جیتے تو وہ ان کی فنڈنگ بند کر دیں گے ۔ان پر مسلم ہونے پر بھی نکتہ چینی کی گئی لیکن ممدانی نے کھل کر چیلنج کو قبول کیا کہ وہ ایک مسلمان ہیں اس پر انہیں فخر ہے اس لئے تمام اسلامی دنیا میں ان کی جیت کو ایک نئے دور کے آغاز سے تشبیہ دی جارہی ہے۔وہ نہ صرف ٹرمپ کے لئے درد سر بن سکتے ہیں بلکہ نیتن یاہو کو تو اگر وہ نیویارک آئے تو انہیں گرفتار کرنے کی بھی دھمکی دے چکے ہیں ۔وہ ہمارے پردھان منتری کی بھی نکتہ چینی کی کرچکے ہیں اور 2002 میں ہوئے گجرات دنگوں کو یاد کرتے رہتے ہیں ۔حالانکہ جیتنے کے بعد اپنی پہلی تقریر میں ممدانی نے بھارت کے پہلے وزیراعظم پنڈت جواہر لال نہرو کو یاد کیا ۔اپنی وکٹری تقریر میں ممدانی نے پنڈت نہرو کو یادکرتے ہوئے کہا میں جواہر لال نہرو کے الفاظ کے بارے میں سوچتا ہوں اور تاریٰخ میں ایسا لمحہ بہت کم آتا ہے جب ہم پرانے سے نئی جانب قدم بڑھاتے ہیں ۔جب ایک دور کا خاتمہ ہوتا ہے اور ایک ملک کی روح کو اظہا ررائے کی آزادی ملتی ہے آج رات ہم پرانے سے نئے دور کی جانب قدم بڑھا رہے ہیں ۔ (انل نریندر)

06 نومبر 2025

باہوبل، بدلہ ، سیاسی سنگرام کی علامت مکوما!

بہار اسمبلی چناو¿ میں موکاما اسمبلی سیٹ سرخیوں میں ہے ۔30 اکتوبر کو جن سوراج پارٹی کی حمایتی باہوبلی دلار چند یادو کا سر عام قتل نے سیاسی پارا بڑھا دیا ہے ۔یہ سیٹ صرف دو باہوبلی خاندانوں کی سیاسی وراثت کی علامت بن چکی ہے ۔بلکہ بہار کی سیاست میں باہوبلی و اقتدار کے گٹھ جوڑ کی سب سے بڑی مثال بن چکی ہے ۔پچھلے ہفتے جمعرات دلار چندیادو کا قتل ہو گیا۔دلارچند کے قتل کا الزام باہوبلی آننت سنگھ پر لگا ہے ۔آننت سنگھ کو سیاسی دباو¿ کے سبب گرفتار کر لیا گیا ۔سنیچر کی دیر رات پٹنہ پولیس نے بڈ شہر کے بیٹھنہ گاو¿ں سے آننت سنگھ کو انہیں کی کارگل مارکیٹ سے گرفتار کرلیا تھا ۔آننت سنگھ اسی کارگل مارکیٹ کی عمارت میں ہی رہتے ہیں ۔جب ان کی گرفتاری ہوئی تھی ان کے ایک حمایتی سندیپ کمار نے بتایا کہ رات ساڑھے بارہ بجے پٹنہ پولیس آئی تھی اور ودھائک جی کو اپنے ساتھ لے گئی ۔آننت سنگھ موکاما میں ہر برادری کے ہیرو ہیں ۔سورج مان سنگھ چاہے جتنی کوشش کر لیں اس سے کچھ بھی حاصل نہیں ہوگا۔وینہ سنگھ علاقہ کے دبنگ لیڈر سورج بھان سنگھ کی بیوی ہیں اور انہیں ہی راشٹریہ جنتا دل نے موکاما سیٹ سے امیدوار بنایا ۔موکاما سے آننت سنگھ کی بیوی نیلم دیوی ممبر اسمبلی ہیں ۔لیکن اس بار خود آننت سنگھ چناو¿ میدان میں ہیں ۔بتا دیں موکاما بھومیاروں کے دبدبے والا علاقہ ہے ۔سورج بھان اور آننت دونوں اسی برادری سے تعلق رکھتے ہیں ۔جن سوراج سے پیوش پریہ درشی میدان میں ہیں ۔جو کنک برادری سے ہیں ۔ایسے میں لڑائی صرف بھومیاروں کے ووٹ کو اپنے حق میں کرنے کی نہیں ہے ۔بلکہ غیر یادو او بی سی اور دلت ووٹوں کو حاصل کرنے کی بھی ہے ۔دلار چند کے قتل کے پریہ درشی پیوش پریہ درشی کے مطابق کھوسری زون کے تارا پور گاو¿ں میںآننت سنگھ آئے تھے ۔اسی گاو¿ں میں ان کاقافلہ نکلا۔پیوش پریہ درشی نے بتایا کہ باسوا نائک گاو¿ں کے میرا قافلہ جارہا تھا میرے ساتھ دلارچند یادو بھی تھے یہ موکاما اسمبلی حلقہ والا علاقہ ہے ۔دونوں کا قافلہ تارپور اور واسو نائک گاو¿ں کے بیچ میں ٹکرایا ۔آننت سنگھ کی گرفتاری کے بعد پٹنہ میں اے ایس پی کیرتی کرم شرما نے سنیچر کو پریس کانفرنس میں بتایا دلار چند کا جہاں قتل ہوا وہاں آننت سنگھ موجود تھے ۔اور وہ معاملہ میں مین ملزم ہیں ۔اتوار کو آننت سنگھ کو گرفتار کر پٹنہ کی سی جے ایم عدالت میں پیش کیا گیا ۔اور عدالت نے آننت سنگھ و ان کے دو دیگر ساتھیوں کو 14 دن کی جوڈیشیل ریمانڈ میں بھیج دیا ۔بعد میں ان تینوں کو بیعور جیل بھیجا گیا ۔موکاما کے جے ڈی یو امیدوار آننت سنگھ کے ساتھ ہی مینا کانت ٹھاکر اور رجنیت کمار کو دیر رات گرفتار کیا گیا ۔دلار چند کا گاو¿ں ہے وہ باہوبلیوں کے بیچ پیوش کا چناو¿ لڑنا بتاتا ہے کہ وہ کسی سے ڈرتے نہیں ۔بھومیاروں کے بعد دیگر فرقوں کی تعداد اچھی خاصی ہے ۔کانک کے لوگ ان کے ساتھ ہیں ۔دلار چند کے پوتے نیرج یادو نے الزام لگایا ہے کہ آننت سنگھ کے ساتھ رنجیت رائے اور مینا کانت ٹھاکر کی گرفتاری معاملے میں نیا برادری واد رنگ دینے کے لئے کی گئی ہے ۔یہ اس کو سمجھانے کے لئے کیا گیا ہے کہ اس میں دلت بھی شامل ہیں آننت سنگھ کے ساتھ جن دو لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے وہ نادوا گاو¿ں کے ہیں ۔نوادہ آننت سنگھ کا آبائی گاو¿ں ہے ۔گیتا نے بی بی سی کو بتایا کہ انہیں اتوار کی صبح پتہ چلا ہے کہ ان کے شوہر کر گرفتار کر لیا گیا ہے ۔گیتا کہتی ہیں کہ میرے پتی آننت سنگھ کے لئے کھانا بنا تے تھے ان کا یہی گنا ہ ہے۔آننت سنگھ کو جیل میں کوئی سیوا کرنے کے لئے چاہیے اس لئے دونوں کو پولیس ساتھ لے گئی ۔اٹھاون سالہ آننت سنگھ اور ان کے پریوار کا موکاما اسمبلی میں آئے جب ان پر کئی سنگین الزام لگے تھے ان کے خلاف قتل،جرائم کے درجنوں معاملے ہیں جن میں اے کے 47- کی برآمدگی بھی شامل ہے ۔سورج بھان سنگھ نے سال 2000 سے موکاما کے آننت سنگھ کے بھائی کوہرا کر اپنی سیاسی پاری شروع کی تھی ۔سورج بھان سنگھ بھی رنگداری کے معاملے میں گھر رہے ہیں ۔دلارچند یادو نے 1990 میں اسمبلی چناو¿ لڑا تھا لیکن معمولی فرق سے آننت سنگھ کے بھائی دلیپ سنگھ ہار گئے تھے ۔1991سے 2010 کے درمیان ان پر قتل ،اغوا، رنگداری سے جڑے معاملے درج ہوئے تھے ۔1990 سے اب تک موکاما سیٹ کی تاریخ دبنگ اثر اور بدلے کی سیاست سے بھری ہوئی ہے ۔اس لئے ان دبنگیوں کو گینگس آف موکاما کہا جاتا ہے۔ (انل نریندر)

04 نومبر 2025

وزیراعظم کا گٹھ بندھن پر تلخ حملہ!

وزیراعظم نریندر مودی نے بہار کے لئے جاری این ڈی اے کے سنکلپ پتر کی تعریف کرتے ہوئے شوشل میڈیا پر لکھا کہ این ڈی اے کا سنکلپ پتر آتم نربھراور وکست بہار کے ہمارے ویژن صاف طور سے سامنے لاتا ہے ۔اس میں کسانوں بھائی بہنوں ،نوجوانوں اور ماتاو¿ں کے ساتھ ریاست کے میرے سبھی پریوار جنوں کی زندگی کو اور آسان بنانے کے لئے ہمارا عزم دکھائی دے گا ۔پی ایم نے کہا ، بہار کے چوطرفہ وکاس کے لئے ریاست کی ڈبل انجن سرکار نے کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے ۔ریاست بڑی تبدیلیوں کا گواہ بنا ہے ۔اس میں اور تیزی لاکر گڈ گورننس کو جن جن کی خوشحالی کی بنیاد بنانے کے لئے عہد بند ہیں امید ہے کہ ان کوششوں کو عوام کی حمایت ملے گی ۔وہیں وزیراعظم نریندر مودی نے گزشتہ جمعرات کو مظفرپور ضلع کے موتیہاری چینی مل میدان اور چھپرہ ہوائی اڈے کے میدان میں ریلیوں سے خطاب کیا ۔وزیراعظم نریندر مودی نے الزام لگایا کہ کانگریس ،آر جے ڈی اتحاد پانچ کے کٹہ،کرورتا ،کٹھوتا ،کشاشن اور کرپشن کی علامت ہے ۔انہوں نے کہا یہ پانچ کے “ آر جے ڈی کے جنگل راج کی پہچان ہے ۔آر جے ڈی ،کانگریس کا چناو¿ منشور حقیقت میں ایک رینٹ چارٹ ہے ان کے وعدے رنگداری ، پھروتی ،کرپشن ،لوٹ کے ہیں ۔انہوں نے تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ این ڈی اے کی ریلیوں میں کس طرح کے گانے بجائے جارہے ہیں ۔ان میں کٹہ ،پھوٹا ،دونالی اور بہن بیٹیوں کے اغوا کی بات ہے ۔مودی نے مظفر پور اور چھپرہ میں اپنی ریلیوں میں دعویٰ کیا کہ ریاست میں آر جے ڈی کے اقتدار کے دوران پینتیش سے چالیس ہزار اغوا کی وارداتیں ہوئیں اور غنڈے گاڑی شوروم لوٹتے تھے ۔ان کا اشارہ سابق وزیراعلیٰ راوڑی دیوی کی سب سے بڑی بیٹی میسا بھارتی کی شادی کی جانب تھا ۔میسا حال ہی میں پاٹلی پتر سے ایم پی ہیں ۔مودی نے کہا دوسری طرف این ڈی اے کلچرل وراثت کو محفوظ کرنے اور عزت دینے و بہار سمیت دیگر ریاستوں کا سنہرہ وکاس یقینی کرنے کا حامی ہے ۔وزیراعظم نے کہا کہ سبھی سروے بتا رہے ہیں کہ آر جے ڈی کانگریس کو سب سے اب تک کی سب سے کم سیٹیں ملیں گی۔این ڈی اے کو سب سے بڑی جیت ملے گی ۔مودی نے کہا این ڈی اے سرکار چھٹھ پوجا کو یونیسکو کی ورلڈ وراثت فہرست میں شامل کروانے کے لئے کوشش کرے گی ۔دوسری طرف آر جے ڈی کی بھکتی ،شمتا ،ممتا ،سمرتا کے مہا پروو کو ڈرامہ ،نوٹنکی بتا رہے ہیں ۔انہوں نے لوگوں سے پوچھا کہ آپ نے کبھی آر جے ڈی اور کانگریس والوں کو رام مندر جاتے دیکھا کیا؟ انہیں ڈر ہے کہ ایودھیا میں پربھو شری رام کے درشن کر لیں گے تو ان کے ووٹ بینک ناراض ہو جائیں گے ۔اور خوشامدی کا حساب کتاب بگڑ جائے گا۔ آپ کی آستھا پر جو لوگ احترام نہیں کر سکتے وہ کبھی بھی یہاں آستھا کے استھلوں کا وکاس نہیں کر سکتے ۔پی ایم نے کہا کہ این ڈی اے کا عزم ہے کہ بہار میں پڑھائی ،کمائی ،دوائی اور سینچائی کے بھرپور مواقع بنیں ۔یہاں کے بیٹا بیٹی اب ہجرت نہیں کریں گے ۔بلکہ یہیں کام کر بہار کا نام روشن کریں گے ۔پی ایم نے جی ایس ٹی چھوٹ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس سے بہار کے نوجوانوں نے اس سال ستمبر اکتوبر میں ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ موٹر سائیکلیں خریدیں۔جنگل راج میں نئی گاڑی خریدتے ہی آر جے ڈی کے غنڈے پیچھے لگ جاتے تھے۔ (انل نریندر)

01 نومبر 2025

اور اب بہار چناﺅمیں راہل کی انٹری

بہار اسمبلی چناﺅ کی مہم اب آہستہ آہستہ اپنے شباب پر پہنچی جارہی ہے ۔ وزیر اعظم نریندر مودی ، وزیر داخلہ امت شاہ، بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار اور آر جے ڈی لیڈر تیجسوی یادو میدان میں اتر ہی چکے ہیں۔اگر کمی محسوس کی جارہی تھی تو کانگریس لیڈر لوک سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر راہل گاندھی کی۔ سیاسی گلیاروںمیں سوال پوچھا جارہا تھا کہ پچھلے ایک مہینے سے زیادہ راہل گاندھی کہاں غائب رہے؟ جب بہار کی چناﺅ مہم اپنے شباب پر پہنچتی جارہی ہے ایسے میں راہل گاندھی کی غیر موجودگی پر طرح طرح کے سوال کھڑے ہو رہے تھے۔ آخر کا راہل گاندھی بہار پہنچ ہی گئے اور اگر یہ کہا جائے کہ انہوں نے ڈرامائی انٹری کی ہے تو غلط نہیں ہوگا۔راہل گاندھی نے مظفرپور سے اپنی پہلی چناوی ریلی کی شروعات کی اور دربھنگہ میں بھی ایک ریلی سے خطاب کیا ۔راہل گاندھی کی ریلیوں نے ہی ہنگامہ کھڑا کر دیا ۔اپنی پہلی ریلی میں ہی انہوںنے کچھ ایسا کہا جس پر تنازعہ کھڑا ہو گیا ۔انہوں نے اپنی پہلی ریلی میں وزیراعظم نریندر مودی پر قابل اعتراض تبصرہ کر ڈالا۔راہل گاندھی نے کہا انہیں صرف آپ کو ووٹ چاہیے اگر آپ کہیں گے نریندرمودی جی آپ ڈرامہ کرو تو وہ کر دیں گے۔انہوں نے کہا ہم آپ کو ووٹ دیں گے اور آپ اسٹیج پر آکر ڈانس کرو تو وہ ڈانس بھی کر دیں گے۔چناو¿ سے پہلے جو بھی کرانا ہے کرا لو ۔چونکہ چنا و¿ کے بعد نریندر مودی دکھائی بھی نہیں دیں گے ۔چناو¿ کے بعد نریندر مودی جی امبانی جی کی شادی میں دکھائی دیں گے۔کسانوں مزدوروں کے ساتھ نہیں بلکہ سوٹ ووٹ والوں کے ساتھ دکھائی دیں گے ۔انہوں نے کہا کہ وہ آپ کے ووٹ چوری میں لگے ہوئے ہیں کیوں کہ وہ چاہتے ہیں یہ الیکشن والی بیماری ختم کر دو مہاراشٹر ہریانہ میں انہوں نے چناو¿ میں چوری کی ہے اور بہار میں پوری کوشش کریں گے ۔بہار کی آوازکی سرکار نہ بنے ۔مہا گٹھ بندھن کی گارنٹی ہے کہ ہر طبقہ ذات ،مذہب کی سرکار بہار میں بنائیں گے کسی کو پیچھے نہیں چھوڑیں گے اسی دوران راہل گاندھی نے کہا کہ 20 سال سے نتیش کمار حکومت چلار ہے ہیں ،تعلیم ،ہیلتھ او رروزگار کے لئے انہوں نے کیا کیا ہے ؟ کیا جنتا ایسا وکاس چاہتی ہے جہاں اڈانی کو ایک دو روپے میں زمین دی جائے اور لوگوں کو روزگار نہ ملے ۔راہل گاندھی کے بیان کے بی جے پی نے مذمت کی ہے ۔بی جے پی کے ترجمان پردیپ بھنڈاری نے ایکس پر پوسٹ کر راہل گاندھی کے بیان کو ایک لوکل غنڈے جیسی زبان بتایا اور لکھا راہل گاندھی ایک لوکل غنڈے کی طرح بولتے ہیں ۔راہل گاندھی نے کھلے طور پر بھارت اور بہار کے ہر غریب اور ہر اس شخص کی بے عزتی کی ہے جنہوں نے وزیراعظم نریندر مودی جی کو ووٹ دیا ہے ۔راہل گاندھی نے ووٹروں اور ہندوستانی جمہوریت کا مذاق اڑایا ہے وہیں دربھنگہ کی ریلی میں راہل گاندھی نے کہا کہ امت شاہ کہتے ہیں کہ زمین کی کمی ہے ۔تو پھر اڈانی کو ایک روپے میں کونسی زمین دی جارہی ہے ؟ انہوں نے کہا جب امبانی اڈانی کو زمین دینی ہوتی ہے تو زمین مل جاتی ہے ،جب کسان سے زمین چھیننی ہوتی ہے تووہ منٹ میں زمین مل جاتی ہے ۔جب بہار کے بچوں کو بزنس یا کارخانہ چلانا ہوتو امت شاہ کہتے ہیں بہار میں زمین نہیں ہے ۔اسی دوران راہل گاندھی نے شاید پہلی بار کھلے طو رسے اعلان کیا کہ مہا گٹھ بندھن کی سرکار کے وزیراعلیٰ تیجسوی یادو ہوں گے ۔چلتے چلتے راہل نے کہہ دیا کہ این ڈی اے سرکار نے ریاست کو تعلیم صحت اور روزگار کے محاذوں پر پیچھے دھکیل دیا ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ بہارکی جنتا اب انڈیا بلاک کی جانب امید کی نظر سے دیکھ رہی ہے ۔ہم بہار کو ہر معاملے میں نمبر ون بنائیں گے ۔ہمیں میڈ ان چائنا نہیں اب میڈ ان بہار چاہیے ۔انہوں نے کہا کہ تعلیمی نظام پر بھی سوال کھڑے کئے اور کہا ریاست کے نوجوان دن رات محنت کررہے ہیں لیکن آخر میں پیپر لیک ہو جاتا ہے ۔کچھ چنے لوگوں کو ایگزام سے پہلے ہی پیپر دے دیا جاتا ہے یہی تعلیمی نظام کا حال بدلنا ہے ۔آپ راہل گاندھی کی دلیلوں سے متفق ہوں یا نہ ہوں لیکن اس بات سے انکار نہیں کر سکتے کہ جو وہ کہہ رہے ہیں اس میں بہت دم ہے اور بہار میں کسی تبدیلی کی ضرورت ہے ۔ (انل نریندر)

30 اکتوبر 2025

بہار چناومیں خواتین کارول!

بہار اسمبلی چناو¿ میں اس بار ایک بڑی تبدیلی نظر آرہی ہے چناو¿ میں پہلے کے مقابلے عورتوں کی زیادہ حصہ داری دیکھنے کو مل رہی ہے ۔کئی ایسی اعلیٰ تعلیم حاصل کر چکی بیٹیاں بھی چناوی میدان میں اتری ہیں جن کے کاندھوں پر والد کی سیاسی وراثت کو آگے لے جانے کی چنوتی ہے۔اسمبلی چناو¿ میں اس بار جو اچھی بات دیکھنے کو مل رہی ہے وہ ہے عورتوں کی ساجھیداری جو عام طور پر کم دیکھنے کو ملتی ہے ۔میدان میں ایسی خواتین داو¿ آزما رہی ہیں جنہوں نے بڑے بڑے تعلیمی اداروں سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی ہے ۔بہار کی ان بیٹیوں کو لے کر چناوی دنگل میں اترنے کی ہمت دکھانے والی ان بیٹیوں کا آنا ایک اچھا اور نیک اشارہ مانا جائے گا ۔حکمراں پارٹی این ڈی اے کی بات کریں تو وزیراعلیٰ نتیش کمار نے بزرگ اور بیوہ پنشن بڑھا دی ہے۔ڈومیسائل پالیسی کے تحت بہار کی سرکاری نوکریوں میں 35 فیصدمقامی عورتوں کو شامل کرنے کا اعلان کیا ہے ۔رضاکار آشا ورکروں اور آنگن واڑی دیدیوں کی تنخواہ بھی بڑھا دی ہے دوسری طرف تیجسوی یادو نے عورتوں کو 2500 روپے ماہانہ دینے کا اعلان کیا ہے اور ٹیچر دیدیوں کی تنخواہ 30 ہزار کرنے کا اعلان کیا ہے اس کے علاوہ مہا یوجنا کے تحت کئی اسکیموں کے بھی اعلان کئے ہیں ۔دراصل بہار میں بڑی تعداد میں مردوں کے روزگار کے لئے ریاست سے ہجرت کی وجہ سے عورت ووٹروں کی ووٹنگ پیٹرن مردوں سے زیادہ رہی ہے ۔سال 2020 کے اسمبلی چناو¿ میں بھی عورتوں نے مردوں کے مقابلے زیادہ پولنگ کی تھی پچھلے اسمبلی چناو¿ میں مردوں نے 54.45 فیصد ووٹ ڈالے تھے تو عورتوں نے 56.69 پولنگ کی تھی ۔مطلب مردوں کے مقابلے نے عورتوں نے قریب 2 فیصد زیادہ ووٹ ڈالے تھے ۔ٹیچروں آنگن واڑی رضاکاروں آشا ورکروں کی مدد سے چناو¿ کمیشن نے بھی عورتوں کو ووٹ ڈالنے کے لئے ترغیب دینے اور انہیں بیدار کرنے کی کوشش کی ہے ۔کئی سیٹوں پر عورتیں مضبوطی سے ٹکر دینے کے لئے تیار ہیں ایسے میں اس بار مہا گٹھ بندھن کے مقابلے میں این ڈی اے نے عورتوں کو زیادہ بھروسہ جتایا ہے ۔جانکاری کے مطابق این ڈی اے کی 5 اتحادی پارٹیوں نے مل کر 34 عورتوں کو چناوی میدان میں اتارا ہے جبکہ انڈیا اتحاد کی سات پارٹیوں نے مل کر صرف 31 عورتوں کو ٹکٹ دیا ہے ۔این ڈی اے کی بات کریں تو بی جے پی اور جے ڈی یو 101-101 سیٹوں پر مل کر چناو¿ لڑ رہی ہے اس کے ساتھ ہی دونوں پارٹیوں نے 13-13 عورتوں کو ٹکٹ دیا ہے ۔دیگر پارٹیوں کی بات کریں تو چراغ پاسوان کی ایل جے پی جن کے حصے میں 24 سیٹیں آئی ہیں نے 5 عورتوں کو ٹکٹ دیا ہے ۔جتن رام مانجھی نے دو سیٹوں پر اوپندر کشواہا نے ایک عورت کو ٹکٹ دیا ہے ۔خواتین امیدوار اپندر کشواہا کی خاتون امیدوار اوپندر کشواہا کی بیوی ہیں ۔اسی طرح انڈیا اتحادکی بات کریں تو 254 سیٹوں پر لڑ رہی ہے آر جے ڈی نے 24 عورتوں کو چناوی میدان میں اتارا تھا ۔حالانکہ موہنیا سیٹ سے امیدوار شویتا سمن کی نامزدگی منسوخ ہو گئی ہے جس کے بعد یہ نمبر 23 رہ گیا ہے ۔کانگریس 61 سیٹوں پر چناو¿ لڑرہی ہے اور اس نے 5 عورتوں کو ٹکٹ دیا ہے ۔اس کے علاوہ سی پی آئی ایم ایل جو 20 سیٹوں پر چناو¿ لڑرہی ہے نے صرف ایک خاتون کو ٹکٹ دیا ہے۔جبکہ وی آئی پی اور آئی آئی پی نے بھی ایک ایک عورت پر بھروسہ جتایا جبکہ کمیونسٹ پارٹیوں نے کسی عورت کو ٹکٹ نہیں دیا ہے ۔بہار میں اقتدار میں آنے کے لئے عورتوں کا ووٹ اہم مردوں سے زیادہ عورتوں کا پولنگ فیصد زیادہ رہا ۔بہار میں جب سے نتیش کمار وزیراعلیٰ بنے ہیں انہیں ریاست کے اقتدار کے اونچی چوٹی پر پہنچانے میں عورتوں نے ہمیشہ اہم رول نبھایا ہے ۔اس بار بھی مہیلا ووٹر اگلی بہار سرکار بننے میں اہم کردار نبھائے گی۔ (انل نریندر)

28 اکتوبر 2025

کون بنے گا این ڈی اے کا وزیراعلیٰ؟

بہار اسمبلی چناو¿ 2025 جیسے جیسے قریب آرہے ہیں این ڈی اے یعنی نیشنل ڈیموکریٹک الائنس کو لے کر سسپنس بڑھتا جارہا ہے ۔مہا گٹھ بندھن نے جہاں تیجسوی یادو کو سی ایم فیس ڈکلیئر کر چناوی میدان میں صاف سندیش دیا کہ چناو¿ کے بعد تیجسوی ہی وزیراعلیٰ بنیں گے ۔وہیں این ڈی اے کی طرف سے ابھی تک کوئی چہرہ ڈکلیئر نہیں کیا گیا ۔جب حال ہی میں مرکزی وزیرداخلہ اور بی جے پی کے چانکیہ امت شاہ سے اس پر تلخ سوال پوچھا گیا کہ آپ کے اتحاد کا سی ایم فیس کون ہوگا تو انہوں نے صاف کہا کہ اسمبلی چناو¿ کے بعد اسمبلی پارٹی کا لیڈر بہار کا وزیراعلیٰ طے کرے گا ۔یعنی کہ انہوںنے صاف اشارہ دیا کہ ابھی وزیراعلیٰ کون ہوگا یہ ابھی طے نہیں کیا گیا ہے ۔راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی ) نیتااور مہا گٹھ بندھن کی جانب سے وزیراعلیٰ کے امیدوار تیجسوی یادو نے جمعہ کو دعویٰ کیا کہ اگر بہار میں ایک بار پھر این ڈی اے کی سرکار بنی تو نتیش کمار کو وزیراعلیٰ نہیں بنایاجائے گا ۔این ڈی اے نیتا نے دعویٰ کیا امت شاہ پہلے ہی صاف کر چکے ہیں کہ چناو¿ کے بعد ممبرا ن اسمبلی طے کریں گے کہ وزیراعلیٰ کون ہوگا ؟ اگر این ڈی اے کو اقتدار ملا تو نتیش کمار وزیراعلیٰ نہیں بنائے جائیں گے انہوںنے آگے الزام لگایا نتیش کمار کو بھاجپا نے ہائی جیک کر لیا ہے ۔اور گجرات کے دولوگ اشارے کی شکل میں علامتی طور پر مودی اور امت شاہ بہار چلا رہے ہیں ۔سوال یہ اٹھتا ہے کہ نتیش کمار کی آج پوزیشن کیا ہے ؟ کیا وہ وزیراعلیٰ کی دوڑ سے باہر ہوچکے ہیں؟ یا اندر کھانے نتیش کوئی بڑا کھیل کھیلنے جارہے ہیں ؟ پچھلے بیس سال سے بہار کی سیاست میں دو بہاری نیتا و¿ں کے ارد گرد گھومتی رہی سیاست ۔لالو یادو اور نتیش کمار پچھلی دو دہائیوں سے تو نتیش کی بہار میں سب سے زیادہ سیاسی نیتا رہے ہیں اب سوال یہی ہے کہ کیا چناو¿ کے بعد بی جے پی نتیش کمار کو کنارے کر اپنا وزیراعلیٰ بنائے گی ؟ یا پھر انہیں ایک بار پھر جنتا کا فیس بنا کر اقتدار میں بٹھائے گی ۔سیاسی تجزیہ نگاروں اور اعداد شمار کو دیکھتے ہوئے بی جے پی کے لئے نتیش کو درکنارکرنا آسان نہیں ہے ۔آیے سمجھتے ہیں کیوں؟ 71 سیٹوں کا حساب طے کرے گا ۔فیصلہ اس بار جے ڈی یو 101 سیٹوں پر چناو¿ لڑرہی ہے ان میں سے 71 سیٹیں ایسی ہیں جہاں نتیش کمار کی جے ڈی یو کا مقابلہ سیدھا تیجسوی کی آر جے ڈی اور لیفٹ پارٹیوں سے ہے ۔یعنی 70 فیصدی سے زیادہ سیٹوں پر نتیش اور تیجسوی آمنے سامنے ہیں ۔یہ بڑی حکمت عملی ہے جو بہار کی سیاست میں سالوں سے دیکھی جاتی ہے ۔نتیش اور لالو ،تیجسوی ایک دوسرے کے خلاف زیادہ سیٹوں پر لڑے تاکہ بھاجپا پر انحصار کم ہو ۔بہار میں عام طور پر یہ کہنا ہے کہ دونوں لا لو اور نتیش ایک بات پر ایک رائے ہیں کہ بہار میں کسی بھی حالت میں بی جے پی کو گھسنے نہیں دینا کیوں کہ ایک بار بی جے پی گھس گئی تو اگلے بیس سالوں تک اور پارٹی اقتدار میں نہیں آسکے گی ۔نتیش کو بھی یہ بات سمجھ میں آگئی ہے کہ این ڈی اے اگر اقتدار میں آیا تو مکھیہ منتری کوئی اور ہی ہوگا ۔سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ بی جے پی کے اند ر اپنا وزیراعلیٰ بنانے کی خواہش بھلے ہی پرانی ہو لیکن اس بار وہ سبھی وجوہات اتنی آسان نہیں ہے کیوں کہ جے ڈی یو بھلے ہی کم سیٹوں پر چناو¿ لڑے لیکن اس کی جیتنے والی سیٹ آر جے ڈی کے خلاف ہوگی ۔جس سے بھاجپا کے دباو¿ کی گنجائش کم رہ جائے گی۔بہار میں سیاسی تاریخ گواہ ہے نتیش کبھی بھی پالا بدلنے میں جھجھکتے نہیں ہیں۔چودہ نومبر کو نتیجے بھی آجائیں گے ۔نتیجے جو بھی ہوں لیکن اشارہ صاف ہے بھاجپا کی حکمت عملی چاہے جتنی بھی جارحانہ کیوں نہ ہو نتیش کمار ابھی بھی این ڈی اے کی یونیفائیڈ سیاست کے پاور بیلنسر بنے ہوئے ہیں ۔جے ڈی یو کے پاس اتنی سیٹیں بھلے ہی نہ ہوں کہ وہ سرکار اکیلے بنا سکے لیکن اتنا ضرور ہے کہ بغیر اس کے بی جے پی کا وزیراعلیٰ بننا تقریباً ناممکن ہے ۔ (انل نریندر)

25 اکتوبر 2025

بہار چناو: دوسرا راونڈ تیجسوی کے نام !

جیسے جیسے بہار چناو¿ کی پولنگ کی تاریخ قریب آتی جارہی ہے چناو¿ کمپین میں تیزی آرہی ہے ۔جیسے میں نے کچھ دن پہلے جیسے لکھا تھا کہ پولنگ آنے تک بہار چناو¿ میں ہمیں کئی راو¿نڈ کے دنگل نظر آئیں گے یہ چناو¿ انتہائی اہم ترین ثابت ہوں گے اس کے نتیجے کے دور رس نتائج ہوں گے ۔نہ صرف ان کا اثر ریاستوں کے آنے والے اسمبلی چناو¿ جو جلد ہونے والے ہیں ان پر پڑے گا بلکہ مرکز کے اقتدار پر بھی سیدھا اثر پڑسکتا ہے ۔بہار چناو¿ میں پہلا راو¿نڈ پرشانت کشور نے جیتا جب انہوںنے سب سے پہلے اپنی پارٹی جن سوراج پارٹی کے امیدواروں کے نام کا اعلان کیا تھا ۔اب دوسرا راو¿نڈ انڈیا اتحاد یعنی مہا گٹھ بندھن کے نام گیا ہے کیوں کہ انہوں نے اپنے وزیراعلیٰ کا چہرہ سامنے لا دیا ہے ۔کانگریس نیتااشوک گہلوت نے اپنے مہا گٹھ بندھن کی طرف سے تیجسوی یادو کو بہار میں وزیراعلیٰ کے چہرے کے طور پر پیش کیا ہے ساتھ ہی مہا گٹھ بندھن نے اعلان کیا ہے کہ بہار میں ان کی سرکار بننے پر ایک سے زیادہ نائب وزیراعلیٰ بنائے جاسکتے ہیں ان میں ایک ڈپٹی سی ایم ہوگا ۔وکاس شیل پارٹی کے چیف مکیش ساہنی ہوں گے ۔اشوک گہلوت نے کہا کہ تیجسوی ایک نوجوان نیتا ہیں ان کا لمبا مستقبل ہے ۔جن کا لمبا مستقبل ہوتا ہے جنتا اس کا ساتھ دیتی ہے ۔یہ نوجوان ہیں اور عزم رکھتے ہیں ۔پچھلی بار انہوں نے جو نوکری کے پلان اعلان کئے تھے جو وعدے کئے تھے اس میں کھرے اتریں ۔اس پریس کانفرنس میں تیجسوی یادو منوج جھا ،کانگریس نیتا اشوک گہلوت ،پون کھیڑا ،مکیش ساہنی و کئی پارٹی کے نیتا موجود تھے ۔ان سب نیتاو¿ں کا ایک ساتھ اسٹیج پر ہونا یہ اشارہ دینے کی کوشش تھی کہ مہا گٹھ بندھن میں سب ٹھیک ہے ۔پچھلے کچھ عرصہ سے یہ اشارے مل رہے تھے کہ مہا گٹھ بندھن میں زبردست کھینچ تان و سیٹوں کو لے کر ٹکراو¿ ہے ۔کھینچ تان تو کچھ کم ہوئی لیکن سیٹ بٹوارے میں ابھی بھی رسہ کشی ہے ۔ایسا ماحول بنا دیا گیا تھا جیسے مہا گٹھ بندھن میں آپس میں پھوٹ ڈالنے ماحول خراب کرنے کے مقصد سے اسپانسر کمپین چلائی گئی ۔ایسا ماحول بنا دیاگیا جیسے آپس میں پھوٹ پڑ گئی ہے ۔اشوک گہلوت نے حالانکہ یہ مانا کہ 243 سیٹوں میں سے پانچ یا سات سیٹوں پر مقامی لیڈروں اور سبھی وجوہات کے سبب کئی فرینڈلی مقابلہ جیسی حالت بن جاتی ہے ۔یہ بہت چھوٹی تعداد ہے لیکن اسے لے کر میڈیا میں مہا گٹھ بندھن کے خلاف کمپین چلادی گئی ۔بتادیں کہ بہار میں دو مرحلوں میں اسمبلی چناو¿ ہونے جارہے ہیں اس کے لئے چھ اور گیارہ نومبر کو ووٹ ڈالے جائیں گے اور 14 نومبر کو نتائج کا اعلان ہوگا۔ ایسا ماناجارہا ہے کہ مہا گٹھ بندھن میں ابھی بھی کچھ سیٹوں پر ٹکراو¿ موجود ہے ۔12 سیٹوں پر مہا گٹھ بندھن کی اتحادی پارٹیاں آمنے سامنے ہیں ان میں سے چھ سیٹیں ایسی ہیں جہاں کانگریس اور آر جے ڈی کے امیدوار آمنے سامنے چناو¿ لڑرہے ہیں ۔یہی نہیں جھارکھنڈ میں کانگریس اور آر جے ڈی جھارکھنڈ مکتی مورچہ اتحاد کی سرکار چل رہی ہے لیکن مانگیں پوری نہ ہونے پر جے ایم ایم نے بہار چناو¿ سے خود کو باہر کر لیا ہے۔ ابھی تک چناو¿ کمپین زور پکڑنے والی ہے ۔ابھی تو 14 نومبر تک انتظار کریں اور کئی راو¿نڈ ہونے والے ہیں ۔ابھی تو ایک ہی راو¿نڈہوا ہے ۔جیسے جیسے کمپین بڑھے گی آپ کو میں حالت سے باآور کرتا رہوں گا۔ (انل نریندر)

23 اکتوبر 2025

نوکنگس پروٹیسٹ : سڑکوں پر 70 لاکھ امریکی!

امریکہ میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف اتوار کو ملک کی تاریخ کا سب سے بڑا مظاہرہ ہوا ایسا لگا کہ یعنی پورا امریکہ سڑکوں پر اتر گیا ہو ۔قریب 70 لاکھ سے زائد لوگوں نے امریکہ میں 2600 مقامات پر نوکنگس کے نام سے نکالی گئی ریلیوں میں شامل ہوئے۔مظاہرین نے الزام لگایا کہ ٹرمپ کی پالیسیاں امریکہ کو تاناشاہی کی طرف لے جارہی ہیں ۔شکاگوشہر میں ایک لاکھ واشنگٹن ڈی سی میں دو لاکھ ،لاس اینجلس میں پچاس ہزار ،سائینڈیگو شہر میں پچیس ہزار مظاہرین شامل ہوئے ۔ٹائم اسکوائر ،واشنگٹن کامن ، اور پلانٹا اٹلانٹا سوک سنٹرل جیسے علاقوں میں بھاری بھیڑ امڑی ۔سینٹل میں لوگوں نے ادھینیڈل کے پاس ڈیڑھ کلو میٹر لمبی یاترا نکالی مظاہرین کا کہنا ہے ٹرمپ انتظامیہ نے لوک تنتر ،نیائے اور شہری آزادی پر حملہ کیا ہے ۔اوٹیگن کے ٹیچر رام ناتھن تھبوڈو نے کہا کہ ہم امن سے یہ بتانا چاہتے ہیں کہ امریکہ کسی راجہ کی جاگیر نہیں ہے ان کا کہنا ہے فیڈرل فوجیوں کی تعیناتی روکی جائے ۔امیگریشن چھاپے بندہوں ،عورتوں ،اقلیتوں کے حقوق کی حفاظت ہو ۔مظاہرین نے جم کر نعرے بازی کی ۔انہوںنے احتجاج کرنے سے زیادہ دیش بھکتی کچھ نہیں ہے یا فاسدین کی مخالفت کریں ۔جیسے نعرے لگائے مظاہرین ٹرمپ کی آورژن ، تعلیم اور سیکورٹی پالیسی کی بھی مخالفت کررہے تھے ۔امریکہ سمیت دنیا بھر میں 2700 سے زیادہ نوکنگس مظاہرے ہوئے ۔لندن میں واقع امریکی سفارتخانہ کے باہر بھی لوگ جمع ہوئے ۔منتظمین کا کہنا ہے کہ وہ مظاہرے ٹرمپ کی تاناشاہی حرکتوں کے خلاف ایک مخالفت ہیں ۔اسے امریکہ کی تاریخ میں سب سے بڑا مظاہرہ بتایاجارہا ہے ۔میڈریڈ اور بارسلونا میں بھی اسی طرح کے مظاہرے ہوئے ۔ٹرمپ کے امریکہ کے صدر کے طور پر واپسی کے بعد سے یہ تیسری عوامی تحریک ہے اس تحریک سے وفاقی پروگراموں سے برا اثر پڑا ہے ۔واشنگٹن میں مظاہروں میں شامل ایک لیڈر شان ہاورڈ نے کہا کہ انہوں نے پہلے کبھی بھی مظاہرے میں حصہ نہیں لیا تھا لیکن ٹرمپ انتظامیہ نے جس طرح سے قانون کی خلاف ورزی کی ہے اس سے وہ بہت دکھی ہیں ۔نوکنگس تھیم کا مقصد ان احتجاجی مظاہروں کی یاد دلانا ہے جن کا سبب امریکہ کا عروج ہوا تھا ۔راج شاہی اور دقیانوسی کو چھوڑا گیا اور جمہوری حکومت سسٹم اپنایا گیا ۔یہ مظاہرے ایسے وقت میں ہوئے جب سینٹ میں ڈیموکریٹس اور رپبلکنس کے درمیان ڈیڈ لاک کے سبب سرکار کا زیادہ تر دفاتر بند ہیں ۔ڈیموکریٹس میڈیکل بیمہ ،ہیلتھ سے متعلق پروگراموں میں کٹوتی کو پھر سے نافذ کرنے کی مانگ کررہے ہیں ۔ٹرمپ انتظامیہ کے ذریعے ڈیموکریٹک حکمراں ریاستوں میں فیڈرل فورس بھیجنے اور غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف بڑی کاروائی کرنے کے خلاف احتجاجی مظاہرے اور بھڑک گئے۔حالانکہ صدر ٹرمپ نے اس بات سے انکار کیا کہ ان کی کوئی شاہی تمنا نہیں ہے ۔یا وہ کسی راجہ کی طرح برتاو¿ کررہے ہوں ۔فوکس بزنس ٹی وی کو انٹرویو میں کہا مجھے راجہ کہہ رہے ہیں میں راجہ نہیں ہوں ۔ٹرمپ نے اے آئی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے اس پر رائے زنی کی ۔ویڈیو میں ان کے سر پر تاج دکھائی دے رہا ہے ایک جنگی جہاز میں ماسک لگا کر بیٹھے ہوئے ہیں اور جس پر کنگ ٹرمپ لکھا ہے ۔مظاہرین پر برساتے دکھائی دے رہے ہیں ۔ (انل نریندر)

18 اکتوبر 2025

گٹھ بندھنوںمیں مچا گھماسان!

بہار اسمبلی چناو¿ میں دونوں بڑے گٹھ بندھنوں میں مچے گھماسان رکنے کا نام نہیں لے رہے ہیں ۔پرچہ بھرنے کی آخری تاریخ 17 اکتوبر تک ہے ۔سیٹوں کو بٹوارہ کو لے کر کھینچ تان رکی نہیں ہے ۔گٹھ بندھن کی سیاست میں اتحادی پارٹیوں کے درمیان روٹھنا منانا عام بات ہے خاص کر جب چناو¿ سر پر ہوں تو دباو¿ کی سیاست اپنے انتہا پر ہوتی ہے ۔پہلے بات کرتے ہیں مہا گٹھ بندھن کی یہ کسی سے پوشیدہ نہیں کانگریس اور جنتا دل یونائیٹڈ میں اختلاف ہیں تبھی تو نامزدگی کی آخری تاریخ میں جاکر سی ایم بٹوارہ کا اعلان فائنل ہوسکا ۔دراصل کانگریس یہ ثابت کرنا چاہتی ہے کہ وہ گٹھ بندھن میں سینئر پارٹنر ہیں کیوں کہ وہ دیش کی دوسری سب سے بڑی سیاسی پارٹی ہے جبکہ آر جے ڈی ایک علاقائی جماعت ہے اور اسے اسی حسا ب سے سیٹوں کا بٹوارہ کرنا چاہیے ۔دوسری جانب تیجسوی یادو کا خیال ہے کہ ان کی پارٹی بہار میں کانگریس سے کہیں بڑا مینڈیٹ رکھتی ہے اس لئے اسے ترجیح ملنی چاہیے ۔امید ہے کہ دونوں کے درمیان صحیح معنوں میں اختلافات مٹ جانا چاہیے اور دونوں کو اپنے اس ارادے پر پکے ہیں ۔کہ این ڈی اے کو اس بار ہرانا ہے وہیں اگر این ڈی اے کی بات کریں تو یہاں کئی مسئلے ہیں ۔نتیش کمار چاہتے ہیں کہ وہ بڑے بھائی کے کردار میں چناو¿ میں جائیں اس لئے انہیں بھاجپا سے زیادہ سیٹیں ملنی چاہیے تھیں وہ یہ بھی چاہتے ہیںکہ انہیں وزیراعلیٰ کا چہرہ اعلان کر این ڈی اے چناو¿ میں جائے ۔جبکہ بھاجپا کا کہنا ہے اگلا وزیراعلیٰ کون ہوگا یہ چناو¿ کے بعد چنے ہوئے ممبر اسمبلی کریں گے ۔ایک پینچ تو یہ پھنسا ہوا ہے دوسرا پینچ چراغ پاسوان کو لے کر پھنسا ہوا ہے ۔نتیش چراغ کو ایک آنکھ نہیں بھاتے وہ چاہتے ہیں کہ چراغ کو 45 سیٹیں ملیں جبکہ بھاجپا ہائی کمان نے انہیں 29 سیٹیں دے دی ہیں ۔29 سیٹوں میں ایسی بھی کئی سیٹیں شامل ہیں جہاں جے ڈی یو کا موجودہ ایم ایل اے ہے ۔نتیجہ یہ ہوا کہ جے ڈی یو نے چراغ کی 7 سیٹوں پر اپنے امیدوار اتار دیے ۔بتادیں کہ چراغ نے پچھلے اسمبلی چناو¿ میں جے ڈی یو کو کرارہ جھٹکا دیا تھا تب انہوں نے جے ڈی یو کوٹے کی زیادہ تر سیٹوں پر امیدوار اتار ے اور تین درجن سیٹوں کا نقصان پہنچایا تھا ۔یہی وجہ ہے کہ جے ڈی یو ریاست میں تیسرے نمبرکی پارٹی بن کر رہ گئی ہے ۔کہا جارہا ہے کہ اس بار چراغ پاسوان کے کوٹے کی سیٹوں پر امیدوار اتار نتیش پرانا حساب چکانا چاہ رہے ہیں ۔اوپندر کشواہا اور جتن رام مانجھی کو چھ چھ سیٹیں دی گئی ہیں۔دونوں ہی ناراض چل رہے ہیں ۔بی جے پی اعلیٰ کمان دباو¿ میں اب وہ کہہ تو رہا ہے کہ سب ٹھیک ہے لیکن اندر کھانے آگ سلگ رہی ہے اور چناو¿ میں این ڈی اے ایک بٹا ہوا اتحاد نظر آسکتا ہے ۔ایک بات پھر سے یہ ثابت ہو گئی ہے کہ آج بھی بہار میں نتیش کمار ایک اہم ترین فیکٹر ہیں ۔اور ان کار و ل اہم ہے یہ صحیح ہے کہ پچھلے کچھ وقت سے نتیش کی صحت پر سوال اٹھتے رہے ہیں اور وہ زیادہ سرگرم نہیں دکھائی دیے ۔لیکن پچھلے تین چار دنوں میں نتیش اپنے پرانے دنگل میں دکھائی دیے ۔جس طریقہ سے انہوں نے اپنی پارٹی کو سنبھالنے کے لئے سخت قدم اٹھائے ہیں اس سے صاف ہے کہ وہ یہ مانتے ہیں کہ بی جے پی انہیں اگلا وزیراعلیٰ نہیں بنانے والی ہے ۔انہیں یہ بھی سمجھ آگیا ہے ان کے تینوں سینئر ساتھی اندر کھانے بی جے پی حمایتی ہیں اور ان کے اشارے پر پارٹی کو اندر سے توڑنا چاہتے ہیں ۔اسی وجہ سے نتیش نے اب کئی نئی شرائط بی جے پی کے سامنے رکھی ہیں ۔دیکھنا ہوگا نہیں بی جے پی مانتی ہے یا نہیں ؟ ادھر بی جے پی تہہ دل سے چاہتی ہے کہ پہلا کہ وہ بہار اسمبلی چناو¿ ہر حال میں جیتے اور بہار کا اگلا وزیراعلیٰ بی جے پی کا ہواب اصل کھیل شروع ہونے والا ہے ۔دیکھتے ہیں کہ آنے والے دنوں میں کیا کیا ہوگا ہے ؟ (انل نریندر)

16 اکتوبر 2025

آئی پی ایس پورن سنگھ کی خودکشی کا معاملہ!

چنڈی گڑھ میں سینئر آئی پی ایس افسر وائی پورن سنگھ پورن کمار کی خودکشی کا معاملہ طول پکڑتا جارہا ہے ۔7 اکتوبر 2001 بیچ کے پولیس افسر پورن کمار نے اپنے چنڈی گڑھ مکان پر خود کو گولی مار لی تھی ۔اس خودکشی نے پوری ریاست میں پولیس محکمہ میں کھلبلی مچا دی ہے ۔ایک پولیس افسر کی موت کے بعدکئی طرح کے سوال اٹھائے جارہے ہیں ۔پولیس کو ان کے پاس سے خودکشی نامہ بھی ملا ہے ۔جس میں انہوں نے ہریانہ پولیس کے ڈی جی پی سمیت کئی افسران کو اپنی موت کاذمہ دار بتایا آئی پی ایس واچ پورن سنگھ کی بیوی آئی اے ایس افسر امنیت کمار ہیں ۔جب شوہر نے خودکشی کی اس وقت بیوی باہر گئی ہوئی تھیں انہوں نے لوٹ کر آکر پورے معاملہ کی جانکاری حاصل کی اب امنیت کمار اور پورا پریوار ملزمان کے خلاف سخت کاروائی کی مانگ کررہا ہے ۔پریوار نے الزام لگائے ہیں کہ پولیس نے ایف آئی آر بھی ٹھیک سے نہیں لکھی اور ملزمان نے نام پوری طرح صحیح نہیں بتائے ۔پریوار مسلسل انصاف کی مانگ کررہا ہے پورن کمار کی خودکشی کے معاملے میں ریاست کے ڈائرکٹرجنرل شتروجیت کپور کو عہدے سے ہٹانے کے لئے 31 ممبری کمیٹی نے ریاستی حکومت اور چنڈی گڑھ انتظامیہ کو 48 گھنٹے کا الٹی میٹیم دیا ہے ۔پورن کمار کو انصاف دلانے کے لئے چنڈی گڑھ میں منعقدہ مہا پنچایت میں یہ الٹی میٹم جاری کیا ہے ۔پورن کمار کی موت کے بعد پورے پردیش میں دلتوں میں بھاری ناراضگی پائی جاتی ہے ایسے میں اس پنچایت کا انعقاد کیا گیا تھا جس میں اس بات پر اتفاق رائے بنا کہ ریاستی سرکار ڈی جی پی کے خلاف سخت ایکشن لے انہیں عہدے سے ہٹائے اگرایسا نہیں ہوا تو پورے ہریانہ میں چنڈی گڑھ کے قریب پانچ ہزار صفائی کرمچاری کام چھوڑ دیں گے ۔وہیں اس معاملے میں ہریانہ کے وزیراعلیٰ نائب سینی نے سنیچر کو کہا تھا کہ ملزمان کے خلاف سخت کاروائی کی جائے گی ۔اور انہیں بخشا نہیں جائے گا انہوں نے متاثرہ خاندان کو بھی یقین دلایا کہ سرکار ان کے ساتھ ہے انہوں نے اس مسئلے پر سیاست نہ کرنے کی بات کہی ۔معاملے کی جانچ ایس آئی ٹی سے کرانے کی کی گئی جو معاملے کی جانچ میں لگ گئی ہے ۔وہیں کانگریس پارلیمانی پارٹی چیف سونیا گاندھی پورن کمارکی بیوی کو تعزیتی پیغام بھیج کر دکھ جتایا ہے اور کہا آج بھی حکمرانوں کا نفرت اور جانبدارانہ رویہ بڑے سے بڑے افسر کو بھی سماجی انصاف کی کسوٹی سے محروم رکھتا ہے 10 اکتوبر کو پورن کی بیوی کو بھیجے گئے خط میں لکھا کہ ان کے شوہر کمار کے دیہانت کی خبر حیرت زدہ کرنے والی ہے ۔اور من کو پریشان کرنے والی بھی اس مشکل کی اس گھڑی میں میری طرف سے آپ کے علاوہ پورے خاندان کے تئیں گہری ہمدردی ہے ۔اس مشکل صورتحال میں ایشور آپ کو صبر وتحمل اور غم سے نکلنے کی ہمت دے ۔ہریانہ سرکار نے فوراً کاروائی کرتے ہوئے سنیچر کو ہی روہتک کے ایس پی نریندر بجرانیہ کو عہدے سے ہٹا دیا ہے ۔سزا کے طور پر انہیں کوئی عہدہ نہیں دیا گیا ہے ۔ادھر سنیچر کو پانچوے دن بھی وائی پورن کمار کی لاش پوسٹ مارٹم نہیں ہوسکی تھی ۔چنڈی گڑھ کے ہوم سکریٹری منویہ براڑ نے پورن کمار کی بیوی امنیت پی کمار سے ملاقات کی اس کے کچھ وقت بعد چنڈی گڑھ انتظامیہ نے پورن کمار کی لاش کو سیکٹر 16 کے ہسپتال میں رکھوا دیا ۔خبر آئی ہے کہ بیوی امنیت کمار نے ہلکی دفعات لگانے پر اعتراض جتایا ہے ۔اور سخت دفعات نہ لگانے تک پوسٹ مارٹم و انتم سنسکار نہ کرنے پر اڑی تھیں ۔ہریانہ پولیس نے اتوار کو ڈی جی پی شترو جیت کپور اور اس وقت کے روہتک ایس پی نریندر بجار گلاسمیت دیگر حکام کے خلاف درج ایف آئی آر میں ایس سی ایس ٹی ایکٹ کی نئی دفعات جوڑی ہیں ۔جس کے تحت عمر قید کی سزا کے ساتھ جرمانہ کی بھی سہولت ہے ۔پورن کمار کی بیوی نے اس آرٹیکل کے لکھنے تک پوسٹ مارٹم کی اجازت نہیں تھی ہم وائی پورن کمار کو اپنی شردھانجلی دیتے ہیں اور امید کرتے ہیں ان کے پریوار کے ساتھ انصاف ہو اس جانبدارانہ رویہ کی سخت مذمت کرتے ہیں ۔ (انل نریندر)

14 اکتوبر 2025

بہار چناو: پہلا راونڈ پی کے کے نام !

بہار میں ہونے والے پہلے مرحلے کے اسمبلی چناو¿ کی نامزدگی کا روائی شروع ہو گئی ہے۔اس مرحلے میں 121 سیٹوں کے لئے پولنگ ہونی ہے ۔جمع کو الیکشن کمیشن نے پہلے مرحلے کی پولنگ کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ۔اس مرحلے کے لئے امیدوار 17 اکتوبر تک اپنے نامزدگی کاغذات داخل کر سکتے ہیں اور ان سیٹوں کے لئے آنے والی 6 نومبر کو ووٹ پڑیں گے ۔اس آرٹیکل لکھنے تک نا تو این ڈی اے کی سیٹ شیئرنگ فائنل ہوئی تھی اور نہ ہی مہا گٹھ بندھن نے ۔امید کی جارہے کہ اس کا اعلان کبھی بھی ہوسکتا ہے جہاں این ڈی اے یعنی حکمراں نیشنل ڈیموکریٹک الائنس میں سیٹوں کو لے کر گھماسان مچا ہوا ہے اور پچھلے کئی دنوں سے دہلی پٹنہ میں میٹنگوں کا دور چل رہا ہے وہیں مہا گٹھ بندھن میں بھی پوری طرح اتفاق رائے نہیں ہو پایا ۔ابھی کچھ سیٹوں پر اختلاف ہے وہیں اگر کسی نے اس کاروائی میں اپنا پرچہ داخل کیا ہے تو وہ ہے پرشانت کشور اور ان کی جن سوراج پارٹی نے جمعرات کو بہار اسمبلی چناو¿ کے لئے امیدواروں کی پہلی فہرست جاری کر دی۔151 امیدواروں میں 17 انتہائی پسماندہ طبقہ سے 11 پسماندہ طبقہ سے 7 دلت ،7 مسلم 9 جنرل کٹیگری سے ہیں ۔ان 51 امیدواروں میں 6 عورتیں اور گوپال گنج کی موری سیٹ سے ایک ٹرانس جینڈر پریتی کنر کو ٹکٹ ملا ہے ۔بہار ذات پات سروے 2022 کے مطابق ریاست میں انتہائی پسماندہ برادریاں 36.01 فیصدی ہے ۔آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑا حصہ ہے وہیں پسماندہ برادریاں 27.12 فیصدی ہیں ۔پی کے کی امیدواروں کی فہرست میں کئی پڑھے لکھے اور نامور لوگ شامل ہیں ۔مثال کے طور پر ہومگارڈ کے سابق ڈائرکٹر جنرل ،ہائی کورٹ کے وکیل اور یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر ،بھوجپوری فلموں کے گلوکار اور بہار کے سابق وزیراعلیٰ کرپوری ٹھاکر کی پوتی جاگرتی ٹھاکر کو سمستی پور کی بھروکھا مووا سیٹ سے ٹکٹ دیا گیا ہے ۔اس کے علاوہ آر سی پی سنگھ کی بیٹی لتا سنگھ کو نالندہ کی آسنکل سیٹ سے اتارا گیا ہے ۔تقریباً سبھی امیدوار پہلی بار چناو¿ میدان میں ہیں ۔اس کے علاوہ جن سوراج سے تین ڈاکٹروں کو بھی امیدوار بنایا گیا ہے ۔ادھر بہار کے دو اہم اتحاد این ڈی اے اور آر جے ڈی والے مہا گٹھ بندھن میں سیٹوں کے بٹوارے پر ابھی تک کوئی رضامندی نہیں بن پائی ہے ۔کہا جارہا ہے کہ این ڈی اے کے دو ساتھی چراغ پاسوان اور جتن رام مانجھی کو جتنی سیٹیں دی جارہی ہیں اس سے وہ ناخوش ہیں ۔دوسری طرف مہا گٹھ بندھن میں بھی کانگریس وہ مکیش ساہنی وکاس شیل سنستھان پارٹی جھارکھنڈ مکتی مورچہ بھی اور پشو پاتی پارس کی راشٹریہ شکتی پارٹی اپنی سیٹوں کو لے کر آر جے ڈی سے رضامند نہیں ہو پائے ۔بہار میں اسمبلی کی کل 243 سیٹیں ہیں ۔مکیش ساہنی 60 سیٹیں مانگ رہیں ہیں نائب وزیراعلیٰ کا عہدہ بھی ۔ساہنی ملاح برادری سے تعلق رکھتے ہیں اور بہار میں اس برادری کی آبادی 9.6 فیصد ہے ۔پرشانت کشور نے اپنی پہلی لسٹ پر کہا 1 بھی دبنگ اور دولت مند ،مہا ولی کوئی نہیں ملے گا ۔اس میں صرف وہ لوگ ملیں گے جو بہار کو سدھارنے کا جذبہ لے کر اس کوشش سے جڑ ے ہیں ۔ہمارے زیادہ تر امیدوار پہلی بار چناو¿ لڑ رہے ہیں ۔وہ لوگ جڑے ہیں جو سیاست نہیں جانتے لیکن سیاست کے ذریعے سماج کی سیوا کرنا چاہتے ہیں ۔ (انل نریندر)

11 اکتوبر 2025

نہ کوئی افسوس ،نا ہی معافی مانگوںگا!

سپرےم کورٹ کے چےف جسٹس بی آر گوائی پر گزشتہ دنوں حملے شرمناک کوشش ہوئی ۔سپرےم کورٹ مےں پےر کو اس شرمناک واقعہ مےں چلتی کاروائی کے دوران اےک وکےل نے چےف جسٹس بی آر گوائی کی طرف جوتا پھےکنے کی کوشش کی ،حالانکہ کورٹ مےں تعینات سکورٹی ملازمین نے فورا ً حرکت مےں آکر ڈائس کے قرےب کھڑے وکےل راکےش کشور کو (71) فوراً دبوچ لےا اور عدالت سے باہر لے گئے ۔بعد مےں پولس نے پوچھ تاچھ کیلئے حراست مےں لے لےا۔کورٹ روم سے باہر نکلتے وقت وکےل چلا رہا تھا ،سناتن کا اپمان نہےں سہے گےں۔واردات سے پرےشان چیف جسٹس سماعت جاری رکھی اور دےگر وکےلوں سے کہا کہ اس پر ناراض نہ ہوں ۔ےہ چےزےں مچھے متاثر نہےں کر تی اس واردات کے بعد وزےر اعظم نرےندر مودی نے چیف جسٹس گوائی سے بات کی اور اےکس پر لکھا ،مےں نے بھارت کے چیف جسٹس بی آر گوائی سے بات کی آج صبح سپرےم کورٹ مےں ان پر ہوئے حملے سے ہر ہندوستانی ناراض ہے ۔ہمارے سماج مےں ایسی قابل مذمت حرکتوں کےلئے کوئی جگہ نہےں ہے، ےہ پوری طرح سے قابل مذمت ہے ۔ادھر چیف جسٹس گوائی پر جوتا پھےکنے والا بے شرم وکےل راکےش کشور کمار نے اپنی صفائی دی کہ سی جے آئی کے بھگوان وشنو پر دےئے گئے بےان سے مجھے ٹھیس پہنچی ہے ان کے اس بےان سے میرا غصہ تھا مےں نشے مےں نہےں تھا۔جو ہوا مجھے اسکا افسوس نہےں ہے اور نہ ہی مےں معافی مانگوں گا ملزم وکےل کی ممبر شےپ فوراً ختم کر دی گئی۔راہل گاندھی نے بھی اس واردات کی ملامت کرتے ہوئے اپنے اےکس پر لکھا کہ بھات کہ چےف جسٹس پر حملہ ہماری عدلیہ کہ وقار اور ہمارے آئین کی روح پرحملہ ہے اس طرح کی نفرت کےلئے ہمارے دےش مےں کوئی جگہ نہےں ہے اور اسکی مذمت کرنی چاہئے۔اخبار ایجنسی اے اےن آئی سے کہا روہت پانڈے جو سپرےم کورٹ بار کونسل کے سابق نگراح سےکرےٹری ہےں بتاےا کہ معاملہ کیا ہے ؟در اصل 16ستمبر کو سی جی آئی گوائی اور جسٹس ونود چندرن کی بےنچ نے مدھےہ پردےش کے کھجوراو¿ مےں اےک مندر میں بھگوان وشنو کی ٹوٹی مورتی کی مرمت کا حکم دےنے سے جوڑی عرضی خارج کر دی تھی ۔بینچ نے کہا ےہ عدالت نہےں ےہ اثارے قدےمہ کے تحت آتا ہے عرضی گزار سے کہا کہ وہ بھکوان وشنو کے بڑے بھگت ہےں تو پھر انہی سے پراتھنا کرےں اور تھوڑا دھےان لگائےں۔چےف جسٹس کے اس تبصرے کے بعد سناتنی برےگےڈ نے سی جے آئی پر سدھا حملہ بول دےا۔اےک بھکت نے تو ےہاں تک کہہ دےا ججوں کو سڑکوں پر پےٹا جائے گا اگر وہ نہیں سدھرے اس پر جسٹس گوائی نے صفائی دی کہ سوشل مےڈےا پر تو آج کل کچھ بھی چل سکتا ہے۔پرسوں کسی نے مجھے بتاےا کہ آپ نے توہین کی اس پر انہیں نے کہا مےں سبھی دھرموں مےں ےقین اور سبھی کا سمان کرتا ہوں اس پر سرکاری وکےل تشار مہتہ نے بھی کہا کہ سی جے آئی کو پچھلے دس برسوں سے جانتا ہوں وہ سبھی دھرموں کے مندروں اور دےگر مذہب مقامات پر پوری عقےدت سے جاتے ہےں ۔اس دوران چےف جسٹس نے ےہ صاف کےا انکی رائے زنی سے صرف اس سلسلے مےں تھی کہ مندر اے ایس آئی کے اختےار مےں آتا ہے۔سپرےم کورٹ کے وکےلوں اور انکی رکارڈ ایسوسی اےشن نے اپنے بےان مےں کہا کہ ہم اتفاق رائے سے حال میں ایک وکےل کے طرف سے کئے گئے برتاو¿ پر عدم اتفاقی ظاہر کرتے ہےں انہوں نے بھات کے عزت مآب جیف جسٹس انکے ساتھی ججوں اور انکے اختےار کی بے عزتی کی کوشش کی سوشل مےڈےا مےں اس حرکت کی اس لئے بھی ملامت ہو رہی ہے کےو ں کہ چیف جسٹس دلت فرقہ سے آتے ہیں اس لئے بھی انکی بے عزتی کی گئی اور ےہ حملہ صرف چیف جسٹس گوائی پر ہی نہےں بلکہ آئےن پر سدھا حملہ ہے جسکی جتنی مذمت کی جائے کم ہے ےہ معاملہ چیف جسٹس تک محدود نہےں ہے بےشک انہےں نے قصور وار کو معاف کر دےا ہو لےکن دےش اسے معاف نہےں کرے گا۔اسنے صرف چیف جسٹس پر حملہ نہےں کےا لےکن ےہ حملہ پوری عدلیہ نظام کو چنوتی دی ہے اور آئین کی توہین کی ہے اسکی کرنی کی سزا ملنی ہی چاہئے تاکہ مستقبل مےں اےک نظےر بنے ۔نہےں تو اےسے حملے بڑھتے جائےں گے۔ انل نرےندر

09 اکتوبر 2025

زوبن کی موت : حادثہ یا قتل؟

مشہور گلوکار زوبن گرگ کی موت کو لے کر روز روز نئے انکشاف ہو رہے ہیں بتادیں کہ زوبن کی موت 19 ستمبر 2025 کو سنگاپور میں ہوئی تھی ۔بتادیں زوبن کی سنگاپور میں اسکوبا ڈائیونگ کے دوران پراسرار حالت میں موت ہوئی ۔زوبن شام دھانو مہنت اور ان کی کمپنی کی جانب سے آرگنائز ایونٹ کے چوتھے ایڈیشن میں حصہ لینے کے لئے سنگاپور گئے تھے ۔اسکوبا ڈائیونگ کے دوران زوبن نے پانی میں چھلانگ بھری اور کچھ ہی لمحوں میں تڑپتے نظر آئے ۔بتایا گیا کہ جب زوبن گرگ پانی میں سانس لینے کے لئے ہانپ رہے تھے اور تقریباً ڈوبنے کی حالت میں تھے اس وقت سدھارتھ شرما کو جابو دیر جانے دو جانے دو چلاتے ہوئے سنا گیا ۔ایسا ایک گواہ نے بتایا ۔زوبن کی موت کے بعد اس معاملہ کی جانچ جاری ہے ۔فیسٹیول کے آرگنائز ،سنگر کے منیجر سدھارتھ شرما اور بینڈ کے دو ممبر شیکھر ،جوتی گوسوامی اور امرت پربھا مہنت کو گرفتار کر 14 دن کی پولیس حراست میں بھیجا گیا ہے ۔حالانکہ اس دوران جوبن کے بینڈ کے چھ ممبر شیکھر جوتی گوسوامی نے ایک حیرت انگیز انکشاف کیا ہے ۔جس میں انہوں نے بتایا کہ سنگاپور میں زوبن کو زہر دیا گیا تھا ۔جس کی وجہ سے ان کی موت ہو گئی تھی ۔اس معاملے کے مطابق ڈیٹیلس گراو¿نڈ آف اریسٹ یا ڈیمانڈ نوٹ میں جیوتی نے الزام لگایا کہ زوبن کی سنگاپور میں ان کے مینیجر سدھارتھ شرما اور نارتھ ایکٹ انڈیا فیسٹیول کے آرگنائز شیام کانو مہنت نے زہر دیا تھا ۔گواہ نے بتایا کہ زوبن گرگ ایک ٹرینڈ تیراک تھے یعنی وہ تیراکی اچھی طرح جانتے تھے ۔اور اس لئے ڈوبنے سے ان کی موت نہیں ہوسکتی ۔اس نے آگے میں کہا گیا ہے کہ جیوتی گوسوامی نے الزام لگایا کہ شرما اور شیام کانو مہنت نے سنگر کو زہر دیا تھا اور اپنی سازش چھپانے کے لئے جان بوجھ کر بدیش میں جگہ چنی تھی ۔سدھارتھ نے انہیں کشتی کے ویڈیو کسی کے ساتھ شیئر نہ کرنے کی بھی ہدایت دی تھی ۔سی آئی ڈی کا نو ممبری تفتیشی دل ( ایس آئی ٹی ) فی الحال سنگاپور میں گرگ کی موت سے وابستہ معاملے کی جانچ کررہی ہے ۔سی آئی ڈی کے ذرائع نے دستاویز کی اصلیت کی تصدیق کی ہے ۔نوٹ میں کہا گیا ہے کہ گواہ شیکھر جیوتی گوسوامی کے بیان سے پتہ چلا ہے کہ زوبن گرگ کی ڈیتھ سے پہلے موت کا ایکسڈنٹ دکھانے کی سازش رچی تھی۔زوبن کے ساتھ سنگاپور میں رہ رہے سدھارتھ شرما کا رویہ مشتبہ تھا جس کی وجہ سے بیچ سمندر میں خطرناک طریقہ سے کشتی ڈگمگانے لگی تھی ساتھ ہی یہ بھی بتایا گیا کہ ڈوبتے وقت زوبن کے منھ سے اور ناک سے جھاگ نکل رہا تھا تو سدھارتھ نے ضروری میڈیکل سہولیت دستیاب کرانے کے بجائے اسے ایسڈ رپلکس بتا کر ٹال دیا اور دوسروں کو تسلی دی کہ پریشانی کی کوئی بات نہیں ہے زوبن کی موت کی جانچ کے لئے آسام حکومت نے معاملے کی جانچ ایک ممبری جوڈیشیل کمیشن کوبھی سونپ دی ہے ۔سیاسی محکمہ کے جاری حکم میں کہا گیا ہے کہ گوہاٹی ہائی کورٹ کے جج سمتر سیکیا کی سربراہی والے یہ کمیشن چھ ماہ کے اندر اپنی رپورٹ سونپے گا ۔ادھر زوبن کی بیوی گریما سیکیا گرگ نے سنیچر کو اپنے شوہر کے پوسٹ مارٹم رپورٹ پولیس کو لوٹاتے ہوئے کہا کہ یہ ان کا ذاتی دستاویز نہیں ہے اور جانچ پوری ہونے تک ہم طے کر پائیں گے کہ اس رپورٹ کو سامنے لایاجانا چاہیے یا نہیں ۔گریما نے اخباری نمائندوں سے کہا کہ انہیں پورا بھروسہ ہے جانچ میں سنگاپور میں زوبن کی موت کے پیچھے اصل حالات کا پتہ لگا لیا جائے گا ۔انہوں نے کہا کہ وہ بس چاہتی ہیں کہ جانچ صحیح طریقہ سے کی جائے اور سچائی جلد سے جلد سامنے آئے ۔جب گریما نے زوبن کے بینڈ میں شامل شیکھر جیوتی گوسوامی کے گلوکار کو زہر دیے جانے کے دعوے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے سوال کیا کہ شیکھر اتنے لمبے عرصہ تک کیوں چپ رہے ۔اگر شیکھر کو پتہ تھا تو انہوں نے یہ بات اتنے دنوں تک کیوں چھپائے رکھی ۔ (انل نریندر)

07 اکتوبر 2025

بہار میں کانٹے کی ٹکر نظر آتی ہے!

بہار میں اسمبلی چناو¿ کی تیاریاں شروع ہو گئی ہیں ۔پارٹیوں کے درمیان سیٹوں کے تجزیہ جاری ہیں ۔اس درمیان الیکشن کمیشن نے ایس آئی آر یعنی انسینٹو رویژن لسٹ کا ڈرافٹ بھی جاری کر دیا ہے اس کے مطابق بہار میںاب 7.42 کروڑ ووٹر ہیں اب۔ اب چناو¿ کا اعلان ہو گیا ہے بہار میں 6 اور 11 نومبر کو اسمبلی چناو¿ ہوں گے ۔نتیجے 14 نومبر کو آئیں گے ۔بہار اسمبلی کی موجودہ میعاد 22 نومبر 2025 کو ختم ہور ہی ہے ایسے میں ریاست میں چناو¿ میعاد ختم ہونے سے پہلے تک کرائے جارہے ہیں ۔قارئین کی جانکاری کے لئے بہار میں اسمبلی کی 243 سیٹیں ہیں اور سرکار بنانے کے لئے کسی بھی پارٹی یا اتحاد کے پاس 122 سیٹیں ہونا ضروری ہے ۔بہارمیں فی الحال جے ڈی یو اور بھارتیہ جنتا پارٹی اتحادی این ڈی اے کی سرکار ہے اور آر جے ڈی کے تیجسوی یادو بہار اسمبلی میں اپوزیشن کے لیڈر ہیں ۔اسمبلی میں ابھی بی جے پی کے 80 ممبران ہیں اور آر جے ڈی کے 77 جے ڈی یو کے 45 اور کانگریس کے 19 کمیونسٹ پارٹی کے 11 ہندوستانی عوام مورچہ (سیکولر ) کے 4 کمیونسٹ پارٹی ماسک وادی کے دو کمیونسٹ پارٹی کے دو اویسی کی پارٹی کا ایک دو آزاد ممبر اسمبلی ہیں ۔سبھی پارٹیاں ووٹروں کو لبھانے کے لئے جم کر ریوڑیاں بانٹ رہی ہیں ۔کہیں تو بہار کی 75 لاکھ عورتوں کے کھاتے میں 10-10 ہزار روپے پہنچ رہے ہیں تو کہیں چناو¿ کے لئے کوڈ آف کنڈکٹ ہونے سے پہلے وزیراعلیٰ نتیش کمار کی طرف سے کروڑ روں روپے کے پروجیکٹوں کا اعلان کر دیا گیا ۔عورتوں کے کھاتے میں پیسہ دینے کے وعدے کے بعد اب پی ایم مودی نے لڑکوں کے لئے قریب 62 ہزار کروڑ روپے اسکیمیں شروع کی ہیں ۔ان میں بہار کے لئے بھی کافی اسکیمیں ہیں ۔ان اسکیموں سے لگتا ہے بہار چناو¿ حکمراں مرکز کی این ڈی اے سرکار کے لئے بہت اہم رکھتا ہے اور مرکزی قیادت کسی بھی صورت میں بہار کو کھونا نہیں چاہتی ۔ان اسکیموں سے لگتا ہے کہ پی ایم مودی اور وزیراعلیٰ نتیش کمار عورتوں اور نوجوانوں پر خاص توجہ دے کر چناو¿میں جیت کے امکانات بڑھانے کی کوششیں کررہے ہیں ۔دوسری جانب مہا گٹھ بندھن بھی ایڑھی چوٹی کا زور لگا رہا ہے ایس آئی آر ،ووٹ چوری اور آئین کی حفاظت ان کے اہم اشو ہیں ۔این ڈی اے کی اندرونی کھینچ تان بھی جاری ہے ۔جو تشویش کا موضوع بنی ہوئی ہے ۔اس بار چناو¿ میں ایک نیا فیکٹر بھی جڑ گیا وہ ہے پی کے یعنی پرشانت کشور اور ان کی جن سوراج پارٹی کے حکمراں این ڈی اے سرکار کے وزیرہیں ۔پرشانت کشور اپنے ریلیوں میں زبردست بھیڑ اکٹھی کررہے ہیں ۔دیکھنا یہ ہے کہ یہاں کے لوگ کس پارٹی کو ووٹ ڈالتے ہیں این ڈی اے یا مہا گٹھ بندھن ؟ اگر پی کے 10-12 سیٹیں نکال لیتے ہیں تو وہ کنگ میکر کے رول میں آسکتے ہیں ۔بہار میں اس وقت لڑائی این ڈی اے بنام مہا گٹھ بندھن بنام جن سوراج پارٹی کے درمیان دکھائی پڑتی ہے ۔میں شخصی طور سے ان چناو¿ سے پہلے ہوئے سرووں پر یقین نہیں رکھتا لیکن جو ان پر یقین کرتے ہیں ان کی جانکاری کے لئے تازہ سروے کی تفصیل دے رہا ہوں ۔نتیش کمار ،تیجسوی یا پرشانت کشور ۔۔۔ بہار کا کون اگلا وزیراعلیٰ نام کے کسی سی ووٹر کا تازہ سروے آیا ہے ۔2025 میں اگلا وزیراعلیٰ کون ہوگا ؟ اس کو لے کر لوگوں میں کریز بڑھ گیا ہے ۔حالیہ سی ووٹر سروے نے دکھایا ہے کہ تیجسوی یادو ابھی بھی لوگوں کی سب سے زیادہ پسندیدہ وزیراعلیٰ کے دعویدار ہیں۔چونکانے والی بات یہ ہے کہ پرشانت کشور نے مقبولیت میں نتیش کمار کو پیچھے چھوڑتے ہوئے دوسرا مقام حاصل کیا ہے ۔کون جیت رہا ہے یہ کہنا مشکل ہے لیکن کانٹے کی ٹکر ہے ۔این ڈی اے ،اندیا مہاگٹھ بندھن اور پرشانت کی بھی جن سوراج پارٹی کے درمیان تکونے مقابلے نے چناوی لڑائی کو دلچسپ بنا دیا ہے ۔سوال یہ بھی ہے کہ کیا نتیش کمار مسلسل تیسری بار ریگولر وزیراعلیٰ بن پائیں گے یا پھر این ڈی اے کی جیت ہوگی ۔تو کیا بی جے پی کسی وزیراعلیٰ کے عہدے پر کسی نئے چہرے کا اعلان کرے گی ۔وہیں اگر اپوزیشن کامیاب ہوتی ہے تو اس کا وزیراعلیٰ کون ہوگا ؟ کیوں کہ ابھی تک اس موضوع پر کانگریس نے کچھ کھل کر بات نہیں کی ہے ۔سی ووٹر کے مطابق بہار کے سابق نائب وزیراعلیٰ اور آر جے ڈی کے لیڈر تیجسوی یادو کو تقریباً 35 فیصدی لوگوں نے ہونے والا وزیراعلیٰ کی شکل میں اپنی رائے دی ہے ۔جبکہ نتیش کمار کو اس سروے میں تیسری پسند بتایا گیا ہے ۔انہیں صرف 16 فیصد لوگو ںنے چنا جبکہ دوسرے نمبر پر سیاستداں سے حکمت عملی بنے پرشانت کشور کی مقبولیت اس سروے میں سب سے پسندیدہ وزیراعلیٰ کی شکل میں ہے جو 23 فیصد تک پہنچ گئی ہے ۔جیسا کہ میں نے کہا مجھے ان جائزوں پر یقین نہیں ہے ان سے اتنا تو پتہ چلتا ہے کہ بہار میں کیسی سیاسی ہوا بہہ رہی ہے ۔ (انل نریندر)

04 اکتوبر 2025

قیدیوں کی رہائی تک بات چیت نہیں!

کارگل ڈیموکریٹک الائنس (کے ڈی اے ) نے منگلوار کو کہا کہ قیدیوں کی رہائی تک مرکزی سرکار سے کوئی بات چیت نہیں ہوگی ۔تنظیم نے فائرنگ کے واقعہ کی جوڈیشیل انکوائری کی بھی مانگ کی ہے ۔وہیں کے ڈی اے نے لیہہ اپیکس باڈی کے مرکز کے ساتھ بات چیت ملتوی کرنے کے فیصلے کی بھی حمایت کی ہے ۔گزشتہ 24 ستمبر کو ہوئے تشدد میں 4لداخیوں کی موت ہو گئی اوردرجنوں زخمی ہوئے تھے مرنے والوں میں کارگل لڑائی میں حصہ لینے والے سابق فوجی تپ سیوانگ تھارین بھی شامل تھے۔راہل گاندھی نے ایکس پر لکھا کہ کیتھرین کے والد کا جو ویڈیو سامنے آیا ہے اس سے پتہ چلتا ہے پتہ بھی فوجی ہے اور بیٹا بھی فوجی ہے جن کے خون میں حب الوطنی بسی ہے پھر بھی حکومت نے دیش کے بہادر بیٹے کی فائرنگ کرکے جان لے لی ۔صرف اس لئے چونکہ وہ لداخ اور اپنے حق کے لئے کھڑا تھا ۔بتادیں کہ 24 ستمبر کو ایل اے بی کے ذریعے بلائے گئے بند میں تشدد و مظاہرے ہوئے تھے اس میں چار لوگوں کی جان چلی گئی تھی ۔150 لوگوں کو دنگا بھڑکانے کے الزام میں حراست میں لیا گیا ۔آندولن کا چہرہ بنے سونم وانگچک کو این ایس اے کے تحت گرفتار کر جودھپور جیل میں بھیج دیا گیا ۔سونم وانگچک کی بیوی گیتانجی وانگچک نے منگل کو کہا کہ ان کے پتی سونم وانگچک کو 26 ستمبر کو قومی سلامتی قانون کے تحت حراست میں لیا گیا تھا ۔حراست پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ سونم وانگچک سمیت ابھی تک 60 ہندوستانیوں کو نیکسے سے ایوارڈ ملا ہے ان میں سے 20 کو حکومت ہند نے پدم شری ،پدم وبھوشن بھی دیا ہے ۔تو کیا سرکار اینٹی نیشنل کو بھی یہ سبھی ایوارڈ دیتی ہے ۔نوبھارت ٹائمس میں شائع رپورٹ میں ڈاکٹر گیتانجلی نے سیدھا سوال کیاکہ اگر سونم اینٹی نیشنل تھے تو یہی سرکار انہیں اتنا انعام سے کیوں نواز رہی تھی ۔ابھی ایک مہینے سے ایسا کیا ہوا ؟ جو اچھا کام کررہا ہے اس کو نشانہ پر لیا جارہا ہے ۔انہوں نے اپنے انسٹی ٹیوٹ کو ملے مبینہ ڈونیشن کے بارے میں کہا کہ وہ ڈونیشن نہیں بلکہ باہر کی یونیورسٹی نے ان کی ریسرچ خریدی تھی ۔گیتانجلی نے کہا کہ سونم اور ان کے ہمالیہ انسٹی ٹیوٹ آف آل نریٹو لداخ کے بارے میں جو بدگمانی پھیلائی جارہی ہے وہ سب سراسر غلط ہے۔سی بی آئی اور آئی ٹی سے لے کر سبھی کو انہوں نے ثبوت دیے ہیں ۔کہیں بھی کچھ نہیں ملا ۔گیتانجلی کا کہنا تھا کہ اگر کوئی پاکستانی سسٹم لداخ میں دکھا تو ہمارا سوال یہ ہے کہ آپ نے یہ سیفٹی پروٹوکال کیسے بریچ ہونے دیا؟ اس کا جواب ہم نہیں بلکہ مرکزی وزارت داخلہ کو دینا چاہیے ۔سونم کے سیاست میں آنے کی بات کو بھی درکنار کرتے ہوئے کہا کہ ہر بار جب بھی چناو¿ آتے ہیں تو سبھی سیاسی پارٹی انہیں اپروچ کرتی ہیں لیکن وہ کوئی چناو¿ نہیں لڑیں گے ۔کہا تین بار تو میرے سامنے ہی انہوں نے آفر ریجکٹ کی ہے ۔سرکار کو تشدد اور نفرت کی سیاست بند کرکے بات چیت کرنا چاہیے ۔سونم وانگچک کو دیش ملک دشمن ماننے کو کوئی تیار نہیں جو آدمی ہندوستانی فوج کے لئے سولر پلانٹ بنا سکتا ہے تاکہ ہمارے فوجی کڑاکے کی ٹھنڈ سے بچ سکیں ۔وہ ملک دشمن کسے ہوسکتا ہے ۔چین سے سیدھے ٹکر لینے والے لداخیوں سے اچھا دیش بھکت میں اور کون ہوسکتا ہے؟ آج لداخ میں کیا حالات ہیں ۔خبر رساں ایجنسی بھاشا کی یہ رپورٹ ظاہر کرتی ہے کہتی ہے کہ 22 اپریل کو جموں وکشمیر کے پہلگام میں ہوئے آتنکی حملے کے بعد وسیع پیمانہ پر بکنگ کینسل ہونے سے صنعت کو زبردست جھٹکا لگا تھا لیکن اب لیہہ میں ہوئے تشدد سے سیاحوں کا بھروسہ ٹوٹنے لگا ہے ۔ایل اے بی کے ذریعے بند کے دوران کئی جھڑپوں کے بعد 24 ستمبر کو لیہہ شہر میں بے میعادی کرفیو لگایاگیا تھا جس میں اب تھوڑی راحت دی گئی ہے۔لیہہ اپیکس باڈی لداخ کو ریاست کا درجہ دینے اور اسے اسپیشل فہرست میں شامل کرنے کے لئے تحریک چلا رہی ہے ۔لداخ میں انٹرنیٹ سروس بند رہیں اس وجہ سے ساری بکنگ منسوخ ہونے لگیں اور مقامی لوگوں کو بہت نقصان ہوا ہے ۔اور مشکلوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔مسافر اپنے کمروں میں بند ہیں مرکزی سرکار کو لداخ کی اہمیت سمجھنی چاہیے وہ چین اورپاکستان سے لگتا سرحدی علاقہ ہے ۔لداخیوں نے ہمیشہ دیش کی حفاظت میں اگلی صف میں حصہ لیا ۔مرکزی سرکارکو فوراً وہاںا من بحال کرنا چاہے اور سبھی قیدیوں کو رہا کر سارے کیس واپس لینے چاہیے ۔ایسا اپیکس باڈی کا کہنا ہے امید کی جانی چاہیے کہ مرکزی سرکار اس برننگ صورتحال کا بلا تاخیر حل نکالے گی ۔ (انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...