02 اگست 2014

US CHANTING NAMO NAMO AFTER AFFRONTING MODI FOR THE LAST 12 YEARS

Anil Narendra,
US after continuously insulting Narendra Modi for a period of 12 years is showering extolment on him.  US denied visa to him is now compelled to shift its stiff stand; there might be many invisible reasons behind this.  US has not only expressed its desire to establish historic partnership with India but has also praised her approach. The way US Secretary of State, John Kerry, just before his visit to India spoke high about Modi Government and gave indication of the long term relations between the two countries is enough to assess the changing bilateral spectrum of relations.  The kind of relations developed on the announcement of the Indo –US Civil Nuclear Agreement during UPA I regime, weakened during last few years.  The visible US enrapture has been drawing attention as the doors of US had been closed for Modi after Gujarat riots.  US had not been at all ready to grant visa to Modi till announcement of Lok Sabha election results.  It is not a surprise that US which used to consider the policies of Modi and RSS as abetment to communalism is able to see the revolutionary symbols in the so called saffron revolution of Modi government.  US Secretary of State, John Kerry is in India to attend the 5th Annual Strategic Meeting with Indian External Affairs Minister, has openly supported the “ taking along everybody for an inclusive growth “ vision of Modi government.  In fact, American companies have been elated over the infinite potentials to capture Indian market.  US has been always taking care of her economic interests, it is not worthwhile to mention.  US is since pinning hope on the vast consumer market, defence, trade and energy sectors of our country.  Her major concern today is Indian Nuclear Responsibilities Act, causing obstacles in commissioning of the Nuclear Power Plants in our country.  In case the obstacles become ineffective, US would like to avail opportunity of commissioning Nuclear Plants with total capacity of 16 thousand MW.  An investment amounting to Rs two thousand crore by US companies, business houses and general electric companies is at stake.  India has purchased defence installations and armouries worth 10 billion dollar during last decade and has yet to take a decision on the huge purchase of such installations. Kerry is accompanied by the Secretary of commerce, Penny Pritzar.  Kerry aims to prepare a better atmosphere for the proposed September visit of Indian PM to US. Kerry is not expecting much out of his present visit.  US is willing to have deep relations with India to balance the emerging new power of China though not expecting for the time being any substantial progress in this direction because of a reformist image of the new government in India. US has been clearly inclined towards Pakistan, India would have to keep this in her mind.  The reason is obvious; Pakistan is going to become a necessity for US as she has to leave Afghanistan.  Despite a shift in the attitude of US, there is no need to forget the differences between two countries on the issues of Intellectual Rights Act and subsidies.  Indian interests are linked to the two issues and our government would never like on concede on the issues.  We welcome the changed attitude of US despite number of differences.  It is hoped that the new government will not surrender before US like its predecessor PM Mamnmohan Singh and his government and Modi would never compromise on the self respect of the country.

31 جولائی 2014

ووٹ بینک کی سیاست اترپردیش کوتباہ کررہی ہے!

10 مئی کو پیاؤ بنانے کے معمولی تنازعے نے میرٹھ شہر کے فرقہ وارانہ تشددکی آگ میں جھونک دیا۔ دوفرقوں کے درمیان گھنٹوں جم کر پتھراؤ، فائرننگ و آگ زنی ہوئی۔ دوکانوں کو لوٹا گیا۔ تشدد میں پانچ لوگوں کو گولی لگی، ایک نوجوان کو جان گنوانی پڑی۔ اسی طرح اگست2013ء میں کوال گاؤں میں چھیڑ چھاڑ کی چھوٹی واردات سے شروع ہوئی فرقہ وارانہ کشیدگی نے مظفر نگر کو ہی نہیں یوپی کو دنیا میں بدنام کردیا۔ 28 اپریل کو مظفر نگر کے ہی سوجرو گاؤں میں فرقہ وارانہ فساد اور راشن کی تقسیم پر ہوگیا۔ 4 جولائی کو کانٹھ (مراد آباد) میں لاؤڈاسپیکر لگانے پر مچا واویلا ابھی خاموش نہیں ہورہا ہے اب سہارنپور کے دنگے نے ایک برس پرانے مظفر نگر کانڈ کو دوہرانے کی دہشت پیدا کردی ہے۔ فرقہ وارانہ تشدد کی 247 وارداتوں کے ساتھ اترپردیش 2013ء میں ہوئے فسادات کے سلسلے میں ریاستوں کی فہرست میں چوٹی کے مقام پر ہے اور2014ء کی پوزیشن بھی کچھ الگ نہیں ہے۔ اترپردیش میں پچھلے سال فرقہ وارانہ فساد میں 77 لوگوں کی جان گئیں۔ وہیں اس سال کے اعدادو شمار وزارت داخلہ کے ذریعے ابھی اکھٹے کئے جانے ہیں لیکن ایک اندازے کے مطابق اس سال فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات کی تعداد 65 ہے جن میں کم سے کم 15 لوگوں کی جانیں گئی ہیں۔ اعدادو شمار گواہ ہیں جب سے سماجوادی پارٹی نے اقتدار سنبھالا ہے تب سے مغربی اترپردیش بے قابو ہے۔ اس خوشحال علاقے میں سماجی و اقتصادی ترقی کا تانا بانا بکھرتا جارہا ہے۔ چھوٹے تنازعے کو بڑا بنانے کی ایک وجہ یہ ہے کہ حکمرانوں کی پالیسیاں اور شفافیت اور ایمانداری کی کمی اوریہ سماج کیلئے خطرناک ہوتی جارہی ہے۔ چناؤ جیتنے کی ووٹ بینک کی سیاست حاوی رہنے سے ماحول بگڑنے کا دعوی کرتے ہوئے ایک سابق ایم ایل اے کہتے ہیں کہ امیدوار طے کرنے کے لئے سبھی پارٹیاں ذات برادری کو ترجیح دیتی ہیں۔ ایسے میں ووٹ بینک بنانے کیلئے پالیسیوں میں غیر جانبداری برتنا آسان نہیں ہے۔ مظفر نگر فسادات میں جس طرح سے ایک طرفہ کارروائی ہوئی اس سے فرقہ وارانہ بھائی چارہ سماج میں رہ پانا ممکن نہیں ہے۔ اہم بات تو یہ ہے کہ ووٹوں کو بنائے رکھنے کے لئے ذمہ دار نیتا بھی سچ سے منہ چراتے ہیں۔ مظفر نگر فسادات کا رنج پرامن لوگوں کے دل و دماغ پر ابھی باقی ہے جس میں سیاستدانوں کا رویہ انصاف پر مبنی نہیں رہا۔ ناکام ہورہے انتظامی حکام مظفر نگر فسادات پر سپریم کورٹ نے دنگا بھڑکانے اورکنٹرول نہ کرنے کیلئے پولیس اور مقامی حکام کو ذمہ دار مانا ہے۔ صرف ڈھائی برس پہلے کی بات ہے کہ پورے اترپردیش نے اکھلیش یادو کو بڑی حسرت کے ساتھ سر آنکھوں پر بٹھایا تھا اور وہ امید لگائے ہوئے تھے کہ یہ نوجوان لیڈر پردیش کی ترقی کا نیا باب لکھے گا۔ اگر سماج وادی پارٹی کی سرکار بنی تو جرائم پر نکیل بھی کسی جائے گی۔ یوپی میں بڑھتے فرقہ وارانہ فسادات نے اکھلیش یادو کی حکمت عملی پر سوالیہ نشان لگادیا ہے۔ آج اترپردیش کی عوام کھلے عام یہ کہہ رہی ہے کہ اس سے تو مایاوتی کی سرکار اچھی تھی۔ سرکار کی نیت پر بھی شک ہونے لگا ہے۔ سرکار نے فساد متاثرین کو راحت پہنچانے کے نام پر خاصی رقم خرچ کی ہے لیکن 16 ویں لوک سبھا کے چناؤ میں ان کی مددووٹ کی شکل نہیں لے پائی۔ کورٹ کی پھٹکار سے سرکار انتظامیہ کی ناکامی ظاہر ہوجاتی ہے۔ ایک سابق پی سی ایس افسر کا کہنا ہے کہ سیاسی دباؤکے چلتے منصفانہ کارروائی ہونا ممکن نہیں ہے۔ حال ہی میں جانبدارانہ فیصلے بڑھے ہیں تو حالات بے قابو ہونا فطری ہے۔ انتظامیہ پہلے لاپروائی اور پھر جانبدارانہ رویہ معمولی سی بات کو بڑھاوا دے رہا ہے۔ اہم سوال یہ بھی ہے کہ پولیس کی مقامی خفیہ یونٹ (ایل آئی یو) کی ناکامی بھی ہے ، جن کا کام ہی چھوٹے موٹے تنازعوں پر نظر رکھنا ہے۔ یہ سرگرم ہوتے تو شاید اترپردیش میں قانون و نظام کا یہ برا حال نہ ہوتا۔
(انل نریندر)

کہیں سیلاب تو کہیں سوکھے کا سنکٹ: کسان کی تباہی!

دیش کے کئی حصوں میں خوشک سالی اور سیلاب کی صورتحال بنی ہوئی ہے۔ کسانوں کو دونوں ہی مشکلوں سے دوچار ہونا پڑ رہا ہے۔ بہار، اترپردیش کے زیادہ تر حصوں میں خوشک سالی کا اندیشہ تھا لیکن اب ان ریاستوں میں سیلاب کا خطرہ منڈرانے لگا ہے۔ بہار میں ایک طرف 25 ضلع سوکھے کی زد میں ہیں تو دوسری طرف کچھ شہروں میں ندیوں میں آبی سطح بڑھ گئی ہے۔ اس سے ہزاروں ایکڑ میں کھڑی فصلوں کو نقصان پہنچا ہے۔ ظاہر ہے کہ خوشک سالی ہو یا سیلاب ہو دونوں ہی صورتوں میں خمیازہ کسانوں کو اٹھانا پڑ رہا ہے۔ ابھی 10 دن پہلے تک یوپی میں سوکھے کا اندیشہ ظاہر کیا جارہا تھا لیکن اس دوران اتنی بارش ہوئی کہ اب سیلاب کا خطرہ کھڑا ہوگیا ہے۔ سنچائی محکمے کے مطابق شاردا ندی، پلیاکلاں، لکھیم پوری کھیری، شاردا نگر میں خطرے کے نشان سے اوپر بہہ رہی ہے۔ بارہ بنکی کے ایلیگن پل اور ایودھیا میں گھاگرا ندی خطرے کے نشان کے اوپر بہہ رہی ہے۔ گنگا ندی بلند شہر کے نرورا، رام گنگا، مراد آباد اور گھاگرا ،بلیا کے توتی پار میں خطرے کے نشان کے قریب بڑھ رہی ہے۔ اندازہ ہے گھاگرا ندی بارہ بنکی میں اور ایودھیا اور بلیا میں توتی پار خطرے کے نشان کو پار کر جائے گی۔ نیپال کے ذریعے پانی چھوڑے جانے پر لکھیم پور کھیری سرسوتی، بہرائچ اور گوندا، بستی، سیتا پور میں سیلاب کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔ اترا کھنڈ میں بھاری بارش کے سبب مغربی اترپردیش کے بجنور، مراد آباد، بلند شہر میں سیلاب کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔ کمزور مانسون کے سبب بہار میں سوکھے کی صورتحال نازک بنی ہوئی ہے۔ 25 ضلعوں میں بارش عام مقدار سے 19 فیصدی کم ہوئی ہے۔ اس موسم میں پہلی بار ریاست میں بارش کی عام پوزیشن اتنی نیچے ہے۔ اس کی وجہ کمزور مانسون نے کسانوں کے لئے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ بہار میں بارش اب تک 417.4 ملی میٹر ہونی چاہئے تھی جبکہ کچھ دن پہلے تک یہ اعدادو شمار محض 339.1 ملی میٹر تک ہی سمٹ گئی ہے۔ یعنی درکار بارش سے 19 فیصدی کم برسات سے بہار دوچار ہے۔ بہار کے25 ضلعوں میں جہاں سوکھے کی حالت ہے وہیں سریو ندی میں آبی سطح بڑھنے کے سبب کئی دیہات میں سیلاب کا خطرہ منڈرا رہا ہے جبکہ نیپال میں ہوئی بھاری بارش اور بہرائچ سے پانی چھوڑنے کی وجہ سے گوپال گنج کے 10 گاؤں سیلاب کی زد میں آگئے ہیں۔ اس سے ہزاروں ایکڑ میں کھڑی گننے اور مکا کی فصلیں برباد ہونے کا اندیشہ ہے۔ پٹنہ کے پالی گنج میں بارش نہ ہونے سے دھان کی فصل سوکھنے کے دہانے پر پہنچ گئی ہے۔ خوشک سالی ہو یا سیلاب دونوں ہی صورتوں میں نقصان کسان کا ہی ہوتا ہے۔ جہاں پیداوار کم ہونے سے قیمتیں بڑھتی ہیں وہیں کسان کی مالی حالت بھی پتلی ہوتی ہے۔ اتنے سال گزرنے کے بعد بھی سیلاب اور خوشک سالی پر قابو نہیں پایا جاسکا۔ ایک ہی ریاست میں کہیں سوکھا ہے تو کہیں سیلاب ہے۔ اگر جہاں سیلاب ہے اس کے پانی کو خوشک علاقے میں پہنچانے کا انتظام ہوتا ،ریل و سینچائی کا یا اکھٹا کرنے کا انتظام ہوتا تو ایسی نازک حالت سے بچا جاسکتا تھا۔ مرکز اور ریاستی سرکاروں کو اس طرف توجہ دینی ہوگی۔ دور رس پالیسی تیار کرنی چاہئے تاکہ دونوں ہی حالات سے بچا جاسکے۔
(انل نریندر)

29 جولائی 2014

اتراکھنڈمیں جہاں کانگریس کو ملی تقویت وہیں بھاجپا کے گرتے گراف کااشارہ!

اتراکھنڈ میں ودھان سبھا کیلئے ہوئے ودھان سبھا اپ چناؤ میں کانگریس نے تینوں سیٹیں جیت کر بھاجپا کا سوپڑا صاف کردیا۔ اس سے جہاں بھارتیہ جنتا پارٹی کو بھاری جھٹکا لگا ہے وہیں لوک سبھا چناؤمیں کراری ہار سے کوما میں پہنچ گئی کانگریس کو سنجیونی مل گئی ہے۔ابھی دو مہینے پہلے ہی لوک سبھا چناؤ میں ملی ہار سے گھبرائی کانگریس کیلئے یہ جیت جان ڈالنے کا کام کرے گی۔ساتھ ہی کانگریس کی یہ جیت بھاجپا کیلئے بڑا جھٹکا اس لئے بھی ہے کیونکہ اس میں پردھان منتری نریندر مودی کا جادو لوگوں سے اترنے کے صاف صاف اشارے ملنے لگے ہیں۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ ریاست کے مکھیہ منتری ہریش راوت دہلی میں ہسپتال میں پڑے تھے اور چناؤ پرچار کرنے نہ وہ خود گئے اور نہ ہی پارٹی کا کوئی بڑا نیتا ہی اترا کھنڈ گیا۔ اس لئے یہ جیت ہریش راوت کی شہرت کا ثبوت تو ہے ہی کانگریس کی واپسی کا اشارہ بھی ہے۔لوک سبھا چناؤ میں نریندر مودی کی لہر کی وجہ سے اتراکھنڈ کی پانچوں سیٹیں بھاجپا نے جیتی تھیں لیکن دو مہینے کے اندر ہی تین ودھان سبھا سیٹوں پر ہوئے اپ چناؤ میں کانگریس کی جیت نے مودی لہر کی ہوا نکال دی ہے۔ ساتھ ہی پردیش میں راج نیتک سمی کرن بھی بدل دئے ہیں۔
70 ممبر وں والی ودھان سبھا میں اب کانگریس کے پاس35 سیٹیں ہوگئی ہیں۔ ایک ممبر پہلے سے ہی کانگریس کو سمرتھن دے رہا ہے۔7 ودھائک سہیوگی دلوں کے ہیں اس لئے اب ہریش راوت کی کرسی کو خطرہ ٹل گیا ہے جبکہ بھاجپا کے سپنے چکنا چور ہوگئے ہیں۔لوک سبھا چناؤ کے بعد ملی بھاری جیت سے یہ اندازہ لگایا جارہا تھا کہ اپ چناؤ میں بھی بھاجپا کو کم سے کم 2 سیٹیں مل جائیں گی اور پردیش میں سرکار بنانے کے آثار بڑھ جائیں گے۔ لوک سبھا چناؤ کے پہلے بھاجپا نے کانگریس کے قد آور نیتا ستپال مہاراج کو پارٹی میں اس بھروسے پر لیا تھا کہ انہیں وزیر اعلی بنایا جاسکتا ہے۔
اتراکھنڈ میں ملی اس جیت کا اثر دیگر ریاستوں میں ہونے والے اسمبلی چناؤ پر بھی پڑ سکتا ہے۔ بھاجپا کو پردیش کی گروپ بندی کی وجہ سے تینوں سیٹوں پر ہار کا منہ دیکھنا پڑا ہے۔ اس جیت سے گد گد ہریش راوت نے جمعہ کو کہا کہ یہ کامیابی ایک خوش آئین پیغام ہے اور عوام کانگریس کو پھر سے طاقت دینا چاہتی ہے۔ انہوں نے جو کہا وہ غلط نہیں ہے اس جیت کا پیغام یہی ہے کہ اگر لوک سبھا میں پانچ سیٹیں نریندر مودی کی وجہ سے ملی تھیں تو ہار بھی انہیں کی وجہ سے ہوئی ہے۔ دراصل بھارتیہ جنتا پارٹی نے لوگوں کو جس قدر جگایا اور سبز باغ دکھائے دو مہینے میں ہی ان کی پول کھل گئی۔ یہ صاف ہے کہ پارٹی نے پبلسٹی مشینری کے ذریعے عوام کو جس تحفے کے خوبصورت سبز باغ دکھائے اس کے اندر کچھ نہیں تھا اب ایسا عوام کو لگ رہا ہے۔
پچھلے 60 دنوں میں مہنگائی تیزی سے بڑی ہے اور مہنگائی کو لیکر سرکار فکر مند دکھائی دیتی ہے لیکن مہنگائی کہیں جاکر رکتی نظر نہیں آرہی ہے۔ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ہم ریل کا کرایہ 14.20 فیصدی بڑھے ہوئے دیکھیں اور مان لیں کہ مہنگائی کم ہوگی؟ یہ کیسے ہوسکتا ہے پیٹرول ۔ ڈیزل کے دام ہرمہینے بڑھیں گے اور مہنگائی کم ہونے کا دعوی بھی ہم قبول کریں؟ یہ کیسے مان لیں کہ روزگار دینے والی اقتصادی پارلیسیاں ہم نے قبول کی ہیں اور روز گار مل جائے؟ ہم یہ کیسے مان لیں کہ کرپشن کا مقابلہ کرنے کے لئے جس تکنیک کا وعدہ وزیر اعظم نریندر مودی نے کیا اس کے بارے میں دیش کو کچھ نہ بتایا جائے اور کرپشن کم ہوجائے؟ بھارتیہ جنتا پارٹی کے حمایتی اور ورکر جب ملتے ہیں تو مجھے ان کی تشویشات دیکھ کر کانگریس سرکار کے وقت کے کانگریس کے فکر مند ورکروں کی یاد آجاتی ہے۔ سرکار کو کوئی فکر نہیں ہوتی تھی دعوے ہوتے تھے ، وعدے ہوتے تھے لیکن ورکر جانتا تھا گڑ بڑ ہورہی ہے۔ اس طرح آج بھی وعدے ہورہے ہیں۔
باہر وزیر یہ کہتا دکھائی دے رہا ہے کہ ہمیں وقت تو دیجئے ہم اچھے دن لاکر دکھائیں گے کیا اچھے دنوں کی تشریح بدل جائے گی؟ جس طرح غریبی کی تشریح یوپی اے II- سرکار کے وقت میں پلاننگ کمیشن نے پیش کی تھی؟ کیا اب اچھے دن کا مطلب ہم یہ مان لیں کہ جو دن چل رہے ہیں جنہیں پہلے ہم برے دن کہتے تھے، وہ اب بھی ہیں اور اس کی تشریح بھی اچھے دن تسلیم کرلیں؟ برائی اچھائی میں تبدیل ہوجائے گی؟ حال ہی میں ختم ہوئے لوک سبھا چناؤ میں کانگریس کی ایسی دردشا ہوئی کہ وہ 44 سیٹوں پر سمٹ گئی۔ ان کے پاس لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر بننے تک کیلئے بھی ضروری تعداد نہیں ہے لیکن بھاری اکثریت سے کامیاب بھاجپا کا گراف گرنا چونکانے والی بات ہے بلکہ اس کے لئے شرمناک بھی ہے۔ 
بھاجپا مانے یا نہ مانے اس کے لئے یہ پہلا جھٹکا ہے وہ اس سے سبق لے گی یا پھر اور جھٹکے کھائے گی؟ یہ اس سال کے آخر میں آنے والے اسمبلی چناؤ سے صاف ہوجائے گا۔ ہریانہ اور مہاراشٹر میں تو بھاجپا کے پاس وزیر اعلی کے طور پر پیش کرنے کیلئے کوئی لیڈر نظر نہیں آرہا ہے۔ بھاجپا میں گوپی ناتھ منڈے کے دیہانت کے بعد خلا پیدا ہوگیا ہے۔ وہاں نتن گڈکری ہی بڑے نیتا ہوسکتے ہیں لیکن مہاراشٹر میں جب تک پارٹی کا شیو سینا کے ساتھ اتحاد ہے بھاجپا دوسرے نمبر پر ہی رہے گی۔ 
بھاجپا میں اتنی مضبوطی نہیں ہے کہ وہ اپنے بوتے پر اکثریت لا کر دکھاسکے۔ ہریانہ میں اوم پرکاش چوٹالہ بھاجپا کے اتحادی ہوسکتے ہیں لیکن پارٹی ان سے پرہیز کررہی ہے۔ اترپردیش ، بہار میں بھی بھاجپا کی حالت ڈانواڈول ہے۔ ساتویں آسمان پر پہنچی بھاجپا دو مہینے کے بعد ہی دہلی میں ہمت ہار رہی ہے۔ اسے جیت کا بھروسہ نہیں ہے اس لئے دہلی میں اسمبلی چناؤ سے ڈر رہی ہے۔
امت شاہ کے قومی صدر بننے سے پارٹی میں بہت امیدیں تھیں جو اب تھوڑی کمزور پڑ رہی ہیں۔ امت شاہ اپنے پہلے امتحان میں ہی فیل ہوگئے۔ بھاجپا کا گراف اسی طرح گرتا رہا تو اس سال کے آخر میں ہونے والے اسمبلی چناؤ میں نتیجے چونکانے والے ہوسکتے ہیں۔اب بتائے اچھے دن کب آئیں گے؟
(انل نریندر)

27 جولائی 2014

میڈیکل نظام میں چل رہے گورکھ دھندے پر ہرش وردھن نے اٹھائی آواز!

مرکزی وزیر صحت ڈاکٹرہرش وردھن مبارکباد کے مستحق ہیں کیونکہ انہوں نے ایسے مسئلے پر ہاتھ ڈالا ہے جس کا سیدھا تعلق راجدھانی کے عام آدمی سے جڑا ہے۔ یہ اس لئے بھی قابل تعریف ہے کہ ڈاکٹرصاحت نے خود ڈاکٹر ہوتے ہوئے اس مسئلے کو اٹھایا ہے۔ معاملہ ہے ڈاکٹروں اور پیتھولوجی مراکز کی ملی بھگت کا۔ پیتھولوجی لیب کا مطلب ہے خون اور دیگر ٹیسٹ کرنے والی جانچ ایجنسی۔ یہ ملی بھگت اتنی گہری ہوچکی ہے کہ مریضوں کو چھوڑیئے خود جو سمجھدار ڈاکٹر ہیں وہ بھی اس ملی بھگت سے پریشان ہوچکے ہیں۔ چونکہ ڈاکٹر ہرش وردھن دہلی کے جانے مانے ڈاکٹر ہیں جو ہزاروں مریض دیکھتے ہیں تو انہیں جانکاری ہے اس گورکھ دھندے کی۔ مریض ڈاکٹر کے پاس اپنی بیماری لے کر جاتا ہے تو ڈاکٹر طرح طرح کی جانچ کرانے کوکہہ دیتا ہے۔ کئی بار یہ ضروری ہوتی ہیں لیکن زیادہ تر ان کی ضرورت نہیں ہوتی۔ پیتھ لیب جو بل بنتا ہے جو عام طور پر موٹا ہوتا ہے اس میں سے پہلے سے ڈاکٹر کی کمیشن اسے پہنچا دی جاتی ہے۔ ڈاکٹر ہرش وردھن نے یہ معاملہ لوک سبھا میں بھی اٹھایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیمار لوگوں کی غیر ضروری جانچ لکھی جاتی ہے تاکہ جانچ سینٹر کا بزنس بڑھے اور وہ بل میں سے ڈاکٹر کو کمیشن دے سکے۔ وزیر صحت نے کہا کہ اس گورکھ دھندے کی وجہ ڈاکٹر اور پیتھ لیب دونوں غیر ضروری منافع کما رہے ہیں۔زیادہ وقت نہیں گزرا جب خبر آئی تھی کہ دہلی میں واقع آل انڈیا میڈیکل انسٹیٹیوٹ( ایمس) کے کچھ امراض قلب کے ماہرین نے سوسائٹی فارلیس انویسٹی گیشن میڈیسن(سلم) نام سے پہل شروع کی ہے جس کا مقصد بہت زیادہ جانچ کرانے کی بڑے پیمانے پر پھیلی برائی کا مقابلہ کرنا ہے۔ اس پہل سے جوڑے ڈاکٹروں نے کہا کہ وہ جانچ سے متعلق ایسے رہنما اصول اور طریق�ۂ کار طے کررہے ہیں جس میں اس کا بیورا ہوگا کہ کن حالات میں کس قسم کی جانچ ضروری ہے۔ ڈاکٹروں اور ہسپتالوں میں بھی ملی بھگت چل رہی ہے۔ بڑے بڑے ہسپتال ڈاکٹروں کو باقاعدہ سالانہ پیکیج دیتے ہیں جو لاکھوں میں ہوتا ہے۔ اس کے عوض میں ڈاکٹروں کو سالانہ طے شدہ مریض اور بزنس دینا ہوتا ہے۔ ضرورت نہ ہونے پر بھی ڈاکٹر اپنے لالچ کو پورا کرنے کے لئے کبھی کبھی جبراً مریض کو ہسپتال میں بھرتی ہونے کوکہہ دیتے ہیں۔ ایک بار مریض ہسپتال پہنچ گیا سمجھو اس کا تو بینڈ بج گیا۔ پہنچتے ہی سب سے پہلا کام ہسپتال یہ کرتے ہیں کہ مریضوں کو روپئے جمع کرنے کو کہتے ہیں۔ اس کا علاج ہی تب ہوتا ہے جب وہ ڈپازٹ دے دیتا ہے۔دہلی کے نجی ہسپتالوں میں علاج اتنا مہنگا ہوگیا ہے کہ غریب آدمی تو چھوڑیئے مڈل کلاس کے لوگ بھی یہاں علاج نہیں کراسکتے۔ یہ بھی پتہ چلا ہے کہ ڈاکٹروں اور کیمسٹوں میں بھی سانٹھ گانٹھ ہوتی ہے۔ ڈاکٹر مریض کو خاص کیمسٹ کے پاس بھیجتے ہیں جو مہینے بعدڈاکٹر کو کمیشن بھجوادیتے ہیں۔ ڈاکٹروں کی فیس اتنی بڑھ گئی ہے کہ غریب آدمی کا تو پسینہ چھوٹ جاتا ہے۔ اس لئے انہیں جھولا چھاپ ڈاکٹروں کی خدمت لینا پڑتی ہے۔ ڈاکٹر ہرش وردھن نے کہا کہ سرکار ایسی نگرانی کا انتظام کرنے پر غور کررہی ہے جس میں پیتھولوجی لیب ڈاکٹروں نے ملی بھگت اور جانچ کی شرح طے کرنے میں ان کے ذریعے گٹ بنا کر کام کرنے کی کوشش پر روک لگائی جاسکے۔ سلم سے جڑے ڈاکٹروں نے کہا تھا کہ اشتہارات کی طاقت کے ذریعے سالانہ پوری جانچ کرانے جیسی غیر ضروری باتیں لوگوں کے دماغ میں بٹھائی گئی ہیں جبکہ تحقیق سے نتیجہ نکلا ہے کہ ا سے بیماریوں کو روکنے میں کم ہی مدد ملے گی۔ ایک اور بڑی شکایت پرائیویٹ کلینکوں میں ڈاکٹروں کیلئے کم از کم کمائی کی شرط طے کرنا ہے۔ جس کی وجہ سے ڈاکٹر غیر ضروری جانچ لکھتے ہیں اور مریضوں کو ضرورت سے زیادہ وقت تک ہسپتالوں میں بھرتی رکھتے ہیں۔ اگر مریض ہسپتال سے پورا بیورا مانگے تو ہسپتال منع کردیتے ہیں۔ حال ہی میں ایک ایسا کیس سامنے آیا ہے خفیہ ایجنسی را کی سابق افسر نشا پریہ بھاٹیہ نے انسٹی ٹیوٹ آف بیہیویئر اینڈ ایلائڈ سائنسز سے اپنے میڈیکل ریکارڈ کی مانگ کی تھی، جہاں وہ دہلی ہائی کورٹ کے حکم پر بھرتی ہوئی تھیں۔ ہسپتال نے یہ ریکارڈ دینے سے منع کردیا اور کہا کہ آر ٹی آئی ایکٹ کی دفعہ8(1) (s) کا حوالہ دیا۔اس دفعہ کے تحت کوئی بھی ایسی جانکاری اپنے پاس رکھ سکتا ہے جس میں جانچ میں رکاوٹ پیدا ہو۔ اس دلیل کو خارج کرتے ہوئے انفارمیشن کمشنر شری دھر آچاریہ نے کہا کہ مریضوں کوآئین کی دفعہ 19 اور21 کے تحت اپنا میڈیکل ریکارڈ حاصل کرنے کا حق ہے اور مدعا علیہ کا یہ فرض ہے کہ وہ اسے مہیا کرائے۔ انہوں نے کہا کہ انفارمیشن کمیشن سرکاری اور نجی ہسپتالوں کے خلاف مریضوں کو جانکاری حاصل کرنے کو لیکر اس حق کو بحال کرسکتا ہے۔ہسپتالوں کا یہ فرض ہے کہ وہ جانکاری کا حق قانون 2005، صارفین تحفظ قانون 1996، میڈیکل کونسل ایکٹ 1956 اورعالمی صحتی اصولوں کے تحت جانکاری مہیا کرائے۔ یہ اچھی بات ہے کہ ڈاکٹر ہرش وردھن نے ان ہسپتالوں کے تئیں بیداری دکھائی ہے اور ہم امید کرتے ہیں کہ وہ صحت کے میدان میں آئی برائیوں کو سنجیدگی سے دور کرنے کی کوشش کریں گے۔ غریب آدمی کو سستا اور صحیح علاج ملے یہ مودی سرکار کی اولیت میں سے ایک ہونا چاہئے۔
(انل نریندر)