Translater

27 جون 2020

لانچ کے پانچ گھنٹے بعد ہی دوا کی پبلسٹی پر روک

کورونا وبا سے دنیا متاثر ہے اس سے چھٹکارہ پانے کے لئے پوری دنیا ایسی دوا بنانے میں لگی ہے جس دوا سے اس بیماری سے نجات مل سکے۔ آئے دن نئے نئے دعوے آرہے ہیں ہماری دوا اس سے کارگر ثابت ہوگی۔ کچھ دوائیں تو مارکیٹ میں بھی آچکی ہے۔ باقی اب تجرباتی مرحلے پر ہے۔ اس درمیان یوگ گرو بابارام دیو نے کورونا کی دوا بنانے کا دعویٰ کیا اور بڑی دھوم دھام سے بابا اورآچاریہ بال کشن نے کورونا کی دوا ’کورونل‘نام کی ویکسین لانچ کرتے ہوئے بابا رام دیو نے کہا کہ اس سے صرف سات دن میں کورونا مریض سوفیصد ٹھیک ہوسکتے ہیں۔ لیکن دوا لانچ ہونے کے 5.30گھنٹے بعد ہی مرکزی حکومت نے اس دوا کی پبلسٹی پر روک لگادی۔ سرکار کی دلیل تھی کہ دوا کی سائنٹفک جانچ نہیں ہوئی ہے۔ وزارت نے دوا میں استعمال جڑی بوٹیوں پر ریسرچ کی جگہوں،ہسپتالوں، پروٹوکول، سمپل کا نمونہ اور انسٹی ٹیوشنل ایتھیٹکس کمیٹی کلیریئنس اور کلینکل ٹرائل رجسٹریشن اور ٹرائل کے نتیجے مانگے ہیں۔ اتراکھنڈ کے محکمہ آیوروید نے کورونا کی دوا بنانے کے دعوے پر رام دیو کی کمپنی پتنجلی کو نوٹس جاری کردیا ہے۔ محکمہ نے پوچھا ہے کہ کورونا کے علاج کی آیورویدک دوابنانے کی اجازت کہاں سے ملی؟ لائسنس افسر وائی ایس راوت کے مطابق پتنجلی کو کھانسی، بخار کے لئے دوتین امیونٹی بوسٹر بنانے کا لائسنس دیا تھا اور درخواست 10جون کو دی گئی تھی۔12جون کو لائسنس جاری ہوا۔ لائسنس میں کورونا وائرس کی دوا بنانے کا ذکر نہیں تھا۔ ڈرگس اینڈ کاسٹمیٹک ایکٹ 1940کے قاعدے 170-171کے تحت کسی بھی کمپنی کو پروڈکٹ کا اشتہار دینے کے لئے لائسنس افسر سے اجازت لینی ہوتی ہے اور اس کے بغیرکورونا علاج کے دعوے کرنا جائز نہیں ہے۔ اسی درمیان مرکزی وزیر آیوش شری پدنائک نے کہاکہ پتنجلی کی رپورٹ کا جائزہ لینے کے بعد وزارت اپنا موقوف رکھے گی۔ یہ اچھی بات ہے کہ بابا رام دیو نے دیش کو ایک نئی دوا دی ہے۔ لیکن پہلے یہ دوا آیوش وزارت میں آنی چاہئے تھی۔ اب اس کی رپورٹ دیکھنے کے بعد ہی اجازت دی جائے گی۔ تنازعہ کے درمیان رام دیو نے ایک ٹوئیٹ کیا کہ آیورویدکی مخالفت ونفرت کرنے والوں کے لئے اس دوا کی ایجاد ایک زبردست مایوسی کی خبر ہے۔ انہوں نے آچاریہ بال کشن کے ذریعہ ٹوئیٹ کیا کہ آیوش وزارت کا ایک خط جاری کرتے ہوئے رائے زنی کی ادھر راجستھان کے وزیر صحت رگھوشرما نے رام دیو کے خلاف قانونی کارروائی کی مانگ کی ہے کہاکہ اگر راجستھان میں کہیں بھی ان کی دوا بکتی دکھائی دی تو اسی دن بابا رام دیو کو جیل میں ڈال دیں گے۔ بہار میں اس دوا پر پابندی لگادی گئی ہے۔ مطلب بہارکے مظفر پور کی عدالت میں بھی رام دیو اور پتنجلی کے ایم ڈی آچاریہ بال کشن کے خلاف مقدمہ درج ہوگیا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ ان کا دعویٰ سچ ہو۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو انسانیت کے لئے واقعی اس دوا کی ایجاد ایک بہت بڑا کارنامہ ہوگی۔ (انل نریندر)

دہلی نے انفیکشن میں ممبئی کو پیچھے چھوڑا!

دہلی کے وزیراعلیٰ اروند کجریوال نے صحیح ہی کہاہے کہ آج ہمیں چین کے خلاف دو جنگ لڑنی پڑرہی ہے۔ گلوان وادی میں خونی لڑائی اور دہلی میں چینی کورونا وائرس سے ایک طرف چین کے ذریعے بھیجے گئے کورونا وائرس کے خلاف دوسرے چین کے خلاف بارڈر پر جنگ چل رہی ہے۔ دیش کی راجدھانی دہلی میں کورونا انفیکشن تیزی سے بری حالت اختیار کرتا جارہا ہے۔ اقتصادی راجدھانی ممبئی کو بھی اس نے پیچھے چھوڑ دیا۔ اب دہلی دیش میں سب سے زیادہ کورونا مریضوں والا میٹرو شہر بن گیا ہے۔ دہلی میں روزبروز کافی تعداد میں نئے مریض بڑھ گئے ہیں۔ اس طرح کل 80000کو پار ہوگئے ہیں، جس میں 44765ٹھیک ہوئے ہیں اور 2429موتیں ہوئی ہیں جبکہ ممبئی میں یہ تعداد 4480نئے مریض سامنے آئے اور کل مریضوں کی تعداد ایک لاکھ 47ہزار 740ہے۔ ان میں 70453مریض ٹھیک ہوگئے ہیں۔ کل اموات 6931ہے۔ حالانکہ ایکٹیو مریضوں کے لحاظ سے ممبئی اب دہلی سے آگے ہے موتوں کے معاملے میں بھی دہلی کی پوزیشن بہتر ہے۔ دہلی میں موت کی شرح 3.3فیصد جبکہ ممبئی میں یہ شرح 5.70فیصد ہے۔ دیش میں کووڈ سے انفیکشن کا پہلا مریض کیرل میں 30جنوری کو سامنے آیا تھا اور اس کے پانچ مہینے بعد انفیکشن کے مریض دیش بھر میں 5لاکھ سے زائد ہوچکے ہیں جو یہ سمجھنے کے لئے کافی ہے کہ وبا سے لڑائی ابھی جاری ہے۔ بھارت ابھی امریکہ، برازیل،روس کے بعد دنیا کا چوتھا سب سے زیادہ متاثر دیش ہے۔ جبکہ موت کے معاملے میں وہ روس سے آگے ہوگیا ہے۔ یوں تو دیش میں 70فیصد مریض مہاراشٹر، دہلی، تامل ناڈو، گجرات اور اترپردیش مین ہے لیکن مغربی بنگال، راجستھان، مدھیہ پردیش، ہریانہ، کرناٹک، آندھرا پردیش اور تلنگانہ جیسی ریاستوں میں انفیکشن کے مریض یا تو 10ہزار کے نمبر کو پار کرچکے ہیں یا اس کے قریب ہیں۔ دراصل انفیکشن کے معاملے میں یہ اضافی جانچ میں بڑھنے کی وجہ سے بھی ہے۔ 24مئی کو ختم ہوئے ہفتے میں جہاں پوزیٹیو پائے جانے والے لوگوں کی شرح 5.3فیصدی تھی وہ 21جون کو ختم ہوئے ہفتے میں 7.74فیصدی ہوگئی ہے، لہٰذا متاثرہ لوگوں کی تعداد اور بڑھ سکتی ہے، جس سے ہیلتھ سروسز پر دباو¿ بڑھنا طے ہے۔ کورونا وائرس سے متاثر لوگوں کی بڑھتی تعداد کے سبب دیگر بیماریوں سے متاثر لوگوں کے علاج میں جو مشکلیں آرہی ہیں یوں تو اگل چیلنج ہے، دہلی میں آئے دن کسی نہ کسی کی موت کی خبر آٹی ہے، ان میں زیادہ تر کورونا کی وجہ سے موتیں نہیں ہوئیں یہ پرانے بیمار مریض تھے جنہیں نہ تو ڈاکٹر کی سہولت اور کووڈ کی پابندی کی وجہ سے ان کو توجہ ملی۔ پرانے مریض کو ہسپتال میں داخلہ میں مشکل آرہی ہے۔ دہلی سرکار مرکز کے ساتھ کندھے سے کندھے ملاکر اس منحوس بیماری کا سامناتو کررہی ہے اور انتظامات بھی کررہی ہے۔ لیکن مسئلہ اتنا پیچیدہ شکل اختیار کرتا جارہا ہے۔ کورونا مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہونا لازمی ہے۔ (انل نریندر)

26 جون 2020

ریڈیو کے ذریعے بھارت مخالف پروپیگنڈہ!

بھارت کے پڑوسی ملک چین کے حق میں ماحول بنتا دکھائی دے رہا ہے۔ میں نیپال کی بات کررہا ہوں۔ پہلے دیش کی حکمراں پارٹی کے نیتاو¿ں نے چین کی کمیونسٹ پارٹی کے ساتھ میٹنگ کر مانگ کی ہے کہ نیپالی گورکھا شہری ہندوستانی فوج میں شامل نہ ہوں، نیپال کی ایک ممنوعہ پارٹی نے گورکھا شہری بھارت کی طرف سے چین کے لئے لڑائی نہ لڑیں۔ کمیونسٹ پارٹی آف نیپال کے نیتا وکرم چند نے کاٹھمنڈو میں سرکاری لیڈر شپ سے اپیل کی ہے کہ گورکھا شہریوں کو ہندوستانی فوج کا حصہ بننے سے روکا جائے۔ ایک پریس ریلیز میں کہاگیا ہے کہ گلوان وادی میں ہندوستانی جوانوں کے مارے جانے کے بعد بھارت۔چین میں بڑھتے تناو¿ کے بعد بھارت نے گورکھا ریجمنٹ کے نیپالی شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنی چھٹیاں منسوخ کرکے ڈیوٹی پر واپس آئیں۔ اس کا مطلب ہے کہ بھارت ہمارے نیپالی شہریوں کو چین کے خلاف فوج میں اتارنا چاہتا ہے۔ بھارت کے لمی یادھورا، کالاپانی اور لیپولیکھ کو نیپالی جغرافیائی حصہ بتانے والے اپنے دعوے کو مضبوط کرنے کے لئے اب نیپال بھارت مخالف پروپیگنڈہ پر اتر آیا ہے اس کے لئے وہ ایک ایف ایم ریڈیو چینل کا سہارا لے رہا ہے۔ سرحد کے پاس رہنے والے ہندوستانیوں کا کہنا ہے کہ نیپال کے چینلوں کے ذریعہ براڈ کاسٹ گیتوں یا دیگر پروگراموں کے بیچ ان علاقوں کو واپس کئے جانے کی مانگ کرنے والے ہندوستانی مخالف تقریریں دی جارہی ہیں۔ ویسے ان چینلوں کی فریکوینسی زیادہ نہیں ہے۔ لیکن اس سے نیپال کی بھارت کے تئیں منشاءتو اجاگر ہوہی جاتی ہے۔ یہی نہیں بھارت نیپال کے درمیان چل رہے سرحدی تنازعہ کا اثر بہار پر پڑنے لگا ہے۔ پہلے سیتا مڑھی میں فائرنگ تنازعہ اور اب نیپال باندھوں کی مرمت کے کاموں کو روکا جارہا ہے۔ اس وجہ سے بہار کے ایک بڑے حصے میں سیلاب کا خطرہ منڈلانے لگا ہے۔ بہار سرکار نے اس سلسلے میں وزارت خارجہ کو خط بھی لکھا ہے۔ بہار کے وزیر پانی وسائل سنجے جھا نے بتایا کہ کنڈک گیراج کے 36دروازے ہیں جن میں18نیپال کی طرف پڑتے ہیں۔ بھارت کے حصے میں پڑنے والے پھاٹک تب باندھ کی صفائی اور مرمت کا کام ہوچکا ہے۔ وہیں نیپال کے حصے میں پڑنے والے باندھ کی مرمت کا کام نہیں ہوسکا۔ نیپال باندھ کی مرمت کے لئے سامان لے جانے سے روکا جارہا ہے۔ اس طرح کا مسئلے کا سامنا ہم پہلی بار کررہے ہیں۔ بھارت کو اس نئی صورتحال سے نمٹنا ہوگا۔ یہ سب نیپال کی اس یقین دہانی کے خلاف ہے جو 2017میں وہاں کی دیوبا سرکار نے بھارت کو کرائی تھی۔ مانا جارہا ہے کہ اس وقت نیپال میں کمیونسٹ حمایتی اولی سرکار چین کے دباو¿ میں یہ سب کیا ہے۔ بتایا جارہا ہے کہ چین کی مدد سے ہی اس کی اقتدار میں واپسی ہوئی ہے۔ اگر یہ سچ ہے تو نیپال کی اولی سرکار اس کے بغل میں چین کو اس کے احسان کی قیمت ادا کرنی چاہے گا یا چین کے مفاد میں اور بھارت کے غیر مفاد میں ہوگا کہ بھارت کو ایک دوسرے محاذ پرا لجھا دیاجائے۔ بھارت سرکار اس مسئلے سے کیسے نمٹتی ہے، دیکھنا ہوگا۔ (انل نریندر)

سستے کا لالچ چھوڑنا ہوگا!تبھی ڈریگن سے لڑپائیں گے

اس وقت پورے دیش میں چین کو مالی چوٹ پہنچانے کی مانگ اور منفی نظریہ زور پکڑچکا ہے حالانکہ پچھلے کافی وقت سے سوشل میڈیا پر چینی سامان کے بائیکاٹ کی مانگ چل رہی تھی۔لیکن شدت اس وقت اختیار کرگئی جب وزیراعظم نریندرمودی نے بدھ کے روز کہاکہ فوجیوں کی قربانی ضائع نہیں جائے گی اسی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے سرکاری مشینری اقتصادی محاذ پر چین کی گھیرابندی میں لگ گئی۔ وزارت ریل اور وزارت کمیونیکشن نے دوبڑے قدم اٹھائے۔ اب شہری ترقی وزارت کا نمبر ہے جو دہلی سے میرٹھ کے درمیان بن رہے ایم آر پی سی پروجیکٹ کا ٹھیکہ چینی کمپنیوں کو دیئے جانے کے فیصلے پر نظرثانی کررہی ہے۔ مرکزی حکومت نے سبھی پرائیویٹ موبائل سروس کمپنیوں کو چینی نیٹ ورک ہٹانے کے احکامات دیئے ہیں۔ بےشک آج پورے دیش میں چینی سامان کی بائیکاٹ کی مانگ اٹھ رہی ہے۔ لیکن باقاعدہ طورسے بھارت کس حد تک چینی سامان کو پوری طرح باہر کا راستہ دکھانے کی پوزیشن میں ہے؟ چین سے گہرے اقتصادی رشتوں کے پیش نظر چینی سامان کا پوری طرح سے بائیکاٹ کرنا اتنا آسان نہیں۔ اس پڑوسی دیش سے کاروباری رشتے پوری طرح ختم کرنے میں کافی مشکلیں ہیں۔ بھارت کا سب سے زیادہ انحصار الیکٹرانک سازوسامان پر ہے۔ سال 2019میں دیش میں کچھ الیکٹریکل سامان کی پروڈکٹس 34فیصد چین سے آیا۔ بھارت وہاں سے راڈاروں کے لئے ٹرانسمیشن سامان ٹی وی، کیمرہ، مائیکروفون، ہیڈ فون، لاو¿ڈاسپیکر وغیرہ سامان خریدتا ہے۔ چین کی موبائل کمپنی شیمی بھارت میں نمبر ون ہے۔ یہ تو بھارت میں اتنا مقبول ہے کہ اس نے ایک چوتھائی بازار پر اپنا قبضہ بنالیا ہے۔ بھارت نے پچھلے سال اپنی فرٹیلائزر امپورٹ کا دوفیصدی حصہ پڑوسی دیش چین سے درآمد کیا تھا۔ بھارت کھاد کے استعمال میں ہونے والا ایک اہم جزوڈائیونیم فاسٹ فیڈ چین سے لیتا ہے۔ کھاد کو بھی چین سے خریدتا ہے۔ پچھلے سال بھارت نے 10کھرب58ارب روپے سے زیادہ کے دیش کے لئے یورینیم کے نیوکلیئر ری ایکٹر اور بائلسر بھی چین سے منگوائے۔ میڈیکل سازوسامان کی جہاں تک بات ہے پچھلے سال میڈیکل سازوسامان کی کل درآمدات کا 2فیصد چین سے آیا۔ بھارت پڑوسی دیش پر پی پی ای، وینٹی لیٹرس، این95ماسک اور دوسرے میڈیکل سامان کے لئے منحصر ہے۔ حالانکہ اب پی پی ای کٹس اور ماسک کی پیداوار دیش میں زوروں سے شروع ہوچکی ہے۔ آٹو پارٹس کے کچھ امپورٹ کا 2فیصد حصہ پچھلے چین سے آیا تھا اور دیگر آٹو انڈسٹری سے متعلق سامان بھی بھارت آتا ہے۔ بھارت میں بننے والی کاروں کی کئی حصے بھی چین سے آتے ہیں۔ وہیں چین سے درآمد شدہ زیادہ تر سامان سے ہی چیزیں بنتی ہیں۔ کچھ سامان ایسے ہیں جن کا بنایا مال ہم سے منگواکر دیش میں ہی بیچتا ہے۔ مثلاً پچھلے سال قریب 3900کروڑ روپے کا لوہا، اسٹیل بھارت نے چین کو بھیجا اور اس کے بدلے میں اسٹیل سے بنے ہزاروں کروڑ روپے کا سامان درآمد کیا۔ ایسے بھارت میں دوا درآمدات میں بڑے دیشوں میں سے ایک ہے۔ کچے مال کے لئے ہم چین پر منحصر ہیں بھارت میں دوا بنانے والی کمپنیاں 70فیصد ایکٹیو فارمیٹیکل ایگریڈنس چین سے منگواتی ہیں۔ 2018میں 240کروڑ روپے کے اے پی آئی چین سے آئے۔ ایسے ہی 75فیصد اینٹی بائیوٹک دوا بازار میں چین کا قبضہ ہے۔ ہم سے کچا مال منگواکر ہمیں ہی بیچتا ہے۔ جب جب چین کے ساتھ تنازعہ بڑھتا ہے تو چینی سامان کا بائیکاٹ کرنے کا ماحول بننے لگتا ہے۔ لیکن حقیقت میں سستی لیبر اور وسیع سطح پر اسمبلنگ کے بوتے پر چین نے منظم طریقے سے دنیا بھر کے بازاروں میں کم داموں پرسامان فروخت کرکے اپنا دبدبہ بنایا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جن ملکوں میں ڈریگن نے پاو¿ں پھیلائے وہاں کی مقامی کمپنیوں کو مقابلے سے باہر کردیا۔ مارکیٹ کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس میں کوئی دورائے نہیں کہ ہم چین سے انحصار ختم کرکے خود کفالت کی طرف بڑھ سکتے ہیں۔ لیکن اس میں لمبا وقت لگے گا۔ سرکار کو قوت ارادی کا پختہ مظاہرہ کرنا ہوگا اور تمام دعوو¿ں کے باوجود خود کفالت کی پالیسی پر چلنے کے لئے پالیسیوں میں ترمیم کرنی ہوگی اور ہندوستانی صارفین کو سستے کے لالچ کو بھی چھوڑنا ہوگا۔ (انل نریندر)

25 جون 2020

آئی ایس آئی نے گرینیڈ لدے ڈرون کو بھیجا

بی ایس ایف نے جموں کشمیر کے کٹھوعہ ضلع میں سنیچر کو ایک جدید رائفل اور کچھ چھوٹے بموں سے آراستہ ایک ڈرون کو بھیجا۔ یہ پاکستان سے آیا تھا۔ حکام نے بتایا کہ ڈرون میں امریکہ رائفل ودومیگزین، 60گولیاں اور 7دستے گولے رکھے گئے تھے۔ جنہیں پاک ایجنٹوں کو دینا تھا۔ جموں کشمیر میں یہ پہلا واقعہ ہے جب بی ایس ایف نے ہتھیاروں اور دھماکو سامان سے لیس ڈرون کو گرایا ہے۔ ساتھ ہی ڈرون سے علاقے میں ہتھیاروں کی اسمگلنگ روکنے کی پاک کی کوشش ناکام کردی۔ بی ایس ایف کا دعویٰ ہے کہ یہ ڈرون پاکستان کی ٹھاکر پور چوکی سے چھوڑا گیا تھا۔ جموں کشمیر فرنٹیر پوسٹ پر تعینات بی ایس ایف کے آئی جی جموال نے ایک نیوز چینل کو بتایاکہ بغیر آئی ایس آئی اور پاکستان کی فوج کی مدد کے پاکستانی سرحد سے اتنا بڑا ڈرون اڑنا اور ہتھیاروں کی اتنی بڑی کھیپ بھارت پہنچانا ناممکن ہے۔ فوج کے افسر نے بتایا کہ پاکستانی رینجرس نے صبح8بج کر50منٹ پر ہیرا نگر سیکٹر میں واقع بدھیا چوکی پر گولی چلائی۔ بین الاقوامی سرحد پر تعینات بی ایس ایف نے جوابی کارروائی نہیں کی تھی۔ حالت قریبی سے نظر رکھی جارہی ہے۔ ڈرون سے امریکہ میں بنی ایم۔4کاربنائن ملی ہے۔ یہ کاربنائن وہی ہتھیار ہے جن کا استعمال امریکہ کی نیٹو فوج طالبان کے خلاف آپریشن کے دوران کرتی رہی ہے۔ کشمیر میں گزشتہ برسوں میں مارے گئے کئی آتنکی کمانڈروں کے پاس سے ایسی بندوقیں ملی ہیں۔ 29ستمبر 2019کو پاکستان نے ڈرون کی مدد سے ہتھیاروں کا ذخیرہ امرتسر کے پاس اتارا تھا۔ پنجاب پولیس کے ایک سینئر پولیس افسر کے مطابق یہ ڈرون کافی کم اونچائی پر اڑائے جاتے تھے اس لئے ان کے بارے میں کسی کو پتہ نہیں چل سکا۔ جو ڈرون کا استعمال آئی ایس آئی نے کیا۔ 37کلو وزن اٹھا سکتا ہے، اس کا وزن 17.5کلو ہے۔ اس میں چار پنکھے لگے ہوئی تھے۔ یہ ڈرون 6کلوگرام تک ہتھیار لے کر آیا تھا۔ 8فٹ چوڑا ڈرون کے بلیڈ ہیں۔ پاک رینجرس ایسے ڈرونوں کا استعمال کرتے ہیں۔ یہ ڈرون ہندوستانی علاقے میں 250میٹر اندر مار گرایا۔ آئی ایس آئی کی ایک اور کوشش ناکام ہوئی ہے۔ (انل نریندر)

مریض بھرتی کرنے سے کتراتے سرکاری ہسپتال

لوک نائک ہسپتال میں ایک بزرگ استقبالیہ کاو¿نٹر پر پہنچا۔ وہاں موجود اسٹاف نے پوچھا کہ کیا آپ کورونا پازیٹو ہیں؟ ہاں! میں جواب ملنے پر وہاں پر بیٹھے اسٹاف نے کوئی جواب نہیں دیا۔ بزرگ جب خالی کرسی پر بیٹھنے لگا تو اسٹاف نے کڑک آواز میں اس کو روکتے ہوئے کہاکہ بابا وہاں نہیں بیٹھنا ہے، آپ انتظار کریں، ڈاکٹر کو بلارہے ہیں۔ یہ دہلی میں کووڈ۔19کا 2000 بیڈ والا سب سے بڑا ہسپتال ہے۔ اس کے باہر لگے ڈسپلے بورڈ پر بتایاجارہا ہے کہ ابھی 708مریض بھرتی ہیں۔ ساتویں منزل پر بھرتی ایک شخص شیوسنگھ یادو نے ویڈیو بناکر بھیجا ہے۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ وہ تین دن سے بھرتی ہیں لیکن کوئی ڈاکٹر انہیں دیکھنے نہیں آیا۔ ایک دوسرے بیڈ پر بیٹھے مریض نے بتایا کہ دس دنوں سے کوئی یہاں صاف صفائی نہیں ہوئی۔ صبح میں ایک صفائی کرمچاری جھاڑو ہلاکر چلاجاتا ہے، باتھ روم میں پانی نہیں ہے۔ اگر ایسے ہی رہنا تھا تو گھر میں رہ لیتے۔ دراصل دہلی کے ہسپتالوں میں کورونا انفیکشن کا ڈر ہیلتھ ملازمین میں اس قدر چھایاہوا ہے کہ وہ سنگین مریضوں کو چھوڑ کر باقی کسی اور پر خاص توجہ نہیں دیتے۔ اکیلے ایمس میں اسٹاف کے 550لوگوں کو زیادہ تر کے پوزیٹو ہونے کی خبر ہے۔ ایل این جے پی میں 150، جی ٹی بی میں 50،ہندوراو¿ ہسپتال میں 100،پرائیویٹ ہسپتال سرگنگارام میں 350، میڈیکل اسٹاف کورونا انفیکشن کا شکار ہیں۔ لاک ڈاو¿ن کھلنے والے دن یعنی آٹھ جون کو 29943مریض سامنے آچکے تھے جو اس وقت بڑھ کر 55000سے زیادہ ہیں۔ دوسری طرف دہلی میں اکیلے 22000 کورونا پوزیٹو مریض ہیں۔ وہ ہوم کورینٹائن ہیں۔ اپریل میں 9کنٹیمنٹ ژون تھے جو اب بڑھ کر 243ہوچکے ہیں۔ ہسپتالوں کے انتظامیہ کا کہنا ہے کہ جن میں عام اثرات ہیں وہ گھر پر دوا لے کر ہی ٹھیک ہوسکتے ہیں۔ دہلی میں 12فیصد ڈاکٹر، نرس انفیکشن کا شکار ہیں۔ اسٹاف کی کمی کی وجہ سے ہسپتال بھرتی کرنے سے کترارہے ہیں۔ دہلی کے ہسپتال اس سلسلے میں ڈائریکٹوریٹ جنرل ہیلتھ سروسز کی ڈائریکٹر جنرل نوتن منڈیجا ہسپتالوں میں بھرتی نہ کرنے کی بات کی تردید کرتی ہیں اور کہتی ہیں کہ 113سرکاری اور پرائیویٹ ہسپتالوں میں قریب گیارہ ہزار بیڈ ہیں اس میں 5ہزار خالی ہیں، پھر بھرتی کیوں نہیں کریں گے؟ آئی این اے کے سابق چیئرمین ڈاکٹر ونے اگروال کا کہنا ہے کہ لوگوں کو بھرتی نہ کرنے کی وجہ اسٹاف کی کمی ہوسکتی ہے۔ سہولیات کی کمی ہونا اسٹاف کے ذریعے اچھا برتاو¿ نہ کرنے کی وجہ سے بھی لوگ سرکاری ہسپتال جانے سے ہچکچاتے ہیں۔ دوسری طرف دہلی میں شمشان پہنچنے والی لاشوں کی تعداد دوگنی ہوگئی ہے۔ (انل نریندر)

بھارت۔چین تنازعہ میں روس کس کے ساتھ ہوگا؟

بھارت کے وزیر دفاع راجناتھ سنگھ سہ روزہ دورہ روس پر ہیں۔ کووڈ۔19وبا کے پیش نظر چارمہینے تک لگی پابندی کے بعد کسی سینئر وزیر کا یہ پہلا غیر ملکی دورہ ہے۔وزیر دفاع راجناتھ سنگھ کا دورہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب لداخ میں چین کے ساتھ بھارت کا تنازعہ بنا ہوا ہے۔ پیر کو ماسکو روانہ ہونے سے پہلے راجناتھ سنگھ نے ٹوئیٹ کر کہاتھا کہ سہ روزہ دورہ روس پر جارہا ہوں۔ یہ دورہ ہند۔روس دفاع اور فوجی شراکت کو مضبوط کرنے کے لئے بات چیت کا موقع فراہم کرے گا۔ اس دورے کو بھارت کی فوجی صلاحیت بڑھانے کی کوشش کے طورپر دیکھاجارہا ہے۔ کئی اخباروں نے لکھا ہے کہ لداخ ایل اے سی پر جاری کشیدگی کے درمیان بھارت کے وزیر دفاع اپنے ہتھیاروں کو پوری طرح کارگر بنانے اور مار صلاحیت کو بڑھانے کے لئے روس گئے ہیں تاکہ چین کو ہڑکایا جاسکے۔ ماسکو میں موجود سینئر صحافی ونے شکل نے بی بی سی سے بات چیت میں کہاکہ بھارت بہت لمبے عرصے سے کئی اہم ترین ڈیفنس سودوں کو ٹالتا رہا ہے، کبھی کہاجاتا ہے کہ پیسے نہیں ہیں تو کبھی کوئی دوسری وجہ بیان کردی جاتی ہے، جیسے ملٹی یوٹلٹی ہیلی کاپٹروں کے معاملہ میں ہوا ہے۔ روس نے کہاتھا کہ60ہیلی کاپٹرتیار ہیں لے لیجئے 140ہیلی کاپٹر انڈیا میں ہی بنادیں گے۔ لیکن ہندوستانی افسر شاہی سودے بازی میں لگ گئی اور کہنے لگے تیار ہیلی کاپٹر 40ہی لیں گے، قیمت پر غوروخوض چلتا رہا اور 2014سے اب ان ہیلی کاپٹروں کو بنایا نہیں جاسکا۔راجناتھ سنگھ نے روس روانہ ہونے کے بعد ہی ایس۔400ڈیفنس سسٹم پر بات چیت شروع کی ہے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق روس نے اس ڈیفنس سسٹم کی ڈیلوری ڈیٹ آگے بڑھادی ہے جو بھارت کے لئے تشویش کا باعث ہے۔ روس میں بننے والے ایس۔ 4لانگ رینج ڈیفنس ٹوایئر میزائل سسٹم کو بھارت سرکار خریدنا چاہتی ہے۔ اس سسٹم کے ذریعے میزائل زمین سے ہوا میں مار کرسکتی ہے اور یہ دنیا کا بہت اچھا ایئر ڈیفنس سسٹم مانا جاتا ہے۔ اس کی خوبیوں میں ایس۔400ایک ساتھ 36جگہوں پر ٹارگیٹ کرسکتا ہے۔ چین کے پاس یہ ڈیفنس سسٹم پہلے سے موجود ہے جو انہیں روس سے حاصل ہوا ہے۔ لیکن بھارت کو یہ ڈیفنس سسٹم ملنے میں دیری کیوں؟ اسے سمجھاتے ہوئے صحافی ونے شکلا نے بتایا کہ امریکہ نے دھمکی دی تھی کہ اگر بھارت نے روس سے یہ سسٹم خریدا تو وہ بھارت پر پابندی لگائے گا۔ اس سے ہندوستانی بینک ڈر گئے خاص کر وہ بینک جن میں پیسہ امریکہ سے ہونے والے کاروبار میں لگا ہے آج تک بھارت اور روس کی تاریخ رہی ہے کہ اور بھارت کا اگر کسی دیش سے جھگڑا ہوا تو روس بھارت کی مدد کے لئے آگے آیا ہے۔ لیکن چین کے معاملے میں کیا رویہ اختیار کرتا ہے یہ وزیر دفاع راجناتھ سنگھ کے دورہ¿ روس سے صاف ہوسکتا ہے۔ سوشل میڈیا پر ایک طبقہ یقین کرتا ہے کہ بھارت کے کہنے پر روس چین کو دھمکا سکتا ہے اور اس پر کنٹرول کرسکتاہے۔ کچھ دیگر کہتے ہیں کہ روس کو کھڑا ہونے کے لئے چین کی مدد کی سخت ضرورت ہے۔ روس کی مالی حالت خراب ہے جس میں چین سے اسے مدد چاہئے۔ ایسے میں بھارت کو کھلی آنکھوں سے دیکھنا چاہئے کہ روس کے لئے بھارت ہی نہیں ایک اہم ترین ساتھی ہو لیکن وہ بھارت کی یکطرفہ مدد کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ (انل نریندر)

24 جون 2020

سشانت راجپوت کے پیشہ ور دشمنوں کی ہورہی ہے پہچان

اداکار سشانت سنگھ راجپوت کے پیشہ ور دشمنوں کی پہچان کی جارہی ہے۔ خودکشی معاملے میں جانچ کررہی ممبئی پولیس نے یش راج فلمز کو خط لکھ کر راجپوت کے ساتھ کئے گئے کانٹریکٹ کی تفصیل مانگی ہے۔ ایک افسر نے بتایا کہ سشانت کی دوست اداکارہ ریچا چکرورتی نے پولیس کو دیئے گئے بیان میں بتایا تھا کہ سشانت نے یش راج فلمز کے ساتھ اپنا کانٹریکٹ ختم کردیا تھااور انہیں بھی اس بینر کے ساتھ کام ختم کرنے کو کہاتھا۔ پائی پو ےے، ایم ایس دھونی، انٹلڈ اسٹوری اور چھچھورے جیسی فلموں میں کام کرچکے سشانت اپنے اپارٹمنٹ میں پھانسی سے لٹکے ملے تھے۔ چانچ افسر نے بتایا کہ پولیس اس معاملے میں پیشہ ور دشمنی سمیت مختلف وجوہات کے نکتوں پر کام کررہی ہے۔ اسی کڑی کے طورپر باندرہ پولیس نے اب تک سشانت کے رشتہ داروں نے ریچا چکرورتی اور ان کے دوستوں وہ کاسٹنگ ڈائریکٹر مہیش چھابرا سمیت 13لوگوں کے بیان درج کئے ہیں اور اس میں پروڈکشن ہاو¿س سے معلومات حاصل کرنے کے لئے رابطہ شروع کردیا ہے۔ واضح ہوکہ سشانت سنگھ راجپوت کی خودکشی کے بعد سوشل میڈیا پر نپوٹیزم ورسز آو¿ٹ سائڈر کو لے کر بحث چھڑی ہوئی ہے اب اس مسئلے نے قانونی موڑ لے لیا ہے۔ بہار کے مظفر پور کے وکیل سدھیر کمار اوجھا نے سشانت کی موت پر سوال اٹھاتے ہوئے فلم ساز کرن جوہر، سنجے لیلی بھنسالی، سلمان خان، ایکتا کپور سمیت بالی ووڈکی آٹھ سرکردہ ہستیوں کے خلاف مقدمہ درج کرایا ہے۔ راجپوت کی خودکشی کے معاملے میں مظفرپور کورٹ میں سنجے لیلی بھنسالی، کرن جوہر وغیرہ کے خلاف آئی پی سی کی دفعہ 306, 504, 506 کے تحت مقدمہ درج کرایا ہے۔ وکیل اوجھا کی طرف سے دائر کیس میں کہاگیا ہے کہ کرن جوہر، آدتیہ چوپڑا، ساجد ناڈیاڈوالا، سلمان خان اور سنجے لیلی بھنسالی، بھوشن کمار، ایکتا کپور، پروڈیوسر، ڈائریکٹردنیش وگیان پر الزام لگایا ہے کہ سازش کے تحت یہ لوگ سشانت کی فلمیں ریلیز نہیں ہونے دے رہے تھے۔ ان کی وجہ سے فلم سے وابستہ پروگراموں میں سشانت کو مدعو بھی نہیں کیاجاتاتھا۔ (انل نریندر)

15جون کی جھڑپوں کی اصلی کہانی ایک نہیں تین مرتبہ جھڑپیں!

لداخ کی گلوان وادی میں اس ماہ کی 15جون کو ہوئی خونی جھڑپ پر ایک مشہور ہندی اخبار نوبھارت ٹائمزکی نامہ نگار پونم کی ایک سنسنی خیز رپورٹ شائع ہوئی ہے اس کے مطابق 15جون کی جھڑپ لگاتار 6-7گھنٹے تک چلی بلکہ اس دوران تین جھڑپیں ہوئیں، پہلی جھڑپ میں ہندوستانی فوجیوں اور چین کے فوجیوں کی زیادہ تر ہاتھاپائی ہوئی، دوسری جھڑپ میں چینی فوجیوں نے خاردار راڈ کا بھی استعمال کیا۔ تیسری جھڑپ میں ہندوستانی فوج نے کنٹرول لائن پار جاکر اپنے شہید سی اواور جوانوں کا بدلہ لیا۔ جھڑپ میں دونوں طرف کے فوجی نیچے ندی میں گرے اور چین کا ایک کمانڈنگ افسرسمیت کچھ فوجی بھی ہندوستانی فوج کے قبضے میں تھے۔ بتادیں کہ مرکزی شاہراہ وٹرانسپورٹ وزیر اور جنرل وی کے سنگھ نے اتوار کو ایک ٹی وی انٹرویو میں کہاتھا کہ 15جون کی خونی جھڑپ میں ہمارے 20فوجی شہیدہوئے، چین کے بھی ہم سے دوگنا فوجیوں کی موت ہوئی۔ ہندوستانی فوج کی جانب سے یرغمال بنائے گئے چینی کمانڈروفوجیوں کو جمعرات کی شام اس وقت چھوڑا گیا جب چین نے اپنے قبضے میں 10ہندوستانی فوجیوں کو چھوڑا۔ یعنی فوجیوں کا آپس میں تبادلہ ہوا۔ ذرائع کے مطابق 15جون کی شام کو قریب شام7بجے کرنل سنتوش بابو اور ان کے ساتھ 35-40فوجی گلوان وادی میں گشت پوائنٹ 14پر پہنچے دیکھا کہ چینی فوجیوں کا ایک ٹینٹ وہاں پر لگا ہوا ہے جبکہ بات چیت کے حساب سے اسے ہٹایا جانا چاہئے تھا۔ جب ٹینٹ ہٹانے کو کہاگیا تو چینی فوجیوں نے حملہ کردیا۔ اس کے بعد ہاتھا پائی پتھربازی بھی ہوئی اس میں ہندوستانی فوجی چینی فوجیوں پر بھاری پڑے۔ کچھ دیر کے بعد یہ جھڑپ رکی۔ اس کے بعد ہندوستانی فوج کی دوسری ٹیم بھی وہاں بلالی گئی کیونکہ اس کا اندیشہ تھا کہ چینی فوجی کچھ بھی حرکت کرسکتے ہیں۔ اس درمیان چین کے فوجیوں کی ایک بڑی ٹیم آگئی، پھر شروع ہوئی دوسری جھڑپ، اس جھڑپ میں سی او کرنل سنتوش کمار بابو سمیت کچھ جوان نیچے ندی میں جاگرے اور چین کے کافی تعداد میں فوجی زخمی ہوئی۔ دوسری جھڑپ جب رکی تو بھارت اور چین دونوں نے اپنے فوجیوں کی تلاش شروع کردی۔ کچھ فوجی زخمی تھے جنہیں نکالاگیا۔ سی او سنتوش بابو کی باڈی دیکھ کر پلٹن بوکھلا گئی۔ اب یہ جھڑپ ہی نہیں تھی بلکہ پلٹن کے لئے وجود کا سوال تھا۔ اپنے سی او کے شہید ہونے کی خبر سن کر پلٹن نے بغیر وقت گنوائے چینی فوجیوں سے بدلہ لینے کی ٹھان لی اور پھر بہار ریجمنٹ کی 16ویں بٹالین کے کمانڈر کی قیادت میں جوان نکل پڑے۔ چینی فوجیوں سے ان کے علاقے میں جاکر بدلہ لینے کا اپنا خواب پورا کیا۔ بہار ریجمنٹ کے فوجیوں نے اور فیلڈ ریجمنٹ کے بندوقچی نے کنٹرول لائن پار کی اور چینی فوجیوں پر ٹوٹ پڑے۔ ہندوستانی فوجیوں کی چینی فوجیوں پر یہ اسٹرائک آدھی رات کے بعد ہوئی۔ اس میں بھی دونوں طرف کے کئی فوجی ندی میں گرے۔ ہندوستانی فوج کے 10فوجی جہاں چین کے قبضے میں تھے، وہیں چینی فوج کے ایک کمانڈنگ افسر کے ساتھ کچھ جوان ہندوستانی فوج کے قبضے میں تھے جنہیں جمعرات کی شام چھوڑاگیا۔ فوج کے ایک افسر نے بتایا کہ یہ ایک دوسرے کے فوجیوں کو بندی بنائے جانے والا معاملہ نہیں تھا دونوں کے کچھ فوجی ایک دوسرے کے علاقے میں تھے کچھ تو اسی رات واپس بھیج دیئے گئے جبکہ باقی کو بعد میں بھیجا گیا۔ سابق آرمی چیف جنرل وی کے سنگھ نے بتایا کہ چین کے فوجی بھی ہمارے پاس تھے۔ لیکن وہ قیدی بنانے جیسی حالت نہیں تھی۔ دونوں ملکوں نے ایک دوسرے کے فوجی لوٹا دیئے اور انہوں نے بتایا کہ 1962میں چین نے اپنے مرنے والے فوجیوں کی تعداد نہیں بتائی تھی۔ بےشک چین سچائی چھپاتا رہے لیکن ساری دنیا جانتی ہے کہ اس مرتبہ ہندوستانی فوج نے چین کے دانت کھٹے کردیئے اور اینٹ کا جواب پتھر سے دیا ہے۔ 2020کا بھارت 1962کا بھارت نہیں ہے۔ جے جوان، جے ہند۔ (انل نریندر)

23 جون 2020

ایک ساتھ تین پڑوسیوں نے مورچہ کھولا!

دیش کی تاریخ میں ممکنہ طورپر یہ پہلا موقع ہے جب ایک ساتھ تین پڑوسی ملکوں کے ساتھ کشیدگی جاری ہے۔ پاکستان کے ساتھ کنٹرول لائن پر مسلسل کشیدہ صورتحال بنی ہوئی ہے اور تین مہینے سے بلاوجہ پاکستان کی طرف سے کسی نہ کسی کشمیر کے سیکٹر میں گولہ باری کی جارہی ہے وہیں چین کے ساتھ لداخ سے لے کر سکم تک لمبی سرحد پر کئی سیکٹر پر دونوں ملکوں کی فوجیں آمنے سامنے ہیں۔ لیپولیکھ، کالاپانی کے ساتھ سرحدی تنازعہ نے صرف شدت اختیار کرلی ہے بلکہ جمعہ کو نیپالی فوجی دستے ساری روایت کو بالائے طاق رکھ کر سیتا مڑھی سرحد پر ہندوستانی پر فائرنگ کردی جس میں ایک ہندوستانی کی موت ہوگئی اور دو دیگر زخمی ہوگئے۔ نقشہ تنازعہ کے دوران بدھوار کو نیپال کی فوج کی چیف اس کالا پانی علاقے میں پہنچے جسے بھارت اور نیپال دونوں اپنا مانتے ہیں۔ نیپالی آرمی چیف پورن چند تھاپا کالا پانی سے13کلومیٹر دور مشرق کی طرف گئے اور اس کے ساتھ وہاں بارڈر سیکورٹی دیکھ رہے مسلح فورس کے چیف بھی تھے۔ نیپالی مسلح نگراں فورس سے پھانگرو میں 13مئی کو نئی چوکی بنائی ہے۔ واقف کاروں کی مانیں تو ہندوستانی ڈپلومیسی کا سخت امتحان ہے جب اسے اپنے تین پڑوسیوں کے ساتھ ساتھ الگ الگ سطح پر غوروخوض کرنا پڑرہا ہے۔ ہندوستانی حکمت عملی سازوں کے مطابق چین کے ساتھ خونی جھگڑا ہونا کئی معنی میں باعث تشویش ہے۔ سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ ہندوستانی فوج کو اب پاکستان سے لگے مشرقی پاکستان کی طرف اب چین کے ساتھ ایل اے سی کو لے کر بھی زیادہ چوکس رہنا ہوگا۔ گلوان خطے میں آخری مرتبہ خونی جھڑپ 1975میں ہوئی تھی۔ چینی فورس نے چھپ کر ہندوستانی فورس پر حملہ کیا تھا۔ اس وقت آسام رائفلز کے چار جوان شہید ہوئے تھے۔ دوسری طرف نارتھ ایسٹ کی ریاستوں کے ساتھ لگی چینی سرحد پر سال 1967کے بعد سے کوئی خونی جھڑپ نہیں ہوئی ہے۔ چین جس طرح سے پورے مغربی سیکٹر میں جارحیت پھیلارہا ہے اسے دیکھتے ہوئے ہندوستانی فوج کے حکمت عملی سازوں کو زیادہ سرگرم پلاننگ کرنی ہوگی۔ ایک ساتھ تین محاذوں پر ہندوستانی فوج کا لڑنا آسان نہیں ہے۔ (انل نریندر)

کجریوال کے تلخ تیور پر ایل جی نے فیصلہ واپس لیا

دہلی میں کورونا سے متاثر مریضوں کو کورینٹائن کے فیصلوں کو لے کر دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر اور کجریوال سرکار کے درمیان چلی کھینچ تان سنیچر کی شام اس وقت ختم ہوگئی جب لیفٹیننٹ گورنر انل بیجل نے کورونا انفیکشن کے پانچ دن کورینٹائن کے اپنے فیصلے کو 24گھنٹے کے اندر واپس لے لیا۔ واضح ہوکہ انہوں نے کووڈ۔19کے مریضوں کو ادارہ جاتی کورینٹائن میں رکھنے کا حکم دیا تھا۔ ان کے اس حکم کی کجریوال سرکار نے جم کر مخالفت کی اور اس معاملے کو لے کر ہائی کورٹ میں ایک عرضی بھی دائر کردی تھی۔ جس میں ایل جی کے حکم کو چیلنج کیاگیا تھا جس کووڈ۔19پوزیٹیو مریضوں کو کورینٹائن ضروری قرار دیاگیا تھا۔ ادھر لیفٹیننٹ گورنر کے فیصلے واپس لینے کے بعد دہلی کے نائب وزیراعلیٰ منیش سسودیا نے ٹوئیٹ پر لکھا ہے کہ ہوم آئیسولیشن کو لے کر ایل جی صاحب کے جو خدشات تھے انہیں ایم ڈی ایم اے کی میٹنگ میں سلجھا لیاگیا ہے۔ اب ہوم آئیسولیشن سسٹم جاری رہے گا۔ ہم اس کے لئے ایل جی صاحب شکریہ ادا کرتے ہیں۔ ہمارے وزیراعلیٰ اروند کجریوال کی قیادت میں دہلی والوں کو کوئی تکلیف نہیں ہونے دیں گے۔ واضح ہوکہ وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ ایل جی کے حکم سے ہسپتالوں پر بوجھ بڑھے گا اور جانچ کرانے کے لئے لوگ آگے نہیں آئیں گے۔ کسی بھی مسئلے پر عدم اتفاق رائے کی صورت میں مل کر مسئلے کو حل کریں گے۔ اگر کسی مسئلے پر تنازعہ یا عدم اتفاق ہوتا ہے تو اس خمیازہ دہلی والوں کو ہی بھگتنا پڑے گا۔ مرکزی وزارت داخلہ اور وزارت صحت کے بھی خدشات بے بنیاد نہیں ہیں، یہ صحیح ہے کہ گھنی آبادی والے علاقے اور چھوٹے گھروں میں ہوم کورینٹائن آسان نہیں ہے اس سے خاندان اور آس پاس کے لوگوں میں انفیکشن کا خطرہ بنا رہتا ہے۔ دہلی سرکارکی بھی یہ دلیل واجب ہے کہ ہوم کورینٹائن کا سسٹم ختم ہونے سے سنگین طور سے بیمار لوگوں کے علاج میں دقت ہوگی۔ اب ایم ڈی ایم اے کے فیصلے کے بعد اسے لے کر تنازعہ ختم ہوگیا ہے۔ صرف سنگین طورسے یا گھر میں کورینٹائن سہولت ممکن نہ ہونے والے مریضوں کو ہی ہسپتال یا سرکاری کورینٹائن سینٹر میں جانا پڑے گا۔ (انل نریندر)

وزیراعظم کا گمراہ کرنے والا بیان

چین سے لگی بھارت کی لائن آف ایکچول کنٹرول (ایل اے سی) کے پاس پیر اور منگل کی درمیانی رات میں 20ہندوستانی فوجیوں کی شہادت کے بعد سے سرکار اور اپوزیشن خاص کر کانگریس کے درمیان شروع ہوئی بحث مزید تیز ہوگئی۔ دراصل چین سے جاری ٹکراو¿ پر غوروخوض کے لئے بلائی گئی آل پارٹی میٹنگ میں وزیراعظم نریندرمودی نے صاف کہاکہ نہ کوئی ہماری سرحد میں گھسا ہے اور نہ ہی ہماری کوئی چوکی کسی کے قبضے میں ہے۔ ہماری ایک انچ زمین کی طرف کوئی آنکھ اٹھاکر بھی نہیں دیکھ سکتا۔ حکومت نے فوج کو کھلی چھوٹ دے دی ہے۔ وزیراعظم کو بزدل اور ڈرپوک بتانے کے بعد راہل گاندھی نے پھر ایک ٹوئیٹ کرتے ہوئے وزیراعظم کے ذریعے جمعہ کو آل پارٹی میٹنگ میں دی گئی اس جانکاری جس میں انہوں نے بتایا تھا کہ چینی فوج نے نہ تو ہندوستانی علاقے میں کسی طرح کا قبضہ کرسکی ہے اور نہ ہی چینی فوج نے ہمارے کسی فوجی کو یرغمال بنایا ہے۔ راہل گاندھی نے وزیراعظم کی اس جانکاری پر پھر سوال کھڑا کردیا۔ انہوں نے کہاکہ کیا سرکار نے چین کے سامنے سرینڈر کردیا ہے؟ انہوں نے سرکار سے یہ مانگ کی کہ گلوان وادی پر چین جو دعویٰ کررہا ہے اس کے بارے میں پوزیشن واضح کرے۔ بتادیں خونی جھڑپ کے بعد چین نے پھر دعویٰ کیا تھا کہ گلوان وادی ہماری ہے۔ راہل نے اس پر کہاکہ گلوان وادی بھارت کا اٹوٹ حصہ ہے۔ سرکار کو سامنے آکر دیش کی عوام کو بتانا چاہئے کہ چین کا دعویٰ بے بنیاد ہے۔ راہل نے پوچھا زمین چین کی ہے، ہمارے فوجی کیوں مرے؟ کیا ہم چینی علاقے میں گھسے تھے یا پھر وہ ہمارے علاقے میں آئے تھے؟ سرکار بتائے اصلی پوزیشن کیا تھی۔ کن حالات میں چینیوں نے ہمارے فوجیوں کو مارا؟ کیسے ہمارے 10جوان چین کے قبضے میں کیسے گئے؟ سرکار ان سوالوں کا جواب دے۔ انہوں نے کہاکہ اگر پی ایم کا یہ بیان کہ ہندوستانی سرحد میں کوئی غیر ملکی نہیں اگر یہ بیان صحیح ہے تو پانچ یا چھ مئی کو کیا ہوا کیوں بھارت فوجی شہید ہوئے۔ اتنے دنوں سے دونوں دیشون کے درمیان فوجی حکام کس چیز کو لے کر بات چیت کررہے تھے۔ وہیں کانگریس کے سینئر لیڈر پی چدمبرم نے چینی تنازعہ پر وزیراعطم کے بیان پر تلخ نکتہ چینی کرتے ہوئے کہاکہ سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا انہون نے چین کو کلین چٹ دے دی ہے؟ چدمبرم نے کہاکہ گھس پیٹھ کو لے کر وزیراعظم کے بیان سے چین کو ہی فائدہ ہوا اور ایک طریقے سے چین کے اس دعوے کی تصدیق کرنے جیسا ہے جس میں چین کہتا ہے کہ اس نے بھارت کی حد میں کوئی دراصک نہیں کی سپا کے صدر اکھلیش یادو نے انگریزی میں ٹوٹئیٹ جاری کرکے چینی دراندازی کے خلاف دیش سرکار کے ساتھ کھڑا ہے لیکن جس واقعہ میں ہمارے فوجی شہید ہوئے کیا وہ گھس پیٹھ تھی؟ یا گلوان وادی بھارت کی ہے یا نہیں؟ انہوں نے کہاکہ ہمیں وضاحت نہیں چاہئے۔ سچائی سامنے آنی چاہئے اس سے پہلے انہوں نے ہندی میں ٹوئیٹ کیا کہ پردھان منتری جی کے بھارت چین ایل اے سی بیان سے گمراہ ہوکر جنتا پوچھ رہی ہے۔ اگر چین ہمارے علاقے میں نہین گھسا تو پھر ہمارے فوجی کس حالات میں شہید ہوئے؟ کیا پی ایم کے بیان سے چین کو کلین چٹ دی جارہی ہے؟ (انل نیندر)

21 جون 2020

ہری دوار کنبھ میلے پر چھائے کورونا سنکٹ کے بادل!

دیش میں پھیلی کورونا وبا کے سبب اتراکھنڈ کی چاردھام یاترا چوپٹ ہوگئی ہے اور اگلے سال جنوری میں ہونے والے ہری دوار میں کنبھ میلے کے انعقاد پر بھی سوالیہ نشان لگنے شروع ہوگئے ہیں۔ کیونکہ 22مارچ سے اتراکھنڈ سے مکمل لاک ڈاو¿ن کے چلتے کنبھ میلے کی تیاریوں کے تمام کام بند پڑے ہیں یہ کام اس سال 30نومبر تک پورے ہونے تھے لیکن کورونا وبا کے سبب مزدور اپنی اپنی ریاستوں کو لوٹ گئے ہیں اور تھوڑے بہت بچے بھی ہیں تو ان سے کنبھ کا کام پورا ہوتا دکھائی نہیں دے رہا ہے۔ دوسری طرف کنبھ میلہ انتظامیہ مالی تنگی سے دوچار ہے۔ جس وجہ سے بہت سے تعمیراتی کام ٹھپ پڑے ہیں۔ اس میں ہری دوار قومی شاہراہ کی تعمیر، نارسن سرحد سے دہرادون تک جو سڑک بن رہی تھی وہ بھی لٹکی پڑی ہے۔ بجلی کی زیر زمین ڈالی جانے والی لائنیں بھی لٹک گئی ہے۔ اس طرح سے بہت سے کام بند ہوگئے ہیں۔ کنبھ میلہ افسر دیپک راوت نے پچھلے دنوں ان کاموں کو شروع کرنے کی کوشش کی تھی۔ لیکن مزدور کی کمی کے چلتے سب کام لٹک گئے ہیں اور میلے کے لئے اس سال 31دسمبر تک سبھی تعمیراتی اور ضروری تیاریاں پوری ہونی تھی۔ کنبھ میلے کو لے کر شش وپنج کی حالت ہے۔ اگر جلدی حالات بہتر نہیں ہوتے تو کنبھ 2021میلے پر کورونا کا گرہن لگ سکتا ہے۔ ہری دوار میں دسمبر سے لے کر اپریل تک سادھو اپنا ڈیرہ ڈالتے ہیں۔ اس کے لئے اکھاڑے، آشرموں کو کروڑوں روپے کی مالی مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔ اکھاڑوں کے لئے پانچ مہینے تک سادھوو¿ں کا ڈیرہ ڈالنا بہت ہی خطرے بھرا کام ہے۔ لیکن کورونا کے چلتے کنبھ میلہ انتظامیہ نے ہری دوار میں چار مہینے کنبھ کے دوران 12کروڑشردھالوو¿ں کے آنے کا اندازہ لگایا تھا اسی حساب سے ان کی تیاریاں کی جارہی تھیں مگر کورونا نے سب کچھ روک دیا ہے۔ اتراکھنڈ کے وزیردھن سنگھ راوت نے کہاکہ نئے حالات کے پیش نظر کنبھ کے بارے میں جلد ہی ریاستی حکومت سیاحت سے متعلق اعلیٰ سطحی میٹنگ کرنے جارہی ہے۔ جس میں کنبھ سمیت اہم فیصلے لئے جاسکتے ہیں۔ امید کی جاتی ہے کہ کورونا بحران جلد دور ہوجائے گا اور طے پروگرام کے مطابق کنبھ میلہ 2021کا انعقاد ضرور ہوگا۔ (انل نریندر)

بہارریجمنٹ کے جانبازوں پر دیش کو فخر ہے

چین کی ڈریگن فوج کے ساتھ خونی جھڑپ میں بہار ریجمنٹ کے جانبازوں نے دیش کا سر فخرسے اونچا کردیا۔ لداخ کی گلوان وادی میں پیر کی رات گھسی چینی فوج( پی ایل اے) کو سرحد سے بھگانے کے ساتھ ساتھ بھارتی فوج کی بہار ریجمنٹ کا اس سے ٹکراو¿ ہوا۔ اس دوران کرنل بی ایس سنتوش بابو اور دوجوان کندن اوجھا اور پلانی نے اپنی شہادت دے دی۔ سنتوش بابو ریجمنٹ کے کمانڈنگ افسر تھے، وہ ایل اے سی پر تعینات تھے اور چینی فوجیوں کے سامنے ہندوستانی فوجیں ڈٹی ہیں۔ 1941میں بنی اس بہار ریجمنٹ نے اس سے پہلے بھی چین کے ساتھ ہوئی جنگ میں اپنی جانبازی دکھائی تھی۔ کارگل جنگ میں سب سے پہلے مورچہ اسی ریجمنٹ کا تھا۔ کرنل وی سنتوش بھلے ہی بہار کے رہنے والے نہیں تھے لیکن اس ریجمنٹ کو اپنی ماں کی طرح پیار دیا کرتے تھے۔ پچھلے ایک سال سے وہ چینی سرحد کے پاس تعینات تھے۔ وہ تلنگانہ کے علاقے سوچی پیٹھ کے رہنے والے تھے۔ حیدرآباد کے ملٹری اسکول کے تعلیم یافتہ تھے۔ ان کے والد ایک ٹیچر ہیں۔ گلوان وادی میں چینی فوج کے ساتھ خونی جھڑپ میں شہید ہوئے کرنل سنتوش پیر کو چینی فریق سے ہوئی بات چیت کی بھی رہنمائی کررہے تھے اور لیکن دیر رات ہوئی خونی جھڑپ میں شہید ہوگئے۔ جس کے بعد ہندوستانی فوجیوں نے بھی جواب دیا تو دونوں طرف سے فائرنگ شروع ہوگئی۔ اس میں پتھر، لاٹھی ڈنڈے بھی چلے۔ گلوان وادی میں چینی فوج سے خونی جھڑپ میں شہید ہوئے جوانوں کی فہرست جاری کی گئی۔ ان میں بہار ریجمنٹ کے سب سے زیادہ 15جوان شہید ہوئے ہیں۔ بھارت کی آن بان شان اور سرداری برقرار رکھنے کے لئے ہم اپنے اس بہار ریجمنٹ کے بہادر جوانوں کو نمن کرتے ہیں۔ (انل نریندر)

دیش گلوان جھڑپ کی اصلیت جاننا چاہتا ہے!

ایل اے سی (کنٹرول لائن) پر شہید ہوئے جوانوں کو لے کانگریس نے مرکزی سرکار آڑے ہاتھوں لیا ہے۔ پارٹی سابق صدر راہل گاندھی نے جمعرات کو سوال کیا کہ فوجیوں کو بنا ہتھیاروں کے خطرے کی طرف کس نے بھیجا؟ وہیں کانگریس سکریٹری جنرل پرینکا گاندھی واڈرا نے سرکار نے دہلی، میرٹھ سیمی ہائی اسپیڈ ٹرین کوریڈور کا ٹھیکا ایک چینی کمپنی کو دے کر گھٹنے ٹیکنے کی حکمت عملی کیوں اپنائی؟ ادھر وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے راہل گاندھی کے الزامات کا جواب دیا تو بھاجپا نے سابق صدر پر ہی سوال کھڑے کردیئے۔ لداخ کے گلوان وادی میں چینی فوجیوں کے ساتھ خونی جھڑپوں میں 20جوانوں کے شہید ہونے کے بعد کانگریس لگاتار سرکار کو گھیررہی ہے۔ اس معاملے میں وزیراعظم کی خاموشی پر سوال اٹھانے کے بعد کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے سوال کیا کہ اس عمل کے لئے کون ذمہ دار ہے کہ انہیں بغیر ہتھیار کے کیوں بھیجا؟ اس سے پہلے ایک سابق فوجی افسر کے انٹرویو کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے ٹوئیٹ کیا تھا کہ چین کی ہمت کیسے ہوئی کہ اس نے ہمارے نہتے فوجیوں پر حملہ کرکے ان کو ہلاک کیا۔ کانگریس سکریٹری جنرل پرینکا گاندھی واڈرا نے چین کو سخت پیغام دینے کی وکالت کی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ سرکار نے میرٹھ سیمی اسپیڈ ٹرین کوریڈور کا ایک چینی کمپنی کو دے کر گھٹنے ٹیک دیئے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ چین کی حرکت برداشت سے باہر ہے۔ ایسے ہی کانگریس کے دوسرے نیتا وینوگوپال اور کانگریس کے ترجمان رندیپ سرجے والا نے وزیراعظم نریندرمودی اور وزری دفاع راجناتھ سنگھ سے چار سوالوں کے جوابات مانگے ہیں۔ ہمارے فوجیوں کو نہتے کیوں بھیجاگیا اور یہ حکم کس نے دیا؟ راہل گاندھی کے جواب میں وزیر خارجہ نے کہاکہ سرحد تعینات ہندوستانی فوجیوں ہتھیاروں سے لیس تھے۔1996 اور 2005میں ہوئے سمجھوتے کے تحت دونوں فوجیں ہتھیار کا استعمال نہیں کرسکتیں اس لئے گلوان وادی میں خونی جھڑپوں کے دوران ہتھیاروں کا استعمال نہیں کیاگیا۔ بھاجپا کے ترجمان سندیپ پاترا نے الزام لگایا کہ راہل گاندھی نے اپنے مختلف ٹوئیٹ کے ذریعے وزیراعظم پر جو تنقیدیں کی ہیں وہ غیر سنجیدگی کا مظہر ہے۔ جبکہ وزیراعظم نے چین کے ساتھ سرحدی تنازعہ پر رائے عامہ تیار کرنے کے لئے آل پارٹی میٹنگ بلائی تھی کانگریس کے نیتا یہ دکھانا چاہتے ہیں کہ فوجیوں کو مرنے کے لئے بلا ہتھیار چھوڑ دیاگیا۔ بےشک وزیر خارجہ جے شنکر اور سندیپ پاترا نے صفائی دینے کی کوشش کی۔ لیکن راہل اور کانگریس کے ترجمانوں کے سوالوں کے جواب نہیں ملے ہیں۔ دیش اس افسوسناک حادثے کی سچائی جاننا چاہتا ہے۔ (انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...