11 نومبر 2017

سانسوں کی ایمرجنسی: دہلی بنی گیس چیمبر

پچھلے کچھ دنوں سے تو انتہا ہی ہوگئی ہے۔دہلی این سی آر میں آلودگی نہایت خطرناک سطح پر پہنچ چکی ہے یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ دہلی گیس چیمبر میں بدل چکی ہے۔ اتنا دھنواں ہے کہ سانس لینا مشکل ہوگیا ہے۔ آنکھوں میں جلن، کھانسی زکام عام ہوگئے ہیں۔ ہوا میں آلودگی کی سطح خطرناک سطح تک پہنچ گئی ہے۔ پی ایم 2.5 کی مقدار محفوظ مانے جانے والی سطح سے 10 گنا زیادہ ہے۔ آئی ایم اے (انڈیا میڈیکل ایسوسی ایشن ) نے ہیلتھ ایمرجنسی ڈکلیئر کردی ہے۔ سب کی جان جیسے گلے میں اٹک گئی ہو لیکن سانس لینے سے کوئی بھلا کیسے بچ سکتا ہے۔ دیوالی کے بعد پھیلے دھنویں کے بعد اب پرالی جلانے میں ہوئی دھند سے آلودگی سطح بڑھ کر کئی گنا ہوچکی ہے۔ مرکزی آلودگی کنٹرول بورڈ کے مطابق اے کیو آئی (ایئر کوالٹی انڈیکس) کی سطح 100 تک عام مانی جاتی ہے۔ حالانکہ دہلی کا اے کیو آر 300-400 کے درمیان رہتا ہے لیکن منگلوار کو یہ سطح 440 تک پہنچ گئی تھی۔ آلودگی سے نمٹنے کیلئے دہلی حکومت پانی کے چھڑکاؤ سے لیکر آڈ ۔ ایون کو پھر سے لاگو کرنے پر مجبور ہوگئی ہے۔ ایسا نہیں کہ اکیلے بھارت ہی اس مسئلے سے لڑ رہا ہے کئی دیگر دیشوں میں بھی آلودگی کی سطح باعث تشویش حالت میں پہنچ چکی ہے۔ آلودگی سے نمٹنے کے کئی طریقے اپنائے گئے ہیں جن میں کچھ کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ سال 2014 میں چین کے کئی شہروں میں دھنواں چھا گیا تھا اور آلودگی کی سطح پالوشن کیپٹل کہلانے والے شہر بیجنگ میں بہت اونچی سطح تک پہنچ گئی تھی۔ اس کے بعد چین نے آلودگی سے نمٹنے کے لئے جنگی سطح پر کوششیں شروع کیں یہاں ملٹی فنگشن ڈسٹ سپریشن ٹرک کا استعمال کیا گیا۔ اس کے اوپر ایک وسیع واٹر کینن لگا ہوتا ہے جس سے 200 فٹ اوپر سے پانی کا چھڑکاؤ ہوتا ہے۔ پانی کے چھڑکاؤ سے دھول نیچے بیٹھ جاتی ہے۔ اس کے علاوہ چین نے وینٹی لیٹر کوریڈور بنانے سے لیکر اینٹی اسماک پولیس تک بنانے کا فیصلہ کیا۔ یہ پولیس جگہ جگہ جا کر آلودگی پھیلانے والے اسباب جیسے سڑک پر کچرا پھینکنے اور جلانے پر نظر رکھتی ہے۔ چین میں کوئلے کی کھپت کو بھی کم کرنے کی کوششیں کی گئیں جو وہاں آلودگی بڑھنے کی اہم وجوہات میں سے ایک تھی۔ فرانس کی راجدھانی پیریس میں ہفتے کے آخر میں کار چلانے پر پابندی لگادی گئی تھی اور وہاں بھی آڈ ۔ ایون کا طریقہ اپنایا گیا۔ ساتھ ہی ایسے دنوں میں جب آلودگی بڑھنے کے امکان سے بھی پبلک گاڑیوں کو ہٹایاگیا اور گاڑی شیئر کرنے کیلئے پروگرام چلائے گئے ساتھ ہی ایسے دنوں میں جب آلودگی بڑھنے کا امکان ہو تو گاڑیوں کو صرف 20 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلانے کا حکم دیا گیا۔ جرمنی کے علاقہ فری برگ میں آلودگی کم کرنے کے لئے پبلک ٹرانسپورٹ کو بہتر بنانے پر زوردیا گیا۔ یہاں ٹرام نیٹورک کو چلایاگیا۔ برازیل کے ایک شہر ٹاپو بٹاؤ کو موت کی وادی کہا جاتا تھا یہاں آلودگی اتنی زیادہ تھی کہ منصوعی بارش سے لوگوں کا بدن جل جاتا تھا لیکن صنعتوں پر چمنی فلٹرس لگانے کے لئے دباؤ ڈالنے کے بعد شہر میں 10 فیصد تک آلودگی میں کمی آئی ہے اور ہوا کی کوالٹی پر نگرانی کے بہتر طریقے اپنائے گئے۔ ہمارے لئے زیادہ باعث تشویش بات یہ ہے کہ پچھلے سال بھی دیوالی کے بعد تین چار دنوں تک ایسا ہی ڈراؤنا منظر تھا ۔باوجود اس کے اس طرف سے قریب سبھی اہل سرکاری مشینری نے آنکھیں بند کر کے رکھیں۔ کیا ایسے سطحی طریقے سے ہماری موجودہ اور آنے والی پیڑھی صحت مند اور خوشحال رہ پائے گی؟ بالکل نہیں۔ تو ہمیں حل تلاشنے ہوں گے۔ وہ بھی دوررس اور مستقل اور یہ تبھی ہوگا جب سطحی طریقے کے ساتھ ساتھ جنتا کو جوابدہی اور بیدار بنایا جائے گا۔لہٰذا سب سے پہلے آلودگی کے کھلنائکوں پرالی جلانا، ڈیزل کی گاڑیوں کا اندھادھند چلن، کوئلہ سے بننے والی بجلی اور دیگر پلانٹ کو کنٹرول ، سڑکوں پر دھول اور کاربن ذرات وغیرہ کو ختم کرنا ہوگا۔ اس کے ساتھ ہی پبلک ٹرانسپورٹ سسٹم کو درست کرنا ہوگا۔ آگ لگنے کے وقت دھنواں نکالنے کے طریقے سے جب تک نہیں بچا نہیں جائے گا، دہلی این سی آر موت کی اس بھٹی میں شہری زہریلے دھنویں میں گھٹتے ہی رہیں گے۔
(انل نریندر)

اور اب پیرا ڈائز پیپرس

پنامہ پیپرس لیک ہونے کے 18 مہینے بعد پیراڈائز پیپرس نام سے ایک اور بڑا عجب ترین ڈاٹا سامنے آیا ہے۔ اس میں ان فرموں اور آف شور کمپنیوں کی جانکاری ہے ، جو دنیا بھر میں امیروں کا پیسہ بیرونی ممالک بھیجنے میں مدد کرتی ہیں۔ لیک ہوئے ان 1.34 کروڑ دستاویزات میں کئی اہم ہندوستانیوں کے بھی نام ہیں۔دنیا بھر کے صحافیوں نے مل کر امیر اور طاقتور لوگوں کی خفیہ سرمایہ کاری کے بارے میں پیراڈائز پیپرس کے نام سے جو تازہ دھماکہ کیا ہے ،وہ پنامہ دھماکہ سے ایک قدم آگے ہے۔ اور اس میں اشخاص سے زیادہ کارپوریٹ پر زور دینے سے حکومتوں کو جانچ پڑتال کرنے، کارروائی کرنے میں آسانی ہوگی۔ پیراڈائز پیپرس کی شکل میں جو کچھ ہمارے سامنے آیا ہے اس میں اگرچہ سچائی ہے تو یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ دنیا بھر میں ایسے لوگ ہیں جو ٹیکس بچانے کے لئے ان ملکوں کی کمپنیوں میں سرمایہ کاری کرتے ہیں یا وہاں کمپنیاں بنا لیتے ہیں جہاں یا تو ٹیکس نہیں لگتا یا معمولی ٹیکس ہی لگتا ہے۔ ایسا کرنے والوں کو غیر اخلاقی تو کہا ہی جاتا ہے، لیکن انہیں قانون کی خلاف ورزی کی ہی ہے ایسا کہنا ذرا مشکل ہے۔ اس رپورٹ کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ کچھ غیر قانونی اور کالی کمائی سے وابستہ کمپنیاں ریگولیٹری اداروں سے نظربچا کر اپنے سرمائے کو دوسرے ملکوں میں شیئر لینے کے لئے استعمال کرتی ہیںیا انہیں بیچ دیتی ہیں۔ دستاویزات بتاتے ہیں کہ وجے مالیا نے کیسے یونائٹڈ اسپریبرس لمیٹڈ انڈیا کو 2012 میں ڈیانیو گروپ کو بیچ دیا تھا اور اس طرح انہوں نے اپنا پیسہ ان مقامات پر بھیجا جہاں پر ٹیکس سے چھوٹ ہے۔ ویسے پیراڈائز پیپرس کو بھی پنامہ پیپرس کی جانچ کررہی بڑی ایجنسی گروپ (سی بی ٹی ڈی) کو اس کی جانچ کرنے کی ذمہ داری سونپ دی گئی ہے۔ یہ سینٹرل ایکسائز ٹیکس بورڈ کی سربراہی والا گروپ ہے جس میں سی ٹی بی ٹی کے دوسرے افسران، انفورسٹمنٹ ڈائریکٹوریٹ ، ریزرو بینک اور مالیاتی خفیہ یونٹ کے نمائندے شامل ہیں۔ تازہ پیپرس میں دنیا بھر کی مختلف سیکٹروں کی ہستیوں کے ساتھ 714 ہندوستانیوں کے نام بھی شامل ہیں۔ اس میں کسی معاملے کی پوری تفصیل دستیاب نہیں ہے۔ بھارت نے کالا دھن روکنے کیلئے کئی ایسے ملکوں سے معاہدہ کررکھا ہے جہاں پر ٹیکس کی شرحیں کم ہیں۔ اس لئے وہاں کی کمپنیاں اپنے سرٹیفکیٹ دکھا کر یہاں ٹیکس سے بچ جاتی ہیں۔ دوسری طرف ٹیکس سے پوری طرح بچنے کو روکنے کے لئے سخت قانون بھی ہے جسے 2012 میں اس وقت کے وزیر خزانہ پرنب مکھرجی کی ناکام کوشش کے بعد 2017 میں قانونی شکل دی جاسکی۔ اس کے باوجود ان قوانین کی کتنی تعمیل ایمانداری اور شفافیت کے مفاد میں ہورہی ہے اور کتنے مفادی اس کی تحقیقات اور اس پر کارروائی کی چنوتی سے متعلق سرکاروں کے لئے ایک چنوتی ہیں۔
(انل نریندر)

10 نومبر 2017

قانونی ڈاکہ ،منظم لوٹ تھی نوٹ بندی

سابق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ منگل کے روز مودی سرکار کی دو اہم اقتصادی اصلاحات نوٹ بندی اور جی ایس ٹی پر جم کر خفا ہوئے۔ نوٹ بندی کے ایک سال پورا ہونے سے ایک دن پہلے ڈاکٹر منموہن سنگھ احمد آباد میں کہا تھا کہ 8 نومبر 2016ء کو 500 اور 1000 روپے کے نوٹوں پر پابندی لگایا جانا ایک منظم لوٹ اور قانونی ڈاکہ تھا۔نوٹ بندی اور اس کے بعد گڈس اینڈ سروس ٹیکس (جی ایس ٹی) کے عمل کے طور طریقوں سے دیش کے کاروباری حلقہ میں ٹیکس دہشت کا ڈر بیٹھ گیا۔ گجرات اور احمد آباد میں اپنی پارٹی کی جانب سے منعقدہ چھوٹے اور درمیانے کاروباریوں کی کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ اس وقت دیش میں پرائیویٹ سرمایہ کاری 25 برس میں کم از کم سطح پر آگئی ہے۔ یہ ہندوستانی معیشت کے لئے کافی خراب پوزیشن ہے۔ نوٹ بندی کو سوچے سمجھے بغیر اٹھایا گیا قدم بتاتے ہوئے سابق وزیر اعظم و جانے مانے ماہر اقتصادیات منموہن سنگھ نے دوہرایا کہ بڑی مالیت کے نوٹوں کوچلن سے باہر کرنے کی این ڈی اے سرکار کی کارروائی ایک منظم لوٹ اور قانونی ڈاکہ تھا۔انہوں نے کہا دیش میں حالات بہت خراب ہیں اور معیشت بیٹھ گئی ہے جبکہ عالمی مالی حالات مناسب تھے۔ ٹیکس دہشت کے ڈر سے سرمایہ کاری کو لیکر بھروسہ ڈگمگا گیا۔ سابق وزیر اعظم نے آگے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سماج کے مختلف طبقوں کے لڑکوں کی حالیہ تحریکوں سے پتہ چلتا ہے کہ گجرات کی بھاجپا سرکار کے کام کاج میں ان میں ناراضگی پائی جاتی ہے۔ گجرات میں بھاجپا پچھلے 22 سال سے مسلسل برسر اقتدار ہے۔ انہوں نے کہا صرف سورت میں 60 ہزار ہتھ کرگے بند ہوگئے ہیں۔ ہر ایک 100 کرگوں میں اگر 35 لوگوں کو روزگار چھننے کی شرح مان لی جائے تو سورت میں صرف ایک صنعت میں 21 ہزار لوگ بے روزگار ہوگئے ہیں۔ انہوں نے مرکز کی احمد آباد ۔ممبئی بلٹ ٹرین پروجیکٹ کی بھی تنقید کی اور کہا کہ یہ محض دکھاوا ہے۔ 
منموہن سنگھ نے کہا کہ سرکار نے نوٹ بندی کا جو مقصد بیان کیا وہ پورا نہیں ہوپایا اور کالا دھن رکھنے والوں کو پکڑا نہیں گیا۔ وہ لوگ بھاگ گئے۔ جی ایس ٹی نے چھوٹے کاروباریوں کی کمر توڑدی۔ جی ایس ٹی کی تعمیل کی شرائط چھوٹے کاروباریوں کے لئے برے خواب کی طرح ہے۔ عام لوگوں کو اس سے کافی پریشانی ہوئی ہے۔ منموہن سنگھ نے کہا میں فخر کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ ہم نے اپنے عہد کے دوران قریب 14 کروڑ لوگوں کو غریبی سے نکالا ہے۔ انہوں نے دو ٹوک کہا نوٹ بندی کی وجہ امیر لوگوں نے اس کی آڑ میں کالے دھن کو سفید بنالیا جبکہ سب سے زیادہ نقصان غریبوں کو ہوا۔
(انل نریندر)

آٹھ ریاستوں میں ہندوؤں کو اقلیتی درجہ دینے کی مانگ

سپریم کورٹ میں ایک مفاد عامہ کی درخواست داخل کی گئی ہے جس میں بھارت کی 8 ریاستوں میں ہندوؤں کو اقلیتی درجہ دئے جانے کی مانگ کی گئی۔ اس عرضی کے بعد یہ بحث تیز ہوگئی ہے آخر اس مانگ کی وجہ کیا ہے؟ کیا ہندوؤں کو بھی کچھ ریاستوں میں اقلیتی درجہ ملنا چاہئے؟ کورٹ میں جو عرضی داخل ہوئی ہے اس میں بتایا گیا کہ 8 ریاستوں لکشدیپ، میزورم، ناگالینڈ، میگھالیہ، جموں وکشمیر، اروناچل پردیش، منی پور اور پنجاب میں ہندوؤں کی آبادی بیحد کم ہے انہیں یہاں اقلیت کا درجہ ملے تاکہ سرکاری سہولیات مل سکیں۔ اپیل میں کہا گیا ہے کہ اقلیت کا درجہ نہیں ملنے سے ان ریاستوں میں ہندوؤں کو بنیادی حقوق سے محروم ہونا پڑ رہا ہے۔ عرضی دائر کرنے والے اشونی اپادھیائے نے کہا کہ سپریم کورٹ کی آئینی بنچ نے 2002 میں فیصلہ کیا تھا کہ اقلیت کا درجہ ریاستی سطح پر دیا جانا چاہئے۔ 8 ریاستوں میں ہندو بہت کم ہیں باوجود اس کے انہیں اقلیت کا درجہ نہیں دیا گیا۔ 2011 ء میں ہوئی آبادی کے مطابق لکشدیپ میں 2.5 فیصد ، میزورم میں 2.75 فیصد، ناگالینڈ میں 8.75فیصد، میگھالیہ میں 11.53 فیصد، جموں کشمیر میں 28.44فیصد، اروناچل پردیش میں 29 فیصد، منی پور میں 3.39 فیصد، پنجاب میں 38.4 فیصد ہندو ہیں۔ آئین کی دفعہ 25 سے لیکر 30 تک کے تقاضوں کے مطابق اقلیتی فرقہ کے لوگوں کا تحفظ ،اقلیتی فرقے کے لوگوں کو مذہبی و سماجی اور تعلیمی کاموں کے لئے سرکاری مدد۔ اقلیتی ادارہ کھولنے کے لئے سبسڈی ان میں اقلیتی طلبا کو ریزرویشن بھی مذہبی کاموں کے لئے بھی اقلیتوں پر سبسڈی۔ ہر سال ٹیکنیکل اداروں میں 25 ہزار اقلیتی طلبا کو اسکالر شپ، دیگر اقلیتوں کے لئے پی ایم کا 15 نکاتی پروگرام ہے اس کے تحت روزگار کے لئے 9 فیصد کی شرح پر لون دینا شامل ہے۔ عرضی میں کہا گیا ہے کہ مرکزی سرکار کا 1997 کا نوٹیفکیشن منسوخ کیا جانا چاہئے۔ اقلیت اعلان کرنے کے لئے گائڈ لائنس طے کی جانی چاہئے۔ 8 ریاستوں میں جہاں ہندوؤں کی تعداد کم ہے وہاں انہیں اقلیتی درجہ دیا جانا چاہئے۔ سپریم کورٹ کو دیکھتے ہیں کہ وہ کیا فیصلہ کرتی ہے؟
(انل نریندر)

09 نومبر 2017

ٹرمپ کا ایشیائی دورہ اس لئے اہمیت کا حامل ہے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا پانچ ایشیائی ممالک کا دورہ کئی معنوں میں اہم ہے۔ان میں جاپان، ساؤتھ کوریا، چین، ویتنام اور فلپین شامل ہیں۔پہلے وہ جاپان پہنچے، ان کا ایشیائی دورہ 14 نومبر کو فلپین میں ختم ہوگا۔ اس دوران وہ سبھی ملکوں کے ساتھ اہم مسئلوں پر تبادلہ خیالات کریں گے لیکن جاپان، چین اور ساؤتھ کوریا میں بحث کا اہم مرکز نارتھ کوریا ہی ہوگا۔ مسلسل میزائل تجربے کرکے امریکہ کو حملے کی دھمکی دینے والے نارتھ کوریا کی گھیرا بندی کے لئے یہ دورہ اہم رہے گا۔ 25 سال میں یہ کسی بھی امریکی صدر کا سب سے طویل ایشیائی دورہ ہے۔ مانا جارہا ہے کہ اس دورہ میں صدر ٹرمپ ساؤتھ کوریا اور جاپان کے ساتھ مل کر تیونگ یانگ کے خلاف اتحاد کا مظاہرہ کریں گے جبکہ اس مسئلے پر بھی دباؤ بڑھائیں گے، ٹرمپ کے دورہ میں سب سے اہم چین ہوگا۔ ٹرمپ بیجنگ میں چینی صدر شی جن فنگ کے ساتھ ملاقات کریں گے کیونکہ چین نارتھ کوریا کا سب سے بڑا کاروباری دوست ملک ہے اس لئے ٹرمپ نے نارتھ کوریا کے حوصلے پر لگام لگانے کے لئے پہلے ہی چین کو ضروری قدم اٹھانے کو کہا تھا، لیکن چین کی طرف سے اس پر کوئی اہم فیصلہ نہیں لیا گیا ہے۔ اس پر دونوں میں اہم بات چیت ہوگی۔ جاپان کی راجدھانی ٹوکیو میں ٹرمپ نے ایتوار کوکہا کہ کسی بھی ڈکٹیٹرکو امریکہ کے عزم کو کم کرکے نہیں دیکھنا چاہئے۔ ٹرمپ کا یہ پہلا جاپان دورہ ایسے وقت میں ہورہا ہے جب نارتھ کوریا کے نیوکلیائی پروگراموں اور میزائل تجربوں کو لیکر کشیدگی بڑھی ہوئی ہے۔ نارتھ کوریا نے جاپان کے ہوائی خطہ کے اوپر دو بیلسٹک میزائلیں داغی تھیں اور پرشانت مہاساگر میں ہائٹروجن بم تجربے کی دھمکی دی تھی۔ ٹرمپ نے کہا کہ امریکی فوجیں ہمیشہ کامیاب ہوتی ہیں۔ یہ امریکی فوج کی وراثت ہیں۔ آزادی اور انصاف کے لئے اس فوج کو پوری دنیا میں جانا جاتا ہے۔ ٹرمپ ایسے وقت ایشیائی دورہ پر نکلے ہیں جب نارتھ کوریا سے امریکہ کی کشیدگی انتہا پر پہنچ چکی ہے۔ امریکی بمبار کوریائی جزیرے کے اوپر سے اڑان بھر چکے ہیں اور یہ اندیشہ بڑھ گیا ہے کہ تیونگ یانگ ایک اور نیوکلیائی تجربہ کر سکتا ہے۔ ادھر امریکہ میں ٹیلی کاسٹ ایک انٹرویو میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ نارتھ کوریا کے لیڈر کم جونگ اون کے ساتھ ملاقات کرنے کے لئے یقینی طور سے تیار ہوسکتے ہیں جو اس بات کا اشارہ تھا کہ بات چیت کے دروازے کھل سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں کسی کے ساتھ بھی ملاقات نہیں کروں گا۔ میں نے اس بارے میں سوچا نہیں کہ یہ طاقت ہے یا کمزوری، میرا خیال ہے کہ لوگوں کے ساتھ بیٹھ کر بات چیت کرنے میں کوئی غلطی نہیں ہے۔ دیکھنا یہ ہوگا کہ چین کس حد تک امریکہ کا ساتھ دیتا ہے؟
(انل نریندر)

ہرپانچ سال میں بدلتی ہے ہماچل میں سرکار

ہماچل پردیش میں 9 نومبر کو ہونے والے اسمبلی چناؤ کا نتیجہ طے کرنے میں 18 سے 40 سال تک کے بزرگوں کا اہم کردار ہوگا۔ چناؤ کمیشن کے اعدادو شمار کے مطابق ہماچل میں 50 لاکھ ووٹروں میں سے آدھے سے زائد تعداد 18سے40 سال کے عمر کے لوگوں کی ہے جبکہ 40 سے60 تک عمر کے ووٹروں کی سانجھے داری ایک تہائی ہے۔ 68 ممبری اسمبلی والی اس پہاڑی ریاست کی کل آبادی 7363912 ووٹروں پر مبنی ہے۔ چناؤ کمیشن کے ذریعے جاری شناختی کارڈ یافتہ ووٹروں کی کل تعداد 4988362 ہے۔ان میں 2531312 مرد اور 245732 خاتون اور باقی 14 کنڑووٹر ہیں۔ ہماچل پردیش کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہاں کے لوگ ہر پانچ سال میں سرکار بدل دیتے ہیں۔ تبدیلی اقتدار کی روایت قائم ہوچکی جو سیاسی پارٹیوں کے لئے بھی ایک پہیلی بنی ہوئی ہے۔ کہتے ہیں کام چاہے جتنا اچھا کروں لیکن لوگوں کو پسند نہیں آتا اور وہ ہر چناؤ میں نیا تلاشتے ہوئے دکھائی پڑتے ہیں۔ اتفاق سے ہماچل میں دو ہی پارٹیاں اہم ہیں کانگریس اور بی جے پی۔ تبدیلی اقتدار کا کھیل انہی دو پارٹیوں کے درمیان چلتا ہے۔ 1970ء میں جب بی جے پی کا جنم نہیں ہوا تھا تو کانگریس سے جنتا پارٹی نے اقتدار ہتیا تھا اور اس سے پہلے یہاں کانگریس کا ہی راج کاج چلتا تھا۔ پانچ سال میں اقتدار کیوں بدلتے ہیں اس سوال کے جواب میں کانگڑا کے باشندے کملیش براگٹا جو ایک ٹیچر ہیں فرماتے ہیں کہ ہماچل کے لوگوں کے پاس کوئی متبادل نہیں ہے۔ دوسری ریاستوں کی طرح یہاں علاقائی پارٹیاں وجود میں نہیں ہیں۔علاقائی پارٹیاں مقامی لوگوں کے جذبات کو اچھی طرح سے سمجھتی ہیں۔ قومی پارٹیوں کا نظریہ بھی قومی ہی ہوتا ہے ہمیں ادلا بدلی کر انہیں ہی چننامجبوری ہے۔ 70 سالہ پنشن یافتہ شخص راجندررانا کا کہنا ہے بہت چناؤ دیکھے ،نیتاؤں کو بہت قریب سے پہچاننے کا موقعہ بھی ملا، چاہے وہ اس پارٹی کا ہو یا اس پارٹی کا ان کا بنیادی کردار ایک ہی ہوتا ہے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ایکس پارٹی کی سرکار ہے یا وائی پارٹی کی سرکار ہے۔ جو سرکار میں ہے وہ اپنی من مرضی کرے گا۔ دو پارٹیوں میں کسی ایک کو چننا ہی ہوتا ہے۔ ہم لوگ وہ فرض پورا کرتے ہیں۔ ایک دوسرے ووٹر نے بتایا کہ کسی بھی چیز کو ایک جگہ رکھ دو اور اسے الٹ پلٹ کرو نہیں تو زنگ لگ جاتا ہے۔زنگ لگنے کے بعد پھر وہ چیز کام کی نہیں رہ جاتی سرکار بھی کچھ ایسی ہی ہوتی ہے۔ اگر اس کی ادلا بدلی نہ کی جائے تو اس میں بھی زنگ لگنے کا خطرہ پیدا ہوجاتا ہے۔ اس سے بچنے کو ہی ہم لوگ اس کی ادلا بدلی کرتے رہتے ہیں۔ تبدیلی لگاتار ہوتی رہنی چاہئے۔ تبدیلی ہوتے رہنے سے نئی چیزیں نکل کر آتی ہیں۔
(انل نریندر)

08 نومبر 2017

سپریم کورٹ کے فائنل فیصلہ سے آدھار لنک نہ ہو

آدھارکارڈ کے آئینی جواز کو چیلنج کرنے والی عرضیوں کی سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے صاف کہا ہے کہ موبائل اور بینک کھاتوں کو آدھار سے لنک کرنے سے پہلے یہ دیکھنا ہوگا کہ کہیں یہ پرائیویسی کے حق کی خلاف ورزی کا معاملہ تو نہیں ہے۔ عدالت ہذا نے حالانکہ اس معاملہ میں عارضی روک لگانے سے یہ کہہ کر انکار کردیا کہ اس معاملہ کو آئینی بنچ دیکھ رہی ہے اور سماعت نومبر کے آخری ہفتے میں ہوگی۔ عدالت نے یہ بھی کہا مرکزی حکومت پہلے ہی آدھار لنک کرنے کی میعاد بڑھا چکی ہے۔ بینک اور موبائل کمپنیاں گراہکوں کو میسج بھیج کر خوفزدہ نہ کریں۔ بینک اور ٹیلی کام کمپنیاں گراہکوں کو جو میسج بھیج رہی ہیں ان سے بتائیں اکاؤنٹ اور موبائل نمبر سے آدھار جوڑنے کی آخری تاریخ بسلسلہ 31 دسمبر 2017 اور 6 فروری 2018 ہوگی۔ جسٹس اے سیکری نے تو یہاں تک کہا کہ میں کہنا نہیں چاہتا ، لیکن ٹیلی کام کمپنیاں اور بینکوں کی طرف سے ایسے میسج مجھے بھی آرہے ہیں۔ لوگوں کو لگاتار فون آرہے ہیں۔ ان میں بینک اور موبائل کمپنیوں کی غلطی نہیں ہے کیونکہ ان کو حکومت کی طرف سے احکامات آئے ہوں گے اور وہ اس کی تعمیل کررہے ہیں لیکن سرکار کا حکم دینا صحیح ہے یا غلط اس پر کورٹ میں سینئر وکیل آنند گروور نے سوال اٹھایاتھا۔ یہ صحیح سوال بھی ہے کہ بینک یا موبائل کمپنیاں جس طرح سے دھمکی بھرے لہجہ میں آپ کو میسج اور کال کررہی ہیں کہ آپ کا بینک اکاؤنٹ بند ہوجائے گا یا موبائل بند ہوجائے گا، ایسا اختیار تو سرکار کو بھی نہیں ہے۔ موبائل کے معاملہ میں تھوڑی بدمعاشی بھی ہوئی ہے وہ حکم انہوں نے سپریم کورٹ کے نام سے نکالا۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کا حکم ہے اس لئے ہم اسے ضروری کررہے ہیں لیکن سپریم کورٹ نے صرف اتنا کہا تھا کہ ہر ایک موبائل نمبر کا ویریفکیشن کریں۔ کسی نہ کسی طرح سے حکم کو توڑ مروڑ کر پیش کیا جارہا ہے۔ یہ تو سپریم کورٹ کے احکامات کی توہین ہے۔ عدالت نے کہا تھا کہ آدھار کو ضروری کہیں بھی نہیں بنا سکتے صرف 6 اسکیموں کے لئے مرضی کے ساتھ استعمال کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔ آدھار کو ضروری بنانے کی وجہ سے کئی پریشانیاں بھی ہورہی ہیں اس کے بعد سے کہیں پر آدھار نمبر ڈی ایکٹیویٹ ہوتے تو کہیں پر فنگر پرنٹ کا ویری فکیشن نہیں ہوپارہا۔ جھارکھنڈ میں ایک کنبہ کا راشن کارڈ صرف اس لئے کاٹ دیا گیا کیونکہ وہ آدھار سے لنک نہیں تھا۔ دیو دھر میں روپالی مرانڈی نے لنک کیاتھا لیکن فنگر پرنٹ نہیں لے رہا تھا تو وہ دو مہینے راشن نہیں لے پائے، ان کی موت ہوگئی۔ سپریم کورٹ کے ذریعے مغربی بنگال کی وزیر اعلی ممتا بنرجی کے ہنگامہ کے باوجود آدھارکارڈ پر شبہ کی سیاست گرم ہوتی جارہی ہے۔بھاجپا نیتا ڈاکٹر سبرامنیم سوامی نے آدھار کو تباہی والی یوجنا بتاتے ہوئے بھارت کی اہم ترین پہچان اتھارٹی کو ہی ختم کرنے کی صلاح دے کر اس یوجنا کی کمزوری اور وسیع شکل کے بارے میں توجہ مرکوز کرادی ہے۔سوامی نے یاد دلایا کہ 2014 ء کے چناؤ میں جب موجودہ مرکزی وزیر انند کمار آدھار یوجنا کے خالق نندن نیل کنی کے خلاف بینگلورو ساؤتھ سے چناؤلڑ رہے تھے تب وہاں پر آدھار کارڈ اشو بنا تھا۔ سوامی نے نیل کنی کو بچاؤ کی پوزیشن میں لا کھڑا کردیا تھا۔آنند کمار کامیاب ہوئے تھے۔ اس کے باوجود اگر این ڈی اے سرکار نے آدھار ایکٹ پاس کر کے اسے سماجی بہبودی یوجنا ؤں سے ہی نہیں بلکہ لوگوں کے بینک کھاتوں اور فون نمبروں سے جوڑنا ضروری کردیاہے۔ آدھار کے ساتھ ایک بڑی دقت بایومیٹرک کے نشان بدل جانے اور کئی بار پہچان نہ ہوپانے کی بھی ہے۔ لیکن اس میں بھی سنگین مسئلہ اعدادو شمار اور پہچان کے چوری ہونے اور سرکار کی نگرانی کے مورچے پر ہے۔ حال ہی میں سپریم کورٹ نے اپنے سب سے اہم ترین فیصلے میں پرائیویسی کے حق کو بنیادی حق مانا ہے۔ ایسے میں آدھار ضروری بنائے جانے پر سوال اٹھنے فطری ہی ہیں۔
(انل نریندر)

کرپشن کے نام پر سعودی عرب میں اقتدار کی جنگ

سعودی عرب میں پچھلے کچھ دنوں سے شاہی خاندان میں بہت اتھل پتھل مچی ہوئی ہے۔ کہنے کو تو یہ سب کرپشن دور کرنے کے نام پر ہورہا ہے لیکن لگتا ہے یہ اقتدار کی لڑائی ہے سعودی شہزداہ اپنے راستے سے رکاوٹیں ہٹانے میں لگے ہیں۔ میڈیا رپورٹوں کے مطابق شاہی فرمان کی بنیادپر دیش کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی قیادت میں ایک نئی کرپشن انسداد کمیٹی بنائی گئی ہے۔ اس کمیٹی کے بننے کے گھنٹوں بعد ہی 11 راجکماروں سمیت 4 وزرا اور درجنوں سابق وزرا کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ حراست میں لئے گئے لوگوں میں ارب پتی راجکمار الولید بن تلہل بھی شامل ہے۔ محمد بن سلمان نے نیشنل گارڈ اور نیوی کے سربراہوں کو بھی برخاست کردیا ہے۔ کمیٹی بنانے کا حکم دینے والے اس شاہی فرمان میں کہا گیا ہے اگر کرپشن کو جڑ سے اکھاڑا نہ گیا اور کرپشن کرنے والوں کو سزا نہ دی گئی تو اس دیش کا وجود نہیں رہے گا۔ سرکاری خبر رساں ایجنسی سعودی پریس کے مطابق اس نئی کرپشن انسداد کمیٹی کے پاس کسی کے نام پر وارنٹ جاری کرنے، دورہ پر روک لگانے کا اختیار ہے۔ فی الحال یہ واضح نہیں ہوپایا ہے کہ حراست میں لئے گئے لوگوں پر کیا الزامات ہیں۔ گرفتار کئے گئے راجکمار الولید بن تلہل دنیا کے سب سے امیر لوگوں میں شمار ہیں۔ الولید لندن میں واقع ہوٹل سیوام کے مالک ہیں اور فوربیس میگزین کے مطابق 17 بلین ڈالر یعنی 17 ارب ڈالر کے ساتھ دنیا کے سب سے امیر لوگوں میں شمار کئے جاتے ہیں۔ ٹوئٹر اور ایپل کے علاوہ الولید کی کمپنی کنگڈم ہولڈنگ میں روپرڈ مارڈم کی سماچار کمپنی ، سٹی بینک گروپ کورسیزن ہوٹل اور کئی سروسز کمپنی لفٹ میں بھی سرمایہ کئے ہوئے ہیں۔ الولید نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے صدر چنے جانے سے پہلے ان کی کمپنی سے ایک مارٹ اورا یک ہوٹل خریدا تھا۔ سال 2015 میں وہ ٹوئٹر پر ٹرمپ کے صدارتی چناؤ میں کھڑے ہونے کے فیصلہ کے خلاف ان کے ساتھ بحث میں الجھ گئے تھے۔ الولید کا کہنا تھا آپ نہ صرف ریپبلکن نیشنل کمیٹی کے لئے بلکہ پورے امریکہ کے لئے بے عزتی کی مانند ہیں۔آپ صدارتی عہدے کی دوڑ سے اپنا نام واپس لے لیں کیونکہ آپ کبھی جیت نہیں سکتے۔ اس کے جواب میں ٹرمپ نے کہا تھا جھوٹے راجکمار اپنے پتا کے پیسوں سے ہمارے امریکی سیاستدانوں کو قابو میں رکھنا چاہتے ہیں لیکن میں راشٹرپتی بن گیا تو ایسا نہیں ہوگا۔ محمد بن سلمان نے نیشنل گارڈ ز کے وزیر پرنس شہزادہ مطب بن عبداللہ اور نیوی کمانڈر ایڈمرل عبداللہ بن سلطان کو بھی برخاست کردیا ہے۔ اس معاملہ میں کوئی سرکاری طور پر صفائی نہیں دی گئی ہے۔ پرنس مطب سعودی شاہ عبداللہ کے بیٹے ہیں۔ کبھی دیش کی شاہی گدی کے دعویدار رہ چکے ہیں۔ عبداللہ خاندان کے وہ آخری فرد ہیں جو سعودی حکومت میں اس عہدے پر تھے۔ اب طے ہے کہ دیش کو کرپشن سے پاک کرنے کے اس حکم نے شہزادہ محمد بن سلمان کو دیش کی سکیورٹی فورسز پر پورا کنٹرول دے دیا ہے اس وجہ سے سلمان کی طاقت اور بڑھی ہے۔ وہ اس آخری رشتے دار کو بھی اپنے راستے سے ہٹا دینا چاہتے ہیں جو ایک بیحد جدید ترین پیرا ملٹری فورس کی قیادت کرتے ہیں اور ان کے اقتدار کو چنوتی دینے کی قابلیت رکھتے ہیں۔ ایسا اورکوئی شہزادہ نہیں بچا ہے جن کا فوج یا سکیورٹی فورس پر کوئی حق ہو اور جو ایسا کچھ کرسکے۔ بتادیں جنوری2015 میں شاہ عبداللہ بن عزیز کی موت ہوگئی تھی اور محمد بن سلمان کے والد سلمان79 سال کی عمر میں شاہ بنے تھے۔ اسی سال انہیں اپنے چچیرے بھائی محمد بن نائف کو ہٹا کر ولی عہد شہزادہ بنایا گیا تھا۔ 31 اگست 1985 کو پیدا سلمان اس وقت کے شہزادہ سلمان بن عبدالعزیز اسعودی کی تیسری بیوی فدیحہ بن فلاح بن سلطان کے سب سے بڑے بیٹے ہیں۔ حراست میں لئے گئے زیادہ تر لوگ شہزادہ محمد کی جارحانہ پالیسی کی مخالفت کرتے رہے ہیں۔ دیکھنا اب یہ ہے کہ سعودی عرب میں تیز ہوتی سیاست اور اقتدار کی جنگ کیا کروٹ لیتی ہے۔
(انل نریندر)

07 نومبر 2017

نوٹ بندی کا ایک سال :کیا کھویا کیا پایا

8 نومبر 2016ء کو وزیر اعظم نریندر مودی نے درمیانی رات سے 500 اور 1000 کے نوٹ بند کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اس کے بعد پی ایم مودی نے مشکل جھیلتے لوگوں کو بھروسہ دلایا کہ 50 دنوں کی دقت کے بعد ایک نیا بھارت بنے گا۔ لوگوں نے اسے حمایت بھی دی لیکن کیا نوٹ بندی سے جو توقعات سرکار کوتھیں اور عام جنتا نے امیدیں باندھیں اس پر یہ فیصلہ کھرا اترا؟ نوٹ بندی کا ایک سال پورا ہورہا ہے چلئے اس میں کارناموں اور خامیوں پر ایک نظر ڈالیں۔ نوٹ بندی کے بعد ریزرو بینک نے لمبے انتظار کے بعد جب اعدادو شمار جاری کیا تو پتہ لگا کہ ساری رقم بینکنگ سسٹم میں لوٹی ۔ یہ سرکار کی توقع کے برعکس تھا لیکن نوٹ بندی سے کم سے کم زیادہ کرنسی سسٹم میں لوٹنے کا فائدہ ہوا۔ اب سرکاراس رقم کو نئے سرے سے ٹریک کر سکتی ہے۔ سرکارکا دعوی رہا کہ نوٹ بندی کے سبب بلیک منی اور کرپشن پر روک لگی۔ اس فیصلے کے سبب سرکار کا دعوی ہے کہ ٹیرر فنڈنگ میں روک لگی ہے۔ بیشک یہ کچھ حد تک صحیح ہوگا لیکن آتنک واد پہلے سے زیادہ مشتعل ہوا۔ پچھلے ایک سال میں جتنے ہمارے جوان مرے ہیں اتنے پہلے کسی سال میں نہیں مرے۔ جہاں تک کرپشن کا سوال ہے نہ تو ان میں کمی آئی ہے اور نہ ہی وہ دور ہوسکا۔ اس کا خاکہ ضرور بدل گیا ہے۔ دراصل یہ نوٹ بندی نہیں تھی یہ کرنسی بدلنے کی اسکیم تھی ۔ لوگوں نے اپنی کالی کمائی جو پرانے نوٹوں میں دبی تھی اسے نئے نوٹوں میں بدل لیا اور آج بھی بلیک اکنومی پھل پھول رہی ہے۔ نوٹ بندی کا ایک بڑا اثر بیروزگاری پر پڑا۔ جے ڈی یو کے سینئر لیڈر شرد یادو نے حال ہی میں کہا کہ نوٹ بندی کے سبب چھوٹی صنعتیں بند ہونے سے دیش میں تین کروڑ لوگ بے روزگار ہوگئے اور جی ڈی پی میں 2 فیصد گراوٹ آئی ہے۔ شرد یادو نے کہا کہ نوٹ بندی کے اعلان کا دن 8 نومبر ’سیاہ دن ‘ کے برابر تھا۔ وہ دن بھی ہم کبھی نہیں بھول سکتے جب 100 سے زیادہ لوگ اے ٹی ایم کے باہر گھنٹوں انتظار کے بعد دم توڑ گئے۔ نوٹ بندی کا اثر ابھی بھی جاری ہے۔ اے ٹی ایم اور بینکوں کی لائن میں لگنے والے دھنا سیٹھ ہی نہیں تھے بلکہ چھوٹے طبقے کے لوگ بھی تھے جنہوں نے اپنی محنت سے کمایا روپیہ کسی صورتحال کے لئے بچا کررکھا تھا۔ دھنا سیٹھوں نے تو اپنا کالہ دھن پہلے ہی کھپالیا تھا یا بدلوا لیا تھا۔ نوٹ بندی کے بعد جی ڈی پی گروتھ 6 فیصدی سے نیچے آگیا۔ اس طرح اقتصادی اضافہ کو نوٹ بندی کے فیصلے میں ضرور نقصان پہنچایا اور ابھی تک اس کا اثر دیکھا جارہا ہے۔ حالانکہ سرکار کا دعوی ہے کہ نوٹ بندی کے بعد جو منفی اثر تھا وہ ایک سال بعد ختم ہوچکا ہے۔ اور آنے والے دن بہتر ہونے والے ہیں، اچھے دن آنے والے ہیں۔
(انل نریندر)

دہلی کا باس کون؟ راؤنڈ ون

دہلی سرکار اور لیفٹیننٹ گورنر کے درمیان حقوق کی حد پر سپریم کورٹ کے پانچ ججوں کی آئینی بنچ نے بدھوار سے سماعت شروع کردی ہے۔ بنچ نے کہا کے آئین کی دفعہ239AA انوٹھا ہے۔ سرکار کو اس کا سنمان کرنا چاہئے۔ پہلی نظر میں دوسرے مرکزی حکمراں ریاستوں کے مقابلے میں دہلی میں ایل جی کو زیادہ اختیار دئے گئے ہیں حالانکہ ایل جی سرکاری یوجنا سے وابستہ کوئی فائل دبا کر نہیں رکھ سکتے۔ اختلاف ہونے پر وہ آئین کے تحت معاملہ صدر کے پاس بھیجنے کے لئے مجبور ہوں گے۔ معاملے کی اگلی سماعت7 نومبر کو ہوگی۔ ایل جی اور دہلی سرکار کے درمیان حقوق کو لیکر تنازعہ پہلے بھی کبھی کبھار اٹھا کرتے تھے مگر دہلی میں عام آدمی پارٹی کے اقتدار میں آنے کے بعد سے اختیارات کو لیکر برابر رسہ کشی کی حالت رہی ہے اس لئے اس معاملہ میں فیصلہ کن وضاحت کی ضرورت جتنی آج ہے اتنی شاید پہلے نہیں تھی۔ دہلی ہائی کورٹ نے اگست 2015 میں اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ لیفٹیننٹ گورنر ہی دہلی کا انتظامی چیف ہے۔ عاپ سرکار نے اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چنوتی دی تھی۔ سپریم کورٹ نے مسئلہ کی سنجیدگی اور نیچرلٹی کو دیکھتے ہوئے مناسبت سے ہی آئینی بنچ کو سونپ دیا۔ چیف جسٹس کی سربراہی والی آئینی بنچ نے سماعت کے پہلے مرحلہ میں موٹے طور پر وہی کہا ہے جو ہائی کورٹ نے کہا تھا۔ یعنی یہ لیفٹیننٹ گورنر ہی دہلی کے انتظامی منتظم ہیں، آئینی بنچ نے دہلی سرکار کی حدیں طے کررکھی ہیں اور اسے اسی کے دائرے میں رہنا ہوگا۔ سپریم کورٹ نے کہا کے جن موضوعات پر دہلی سرکار کو قانون بنانے کا حق ہے ان پر لیفٹیننٹ گورنر کیبنٹ کے فیصلے پر پوری طرح عمل کے لئے مجبور ہیں۔ ایسے اشو پر دہلی سرکار کی فائلیں نہیں دبا سکتے۔ دہلی کے ایڈمنسٹریٹر بہت ہی محدود علاقے کے لئے ہیں۔ بنچ نے کہا لیفٹیننٹ گورنر ان اشوز پ ایڈمنسٹریٹر کا کام کرسکتے ہیں جن پر دہلی سرکار قانون نہیں بنا سکتی۔ یہ اشو ہیں پولیس و لا اینڈ آرڈر اور عارضی۔ ان کے علاوہ سبھی معاملوں پر فیصلہ لینے کے لئے دہلی سرکار ہی مجاز ہے۔ سپریم کورٹ کے یہ ریمارکس اہم ہیں کیونکہ دہلی ہائی کورٹ نے اگست 2015 میں دئے گئے فیصلے میں کہا تھا کہ لیفٹیننٹ گورنر ہی دہلی کی ایڈمنسٹریٹر ہیں اور اسمبلی میں قانون بنانے کے لئے چنی ہوئی سرکار کو ان سے اجازت لینے کی ضرورت ہے۔ دہلی سرکار کے حقوق کا راستہ اس لئے سپریم کورٹ گیا کیونکہ وزیر اعلی اروند کیجریوال ہر معاملہ میں اپنے حساب سے اور یہاں تک کہ اپنی حدوں کو پار کرکے بھی دہلی سرکار چلانا چاہ رہے تھے۔ ان کی اسی چاہت نے مرکزی سرکار سے ٹکراؤ کی صورتحال پیدا کردی۔ شریمتی شیلا دیکشت بھی تو دہلی کی وزیر اعلی رہی ہیں لیکن ان کی سوجھ بوجھ اور آپس میں لیفٹیننٹ گورنر سے صحیح روابط بنانے کی وجہ سے ان کا کوئی کام نہ تو رکا اور نہ ہی آپسی تناؤ کی پوزیشن بنی۔ کیجریوال کو ہر مسئلہ پر ٹکراؤ چھوڑنا چاہئے اور ایل جی سے مل کر اپنا کام کرنے کا طریقہ ڈھونڈھنا چاہئے۔ اگر شیلا دیکشت کے ہم منصب طریقے سے حکومت چلانے میں سمجھدار رہی تو پھر کیجریوال کو پریشانی کیوں ہورہی ہے؟ سپریم کورٹ کے ان ریمارکس سے لگتا ہے کہ اس نے دہلی سرکار کی عرضی سرے سے خارج کردی ہے اور ہائی کورٹ کے فیصلے کو ہی دوہرایا ہے۔ لیکن ایسا نتیجہ نکالنا صحیح نہیں ہوگا۔ ایک طرف اس سبب سپریم کورٹ میں کوئی آخری فیصلہ نہیں سنایا ہے ابھی اور سماعت ہونی ہے۔ دوسرے اس نے ہائی کورٹ کے فیصلے سے تھوڑا مختلف رخ اختیار کرتے ہوئے دونوں فریقوں سے یہاں دہلی سرکار اور لیفٹیننٹ گورنر کو اپنی حدوں میں رہنے کی ہدایت دی ہے۔ جہاں تک کیجریوال کو یاد دلایا ہے کہ دہلی مرکز کے زیر انتظام ریاست ہے، اس لئے یہاں ریاستی سرکار کے حقوق و دیگر ریاستوں کی سرکاروں جیسے نہیں ہوسکتے وہیں لیفٹیننٹ گورنر کو بھی کہا ہے کہ وہ فائلوں پر کنڈلی مار کر بیٹھے نہیں رہ سکتے۔ انہیں ایک طے وقت کے اندر مرکز کے پاس فائلیں بھیجنی ہوں گی۔ ویسے یہ بھی صحیح ہے حقوق کا دائرہ چاہے جتنا واضح ہوجائے اگر دونوں فریقوں میں تعاون کا جذبہ نہیں ہوگا تو ٹکراؤ چلتا رہے گا اور دہلی کی جنتا اس میں پستی رہے گی۔
(انل نریندر)

05 نومبر 2017

داغی نیتاؤں کیلئے بنیں فاسٹ ٹریک عدالتیں

سپریم کورٹ نے سیاست کو جرائم سے پاک بنانے کیلئے مرکزی سرکار سے خصوصی عدالتیں ،اسپیشل عدالتیں بنانے کی وکالت کا خیر مقدم کیاہے۔عدالت نے مرکزی سرکار سے کہا ہے کہ وہ 13 دسمبر تک عدالت کو بتائے کہ دیش بھر میں اس طرح کی کتنی فاسٹ ٹریک عدالت کب تک بنائی جائیں گی اور ان پرکتنے پیسے خرچ ہوں گے؟ مرکز کو چھ ہفتے میں جواب دینا ہوگا۔ سپریم کورٹ نے قصوروار لیڈروں پر تاحیات پابندی لگانے کیلئے بھاجپا نیتا اشونی اپادھیائے کی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے ممبران پارلیمنٹ اور ممبران اسمبلی پر 2014 تک درج 1581 مقدمات کی تفصیل بھی طلب کی ہے۔ اس کے علاوہ 2014 سے2017 کے درمیان لیڈروں کے خلاف دائر مجرمانہ معاملوں اور ان کے نپٹارے کے بارے میں بھی جانکاری مانگی ہے۔ معاملے کی اگلی سماعت 13 دسمبر کو ہوگی۔ جسٹس رنجن گگوئی کی سربراہی والی ڈویژن بنچ نے بدھوار کو مرکز اور متعلقہ اتھارٹی کو یہ بتانے کو کہا کہ 1581 ملزم عوامی نمائندوں کے مقدموں کا کیا ہوا؟ ان میں کتنے معاملوں کا نپٹارہ ایک برس میں ہوا؟ معلوم ہو کہ 18 مارچ 2014 کو سپریم کورٹ نے ایسے معاملوں کا نپٹارہ ایک سال کے اندر کرنے کی ہدایت دی تھی ساتھ ہی بنچ نے یہ بھی پوچھا کہ کتنے معاملوں میں سزا ہوئی اور کتنے معاملوں میں ملزم بری ہوئے؟ سرکار کو یہ بھی بتانے کے لئے کہا گیا ہے سال 2014 سے 2017 کے درمیان کتنے ایسے نئے معاملے آئے ہیں۔ ایم پی اور ایم ایل اے کے خلاف التوا مقدموں کو لیکر سپریم کورٹ نے پایا کہ دستیاب اعدادو شمار کے تحت 2014 میں 1581 ایم پی و ممبران اسمبلی کے خلاف ساڑھے تین ہزار مجرمانہ معاملے زیر التوا ہیں۔ دیش میں قریب 17 ہزار نچلی عدالتیں ہیں ، ہر عدالت میں اوسطاً 4200 مقدمات التوا میں ہیں۔ بڑی عدالت کے اس حکم کا خیر مقدم کیا جانا چاہئے۔ اگر اس سمت میں کوئی ٹھوس پہل ہوگی تو وہ ہندوستانی جمہوریت کے لئے بہتر ہی ہوگی۔ سماعت کے دوران مرکزی سرکار نے ڈویژن بنچ کو بتایا کہ قصوروار ٹھہرائے گئے عوام کے نمائندوں کو تاحیات نا اہل قرار دینے سے متعلق چناؤ کمیشن اور آئینی کمیشن کی سفارشوں پر غور کیا جارہا ہے۔ غور طلب ہے کہ ہندوستانی سیاست میں لمبے عرصے سے جرائم پیشہ کا بول بالا رہا ہے۔ تمام معاملوں میں سیاستدانوں کو بھی سزا ملی ہے لیکن ہوتا یہی ہے کہ وہ اونچی عدالت میں اپیل کرکے حکم کو التوا میں ڈلوا لیتے ہیں اور پھر چناؤ لڑنے میں کامیاب رہتے ہیں۔ اس لئے عرصے سے اس پر غور چل رہا ہے کہ کیونکہ سزا یافتہ مجرموں کو تاحیات چناؤ لڑنے سے روک دیا جائے؟ تلخ حقیقت تو یہ ہی ہے کہ ہماری سیاسی مشینری آج بھی داغی لیڈروں سے بھری ہوئی ہے، جو پورے سیاسی عمل کو متاثر کر چلا رہے ہیں۔ ا س کی ایک بڑی وجہ نیتاؤں کے خلاف معاملوں کے نپٹارے میں ہوتی دیری ہے۔ ان پر مقدمے20-20 سال تک التوا میں رہتے ہیں اور کوئی نتیجہ آنے سے پہلے ہی وہ اپنی پوری سیاسی پاری کھیل جاتے ہیں اس وجہ سے آج ہماری پوری مشینری ایک داغی مشینری بن کر رہ گئی ہے۔ دیش میں کرپشن کی ایک بڑی وجہ ہے یہ داغی لیڈر اور ان کے کرپٹ طور طریقے۔ اس بیماری سے نجات پائی جا سکتی ہے ملزم سیاستداں کے خلاف چل رہے مقدمے جلد سے جلد اپنے مقام پر پہنچیں اور قصوروار پائے جانے پر اسے زندگی بھر چناؤ نہ لڑنے دیا جائے۔ کچھ برسوں سے چناؤ کمیشن کی سختی کے چلتے بوتھ قبضے جیسی برائیوں سے تو نجات مل گئی ہے، لیکن دبنگیوں اور جرائم پیشہ کا حوصلہ آج بھی پست نہیں ہوا ہے۔ اس کے لئے ہماری سیاسی پارٹیاں بھی کم ذمہ دار نہیں ہیں۔ کیوں یہ ایسے داغیوں کو ٹکٹ دیتے ہیں؟ کیا صرف چناؤ جیتنا ہی سب سے زیادہ اہم ہے؟ اگر داغیوں کو ٹکٹ نہ دیا جائے تو بھی اس برننگ اشو پر لگام لگ سکتی ہے، لیکن کیا ایسا ممکن ہے؟
(انل نریندر)

کیا پاکستانی میڈیا ہندوستانی میڈیا سے زیادہ آزاد ہے

پچھلے کچھ برسوں سے ساری دنیا میں میڈیا پر حملہ تیز ہوگئے ہیں۔ پترکاروں کو اپنی قلم کی آزادی کی قیمت چکانی پڑ رہی ہے۔ بہت سے ملکوں کی بات ہم نہیں کرتے لیکن بھارت اور پڑوسی پاکستان میں میڈیا کتنا آسان ہے اس کی بات کرتے ہیں۔ بھارت دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے۔ باوجود اس کے رپورٹرس وداؤتھ بارڈر ادارہ کی جانب سے شائع ورلڈ پریس فریڈم انڈیکس رپورٹ 2016 کے مطابق پریس کی آزادی کے پیمانے پر بھارت نچلے پائیدان پر ہے۔ 180 ملکوں کی فہرست میں 133 ویں نمبر پر دکھائی دیتا ہے۔ دیش میں پریس کی آزادی مسلسل بگڑرہی ہے۔ بھارت میں 2015 میں 4 صحافیوں کا قتل ہوا اور ہر مہینے کم سے کم ایک پترکار پر حملہ ہوا۔ کئی معاملوں میں رپورٹروں پر مجرمانہ ہتک عزت کے مقدمے بھی درج کئے گئے۔ اس کا نتیجہ یہ رہا کہ صحافیوں نے خود پر سینسرشپ لگا لی ہے۔ میڈیاپر نظررکھنے والی ویب سائٹ دی اٹ ڈاٹ اے آر جی گیتاسیمو کہتی ہیں کہ ان حملوں کا دائرہ چونکانے والا ہے۔ قومی سلامتی کے نام پر انٹر نیٹ اور اخبارات پر پابندی لگائی جاتی ہے۔ کارپوریٹ دھوکہ دھڑی پر ہتک عزت کے مقدمے اور مقامی مافیہ کے کرپشن کی خبر کور کرنے پر صحافیوں کے قتل سے لیکر فری لانس صحافیوں کو ٹارچر کرنا اور جیل بھیجنے کے واقعات بھی ہوئے ہیں۔ اس کے مقابلے پاکستان میں جمہوریت کی پوزیشن بھی ڈانواڈول رہی ہے۔ بڑے پیمانے پر انتہا پسندی بھی پھیلی ہوئی ہے اس لئے پریس فریڈم انڈیکس میں پاکستان کا 147 ویں پائیدان پر ہونا بہت چونکانے والا نہیں ہے۔ یہ رینکنگ پاکستان کے آزاد میڈیا کے دعوے سے میل نہیں کھاتی۔ 2016 رپورٹرس وداؤتھ بارڈر کی رپورٹ پاکستان کے بارے میں کہتی ہے کہ صحافیوں کو جو نشانہ بناتے ہیں ان میں انتہا پسند گروپ اسلامی تنظیم، خفیہ ایجنسیاں شامل ہیں۔ یہ پریس کی آزادی میں رکاوٹ پہنچاتی ہیں۔ یہ سب ایک دوسرے سے بھلے ہی لڑرہے ہوں لیکن جیسا ہمیشہ میڈیا کو چوٹ پہنچانے کے لئے تیار رہتے ہیں ایسے میں پاکستان کے سماچار اداروں نے بھی بھارت کی طرح سے سیلف سینسر شپ اپنا لی ہے۔ 2014ء میں قتل کی نیت سے کئے گئے حملہ میں بال بال بچے اور اب امریکہ میں رہ رہے پاکستانی صحافی رضا رومی کہتے ہیں جہاں تک پاکستانی قومی سلامتی کی بات ہے انگریزی اخباروں میں تھوڑی جگہ الگ نظریہ ظاہرکرنے کے لئے ہوسکتی ہے لیکن ٹی وی نیوز میں حکمراں اداروں کی مخالفت کافی خطرناک ہے۔ ادارہ اس کی اجازت نہیں دیتے ہیں۔ رومی ایک ٹی وی شو ہوسٹ کیا کرتے تھے اور انہوں نے دیش کی خارجہ پالیسی سے اختلافات جتائے تھے اور اقلیتوں کے حقوق کے اشو کو کیوں اٹھایا گیاتھا۔ بلوچستان میں انسانی حقوق کے اشو پر رپورٹنگ کرنے کے دوران 2014 میں پاکستان کے نامور اینکر حامد میرپر جان لیوا حملہ ہوا تھا۔ تب میر کے بھائی نے ٹی وی چینل پر آکر اس حملہ کے لئے پاک فوج کو ذمہ دار ٹھہرایا تھا۔ حال ہی میں پاکستان کا بڑا اخبار ڈان اپنی اس خبر پر قائم ہے جس میں بتایا گیا تھا سیکورٹی کے مسئلے پر فوج اور سویلن حکومت کے درمیان اختلاف ہے۔ اس معاملے کو بھارت ۔ پاکستانی میڈیا میں کئی لوگ بھارت کے مقابلے پاکستانی میڈیا کو زیادہ طاقتور ہونے کے ثبوت کے طور پر دیکھتے ہیں۔ پاک ٹی وی کی بحث میں پاک صحافی کھل کر اپنی سرکار کی پالیسیوں کی تنقید کرتے ہیں۔ پاکستانی صحافیوں کو بھی لگتا ہے کہ وہ زیادہ ہمت والے ہیں۔ اتنا ضرور ثابت ہوتا ہے کہ دونوں ملکوں میں پریس کی آزادی کی صورتحال اچھی نہیں مانی جاسکتی۔ دونوں ہی ملکوں میں میڈیا پر لگام لگانے کی کوششیں بڑھتی جارہی ہیں۔ بھارت اور پاکستان دونوں ملکوں میں پریس کی آزادی خطرے کے دور سے گزر رہی ہے۔
(انل نریندر)