Translater

25 مئی 2013

ونود رائے نے ٹی این سیشن کی یاد تازہ کردی!

کمپٹرولرآڈیٹر جنرل (کیگ) کے عہدے پر ساڑھے پانچ سال فائض رہنے کے بعد ونود رائے بدھ کے روز ریٹائر ہوگئے ہیں اور ان کی جگہ نئے کیگ ششی کانت شرما نے ذمہ دار سنبھال لی۔ شری ونود رائے کی میعاد کچھ کچھ پچھلی صدی کی آخری دہائی میں سابق چیف الیکشن کمشنر ٹی این سیشن کی میعاد کی یاد دلاتی ہے۔انہوں نے چناؤ کمیشن کو طاقتور بنانے میں تاریخی کردار نبھایاتھا تو کرپشن کے خلاف سول سوسائٹی کے سرگرم ہونے کے اس دور میں ونود رائے نے کیگ کو ایک شفاف اور ذمہ دار ادارہ بنانے میں اپنی پوری طاقت جھونک دی اور ثابت کردیا کہ کیگ ایک سرکاری پچھل پنگو ادارہ نہیں ہے اور نہ ہی کیگ سرکاری خرچ کا آڈٹ کرنے والا ادارہ ہے۔ ادارہ ہی نہیں بلکہ سرکاری پیسے کے بیجا استعمال کے بارے میں دیش کو بتانے کا اختیار جو اسے آئین نے دیا ہے اس کو پورا کیا ہے تبھی تو کیگ کی اب تک کی تاریخ میں یہ پہلی بار تھا جب ٹو جی اسپیکٹرم الاٹمنٹ کو لیکر کول بلاک الاٹمنٹ جیسے کئی معاملوں میں اس کی ابتدائی رپورٹوں نے نہ صرف سرکار کے کرپشن کی پول کھولی بلکہ کئی وزرا ء کو جانا بھی پڑا۔ دیش میں اس وقت جمہوریت کے آئین سازیہ ستون اور آئینی اداروں پر بیٹھے لوگوں اور ان کے دائرہ اختیارات کو لیکر وسیع طور پر غور و خوض جاری ہے۔ کولگیٹ کی جانچ میں سرکاری مداخلت کو لیکر سامنے آئی حقیقت اس کی بنیاد بنے۔ اسی درمیان کینتھرن ویدانتا معاہدے پر سماعت کے دوران سپریم کورٹ کے ذریعے رائے زنی کی گئی ہے کے کسی موضوع پر کیگ کی رپورٹ آخری سچائی نہیں ہے۔ حالانکہ متعلقہ بینچ نے یہ بھی کہا کہ کیگ کی رپورٹ کو درکنار بھی نہیں کیا جاسکتا یہ ایک حساب کتاب رکھنے والی کمیٹی کے اوپر ہے کہ وہ کیگ کے اعتراضات کو قبول کرے یا خارج کرے۔
غور طلب ہے کہ ونود رائے حال ہی میں یوپی اے سرکار کے ذریعے بار بار نشانے پر لئے جاتے رہے ہیں ،خاص کر راجہ معامیل میں۔ اور کوئلہ الاٹمنٹ میں بھاری بھرکم نقصان کے بارے میں کیگ کے اعدادو شمار پر حکمراں فریق کو ہمیشہ اعتراض رہا ہے۔ کبھی کیگ کوصفر بڑھانے کا مہرہ بتایا گیا تو کبھی اس کا موازنہ ایک منیم سے کیا گیا۔ ایسے میں پورا اندیشہ ہے کہ سرکاری فریق کے وکیلوں کے ذریعے بڑی عدالت کے تازہ ریمارکس کے چنندہ حصے کا استعمال کیگ کے بھروسے کو کم کرنے کے لئے کیا جائے۔ حالانکہ سچائی یہ ہے کہ کیگ کے ذریعے جس کسی معاملے میں بھی نقصان کے اعدادو شمار دئے گئے ہیں اس میں ترمیم اور اصلاح کی گنجائش کو بھی ہمیشہ پیش کیا گیا ہے۔ بہرحال پہلے تین سے چار سال میں جاری ہونے والی کیگ رپورٹ ونود رائے کے وقت میں صرف پانچ سے چھ مہینے میں آنے لگی بلکہ انہیں قارئین کے لئے دلچسپی کا باعث بنایا گیا ۔ تاکہ لوگ سمجھ سکیں کہ سرکاری پیسے کا خرچ کس طرح ہورہا ہے۔ سرکاری پیسے کے بیجا استعمال کو سامنے لانے کے لئے ان رپورٹوں میں تخمینہ کے نظریئے کو پہلی بار شامل کیا گیا تو اس کی وجہ یہ رہی کہ کیگ کے کام کے کلچر میں آئی تبدیلی کے سبب پہلی بار اسے اقوام متحدہ کے کئی اداروں کا آڈٹ کرنے کا موقعہ ملا۔ ونود رائے نے اس ادارے کو جس اونچائی پر چھوڑا ہے ششی کانت شرما کو نہ صرف اس اونچائی کو برقرار رکھنا ہوگا بلکہ اس سے اوپر لے جانا ہوگا۔
(انل نریندر)

بہو گھر کی نوکرانی نہیں ہے

جہیز کے معاملوں میں قانون سخت بنانے کے باوجود جہیزی اموات میں کمی نہیں آرہی ہے۔ اس سے شوہر کے گھروالوں پر کبھی کبھی غلط دباؤ بنانے کی خبریں اخباروں میں اکثر پڑھنے کو ملتی رہتی ہیں۔ کچھ لوگوں کے لئے یہ ایک بلیک میلنگ کا ہتھیار بن گیا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے بہوؤں کو سسرال میں شروع سے ہی عزت ملے جس کی وہ حقدار ہیں۔ اگر میاں بیوی میں کسی مسئلے پر سنگین اختلاف ہے جو برسوں سے دور نہیں ہوسکا تو قانون انہیں طلاق کی اجازت دیتا ہے۔اس کا قانونی عمل ہے جسے دونوں کو ماننا پڑے گا لیکن جو بات قابل برداشت نہیں ہے وہ ہے روز روز بہو کو بے عزت کرنا، ٹارچر کرنا۔ یہ خوشی کی بات ہے کہ دیش کی بڑی عدالت نے اس مسئلے کو سنجیدگی سے لیا ہے۔دیش میں بہوؤں کو جلانے ،ٹاچر کرنے اور خودکشی کرنے پر مجبور کرنے کے واقعات میں اضافے سے فکر مند سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ بہو سے نوکرانی نہیں بلکہ گھر کے ایک فرد کی طرح برتاؤ کیا جانا چاہئے اور اسے کسی بھی وقت ازدواجی زندگی سے باہر نہیں نکالا جاسکتا۔ عدالت نے کہا کہ بہو کا سسرال میں سنمان ہونا چاہئے کیونکہ وہ مہذب سماج کے جذبات کی عکاسی کرتا ہے۔ جسٹس ایس ۔کے رادھا کرشن اور جسٹس دیپک مشر کی ڈویژن بنچ نے کہا کہ بہو سے ایک انجانے شخص کی شکل میں بے رخی کی بجائے گرمجوشی اور پیار محبت کے ساتھ گھر کے فرد کی شکل میں برتاؤ کیا جانا چاہئے۔ وزارت نے کہا کہ بہو سے گھر کی نوکرانی جیسا برتاؤ ہو اس کا احساس نہ ہونے دیا جائے۔
جج صاحبان نے کہا سسرال میں بہو کی عزت سے شادی کے پاکیزہ رشتے اور مذہب کا وقار بنا رہے گا۔ یہ مہذب سماج کی روایت کی طرف اشارہ کرتا ہے جو آخر تک زندگی کی علامت ہے لیکن کبھی کبھی بہو کے تئیں شوہر سسرال کے گھروالوں کے برتاؤ سے اس عورت کو پرائے پن کا احساس دلاتا ہے۔ بڑی عدالت نے بیوی کو ٹارچر کرنے کے جرم میں شوہر کو پانچ سال کی قید کی سزا سناتے ہوئے یہ ریمارکس دئے ہیں۔ شوہر کی اذیت سے پریشان ہوکر بیوی نے خودکشی کرلی تھی۔ عدالت نے کہا یہ تشویش کا باعث ہے۔ کئی معاملوں میں بہوؤں سے بہت بے رحمی سے برتاؤ کیا جاتا ہے۔ اس کی وجہ سے ان کی جینے کی خواہش مر جاتی ہے ۔ ججوں نے کہا یہ بہت تشویش کی بات ہے۔ کئی معاملوں میں جہیز کی مانگ اور لالچ کی سبب بہوؤں کو جلادیا جاتا ہے یا پھر جسمانی اذیتوں کے سبب زندگی کی خوشیوں کو ماردیا جاتا ہے۔ کئی بار تو ذیادتیوں کے سبب مایوس ہوکر بہوئیں خودکشی کرلیتی ہیں جو سماج کے لئے شرمندگی کی بات ہے۔
(انل نریندر)


24 مئی 2013

اور اب بالی ووڈ ستارے جڑے آئی پی ایل فکسنگ گھوٹالے سے

انڈین فکسنگ گھوٹالے کی جانچ جیسے جیسے آگے بڑھتی جارہی ہے ویسے ویسے اس میں فکسروں کے نام جڑتے جارہے ہیں۔ پیسہ اور گلیمر کے آئی پی ایل میں بھلا بالی ووڈ کیسے پیچھے رہ سکتا ہے۔ اب بالی ووڈ کے کنکشن کی شکل میں مشہور پہلوان رستم ہند رہ چکے سورگیہ دارا سنگھ کے بیٹے بگ باس ونر بندو دارا سنگھ کا نام جڑ گیا ہے۔ بندو پر پولیس نے دھوکہ دھڑی کے الزامات میں آئی پی سی کی دفعہ 420-465-467 اور 468 کے تحت معاملہ درج کیا ہے۔ پولیس کے مطابق بندو سٹے بازوں اور دیگر لوگوں ہمیش ویاس ، پون جے پور، انیس وغیرہ کے رابطے میں تھا۔ وہ خود بھی سٹہ لگا تا تھا۔ پولیس نے دعوی کیا ہے ان کے پاس بندو کے پاس پختہ ثبوت ہیں، خود بندو نے بھی اپنا گناہ قبول کرلیا ہے۔ ہم نے ان کا ایک لیپ ٹاپ، ایک فون اور ایک ڈائری بھی ضبط کی ہے۔ ممبئی پولیس کے جوائنٹ کمشنر ہیمانشو رائے نے کہا اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ بندو سرگرمی سے سٹے بازوں کے راربطے میں تھا۔ بندو کو اداکار شاہ رخ خان کا قریبی مانا جاتا ہے۔ ساؤتھ افریقہ میں 2009 ء میں ہوئے آئی پی ایل کے دوران شاہ رخ کی سبھی پارٹیوں کا انتظام بندو دیکھتا تھا۔ اس سال کے آئی پی ایل میں6 اپریل کو چنئی۔ ممبئی میچ کے دوران چنئی میں دھونی کی بیوی کے ساتھ میچ دیکھتے ہوئے بندو کی فوٹو بھی سبھی اخباروں میں چھپی ہے۔بندو کو ان کے والد دارا سنگھ نے 1994ء میں ’کرن‘ نام کی فلم میں لانچ کیا تھا۔ لیکن وہ فلم اس سال کی بڑی فلاپ فلم ثابت ہوئی۔ اس کے بعد اس نے کئی فلموں میں چھوٹے موٹے رول کئے اور اس کا کوئی خاص نوٹس نہیں لیا گیا۔ خاص کر بندو نے ’سن آف سردار، کمبخت عشق، ہاؤس فل‘ وغیرہ میں ایکٹنگ کی۔ ان کے پردے کے کیریئر کا سب سے کامیاب باب ’بگ باس ۔3‘ 2009 میں تھا ۔ اس میں وہ ونر بنے۔ بندو نے پہلی شادی تبو کی بہن فرح سے کی تھی۔ دوسری شادی ڈوناسے کی۔پولیس کو بندو پر شبہ اس وقت ہوا جب 13 مئی کو کرائم برانچ نے رمیش ویاس نام کے دلال کو گرفتار کیا تھا۔ پولیس کے مطابق رمیش سٹے باز اور کھلاڑیوں کے درمیان کڑی کا کام کرتا تھا۔ رمیش ممبئی کے کلابا دیوی علاقے میں ایک انٹرنیشنل ٹیلی فون ایکسچینج چلاتا تھا جس میں سے92 موبائل فون اور18 سم کارڈ برآمد ہوئے اس کی مدد سے وہ عالمی سطح کے سٹے بازوں کے رابطے میں تھا۔ پولیس کے مطابق بندو پر سب سے اہم الزام یہ ہے کہ اس نے اسپارٹ فکسنگ کی جانچ کے دوران دو بڑے دلالوں کو بھارت سے باہر دوبئی بھاگنے میں مدد کی تھی۔ پولیس ان دونوں سٹے بازوں سنجے چھاوڑہ اور اس کے بھائی پون چھاوڑہ کو پکڑنے ہی والی تھی لیکن بندو نے ان کا ہوائی ٹکٹ کا انتظام کردیا اور16 مئی کو وہ دونوں دوبئی بھاگ گئے۔ اس بات کا اس وقت پتہ چلا جب پولیس نے ممبئی ایئرپورٹ پر بھاگنے کی کوشش کررہے ایک اور سٹے باز پریم تنیجا کو ایک جہاز میں چڑھنے سے پہلے ہی پکڑ لیا تھا۔ گہری پوچھ تاچھ میں پتہ چلا کہ بندو نے ہی سنجے اورپون کوبھارت سے بھاگنے میں مدد دی تھی۔ بندو دارا سنگھ کی گرفتاری سے اس جرائم کی تصدیق ہوگئی ہے کے گلیمر کاروبار سے جڑے لوگ بھی اب اس فکسنگ کے کالے گورکھ دھندے میں شامل ہے۔آئی پی ایل کرکٹ کے نام پر چاہے جو معاملہ بھی ہوا ہو اس سے تو یہ ہی احساس ہوتا ہے کہ اس میں سب کچھ پاک صاف نہیں ہے۔ بیشک آئی پی ایل میں شامل تمام کرکٹر فکسنگ میں شامل نہ ہوں مگر کرکٹ کے اس ایڈیشن نے کئی نوجوان ٹیلنٹ کو سامنے لانے کا کام کیاہے لیکن ایک سچائی یہ بھی ہے کہ آئی پی ایل کے حصے میں بدنامی زیادہ آئی ہے اور اس کے لئے کافی حد تک بی سی سی آئی ذمہ دار ہے جو آئی پی ایل کے ذریعے اپنا خزانہ بھرنے میں تو لگا ہوا ہے لیکن کالی کمائی کے دھندے کا سچ نہ تو کبھی خود اجاگر کیا ہے بلکہ اس کالے دھندے کا سچ سامنے آنے کے بعد بھی اس نے ہاتھ کھڑے کردئے ہیں۔
(انل نریندر)

لوک آیکت رپورٹ سے بسپا مشکل میں تو سپا بھی دویدھا میں

اترپردیش میں اگر سابق بسپا کی سرکار مشکل میں آگئی ہے تو موجودہ اکھلیش یادو کی سرکار کی بھی الجھنیں بڑھ گئی ہیں۔ مایاوتی سرکار کے دوران دلت یادگاروں کی تعمیر پر ہوئے خرچ کی جانچ کررہے لوک آیکت نے بی ایس پی کے قد آور لیڈر نسیم الدین صدیقی سمیت 19 لوگوں کے خلاف ایف آئی آر لکھانے کی سفارش کی ہے۔ قابل غور ہے کہ مایاوتی نے 2007ء سے 2012ء کے اپنے عہد میں لکھنؤ اور نوئیڈا میں کئی یادگاریں بنائی تھیں۔ اس کی تعمیر کے دوران پیسے کے بیجا استعمال الزام لگا۔ چناؤ سے پہلے سماجوادی پارٹی نے دعوی کیا ہے کہ ان کی پارٹی اقتدار میں آئی تو معاملے کی جانچ ہوگی۔ وزیر اعلی اکھلیش یادو نے یادگاروں کی تعمیرات کے لئے صرف میٹریل کی سپلائی کی دھاندلی کے الزامات کی جانچ لوک آیکت سے کرانے کے احکامات دئے تھے۔ اترپردیش کے لوک آیکت این کے مہروترہ نے یادگاروں کی تعمیرات میں14 ارب88 کروڑ روپے کا گھوٹالہ اجاگر کیا ہے۔ دو سابق وزرا کے علاوہ 199 کو ذمہ دار پایا ہے۔ دونوں سابق وزرا نسیم الدین صدیقی ،بابو سنگھ کشواہا و تعمیراتی محکمے کے افسر سی پی سنگھ اور جغرافیائی ماہر ایس اے فاروقی اور 15 انجینئروں کے خلاف ایف آئی آر درج کروا کر ان کے خلاف کارروائی کی منظوری دے دی ہے۔ جانچ کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ یادگاروں کے لئے پیسہ الاٹمنٹ کو لیکر نگرانی تک کے کام میں لگے رہے کسی بھی آئی ایس افسر کو قصوروار نہیں پایا گیا۔ اس وقت کی وزیر اعلی مایاوتی کو بھی کلین چٹ دے دی گئی۔ اکھلیش سرکار ابھی یہ طے نہیں کرپائی ہے کہ اس لوک آیکت کی سفارش کو منظور کرنا چاہئے یا پھر قانونی رائے لینے کی آڑ میں اسے ٹھنڈے بستے میں ڈالے۔ وہ کارروائی کرنے سے پہلے اس خطرے کو ٹٹولنا چاہ رہی ہے کہ کہیں اس سے بی ایس پی کے حق میں کوئی ہمدردی لہر نہ پیدا ہوجائے ؟ خاص طور پر یہ دیکھنا چاہتی ہے کہ نسیم الدین صدیقی کو جیل بھیجنے پر مسلم ووٹر اسے کس طرح سے لیتے ہیں؟ دوسرے ملزم کشواہا کا اتنا مسئلہ نہیں ہے کیونکہ مایاوتی سرکار میں وہ وزیر کان تھے اور اس وقت این آر ایچ ایم گھوٹالے میں ڈاسنہ جیل میں بند ہیں۔ ادھر لوک آیکت کی رپورٹ آنے کے بعد ڈی ایس پی نے جارحانہ رویہ دکھایا ہے اور سڑک پر اتر آنے و سرکار کے خلاف جدوجہد کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ اکھلیش سرکار کو معاملہ کور گروپ کو سونپنے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔ کور گروپ کو لگتا ہے کہ اگر نسیم الدین صدیقی اینڈ کمپنی کے خلاف ایف آئی آر درج کرا کر گرفتاری کرا دی جاتی ہے تو کہیں یہ داؤں الٹا نہ پڑ جائے۔ نسیم الدین کے خلاف کارروائی سے ایس پی کو مسلمانوں کی ناراضگی کا خطرہ ستاتا رہتا ہے۔ اسی خطرے کو دیکھتے ہوئے نسیم الدین کے خلاف اثاثے سے زیادہ جائیداد رکھنے کے معاملے میں لوک آیکت نے سی بی آئی سے جانچ کرانے کی سفارش کی تھی تو اسے یوپی سرکار نے منظور نہیں کیا۔ ڈی ایس پی کے لئے مشکل یہ ہے کہ کرپشن کے الزام میں اس کے کئی لیڈر جیل میں ہیں۔ اگر تازہ کارراوئی ہوتی ہے تو اس کے دامن پر بدنامی کا داغ اور پریشانی کا سبب نہ بن جائے۔
(انل نریندر)

23 مئی 2013

مودی کا دلی کیلئے راستہ اترپردیش سے طے ہوگا

اگر ابھی عام چناؤ ہوں تو یوپی اے سرکار کی ہار طے ہے۔ وزیر اعظم کے عہدے کی دوڑ میں بھاجپا نیتا نریندر مودی کانگریس کے نائب صدر راہل گاندھی سے کافی آگے ہیں۔ مودی کو 36 فیصدی تو راہل کو12 فیصدی لوگ وزیر اعظم دیکھنا چاہتے ہیں۔ یوپی اے کی سرکار آہستہ آہستہ اپنی زمین کھوتی جارہی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے مہنگائی اور کرپشن کا بڑھنا لیکن دونوں اتحاد میں ووٹ فیصد میں بڑا فرق نہیں پڑے گا۔ سروے کے مطابق 27 فیصدی لوگ این ڈی اے کو ووٹ کریں گے جبکہ یوپی اے کو26 فیصدی ووٹ ملیں گے۔ سروے کرنے والی تنظیم نے نیلسن اور نیوز چینل اے بی پی نیوز کے حالیہ سروے کے مطابق یہ دعوی کیا گیا ہے کہ 21 ریاستوں کی 152 اسمبلی حلقوں میں 33 ہزار لوگوں سے سوال پوچھے گئے۔ یہ سروے یکم مئی سے10 مئی کے درمیان کرایا گیا۔ گجرات کے وزیر اعلی نریندر مودی نے بھاجپا کی 2014ء لوک سبھا چناؤ کے لئے اپنی گوٹیاں فٹ کرنا شروع کردی ہیں۔ مودی کی ترجیحات صاف ہیں، دہلی کا راستہ،جو اترپردیش سے بن رہا ہے۔ مودی نے اپنے چہیتی امت شاہ کو اترپردیش کے انچارج مقرر کرادیا ہے۔ امت شاہ کو یوپی کا انچارج بنائے جانے پر بھاجپا نیتاؤں نے خوشی ظاہر کی ہے تو کامریڈوں نے کہا کہ بھاجپا اس صوبے کو پھر سے فرقہ وارانہ طاقتوں کے حوالے کرنے جارہی ہے۔ امت شاہ کو انچارج بنائے جانے کا سیاسی پیغام صاف ہے۔ ایک طرف سپا اور بسپا ذات پات کا سمیلن کررہے ہوں تو دوسری طرف بھاجپا مذہبی جگاڑبندی میں جٹ جائے تو آنے والے لوک سبھا چناؤ میں سب سے برا دنگل ہونا طے ہے۔ بھاجپا کے تنقید کرنے والوں کا کہنا ہے کہ راجناتھ سنگھ کی قیادت میں بھاجپا اترپردیش میں پھر پولارائزیشن کا داؤں کھیلنا چاہتی ہے۔ اس حکمت عملی کے تحت پہلے ورون گاندھی کو آگے کیا گیا پھر گجرات میں نام کما چکے امت شاہ کو انچارج بنا دیا گیا۔ بھاجپا کے ایک سینئر لیڈر نے نام نہ بتانے کی شرط پر کہا کہ راجناتھ سنگھ اور مودی کے درمیان جو سیاسی سمجھوتہ ہوا ہے یہ اسی کا نتیجہ ہے۔ مودی کو پتہ ہے کہ بغیر اترپردیش کے دہلی تک کوئی راستہ نہیں جاسکتا اس لئے انہوں نے اترپردیش کی کمان درپردہ طور پر سنبھال لی ہے۔ امت شاہ کے آتے ہی جو پیغام بھاجپا نے دیا ہے اس کا اثر جلد دکھائی دینے لگے گا۔ امت شاہ نے بھاجپا کی تحریک کے تحت 29 مئی کو گرفتاری دینے کے لئے سپا کے تیز طرار لیڈراور پارلیمنٹری وزیر اعظم خاں کے گڑھ رامپور کوچنا ہے۔ شاہ کے اعظم خاں کے آبائی شہر رامپور سے اترپردیش دورے کی شروعات سے یہ پیغام جانا شروع ہوگیا ہے کہ آنے والے لوک سبھا چناؤ میں ذاتوں کا پولارائزیشن ہو سکتا ہے کیونکہ اعظم خاں کا مسلمانوں میں خاصا اثر مانا جاتا ہے جبکہ شاہ کا گجرات دنگوں میں نام ابھر کر آیا تھا۔ حال ہی میں اعظم خاں نے بھاجپا نیتاؤں کو صبر سے کام لینے کی چیتاونی دی تھی۔ انہوں نے کہا تھا بھاجپا نیتاؤں کو سمجھنا ہوگا کہ یہ گجرات نہیں بلکہ اترپردیش ہے۔ سپا کے پردھان ملائم سنگھ یادو نے بھی کہا تھا کہ یوپی میں مودی فیکٹر کام نہیں کرے گا کیونکہ یہاں کی عوام باہری لوگوں کو قبول نہیں کرتی۔ بھاجپا نے امت شاہ کو یو پی ریاست کا انچارج بنا کر ایک تیر سے کئی نشانے لگاتے ہوئے یہ پیغام دینے کی کوشش کی ہے کہ ہندوتو کے اشو پر ابھی پارٹی لگی ہوئی ہے۔ اترپردیش کے موجودہ سیاست میں بسپا اور سپا مقابلے کی پارٹیاں ہیں لیکن مذہبی جگت بندی ہوئی تو سپا سے زیادہ نقصان بسپا کو ہوسکتا ہے۔ یوپی پولیس کا بھی خیال ہے کہ مذہبی جگت بندی سے صوبے میں قانون و انتظام پر اثر پڑ سکتا ہے۔ لوک سبھا چناؤ سے پہلے ایودھیا ،فیض آباد سے لیکر پوروانچل تک ٹکراؤ کے حالات بن سکتے ہیں۔ امت شاہ کی سیاست کی شروعات اگر رامپور سے ہورہی ہے تو بھاجپا یا مودی کی سیاست کے اگلے قدم کا اندازہ اسی سے لگایا جاسکتا ہے۔
(انل نریندر)

آخر کیسے ہوگا طوطا پنجرے سے آزاد؟

سپریم کورٹ کی پھٹکار کے بعد آخر کار مرکزی حکومت نے سی بی آئی کو آزادی دینے اور باہری دباؤ سے اسے بچانے والا نیا قانون بنانے کے مقصد سے ایک وزارتی گروپ بنانے کا جو فیصلہ کیا ہے اس کے سربراہ وزیر خزانہ پی چدمبرم ہیں۔ عام طور پر اس طرح کے وزارتی گروپ یا جی او ایم کی تشکیل اس وقت ہوتی ہے جب مان لیا جاتا ہے کہ معاملے کو لمبے وقت تک ٹھنڈے بستے میں ڈال دیا جاتا ہے۔ سرکار کو 10 جولائی کو سماعت پر سپریم کورٹ میں پیش ہونا ہے۔ اس سے پہلے اس قانون کا مسودہ عدالت میں پہنچ جانا چاہئے لہٰذا ڈیڑھ مہینے میں تصویر صاف ہوجائے گی کے مسودے میں کیا کیا نقطے شامل کئے جاتے ہیں۔ دیش کی سپریم ایجنسی کے سیاسی بیجا استعمال کی کہانی لمبی ہے۔ یہ عام خیال پایا جاتا ہے کہ جو پارٹی مرکز میں برسر اقتدار ہوتی ہے وہ اپنے لوگوں کوبچانے اور اپنے سیاسی حریفوں کو پھنسانے کے لئے سی بی آئی کا استعمال کرنے سے باز نہیں آتی لیکن جیسا پچھلے دنوں واقعہ دیکھنے کو ملا اس سے یوپی اے ۔II سرکار نے تو ساری حدیں پارکردیں۔ یہاں تک کہ ایجنسی سے سپریم کورٹ تک میں جھوٹا حلف نامہ داخل کرادیا گیا۔ اب یہ گروپ آف منسٹرس کیا کرتا ہے یہ دیکھنا باقی ہے۔ سوال ہے کہ اس ایجنسی سے لوک پال بل میں شامل کی گئی نکات کو اب چھوڑدیا جائے گا؟ یا جو بھی لوک پال کی نکات پر شامل مشتمل بل پارلیمنٹ میں پاس کرانے کی تیاری کا حوالہ دیا جائے گا؟ یا کچھ ملا جلا روپ سامنے آئے گا؟ سپریم کورٹ نے سی بی آئی کو سیاسی دخل سے بچانے کے لئے موثر قانون بنانے کے لئے ایک طرح سے کہا ہے تو کیا پنجرے میں بند طوطے کی آزادی کے لئے الگ سے کارگر قانون بن پائے گا؟ جی او ایم میں چدمبرم چیئرمین ہیں۔ کمیٹی میں دیگر ممبران ہیں، وزیر خارجہ سلمان خورشید، وزیر مواصلات کپل سبل، وزیر داخلہ سشیل کمار شندے ، پی ایم او میں وزیر مملکت نارائن سوامی اور سی بی آئی کے ڈائریکٹر اس گروپ میں خصوصی مدعو ممبر بنائے گئے ہیں۔ سی بی آئی چیف رنجیت سنہا نے ایک ہندی اخبار کو دئے گئے انٹرویو میں کہا کہ مرکزی ایجنسی کو آزاد کہنا سب سے بڑا جھوٹ ہے۔ ان کا کہنا ہے اس میں کوئی شبہ نہیں ہونا چاہئے کہ سی بی آئی سرکاری مشینری کی گرفت میں ہے۔ سنہا سی بی آئی کے پہلے ایسے ڈائریکٹر ہیں جنہوں نے اتنی بیباکی سے اس سچائی کو قبول کیا ہے۔ سنہا اس دن کا بیتابی سے انتظار کررہے ہیں جب 2010ء سے دھول کھا رہا سی بی آئی ایکٹ بڑی ترامیم کے ساتھ قانون کی شکل اختیار کرے گا۔ اس سہولت پر ایجنسی کو آزادبنانے کے کئی بڑے فیصلے لئے گئے ہیں۔ رنجیت سنہا کی مانیں تو سی بی آئی کو پوری طرح کھلا چھوڑنا بھی خطرے سے خالی نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے بھلے ہی سی بی آئی کو پوری آزاد یا مختار بنانے کی کوشش میں ہے۔ سی بی آئی کے لوگ مکمل آزادی ملنے پر اس کا بیجا استعمال شروع کردیں گے۔ اس خطرے کو دور کرنے کے لئے سنہا نے اعلی افسران سے قدم تجویز کرنے کو کہا ہے۔ ادھر بھارتیہ جنتا پارٹی نے پورے معاملے کو دھول جھونکنے والا بتایا ہے۔ بی جے پی نے کہا جب اس معاملے میں پہلے ہی سلیکٹ کمیٹی اپنی سفارشیں دے چکی ہے تو ایسے میں جی او ایم بنانے کی کیا ضرورت تھی؟ سی بی آئی کو آزاد کرنے کے معاملے میں لوک پال بل کے دوران کافی بحث ہوچکی ہے۔ اس معاملے میں پارلیمنٹ کی سلیکٹ کمیٹی نے جو بھی سفارشیں دی ہیں انہیں کیبنٹ بھی منظور کرچکی ہے۔ سوال سرکار کی نیت کا ہے جی او ایم پتہ نہیں کیا نئی سفارشیں دے گا؟ تلخ حقیقت تو یہ ہے کہ اب جنتا بھی چاہتی ہے کہ سی بی آئی آزاد ہو اور سپریم کورٹ نے بھی سخت رویہ اختیار کیا ہوا ہے تو ایسا لگتا ہے سی بی آئی کی آزادی کے لئے قانون بنانے سے سرکار نہیں بچ سکتی۔ دیر سویر اسے کچھ ٹھوس قدم اٹھانے ہی پڑیں گے۔ اس بات کا بھی خیال رکھنا ہوگا کہ سی بی آئی اقتصادی نقطہ نظر سے بھی منحصر نہ رہے۔وہ اپنے یہاں آئی پی ایس افسروں کی تقرری کے لئے وزارت داخلہ پر منحصر ہے۔ اپنے حکام کو ٹریننگ کے لئے وزارت پرسنل پر جانچ اور مقدمے اور دیگر خرچوں کے لئے وہ وزارت مالیات پر منحصر رہے گی۔ مقدمے کی پیروی کے لئے خصوصی وکیل مقرر کرنا وزارت قانون کا کام ہے۔ ملزم اگر اعلی افسر تھا یا رسوخ دار سیاسی لیڈر ہو تو جانچ شروع کرنے اور مقدمہ چلانے کے لئے سرکار کی منظوری لینی پڑتی ہے۔ کچھ معاملوں میں یہ انتظار اتنا لمبا ہوتا ہے اور زیادہ تر میں منظوری نہیں مل پاتی۔ سی بی آئی میں سبھی زمرے میں بہت سارے عہدے خالی ہیں۔ان کو نہ بھرنے کے سبب سی بی آئی کے کام پر برا اثر پڑرہا ہے۔ آنے والے قانون میں امید کرتے ہیں ان آسامیوں پر دھیان رکھتے ہوئے ایسی سفارشیں ہونی چاہئیں جن سے سی بی آئی کو ان پر انحصار سے نجات مل سکے۔ اگر ایسا قانون بنتا ہے تو یہ ہمارے جمہوری عمل کی بڑی جیت ہوگی۔ سرکار سے کہیں زیادہ امیدیں ہمیں سپریم کورٹ سے ہے۔

(انل نریندر)

22 مئی 2013

منموہن ۔لی کیانگ بات چیت کا کوئی مثبت نتیجہ نہیں نکلا!

چین کے نئے وزیر اعظم لی کیانگ پہلی بار غیر ملکی دورہ پر آئے ہیں اور اس کا آغاز انہوں نے بھارت سے کیا ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ چینی وزیر اعظم کا موجودہ دورہ 27 برس پہلے کی اس یاد سے جوڑتے ہیں جب وہ اپنے دیش کے ایک نوجوان نمائندہ وفد کی رہنمائی کرتے ہوئے یہاں آئیت تھے۔ امرپریم کی کہانی سننے والا تاج محل آج بھی انہیں جذبات میں وہاں دعوت دے رہا ہے۔ لگتا ہے کہ چین کے وزیر اعظم لی کیانگ محض بھارت کی نبض ٹٹولنے کے ارادے سے یہاں آئے تھے۔ لی کے دورہ کو ان کا دیش ایسے بڑھا چڑھا کر پیش کررہا تھا کہ مانو کے وہ رشتوں کی نئی تاریخ بنانے کی تیاری میں ہیں۔ لیکن جب دونوں وزیراعظم دنیا کے سامنے بات چیت کی تفصیل لے کر آئے تو اس میں محض بیان بازی سے زیادہ کچھ نظر نہیں آیا۔ بیشک چند سمجھوتوں پر دستخط ہوئے اور دنیا کی دو سب سے بڑی آبادیوں کی قیادت دینے والے دونوں سیاستدانوں نے امن اور بھائی چارگی کے راستے ترقی کے وعدے بھی دوہرائے لیکن اس انتہائی اہمیت کی حامل ملاقات کا التوا میں پڑے تنازعوں کے سلسلے میں نتیجہ کیا رہا؟ چینی وزیر اعظم لی کیانگ اور بھارت کے وزیر اعظم منموہن سنگھ کے درمیان ہوئی چوٹی کانفرنس بہت اہمیت کی حامل ضرور ہے کیونکہ ایک نے اپنے عہد کے آغاز میں اس چوٹی کانفرنس میں حصہ لیا ہے جبکہ دوسرے وزیر اعظم اپنے عہد کے آخری سال میں دونوں فریق دل پر ہاتھ رکھ کر بھلے ہی دعوی کررہے ہیں کہ بات چیت کے دوران سب ٹھیک ٹھاک رہا لیکن تلخ حقیقت تو یہ ہے کہ بھارت کے لئے یہ مذاکرات کتنے اچھے رہے یہ حقیقت ایک بہت بڑے سوال کو جنم دیتی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ دونوں دیشوں کے درمیان 8 سمجھوتوں پر دستخط ہوئے اور دعوی کیا گیا کہ چوٹی ملاقات کامیاب رہی لیکن بھارت نے اس بات چیت کے دوران نہ تو اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل میں مستقل ممبر شپ کے سلسلے میں چین کا موقف جاننے کی کوشش کی اور نہ ہی بھارتیہ نیوکلیائی فروغ کے سلسلے میں کوئی یقین دہانی۔ یہ ہی نہیں ہندوستانی فریق نے اس چوٹی بات چیت میں چینی فریق کے سامنے اس تشویش کا اظہار بھی نہیں کیا کہ وہ پاکستان کو جو نیوکلیائی اور فوجی مدد دے رہا ہے اس کا سیدھا حملہ بھارت کے خلاف ہی ہوگا ، اس لئے پاکستان کو فوجی مدد تو سمجھ میں آتی ہے لیکن نیوکلیائی بجلی گھر بنانے میں مدد، آزاد کشمیر میں چینی فوجیوں کی سرگرمیوں پر ایک لفظ نہ کہنا ہماری سمجھ سے تو باہر ہے۔ اس انتہائی اہمیت کی حامل ملاقات لمبے تنازعات کے سلسلے میں نتیجہ کیا رہا؟ کیا ہم چین کو رضامند کر پائے کے سرحدی تنازعے کو مقررہ وقت میں طے کریں۔ اس کا پائیدار حل نکالنے کی سنجیدہ پہل کی جائے؟ کیا ہمارے پڑوسی کو دراندازی کی غلطی سمجھ میں آئی؟ وزیر اعظم منموہن سنگھ نے تو ضرور کہا کہ اس واقعے سے دونوں دیشوں نے سبق لیا ہے اور دوبارہ سے اس کو دوہرایا نہ جائے۔ نمائندہ سطح پر اس پر بات چیت کے لئے رضامندی بنی ہے لیکن ایسی رضامندی تو پہلے بھی کئی بار ہوچکی ہے اور حل کے طریقے بھی تلاشے گئے تھے پھر وہ کیوں فیل ہوگئے اور نیا طریقہ کامیاب رہے گا اس کی کیا گارنٹی ہے؟ ہر بار کی طرح اس بار بھی چین کی طرف سے سرحدی تنازعے کو ایسا تاریخی مسئلہ بتادیا گیا ہے جس کا حل نکالنا مانو کسی طلسمی قلعہ کو فتح کرنا جیسا پیچیدہ معاملہ ہے۔معاملہ صرف سرحد کا نہیں ہے برہمپتر ندی پر باند بناکر بھارت کے بڑے حصے میں تباہی کا انتظام کررہا ہے۔ ہندوستان باربار چین سے اپنی تشویش کا حل نکالنے کی مانگ کرتا رہا ہے لیکن چین اپنے ارادوں پر اڑیل ہے۔ایک اور دوسرا سنگین معاملہ ہے سرحد پر چین کی حفاظتی تیاریوں کا۔ 
چین ڈیڑھ دہائی سے سرحد پر سڑکیں ، ریل اور ایئر پورٹ کا جال بچھا رہا ہے۔ اپنے فوجیوں اور بھاری ہتھیاروں کو وہ پلک جھپکتے ہی ہماری سرحد تک پہنچا سکتا ہے۔ جب ہم نے جوابی تیاری شروع کی تب وہ آنکھیں گاڑھ کر دیکھ رہا ہے۔ اس سنجیدہ مسئلے پر بھی ہمیں چین سے مناسب جواب کی توقع تھی جو مایوسی میں بدل گئی۔ جہاں تک چینی وزیر اعظم کا سوال ہے انہوں نے بڑی ہوشیاری سے دونوں دیشوں کے درمیان مسئلوں کا تذکرہ بات چیت کے دوران کیا۔ سرحدی تنازعہ بات چیت، ایک دوسرے سے مسلسل رابطے اور مشورے پر زور دیا گیا لیکن چینی فریق نے اپنی طرف سے کچھ بھی نہیں چھوڑا اور ہندوستانی فریق پھسڈی کی طرح چین کے ساتھ ’’یس ،نو، ویری گوڈ‘‘ کی رٹ لگاتا رہا۔ یعنی وہی روایت جو گذشتہ مسائل کو لیکر بھارت۔ چین کے ساتھ مقابلہ آراء ہے وہیں کا وہیں ہے۔ بھارت کے چین میں گرفتار دو ہیرا تاجروں کا اشو اٹھایا تک نہیں۔ بھارتیہ ایکسپورٹر چین کی سرزمین پر قدم رکھنے سے گھبراتے ہیں کیونکہ ایک طرف تو چین دنیا کی سب سے بڑی فیکٹری یعنی پیداوار دیش بننے کے لئے بے چین ہے جبکہ دوسری طرف اپنے قومی قانون کو سخت بنائے ہوئے ہے۔ اتنا ہی نہیں چین ایک طرف تو دعوی کرتا ہے کہ اگر بھارت اور چین ایک ساتھ مل جائیں تو دنیا کی30 فیصد آبادی کو متاثر کرسکتے ہیں لیکن اس میں تضاد یہ ہے کہ اپنے دیش میں اس نے جن ہندوستانی سامان پر پابندی لگا رکھی ہے اس میں رتی بھر چھوٹ دینے کے لئے تیار نہیں ہے۔ اپنی طرف سے چینی وزیر اعظم نے بڑی ڈپلومیٹک چالاکی سے اصل اشو کو ٹال دیا۔
ہمیں امید تھی کہ چین کی نئی لیڈرشپ بھارت سے رشتے بہتر بنانے میں حوصلہ مند فیصلہ لے گا اور ہمارے جائز مفادات کے تئیں سنجیدگی دکھائے گا۔ تب کیا محض چین کے اقتصادی مفادات لی کے دورہ کا سبب ہیں۔ چین کی اقتصادی ترقی کی رفتار مندی کے اشارے دکھائی دینے لگے ہیں اور وہ شدت سے بڑے بازروں کی تلاش میں ہے اور زور شور سے بھارت کے اندر کاروباری امکانات کو ٹٹول رہا ہے اور ہمارا دوسرا سب سے بڑا کاروباری سانجھیدار بننے میں بھی کامیاب رہا ہے لیکن پچھلے سال کی بہ نسبت یہ سانجھیداری بھی ہچکولے کھا رہی ہے ۔ کیونکہ اس میں بھی تو ملائی چین کے حصے میں جارہی ہے اور بھارت بھاری خسارہ اٹھانے کے لئے مجبور ہے۔ لب و لباب یہ ہے کہ وزیر اعظم بننے کے بعد اپنے پہلے غیر ملکی دورہ بھارت سے شروع کرکے لی کیانگ نے نئی دہلی کو صاف اشارہ دے دیا ہے کہ وہ رشتوں میں بہتری کے ساتھ ساتھ جنوبی ایشیا میں چینی مفادات کو بھارت کسی بھی طرح متاثر کرنے کی کوشش نہ کرے۔ بہرحال اپنا تو خیال ہے چین کے لئے یہ چوٹی مذاکرات بھارت کے فریق کی توقع سے زیادہ کامیاب رہے ہیں۔
(انل نریندر)

21 مئی 2013

کیا منموہن سنگھ سرکار کی الٹی گنتی شروع ہوچکی ہے؟

وزیر اعظم ڈاکٹرمنموہن سنگھ حال ہی میں جب گوہاٹی میں راجیہ سبھا کی ممبر شپ کے لئے اپنا پرچہ داخل کررہے تھے تو دہلی میں اسی وقت کانگریس یہ اعلان کررہی تھی کہ اگر عدالت اشونی کمار کی طرح کسی بھی بڑے عہدیدار(وزیر اعظم کا نام لئے بغیر) پر ایسا تلخ تبصرہ کرے گی تو کانگریس اسے عہدے سے ہٹانے میں دیر نہیں لگائے گی۔ آج کل کے چناوی ماحول میں کانگریس کے لئے اپنی ساکھ اور عزت دونوں بیحد اہم بن گئے ہیں۔ کانگریس ترجمان شکیل احمد نے منموہن سنگھ کا نام لئے بغیر کہا کہ عدالت نے اشونی کمار اور بی سی سی آئی پر کوئی فیصلہ نہیں دیاتھا صرف رائے زنی کی تھی لیکن کانگریس نے اس پر سنجیدگی دکھائی۔ اشونی کمار کو وزارت سے ہٹا دیا گیا تاکہ جولائی میں ہونے والی سماعت میں ان کے سبب کوئی غیر ضروری تنازعہ کھڑا نہ ہو اور سی بی آئی کو اور آزادی دینے کے لئے فوری پی چدمبرم کی قیادت میں وزارتی گروپ بنا دیا گیا۔ ان سے جب پوچھا گیا کہ اگر اس وقت کے کوئلہ وزارت دیکھنے والے وزیر اعظم منموہن سنگھ کے بارے میں سپریم کورٹ کوئی منفی ریمارکس دیتا ہے تو کیا ان کا حشر بھی اشونی کمار جیسا ہوگا؟ کانگریس کے ترجمان کا جواب تھا کہ کوئی بھی بڑے سے بڑا منتری کیوں نہ ہو پارٹی دوہرے پیمانے نہیں اپنائے گی۔ کانگریس کایہ تبصرہ ایسے وقت آیا ہے جب سیاسی گلیاروں میں کانگریس صدر اور منموہن سنگھ کے درمیان آپسی تلخی کی خبریں تیزی سے پھیل رہی ہیں۔ ذرائع کا تو یہ بھی کہنا ہے کہ اب کانگریس لیڈر شپ کا بھروسہ منموہن سنگھ پر ویسا نہیں رہا جیسا کے پہلے ہوا کرتا تھا۔ جو فائدہ 2009ء کے لوک سبھا چناؤ میں ان کی صاف ستھری ساکھ کی وجہ سے پارٹی کو ملا تھا وہ اب نہیں ملے گا۔ کانگریس میں ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو منموہن سنگھ پر تمام گھوٹالوں کا ٹھیکرا پھوڑ دے اور انہیں بلی کا بکرا بنا دے اور انہیں چلتا کردے اور نئے سرے سے کام شروع کرکے جنتا کے درمیان جائے۔ ویسے ایک بڑے کانگریسی لیڈر نے یہ بھی کہا ہے کہ صحت کے نقطہ نظر سے بھی منموہن سنگھ بیحد کمزور ہوگئے ہیں۔ ان کے علاوہ اپنے دونوں چہیتے اشونی کمار اور پون کمار بنسل کو بچانے سے ناراض منموہن سنگھ مایوس ہوگئے ہیں۔ کانگریس سینئر جنرل سکریٹری دگوجے سنگھ کھلے طور سے کہہ رہے ہیں کہ کانگریس میں اقتدار کے دو مرکز کامیاب نہیں ہورہے ہیں اس لئے نتیجہ یہ ہی نکلتا ہے کہ منموہن سنگھ کے وزیر اعظم عہدے کے دن گنے چنے رہ گئے ہیں۔ شاید یہ بات خودمنموہن سنگھ بھی سمجھ چکے ہیں۔ ان کی بڑھتی غیر دلچسپی اس طرف ہی اشارہ کرتی ہے۔ پچھلے تین مہینے سے کم سے کم تین بار منموہن سنگھ سرکار کی لیڈرشپ سنبھال پانے میں اپنی معزوری جتا چکے ہیں۔ یوپی اے ۔II بننے کے بعد سے وزیر اعظم جس طرح الگ الگ اسباب کے چلتے الزامات اور تنقیدوں میں گھرتے جارہے ہیں اس سے ان کے دکھی ہونے کو کانگریس کے حکمت عملی ساز اس احساس کو مان رہے ہیں۔ پارٹی کے سامنے منموہن سنگھ کافی کھل کر درخواست کرچکے ہیں کہ وہ راہل گاندھی کو وزیر اعظم بنانے کیلئے کسی وقت بھی اپنی کرسی چھوڑنے کو تیار ہیں۔
(انل نریندر)

لیاقت شاہ کو ضمانت ملنا تفتیشی ایجنسیوں کے منہ پر چپت

حزب المجاہدین کے مشتبہ دہشت گرد لیاقت شاہ کو فدائین آتنکی بنا کر وا ہ واہی لوٹنے والی دہلی پولیس کی اسپیشل سیل کو زبردست جھٹکا لگا ہے۔ اس نے اس کے خلاف ہولی کے موقعے پر دہلی میں بم دھماکوں کی سازش تیار کرنے کا الزام لگایا تھا۔ ضلع سیشن جج آئی ایس مہتہ نے لیاقت کو ضمانت دے دی ہے۔ قومی سراغ رساں ایجنسی کی خصوصی عدالت نے این آئی اے اور دہلی پولیس کے بارے میں کہا کہ وہ لیاقت کے خلاف ایسا کوئی ثبوت نہیں پیش کرسکے جس کی بنیاد پر کہا جاسکے وہ دہلی میں حملے کا منصوبہ بنا رہا تھا۔ جج موصوفہ نے 20 ہزار روپے کے ذاتی مچلکہ اور اتنی ہی رقم کی گارنٹی دینے پر لیاقت کو ضمانت پر چھوڑنے کے احکامات دئے۔ حالانکہ اس کی ضمانت پرکئی کئی شرطیں لگائی گئی ہیں۔ اسے دیش نہ چھوڑنے کا حکم دیا گیا ہے۔ لیاقت کے ذریعے دی گئی معلومات کی بنیاد پر جامعہ مسجد علاقے میں ایک گیسٹ ہاؤس سے گذشتہ 21 مارچ کو ہتھیاراور گولہ بارود برآمد کئے جانے کے دہلی پولیس کے دعوے پر عدالت نے کہا کہ یہ کام ملزم کی غیر موجودگی میں کیا گیا تھا۔ اس سے پہلے این آئی اے نے لیاقت کی ضمانت عرضی کی یہ کہہ کر مخالفت کی کہ ابھی معاملے کی جانچ جاری ہے۔اس کی ٹیلیفون ریکارڈ کی جانچ گواہوں سے پوچھ تاچھ اور معاملے سے جڑے کئی معاملوں کی کڑیوں کو ملانے کی کوشش کی جارہی ہے مگر کورٹ نے ان دلیلوں کو نامنظور کردیا۔ وہیں جموں و کشمیر پولیس نے بھی دعوی کیا تھا لیاقت خود سپردگی کرنے کے لئے یہاں آرہا تھا۔ اس سلسلے میں اس کے رشتے داروں نے کچھ وقت پہلے ہی درخواست بھی دی تھی۔ رشتے داروں کا الزامتھا کہ دہلی پولیس نے واہ واہی لوٹنے کے لئے لیاقت کو بلی کا بکرا بنادیا۔45 سالہ لیاقت کو دہلی پولیس کے اسپیشل سیل نے اس کے خاندان کے ساتھ 29 مارچ کو گورکھپور میں ہند۔ نیپال سرحد کو پار کرنے کے دوران گرفتار کیا تھا۔ عدالت نے 9 صفحات کے اپنے حکم میں کہاکہ این آئی اے نے خود کہا تھا کہ مبینہ سازش میں لیاقت کا تعلق جوڑنے کے لئے کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ہے اور خود ساختہ برآمدگی عرضی گذار اور الزامات کی جانچ ملزم کی نشاندہی پر کی گئی تھی تاکہ ثبوت ایکٹ کی دفعہ27 لاگو نہ کی جاسکے۔ بچاؤ وکیل کے مطابق گیسٹ ہاؤس میں وہ کمرہ مبینہ طور پر پاکستان میں بیٹھے آقا کی طرف سے سندیش آنے پر روشنے میں آیا تھا۔ کیا اس کا مقصد یہ نکالا جائے کہ جو ہتھیار وغیرہ جامعہ مسجد کے اس ہوٹل سے برآمد ہوئے وہ خود پولیس نے یہاں رکھ دئے تھے؟ جامعہ مسجد کے گیس ہاؤس میں جس مشتبہ آتنکی کی تصویر جاری کی گئی تھی وہ بھی سوالوں کے گھیرے میں ہے۔ جہاں ایسے معاملوں سے پولیس و جانچ ایجنسی کی ساکھ پر سوال اٹھتا ہے ساتھ ساتھ اقلیتی تنظیموں کو بھی یہ کہنے کا موقعہ ملتا ہے کہ جانچ ایجنسیاں خانہ پوری کرنے کے لئے کسی بھی اقلیتی نوجوان کو اٹھا کر اسے زبردستی مبینہ طور پر دہشت گرد بنا دیتی ہیں۔ دہلی پولیس کا بھروسہ ویسے بھی بہت کم ہے۔ اس طرح کے معاملوں سے رہی سہی کثر نکل جائے گی۔
(انل نریندر)

19 مئی 2013

آئی پی ایل سے ڈھائی گنا بڑھا ہے سٹے بازی کا کھیل

پچھلے دو دنوں سے بھارت ہی نہیں پوری دنیا کے کرکٹ شائقین کی نظریں آئی پی ایل۔6 میں اسپاٹ فکسنگ تنازعے پر لگی ہوئی ہیں۔ حالانکہ اس سے فیصلہ کن دور میں پہنچ رہے آئی پی ایل میں شائقین کا جوش کم نہیں ہوا اور ہونا بھی نہیں چاہئے۔ مٹھی بھر لوگوں کے سبب پورا کھیل ہی برا نہیں بن جاتا۔ ہم ان لوگوں سے قطعی متفق نہیں ہیں جو یہ مانگ کررہے ہیں آئی پی ایل ٹورنامنٹ پر پابندی لگادو۔ اگر امتحان میں چند بچے نقل کرتے پکڑے جائیں تو کیا آپ امتحان کا سسٹم بھی بندکردیں گے؟ آئی پی ایل ایک تفریح کا ذریعہ ہے۔شام کے تین چار گھنٹے مزے سے گزر جاتے ہیں ۔ہاں اس کھیل کو بدنام کرنے والوں پر ضرور شکنجہ کسا جانا چاہئے اور انہیں بے نقاب کرکے مستقبل میں ایسا گناہ پھر نہ ہوسکے یہ یقینی بنانے کے ٹھوس قدم اٹھانے چاہئیں۔ دہلی پولیس نے دعوی کیا ہے کہ پوچھ تاچھ کے دوران سری سنت چندیلا اور انکت چوہان نے اسپاٹ فکسنگ کا گناہ قبول کرلیا ہے۔ ادھر راجستھان رائلس کے دو بلے بازوں کے نام بھی شبے کے گھیرے میں آگئے ہیں ان میں ایک غیرملکی ہے۔ حالانکہ پولیس نے ابھی اس کا انکشاف نہیں کیا۔ اس کے علاوہ آئی پی ایل۔6 میں تقریباً15 میچ اور آئی پی ایل5- میں پانچ میچوں کی بھی جانچ کی جارہی ہے۔ دہلی پولیس کی اسپیشل سیل نے جب اسپارٹ فکسنگ میں سری سنت کو اس کے دوست جیجو اور کچھ لڑکیاں بھی تھیں، کے ڈسکو سے وہ ساتھ نکلے تو سری سنت کے منہ سے نکلا۔ ’اوہ نو‘ یہ لڑکیاں صرف دلالوں کے ذریعے سری سنت اور اس کے دوست جیجو کے ساتھ جانے کے لئے دستیاب کرائی گئی تھیں۔ دیکھتے ہی دیکھتے سری سنت ہیرو سے ویلن بن گئے۔ ٹی ۔ ٹوئینٹی کی پہلی عالمی چمپئن شپ کیا آپ کو یاد ہے؟ چھ سال پہلے پاکستان کے خلاف بھارت میں فائنل میں مصباح کا کیچ اسی سری سنت نے پکڑا تھا۔ بھارت کامیاب ہوا، اس کیچ سے سری سنت پورے دیش میں راتوں رات ہیرو بن گئے۔ وہیں سری سنت آج پیسوں کے لالچ میں ویلن بن گئے۔ سابق کرکٹر و بھارت کے سابق کپتان سنیل گواسکر کا کہنا ہے کہ بورڈ کو سچن ،کمبلے، دھونی جیسے سینئر کھلاڑیوں سے بات کرکے سسٹم میں بہتری لانی چاہئے جس سے لڑکوں کو بھٹکنے سے روکا جاسکے۔ ان کو ایک ساتھ آنا چاہئے۔ انہیں پتہ ہے کہ میدان میں کا ہورہا ہے۔ وہ محسوس کرسکتے ہیں کیونکہ وہ اس سسٹم کا حصہ ہیں۔ آئی پی ایل کے جوائنٹ سکریٹری انوراگ ٹھاکر نے کہا کہ سابق کرکٹر بھی آئی پی ایل سے کروڑوں روپے کما رہے ہیں اور پھر بھی اس کی تنقید کرتے ہیں۔ اگر وہ اسے شاید خراب پیسہ مانتے تو اس سے ملنے والی رقم نہ لیتے۔ ہم برطانوی دور کے قانون پر منحصر ہیں۔ اس میں بدلاؤ کی ضرورت ہے۔ بی سی سی آئی نے کہا کہ وہ کھیل سے کرپشن کی برائی کو ختم کرنے کے لئے کام کررہے ہیں لیکن خود کی کچھ حدود ہیں۔ ایسے میں اسپارٹ فکسنگ تنازعے کے سبب کسی کو آئی پی ایل کی ساکھ پر سوال نہیں اٹھانا چاہئے۔ تلخ حقیقت تو یہ ہے کہ ٹی ۔ٹوئنٹی کی مقبولیت کے پیچھے اس کا وہ ماڈل ہے جس میں کھیل اور تفریح ایک دوسرے میں سما گئے ہیں لیکن اس میں ہورہی مسلسل دولت کی بارش آج اس کے وجود کے آگے سوال کھڑا کرنے لگی ہے۔ شکر ہے بہت سی ٹیموں اور سینکڑوں کھلاڑیوں کی موجود گی کے باوجود سری سنت مٹھی بھر ہی داغی پکڑے گئے ہیں اس لئے کالے کارناموں کا ٹھیکرا کھیل یا کھلاڑیوں پر پھوڑنے کی جگہ اس جگہ کا علاج کیا جائے جہاں سے خاموشی اور اشاروں سے ہورہی چھاؤں کو بنایا جارہا ہے۔
خیال رہے کہ میچ فکسنگ کا معاملہ آتنکیوں کی حرکتوں کو ٹٹولنے کے وقت پکڑ میں آیا جس میں بھارت مخالف دہشت گرد تنظیم کا سرغنہ داؤد ابراہیم کی سیدھی مداخلت دیکھنے کو ملی ہے۔ کہا جارہا ہے کہ40 ہزار کروڑ روپے کے اس کالے کاروبار کے تار پاکستان اور ممبئی سے سیدھے جڑے ہیں۔ اس گروہ کے شاطر بڑے قاعدے سے کھلاڑیوں پر ریسرچ کرتے ہیں اور کمزور کڑی پاتے ہیں انہیں شکار بنا لیتے ہیں۔ سری سنت نے یہ کبھی تصور بھی نہیں کیا ہوگا کہ اس کی پیسے کی ہوس آج اسے ایک خطرناک دہشت گرد کا ساتھی بنا دے گی۔ ممکن ہے فکسنگ کا کھیل بیرونی ممالک سے ہورہا ہے لیکن کئی لوگ یہ تجویز رکھتے ہیں کے آئی پی ایل میں شامل ہونے والے کھلاڑیوں کو اخلاقی تعلیم یعنی ایسے اصول بتائے جائیں کے وہ لالچ میں نہ پڑیں لیکن جہاں پیسے کے کھیل کا بول بالا ہو وہاں اس طرح کی نصیحت کی حقیقت سے آنکھ چرانے کے سوا اور کیا ہوسکتا ہے؟ کرکٹ کو شرمسار کرنے والے ایسے ہتھکنڈوں پر روک لگانے کے لئے کھیلوں کی دیکھ بھال کرنے والی تنظیموں کو زیادہ چوکسی برتنے کی ضرورت ہے جتنی کے کرکٹ میں بیٹنگ کے سہارے معاملے آج تک پولیس نے پکڑے ہیں ان کھیل تنظیموں نے کیوں نہیں پکڑے؟
(انل نریندر)

ہنی سنگھ کے گانے سن کر شرم سے جھکا سر: ہائیکورٹ

اس میں کوئی شبہ نہیں پنجابی پاپ سنگر ہنی سنگھ نے میوزک انڈسٹری میں ہنگامہ مچادیا ہے۔ ڈسکو سے لیکر شادی کی تقریبات میں آئی پی ایل میچوں میں، بچوں کے موبائلوں میں ہر جگہ ہنی سنگھ کے گانے سنے جارہے ہیں۔ میں بھی ان کے کچھ گانوں کو سنتا ہوں اور پسند بھی کرتا ہوں لیکن کچھ گانوں کے لفظ ایسے بکواس ہیں انہیں سن کر فحاشی کی بو آتی ہے۔ صرف دھن اور بگراؤنڈ میوزک اچھا ہوتا ہے۔ اعتراض آمیز لفظ ہوتے ہیں ۔ اپنے گانوں میں فحاشی کا سامنے کررہے اس پنجابی سنگر کی مصیبت بڑھ گئی ہے۔ پنجاب ۔ ہریانہ ہائی کورٹ نے کہا کہ ہنی سنگھ کے گیتوں کے لفظ سنے تو سر شرم سے جھک گیا۔ یہ بدقسمتی ہے کہ کچھ لوگ پیسہ کمانے کے چکر میں سماج کی ذہنیت کو گندہ کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ ہنی سنگھ کے متنازعہ گانے میں ’’میں بلات کاری‘‘ کے خلاف ایک مفاد عامہ کی عرضی کی سماعت کے دوران ہائی کورٹ نے ہنی سنگھ کو نوٹس ، ای میل یا رجسٹرڈ ڈاک سے بھیجنے کا حکم دیا۔ کورٹ کو بتایا گیا سمن ہنی سنگھ کو نہیں ملا۔ اگلی سماعت 4 جولائی کو ہوگی۔ اسی کے ساتھ عدالت نے پنجاب سرکار کو بھی پھٹکار لگاتے ہوئے کہا گلوکار ہنی سنگھ کو طلب کیا تھا نہ کے سرکار کو کسی کارروائی کے لئے روکا تھا۔ بنچ نے کہا پنجاب حکومت بیہودہ گیتوں کے معاملے میں اپنے سطح پر کوئی بھی فیصلہ لینے کی چھوٹ رکھتی ہے۔ تہذیب کو آلودہ کرنے والے ایسے گیت یا موسیقی پر روک لگانے پر خود فیصلہ لے سکتی ہے۔ ہنی سنگھ کے گانے کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا گیا کہ انہیں سن کر تو کوئی بھی اپنے کان بند کرلے گا۔ معلوم ہو کے نواشہر کی ایک رضاکار تنظیم ہیلپ نے مفاد عامہ کی عرضی دائر کرکے درخواست کی ہے کہ فحشی گانوں پرروک لگانے کے لئے ٹھوس قدم اٹھائے جانے کی ضرورت ہے۔ عرضی میں کہا گیا ہے قانون میں سہولت ہے کہ پبلک مقامات پر بیہودہ زبان کا استعمال نہیں کیا جاسکتا لیکن گیت دھڑلے سے گائے اور سنائے جارہے ہیں۔ سماعت کے دوران جب عدالت کو کورٹ روم میں موجود لوگوں کی بھیڑ کے بارے میں پتہ چلا کہ وہ ہنی سنگھ کو دیکھنے کے لئے آئے ہیں ،جسٹس جسبیر سنگھ نے کہا کہ ایسے گلوکار کا تعاون کرنے کے بجائے بائیکاٹ کرنا چاہئے۔ مقامی پولیس نے ہنی سنگھ کے خلاف دفعہ 349 کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔ ادھر ہنی سنگھ نے کہا میں تو محض گلوکار ہوں الفاظ تو میں نے نہیں لکھے جو لفظ لکھے گئے وہ میں نے گا دئے ، اس لئے میں بے قصور ہوں۔
(انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...