Translater

01 مارچ 2014

سندھورتن حادثہ کی ذمہ داری بحریہ کے چیف کا استعفیٰ!

مسلسل حادثوں سے لڑ رہی بھارتیہ بحریہ کو زبردست جھٹکا لگا ہے۔ بحریہ کی تاریخ میں پہلی بار بحریہ کے چیف ایڈمرل ڈی کے جوشی نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے جو تسلیم کرلیا گیا ہے۔ ایڈمرل جوشی نے اپنے استعفے کا سبب مسلسل ہورہے بحریہ میں حادثوں کی اخلاقی ذمہ داری لیتے ہوئے دیا ہے۔ہمیں شبہ ہے اس کے پیچھے اور بھی کئی وجوہات ہیں۔ تازہ واقعے میں بدھوار کو بحریہ کی ایک اور آبدوز آئی این ایس سندھو رتن میں بڑا حادثہ ہوگیا۔ممبئی کے ساحل کے پاس آبدوز کے اندر لگی آگ سے 7 فوجی دھوئیں کی زد میںآنے سے شدید طور پر بیہوش ہوگئے جبکہ 2 افسر لاپتہ تھے۔ اب انہیں مردہ قراردے دیا گیا ہے۔ پچھلے سات مہینوں میں بحریہ کے بیڑوں اور آبدوز میں ہوئے اس دسویں حادثے کے بعد اخلاقی ذمہ داری لیتے ہوئے استعفیٰ دینا پڑا۔جسے وزارت دفاع نے منظور بھی کرلیا ہے۔ حادثہ بدھوار کو صبح ممبئی ساحل سے قریب 80 کلو میٹر دور سمندر میں ہوا۔ روس میں تیار یہ آبدوز اس وقت پانی کے اندر تھی۔ بحریہ کے حکام کے مطابق آپریشنل ڈیوٹی پر بھیجنے جانے سے پہلے مغربی کمان کے کماڈور کمانڈنگ سب مرین(جوان) اس آبدوز کا معائنہ کررہے تھے تبھی بحریہ کے جوانوں کے تین نمبر کمپاٹمنٹ میں اچانک دھواں بھر گیا۔ آگ بجھانے کے لئے ایمرجنسی سروس کو فوراً سرگرم کیا گیا اور دھویں کی زد میں آئے 7 فوجیوں کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے ہسپتال پہنچایا گیا۔ حادثے کے وقت آبدوز میں 70 افسر اور بحری جوان موجود تھے۔ بحریہ کی طاقت کا احساس کرانے والی آبدوز سندھورتن کا یوں حادثے کی زد میں آنا تشویش کا باعث ہے اتنا ہی شرمناک بھی۔ یہ پہلی آبدوز نہیں ہے جو حادثے کی شکار ہوئی ہے۔ اس سے پہلے پچھلے سات ماہ میں تین دیگر آبدوز حادثے سے دوچار ہوچکی ہیں۔ سب سے تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ یہ حادثے مرکزی سرکار اور وزارت دفاع کی لاپرواہی کی وجہ سے ہورہے ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ان آبدوزوں کی کام کی صلاحیت ختم ہوچکی ہے۔ ہم زبردستی انہیں چلائے جارہے ہیں۔ یہ قصہ تقریباً ویسا ہی ہے جیسا انڈینا ایئر فورس میں مگ۔21 کا تھا۔ مگ۔21 جنگی جہاز مسلسل حادثے کا شکار ہورہے ہیں وہ بھی یہ ہی وجہ تھی کہ وہ بہت پرانے ہوچکے تھے اور ان کی صحیح مرمت بھی سرکار اور وزارت دفاع کی لال فیتا شاہی کی وجہ سے نہیں ہو رپارہی تھی۔ مجھے یاد ہے کہ مگ ۔21 کو اڑتا ہوا تابوت کہا جانے لگا تھا۔ کہیں ہماںی آبدوز بھی تیرتے تابوت میں تو تبدیل نہیں ہورہی ہیں؟ اس سے مطمئن نہیں ہوا جاسکتا۔ ایک کے بعد ایک حادثے کو دیکھتے ہوئے بحریہ چیف نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے اور معاملہ رفع دفع ہوگیا ہے۔ اس سے معاملے کا حل نہیں ہوا ہے۔کسی کو تو یہ بھی بتانا ہوگا کہ بحریہ کے جنگی سازو سامان کیوں حادثے کا شکار ہورہے ہیں؟ یہ ماننے کی اچھی بھلی وجوہات ہیں جس سے پتہ چلتا ہے کہ ان جہازوں اور پنڈبیوں کے رکھ رکھاؤ میں لاپرواہی برتی جارہی ہے اور وقت سے ان کو ریٹائر نہیں کیا جارہا ہے۔ مرکزی سرکار دیش کی سلامتی ضرورتوں پر مسلسل لاپرواہی برت رہی ہے۔ تازہ مثال یہ ہی ثابت کرتی ہے لیکن بحریہ چیف کیوں استعفیٰ دیں، اگر استعفیٰ دینا ہی تھا تو یہ وزیر دفاع دیتے یا پھر ڈیفنس سکریٹری؟
(انل نریندر)

سیاسی مریاداؤں کو تار تار کرتے سلمان خورشید!

ہمیں سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ یہ کانگریسی نیتاؤں کو آخر ہو کیا گیا؟ زبان پر لگام لگانا کچھ نیتاؤں کو سمجھ میں نہیں آرہا۔ راہل گاندھی بھلے ہی پارٹی لیڈروں کوتہذیب سے بات رکھنے کی ہدایت دے رہے ہوں لیکن چناؤ میں آگے نکلنے کی فکر میں یا یوں کہیں چناوی بوکھلاہٹ میں وزیر خارجہ سلمان خورشید جیسے سنجیدہ لیڈر اپنے نائب پردھان کی بھی نہیں سن رہے ہیں۔ پڑھے لکھے اور پیشے سے وکیل اور دیش کے اتنے انتہائی اعزاز ترین عہدے پر فائض سلمان خورشید نے سبھی حدیں پار کردی ہیں۔ انہوں نے بھاجپا کے پی ایم امیدوار اور موجودہ گجرات کے وزیر اعلی نریندر مودی کے خلاف قابل اعتراض تبصرہ کر سیاسی مریاداؤں کی ساری حدیں پار کرتے ہوئے انہیں ’نپنسک‘ بتاڈالا۔یہ ہی نہیں انہوں نے اپنے تبصرے پر بھی افسوس ظاہر کرنے سے صاف منع کردیا۔ منگلوار کو سلمان نے مودی کا نام لئے بغیر کہا تھا ’’کچھ لوگ آتے ہیں اور آپ حفاظت نہیں کرسکتے ، آپ ایک مضبوط انسان نہیں ہیں۔ ہمارا الزام ہے کہ تم نپنسک ہو‘‘مگر بدھوار کو پھر سلمان خورشید نے زور دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کچھ غلط نہیں کہا کیونکہ2002ء کے گجرات فسادات کے لئے مودی کی اس طرح کی تنقید کرنے کیلئے ان کے پاس کوئی دوسرا لفظ نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ وہ سچائی تسلیم کریں۔ ’نپنسک‘ لفظ کے استعمال کو سیاسی ڈکشنری میں یہ دکھانے کے لئے کیا گیا ہے کہ کوئی شخص کچھ کرنے میں لاچار ہے۔ مودی پر سلمان کا یہ حملہ کوئی نیا نہیں ہے۔ اس سے پہلے بھی انہوں نے مودی کو کنوئیں کا مینڈک بتایا تھا۔ خورشید اترپردیش اسمبلی چناؤ سے پہلے بٹلہ ہاؤس انکاؤنٹر پر کانگریس صدر سونیا گاندھی کے پھوٹ پھوٹ کر رونے کی بات کہہ کر پارٹی کو مشکل میں ڈال چکے ہیں۔ ویسے ووٹوں کے پولارائزیشن پر فکر مند کانگریس نے اپنے اقلیتی طبقے سے تعلق رکھنے والے ترجمانوں کو مودی کے بارے میں نہ بولنے کی ہدایت دے رکھی ہے۔ اس کے باوجود اپنے سینئر ترجمان کے اس بیان سے پارٹی شش و پنج میں مبتلا ہے۔ سلمان کے بیان پر دہلی سے گاندھی نگر تک جارحانہ ہوئی بھاجپا نے اسے دماغی دیوالیہ پن قراردیا ہے۔ شاہنواز حسین نے کہا کہ سلمان خورشید بھلے ہی بیرونی ملک سے پڑھ کر آئے ہوں لیکن ہمیں امید نہیں ہے کہ وہ ہندوستانی تہذیب کو اس قدر ٹھیس پہنچائیں گے۔ بھاجپا نیتا گوپی ناتھ منڈے نے کہا لوک سبھا چناؤ سے پہلے خورشید کا بیان کانگریسی لیڈروں کی نئی سطح کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ بیان مضحکہ خیز ہے اور لوک سبھا چناؤ سے پہلے کانگریسی لیڈروں کی مایوسی کو ظاہر کرتا ہے۔ سنجیدہ ساکھ اور ذمہ دار عہدوں پر بیٹھے نیتاؤں بھی اگر سیاسی تقاضوں کو ٹھینگا دکھانے پر آمادہ ہوگئے تو یہ سلسلہ کہاں جاکر رکے گا؟ وہ سڑک چھاپ ماوالیوں جیسی زبان کا استعمال کررہے ہیں۔ اتنا ہی نہیں جب انہیں غلطی کی یاد دلائی جاتی ہے تو وہ اقتدار کی اکڑ دکھانے لگتے ہیں۔ ہمیں نہیں لگتا کہ سلمان کا یہ بیان کانگریس کو چناؤ میں اقلیتوں کے ووٹ زیادہ دلانے میں مددکرے گا اور الٹے ان کی وجہ سے پارٹی کو نئے تنازعات میں جھونکے گا۔ کانگریسی لیڈروں کو زیادہ توجہ جنتا سے وابستہ مسائل مہنگائی ، کرپشن، بے روزگای اور قانون پر عمل وغیرہ وغیرہ پر دینا چاہئے جس سے ان کے خلاف ماحول بہتر ہو۔ اس طرح کے اوٹ پٹانگ بیانوں سے کانگریس کی ساکھ اور گرے گی۔
(انل نریندر)

28 فروری 2014

تھرڈ فرنٹ : کہیں کی اینٹ کہیں کاروڑہ، بھان متی نے کنبہ جوڑا!

مبینہ چھوٹے چھوٹے صوبیداروں جن میں کئی پھکے کارتوس ہیں ،کا ماننا ہے کہ لوک سبھا چناؤ کا یہ گیم تھرڈ فرنٹ بنام بی جے پی ہوسکتا ہے۔غیر کانگریس، غیر بی جے پی کے تھرڈ فرنٹ میں 11 دلوں نے پیش کیا متبادل۔ لوک سبھا چناؤ سے پہلے کانگریس اور یوپی اے کو ہرانے اور بھاجپا کو اقتدار میں آنے سے روکنے کے لئے نئی دہلی میں 11 پارٹیوں نے یکجہتی دکھاتے ہوئے خود کو ان کے متبادل کے طور پر پیش کیا۔ اس کا اعلان جنتادل(یو) ، کمیونسٹ ، سماجوادی پارٹی، انا درمک سمیت مختلف چھوٹے دلوں کے نیتاؤں کی ایک بیٹھک کے بعد کیا گیا۔ایک گھنٹے سے زیادہ چلی اس بیٹھک کے بعد ماکپا مہا سچو پرکاش کرات نے کہا کہ 11 پارٹیاں یوپی اے کو ہرانے کے لئے مل کر کام کریں گی۔ جس کے اقتدار میں بڑے پیمانے پر بدعنوانی اور مہنگائی بڑھی ہے۔ کرات نے کہا کہ بھاجپا اور کانگریس کی نیتیاں بھی ایک جیسی ہیں۔ بہرحال نیتاؤں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ پردھان منتری عہدے کے امیدوار کے الجھے ہوئے مدعے کو چناؤ کے بعد دیکھا جائے گا۔ ان نیتاؤں کا ماننا ہے کہ کانگریس کافی پیچھے چھوٹ گئی ہے اور آئندہ چناؤ میں بی جے پی کے خلاف تھرڈ فرنٹ ہی ریس میں ہے، اچھی پوزیشن میں ہے۔ یہ بہت مشہور کہاوت ہے کہ راجنیتی میں کوئی دوست یا دشمن نہیں ہوتا۔ یہ بات چناؤ سے ٹھیک پہلے کچھ زیادہ ہی سچ دکھائی دیتی ہے۔ دیش کی مرکزی سیاست میں لگ بھگ 18 سالوں سے کسی ایک پارٹی کا راج نہیں رہا ہے اور فی الحال گٹھ بندھن کی سیاست کا کوئی متبادل بھی دیکھنے کو نہیں مل رہا ہے۔ایسے میں تمام پارٹیاں اپنے اپنے متبادل تلاشنے میں جٹ گئی ہیں۔اس سیاسی ماحول میں ایک بات صاف ہے کہ ایسا کوئی خاص نظریاتی اختلاف ان پارٹیوں کے درمیان نہیں ہے مگر ان پارٹیوں کا کوئی مساوی فائدہ ہے تو وہ بس اتنا کے بھاجپا کی مخالفت کر مرکزی اقتدار میں آنا۔کانگریس کا کہنا ہے کہ تھرڈ فرنٹ کے ریس میں ہونے یا چناؤ کے بعد سرکار بنانے کی باتیں کلپنا اور غلط اندازوں پر ہی ہیں،گمراہ کرنے کی کوشش ہے۔ یوپی اے سرکار میں شامل ایک بھی دل الگ نہیں ہوا ہے۔ ساتھ ہی ووٹر کے سامنے یہ بھی ہے کہ ملائم سنگھ یادو ہوں یا مایاوتی اپنی مخالفت دکھانے کے باوجود دونوں ہی سرکار کو سمرتھن دے رہے ہیں۔ جنتا نے یہ دیکھا ہے اور دیکھ بھی رہی ہے دوسرے یہ جو 11-12 دل ساتھ مل رہے ہیں وہ کیا 272 کا جادوئی آنکڑا پار کر پائیں گے؟ وہ کس کی مدد سے سرکار بنائیں گے؟جس فرنٹ میں ملائم ہوکیا مایاوتی اسے سمرتھن دے سکتی ہیں؟ جس فرنٹ میں نتیش کمار ہوں کیا لالو یادو اسے سمرتھن دے سکتے ہیں؟ کیا جے للتا اور کروناندھی ساتھ ساتھ بیٹھ سکتے ہیں؟جہاں پر جگنموہن ریڈی یا کرن ریڈی میں سے کوئی ہوکیا وہاں چندرا بابو نائیڈو ہوسکتے ہیں؟ اتنے اختلافات ہیں اور تھرڈ فرنٹ سرکار بنانے کے اپنے سپنے کو پورا کرنے میں جٹا ہے۔دوسری طرف بی جے پی کا کہنا ہے کہ نریندر مودی کی ہوا ہے، چوطرفہ طوفان اٹھ رہا ہے۔ کولکاتہ میں دو لاکھ کی بھیڑ باقی سب جگہ بھیڑ ہی بھیڑ یہ سب دیکھ کر کانگریس اور باقی دلوں کے نیتا پریشان ہو اٹھے ہیں۔غیر یوپی اے دلوں کے نیتاؤں نے اپنے کارکرتاؤں کا منوبل بڑھانے اپنی قومی پہچان بنانے یا بچانے کے لئے بھان متی کا یہ کنبہ جوڑا ہے۔ان کا شاید یہ بھی ماننا ہے کہ سمپردائک طاقتوں کی مخالفت کے نام پر ایک بار پھر کانگریس کا سمرتھن لے کر سرکار بنانے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ان کے جیسی بھاشا کی طرف ہی اب اروند کیجریوال اور ان کی ’آپ‘ پارٹی بھی بڑھتی دکھائی دے رہی ہے۔ دو دن پہلے ہی کیجریوال نے کہا کہ سمپردائکتا بھرشٹاچار سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔اس بھاشا سے کیجریوال غیر بی جے پی دلوں کے ساتھ لنک کھول سکتے ہیں۔ یعنی تب کیجریوال کے لئے ملائم سنگھ یادواور اپنی لسٹ میں ایسے ہی دیگر کئی نیتا بھرشٹ نہیں رہیں گے۔ وہ ایسا کرسکتے ہیں۔ دہلی میں بھی کانگریس کے سمرتھن سے سرکار بنا کر وہ ایسا ہی کرچکے ہیں لیکن اس بار سمپردائکتا کے خلاف ایک جٹ ہونے کا چھلاوا چلانے میں وہ استعمال کرتے ہیں تو کتنے کامیاب ہوں گے یہ سوال الگ ہے۔ 1996ء کے اس تجربے سے جنتا کافی آگے نکل گئی ہے اور مودی کے لئے یکطرفہ سمرتھن افان پر ہے۔ ویسے بھی تھرڈ فرنٹ پردھان منتریوں سے بھرا ہے۔ ملائم سنگھ یادو، جے للتا، نتیش کمار، پرکاش کرات، دیو گوڑا سبھی دعویدار ہوسکتے ہیں لیکن عوام اس بار ہوشیار ہے۔ تاملناڈو کی مکھیہ منتری جے للتا کے جنم دن تقریب میں سنسد کی شکل والے وزن دار کیک کا استعمال کرکے بتادیا گیا ہے کہ دیش کی سب سے طاقتور کرسی کے لئے ایک اور اثر دار امیدوار دستیاب ہے۔پشچمی بنگال کی مکھیہ منتری ممتا بنرجی کو جب سے انا ہزارے نے سمرتھن دیا ہے لال قلعہ پر جھنڈا لہرانے کے سپنے دیکھنے لگی ہیں۔ راجیو گاندھی کے قتل میں شامل تمام لوگوں کو جیل سے رہا کرنے کا اعلان کر جے للتا آنے والے چناؤ میں اس کی بھرپور فصل کاٹنے کے سپنے دیکھ رہی ہیں لیکن تیسرے مورچے کے اعلان کے وقت آسام گن پریشد اور بیجو جنتادل کے اعلی لیڈروں کی غیر حاضری پر اٹھتے سوالوں نے اس پہل کا رنگ تھوڑا پھیکا تو کر ہی دیا ہے۔
افراتفری میں کئے گئے اس تھرڈ فرنٹ کے اعلان میں کامن منیمم پروگرام کی بات بھی ڈھکے چھپے انداز میں کی گئی۔اس کے اشارے بھی اچھے نہیں ہیں۔ہمارا تو ہمیشہ سے یہ ماننا رہا ہے کہ جب جب تھرڈ فرنٹ یعنی غیر کانگریس۔ غیر بھاجپا مرکزی اقتدار میں آیا ہے دیش کئی سال پیچھے چلا گیا ہے۔ ان چھوٹے چھوٹے صوبیداروں کی سوچ بھی اپنی ریاست تک ہی رہتی ہے اور ایجنڈا بھی ریاست تک محدود رہتا ہے۔ مجھے یاد ہے کہ جب دیوگوڑا پردھان منتری بنے تھے تو وہ کرناٹک سے باہر ہی نہیں نکل پائے اس لئے دیش کے مفاد میں یہی ہے کہ یا تو بھاجپا کی لیڈر شپ میں کوئی سرکار بنے یا پھر کانگریس کی لیڈر شپ میں۔ یہی دو پارٹیاں ایسی ہیں جن کا قومی ، بین الاقوامی ویژن ہے، نظریہ ہے۔ مجھے تو اس ممکنہ تھرڈ فرنٹ سے کوئی امید نہیں ہے۔ یہ تو بھان متی کا کنبہ ہے کہیں کی اینٹ کہیں کا روڑا ہے۔
(انل نریندر)

27 فروری 2014

چناؤ قریب آتے ہی بڑھی جوڑ توڑ کی سیاست!

عام چناؤ کے لئے مختلف پارٹیوں کے لیڈر اپنی اپنی گوٹیاں فٹ کرنے میں جٹ گئے ہیں۔ سیاسی سرگرمی تیز ہوگئی ہے اور نئے تجزیئے بن بگڑ رہے ہیں۔ کانگریس اور آ جے ڈی کے ساتھ مل کر چناوی اتحاد کا راستہ تلاش رہے ایل جے پی لیڈر رام ولاس پاسوان نے اچانک پالہ بدل کر بھاجپا کی طرف دوڑ لگانا شروع کردی ہے۔ ان کے اچانک بیانوں سے پتہ چلا ہے کہ بہار میں دونوں پارٹیاں مل کر چناؤ لڑنے کا فیصلہ کرسکتی ہیں۔ان کے بیان کے بعدبھاجپا کے ترجمان شاہنواز حسین نے صفائی پیش کی ہے کہ پارٹی نے ان کے بیان کو دیکھا ہے اور پارٹی ہائی کمان اس بارے میں غور کرے گا تبھی پارٹی اپنی کوئی رائے رکھے گی۔دراصل بھارتیہ جنتا پارٹی کے حق میں ہوا چلتی دیکھ کر رام ولاس پاسوان اس سے ہاتھ ملانے کو اتاولے ہیں۔ اب پاسوان اینڈ سنز کے لئے نریندر مودی 2002 گجرات دنگوں میں بری ہوگئے ہیں کیونکہ ایس آئی ٹی نے انہیں کلین چٹ دے دی ہے اس لئے پاسوان کو بھاجپا اور مودی کے ساتھ آنے میں کوئی اعتراض نہیں ہے۔ بھاجپا کو بھی یہ سوٹ کرتا ہے۔ پاسوان کے مودی کے قریب آنے کا مطلب یہ بھی ہے کہ اب بھاجپا اور مودی اچھوتے نہیں رہے۔ اب وہ فرقہ پرست نہیں ہیں۔ ادھر کانگریس کی مدد سے نتیش کمار اور بھاجپا کو پٹخنی دینے کا داؤ تلاش رہے آر جے ڈی چیف لالو پرساد یادو کو ان کے ہی ممبران اسمبلی نے ایسے دھوکر مارا ہے کہ چناؤ میدان میں کودنے سے پہلے ہی وہ چاروں خانے چت نظر آنے لگے۔ ان کے 22 ممبران میں سے13 ممبران اسمبلی نے اچانک پالہ بدلتے ہوئے الگ گروپ بنا کر جنتادل (یو ) میں جانے کا اعلان کردیا۔ لالو اس وقت دہلی میں تھے وہ رات کو ہی پٹنہ پہنچ کر ڈیمیج کنٹرول میں لگ گئے۔ تازہ خبر ہے کہ 13 ممبران میں سے 9 ممبر واپس پارٹی میں لوٹ آئے ہیں اور انہوں نے تحریر میں دیا ہے کہ وہ ابھی بھی اپنی پرانی پارٹی میں ہی ہیں۔ ہوا کا رخ دیکھ کر سیاستداں بڑی تیزی کے ساتھ پالہ بدلنے میں لگے ہیں۔ آندھرا پردیش میں حال ہی میں الگ ہوئے تلنگانہ ریاست کی بڑی تحریک چلانے والی پارٹی تلنگانہ راشٹریہ سمیتی نے اس ریاست کے الگ وجود کے جواز کی خانہ پوری ہونے سے پہلے ہی کانگریس کو آنکھیں دکھانا شروع کردیا ہے اور سیدھا کہنا شروع کردیا ہے کہ اس کا کانگریس میں ملنے کا کوئی ارادہ نہیں۔وہیں اس پارٹی کے پردھان چندر شیکھر راؤ نے نئے ریاست کے وزیر اعلی کے عہدے کے لئے اپنی گوٹیاں بچھانا شروع کردی ہیں اور ان کی کانگریس صدر سونیا گاندھی سے دو دن پہلے ملاقات ہوئی ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ راؤ ایک شرط پر اپنی پارٹی کا کانگریس میں انضمام کرسکتے ہیں اگر انہیں تلنگانہ کا وزیر اعلی بنانے کے لئے کانگریس راضی ہو جائے۔ مگر کانگریس نئی ریاست کے وزیر اعلی ،مرکزی وزیر ایس ۔جے پال ریڈی کو بنانا چاہتی ہے جو اس علاقے سے سب کے مقبول لیڈر مانے جاتے ہیں۔ قاعدے سے تلنگانہ میں وزیر اعلی کانگریس کا ہی بننا چاہئے کیونکہ یونیفائڈ آندھرا پردیش میں کانگریس کی ہی سرکارتھی۔مگر چندرشیکھرراؤ بہت پرانے کھلاڑی ہیں اور رنگ بدلنے میں ماہر ہیں۔ تلنگانہ علاقے کی 17 سیٹوں پر کانگریس بہت امیدیں لگائے بیٹھی ہے۔ جہاں تک بھاجپا کا سوال ہے اس کی نگاہ ہر طبقے اور ذات پات کے ووٹوں پر ہے۔ دلت لیڈر ادت راج کو پارٹی میں شامل کرکے بھاجپا نے دیش کے دلتوں کے درمیان پیغام دینے کی کوشش کی ہے کہ وہی ان کی اصل خیر خواہ ہے۔ خاص کر اترپردیش میں بسپا چیف مایاوتی کی دلت ووٹوں پر پکڑ کمزور کرنے کے لئے بھاجپا نے دلت کارڈ کھیلا ہے۔ ادت راج انڈین ریوینیو سروس کے افسر رہے ہیں انہوں نے نوکری چھوڑ کر سیاست میں آنے کے لئے جسٹس پارٹی بنائی اور دلتوں میں ان کا کافی اثر ہے اس لئے اترپردیش کے علاوہ دیش کے دیگر صوبوں میں بھی بھاجپا ان کا استعمال کرے گی۔ اگر رام ولاس پاسوان بھاجپا سے اتحاد کر لیتے ہیں تو اس سے بھاجپا کو فائدہ مل سکتا ہے۔ اس سے اسے دوہری کامیابی مل سکتی ہے۔ پہلے آر جے ڈی ۔ کانگریس۔ ایل جے پی کے گٹھ جوڑ کو توڑ کر اپنے خلاف ایک متحد ہونے والے ووٹوں کو تقسیم کرنا تاکہ وہ اس گٹھ جوڑ سے ہونے والے نقصان سے بچ سکیں۔ دوسرے ایل جے پی کو اپنے خیمے میں لانے سے بہار میں دلت ووٹوں پر اپنی پکڑ مضبوط کرنا اس سے کانگریس کے ساتھ ساتھ جنتا دل (یو) کو بھی جھٹکا لگے گا۔ بہار کی اور اترپردیش کی 40 اور80 سیٹوں پر سبھی علاقائی پارٹیوں اور قومی پارٹیوں کی نگاہ لگی ہوئی ہے لیکن نئے سیاسی حالات سے بہار میں چل رہی اتھل پتھل اب دلچسپ موڑ پر پہنچ گئی ہے۔ اب دیکھنا ہے کہ رام ولاس پاسوان بھاجپا کے ساتھ جائیں گے یا کانگریس کو جنتادل (یو) کا ساتھ دینے کے لئے منائیں گے؟ یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ پاسوان جو سیاست کے منجھے ہوئے کھلاڑی ہیں بھاجپا کے ساتھ آنے کا دکھاوا کرکے کانگریس پر دباؤ بنا رہے ہیں؟
(انل نریندر)

اطالوی مرین معاملے کے سبب بڑھتی ہند۔ اٹلی کشیدگی!

اطالوی بحری فوجیوں پر کیس الجھتا ہی جارہا ہے۔ اس کو لیکر بھارت اور اٹلی کے درمیان کشیدگی بڑھتی جارہی ہے۔ کیس 15فروری2012ء کا ہے۔ اطالوی سمندری جہاز اینرک لیکسی کے ذریعے کیرل کے ساحل سے دور سمندر میں ہندوستان کے دو ماہی گیروں کو مبینہ طور سے گولی مار کر ہلاک کردئے جانے سے متعلق ہے۔ اٹلی کے ان مرین کی دلیل ہے کہ انہیں جہاز پر سمندری لٹیروں کے حملے کا اندیشہ تھا۔اس معاملے میں دونوں مرین کو 19 فروری 2012ء کو گرفتار کیا گیا تھا۔ اٹلی نے بھارت میں مقدمے کا سامنا کررہے دو اطالوی مرین کے معاملے میں سخت رخ اختیار کرتے ہوئے نئی دہلی سے اپنے سفیر کو واپس بلالیا اور ہندوستانی حکام کے رویئے کو غیر ذمہ دارانہ قراردیا۔ اپنے سفیر کو واپس بلانے کے اٹلی کے فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے اٹلی کے وزیر خارجہ ایمابونینو نے کہا کہ اٹلی کی سرکار نے بھارت میں اپنے سفیر ڈینیل مومینی کو رائے زنی کے لئے طلب کرنے کا فرمان جاری کیا ہے۔مقدمے کے قضیئے کو لیکر اٹلی بھارت سے ناراض ہے اور سفیر کو واپس بلانا اٹلی سرکار کے ذریعے بھارت سرکار پر دباؤ بنانے کے سلسلے میں حکمت عملی کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ سپریم کورٹ میں اس معاملے کی سماعت ٹلنے سے اٹلی ناراض ہوگیا ہے۔ عدالت نے قتل کے ملزمان کا سامنا کررہے اطالوی مرین مسی میلانو لاتورے اور سلوا تورے گیرونے کے معاملے کو 24 فروری تک ملتوی کردیا تھا۔ بھارت کے خلاف معاملے کی رہنمائی کرتے ہوئے اطالوی وزیر خارجہ بونینو نے کہا کہ ہم وہاں جاکر فوجی طاقت سے اپنے بحری جوانوں کو واپس نہیں لا سکتے لیکن نئی اطالوی سرکار کے پاس کئی متبادل کھلے ہیں۔ میڈیا میں آئی خبروں میں کہا گیا ہے کہ اس سے باہمی رشتوں میں روک لگ سکتی ہے اور اطالوی بحریہ کے سمندری لٹیرے انسداد مشن سے فوجیوں کو واپس لایا جاسکتا ہے۔ بونینو نے کہا اٹلی کا اہم مقصد دونوں بحری جوانوں کی وقت پر ملک واپسی یقینی بنانا ہے۔ اٹلی کے نئے وزیر دفاع رابرٹ پینوٹی نے کہا کہ مرین کا درد سبھی اٹلی کے باشندوں کے دلوں میں ہے۔ وزیر اعظم ماتے رینجی اور ان کی کیبنٹ کے حلف لینے کے بعد رابرٹ نے اخبار نویسوں سے کہا کے مرین کا اشو ہماری پہلی تشویش ہے۔ اٹلی نے صاف کردیا ہے کہ اگر 24 جنوری کو بھارت کی سپریم کورٹ اس معاملے سے وابستہ سماعت کے لئے ان کے بھارت لوٹنے کا کوئی سوال نہیں ہے۔ گزشتہ15 جنوری کو اٹلی نے بھارت کی سپریم کورٹ کا رخ کیا تھا۔ اسے ڈر تھا کہ اس معاملے کی جانچ کررہی این آئی اے ملزم مرین کے خلاف دہشت گردی انسداد قانون کے تحت معاملہ چلا سکتی ہے۔ جس میں موت کی سزا بھی ممکن ہے۔ بھارت نے حال ہی میں موت کی سزا کی بات کو مسترد کردیا۔ اس نے اس بات پر زوردیا کہ مرین کے خلاف سمندری لوٹ مار انسداد قانون کے تحت معاملہ چلایا جائے گا۔ ادھر اطالوی مرین کی بیویوں نے حکام سے ملاقات کی اور اطالوی سفیر سے معاملے کو نپٹارے تک نئی دہلی نہ لوٹنے کی اپیل کی ہے۔ مرکز نے معاملے کو رفع دفع کرنے کے لئے سپریم کورٹ کو مطلع کیا ہے کہ دونوں ہندوستانی ماہی گیروں کے قتل کے قصوروار اٹلی کے دونوں مرین کے خلاف سمندری لٹیرا انسداد قانون ایس یو اے کے تحت مقدمہ نہیں چلایا جائے گا۔ دوسری طرف اطالوی حکومت نے مرکزی سرکار کے خلاف نیا مورچہ کھول دیا ہے۔ اس معاملے میں جانچ کرنے کی قومی جانچ ایجنسی این آئی اے کے دائرہ اختیار کو ہی چیلنج کرڈالا ہے۔ قابل ذکر ہے اے ایس یو قانون کے تحت زیادہ سے زیادہ موت کی سزا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اب ان دو اطالوی مرین کو موت کی سزا نہیں ہوگی۔
(انل نریندر)

25 فروری 2014

راہل گاندھی کیلئے ’کرو یا مرو ‘کی حالت!

15 ویں لوک سبھا کا آخری اجلاس ختم ہوتے ہی کانگریس آنے والے عام چناؤ کی تیاریوں میں لگ گئی ہے۔ پہلی بار اس چناؤ مہم کی رہنمائی پارٹی نائب صدر راہل گاندھی کررہے ہیں اور وہ لوگوں سے چناوی میٹنگیں کرکے جڑرہے ہیں۔ پچھلے جمعہ کو کانگریس ورکنگ کمیٹی کے ممبروں کے ساتھ جب راہل گاندھی نے چناؤ کے بارے میں میٹنگ کی تو یہ ہی کہا کہ سرکار کے سامنے10 سال بعد کانگریس مخالف لہر ہے۔یعنی10 سال کی سرکار کے بعد اب کانگریس کو اقتدار مخالف لہر کا سامنا کرنا پڑے گا۔ راہل کا کہنا ہے ہوا پارٹی کے برعکس ہے اس لئے محض سرکار کے کارنامے گنانے سے کام نہیں چلے گا بلکہ ہمیں لوگوں کو یہ بھی بتایا ہوگا کہ ہم کرپٹ نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کانگریس کی چناؤ مہم میں اس بات کو اہمیت دی جائے گی کہ کرپشن کو مٹانے کیلئے اس نے کیسے کیسے قانون بنائے ہیں اور کانگریس نے کسی کرپٹ کو نہیں بچایا ہے۔ زیادہ تر ممبر اسی بات کو لیکر فکر مند تھے کہ کس طرح کانگریس کی ساکھ کو کرپٹ پارٹی کے لیب سے آزاد کرایا جائے اور پارٹی کے چناؤ منشور کو کس طرح سے عوام کی بہبود والا بنایا جائے؟ تاکہ کانگریس سے ناراض عوام کا بھروسہ پھر سے جیتا جاسکے۔ لوک سبھا چناؤ سے ٹھیک پہلے کمپین میں پچھڑنے سے کانگریس کے سینئر لیڈروں میں ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے جارحانہ کمپین کرنے کی وکالت کی۔ پارٹی لیڈروں کا کہنا ہے کہ بھاجپا کی طرف سے پی ایم کے عہدے کے امیدوار نریندر مودی گجرات ماڈل کی بات کررہے ہیں۔ ہم جنتا کے سامنے اپنے کارناموں کو بھی صحیح طرح سے نہیں پہنچاپارہے ہیں۔ راہل گاندھی کی سربراہی میں کانگریس ورکنگ کمیٹی کی پہلی میٹنگ تھی۔ اس میں کانگریس صدر سونیا گاندھی اور وزیر اعظم منموہن سنگھ موجود نہیں تھے۔ نریندر مودی کی رہنمائی میں چل رہی مہم سے بھاجپا کمپین سے پیدا لہر سے خوف زدہ سونیا اور راہل گاندھی سیٹیں بچانے کیلئے کچھ بھی کرنے کو تیار ہیں۔ ذرائع کے مطابق کانگریس نے اسکیم بنائی ہے کہ چاہے کچھ بھی ہو اور کچھ بھی کرنا پڑے2014ء کے لوک سبھا چناؤ میں کانگریس کی سیٹیں 100 سے نیچے نہیں آنی چاہئیں۔ 2014ء کے چناؤ میں کانگریس کو 95 سیٹوں سے بھی کم ملنے کی بات کہی جارہی ہے۔ تازہ سروے یہ ہی بتا رہے ہیں۔ اگر کوئی بھی دوسری پارٹی 2014ء کے لوک سبھا چناؤ میں بھاجپا کے بعد دوسرے نمبر پر آجاتی ہے تب تو 10 سال میں کانگریس کی جڑ سوکھ کر ایک چوتھائی رہ جاتی ہے لیکن دیش میں کانگریس اور بھاجپا کے بعد کوئی دوسری پارٹی ایسی نہیں ہے جس کی کئی ریاستوں میں بنیاد ہو اور جو علاقائی پارٹیاں ہیں ان کی بنیاد ایک دو ریاستوں تک محدود ہے۔ اسی کا فائدہ کانگریس کو مل سکتا ہے۔ اقتدار مخالف لہر کے چلتے ہم کانگریس لیڈر شپ کی بے چینی کو سمجھ سکتے ہیں۔
لوک سبھا چناؤ سے ٹھیک پہلے آئے سروے میں بتایا گیا ہے کہ نریندرمودی کی لہر کا بھاجپا کو فائدہ ہوتا دکھائی پڑ رہا ہے۔ کانگریس اب تک کی سب سے کراری ہار کا سامنا کرنے جارہی ہے۔ ایک انگریزی چینل ’ٹائمس ناؤ۔سی ووٹر‘ اور ’انڈیا ٹی وی‘ کے دیش بھر میں کرائے گئے تازہ سرووں کے مطابق این ڈی اے کو227 سیٹیں ، یوپی اے کو101 سیٹیں اور دیگر کو45 سیٹیں ملنے کا اندازہ ظاہر کیا گیا ہے۔ پچھلے سال اکتوبر میں این ڈی اے کو 186، یوپی اے کو117 اور دیگر کو240 سیٹیں ملنے کا اندازہ تھا۔ مطلب کانگریس اور دیگر دونوں کی قیمت پر بھاجپا اور این ڈی اے نے چھلانگ لگائی ہے۔ عام آدمی پارٹی کا لوک سبھا چناؤ میں کوئی خاص اثر نہیں دکھائی دیرہا ہے۔ ’آپ‘ کو صرف7 سیٹیں ملنے کا امکان ہے۔ انہی سرووں کو دیکھتے ہوئے راہل گاندھی 15 ویں لوک سبھا کے آخری اجلاس میں اپنے زیادہ سے زیادہ بل پاس کرانے کے چکر میں تھے لیکن آخری لمحوں میں وہ کچھ حد تک کامیاب بھی ہوئے۔ 
تلنگانہ بل پاس کرالیا، وسہیل بلور بل پاس ہوگیا۔ وزرا سمیت لوک سبھا کے ذریعے اقتدار کا جان بوجھ کر بیجا استعمال کرنے اور کرپشن کا گھڑا پھوڑ کرنے والے لوگوں کو حوصلہ افزائی دینے کے مقصد سے ایک باقاعدہ مکینزم بنانے والی شق پر مشتمل اس اہم بل کو 15 ویں لوک سبھا نے منظوری دے دی ہے۔ اپوزیشن کے چالو اجلاس کی میعاد بڑھائے جانے کے لئے راضی نہ ہونے کے بعد حکومت نے راہل گاندھی کے پسندیدہ چھ کرپشن مخالف بلوں کے لئے آرڈیننس لانے کے امکان کو کھلا رکھا ہے۔ وزیر پارلیمانی امور کملناتھ نے اشارہ دیا ہے کہ سرکار ان بلوں کو آرڈیننس کے ذریعے لانے پر غور کریں گے۔ 15 ویں لوک سبھا کے آخری اجلاس میں اہم ایجنڈوں کو پورا نہ ہوتا دیکھ حکومت نے مہلا ریزرویشن بل آرڈیننس کے ذریعے لانے کی اسکیم بنائی ہے۔ ذرائع کے مطابق آنے والے کچھ دنوں میں سرکار تمام اہم ایجنڈوں سے جڑے آرڈیننس لا سکتی ہے۔ فوڈ سکیورٹی قانون و ڈائریکٹ فوائد ٹرانسفر جیسی اسکیموں کا زمینی سطح پر وسیع اثر ہوتا نہ دیکھ کانگریس نے دیش کی آدھی آبادی یعنی عورتوں کا دل جیتنے کے لئے مہلا ریزرویشن بل پر اپنا داؤ چلنے کی اسکیم بنائی ہے۔ ذرائع کے مطابق راہل گاندھی مہلا ریزرویشن بل و انسداد کرپشن بلوں کو ہر حالت میں آگے بڑھانا چاہتے ہیں۔ لوک سبھا چناؤ سے پہلے اقلیتوں کو بھی رجھانے کی اسکیم کے تحت مرکز کی یوپی اے سرکار نے ایک یکساں مواقع کمیشن کی تشکیل کے مسودے کو بھی منظوری دے دی ہے۔ یہ آئینی کمیشن ملازمتوں اور تعلیم سیکٹر میں اقلیتوں کے ساتھ ہونے والے امتیاز کے معاملوں کی جانچ کرے گا۔ جسٹس سچر کمیٹی نے یکساں مواقع کمیشن کی تشکیل کی سفارش کی تھی۔ وزیر اعظم کی سربراہی میں پچھلے جمعرات کو ہوئی کابینہ کی میٹنگ میں اسے منظوری دی گئی۔ دیکھنا یہ ہوگا کہ خود کرپشن میں ڈوبی یوپی اے سرکار اب جاکر اپنی ساکھ بہتر بنانے کی کوشش کررہی ہے جب پانی سر سے اوپر گزر چکا ہے۔ یہ قدم کتنے اثر انداز ہوتے ہیں یہ تو وقت ہی بتائے گا۔ ہمیں ڈر ہے کہ یہ قدم بہت دیر سے اٹھائے جارہے ہیں۔ انگریزی کی کہاوت ہے ’آئی ہوپ اٹ از ناٹ ٹو ول ٹو لیٹ‘ (دیر آید درست آید)۔
(انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...