Translater

13 اپریل 2013

ممتا پر حملہ پہلا نہیں ،دہلی میں نیتاؤں پر بڑھ رہے حملے

دہلی میں منگلوار پر مغربی بنگال کی وزیر اعلی ممتا بنرجی اور ان کے وزیر خزانہ سے بدسلوکی کا واقع اکیلا نہیں ہے ۔ حال ہی میں راجدھانی میں کئی لیڈروں کے ساتھ ایسی حرکات ہوچکی ہیں۔اس سے پہلے مرکزی وزیر داخلہ ، وزیر مواصلات ، وزیر زراعت، دہلی کی وزیراعلی مظاہرین اور لوگوں کے غصے اور ہاتھا پائی کا شکار ہوچکے ہیں۔ نئی دہلی میں پلاننگ کمیشن کے گیٹ پر مغربی بنگال کی وزیر اعلی ممتا بنرجی اور ان کے وزرا کے ساتھ سی پی ایم کی طلبا ونگ ایس ایف آئی سے جڑے مظاہرین کا پرتشدد اور شرمناک برتاؤ قابل مذمت تو ہے ہی پارلیمنٹ کے اتنے پاس اتنہائی محفوظ زون میں ایسی واردات کا ہونا سکیورٹی نظام پر بھی سوالیہ نشان لگاتا ہے۔ عام طور پر ایسے علاقے میں دھرنا اور مظاہرے کی اجازت نہیں ہے لیکن اس انتہائی محفوظ زون میں مظاہرین کو کیسے پہنچنے دیا گیا؟ وہاں پولیس کی چوکسی و سکیورٹی سسٹم اور زیادہ چست درست کیوں نہیں کیا گیا؟ جمہوریت میں احتجاجی مظاہروں کا حق تو ضروری ہے لیکن غنڈہ گردی کا قطعی نہیں۔جس طرح ایک خاتون وزیر اعلی ممتا بنرجی اور ان کے 65 سالہ وزیر مالیات ڈاکٹر امت مترا کا کرتا پھاڑ ڈالا گیا ، یہ احتجاج نہیں بلکہ اس طرح سے جمہوریت کے ساتھ زیادتی ہے۔ ممتا اس حادثے سے اس قدر ناراض ہیں کہ منگل کوانہوں نے وزیر اعظم کے ساتھ اپنی ملاقات تک ٹال دی اور اگلے ہی دن وزیر خزانہ سے طے ملاقات کو بھی منسوخ کرکے کولکتہ چلی گئیں۔ دہلی سے کولکتہ لوٹتے ہی ممتا کو سانس لینے میں دقت اور گھبراہٹ اور درد کی شکایت کے بعد ہسپتال میں بھرتی کرایاگیا جہاں ڈاکٹروں کی ای ٹیم ان کی صحت پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ ممتا بنرجی اور امت مترا سے بدسلوکی کے واقع کے معاملے میں جارحانہ تیور اپنا رہی مارکسوادی پارٹی بدھ کو بیک فٹ پر آگئی۔ گورنر ایم کے نارائنن کے تنازعے میں کودنے سے واردات کو مارکسوادی پارٹی کو منظم حملہ قراردینے سے دباؤ میں آئی پارٹی کے پولٹ بیورو کو بیان جاری کر نہ صرف واقعے کی مذمت کرنی پڑی بلکہ اس کی جانچ کا بھی اعلان کیا۔ مسٹر نارائنن کا کہنا ہے کہ ممتا پر حملہ غیر متوقعہ ہے۔ یہ جمہوریت کے اصولوں پر دھبہ ہے۔ 
سیاسی پس منظرکو تشدد کی طرف مائل کرنے کا اشارہ کرتا ہے۔ دراصل ایس ایف آئی کے ورکر اپنے ایک لیڈرسدیپ گپت کی مبینہ طور پر پولیس حراست میں ہوئی موت سے ناراض ہوں گے لیکن ایک وزیر اعلی کے خلاف اس طرح کے پرتشدد مظاہرے کو جمہوری نہیں مانا جاسکتا۔ دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ یہ واردات ترنمول کانگریس اور لیفٹ فرنٹ کے درمیان پچھلے کچھ مہینے سے جاری ٹکراؤ کا نتیجہ ہے جو اب دیش کی راجدھانی تک پہنچ گیا ہے۔ دہلی کی واردات کے بعداس کے رد عمل میں مغربی بنگال میں واویلا مچا ہوا ہے۔ وہاں جگہ جگہ ایس ایف آئی اور ترنمول ورکروں کے درمیان خونی جھڑپیں ہورہی ہیں۔ یہ سلسلہ فوراً روکے جانے کی ضرورت ہے سبھی سیاسی پارٹیوں کو اس واقعہ سے سبق ضرور لینا چاہئے اگر سیاسی پارٹیوں نے وقت اور جمہوری تقاضوں کی پرواہ نہیں کی تو کس طرف دیش کی سیاست کو وہ لے جانا چاہتے ہیں؟
(انل نریندر)

آئرن لیڈی مارگریٹ تھیئچر کا جانا!

آئرن لیڈی کے نام سے مشہور برطانیہ کی پہلی لیڈی وزیر اعظم رہی مارگریٹ تھیئچر کا پیر کو دل کا دورہ پڑنے سے دیہانت ہوگیا۔ دماغی بیماری سے متاثر تھیئچر 87 برس کی تھیں۔ بلاشبہ تھیئچر20 ویں صدی کی سب سے طاقتور شخصیتوں میں سے ایک تھیں، ساتھ ہی اس صدی میں برطانیہ کی سب سے طویل عرصے تک وزیر اعظم رہیں۔یوں تو محترمہ تھیئچر پچھلے کئی برسوں سے سرگرم سیاست سے الگ تھیں لیکن انہوں نے اپنے دیش کی سیاست کے ساتھ ہی عالمی سیاست پر جو چھاپ چھوڑی ہے اس کو بھلانا مشکل ہوگا۔ حقیقت میں سرد جنگ کی آخری دہائی کے جن لیڈروں کو تاریخ میں یاد کیا جائے گا ان میں مارگریٹ تھیئچر بھی ہوں گی جنہوں نے امریکہ اور سوویت روس کی طاقت پر لیڈر شپ کے درمیان اپنی ایک عالمی ساکھ بنائی تھی۔ گھریلو سطح پر اپنے سیاسی حریفوں سے لیکر بین الاقوامی سطح کے اپنے عالمی مخالفوں تک کا جس سختی سے انہوں نے سامنا کیا، مزدور یونینوں کو تھوڑنے سے لیکر مہنگائی سے نمٹنے تک جیسی لیڈرشپ انہوں نے دی، اس کی وجہ سے ہی انہیں آئرن لیڈی (آہنی خاتون) تک کہا گیا۔ اپنے سخت برتاؤ اور ضد کے لئے بیشک وزیر اعظم بنیں تو عوام میں ان کی مقبولیت کم نہیں ہوئی۔ اس بات سے کوئی انکار شاید ہی کر سکے کہ انہوں نے جدید دنیا بنانے میں جتنا بڑا رول نبھایا ان کی برابری اور کسی لیڈر سے نہیں کی جاسکتی۔ نظریاتی طور پر آزاد خیال تھیں اور معیشت اور پرائیویٹائزیشن اور نیچی سود کی شرحیں، سرکاری مدد کے بجائے اپنے پیروں پر کھڑا ہونے کے تصور کو فروغ دیا۔ اس طرح کی ساری پالیسیوں کی بنیاد مارگریٹ تھیئچر نے ہی رکھی تھی۔تھیئچر1979ء میں جب برسر اقتدار آئیں تب برطانیہ کی ساکھ پوری دنیا میں سب سے اونچی اور سب سے طویل چلنے والی ہڑتالوں کا دور تھا لیکن تھیئچر نے آہستہ آہستہ برطانیہ کی بڑی ٹریڈیونینوں کو توڑ کر رکھ دیا۔ اقتدار میں آنے کے فوراً بعد کچھ سرکاری کمپنیوں کو نجی ہاتھوں میں سونپنے کا قدم ہو یا فوک لینڈ پر قبضے کے لئے ارجنٹینا کو نکالنے کے لئے فوج بھیجنے کا فیصلہ یا آئرلینڈ کا معاملہ، انہوں نے ہمیشہ عزم اور دور اندیشی کا ثبوت دیا۔ کہتے ہیں سیاست غیر محدود امکانات کا کھیل ہے جسے مارگریٹ تھیئچر نے سچ کر کے دکھایا۔ وہ نہ صرف برطانیہ کی پہلی وزیر اعظم بنیں بلکہ لگاتار تین بڑے عہدوں پر چنی جانے والی20 ویں صدی کی اپنے دیش کی پہلی لیڈر بھی ثابت ہوئیں۔ کچھ تضادات اور اندرونی اختلافات کے ساتھ یہ اتفاق ہی ہے کہ مارگریٹ تھیئچر بھارت کی سابق وزیراعظم محترمہ اندرا گاندھی کی طرح کی قد آور لیڈر تھیں جن کی وہ خود بھی تعریف کیا کرتی تھیں۔1984ء میں جب اندرا گاندھی کا قتل ہوا تو تھیئچر کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ انہوں نے کہا میں محترمہ اندرا گاندھی کو بہت یاد کروں گی۔ دونوں لیڈروں میں گہری دوستی بھی تھی وہ ان کی آخری رسوم میں شامل ہوئیں تھیں۔ جیسا کہ میں نے کہا کمزور شخص ہمیشہ اچھے موقعوں کا انتظارکرتے رہتے ہیں جبکہ وہ بے لوث شخص رہے ہوں۔مارگریٹ تھیئچر اسی زمرے میں آتی تھیں۔
(انل نریندر)

12 اپریل 2013

480 کنبوں کی التجا، مرجائیں گے پاکستان واپس نہ جائیں گے

پاکستان میں ہو رہے مظالم سے تنگ آکر پچھلے کئی ماہ سے دہلی میں رہ رہے تقریباً480 ہندو شرنارتھی خاندان واپس پاکستان لوٹنے کو تیار نہیں ہیں۔ ان کا کہنا ہے۔ مرجائیں گے لیکن پاکستان نہیں جائیں گے۔ وہاں ذلت سہنے کے بجائے یہیں جان دینے کیلئے تیار ہیں۔ وہاں ہم نہیں ہماری لاشیں جائیں گی۔ پیرکو ان کے ویزا کی میعاد ختم ہوگئی۔ دھمکی دینے کے بعد وزارت داخلہ نے ان کے ویزا میں 1 مہینے کی توسیع دے دی ہے۔ پاکستان سے کنبھ میلے کے بہانے ویزا لیکر آئے یہ480 خاندان پاکستان میں کٹر پسندوں کی ظلم وزیاتیوں سے نجات پانے کے لئے بجواسن گاؤں کے ناہر سنگھ کے یہاں ٹھہرے ہوئے ہیں۔ گاؤں کے ناہر سنگھ نے ان شرنارتھیوں کو اپنے یہاں پناہ دے رکھی ہے۔ ان کے 28 کمروں میں480 لوگ کسی طرح گزارہ کررہے ہیں۔ چھوٹے چھوٹے کمروں میں ایک ساتھ18 لوگ رہتے ہیں۔ خاندان ادھر ادھر سے لکڑیوں کا انتظام کرکھانا بناتے ہیں۔حالانکہ رضاکار انجمنوں و تنظیموں کی طرف سے انہیں کھانے کا سامان دیا جارہا ہے۔ بدھوار کو وشو ہندو پریشد کی طرف سے ان خاندانوں کو نوازا گیا ہے۔وشو ہندو پریشد دہلی کے نائب صدر مہاویر پرساد گپتا نے ان خاندانوں سے ملنے اور اعزاز دینے کے بعد کہا محض ٹورسٹ ویزا بڑھائے جانے سے کام نہیں چلے گا بلکہ ان متاثروں کو بلا تاخیر سبھی شہری سہولیات دی جانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ وشو ہندوپریشد ان سبھی پاکستانی ہندوؤں کا خیر مقدم کرے گی جنہوں نے اذیتیں سہہ کر اپنا وطن چھوڑا ہے لیکن اپنا مذہب نہیں چھوڑا۔ انہوں نے کہا کہ ہم ان سبھی لوگوں کا بھی کھلے طور سے خیر مقدم کریں گے جنہوں نے پاکستانی کٹر پنتھیوں سے اپنا مذہب اور جان بچا کر بھارت میں پناہ لینے آئے 480کنبوں کی نہ صرف مدد کی بلکہ حفاظت کی۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ بھارت سرکار فوراً ان سبھی مسلم جہادی آتنک واد کے شکار خاندانوں کو بھارت کی سبھی شہری سہولیات دی جائیں جس سے یہ کم سے کم یہاں آکر سکون سے رہ سکیں۔ ادھر شیو سینا کے صدراودھو ٹھاکرے کے حکم کے مطابق شیو سینا ایم پی اور سکریٹری انل ڈیسائی اور ڈپٹی لیڈر و ایم پی چندرکانت کھرے کی ہدایت میں شیو سینا کی دہلی یونٹ کا ایک نمائندہ وفد بھی ان 480 کنبوں سے ملا۔ شیو سینا لیڈروں نے اپنے بیان میں کہا کہ سرکار پاکستان سے آئے ہندوؤں کو بھارت میں بسنے کی اجازت دے اور ان کی باز آبادکاری پر جتنا بھی خرچ آتا ہے اسے حکومت اٹھائے۔ انہیں اگر سرکار زبردستی پاکستان بھیجتی ہے تو اس کے سنگین نتائج ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت سے کانگریس سرکار مسلم ووٹوں کی خاطر اس فرقے کے لوگوں کو سرپر بٹھا کر رکھتی ہے لیکن بھارت کے باہر دیگر ملکوں سے خاص کر پاکستان میں ہندوؤں کے ساتھ جو ناانصافی ہورہی ہے اس کے لئے کوئی آواز نہیں اٹھاتی۔ ان متاثرہ خاندانوں کو بھارت میں بسنے کی مانگ کی ہم پوری حمایت کرتے ہیں ان کی یہ مانگ جائز ہے۔ سب کچھ سوچتے سمجھتے ہم ان 480 خاندانوں کو پاکستان واپس بھیج کر موت کے منہ میں نہیں ڈھکیل سکتے۔ ویسے بھی لاکھوں کی تعداد میں غیر قانونی طور سے بنگلہ دیش سے آکر یہاں بس جاتے ہیں اور آہستہ آہستہ ان کو بھی سبھی شہری سہولیات مل جاتی ہیں تو یہ تو ہمارے بھائی بند ہیں جو سب کچھ لٹا کر پناہ مانگنے آئے ہیں۔ پناہ دینا ہماری روایت بھی ہے اور مذہب بھی ہے۔ بھارت سرکار سے اپیل ہے کہ وہ ان کنبوں کو بھارت میں بسانے و شہریت فراہم کرنے کیلئے صحیح قدم اٹھائے۔
(انل نریندر)

فرضی مڈ بھیڑ کے الزام میں 3 پولیس والوں کو پھانسی کی سزا

لکھنؤ کی روشن الدولہ عدالت کمپلیکس میں جمعہ کی دوپہر12 بجے لوگوں کی چہل پہل اچانک بڑھ گئی ۔ مڈ بھیڑ کے ملزم 8 پولیس ملازمین کو سخت سکیورٹی کے پہرے میں عدالت میں لایا گیا۔ کبھی خود ملزمان کو پکڑ کر تھانے و کچہری لے جانے والے یہ پولیس والے خود خاکی سے گھرے تھے اور ان کی زبان بند تھی۔ باہر ان کے گھروالوں اور متاثرہ خاندان کے ساتھ میڈیا ملازمین کی بھی بھیڑ تھی۔ معاملہ31 سال پہلے کا ہے۔ان پر اپنے ہی سی او کو گولی مار کر ہلاک کرنے اور پھر اسے انکاؤنٹر دکھانے کے لئے 12 دیہاتیوں کو مارڈالنے کا الزام ہے۔ سی بی آئی کی اسپیشل عدالت نے جمعہ کو گونڈہ شہر کے اس وقت کے کڑیا تھانیدار آر بی سروت اور ہیڈ کانسٹیبل رام نائک پانڈے و کانسٹیبل رامشرن کو پھانسی کی سزا سنائی۔ کورٹ نے اسی معاملے میں پی اے سی کے صوبیدار رماکانت دکشت ،گونڈہ ایس پی کے پیش کار رہے نسیم احمد، کوتوالی گونڈہ دیہات میں دروغہ رہے منگت سنگھ، پرویز حسین اور تھانہ نواب گنج کے تحت لکڑ منڈی پولیس چوکی میں اس وقت کے انچارج رہے راجندر پرساد سنگھ کو عمر قید کی سزا سنائی۔ عدالت نے سبھی قصورواروں پر جرمانہ بھی لگایا۔ عدالت نے اپنے19 صفحات کے فیصلے میں موت کی سزا کے ملزمان کی حرکت اور طرز عمل پر سخت نکتہ چینی کی ۔ عدالت کا کہنا تھا اگرچہ سبھی ملزم پولیس والے ہیں اور اس وقت وہ بوڑھے اور بیمار اور چلنے پھرنے میں لاچار ہیں لیکن جن کے قتل ہوئے ہیں ان کا کیا جرم تھا؟ عدالت یہ سمجھتی ہے کہ سماعت میں یہ پیغام جانا چاہئے کہ یہ انصاف کا دیش ہے۔ عدالت نے دفاع فریق کی سبھی دلیلوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا اگر ملزمان کو جرم کی بنیاد پر سزا نہیں دی جاتی تو عدالت اپنا فرض نبھانے میں ناکام رہے گی۔ ملزمان کی حرکت سماج کے لئے داغ ہے اس حملے میں بے رحمانہ طریقے سے قتل کئے گئے اور منصوبہ بند طریقے سے پولیس فورس نے اپنے افسر کو قتل کیا، بعد میں دکھاوے کے لئے12 دیہاتیوں کو مار ڈالا۔ اس واقعے میں گولی لگنے کے بعد ڈی سی پی کے پی اے امید سنگھ کو وقت رہتے مناسب علاج مہیا نہیں کرایا گیا۔ عدالت نے الزام ثابت ہوئے پولیس والوں کے برتاؤ پر تلخ تبصرہ کرتے ہوئے کہا اگر عام شخص کے ذریعے اس طرح کا قتل کیا جاتا تو تب بھی معاملے کی پوزیشن اور ہوتی لیکن اس معاملے میں پولیس ملازمین نے فرضی مڈ بھیڑ میں لوگوں کو بے رحمانہ طریقے سے مارا ہے لہٰذا عدالت کی رائے میں وہ سخت سزا کے حقدار ہیں۔ یہ کیس 12 مارچ1982ء کا ہے۔ 12 مارچ کی رات میں مادھو پور گاؤں میں ڈکیتوں کا ایک گروہ کا سراغ ملنے کی بات کہہ کراس وقت کے تھانیدار آربی سروج ، ڈی ایس پی کے پی سنگھ کو پولیس کے پی اے سی جوانوں کے ساتھ لیکر گئے ۔ گاؤں میں کسی ڈکیت کے نہ ملنے پر ڈی ایس پی اور تھانیدار سروج کے درمیان کہا سنی ہوگئی۔ اسی کے بعد ڈی ایس پی کو گولی ماردی گئی۔ گولی لگنے کے بعد ڈی ایس پی سنگھ کو علاج کیلئے نہیں لے جایا گیا۔ جانچ سے پتہ چلا ہے ڈی ایس پی کے پی سنگھ ۔ تھانیدار سروج اور کچھ دیگر پولیس ملازمین کے خلاف کچھ الزامات کی جانچ کررہے تھے اسی کے چلتے انہیں ختم کرنے کی سازش رچی گئی۔ اسے مڈ بھیڑ کی شکل دینے کے لئے 12 بے قصور دیہاتی اکھٹے کئے گئے اور انہیں بھی گولی مار دی گئی، بعد میں انہیں ڈکیت بتا دیا گیا۔ عدالت کے احاطے میں متاثرہ خاندانوں کے لوگوں کی آنکھیں بھر آئیں جو برسوں سے انصاف کا انتظار کررہے تھے۔ وہ اس قدر جذباتی ہوگئے کہ آنسو نہیں روک پائے۔ بنیادی ملزم اس وقت کے ایس او کوشک ، آر بی سروج نے فیصلہ آنے کے بعد کہا کہ سی بی آئی نے انہیں و دیگر پولیس ملازمین کو جھوٹا پھنسایا ہے اور وہ اس فیصلے کو ہائی کورٹ و سپریم کورٹ میں چنوتی دیں گے۔
(انل نریندر)

11 اپریل 2013

آئی ایس آئی اور سی آئی اے میں ناپاک سمجھوتہ،بھاڑ میں جائے بھارت

ساری دنیا میں دہشت گردی کے خلاف لڑنے کا دعوی کرنے والے امریکہ کے دوہرے پیمانے ایک بار پھر سامنے آرہے ہیں۔ امریکہ کے لئے دہشت گردی کا مطلب صرف خود اس کے خلاف دہشت گردی ہے۔ دوسرے ملکوں کے لئے دہشت گردی میں امریکہ کی کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ تازہ مثال مشہور امریکن اخبار ’دی نیویارک ٹائمس‘ کی رپورٹ میں ملی ہے۔ اخبار کی میگزین میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی اور امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے نے 2004ء میں خفیہ بات چیت کے تحت سمجھوتے کے قاعدے طے کئے تھے۔’دی وے آف نائف‘ نام کی اس کتاب میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں اور ٹریننگ مرکزوں پر ڈرون حملوں کے لئے پاکستان امریکہ میں باقاعدہ ایک معاہدہ ہوا تھا۔ امریکی فوج کو ڈرون حملوں کی اجازت دینے کے لئے پاکستان حکومت نے یہ شرط رکھی تھی کہ یہ حملے ان ٹریننگ کیمپوں پر نہیں کئے جائیں گے جو پاکستانی مقبوضہ کشمیر میں قائم ہیں۔ وہیں یہ کیمپ جہاں پاکستان میں ہندوستانی کشمیر میں بھیجنے کے لئے دہشت گردوں کو ٹریننگ دیتا ہے بھارت کے وزیر دفاع اے کے انٹونی نے سہ روزہ فوج کے کمانڈروں کی کانفرنس کا افتتاح کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستانی مقبوضہ کشمیر میں دہشت گردوں کے ٹریننگ کیمپ بدستور جاری ہیں۔ وادی میں برف پگھلنے کے ساتھ ہی سرحد پار سے آتنکی دراندازی کی کوشش کریں گے۔ جن پر نگرانی رکھنا اور ان کے منصوبوں کو ناکام کرنا، چوکسی اور حوصلے سے ہی ممکن ہوگا۔ ہندوستانی فوج کے ذرائع کے مطابق اس وقت 54 دہشت گردی کے ٹریننگ کیمپ سرحد پار چلائے جارہے ہیں۔ 32 دہشت گرد تنظیمیں سرگرم ہیں جو پاکستان سے بین الاقوامی سطح پر دہشت گردی پھیلا رہے ہیں۔ ان کیمپوں کی دیکھ ریکھ حز ب المجاہدین، حرکت المجاہدین، البدرمجاہدین، حرکت الانصار ، لشکر طیبہ، جیش محمد کے ہاتھوں میں ہے۔ یہ انکشاف ایک ساتھ کئی چیزیں بتاتا ہے۔ پاکستانی علاقے میں ہر ڈرون حملے کے بعد پاکستان اس بات پر ہنگامہ کرتا ہے کہ یہ اس کی سرداری کی خلاف ورزی ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ ہنگامہ محض ایک نوٹنکی ہے، ناٹک ہے لیکن یہ کوئی نئی بات نہیں کیونکہ ساری دنیا جانتی ہے پاکستان اس فن میں مہارت حاصل کرچکا ہے۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ پاکستانی مقبوضہ کشمیر میں چل رہے آتنک وادی کیمپوں کی جانکاری امریکہ باقاعدہ دے چکا ہے اور امریکہ ایک سوچی سمجھی حکمت عملی کے تحت ان کیمپوں پر حملہ کرنے سے بچ رہا ہے۔ دنیا بھر سے ’وار آن ٹیرر‘ چلانے والے امریکہ اسے جان بوجھ کر آتنکی کیمپوں کو چلانے کا لائسنس دے رہا ہے۔ یہ وہ ہی امریکہ ہے جس نے بھارت سے اپیل کی تھی کہ وہ نارتھ سرحد سے تناؤ کم کرے تاکہ پاکستانی فوج افغان سرحد پر ساری توجہ مرکوز کرسکے۔ بھارت نے کئی بار پاک مقبوضہ کشمیر میں کیمپوں پر ہوائی حملے کا پلان بنایا لیکن امریکہ نے بھارت کو ایسا کرنے نہیں دیا۔ جو بات اتنے برسوں میں امریکہ پاکستان کے بارے میں سمجھ نہیں سکا وہ یہ ہے کہ پاکستان امریکہ سمیت باقی دنیا سے دوہرا کھیل کھیلتا ہے۔ جو بھی ہتھیار امریکہ پاکستان کو طالبان سے لڑنے کے لئے دیتا ہے اس کا استعمال بھارت کے خلاف ہوتا ہے۔ یہ ہی نہیں ہمیں کوئی تعجب نہیں ہوگا کہ کسی مرحلے پر یہ انکشاف ہو کہ ان پاک کیمپوں میں آئی ایس آئی نے طالبان لڑاکوں کو بھی چھپا رکھا ہے تاکہ وہ محفوظ رہیں؟ تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ امریکہ سب کچھ جانتے سمجھتے ہوئے پاکستان ڈبل گیم کھیلتا ہے پھر بھی وہ پاکستان کی مدد کرنے سے باز نہیں آتا۔ لیکن امریکی پالیسی اور دہشت گردی کی تشریح صاف ہے وہ افغانستان میں صرف اپنی لڑائی لڑ رہا ہے اور سمجھتا ہے کے اس میں پاکستان کی مدد کے بغیر وہ کامیاب نہیں ہوسکتا۔ اسے ہند۔ پاک رشتوں کی کوئی فکر نہیں ہے بس اس کے سامنے تو ایک ہی مقصد ہے کہ وہ افغانستان سے باہر کیسے نکلے ۔ چاہے اس کی کوئی بھی قیمت کیوں نہ دینی پڑے۔ قصور تو بھارت سرکار کا ہے جو بار بار امریکی دباؤ میں آجاتی ہے اور ان آتنکی کیمپوں کو ہاتھ تک نہیں لگاتی۔ پاکستان کے دونوں ہاتھوں میں لڈو ہے۔
(انل نریندر)

پولیس کے مطابق دیپک بھاردواج کا قتل بیٹے نتیش نے کروایا

آخرکار وی ایس پی لیڈر اور ارب پتی کاروباری دیپک بھاردواج کے قتل کی گتھی دہلی پولیس نے تقریباً سلجھا لی ہے۔ساؤتھ دہلی کی ڈی سی پی چھایہ شرما نے بتایا کہ دیپک بھاردواج کا قتل کسی اور نے نہیں بلکہ ان کے اپنے ہی بیٹے نتیش نے کروایا تھا۔ والد دیپک بھاردواج کو مارنے کے لئے 5 کروڑ روپے کی سپاری نتیش نے وکیل بلجیت سنگھ سہراوت کو دی تھی۔ اس ٹھیکے کے قتل کو سب سے بڑا کیس بتایا جارہا ہے۔ بیٹے کو گرفتار کرلیا گیا ہے دیپک کاقتل ان کے فارم ہاؤس نتیش کنج میں 26 مارچ کو ہوا تھا۔ ٹیلیفون کی تفصیل کی بنیاد پر نتیش شک کے دائرے میں تھا۔ پولیس اس سے مسلسل پوچھ تاچھ کررہی تھی۔ دو تین چیزوں پر لگا کہ وہ جھوٹ بول رہا ہے۔ آخر کار نتیش نے سچ اگل دیا ہے۔ اس نے بتایا کہ اپنے والد کے برتاؤ سے وہ اور ان کا خاندان کافی پریشان تھا جس کے چلتے تلخی بڑھ رہی تھی بھاردواج کاروبار سے بھی اپنے بیٹے کو دور رکھتے تھے۔6 مہینے پہلے نتیش نے فیصلہ کیا کہ کچھ کرنا ہوگا۔ ان کے رابطے میں ایک وکیل بلجیت سنگھ سہراو ت تھا جو وکالت میں کم پراپرٹی ڈیلنگ میں زیادہ دلچسپی لیتا تھا۔ بلجیت مہیپال پور سے اسمبلی کا چناؤ بھی لڑنا چاہتا تھا اس لئے اسے ایک بڑی رقم کی ضرورت تھی۔ نتیش نے اپنے والد دیپک بھاردواج کے قتل کا سودا5 کروڑ میں بلجیت سے کیا تھا اور 50 لاکھ روپے ایڈوانس میں دے دئے۔ بلجیت نے اسے سوامی پرتیانند کو 2 کروڑ روپے میں آگے ٹرانسفر کردیا۔ سوامی نے اسے1 کروڑ میں مونو کو سپاری دے دی۔ مونو کو2 لاکھ روپے ایڈوانس میں دئے گئے ۔ اس نے گاڑی اور ہتھیاروں کا انتظام کیا باقی رقم کام پورا ہونے کے بعد دی جانی تھی۔ جہاں تک بلجیت کا سوال ہے اس کا نام بھی ٹیلی فون تفصیلات کی بنیاد پر شک کے دائرے میں مانا گیا۔ سوامی کو آشرم بنانے کے لئے ڈیڑھ کروڑ روپے کی ضرورت تھی اور اسی کے چلتے سوامی بھی آسانی سے اس قتل کے لئے تیار ہوگیا۔ تقریباً 6 مہینے پہلے اس سازش کو رچا گیا تھا۔ قاتل دیپک کا قتل فارم ہاؤس سے باہر کرنا چاہتے تھے۔ اس کے لئے انہوں نے دو بار کوشش کی تھی لیکن ناکام رہے۔ آخر کار انہوں نے فارم ہاؤس میں دیپک کو مارنے کا فیصلہ کیا اور ایسا کرتے وقت سی سی ٹی وی کیمرے میں قید ہوگئے۔ حالانکہ دہلی پولیس نے معاملے کو سلجھانے کا دعوی کیا ہے اور ابھی کچھ باتوں کا خلاصہ ہونا ضروری ہے۔ یہ ٹھیک ہے کہ نتیش نے پولیس پوچھ تاچھ میں اپنیوالد کے قتل کی سپاری دینے کی بات قبول کرلی ہے لیکن اتنے پر بھی قتل کا مقصد سامنے نہیں آپایا۔ ابھی یہ صاف نہیں ہورہا ہے کیا خاندان کے دیگر افراد کو اس بارے میں معلوم تھا اور ان کی رضامندی تھی؟ کیونکہ قتل کی سپاری تین ہاتھوں سے گذر کر شارپ شوٹروں کر پہنچی اس لئے بھی پولیس کو معاملے کو سلجھانے میں کافی مشقت کرنا پڑی اور پھر سوامی پرتیانند ابھی تک گرفتار نہیں ہوسکا۔ وہ اس قتل کی اہم کڑی ہے۔
(انل نریندر)

10 اپریل 2013

پہلے دیش کا دل جیتو! کون ہوگا پی ایم وقت پر طے ہوگا

بھارتیہ جنتا پارٹی کے صدر راجناتھ سنگھ کے نظریات سے ہم متفق ہیں۔ اپنی ٹیم کی پہلی میٹنگ میں انہوں نے دو ٹوک کہا کہ پہلے دیش کا دل جیتو پھر نیتا بھی طے کرلیں گے۔ بھاجپا کے اندر وزیر اعظم کون ہوگا اس پر زیادہ تنازعہ چھڑا ہوا ہے بہ نسبت 2014ء کے لوک سبھا چناؤ جیتنے کے۔ میں بار بار اسی کالم میں لکھتا رہا ہوں کے بھاجپا کا پہلا نشانہ 200 سے زیادہ لوک سبھا سیٹیں جیتنے کا ہونا چاہئے۔ اگر بھاجپا200 سیٹیں لاتی ہے تب این ڈی اے حکومت بنانے کی پوزیشن میں آسکتی ہے۔ بھاجپا نے لوک سبھا چناؤ کے لئے بلو پرنٹ تیار کرلیا ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ لوک سبھا کی300 سیٹوں کے لئے بھاجپا کے حکمت عملی سازوں نے نشاندہی کی ہے جہاں پارٹی امیدوار کھڑا کرے گی اور پورا زور لگا دے گی۔ اگر اکتوبر ۔نومبر میں لوک سبھا چناؤ کی نوبت آتی ہے تو پارٹی اس چکر میں بھڑنے کے علاوہ باہر نکلنے کے بارے میں غور و خوض کررہی ہے۔ آنے والے پانچ مہینوں میں 383 سیٹوں پر بھاجپا اپنی پد یاترائیں پوری کرلے گی۔ تنظیمی بنیاد پر سابق امیدواروں کے انتخاب کرنے ،سڑکوں پر ریلیاں ،پدیاترائیں کرنے اور کمیونی کیشن کی نئے طریقوں کے ذریعے ووٹروں تک اپنی پہنچ بنانے اور کانگریس کی خامیوں کی پول کھولنے کی منڈل سطح پر تیاریوں کی ہدایات جاری کی جارہی ہیں۔ایتوار کو اس اہم میٹنگ میں گجرات کے وزیر اعلی نریندر مودی اپنے الگ انداز میں چھائے رہے۔ گجرات چناؤ میں تھری ڈی سسٹم کا استعمال کر چکے مودی نے نیتاؤں کو سوشل میڈیا کی طاقت کا احساس کرایا۔ انہوں نے کہا 2014ء تک دیش میں 14 کروڑ لوگ انٹرنیٹ کا استعمال کریں گے۔ انہوں نے کہا2004ء کے چناؤ میں کانگریس 11 کروڑ ووٹروں کا ووٹ لیکر اقتدار میں آئی تھی جبکہ2014 ء تک اس سے زیادہ لوگ انٹرنیٹ کا استعمال کررہے ہوں گے، انہیں نہیں چھوڑا جاسکتا لہٰذا روایتی چناؤ مہم کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا کا استعمال بھی کرنا ہوگا۔ نریندر مودی نے لوک سبھا چناؤ جیتنے کے لئے پانچ منتر بھی بتائے۔ پہلا سوشل میڈیا کا استعمال، دوسرا اشوز طے ہوں۔ انہوں نے چناؤ کے اشو بھی سمجھائے۔ چناؤ کے لئے اشو طے ہونے چاپئیں تاکہ پارٹی ورکروں کے سامنے لائن بالکل صاف ہو۔ مہنگائی اور مرکز کی سرکار کے کرپشن کو جنتا کے بیچ لے جانے کی ضرورت ہے۔ انہیں یہ سمجھانا ہوگا اس پر دیش کا کیا اثر پڑ رہا ہے۔ تیسرا منتر ویژن بنام کمیشن۔ مودی نے کہا کوری بھاشن بازی کے بجائے لوگوں کو سمجھانا ہوگا کانگریس اور بی جے پی میں فرق کیا ہے۔ انہوں نے فرق بتاتے ہوئے کہا کانگریس کے پاس اگر کمیشن ہے تو بی جے پی کے پاس ویژن ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پارٹی ورکروں کو کانگریس کے خراب انتظامیہ اور اچھے انتظامیہ میں فرق سمجھانے کی ضرورت ہے۔ چوتھا مودی نے بھاجپا حکمراں ریاستوں کے کام کاج کو بھی چناؤ کے دوران فوکس میں رکھنے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا جب بھاجپاحکمراں ریاستیں بہترین کام کرسکتی ہیں تو کانگریس حکمراں ریاستیں ایسا کیوں نہیں کرسکتیں؟ ووٹروں تک یہ بات بھی پہنچانی ہوگی۔ پبلک کو بتانا ہوگا کے بھاجپا حکمراں سرکاریں و ریاستیں کس طرح سے معیشت میں اشتراک کررہی ہیں جبکہ کانگریس حکمراں ریاستوں کا برا حال ہے۔ پانچواں منتر دور اندیشی۔ سینئر لیڈروں کی موجودگی میں مودی نے کہا کہ اس وقت چناؤ پر توجہ دینے کی ضرورت ہے اور اس کے لئے بوتھ سطح پر جاکر کام کیا جائے گا۔ میٹنگ میں سینئر لیڈر لال کرشن اڈوانی نے کہا 2009ء میں ورکروں کی ناراضگی بھاری پڑی اور مناسب ماحول ہونے کے بعد بھی پارٹی ہار گئی تھی اس بار ایسا نہ ہو۔ میٹنگ میں کہا گیا ہے کے حکمراں محاذ ٹوٹ رہا ہے۔ وہاں لیڈر شپ میں گمراہ کن صورتحال بنی ہوئی ہے۔ چناوی حکمت عملی کا تذکرہ کرتے ہوئے راجیہ سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر ارون جیٹلی نے کہا کہ 2009ء میں یوپی اے کو ملی 265 سیٹوں میں 160 سیٹیں 6 ریاستوں ہریانہ، راجستھان، تاملناڈو، آندھرا پردیش، مغربی بنگال اور اترپردیش سے ملی تھیں۔ ان ریاستوں میں کانگریس کمزور پڑی ہے اور اتحادی ساتھ چھوڑ رہے ہیں۔بہت دنوں کے بعد بھارتیہ جنتا پارٹی کے نظریئے ، ویژن میں فرق آیا ہے۔ یہ صحیح سمت میں صحیح قدم ہے ۔ پردھان منتری کون بنے گا یہ طے کرنا اتنا ضروری نہیں۔ ضروری ہے لوک سبھا چناؤ کے لئے صحیح توجہ۔ اشو امیدواروں کا انتخاب ،صحیح پروپگنڈہ، سلیکشن انتہائی ضروری ہے اور راجناتھ سنگھ یہی کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔
(انل نریندر)

راشٹرپتی نے ایک جھٹکے میں سبھی رحم کی اپیلوں کو نپٹایا

بصد احترام جناب پرنب مکھرجی کی انتظامی صلاحیت کے سبھی قائل ہیں۔ جب وہ منموہن سنگھ حکومت میں تھے تب انہیں سرکار و کانگریس پارٹی کا ’سنکٹ موچک‘ یوں ہی نہیں کہا جاتا تھا۔ اب وہ صدر بن گئے ہیں۔ چستی پھرتی سے رائے سینا ہلس (راشٹرپتی بھون) میں بھی کام کررہے ہیں۔ صدر بننے کے بعد بھی ان کی تیزی میں کمی نہیں آئی ہے۔ انہوں نے ایک جھٹکے میں 9 لوگوں کی رحم کی اپیلوں کو نپٹادیا۔ صدر کے پاس 7 رحم کی اپیلیں آئیں تھیں ان میں سے5 کو پھانسی کی سزا برقرار رکھی جبکہ 2 قصورواروں کی پھانسی کو مشقت عمر قید میں بدل دیا ہے۔انہیں عمر بھر جیل میں رہنا ہوگا۔ جن 5 قصورواروں کی پھانسی برقرار رکھی گئی ہے ان میں ہریانہ کا دھرم پال سب سے پہلے پھانسی پر لٹکے گا۔ وہ فی الحال روہتک جیل میں بند ہے۔ آبروریزی کے ملزم دھرم پال نے پیرول پر رہا ہونے کے بعد متاثرہ لڑکی کے خاندان کے 5 افراد کو مار ڈالا تھا۔ پچھلے سات سال سے دھرم پال کی رحم کی اپیل پر فیصلہ لٹکا ہوا تھا۔ محترم صدر نے آتے ہی اس کا نپٹارہ کردیا۔ صدر کے ذریعے ایک دہائی سے امبالہ جیل میں بند سابق ممبر اسمبلی ریلو رام پنیہ کی بیٹی سونیا اور داماد سنجیو کی رحم کی اپیل خارج کردئے جانے کے بعد دیش میں یہ پہلا موقعہ ہوگا جبکہ کسی خاتون کو قتل کے جرم میں پھانسی پر لٹکایا جائے گا۔سونیا اور اس کے شوہر سنجیو نے 23 اگست2001ء کو حصار میں اپنے سابق ممبر اسمبلی والد ریلو رام پنیہ کی جائیداد ہڑپنے کے لئے اپنے ہی خاندان کے 8 لوگوں کو بے رحمی سے مار ڈالا تھا جس میں معصوم بچے بھی تھے۔ اب صدر کے پاس کوئی رحم کی اپیل نہیں ہے۔ 9/11 کے آتنک وادی اجمل عامر قصاب اور پارلیمنٹ پر حملے کے ملزم افضل گورو کی رحم کی اپیل پہلے ہی خارج کرچکے تھے اور انہیں پھانسی بھی دی جاچکی ہے۔ رحم کی عرضی نامنظور ہونے کے بعد پھانسی کی سزا پائے شخص کے بچ جانے کا کوئی راستہ نہیں ہے۔اگر ان سب کو پھانسی دے دی جاتی ہے توتاریخ میں یہ پہلی بار ہوگا جب اتنے لوگوں کو اتنے کم وقت میں پھانسی دی گئی ہے۔ یہ صحیح ہے موت کی سزا بیشک بہت اذیت ناک ہوتی ہے لیکن موت کے سائے میں بے یقینی کے درمیان لٹکے رہنا بھی بہت بڑی اذیت ہے۔ بھارت میں 1995ء میں ایک شخص کو پھانسی دی گئی تھی اور 2004ء میں ایک شخص کو اس کے بعد اس سال قصاب اور افضل گورو کو پھانسی دی گئی۔ ہر وقت بھارت میں قریب500 لوگ مختلف جیلوں میں ایسے ہوتے ہیں جنہیں پھانسی کی سزا سنائی گئی ہوتی ہے لیکن وہ کبھی کبھار پھانسی کے پھندے پر پہنچ پاتا ہے۔ اس سال شاید یہ صورتحال بدلے گی۔ ہوسکتا ہے یہ سال کئی پھانسیوں کے لئے جانا جائے گا۔ پھانسی کی سزا پر تعمیل کرنا آسان نہیں ہوتا کیونکہ زیادہ تر جیلوں میں اس کا انتظام نہیں ہے۔ صدر پرنب مکھرجی نے تمام رحم کی عرضیوں پر غیر یقینی صورتحال کو ختم کردیا ہے اور ان کی رحم کی عرضیاں نامنظور ہوگئی ہیں۔ ان کے سامنے بھی پوزیشن صاف ہوجائے گی کہ انہیں باقی بچی عمر جیل میں کاٹنی ہوگی۔
(انل نریندر)

09 اپریل 2013

کیا سماجوادی پارٹی اور کانگریس کے رشتے ٹوٹنے کے دہانے پر ہیں؟

سماجوادی پارٹی اور کانگریس کی آپس میں تلخی بڑھتی جارہی ہے۔ ملائم سنگھ نے پچھلے دنوں کانگریس کو دھوکے بازوں کی پارٹی سے لیکر سی بی آئی کے ذریعے اقتدار میں بنے رہنے کا الزام لگایا۔ اب کانگریس کی باری ہے۔ بینی پرساد ورما نے تو ساری حدیں پار کردی ہیں اور انہوں نے نہ جانے کیا کیا کہہ ڈالا۔ اب وزیر مواصلات کپل سبل نے ایتوار کو سپا چیف ملائم سنگھ کو کھلی چنوتی دے دی ہے کہ اگر ہمت ہے تو وہ سرکار گرا کر دکھائیں۔ حالانکہ انہوں نے کسی کا نام نہیں لیا لیکن ان کا اشارہ ملائم سنگھ کی طرف تھا۔ سبل کے اس بیان کے بعد سپا نیتا رام آسرے کشواہا نے کہا کہ سبل کی اوقات ہی کیا ہے؟ ادھر ملائم سنگھ نے مرکزی وزیر کوئلہ سری پرکاش جیسوال کے حالیہ بیان کو سنجیدگی سے لیا ہے جس میں انہوں نے پردیش سرکار پر فضول خرچی کا الزام لگایا ہے۔ ان کے بیان کو سرے سے مسترد کرتے ہوئے ملائم سنگھ نے کہا مرکزی حکومت کی جانب سے پردیش سرکار کو دی جارہی اقتصادی مدد کسی طرح سے خیرات نہیں بلکہ ایک یہ طرح سے ریاستوں کا پیسہ ہے جس پر ان کا حق ہے۔ سپا اس وقت چاروں طرف سے گھری ہوئی ہے۔ بہوجن سماج پارٹی چیف مایاوتی نے کہا دیش میں لوک سبھا چناؤ وقت سے پہلے نہیں ہوسکتے۔ اس کے لئے بسپا پوری طرح تیار ہے۔ بسپا کے سینئر لیڈر نسیم الدین صدیقی نے اترپردیش کی سپا سرکار پر حملہ بولتے ہوئے کہا کہ اکھلیش یادو کو محض آدھا وزیر اعلی مانا جائے کیونکہ اس وقت صوبے میں ایک نہیں ساڑھے چار وزیر اعلی ہیں۔بسپا سکریٹری جنرل نے انہیں گنایا۔ ملائم، رام گوپال یادو، شری پال یادو اور اعظم خاں کو چار اور اکھلیش یادو کو آدھا وزیر اعلی بتایا۔ اترپردیش میں سماجوادی پارٹی اور لوک دل بھی آمنے سامنے آگئے ہیں۔ سپا نے لوک دل صدر اجیت سنگھ پر تنقید کی اور اگلے ہی دن اس کے قومی جنرل سکریٹری جے انت چودھری نے حساب برابر کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ اترپردیش میں قانون و انتظام پوری طرح بگڑ چکا ہے اور غیر سماجی عناصر دن دھاڑے واردات میں لگے ہوئے ہیں۔ اقتدار میں بیٹھے اور اقتدار سے قربت رکھنے والے کئی لوگ گھناونے جرائم میں ملوث ہیں۔ خود وزیر اعلی اکھلیش یادو پر بھروسے کا حال یہ ہے کہ نوئیڈا سے وابستہ 3300 کروڑ روپے کی اسکیموں کا سنگ بنیاد رکھنے کے لئے اکھلیش نوئیڈا جانے سے بچے اور انہوں نے لکھنؤ سے اپنے سرکاری گھر سے ہی سنگ بنیاد کی خانہ پوری کردی۔ اتفاق ہے لیکن یہ اندھ وشواس بن چکا ہے کہ وزیر اعلی رہتے جو بھی نوئیڈا جاتا ہے اس کی کرسی چلی جاتی ہے۔ شاید اسی وجہ سے راجناتھ سنگھ نے 2001 ء میں وزیر اعلی کی شکل میں نوئیڈا کے ایک فلائی اوور کا افتتاح دہلی سے کیا تھا۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ سپا اور کانگریس کا یہ مہا یدھ کہاں جا کر رکے گا۔ ہمیں لگتا ہے کہ یہ دونوں کے درمیان چل رہی رسہ کشی کو دیکھتے ہوئے بھلے ہی لگ رہا ہو کے دونوں کے رشتے ٹوٹنے کے دہانے پر ہیں لیکن ایسا نہیں ہے۔ حالانکہ آنے والے لوک سبھا چناؤ کی مجبوری کے چلتے دونوں پارٹیوں کی آپسی کھینچ تان بدستور جاری رہے گی۔ دراصل سپا یوپی ا ے سرکار کو بدنام کرنے کا کوئی موقعہ نہیں چھوڑنا چاہتی ساتھ ہی وہ مرکزی سرکار سے حمایت بھی واپس نہیں لینا چاہتی لیکن اس کے لئے صحیح وقت اور صحیح اشو ابھی نہیں مل رہا ہے۔ یہ ہی نہیں شاید وہ ابھی اپنے سرپر یوپی اے سرکار کو گرانے کا داغ مول لینا نہیں چاہتی اسی لئے فی الحال کانگریس کے خلاف تلخ رشتے کو قائم رکھنے میں ہی فائدہ دیکھ رہی ہے۔ یوپی اے سرکار پر دباؤ بنانے میں لگے ملائم سنگھ یادو کے بجٹ اجلاس کے دوسرے مرحلے میں کہیں خودہی الجھن میں نہ پھنس جائیں۔دراصل لیفٹ پارٹیوں نے گرانٹ مطالبات پر کٹوتی کا پرستاؤ لانے کا فیصلہ کر دو کشتیوں میں سوار ملائم کو پوری طرح اپنے پالے میں لانے کی حکمت عملی بنائی۔ ان کا خیال ہے کہ اس حکمت عملی کے سبب ملائم سرکار کا ساتھ چھوڑنے پر مجبور ہوں گے، ورنہ غیر یوپی اے ، غیر این ڈی اے کی حکمت عملی میں پوری طرح الگ تھلگ پڑجائیں گے۔ دیکھیں آگے کیا ہوتاہے۔ معاملہ آہستہ آہستہ کائمکس کی طرف بڑھ رہا ہے۔
(انل نریندر)

ڈی ایس پی ضیاء الحق کے قتل میں راجہ بھیا کا کوئی ہاتھ نہیں

سرخیوں میں چھائے کنڈا کانڈ میں پرتاپ گڑھ میں ڈی ایس پی ضیاء الحق کی موت کے معاملے میں سی بی آئی نے اپنی ابتدائی جانچ میں کہا کہ اس معاملے میں ممبر اسمبلی رگھو راج پرتاپ سنگھ عرف راجہ بھیا کا ہاتھ ہونے کے اشارے نہیں ملے ہیں۔ قابل ذکر ہے سی او کنڈا ضیا ء الحق گرام پردھان ننھے لال یادو اور اس کے بھائی سریش یادو کی موت کی جانچ سی بی آئی کررہی ہے۔ اس تہرے قتل کانڈ میں دبنگ ایم ایل اے اور سابق وزیر راگھو راج پرتاپ سنگھ عرف راجہ بھیا کا نام آنے کے بعد سرکار کی سفارش کے بعد حرکت میں آئی سی بی آئی نے معاملہ درج کرنے کے دو دن بعد ہی اپنی لمبی فوج کے ساتھ کنڈا میں ڈیرا ڈال دیا اور دو دن پہلے سی بی آئی نے راجہ کو کلین چٹ دے دی ہے۔ سی بی آئی نے کہا ابتدائی جانچ میں اس واقعہ میں ان کا ہاتھ ہونے کا اشارہ نہیں ملتا۔ ساتھ ہی ایجنسی نے کہا ضیا ء الحق کی موت میں گاؤں کے پردھان ننھے یادو کی موت سے ناراض بھیڑ کا ہاتھ ہونے کا اندیشہ ہے۔ ایجنسی نے کہا کہ اس کے ابتدائی نتائج گواہوں کے بیانوں پر مبنی ہیں۔سی بی آئی کے ذرائع کا کہنا ہے ہماری جانچ ابھی تک ڈی ایس پی کے قتل میں راجہ بھیا کے شامل ہونے کے سلسلے میں کوئی ثبوت نہیں ملا ہے اس لئے ابھی کسی قطعی نتیجے پر نہیں پہنچا جاسکتا۔ جانچ ٹیم معاملے کو سلجھانے کے لئے ہر ممکن ثبوت اور سراغ لگا رہی ہے۔ایجنسی نے کہا ننھے اور سریش یادو کے رشتے داروں سے پوچھ تاچھ کی گئی ہے تاکہ اس دن رونما واقعے کی کڑیوں کو آپس میں جوڑا جاسکے اور حقیقت سامنے آئے۔ ایجنسی نے سریش کے گھر پر رکھے ایک بکس سے خون سے سنی گولیوں والی بیلٹ سمیت کچھ چیزیں برآمد کی ہیں۔ سی بی آئی نے ڈی ایس پی کی غائب ریوالور بھی برآمد کرلی ہے۔ اس کا کہنا ہے لگتا ہے کہ ننھے کو بھاڑے کے قاتلوں نے اس وقت گولی ماری جب وہ بلی پور گاؤں میں ایک چائے کی دوکان پر کھڑے تھے۔ یادو کے قتل کے بعد ڈی ایس پی ضیا ء الحق حالا کا جائزہ لینے اور جھگڑے پر قابو پانے گاؤں گئے تھے۔ موقعہ سے یادو کے بھائی سریش کی بھی لاش ملی تھی۔ ضیاء الحق کی بیوی کی بیوی کی شکایت پر راجہ بھیا کے خلاف بھی معاملہ درج کیا گیا اور بعد میں انہوں نے وزارت سے استعفیٰ دیا۔ سی بی آئی نے کنڈا تحصیل کے بلی پور گاؤں میں تین قتل کے سلسلے میں اب تک چار معاملے درج کئے ہیں۔ معاملے کی تفتیش ابھی جاری ہے۔
(انل نریندر)

07 اپریل 2013

راہل گاندھی کا کنفیوژ، بے سمت مایوسی بھراخطاب

کانگریس نائب صدر راہل گاندھی کی صنعتی انجمن سی آئی آئی کے سالانہ اجلاس میں کئی گئی تقریرکو بہت اہمیت دی گئی تھی۔ کہا گیا تھا کہ یہ راہل گاندھی کا گجرات کے وزیر اعلی نریندر مودی کو جواب ہوگا لیکن دکھ کی بات یہ ہے کہ مجھے تو راہل گاندھی کی تقریر سے مایوسی ہی ہوئی ہے۔ سب سے پہلی بات یہ ہے کہ کیا سی سی آئی کا اسٹیج ایسی سیاسی تقریر کے لئے صحیح اسٹیج تھا؟ آپ غریبوں کی بات دیش کے سب سے امیروں کے اسٹیج سے کررہے ہوں؟ پھر آپ تقریر سے کس کو سندیش دے رہے تھے ، اپنی سرکار کو یا پھر اپنی پارٹی کو؟ اگر آج کانگریس فیل ہورہی ہے تو اس کی ذمہ دار نہ تو اپوزیشن ہے اور نہ ہی عوام۔ آزادی کے 65 سال میں کانگریس پارٹی نے56 سال حکومت کی ہے۔ کل13 برس ہی غیرکانگریسی حکومتوں کا عہد رہا۔ اگر خامیاں ہیں تو وہ بنیادی طور پر کانگریس عہد کی ہیں۔ راہل گاندھی نے جو تقریر کی وہ محض ایک ویژن ہی مانی جاسکتی ہے۔ ویژن ہونا آدھی بات ہے لیکن اکیلے خواب دیکھنا اور سبز باغ دکھانے سے کام نہیں چلتا۔ آپ نے جن مسائل کو رکھا ہے ان کو صحیح کیسے کیا جائے گا ، اس کے بارے میں تو ایک لفظ بھی نہیں کہا۔ آپ نے کوئی روڈ میپ نہیں دیا۔ ہاں بات سمجھ میں آتی ہے کہ اگر آپ ساتھ ساتھ مسائل کا حل بھی رکھتے۔ پھر آپ نے جو کہا اگر میں اسے ٹھیک سے سمجھ سکا ہوں تو آپ پورے پالیٹیکل سسٹم کو ہی بدلنا چاہتے ہیں۔لیکن یہ تلخ سچائی ہوسکتی ہے کے دیش کے سیاسی نظام پانچ ہزار ممبران اسمبلی و ممبران پارلیمنٹ چلا رہے ہیں لیکن اس بنیاد پر پارلیمانی نظام و جمہوریت کو مسترد نہیں کیا جاسکتا بلکہ راہل گاندھی سے پوچھنا چاہئے کہ پچھلے9 برسوں سے اقتدار میں ہونے کے باوجود ان کی سرکار و پارٹی کو عام آدمی کے مفاد میں قدم اٹھانے سے کس نے روکا ہے؟وہ عام آدمی کے ہاتھ میں طاقت دینے کی بات کررہے ہیں جبکہ ان کی حکومت سہولیتیں دے کر چناوی فائدہ اٹھانے پر ہی زیادہ بھروسہ کرتی ہے۔ راہل نے ترقی میںآرہی رکاوٹوں کا بھی ذکر کیا اور ساتھ ہی یہ بھی بتایا ان کا حل ہونا چاہئے لیکن وہ یہ نہیں بتا سکے کے کانگریس کی قیادت والی مرکزی سرکار پچھلے9 برسوں کے دوران وہ سب کیوں نہیں کرسکی؟ نہ ہی انہوں نے یہ بتایا کہ وہ خود بھی اس پوزیشن میں تو تھی ہی کے سرکار سے ان کا حل نکلوا لے۔ راہل گاندھی کی تقریر انہی کی لائنوں میں تھی جو راجیو گاندھی نے برسوں پہلے ممبئی میں کی تھی۔ راجیو نے تو کانگریس پارٹی کو اقتدار کے دلالوں کی پارٹی تک کہہ دیا تھا۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ اتنے برسوں میں ان کی پارٹی میں کیا بہتری آئی ہے؟ کیا وہ اور ان کی ماتا شری اس پوزیشن میں نہیں تھیں کے ان کی پارٹی میں آئی گراوٹ کو روک سکیں؟ ایسی لوک لبھاونی باتوں سے ترقی سے محروم لوگوں کو متاثر تو کیا جاسکتا ہے لیکن انہیں کوئی راحت نہیں دی جاسکتی۔ کانگریس کے کئی سرکردہ لیڈر راہل بنام مودی لڑائی بتانے سے چوکتے نہیں لیکن بنیادی فرق کو نظر انداز کرجاتے ہیں۔ نریندر مودی جارحانہ انداز میں خیالی باتیں کرتے ہیں اور دیش کو آگے کیسے بڑھایا جائے اس کی بات نہیں کرتے ، وہ ایسا کرسکتے ہیں کیونکہ انہوں نے کردکھایا ہے۔ نریندر مودی کے قول اور فعل میں فرق نہیں ہے کیونکہ وہ تیسری بار اسمبلی چناؤ جیت چکے ہیں۔ راہل تین ریاستوں کے چناؤ ہار چکے ہیں۔مودی کے نشانے پر مرکزی سرکار اور کانگریس پارٹی ہے جبکہ راہل کو پھونک پھونک کر قدم اٹھانے پڑ رہے ہیں۔ انہیں اپنی بات پرکھرا اترنا ہے لیکن ساتھ ساتھ اپنی پارٹی اور سرکار کو بچانا بھی ہے۔ راہل بدقسمتی سے آج جس جگہ پر ہیں وہاں سے وہ اقتدار کی سیاست کی برائیوں کو آسانی سے ختم نہیں کرسکتے۔ لیکن وہ تو کانگریس کے اس چلن کے خلاف آواز اٹھاتے ہوئے بھی نہیں دکھائی دئے جن میں اسمبلی چناؤ کے بعد باہری آدمی کو وزیر اعلی بنادیا جاتا ہے۔ راہل نے اپنی ایک گھنٹے کی تقریر میں کہیں مہنگائی ،کرپشن، دہشت گردی، آتنک واد یعنی عام آدمی کو متاثر کرنے والے اشوز کی کوئی بات نہیں کی۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ ان کے نظریئے میں اور موجودہ وزیرا عظم منموہن سنگھ کے نظریئے میں کوئی فرق نہیں ہے۔ راہل نے کہا پریس والے مجھ سے پوچھتے ہیں کے آپ شادی کب کررہے ہو۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کے باس آپ پردھان منتری کب بن رہے ہو، کئی کہتے ہیں آپ پی ایم نہیں بن پاؤ گے۔ یہ سب غیر ضروری سوالات ہیں، ہوائی باتیں ہیں ۔اصل بات یہ ہی ہے کہ 1 ارب لوگوں کو خوشحال کیسے بنایا جائے تاکہ ان کے مسائل دور ہوں۔ ہم شادی کی بات سے راہل سے متفق ہیں۔ یہ ان کی ذاتی زندگی کا معاملہ ہے اس میں کوئی سوال جواب نہیں ہوسکتا لیکن وزیر اعظم بننا یا نہ بننا یہ تو اہم ہے۔
آپ کہتے ہیں پردھان منتری کی بات نہ کریں تو براہ کرم بتائیں کے اگر آپ وزیر اعظم بننا نہیں چاہتے تو ان مسائل کو کون دور کرے گا؟ جنتا ؟ اگر جنتا ہی ان کو حل کرنے میں اہل ہوتی تو دیش میں نہ تو ممبر پارلیمنٹ کی ضرورت ہوتی نہ اسمبلیوں سے لیکر گرام پنچایتوں کی ضرورت رہتی۔ سوال یہ بھی پوچھا جاسکتا ہے کہ خود راہل گاندھی بطور ایم پی پارلیمنٹ میں اب تک ان کا رول کیا رہا ہے اور وہ سوائے کلوتی معاملے میں ہم نے راہل کو ایک ہی اشو پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے دیکھا ہے۔ کانگریسیوں کی طرف سے راہل کی تقریر کی چاہے جتنی واہ واہی کی جارہی ہو لیکن سچ تو یہ ہے کہ ان کے خطاب میں کنفیوژن اور دیش کو موجودہ چیلنجوں سے نکالنے اور ایک نئے دور میں لے جانے کی کہیں بھی کوئی جھلک نہیں دکھائی دی۔ اب ان کی تقریر کا پارٹی سطح پر جیسے بچاؤ کیا جارہا ہے وہ نہرو گاندھی پریوار کو رہنما سمجھنے کی پارٹی کی ذہنیت کی ہی مثال ہے۔ ترقی اور معیشت کے نام پر لائیو(سیدھا) ٹیلی کاسٹ جو سیاسی بازی گری بحث کے مرکز میں لائی جارہی ہے اس سے شاید ہی کوئی سمت مل سکتی ہو۔ جیسا کے میں نے کہا کہ ہم راہل کو آگے بڑھتا دیکھنا چاہتے ہیں اور ہماری شبھ کامنائیں بھی ان کے ساتھ ہیں لیکن سی آئی آئی میں جو تقریر کی وہ مایوس کن تھی اور امیدوں پر کہیں کھری نہیں اترتی۔
(انل نریندر)

میلانیا نے امریکہ میں یہ نئی جنگ چھیڑ دی

ایران جنگ میں سیز فائر ہوتے ہی امریکہ کے اندر ایک اور جنگ شروع ہو گئی ہے ۔آپ حیران ہوں گے کہ یہ کون سی جنگ ہے ؟ بتادیں کہ ایپسٹین فائلس کی ...