Translater
09 مارچ 2024
کانگریس کم سیٹوں پر لڑ کر اسٹرائک ریٹ بڑھائے گی !
لوک سبھا چناو¿ کو لیکر بھاجپا نے پہلی لسٹ جاری کرکے اپوزیشن پارٹیوں پر دباو¿ بڑھا دیا ہے ۔خاص کر اپوزیشن اتحاد انڈیا یا بڑی اپوزیشن جماعت کانگریس کیلئے یہ بڑا پیغام مانا جارہا ہے ۔بھاجپا نے اپوزیشن کو صاف پیغام دینے کی کوشش کی ہے کہ وہ چناو¿ کو لیکر پوری طرح تیار ہے وہ صرف جیت کا دعویٰ نہیں کررہی ہے بلکہ امیدواروں کا اعلان کر چناوی تیاریوں کا بھی بگل بجا دیا ہے ۔ماناجا رہا ہے کہ اس سے اب نہ صرف اپوزیشن پر دباو¿ بڑھ گیا ہے کہ وہ بھی جلد سے جلد اتحاد میں سیٹ بٹوارے کو فائنل کریں اور سیٹوں اور امیدواروں کا اعلان کریں ۔کانگریس کا اتر پردیش میں سماج وادی پارٹی اور پانچ راجیوں میں عآپ پارٹی کے ساتھ تال میل ہو گیا ہے ۔بہار میں آر جے ڈی ،مہاراشٹر ایم وی اے کے درمیان ،جھارکھنڈ میں جے ایم ایم اور دوسری پارٹیوں کیساتھ اور مغربی بنگال میں ترنمول کانگریس کیساتھ تال میل ہونا باقی ہے ۔دعویٰ کیا جا رہا ہے مہا راشٹر انڈیا گٹھ بندھن کے ساتھیوں میں سیٹ شیئرنگ کا فارمولہ طے ہو گیا ہے اور اس کی باقاعدہ اعلان بھی کیا جاسکتا ہے ۔ذرائع کے مطابق فائنل ہوئی سیٹ بٹوارے کے تحت شیو سینا ادھو ٹھاکرے 20 ، کانگریس 18 و این سی پی شردپوار 10 سیٹوں پر چناو¿ لڑے گی ۔اتحاد کے دوسرے ساتھیوں کو شیو سینا اپنے کوٹے سے ایڈ جسٹ کرے گی ذرائع کے مطابق راہل گاندھی کی بھارت جوڑو نیائے یاترا کے مہاراشٹر پہونچنے سے پہلے ہی سیٹ کے بٹوارے کو لیکر رسمی اعلان کر دیا جائے گا ۔نیائے ریلی میں ساتھی پارٹیوں کے نیتا بھی شامل ہوں گے ۔اتنا ہی نہیں راہل گاندھی کی ریلی میں انڈیا اتحاد کے نیتا موجود رہیں گے ۔ذرائع کے مطابق مہاراشٹر کے ساتھی جموں کشمیر میں بھی سیٹوں کے بٹوارے کا معاملہ طے ہوگیا ہے صرف سرکاری اعلان کیا جانا ہے ۔راہل اور اکھلیش یاد وکے گلے ملنے سے اتر پردیش میں سیٹ بٹوارے کا فیصلہ ہو گیا ہے ۔63 سیٹیں سپا لڑ ے گی اور کانگریس 17 سیٹوں پر چناو¿ لڑ ے گی ۔اس اتحاد کے ساتھ ایک بار پھر یوپی میں دونوجوان لڑکوں کی جوری اپوزیشن کی طرف سے بھاجپا کے خلاف مورچہ سنبھالے گی ۔ذرائع کا خیال ہے کہ 2024 لوک سبھا چناو¿ میں کانگریس اپنی تاریخ میں سب سے کم سیٹوں پر چناو¿ لڑ سکتی ہے ۔پارٹی کو یہ سمجھوتہ انڈیا میں شامل اتحادی پارٹیوں کے ساتھ اتحاد کی وجہ سے کرنا پڑے گا ۔چونکہ پارٹی کئی ریاستوںمیں انڈیا میں شامل پارٹیوں کےساتھ مل کر چناو¿ لڑ رہی ہے ۔سال 2019 میں پارٹی نے 421 سیٹ پر چناو¿ لڑا تھا ۔کانگریس کے ایک سینئر لیڈر نے کہا زیادہ سیٹ پر چناو¿ لڑنے سے زیادہ اہم جیت ہے یہی وجہ ہے کہ پارٹی انڈیا گٹھ بندھن کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کی ہر ممکن کوشش کر رہی ہے ۔کانگریسی نیتا نے کہا فصل تو تیار ہے کاٹنے والا چاہیے ۔دیکھا گیا ہے کہ کانگریس کی تنظیم اکثر کمزور پڑ جاتی ہے اور جیتی جتائی بازی ہا ر جاتے ہیں ۔اور اس وقت ہمیں ایک نیتا ایسا لگتا ہے جو کانگریس کی تنظیم کو مضبوطی دے سکتا ہے وہ ہے کرناٹک کے نائب وزیراعلیٰ ڈی کے شیو کمار جنہوں نے کئی بار ثابت کیا ہے کہ وہ ہار کے منھ سے جیت نکال سکئتے ہیں انہین لوک سبھا چناو¿ کا انچار ج بنایا جانا چاہیے ۔جیسا کہ میں نے کہا راہل نے ماحول تو بنا دیا ہے اتحاد بھی ہو گئے ہیں لیکن ووٹوں کو نکالنا ہے کیا کانگریس اور مہا گٹھبندھن کی کاٹھ کر سکے گا ۔
(انل نریندر)
بصداحترام صاحبان کو رشوت خوری کا مخصوص اختیار نہیں!
سپریم کورٹ نے پارلیمنٹ اور اسمبلیوں میں رشوت لے کر ووٹ یا بھاشن دینے والے ممبران پارلیمنٹ اور ممبران اسمبلی کو مجرمانہ مقدموں میں ملنے والی چھوٹ ختم کر دی ہے ۔عدالت نے کہا کہ رشوت کے معاملوں میں ممبران پارلیمنٹ کو پارلیمانی مخصوص اختیارات کے تحت سرپرستی حاصل نہیں ہے ۔کرپشن یا رشوت خوری سے ہندوستانی پارلیمانی جمہوریت کی بنیاد کمزور ہوتی ہے ۔چیف جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ کی رہنمائی والی سات نفری بنچ نے سابق وزیراعظم پی وی نرسمہا راو¿ بنام سی بی آئی معاملے میں 1998 میں پاس سپریم کورٹ کے پانچ جج کی اکثریت سے پاس فیصلے کو پلٹ دیا تھا ۔اس فیصلے میں ممبران پارلیمنٹ اور ممبران اسمبلی کو رشوت لے کر ایوان میں ووٹ کرنے پر مجرمانہ مقدمہ سے چھوٹ تھی ۔سی جے آئی ڈی وائی چندر چوڑ کی سربراہی والی بنچ نے 1998 میں دئیے گئے فیصلے کو پلٹتے ہوئے کہا کہ پانچ نفری آئینی بنچ کیا وہ فیصلہ آرٹیکل 105 اور 194 کا متضاد ہے ۔اور ان آرٹیکلس کے سہارے ایم پی اور ایم ایل اے ایوان میں کہیں کسی بات یا ووٹ کیلئے کورٹ میں جواب دہ نہیں بنائے جا سکتے ہیں لیکن اس سے انہیں رشوت خوری کی چھوٹ نہیں مل جاتی ۔135 صفحہ کا تازہ فیصلہ جھارکھنڈ مکتی مورچہ ممبر اسمبلی سیتا سورین کی عرضی پر آیا ہے ۔ان پر 2012 میں راجیہ سبھا میں ووٹنگ کیلئے ایک آزاد ایم پی سے پیسے لینے کا الزام جب انہوں نے اس ایم پی کو ووٹ نہیں دیا تو سی بی آئی نے کیس درج کیا ۔سیتا نے آرٹیکل 194 (2) کا ذکرکیا ہے اور کیس منسوخ کرنے کیلئے جھارکھنڈ ہائی کورٹ میں عرضی دائر کی لیکن راحت نہیں ملی تو وہ سپریم کورٹ گئیں پہلے کیس 3 اور پھر 5 اور بعد میں کورٹ کی بنچ کے پاس آیا آئینی بنچ نے کیس فار ووٹ جسے جے ایم ایم رشوت کانڈ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے اس پر 1998 میں دئیے گئے اپنے فیصلے کو بے وژن دلیلوں سے پلٹ دیا ہے ۔اس فیصلے کے پش منظر میں دیکھیں تو وہ پرانہ فیصلہ مخصوص اختیارات کا مزاق اور کھوکھلے پن کی کھلی تصویر لگتا ہے ۔معاملہ یہ تھا کہ 1993 میں پی وی نرسمہا راو¿ کی اقلیتی سرکار کو بچانے کیلئے جے ایم ایم کے صدر و ایم پی سمیت 6 ممبران پارلیمنٹ نے رشوت لے کر ووٹ دیا تھا ۔تب سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ اس کے لئے ان پر مخصوص اختیارکے تحت مجرمانہ مقدمہ نہیں چلے گا ۔جبکہ رشوت لے کر بھی ووٹ نہ دینے والوں پر مجرمانہ مقدمہ چلے گا ۔یہ تو جمہوری مندر میں کھلے عام رشوت خوری کو جائز قرار دینا ہوا ۔بڑی عدالت کے فیصلے کا ایک پیغام یہ بھی ہے پبلک کے نمائندے ایوان کو بھی باہر جو بولتے ہیں یا جو کچھ کہتے ہیں اسے لیکر وہ زیادہ ذمہ دار ہوں اور ان کا برتاو¿ ایسا ہو جو سپرم اخلاقیات کی مثال کو بڑھاوا دینے والا ہو ۔جمہوریت میں آلودگی تبھی رکے گی جب جنتا کے نمائندے اس سمت میں آگے آئیں ۔چیف جسٹس کا یہ کہنا مناسب ہے کہ آئین سازیہ کے ممبران کا کرپشن اور رشوت خوری پارلیمانی جمہوریت کی بنیاد کو کھوکھلا کرتی ہے ۔یہ ایسی سیاست تعمیر کرتی ہے جو شہریوں کو ذمہ دار ، جواب دہ اور نمائندہ جمہوریت سے محروم کرتی ہے ۔سوال پارلیمانی جمہوریت میں ایک ایم پی یا ممبر اسمبلی کا بھروسہ بھی ہے ۔ایک پبلک کے نمائندے کے طور پر ان کے کچھ فرائض ہوتے ہیں جن کو پورا کرنے میں ان سے ایمانداری کی امید کی جاتی ہے اس سلسلے میں چیف جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ کا یہ ریمارکس ایک سچی کہانی کی طرح ہے کہ آئین سازیا کے ممبروں کے ذریعے کرپشن پبلک طور پر اس کی پاکیزگی کو تباہ کر دیتی ہے لیکن سوال اٹھتا ہے کہ کیا ہمارے سیاست داں اس سے کوئی سبق لیں گے اور ایک صحتمندر اور شفاف نظام بنانے کی سمت میں آگے بڑھیں گے ۔
(انل نریندر)
07 مارچ 2024
مشن 400 پورا کرنے میں پہلا قدم!
بی جے پی کی پہلی لسٹ میں ان ریاستوں سے پرہیز کیا گیا جہاں اتحاد ہے یا ہونے کی امید ہے ۔مثلاً بہار سے ایک بھی امیدوار اعلان نہیں کیا گیا ۔وہاں جے ڈی یو سمیت دوسری چھوٹی پارٹیوں کے ساتھ سیٹوں کے بٹوارے پر بات چیت جاری ہے۔تملناڈو اور آندھرا پردیش جیسی ریاستوں میں امیدواروں کا اعلان نہیں ہوا ہے ۔جہاں اتحاد کی بات چل رہی ہے پہلی لسٹ میں صاف اشارہ ہے کہ مودی جی اس بار کوئی خطرہ مول لینا نہیں چاہتے ۔وہ ان پر انے چہروں کو دہرا رہے ہیں جو انہیں لگتا ہے کہ سیٹ نکال سکتے ہیں ۔بے شک وہ 70 سال سے زیادہ عمر کے کیوں نہ ہو ۔ٹکٹ میں سیٹ جیتنے کی صلاحیت کو سب سے زیادہ اہمیت دی گئی ہے ۔مثلاً کیرل جہاں بھاجپا کے لئے مشکل راہیں وہاں پارٹی نے پہلی لسٹ میں راجیو چندر شیکھر کو اتارا ہے اس سیٹ سے کانگریس کے ششی تھرور ایم پی ہیں ۔پارٹی نے اشارہ دیاہے کہ آنے والی لسٹ میں اور مضبوط نام دیکھنے کو ملیں گے ۔بھاجپا کی پہلی لسٹ میں ایسے ممبران پارلیمنٹ کے ٹکٹ کٹے ہیں جن کے متنازعہ بیانوں کی وجہ سے اپوزیشن نے بی جے پی پر جم کر تنقید کی تھی ۔دہلی سیٹ سے ایم پی رمیش بدھوڑی نے پارلیمنٹ میں ایم پی دانش علی پر قابل اعتراض تبصرہ کیا تھا جس پر کافی ہنگامہ کھڑا ہوا تھا ان کا ٹکٹ کاٹ کر اب ان کی سیٹ پر رام ویر سنگھ بدھوڑی کو ٹکٹ دے دیا گیا ہے ۔بی جے پی ہی نہیں بلکہ آر ایس ایس بھی پچھلے کافی وقت سے مسلموں تک پہونچ بنانے کا کام کررہا ہے ۔پی ایم نریندر مودی خود پارٹی کی کئی میٹنگوں میں کہہ چکے ہیں کہ ہمیں سب کے پاس پہونچنا ہے ۔بی جے پی پسماندہ مسلمانوں کو اپنے ساتھ جوڑنے کے لئے کئی پروگرام چلا رہی ہے ۔ایسے میں پارٹی کے ایم پی مسلم مخالف بیان پارٹی کو مشکل حالت میں ڈالتے ہیں ۔بی جے پی پہلے پیغمر محمد پر قابل اعتراض کرنے کے معاملے میں اپنے دو ترجمانوں کو پارٹی سے نکال چکی ہے ۔بھوپال سے بی جے پی نے سادھوی پرگیا ٹھاکر کا بھی ٹکٹ کاٹا ہے ۔ان کے متنازعہ بیان آئے دن وائرل ہوتے تھے ۔ایک متنازعہ بیان پر مودی خود کہہ چکے تھے کہ انہیں دل سے معاف نہیں کریں گے ۔لسٹ دیکھ کر ایک طرف جہاں لگ رہا ہے کہ متنازعہ بیان کچھ ممران پارلیمنٹ پربھاری پڑے ہیں وہیں کئی نیتا جو تنازعات میں تو رہے لیکن پارٹی نے ان کا ساتھ دیا ۔مثال کے طور پر جھارکھنڈ کے گوڈا سے نشان دوبے کسان آندولن کے دوران تنازعات میں رہے ۔اجے مشر ٹینی حیدرآباد سیٹ سے بی جے پی نے مادھوی لتا کو ٹکٹ دیا ہے ۔اس سیٹ پر اے آئی ایم چیف اسد الدین اویسی ایم پی ہیں ۔دوسری پارٹی چھوڑ کر بی جے پی میں آئے نیتاو¿ں کو بھی ٹکٹ دیا گیا ہے۔بی ایس پی چھوڑ کر آئے رتیش پانڈے کو یوپی کے امبیڈکر نگر سے امیدوار بنایا گیا ہے ۔جھارکھنڈ کے سابق وزیر اعلیٰ مدھو گوڈا کی بیوی اور کانگریس ایم پی گیتا کوڈا جو کچھ دن پہلے ہی بھاجپا میں شامل ہوئیں تھیں انہیں چائی باسا سے ٹکٹ دے دیا گیا ۔بی ایس پی بی جے پی میں آئے بیوی پاٹل کو بھی تلنگانہ کی ظہیر آباد سیٹ سے ٹکٹ دے دیا ہے ۔بانسری سوراج کو اس لئے اتارا گیا چونکہ وہ بہت ملنسار ہیں اور پارٹی ورکروں میں ان کی سورگیہ ماں ششما سوراج کی ایمیج دیکھتے ہیں ۔دہلی میں کل پانچ سیٹوں پر ابھی تک پانچ نام اعلان کئے گئے ہیں ۔ان میں صرف منوج تیواری اکیلا ایسا نام ہے جو اپنی امیدواری بچاپایا ہے ۔یہاں تک کہ مودی سرکار میں وزیر صحت رہے ڈاکٹر ہرش وردھن جیسے ایماندار شخص کو بھی درکنار کر دیاگیا ہے ۔پہلی لسٹ کا پبلک میں رد عمل کچھ ملا جلا سا ہے ۔
(انل نریندر)
پٹنہ میں انڈیا اتحاد نے بھری ہنکار!
اپوزیشن پارٹیوں کے اتحاد انڈیا نے اتوار کو بہار کی راجدھانی پٹنہ کے تاریخی گاندھی میدان میں منعقدہ جن وشواس مہا ریلی کے ذریعے لوک سبھا چناو¿ کا بگل بجا دیا ۔پٹنہ میں اتوار کو مہا گٹھ بندھن کی اس ریلی میں بھیڑ دیکھنے لائق تھی ۔لاکھوں لوگ میدان میں کھچا کھچ بھرے ہوئے تھے ۔جہاں بھی نظر جاتی وہیں بھیڑ نظر آتی ۔کہا جارہا ہے کہ شری جے پرکاش نارائن کی مہا ریلی کی یاد اتوار کو اس وقت تازہ ہو گئی اس سے ٹھیک ایک دن پہلے وزیراعظم نریندرمودی بھی بہار کے دورہ پر تھے ۔انہوں نے اورنگ آباد اور بیگو سرائے میں ریلی کی تھی ایسے میں مہا گٹھ بندھن کی ریلی اور پی ایم مودی کی ریلی کو این ڈی اے اور اپوزیشن کے شکتی پردرشن کے طور پر دیکھا جا رہا تھا ۔بہار کی چالیس لوک سبھا سیٹوں پر فی الحال این ڈی اے کا قبضہ ہے ۔این ڈی اے کے لئے چنوتی ہے کہ وہ 2019 کی جیت کو برقرار رکھے ۔جبکہ اپوزیشن کیلئے چنوتی ہے کہ وہ بی جے پی کو بہار میں روکے ۔اپوزیشن اتحاد نے گاندھی میدان کی ریلی کو جن وشواس مہا ریلی کا نام دیا تھا ۔کچھ لوگ پیڑوں پر بیٹھ کر نظارہ دیکھ رہے تھے تو کچھ ٹاور اور کھمبوں پر چڑھ کر اپوزیشن لیڈروں کو دیکھنے کی کوشش کررہے تھے ۔بڑی تعداد میں میدان کو باہر کے بھی لوگ اپوزیشن کی ریلی کو دیکھ رہے تھے تو دوسری طرف بھیڑ کو قابو کرنے کی کوشش میں لگی پولیس گاندھی میدان میں شروع ہوئی ریلی ہوئی ۔اپوزیشن پارٹیوں نے دعویٰ کیا تھا کہ اتوار کو پٹنہ میں ایسی بھیڑ ہوگی جو پہلے نہیں دیکھی گئی ۔ریلی میں آئے ایک نیتا نے کہا اس بار اپوزیشن اتحاد بہار میں جیت حاصل کرے گا اور مودی جی کے وجے رتھ کو بہار میں ہی روکا جائیگا ۔ریلی میں کانگریس ایم پی راہل گاندھی ،کانگریس چیف ملکا ارجن کھڑگے اور آر جے ڈی چیف لالو پرساد یادو ،سابق نائب وزیراعلیٰ تیجسوی یادو ،یوپی کے سابق وزیراعلیٰ اکھلیش یادو ،سی پی ایم کے نیتا سیتا رام یچوری سمیت اپوزیشن کے کئی بڑے نیتا شامل ہوئے ۔ریلی کا سپر اسٹار رہا تیجسوی یادو ۔تیجسوی یادو نے جم کر بھاجپا پر تنقید کی ۔انہوں نے بھاجپا کو جھوٹک کا کارخانہ ہونے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ آر جے ڈی کا مطلب حق ،روزگار اور وکاس ہے ۔تیجسوی نے کہا کہ بھاجپا ہمیشہ جملے بازی کرتی ہے لیکن ہم اس دیش اور بہار کے لوگوں کے حقوق اور نوکریوں کیلئے لڑتے ہیں ۔تیجسوی نے کہا کچھ لوگ کہتے ہیں کہ آر جے ڈی مسلم اور یادو ایم وائی کی پارٹی ہے اصل میں یہ ایم وائی بعد میں بی اے اے پی کی پارٹی ہے ۔اس میں بہوجن ،اے سے اگاڑا اور اے سے آبادی (خواتین ) اور پی سے غریب ۔انہوں نے نتیش کمار پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے 17 مہینوں میں جو کیا بھاجپا سے ہاتھ ملانے والے نتیش پچھلے 17 برسوں میں نہیں کر سکے ۔سنیچر کو اورنگ آباد میں مودی کی ریلی میں نتیش نے بھی کہا تھا کہ وہ شروع سے بی جے پی کے ساتھ ہے اور بیچ میں غائب ہو گئے تھے ۔اب کہیں نہیں جائیں گے ۔نتیش کی اس بات پر مودی جی بھی ہنس پڑے ۔اپوزیشن گاندھی میدان کی ریلی کو تاریخی بتارہی ہے ۔کانگریس ایم پی راہل گاندھی نے کہا دیش میں جب بھی تبدیلی آتی ہے تو طوفان بہار سے شروع ہوتا ہے اور بہار سے ہی تبدیلی کا طوفان پورے دیش میں جاتا ہے ۔آج دیش میں چالیس سال میں سب سے زیادہ بے روزگاری ہے ۔چھوٹے کاروباریوں کے کام بند ہو گئے ہیں ۔کسان اور یوتھ سڑکوں پر اترے ہوئے ہیں راہل گاندھی کی اس بات پر گاندھی میدان میں جم کر تالیاں بجیں ۔اپوزیشن پارٹیوں کی کوشش ہے کہ بے روزگاری کو بہار کا سب سے بڑا اشو بنانا ہے ۔
(انل نریندر)
05 مارچ 2024
نہیں ہوگی ایم پی اور ممبران اسمبلی کی نگرانی !
سپریم کورٹ نے بہتر انتظامیہ کیلئے ممبران پارلیمنٹ اور ممبران اسمبلی کی 24 گھنٹے ڈیجیٹل نگرانی کرنے کیلئے مرکز کوہدایت دینے والی درخواست کرنے والی مفاد عامہ کی عرضی کو جمعہ کے روز خارج کر دیا ۔بنچ نے عرضی گزار سے سوال کیا کہ کیا عدالت ممبران پارلیمنٹ کی سرگرمیوں پر 24 گھنٹے نظر رکھنے کیلئے ان کے جسم میں کوئی چپ لگا سکتی ہے ۔سماعت کی شروعات میں چیف جسٹس نے دہلی کے باشندے عرضی گزار سریندر ناتھ کندرا سے درخواست کی کہ انہیں ایسے معاملے پر عدالت کا وقت ضائع کرنے کیلئے پانچ لاکھ روپے کا جرمانہ بھرنا پڑسکتا ہے ۔بنچ نے کہا کہ اگر آپ بحث کرتے ہیں اور ہم آپ سے متفق نہیں ہوتے تو آپ سے 5 لاکھ روپے جرمانہ میصول کی شکل میں وصولے جائیں گے یہ جنتا کے وقت کی بات ہے اور یہ ایک غرور نہیں ہے ۔بنچ نے کہا کہ کیا آپ کو احساس ہے کہ آپ کیا بحث کررہے ہیں ؟ کہ آپ ممبران پارلیمنٹ اور ممبران اسمبلی کی 24 گھنٹے نگرانی چاہتے ہیں ایسا صرف اس سزا یافتہ مجرم کیلئے کیا جاتا ہے جس کے قانون کے شنکجہ سے بچ کر بھاگنے کا اندیشہ ہوتا ہے ۔پرائیویسی کا حق نام کی کوئی چیز ہوتی ہے اور ہم پارلیمنٹ کے سبھی منتخب نمائندوں کی ڈیجیٹل نگرانی نہیں کر سکتے ۔عرضی گزار سریندر کیندرا نے کہا کہ ایم پی اور ودھائک جو شہریوں کے تنخواہ دار خادم ہوتے ہیں وہ حکمرانوں کی طرح برتاو¿ کرنا شروع کر دیتے ہیں اس پر بنچ نے کہا کہ آپ سبھی ممبران پارلیمنٹ پر ایک جیسا الزام نہیں لگا سکتے ۔سپریم کورٹ نے کہا سبھی جمہوری نظام میں شخص قانون نہیں بنا سکتے اور اسے صرف منتخب ممبران پارلیمنٹ کے ذریعے سے ہی لاگو کیا جاسکتا ہے ۔چیف جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ نے کہا تب لوگ کہیں گے ٹھیک ہے ہمیں ججوں کی ضرورت نہیں ہم سڑکوں پر ہی فیصلہ کریں گے اور چوری کے ملزم کو مار ڈالیں گے ۔کیا ہم چاہتے ہیں کہ ایسا ہو ایم پی اور ودھایکوں کی ڈیجیٹل نگرانی کی درخواست کرنے والی عرضی پر غور نہیں کیا جاسکتا ۔بنچ نے کہا کہ عرضی گزار اس معاملے کو آگے بڑھاتا ہے تو اس پر جرمانہ لگایا جائے گا لیکن ہم جرمانہ لگانے سے بچتے ہوئے درخواست کرتے ہیں کہ مستقبل میں ایسی کوئی عرضی دائر نہیں کی جانی چاہیے ۔عرضی گزار نے دلیل دی کہ چنے جانے کے بعد ایم پی اور ودھائک حکمرانوں کی طرح برتاو¿ کرتے ہیں اس پر بنچ نے کہا ہر ایم پی ودھایک کے بارے میں ایسا نہیں کہا جاسکتا ۔آپ کو شخص خاص سے شکایت ہو سکتی ہے لیکن آپ سبھی ممران پارلیمنٹ پر الزام نہیں لگا سکتے ۔چیف جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ ،جسٹس جے بی پاردیوالہ اور جسٹس منوج مشرا کی بنچ نے کہا کہ پرائیویسی کا حق نام کی بھی کوئی چیز ہوتی ہے ۔
(انل نریندر)
بنگلورو کیفے میں دھماکہ :پیچھے کون؟
کرناٹک کی راجدھانی بنگلورو کے مشہور رامیشورم کیفے میں جمعہ کی دوپہر کو ہوئے دھماکہ ہر لحاظ سے ایک بڑی اور باعث تشویش واقعہ ہے ۔ایک تو یہ دھماکہ ایسے وقت میں ہوا جب عام چناو¿ کا اعلان ہونے والا ہے۔دوسرے بھارت کی کہی جانے والی سلیکن والی شہر میں ہوا۔کرناٹک کے وزیراعلیٰ سدا رمیا نے جمعہ کی شام اس کی تصدیق کی کہ دوپہر قریب 1.00 بجے اس دھماکہ میں 9 لوگ زخمی ہوئے ۔شروع میں پولیس اور فائر کو بتایا گیا کہ یہ سلینڈر بلاسٹ ہے ۔شام کو سدا رمیا نے اس کی تصدیق کی کہ یہ کم رفتار کے آئی ای ڈی بلاسٹ تھا ۔ایک لڑکا دوپہر 12.00 بجے کے قریب کیفے میں بیگ چھوڑ گیا جس کے بعد دھماکہ ہوا۔کیفے میں دھماکہ والی جگہ سے بیٹری سے جلا ہوا بیگ کچھ آئی ڈی کارڈ ملے ہیں ۔سی سی ٹی وی اور دیگر چیزوں کی جانچ کی جار ہی ہے ۔کرناٹک کے نائب وزیراعلیٰ ڈی کے شیو کمار نے بتایا یہ کم طاقت کا بلاسٹ تھا ۔اس میں ایک گھنٹے بعد دھماکہ ہونے کیلئے ٹائمر لگا ہوا تھا ۔ڈی جی پی آلوک موہن نے بتایا کہ وہاں جانچ ضروری ہے اور پولیس ان لوگوں کا پتہ لگائے گی جو اس کے پیچھے ہیں ہم یقینی طور سے پہچان لیں گے یہ کس نے کیا ہے ۔پردیش بی جے پی صدر وجیندر یدی یورپا نے بتایا کہ واردات میں خفیہ مشینری کی ناکامی صاف ہے اس کی گہرائی سے جانچ ہونی چاہیے ۔دھماکہ ریاست میں بگڑے لاءاینڈ آرڈر کی تازہ مثال ہے ۔پولیس کے مطابق واردات کی جگہ کے حالات آتنکی سازش کی طرف اشارہ کررہے ہیں حالانکہ جانچ کے بعد ہی صورتحال صاف ہوگی ۔تشویش کا موضوع یہ بھی ہے کہ بنگلورو کے جس رامیشورم کیفے میں دھماکہ ہوا وہ اس علاقہ میں ہے جسے آئی ٹی کاروبار کا گڑھ مانا جاتا ہے اس کے پیچھے کیا ایک مقصدہو کہ کیفے کو اس لئے نشانہ بنایا جائے کہ دنیا بھر کی توجہ راغب ہو سکے ؟ یہ غنیمت رہی کہ اس دھماکہ میں کسی کی جان نہیں گئی صرف کچھ لوگ زخمی ہوئے نہیں تو بہت بڑا حادثہ ہو سکتا تھا ۔لگتا ہے جس کسی شخص یا تنظیم نے یہ کیا ہے اس کا مقصدتوجہ مرکوز کرانا مقصد رہا ہوگا ۔اگر وہ زیادہ طاقتور دھماکہ کرتے جو کر سکتے تھے تو زیادہ جان مال کا نقصان ہو سکتا تھا ۔اس کے پیچھے سیاسی اسباب بھی پورے کرنے کیلئے اور یہ جتانے کیلئے کہ ریاست میں قانون و حالات خراب ہیں یہی وجہ ہے کہ یہاں دھماکہ کیا گیا ہو۔بھارتیہ جنتا پارٹی کو سدا رمیا سرکار کو اس کے لئے ذمہ دار ٹھہرا رہی ہے جو فطری بات ہے ۔کرناٹک سرکار کیلئے یہ انتہائی ضروری ہے کہ وہ اس معاملے کی تہہ تک جائے تاکہ دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو سکے ۔یہ پتہ لگانا ضروری ہے کہ کیا یہ ایک آتنکی سازش تھی یا نہیں ؟اگر یہ آتنکی سازش تھی تو یہ سنگین معاملہ ہے ضرورت پڑنے پر اس میں دوسری سرکار سیکورٹی اور خفیہ ایجنسیوں کو بھی بھرسہ میں لیا جا سکتا ہے ۔تاکہ آزادنہ اور منصفانہ جانچ کرکے معاملہ کی گہرائی تک پہونچا جا سکے ۔چناو¿ قریب ہیں اس لئے بھی ضروری ہے کہ ریاست میں قانون و نظام بگڑ رہا ہے ۔کرناٹک سرکار کیلئے یہ چنوتی ہے جسے جلد سے جلد سلجھانا ہوگا ۔
(انل نریندر)
سبسکرائب کریں در:
تبصرے (Atom)
میلانیا نے امریکہ میں یہ نئی جنگ چھیڑ دی
ایران جنگ میں سیز فائر ہوتے ہی امریکہ کے اندر ایک اور جنگ شروع ہو گئی ہے ۔آپ حیران ہوں گے کہ یہ کون سی جنگ ہے ؟ بتادیں کہ ایپسٹین فائلس کی ...
-
سپریم کورٹ میں بھی عجیب و غریب مقدمات آرہے ہیں۔ تازہ مثال بحریہ کے کچھ افسروں پر بیویوں کی ادلہ بدلی سے متعلق معاملات ہیں۔ بحریہ کے ایک اف...
-
ہندوتو اور دھرم پریورتن، گھر واپسی سمیت تمام معاملوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس پریوار سے جڑے لیڈروں کے متنازعہ بیانات سے وزیر...
-
مدھیہ پردیش کے ہائی پروفائل ہنی ٹریپ معاملے سے نہ صرف ریاست کی بلکہ دہلی کے سیاسی حلقوں میں مچا دئے معاملے میں اہم سازشی گرفتار ہو چکی شیو...