Translater

26 مارچ 2016

برسلز اب اسلامی آتنکیوں کی یوروپی راجدھانی

بلجیم کی راجدھانی برسلز میں منگلوار کو ہوئے بم دھماکے پیرس حملے کے ملزم صالح عبدالسلام کی گرفتاری کے چاردن بعد ہوئے ہیں۔ نومبر2015 میں پیرس میں اسلامک اسٹیٹ (آئی ایس) کے بیحد خطرناک حملے کے ایک دن بعد ہیں اس دہشت گرد تنظیم نے اس حملہ کی ذمہ داری لی تھی اور یہ اطلاع جاری کی تھی کہ فرانس اور اس کے حمایتی دیشوں پر اس طرح کا حملہ کیا جائے گا۔فرانس کی جانچ ایجنسیوں کو اس حملہ کی تہہ میں پہنچنے میں سب سے زیادہ مدد بلجیم نے کی تھی۔ پیرس حملہ کی سازش میں اہم کردار نبھانے والے صالح عبدالسلام کی گرفتاری کے بعد ہی بلجیم کی سکیورٹی ملازمین کو چوکنا ہونا پڑا تھا لیکن بلجیم کی سکیورٹی ایجنسیاں دہشت گردوں کے نیٹ ورک کو تباہ کرنے میں ناکام رہی ہوں برسلز میں آتنکی حملوں کو بھی نہیں روک سکیں۔ ماہرین کے مطابق اس بات کا پورا امکان ہے کہ صالح عبدالسلام کی گرفتاری سے پہلے یہ حملہ منظم اور کئی ہفتوں کی تیاری کے بعد کیا گیا۔ یہ بلجیم میں وسیع اور خطرناک آتنکی نیٹورک کی موجودگی کا بھی اشارہ کرتا ہے۔ بلجیم کے تھنک ٹیک ایگروموٹ کے مطابق بلجیم غیر ملکی لڑاکوؤں کی پناہ گاہ بن گیا ہے۔ اس کے مطابق بلجیم ہی ایک ایسا دیش ہے جہاں سے فی شخص کے حساب سے سب سے زیادہ لڑاکے شام جاکراسلامک اسٹیٹ میں شامل ہوتے ہیں۔ برسلز بلجیم کا سب سے بڑا میٹرو پولیٹن شہر ہے۔ 62 فیصد لوگ یہاں باہری ہیں۔ یہاں نارتھ اٹلانٹک ٹریٹی آرگنائزیشن (نیٹو) و یوروپی کمیشن کا ہیڈ کوارٹر ہے۔ واشنگٹن کے بروکنگ انسٹی ٹیوشن کے مطابق حال ہی میں یہاں سے650 لڑاکے آئی ایس میں شامل ہونے شام گئے۔ آدھے سے زیادہ مسلم آبادی خط افلاس کی زندگی بسر کررہی ہے۔رون جین معاہدے کی وجہ سے بلجیم کا بارڈر جرمنی، فرانس، نیدر لینڈ اور لگژمبرگ کے ساتھ کھلا رہتا ہے۔ دہشت گردوں کے لئے یہ آرام دہ ہے۔شام سے وہ اسی طرح بلجیم میں گھس آتے ہیں اور اس کے بعد یوروپی شہروں میں حملہ کرنے کا پلان بنا تے ہیں۔ پچھلے 9 نومبر کو پیرس میں ہوا آتنکی حملہ اسی پلان کا حصہ تھا۔ اس دیش کا سکیورٹی سسٹم کمزور ہے۔ یہاں کے شہری بھی عام طور پر زیادہ پوچھ تاچھ، پولیس انتظام پسند نہیں کرتے۔ مسلم تارکین وطن کی بڑھتی تعداد، کٹر پسندوں کے اثر اور آئی ایس کی آئیڈیالوجی سے متاثر نوجوانوں کے چلتے بلجیم کی راجدھانی برسلز اب دہشت گردی کی یوروپی راجدھانی بن چکی ہے۔ یوروپی ایجنسی یوروپول کی حالیہ رپورٹ کے مطابق بلجیم سے ہی سب سے زیادہ500 آتنکی آئی ایس میں شامل ہونے شام گئے ہیں۔ اتنے کسی دوسرے یوروپی دیش کے لوگ آئی ایس سے نہیں جڑے ہیں۔ سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ شام سے 130 نوجوان بلجیم لوٹ آئے ہیں۔ ان میں سے کئی کو گرفتار بھی کیا گیا ہے لیکن خطرے کی بات یہ ہے کہ کوئی نہیں جانتا ہے کتنے دہشت گرد شام گئے اور کتنے لوٹے۔ برسلز حملہ کو بیحد باعث تشویش اس لئے بھی مانا جانا چاہئے کیونکہ اس سے پتہ چلتا ہے کہ آئی ایس کا نیٹورک نہ صرف بیحد خوفناک طریقے سے بڑھ گیا ہے بلکہ وہ اپنی مرضی سے وارداتوں کو تب تک انجام دے رہے ہیں جب تک سکیورٹی ایجنسیاں کہنے کو بیحد چوکنا ہیں۔ بلجیم کی راجدھانی برسلز میں ہوئے بم دھماکوں کو نزدیک سے محسوس کرنے والوں میں بالی ووڈ گلوکار ابھیجیت کی بیوی سمتی بھٹاچاریہ اور بیٹے بھی ہیں۔ سمتی نے اپنے شوہر کو فون کرکے بتایا جس وقت دھماکے ہوئے تھے اس وقت ان کا جہاز ہوائی اڈے پر اترا تھا۔ ابھیجیت نے ٹوئٹ کرکے بتایا کہ برسلز دھماکے کے بعد بیوی اور بیٹے سے بات ہوئی ہے، دونوں محفوظ ہیں اور محفوظ زون میں ہیں۔
(انل نریندر)

’کانگریس مکت بھارت‘ کا تعبیر ہوتا بی جے پی کا خواب

اترا کھنڈ میں جاری سرکار گرانے اور بچانے کا کھیل صرف ایک ہی ریاست کی سیاست تک محدود رہنے والا واقعہ نہیں ہے۔دراصل یہاں اقتدار کی لڑائی دیش کی سب سے پرانی اور سب سے زیادہ وقت تک راج کرنے والی کانگریس پارٹی کے وجود سے جڑ گئی ہے۔ اتراکھنڈ میں اگر ہریش راوت اپنی اکثریت ثابت کرنے میں ناکام رہتے ہیں تو کانگریس کے ہاتھ سے نکلی ریاستوں کی لسٹ میں ایک اور نام جڑ جائے گا اور ’کانگریس مکت بھارت‘ کے ایجنڈے پر کام کے لئے بی جے پی کو زیادہ حوصلہ ملے گا۔ لوک سبھا چناؤ کے وقت بی جے پی نے جب ’کانگریس مکت بھارت ‘کا نعرہ دیا تھا تو کانگریس کی طرف سے طنز کیا گیا تھا کہ ہمیں برطانوی حکومت بھی ختم نہیں کر پائی تو بی جے پی کی کیا بساط، جو صرف کچھ ریاستوں میں ہی پہچان رکھتی ہے؟ لیکن اب جب ٹھنڈے دماغ سے غور کریں اور دیکھیں تو کانگریس کے ہاتھ سے ایک ایک کرکے ریاستیں نکلتی جارہی ہیں اور پارٹی سمٹتی جارہی ہے۔ دہلی اور مکمل ریاست کا درجہ حاصل یافتہ 29 ریاستوں کی سیاسی تصویر کو دیکھا جائے تو کانگریس کی حکومت صرف7 ریاستوں، کرناٹک، ہماچل، آسام، اتراکھنڈ، منی پور، میگھالیہ، میزورم تک سمٹ کر رہ گئی ہے۔ بہار میں وہ تکنیکی طور سے اقتدار میں سانجھے دار تو ہے لیکن وہاں اس کا سیاسی مستقبل جے ڈی یو ،آر جے ڈی کی بیساکھی پر ٹکا ہے۔ عام چناؤکے بعد جتنے بھی راجیوں میں اسمبلی چناؤہوئے، کانگریس کو اقتدار گنوانا پڑا ہے۔ ابھی تک ایک بھی ریاست میں اسے کامیابی نہیں ملی ہے۔ کانگریس بھلے ہی 1977,89,96,98 اور 1999 میں مرکزی اقتدار سے باہر رہی ہو لیکن کرناٹک ، مہاراشٹر، راجستھان، مدھیہ پردیش، پنجاب، کیرل، دہلی جیسی اہم ریاستوں میں اس کی حکومت رہی ہے۔ 2014 میں مرکزی اقتدار سے بے دخلی کے بعد یہ کانگریس کے لئے پہلا موقعہ ہے جب وہ اہم ترین ریاستوں سے غائب ہوگئی ہے۔ بیشک بی جے پی کے لئے یہ سکون کی بات ہے۔ بی جے پی کو ’’کانگریس مکت بھات‘‘ کا ایجنڈہ پورا ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ کانگریس کے اس الزام میں دم ہوسکتا ہے کہ مرکزی سرکار اس کے زیر انتظام ریاستوں میں عدم استحکام پیدا کر وہاں اپنی حمایت والی سرکار بنانا چاہتی ہے، لیکن اس سوال کا جواب بھی کانگریس کو دینا ہوگا کہ وہ اپنے گھر کے کیل کانٹے درست کیوں نہیں کر پا رہی ہے، جس کی وجہ سے بی جے پی کو گھس پیٹھ کرنے کا موقعہ مل رہا ہے؟ کانگریس کے لئے پہلی ضرورت ہے اتراکھنڈ کی سرکار بچانا تاکہ اس کے ہاتھ سے ایک اور ریاست نہ نکل جائے۔ کانگریس کے لئے آگے کا راستہ بھی آسان نہیں ہے۔ آسام میں اگلے مہینے چناؤ ہیں جہاں پچھلے15 برسوں سے کانگریس کی حکومت ہے۔ ابھی تک تو تجزیہ میں کہا جارہا ہے کہ اقتدار میں لوٹنا کانگریس کے لئے چیلنج بھرا ہوگا۔ اب اگر اتراکھنڈ بھی کانگریس کے ہاتھ سے نکلتاہے تو کانگریس کا پاور بینک صرف کرناٹک تک محدود ہوکر رہ جائے گا۔ جہاں2018ء میں چناؤ ہیں۔ پچھلے مہینے وہ اروناجل گنوا چکی ہے۔ منی پور کے حالات بھی اچھے نہیں بتائے جاتے۔60 نفری منی پور اسمبلی کے چناؤ اگلے ماہ تجویز ہیں۔ اروناچل اور اتراکھنڈ میں بغاوت سے منی پور میں باغیوں کا حوصلہ بڑھنا فطری ہے۔ کبھی بھی وہاں سیاسی بحران کھڑا ہوسکتا ہے۔ ایک ایک کرکے ریاستوں میں اقتدار سے باہر ہورہی کانگریس کے لئے اپنا وجود بچانے کا سنگین بحران کھڑا ہے۔
(انل نریندر)

24 مارچ 2016

پیرس کے بعد اب بروسیلز

دہشت گردی نے ایک بار پھر یوروپ کو نشانہ بنایا ہے ،بلجیم کی راجدھانی بروسیلز کے ہوائی اڈے اور ایک میٹرو اسٹیشن پر منگلوار کو ہوئے سلسلہ وار بم دھماکوں میں کم سے کم34 لوگوں کی موت ہوگئی اور200 سے زیادہ زخمی ہوگئے۔ بروسیلز کو یوروپی یونین کی راجدھانی کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ اسلامک اسٹیٹ (آئی ایس) نے حملہ کی ذمہ داری ہے۔ صرف چاردن پہلے بلجیم کی پولیس نے نومبر ہوئے پریس حملہ کے اہم سازشی صالح عبدالسلام کو بروسیلز کے میٹرو اسٹیشن کے پاس سے گرفتار کیا تھا۔ مانا جارہا ہے کہ یہ آتنکی حملہ اسی کا بدلہ ہے۔ بلجیم کے وزیر اعظم چارلس مائیکل نے بتایا کہ ہوائی اڈے پر ہوئے حملے میں فدائین شامل تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہم جنگ کے حالات سے گزر رہے ہیں۔ ایئرپورٹ پر ہوئے آتنکی حملے میں بڑی تعداد میں ہندوستانی مسافر بال بال بچ گئے ہیں۔اس وقت بھارت کی پرائیویٹ ایئر لائنس جیٹ ایئر بیس کے کئی جہاز ہوائی اڈے پر موجود تھے۔ بم دھماکے سے 50 منٹ پہلے ایک جہاز ممبئی سے ایئرپورٹ پر اترا تھا جبکہ دہلی سے پہنچا ایک دوسرا جہاز حملے کے 10 منٹ بعد اترا۔ سبھی مسافروں کو ہوائی اڈے سے بحفاظت باہر نکال لیا گیا۔ حالانکہ وہاں 600 سے زیادہ ہندوستانی پھنسے تھے، جس جگہ دھماکہ ہوا وہ یوروپی یونین کی اہم بلڈنگ سے تھوڑی دور ہے۔ ایئرپورٹ پر دھماکے امریکی ایئرلائنس کے روانگی ایریا کے اہم ہال میں ہوئے۔ دھماکے اتنے زبردست تھے کہ پورا ہال تباہ و برباد ہوگیا۔ پاس کھڑے جہازوں کی کھڑکیو ں کے شیشے بھی ٹوٹ گئے۔ پولیس کو تلاشی کے دوران ایک بم ملا جسے ناکارہ کردیا گیا۔ بغیر استعمال دھماکو سامان سے لدی بیلٹ اور ایک حملہ آور کی لاش کے پاس سے کلاشنکوف رائفل بھی ملی ہے۔ چشم دید گواہوں نے بتایا کہ بم دھماکوں سے پہلے حملہ آوروں نے فائرننگ کی اور عربی زبان میں نعرے بھی لگائے۔ فوج نے ایک آتنکی کو مار گرایا۔ مصر کے روزنامہ اخبار’’الوطن‘‘ نے اسلامک اسٹیٹ( آئی ایس) کے حوالے سے یہ بروسیلز حملہ کی ذمہ داری لی ہے۔ پچھلے دنوں شام میں خانہ جنگی کے چلتے لاکھوں مہاجرین یوروپ میں پناہ لینے پہنچے ہیں۔ کہا جارہا ہے کہ اسلامک اسٹیٹ نے ان مہاجرین کے درمیان اپنے فدائی بھی یوروپ میں داخل کرادئے ہیں۔ آج پورا یوروپ دہشت گردی کے خطرے کا شکار ہے۔ کچھ ہی وقت پہلے پیرس میں بھی حملہ ہوا۔ بھارت تو بہت برسوں سے اسلامی آتنک واد کا شکار رہا ہے۔یہ کتنا خطرناک ہے یہ اب یوروپ کو بھی احساس ہونے لگا ہے۔
(انل نریندر)

88 سال بعد کیوبا جانے والے امریکی صدر براک اوبامہ

امریکی صدر براک اوبامہ نے اپنے عہد کے آخری دنوں میں ایک اور تاریخی پہل اپنے نام درج کرالی ہے۔ اتوار کو وہ سہ روزہ سرکاری دورہ پر کیوبا گئے اور کیوبا کی راجدھانی حوانا پہنچنے پر ان کا شاندار خیر مقدم کیا گیا۔ ان کے ساتھ ان کی بیوی خاتون اول مشیل اوبامہ اور ان کی تینوں بیٹیاں بھی تھیں۔ اس سے پہلے جانے والے امریکی صدر کالون کولیز تھے جو88 سال پہلے 1928ء میں جنگی جہاز سے پہنچے تھے۔ ان 88 برسوں میں دنیا کتنی بدل گئی ہے۔ کہاں توا مریکہ کیوبا کو خاص کر اس کے سربراہ مملکت فیڈرل کاستروکو اپنا سب سے بڑا دشمن مانتا تھا اور کہاں آج اتنے برسوں کی دشمنی دوستی میں بدلی تو اوبامہ کیوبا چلے گئے۔ شاید ہی کسی دیش کے ساتھ امریکہ کے ایسے تعلقات رہے ہوں جیسے کیوبا سے رہے۔ الزام لگتے رہے ہیں کہ امریکہ نے فیڈرل کاسترو کو مارنے تک کی کوششیں کروائیں۔ طویل عرصے سے کاسترو کی حفاظت میں رہے سیوین اے اکلانتے کے مطابق امریکہ کی خفیہ ایجنسی سی آئی اے نے کاسترو کے قتل کے لئے 638 بار کوشش یا پلاننگ کی۔ ایک دلچسپ قصہ کاسترو کی سابقہ معشوقہ ماریتا لورنج کا بھی ہے۔کاسترو کی اس سے 1958 ء میں ملاقات ہوئی تھی۔ وہ بعد میں سی آئی اے کی مدد پر راضی ہوگئی اور کاسترو کے کمرے میں زہر کی گولیوں والی کولڈ کریم پہنچانے کی کوشش کی۔ کاسترو کو پتہ چل گیا تو انہوں نے اسے بندوق دی اور اس سے کہا کہ تم مجھے مارنا چاہتی ہو نہ ، لو مار لو۔ ایک بار کاسترو نے کہا تھا، قتل کی کوشش سے بچنے پر اگر اولمپک کروایا جاتا تو میں گولڈ میڈل جیتتا۔پچھلے سال جولائی میں کیوبا اور امریکہ نے اپنے رشتوں کو بہتر کرنے کی شروعات کی تھی۔ اس دوران کیوبا کے صدر راؤل کاسترو اور براک اوبامہ نے مشترکہ بیان بھی جاری کیا تھا۔ کیوبا نے 54 سال بعد ستمبر 2015 میں امریکہ میں اپنا سفیر معمور کیا تھا۔ ایسے ہی اگست 2015ء میں امریکہ نے کیوبا کی راجدھانی حوانا میں اپنا سفارتخانہ 54 سال بعد پھر کھولا۔ ایتوار کی شام جیسے ہی ایئر فورس 1 نے حوانا ہوائی اڈے کو چھوا تو امریکی برصغیر میں نئی تاریخ رقم ہوگئی۔ امریکہ نے 54 سال پہلے کیوبا پر اقتصادی پابندیاں لگائی تھیں، وہ ابھی بھی برقرار ہیں۔ امریکہ اور کیوبا کے رشتے 1959ء میں خراب اس وقت ہوئے جب فیڈرل کاسترو نے انقلاب کے ذریعے امریکہ کی حمایتی سرکار کا تختہ پلٹ کر کیوبا میں کمیونسٹ حکومت قائم کردی تھی۔ دہائی بھر میں اوبامہ نے اپنے عہد کے آخری دنوں میں یہ تاریخ رقم کردی۔ امریکہ کے نکتہ نظر سے یہ انقلابی قدم اٹھایا گیا اس کا خیر مقدم ہے۔
(انل نریندر)

23 مارچ 2016

اتراکھنڈ اسمبلی میں اکثریت ثابت کرنی ہوگی

اکثر دیکھا گیا ہے کہ چھوٹی ریاستوں میں سیاسی عدم استحکام اکثر بنا رہتا ہے۔ ان ریاستوں میں سیاسی عدم استحکام کس طرح رہ رہ کر سر اٹھاتا ہے اس کی تازہ مثال ہے اتراکھنڈ۔ریاست میں ہریش راوت کی قیادت میں کانگریس حکومت بحران میں پھنس گئی ہے۔9 کانگریسی ممبران اسمبلی نے وزیر اعلی کے خلاف بغاوت کردی ہے۔ ہریش راوت سرکار کا مستقبل بھنور میں پھنسا ہے۔ چونکانے والی بات تو یہ ہے کہ باغی ممبران میں سے سابق کانگریسی وزیر اعلی وجے بہو گنا بھی شامل ہیں۔ یاد رہے کانگریس ہائی کمان نے اچانک وجے بہوگنا کو ہٹا کر ہریش راوت کو اس لئے اقتدار سونپا تھا کیونکہ وہ اپنے ہی ممبران کی ناراضگی سے لڑ رہے تھے۔ اب وہی صورتحال ہریش راوت کی بنی ہوئی ہے۔ ویسے اتراکھنڈ جب سے بنا ہے محض ایک ہی وزیر اعلی نے اپنی میعاد پوری کی ہے۔ اس بغاوت کے چلتے بھاجپا کو بھی اپناوزیر اعلی بدلنا پڑا تھا۔ دکھ سے کہنا پڑتا ہے کہ یہ سیاسی پارٹیاں مینڈیٹ کا سنمان نہیں کرتیں۔راج کرنے کامینڈیٹ کسی کو ملتا ہے اور راج کوئی اور کرتا ہے۔ اسمبلی میں کل 71 (ایک نامزد) ممبر اسمبلی ہے۔ بغاوت سے پہلے کانگریس کے36 ، بھاجپا کے 28 اور 6 دیگرتھے۔ ایوان میں اکثریت کا نمبر 36 ہے۔ کانگریس کے9 باغیوں کی وجہ سے کانگریس کی ہریش راوت سرکار اقلیت میں آگئی ہے۔9 ممبران اسمبلی کی بغاوت کے بعد سنیچروار کو گورنر ڈاکٹر کرشن کانت نے ہریش راوت کو 28 مارچ تک ایوان میں اپنی اکثریت ثابت کرنے کی ہدایت دی ہے۔ اس سے سرکار کی برخاستگی گورنر راج نافذ ہونے جیسی قیاص آرائیوں پر روک لگ گئی ہے۔ دوسری طرف ہریش راوت نے کیبنٹ میٹنگ بلا کر اپوزیشن کو یہ پیغام دینے کی کوشش کی ہے کہ سرکار نہ صرف وجود میں ہے بلکہ ٹھیک ٹھاک کام کررہی ہے۔ اس کے بعد وزیر اعلی راوت نے باغی ممبر ہرک سنگھ راوت کو وزیر کے عہدے سے برخاست کردیا ہے۔ کانگریس کے باغیوں کی ممبر شپ منسوخ کئے جانے کی تیاری بھی شروع ہوگئی ہے۔ کانگریس کے چیف وہپ اندرا ہردیش نے باغیوں کے خلاف کارروائی کی مانگ اسمبلی اسپیکر سے کی ہے۔ اس کے بعد تمام باغیوں کو وجہ بتاؤ نوٹس جاری کیا گیا ہے۔ آئینی ماہر اور سیاسی مبصرین کے مطابق موجودہ حالات میں اسمبلی میں ہریش راوت کو اپنی اکثریت ثابت کرنا ضروری ہے۔ اسی طرح باغیوں اور اپوزیشن کو ایوان میں ہی اپنی تعداد ثابت کرنی چاہئے۔ مینڈیٹ کی منمانی تشریح کو روکا جانا چاہئے اور سیاسی عدم استحکام کا موجودہ دور جلد سے جلد ختم ہونا چاہئے۔
(انل نریندر)

سی بی ایس ای کے 12 ویں کے ریاضی پیپر پر چھڑا تنازعہ

مسلسل چوتھے برس سینٹرل بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن (سی بی ایس ای) کا 12 ویں ریاضی کا پیپر سوالیہ نشان بنا ہوا ہے۔ 14 مارچ کو ہوا پیپر اتنا مشکل تھا کہ اسے تین گھنٹے میں حل نہیں کیا جاسکتا تھا۔ طلبا کو تو چھوڑیئے اساتذہ تک مانتے ہیں کہ وہ بھی اس سوال نامے کو تین گھنٹے میں پورا نہیں کرسکتے اس لئے معاملہ تو پارلیمنٹ میں بھی اٹھا اور طلبا کی پریشانی یہ ہے کہ کورس سے باہر کے سوال پیپر میں پوچھے گئے۔ ایسے سوال 8 سے10 نمبر کے تھے جبکہ بورڈ کے حکام اس سے انکار کرتے ہیں۔ وہیں سب سے بڑا سوال یہ بھی ہے کہ جب پرچہ بنانے کی کارروائی چھ مہینے پہلے شروع ہوجاتی ہے تو ایسی گڑ بڑی کیوں ہوتی ہے؟ خاص طور پر ہر سال ایسا ہی ہوتا ہے۔ 2015ء میں بھی ایسا ہی ہوا تھا۔ پچھلے سال کی غلطیوں کے باوجود پیپر سیٹ کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی بحث تک سی بی ایس ای نہیں کررہا ہے۔ 2013 ء میں پیپر بہت مشکل آیا تھا اور طلبا نے اس کی شکایت کی تھی۔ ریاضی انتہائی اہم سبجیکٹ ہے۔ انجینئرنگ کے علاوہ بہت سوں کے لئے بھی حساب کا ایک اہم مضمون ہے لیکن آخری وقت میں سوال نامے کے پیٹرن میں تبدیلی کر طلبا کی مشکلیں بڑھا رہا ہے۔نیشنل ایجوکیشن ریسرچ اینڈ ٹریننگ کونسل (این سی آر ٹی) کی طرف سے قومی سطح پر کروائے گئے ایک سروے میں انگریزی، ریاضی، سائنس مضامین میں زیادہ تر ریاستوں کے طلبا کمزور ہیں۔ دہلی، گجرات سمیت 17 ریاستوں کے طلبا کی انگریزی قومی سطح پر تناسب کم ہے جبکہ سائنس میں تو حالت اور بھی خراب ہے۔ دیش بھر کے 10 ویں زیر تعلیم طلبا ریاضی سے ڈرتے ہیں اس کا انکشاف بھی این سی آر ٹی کی ذریعے کئے گئے اس سروے سے سامنے آیا ہے۔
ریاضی کے امتحان میں دیش کے طالبعلموں کے ذریعے تناسب حصول نمبر 40 فیصدی ہے۔ 17 ریاستی ایسی ہیں جہاں اس مضمون میں طلبا 35 یا اس سے کم فیصدی نمبر حاصل کرتے ہیں۔ وہیں ایک بھی ریاست ایسی نہیں جہاں طلبا کا تناسب 60فیصدی سے زیادہ ہے۔ سی بی ایس ای بورڈ کی بات کریں تو 10 ویں کے طالبعلموں کے حاصل کرنے والے نمبر50 فیصدی ہیں جبکہ اس سروے میں سب سے آگے ہے آئی سی ایس ای کے بچے۔خبر ہے کہ سی بی ایس ای نے 12 ویں کے اس ریاضی پیپر میں امتحان دینے والوں کی پریشانی کو دیکھتے ہوئے نمبر دینے کی اسکیم میں رعایت دینے پر غور کررہی ہے۔ یہ رعایت مضمون ماہر کمیٹی کے ذریعے سے دی جائے گی۔ سی بی ایس ای کی پی آر او رما شرما نے بتایا کہ سبھی مضمون کے پیپر کے بعد ایک ماہر کمیٹی مارکنگ اسکیم کا تعین کرتی ہے۔ طلبا کا مستقبل اس سے سیدھا جڑتا ہے اور امید کرتے ہیں کہ طلبا کے ساتھ انصاف ہوگا۔
(انل نریندر)

22 مارچ 2016

راجدھانی دہلی بن گئی ہے نقلی کرنسی کا اڈہ

یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ دیش کی راجدھانی دہلی اب نقلی کرنسی کا مرکز بن گئی ہے۔ دیش میں چار برس کے دوران قومی راجدھانی میں سب سے زیادہ50 کروڑ روپے مالیات کے نقلی نوٹ پکڑے گئے ہیں۔ نقلی کرنسی چلا کر دہشت گردوں کو مدد پہنچانے کی بات بھی سامنے آئی ہے۔ مرکزی وزارت داخلہ کی ایک رپورٹ کے مطابق تفتیشی ایجنسیوں کو اس بات کے پختہ ثبوت ملے ہیں کہ پکڑی گئی کرنسی پاکستان میں واقع ایک پریس میں چھپی ہے۔دہلی تک اس کرنسی کو پہنچانے کے لئے ساؤتھ اور ساؤتھ مشرق ایشیائی خطہ میں بنے خودکفیل کرائم نیٹ ورک کی مدد لی جاتی ہے۔ جن دیشوں سے نقلی نوٹ ہندوستانی سرحد میں لائے جاتے ہیں ان میں خاص ہیں نیپال، بنگلہ دیش، تھائی لینڈ، ملیشیا،سری لنکا اور متحدہ عرب امارات۔ زمینی سرحد اور سمندری راستے یہ کرنسی دہلی تک پہنچائی جاتی ہے۔
دہلی میں اس کرنسی کو قریب 47 مقامات پر چلایا جاتا ہے۔ اسی کی معرفت جموں و کشمیر میں دہشت گردوں کو مدد پہنچائی جاتی ہے۔ دہلی میں کچھ دن پہلے جامع مسجد علاقہ سے نقلی نوٹ پکڑے گئے۔ نیہال وہار میں بھی پچھلے دنوں بڑی کھیپ ملی تھی۔ دہلی پولیس و ریزرو بینک آف انڈیا کی مختلف شاخوں کے ذریعے پکڑے گئے نقلی نوٹوں کی کوالٹی اتنی زیادہ اچھی ہوتی ہے کہ انہیں آسانی سے نہیں پہچانا جاسکتا۔ نقلی کرنسی کے معاملے میں درج 250 ایف آئی آر اور178 ملزمان کی پوچھ تاچھ میں سامنے آیا ہے کہ پچھلے 2 برسوں کے دوران نقلی نوٹوں کو اصلی نوٹوں میں استعمال ہونے والے تمام سکیورٹی معیارات سے آراستہ کردیا گیا ہے۔ انہیں صرف تکنیکی باریکیوں کو سمجھنے والے بینک ملازم یا پھر جانچ ایجنسیاں ہی پکڑ سکتی ہیں۔ دہلی یا دوسری ریاستوں میں جتنی بھی نقلی کرنسی پکڑے گئی ہے وہ پاکستان کی اعلی کوالٹی والے پریس میں چھپی ہے۔ قومی جانچ ایجنسی (این آئی اے) نے اپنی تفتیشی رپورٹ میں کہا ہے کہ کہ نقلی نوٹ بنانے کیلئے جس سیاہی کا استعمال کیا گیا ہے، وہ اسی پریس کی ہے ،جہاں پاکستانی کرنسی چھپتی ہے۔ جموں میں مبینہ طور پر غیر ملکوں سے پیسہ منگانے والی ایک ایجنسی ہے اور جموں میں واقع بینک کا نام بھی سامنے آیا ہے۔ آر بی آئی نے ایسے نوٹوں کو پہچان کرنے کیلئے بیداری مہم شروع کی ہے۔ مرکز و ریاستی سکیورٹی ایجنسیوں کے درمیان اطلاعات شیئر کرنے کو وزارت داخلہ نے خاص تال میل سینٹر قائم کئے ہیں۔
(انل نریندر)

ملکی بغاوت سے وابستہ قانون کا جائزہ

جے این یو کے کنہیا معاملے میں دیش دروہ کا معاملہ درج ہونے سے مانگ اٹھ رہی ہے کہ اس برطانوی دور کے قانون میں تبدیلی ہونی چاہئے۔ اس برطانوی عہد کے قانون میں تبدیلی کے لئے اورملکی بغاوت لفظ کی پھر سے تشریح کی جانی چاہئے۔ اس کے لئے مرکزی سرکار اور آئینی کمیشن نے ایک سب گروپ بنایا ہے۔ تبدیلی کے سیکٹرز کی پہچان کی جارہی ہے۔ مذہب کی بنیاد پر سماج کو بانٹنے کی کوشش کرنے والوں پر بھی سخت کارروائی کے بارے میں دفعات شامل کی جاسکتی ہیں۔ وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے کہا کہ سرکار نے کمیشن کو جلد رپورٹ سونپنے کے لئے کہا ہے۔ رپورٹ آنے کے بعد اس پر بحث کے لئے کل جماعتی میٹنگ بلائی جاسکتی ہے۔ جواہر لعل نہرو یونیورسٹی معاملے کے بعد ملکی بغاوت قانون کی نئے سرے سے تشریح کرنے کے لئے چوطرفہ دباؤ کے چلتے مرکزی حکومت نے یہ فیصلہ لیا ہے۔ برطانوی عہد کے اس قانون (آئی پی سی کی دفعہ 124A) کو منسوخ کرنے کی مانگ اٹھ رہی ہے۔ آئینی کمیشن نے 42 ویں رپورٹ میں مانا ہے کہ ملکی بغاوت قانون میں خامی ہے، لیکن کمیشن نے اسے منسوخ کرنے کی سفارش نہیں کی تھی۔ اس کے بعد 2006 میں 156 ویں رپورٹ میں کمیشن نے ملکی بغاوت کی جگہ کوئی متبادل’’ لفظ‘‘ کی تجویز رکھی تھی لیکن اسے ختم کرنے کو نہیں کہا تھا۔
124A کو ایک ترمیم کے ذریعے 1870 میں آئی پی سی میں شامل کیا گیا تھا۔ملکی بغاوت معاملے میں سال 2014ء میں 47 مقدمے درج ہوئے اور ملکی بغاوت کے الزام میں بہار میں سب سے زیادہ 16 معاملے درج ہوئے اور 28 گرفتار ہوئے۔ راجیہ سبھا میں اس اشو پر ایک ضمنی سوال کے جواب میں وزیر مملکت داخلہ کرن ریجو نے بتایا کہ ملکی بغاوت قانون میں تبدیلی کی کارروائی 2012ء میں شروع کی گئی تھی تب وزارت داخلہ نے آئینی اور انصاف وزارت میں اس کی ترمیم کے لئے تجاویز مانگی تھی۔ انگریزوں کے زمانے کے ملکی بغاوت کے اس پرانے قانون کو ختم کر اس کی جگہ نیا قانون لانے پر راجیہ سبھا میں سبھی پارٹیاں ایک رائے نظر آئیں۔ کانگریس کے غلام نبی آزاد نے کہا کہ موجودہ شقات کے رہتے سرکار کے خلاف بولنے پر بھی راج دروہ کا مقدمہ ہوسکتا ہے ساتھ ہی مذہب کی بنیاد پر بھی سماج کو بانٹنے کی کوشش کو ملکی بغاوت قانون کے اندر لایا جانا چاہئے۔ وزیر داخلہ نے جواب دیا کہ مذہب کے نام پر لوگوں کو بھڑکانے پر سخت کارروائی کی شقات موجود ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ ریاستی سرکار سے بھی اپیل کررہے ہیں کہ ایسے معاملوں میں سخت کارروائی ہو۔ شیو سینا کے ممبر انل ڈیسائی نے کہا کہ کھلے عام ملک مخالف نعرے لگتے ہیں اس لئے اس قانون میں تبدیلی کرکے اسے سخت بنانا ضروری ہے۔
(انل نریندر)

20 مارچ 2016

امن کا پیغام دیتا ہے اسلام

امن اوربھائی چارے کے لئے اسلام کی تعریف کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعرات کوکہا کہ اللہ کے 99 ناموں میں کسی کا مطلب تشدد سے نہیں ہے اور انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دہشت گردی کے خلاف لڑائی کسی مذہب کے خلاف ٹکراؤ نہیں ہے اور دہشت گردی و مذہب کو الگ رکھنا چاہئے۔ یہ بات وزیر اعظم مودی نے سہ روزہ پہلی ورلڈ صوفی کانفرنس کا افتتاح کرتے ہوئے کہی۔ اس پروگرام میں پاکستان، امریکہ، برطانیہ، کینیڈا، مصر سمیت20 ملکوں کے روحانی پیشوا اور عالمی دین ماہر تعلیم سمیت 200 افرادپر مشتمل نمائندہ وفد نے شرکت کی۔ اس نے اپنی طرح کی اس پہلی صوفی کانفرنس میں شرکت کی۔ اسے کٹر پسند اسلام کے خلاف تیزی سے ابھرتی رائے کی علامت مانا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ وزیر اعظم نے کہا ان دہشت گردوں نے اذان اور پرارتھنا کی مقدس جگہوں پر حملے کئے اور ایسے وقت میں صوفی ازم ایک نور کی طرح ہے جو تشدد سے سہمی دنیا کو ایک نئی روشنی دکھا سکتا ہے۔ اسلام امن کا مذہب ہے اور صوفی ازم اس کی روح ہے۔ وزیر اعظم مودی نے کہا کہ جب ہم اللہ کے 99 ناموں کی باتیں کرتے ہیں تو ان میں کوئی بھی تشدد کی بات نہیں محسوس ہوتی۔ حضرت نظام الدین اولیا ؒ نے کہا تھاکہ پروردگار انہیں پیار کرتا ہے جو انسانیت سے پیار کرتے ہیں۔ صوفی ازم کے پیغام کو آگے بڑھانے پر زور دیتے ہوئے مودی نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف لڑائی کسی مذہب کے خلاف نہیں ہے اور اس کے لئے کسی مذہب سے ٹکراؤ نہیں ہے۔ انسانی اقدار اورانسان دشمن طاقتوں کے درمیان جدوجہد ہے۔
اس جدوجہد کو صرف فوجی اور خفیہ یا ڈپلومیٹک طریقوں سے نہیں لڑا جاسکتا۔ یہ ایسی لڑائی ہے جسے ہم اقدار کی طاقت اور مذہب کے اصلی پیغام کے ذریعے سے جیت سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا صوفی ازم سے وابستہ ان صوفیوں نے انسانیت سے محبت کرنے کا منتر دیا ہے۔ وزیر اعظم نے بتایا کہ 2015 میں بھی 90 سے زیادہ ملکوں نے دہشت گردانہ حملے جھیلے ہیں۔ ہندو ، مسلم، سکھ ، عیسائی کے درمیان بھائی چارے کا نعرہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا ہمارا مقصد سب کا ساتھ سب کا وکاس ہے۔ اسلام کا اصلی مطلب ہی امن ہے۔ اگر ہم ایشور کو پیار کرتے ہیں تواس کی سبھی تعلیمات سے بھی پیارکرنا ہوگا۔ صوفی واد بھائی چارے کا پیغام دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بابا فرید کی کویتائیں اور گورو گرنتھ صاحب کی تصانیف بھی یکسانیت ہے۔ انہوں نے کہا صوفی مسلک کے سہارے نہ صرف ان دہشت گرد دانہ طاقتوں کا مقابلہ کیا جاسکتا ہے بلکہ اس کے ذریعے دنیا میں امن چین لایا جاسکتا ہے۔ اللہ از رحمان اینڈ رحیم یہ نظریات میں اختلاف یا امتیاز نہیں سکھاتے۔
(انل نریندر)

روسی صدر ولادیمیرپوتن کا باہمت اور پائیدار فیصلہ

روسی صدر ولادیمیر پوتن کا اچانک شام سے اپنے فوجیوں کی واپسی کا اعلان ان کے ذریعے ایک جوا کھیلا گیا ہے اور یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ اس علاقے میں مستقل امن کے قیام کی سمت میں ایک قدم ہے۔ روسی فوجیوں کی مکمل واپسی کی کوئی میعاد وقت ابھی طے نہیں کیا گیا ہے۔باوجود اس کے پوتن کی یہ پہل کافی اہم مانی جاسکتی ہے۔ پوتن نے یہ فیصلہ شام کے صدر بشرالاسد سے فون پر بات کرنے کے بعد لیا ہے۔بتایا جارہا ہے کہ اسد نے بھی اپنی منظوری دے دی ہے تبھی یہ فیصلہ لیا گیا ہے۔ 
منگلوار کو روسی وزیر دفاع نے بتایا کہ روس نے شام سے اپنے فوجی سازو سامان کو واپس لانے کی کارروائی شروع کردی ہے۔ پوتن نے شام میں یہ قدم اٹھا کر ایک جوا کھیلا ہے۔انہوں نے اب باقی دنیاکو یہ بھی پیغام دیا ہے کہ روس شام میں امن چاہتا ہے اب امریکہ سمیت دیگر ملکوں کو پہل کرنی ہوگی۔ روسی صدر کو یہ معلوم تھا کہ وہ شام میں زیادہ وقت تک نہیں ٹک سکتے۔ وہ شام کو دوسرا افغانستان نہیں بنانا چاہتے اس لئے انہوں نے موقعہ پاتے ہی روسی فوج کی واپسی کا اعلان کردیا۔ یہ اعلان ٹھیک اس وقت آیا ہے جب جنیوا میں شام امن مذاکرات ہونے والے ہیں۔ ڈپلومیٹک حلقوں میں روس کے اس اعلان کو چونکانے والا مانا جارہا ہے۔ اس موقعہ پر پوتن نے امریکی صدر براک اوبامہ سے بھی بات چیت کی ہے۔ خبر ہے کہ دونوں لیڈروں نے اس خطے میں جاری تنازع کا سیاسی حل تلاش کرنے کی کارروائی تیز کرنے پر زور دیا ہے۔ قیام امن کی کوشش کتنی کامیاب ہوگی یہ تو ابھی نہیں کہا جاسکتا لیکن اس میں دو رائے نہیں کہ پوتن اور شام میں فوجی مداخلت کا فیصلہ جتنا ہمت والا تھا، فوجی کی واپسی شروع کرنے کا فیصلہ اتناہی سنجیدگی بھرا ہے۔
6 مہینے پہلے شام میں فوج بھیجنے کے پوتن کے فیصلے کے بارے میں چاہے جو بھی پہلو ہوں اس میں شبہ نہیں کہ آئی ایس آئی ایس جیسی خطرناک تنظیم کی لگاتار بڑھتی طاقت پر کارگر طریقے سے روک لگانے میں اس سے کافی مدد ملی ہے۔ پوتن کے اس قدم پر شام کے صدر بشر الاسد پر بھی دباؤ بنے گا۔ انہیں ہٹانے کی مانگ امریکہ سمیت کئی دیش کررہے ہیں۔ پوتن ان کی حمایت کررہے ہیں اب جنیوا میں شام نے جنگ بندی کے لئے امن مذاکرات ہورہے ہیں۔ اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل نے روس کی تعریف کرتے ہوئے اسے امن مذاکرات کے لئے ایک مثبت قدم بتایا ہے۔ بہرحال فوج کی واپسی کے اس فوجی اور باہمت فیصلے کی پائیداری اسی میں ہے کہ ساری بین الاقوامی طاقتیں اب شام کے خلاف تشدد کے مسئلے کو حل کریں۔
(انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...