Translater

08 ستمبر 2012

کوئلہ الاٹمنٹ منسوخی میں کانگریس کی مشکلیں


کوئلہ بلاک الاٹمنٹ میں بھاری گھوٹالے بازی آہستہ آہستہ سامنے آتی جارہی ہے۔ خود حکومت ہند کے کوئلہ وزارت کے اندازے ہیں کہ ٹنڈر منگائے بغیر الاٹ شدہ60 کوئلہ کھدانوں کی الاٹیوں کو 1.97 لاکھ کروڑ کا فائدہ پہنچا ہے۔ کوئلہ وزارت نے یہ بات ایسے وقت کہی ہے جب حکومت ان کوئلہ کھدان الاٹیوں کے خلاف کارروائی کرنے پر غور کررہی ہے جہاں اب تک پیداوار شروع کرنے کے معاملے میں کافی کم کام ہوا ہے۔ سال1998 سے 2009 تک کے درمیان نجی اور پبلک سیکٹر کی کمپنیوں کو بغیر بولی کے 60 کوئلہ بلاک الاٹ کردئے گئے۔ ان بلاکوں میں سے 60 کا الاٹمنٹ1998 سے2004 کے درمیان بھاجپا این ڈی اے سرکارکے وقت ہوا تھا۔ بھاجپا کا کہنا تھا سی بی آئی کے ذریعے کئی مقاموں پر جاری چھاپہ ماری سے صاف ہوگیا ہے کوئلہ الاٹمنٹ میں دھاندلی ہوئی ہے جس کے لئے یوپی اے سرکار اور وزیر اعظم منموہن سنگھ براہ راست ذمہ دار ہیں۔ ادھر وزیر اعظم منموہن سنگھ نے صاف کہہ دیا ہے کہ کوئلہ الاٹمنٹ منسوخ نہیں ہوگا۔ بھاجپا۔ لیفٹ پارٹیاں مانگ کررہی ہیں کہ اتنا کچھ ظاہر ہونے پر بھی سرکار الاٹمنٹ کو کیوں نہیں منسوخ کررہی ہے؟ سی بی آئی نے کچھ جگہوں پر چھاپے مارے ہیں اس پر بھی واویلا کھڑا ہوگیا ہے۔ کوئلہ بلاک الاٹمنٹ میں سی بی آئی کے چھاپے میں فکسنگ کا الزام لگ رہا ہے۔ کرپشن کے خلاف مہم چلانے والے اروند کیجریوال نے کہا کہ کمپنیوں کو سی بی آئی چھاپے کے بارے میں پہلے ہی اطلاع دے دی گئی تھی۔ انہوں نے ٹیوٹر پر لکھا ہے جن کمپنیوں پر الزام لگے ہیں انہیں دو دن پہلے ہی سی بی آئی چھاپوں کے بارے میں بتادیا گیا تھا اور ان سے کہا گیا تھا کہ وہ سارے دستاویز ہٹا لیں۔ کیجریوال نے دعوی کیا کہ انہیں ایک ایسے افسر کا میل ملا ہے جس کی کمپنی پر سی بی آئی نے چھاپہ مارا تھا۔ انہوں نے سوال اٹھایا ہے کہ کیا سی بی آئی کے چھاپے محض دکھاوا ہیں؟ سی بی آئی نے کیجریوال کے الزامات کی تردید کی ہے۔ سی بی آئی کے ذریعے مارے گئے چھاپوں میں کئی دلچسپ باتیں سامنے آئی ہیں۔ سی بی آئی منگل کو پانچ کمپنیوں کے خلاف کارروائی کی جس میں جانچ میں سامنے آیا کے ان میں تین کمپنیوں کے نام بھلے ہی الگ ہوں لیکن ان کے مالک ایک ہیں۔ ان ذرائع کا کہنا ہے کہ ایف آئی آر میں شامل پانچوں کمپنیوں نے بڑے پیمانے پر دھاندلیاں کی ہیں ساتھ ہی کوئلہ بلاک پانے کے لئے اپنی اپنی کمپنیوں کی ویلیو سرمائے کے فرضی دستاویز لگا کر کئی گنا دکھا دیا گیا۔ آئرن اینڈ اسٹیل نے بغیر درخواست دئے کول بلاک کے لئے دستاویز بھیج دئے اور کہا کہ ان کے ساتھ 15 کمپنیوں کی سپورٹ حاصل ہے لیکن جانچ میں پتہ چلا کہ 9 کمپنیاں بغیر کسی آئرن اینڈ اسٹیل کمپنی کے ساتھ کسی طرح کا کوئی رشتہ نہیں تھا۔حیدر آباد کی نو بھارت پاور پرائیویٹ لمیٹڈ نے اپنی بیلنس شیٹ بھی غلط پیش کی۔ اس کمپنی کے ڈائریکٹر نے اپنی کمپنی کے 85 کروڑ کے شیئر ایس آر گروپ کو بیچ دئے تھے۔ اپوزیشن پارٹیوں کے زبردست دباؤ کے سبب مرکزی سرکار کے سامنے الاٹ شدہ کول بلاک الاٹمنٹ کو منسوخ کرنے کا بڑا بحران کھڑا ہوگیا ہے۔ کانگریس کے لئے خطرے کی بات تو یہ ہے کہ اگر وہ الاٹمنٹ منسوخ کرتی ہے تو اس کی ساکھ پر زبردست دھبہ لگے گا۔ ٹوجی الاٹمنٹ منسوخ ہونے کے بعد اگر کوئلہ الاٹمنٹ بھی منسوخ ہوجائے تو سرکار کی بچی کچی ساکھ بھی مٹی میں مل جائے گی جس کے سبب نہ صرف سرکاری سیکٹر میں اس کے لئے سرمایہ کاروں کی قلت پڑ جائے گی بلکہ بازار میں تیزی سے گرواٹ آجائے گی جسے برداشت کرنے کی حالت میں فی الحال یہ سرکار نہیں ہے۔ اتنا ہی نہیں جن کمپنیوں کو یہ کوئلہ بلاک دئے گئے وہ سرکار کی پول کھول سکتی ہیں۔ ایک چونکانے والا پہلو یہ بھی ہے کہ زیادہ تر کمپنیوں نے ان کوئلہ بلاکوں سے کوئلہ نکالنے میں ہونے والے خرچ کا 70 فیصدی پیسہ سرکاری بینکوں سے قرض پر لیا ہواہے۔ ایسے میں بینکوں کا پیسہ ڈوبنے کا خطرہ ہوجائے گا جس سے سرکار پر بیحد دباؤ بڑھ جائے گا۔ ایک اور خطرہ جو سب سے زیادہ اہم اور جائز ہے وہ ہے کانگریس کو ملنے والا چناوی فنڈ۔اپوزیشن پارٹیوں کے مطابق جن کمپنیوں کو کوئلہ خریدنے اور سرکار سے ایک دم مفت میں ملی ہے اس کے عوض میں کانگریس اور متعلقہ وزرا کو موٹا پیسہ ملاہے۔ اب اگر سودا منسوخ ہوتا ہے تو یہ کمپنیاں اپنا چندہ واپس مانگیں گی، نہ دینے پر وزرا کو بدنام کرسکتی ہیں۔ ساتھ ہی کانگریس کو ملنے والے چناوی چندے پر بھی زبردست برا اثر پڑ سکتا ہے۔ بری پھنسی کانگریس ادھر کنواں تو ادھر کھائی۔ 
(انل نریندر)

موبائل ٹاوروں سے نکلتے ریڈی ایشن کی بڑھتی پریشانی


دہلی کے درگا پوری ایکسٹینشن میں ایک کنبے کی اس شکایت میں بھلے ہی سو فیصدی سچائی نہ ہو کہ موبائل ٹاور کی وجہ سے گھر کے افراد کو کینسر ہوگیا ہے لیکن اس معاملے نے ایک بڑا سوال ضرور کھڑا کردیا ہے اور وہ یہ ہے کہ صحت کے پیمانوں و تقاضوں کو نظرانداز کرتے ہوئے ان ٹاوروں کو لگانے کا ہے۔ موبائل ہینڈ سیٹ اور ٹیلی کام ٹاوروں سے قریبی آپ کی زندگی کو مشکلوں میں ڈال سکتی ہے۔ دیش و بیرونی ممالک میں ہوئے ایک مطالع میں یہ نتیجے سامنے آئے ہیں۔ ممبئی میں موبائل ٹاور کے ریڈی ایشن سے ایک اپارٹمنٹ کے فلیٹوں میں رہنے والے افراد کو کینسر ہونے کے معاملے درج کئے گئے ہیں وہیں 10 ملکوں کے پانچ ہزار لوگوں پر ہوئے مطالعے میں بتایا گیا ہے کہ جو لوگ روز آدھے گھنٹے سے زیادہ10 برسوں تک موبائل پر بات کرتے ہیں ان میں برین ٹیومر ہونے کاخطرہ 300 گنا بڑھ جاتا ہے۔ حالانکہ ٹاوروں کے ٹھیک نیچے رہنے والوں کو خطرہ کم ہوتا ہے۔ ٹاوروں سے نکلنے والے ریڈی ایشن کا اثر اس کے تقریباً 300 میٹر میں رہنے والوں پر ہوتا ہے۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے موبائل ٹاور لگانے کے لئے کچھ پیمانے طے کئے ہیں جس میں ٹاور کی اونچائی آبادی سے اس کی دوری وغیرہ طے کی گئی ہے۔ مگر دہلی میں اب بھی اس معاملے کو سنجیدگی سے نہیں لیا جارہا ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ تنگ گلیوں میں بنے گھروں کے اوپر ٹاور لگے ہیں جو غیر قانونی طور سے چل رہے ہیں۔ ٹاوروں کے ساتھ یہ مسئلہ زیادہ ہے جن کو لیکر ایم سی ڈی اب بھی زیادہ سنجیدہ نظر نہیں آتی۔ ایم سی ڈی کے 12 زون میں کل 5459 موبائل ٹاور لگے ہوئے ہیں۔ ان میں سے 2742 کیلئے آپریٹر کمپنیوں نے اجازت لی تھی مگر 2777 بغیر اجازت کے چل رہے تھے۔ ویسٹ زون میں سب سے زیادہ735 ناجائز ٹاوروں کی اطلاع ملی ہے۔ دوسرے نمبر پر روہنی زون ہے۔ممبئی کے ورلی علاقے میں 20 منزلہ عمارت اوشا کرن کے سامنے 7 منزلہ عمارت پر موبائل ٹاور لگایا گیا تین برسوں کے بعداوشا کرن بلڈنگ کی پانچویں اور دسویں منزل کے درمیان 6 فلیٹوں میں کینسر کے مریض پائے گئے جس بلڈنگ کی چھت پر ٹاورلگایا گیا تھا اس کی اوپر کی تین منزلوں کے لوگوں نے بھی آئے دن بیمار رہنے اور چڑچڑا پن وغیرہ کی شکایتیں درج کرائی ہیں۔ ایک سے زیادہ سم والے موبائل خطرناک ہوتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہر موبائل فی منٹ سگنل موبائل ٹاور کو بھیجتا ہے۔ سگنل سے ہونے والی ریڈی ایشن کا اثر آپ کے جسم پر پڑتا ہے۔ کئی سم والے موبائل میں ہر سم الگ الگ وقت پر سگنل بھیجتا ہے ایسے میں ایک منٹ میں کئی سگنل ٹاور کو بھیجے جاتے ہیں ۔ ماہرین کا کہنا ہے موبائل جس کے پاس زیادہ رہتا ہے اس پر زیادہ اثر پڑتا ہے ۔ مردوں کو اپنی قمیصوں کی اوپری جیب میں موبائل نہیں رکھنا چاہئے۔ پینٹ کی جیب میں رکھیں۔ کچھ تجویز ہیں۔ موبائل کو سوتے وقت تقریباً ایک میٹر دور رکھیں۔ موبائل سے بات کرتے وقت ایئر فون کا استعمال کریں تو بہتر ہے۔ پانچ منٹ سے زیادہ ایک بار میں بات نہ کریں۔ گھر میں آس پاس کہیں ٹاور ہوتو کھلی کھڑکیوں کی جگہ پر سونے سے بچیں۔ اگر سر میں درد ،بے چینی چڑ چڑا پن محسوس ہوتا ہو تو ڈاکٹر سے ملیں اور ریڈی ایشن کی مقدار کی جانچ بھی کرائیں۔ موبائل آج کے دور میں ایک مجبوری بن گیا ہے لیکن سہولت کے ساتھ ساتھ پریشانی بھی لیکر آیا ہے۔
(انل نریندر)

07 ستمبر 2012

کوئلہ گھوٹالے سے توجہ ہٹانے کی کانگریس کی نئی چال


کوئلہ الاٹمنٹ گھوٹالہ معاملے میں بری طرح گھری یوپی اے سرکار نے عوام کی توجہ ہٹانے کے لئے اب ایس ٹی۔ ایس سی کی ترقی کا ریزرویشن کارڈ چل دیا ہے۔ منگلوار کی صبح ساڑھے گیارہ بجے منموہن سنگھ سرکار کی مخصوص کیبنٹ کی میٹنگ میں ان طبقات کو سرکاری ملازمتوں میں ترقی کے ریزرویشن دینے سے متعلق بل پر بحث کے لئے یہ کیبنٹ کی میٹنگ بلائی تھی۔ محض15 منٹ میں کیبنٹ کی میٹنگ بل کو منظوری دینے کے ساتھ ہی ختم ہوگئی۔ کانگریس کے حکمت عملی ساز ہنگامے کی تقریباً بھینٹ چڑھ چکے موجودہ پارلیمنٹ کے سیشن میں ایس ٹی۔ ایس سی کارڈ کو ترپ کے پتے کی طرح استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ بسپا کے دباؤ میں سرکار بل کو راجیہ سبھا میں پیش تو کررہی ہے لیکن اسے پاس کروانے کے تئیں وہ زیادہ سنجیدہ نہیں ہے۔ پھر بھی وہ ایوان بالا میں بل لے کر آرہی ہے۔دلیل دی گئی ہے کہ بل سیشن کے ختم ہونے پر بھی وجود میں رہے گا۔ دراصل سرکار گیند اپوزیشن کے پالے میں ڈالنا چاہتی ہے۔ راجیہ سبھا میں بہت حد تک دارومدار بڑی اپوزیشن جماعت بھاجپا پر ٹکا ہے۔ بھاجپا کے دلت ممبران نے اس کی حمایت تو کی لیکن ساتھ ساتھ یہ بھی کہا کانگریس کی نیت صحیح نہیں ہے اس لئے اس تجویز کو پارلیمنٹ میں منظوری مل جائے گی اس کی امید کم ہی دکھائی پڑتی ہے۔ کانگریس قیادت والی یوپی اے سرکار کی حمایت کررہی سماج وادی پارٹی ایس سی ۔ایس ٹی ریزرویشن کی مخالفت کررہی ہے۔ اترپردیش کے وزیر اعلی اکھلیش یادو نے صاف کہہ دیا ہے سرکار کا وہی موقف ہے جو پارٹی کا ہے۔ اپوزیشن کے تیار نہ ہونے پر حکمراں فریق انہیں دلت مخالف بتا کر گھیرنے کی کوشش کریں گے۔ بل کی حمایت کررہے تمام دلت ایم پی بھی بھاجپا کے خلاف کھڑے ہوجائیں گے۔ حالانکہ بھاجپا حکمت عملی کے تحت ابھی اس معاملے میں اپنے پتے نہیں کھول رہی ہے۔ ادھر سماج وادی پارٹی کے سینئر لیڈر رام گوپال یادو نے کہا کہ ہم سرکار کے فیصلے کی تنقید کرتے ہیں یہ غیر آئینی ہے، اس بارے میں آئینی ترمیم چار بار لائی جاچکی ہے اور ہر بار اسے سپریم کورٹ نے منسوخ کردیا ہے۔ بھاجپا کے قومی سکریٹری جنرل اشوک پردھان نے کہا بھاجپا نے کبھی دلتوں کے حق کی مخالفت نہیں کی۔ پارٹی نے ہمیشہ سماجی مضبوطی پر زودیا ہے لیکن سوال کانگریس کی نیت کا ہے۔ کوئلہ گھوٹالے میں گھری کانگریس نے پارلیمنٹ میں ریزرویشن سے متعلق اشو کو ایسے وقت لانے کی کوشش کی ہے جب پارلیمنٹ میں پہلے سے ہی اس کی مخالفت جاری ہے۔ کانگریس یوپی اے سرکار نے یہ جانتے ہوئے کہ سپریم کورٹ بغیر آئینی ترمیم کے اسے منظور نہیں کرسکتی پھر بھی اسے لایا گیا ہے تو سرکار کی نیت صاف ہے کہ اسکے سامنے اترپردیش کی مثال بھی ہے۔ 1994ء میں یوپی کی اس وقت کی سرکار نے ایس سی۔ ایس ٹی کے لئے ترقی میں ریزرویشن لاگو کیا۔ 2002ء میں بسپا۔ بھاجپا سرکار نے اسے آگے بڑھا کر دلت طبقے کے حقوق کوتیزی سے ترقی دینے کے نتیجے کو ترجیح فراہم کردی تھی۔ 2005ء میں ملائم سرکار نے اسے نتیجے کا قاعدہ منسوخ کردیا۔ 2007ء میں مایا حکومت نے اس نیت کو پھر سے لاگو کردیا لیکن ہائی کورٹ نے پرموشن پر روک لگادی اور پھر مایا سرکار سپریم کورٹ پہنچی۔ آئین کی دفعہ16(4) اور سیکشن 335 میں کسی تبدیلی کے سپریم کورٹ نے آئین کابنیادی ڈھانچہ قراردیا۔ اس میں کسی بھی طرح کی ترمیم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کئے جانے پر پیچ پھنس سکتا ہے۔ سپریم کورٹ نے 28 اپریل 2012 کے فیصلے میں پرموشن میں ریزرویشن کے یوپی حکومت کے قانون کو غیر آئینی بتایا۔ عدالت نے کہا کہ آئین میں ریزرویشن کا سسٹم نوکری میں بھرتی کے لئے ہے نہ کے بعد میں ہونے والے پرموشن کے لئے اس لئے جہاں تک منموہن سنگھ سرکار کے کیبنٹ میں پرستاؤ پاس کر راجیہ سبھا میں زبردستی پیش کرنے کا سوال ہے تو یہ محض کوئلہ گھوٹالے سے توجہ ہٹانے کی سیاسی چال ہے جس کا مقصد ایس سی۔ ایس ٹی کا بھلا نہیں بلکہ ووٹ بینک کی سیاست کو دھیان میں رکھ کر ایک ایسی سیاسی چال چلی ہے۔
(انل نریندر)

بین الاقوامی میڈیا میں وزیر اعظم منموہن سنگھ کی گرتی ساکھ


کسی زمانے میں امریکہ کے سب سے چہیتوں میں وزیر اعظم منموہن سنگھ ہوا کرتے تھے۔ امریکی میڈیامنموہن سنگھ کی تعریف کرتا نہیں تھکتا تھا۔ آج وہی امریکی میڈیا وزیر اعظم منموہن سنگھ کو کرپٹ حکومت کا بے اثر سربراہ بتا رہا ہے۔ امریکہ کے نامور اخبار واشنگٹن پوسٹ نے ڈاکٹر سنگھ پر زبردست تنقید کی ہے۔ اس نے لکھا ہے کہ ہندوستان کے وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ بیحد کرپٹ حکومت کے سربراہ ہیں۔ اس دور میں اقتصادی اصلاحات کا کام ٹھپ پڑا ہے۔ اس سے دیش میں مسلسل ترقی شرح میں گراوٹ آرہی ہے۔ ایسے میں بھارت کبھی سپر پاور بننے کا خواب نہیں دیکھ سکتا۔ حیرانی کی بات ہے کہ امریکی پالیسیوں کی پیروی کرنے والے منموہن سنگھ کے خلاف امریکی میڈیا نے ایک دم یو ٹرن لے لیا ہے۔ جبکہ امریکہ کے میڈیا ماہرین منموہن سنگھ کو بھارت کو لگاتارکمزوری کی طرف لیجاتا ہوا بتا رہے ہیں۔ پچھلے دنوں امریکہ کی نامور میگزین ’’ٹائم‘‘ نے اپنے کور پیج پر منموہن سنگھ کی فوٹو شائع کی تھی اور اس میگزین کی کور اسٹوری میں سرخی دی گئی تھی ’انڈر اچیور لیڈر‘‘ یعنی پھسڈی نیتا۔ ٹائم کی اس کور اسٹوری کو لیکر بھارت میں کافی ہائے توبہ مچی تھی۔ سرکار کے کئی وزرا نے کہا تھا کہ انہیں امریکہ کے میڈیا سے سرٹیفکیٹ لینے کی ضرورت نہیں ہے۔ کوئلہ الاٹمنٹ بلاک معاملے میں بین الاقوامی سطح پر آج بھارت کی کرکری ہورہی ہے۔ اندرونی کھینچ تان کے چلتے بین الاقوامی میڈیا کی نظر میں منموہن سرکار کی ساکھ گرتی جارہی ہے۔ واشنگٹن پوسٹ نے وزیر اعظم منموہن سنگھ کی قیادت میں مرکز کی یوپی اے سرکار کو کرپٹ قراردیتے ہوئے انہیں بے اثر اور بے فیصلہ کن شخصیت قراردیا۔اخبار نے’’مایوس ساکھ کے بن گئے ہیں بھارت کے خاموش وزیر اعظم‘‘ عنوان سے شائع اداریہ میں لکھا ہے کہ منموہن سنگھ بھارت کو جدیدت اور خوشحال و طاقت کے راستے پر لے گئے لیکن تنقید نگاروں کا کہنا ہے کہ کیا خاموش طبیعت کے انسان79 سالہ منموہن سنگھ ناکامی کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ اخبار میں آگے لکھا ہے ہندوستانی معیشت کے معمار منموہن سنگھ نے امریکہ کے ساتھ ساتھ بھارت کے رشتوں کو آگے بڑھانے میں اہم کردار نبھایا ہے اور وہ دنیا میں عزت کے لائق انسان ہیں لیکن عزت اور نرم گوئی اور ٹیکنوکریٹ و ماہر اقتصادیات کی شکل میں ان کی ساکھ آہستہ آہستہ کمزور پڑ رہی ہے۔ آج ان کی سرکار کرپشن میں ڈوبی ہوئی ہے اور وہ ایک بے اثر سربراہ کی شکل میں دکھائی پڑ رہے ہیں۔ قابل غور ہے کہ اس سے پہلے بھی امریکہ کی مشہور میگزین ’’ٹائم‘‘ اور برطانیہ کے اخبار ’’دی انڈی پینڈنٹ‘‘ بھی وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ پر سوالیہ نشان لگا چکے ہیں۔ برطانوی اخبار نے منموہن سنگھ کا مذاق اڑاتے ہوئے انہیں کانگریس صدر کی کٹھ پتلی تک قراردے دیا تھا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ وزیراعظم کی کرسی پر تو وہ صرف سونیا گاندھی کی وجہ سے بیٹھے ہیں لیکن سچائی کسی سے پوشیدہ نہیں کہ منموہن سنگھ ایسے وزیر اعظم ہیں جو اپنی سرکار کے بارے میں کوئی اہم فیصلہ نہیں کرپاتے۔ پورا دیش جانتا ہے کہ سرکار 7ریس کورس سے نہیں بلکہ 10 جن پتھ سے چلائی جارہی ہے۔ یہ باتیں پوری دنیا کو معلوم ہیں۔ ایسے میں کوئی اخبار منموہن سنگھ کو بے اثر وزیر اعظم کہہ لے تو اس میں کسی کو ناگوار لگنے کی کیا بات ہے؟
(انل نریندر)

06 ستمبر 2012

سعودی عرب سے کنٹرول آتنکی سازش کے نشانے پر دفاعی ادارے و ہندو نیتا


پچھلے کچھ دنوں سے جنوبی ہندوستان میں سکیورٹی ایجنسیوں نے ایک خطرناک آتنکی سیل کا پتہ لگایا ہے۔ لشکر طیبہ اور حرکت الجہاد، الجہاد اسلامی سے متعلق اس سیل میں گرفتاریاں جاری ہیں۔ جمعہ کی دیررات مہاراشٹر کے ناندیڑ سے چار اور آندھرا پر دیش کے حیدرآباد سے ایک مشتبہ دہشت گرد کو گرفتار کیا گیا ہے اس طرح اب تک16 آتنکی گرفتار ہوچکے ہیں۔ اس آتنکی نیٹ ورک کے تار اترپردیش ،گجرات سے بھی جڑے ہیں۔بنگلور پولیس نے سب سے پہلے بڑے کنڑ روزنامہ کے جنوبی کٹر پسند سمیت11 لوگوں کو گرفتار کیا گیا تھا۔ گرفتار لوگوں میں ڈیفنس ریسرچ ڈولپمنٹ آرگنائزیشن (ڈی آر ڈی او) کا ایک سافٹ ویئر انجینئراور مقامی انگریزی اخبار کا صحافی بھی ہے۔ بنگلور پولیس کی کرائم برانچ کو آندھرا پردیش کے خفیہ حکام سے اس بارے میں اہم سراغ ملا تھا۔ کئی ہفتوں تک مشتبہ افرادکی موبائل بات چیت پر نگرانی کے بعد 29 اگست کو بنگلور اور 5 افراد کو ہبلی سے گرفتار کیا گیا تھا۔ ان لوگوں کے پاس سے انتہائی جدید ترین ہتھیار برآمد کئے گئے۔ ان لوگوں میں ایک لڑکا رحمان صدیقی26 سال کا صحافی بھی ہے۔ وہ پچھلے تین سال سے دکن ہیرالڈ میں کام کررہا تھا۔ اعجاز محمد مرزا (25 سال) ڈی آر ڈی او میں جونیئر انجینئر ہے۔ اس کے بھائی شعیب احمد مرزا کو گرفتار کیا گیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ان آتنکیوں کے نشانے پر جنوبی ہندوستان کے اہم ڈیفنس ادارے تھے۔ اس کے علاوہ کرناٹک میں واقع نیوکلیائی پلانٹ اور کئی بڑے نیتاؤں پر حملے کی بھی سازش رچی گئی تھی۔ گرفتار ایک آتنکی عبید الرحمان جسے حیدر آباد سے بنگلور پولیس نے گرفتار کیا، بتایا ہے کہ اسکے نشانے پر حیدر آباد کے دو کونسلروں کے ساتھ ساتھ ہندو تنظیم سے جڑے ایک سینئر لیڈر کے قتل کی سازش کو بھی انجام دینا تھا۔ کرناٹک میں پکڑے گئے آتنکی بھی ریاستی بھاجپا کے سینئرلیڈر سمیت بڑے صحافیوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کررہے تھے۔ ظاہر ہے کہ دہشت پھیلانے کے ساتھ ساتھ یہ آتنکی دیش میں فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا کرنے کے فراق میں تھے۔ پوچھ تاچھ میں ان آتنکیوں نے یہ بھی بتایا کہ نیوکلیائی پلانٹ کے ساتھ فوج اور بحریہ کے اہم ٹھکانے بھی ان کے نشانے پر تھے۔تازہ خبر یہ ہے کہ اس سازش کو سعودی عرب سے انجام دیا جارہا تھا۔ ذرائع کے مطابق سعودیہ میں بیٹھے آتنک آقاؤں میں زیادہ تر ہندوستانی تھے۔ یہ تیسرا معاملہ ہے جس میں بھارت مخالف سرگرمیوں کا کنٹرول خلیجی دیشوں سے کیا گیا ہے۔ حوالگی کے ذریعے لشکر آتنکی ابو جندال اور انڈین مجاہدین سے وابستہ فصیح محمد بھی سعودی عرب سے ہی اپنی سازش کو انجام دے رہے تھے۔ یہ ایک بہت بڑی سازش ہے کیونکہ کرناٹک کے آتنکیوں کی گرفتاری کا سلسلہ رکنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ اس سازش کی جڑیں نہ صرف ڈی آر ڈی اواور میڈیا اداروں تک پھیلی ہوئی ہیں بلکہ ایسا لگتا ہے کہ ان دہشت گردوں کے نیٹ ورک نے پوری ریاست میں اپنی گہری پیٹھ بنا لی ہے اور اس سازش کے تحت بھرتی کا سلسلہ جاری ہے۔ اتوار کی شام پولیس نے ایک آتنکی ڈاکٹر نعیم صدیقی کو گرفتار کیا ہے ۔ (انل نریندر)

نریندر مودی سے بہتر وزیر اعظم نتیش کمار،سشیل مودی


این ڈی اے کے ذریعے مجوزہ وزیر اعظم کے امیدوار کو لیکربھاجپا میں گھمسان مچا ہوا ہے۔ نریندر مودی بنام نتیش کمار تنازعے میں ایک نیا موڑ اس وقت آگیا جب بہار کے نائب وزیراعلی سشیل کمار مودی نے نتیش کمار کو نریندر مودی سے بہتر وزیر اعظم کے عہدے کا امیدوار بتا ڈالا۔وقتاً فوقتاً گجرات کے وزیر اعلی نریندر مودی کی مخالفت کرنے والے سشیل کمار مودی کے اس بیان سے این ڈی اے میں وزیر اعظم کے عہدے کی امیدواری کو لیکر سیاسی پارا ایک بار پھر چڑھ چکا ہے۔ سشیل کمار نے صاف طور پر کہہ دیا ہے نتیش کمار آنے والے لوک سبھاچناؤ میں اہم کردار نبھا سکتے ہیں۔ نتیش میں ایک بہتر وزیر اعظم بننے کی سبھی خوبیاں ہیں۔ ایک اخبار کودئے گئے انٹرویو میں انہوں نے یہ باتیں کہی ہیں۔ وہیں نتیش کمار پہلے بھی ایک انٹرویو میں کہہ چکے ہیں کہ انہیں این ڈی اے کی طرف سے سیکولر ساکھ والا شخص ہی وزیر اعظم کے عہدے کے امیدوار کی شکل میں منظو ر ہوگا ظاہر ہے انہوں نے اپنا نام لئے بنا صاف کردیا تھا کہ نریندر مودی انہیں اتحاد کی جانب سے وزیر اعظم کی امیدوار کی شکل میں منظور نہیں ہوں گے۔ اس کے بعد سے ہی سیاسی مبصرین قیاس آرائیوں میں لگے ہوئے ہیں کے نتیش نے خود کو وزیر اعظم کے عہدے کی دوڑ میں شامل مان لیا ہے۔ بہار کے وزیر اعلی بے شک خود کو وزیراعظم کی دوڑ میں شامل ہونے سے انکار کرتے رہے ہوں لیکن جس طرح سے ان کے سپہ سالار بیان دے رہے ہیں اس سے ان کی توقعات اور خواہشات کی جھلک ملتی ہے۔ دکھانے کے لئے جے ڈی یو نے سشیل کمار کی رائے زنی سے خود کو الگ کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس کا کہنا ہے نتیش وزیر اعظم کے عہدے کی دوڑ میں شامل نہیں ہیں۔ لوک سبھا چناؤ میں ابھی کم سے کم دو سال باقی ہیں۔ بھاجپا نے صرف نیتا کو اختیار دے کر وزیر اعظم کا دعویدار اعلان نہیں کیا ہے۔ آر ایس ایس نے اپنی ترجیح نریندر مودی کو بتا دی ہے۔ حالیہ فساد پر فیصلے سے نریندر مودی کی دعویداری کو یقینی طور پر دھکا لگا ہے۔بیچ میں یہ ہوا چلی تھی کہ نتیش کانگریس سے ہاتھ ملا سکتے ہیں اور صدارتی عہدے کے چناؤ کے لئے نتیش نے کھل کر کانگریس امیدوار پرنب مکھرجی کا ساتھ دیا تھا۔ تبھی سے یہ قیاس آرائیاں ہونے لگیں کہ شاید اندر خانے نتیش اور کانگریس کی کوئی سودے بازی ہوچکی ہے۔ حالانکہ سشیل کمار مودی نے کہا کہ نتیش کے یوپی اے میں شامل ہونے کا سوال ہی نہیں اٹھتا۔ نتیش کانگریس کے کٹر مخالف ہیں۔ جے ڈی یو اور بھاجپا اتحاد چٹان کی طرح مضبوط ہے اس لئے بقول مودی نتیش کے کانگریس کے ڈوبتے جہاز میں سوار ہونے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ سشیل کمار کے اس بیان پر بہار بھاجپا کے سینئر لیڈر دہلی میں پارٹی کے معاون انچارج رامیشور چورسیا نے سخت اعتراض جتایا ہے۔ وہ کہتے ہیں ایسے بیان سے ورکروں کا حوصلہ ٹوٹتا ہے۔ جو لوگ ایسا بیان دیتے ہیں انہیں اسی پارٹی میں جانا چاہئے جسے وہ اچھا سمجھتے ہیں۔ ایسے بیان دینے والوں کو پارٹی پر بھروسہ نہیں ہے اور وہ اپنا اعتماد کھو چکے ہیں۔ (انل نریندر)

افغانستان میں طالبان کے بڑھتے مظالم کی تازہ مثال


طالبان کے مظالم اور غیر انسانی برتاؤ کی اکثر خبریں آتی رہتی ہیں لیکن حالیہ خبر نے مہذب سماج کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ افغانستان میں پیر کے روز کافی خون خرابہ ہوا جس میں 30 لوگوں کی جانیں چلی گئیں۔ طالبان نے جنوبی ہندوستان کے ایک گاؤں میں باجا بجا کر جشن منا رہے 17 لوگوں کے سرقلم کردئے۔ ہیلمند صوبے کے گورنر کے ترجمان داؤد احمدی نے 17 لوگوں کے قتل کے بارے میں بتایا کہ وہ دعوے سے کہہ سکتے ہیں کہ یہ طالبان کی ہی حرکت ہے۔ طالبان کے عہد کے دوران موسیقی اور پارٹیوں پر روک تھی۔ ایسا کرنے والوں کو شارے عام موت کے گھاٹ اتاردیا جاتا تھا۔ دو عورتوں 15 مردوں کا سر قلم کردیا گیا۔ اس علاقے میں موسیقی بجا کر پارٹی دے رہے تھے جو طالبان کے دبدبے والا علاقہ ہے۔ صوبے کے بشیر ضلع میں ہوئے طالبانی حملے ہوتے رہے ہیں اور خاص کر فوجیوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ موساکلا ضلع کے چیف نعمت اللہ خاں نے بھی واقعہ کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ دیہاتیوں نے موسیقی کے ساتھ پارٹی کا اہتمام کیا تھا۔ ایک مقامی افسر نے اندیشہ ظاہر کیا ہے کہ طالبان کا شکار بنی عورتیں شایت اس پارٹی میں ناچ رہی تھیں۔ جنوبی ہندوستان کے اس علاقے میں بنجاروں کی عورتوں کے ناچ گانے کے ساتھ ساتھ خفیہ پارٹیاں بھی کرنے کا چلن ہے۔ دراصل افغانستان عورتوں کے لئے جہنم بنتا جارہا ہے۔ راجدھانی کابل سے 65 کلو میٹر دور پروان صوبے میں ایک قبرستان میں اپنی بیٹی تمنا کا بے رحمی سے قتل کئے جانے کے بعد اسے دفنانے آئی اس کی ماں صابرہ نے کہا میں نہیں جانتی کے میری بیٹی کا اتنی بے رحمی سے قتل کیوں کیا گیا۔تمنا جس کی عمر15 سال کے قریب تھی اس کے رشتے داروں نے بتایا کہ ان کی بیٹی کو ان کا ایک رشتے دار کافی عرصے سے پریشان کررہا تھا لیکن تمنا اس کی مخالفت کررہی تھی اور پریشان کرنے والے لڑکے کو روکنے کے بجائے الٹے تمنا کی اس کے ساتھ زبردستی شادی کراودی تھی لیکن اس کے شوہر نے اسے ایک اچھی اور وفادار بیوی کا فرض نہ نبھانے پر اس کو بے رحمی سے قتل کردیا تھا۔ افغانستان میں لڑکیوں و عورتوں کو جھوٹے الزامات میں قتل کرنے کے معاملوں میں اضافہ ہورہا ہے۔ ایک آزاد انسانی حقوق کمیشن کے مطابق پچھلے چار مہینوں میں 52 لڑکیوں کے قتل کے معاملے سامنے آئے ۔ جن میں 42 معاملے جھوٹی شان کے نام پر تھے۔ پروان صوبے کی ایک بزرگ عورت کو موت کی سزا دیتے ہوئے گولیوں سے بھون دیا گیا۔ اس خاتون پر بدچلنی کا الزام تھا۔ ایک ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ یہ عورت زمین پر بیٹھی ہوئی ہے جبکہ اس سے کچھ دور کھڑے ایک شخص نے اس پر اے کے 47- سے گولیاں داغیں۔ نیویارک ٹائم کے مطابق اس ویڈیو نے افغانستان میں طالبان کے پانچ سالہ عہد کی یاد تازہ کردی جب لوگوں کو سزا سنائی جاتی تھی اور جرائم کے ملزمان کو پبلک طور پر کھڑا کرکے گولی سے اڑادیا جاتا تھا۔
(انل نریندر)

05 ستمبر 2012

آئینی اداروں کا وقار،ساکھ بنائے رکھنا ضروری


یہ بہت دکھ کی بات ہے کہ یوپی اے سرکار آئینی اداروں پر حملے کررہی ہے اور ان اداروں کے وقار پر چوٹ کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ کوئلہ کھدائی الاٹمنٹ پر سی اے جی کی رپورٹ کو لیکر حکمراں فریق پارٹی کی بے چینی اور ساتھ ہی اس آئینی ادارے کے نتائج سے اتفاق نہ کرنا تو تب بھی سمجھ میںآتا ہے لیکن اسے کٹہرے میں کھڑا کرنا اور یہاں تک کہ اس پر کیچڑ اچھالنایہ ایک عجیب و غریب حرکت ہے۔ یہ پورے دیش کے لئے تشویش کا باعث ہے۔ سی اے جی پر پہلے خود وزیراعظم نے تنقید کی اور اس کے بعد تو کانگریس کی ٹولی سی اے جی پر ٹوٹ پڑی۔ کانگریس سکریٹری جنرل اور بڑبولے لیڈر دگوجے سنگھ نے تو ایک نیا شوشہ چھوڑدیا ہے انہوں نے اب سی اے جی چیف ونود رائے کے خلاف ایک نیا مورچہ بھی کھولنے کی کوشش کی ہے۔ دگوجے نے رائے پر براہ راست حملہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ سیاسی خواہشات پال رہے ہیں۔ انہوں نے رائے کا موازنہ سرکاری افسرشاہ پی این چترویدی سے کیا ہے جو کے بعد میں بھاجپا میں شامل ہوگئے تھے۔ کانگریس سکریٹری جنرل نے کہا ان کی خواہش چترویدی کی طرح ہے۔ وہ ریٹائر ہونے کے بعدبھاجپا میں شامل ہوگئے تھے۔ سنگھ نے کہا کے سی اے جی چیف ونود رائے کی رپورٹ میں کوئلہ بلاک الاٹمنٹ میں سرکار کو دکھائے گئے نقصان کی بات محض خیالی ہے۔ ان اعدادو شمار میں بہت تضاد ہے اور سیاسی مقصد کے حصول کے لئے اسے بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا ہے۔ دگوجے سنگھ کی طرف سے ایک آئینی ادارے پر کیا جانے والا یہ زبردست حملہ ہے۔ اس سے اگر کچھ صاف ہورہا ہے تو یہی کہ حکمراں فریق کو آئینی اداروں کے وقار کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔ کانگریس اور اس کی لیڈر شپ والی سرکار کے نمائندوں کی جانب سے سی اے جی پر کئے جارہے حملہ اس لئے مصیبت والے ہیں کیونکہ اس سے جمہوریت کو کمزور کرنے والی ایک نئی روایت قائم ہوتی نظر آرہی ہے۔ کانگریس کی یہ عادت سی بن گئی ہے کہ جو رپورٹ اسے پسند نہ آئے وہ اس رپورٹ کو تیار کرنے والے ادارے پر ہی حملہ بول دیتی ہے۔ کانگریس کا ریکارڈ ہے جب جب وہ اقتدار میں آئی ہے آئینی اور جمہوریت اداروں کو پہلے اپنے سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کرنا چاہا اور جب ایسا نہیں ہوسکا تو ان پر سیدھے حملے کر ان کی ساکھ کو گھٹانے کی کوشش کی ہے۔یہ کسی سے پوشیدہ نہیں کہ ٹوجی اسپیکٹرم الاٹمنٹ معاملے میں سی اے جی رپورٹ پربحث کرنے والی پی اے سی کمیٹی میں جس طرح حکمراں فریق کے لوگوں نے تختہ پلٹ کردیاتھا یہ بھی کسی سے پوشیدہ نہیں کہ ٹو جی معاملے کی جانچ کررہی جوائنٹ پارلیمنٹری کمیٹی نے اپنے مقاصد سے سوچی سمجھی حکمت عملی سے بھٹکتی نظر آرہی ہے۔ کسی آئینی ادارے کے نتائج سے اتفاق نہ کرنا تو سمجھ میں آتا ہے لیکن اس پر یوں کیچڑ اچھالنا نہ تو ملک کے مفاد میں ہے اور نہ ہی ہماری جمہوریت کے لئے اچھی روایت ہے۔ کوئلہ کھدائی الاٹمنٹ کے معاملے میں سی اے جی کے نتیجے کو آخری سچائی نہیں مانا جاسکتا اس پر اس کی رپورٹ سے دیگر لوگ بھی غیر متفق ہیں لیکن حکمراں فریق کی نا اتفاقی کا طریقہ بیحد اعتراض آمیز ہے۔ کانگریس خود بھی بے داغ نہیں ہے چناؤ کمشنر ایم ایس گل کو کس نے راجیہ سبھا کا ٹکٹ دیا اور وزیر بنایا؟ جسٹس رنگاناتھ مشرا دوسری مثال ہیں۔ ا س مسئلے کوتبھی ختم کیا جاسکتا تھا جو آئینی عہدوں پر بیٹھے لوگ ریٹائر ہونے کے بعد ایک طے میعاد تک نہ توکوئی سیاسی پارٹی میں شامل ہوں اور نہ ہی کسی منافع والے سرکاری عہدے کو قبول کریں۔ ایسا قانون بنا دو کے مسئلہ ختم ہوجائے لیکن اس طرح کے حملے ٹھیک نہیں ہیں۔
(انل نریندر)

میور وہار کانڈ کا ذمہ دار کون ہے؟


دہلی ایک جوالا مکھی کی طرح بن گئی ہے جو کبھی بھی کسی بھی وقت پھٹ سکتی ہے۔ ہم نے اتوار کو دیکھا کہ کس طرح چھوٹی سی چنگاری آگ میں بدل گئی۔ ہرکسی کی زباں پر ایک ہی سوال آخر اچانک کیوں اتنی خوفناک آگ بھڑکی۔ میوروہار فیس۔III میں واقع کھوڑا چوکی کے پاس ایک سپاہی کی جانب سے موٹر سائیکل سوار کو رکنے کا اشارہ کیا گیا لیکن رکنے کے بجائے یہ لڑکا آگے بڑھ گیا۔ الزام یہ ہے کہ اس پولیس والے نے اس کو روک کر اس پر ڈنڈا چلا دیا جس سے نوجوان موٹر سائیکل سمیت گر پڑا اور بری طرح زخمی ہوگیا۔ لیکن واقع کی خبر اس طرح پھیلی کے لڑکے کی موت ہوگئی ہے۔ حالانکہ پولیس کے مطابق بائیک سوار فی الحال ہسپتال میں بھرتی ہے جہاں اس کا علاج چل رہا ہے۔ سینکڑوں لوگوں نے سڑکوں پر اترکر توڑ پھوڑ، پتھراؤ اور آتشزنی کی۔ بلوائیوں پر قابو پانے کی کوشش میں پولیس نے گولی چلا دی۔ جس سے چار لوگوں کو گولی لگی اور وہ زخمی ہوگئے۔ ان میں سے ایک کی لال بہادرشاستری ہسپتال میں موت ہوگئی۔ موت کی اطلاع کے بعد فسادی اور مشتعل ہوگئے۔کھوڑا پولیس چوکی جلا دی، پولیس کی دو موٹر سائیکل ، بس سمیت قریب درجن بھر گاڑیوں کو نذر آتش کردیا گیا۔ رات قریب گیارہ بجے فسادیوں نے سی این جی پمپ اور پیٹرول پمپ میں بھی آگ لگانے کی کوشش کی لیکن حالات کو قابو کرنے کے لئے پولیس کو درجنوں آنسو گیس کے گولے چھوڑنے پڑے۔ دونوں طرف سے گھنٹوں پتھراؤ ہوا اس میں 17 پولیس والے سمیت دو درجن سے زیادہ لوگ بھی زخمی ہوگئے۔ واردات شام ساڑھے سات بجے کی ہے۔ اسکوٹی سوار دو لڑکے کھوڑا چوکی کے سامنے سے گزر رہے تھے۔ایک نے ہیلمٹ پہن رکھاتھا ،پیچھے بیٹھے لڑکے نے ہیلمٹ نہیں پہن رکھا تھا۔ پکٹ پر تعینات پولیس والوں نے چیکنگ کے لئے اس اسکوٹی سوار کو رکنے کا اشارہ کیا اس پر لڑکے اسکوٹی روک تو دی لیکن جلدی ہونے کی بات کہہ کر بغیر چیکنگ کرائے آگے بڑھنے لگا۔ اس پر سپاہی نے غصے میں آکر ڈنڈا برسا دیا اور دونوں کو گرادیا۔ بس یہیں سے جھگڑا شروع ہوگیا۔ دیر رات پولیس کمشنر لا اینڈ آرڈر دھرمیندر کمار نے بتایا اسکوٹی سوار کا نام قمر الدین ہے۔ وہ کھوڑا سے دہلی کی طرف جارہا تھا اس نے زیادہ شراب پی رکھی تھی۔ پولیس نے جب اسے روکا تو وہ خود ہی گر پڑا اسے علاج کے لئے ہسپتال میں بھرتی کرایا گیا۔ اب اس کی حالت ٹھیک ہے۔ واردات کے بعد کھوڑا میں افواہ پھیلا دی گئی کے پولیس کی پٹائی سے قمرالدین کی موت ہوگئی ہے جس وجہ سے وہاں کے لوگوں میں ناراضگی پھیل گئی۔ دراصل اس واردات سے پہلے کھوڑا میں دو فریقوں کے بیچ جھگڑا ہوگیا تھا جس سے بڑی تعداد میں لوگ وہاں اکٹھا تھے۔ اس میں حالات بے قابو ہوگئے۔ ان کا کہنا تھا کہ حالات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے فوراً یوپی پولیس کے اے ڈی جی لا اینڈ آرڈر سے بات کی اور کھوڑا میں کرفیو لگانے کی ضرورت بتائی۔ مگر رات ایک بجے تک یوپی پولیس کا کوئی افسر وہاں نہیں پہنچا۔ پولیس نے پیر کو دعوی کیا کہ اب حالت قابو میں ہے۔ اس سلسلے میں غازی پور، میور وہارفیز III- کے تحت آنے والے نیو اشوک نگر تھانے میں دو معاملے درج کئے گئے ہیں۔ معاملے فساد بھڑکانا، آگ لگانا، اقدام قتل وغیرہ کے ہیں۔ 22 لوگوں کو اس سلسلے میں حراست میں لیا گیا ۔ میوروہار فیز۔III دہلی علاقے میں آتا ہے جبکہ کھوڑا کالونی اترپردیش کے غازی آباد ضلع کے تحت آتی ہے۔ دہلی پولیس کا جو کنٹرول عموماً پیش کیا جاتا ہے اس میں پولیس مجبور نظر آتی ہے جس وجہ سے وہ کہیں سختی دکھاتی ہے تو کہیں سیاسی دباؤ ان پر اتنا ہوتا ہے کہ جرائم پیشہ کے خلاف کچھ نہیں کرسکتی۔ دیش کا سارا سسٹم بد سے بدتر ہوتا جارہا ہے اس کے لئے پوری طرح سے موجودہ پالیٹیکل سسٹم ذمہ دار ہے۔ ووٹ بینک کی پالیسی کے چلتے ایک طبقہ خاص کو اتنی چھوٹ ملی ہے کہ وہ مائی باپوں کی سرپرستی سے پولیس اور انتظامیہ کو کھلے عام اغوا کرلیتی ہیں اور دیش کی مضبوط دہلی پولیس کے جوانوں کو نامرد کی طرح کھڑا دیکھ کر ہنستے ہیں۔ پولیس ملازم چاہتے ہوئے بھی ایکشن کرنے سے کتراتے ہیں کیونکہ ان کے افسر سختی کرنے سے بچتے ہیں۔ میووہار فیز۔III کے بلوے کے پیچھے مہذب سماج کے لوگ نہیں ہیں بلکہ سماج دشمن عناصر ہیں جو طبقہ خاص کے ہونے کے سبب اپنے آپ کو قانون سے بالاتر سمجھتے ہیں۔ آپ دہلی کی سڑکوں پر دیکھ سکتے ہیں کہ اس طبقہ خاص کے کتنے لوگ بائیک سوار ہیلمٹ پہنتے ہیں اور پولیس کی مجال ہے کہ ان کو روک کر چالان کرسکیں۔ اتوار کی ورادات بھی اسی سبب ہوئی تھی۔
(انل نریندر)

04 ستمبر 2012

ملائم نے ایک تیر سے کئی شکار کرنے کی چلی سیاسی چال


کوئلہ بلاک الاٹمنٹ سے وابستہ سی این جی رپورٹ پر پارلیمنٹ میں مچے ہنگامے میں جمعرات کے روز ایک نیا موڑ آگیا جب ملائم سنگھ نے ایک نیا شوشہ چھوڑدیا۔ملائم سنگھ یادو جو سیاست کے ماہر کھلاڑی ہیں، نے ایک تیر سے کئی شکار کرنے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے لیفٹ فرنٹ۔تیلگودیشم کے ساتھ پارلیمنٹ میں تعطل ختم کرنے کے لئے نیا فارمولہ پیش کردیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ لوگ کوئلہ معاملے میں کسی کی طرف داری نہیں کررہے ہیں لیکن اتنا چاہتے ہیں کہ اس سنگین معاملے میں پارلیمنٹ کے اندر کھلی بحث ہو۔ جبکہ بھاجپا کے لوگ ضد پر آمادہ ہیں۔ یہ ٹھیک نہیں ہے۔ انہوں نے مطالبہ کردیا کہ متنازعہ کوئلہ بلاک میں جو بھی گڑ بڑی ہوئی ہے اسکی جانچ سپریم کورٹ کے ایک جسٹس سے کرا لی جائے لیکن سی اے جی رپورٹ میں پارلیمنٹ کے اسی اجلاس میں وسیع بحث کی ضرورت ہے۔ جہاں ملائم نے ایک طرف کانگریس کو اپنا موقف رکھنے کے لئے راہ ہموار کردی وہیں اپوزیشن کے اتحاد کو توڑنے کی کوشش کر کانگریس کی مدد کرنے کی بھی کوشش کی ہے۔لیفٹ فرنٹ تیلگودیشم کو ساتھ لیکر وہ 2014ء کے لئے نیا مورچہ بنانے کی کوشش میں ہیں۔ملائم سنگھ کے اس سیاسی داؤ کو 2014ء کے لوک سبھا چناؤ سے جوڑ کر دیکھا جانا چاہئے۔ کوئلہ بلاک الاٹمنٹ معاملے کو ٹوجی اسپیکٹرم گھوٹالے سے بھی بڑا گھوٹالہ مانا جارہا ہے اوربھاجپا نے اس معاملے پرآسمان سر پر اٹھا کر سیدھے وزیر اعظم منموہن سنگھ کا استعفیٰ مانگ لیا ہے۔ کوئلے پر مچے اس کہرام سے کٹہرے میں کھڑی یوپی اے سرکار کی سیاسی مشکلیں بھانپتے ہوئے ملائم نسگھ نے یہ چال چلی ہے لیکن یوپی اے سرکار کو حمایت دے رہی سپا پر کسی طرح کا الزام نہ لگے اور اگلے چناؤ کے لئے اپنی پوزیشن کو مضبوط کرسکے اس لئے اب تک بھاجپا بنام کانگریس کی جنگ بنی سی اے جی کی رپورٹ کے نتیجوں کی سپریم کورٹ کے جج سے جانچ کرانے کا مطالبہ کر ملائم سنگھ نے ایک نیا موڑ دے دیا ہے۔ اس مبینہ تیسرے مورچہ بنانے کی کوشش میں ایک فائدہ ملائم سنگھ کو یہ بھی ہوا ہے کہ انہوں نے اپنے آپ کو بھاجپا سے دور کرلیا ہے۔ خیال رہے کہ ملائم سنگھ یادو ایسے نیتا ہیں جنہوں نے وسط مدتی چناؤ کی بات کہی تھی اور ان کا نشانہ 2014ء میں وزیر اعظم کی کرسی تک پہنچنا ہے۔ ان کی سیاست ہے کہ انہیں اترپردیش سے60 سیٹیں مل جائیں ۔تیسرا مورچہ اتنی سیٹیں لے آئے تو وہ اتفاق رائے سے لیڈر چن لئے جائیں۔ کانگریس اس بات کو بھانپتے ہوئے بھی ملائم کا ساتھ دینے پر مجبور ہے لیکن کانگریس کے حکمت عملی ساز سونیاگاندھی کو یہ سمجھانے میں لگے ہیں کہ ملائم سنگھ سے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں جو بات کانگریس سمجھ نہیں پا رہی ہے وہ یہ ہے کہ ملائم سنگھ وقت سے پہلے چناؤ کی صورت میں اپنی تیاری میں کوئی کسر چھوڑنا نہیں چاہتے۔ 9 ستمبر سے اترپردیش کے وزیر اعلی اکھلیش یادو بے روزگاری بھتہ بانٹنے جارہے ہیں۔ اس کے بعد ’کنیا ودیا دھن‘ اور پھر لیپ ٹاپ کی باری ہے۔ بے روزگاری اور لیپ ٹاپ ہی وہ اشو تھا جس نے نوجوانوں کو پارٹی کی طرف کھینچا تھا۔ اسی درمیان کولکتہ میں پارٹی کی قومی ایگزیکٹو کی میٹنگ بھی ہے اس میں سبھی کو پارٹی قومی سطح پر سندیش دینا چاہتی ہے۔سماجوادی پارٹی اترپردیش صدر و وزیر اعلی اکھلیش یادو عام آدمی تک سرکار کے کارناموں کو پہنچانے کے لئے سبھی اسمبلی حلقوں میں 15 سے30 ستمبر 2012کے درمیان ورکر سمیلن منعقد کرنے جارہے ہیں۔ اسی طرح ملائم سنگھ یادو نے ایک تیر سے کئی شکار کرنے کے لئے یہ سیاسی چال چلی ہے۔ پتہ نہیں کانگریس کو سمجھ میں آئے گایا نہیں؟ بھاجپا کے لئے بھی یہ ایک چیلنج ہے۔
(انل نریندر)

سپریم کورٹ کا سہارا گروپ کو زبردست جھٹکا


سپریم کورٹ نے سہارا گروپ کو زبردست جھٹکا دیا ہے۔ عدالت نے گروپ کی دو کمپنیوں کو سرمایہ کاروں سے اکٹھا کی گئی 17 ہزار400 کروڑ روپے کی رقم سود سمیت لوٹانے کے احکامات دئے ہیں۔ کمپنی کو 15 فیصدی سود کے ساتھ تین مہینے میں سرمایہ کاروں کو ان کا پیسہ واپس لوٹانے کو کہا گیا ہے۔ غور طلب ہے کہ سہارا گروپ کی دونوں کمپنیوں نے 2008--09 میں بازار میں سرمایہ کاروں کے لئے ایک اسکیم لا کر یہ پیسہ اکٹھا کیا تھا۔ سیبی کے قواعد کی خلاف ورزی کی وجہ سے دونوں کمپنیوں کو پیسہ لوٹانے کوکہا تھا۔ اس حکم کے خلاف سہارا گروپ نے الہ آباد ہائی کورٹ کا دروزاہ کھٹکھٹایاہے۔ عدالت نے سیبی کے حق میں فیصلہ دیا جس کے بعد معاملہ ماتحت عدالت میں پہنچا۔ جسٹس کے ایس رادھا کرشن و جسٹس جے ایس کھتر کی ڈویژن بنچ نے سیبی کو ہدایت دی ہے کہ اگر سہارا گروپ کی کمپنیاں سہارا انڈیا ریئل اسٹیٹ کارپوریشن ،سہارا ہاؤسنگ انوسٹمنٹ کارپوریشن سرمایہ کاروں کا پیسہ لوٹانے میں ناکام رہتی ہے تو ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔ حکم کی تعمیل نہ کرنے پر سیبی ان کمپنیوں کی پراپٹی ضبط کرنے اور بینک کھاتوں کو سیل بند کرنے کو کہاگیا ہے۔ مخصوص عدالت نے سیبی کو ان کمپنیوں کے خلاف جانچ کرنے اور ان کے اصلی گراہوں کی بنیادکا پتہ لگانے اور دیگر اطلاعات اکٹھا کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔ بنچ نے ان کمپنیوں کو اپنے سبھی دستاویز اور کھاتوں کی تفصیل سیبی کے پاس جمع کرانے کا بھی فرمان جاری کیا ہے۔ ساتھ ہی دونوں کمپنیوں کے خلاف سیبی کی جانچ کی نگرانی کے لئے سپریم کورٹ کے سابق جسٹس ڈی این اگروال کو مقرر کردیا گیا ہے۔ عدالت نے 14 جون کو اس معاملے میں اپنا فیصلہ محفوظ رکھا تھا۔ اس سے پہلے9 جنوری کو عدالت نے سیٹ کے حکم پر التوا دیتے ہوئے سہارا گروپ کی عرضی کی سماعت کیلئے منظور کرلیا گیا۔اپنی عرضی میں سہارا گروپ نے کہا تھا اس کے پاس سرمایہ کاروں کے مفاد کے تحفظ کے لئے کافی پراپرٹی ہے۔ اس سے پہلے گروپ نے عدالت کو بتایا تھا کہ اس نے حلف نامہ دیکر یہ صاف کیا ہے کہ وہ ان دونوں کمپنیوں میں پیسہ لگانے والے سرمایہ کاروں کے مفادات کی حفاظت کرے گا۔ بڑی عدالت نے 28 نومبر 2011ء کو دونوں کمپنیو ں سے 2010-11 کی اپنی بیلنس شیٹ کے نومبر 2011 میں ہوئے لین دین کی تفصیلات پیش کرنے کو کہا تھا۔ ساتھ ہی اس نے سہارا کی عرضی پر مرکزی حکومت اور سیبی کو نوٹس جاری کیا۔ سیٹ کا حکم سہارا گروپ کے جون2011 کے حکم کو چیلنج کرنے والی عرضی پر آیا تھا۔ اس میں گروپ کی دونوں کمپنیوں کو ریگولیشن و ہدایتوں کی خلاف ورزی کا مرتکب پائے جانے اور سرمایہ کاروں سے اکھٹا کئے گئے پیسے کو لوٹانے کا بھی حکم تھا۔ اس پر بازار سے پیسہ اکھٹا کرنے پر بھی روک لگادی گئی تھی۔ دونوں کمپنیوں کے سربراہ سبرت رائے اور ڈائریکٹر وندنا بھاگو، روی اندر دبے اور اشوک رائے چودھری کو مشترکہ طور سے یہ رقم لوٹانی ہوگی۔ سہارا گروپ دیش میں تیزی سے ابھرتا ہوا صنعتی گروپ ہے۔ کھیلوں کے سیکٹر اور ہوٹل پیشے میں گروپ نے بہت نام کمایا ہے۔ گروپ کے چیف سبرت رائے آج دیش کی جانی مانی ہستیوں میں سے ایک ہیں۔ میڈیا گروپ میں بھی اس گروپ نے تیزی سے اینٹری کی ہے۔ اس کیس پر سبھی کی نظریں لگی ہوئی ہیں۔ سبھی بے چین ہیں کے آخر اصلیت کیا ہے۔ قارئین کوہم بتانا چاہئیں گے کہ معاملہ کیا ہے؟ سہارا گروپ نے ریئل اسٹیٹ میں سرمایہ کاری کے نام پر 2.3 کروڑ سرمایہ کاروں سے او ایف ڈی کے ذریعے 17 ہزار400 کروڑ روپے کی رقم اکھٹا کی تھی لیکن جب کورٹ نے پوچھا کہ اس رقم کو وہ کہاں اور کس طرح لگائے گی تو سہارا نے اس کا کوئی جواب نہیں دیا۔ گروپ کا کہنا تھا کہ سرمایہ کاروں کے مفادات کے تحفظ کیلئے اس کے پاس کافی املاک ہیں لیکن سب جج، سیٹ اس سے مطمئن نہیں ہوا اور اس نے جون 2011 میں حکم دے کر کمپنی میں پیسہ لگانے والے لوگوں کو پیسہ لوٹانے کی ہدایت دی۔ اس حکم کو سہارا نے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔ عدالت کے فیصلے کے بعد سہارا گروپ آج کل بڑے بڑے اشتہاردیکر اپنی پوزیشن صاف کررہا ہے۔ یہ صفائی اسے سپریم کورٹ میں دینی چاہئے تھی تو یہ حالت شاید نہ آتی۔ لیکن ظاہر ہے کہ وزارت سے سپریم کورٹ مطمئن نہیں ہے۔
(انل نریندر)

02 ستمبر 2012

پھانسی کی سزا تو برقرار پر عمل کب ہوگا؟


سپریم کورٹ کی جانب سے ممبئی حملے کے مجرم پاکستانی آتنکی اجمل عامر قصاب کی موت کی سزا برقرار رکھنے کا دیش کے عام شہریوں نے خیر مقدم کیا ہے۔ بدھوار کو جسٹس آفتاب عالم و جسٹس سی کے پرساد کی بنچ نے قصاب کو بھارت کے خلاف جنگ چھیڑنے کا قصوروار ٹھہراتے ہوئے اسے موت کی سزا کے علاوہ دوسری سزا نہیں دی جاسکتی۔ قصاب معافی کے لائق نہیں ہے کیونکہ وہ بھارت اور ہندوستانیوں کے خلاف حملے میں شامل تھا اس کا مقصد دیش میں افراتفری کرکے فرقہ وارانہ بھائی چارے کو بگاڑنا تھا۔ ممبئی کے 26 نومبر2008 ء کو ہوئے آتنکی حملے میں 166 لوگ مارے گئے تھے اور 238 زخمی ہوئے جنہوں نے اس دہشت گردی کو دیکھا تھا اور جنہیں انصاف کی کارروائیوں میں تھوڑا بھی عمل تھا وہ تبھی سے مطمئن تھے کہ 9 آتنکوں میں اکیلا زندہ بچا اجمل قصاب سزائے موت سے نہیں بچ سکتا۔ پھر بھی ساری دنیا نے دیکھا ہندوستانی عدلیہ نظام نے قصاب کے معاملے کو پای�ۂ تکمیل تک پہنچانے میں ہماری عدالتوں نے کسی طرح کے شارٹ کٹ یا جانبداری کا سہارا نہیں لیا۔ قصاب کے اس طرح کے الزامات کو مسترد کرتی ہوئی سپریم کورٹ کا تبصرہ بالکل واجب ہے اس سے دنیا میں ہندوستانی انصاف سسٹم کی ساکھ اور دھاک جمی ہے۔ پاکستان پربھارت کے خلاف سازش کی عدالتی مہر لگی ہے۔ اسے فیصلے نے ملک کے شہریوں کو جہاں تسلی ضرور دی ہے وہیں جنتا کے دل میں یہ غلط فہمی بھی برقرار ہے کیا اس سزا پر عمل کرنے کی منموہن سرکار کے پاس قوت ارادی ہے؟ اس سوال کا جواب صرف یوپی اے سرکار کے پاس ہے اور دیش کی یہ بدقسمتی ہے کہ آتنک وادیوں کو سزا دینے کے معاملے میں اس سرکار کا ریکارڈ بہت خراب اور قابل افسوس ہے ۔ اتنے سال گزرجانے کے بعد بھی وہ نہ تو پارلیمنٹ کے مجرم افضل کو پھانسی کی سزا پر عمل کراسکی ہے اور نہ ہی کچھ دیگر آتنک وادیوں کی ایسی سزا کی تعمیل ہوئی۔ اس فیصلے پر تعمیل کرانا اب سرکار کی ذمہ داری ہے۔ اسے یہ کارروائی یقینی بنانی چاہئے کہ اس طرح دیگر معاملوں میں بھی عمل میں دیری نہ ہو اور تاخیر کی وجہ سے انصاف کے اصولوں کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔ پھانسی کی سزا دلانا اگر ملک میں واجب ہے عدالت معاملوں کی سنجیدگی کی بنیاد پر اسے جاری رکھتی ہے لیکن پھر سرکار کے ایکشن کو میعادی بنانا چاہئے۔ اس سے بالکل شفافیت کے ساتھ نپٹا جانا چاہئے۔ اس سزا پر نظر ثانی یا صدر کی معافی کے حق کے علاوہ محض معاملے میں خانہ پوری رہ جائے۔ پہلوؤں کے حساب سے طے ہونا چاہئے کہ کسی سیاسی اپیل یا تقاضوں کے چلتے نہیں ان آتنکیوں کی نہ تو کوئی ذات ہے اور نہ ہی مذہب۔ اگر سرکار سمجھتی ہے کہ انہیں پھانسی دینے سے کسی طبقہ خاص میں ردعمل ہوگا تو غلط سوچتی ہے۔ سب نے بے قصوروں کو نشانہ بناتے وقت یہ نہیں دیکھا تھا کہ سامنے کھڑے شخص کا مذہب کیا ہے یا ذات کیا ہے؟ افضل کے معاملے بھارت سرکار کی آنا کانی سے اگر دیش دنیا میں کوئی سندیش جارہا ہے تو یہ ہندوستانی مملکت ایک آتنکی کو سزا دینے کی ہمت نہیں جٹا پارہی ہے۔ دیر سے ہی صحیح جہاں متاثرہ کنبوں میں سرکار کے خلاف ناراضگی بڑھتی جارہی ہے وہیں سکیورٹی فورسز کا بھی حوصلہ ٹوٹتا ہے۔ قصاب کا تو کیس شیشے کی طرح صاف ہے۔ درجنوں لوگوں نے اسے گولیاں برساتے ہوئے دیکھا۔ اس کے خلاف ہر ممکن ثبوت دستیاب ہے اس کے باوجود ہم ساری دنیا کو یہ دکھانے میں لگے ہیں کہ ہماری عدلیہ کارروائی کتنی صاف ہے یہ ڈرامہ کس لئے؟ دنیا کے بہت سے ملک آتنک واد سے متاثر ہیں۔ امریکہ میں فوراً سزا دے دی جاتی ہے یہاں تک کہ پاکستان میں بھی آتنک واد سے متعلق مقدموں کا فیصلہ ایک سال میں پورا کرنے کی سہولت ہے۔ حکومت ہند کو ضرورت پڑے تو قانون میں تھوڑی ترمیم کرنے کی ضرورت ہے۔ سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے کے بعد ایک یقینی میعاد میں صدر کو اپنا فیصلہ دینا ہوگا۔ آج کی تاریخ میں درجنوں پھانسی کے معاملے راشٹرپتی بھون میں لٹکے پڑے ہیں۔ اگر ان پر سلسلہ وار عمل ہوتا بھی ہے تو افضل گورو اور قصاب کا نمبر بہت دنوں بعد آئے گا؟ لیکن اس کارروائی کو شروع تو کرو۔ (انل نریندر)

امریکی احتجاج کے باوجود تہران میں ناوابستہ کانفرنس


ناوابستہ تحریک (نیم) کی 16ویں چوٹی کانفرنس کا میزبان ایران کو بہت دنوں سے انتظار تھا شاید ایران کو اسی وقت کا انتظار تھا جب دنیا کے اسٹیج پر اپنا غصہ نکال سکے اور اپنی دلیلوں سے ناوابستہ ممالک کے نظریات بدل سکے۔ جمعرات کو ناوابستہ چوٹی کانفرنس کے افتتاح کے ساتھ ہی ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے براہ راست حملہ ان پر کیا جو ایران کے نیوکلیائی پروگرام کو روکنے کے لئے دباؤ بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رہے۔ خامنہ ای جہاں ایک طرف اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کی موجودگی میں سکیورٹی کونسل کی تاناشاہی کی کھلے طور پر تنقید کی وہیں دوسری طرف وہ امریکہ اور مغربی ممالک پر الزام لگانے سے نہیں کترائے کہ وہ نیوکلیائی توانائی میں استعمال پر صرف اپنا اختیار بنائے رکھنا چاہتے ہیں۔ خامنہ ای نے کہا کہ امریکہ اپنی طاقت کے دم پر ایران جیسے ملکوں پر نا مناسب دباؤ بناتا آیا ہے۔ افغانستان ،عراق اور افغانستان میں قتل کے لئے امریکہ ذمہ دار ہے۔ یہ الزام ایران کے صدر احمدی نژاد نے لگایا۔ انہوں نے امریکہ پر ان دیشوں میں منظم طریقے سے لوگوں کو قتل کرنے کا الزام بھی لگایا۔ ناوابستہ ممالک کی چوٹی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے احمدی نژاد نے کہا کہ 120 ملکوں کی اس تنظیم کو عالمی برادری کی حکمرانی میں حصہ لینے کے اپنے مقاصد اور خواہشات کے بارے میں پھر سے سوچنا چاہئے۔ انہوں نے کہا اقوام متحدہ سلامتی کونسل کے برتاؤ کے سبب قبضہ کرنے اور جارحیت اور اذیتیں اور جرائم کو تقویت ملی ہے۔ دراصل 50 کی دہائی میں امریکہ سوویت روس کے درمیان جاری خطرناک سرد جنگ کے جواب میں شروع ہوئی ناوابستہ تحریک آہستہ آہستہ سرد جنگ ختم ہوتے اپنی اہمیت کھوتی گئی۔ لیکن امریکہ اور مغربی ممالک کی پہل پر بین الاقوامی اچھوت اعلان ہوچکے ایران نے اس چوٹی کانفرنس کے ذریعے سے یہ بتانا چاہا ہے کہ آج بھی وہ اکیلا نہیں ہے۔ قریب دو درجن ملکوں کی لیڈر شپ کی موجودگی ایران کا حوصلہ بڑھانے والی تھی۔اقوام متحدہ سکریٹری جنرل بانکی مون نے کانفرنس میں موجود ہوکر ایران کو خوش کردیا تو تین دہائیوں کے بعد مصر کے کسی سرکردہ لیڈر کی آمد اس کے لئے بونس ملنے جیسی بات تھی۔ ایران کا جو بھی مقصد رہا ہو۔ اقوام متحدہ سکریٹری جنرل کا اپنا ایجنڈا تھا۔ بانکی مون نے ایران کی نیوکلیائی تیاریوں پر حملہ بول دیا جس میں درپردہ دھمکی چھپی تھی۔ بانکی مون نے ایران کو خبردار کیا اگر اس نے سکیورٹی کونسل کی ہدایت پر عمل نہیں کیا اور نیوکلیائی ہتھیاروں کی چپ چاپ تیاری کی ہوئی ہے ۔ اس میں شک نہیں جنگ چھڑنے کا انتظار نہیں کیا جائے گا۔ ادھر مصر کے نئے صدر محمد مرسی نے شام میں اقتدار کے خلاف انقلابیوں کا گنگان کرکے ایران کے زخموں پر نمک چھڑکنے کی کوشش کی گئی۔ یہ چوٹی کانفرنس الٹی ایران پر بھی بھاری پڑ گئی۔ مرسی نے عرب ممالک میں تاناشاہی کے خلاف کامیاب ہورہے انقلاب کی شان میں قصیدے پڑھ کر ایران کو بے چین کردیا۔ جو خود تین دہائیوں سے اسلامی کٹر پسندی کے خلاف کھڑے جمہوریت نوازوں کی آواز دبانے کی ہر ممکن کوشش کررہا ہے۔ شام میں تاناشاہی کے خلاف جاری لڑائی میں ایران کھل کر وہاں کی سرکار کے ساتھ ہے جس کی پرزور مخالفت کی گئی۔امریکہ اور مغربی ممالک کے علاوہ تمام عرب ملک شرکت کررہے ہیں۔ سوویت روس کی تقسیم کے بعد ایسے لوگوں کی کمی نہیں تھی جو یہ جانتے تھے کہ اب اس تحریک کی کوئی ضرورت نہیں رہی اس لئے اسے سمیٹا جانا چاہئے۔ اگر آج بھی قریب 120 ممالک تحریک کے ممبر ہیں جن میں سے قریب30 ملکوں کے سربراہ مملکت یا اقتدار اعلی نے تہران کانفرنس میں حصہ لیا۔بیشک تحریک آج کمزور ہے۔ آج اس کی حالت اور سمت کو لیکر شبہ پوری طرح سے ختم نہیں ہوا ہے لیکن اس کی اہمیت آج بھی ہے۔ اس میں ایک طرف ایران اور وینزویلا جیسے ممالک ہیں جن کا امریکہ کے ساتھ ٹکراؤ ہے تو دوسری طرف بھارت جیسے ملک ہیں جو امریکہ کے ساتھ دوستی اور تعاون کا رشتہ مضبوط کررہے ہیں تو اپنے پرانے اور آزمائے ملک مصراور روس سے بھی دوستی بنائے ہوئے ۔ ایران تو اسی بات سے خوش ہے کہ امریکہ کی مخالفت کے باوجود تہران میں ناوابستہ چوٹی کانفرنس کامیابی کیساتھ منعقد ہوئی اور ختم ہوگئی۔ (انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...