Translater
14 اگست 2021
کٹنگ ،زلزلے اور بارش سے کمزورہوتے پہاڑ!
ہماچل پردیش کے کنور ضلع میں بدھ کو قومی شاہراہ پانچ (شملہ سے کنور جانے والا راستہ)پر سکانگ پیو کے پاس اچانک پہاڑ ٹوٹ گیا اس دوران وہاں سے گزر رہی چھوٹی بڑی گاڑیوں کے ساتھ ہی سورایوں سے بھری ایک بس ملبے میں دب گئی اور حادثے میں 10لوگوں کی موت ہوگئی اس میں آٹھ افراد تو ایک ہی گاڑی میں شوار تھی حالانکہ 13لوگوں کوزندہ نکال لیا گیا جبکہ 30زیادہ لوگ بڑی مشقت کے ساتھ ملبے سے نکالے گئے قریب سو میٹر ک تک سڑک ملبے کی زد میں آگئی اور 20-30فٹ ملبے کے نیچے گاڑیاں دبی تھیں بہت سی گاڑیاں تباہ ہو گئیں ۔ڈپٹی کمشنر کنور ضلع عابد حسین نے بتایا کہ راحت رسانی ملازمین بس اور بلیرو کار کو نکالنے میں لگے ہوئے تھے بارش کی وجہ سے کافی دقت آئی اور پہاڑوں سے چٹانیں کھسنے کے سبق جگہ جگہ راستے بلاک ہوگئے جس سے عام زندگی ٹھہر گئی اور پہاڑ کے گرنے سے قومی شاہراہ 36گھنٹے تک جام رہی جس میں ہزاروں گاڑیاں راستے میں رکی رہیں گوری کنڈ مارگ اور جوشی مٹھ ملاری ہائیو پر مسلسل چٹانیں کھسنے کا سلسلہ جار ی رہا تلخ تو حقیقت تو یہ ہے کہ سڑک اور زیر تعمیر کے پروجیکٹ کے لئے مشینیں جاری ہیں اور راستے میں پتھروں کی کٹنگ ہو رہی ہے زلزلے و بارش سے دیو بھومی ہماچل پردیش کے پہاڑ مسلسل کمزور ہوتے جا رہے ہیں ایسے میں جدید تکنیک کے ذریعے ٹریجڈی والے علاقے میں امکانی چٹانیں کھسنے کا پہلے سے پتہ لگانا آسان ہو سکتا ہے کنور ضلع انتظامیہ نے خستہ حال ہو چکے اپنے علاقے کے پہاڑوں کا کبھی ماہرین سے سروے کرانا بھی مناسب نہیں سمجھا اور زبردست لا پرواہی کا نتیجہ اب ہمارے سامنے ہے ۔
(انل نریندر)
ججوں کی تقرریاں نہ ہونے سے سپریم کورٹ ناراض!
سپریم کورٹ نے دیش بھر کی ہائی کورٹ میں ججوں کی خالی پڑی آسامیوں کو لیکر ناراضگی ظاہر کی اور مرکزی سرکار کو پھٹکار لگائی بڑی عدالت نے یہاں تک کہا کہ ججوں کی تقرری نہ کرکے مرکز نے جمہوریت کے تیسرے ستون عدلیہ کو ہی ٹھپ کر دیاہے اور اگر یہی رویہ جاری رہا تو انتظامی کام کاج بھی ٹھپ ہوگا جسٹس سنجے قول اور جسٹس ہری کیش رائے کی بنچ نے کہا سرکار کو یہ سمجھنا چاہئے کہ اس طرح سے کام نہیں چلے گا آپ نے حدیں پار کردی ہیں اگر آپ جوڈیشل سسٹم کو ٹھپ کرنا چاہتے ہیں تو آپ کا سسٹم بھی چوپٹ ہوجائے گا ۔ آپ جمہوریت کے تیسرے ستون کو رکنے نہیں دے سکتے ۔ بنچ نے مرکزی سرکار کی طرف سے پیش ایڈیشنل سالی سیٹر جنرل مادھوی وکن نے کہا کہ ججوں کی بھاری کمی ہے لیکن آپ اس میں دلچسپی نہیں رکھتے وقت آگیا ہے کہ آپ اسے محسوس کریں ججوں کی تقرری نہیں ہوتی ہے تو اہم معاملوں کو جلد نپٹارہ بھی تقریباًنہ ممکن ہوجائے گا اینٹی ڈوپن فیس معاملے میں دہلی ہائی کورٹ میں ایک فیصلے کے خلاف مرکز کے ذریعے دائر ایک اپیل پر عدالت سماعت کر رہی تھی چیف جسٹس این وی رمن نے جمعہ کو ہی ججوں کے (ٹریبنل )کے جوڈیشل کو ممبران کی تقرری میں تاخیر پر مرکزی سرکار پر تلخ تبصرہ کیا تھا انہوں نے تو سرکار سے یہ سوال بھی کیا تھا کہ ٹریوبنل کو جاری رکھنا چاہتی ہے یا بند کر نا چاہتی ہے ۔ بنچ نے کہا سرکار یہ دلیل نہیں دے سکتی ہے کہ کوئی جج معاملے کی جلد ی سے سماعت کرنے میں اہل نہیں ہے ، چونکہ سرکار ہائی کورٹ کے ججوں کی تقرری کرتی ہے دیش میں 25ہائی کورٹ میں ججوں کی کل 455آسامیاں ہیں جبکہ منظور آسامیاں 1098ہیں قریب 40فیصد آسامیاں خالی ہیں دہلی، الٰہ آباد، کولکتہ ، مدھیہ پردیش ، پٹنہ ہائی کورٹ کی حالت بے حد خراب ہے ہم نے چیف جسٹس کے سامنے معاملہ رکھا کہ سفارشوں کو عمل تک پہونچنے میں مہینوں اور سالوں لگ جاتے ہیں اور اس کے بعد مہینوں اور برسوں بعد کوئی فیصلہ نہیں ہوپاتا ۔ ہائی کورٹوں میں ججوں کی تعداد اتنی محدود ہے جہاں ان کے لئے اہم ترین معاملوں میں تیزی سے انصاف کرنا نا ممکن ہوجا تا ہے سپریم کورٹ کا کہنا صحیح ہے اس لئے جب جج درکار نہیں ہونگے تو مقدموں کو فیصلہ کیسے ہوگا؟ تبھی تو لٹکے پڑے مقدموں کی بھر مار ہو تی جارہی ہے لاکھوں مقدمے ہائی کورٹ میں پینڈنگ میں چل رہے ہیں جج بھی ایک دن میں اتنے کیس نمٹا سکتے ہیں یہ تو ہمیں معلوم نہی کہ مسئلہ کہاں پر ہے ہم تو اتنا جانتے ہیں پینڈنگ مقدموں کا مسئلہ دن بدن بڑھتا ہی جا رہا ہے سرکار کو بلا تاخیر اس مسئلے پر توجہ دیکر حل نکالنا چاہئے ۔
(انل نریندر)
سوامی ناتھن کی سفارشیں لاگو ہوں!
سرکار پر کسانوں کی آمدنی دوگنی کرنے کا وعدہ پورہ نہ کرنے کاا لزام لگاتے ہوئے منگل کے روز راجیہ سبھا میں کم سے کم ایم ایس پی سسٹم کی تحریری گارنٹی دینے کے بارے میں سوامی ناتھن کمیشن کی سفارشیں لاگو کرنے کی مانگ کی گئی وہیں سرکار کی طرف سے کہا گیا کہ تینون نئے زرعی قوانین کسانوں کی بہبود کے لئیے ہی لائے گئے ہیں اور انہیں مختلف کمیٹیوں کی سفارشوں اور ماہرین سے غور و خوض کرکے تیار کیا گیا ہے راجیہ سبھا کی میٹنگ دو بار ملتوی ہونے کے بعد دوپہر دو بجے شروع ہوئی تو پیگاسس جاسوسی تنازع سمیت مختلف اشو پر بحث کی مانگ کو لیکر اپوزیشن کے ممبران کا ہنگامہ پھر شروع ہوگیا اس وقت چیئر کی کرسی پر بیٹھے چیئر مین بھونیشور کلیتا نے ہنگامے کے درمیان ہی دیش میں زرعی سے متعلق مسئلوں اور ان کے حل پر مختصر بحث شروع کرائی بحث شروع ہوتے ہی بھاجپا کے وجے لال سنگھ تومر نے کہاکہ جو لوگ کسانوں کی مفادات میں بات کرتے ہیں اور کسانوں کو برباد انہوں نے ہی کیا ہے پچھلے قریب 70برسوں کے دوران دیش میں زیادہ تر وقت تک کانگریس نے حکومت کی لیکن کسانوں کو نہ تو سینچائی کے وسائل دیئے اور نہ ہی ذخیرہ اندوزی کا سسٹم دیا گیا اور نہ ہی کسانوں کے مسئلے حل کئے گئے تومر نے کہا مودی سرکار کسانوں کی بہبود کے لئے پابند ہے اس لئے تینوں زرعی قوانین لائے گئے تاکہ کسانوں کی حالت سدھرے۔ بی جو جنتا دل کے پرسون آچاریہ نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا ہنگامے کے با وجود میں کسانوں کے مسئلے پر بولنے کا موقع نہیں چھوڑنا چاہتا کیونکہ ان کے ساتھ نہ انصافی ہوگی اس دیش کی بڑی آبادی کسانوں کی ہے جو اب تک بنیادی سہولیات سے محروم ہے سرکار ان کی بہبود کے لئے کئی قدم اٹھا رہی ہے سرحدی کسانوں کے اپنے مسائل ہیں انہوں نے کسان سمان ندھی رقم بڑھانے و سوامی ناتھن کمیشن کی سفارشوں کو لاگو کرنے کی مانگ کی تینوں زرعی قوانین کا ذکر کرتے ہوئے آچاریہ نے کہا کہ ایم ایس پی کی تحریری گارنٹی دی جانی چاہئے انہوں نے کہا آپ نے کسانوں کی آمدنی دوگنا کرنے کا وعدہ کیا تھا لیکن وہ یہ وعدہ اب تک پورہ نہیں ہوسکا۔
(انل نریندر)
13 اگست 2021
پروازیں بند ہوں پہلے ہندوستانی افغانستان چھوڑیں!
طالبان کے بڑھتے حملوں کو دیکھتے ہوئے مرکزی حکومت نے افغانستا ن میں مقیم ہندوستانی شہریوں کو ہوائی سروس بند ہونے سے پہلے وطن واپس لوٹنے کی صلاح دی ہے کابل میں ہندوستانی سفارت خانے نے ہندوستانی کمپنیوں سے اپنے پروجیکٹوں کو ہندوستانیوں کو ہٹانے کو کہا ہے ادھر بھارت نے افغانی یا غیر ملکی کمپنیوں میں کام کر رہے ہندوستانی پیشوار افراد کو واپس وطن لانے کی تیار ی شروع کر دی ہے واضح ہو افغانستان میں طالبان کے بڑھتے قہر کے ساتھ شہروں کے لئے پروازیں بند کی جا رہی ہیں اس لئے تشدد کا مرکز بنیں مزاریں شریف سے اپنے شہریوں اور سفارتی اسٹاف کا واپس بلانے کا فیصلہ کیا ہے اور اسپیشل جہاز سے لایا جائے گا افغانستا میں مقیم ہندوستانی شہریوں سے وہاں ناظم الامور رابطہ قائم کرنے کی اپیل کی گئی ہے وہاں اب صرف مقامی اسٹاف کے ذریعے ہی کام کاج ہوگا اس وقت قریب 1500ہندوستانی افسرا ور ملازم افغانستان میں ہیں پچھلے مہینے بھی سرکار نے قندھار میں قائم ہندوستانی سفارت خانے سے 50سفارت کاروں کواور سیکورٹی ملازم کو طالبان اور فوج میں بڑھتی لڑائی کے درمیان واپس بلا لیا تھا افغانستا ن میں ہندو¿ں اور سکھوں کی تاریخ سینکڑوں برس پرانی ہے افغانستا میں طالبان اور آئی ایس آئی ایس غیر مسلموں وار شیعوں کو نشانہ بنایا ہے پچھلے سال مارچ میں قابل میں ایک گردوارے پر حملہ کیا گیا تھا جس میں پانچ لوگ مارے گئے تھے 1980کی دہائی میں وہاں دولاکھ ہندو سکھ رہتے تھے 1988میں طالبان کے عروج کے بعد سے ان پر حملے شروع ہوئے انہیں اغوا کیا جانے لگا قتل کیا گیا اس وجہ سے وہاں سکھوں کی ہجرت شروع ہوئی اور 2016میں 1350لوگ ہی بچے اکتوبر2018چناو¿ میں صرف 580ہندو سکھ ووٹر تھے اب گھر نہ چھوڑنے والے سکھوں کی تعداد نہ کے برابر رہ گئی ہے۔
(انل نریندر)
قانون واپس نہیں تو بھاجپا کو گدی چھوڑنی پڑے گی!
بھارتی کسان یونین کے قومی ترجمان راکیس ٹکیت نے کہا اگر تینوں زرعی قانون واپس نہیں ہوتے اور ایم ایس پی نہیں بنتی تو کسان بھاجپا کو گدی چھوڑنے پر مجبور کریں گے اور وہ کسانوں کے بیچ جاکر سرکار کی اصلیت کھولی جائے گی کسان سے بننے والے سرکار کسان مخالف کام کر کے اقتدار میں بنی نہیں رہ سکتی انگریز بھارت چھوڑو تحریک کے موقع پر راکیس ٹکیت نے کہا بھاجپا کے جھوٹ کو بے نقاب کیا جائے گا ہم کسی بھی پارٹی کے مخالف نہیں ہے لیکن مزدورا ور کسان مخالف پارٹی کے خلاف آج سے ہم نے کھیتی سے کمپنی راج کو اکھاڑنے کی قمر کس لی ہے جس کی شروعات پانچ ستمبر کو مظفر نگر کی کسان پنچایت سے ہوگی غازی پور بارڈر پر جاری کسان آندولن کو تقریباًسال بھر ہونے کے قریب ہیں ہریانہ اور مظفر نگر کے کسان نیتاو¿ں کے ساتھ بیٹھ کر آگے کی حکمت عملی طے کی جائے گی آٹھ مہینے سے بیٹھے کسانوں کے مسئلہ کا حل نکلنا چاہئے سرکار کا یہ اڑیل رویہ ٹھیک نہیں ہے دیش کے ان داتاو¿ں سے سرکار کو اس طرح زیب نہیں دیتا کسانوں کے مطالبات پر غور کرنا ہوگا اور بیچ کا راستہ نکالنا ضروری ہے ان کی کچھ جائز مانگوں پر سمجھوتے کا راستہ نکالا جائے۔
(انل نریندر)
بحث سوشل میڈیا میں نہیں صرف عدالت میں !
سپریم کورٹ نے مبینہ پیگاسس جاسوسی معاملے کی آزادنہ جانچ کی مانگ کرنے والے کچھ لوگوں سے سوشل میڈیا پر برابر بحث چھیڑنے پر اعتراض جتایا ہے بڑی عدالت نے کہا جب عدالت جانچ کر رہی ہے تو کچھ ڈسیپلین ضروری ہے اور انہیں سسٹم پر بھروسہ ہونا چاہئے بحث عدالت میں ہونی چاہئے چیف جسٹس این وی رمن کی سر براہی والی تین رکنی بنچ نے کہا کہ کچھ سوال پوچھے جا سکتے ہیں وہ پریشان کن یا حوصلہ افزا ہو سکتے ہیں دونوں فریقین کو تھوڑی سی دشواری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اگر ان کے پاس اٹھانے کے لئے کچھ نقطے ہیں تو وہ ایک حلف نامہ دائر کرکے ایسا کر سکتے ہیں بنچ ہر ایک پہلو پر غور کرے گی لیکن سسٹم میں بھروسہ ہونا چاہئے اسی درمیان این رام سمیت دیگر عرضی گزاروں کے وکیل کپل سبل نے کہا پچھلی سماعت نے کیلیفورنیا عدالت کے حکم میں ہندوستانی صحافیوں کے نام نہ ہونے کی بات کہی تھی جبکہ عرضی میں اس کا ذکر تھا سبل نے کہا اس بات پر ان کا ٹرول ہوا ہے اس پر چیف جسٹس آف انڈیا رمن نے کہا اسے بے وجہ میسیج میں لایا گیا بحث کی حد کو پار نہیں کر نی چاہئے تھی وہ سسٹم کا استعمال کر رہے ہیں تو انہیں سسٹم پر یقین کر نا چاہئے اس معاملے میں بنچ کے وکیل ایم ایل شرما ، ممبر پارلیمنٹ جان برنداس ایڈیٹر گلڈ آف انڈیا صحافی این رام اور پر ن جوائے گوا ٹھاکر تا پردیش کمار سنگھ وغیرہ کی عرضیوں پر سماعت کر رہی تھی سماعت کے دوران آر ایس ایس کے سابق وچارک کے این گوندا آچاریہ کے وکیل وکاس سنگھ نے بنچ کو مطلع کیا کہ 2019میں پیگاسس نگرانی کی جانچ کے لئے وہ بھی عدالت گئے تھے لیکن ان کی عرضی پر غور نہیں کیا گیا سنگھ نے بتایا کہ وہ پارلیمانی کمیٹی کے پاس بھی گئے کہیں سے کچھ نہیں ہوا اس پر بڑی عدالت پیر کے روز دیگر عرضی گزاروں کی عرضی پر سماعت کو دیگر عرضیوں کے ساتھ گوندا آچاریہ کی عرضی پر سماعت کے لئے تیار ہوگئی عرضی گزاروں نے سپریم کورٹ میں دلیل دی تھی کہ پیگاسس کی رپورٹ صحیح ہے تو یہ اشارہ کرتی ہے کہ صحافیوں اور سیاستدانوں اور یہاں تک کہ عدلیہ پر بھی نامناسب نگرانی کی گئی تھی اور اس لئے یہ معاملہ جمہوری اور آئینی گارنٹی کی بنیادوں پر حملہ کرتا ہے مرکزی سرکار کی طرف سے پیش وکیل تشار مہتا نے بنچ کو بتایا کہ جاسوسی معاملے کی جانچ کے مطالبے کی عرضیوں پر سرکار سے ہدایت لینے کے لئے تھوڑا سا وقت دیا جائے ان کی اس درخواست کو قبول کرتے ہوئے مہتا کو 16اگست تک کا وقت دے دیا اسی دن معاملے کی سماعت ہوگی عدالت میں دعویٰ کہ سرکار نے پیگاسس اسپائی ویئر کا استعمال کرنے سے صاف طور سے انکار نہیں کیا ہے ان کے پاس یہ ماننے کے لئے مضبوط ثبوت ہیں کہ وہ جاسوسی کا شکار ہوئے ہیں ۔
(انل نریندر)
12 اگست 2021
دہلی پولس کی ڈیوٹی اب تین شفٹ میں ہوگی!
دہلی پولس ملازمین اکثر لمبی ڈیوٹی کے چلتے ٹینشن میں رہتے ہیں عالم یہ ہوتا ہے کہ وہ آہستہ آہستہ ڈپریشن کے شکار ہونے لگتے ہیں ایسے میں کئی پولس ملازمین نے تو خود کشی کرنے راستہ بھی چن لیا ہے مگر میں اب دہلی پولس کمشنر راکیس استھانا نے پولس ملازمین کے دلوں میں امید کی کرن جگائی ہے در اصل گزشتہ سنیچر کو ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے تمام کانسٹبل تکے کے پولس ملازمین تک کو خطاب کیا ہے اور اپنی بات رکھی جس بات سے پولس والوں کو دل جیتا وہ تھا پولس کی ڈیوٹی کم کرنا ذرائع کا کہنا ہے یہ ڈیوٹی تین شفٹوں میں دینے کی تجویز رکھی ہے اور اس تجویزکے مرکزی سرکار سے منظوری ملتے ہیں پولس ملازمین کو ایک دن میں آٹھ گھنٹے ڈیوٹی دینی ہوگی جس میں صاف ہے کہ ڈیوٹی کے چلتے اپنے گھر والوں کو وقت نہ دینے کہ چوٹ ہمیشہ ملازمین کے من میں رہتی ہے اس سے انہیں چھٹکارہ مل جائے گا۔ پولس کمشنر نے ایک بڑی بات یہ بھی کہی کہ دہلی میں ہونے والی پوسٹنگ خاص طور پر ایس ایچ او کی تقرری ہونے کی کاروائی میں صاف ستھرا پن لایا جائے گا جو انسپکٹر پوس علاقوںمیں تعینات ہیں انہیں پچھڑے علاقوں میں بھیجا جائے گا اور جو پچھڑے علاقے میں رہتے ہیں وہ عالی شان بستیوں میں لگایا جائے گا جن انسپکٹروں کو کنارہ کیا جا تا رہا ہے اب انہیں اہم ذمہ داری سونپی جائےگی اس موقع پر نئے پولس کمشنر راکیس استھانا نے یہ بھی اعلان کیا کہ جمعہ کو ایک اوپن ہاو¿س منعقد کیا جائے گاجس میں کوئی بھی پولس ملازم اپنا اشو یا شکایت کو لیکر ان سے سیدھا مل سکے گا۔
(انل نریندر)
اولمپک کے 20میڈلوں میں 11ہریانہ کے ہیں!
ٹوکیو اولمپک اتوار کو ختم ہوگیا بھار ت کو ایک گولڈ سمیت سات میڈل تو ملے ہیں جو 121کی سب سے شاندار پر فارمینس ہیں لیکن کئی سوال بھی ہیں کہ 131کروڑ کی آبادی والے دیش میں صرف سات میڈل کیوں پچھلے 21سال میں دیش نے 22میڈل جیتے ہیں جن میں اکیلے 11ہریانہ لایا ہے آخر میں ریاست اتنا شاندار پرفارمنس کیوں کر رہا ہے ہریانہ میں کھیل نرسریاں ہیں ٹریننگ کے ساتھ ان کو تیار کیا جا تا ہے اسکول کالج سطح پر نیشنل مقابلے میں چھ لاکھ تک کا کیس ملتا ہے صرف ڈھائی کروڑ کی آبادی والی ریاست میں اسپورٹس کے 22سینٹر ہیں جبکہ 23کروڑ والی آبادی ریاست میں 20سینٹر ہیں اور آٹھ کروڑ آبادی والے میں 16اور راجستھا ن میں 10گجرات میں 3اور ہریانہ کے پچھلے سال تین سال کا اوسط کھیل بجٹ تین سو کروڑ روپئے سے زیادہ کا ہے اس بار یہ 394کروڑ کا ہے وہیں راجستھان میں صڑف 100کروڑ ہریانہ انٹر نیشنل میڈل جیتنے والے کھلاڑی کے کوچ کو 20لاکھ روپئے تک مالی مرات ملتی ہے کھلاڑی ہی نہیں کوچ بھی ٹریننگ کے لئے بیرونی ملک بھیجے جاتے ہیں مدھیہ پردیش گجرات بہار چھتس گڑ ھ میں ایسی کوئی سہولت نہیں اولپک گولڈ جیتنے پر چھ کروڑ سلور پر چار کروڑ اور برانز میڈل پر 2.5کروڑ رپئے دیتا ہے اور اس کے علاوہ تیار کے لئے 15لاکھ روپئے ملتے ہیں راجستھان میں صرف پانچ لاکھ روپئے ملتے ہیں سن 2ہزار اولمپک میں کرنب ملیوشوری نے میڈل جیتا تھا تو اس کے بعد سے ہی ہریانہ میں اولمپک کے لئے کھلاڑیوں کو تراشنے کی تیاری شروع کر دی یہ اسی کا نتیجہ ہے وزیر اعلیٰ منوہر لال کھٹر و ہریانہ کے وزیر کھیل مبارک باد کے مستحق ہیں باقی ریاستوں کو بھی ہریانہ سے سبق لینا چاہئے ۔
(انل نریندر)
ریٹرو اسپکٹیو ٹیکس کا بھوت دفن!
بھارت سرکارنے ریٹرو اسپکٹیو ٹیکس ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے سرکار کے اس قدم سے ووڈا اور کیئر ن اینرجی جیسی کمپنیوں کو فائدہ پہونچے گا یہ کمپنیاں اس ٹیکس تنازع سے دو چار رہی ہیں اس ٹیکس کو ختم کرنے کے لئے انکم ٹیکس ایکٹ میں ترمیم کی جائے گی اس بارے میں سرکارنے جمعرات کو لوک سبھا میں انکم ٹیکس ایکٹ 1961میں ترمیم بل کی تجویز رکھی ہے اس بل کے پاس ہونے کے بعد مستقبل میں کسی کمپنی سے ریٹرو اسپکٹیو ٹیکس کی ڈیمانڈ نہیں کی جائے گی انکم ٹیکس ایکٹ مین ترمیم کے بعد کمپنیوں کے لئے یہ قاعدہ 28مئی 2012سے پہلے جیسا ہو جائے گا ریٹرو ا اسپکٹیو ٹیکس کا مطلب ہوتا ہے کہ فی تاریخ سے وصولا جانے والا ٹیکس اور اس کے معنیٰ اس طرح کے ٹیکس کے ہیں جو کمپنیوں کے ان کے پہلے ہوئے ڈیل پر اصولا جا رہا تھا یعنی اگر آج کسی کمپنی پر ٹیکس کی دینداری تھی تو وہ آج سے نہیں بلکہ تب سے وصولا جاتا ہے تب سے وہ ٹیکس کے دائرے میں آئی ہو وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے لوک سبھا میں بتایا ، بل انکم ٹیکس ایکٹ 1961میں ترمیم کی تجویز رکھی گئی ہے اس کے پاس ہونے کے بعد مستقبل میں کسی کمپنی سے ریٹرو اسپکٹیو ٹیکس کی ڈیمانڈ نہیں کی جائے گی ۔ اس قدم سے کیئرن ، ووڈا فون جیسی کمپنیوں نے ہندوستانی اور انٹر نیشنل کورٹ میں حکومت ہند کا جو کیس دائر کیا ہے اسے واپس لینے کا راستہ صاف ہو سکتا ہے بھارت کی طرف سے کمپنیون کو یقین دھانی ملنے کے بعد کمپنیاں کیس واپس لینے کا فیصلہ کر سکتی ہیں ذرائع کے مطابق بل کے پاس ہونے کے بعد قانون بننے کے بعد سرکار کے کمپنیوں کے ساتھ ان معاملوں کو اپنے سطح پر سلجھانے کی کوشش کر ے گی غور طلب ہے کہ یہ دونوں ہی کمپنیاں ریٹرو اسپکٹیو ٹیکس کے چلتے اربوں کروڑوں روپئے کی دین داری پر مرکزی حکومت کے خلاف کیس لڑ رہی ہیں سیتا رمن نے کہا سرکار نے یہ بھی تجویز رکھی ہے ان معاملوں میں جوٹیکس لیا گیا ہے اسے سود سمیت واپس کیا جائے گا۔ پچھلے سال دسمبر میں ہگو پرماننٹ کورٹ آف آر بی ٹریشن میں بھارت سرکار کیئرن سے ریٹرو اسپکٹیو ٹیکس کاکیس ہار گئی تھی اس کے بعد سرکار کو 1.4ارب ڈالر اس کمپنی کو دینا ہے کیئرن کمپنی نے بیرونی ممالک میں بھارت سرکار کی پراپرٹیوں پر بھی قبضہ کرنے کا آرڈر پا س کرا دیا ہے ۔ ٹیکس کے ماہر سشیل اگروال کا کہنا ہے کہ یہ ٹیکس ہمیشہ تنازع میں رہا ہے اس ٹیکس کا مطلب ہے پچھلی تاریخ پر یا پہلے کے کسی لین دین پر لگائے جانے والا ٹیکس یہ ایڈیشنل ٹیکس ہو سکتا ہے یاپھر نیا ٹیکس بھی ۔ اس سے کمپنیوں کو بھارت میں کارو بار کرنے میں دقتیں آرہی تھیں بھارت سرکار کے اس قدم کا خیر مقدم ہے کیونکہ یہ ٹیکس کسی بھی نظریہ سے انصاف پر مبنی یا دلیل آمیز نہیں تھا اس سے جہاں کچھ کمپنیوں کا ڈوبنے سے بچایا جائے گا وہیں غیر ضروری تنازعات سے بچا جا سکے ۔
(انل نریندر)
11 اگست 2021
کورونا سے جان گنوانے والے صحافیوں کو پانچ لاکھ کی مدد!
مرکزی حکومت نے کوویڈ 19-سے جان گنوانے والے 101صحافیوں کے کنبوں کو پانچ پانچ لاکھ روپئے کی مد د پہونچانے کے لئے 5.05کروڑ منظور کئے ہیں وزیر مملکت صحت و خاندانہ بہبود بھارتی پرویڈ پوار نے لوک سبھا میں بتایا اور اطلاع دی کہ وزارت اطلاعات نشریات نے ایسے صحافیوں کے کنبوں کو پانچ پانچ لاکھ روپئے کہ اقتصادی مدد دینے کے لئے مخصوص مہم چلائی پوار نے بتایا پریس انفارمیشن آفس سے تسلیم یافتہ صحافی کلیان یوجنا کو تحت طے پیمانے کو پورہ کرنے والی درخواستوں کی بنیاد پر کوویڈ19-سے جان گنوانے والے 101صحافیوں کو پانچ پانچ لاکھ روپﺅں کی 2020-21کے دوران ہوئی موتوں کی بنیاد پر 5.05کروڑ روپئے منظور کئے ہیں ہم سرکار کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہیں ۔ کورونا کے دوران سینکڑوں صحافیوں نے اپنی ڈیوٹی کو نبھاتے ہوئے اپنی جان کی پرواہ نہ کرتے ہوئے جان کی بازی لگا دی ایسے بھی بہت صحافی ہیں جو کورونا کہ وجہ سے بے روزگار ہوئے سینکڑوں اخبار و میگزین بند ہوگئی جہاں سرکار نے مرنے والے صحافیوں کے کنبوں کی مدد کی ہے وہیں بے روزگار صحافیو ں کی مدد کے بارے میں بھی سرکار سوچے اخباری اداروں کو بھی مالی مدد دے یہ وقت کی پکار ہے ۔
(انل نریندر)
نام بدلنے پر بھاجپا کانگریس آمنے سامنے!
دیش کے سب سے بڑے کھیل رتن ایوارڈ کا نام راجیو گاندھی کھیل رتن سے بدل کر میجر دھیان چند کھیل رتن کئے جانے پر بھاجپا کانگریس میں زبانی جنگ تیز ہوگئی ہے ایک طرح سے بھاجپا نے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے وہیں کانگریس نے سوال کیا ہے کیا نریندر مودی اسٹیڈیم کا نام بدلے گی مرکزی حکومت ؟کانگریس پارٹی کے ترجمان رندیپ سرجیوالا نے کہا کہ ہم میجر دھیان چند کے نام پر کھیل ایوارڈ رکھنے کا خیر مقدم کرتے ہیں انہوں نے کہا راجیو گاندھی نام سے نہیں بلکہ وہ اپنے کرم سے جانے جاتے ہیں وہ جدید ہندوستان کے معمار تھے انہوں نے سرکار کے اس فیصلے کو اپنی جھینپ مٹانے کی کوشش قرارد یا سرکار کے اس فیصلے کے بعد امید ہے کہ اب کھلاڑیوں کے نام پر اسٹیڈیم کا نام رکھا جائے اس لئے پہلے نریندر مودی اسٹیڈیم ، ارون جیٹلی اسٹیڈیم کا نام بدل دینا چاہئے رندیپ سرجیوالا نے کہا میری کام، سچن تیندکلر، سنیل گواسکر ، گوپی چند سمیت دوسرے کھلاڑیوں کے نام پر بھی اسٹیڈیموں کے نام رکھے جائیں ۔ اروند ساونت سیو شینا ایم پی کا کہنا تھا کھیل رتن کا نام بدلنا غلط ہے ہر مسئلے پر سیاست کرنا ٹھیک نہیں ہے راجیو گاندھی کسی پارٹی کے نہیں بلکہ دیش کے وزیر اعظم تھے اس لئے اس طرح کے فیصلوں سے مودی سرکار کو بچنا چاہئے میجر دھیان چند کے نام سے کوئی اور ایوارڈ دیا جا سکتا ہے یاکوئی نیا ایوارڈ دیا جا سکتا تھا لیکن راجیو گاندھی کے نام سے ایوارڈ کا نام بدل کر میجر دھیان چند کھیل رتن کرنا صحیح نہیں مانا جاسکتا ہے وہیں بھاجپا نے پلٹ وار کر تے ہوئے مرکزی سرکار کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا کہ کھیل رتن ایوارڈ کو دیش کے عظیم کھلاڑی میجر دھیان چند کے نام پر رکھنا انہیں سچی شردھانجلی ہے یہ کھیل دنیا سے جڑے ہر شخص کے لئے قابل فخر فیصلہ ہے مرکزی سرکار کے فیصلے کا خیر مقدم کر تے ہوئے مدھیہ پردیش کے وزیر داخلہ نروتم مشرا نے کہا کھیل رتن کا نام سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی کے نام پر رکھے جانے کا کوئی جوازنہیں تھا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ میں آج تک نہیں سمجھ سکا کہ کھیل رتن ایوارڈ راجیو گاندھی کے نام پر کیوں تھا؟ انہوں نے تو اپنی زندگی میں کبھی ہاکی اسٹک تک نہیں پکڑی تھی؟ اس پر سوال کیا جا سکتا ہے کہ بھاجپا نیتاو¿ں نے کھیلوں کے بارے میں مہارت حاصل کی تھی جو ان کے نام پر بڑے بڑے اسٹیڈیم کے نام رکھے جا رہے ہیں ؟
(انل نریندر)
ججوں کو دھمکی کا معاملہ: سی بی آئی کچھ نہیں کرتی!
سپریم کورٹ نے جج صاحبان کو دھمکی اور بیہودہ الفاظ پر مبنی میسج ملنے کے واقعات پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ خفیہ ایجنسی (آئی بی اور سی بی آئی )عدلیہ کی بلکل مدد نہیں کر رہی ہے اور ایک جوڈیشیل افسر کو ایسی شکایت کرنے کی بھی آزادی نہیں ہے ۔ بڑی عدالت نے کہا گینگسٹر اور ہائی پروفائل افراد سے وابستہ کئی جرائم کے معاملے ہیں اور کچھ مقامات پر نچلی عدالت کے ساتھ ساتھ ہائی کورٹ کے ججوں کو نہ صرف جسمانی طور سے بلکہ ذہنی طور سے بھی واٹس ایپ یا فیس بک پر بیہودہ الفاظ والے میسیج کے ذریعے سے دھمکی دی جا رہی ہے عدالت کی بنچ دھن آباد کے ایک جج کی مبینہ طور پر گاڑی سے کچل کر موت کے حالیہ واقعے کے پیش نظر عدالتوں اور ججوں کی حفاظت کے مسئلے پر از خود نوٹس لیکر معاملے کی سماعت کر رہی تھی ۔ چیف جسٹس این وی رمن اور جسٹس سوریا کانت کی بنچ نے کہا کہ ایک یا دو جگہوں پر عدالت نے سی بی آئی جانچ کا حکم دیا ہے یہ کہتے ہوئے بہت دکھ ہو رہا ہے کہ سی بی آئی نے ایک سال سے زیادہ وقت سے کچھ نہیں کیا ہے ایک جگہ میں جانتا ہوں سی بی آئی نے کچھ نہیں کیامجھے لگتا ہے کی ہمیں سی بی آئی کے رویئے میں تبدیلی کی امید تھی لیکن سی بی آئی کے رویئے میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے مجھے کہتے یہ افسوس ہے کہ لیکن یہی حالت ہے بنچ نے اٹارنی جنرل کے کے وینو گوپال سے کہا کہ ایسے کئی معاملے ہیں جن میں بدمعاش اور ہائی پرو فائل افراد شامل ہیں اور اگر انہیں عدالت سے امید کے مطابق فیصلہ نہیں ملتا تو وہ ہماری امیج کو ملیا میٹ کرنا شروع کر دیتے ہیں بد قسمتی یہ ہے کہ دیش میں ایک ڈیولپ نیا چلن ہے ۔ ججوں کو شکایت کرنے تک کی آزادی نہیں ہے ایسی صورتحال پیدا کر دی جاتی ہے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ حالانکہ جج چیف جسٹس یا ضلع سے متعلق سر براہ سے شکایت کرتے ہیں ، جب وہ پولس یا سی بی آئی کو شکایت کرتے ہیں تو یہ ایجنسیاں کوئی رد عمل ظاہر نہیں کرتیں انہوں نے کہا لگتا ہے کہ ان کے لئے ترجیحاتی چیز نہیں ہے ۔ سی بی آئی ، آئی بی و عدلیہ کے بلکل مدد نہیں کر رہی ہے میں ذمہ داری سے یہ بیان دے رہا ہوں اور میں اس واردات کو جانتا ہوں جس کی وجہ سے میں ایسا کہہ رہا ہوں ۔ میں اس سے زیادہ اور کچھ بتانا نہیں چاہتا ۔ بنچ نے اس مسئلے کو سنگین قرار دیا اور وینو گوپال سے کہا کہ عدلیہ کی مدد کے لئے کچھ دلچسپی لینی ہوگی اس درمیان جھارکھنڈ سرکار کے ذریعے یہ نوٹیفائی کئے جانے کے بعد بنچ نے سی بی آئی کو نوٹس جار ی کیا کہ دھن باد میںجج کے موت معاملے کی جانچ ایجنسی کو سونپ دی گئی ہے ۔چیف جسٹس نے کہا کچھ ایک نوجوان جج کی موت کے بد قسمت معاملے کو دیکھیں یہ ریاست کی ناکامی ہے ۔ ججوں کی رہائش گاہوں کو حفاظت فراہم کی جانی چاہئے پہلے ایک یا دو جگہوں پر عدالت میں سی بی آئی جانچ کا حکم دیا تھا لیکن سی بی آئی نے کچھ نہیں کیا تھا۔
(انل نریندر)
10 اگست 2021
پاکستان تیار کر رہا ہے پرندہ بر گیڈ!
ہندوستانی سیکورٹی فورسیز کے ذریعے پاک دہشت گردوں کے صفائے سے پاکستان بوکھلا گیا ہے لہذا پاک خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی نے آپریشن پرندہ شروع کیا ہے اس کے لئے اس نے پرندہ کی دو بر گیڈ تیار کی ہیں یہ پرندہ ہیں ڈرون جنہیں پاک پی او کے سے لیکر انٹر نیشنل بارڈر پر تعینات کر نے کی تیاری کر رہا ہے ۔ وہ ڈرون کے ذریعے وادی میں ہتھیار بھیجنے اورحملوں کو انجام دینے کی تیار ی میں ہے اس نئے بر گیڈ کی تیاری میں چین اورترکی اس کی مدد کر رہے ہیں ۔ اٹیک ڈرون کی ایک بر گیڈ چین سے لینے اور دوسری اپنے قریبی دوست ترکی سے مل رہی ہے خفیہ ذرائع کے مطابق پاکستان بر گیڈ کو پی او کے میں تعینات کرنے کی پلاننگ کر رہا ہے پاک جس ڈرون کا استعمال کر رہا ہے وہ نہ صرف ہتھیار بھیجنے میں اہل ہے بلکہ ان میں حملہ کرنے کی بھی صلاحیت ہے چین بھی امن بحالی کے نام پر وقت کے ساتھ ساتھ اپنی طاقت بڑھانے میں لگا ہوا ہے چین کہ سائے پر پاکستان نے حال میں چین سے ملے کچھ یو اے وی میزائل تیار کئے ہیں این یو اے وی میزائل میں لیزر لانگ کرنے کی صلاحیت ہے اور وہ سیلف پروٹیکشن جیمر ہائی ریزولیشن کیمرے بنائے ہیں یہ نئے یو اے وی لگا کر اڑان بھرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور کئی میں تو ہتھیار کے ذریعے حملہ کیا جاسکتا ہے پاک نے ترکی کی ایک کمپنی سے سودا کیا ہے۔
(انل نریندر)
خبریں صحیح ہیں تو الزام بے حد سنگین ہے!
سپریم کورٹ نے جمعرات کو کہا کہ اگر خبریں صحیح ہیں تو پیگاسس سے وابستہ جاسوسی کے الزام بے حد سنگین ہیں حالانکہ عدالت نے اس معاملے میں مرکزی حکومت اور مرکزی وزیر داخلہ کو نوٹس جاری کرنے سے انکار کر دیا موبائل فون پر صحافیوں ، سیاست دانوں اور آئینی ذمہ داران کی اسرائیلی اسپائی ویئر پیگاسس کےلئے کی گئی جاسوسی کے خلاف دائر عرضیوں پر سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس این وی رمنا اور جسٹس سوریا کانت کی بنچ نے عرضی گزاروں سے کچھ سوال بھی کئے عرضیاں وکیل منوہر لال شرما صحافی این رام ، ششی تھرور و مرنال پانڈے ایڈیٹرس گلڈ آف انڈیا نے دائر کی ہیں ان مدعالیوں کو نوٹس جاری کرنے کی درخواست کی تھی بنچ نے سبھی کو اپنی عرضیوں کی کاپیاں مرکزی سرکار پر تعمیل کرانے کی ہدایت دی ہے اور معاملے کی اگلی سماعت 10اگست طے کردی ہے بنچ نے تبصرہ کیاہے کہ الزام چونکہ مرکزی سرکار پر لگائے گئے ہیں لہذاو ہ تب تک کوئی کاروائی نہیں کر سکتی جب تک مرکزی سرکار کا کوئی نمائندہ عدالت میں موجود نہ ہو بنچ نے عرضی گزاروں کے وکیل کی دلیلوں کو ضرور سنا خاص کر دوا شو پر ایک شخصی طور سے پریشان مدعالیوں نے اس معاملے میں ایک ایف آئی آر درج نہیں کرائی دوسرا جب پیگاسس اشو 2019میں سامنے آیا تھاتب عرضی گزاروں نے اپنی عرضیاں دائر کرنے میں دیر کیوں کی؟صحافی این رام کی پیروی کر رہے سینئر وکیل کپل سبل نے بنچ کو بتایا کہ اسپائی ویئر کی بکری صرف سرکاری ایجنسیوں کو کی گئی ہے صحافی و پبلک زندگی سے جڑے لوگ ، آئینی ذمہ دار ، عدالت کے حکام اور ماہرین تعلیم سبھی کو نشانہ بنایا گیا ہے سوال سرکار سے کیا جانا چاہئے جس نے اسپائی ویئر کو خریدا وکیل کپل سبل نے کہا پیگاسس اپنے ٹارگیٹ کی جاسوسی کرتے وقت فوٹو کو بھی لے سکتا ہے اور ویڈیو بھی اگر کوئی اپنے اندرونی اور ذاتی لمحوں کو گزار رہا ہو تو وہ نگراں رکھ سکتا ہو جس کی جاسوسی کی جا رہی ہو اس کے موبائل کیمرے اور مائیک دونوں کو بھی ایکٹیو کر سکتا ہے جگدیپ کونکر کی طرف سے پیش سینئر وکیل شام دیان نے کہا کہ یہ صرف میڈیا کی خبر نہیں ہے امریکہ اور فرانس کی سرکاروں نے اسرائیلی حکوم کو چونکس کر دیا ہے او ر اس کا جواب مانگا ہے کسی شہری کو یہ پتہ چلے کہ اسپائی ویئر کا سرکار نے اس پر استعمال کیا ہے تو یہ غیر آئینی ہے یہ تو کسی سرکار کے ذریعے اپنے شہریوں پر جنگ تھوپنے جیسا ہے صحافی ایس این رام سالوی کی طرف سے سینئر وکیل راکیش دویدی نے کہا جہاں تک شکایت درج کرنے کا سوال ہے یہ ایک ہتھک عزت والا معاملہ ہے اس پر بنچ نے کہا کہ آپ سبھی عرضی گزار پڑھے لکھے لوگ ہیں ہم نہیں کہنا چاہتے کہ یہ رپورٹ بھروسے مند ہے کہ نہیں لیکن اور زیادہ ثبوت اکٹھا کرنے کے لئے سخت محنت کرنی چاہئے تھی۔
(انل نریندر)
نیرج تم پر دیش کو نازہے!
ٹوکیو اولمپک میں 16ویں دن’ جن گن من بجا ‘اور بارہ سال سے جاری گولڈ میڈیل کا سوکھا خوشی کے آنسو سے ختم ہوا ہریانہ کے رانا نیرج چوپڑا نے بھالے سے بھارت کا جھنڈا ایسا گاڑ اکہ پورہ ملک ان کا مرید ہوگیا صوبے دار اکیلے اپنے دم پر دیش کو میڈل ٹیلی میں 19سیڑھیاں اوپر لے آیا نیرج تم پر دیش کو ناز ہے ایتھلیٹکس میں دیش کے لاڈلے نیرج چوپڑا نے آخر اولمپک میں ایک صدی سے زیادہ (121)سال بعد کے انتظار کو ختم کردیا نیریج نے بھالا پھینک میں گولڈ جیتنے کے ساتھ ایک وقت نا ممکن سا لگنے والا کارنامہ سنہرے الفاظ سے اپنا نام تاریخ میں درج کرا لیا ان سے پہلے ایتھلیٹکس میں کسی بھی ہندوستانی نے کوئی میڈل نہیں جیتا تھا ملکھا سنگھ اور پی ٹی اوسا اولمپک میں قریب آکر چوک گئے تھے ٹوکیو اولمپک میں سنیچر کو بھارت نے تاریخ رقم کر دی ۔ نیرج چوپڑا نے بھالا پھینک مقابلے میں گولڈ میڈل جیت کر ایتھلیٹکس میں 121برس بعد میڈل جتا کر ہندوستان کو شان کو بخشی اسی کے ساتھ بھارت نے ایک اولمپک میں سب سے زیادہ میڈل جیت کر ریکارڈ بنا دیا صدر رام ناتھ کووند ، وزیر اعظم نریندر مودی ، اور ہریانہ کے وزیر اعلیٰ منوہر لال کھٹر سمیت تمام ہستیوں نے انہیں جیت کی مبارک باد دی وہیں ان کی آبائی ریاست ہریانہ سمیت پورا دیش جشن میں ڈوب گیا ہریانہ کے ایک کسان کے بیٹے 23سالہ چوپڑا شروع سے خود اعتمادی سے بھرے ہوئے تھے اور کسی بھی دباو¿ میں نہیں نظر آئے ہندوستانی فوج میں کام کرنے والے نیرج ہیرو کی طرح سامنے آئے اور پہلی کوشش میں 87.03میٹر دور بھالا پھینک کر بڑھت لے لی اور پھر مقابلے میں 86.63میٹرتھروں کے ستون چیک ریپبلک کے جیکب ویدلے اور جبکہ 85.44میٹر تھرو کے ساتھ اور چیک ریپبلک کے ہی ویسلی تیسرے نمبر رہے بھارت کا یہ ٹوکیو اولمپک سب سے کامیاب اولمپک بن گیا بھارت نے اس میں ایک گولڈ اور دو سلور اور چار تانبے کے میڈل جیتے ہیں اس سے پہلے 2012لندن اولمپک میں سب سے زیادہ چھ میڈل جیتے تھے بھارت کو ایتھلٹکس میں پہلا گولڈ جیتنے والے نیرج چوپڑا کو ان کے سا کارنامے کے لئے سنیچر تک کل ملاکر 10کروڑ روپئے سے زیادہ کے نقد انعامات سے دینے کا اعلان کیا گیا چوپڑ اکے بھارت کے اولمپک میں شخصی گولڈ میڈل جیتنے والے دوسرے کھلاڑی بننے کے بعد ہریانہ کے وزیر اعلیٰ منوہر لال کھٹر نے ان کے لئے چھ کروڑ روپئے جبکہ پنجاب کے وزیرا علیٰ امریندر سنگھ نے دو کروڑ روپئے دینے کے نقد انعام دینے کا اعلان کیا ہے انڈین کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی)اورانڈین پریمر لیگ فرنچائزی چنئی سپر کنگ نے بھی نیرج چوپڑ اکو ایک کروڑ روپئے دینے کا اعلان کیا ہے کھٹر نے اس کے ساتھ ہی اعلان کیا کہ چوپڑا کو پنچ پلا میں ایتھلٹکس کے سینٹر آف ایکسی لینس کا چیئر مین بنایا جائے گا انہوں نے کہا ہماری کھیل پالیسی کے تحت نیرج کو چھ کروڑ روپئے کانقد انعام اور کلاس ون کی نوکری اور سستے داموں پر پلاٹ دیا جائے چوپڑا ہریانہ کے پانی پت ضلع کے رہنے والے ہیں ہریانہ کے پہلوان روی دھائیا نے سلور اور بجرنگ پونیا نے برونز میڈل جیتاہے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پنچ کلا میں 13اگست کو بڑا عزت افزائی پروگرام منعقد کیا جائے گا جس میں ٹوکیو میں حصہ لینے والے کھلاڑیوں کو سمانت کیا جائے گانیرج ہند کے ناز بنے ۔
(انل نریندر)
08 اگست 2021
آکسیجن ڈیلروں پر درج مقدمے واپس ہونگے !
ہائی کورٹ کے سخت رویئے کو دیکھ کر دہلی سرکار نے کورونا وبا کے دوران خدمت کے جذبے سے عام لوگوں کو آکسیجن مہیا کرانے والوں کے خلاف کوئی کاروائی نہ کرنے کا فیصلہ لیا ہے سرکار نے کہا کہ عدالت میں داخل سبھی شکایتوں کو واپس لے گی ہائی کورٹ نے سرکار کے اس فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے سمجھداری کو قدم بتایا ہے جسٹس وی پن سانگھی و جسٹس جسمیت سنگھ کی بنچ کے سامنے دہلی سرکار کے وکیل راہل مہرا نے رپورٹ پیش کرتے ہوئے اپریل مئی میں کورونا دوسری لہر کے دوران آکسیجن کی جمع خوری کو لیکر کچھ نیتاو¿ں افراد انجمنوں کے خلاف عدالت میں کیس دائر کیا تھا اب سرکار نے ہمدردانہ طور پر غور کیا ہے کہ اس مقدمے کو واپس لیا جائے بنچ نے پیش رپورٹ کی اسٹڈی کرنے کے بعد کہا کہ سرکار نے کاروائی نہ کرنے کو لیکر سمجھدار ی سے کام لیا ہے جن لوگوں نے نیک ارادے سے عام لوگوں کو وبا کے دوران آکسیجن سپلائی کی اس میں سماجی تنظیم و گرو دوارے وغیرہ شامل ہیں حالانکہ وبا ختم نہیں ہوئی اگر ایسے معاملوں میں مقدمہ چلایا جاتا ہے تو سزا کے ہر ضرورت مند کی مدد کے لئے اچھے افراد نہیں آئیں گے ۔ بنچ نے اس سے پہلے ڈرگ کنڑولر سے کہا کہ وہ وبا کے دوران دبا و آکسیجن جمع خوری کرنے والوں پر کاروائی کرے اس کے جواب میں ڈرگ کنٹرولر نے کہا ہم نے 8جولائی کو ایم پی گوتم گمبھیر اور عام آدمی کے ممبر اسمبلی سنجیو کمار عمران حسین کے خلاف دوا و آکسیجن جمع خور ی کو لیکر عدالت میں شکایت داخل کر دی ہے ۔
(انل نریندر)
یو یو ہنی سنگھ کے خلاف بیوی عدالت پہونچی !
بالی ووڈ اداکار اور گلو کار یو یو ہنی سنگھ کی مشکلیں بڑھ سکتی ہیں کیونکہ ان کی بیوی شالنی تلوار ان کے اور ان کے خاندان کے خلاف گھریلو تشدد روک تھام قانون کے تحت عدالت میں عرضی داخل کر ٹارچر کرنے کا الزام لگایا ہے اداکار ہردیش سنگھ عرف یویو ہنی سنگھ کو نوٹس جاری کر جواب مانگا ہے تیس ہزاری کورٹ میں چیف میٹرو پولٹن مجسٹریٹ تانیہ سنگھ نے معاملے میں گلو گار ہنی سنگھ کو پیش ہو کر 28اگست تک جواب دینے کو کہا عدالت نے گھریلو تشدد قانون کے تحت عرضی کو سماعت کے لئے قبول کرتے ہوئے شالنی تلوار نے ٹارچر کے بدلے میں یو یو ہنی سنگھ سے 20کروڑ روپئے کا معاوضہ کی مانگ کی ہے اس کے علاوہ قانون کے تحت گھر بھی مانگا ہے اس کے لئے ہنی سنگھ کو ہر مہینے پانچ لاکھ روپئے بھتہ دینے کا بھی حکم دینے کی بھی اپیل کی ہے شالنی کا کہنا ہے کہ ملک و بیرونی ملک میں اسٹیج اور دیگر پروگراموں کے دوران ہنی سنگھ نے کئی عورتوں سے تعلق بنائے اسی کے ساتھ ان سے مار پیٹ کے واقعات بڑھتے گئے ہنی سنگھ اور ان کے رشتہ داروں نے مسلسل جسمانی اور گالی گلوج اور ذہنی اذیت پہونچا رہے ہیں اور اس کے ثبوت اس کے پاس ہیں انہوں نے اندیشہ جتا یا ہے کہ ہنی سنگھ دونوں کے نام پر مشترکہ خریدی پراپرٹی کو بیچ سکتے ہیں ہنی سنگھ سے مکان کے لئے پانچ لاکھ روپئے مہانہ دلانے کی درخواست کی گئی ہے تاکہ وہ اپنی بیوہ ماں پر منحصر نہ رہ سکیں ۔
(انل نریندر)
پاکستان میں گنیش مندر پر حملہ اور توڑ پھوڑ!
پاکستان میں اقلیتوں کی بد حالی اور عزیتوں کا معاملہ ایک بار پھر سامنے آیا ہے پنجاب صوبے کے رحیم دار خان ضلع کے یونگ شریف علاقے میں مسلمانوں کی بھیڑ نے گنیش مندر پر حملہ بول دیا اور پولس واقع پر تماشائی بنی رہی حالات پر قابو پانے کے لئے پاکستانی رینزرس کو بلانا پڑا سوشل میڈیا پر آئے ویڈیو میں سینکڑوں لوگ مندر کی کھڑکیاں اور دروازوں اور مورتیوں کو توڑتے نظر آرہے ہیں اس معاملے پر حکومت ہند نے دہلی میں پاکستان کے ہائی کمشنر کو طلب کیا ہندوستانی وزارت خارجہ کے ترجمان باغچی نے بتایا کہ بھارت نے اقلیتی فرقے کی مذہبی آزادی پر لگاتار حملوں کو لیکر پاکستانی سفیر سے زبردشت تسویش جتائی ہے اور ساتھ ہی اقلیتوں کی پاکستان میں حفاظت یقینی کرنے کو کہا اس معاملے میں پاکستان کے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس گلزار احمد نے از خود نوٹس لیااور پنجاب کے چیف سکریٹری اور پاکستانی پولس کے آئی جی کو طلب کیا اس معاملے کی جمعہ کو سماعت رکھی گئی اس میں دونوں حکام سے معاملے کی رپورٹ پیش کرنے کے لئے کہا گیا وہیں ضلع پولس افسر اسد سرفراز نے بتایا کہ علاقے میں رینزرس اور پولس تعینات اور یہاں رہنے والوں کی ہر ممکن حفاظت کی جائے گی وہیں اس حملے کے 24گھنٹے سے زیادہ وقت گزرنے کے بعد وزیر اعظم عمران خان نے خاموشی توڑی اور کہا انہوں نے حملے کی سخت مذمت کی اور پنجاب کے آئی جی کو قصور واروں کی گرفتاری اور واردات سے نمٹنے میں ہوئی لا پرواہی کے خلاف کاروائی کرنے کا حکم دیا ۔ سرکار مندر کو پھر سے مرمت کرائے گی ۔ جس علاقے میں یہ واردات ہوئی وہاں مندر کے آس پاس ہندو فرقے کے 80گھر ہیں لیکن زیادہ تر آبادی وہاں مسلمانوں کی ہے ۔ بدھوار کو حکمراں پاکستان تحریک انصاف کے ایم پی اور ہندو کونسل کے صدر ڈاکٹر رمیش کمار نے حملے کا ویڈیو سوشل میڈیا پر ڈالا ساتھ ہی پولس سے موقع پر پہونچنے کو کہا اور مندر پر حملے کے بعد حالات کشیدہ ہیں اور پولس کی لا پرواہی شرمناک ہے ڈاکٹر رمیش کے مطابق یہ حادثہ 23جولائی کی واردات سے جڑا ہے اس میں ایک آٹھ سال کے بچے پر توہین اسلام کا الزام لگایا گیا تھا پولس کے مطابق 24کو جولائی کو اس لڑکے پر کیس درج کر گرفتار کر لیا گیا تھا نا بالغ ہونے کے سبب اسے 28جولائی کو ضمانت پر چھوڑ دیا گیا مقامی مدرسہ انتظامیہ کا الزام تھا کہ بچے نے مذہبی تنظیم کی لائبریری میں پیشاب کیا اس بچے کو ضمانت کے بعد شام چار بجے دو درجن لوگوں نے سی پیک روڑ جام کر دیا پھر مندر پر حملہ کیا گھروں میںگھسنے کی کوشش کی ۔ پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے بیشک اس مندر کو پھر سے بنوانے کا وعدہ کیا ہے حالانکہ پاکستان سے وابستہ امور پر نگاہ رکھنے والے مبصرین کا کہنا ہے عمران خان کا یہ بیان محذ دکھاوا ہے عمران خان کا بیان دنیا کی تنقید سے بچنے کے لئے دکھاوا ہے یہ کیونکہ اب سے پہلے اس طرح کے کئی واقعات ہو چکے ہیں اور پاکستان سرکار نے ا ن پر کوئی کاروائی نہیں کی ایسے میں انٹر نیشنل ایجنسیوں اور ایک ایس ٹی ایف جیسی ایجنسی کاروائی کے پیش نظر اس طرح کی دکھاوے کی باتیں کی جا رہی ہیں ۔
(انل نریندر)
سبسکرائب کریں در:
تبصرے (Atom)
ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...
-
سپریم کورٹ میں بھی عجیب و غریب مقدمات آرہے ہیں۔ تازہ مثال بحریہ کے کچھ افسروں پر بیویوں کی ادلہ بدلی سے متعلق معاملات ہیں۔ بحریہ کے ایک اف...
-
ہندوتو اور دھرم پریورتن، گھر واپسی سمیت تمام معاملوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس پریوار سے جڑے لیڈروں کے متنازعہ بیانات سے وزیر...
-
مدھیہ پردیش کے ہائی پروفائل ہنی ٹریپ معاملے سے نہ صرف ریاست کی بلکہ دہلی کے سیاسی حلقوں میں مچا دئے معاملے میں اہم سازشی گرفتار ہو چکی شیو...