Translater
09 دسمبر 2022
دی کشمیر فائلس پر تنازعہ !
انڈیا انٹر نیشنل فلم فیسٹیول فیصلہ کمیٹی کی ممبر برٹش اکادمی آف فلم اینڈ ٹیلی ویژن آرٹس کے وینر جنکو گوتوہ اور دیگر ممبران نے کشمیر فائلس پر کئے گئے فیصلہ کمیٹی کے چیئر مین مدن لاپت کی رائے زنی کی حمایت کی ہے۔گوتوہے نے ٹویٹ کر کہا کہ دی کشمیر فائلس گمراہ کن اور پبلیسیٹی کر نے والی فلم ہے 9روزہ فلم فیسٹیول میں اپنی تقریر میں دی کشمیر فائلس فلم کو جھوٹی اور پبلیسیٹی فلم کہا تھا ۔ امریکی پروڈیوسر جنکو گوتوہ فرانسیسی فلم مدیر پاسکل ماوینس اور فرانسیسی فلم پروڈیوسر زیویئر انگلو باہورین نے لاپت کے تبصرے کی حمایت کرتے ہوئے ٹویٹر پر ایک بیان پوسٹ کیا جس سے ایک ہفتے پہلے بہت بڑی کنٹرورسی کھڑی ہو گئی تھی ۔ انڈیا انٹر نیشنل فلم فیسٹیول فلم میں جوری کے چیئر مین لاپت نے پیر کو فلم فیسٹیول کے اختتام کے دوران ایوارڈ تقریب میں دی کشمیر فائلس کو جھوٹی اور پبلیسیٹی فلم کہا تھا ۔ ویویک اگنی ہوتری کے ذریعے لکھی اور ہدایت کی گئی فلم دی کشمیر فائلس پاکستانی حمایتی آتنک وادیوں کے ذریعے فرقے کے قتل کے بعد کشمیر سے کشمیری پنڈتوں کی ہجرت پر مرکوز تھی گوتوہ کے ذریعے ٹویٹ مشترکہ بیان نے تینوں افراد نے کہا کہ فیصلہ کمیٹی کی طرف سے کئے گئے قلمبند بیان سے اتفاق رکھتے ہیں۔ انہوں نے صاف کیا کہ وہ فلم کی کہانی پر کوئی سیاسی رخ نہیں دکھارہے تھے ۔ہم ایک کہانی پیش کر رہے تھے یہ دیکھ کر ہمیں بہت دکھ ہوتا ہے کہ فیسٹیول کے اسٹیج کا سیاست کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے ۔ اور ہم کہانی پر شخصی حملے کئے جا رہے ہیں ایسا کبھی نہیں ہوا تھا ۔ایک اور ممبر سدپ سین نے کہا کہ مین لاپت کے بیان کی تردید کی تھی ۔انہوںنے کہا کہ اب وہ دیش میں نہیں ہیں میں دیش میںہوں اس لئے میں ان کا بیان ان کا بچاو¿ کرنے کیلئے سب سے اچھا شخص ہوتا لیکن انہوںنے مجھے شامل نہیں کیا۔ سدپت سین نے کہا کہ فلم فیسٹیول تقریب میںکیا کہنے جار ہے ہیں اس پر دیگر ممبران سے کبھی بھی تبادلہ خیال نہیں کیا اس لئے انہوںنے جو پڑھا وہ سرکاری بیان نہیں تھا اس کے بعد اگر کوئی پبلک طورپر بیان جاتا ہے اور کسی خاص فلم کو چنتا ہے اور کچھ ایسا کہتا ہے جس کی امید نہیں ہے یہ ان کی ذاتی رائے ہے ۔ ادھر بھارت میں اسرائیلی سفیر نورگیلان نے ایک اسرائیلی فلم کار کے ذریعے دی کشمیر فائلس پر کی گئی رائے زنی کو لیکر تنازعہ کے بیچ مبینہ طور سے ملے ایک یہودی مخالف پیغام دیا ۔ سنیچر کو ٹویٹر پر شیئر کیا یہ بیان ان کے کچھ در پر دہ پیغامات میں سے ایک ہے جو انہیں ملا ہے۔انہوںنے ٹویٹ کیا کہ میں ملے کچھ پیغامات میں سے آپ کے سامنے ایک کو شیئر کرنا چاہتا تھا۔
(انل نریندر)
سرکاریں جھکتی ہیںجھکانے والا چاہئے !
ایران اس کی ایک برننگ مثال ہے ایران میںلڑکی مہسا امینی کی پولیس حراست میں ہوئی موت کے بعد حجاب کو لیکر جو مشتعل مظاہرے ہوئے اس سے آخر کار ایران سرکار کو جھکنا ہی پڑا ۔حکومت نے اپنے یہاں حجاب کے خلاف ہو رہے احتجاجی مظاہروں کے درمیاں اخلاقیاتی پولیس (مورلیٹی پولیس)کو ختم کر دیا ہے ۔اسے احتجاجی مظاہرہ کرہیں خواتین کیلئے ایک بڑی کامیابی کی شکل میں دیکھا جا رہا ہے۔ وہاں کے اٹارنی جنرل محمد ظفر نے خبر رساں ایجنسی آئی این اے کو بتایا کہ مورالیٹی پولیس کا جوڈیشری سے کوئی لینا دینا نہیں ہے ۔اس لئے اسے ختم کیا جا رہا ہے ۔ جنرل ظفر مونٹیجری کی رائے زنی ایک مذہبی کانفرنس میں سامنے آئی یہاں انہوںنے کانفرنس میں شامل مدعو شخص کو جواب دیا اس نے پوچھا تھا کہ مورالیٹی پولیس کو بند کیوں کیا جا رہا ہے؟ ایران کی مورالیٹی پولیس کو باقاعدہ طور سے گشت ارشاد کی شکل میں جا نا جاتا ہے ۔سال 2006میں اس وقت کے صدر مرحوم احمدی نزاد نے اس ایجنسی کو قائم کیا اور نرم گوئی اور حجاب کے کلچر کو پھیلانے کیلئے کیا تھا ۔ ایران میں 16دسمبر کو 22سالہ طالبہ مہسا امینی کی پولیس حراست میں موت کے بعد حجاب مخالف مظاہرے شروع ہو گئے تھے ان میں اب تک 300سے زائد لوگ مارے جا چکے ہیں ۔ اور ہزاروں کو گرفتار کرکے جیل میں ڈال دیا گیا ہے ۔مورالیٹی پولیس ان لوگوں اور خاص طور پر عورتوں کے خلاف سخت کاروائی کرتی رہی ہے جو دیش کے اسلامی قانون کے حساب سے کپڑے نہیں پہنتی یا کسی بھی شرعیہ قانون کو توڑتی ہیں۔وہاں صدر حسن روحانی کے دور میں لباس کو لیکر کچھ راحتیں دی گئیں تھیں تب عورتوں کو ڈھیلی جینس اور رنگین حجاب پہننے کی اجازت دی گئی تھی ۔جولائی میں جب ابراہیم رئیسی صدر بنے تو انہوںنے بہت سختی سے پرانے قانون کو نافذ کردیا ۔ غور طلب ہے کہ ایران میں 14دسمبر کو 22سالہ طالبہ مہسا امینی کی موت پولیس حراست میں ہو گئی تھی ۔ ایرانی پولیس نے مہسا امینی کو اس لئے حراست میں لیا تھا کیوں کہ انہوںنے اپنے سرکو نہیں ڈھکا ہوا تھا یعنی حجاب نہیں پہنا ہوا تھا ۔ ایران میں عورتوں کیلئے حجاب ایک ضروری قانون ہے مہسا امینی کی موت کے بعد پورے دیش میں مظاہرے شروع ہو گئے اور ہزاروں عورتیں اور مرد سڑکوں پر اتر آئے ۔ ایران میں ویسے تو حجاب کو 1979میں ضروری قرار دیا گیا تھا ۔ سب سے پہلے شاہ رضا پہلوی کے دور حکومت میں عورتوں کے کپڑوں کے معاملے میں ایران کافی آزاد خیال تھا ۔1963میں محمد رضا شاہ پہلوی نے عورتوں کو ووٹ دینے کا حق دیا ۔اور پارلیمنٹ کیلئے عورتیں بھی چنی جانے لگیں ۔1967میں ایران کے پرسنل لاءمیں بھی اصلاحات کی گئی جس میں عورتوں کو برابری کے حق ملے پڑھائی میں لڑکیوں کی ساجھےداری بڑھانے پر زور دیا گیا۔ ایران سرکار 40سال پرانے حجاب قانون پر پھر سے غور کرنے کو تیارہے۔ ایران کے صدر ابراہیم رئیسی نے سنیچر کو اس قانون میں نرمی لانے کے اشارے دئے ہیں۔
(انل نریندر)
06 دسمبر 2022
کالیجیم سسٹم کو بے پٹری نہ کریں!
سپریم کورٹ نے جمعہ کو کہا کہ موجودہ کالیجیم سسٹم کو کچھ ایسے لوگوں کے بیانوں کی بنیاد پر بے پٹری نہیں کیا جانا چاہئے یہ جو دوسروں کے کام کاج میں دلچسپی رکھتے ہیں اس کے ساتھ ہی اس نے زور دیا کہ سپریم کورٹ سب سے صاف ستھرے اداروں میں سے ایک ہے ۔عدلیہ میں کام کی تقسیم اور عدلیہ کے ججوں کے ذریعے آئینی عدالتوں میں ججوں کی تقرری کا موجودہ سسٹم کو لیکر سرکار کے ساتھ بڑھتے تنازعات کے درمیان بڑی عدالت نے کہا کہ وہ کچھ سابق جج صاحبان کے بیانوں پر کوئی تبصرہ نہیں کرنا چاہتے ۔جو کبھی ہائر کالیجیم کے ممبر تھے اور اب سسٹم کے بارے میں بول رہے ہیں ۔جسٹس ایم آر شاہ اور جسٹس سی ٹی روی کمار کی بنچ نے کہا کہ ان دنوں کالیجیم کے اس وقت کے فیصلوں پر رائے زنی کرنا ایک فیشن بن گیا ہے اور وہ سابق ججوں کی رائے زنیوں پر ہم کچھ بھی کہنا نہیں چاہتے ۔بنچ نے کہا کہ موجودہ کالیجیم سسٹم جو کام کرہی ہے اسے بے پٹری نہیں ہو ناچاہئے ۔کالیجیم کسی ایسے شخص کی بنیا د پر کام نہیں کرتا جو دوسروں کے کام کاج میں زیا دہ دلچسپی رکھتے ہوں ۔کالیجیم کو اپنے فرائض کے مطابق کام کرنے دیں ۔ہم سب سے صاف ستھرے ادارے میں سے ایک ہیں ۔بنچ ایک آر ٹی آئی رضاکار انجلی بھاردواج کی اس عرضی پر وسماعت کررہی تھی جس میں دہلی ہائی کورٹ کے ایک حکم کو چنوتی دی گئی تھی ۔دہلی ہائی کورٹ نے ان کی اس عرضی کو خارج کر دیا تھا جس میں 12دسمبر 2018کو ہوئی سپریم کورٹ کالیجیم کی میٹنگ کی ایجنڈے کی مانگ کی تھی ۔ جب سپریم کورٹ میں کچھ ججوں کی ترقی کو لیکر مبینہ طور سے کچھ فیصلے لئے گئے تھے ۔ بھاردواج کی جانب سے پیش ہوئے وکیل پرشانت بھوشن نے کہا کہ بڑی عدالت کے سابق جج جسٹس ایم بی لوکر جو 2018 میں کالیجیم کا حصہ تھے انہوں نے کھلے طور پر کہا تھا کہ اس برس 12دسمبر کو کالیجیم کی میٹنگ میں لئے گئے فیصلوں کو بڑی عدالت کی ویب سائٹ پر اپلوڈ کیا جانا چاہئے تھا۔
(انل نریندر)
خطرے کی گھنٹی :ایمس سروس ہیکنگ!
دیش کے سب سے بڑے ہیلتھ ادارے ایمس کا سرور پچھلے 10،12دنوں سے ہیک ہوا ہے ۔انتظامیہ نے حالاںکہ اسٹاف بڑھاکر او پی ٹی کو مینولی ہینڈل کرنا شروع کر دیا ہے ۔ لیب کا بار کوڈ نہیں بن رہا ہے ۔اس لئے مریضو ں کے فون نمبر کی بنیاد پر اسے چلا یا جا رہا ہے ۔ حالاں کہ پہلے کے مقابلے میں رپورٹ ملنے میں مریضوں کو ایک یا دو دن انتظار کرنا پڑ رہا ہے ۔ہندوستان میں تقریباً سبھی کو پتا ہے کہ ایمس دیش کا سب سے بڑا نامور ،پرانا اور سب سے بھروسہ مند سرکاری اسپتال ہے ۔ایمس تو 1947کے بعد مریضوں کیلئے کھل گیا تھا لیکن کمپیوٹر میں ڈیٹا محفوظ رکھنے کی تکنیک آنے کے بعد سے ایک اندازہ ہے کہ کم سے کم 5کروڑ مریضوں کے ریکارڈ اس میں محفوظ رہے ہیں ۔23نومبر 2022تک چوںکہ اس دن ایمس ہاسپیٹل کے سرور پر سائبر اٹیک ہوا تھا ۔جس کے بعد تقریباً سبھی سرور ٹھپ پڑ گئے اس میں اسپتال کا ای ہاسپیٹل نیٹورک بھی شامل تھا ۔جس سے نیشنل انفورمیٹک سینٹر کنٹرول ہوتا ہے ۔ معاملہ کتنا سنگین ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتاہے کہ کروڑو مریضوں کے پرائیویٹ میڈیکل ہسٹری والے ایمس ڈاٹا بینک میں بھارت کے اب تک کے تقریباً سبھی وزیر اعظم ،کابینہ وزیر ،کئی سائنسدانوں اور ہزاروں اہم شخصیات کا بھی میڈیکل ریکارڈ ہے جو خطرے میں پڑگیا ہے ہو سکتاہے کہ سیکورٹی وجوہات کے چلتے بغیر اس فلور و بلڈنگ کا نام لکھتے ہوئے یہ بتایا جا سکتا ہے کہ ایمس ہسپتال کے ایک بڑے میڈیکل سینٹر کے ایک خاص فلور پر وزیر اعظم سے لیکر کسی میڈیکل ضرورت کیلئے ایک وارڈ 24گھنٹے تیار رہتا ہے ۔ اس میں ہر موجودہ وزیر اعظم کی میڈیکل ہسٹری مسلسل اپڈیٹ کی جاتی ہے اس کے علاوہ وہاں کئی پرائیویٹ ،وی وی آئی پی وارڈ ہیں جہاں سابق وزرائے اعظم اور سینئر انتظامی حکام کا نہ صرف علاج چلتا ہے بلکہ ان کا پورا میڈیکل ہسٹری کمپیوٹر پر موجود رہتی ہے ۔ اس لئے خطرے کی گھنٹی بجنا لازمی ہے ۔ ایک اور وجہ انٹر نیٹ پر ہونے والے کرائم اور سائبر وار فیئر پر کام کرنے والے تھنک ٹینکس سائبر سروس فاو¿نڈیشن کے مطابق دنیا بھر میں سال2021کے دوران ہوئے سائبر حملوں میں سے 7.7فیصد کا نشانہ ہیلتھ سیکٹر تھا جس میں امریکہ کے بعد دوسرے سب سے زیادہ بھارت میں اٹیک ہوئے ہیں ایمس پر ہوئے سائبر اٹیک کا معمہ ابھی تک نہیں سلجھ پا یا ہے۔ کیوں کہ حملے کے ادارے کی جانچ جاری ہے ۔اور 280کروڑ روپے کی کرپٹوکرنسی کی فیروتی کی مانگ کو دہلی پولیس نے غلط خبر بتایا ہے ۔ ابھی یہ کہنا مشکل ہے کہ ایمس کے سرور ہیک کرنے والوں کو کتنا ڈیٹا ملا ہوگا ۔ یہ سب منحصر ہوگا ایمس کے مریضوں کی ہسٹری اسکرپٹ ڈیٹ سسٹم یعنی کئی کوڈ والی سیکورٹی میں تھا یا نہیں ؟سسٹم کی کمیاں تو تھیں ہی جس کے چلتے یہ سرور ہیک ہو گیا ۔سوال یہ اٹھتا ہے کہ اس کا قصور وار کون ہے؟ اگر پرائیویٹ ایجنسی اس کام کو دیکھ رہی تھی تو کیا کام دینے سے پہلے یہ دیکھا گیا تھا کہ وہ کتنی قابل ہے؟ اب اس ایجنسی اور اسے دینے والوں کی جواب دہی طے ہونی چاہئے۔
(انل نریندر)
سبسکرائب کریں در:
تبصرے (Atom)
ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...
-
سپریم کورٹ میں بھی عجیب و غریب مقدمات آرہے ہیں۔ تازہ مثال بحریہ کے کچھ افسروں پر بیویوں کی ادلہ بدلی سے متعلق معاملات ہیں۔ بحریہ کے ایک اف...
-
ہندوتو اور دھرم پریورتن، گھر واپسی سمیت تمام معاملوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس پریوار سے جڑے لیڈروں کے متنازعہ بیانات سے وزیر...
-
مدھیہ پردیش کے ہائی پروفائل ہنی ٹریپ معاملے سے نہ صرف ریاست کی بلکہ دہلی کے سیاسی حلقوں میں مچا دئے معاملے میں اہم سازشی گرفتار ہو چکی شیو...