Translater

06 ستمبر 2025

نیچر سے چھیڑ چھاڑ کا نتیجہ !

سائنسداں بار بار خبردار کررہے تھے کہ نیچر سے اتنی چھیڑ چھاڑ نہ کرو لیکن انسان اس وارننگ کو نظر انداز کرتا چلا گیا ۔نتیجہ سامنے ہے آب و ہوا تبدیلی کے سبب موسم میں بھاری تبدیلی آئی ہے ۔نارتھ انڈیا میں ماہ ستمبر میں بھی سیلاب و بارش اور چٹانیں کھسکنے کا پہر تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے ۔جموں وکشمیر ،ہماچل پردیش سے پنجاب اور دہلی تک کئی علاقے سیلاب سے بے حال ہیں ۔ہماچل میں چٹانیں کھسکنے کے الگ الگ واقعات میں کئی لوگوں کی موت ہوئی ہے اور متعدد زخمی اور کئی لوگ لاپتہ ہیں۔پنجاب کے سبھی 23 اضلاع میں 1200 سے زیادہ گاو¿ں سیلاب کی زد میں ہیں۔3.75 لاکھ ایکڑ زرعی زمین خاص کر دھان کے کھیت پانی میں زیر آب ہیں ۔فیروزپور زون میں 16 ٹرینیں منسوخ کر دی گئی ہیں ۔ہماچل میں رائے پور میں چلتی بس پر چٹان گرنے سے دو لوگوں کی موت ہو گئی ۔وہیں بلاسپور میں نو گھر ڈھہہ گئے۔متوفین کی تعداد 7 بتائی جاتی ہے ،کلو میں دو لگ ملبہ میں دب گئے ۔سات لوگ نیشنل ہائی وے سمیت 1155 سڑکیں اور 2477 بجلی ٹرانسفارمر اور 720 پینے کے پانی کے پلانٹ ٹھپ ہیں وہیں چھتیس گڑھ کے بلرام پور ضلع میں باندھ کا ایک حصہ ٹوٹنے سے آئے سیلاب میں چار لوگوں کی موت ہوئی جن میں دو عورتیں تھیں ۔شری ماتا ویشودیوی کے ٹریک پر بدھوار کو پھر چٹان گری لیکن یاترا بند رہنے سے بڑا حادثہ ٹل گیا ہے ۔جموں وکشمیر میں راجوری کے سندر بنی تحصیل میں مکان ڈہنے سے ماں بیٹی کی موت کی خبر تھی ۔پنجاب میں درجنوں جانور پانی میں بہہ گئے ۔پنجاب میں بارش کا قہر بدستور جاری ہے ۔ریاست میں اس وقت 1988 کے بعد جب سے قیامت خیز سیلاب سے لڑرہا ہے ۔اب تک 29 لوگوں کی جان جا چکی ہے اور 2.56 لاکھ لوگ متاثر ہیں جن میں گرداس پور ،پٹھان کوٹ ،فاضلکا ،کپور تھلا ،ترنتارن ،فیروزپور ،ہوشیار پور ،امرتسر شامل ہیں ۔پی ایم نریند رمودی نے وزیراعلیٰ بھگونت مان سے جانکاری لی ہے ۔پاکستان کے پنجاب میں سیلاب سے متاثر کرتارپور کوریڈور راستہ بھی شردھالوو¿ں کے لئے بند ہے ۔گردوارہ دربار صاحب میں فوج اور سول انتظامیہ بحالی کے کام میں لگے ہوئے ہیں ۔انتہائی دکھ کی بات ہے کہ اس وقت تقریباً ساری یاترائیں باڑھ کے سبب بند ہیں ۔کیدارناتھ دھام بند ،بدری ناتھ دھام بند ،ماتا ویشنو دیوی دھام بند ،رشی کیش کے گھاٹ بند ،بھیم ہیڑا یاترا بند ،کیلاش بند ،گھاٹی دیوی بند ،امرناتھ یاترا بند یہ سب یاترائیں ہیں جہاں جاکر شاستروں کے بھگوان کے درشن ہوتے ہیں ۔کچھ تو غلطی کررہے ہیں انسان کہ بھگوان بھی منہ موڑ رہے ہیں ۔ان جگہوں کو سیاحتی مقام نہ بنائیں صرف بھگتی کے لئے ہی بنائیں ،کچھ تو اشارے یہ ٹریجڈی ہم کو دے رہی ہے اور نیچر ہم کو اشارے دے رہی ہے ۔اگر اب بھی نہیں خبردار ہوئے تو یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ نیچر ایسا بدلہ لے گی کہ لوگ بھول نہیں سکیں گے ۔ٹیلر تو دیکھنے کو مل ہی رہا ہے ۔یہ بتانا بھی ضروری ہے اس وقت دیش میں کئی ندیاں طغیانی پر ہیں ۔اس کے سبب 21 جگہوں پر سیلاب کے حالات سنگین بنے ہوئے ہیں ۔33 جگہوں پر ندیوںکی آبی سطح عام سطح سے اوپر بہہ رہی ہیں ۔سی ڈبلیو سی کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 21 سنسنی خیز سیلاب متاثرہ جگہوں میں سے 9 بہار ،8 اتر پردیش اور 1-1 دہلی ،جموں وکشمیر ،مغربی بنگال ،جھارکھنڈ میں ہیں ۔وہیں ویاس اور ستلج ،چناب ،راوی ،الک نندہ اور بھاگیرتھی ندیوں میں آبی سطح خطرناک سطح سے اوپر بڑھ رہی ہے ۔اس بار بارش صرف پہاڑی علاقوں تک محدود نہیں ہے اس بار میدانی ریاستوں میں بھی قہر ڈھا رہی ہے ۔اس کی وجہ صرف زیادہ بارش ہونا نہیں ہے اس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ کمزور بنیادی ڈھانچہ کی تعمیر اور پانی نکاسی کے مناسب اقدام نہ ہونا بھی ہے یہی وجہ ہے کہ نئے پل بنے نئی بنیں سڑکیں بھی سیلاب کے سبب تاش کے پتوں کی طرح ڈہہ رہی ہیں ۔حالت یہ ہے کہ میٹرو شہروں تک کی سڑکوں یہاں تک کہ ایکسپریس وے اور ہائی وے تک میں پانی کے نکاسی کے مناسب انتظام ندارد ہیں ۔سیلاب کے بعد ڈینگو،ملیریا جیسی بیماریوں کے پھیلنے کا بھی خطرہ بڑھ جاتا ہے ۔فی الحال بحران سے نمٹنے کے لئے جن فوری اقدامات کی ضرورت ہے ان پر تو سرکار دھیان دے گی ہی ۔حیرت تو اس بات کی ہے البتہ یہ کہ ہر سال بارش کے موسم میں ایسی صورتحال پیدا ہونے پر بھی ہم خود کو لاچار کھڑے پاتے ہیں ۔ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ نیچر کے ساتھ تال میل بنائے بغیر ہم ایسی قدرتی آفات کو بار بار جھیلنے کے لئے مجبور ہوں گے ۔ (انل نریندر)

04 ستمبر 2025

کیا نائب صدر جمہوریہ کے چناو نتائج چونکا سکتے ہیں؟

نائب صدر جمہوریہ کے عہدے کے چناو¿ کی تاریخ جیسے جیسے قریب آرہی ہے، اس عہدے کے لئے حکمراں این ڈی اے کے امیدوار سی پی رادھا کرشنن اور اپوزیشن کے امیدوار جسٹس سدرشن ریڈی نے چناو¿ کمپین تیز کر ردی ہے ۔2017 و 2022 نائب صدارتی چناو¿ کے وقت بھاجپا کو لوک سبھا میں اکثریت حاصل تھی اس وقت لوک سبھا میں وہ اکثریت سے دور ہے لیکن این ڈی اے کو سرکار چلانے کے لئے اکثریت حاصل ہے ۔دونوں ایوانوں کا حساب کو دیکھیں تو لوک سبھا میں 542 اور راجیہ سبھا میں 240 ایم پی ہیں کل نائب صدارتی چناو¿ میں تعداد 8 ہزار 221 ہے دونوں ایوانوں میں انڈیا اتحاد کے ایم پی کی تعداد 422 ہے اور اس کے مطابق سی پی رادھا کرشنن کا نائب صدر بننا بھلے ہی یقینی ہے اپوزیشن کو بھی پتہ ہے کہ لوک سبھا و راجیہ سبھا ممبروں کی تعداد طاقت کی بنیاد پر اس کے امیدوار کو جتانا ناممکن ہے امیدوروں کے پیچھے کی حکمت عملی ان کی اہلیت اور پیغامات کو سمجھنے کے پچھلے پش منظر کو دھیا ن میں رکھنا ضروری ہے ۔یہ ایک اہم ترین چناو¿ ہے ۔جن حالات میں جگدیپ دھنکھڑ نے استعفیٰ دیا ویسے پہلے کبھی نہیں ہوا چونکہ نائب صدر راجیہ سبھا کے چیئرمین بھی ہوتے ہیں اس لئے اس جگہ کو زیادہ وقت تک خالی نہیں چھوڑا جاسکتا ۔چندوپورم پچو سوامی ،رادھاکرشنن کبھی بھی تنازعات میں نہیں رہے او ر وہ کئی اہم ترین سرکاری عہدوں پر بھی رہے ہیں ۔اور آر ایس ایس کے قریبی مانے جاتے ہیں ۔مسلسل جنتا کے درمیان جانے کے باوجود کسی طرح کا سیاسی تنازعہ نہ ہونا ان کی شائستگی کا ثبوت ہے ۔دوسری جانب سدرشن ریڈی آندھرا پردیش اور گوہاٹی ہائی کورٹ میں جج اور اس کے بعد 2007 سے 2011 تک سپریم کورٹ کے جج رہ چکے ہیں اور ان کے موجودہ تلنگانہ کی کانگریس سرکار نے جب سماجی و اکنامک تعلیمی برادری سروے کروایا تو اس کی رپورٹ کے لئے سدرشن ریڈی کی سربراہی میں ہی ایک کمیٹی بنائی گئی تھی اس طرح کانگریس کے ساتھ ان کا رابطہ بنا ہوا تھا حالانکہ جب وہ گوا کے لوک آیکت تھے تب کانگریس نے ان کی مخالفت کی تھی ۔اس وقت ان کی تقرری بھاجپا حکومت کی طرف سے کی گئی تھی اور اس لئے کانگریس نے انہیں جانبدارانہ ماناتھا ۔چھتیس گڑھ میں ماو¿ وادی تشدد کے خلاف جنتا کے سرواجوڈم تحریک کو انہوں نے غیر آئینی قرار دہا تھا۔ایسا کہنا مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کا تھا ۔حالانکہ جسٹس ریڈی نے دو ٹوک جواب دیا یہ فیصلہ میرا نہیں تھا یہ فیصلہ سپریم کورٹ کا تھا ۔یہ ماننا پڑے گا کہ شر ی سدرشن ریڈیا جب چناوی مہم چلا رہے ہیں تو انہوں نے بہت سے ایم پی سے سیدھا رابطہ قائم کیا ہے ۔یہاں تک کہ کہا کہ مجھے بھاجپا ایم پی سے بھی حمایت کی اپیل کرنے میں کوئی اعتراض نہیں ہے وہ کہتے ہیں لڑائی ایک عہدے کے لئے صرف نہیں یہ لڑائی آئین بچانے کی ہے ۔دیش میں جمہوریت بچانے کی ہے اور چونکہ وہ سپریم کورٹ کے جج رہے ہیں اس لئے وہ آئین کو سمجھتے ہیں اور قانون سمجھتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ میں غیر سیاسی ہوں ۔اس لئے میں سبھی سے اپیل کرسکتا ہوں چناو¿ کمپین زوروں پر جاری ہے ۔نو ستمبر کو ہونے والے اس چناو¿ میں جہاں ایک طرف این ڈی اے نے تجربہ کار لیڈر اور سابق گورنر سی پی رادھا کرشنن کو امیدوار بنایا ہے ۔وہیں اپوزیشن نے بھی چونکانے والا داو¿ چلا ہے ۔انڈیا اتحاد نے سپریم کورٹ کے سابق جسٹس سدرشن ریڈی کو نائب صدر کے طور پر امیدوار بنا کر اس چناو¿ کو صرف اقتدار کی لڑائی نہیں بلکہ آئین بنام آئیڈیا لوجی کی لڑائی بنا دیا ہے ۔بھلے ہی لوک سبھا میں این ڈی اے کے پاس نمبروں کی طاقت زیادہ ہو لیکن اپوزیشن بھی اپنا مشترکہ امیدوار اتار کر چناو¿ کو دلچسپ بنانے میں کوئی کسر نہیںچھوڑ رہاہے۔جسٹس سدرشن ریڈی نے سی پی ایم لیڈروں سے ملاقات کی اور حمایت مانگی چونکہ وہ بنیادی طور پر آندھرا سے تعلق رکھتے ہیں اس لئے این ڈی اے کو ڈر ہے کہ کہیں چندربابو نائیڈو چپ چاپ طریقہ سے ان کی حمایت نہ کردیں ۔بتادیں نائب صدارتی چناو¿ میں پوشیدہ پولنگ ہوتی ہے اس سے پتہ نہیں چلتا کس نے کس کو ووٹ دیا ہے چونکہ وہ تیلگو زبان بھی والے خطہ سے ہیں اس لئے تیلگو پرائیڈ بھی اشو بن سکتا ہے ۔اور اگر یہ بنا تو کرا س ووٹنگ ممکن ہوسکتی ہے ۔ادھر شوشل میڈیا میں بھی یہ خبر چل رہی ہے کہ کانگریس کے چانکیہ مانے جانے والے کرناٹک کے نائب وزیراعلیٰ ڈی کے شیو کمار بھی حرکت میں آگئے ہیں اور تمام جنوبی بھارت کے ایم پیز سے حمایت مانگ رہے ہیں ۔اور ریڈی کی حمایت کے لئے دوڑ دھوپ کررہے ہیں ۔جسٹس سدرشن ریڈی نے کہا کہ انہیں خوشی ہے کہ نہ صرف انڈیا اتحاد بلکہ اس سے باہر کے لوگ بھی ان کی حمایت کرنے کے لئے آگے آرہے ہیں کل ملا کر نمبروں کے حساب سے تو اپوزیشن کی جیت بھلے ہی مشکل ہو لیکن وہ اسے ایک سیاسی اسٹیج کی شکل میں استعمال کررہے ہیں تاکہ 2028 کے لوک سبھا چناو¿ اور اگلے دو برسوں میں کچھ ریاستوں میں اسمبلی چناو¿ کے لئے ایک مضبوط بنیاد رکھی جاسکے ۔اب دیکھنا یہ ہوگا کہ کیا اس چناو¿ میں کوئی چونکانے والے نتیجے آسکتے ہیں ؟ (انل نریندر)

02 ستمبر 2025

کیا کیابولے سرسنگھ چالک موہن بھاگوت!

آر ایس ایس کے قیام کے 100 سال پورے ہونے پر راجدھانی دہلی کے ویگیان بھون میں 26 سے 28 اگست تک سہ روزہ پروگرام منعقد ہوا۔موہن بھاگوت نے دیش میں روزگار کے پش منظر اور سنسکرت کی ضرورت اور بھارت کی یکجہتی ہندو مسلم اتحاد سمیت کئی اہم اشوز پر اپنی بات رکھی ۔میں یہاں سرسنگھ چالک کے ذریعے اہم ترین اشوز اور ان کے جوابوں کو پیش کررہا ہوں ۔قارئین خوف فیصلہ کرلیں کہ موہن بھاگوت جی کے خیالات کیا ہیں ؟ انہوں نے کہا ہمارے ہندوستان کا دنیا بھر میں قد بڑھا ہے ۔دیکھتے ہیں سب الگ الگ نظر آتے ہیں ۔لیکن سب ایک ہیں ۔دنیا اپنے پن سے چلتی ہے ،یہ سودے پر نہیں چل سکتی ہے۔مذہب کی حفاظت کرنے سے قدرت ٹھیک چلتی ہے کیوں کہ بنیاد بڑھی اور اونچائی تک پہنچ گئی ۔شخصی واد بڑھا اور انتہا پر پہنچ گیا ۔75 سال کے بعد کیا سیاست سے ریٹائر ہو جانا چاہیے ؟ اس سوال کے جواب میں موہن بھاگوت نے کہا میں نے یہ بات بورو پنت جی کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے ان کے نظریات رکھے تھے میں نے نہیں کہا کہ میں ریٹائر ہو جاو¿ں گا یا کسی اور کو ریٹائر ہونا چاہیے۔ہم زندگی میں کسی بھی وقت ریٹائر ہونے کے لئے تیار ہیں اور سنگھ ہم سے جس وقت تک کام کرانا چاہے گا ہم سنگھ کے لئے اس وقت تک کام کرنے کے لئے تیارہیں ۔بی جے پی اور سنگھ کے درمیان رشتوں پر بھاگوت نے کہا کہ صرف اس سرکار کے ساتھ نہیں ہر سرکار کے ساتھ ہمارا ان کا تال میل رہا ہے ۔کہیں کوئی جھگڑا نہیں ہے۔اختلافات کے مسئلے کبھی نہیں ہوتے یہاں نظریات میں اختلافات ہوسکتے ہیں مگر اختلافات من بالکل تلخ نہیں ہے ۔کیا بی جے پی سرکار میں سب کچھ سنگھ طے کرتا ہے ؟ یہ بات پوری طرح غلط ہے میں کئی برسوں سے سنگھ تنظیم چلا رہا ہوں وہ سرکار چلا رہے ہیں صلاح دے سکتے ہیں لیکن اس میدان میں فیصلہ ان کا ہے ۔اور اس میدان میںہمارا ۔جب سوال پوچھا گیا کہ بی جے پی صدر چننے میں اتنا وقت کیوں لگ رہا ہے تو بھاگوت نے جواب دیا ہم طے کرتے تو اتنا وقت لگتا کیا ؟ ہم طے نہیں کرتے کچھ پارٹیوں کے سنگھ مخالفت پر بھاگوت نے کہا تبدیل ہوتے ہوئے بھی ہم نے دیکھا ہے ۔1948 میں جے پرکاش بابو ہاتھ میں جلتی مشال لے کر سنگھ کا دفتر جلانے چلے تھے بعد میں ایمرجنسی کے دوران انہوں نے کہا تبدیلی کی آشا آپ لوگوں سے ہور ہی ہے ۔سابق صدر اے پی جے عبدالکلام سے لے کر پرنب مکھرجی کا ذکرکرتے ہوئے کہا کہ وہ سنگھ کے پروگرام میں آئے انہوں نے اپنے نظریات نہیں بدلے لیکن سنگھ کے بارے میں جو غلط فہمیاں تھیں وہ دور ہوئی ہیں ۔تین بچے ہونے چاہیے: بھاگوت نے کہا بھارت کے ہر شہری کے تین بچے ہونے چاہیے آبادی کنٹرول میں رہے اور ٹھیک رہے اس لحاظ سے تین ہی بچے ہونے چاہیے ۔تین سے زیادہ نہیں ہونے چاہیے ۔پیدائشی شرح کسی بم کی طرح ہے اس لئے بھارت کے ہر شہری کو چاہیے کہ اس کے گھر میں تین بچے ہوں ۔پیدائش پر ہر کسی برادری کی کم ہور ہی ہے ہندوو¿ں کی پہلے ہی سے کم تھی اور زیادہ کم ہو رہی ہے لیکن دوسرے فرقوں کی اتنی کم نہیں تھی تو اب ان کی بھی کم ہو رہی ہے شری بھاگوت جی نے کہا کہ باہر سے جو آئیڈیا لوجی آئی وہ ایک غیر متوقع وجہ سے آئی ۔یہی کے لوگوں نے ان کو قبول کیا لیکن ہماری رائے میں تو سب کو قبول کرنا چاہیے ۔جو دوریاں بنی ہیں ان کو بھرنے کے لئے دونوں طرف سے کوشش کی ضرورت ہے ۔یہ صد بھاونا اور پازیٹو ماحول کے لئے انتہائی ضروری ہے ۔جسے دیش کو قومی سطح پر کرنا ہوگا ۔سنگھ پرمکھ نے کہا کہ ہمارے ہندوستان کا مقصد عالمی بھلائی ہے ۔اور بھارت میں جتنا برا نظر آتا ہے اس سے چالیس گنا زیادہ سماج میں اچھا ہے ۔ہم کو سماج کے کونے کونے تک پہنچنا پڑے گا کوئی شخص باقی نہیں رہے سماج کے سبھی طبقوں میں سبھی سطحوں پر پہنچنا ہوگا ۔غریب سے نیچے سے لے کر امیر تک کے اوپر تک سنگھ کو پہنچانا پڑے گا ۔یہ جلدی جلدی کرنا ہوگا ۔جس سے سب لوگ مل کر سماج میں تبدیلی کے کام میں لگ جائیں ۔ماحولیات میں پانی بچاو¿ ،سنگل یوز پلاسٹک ہٹاو¿ ۔پیڑ لگاو¿ اس کے علاوہ سماجی خوشحالی کو لے کر کام کرنا ہوگا ۔انسان کو لے کر ہم ذات کے بارے میں سوچنے لگتے ہیں اس کو د ل سے ختم کرنا ہوگا ۔مندر ،پانی ،انتظامیہ سب کے لئے ہے اس میں اختلاف نہیں ہونا چاہیے۔بھارت کو خود کفیل ہونا ضروری ہے ۔سودیشی کی بات کا مطلب غیر ممالک سے متعلق نہیں ہوں گے ایسا نہیں ہے ۔بین الاقوامی رشتے و تجارت چلتے رہیں گے لیکن اس میں دباو¿ نہیں ہونا چاہیے بلکہ مرضی ہونی چاہیے ۔آخر میں بھاگوت نے کہا نیبو کی شکنجی پی سکتے ہیں تو کوکا کولا اور اسپرائٹ کیوں چاہیے ۔گھر پر اچھا کھانا کھاو¿ باہر سے پیزا کی کیا ضرورت ہے ؟ (انل نریندر)

ایران-امریکہ ،اسرائیل جنگ : آگے کیا ہوگا؟

فی الحال 23 اپریل تک جنگ بندی جاری ہے ۔پاکستان دونوں فریقین کے درمیان سمجھوتہ کرانے میں لگا ہوا ہے ۔پاکستانی فوج کے سربراہ عاصم منیر تہران م...