Translater

15 نومبر 2014

کیبنٹ ردو بدل میں مودی کے ایک تیر سے کئی نشانے!

چناوی میدان بھلے ہی نیا ہو بھاجپا کی کامیابی کا معاملہ پرانا ہی ہوگا یعنی نریندر مودی کا چہرہ اور امت شاہ کی مائیکرو مینجمنٹ۔ ایک تیر سے کئی شکار کرنے کی کوشش ہے۔ اس جوڑی کا کیبنٹ ردوبدل سے مطلب صاف ہے نشانے پر ہے ریاستوں کے اسمبلی چناؤ۔ کیبنٹ ردوبدل کے ساتھ وزیر اعظم نریندر مدی اترپردیش ، بہار، پنجاب میں اپنے ایجنڈے کو آگے بڑھانے والے ہیں۔ انہوں نے صاف کردیا یوپی اسمبلی چناؤ میں بھلے ہی ابھی دو سال سے زائد کا وقت بچا ہے لیکن اس کے لئے ان کی حکمت عملی بن چکی ہے۔ وزیر اعظم نے اپنی پہلی ردو بدل میں جہاں یوپی کو اس کی سیاسی حیثیت کے حساب سے توجہ دی ہے وہیں ریاست کے سیاسی تجزیوں کا بھی خیال رکھا ہے۔ اب مودی کیبنٹ میں اترپردیش سے وزرا کی تعداد 13 تک جا پہنچی ہے۔ منوہر پریکر بطور کیبنٹ وزیر یوپی کے کوٹے سے لئے گئے ہیں۔وہ راجیہ سبھا کے ممبر بننے جارہے ہیں۔ گوتم بدھ نگر سے ڈاکٹر مہیش شرما (وزیر مملکت آزادانہ ذمہ داری) راجیہ سبھا کے ممبر اور پارٹی کے قومی نائب پردھان مختار عباس نقوی، آگرہ سے ایم پی اور پارٹی کے جنرل سکریٹری پروفیسر رام شنکر کٹھیریا اور فتحپور سے ایم پی سادھوی نرنجن جوتی سبھی وزیر بنائے گئے ہیں۔اب بات کرتے ہیں بہار کے بارے میں وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنی کیبنٹ توسیع میں بہار کے تین چہروں کو جگہ دے کر ذات پات کی سیاست کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش کی ہے۔ اگلے سال بہار میں اسمبلی چناؤ ہونے ہیں ایسے میں ان چہروں کے انتخاب کے پیچھے کئی اسباب کے بارے میں بحث چھڑی ہوئی ہے۔گری راج سنگھ، رام کرپال یادو، راجیو پرتاپ روڑی یہ تینوں لیڈر ان تین برادریوں سے تعلق رکھتے ہیں جو بہار کی سیاست کو متاثر ہی نہیں بلکہ فیصلہ کن رول نبھاتی ہے۔گری راج سنگھ بھومی ہار، روڑی راجپوت، رام کرپال یادو اپنی برادری سے آتے ہیں۔ یہ تینوں ذاتیں بہار کی سیاست میں اہم مانی جاتی ہیں۔ لوک سبھا چناؤ میں بھاجپا کو اس سے کافی فائدہ ملا تھا اور امید کی جارہی ہے کہ اسمبلی میں بھاجپا کو مدد ملے گی۔ ویسے بھی بہار میں اگر مودی کے نام پر کوئی لیڈر سب سے زیادہ ابھرا ہے اور اس معاملے میں نتیش کمار پر حملہ کیاہے تو وہ گری راج سنگھ ہی ہیں لیکن ان کو جگہ تب ملی ہے جب نتیش کمار جیسے کٹر بھومی ہار برادری کے اندر وزیر کا عہدہ نہ ملنے کے سبب ناراضگی کو بھنانے کی کوشش کرتے دکھائی دئے۔ اسی طرح رام کرپال یادوکو دو اسباب سے وزیر کی کرسی ملی ہے ایک تو لالو کی بیٹی کو ہراکر پارلیمنٹ پہنچے ، دوسرا بھاجپا رام کرپال کے ذریعے سے اپوزیشن پارٹیوں کے ان لیڈروں کو پیغام دے رہی ہے جو مانتے رہے ہیں کہ بھاجپا میں جانے کے بعد وہ حاشیے پر چلے جائیں گے۔ یہی وجہ ہے کبھی کانگریس کے سرکردہ لیڈر انہیں چودھری ویریندر سنگھ کو کیبنٹ توسیع میں جگہ ملی۔ ویریندر سنگھ کے سیاسی تجربے کو پارٹی پڑوسی ریاستوں میں بھنانے کا کام کرے گی۔ دہلی، اترپردیش کے چناؤ میں نئے مرکزی وزیر ویریندر سنگھ کو اہم ذمہ داری دے سکتی ہے۔ ہریانہ سے لگی ریاست دہلی کی ایک درجن سے زیادہ سیٹوں پر جاٹ ووٹر کافی تعداد میں ہیں۔ کانگریس کے چلتے ویریندر سنگھ دہلی اور اترپردیش دونوں ہی ریاستوں کے انچارج رہے ہیں۔ اس کے علاوہ مغربی اترپردیش کے جاٹ ووٹروں کو لبھانے کا کام بھی مستقبل میں ویریندر سنگھ کے کندھوں پر ڈالا جائے گا۔ کیبنٹ میں شامل کر اس بات کے بھی اشارے دئے گئے ہیں کہ بھاجپا ہریانہ میں صرف غیر جاٹ برادری کی سیاست نہیں کرے گی۔ ہریانہ میں بھاجپا نے وزیر اعلی غیرجاٹ کو بنایا ہے تو مرکز میں وزیر ہریانہ کے قد آور جاٹ لیڈر کو بنا دیا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی کیبنٹ توسیع میں ایک ایسا نام ہے جو نہ صرف حیران کررہا ہے بلکہ ایم پی بھی پہلی بار بنے ہیں۔ پنجاب کے ہوشیار پور سے پہلی بار ایم پی چنے گئے دلت لیڈر وجے سانپلا کو کیبنٹ میں شامل کرنے کے پیچھے پنجاب میں بھاجپا کی بنیاد کرنا ہوسکتا ہے۔ پنجاب میں شرومنی اکالی دل کے ساتھ سرکار چلا رہی بھاجپا اب یہاں بھی اکیلے چلنے کی راہ تلاشنے میں لگی ہے۔ کل ملاکر مودی کا چہرہ اور امت شاہ کی مائیکرو مینجمنٹ اس وقت پورے شباب پر ہے۔
(انل نریندر)

لڑکیوں پر علیگڑھ مسلم یونیورسٹی لائبریری میں پابندی سے مچا ہنگامہ!

علیگڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے وائس چانسلر ضمیر الدین شاہ کے اس بیان کے بعد تنازعہ کھڑا ہوگیا ہے کہ یونیورسٹی کے لائبریری میں گریجویٹ سطح کی تعلیم حاصل کررہی طالبات کو اندر جانے کی اجازت دینے کے بعدوہاں زیادہ سے زیادہ لڑکے آنے لگیں گے۔ وائس چانسلر لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) ضمیر الدین شاہ نے مبینہ طور پر کہا تھا کہ اگر مولانا آزاد لائبریری میں لڑکیوں کو داخل ہونے کی اجازت دی تو وہاں لڑکوں کی تعداد چار گنا بڑھ جائے گی۔ 1960 میں مولانا آزاد لائبریری کے قائم ہونے کے بعد سے ہی لیڈی کالج کی طالبات کو اس میں اینٹری نہیں مل رہی ہے۔ اس بار اسٹوڈینٹ یونین کے چناؤ میں اسے اشو بنایا گیا ہے۔ لیڈی کالج اسٹوڈینٹ ایسوسی ایشن کے ایک اجلاس میں نائب صدر نورعین بتول سمیت کئی لیڈروں نے وائس چانسلر کے سامنے یہ اشو اٹھایا تھا کہ کیا لیڈی کالج کی طالبات مولانا آزاد لائبریری کی حقدار نہیں ہیں؟ جواب میں وائس چانسلرمسٹر ضمیر الدین شاہ نے کہا تھا کہ لڑکیوں کو اجازت ملنے سے وہاں طلبا کی آمد زیادہ ہوجائے گی اس لئے انہیں اجازت نہیں دی گئی ہے کیونکہ وہاں زیادہ جگہ نہیں ہے لیکن ان کے اس فیصلے کو جان بوجھ کر لڑکیوں کی مخالفت کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ گریجویشن کی تعلیم کو چھوڑ کر سبھی نساب کی کلاسوں میں ہزاروں طالبات لائبریری کا استعمال کررہی ہیں۔ انڈر گریجویٹ لڑکیوں کے لئے پہلے ہی لائبریری ان کے کالج میں کھلی ہوئی ہے اور مولانا آزاد لائبریری کالج سے تین کلو میٹر دوری پر ہے۔مرکزی وزیر انسانی وسائل محترمہ اسمرتی ایرانی نے اسے بیٹیوں کی توہین قراردیا ہے۔ اقلیتی امور کی وزیر نجمہ ہیبت اللہ نے کہا لائبریری میں جگہ کی کمی ہے تو طالبات ہی کیوں روکی جائیں وہاں جگہ کو بڑھایا بھی جاسکتا ہے۔کیبنٹ میں شامل کئے گئے نئے وزیر مملکت مختار عباس نقوی نے کہا ایسی رائے زنی سماج کو قابل قبول نہیں ہے۔ نجمہ کا کہنا ہے میں اسے بہت ہی افسوسناک مانتی ہوں خاص کر مولانا آزاد کی صد سالہ تقریب کے موقعہ پر۔ مولانا آزاد نے 62 برس پہلے لڑکیوں کی تعلیم پر اپنی خاص توجہ مرکوز کی تھی۔ میں حیرت زدہ ہوں کہ آج کے دن کسی ادارے کا سربراہ اس طرح کی بات کرے تو یہ حیرت میں ڈالنے والی بات ہے۔ ادھر اے ایم یو کی اسٹوڈینٹ فیڈریشن نے اس مسئلے کو بڑھا چڑھا کر منفی خبروں کے خلاف بدھوار کو مظاہرہ کیا۔ سرسید چوراہے پر2000 سے زیادہ طالبات نے اس میں حصہ لیا۔ ایسوسی ایشن کی صدر گل افشاں خاں نے کہا کہ جس ڈھنگ سے میڈیا نے ان کے مطالبے کو توڑ مروڑ کر پیش کیا ہے اس سے طالبات میں کافی ناراضگی پائی جاتی ہے۔ مظاہرین نے ایک اہم اخبار کا پتلا بھی جلایا۔ وائس چانسلر کا نظریہ دقیانوسی ہے اور یہ طالبات کے تئیں پہلے سے ان کی لچر ذہنیت کی دلیل ہے۔ اب کیا جہاں جہاں جگہ کم ہوگی وہاں وہاں لڑکیوں پر پابندی لگے گی؟ یونیورسٹی کے وائس چانسلر کے رویئے کے خلاف ناراضگی فطری ہے لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ مل بیٹھ کر معاملے کو سلجھائیں۔ وائس چانسلر ضمیر الدین شاہ نصیرالدین شاہ کے بھائی ہیں۔
(انل نریندر)

14 نومبر 2014

عدم اعتماد کے درمیان اعتماد کا ووٹ!

مہاراشٹر اسمبلی میں بدھ کے روز جن پارٹیوں نے 25 سال تک مل کر ایک ساتھ آواز بلند کی تھی وہی ایوان میں ایک دوسرے کی مخالفت میں آواز اٹھاتی نظر آئیں۔مہاراشٹر اسمبلی میں شیو سینا کے بھاری احتجاج کے باوجودبی جے پی سرکار نے بھاری ہنگامہ کے درمیان ڈرامائی طریقے سے اعتماد کا ووٹ حاصل کرلیا ہے۔ وزیر اعلی دویندر پھڑنویس اگلے 6 مہینے تک محفوظ ہوگئے ہیں کیونکہ ایک بار اعتماد کا ووٹ مل جانے پر 6 مہینے سے پہلے اکثریت پر کوئی انگلی نہیں اٹھائی جاسکتی۔ بی جے پی ممبر اسمبلی آشیش شیلار نے اعتماد کے ووٹ کے لئے ایک لائن کی تجویز پیش کی تھی۔ اسمبلی اسپیکر نے ممبران سے ہاں اور نہ میں جواب لیا، جسے صوتی ووٹ کہا جاتا ہے۔شیو سینا اورکانگریس ڈویجن یعنی ووٹنگ کی مانگ کرتے ہوئے احتجاج کرنے لگے۔ سرکار کو باہر سے حمایت دینے کا اعلان کرچکی این سی پی کے ممبر اسمبلی خاموش بیٹھے رہے۔ ہنگامہ کے درمیان اسمبلی اسپیکر نے اعتماد کا ووٹ پاس ہونے کا اعلان کردیا۔ بیشک پھڑنویس سرکار نے زور زبردستی سے یہ اعتماد کا ووٹ پاس کرا لیا ہے لیکن سرکار کتنی ٹھیک ٹھاک کام کرے گی اس پر سوالیہ نشان کھڑا ہوگیا ہے۔ بہتر ہوتا کہ سرکار ڈویجن یعنی ووٹنگ کروادیتی۔ اس کے پاس ہاؤس کے اندر اکثریت تو تھی کیونکہ این سی پی ا س کی حمایت کررہی تھی۔ اب سرکار نے اپوزیشن کو تنقید کرنے کا موقعہ دے دیا۔ 25سال کا رشتہ بدھ کے روز تار تار ہوگیا۔ اس کیلئے دونوں بھاجپا اور شیو سینا ذمہ دار ہیں۔ بالا صاحب ٹھاکرے اور پرمود مہاجن کی کمی محسوس ہوئی کیونکہ وہ جب تک زندہ رہے بھاجپا اور شیو سینا اتحاد کو چلاتے رہے۔ اب اودھو ٹھاکرے کی اکڑ اور سمجھوتہ نہ کرنے کی ضد نے آج پارٹی کو یہاں لا کر کھڑا کردیا ہے۔ اودھو نے یہ نہیں سمجھا کہ سامنے مودی۔ شاہ کی جوڑی ہے، جو کسی کے دباؤ میں یا بلیک میل کے آگے سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ پھر اودھو ٹھاکرے دن میں کئی بار اپنا موقف بدلتے رہے۔ وہ کسی بھی موقف پر نہیں ٹکتے۔ صبح کو کچھ اور دوپہر کچھ اور شام کو کچھ۔ دوسری طرف بھاجپا نے بھی اپنی پوزیشن خراب کرلی ہے۔ چناؤ کمپین کے دوران نریندر مودی نے این سی پی کو نیچرل کھٹ پٹ پارٹی کہہ دیاتھا۔ آج اسی پارٹی سے صرف اقتدار کی خاطر سمجھوتہ کرلیا ہے۔ دوسرا الزام بھاجپا پر یہ لگتا ہے کہ وہ اپنے اتحادی ساتھیوں کو ساتھ لیکر نہیں چل سکتی۔ پہلے ہریانہ اور اب مہاراشٹر اور مستقبل قریب میں اکالی دل سبھی کا ساتھ بھاجپا چھوڑتی جارہی ہے۔ سوال یہ بھی ہے کہ سرکار کیسے ٹھیک ٹھاک چلے گی؟ اسمبلی ودھان کونسل میں اس کی پوزیشن بہت کمزور ہے۔ این سی پی کے سب سے زیادہ ممبر ہیں اور اہم پچھلے بل پاس کرانے میں مشکلیں آئیں گی۔ حالت تقریباً پارلیمنٹ کی طرح ہے جہاں راجیہ سبھا میں بھاجپا کی پوزیشن کمزور ہے۔ مہاراشٹر میں جو ہوا اس سے بھاجپا نے اپنے اوپر تنقید کا موقعہ دے دیا ہے اور یہ پیغام گیا ہے کہ اب وہ صرف اقتدار کی سیاست کرتی ہے۔ جوڑ توڑ اور کسی بھی طرح سرکار بناؤ۔
(انل نریندر)

آن لائن شاپنگ بکری 400 فیصد بڑھی، دوکانوں کا کاروبار45 فیصد گھٹا!

سجے ہوئے روایتی بازاروں کو آن لائن شاپنگ نے سخت ٹکر دینا شروع کردی ہے۔ ان دوکانوں کی طرح ہی آن لائن خوردہ کاروباریوں کے پاس ہر سامان دستیاب ہے۔ یہ کاروبار کتابوں سے شروع ہوا۔ یہ سلسلہ فرنیچر، کپڑوں اور گھریلو سامان سے لیکر پھل اور بیوٹی سازو سامان تک پہنچ گیا۔ یہ لسٹ ہردن بڑھتی جارہی ہے۔ ایک آن لائن شاپنگ سائٹ کا دعوی ہے اس کے ساتھ 50 ہزار گراہک جڑے ہوئے ہیں۔ اس خریداری کے دھندے میں گھسنا آسان ہے کیونکہ آپ اپنے بیڈ روم سے لیکر دفتر یا گاڑی کہیں سے بھی آرڈر دے سکتے ہیں اور سامان خود بخود آپ کے گھر پہنچ جائے گا۔ جانے کا بھی جھنجھٹ نہیں۔ اگر کسی وجہ سے آپ کا خریدہ آئٹم پسند نہیں تو وہ واپس بھی ہوسکتا ہے اور بدلا بھی جاسکتا ہے۔ حالیہ تہواری سیزن میں ریٹیل آن لائن کمپنیوں نے پچھلے برس قریب4 گنا سے زیادہ کاروبار کیا جبکہ عام دوکان اور خوردہ اسٹور میں کاروبار میں گراوٹ آئی ہے۔ تاجروں کا کاروبار45 فیصدی کم رہا۔ ٹریڈرس ایسوسی ایشن نے ای کامرس کمپنیوں کے لئے قاعدے اور شرائط ریگولیٹری اتھارٹی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ خوردہ سامان بیچنے والی کمپنیاں آن لائن شاپنگ کا متبادل گراہکوں کو دیکر کاروباری سطح پر برقرار رکھنے میں کامیاب رہی ہیں۔ صرف الیکٹرانک سامان کی بکری میں ہی گراوٹ درج کی گئی ہے۔ کنفیڈریشن آف آل انڈیا ٹریڈرس کے جنرل سکریٹری پروین کھنڈیلوال کا کہنا ہے آن لائن شاپنگ کمپنیوں کی وجہ سے تہواری سیزن میں ہمارا45 فیصدی کاروبار کم ہوا ہے۔ ہمارے لئے سبھی طرح کے 24 قاعدے قانون ہیں جبکہ ان کمپنیوں کے لئے کوئی قاعدہ نہیں ہے۔ ہم نے وزیر تجارت و صنعت نرملا سیتا رمن کو تین شکایتی خط لکھے ہیں اور ان سے ملے بھی ہیں۔ یہ کمپنیاں کیسے بھاری چھوٹ دیکر اور خسارہ برداشت کر کاروبار کررہی ہیں۔ یہ کمپنیاں بھاری چھوٹ اس لئے دے رہی ہیں کیونکہ یہ سیدھا کمپنیوں سے تھوک مال خریدتے ہیں اوران کو کسی سجا دھجا کی ضرورت نہیں۔ دیش کے 6 کروڑ ٹریڈرز 31 لاکھ کروڑ روپے یومیہ کا کاروبار اور30 کروڑ لوگوں کی روزی روٹی داؤ پر آگئی ہے۔ مسئلے کا حل نہیں ہوا تو ہم کنزیومر کمیشن اور سپریم کورٹ جائیں گے۔ ایسوسی ایشن کے سکریٹری جنرل ڈی ایس راوت نے بتایا کہ تہوار دسہرہ اور دیوالی کے درمیان اس برس400 فیصدی تک اپنے کاروبار کو بڑھایا۔ کمپنیوں نے قریب15 ہزار کروڑ روپے کی سیل کی ہے۔ مختلف ریسرچ کے مطابق حال میں دیش میں 4 بلین ڈالر یعنی24 ہزار400 کروڑکی یہ صنعت اگلے پانچ برس بعد 90 بلین ڈالر ہوجائے گی۔ریٹیلرز کی خوش قسمتی یہ ہے کہ ای کامرس یعنی آن لائن شاپنگ فی الحال بڑے شہروں تک محدود ہے۔ چھوٹے شہروں اور قصبوں میں انٹرنیٹ کی سہولت نہیں ہے لیکن آنے والے برسوں میں یہ بھی کمی پوری ہوجائے گی۔
(انل نریندر)

13 نومبر 2014

کیبنٹ توسیع میں مودی اسٹائل!

زیادہ سے زیادہ گورننس اور کم از کم گورنمنٹ کا نعرہ دینے والے وزیر اعظم نریندر مودی نے جس طرح سے حکومت بننے کے 6 مہینے کے اندر ہی پھر سے اپنے وزیروں کے قلمدان بدلے، اس سے کئی طرح کے سوال کھڑے ہونے لگے ہیں۔ خاص طور سے دو سینئر وزرا کی بھاری بھرکم وزارتیں بدل ڈالی ہیں۔ ان پر انگلیاں اٹھ رہی ہیں۔ اس کے علاوہ کیبنٹ توسیع میں کئی نئے وزراء پر بھی سوال کھڑے کئے جارہے ہیں۔ سب سے زیادہ بحث دہلی میںآر ایس ایس کی سب سے پہلی پسند ڈاکٹر ہرش وردھن اور سدانند گوڑا کے محکمے بدلنے کو لیکر ہے۔ دونوں کو پہلے کے مقابلے ہلکی وزارتیں ملنے کی وجوہات جانی جارہی ہیں۔ اس ہلکی وزارت ملنے کا مطلب عام طور پر یہ لگایا جاتا ہے کہ وزیر اعظم ان کے کام کاج سے خوش نہیں ہیں۔ یہی وزیر اعظم نریندر مودی کا اسٹائل ہے۔پی ایم کے اسی اسٹائل کا ایک نمونہ ارون جیٹلی، سریش پربھو اور جگت پرکاش نڈا کے معاملے کو بھی دیکھا جاسکتا۔ بڑھتی ضروریات ارون جیٹلی کی درخواست پر ان سے وزارت دفاع تو لے لیا گیا لیکن ان کی بڑھی اہمیت کو وزیر اطلاعات و نشریات وزارت دیکر ایک بار پھر صاف کردیا کہ دیگر کسی وزیر کے پاس اتنے بڑی دو وزارتیں نہیں ہیں۔ برسوں سے شیو سینا کے ایک لیڈر کی حیثیت سے نام پانے والے لیکن کئی برسوں تک گجرات کے وزیر اعلی کے ایک طرح سے مشیر کار اور بھروسے مند رہے سریش پربھو کو ریل وزارت کی ذمہ داری دینا بھی پی ایم کے اسی انداز کا حصہ مانا جارہا ہے۔ ہرش وردھن کو ہلکی وزارت دئے جانے کے پیچھے ایمس کے سی وی سی عہدے سے سنجیو چترویدی کو ہٹانے کا فیصلہ وجہ مانی جارہی ہے وہیں جے پی نڈا کو ہیلتھ وزارت دینے پر سوال اٹھ رہے ہیں۔ چترویدی کو ہٹانے کے لئے جن لیڈروں نے کوشش کی تھی ان میں نڈا کا نام بھی خاص طور سے لیا جاتا رہا ہے۔ ڈاکٹر ہرش وردھن کے کچھ حمایتی کہتے ہیں کہ پی ایم اس وزارت میں تیزی سے بہتر نتائج کے لئے ایک اچھے وزیر کو لانا چاہتے تھے۔ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ دہلی چناؤ میں پھر سے ہرش وردھن کو وزیر اعلی کے طور پر پیش کرنے کی تیاری کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔ نریندر مودی کیبنٹ توسیع کے دوسرے دن اور کانگریس اور عام آدمی پارٹی نے نئے وزرا پر سوال اٹھائے۔ کانگریس نے کہا کہ دیش سے کرپشن مٹانے کا وعدہ کرنے والے مودی نے اپنی کیبنٹ میں مجرمانہ الزامات میں گھرے وزرا کو شامل کرلیا ہے۔ کانگریس کے نشانے پر رما شنکر کٹھوریا، گری راج سنگھ، وائی ایس چودھری جیسے کئی وزرا تھے۔ کانگریس سکریٹری جنرل اجے ماکن نے سوال اٹھایا کہ آخر مودی کی کیا مجبوری تھی کہ انہوں نے ایسے لوگوں کو اپنی ٹیم میں رکھا؟ چناوی حلف نامے میں رما شنکر کٹھوریا نے مانا کہ ان پر23 مقدمے ہیں۔ ممکن ہے دیگر کسی ایم پی کا اتنا زبردست کرمنل ریکارڈ نہیں ہوگا۔وی ایس چودھری کی کمپنی نے 3017.6 کروڑ کا بینک لون نہیں چکایا ہے۔ گری راج سنگھ کے گھر چوری کے بعد چور سے 1.25 کروڑ روپے ملے تھے ، اتنی رقم ان کے پاس کہاں سے آئی یہ معلوم نہیں ہو پایا۔ ایمس کے چیف ویجی لینس افسر سنجیو چترویدی کا تبادلہ تو جے پی نڈا کی شکایت پر کردیا گیا ،اب انہیں ہیلتھ وزارت دے دی گئی ہے۔ اپنی چناوی کمپین کے دوران نریندر مودی نے پارلیمنٹ سے جرائم پیشہ لوگوں کے سفائے کی بات کہی تھی لیکن اس کے الٹ ان کی وزارت میں ملزم وزرا شامل کرلئے گئے ہیں۔ اس سے سوال اٹھنا تو فطری ہے لیکن نریندر مودی اپنے ہی اسٹائل سے کام کرتے ہیں وہ بنا سوچے سمجھے کوئی قدم نہیں اٹھاتے۔ جو کرتے ہیں اس کے پیچھے کوئی نہ کوئی وجہ ضرور ہوتی ہے۔ مودی کے اسٹائل سے واقف سب یہ بات سمجھ رہے ہیں۔
(انل نریندر)

جی۔ کے واسن کی بغاوت کانگریس کیلئے خطرے کی گھنٹی!

دیش کی سب سے پرانی پارٹی کانگریس اس وقت اپنے سب سے بڑے بحران سے دوچار ہے۔ تاملناڈو کے سینئر کانگریسی لیڈر جی۔ کے واسن نے ایسے وقت میں پارٹی سے بغاوت کی ہے جب پارٹی صدر سونیا گاندھی اور نائب صدر راہل گاندھی کی لیڈر شپ کو لیکر سوال اٹھ رہے ہیں۔ جس میں پارٹی کی پریشانی اور بڑھ رہی ہے۔ تقریباً5 مہینے پہلے لوک سبھا چناؤ میں بھاری شکست کے بعد پارٹی میں ناراضگی کی آوازیں اٹھنے لگیں لیکن یہ پہلا موقعہ ہے جب کسی ریاست کے اہم لیڈر نے الگ پارٹی بنانے کا اعلان کیا ہو۔ جی۔ کے واسن کے والد کے مپنار نے 1996 میں کانگریس چھوڑ کر تمل منیلا کانگریس بنائی تھی تب کانگریس کے ستارے گردش میں ہوا کرتے تھے۔ حالانکہ واسن کا یہ قدم پوری طرح سے مرکوز ہے۔ جہاں آمدنی سے زیادہ املاک کے معاملے میں جے للتا کو سزا سنائے جانے کے بعد وہاں حالات تیزی سے بدلے ہیں۔ اصل میں ریاست کی دونوں بڑی پارٹیاں انا ڈی ایم کے اور ڈی ایم کے کے لیڈرایم کروناندھی جس طرح سے کرپشن کے معاملوں میں قانونی شکنجے میں پھنستے جارہے ہیں اس سے ریاست کی سیاست و تجزیئے بدل رہے ہیں۔ ریاست میں ڈیڑھ سال بعد اسمبلی چناؤ ہونے ہیں۔ اگر آنے والے وقت میں سپریم کورٹ نے جے للتا کی سزا برقرار رکھی اور اگر ٹو جی معاملے میں کنی موہی، دیالو امل اور اے راجہ کو سزا سنا دی ، تب ان دونوں پارٹیوں کے لئے اسمبلی چناؤ میں ووٹروں کا سامنا کرنا مشکل ہوجائے گا۔ لیکن اس کا فائدہ کانگریس شاید ہی اٹھا سکے۔ پچھلے لوک سبھا چناؤ میں پارٹی ریاست سے ایک بھی سیٹ نہیں جیت سکی۔ حالت یہ ہے کہ پی چدمبرم اور ان کے بیٹے کانتی چدمبرم نے بھی بغاوت کے سر اٹھانے شروع کردئے ہیں۔کانگریس لیڈر شپ کے خلاف بغاوت اور دوسری ریاستوں میں بھی پہنچ رہی ہے۔ چاہے وہ مہاراشٹر اوریا ہریانہ، جارکھنڈ اور جموں و کشمیر کے چناؤ سر پر ہیں لیکن کانگریس اندرونی بحران میں پھنسی ہوئی ہے۔ لیڈروں کی آپسی بیان بازی اور پھر رابرٹ واڈرا معاملہ سمیت تمام تنازعوں میں پارٹی کو گھرنا پڑا ہے۔ ان سب کے چلتے پارٹی کی لیڈر شپ میں دونوں ریاستوں کی چناوی تیاریوں پر اثر پڑنے کا ڈر ستانے لگا ہے۔ آنے والے دنوں میں کئی ریاستوں میں پارٹی کی پنپ رہی بغاوت اور گروپ بندی سے پارٹی ہائی کمان کو سیدھا مقابلہ کرنا پڑے گا۔ جھارکھنڈ۔ جموں و کشمیر میں25 نومبر کو پولنگ ہونے والی ہے۔ اگر اندرونی بحران سے پارٹی نہیں نکل پاتی ہے آج کانگریس کی سب سے بڑی پریشانی یہ ہے کہ سونیا پہلے جیسی لیڈر شپ دینے کی پوزیشن میں نہیں دکھائی دیتیں جبکہ راہل گاندھی اپنی صلاحیتوں سے اور آگے بڑھ کر لیڈر شپ کرنے کی ان کی قوت ارادی پر سوال کھڑے ہوتے گئے ساتھ ہی سیاسی فلک پر پارٹی کی پہچان پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔ ضروری تو یہ تھا کہ لوک سبھا چناؤ میں ہار کے بعد پارٹی اورلیڈر شپ کے سوالوں کا جواب تلاشتی لیکن کوشش یہ ہوئی کہ لیپا پوتی کرکے سارے اشوز کو دبا دیا گیا۔ آج ہر کانگریسی لیڈر شپ کو لیکر پریشان ہے۔ انہیں نہیں لگتا موجودہ قیادت میں ان کے اچھے دن آنے والے ہیں۔ تاملناڈو سے شروع ہوئی بغاوت اور کئی ریاستوں میں بھی پھیل سکتی ہے؟
(انل نریندر)

12 نومبر 2014

اترپردیش میں’’مایا‘‘کی سیاست!

سیاست میں پیسے کا کھیل چلتا ہے یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں ہے اور نہ ہی کسی سے یہ بات چھپی ہوئی ہے کہ پارٹی کو لڑنے و پارٹی چلانے کیلئے پیسے کی ضرورت ہوتی ہے۔ پیسہ اکھٹا کرنے کا ایک ٹھوس طریقہ ہے ٹکٹوں کا بٹوارہ۔ سب جانتے ہیں لیکن بات کوئی نہیں کرتا۔ اترپردیش کی سیاست میں یہ پہلا موقعہ ہے جب بہوجن سماج پارٹی چیف مایاوتی نے اس اشو کے بارے میں پریس کانفرنس کرکے انکشاف کیا ہے۔ مایاوتی نے سابق مرکزی وزیر ڈاکٹر اکھلیش داس کے پارٹی چھوڑنے اور ان پر الزام لگانے کا کرارا جواب دیا ہے۔ بسپا کے راجیہ سبھا میں ممبر ڈاکٹر اکھلیش داس نے الزام لگایا تھا بسپا میں بغیر پیسے کے ٹکٹ نہیں ملتا۔ ایسے میں انہیں بسپا سے الگ ہونے پر مجبور ہونا پڑا۔ داس کا کہنا ہے کہ اسمبلی چناؤ میں جنرل سیٹ کے لئے 1 کروڑ روپے اور ریزرو سیٹ کے لئے50 لاکھ روپے کی مانگ کی جاتی ہے۔ یہ لین دین کسی کے سامنے نہیں ہوتا۔ مایاوتی نے اس الزام کا کرارا جواب دیتے ہوئے کہا ڈاکٹر داس 100 کروڑ روپے دے کر پارٹی کا ٹکٹ پانا چاہتے تھے لیکن پارٹی نے طے کیا ہے کہ وہ200 کروڑ بھی دیں تو انہیں ٹکٹ نہیں دیا جائے گا۔ راجیہ سبھا کے امیدوار کے اعلان کے بعد مایاوتی سے ڈاکٹر داس کے پارٹی چھوڑنے اور ٹکٹ کیلئے پیسے کے الزام پر رد عمل مانگا تھا۔ مایاوتی نے کہا کہ داس پہلے کانگریس میں ہوا کرتے تھے جب بسپا میں آئے تو کانگریس نائب پردھان راہل گاندھی پر بھی الزام لگائے گئے۔ بسپا میں آنے پر ویشہ سماج کو پارٹی کو جوڑنے کا وعدہ کیا اور راجیہ سبھا ٹکٹ دینے کی گزارش کی تھی۔ سچ کیا ہے یہ تو مایاوتی اور اکھلیش داس ہی جانتے ہوں گے لیکن اس پورے واقعہ سے ایک بات تو صاف ہوگئی ہے کہ سیاست میں اصولی اقدار ختم ہوچکی ہیں۔ ایک وقت تھا جب راجیہ سبھا میں اعلی تعلیم یافتہ دانشور ،ڈاکٹر، سائنسداں، ادیب اور صحافی بھیجے جاتے تھے اور وہ کسی بھی قومی اشو پر ہورہی بحث میں حصہ لیاکرتے تھے۔ لوگ انہیں سنتے بھی تھے لیکن پچھلے کچھ برسوں میں ٹیلنٹ پر پیسہ حاوی ہوگیا ہے۔ سیاسی اقدار محض قیمت میں بدل گئی ہے۔ آج محض پیسے کی طاقت پر نامی گرامی صنعت کار، تاجر پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں پہنچ رہے ہیں۔ پیسہ اتنا حاوی ہوگیا ہے کہ پارٹیاں شاطر جرائم پیشہ افراد کو ٹکٹ دینے سے پرہیز نہیں کرتیں۔ یہی وجہ ہے کہ ممبران پارلیمنٹ میں باغیوں کی تعداد مسلسل بڑھتی جارہی ہے۔ علاقائی پارٹیوں کے لیڈروں نے دھن کبیروں کو ٹکٹ دے کر اپنی جیبیں بھری ہیں۔ بابا صاحب امبیڈکر، مہاتما گاندھی اور دیگر معزز شخصیات کا نام محض بھنایا جاتا ہے۔ ان کے اصولوں پر کون چل رہا ہے؟ ایسا نہیں ہے کہ آج سیاست میں شاندار لوگوں کی کوئی جگہ نہیں لیکن اگر کسی چیز کی سخت ضرورت ہے تو وہ یہ کہ سیاست میں روایتی اقدار کی بنیاد پر ٹکٹ بٹوارہ کریں۔ وزیر اعظم نریندر مودی بھی اسی میں یقین رکھتے ہیں اور سیاست کو گنگا کی طرح صاف ستھرا بنانے کی کوشش میں لگے ہیں۔
(انل نریندر)

کیا مارا گیا ہے ابو بکر البغدادی؟

عراق اور شام میں خلافت کا اعلان کرن والی انتہا پسند تنظیم اسلامک اسٹیٹ(آئی ایس) کے سرغنہ ابو بکر البغدادی کے مارے جانے کی خبریں آرہی ہیں۔ حالانکہ بغدادی کے مارے جانے کی ان خبروں کی کوئی تصدیق نہیں ہو پائی ہے لیکن اتنا تو طے ہے کہ اگر وہ مرا نہیں تو زخمی ضرور ہوگیا ہے۔ بتایا جاتا ہے بغدادی سمیت آئی ایس کے کئی بڑے آتنکی پچھلے سنیچر کو شمال مغربی عراق میں ہوئے ایک اجلاس میں اس وقت شامل ہوئے تھے جب امریکہ کی رہنمائی والی اتحادی فوجوں نے ان پر تابڑتوڑ حملے کردئے۔ عراقی افسر اس بات کی جانچ کررہے ہیں کہ امریکہ اور اس کے اتحادی فوجوں کے ہوائی حملوں میں بغدادی مارا گیا ہے یا نہیں؟ اگر حملوں میں بغدادی کی موت ہوگئی ہے تو آئی ایس کے خلاف ہوائی حملے کررہے ملکوں کی بڑی جیت مانی جائے گی اور اس سے عراق کا بڑا علاقہ قبضانے والے جہادیوں سے زمین پھر سے واپس لینے کے لئے عراقی فورسز کی آپریشن میں مدد ملے گی۔ امریکی صدر براک اوبامہ کے ذریعے عراق کی فورسز کو مشورہ اور تربیت دینے کیلئے ڈیڑھ ہزار مزید امریکی فوجی بھیجنے کا اعلان کرنے کے بعد حملوں کی شروعات کی گئی۔ بغدادی کے حملوں میں مارے جانے کی خبر کے بارے میں پوچھے جانے پر ایک عراقی خفیہ افسر نے بتایا کہ اب تک کوئی پختہ جانکاری دستیاب نہیں ہے۔ ایک عراقی سکیورٹی افسر نے اور ایک فوجی کمانڈر نے بتایا کہ عنبر صوبے میں قائم قصبے کے پاس آئی ایس کا اجلاس ہورہا تھا جب ان پر امریکی حملے ہوئے۔ یہ علاقہ شام کے سرحدی قصبے بقامل کے پاس ہے۔ یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ حملے میں بغدادی یا تو بری طرح زخمی ہوا ہے یا پھر مارا گیا ہے۔ اگر بغدادی کے مارے جانے کی خبر صحیح پائی جاتی ہے تو یہ اوبامہ کے لئے حال میں ہوئے وسط مدتی چناؤ میں ہار کے بعد راحت اور باقی بچے دو سال کی میعاد کیلئے ایک سنجیونی ثابت ہوگی۔ غور طلب ہے کہ واشنگٹن پوسٹ نے ابو بکر البغدادی کو پکڑنے میں مدد کرنے والے کو 1 کروڑ ڈالر انعام کا اعلان کیا تھا۔ بغدادی کے ذریعے ڈھائے جارہے مظالم کے روز روز نئے نئے قصے سامنے آتے ہیں۔ خود کو خلیفہ بنا کر یہ دہشت گرد سرغنہ مشرقی وسطی کا نقشہ ہی بدلنے کی کوشش میں ہے۔ آنے والے دنوں میں شاید تصویر اور صاف ہوجائے گی کہ بغدادی مارا گیا ہے یا زخمی ہوا ہے؟
(انل نریندر)

11 نومبر 2014

وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ کا کامیاب اسرائیل دورہ!

باہمی رشتوں کو مضبوط بنانے کے مقصد سے وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ کا دورہ اسرائیل کامیاب رہا۔ انہوں نے اپنے اس دورے میں کئی ایسے اشو اٹھائے جو دونوں ملکوں کو متاثر کرتے ہیں۔ مودی سرکارنے اسرائیل کے تئیں دوستی کا ہاتھ بڑھایا۔ یوپی اے سرکار اس دیش کے تئیں دوستی کرنے میں کم سے کم کھلے طور سے سامنے آنے سے کتراتی رہی ہے کہ کہیں عرب ممالک ہم سے ناراض نہ ہوجائیں؟ منموہن سرکار کو دیش کے اقلیتی ووٹوں کی فکر نے بھی اسرائیل کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھانے سے قباحت کرنا بھی اسی پالیسی کا نتیجہ تھا۔ وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے اسرائیل کے وزیر اعظم بنجامن نتن یاہو سے ملاقات کے دوران دہشت گردی کا اشو اٹھایا۔ عالمی دہشت گردی کے بڑھتے خطرات کی نشاندہی کرتے ہوئے بھارت اور اسرائیل نے اس سے مقابلے اور سائبر سکیورٹی سیکٹر میں تعاون بڑھانے کا عہد کیا ہے۔ بنجامن نتن یاہو سے اپنی ملاقات میں وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے علاقائی حالات اور دہشت گردی کی وجہ سے عالمی برادری میں بروقت درپیش خطروں پر تبادلہ خیال کیا۔ دونوں لیڈروں نے دہشت گردی کو بین الاقوامی اشو مانتے ہوئے آپسی اشتراک کی موجودہ پوزیشن اور اس خطرے سے نمٹنے کے لئے مستقبل کے منصوبوں اور امکانات کا جائزہ لیا۔ اسرائیل کے ساتھ بھارت کے ڈیفنس اور ذرعی سیکٹر میں بھی اچھے رشتے ہیں۔ دونوں ہی سیکٹروں میں موجودہ تعلقات پر تشفی ظاہر کرتے ہوئے راجناتھ سنگھ نے کہا معلومات پر مبنی معیشت والے دونوں ملکوں کے درمیان مستقبل میں سانجھے داری کو ہائی ٹیک بنانا ہوگا۔ دونوں لیڈر بے روک ٹوک تجارت سمجھوتے پر بھی رضامند ہوئے۔ وزیر داخلہ نے یہودیوں کے سب سے مقدس مقام پر جاکر بھارت کو پھر سے عالمی باس بنانے کی پرارتھنا کی۔راجناتھ یروشلم میں یہودیوں کے سب سے مقدس چرچ ویسٹن بال گئے اور اپنا سر جھکایا اور کچھ منٹ وہاں رہے۔انہوں نے وہاں بھارت کو ایک بڑے لیڈر کے عہدے پر گامزن ہونے کے بارے میں لکھا ہوا ایک پرچا دیکھا۔ اس بارے میں پوچھے جانے پر وزیر داخلہ نے کسی طرح کی رائے زنی سے انکار کردیا۔ اسرائیل کے وزیر اعظم بنجامن نتن یاہو نے سائنس اور ذرعی سیکٹر میں بھارت کی اہلیت کی سراہنا کی۔ ہندوستانی صلاحیت کی تعریف کرتے ہوئے نتن یاہو نے کہا بھارت نے ہمیشہ بہترین ماہر ریاضیات دی ہیں۔ راجناتھ نے بھی اسرائیل اور ہندوستان اور اس کے سائنسدانوں کے مختلف سیکٹروں میں کارناموں کی بھی تعریف کی۔ ادھر اسرائیل کے سابق صدر شیمون پیرس جس ایک مذاکرہ میں حصہ لینے دہلی آئے ہوئے تھے، کہا کہ نریندر مودی روایت اور صحیح تکنیک کو ملا کر ہندوستان کو نئی بلندیوں پر لے جانے کیلئے تیسرے انقلاب کا راستہ ہموار کررہے ہیں۔51 سالہ نوبل ایوارڈ یافتہ شیمون پیرس نے کہا پہلے انقلاب کا آغاز مہاتما گاندھی نے کیا تھا میں انہیں ایشور کا دوت مانتا ہوں اور اس کے بعد دوسرے انقلاب میں پنڈت جواہر لال نہرو نے بھارت کو کس طرح سے خودکفیل بنایا اور اس کے لئے بنیاد تیار کی۔ انہوں نے جو کچھ کیا وہ عام بات تھی اس کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی ہیں جن کے پاس بہت کچھ زیادہ تجربے کے ساتھ ساتھ بھارت کے لوگوں کے نظریوں کو سمجھنے کی صلاحیت ہے۔ مودی نے گاندھی کی آئیڈیالوجی اور نہرو کی اظہار آزادی کو ملا کر تیسرا انقلاب شروع کیا ہے۔ ہمیں ابھی اخلاقی طور پر فیصلے نہیں لینے چاہئیں۔ پیرس نے کہا ذرعی سیکٹر میں بھارت کو غذائی اور پانی حفاظت کے مقصد کوحاصل کرنے اور سمندری اور میڈیکل کھیتی کے امکانات تلاش کرنے کیلئے اسرائیل اور آسٹریلیا کے ساتھ یقینی طور سے مل کر کام کرنا چاہئے۔
(انل نریندر)

آخر اسامہ بن لادن کو کس نے مارا؟

دنیا کے سب سے خطرناک دہشت گرد اور القاعدہ سرغنہ اسامہ بن لادن کو مار گرانے والے امریکی بحریہ کی اسپیشل فورس نیوی شیل کمانڈو کی پہچان اب سامنے آگئی ہے۔ 2 مئی 2011 ء کو پاکستان کے ایبٹ آباد میں لادن کے سر پر تین گولیاں مارنے والے اس اسپیشل فورس کے کمانڈو کا نام ہے رابرٹ اونل۔ لادن کو مارنے والے اسپیشل دستے کا نام ابھی تک دنیا کیلئے معمہ بنا ہواتھا۔ امریکی حکومت نے اب تک اس کمانڈو کی پہچان راز میں رکھی ہوئی تھی مگر اب اپنی تنگدستی اور سرکار کی طرف سے بے رخی کا حوالہ دیتے ہوئے کمانڈو رابرٹ نیل خود ایک ٹی وی چینل کو انٹرویو دینے کیلئے تیار ہوگئے۔ ادھر لادن کو کس نے مارا یہ راز دو دن پہلے ہی کھلا تھا کہ اب اس پر تنازعہ کھڑا ہوگیا ہے۔ ایک طرف نیوی سیل کمانڈو نے دعوی کیا ہے کہ القاعدہ سرغنہ کے سر میں اس نے گولی ماری تھی۔ حالانکہ جس نیوی سیل کمانڈرو نے یہ دعوی کیا ہے اس کی پہچان ابھی راز میں رکھی گئی ہے۔ خیال رہے لادن کو مارنے والے مہم میں نیوی سیل کے 6 کمانڈو تھے۔ نیوی سیل کے سابق کمانڈو رابرٹ اونل نے واشنگٹن پوسٹ کے سامنے دعوی کیا تھا کہ انہوں نے ایبٹ آباد میں ہوئی کارروائی میں لادن کے سر میں تین گولیاں ماری تھیں۔ وہ جیسے ہی کمرے میں گھسے لادن ایک عورت کے کندھوں پر ہاتھ رکھ کرکھڑا تھا۔ یہ اس کی نوجواں بیوی تھی۔اگلے ہی پل میں نے اس کے سرمیں دو گولیاں ماریں اور وہ بیٹ پر جا گرا۔ اس کے بعد میں نے اسے ایک اور گولی ماری۔ ذرائع کے مطابق جس کمرے میں لادن تھا اس میں نیل سے پہلے داخل ہوئے سابق کمانڈو اور میٹ بیسونٹ سمیت دو لوگوں میں سے ایک نے لادن کو گولی ماری تھی۔ میٹ نے اپنے اسی تجربے کو لیکر بعد میں’نوانجرڈ ‘نام سے ایک کتاب بھی لکھی تھی۔ حالانکہ کتاب میں اس بات کا ذکر نہیں ہے کہ لادن کو پہلے گولی کس نے ماری تھی۔وہیں این بی سی نیوز نے میٹ کے حوالے سے کہا دو لوگوں نے الگ الگ کہانیاں بتائی ہیں۔ نیل نے جو بھی کہا وہ اسے ہی جانتے ہیں میں اس معاملے میں پڑنا نہیں چاہتا۔ کئی امریکی ٹی وی چینلوں میں آج کل یہ بحث جاری ہے کہ آخر لادن کوکس نے مارا؟ امریکہ میں پلے بڑھے 38 سال کے روبرٹ اونل کا انٹرویو اگلے ہفتے فوکس نیوز پر ٹیلی کاسٹ ہوگا جس میں وہ لادن کو مارنے کی کہانی لوگوں کو بتائے گا۔ ’دی مین ٹو کلڈ اسامہ بن لادن‘ نام کی دو گھنٹے کی یہ دستاویزی فلم دو حصوں میں ہے جسے 11-12 نومبر کو ٹیلی کاسٹ کیا جائے گا۔ نیوی ہیرو اونل 16 سال کی سروس کے بعد ریٹائرڈ ہوئے ہیں اب وہ ایک مقرر کے طور پر کام کرتے ہیں۔ انہیں فوج سے اب تک 52 میڈل مل چکے ہیں۔ پہچان پوشیدہ رکھنے کے لئے رابرٹ اونل کو 20 سال کی نوکری کے بجائے 16 سال میں ہی ریٹائر کردیا گیا تھا۔ وہ بتا چکے ہیں کہ اب نہ تو انہیں ہیلتھ سہولیت مل رہی ہے اور نہ ہی پنشن۔ہالی ووڈ میں لادن کی موت پر تین فلمیں بن چکی ہیں۔ نیل کی کہانی پر جوزیرو ڈاک تھرٹی، کیپٹن فلپس اور لون سروائیورنام سے تین فلمیں آچکی ہیں۔
(انل نریندر)

09 نومبر 2014

’’کہیں کی اینٹ کہیں کا روڑا، بھانمتی نے کنبہ جوڑا‘‘

یہ جو کہاوت ہے’ کہیں کی اینٹ کہیں کا روڑا،بھانمتی نے کنبہ جوڑا‘ان سماجوادیوں پر کھری اترتی ہے ،جو ایک بار پھر جنتا پریوار جوڑنے میں لگ گئے ہیں۔ نریندر مودی کی بڑھتی مقبولیت سے گھبرائے سابقہ جنتا پارٹی کا کبھی حصہ رہیں 6 سیاسی پارٹیوں کے لیڈر جمعرات کے روز سپا چیف ملائم سنگھ یادو کے دہلی میں رہائش گاہ پر متحد ہونے کے اشارے دے رہے ہیں۔ ہم ان کی مجبوری سمجھ سکتے ہیں۔ مودی کے قدم اتنی تیزی سے بڑھ رہے ہیں کہ ان صوبیداروں کو اپنی سلطنت ہاتھ سے جانے کا ڈر ستا رہا ہے لیکن سوال یہاں یہ اٹھتا ہے کہ لوک سبھا کے چناؤ تو مستقبل میں ہونے والے نہیں ہیں اس لئے ان کے مورچے کا مقصدلوک سبھا چناؤ تو ہونہیں سکتا۔ ہاں جھارکھنڈ میں اگلے مہینے ہونے والے چناؤ ہیں۔ اس کوشش کے پیچھے ہمیں تو نتیش کمار کا ہاتھ لگتا ہے۔ وہ جھارکھنڈ میں لالو جی کی پارٹی کے ساتھ اسمبلی چناؤ لڑنا چاہتے ہیں۔ اگلے سال بہار کا چناؤ ہونا ہے۔ اترپردیش میں بھی ابھی چناؤ دور ہے۔ دراصل لوک سبھا چناؤ میں ان سبھی علاقائی پارٹیوں کی کارکردگی بہت خراب رہی ہے۔ سبھی کے سامنے اپنے وجود کو بچانے کا بحران کھڑا ہے۔ متحد ہوکر یہ مورچہ قومی سیاست میں اپنی موجودگی درج کرا سکتا ہے۔ انہوں نے پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس میں بھاجپا قیادت والی این ڈی اے سرکار کو گھیرنے کی سیاست پر غور و خوض کیا۔ متحد ہوکر ہی پارٹی اپنی ریاستی سرکاروں کو مضبوطی دے سکتی ہے۔ لالو ۔نتیش کو امید ہے کہ جس طرح ساتھ آکر انہوں نے بہار اسمبلی ضمنی چناؤ میں بھاجپا کو روکا تھا اسی طرح آنے والے بہاراسمبلی چناؤ میں بھی اس تجربے کو دوہرانا چاہتے ہیں۔ یہ پارٹی غیر بھاجپا، غیر کانگریس مورچہ بنانے کی بات تو کرتی ہیں لیکن اصلیت سے منہ موڑتی ہے اور اصلیت یہ ہے کہ بہار میں لالو کی پارٹی کانگریس کے ساتھ مل کر چناؤ لڑتی ہے تو یہ غیر کانگریس مورچہ کیسے ہوسکتا ہے۔ بھاجپا نریندر مودی مخالف مورچہ ضرور بن سکتا ہے۔ پچھلے لوک سبھا چناؤ میں بھاجپا کو 30 فیصد ووٹ ملے تھے۔ یعنی 70 فیصد بھاجپا کے خلاف پڑے تھے۔ اگر یہ پارٹی ان 70 فیصد ووٹوں کو اپنے پالے میں لاسکے تو فرق پڑ سکتا ہے لیکن ایسی کوششیں پہلی بھی ہوئی ہیں۔ تیسرا مورچہ، چوتھا مورچہ یا اور کوئی بھی مورچہ بنا لیں ہمیں نہیں لگتا کہ کوئی فرق پڑنے والا ہے۔ بلاشبہ کانگریس کے زوال کے بعد ایک مضبوط اپوزیشن کی ضرورت ہے۔ اگر اپوزیشن مضبوط نہیں ہوگی تو حکمراں پارٹی بلا روک ٹوک ڈکٹیٹر ہوجائے گی جو ہماری جمہوریت کے لئے اچھا نہیں ہوگا۔ کانگریس کے زوال کے بعد اپوزیشن پارٹیوں کا رول اہم ہوجاتا ہے لیکن یہ تبھی ممکن ہے جب اس کی پہل کرنے والے موقعہ پرستی کو ترک کریں۔ ابھی جو پارٹی مبینہ تیسرے مورچے کی بات کررہی ہے اگر وہ حقیقت میں ایک ہونے کو تیار ہے تو یہ دیش کو بتائیں کہ ان کا لیڈر کون ہوگا؟ ملائم سنگھ یادو، نتیش کمار یا لالو یادو یا پھر کوئی اور؟ یا پھر سے یہ کہا جائے گا کہ ہمارا مورچہ تو چناؤ کے بعد ہی بنے گا؟ جن 6 پارٹیوں نے ساتھ آنے کی پہل کی ہے ان کے لوک سبھا میں کل15 ممبر ہیں۔ سپا کے 5 ، آر جے ڈی کے 4، انڈین نیشنل لوک دل اور جے ڈی یو کے 2-2 لوک سبھا میں تو انکا سرکار پر حاوی ہونا مشکل لگتا ہے لیکن راجیہ سبھا میں ان کی طاقت زیادہ ہے۔ وہاں ان کے ممبر 25 ہیں۔ جنتادل (یو) کے12، سپا کے 10، جے ڈی یو ایس اور آر جے ڈی اور آئی این ایل ڈی کا 1-1 اور کانگریس یا ان نئے گروپ کی مرضی کے بغیر سرکار کوئی بل راجیہ سبھا میں پاس نہیں کراپائے گی۔ اب تک ملائم سنگھ یادو نے غیر بھاجپا غیر کانگریس پارٹیوں کے نام پر جتنی بھی ریلیاں کی ہیں ان میں لیفٹ پارٹیاں ساتھ رہی ہیں۔ ساتھ ہی ترنمول کانگریس، انا ڈی ایم کے، بی جے ڈی بھی شامل رہی ہیں لیکن اس بار ان کا کوئی نمائندہ ملائم کے گھر منعقدہ لنچ میں نہیں آیا تھا۔ نتیش نے کہا نئے گروپ میں ترنمول کانگریس چیف ممتا بنرجی کے رول پر بھی غور ہوا لیکن کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔ لیفٹ پارٹیوں سے وابستہ سوال کے جواب میں انہوں نے کہا یکساں خیال رکھنے والی سبھی پارٹیوں سے وقت آنے پر رابطہ قائم کیا جائے گا۔ تعجب نہیں ہوگا کہ آنے والے دنوں میں ان پارٹیوں کے لیڈروں کی طرف سے یہ بھی کہا جائے کہ وہ سماجوادی اور سیکولر واد کے لئے متحد ہورہی ہیں۔ بہتر ہو کے وہ اپنے گھسے پٹے سماج واد اور سیکولر واد پر پھر سے غور کریں۔ سماج واد سے سیکولر وغیرہ کے نعروں پر موقعہ پرستی کی سیاست کرنا خود کو ہی بے بھروسے مند بنانا ہے اور ان پارٹیوں نے اب تک یہی کیا ہے۔
(انل نریندر)

بلیک منی :289 کھاتوں میں 0 بیلنس ،122 نام دوہرائے!

بیرونی ممالک میں کالی کمائی جمع کرنے والے لوگوں کے نام والی فہرست کو لیکر دیش میں سیاست کا ماحول گرم ہے۔ اس کے بارے میں چونکانے والی بات سامنی آئی ہے کہ فہرست میں شامل تقریباً آدھے یعنی289 کھاتوں میں پھوٹی کوڑی بھی جمع نہیں ہے اور کئی نام فہرست میں بار بار دوہرائے گئے ہیں۔ بلیک منی کی جانچ کررہی ایس آئی ٹی کو تفتیش کے دوران اس اہم حقیقت کا پتہ چلا ہے۔ تفتیش کے مطابق ایچ ایس بی سی بینک کی فہرست میں سے 289 کھاتوں میں ایک بھی پیسہ نہیں ہے۔ان معاملوں کی جانچ کررہی ایس آئی ٹی نے یہ بھی پایا کہ فہرست میں قریب182 نام دو بار لکھے گئے ہیں۔ اور ان خاص ناموں کے خلاف کارروائی کرنے میں بڑی مشکل آرہی ہے۔ ان کھاتوں کو چلانے والا کوئی سامنے نہیں آیا ہے۔ فہرست میں یہ ذکر نہیں ہے کہ یہ کھاتے کب کھولے گئے اور ان میں لین دین کی کوئی تفصیل بھی نہیں ہے۔ ایس آئی ٹی کی رپورٹ کے مطابق انکم ٹیکس نے اس فہرست میں شامل کھاتے داروں کے خلاف 150 تلاشیاں اور سروے کی کارروائی کرائی ہے لیکن ان کے خلاف مقدمہ چلانے کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں ہوا ہے۔ ایس آئی ٹی کے چیئرمین اور سپریم کورٹ کے ریٹائرڈجسٹس ایم ۔بی شاہ ، وائس چیئر مین ریٹائرڈ جسٹس ابھیجیت پساوت ہیں۔ ذرائع کے مطابق فہرست سپریم کورٹ میں سونپی گئی ہے۔ ان معاملوں میں آخری وقت اس مالی سال کے آخر تک ختم ہونے والا ہے تو محکمہ تقریباً 300 معاملوں میں مقدمہ شروع کرنے کی کارروائی پر غور کررہا ہے۔ ایس آئی ٹی کی تشکیل اس سال مئی میں ہوئی تھی۔ مئی کے بعد ایس آئی ٹی کی نگرانی میں انکم ٹیکس محکمے نے قریب150 سروے کئے ہیں۔ یہ سروے ان لوگوں کے خلاف ہیں جن کے نام ایچ ایس بی سی کی فہرست میں ہیں لیکن ان کے خلاف مقدمہ شروع نہیں کیا جاسکتا۔ سپریم کورٹ نے پچھلی سماعت میں ایس آئی ٹی سے کہا تھا کہ وہ 31 مارچ 2015 تک ان معاملوں کی جانچ پوری کرے۔ ایس آئی ٹی چاہتی ہے کہ بھارت نے جن78 ملکوں کے ساتھ ٹیکس معاہدے کئے ہیں ان سے دوبارہ بات کی جائے تاکہ بیرونی ممالک میں کالی کمائی رکھنے والوں کے زیادہ نام سامنے آسکیں۔ مودی سرکار نے ایس آئی ٹی سے کہا ہے کہ وزارت مالیات 78 میں سے75 ملکوں کے ساتھ بات چیت شروع کرچکی ہے۔ ایس آئی ٹی نے کہا کہ وہ دوسری رپورٹ 4 دسمبر تک سپریم کورٹ میں داخل کردے گی۔ اس میں اگست کے بعد ہوئی جانچ کی تفصیل ہوگی۔ دیش یہ جاننا چاہتا ہے کہ مودی سرکار پیسہ واپس لانے کے لئے کس طرح کی کوششیں کررہی ہے۔ صرف تین ناموں کے انکشاف سے مطمئن ہونے کا سوال نہیں۔ لوگوں کو احساس ہے کہ کالی کمائی کی شکل میں اربوں کھربوں روپے غیر ملکی بینکوں میں جمع ہیں۔ اس سلسلے میں نامور وکیل رام جیٹھ ملانی اور کچھ دوسرے لوگوں کی اس تشویش کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ جو فہرست دستیاب ہوئی ہے اس میں کچھ خاص نام غائب ہیں۔ اسی وجہ سے یہ سوال اور اہم ہوجاتا ہے کہ ہم کیا حقیقت میں کالی کمائی کو واپس لانے کی ایماندارانہ کوشش کررہے ہیں یا کوشش صرف لیپا پوتی کا نتیجہ ہے۔ کچھ سیاسی مفادات کی بلی چڑھنے کی کوشش سے آگے نہیں جائے گی۔ سارا کچھ اس پر منحصر کرے گا کہ ایس آئی ٹی کتنی مستعدی سے کھاتے داروں کے خلاف ثبوت اکھٹا کرتی ہے۔ خاص کر سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد وہیں سے آگے کی سمت ملے گی۔ ہندوستانیوں کے کئی مشتبہ کھاتوں میں پیسہ نہ ہونے یا کالی کمائی نکالے جانے کا اندیشہ سرکار کو بھی ہوچکا ہے۔ تبھی تو پچھلے ایتوار کو من کی بات کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا تھا مجھے پتہ نہیں بیرونی ممالک میں کتنا کالا دھن ہے۔
(انل نریندر)

میلانیا نے امریکہ میں یہ نئی جنگ چھیڑ دی

ایران جنگ میں سیز فائر ہوتے ہی امریکہ کے اندر ایک اور جنگ شروع ہو گئی ہے ۔آپ حیران ہوں گے کہ یہ کون سی جنگ ہے ؟ بتادیں کہ ایپسٹین فائلس کی ...