Translater

29 نومبر 2013

مغربی اترپردیش کے گنا کسانوں کو بچاؤ!

ہندوستانی معیشت کی بنیادذراعت ہے۔ بھارت کے گھریلو پروڈکٹس میں ذرعی سیکٹر میں اشتراک سے متعلق سیکٹروں کا اشتراک 2007-08 اور 2008-09 اور 2009-10 میں سلسلہ وار 17.8، 17.1 اور14.5 فیصد رہا۔ہندوستانی ذرعی پیداوارپر ہی دیش کی معیشت ٹکی ہوئی ہے۔ذراعت جس میں فصلیں پشوپالن اور ذرعی تکنیک اور ایگرو پروسسنگ شامل ہے۔ دیش کی آبادی کو نہ صرف تقویت فراہم کرتے ہیں بلکہ ایک بڑی آبادی کو روزگار بھی فراہم کرتے ہیں اور دیش کو غذا دیتے ہیں اور ان سب کے پیچھے کسان اگر خوشحال ہوگا تو دیش خوشحال ہوگا۔ اترپردیش میں کسان کی حالت اتنی خراب ہے کہ کیا بتائیں؟ میں مغربی اترپردیش میں گنا بونے والے کسانوں کی خاص کر بات کررہا ہوں۔ کسانوں کو گنے کی مناسب قیمت دلانے اور چینی صنعت کو مضبوط کرنے میں اترپردیش کی اکھلیش سرکار بری طرح ناکام ثابت ہورہی ہے۔ مسئلہ سلجھانے میں ناکام وزیر اعلی اکھلیش یادو نے وزیر اعظم منموہن سنگھ کو خط لکھ کر مرکز پر اپنی بوکھلاہٹ دورکرنے کی کوشش کی ہے۔ چینی صنعت کا مسئلے کے لئے انہوں نے مرکز کو ہی ذمہ دار ٹھہرادیا۔گنے کی پرائی شروع کرنے کے لئے وزیر اعلی نے چینی مل مالکان کو بات چیت کیلئے بلایا تھا۔ گنے کی قیمت کو لیکر ہورہی سیاست ریاستی حکومت پر بھاری پڑ سکتی ہے۔ دراصل سرکاری مقررہ قیمت پر گنا خرید کا میلوں پر دباؤ خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔ فی الحال اس سے کسان بھلے ہی خوش ہو جائیں لیکن ملکوں کے پیسہ نہ ادا کرنے کی سمت میں کسانوں کی ناراضگی اور بڑھ سکتی ہے۔ وزیراعلی نے وزیراعظم کو لکھے خط میں چینی کی درآمد برآمد قاعدوں میں مناسب ترمیم کرنے کی سفارش کی ہے۔ انہوں نے خط میں چینی صنعت کے حالیہ بحران کے لئے مرکز کی پالیسیوں کو ذمہ دار مانا ہے۔ ریاستی حکومت نے گنے کی سرکاری قیمت پچھلے سال 280 روپے کوئنٹل اعلان کی تھی۔
چینی ملیں 280 روپے کوئنٹل سے زیادہ لینے کو تیار نہیں ہیں۔ ان کی مانگ ہے رنگا راجن فارمولے کے تحت چینی کی قیمت سے گنے کی قیمت کو جوڑدیا جائے۔ یعنی چینی کے دام کا 75فیصدی گنے کی قیمت ہوگی۔ چینی صنعت اور ریاستی انتظامیہ اپنے اپنے اعلان کردہ گنے کی قیمتوں پر اڑے ہوئے ہیں۔ کسان کی گنے کی فصل تیار ہے۔ اسے سمجھ میں نہیں آرہا ہے وہ کرے تو کیا کرے۔ کچھ کسانوں کی یہ دوسری گنا فصل ہے اسے کاٹنے کی مجبوری ہے کیونکہ اگلی فصل بونی ہوگی۔ چینی ملوں سے ادائیگی بھی نہیں ہوپائی۔ کسی وقت اترپردیش میں50 ملیں ہوا کرتی تھیں اب مشکل سے5-6 ملیں ہی رہ گئی ہیں۔ کسانوں کا مسئلہ یہ ہے گنے کی کھیتی کی لاگت بڑھنے کے باوجود انہیں واجب قیمت نہیں مل پارہی ہے۔ دوسری طرف ملیں گنے کی قیمت اور گھٹانے کے حق میں ہیں وہ چاہتی ہیں کہ بڑی قیمت کی ادائیگی سرکاری خزانے سے کی جائے مگر ملوں کی یہ دلیل ریاستی حکومت کے گلے نہیں اترپا رہی ہے۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ ایک بار پھر مغربی اترپردیش میں سیاسی چالیں چلی جارہی ہیں اگر کسان کی پرواہ نہیں ہوگی تو دیش میں کبھی خوشحال نہیںآسکتی۔ جاگو اکھلیش، کسانوں کو بچاؤ۔
(انل نریندر)

اور اب ترون تیج پال کو لیکر سیاسی گھمسان!

متاثرہ صحافی کے گوا میں مجسٹریٹ کے سامنے بیان درج کرانے، دہلی ہائی کورٹ سے ملزم کو راحت نہ ملنے اور گوا پولیس کے ذریعے ترون تیج پال کو سمن جاری کرنے کے درمیان اس کی ساتھی سے بدفعلی کے معاملے میں پھنسے تہلکہ کے چیف ایڈیٹر ترون تیج پال کو لیکر اب سیاست بھی تیز ہوگئی ہے۔ جیسا کہ عام طور پر مانا جاتا ہے تیج پال ہمیشہ سے کانگریس پارٹی کا قریبی رہا ہے اور تہلکہ نے ہمیشہ اپوزیشن پارٹیوں کے ہی اسٹنگ آپریشن کئے ہیں اس لئے بھارتیہ جنتا پارٹی تیج پال کے ساتھ کانگریس کو بھی لپیٹنے میں کوئی کثر نہیں چھوڑی۔ بھاجپا کی سینئر لیڈر و لوک سبھا میں اپوزیشن کی نیتا سشما سوراج نے ٹوئٹ کے ذریعے کانگریس لیڈر کپل سبل پر بغیر کسی کا نام لئے حملہ کیا ہے اور الزام لگایا کہ مرکزی وزیر جو تہلکہ کے بانی اور سرپرست ہیں ،ترون تیج پال کا بچاؤ کررہے ہیں۔ سشما کا اشارہ کپل سبل کی طرف ہے۔ سوشل میڈیا میں تہلکہ کے شیئر ہولڈروں کی ایک فہرست بھی چھپی ہے جس میں کپل سبل کے کتنے شیئر ہیں بتایا گیا ہے۔ یہ صحیح ہے کہ فرضی طور پر اس کے بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ سوشل میڈیا میں تو یہ بھی کہا گیا ہے کہ وزیر خزانہ پی چدمبرم بھی تیج پال کے قریبی ہیں اور گوا میں اس پروگرام میں شامل ہوتے رہتے ہیں۔ سشما نے تو کسی کانگریسی وزیر کا نام نہیں لیا لیکن جس طریقے سے کپل سبل نے ان پرپلٹ وار کیا اس سے تو یہ ہی ظاہر ہوتا ہے کہ سشما کا الزام بے بنیاد نہیں۔ تہلکہ معاملے میں بھاجپا کے حملوں کا سامنا کررہے وزیرقانون کپل سبل نے کہا کہ بڑی اپوزیشن پارٹی اور آر ایس ایس بے وجہ انہیں بدنام کررہے ہیں جبکہ میگزین کے مدیر ترون تیج پال سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ ہی ان کی کمپنی میں ان کے شیئر ہیں۔ سبل نے سوشل میڈیا سے شائع ہورہے ان پیغامات کا بھی جواب دیا جس میں دعوی کیا جارہا ہے تیج پال ان کی بہن کے بیٹے ہیں اور تہلکہ میں قانون منتری کے 80فیصدی شیئر ہیں۔ اس طرح کی بے بنیاد باتوں پر مجھے افسوس ہے۔ مجھے سنگھ اور بھاجپا سے امید نہیں تھی کہ وہ اس بھدی سطح پر اتر آئیں گے۔ 
کانگریس کے ترجمان پی سی چاکو نے تیج پال معاملے میں گجرات میں ایک لڑکی کے مبینہ غیر قانونی تنازعے سے تیج پال معاملے کو جوڑدیا جس کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ وزیر اعلی مودی کے کہنے پر تیج پال پر گوا کے وزیر اعلی منوہر پاریکر نے کارروائی تیز کی تھی جبکہ بھاجپا کے سینئر لیڈر ایم وینکیاناؤ نے بھاجپا کی ملی بھگت کے تیج پال کے الزام پر تلخ نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کیا لفٹ میں تہلکہ مدیر کا ضمیر چلا گیا۔ ابھی وہ کہہ رہے ہیں بھاجپا حکمراں گوا سرکار کے بجائے ان کے معاملوں میں کسی اور ریاست میں مقدمہ چلایا جائے، کل کہیں گے کہ اس دیش سے باہرلے جایا جائے۔ گوا کے وزیر اعلی منوہر پاریکر نے کہا کہ اپنے کئے کے لئے ترون تیج پال کو گوا سرکار کو ذمہ دار ٹھہرانا مضحکہ خیز ہے۔ وہ پہلے ہی چھ مہینے کے لئے عہدے سے ہٹ کر اپنی غلطی مان چکے ہیں۔ فی الحال ترون تیج پال کی مشکلیں بڑھتی جارہی ہیں۔ ان کی کسی وقت بھی گرفتاری ہوسکتی ہے۔ گوا پولیس نے انہیں جمعرات کو تین بجے تک حاضر ہونے کے لئے طلب کیا تھا جس سے یہ امید تھی کہ ان کی گرفتاری ہوسکتی ہے لیکن ترون تیج پال نے پولیس کے سامنے پیشی کے لئے مہلت مانگی ہے۔
(انل نریندر)

28 نومبر 2013

آروشی کوممی پاپا نے ہی مارا،عمر قید کی سزا

ہمارے وقت کی سب سے زیادہ سرخیوں میں چھائی مرڈر مسٹری آروشی۔ ہیمراج قتل کانڈ پر سی بی آئی کی خصوصی عدالت نے اپنا فیصلہ سنا دیا ہے۔خصوصی سی بی آئی عدالت کے جج نے مذہبی کتابوں کے سہارے آروشی کے والدین ڈاکٹر راجیش تلوار اور نپر تلوار کو آروشی ۔ہیمراج قتل کا قصوروار قراردے دیا۔ انہوں نے اپنے204 صفحات کے فیصلے میں تلوار جوڑے کو قتل کے ثبوت ضائع کرنے اور گھناؤنی حرکت کیلئے ملی بھگت کے لئے قصوروار ٹھہرایا اس لئے ان کو عمر قید کی سزا سنا کر جیل بھیج دیا۔ پچھلے پانچ برسوں میں اس کیس کے بہانے نہ جانے کتنے سوال لوگوں کے ذہنوں میں ابھرتے رہے ہیں۔ سسٹم کولیکر اخلاقیات اور بے اخلاقی کولیکر والد اور لڑکی کے رشتوں کو لیکر جتنا ڈرامائی اتار چڑھاؤ اس مقدمے میں آیا ایسا کم دیکھنے کو ملتا ہے۔ بچاؤ فریق کے طور طریقوں اور لمبی قانونی کارروائی کے چلتے ہی سوال اٹھائے جائیں۔مگر عدالت نے آخر کار تلوار کو ہی آروشی۔ ہیمراج کے قتل کا قصوروار پایا ہے۔ عدالت میں 16 مئی 2008 ء کی جس رات اس دوہرے قتل کو انجام دیا گیااس کے بعد سے حالات اور ثبوت تلوار میاں بیوی کی طرف ہی اشارہ کررہے تھے۔ سرکاری فریق کی یہ دلیل اپنے آپ میں کافی مضبوط تھی کہ جس فلیٹ میں چارلوگ ہوں اور دو کا قتل ہوجائے باقی بچے دو کو کچھ پتہ نہیں یہ کیسے ممکن ہوسکتا ہے۔ یقینی طور سے اس معاملے میں سی بی آئی کا کردار بھی شروع سے سوالات کے گھیرے میں رہا جس نے ایک وقت اس معاملے کو بندکرنے تک کا فیصلہ لے لیا تھا۔ یہ کہنا شاید غلط نہ ہو کہ فیصلے سے یوپی پولیس کی جانچ پرہی مہرلگی ہے۔ اس نے راجیش تلوار کو قتل کانڈ کا ملزم مانتے ہوئے گرفتار کیا تھا۔ بے شک فیصلے کے بعد نوئیڈا میں تعینات اس وقت کے پولیس افسروں نے بھلے ہی راحت کی سانس لی ہو لیکن اس کی جانچ کے طور طریقے پر سوال ہمیشہ اٹھتے رہیں گے۔ ملزم کی لاش ملنے کے بعد پولیس نے اس قتل کو عام معاملوں کی طرح نہیں لیا ہوتا تو بچاؤ اور مخالف فریق کی دلیلوں میں برابر کی ٹکر ہو عدالت نے کئی بار پورے کرائم سین کو انجام دلا کر راجیش اور نپر تلوار نے آئینی طریقے سے اپنا موقف رکھنے کی کوشش کی۔ سی بی آئی نے فورنسک ٹیسٹ اور حالات کے مطابق بنے ثبوتوں پر زور دیا۔ اس کا کہنا ہے کہ اپنی14 سالہ بیٹی آروشی کو 45 سالہ نوکر ہیمراج کے ساتھ اعتراض آمیز حالت میں دیکھ کر راجیش تلوار اپنا توازن کھو بیٹھے۔ پہلے انہوں نے ہیمراج پھر آروشی پر حملہ کرکے اس کو قتل کردیا۔ قتل کے ثبوت مٹانے کی ہر ممکن کوشش کی۔ عدالت میں جب فیصلہ آیا تو راجیش اور نپرتلوار نے ایسے کاغذ بانٹے جس میں اپنے بارے میں بے قصور ہونے کے دعوے دوہرائے گئے۔ ظاہر ہے انہیں خود کو قصوروار قرار دئے جانے کا اندیشہ رہا ہوگا تبھی تو کاغذ ساتھ لے کر آئے تھے۔ تلوار جوڑے کے بڑے رسوخ والے لوگوں سے تعلقات ہیں اس لئے قتل کی اطلاع پا کر پہنچی پولیس کو انہوں نے ایسے رعب میں لیا کہ چھان میں محض خانہ پوری بن کر رہ گئی تھی۔ پولیس اپنی بنیادی ذمہ داری بھی بھول گئی۔ اس نے موقعہ واردات کا گہرائی سے جائزہ نہیں لیا اور اسے سیل کر کرائم سین سے ثبوت اکھٹے کئے جاتے۔ اسی غلطی کا فائدہ اٹھا کر تلوار جوڑا اس کو ضائع کرنے میں لگ گیا۔ ظاہر سی بات ہے کہ اب وہ سی بی آئی عدالت کے فیصلے کو ہائی کورٹ میں چیلنج کریں گے۔ سی بی آئی پر تلوار جوڑا چاہے جتنا بھی الزام منڈھے لیکن یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ خود تلوار میاں بیوی نے معاملے کو سپریم کورٹ کے دروازے تک پہنچادیاتھا اور دیش کی بڑی عدالت بھی مان رہی تھی کہ اس کے خلاف معاملہ تو بنتا ہی ہے۔ بیشک اس جوڑے کے لئے انصاف کے دروازے ابھی کھلے ہیں جن سے رحم کی امید کی جاسکتی ہے۔ اب جیل کی سلاخوں کے پیچھے راجیش اور نپر کو یہ سوچنے کا پورا موقعہ ملے گا کہ ان سے کہاں چوک ہوئی؟ خوشحال زندگی اور بہتر کیریئر کے یوں ختم ہونے پر دکھ تو ہوتا ہی ہے۔ ایک طرف اپنی اکیلی اولاد کو کھونا دوسری طرف اپنی باقی زندگی کو تباہ ہوتے دیکھنا ۔ کاش اپنے غصے اور پاگل پن پر تھوڑا کنٹرول کر لیتے تو یہ دن دیکھنا نہ پڑتا۔ تلوار میاں بیوی واقعی کوئی پیشہ ور قاتل نہیں ہیں لیکن انہوں نے جو کچھ کیا اس کی مہذب سماج میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ یہ معاملہ کہیں نہ کہیں ان کی طرز زندگی پر سوالیہ نشان کھڑا کرتا ہے جہاں توقعات تیزی سے ٹوٹ رہی ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ قصوروار ٹھہرائے جانے کے باوجود تلوار میاں بیوی کا برتاؤ متاثروں جیسا ہے۔ آج سماجی اقدار نے اتنی خطرناک شکل اختیار کر لی ہے کہ ماں باپ یا تو اقتصادی مجبوری کے چلتے ایسے کام کرتے ہیں یا پھرپارٹیوں میں اتنے مصروف ہوتے ہیں کہ انہیں اپنے بچوں کے بارے میں فہرست نہیں کہ وہ کیا کررہے ہیں۔ اس پر وہ توجہ نہیں دیتے رہی سہی کثر شراب اور منشیات ، انٹرنیٹ اور موبائل فون نے پوری کردی ہے۔ یہ معاملہ ہمارے سماج میں آئی گراوٹ کا بھی ایک نمونہ مانا جاسکتا ہے۔
(انل نریندر)

چناؤ کمیشن کی کوششیں رنگ لائیں،ووٹ فیصد بڑھا!

چناؤ کمیشن کی انتھک کوششوں کے نتیجے میں جن ریاستوں میں چناؤ ہورہے ہیں وہاں ووٹروں کا جوش و خروش سامنے آرہا ہے۔چھتیس گڑھ، مدھیہ پردیش،میزورم میں پولنگ ہوچکی ہے۔ چھتیس گڑھ میں ریکارڈ پولنگ ہوئی ہے۔مدھیہ پردیش میں70 فیصد ہوئی ہے اور میزورم میں 80 فیصدی پولنگ درج کی گئی ہے۔ ڈپٹی چناؤ کمشنر سدھیر ترپاٹھی نے بتایا230 سیٹوں والی مدھیہ پردیش اسمبلی چناؤ کے لئے ووٹنگ فیصد 70فیصد ہوئی ہے جو ریاست میں اب تک کی سب سے زیادہ پولنگ مانی جائے گی۔2008ء میں ایک اسمبلی چناؤ میں 79 فیصدی ووٹنگ ہوئی تھی جبکہ 2003ء میں 67.23 فیصد ووٹ ڈالے گئے تھے۔ 4 دسمبر کو دہلی اسمبلی چناؤ کیلئے ووٹ پڑیں گے۔ اس بار چناؤ کمیشن نے دہلی میں ایک نئی پہل کی ہے۔ عام جنتا کے لئے4 دسمبر کو ووٹ پڑیں گے لیکن دہلی پولیس کا ووٹ چھ دن پہلے یعنی28 نومبر کو ڈل جائے گا۔ اہم بات یہ ہے کہ دہلی پولیس کے جوان پہلی بار اپنے ووٹ کا استعمال کریں گے اس کی وجہ یہ ہے دہلی پولیس کی کل تعداد میں سے40 ہزار سے زیادہ پولیس والے چناؤ کے دن ڈیوٹی کرتے ہیں اسی وجہ سے وہ اپنے ووٹ کا استعمال نہیں کر پاتے تھے لیکن اس بار دہلی میں 100 فیصدی ووٹنگ کی کوششوں کو انجام دلانے کے لئے چناؤکمیشن نے پہلی مرتبہ دہلی پولیس کے ساتھ تال میل کر ووٹنگ کا انتظام کیا ہے۔ دہلی پولیس کے بڑے سطح کے افسروں نے اس نئے سسٹم کی تصدیق کردی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پولنگ کے دن ڈیوٹی پر رہنے والے سبھی سپاہیوں و افسروں کو پہلی بار مقررہ تاریخ سے پہلے اپنا ووٹ ڈالنے پڑے گا۔ 28 نومبر یعنی آج دہلی پولیس کے ڈلنے والے ووٹ الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے بجائے بند لفافے میں ووٹ پڑیں گے۔ جنہیں پوسٹل بیلٹ پیپر بھی کہا جاسکتا ہے۔ یہ سبھی لفافے الیکشن کمیشن کے ریٹرنگ افسر کی نگرانی میں بیلٹ بکسوں کو سخت انتظامات کے بیچ سیل کردیا جائے گا جو8 دسمبر کے دن باقی ووٹ کے ساتھ جڑ جائیں گے۔ سبھی پولیس والوں کے ڈیوٹی چارج کے ساتھ ووٹنگ فارمیٹ لگا ہوگا۔ 28 نومبر کو الگ الگ ضلع میں تعینات ریٹرنگ افسر اور تین میں چار گزیٹڈ افسر کے ساتھ پولیس والوں کی الیکشن ڈیوٹی ٹریننگ کے دوران سبھی جگہ ووٹ ڈلوائے جائیں گے۔ بڑے افسر چناؤ حلقے کی بنیادپر سیل بند لفافوں پر مہرلگا کر اس حلقے میں ان ووٹوں کو پہنچانے کا انتظام کریں گے۔ پولیس والوں کا ووٹ ان کے ووٹر کارڈ اور ان کے چناؤ حلقے کے ڈپٹی کمشنر کے پاس پہنچنے پر8 دسمبر کو گنتی کے وقت ان ووٹوں کو شامل کرلیا جائے گا۔ اس بار پہلی بار نوٹا کا استعمال ہوگا۔ سپریم کورٹ نے امیدواروں کو مستردکرنے کا متبادل چننے والے ووٹروں کی تعداد زیادہ ہونے کی صورت میں دوبارہ پولنگ کرانے کی چناؤ کمیشن کوہدایت دینے سے متعلق عرضی خارج کردی ہے۔ چیف جسٹس پی سداشیوم کی سربراہی والی بنچ نے جگناتھ نامی شخص کی عرضی کو یہ کہتے ہوئے مسترد کردیا کہ قانون میں ترمیم کا اختیار آئین سازیہ کا ہے۔ اس بارے میں کوئی ہدایت دینے کا فی الحال کوئی مناسب وقت نہیں ہے۔
(انل نریندر)

27 نومبر 2013

پانچ ریاستوں کے چناؤ ہیں سیمی فائنل مودی اور راہل کی ساکھ داؤ پر!

دہلی سمیت پانچ ریاستوں کے اسمبلی چناؤ ایک طرح سے لوک سبھا کا سیمی فائنل مانے جارہے ہیں جو عام چناؤ کی سمت اور پوزیشن طے کریں گے۔ حالانکہ دونوں بڑی پارٹیاں کانگریس اور بھاجپا انہیں سیمی فائنل ماننے سے انکارکررہی ہیں لیکن دونوں پارٹیوں کی ساکھ داؤ پر لگی ہے اور ساتھ ساتھ نریندرمودی اور راہل گاندھی کا وقار بھی داؤ پر لگا ہے۔ ویسے یہ ضروری نہیں جو اشارے لوک سبھا چناؤمیں ملیں وہ نتیجے لوک سبھا چناؤ میں بھی دہرائے جائیں۔ اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ پچھلے دولوک سبھا چناؤ میں ان ریاستوں کے چناؤ نتائج کی جھلک عام چناؤ میں دکھائی نہیں پڑی لیکن یہ ضرور ہے کہ اسمبلی چناؤ نتائج کو کانگریس اور بھاجپا اپنے اپنے طریقے سے بھنانے کی کوشش کرے گی۔ 2008ء کے اسمبلی چناؤ میں چار بڑے اسمبلی چناؤمیں مدھیہ پردیش کی کل230 سیٹوں میں بھاجپا 141، کانگریس71 سیٹیں جیتی تھی۔ چھتیس گڑھ کی 90 سیٹوں میں بھاجپا39 اور کانگریس 38۔ راجستھان کی 200 سیٹوں میں کانگریس 96، بھاجپا78 سیٹوں پر کامیاب رہی۔ دہلی کی کل 70 سیٹوں میں کانگریس42، بھاجپا 23 سیٹیں جیتی تھی۔ چلئے اب نظر ڈالتے ہیں موجودہ چارریاستوں کے امکانی نتائج پر۔ ان چارریاستوں میں کانگریس اور بھاجپا کی سیدھی ٹکر ہونے والی ہے۔ دہلی میں بیشک عام آدمی پارٹی کی موجودگی ہے لیکن میں اسے زیادہ ٹکر دینے والی سنجیدہ پارٹی نہیں مانتا۔ زیادہ سے زیادہ وہ ووٹ کاٹ سکتی ہے اور ایک یا دوسیٹ جیت سکتی ہے۔ فی الحال ان چار ریاستوں میں حساب برابر ہے دو ریاستوں میں کانگریس سرکار ہے دو میں بھاجپا سرکار۔ اگر چاروں میں ہی بھاجپا کامیاب ہوتی ہے تو بھاجپا کا حوصلہ بڑھے گا۔ اس سے نہ صرف لوک سبھا چناؤ میں اس کی پوزیشن مضبوط ہوگی بلکہ اس کے پی ایم امیدوار کی دعویداری مضبوط ہوگی۔ لیکن اس سے راہل گاندھی اور کانگریس کی پوزیشن ڈگمگا جائے گی۔ اس کا سیدھا اثر مرکز میں اس کی سرکار پر پڑے گا۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس حالت میں کچھ ساتھی پارٹیاں کانگریس کا 2014ء لوک سبھا چناؤ کے دوران اس کا ساتھ چھوڑدیں لیکن اگر الٹا ہوتا ہے اور کانگریس چاروں ریاستوں میں کامیاب ہوجاتی ہے تو بھاجپا اور نریندر مودی دونوں کے لئے مصیبت ثابت ہوگی۔ کانگریس اس صورت میں مودی پر سیدھا حملہ کرے گی اور کہے گی مودی صرف میڈیا کی ایجاد ہیں جن میں کوئی دم خم نہیں ہے۔ حال ہی میں مرکزی وزیر ماحولیات جے رام رمیش نے کہا تھا اگر مودی ان ریاستوں میں ہارتے ہیں تو ان کا غبارہ پھوٹ جائے گا اگر اسمبلی چناؤ کے نتائج بھاجپا کے لئے خراب ہوتے ہیں تو کانگریس 2014ء سے پہلے بھاجپا کو ختم کرنے کی بات کہے گی۔ ویسے بھاجپا اور کانگریس دونوں ہی ہار کی پوزیشن میں ہے۔ دونوں ہی اپنے بچاؤ کے لئے تاویلیں ڈھونڈنے کو تیار ہے۔بھاجپا پردھان راجناتھ سنگھ کہتے ہیں کہ اسمبلی چناؤ کے نتیجوں کا نریندر مودی کے اوپر تبصرے کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ کانگریس کے ترجمان م۔افضل کا کہنا ہے کہ اگر اسمبلی چناؤ کو لوک سبھا سے پہلے سیمی فائنل نہیں مانا جاسکتا اگر تین ریاستوں میں بھاجپا ایک میں کانگریس کامیاب ہوتی ہے تو اس حالت میں بھی یہ ضرورمان لیا جائے گا کہ بھاجپا آگے ہے ایسے میں کانگریس کی ہار کو وہ بھنانے کی کوشش کرے گی اور چاہے گی کہ یہ مانا جائے کہ لوک سبھا چناؤ کی طرف بڑھتے ہوئے دیش کا کانگریس کے تئیں بھروسہ ختم ہوچکا ہے۔ اگر کانگریس تین ریاستوں میں کامیاب ہوتی ہے اس کے لئے نتیجے سنجیونی کی طرح کام کریں گے۔ اس صورت میں کانگریس یہ بھی کہے گی کرپشن اور مہنگائی کوئی بڑا اشو نہیں ہے اور آج بھی انہیں عوام کی حمایت حاصل ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو بھاجپا کا پھر سے این ڈی اے بنانا مشکل ہوجائے گا کیونکہ بہت کم پارٹیاں کھل کر بھاجپا کا ساتھ دیں گے۔ اگر دو دو بارنتیجہ خراب آتا ہے تو یہ حالت ہوگی کہ ’ناہارے ہم اور نہ جیتے تم‘ لیکن ایسا ہونے کا امکان بہت کم ہے۔ موصولہ اشاروں سے پتہ چلتا ہے مدھیہ پردیش راجستھان میں بھاجپا کا پلڑا بھاری ہے۔ چھتیس گڑھ میں زیادہ پولنگ ہونا کانگریس کے حق میں جاسکتا ہے۔ رہی بات دہلی کی یہاں تو کانٹے کی ٹکر ہے۔ کچھ سیٹیں کانگریس کی پکی ہیں تو کچھ بھاجپا کی، باقی سیٹوں پر اصل مقابلہ ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ ’آپ‘ پارٹی کس کے ووٹ زیادہ کاٹتی ہے۔ کل ملا کرریاستی اسمبلی چناؤ نتائج طے کریں گے2014ء لوک سبھا چناؤ کا امکانی پس منظر۔
(انل نریندر)

ایران اور امریکہ و ساتھیوں کے مابین تاریخی معاہدہ!

دنیا کے طاقتور ملکوں اور ایران کے درمیان متنازعہ نیو کلیائی پروگرام کو لیکر آخر کار معاہدہ ہوہی گیا۔ اس معاہدے کا خیر مقدم ہونا چاہئے۔ اس سے دنیا کا ایک ٹکراؤکو دورکرنے والا یہ سمجھوتہ اتنے خفیہ طریقے سے ہوا کہ کسی کو اس کی کانوں کان بھنک نہ لگ سکی۔ جنیوا میں ہوئے اس سمجھوتے میں امریکہ اور ایران کے مذاکرات کاروں کے درمیان چلی چپ چاپ ملاقاتوں میں اہم کرداررہا۔اس کی خفگی کا اسی سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اس بات چیت کی جانکاری امریکہ نے اسرائیل سمیت اپنے قریبی ساتھیوں تک کو نہیں دی۔ ذرائع کی مانیں تو صدر براک اوبامہ نے ذاتی طور پر ایرانی مذاکرات کاروں کے ساتھ بات چیت کوآگے بڑھایا۔ امریکہ اور ایرانی مذاکرات کاروں کے درمیان عمان اور کچھ ملکوں میں کئی دور کی ملاقاتیں ہوئیں۔ اس سمجھوتے سے ایران کو 7 ارب ڈالر (قریب44 ہزار کروڑ روپے) کی مالی راحت ملے گی اور اس پر چھ مہینے تک کوئی پابندی نہیں لگے گی۔ اس تاریخی معاہدے کا اعلان ایتوار کو جنیوا میں اہم مذاکرات کار کھیترین ایریٹن اور ایران کے وزیرخارجہ محمد جاوید ظریف نے کیا۔ ظریف کا کہنا ہے ہم ایک سمجھوتے پرپہنچ گئے ہیں اس کے ساتھ انہوں نے جوڑا کے ان کے دیش کا نیوکلیائی پروگرام پرامن مفادات کے لئے ہے اور وہ یورینیم افزودگی کا حق ترک نہیں کرے گا۔ اس پر اوبامہ نے اس کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ایران کو نیوکلیائی ہتھیار بنانے سے روکنے کی سمت میں یہ اہم اور پہلا قدم ہے۔ اس سمجھوتے کے خلاف سب سے بڑا رد عمل اسرائیل سے آیا ہے۔ اسرائیل نے ایران اور P-5+1 کے درمیان ہوئے معاہدے کی مخالفت کرتے ہوئے اسے تاریخی بھول قرار دیا ہے۔ یہ سب سے خراب سمجھوتہ ہے کیونکہ ایران جو چاہتا تھا اس نے حاصل کرلیا۔ اسرائیلی وزیراعظم بنجامن نتن یاہو نے اس سمجھوتے کے کچھ گھنٹوں بعد جاری ایک بیان میں کہا یہ سمجھوتہ خراب ہے جو ایران کو وہ چیز فراہم کرتا ہے جو وہ چاہتا تھا۔ امریکہ کے وزیر خارجہ جان کیری نے کہا سمجھوتے کے بعد ایران کے لئے نیوکلیائی ہتھیار بنانا اور مشکل ہوجائے گا۔ ہمارے ماہرین اس پر نظر رکھیں گے۔ اب امریکہ اور اس کے ساتھی پوری طرح محفوظ ہیں۔ چین کے وزیر خارجہ وانگ کا بھی کہنا تھا کہ دنیا میں امن بحالی کے لئے یہ سمجھوتہ اچھاثابت ہوگا۔ اس سے صاف ہوگا کہ ایران بھی تعاون کے لئے تیار ہے۔ بھارت نے اس معاہدے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا بھارت اس ہل سے خوش ہے۔ ایران اور چھ ملکوں کے درمیان بنی اتفاق رائے بھارت کیلئے خوش آئین ہیں۔ ایران کو نیوکلیائی تکنیک کے لئے اس کا پرامن مقاصد کے لئے استعمال کا حق حاصل ہے لیکن اسے نیوکلیائی ہتھیار کفیل ملک بنے رہنے کے اپنے بین الاقوامی وعدے کو نبھانا چاہئے۔ حالانکہ یہ سمجھوتہ چھ مہینے کے لئے ہے اس میں ایران کو اپنی نیک نیتی ثابت کرنے کا موقعہ ملے گا۔ اگر ایران نے سمجھوتے کی تامیل طے شرطوں کے مطابق کی تو دنیا کی مکھیہ دھارا میں اس کی واپسی کے آثار قابل قبول ہوجائیں گے۔ سمجھوتے کا فائدہ تو ایران کوملنا ہی ہے جو تمام طرح کی پابندیوں کے چلتے اقتصادی بدحالی کے دہانے پر پہنچ گیا تھا۔ سمجھوتہ پوری طرح کامیاب رہا تو یہ امریکہ کے لئے ایک بڑی سفارتی کامیابی ہوگی۔ ایران پر الزام ہے کہ وہ ایٹم بم بنانے کی تیاری کررہا ہے اس کے لئے وہ خفیہ طریقے سے یورینیم کی افزودگی اور اسکے ذخیرے کررہا ہے۔ اب سمجھوتے کے تحت وہ یورینیم افزودگی تو کر پائے گا لیکن اس کی حد پانچ فیصدی سے زیادہ نہ ہوگی۔ سمجھوتے میں یہ بھی شرط ہے کہ 20 فیصد سے زیادہ یورینیم کو ایران ضائع کرے گا۔ اس کے علاوہ وہ اپنی نیوکلیائی تحقیقی مرکز کو بھی بند کرنے پر متفق ہوگیا ہے جسے لیکر دنیا بھر میں خدشات تھے۔ سب سے اہم پہلو شاید اس سمجھوتے کا یہ ہے کہ تین دہائی سے بھی زیادہ عرصے سے امریکہ اور ایران کے درمیان جو بات چیت بالکل بند تھی وہ اس سمجھوتے سے پھر بحال ہوگئی ہے۔ امید کی جاسکتی ہے جہاں تک ایک طرف مشرقی وسطی میں امن قائم کی امید بڑھے گی وہیں آنے والے دنوں میں دنوں ملکوں کے درمیان سفارتی رشتے بھی قائم ہوسکتے ہیں۔ سمجھوتے کا اثر پیٹرولیم کی بڑھتی قیمتوں پر بھی فوری طور پر روک لگے گی ایسی امید کی جانی چاہئے۔

(انل نریندر)

26 نومبر 2013

ہماری جمہوریت کی سب سے بڑی دشمن ووٹ بینک کی سیاست!

ہمارے دیش میں فرقہ وارانہ فسادات میں متاثرین کو انصاف ملنے کا ریکارڈ اچھا نہیں ہے۔ حال ہی میں ہوئے مظفر نگر فساد کے بارے میں ہم جو کہتے تھے اور اسی کالم میں کئی بار قلمبند بھی کیا وہی بات عزت مآب سپریم کورٹ نے بھی کہہ دی۔ مظفر نگر فسادات نہ صرف سیاسی فساد تھے جن میں جانبداری برتی گئی اور یہ ہی جانبداری راحت دینے میں اور قصورواروں کو سزا دلانے میں بھی اترپردیش کی اکھلیش یادو سرکار کا رویہ سامنے آیا۔ مظفر نگر فساد متاثرین کے لئے معاوضے کی پالیسی میں امتیاز کو لیکر پچھلی جمعرات کو سپریم کورٹ نے اترپردیش حکومت کو سخت پھٹکار لگائی۔غور طلب ہے ریاستی سرکار کی جانب سے فساد متاثرین کے معاوضے کے سلسلے میں جاری نوٹیفکیشن میں صرف مسلم خاندانوں کا ذکرکیا گیا تھا۔ اس پر عدالت نے سخت اعتراض جتایا۔ اس کا کہنا ہے معاوضے کا حقدار کوئی خاص فرقہ نہیں بلکہ ہرمتاثرہ فرقہ ہے۔ چیف جسٹس پی سداشیوم کی سربراہی والی بنچ کے سامنے وکیل منوہر لال شرما نے یوپی حکومت کی نوٹیفکیشن میں جانبدارانہ رویہ اپنا نے کا الزام لگایا۔ اس پر بنچ نے ریاستی حکومت کے وکیل راجیو دھون سے پوچھا کیا یہ صرف ایک فرقے کو معاوضہ دینے کے لئے نوٹیفکیشن جاری کیا گیا؟ اس پر دھون کے جواب پر عدالت نے گہری ناراضگی جتائی اورکہا کہ یہ بہت سنگین معاملہ ہے۔ معاوضے کے حقدار سبھی متاثرین ہیں۔ ساتھ ہی کورٹ نے کہا اچھا تو یہ ہی ہوگا ریاستی حکومت اس نوٹیفکیشن کو فوراً واپس لے لے اور نیا نوٹیفکیشن جاری کر سبھی متاثرہ فرقوں کو معاوضہ دینے کا اعلان کرے۔ جاٹھ مہا سبھا نے مفاد عامہ کی عرضی میں26 اکتوبر کو جاری نوٹیفکیشن کو چیلنج کیا تھا۔ اس میں کہا گیا ہے کہ سرکار فساد متاثرین مسلم خاندانوں کی باز آبادکاری کے لئے90 کروڑ روپے جاری کررہی ہے۔ ہرایک خاندان کے افراد کو پانچ پانچ لاکھ روپے دئے جائیں گے۔ سرکاری وکیل نے یہ بھی کہا کہ مظفر نگر ،شاملی وغیرہ ضلعوں کے کئی مسلم خاندان واپس جانے کو تیار نہیں ہیں اس لئے ان کے لئے90 کرور روپے منظور کئے گئے ہیں۔ مظفر نگر اور آس پاس کے علاقوں میں گذشتہ7 ستمبر اور اس کے بعد ہوئے جھگڑوں میں کم ازکم61 لوگ مارے گئے جبکہ سینکڑوں لوگوں نے گھر بار چھڑ کر کیمپوں میں پناہ لے رکھی ہے۔ ان کیمپوں میں تقریباً1800 خاندان ابھی بھی رہ رہے ہیں۔ اب تک تقریباً100 خاندانوں کو معاوضہ رقم بھی دی جاچکی ہے۔ یہاں سوال یہ ہے کہ یہ نوٹیفکیشن جاری کرنا محض ایک بھول تھی یا اس کے پیچھے کوئی سوچا سمجھا ارادہ کام کررہا ہے؟ الزام شروع سے ہی لگتے رہے ہیں کہ مظفر نگر فسادات چناوی مفاد پر مبنی تھے۔ بھاجپا نے آگرہ میں ہوئی اپنی ریلی میں نریندر مودی کے پہنچنے سے پہلے پارٹی کے ان دو ممبران کو سنمانت کیا جو فرقہ وارانہ فسادات بھڑکانے کے الزام میں بند تھے اور ابھی ضمانت پر باہر ہیں۔ دوسری طرف سماجوادی پارٹی نے بریلی ریلی میں ملائم سنگھ یادو اور اکھلیش یادو کی موجودگی میں ایک مولانا کو سنمانت کیا جن پر بریلی میں 2010ء میں ہوئے دنگوں کا الزام ہے۔ مظفر نگر فسادات کی جانچ اور کارروائی بھی ووٹ بینک کی سیاست دکھائی پڑتی ہے جبکہ ایک فریق کے لوگوں کو گرفتار کیا گیا اور ان پر قانونی کارروائی ہوئی۔ دوسرے فریق کو چھیڑا تک نہیں گیا۔ اس سلسلے میں رویندر کمار نے ایک نئی عرضی دائر کی ہے۔ ان کا کہنا ہے اسپیشل جانچ سیل پولیس کے اختیارات اور ان پر حلف نامہ بدلنے کا دباؤ بنا رہے ہیں اس وجہ سے معاملے کی جانچ سی بی آئی سے یا کسی آزاد ایجنسی سے کروائی جائے۔ معاملہ ان کے بیٹے اور بھائی کے قتل سے جڑا ہے۔ اسی قتل کانڈ کے بعد7 ستمبر کو مظفر نگر میں دو فرقوں میں جھگڑا ہواتھا۔ ہماری جمہوریت کو ووٹ بینک کی پالیٹکس کا سب سے بڑا خطرہ ہے۔ بھائی بھائی کو اپنی سیاست کے لئے الگ کیا جارہا ہے۔ یہ سیاستداں خاص کر یوپی میں سپا مسلموں کا بھلا نہیں کررہی ہے وہیں صدیوں سے ساتھ رہنے والے ہندو مسلمان میں دراڑ پیدا کررہی ہے۔ وہ یہ بھول جاتی ہے کہ دونوں فرقوں میں آخر واپس اپنے گھر جانا ہے،وہاں رہنا ہے دراڑ اتنی چوڑی نہ ہوجائے جس سے وہ ساتھ ساتھ نہ رہ سکیں۔ کاروبار بھی ایک دوسرے کے ساتھ ہوتا ہے یہ سماجی دوستانہ دنگوں سے نہیں توڑا جاسکتا۔ خلیج اتنی گہری کردی ہے کہ راحت کیمپوں سے مسلم خاندان ڈر کے مارے واپس اپنے گھر جانا نہیں چاہتے۔ مسلمانوں کا ایک طبقہ سپا سے پوچھ رہا ہے کہ پورے معاملے میں ہمیں آخر کیا حاصل ہوا ہے؟ مسلمانوں کا کیا بھلا کیا؟ بہتر ہو سماجوادی پارٹی یہ ووٹ بینک کی سیاست بند کرے اور بھائی بھائی کو آپس میں نہ لڑائے۔ دونوں میں خلیج گہری نہ کرے۔
(انل نریندر)

ایک سال گزر گیا، کہاں پہنچی پونٹی چڈھا قتل کیس کی تفتیش؟

ایک سال پہلے جنوبی دہلی کے چھتر پور علاقے میں ایک فارم ہاؤس میں ایک انتہائی سنسنی خیز خونی کھیل ہوا تھا۔ پراپرٹی جھگڑے کو لیکر دونوں طرف سے ہوئی تابڑ توڑ فائرننگ میں شراب کے سب سے بڑے کاروباری گوردیپ سنگھ چڈھا عرف پونٹی چڈھا(55 سال ) اور ان کے بھائی ہردیپ چڈھا کی موت ہوگئی تھی۔ پونٹی چڈھا قتل معاملے میں ایک برس گزرنے کے بعد بھی ابھی تک مقدمہ چلانے کے آثار نہیں ہیں۔ 22 میں سے21 ملزمان کے وکیلوں نے اپنا اپنا موقف رکھ دیا ہے۔ اب محض بنیادی ملزم سکھدیو سنگھ نامدھاری کی طرف سے موقف آنے سے دسمبر میں طے ہوجائے گا کہ سبھی ملزمان کے خلاف مقدمات کس کس دفعات میں چلائے جائیں گے۔ بنیادی ملزم اتراکھنڈ اقلیتی کمیشن کے چیئرمین کے عہدے سے ہٹائے گئے سکھدیو سنگھ نامدھاری نے خودکو بے قصور بتایا۔ جمعہ کو ساکیت ایڈیشنل سیشن جج وی کے یادو کے سامنے ملزمان کے خلاف الزام طے کرنے کے مسئلے پر سماعت شروع کرتے ہوئے وکیل کے کے مینن نے کہا کہ نامدھاری کے ریوالور سے جو گولی چلی اس کا ملان چڈھا بندھوؤں کے جسم سے نکلی گولی سے نہیں ہوا۔ اسی طرح ان کے پی ایس او سچن تیاگی کے ذریعے چلائی گئی گولی بھی انہیں نہیں لگی۔ وہیں پولیس نے ہردیپ کے بندوقچی و پنجاب سے ملے پی ایس او کے ہتھیار ضبط نہیں کئے۔ دونوں کی گولی ہی سے چڈھا بندھوؤں کی موت ہوئی ہے جبکہ ان کے مؤکل پر قتل کا الزام جڑدیاگیا ہے۔ نامدھاری نے ہی معاملے کی ایف آئی آر درج کرائی تھی۔ پولیس نے روزنامچے میں خالی جگہ چھوڑ کر بعد میں ان کے مؤکل کے خلاف دوسری شکایت لکھ دی۔ فائرننگ میں زخمی نریندر کا بیان بھی درج نہیں کرایا گیا۔ ایسا کوئی دستاویز نہیں ہے کہ پونٹی نے کب فارم ہاؤس پردیپ کودیا تھا۔17 نومبر 2012ء کی صبح ہوئے اس قتل کانڈ میں پولیس نے 9 مہینے پہلے چارج شیٹ داخل کی تھی۔ پولیس نے مقدمہ طے کرنے کے مسئلے پر جرح پوری کرلی ہے۔چارج شیٹ میں پونٹی کوبھی بھائی ہردیپ سنگھ چڈھا کے قتل و فارم ہاؤس میں قبضے کا سازشی ملزم بنایا ہے۔ پونٹی کی موت ہونے سے اس کے خلاف مقدمہ نہیں چلے گا۔ بحث کے دوران بچاؤ فریق نے عدالت کو بتایا کے بھائیوں کے بیچ پراپرٹی کے تنازعے کے چلتے بات چیت نہیں ہوتی تھی۔ بچاؤ وکیل نے بتایا کہ ممکنہ جھگڑا16 نومبر کی رات میں نہیں سلجھ پایا تھا اس لئے پراپرٹی کو کسی طریقے سے حاصل کرنے کی وجہ سے دونوں بھائیوں کے درمیان گولی چلی ہو ،جس میں دونوں بھائی مارے گئے۔ ہردیپ موقعہ واردات پر پہنچے تھے جب پونٹی کے لوگ گیٹ کھول رہے تھے تبھی ہردیپ نے ان پر اور پونٹی پر گولیاں چلانا شروع کردیں۔ وکیل کا کہنا ہے پونٹی کے بھائی ہردیپ کے فارم ہاؤس پر زبردستی قبضہ کرنے کے لئے بنیادی طور سے نامدھاری اور پونٹی نے سازش رچی تھی۔ اس کام میں نامدھاری کے گرگے ملوث ہیں۔ پونٹی کے کہنے پر ہی نامدھاری اپنے گورگوں کے ساتھ اتراکھنڈ سے آیا تھا۔ ان سبھی نے پونٹی سے بات کی اور چھترپور و بجواسن فارم ہاؤس پر قبضہ کرنے کی سازش رچی۔ سبھی ملزم خطرناک ہتھیاروں سے مسلح ہوکر فارم ہاؤس پہنچے تھے اس واردات کو انجام دیا نامدھاری و سچن تیاگی نے پہلے ہی سے طے کرلیا تھا کہ مخالفت کرنے والوں کو مار ڈالا جائے گا۔ اسی وجہ سے انہوں نے ہردیپ کومار ڈالا۔ نامدھاری نے ہردیپ پر تین گولیاں چلائیں جبکہ تیاگی نے آٹومیٹک کاربائن سے گولیاں چلائیں۔ پونٹی چڈھا خاندان اور ہریدپ چڈھا خاندان ایک ساتھ کھڑا ہے۔ اس کیس سے وابستہ دونوں خاندان بے حساب دولت کی خاطر دشمنی بھلا کر ایک ساتھ آگئے ہیں۔ پونٹی نے اپنے پیچھے قریب 25 ہزار کروڑ روپے کی وراثت چھوڑی ہے۔ دونوں بھائیوں کی پہلی برسی پر ایک ساتھ اکھٹے ہوئے اب ان کے ساتھ ساتھ کاروبار بھی سنبھال رہے ہیں۔ گروپ کے ترجمان روی سوڑی کہتے ہیں حادثے کے شکار دونوں ہوئے اب وہ ساتھ ساتھ ہیں۔
(انل نریندر)

24 نومبر 2013

کیجریوال صاحب اب آپ کا کیا ہوگا جناب عالی!

جیسے جیسے دہلی میں پولنگ کی تاریخ قریب آتی جارہی ہے اروند کیجریوال اور ان کی جماعت ’آپ‘ کی ساکھ اور گراف دونوں گرتے جارہے ہیں۔ ’آپ‘ پارٹی کے خلاف ایک کے بعد ایک محاذکھلتا جارہا ہے۔ پہلے تو چناوی فنڈ کا معاملہ سامنے آیا۔ بیرونی ممالک سے کیجریوال نے جو چندہ لیا وہ قانون کی خلاف ورزی ہے۔ باہر سے ایسی تنظیموں سے بھی چندہ وصول کرنے کی بات کہی جارہی ہے جو ملک دشمن ہیں اور دہشت گردوں تک کی مالی مدد کرتی ہیں۔ معاملے کی جانچ ہورہی ہے اگر اس میں سچائی سامنے آتی ہے تو یہ معاملہ انتہائی سنگین ہوجاتا ہے۔ لیکن جب تک جانچ ایجنسیاں کسی نتیجے پر نہیں پہنچ پاتیں ابھی دعوے سے کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ ہاں اتنا ضرور ہے کہ جو18 کروڑ روپیہ بیرونی ممالک سے آیا ہے وہ ریزرو بینک آف انڈیا کے مقرر ضابطوں کو پورا نہیں کرتا۔ چناؤ کیلئے فنڈ اکھٹا کرنے کے الزامات جھیل رہی پارٹی اپنا موقف پوری طرح سے رکھ نہیں پائی تھی کہ انا نے اپنے نام کے استعمال پر ناراضگی جتا دی۔ اس معاملے کی ایک سی ڈی بھی آگئی ہے۔ اس میں انا نے کھل کرکہا ہے کیجریوال اور ان کے لوگوں نے ان کے نام کا استعمال کرکے کروڑوں روپے بٹور لئے ہیں جبکہ انہیں ایک بھی پیسہ نہیں ملا۔ بتایا جاتا ہے کہ سی ڈی پچھلے سال دسمبر میں بنی تھی لیکن اسے اب دکھایا جارہا ہے۔ رہی سہی کثر ’آپ‘ کے امیدواروں پر کئے گئے اسٹنگ آپریشن نے پوری کردی ہے۔ یہ آپریشن ویب سائٹ میڈیا سرکار نے کیا ہے۔ ’آپ‘ کے 9 لیڈروں کا اسٹنگ آپریشن ہوا ہے۔ اس کے مطابق اروند کیجریوال کے خاص سپہ سالاراور آر کے پورم سے پارٹی کی امیدوار شازیہ علمی بے نامی چندہ ایڈجسٹ کرنے میں شامل دکھایا گیا ہے۔ اسٹنگ آپریشن میں رپورٹر نے ان سے ایک کام کروانے کے عوض میں 15 لاکھ روپے دینے کی پیشکش کی ہے۔ انہیں ناجائز پراپرٹی تنازعے میں مدد کرنی تھی جس پر انہوں نے حامی بھرلی ۔ شازیہ نے تو یہاں تک کہا کہ ضرورت پڑنے پر وہ کئی ورکروں کے دھرنے مظاہرے تک کروا دے گے۔ میڈیا سرکار ڈاٹ کام نام کی جس ویب سائٹ کے ذریعے اسٹنگ آپریشن کروائے گئے اس کے سی ای او انورنجن جھا کا کہنا ہے کہ یہ سارے اسٹنگ دیوالی کے بعد کرائے گئے ہیں اور شازیہ کا اسٹنگ تو ابھی ہفتے بھر پہلے ہی کیا گیا۔ اس کے ذریعے ایک بار پھر پارٹی کے پیسے کولیکر سوال کھڑے ہوگئے ہیں۔ جمعہ کو ’آپ‘ پارٹی نے اسٹنگ آپریشن میں پھنسے اپنے سبھی امیدواروں کو کلین چٹ دے دی۔ ’آپ‘ کی پولیٹکل آفیئرس کمیٹی کے ممبر یوگیندر یادو نے کہا کہ اسٹنگ کی سی ڈی سے چھیڑ چھاڑ کی گئی ہے۔ ہر بات کو ان کے سلسلے سے کاٹ کر دکھایا گیا ہے۔ یادو نے الزام لگایا کہ اسٹنگ بنانے والی ویب سائٹ نے یہ کہہ کر ’را‘ فوٹیج دینے سے منع کردیا یہ محض کسی آئینی ادارے کو ہی دینے ہوں گے۔ اس سے ہم ان الزاموں کو مسترد کرتے ہیں اور اسٹنگ اور سی ڈی بنانے والوں اور اسے دکھانے والے نیوز چینلوں کے خلاف پیر کے روز ہتک عزت کا مقدمہ بھی دائر کیا جائے گا۔ یہ اسٹنگ آپریشن کے جواز کو کوئی آزادانہ ایجنسی ہی ثابت کرسکتی ہے اور جانچ کے بعد ہی اس پر کوئی رائے زنی کی جاسکتی ہے۔ کل ملاکر ’آپ‘ پارٹی اور اروند کیجریوال کی ساکھ مسلسل گر رہی ہے۔ سماجی رضاکار انا ہزارے کے نظریاتی تحریک سے سامنے آئے اروند کیجریوال جن لوک پال کے اشو پر دہلی میں جو تاریخی تحریک ہوئی تھی اسی میں کیجریوال سامنے آئے تھے۔بعد میں وہ انا کے ساتھ مرن برت تحریک کے کرتا دھرتا بن گئے تھے لیکن دونوں کے راستے اب الگ ہوگئے ہیں۔ لیکن کیجریوال سیاست میں کود پڑے اور عام آدمی پارٹی بنائی جو کرپشن کو دور کرنے اور صاف ستھری سیاست کرنے کا خواب دکھانے کیلئے پارٹی کا جنم ہوا تھا۔ کیجریوال پر جو الزام لگ رہے ہیں اس سے تو وہ اور ان کی جماعت اور دیگر پارٹیوں سے مختلف نہیں ہے۔ یہ بھی وہ سب کچھ کررہے ہیں جو عام طور پر دوسری پارٹیاں کرتی چلی آرہی ہیں اس لئے ان کی اور دوسری پارٹیوں میں فرق کیا رہا؟ اب کس منہ سے کیجریوال اور ان کی پارٹی کے امیدوار جنتا کے بیچ صاف ستھری سیاست کرنے کی بات کریں گے۔ دہلی کی جنتا میں ’آپ‘ پارٹی کے تئیں بھروسہ کم ہوا ہے۔پولنگ میںیہ کتنااثر کرتا ہے اس کا پتہ تو 4دسمبر کو ہونے والی پولنگ سے ہی لگے گا لیکن اروند کیجریوال کی ساکھ اور شخصیت کو بھاری دھکا ضرور لگا ہے۔
(انل نریندر)

پاکستان میں چینلوں پر جرمانہ اور ہندوستانی فلموں پر پابندی!

پاکستان میں ہندوستانی فلموں و ٹی وی پروگراموں کی بڑھتی مقبولیت اب وہاں کی عدالتوں اور حکومت دونوں کوستانے لگی ہے۔ پہلے تو پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی نے پاکستان کے 10 ٹی وی چینلوں پر ایک کروڑ روپے کا جرمانہ ٹھونگا پھر لاہور ہائی کورٹ نے پاکستان میں ہندوستانی فلموں کی اسکریننگ پر روک لگادی۔ پہلے بات کرتے ہیں ہندوستانی ٹی وی چینلوں کی۔ پاکستان اتھارٹی نے پاکستان کے 10 چینلوں پر جرمانے اس لئے لگائے ہیں کہ انہوں نے مقررہ وقت سے زیادہ بھارت سے ٹیلی کاسٹ ہورہے سیریلوں کو دکھایاتھا۔ پیرکو ایک میڈیا رپورٹ سے یہ پتہ چلا کہ پاکستان کے وزارت اطلاعات و نشریات کا ایک سرکولر بھیجا گیا جس میں کہا گیا ہے کہ کوئی پاکستانی چینل طے وقت سے زیادہ ہندوستانی اور دیگرغیر ملکی تفریح پروگرام دکھا رہے ہیں۔ رپورٹ میں آگے کہا گیا ہے الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی اس سے فکر مند ہے۔ اس نے قصوروار 10 چینلوں پر جرمانہ لگاتے ہوئے ان سے اپیل کی ہے کہ وہ اس طرح کی غلطی دوبارہ نہ کریں۔ پاکستانی چینلوں کو10 فیصدی پروگرام دکھانے کی اجازت ہے۔ اس 10 فیصدی کا 60 فیصدی ہندوستانی اور دیگر کا ہونا چاہئے۔ باقی40 فیصدی انگریزی کا ہوتا ہے۔ اب بات کرتے ہیں لاہور ہائی کورٹ کے حکم کی۔ اس کے جسٹس خالد محمود نے متنازعہ ٹی وی ٹاک شو کے اینکر مبشر لقمان کی طرف سے داخل عرضی پر اس بارے میں انترم حکم جاری کیا ہے۔ غور طلب ہے لقمان سابق فلم پروڈیوسر ہیں اوراپنے بھارت مخالف نظریئے کے لئے جانے جاتے ہیں۔ اپنے عرضی میں انہوں نے دعوی کیا تھا پاکستانی قواعد کے تحت پوری طرح بھارت میں فلمائی گئی اور کسی ہندوستانی کے ذریعے اسپانسر فلم کو نہیں دکھایا جاسکتا۔ لقمان نے الزام لگایا تھا کہ پاکستان میں ہندوستانی فلمیں دکھانے کے لئے اسپانسروں کی پہچان بدلنے کی خاطر فرضی دستاویزات کا استعمال کیا جاتا ہے۔ دعوے کی حمایت میں انہوں نے کورٹ کا ایک حکم بھی نتھی کیا تھا۔ عدالت نے لقمان کی عرضی پر 25 نومبر تک کی تاریخ طے کی ہے۔ اس وقت تک سینسر بورڈ آف ریوینیو کو بھی جواب داخل کرنے کے لئے کہا گیا ہے۔ پاکستان میں ان دنوں بھارت کے خلاف ایک مخالف مہم سی چل رہی ہے اور پاکستان میں بچے کچے ہندوؤں کے خلاف بھی یہ تحریک جاری ہے۔ ٹی وی فلموں کے علاوہ پاکستان میں ہندوؤں اور دیگر اقلیتوں کے خلاف بڑھتے مظالم پر آواز اٹھانے والوں کو بھی نہیں بخشا جارہا ہے۔ پاکستان میں اقلیتوں(ہندوؤں) پر ہو رہے مظالم کے خلاف آواز بلند کرنا انسانی حقوق رضاکار ذوالفقار شاہ اور ان کی بیوی غلام فاطمہ شاہ کو بھاری پڑ گیا ہے۔ دونوں کو اپنے دیش سے بدر ہونے پر در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔ پاک فوج اور آئی ایس آئی نے ان پر انگنت ظلم ڈھائے ہیں اور ظلم کی انتہا تب ہوگئی جب ذوالفقار کو سلو پوائزن دیکر خاموشی سے مرنے کے لئے چھوڑدیا گیا۔ پاکستان سرکار نے جب انہیں ملک بدر کردیا تو وہ نیپال پہنچے۔ نیپال میں بھی آئی ایس آئی نے ان پر جان لیوا حملے کرائے ۔ بچتے بچتے یہ جوڑا اب دہلی پہنچا ہے۔ انہوں نے بھارت سرکار سے پناہ مانگی ہے جو زیر غور ہے۔ ایک طرف تو پاکستان بھارت سے دوستی کی بات کرتا ہے تو دوسری طرف اتنا بھارت مخالف ہے۔ اس لئے کہتے ہیں پاک حکمراں دوغلے ہیں۔ ان کے قول و فعل میں بہت فرق ہے۔

(انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...