Translater
26 نومبر 2022
ضمانت دینے سے کتراتے ضلع جج !
ہائی کورٹس میں ضمانت کی بڑھتی عرضیوں کے تعدا دکے مسئلے پر بھارت کے نئے چیف جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ نے پچھلے سنیچر کو کہا کہ زمینی طورپر جج ضمانت دینے کیلئے غیر خواہش مند ہیں کیوں کہ انہیں گھناو¿نے معاملوں میں ضمانت دینے کیلئے نشانہ بنائے جانے کا ڈر ہے یہی وجہ کہ ہائی کورٹس میں ضمانت کی عرضیوں کی باڑھ آگئی ہے یہ بات انہوں نے بار کونسل آف انڈیا کے ذریعے استقبالیہ تقریب میں کہی ۔سی جے آئی چندر چوڑ نے کہا کہ ضمانت دینے کیلئے بنیادی سطح پر ناخواہشی کے سبب بڑی عدلیہ ضمانت کی درخواستوں سے بھر گئی ہیں اور وہ بنیادی سطح پر ضمانت دینے سے کتراتے ہیں اس لئے نہیں کہ وہ جرم کو نہیں سمجھتے ہیں بلکہ گھناو¿نے معاملوں میں ضمانت دینے کیلئے نشانہ بنائے جانے کا ان میں ڈر ہے ۔اس ڈر کے بارے میں کوئی بات جہاں کرتا جو ہمیں کرنی چاہئے اس سے ضلع عدالت کا دبدبہ کم ہو رہا ہے اور ہائی کورٹ کے کام کاج پر اثر پڑ رہا ہے ۔ سی جے آئی نے کہا کہ اگر ضلع ججوں کو اپنی اہلیت اور اوپری عدالتوں پربھروسہ نہیں ہوگا تو ہم ان سے کسی اہم معاملے میں ضمانت کی امید کیسے کر سکتے ہیں؟ پچھلے دنوں میںجسٹس چندر چوڑ نے ضلع ججوں کے تئین برتاو¿ کولیکر طنز بھی کیا تھا سپریم کورٹ بار ایسو سی ایشن کے ایک پروگرام میں کہا کہ ہائی کورٹ کے ججوں کو ضلع عدالتوں کو سبورڈینیٹ ماننے کی ذہنیت بدلنی چاہئے ۔ یہ ہماری کم ظرفی کی ذہنیت کو بتاتی ہے چندر چوڑ اپنے فیصلوں اور کورٹ کے معاملوں میں منفرد کمنٹس کیلئے مشہور ہیں جمعہ کو بھی ایک کیس کی سماعت کیلئے پہنچے ایک نوجوان وکیل کو انہوں نے ڈانٹ لگائی ان درمیان مرکزی وزیر قانون کیرن ریجوجی بھی اس پروگرام میںموجود تھے نے تبادلوں کے سلسلے میں کئی وکیلوں کے چیف جسٹس سے ملنے کے مسئلے پر تشویش جتائی ان کا کہنا تھا سنا ہے کہ کچھ وکیل تبادلہ معاملے کے سلسلے میں چیف جسٹس سے ملنا چاہتے ہیں ۔ یہ ایک شخصی مسئلہ ہو سکتا ہے لیکن اگر یہ سرکا ر کے ذریعے اسپانسر کالیجیم کے ذریعے ہر فیصلے کیلئے ایک غیر ضروری مثال بن جاتا ہے تو یہ کہاں تک لے جائےگا ۔پورا معاملہ ہی بدل جائےگا ۔ہر روز دس ضمانت عرضی دس ٹرانسفر پیٹیشن چیف جسٹس نے سپریم کورٹ کیلئے لیا بڑا فیصلہ ضمانت کا معاملہ لوگوں کی پرسنل لیبرٹی سے جڑا ہوا ہے ایسے میں ضمانت کی عرضی پر ترجیحی بنیا دپر سماعت کی جائے گی ۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے کہا کہ اس بارے میں فل کورٹ میں فیصلہ لیا گیا ہے اس طرح دیکھا جائے تو کورٹ میں 13بنچ بیٹھتی ہے اور ہر بنچ دس دس ضمانت اور ٹرانسفر پیٹیشنوں کو سنے گی۔
(انل نریندر )
ایسے نہیں چلے گا،فائل دکھائیے!
کسی بھی دیش کی جمہوریت کی بنیاد اس بات پر منحصر ہوتی ہے کہ وہاں پر چناو¿ عمل کتنا منصفانہ اور آزاد ہے ۔چناو¿ جمہوریت کی ریڑ ہوتا ہے اور چناو¿ کمیشن کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ بغیر کسی دباو¿ یا لالچ کے دیش میں منصفانہ و آزادانہ چناو¿ کرائے ۔ یہ چناو¿ اس بات پر منحصر کرتا ہے کہ چناو¿ کمیشن اس کو چلانے والے افسر کسی پارٹی کے مہا منڈل سے متاثر ہوئے بغیر صرف سختی سے قواعد و شرائط کے مطابق اپنا کام کرے ۔سپریم کورٹ نے بدھ کے روز مرکزی حکومت سے چناو¿ کمشنر ارون گوئل کی تقرری سے منسلک فائل اس کے سامنے پیش کرنے کو کہا تھا جو سرکار نے پیش کردی گوئل کو 19نومبر کو الیکشن کمشنر بنا یا گیا تھا جسٹس کے ایم جوسیف کی سربراہی والی پانچ ججوں کی آئینی بنچ نے کہا کہ وہ جاننا چاہتی ہے کہ الیکشن کمیشن کے حیثیت میں گوئل کی تقرری کیلئے کہیں کو ئی نامناسب قدم تو نہیں اٹھا یا گیا چوںکہ حال ہی میں سروس سے رضاکارانہ ریٹائر منٹ دیا گیا تھا ۔ بنچ نے سماعت کے دوران گوئل کی تقرری سے جوڑی فائل دیکھنے کی خواہش پر اٹارنی جنرل آر وینو وینکٹرمنی کے اعتراضات کو خارج کر دیا ۔ بنچ کے ممبران نے جسٹس اجے رستوگی ،جسٹس انیرودھ باس ،جسٹس رشی کیش رائے اور جسٹس سی ٹی روی کمار شامل ہیں ۔چناو¿ کمشنروں اور چیف الیکشن کمشنر کو لیکر سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے کہا کہ ضرورت ایسے چیف الیکشن کمشنر کی ہے جو پی ایم کے خلاف بھی ایکشن لے سکے ۔ زبانی ریمارکس میں سپریم کورٹ میں مرکزی سرکار کے وکیل سے کہا کہ فرض کیجئے کہ کسی پی ایم کے خلاف کچھ الزام ہیں اور چناو¿ چیف الیکشن کمشنر کو ان پر ایکشن لینا ہے ۔اگر چیف الیکشن کمشنر کمزور ہے تو وہ ایکشن نہیں لے سکتا ۔کیا ہمیں سسٹم کو تباہ کرنے والا نہیں ماننا چاہئے ۔چیف الیکشن کمشنر کے کام میں سیاسی دخل اندازی نہیں ہونی چائیے ۔ مرکز میں کسی بھی پارٹی کی سرکا رہو ،اقتدار میں بنے رہنا چاہتی ہے ۔تقرری کے موجودہ سسٹم میں سرکا ر ہاں میںہاں ملانے والے کی تقرری کر سکتی ہے ۔سپریم کورٹ ان عرضیوں پر سماعت کر رہی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کیلئے کالیجیم جیسا سسٹم ہونا چاہیے ۔غور طلب ہے کہ بھارت میں انتخابات کرانے کے سلسلے میں جو یاد رکھی جانے والی کچھ شخصیات رہی ہیں ان میں ٹی ایم سیشن تھے ۔اس دور میں صاف اور منصفانہ چناو¿ کرانا ایک چیلنج تھا لیکن انہوںنے اپنے عہد میں کسی لیڈر یا پارٹی کے دباو¿ میں آئے بغیر جس طرح چناو¿ کاروائی چلائی وہ آزادانہ اور منصفانہ صاف ستھرے انتخابات کرانا ایک ٹھوس مثال ہے ۔اس لئے سپریم کورٹ نے اگر مضبوط اور صاف ستھرا کردار رکھنے والے چیف الیکشن کمشنر کی تقرری پر زور دیا ہے تو اس کی اہمیت سمجھی جا سکتی ہے ۔ سرکار ی وکیل نے ارون گوئل کی فائل دکھانے میں ہچکچاہٹ دکھائی تو کورٹ نے کہا کہ ایسے چلے گا،فائل دکھائیئے ۔ (انل نریندر)
22 نومبر 2022
کشمیری صحافیوں کو مارنے کیلئے ہٹ لسٹ !
کشمیر ی صحافیوں کو مل رہی دھمکیوں کی ماسٹر مائنڈ دہشت گرد تنظیم لشکر طیبہ کا دہشتگرد مختار بابا ہے ۔ ترکی میں اپنے منصوبوںکو انجام دے رہا ہے بابا نے مرکزی حکمراں ریاست کے صحافیوں پر سیکورٹی فورسیز کے مخبر ہونے کا الزام لگاتے ہوئے ایک ہٹ لسٹ تیار کی ہے ۔اس کا انکشاف خفیہ رپورٹ میں کیا گیا ہے بابا کے ساتھ ہی اس کے رابطے میں رہنے والے چھ دیگر لوگوں پر شبہ ہے ۔یہ دھمکی لشکر کے اتحادی گروپ ٹی آر ایف کی طرف سے دھمکی ملنے کے بعد کئی صحافی مقامی اخبارات سے استعفیٰ دے چکے ہیں۔پولیس کے مطابق ہٹ لسٹ سامنے آنے کے بعد یو پی اے کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی ہے اور معاملے کی جانچ کی جارہی ہے ۔ مرکزی خفیہ ایجنسیوں کی خفیہ رپورٹ کی بنیاد پر پتہ چلا ہے کہ بابا ترکیہ اکثر پاکستان آتا جاتا رہتا ہے ۔ اور اس نے لشگر طیبہ کی شاخ دی مزاہمت فرنٹ کے بینر تلے دہشت گردی کیلئے وادی میں نوجوانوں کو تیار کرنے فرضی کہانی بنانے اور ان کا پروپیگنڈہ کرنے کے کارناموں کا سرغنہ ہے ۔ بنیادی طور سے وہ سری نگر کا باشندہ مختار بابا ترکیہ کی راجدھانی انقرہ بھاگنے سے پہلے وہ ناگام میں شفٹ ہو گیا تھا اس نے صحافیوں کے درمیان اس نے مخبروں کا ایک نیٹورک بنا یا ہے ۔ جن کی رپورٹ اس نے صحافیوں کی لسٹ تیار کی وہ 1990کی دہائی میں آتنکی گروپ حزب اللہ سے جڑا تھا اسی برس ستمبر میں وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے اپنے ہم منصب سے ملاقات کی تھی تو ایسا ظاہر ہوتا تھا کہ دونوں دیشوں کے درمیا ن کشمیر کو لیکر اختلافات دور کرنے کوشش ہوگی لیکن اس کے بعد جو اشارے ترکیہ سے ہندوستانی خفیہ ایجنسیوں کو ملے وہ بہت زیا دہ حوصلہ افزا نہیں ہے جس طرح سے 80اور 90کی دہائی میں شروعات میں دبئی بھات مخالت سرگرمیوں کا مرکز بن گیا تھا اسی طرح آج انقلابی مرکز بنا رہا ہے ۔حالیہ مہینوں میں جس طرح سے افغانستان میں اور وسط ایشائی ممالک میں ترکی ایک طراپنے سرگرمیاں تیز کرنے اطلاعات آرہی ہیں اس سے بھارت کی سیکورٹی ایجنسیاں چوکس ہیں ۔ بھارت کے حکمت عملی سازوں کو پختہ جانکاری ہے کہ پاکستان ترکیہ کے ذری کشمیر اور افغانستان میں بھار ت کے خلاف کام کرنے کی سازش میں لگا ہوا ہے ۔ترکیہ حکومت کے بڑے افسرا ن اس میں پاکستان کی ایجنسیوںکو پوارا تعاون دے رہے ہیں ۔ اور ترک صدر ایردوان کئی بار اقوام متحدہ میں کشمیر کا اشو اٹھا چکے ہیں ۔ بھارت نے اس کا حالاںکہ معقول جواب دیا ہے ۔ لیکن یہ کہہ سکتے ہیں کہ ترکیہ بھارت مخالف سرگرمیوںکا گڑھ بن چکاہے۔
(انل نریندر)
بم سے اڑانے کی دھمکی!
کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی اور کانگریس نیتا کمل ناتھ کو جان سے مارنے کی دھمکی کے معاملے میں پولیس نے دو لوگوں کو حراست میں لیا ہے۔بھارت جوڑو یاترا کے اندور پہنچنے سے محض دس دن پہلے شہر میں مٹھائی نمکین کی دکان کے پتے پر دھمکی بھرے خط کو لیکر پولیس نے جمعرات کو نامعلوم شخص کے خلاف ایف آئی آر دوج کی تھی پولیس کے مطابق ڈاک سے ملے خط میں سال 1984کے سکھ مخالف دنگوں کا ذکر کیا گیا ہے ۔اور اس مہینے کے آخر میں بھارت جوڑو یاترا کے دوران اندور کے الگ الگ مقامات پر زبردست بم دھماکوں اور راہل گاندھی و مدھیہ پردیش کانگریس صدر کمل ناتھ کو بم سے مارنے کی دھمکی دی گئی ہے ۔ پولیس کمشنر ہری نارائن مشرا نے بتایا کہ جونی اندور علاقے میں مٹھائی نمکین کی ایک دکان کے پتے پر بھیجے گئے خط کے بنیاد پر پولیس نے آئی پی سی کی دفعہ 507کے تحت نامعلوم شخص کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے ۔اس کے بعد جونی اندور تھانے کی انچارج یوگیش سنگھ تومر نے بتایا کہ دھمکی بھرا خط بھیجنے کے معاملے میں دو لوگوں کو حراست میں لیا گیا ہے ۔ ان سے پوچھ تاچھ جاری ہے ۔اس خط میں لکھا ہے کہ سکھ مخالف دنگوں کے دوران ہوئے ظلم کے خلاف کسی بھی سیاسی پارٹی نے آواز نہیں اٹھائی ۔خط میں کمل ناتھ کیلئے ناقابل بیان الفاظ کا استعمال کرتے ہوئے دھمکی دی گئی ہے ۔راہل گاندھی کے اندور پہنچنے کے دوران کمل ناتھ کو بہت جلد گولی مار دی جائے گی۔ راہل گاندھی کے پاس پہنچا دیا جائے گا۔ لیکن اس میں راہل گاندھی کو بم سے اڑانے سیدھے طور بات نہیں کہی گئی ہے۔ سوشل میڈیا پر ڈاک کی مہر لگے لفافے کی تصویر میں سامنے آئی ہے جس میں خط بھیجنے والے کی شکل میں رتلان شہر کے بھاتیہ جتنا پارٹی کے ممبر اسمبلی کا نام لکھا گیا ہے ۔بھاجپا ممبر اسمبلی نے کہا انہیں بدنام کرنے کیلئے سازش رچی گئی ہے اس لئے ان کا خط میں نام بھیجنے والے کے طور پر لکھا گیا ہے ۔ممبئی یاترا پر گئے ممبراسمبلی کممپ نے فون پر کہا کہ میں نے رتلان اور اندور کے اعلیٰ پولیس افسران سے درخواست کی ہے کہ دھمکی بھرے خط کے معاملے کی اعلیٰ سطحی جانچ کر ملزم کو جلد گرفتار کیا جائے ۔ کانگریس پر دیش سیکریٹری نیلاب مبلاً نے مانگ کی کہ دھمکی بھرے خط کی سنجید گی سے جانچ کی جائے اور اندور میں بھارٹ جوڑ و یاترا کے دوران پختہ انتظام کی جائے ۔ واضح ہو کہ اس یاترا میں شامل لوگوں کا اندور کے اس کھالسہ اسٹیڈیم میں 28نومبر کو استقبال کیا جا نا تجویز ہے جو کچھ دن پہلے کمل ناتھ سے جوڑے تنازعہ کا گواہ بنا تھا۔ دھمکی بھرے خط میں کتنا دم ہے یہ تو نہیں کہا جا سکتا ہے لیکن اتنا ضرور ہے کہ جس طرح بھیڑ راہل گاندھی کی بھارت جوڑ و یاترا میں جڑ رہی ہے اس سے ان کی جان کو خطرہ ہو سکتا ہے ۔راہل بھی کوئی احتیاط کرتے نظر نہیں آرہے ہیں۔بھیڑ میں کچھ بھی ہو سکتا ہے ۔ان کو اوپر والا بچائے !
(انل نریندر)
سبسکرائب کریں در:
تبصرے (Atom)
ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...
-
سپریم کورٹ میں بھی عجیب و غریب مقدمات آرہے ہیں۔ تازہ مثال بحریہ کے کچھ افسروں پر بیویوں کی ادلہ بدلی سے متعلق معاملات ہیں۔ بحریہ کے ایک اف...
-
ہندوتو اور دھرم پریورتن، گھر واپسی سمیت تمام معاملوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس پریوار سے جڑے لیڈروں کے متنازعہ بیانات سے وزیر...
-
مدھیہ پردیش کے ہائی پروفائل ہنی ٹریپ معاملے سے نہ صرف ریاست کی بلکہ دہلی کے سیاسی حلقوں میں مچا دئے معاملے میں اہم سازشی گرفتار ہو چکی شیو...