Translater

16 دسمبر 2022

کانگریس کی ہاتھ جوڑو یاترا !

چھتیس گڑھ میں کانگریس تنظیم ایک بارپھر اسمبلی حلقوںمیں اپنی بنیاد مضبوط کرنے کی تیاری میں ہے ۔ کانگریس کے سابق صدر راہل گاندی کی بھارت جوڑو یاترا کو دیش میں مل رہی کامیابی اور مقبولیت کے پیش نظر ان اشوز کو چھتیس گڑھ میں اٹھایا جا ئے گا۔وہیں مودی سرکار کی ناکامیوں بد انتظامی سے لیکر مہنگائی اور بے روزگاری کے اشو پر کانگریس گھر گھر جائے گی۔ بھارت جوڑا یاترا کی ترز پر چھتیس گڑھ کانگریس ہر اسمبلی حلقے میںہاتھ جوڑا یاترا نکالنے جا رہی ہے۔ پردیش کانگریس کمیٹی نے اس کا اعلان کردیا ہے کہ وہ یوم جمہوریت 26جنوری سے شروع کرے گی ۔ یاترا کے آغاز کے ساتھ ا س میںریاستی سرکار کے کارناموں اور مودی سرکار کی ناکامیوں کو جم کر اچھالا جائے گا۔ اس یاترا کے ذریعے کانگریس نیتا اور ورکر علاقے میںہر بوتھ اور ہر گھر تک پہنچنے کی کوشش میںہیں۔ اس یاترا کو لیکر جلد ہی حکمت عملی کے ساتھ ایک حکمت عملی پلان طے ہو جائے گا۔چھتیس گڑھ کانگریس کی نئی انچارج کمای شیلجا کی موجودگی اور اقتدار تنظیم کے لیڈروں کی موجودگی میںہونے والی میٹنگ میں اس مسئلے پر اہم بحث ہوگی ۔ پردیش کانگریس ورکنگ کمیٹی کی میٹنگ میں ہاتھ جوڑو یاترا کو لیکر غور ہوگا۔ بھارت جوڑو یاترا کی شاندار کامیابی سے حوصلہ افزا چھتیس گڑھ کانگریس ریاست میں بہتر ڈھنگ سے عمل کرنے کے موڈ میں ہے۔ دوسری طرف یہ یاترا چناوی سال میں نکلے گی ۔اور اس میں مقامی سطح کے لیڈروں کو شامل کرنے کی تیاری ہے ۔ذرائع کادعوی ٰہے کہ چناوی سال ہونے کی وجہ سے اسمبلی حلقوںمیں ایک طرح سے تنظیم کی زمین کے حالات بھی ٹٹولے جائیںگے ۔ اور اصلی تنظیم کی حالات کے تجزیہ کے ساتھ ایک طرح سے ممبران اسمبلی کی کارکردگی اور ان کی مقامی سطح پر مقبولیت کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔ اس معاملے میں ورکروں کوبھی ذمہ داری دی جارہی ہے۔ اس یاترا سے چھتیس گڑھ میں ہونے والے اسمبلی چناو¿ کے ساتھ آنے والے سال 2024میں لوک سبھا چناو¿ کی تیاریاں بھی جڑی ہوئی ہیں۔ دیش میں بہت زیادہ مہنگائی ،بڑھتی بے روزگاری کے اشوپر ایک طرح سے کانگریس مودی سرکار اور بھاجپا کو گھیرنے کی کوشش کرے گی ساتھ ہی اس اشو پر عام لوگوںکو کانگریس کے حق میںووٹ ڈلوانے کی کوشش کرے گی۔ اسمبلی حلقوں میںاس پد یاترا کے ذریعے ورکروں کو ہر بوتھ بوتھ تک پہنچنے کی ہدایت ہے اور مقامی ورکروں کوبوتھ کے علاوہ گھر گھر لوگوں سے رابطہ قائم کرنے کے احکامات دئے جارہے ہیں۔ دیکھیں یہ ہاتھ جوڑو یاترا زمین پر کتنی کھڑی اترے گی۔ ماننا ہوگا کہ راہل گاندھی کی بھارت جوڑو یاتراکا کانگریس کے ورکروں اور نیتاو¿ پر خاصہ اثر ہو رہاہے۔ انل نریندر)

طالبان نے بھارت سے مانگی مدد!

طالبان نے 15اگست 2021کو جب کابل پر قبضہ جمایا تھا تب سے اسے امریکہ کے ساتھ ہی ہندوستانی ڈپلومیسی کو بھی شکست کے طور دیکھا گیا تھا ۔ لیکن پچھلے 15مہینوںمیں افغانستان میں ڈپلومیٹک حالات کافی بدل گئے ہیں۔ پاکستان کے ساتھ طالبان کے رشتے مسلسل کشیدہ ہوتے جا رہے ہیں۔ جبکہ پچھلے دنوں وہاں کے سفارت خانے میںکام کررہی ڈپلومیٹک تکنیکی ٹیم سے طالبان نے درخواست کی تھی کہ بھارت وہاں اپنے التویٰ میں پڑے پروجیکٹس کو شروع کرے ۔ حالات کو دیکھتے ہوئے ہندوستانی اسکیموں کو شروع کرنے کو لیکر زیادہ ولولہ نہیں ہے ۔وزارت خارجہ کا یہ بھی خیال ہے کہ طالبان بین الاقوامی سطح پراپنی حکومت کو تسلیم کرانے کے منصوبے سے بھی بھار ت کے ساتھ رشتوں کو لیکر زیادہ جوش نہیں دکھائی دے رہا ہے ۔ ذرائع نے بتایا کہ طالبان کی جانب سے مدد مانگی گئی ہے لیکن ابھی ممکن نظر نہیں آتا ۔ اگر بھارت وہاں ہائیڈرو پاور پروجیکٹ یا بجلی سپلائی سے متعلق پروجیکٹس کو شروع کرنے کا فیصلہ بھی کرتا ہے تو پہلا سوال یہ ہے کہ وہاں سازوسامان کیسے بھیجے جائیںگے ؟ اناج تو بھیجنا ممکن نہیں ہو پا رہا ہے ۔ کیوںکہ پاکستان کی طرف سے مسلسل رکاوٹےں پیدا کی جا رہی ہیں۔ دوسری بات یہ بھی ہے کہ ابھی وہاں کے حالات ایسے نہیں ہیں کہ لیبرس کی حفاظت کو لیکر مطمئن ہوا جا سکے ۔طالبان کے آنے سے بھی وہاں سکھوں پر حملے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے بھارت کو وہاں سے سیکڑوں سکھو کو نکالنا پڑ رہا ہے ۔کئی طرح کی دوسری پریشانیاں بھی ہیں۔ جیسے افغانستان میں کسی طرح کی کاروبار کیلئے کوئی بیمہ سہولت ابھی دستیاب نہیں ہے ۔یہاں تک کہ وہاں بینکنگ سسٹم بھی باہری دنیا سے کٹا ہوا ہے ۔ہندوستانی ڈپلومیٹک ٹیم سے ملنے دوران طالبان میں وزیر شہری ترقی حمداللہ نعمانی نے خاص طور پر چار مطالبے رکھے ہیں ۔پہلا بھارت پروجیکٹس کو پھر سے شروع کرے ۔دوسرا کابل میںڈیولپمنٹ سے وابسطہ پروجیکٹس کو شروع کرنے کیلئے فنڈ دے ۔تیسرا افغانی طلبہ کو ویزا دینے کا کام شروع کرے ۔چوتھا ہندوستانی یونیورسٹیوں میں پی ایچ ڈی کرنے کیلئے افغانی طلبہ کی مدد کرے ۔ اگست2021میں کابل سفارت خانہ خالی کرنے کے 9ماہ بعد بھارت نے طالبان سے سیدھی بات کی تھی اس کے بعد افغانستان کو انسانی ہمدردانہ بنیاد پر گیہوں ،دوائیاں بھیجی گئیں ۔ درمیان بھارت نے وہاں اپنے سفارت خانے کو دوبارہ کھولنے کا فیصلہ لیا ۔ حال ہی میں بین الاقوامی سطح پر وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے افغانستان کی خراب حالت کا اشو اٹھایا تھا ۔ دوسری طرف دیکھا جائے تو پاکستان سے افغانستان کے رشتے برابر خراب ہوتے جا رہے ہیں۔ خبر آئی ہے کہ پاکستان کی فوج اور افغان طالبان جنگ بازوں کے درمیان یمن سرحد پر زبردست گولہ باری ہوئی ہے ۔دونوں کے درمیان حملوں میں اب تک 10لوگوں کی موت ہوگئی ہے ۔ جبکہ 37لوگوں کے زخمی ہونے کی خبر ہے اور پتہ چلا ہے کہ دونوں میں لڑائی بدستور جاری ہے۔ (انل نریندر)

13 دسمبر 2022

اس بمپر جیت کا 2024کے عام چناو ¿ پر کیا اثر ہوگا؟

گجرات میں جیت کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی کی تقریر میں آنے والے سال 2024میں ہونے والے عام چناو¿ کی تیاریوں کی جھلک دیکھنے کو ملی ۔ انہوںنے ابھی سے چناو¿ کمپین شروع کردی ہے اور جس طرح سے ورکروں سے بات کی اور ان کو سراہا اس سے لگتا ہے کہ 2024میں کیا ہونے جا رہا ہے اور مودی ابھی سے مورچہ بندی کررہے ہیں ۔ہندوستانی جمہوریت میں اقتدار سنبھال رہے نیتا ہمیشہ سرکار مخالف لہر سے ڈرے رہتے ہیں لیکن بی جے پی نے گجرات میں 27سال کی سرکارچلانے کے بعداگلے 5سال کیلئے بھی ریکارڈ توڑ کامیابی حاصل کی ہے ۔ اور ثابت کردیا ہے کہ ابھی بھارت میں بھاجپاہی سب سے بڑی سیاسی طاقت ہے اور اگلے کچھ برسوں تک اقتدار میں رہنے کا ارادہ رکھتی ہے بلکہ تیار بھی ہے ۔وزیر اعظم نریندرمودی مسلسل 12سال گجرات میں اقتدار سنبھالنے کے بعد دہلی آئے تھے اور وہ پچھلے 8برسوں سے بھارت کے وزیر اعظم ہیں اور ان کی قیادت میں کئی چناو¿ جیتے ہیں ۔ کورونا وبا کے بعد بی جے پی نے سب سے اہم ریاستوں میں سے ایک اترپردیش میں بھاری اکثریت سے چناو¿ جیتا اور آسام ،گجرات اورگوا میں بھی سرکاریں بنائیں۔انہوں نے اپنے نام پر ووٹ مانگے اور ایک طرح سے وہ گجرات کو اپنا جانشین کی شکل میں پیش کرتے رہے ہیں۔ اور ہندوستانی سیاست میں گجرات کی زبردست جیت کو ہندوستانی سیاست میں برانڈ مودی کے اور مضبوط ہونے کی شکل میں بھی دیکھا جا رہا ہے ۔ اب یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ گجرات دہلی ،ہماچل پردیش کے نتیجے آنے والے 2024کے لوک سبھا چناو¿ پر اثر انداز ہو سکتے ہیں؟ کیا ان نتیجوں کی وجہ سے اپوزیشن پارٹیوں کو اپنی حکمت عملی بدلنی پڑ سکتی ہے ۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے گجرات میں 30سے زیادہ ریلیاں کیں بار بار گجرات کو اپنے آپ سے جوڑا اور انہوںنے گجرات کی وقار کی بات کی ۔اور ووٹروں سے خود پر اور بی جے پی پر بھروسہ کرنے کی اپیل کی ۔ گجرات چناو¿ کے دوران بی جے پی نے ہندوتو کی اپنی سیاست پر زور دیا ۔ بی جے پی کے اسٹار کمپینروں کے نشانے پر مسلمان رہے سیاسی مبصر مانتے ہیں کہ بی جے پی ہندوتو کی اپنی آئیڈیولوجی کو تو ظاہر کرتی ہے لیکن وہ صرف ہندوتو کے نام پر ہی ووٹ نہیں مانگتی بلکہ اپنے اشوز کے ذریعے بھی لوگوں کو اپنی طرف کھیچ رہی ہے ۔ اس بار عورتوں نے بھی کھل کر بھاجپا کا ساتھ دیا ۔یہ کہنا غلط ہے کہ بی جے پی صرف ہندوتو کی حکمت عملی پر چناو¿ لڑ رہی ہے ۔وہ بجلی ،پانی جیسے بنیادی اشوز کو بھی اٹھا رہی ہے سب سے زیادہ کامیاب وہیں اسکیمیں ہیں جو ان اشوز کے ارد گرد ہیں اور ان کا فائدہ اٹھانے والا طبقہ بی جے پی کے ساتھ جڑاہوا محسوس کرتا ہے ۔بی جے پی کو صرف ہندوتو کے دم پر نہیں بلکہ کام کے دم پر کامیابی ملی ہے۔ چناو¿ کا اشوز کا اثر پڑتا ہے اگر ایسا نہیں ہوتا تو ہماچل میں سرکار نہیں بدلتی ۔ دہلی ایم سی ڈی میں عام آدمی پارٹی کو اتنی شاندار کامیابی نہیں ملتی ۔ عام آدمی کے درمیان پارٹی کا بھروسہ انتہائی ضروری ہوتا ہے۔ (انل نریندر)

بیٹیاں بھگوان کی دین ہوتیں ہیں!

روہنی کیسی ہے ؟سنگا پور میں آپریشن کے بعد ہوش میں آنے پر سب سے پہلے آر جی ڈی چیف لالو پرساد یادو نے یہی پوچھا تھا ۔یہ لفظ نہ تو آر جے ڈی چیف کے ہیں اور نہ ہی بہار کے سابق وزیر اعلیٰ کے ہیں ۔ یہ لفظ ایک والد کے ہیں جو اپنی بیٹی کے بارے میں پوچھ رہے تھے ۔ اس بیٹی کے بارے میں جس نے کچھ ہی گھنٹے پہلے اپنی کڈنی اپنے پاپا کی زندگی بچانے کیلئے ڈونیٹ کردی ۔ ایسا نہیں ہے کہ جذبات کی یہ دھار ایک طرف سے بہہ رہی ہے ۔ سنگاپور میں اپنے والد کو کڈنی دینے سے پہلے روہنی نے بھی مسلسل کئی جذباتی ٹویٹ کئے تبھی سے باپ بیٹی کے رشتوں پر خوب بحث جاری ہے ۔ جیسے ہی روہنی کو پتہ چلا کہ لالو پرساد یادو کو کڈنی دینے کیلئے وہ ڈونر بن سکتی ہیں۔ روہنی نے سوشل میڈیا پر کئی پوسٹ کئے گزشتہ 11نومبر کو والد لالو پرساد یادو کے ساتھ بچپن کی اپنی ایک تصویر شیئر کرتے ہوئے روہنی نے ٹویٹر پر لکھا کہ ماں باپ میرے لئے بھگوا ن ہیں میں ان کے لئے کچھ بھی کر سکتی ہوں ۔آپ سبھی کی دوعاو¿ں نے مجھے اور مضبوط بنایا ہے ۔ میں آپ سب کا دل سے شکریہ ادا کرتی ہوں آپ سب کا خاص پیار اور عزت مل رہی ہے ۔ میں بہت جذبات میں ہوں آپ سب کو دل سے شکریہ ادا کرتی ہوں ۔روہنی نے لکھا ہے کہ زمین پر ماں باپ ہی بھگوان ہوتے ہیں اور ان کی پوجا اور خدمت کرنا ہر بچے کا فرض ہے ۔ پتا کو کڈنی دینے کے فیصلے پر روہنی نے اپنے ٹویٹر پر لکھا میرا تو خیال ہے یہ تو بس ایک چھوٹا گوشت کا ٹکڑا ہے جو میں اپنے پاپا کیلئے دینا چاہتی ہوں میں اپنے پاپا کیلئے کچھ بھی کر سکتی ہوں ۔ روہنی نے اپنے ٹویٹ میں سب سے گزارش کی ہے کہ آپ سب دعا کیجئے کہ سب ٹھیک ٹھاک ہو جائے اور پھر سے آپ سبھی کے درمیان عوام کی آواز بلند کریں ،نیک خواہشات کیلئے ایک بار پھر سے آپ سب کا شکریہ ۔ روہنی آچاریہ کے اس فیصلے پر کئی ٹویٹر یوزر تعریف بھی کر رہے ہیں جس میں نیتا بھی پیچھے نہیں ہےں اور نہ سیاسی حریف ۔ بیگوسرائے سے ایم پی و مرکزی وزیر گری راج سنگھ نے لالو کی بیٹی روہنی کے اس فیصلے پر لکھا بیٹی تو روہنی آچاریہ جیسی ہو اس پر فخر ہے ۔آ پ پر ہمیں فخر ہے آپ آنے والی نئی نسل کیلئے ایک مثال بنیںگی۔ اتنا ہی نہیں کڈنی ٹرانسپلانٹ کے بعد وزیر اعظم نریند مودی نے آر جے ڈی چیف لالو پرساد یادو کی طبیعت اور حال چال جاننے کیلئے تیجسوی یادو سے بات کی ۔ سینئر صحافی رویش کمار نے بھی فیس بک پر روہنی کے تعریف میں ایک لمبا پوسٹ لکھا اور وہ روہنی کی اس فیصلے پر لکھتے ہیں کہ جس طرح سے روہنی نے ٹویٹر پر اپنے والد کے تئیں فراخدلی کا اظہار کیا وہ کافی الگ ہے ۔اس میں کوئی پرچار نہیں ہے اس کی کوئی سیاسی اہمیت نہیں ہے اس میں صرف پاب بیٹی کا رشتہ ہے ۔روہنی بچوں میں لالو یادو کی نمبر دو کی اولاد ہیں ان کی بڑی بیٹی نیسا بھارتی ہیں ۔اس کے بعد تیج پر تاپ یادو ،تیجسوی یادو ۔ رہنی 43سال کی ہیں انہوں نے اسکول کالج میں تعلیم کے بعد میڈیکل سیکٹر میں اپنا کریئر چنا اور انہوںنے جمشید پور کے ایم جی ایم کالج سے ایم بی بی ایس کیا ۔ حالاںکہ انہوںنے کبھی ڈاکٹری کی پریکٹس نہیں کی ۔ روہنی بھاگوان ہیں اور دیوی ہیں آپ لاکھوں لوگوں کیلئے ایک مثال بن گئیںہیں۔ (انل نریندر)

میلانیا نے امریکہ میں یہ نئی جنگ چھیڑ دی

ایران جنگ میں سیز فائر ہوتے ہی امریکہ کے اندر ایک اور جنگ شروع ہو گئی ہے ۔آپ حیران ہوں گے کہ یہ کون سی جنگ ہے ؟ بتادیں کہ ایپسٹین فائلس کی ...