25 جنوری 2020

سائیں بابا کے جنم استھان کو لے کر اب کھڑاہوا تنازعہ

مہاراشٹر سرکار کے ذریعہ پاتھری کو تیرتھ استھل کی شکل میں ڈیولپ کرنے کے فیصلے پر جمعہ کو کہرام مچ گیا شرڑی کے سائیں بابا کے نام پر ایک بار پھر تنازعہ کھڑا ہو گیا ہے اس بار یہ تنازعہ ان کے جنم استھان پاتھری کو لے کر ہے ۔اس کو سائیں بابا کا جنم استھان بتا کر مہاراشٹر کے ادھو ٹھاکرے کی سرکار نے اس کے وکاس کا اعلان کیا ہے ۔اس سے ناراض ان کی کرم استھلی شرڑی کے باشندوں نے دو دن شہر بند رکھا تھا حالانکہ شر سائیں بابا سنستھان نیاس کے پی آر او مہید یادو نے بتایا کہ کہ مندر بند نہیں ہوگا بھاجپا ایم پی سنجے وروے پارٹیل نے پوچھا کہ پاتھری کو سائیں بابا کا جنم استھان بتانے کے اشو نئی سرکار کے آنے کے بعد کیوں کھڑے ہوئے ہیں ؟پارٹیل نے یہ بھی کہا کہ شرڑی کے لوگ اس مسئلے پر قانونی لڑائی لڑ سکتے ہیں ۔وہیں دوسری طرف سابق وزیر اعلیٰ اشو ک چوہان نے کہا کہ جنم استھل پر تنازعہ کے سبب پاتھری میں شردھالوﺅں کو دی جانے والی سہولیات کی مخالفت نہیں ہونی چاہیے ۔سائیں بابا کی پیدائشی سرزمین کو لے کر تنازعہ اُس وقت کھڑا ہوا جب مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے نے پرمنی ضلع کے پاتھری گاﺅں کے وکاس کے لئے 100کروڑ روپئے دینے کا اعلان کیا شرڑی گرام سبھا کا کہنا ہے کہ اس سے پہلے بھی سائیں بابا اور ان کے ماتا پتا کے بارے میں بہت سے بوگس دعوے کئے جا چکے ہیں ۔اب پاتھری کو ان کی جنم استھان کا دعوی کر سائیں بابا پر ایک ذات خاص کا لیبل لگانے کی کوشش کی جارہی ہے ۔گرام سبھا کے لوگوں کا کہنا ہے کہ ان کا احتجاج پاتھوی کے وکاس کے لئے سو کروڑ روپئے دئے جانے کو لے کر نہیںبلکہ اسے سائیں بابا کی جائے پیدائش کی پہچان دینے سے ہے ۔سائیں بابا نے اپنا نام پتہ ذات ،مذہب بھی کسی کو نہیں بتایا اس لئے وہ دنیا بھر میں سرو دھرم بھائی چارگی کی علامت کی شکل میں پوجے جاتے ہیں ۔پاتھوی کے مقامی ممبر اسمبلی اور این سی پی نیتا درانی عبداللہ خان کا کہنا ہے کہ ہمارے پاس پختہ ثبوت ہیں کہ سائیں بابا کا جنم پاتھری میں ہوا تھا ۔صدر جمہوریہ رامناتھ کووند بھی پہلے اس دلیل کی حمایت کر چکے ہیں لوگ اس لئے مخالفت کر رہے ہیں کیونکہ انہیں ڈر ہے کہ اگر مہاراشٹر کے اس شہر کا وکاس ہوتا ہے تو شرڑی کی اہمیت کم ہو جائے گی ۔انہوںنے الزام لگایا کہ شرڑی کے باشندے کمائی بٹنے کے ڈر سے مخالفت کررہے ہیں ۔بتا دیں کہ 1854میں پہلی بار شرڑی آئے سائیں اس وقت سائیں کی عمر 16برس کی تھی اور 1918میں ہی شرڑی میں سائیں بابا نے سمادھی لی تھی ۔امید کی جانی چاہیے کہ اس تنازعہ کو جلد دور کر لیا جائے گا۔کروڑوں عوام کے عقیدت کے حامل ہیں ۔شرڑی کے سائیں بابا۔

(انل نریندر)

پرشانت کشور سے ملی امت شاہ کو چنوتی

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کے اس بیان سے کے شہریت ترمیم قانون کسی بھی صورت میں واپس نہیں ہوگا جس کو اس کی مخالفت کرنی ہے کرئے یہ تو صاف ہو گیا ہے کہ سرکار کسی حالت میں اپنے قدم پیچھے واپس نہیں لے گی ۔یہ سخت چنوتی ان لوگوں کے لئے ہے جو دیش بھر میں اس کی کھل کر مخالفت کر رہے ہیں ۔اپوزیشن پارٹیوں کی مانگ ہے کہ سرکار شہریت ترمیم قانون واپس لے لیکن سرکار اپنے فیصلے پر اٹل ہے اور تمام مخالف مظاہروں کے باوجود اس نے گزٹ میں قانون کو شامل کر لیا ہے اس طرح آئینی طور سے شہریت قانون عمل میں آگیا ہے ۔بہار میں جنتا دل یو بھاجپا کی اتحادی سے لے کر سرکار چلانے والی پارٹی کے نیتا و منو وادی حکمت عملی ساز پرشانت کشور نے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کے بیان جسے مخالفت کرنی ہے کرئے سی اے اے واپس نہیں ہوگا پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر شاہ شہریت قانون اور قومی شہریت رجسٹر (این آر سی )کی مخالفت کرنے والوں کی پرواہ نہیں کرتے تو میں انہیں چنوتی دیتا ہوں کہ اپنے وعدے کے مطابق اس قانون کو لاگو کیوں نہیں کرتے ؟کیوں آگے بڑھ کر سی اے اے این آر سی کو اسی سلسلہ میں لاگو کر دیتے ہیں ۔شاہ تو پارلیمنٹ میں سی اے اے اور این آر سی لاگو کرنے کا اعلان کر چکے ہیں ۔غور طلب ہے کہ شاہ نے اترپردیش کی راجدھانی لکھنﺅ کے کتھا پارک میں سی اے اے کی حمایت میں ایک بڑی ریلی میں چلینج دیا تھا کہ میں اس قانون کو واپس لینے والا نہیں ہوں پرشانت کشور سی اے اے وی لے کر سی اے اے اور این آر سی کی مسلسل مخالفت کر رہے ہیں ۔پرشانت کشور نے آگے کہا کہ شہریوں کی نا رضا مندی کو مسترد کرنا کسی بھی سرکار کی طاقت کا اشارہ نہیں ہو سکتا ۔امت شاہ اگر آپ کو سی اے اے کی مخالفت کرنے والوں کی فکر نہیں ہے تو آپ ان قوانین کو آگے کیوں نہیں بڑھا رہے ہیں ؟آپ قانون کو اسی طرح نافذ کریں جیسے آپ نے دیش کو اسکی کرونو لوجی سمجھائی تھی وہیں مغربی بنگالی کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے بدھوار کو مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے سی اے اے کے دفعات پر وضاحت طلب کی تھی انہوںنے مرکزی سرکار پر اس اشو کو لے کر جھوٹ پھیلانے کا بھی الزام لگایا تھا ۔دارجلنگ میں سی اے اے کے خلاف چار کلو میٹر لمبے احتجاجی مارچ و ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ممتا نے کہا تھا کہ مرکزی سرکار صرف غیر بھاجپا ریاستوں میں سی اے اے کو آگے بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے ۔انہوںنے دعوی کیا کہ سرکار کے وزیر داخلہ ہر دن نئے اپدیش دے رہے ہیں ۔میں ان سے یہ صاف کرنے کے لے کہنا چاہوں گی کیا کسی شخص کو پہلے غیر ملکی قرار دیا جائے گا ۔اور اس کے بعد اسے سی اے اے کے تحت شہریت کے لئے درخواست دینے کی اجازت ہوگی ؟

(انل نریندر)

24 جنوری 2020

شاہین باغ کی تحریک سے متاثر عوام

شہریت ترمیم قانون سی اے اے و این آر سی کے خلاف احتجاج کو سوا مہینے سے زیادہ دہلی ،نوئیڈا شاہراہ پر شاہین باغ میں چل رہے دھرنے کے سبب پڑوسی کالونیوں کے باشندوں کا غصہ ساتویں آسمان پر ہے لاکھوں لوگوں کو آنے جانے میں پریشانی ہو رہی ہے ۔یہ راستہ بند ہونے کے سبب ڈی این ڈی ،متھراروڈ،رنگ روڈ،آوٹر رنگ روڈ و بارا پولہ پر جم کر جام لگ رہا ہے ۔وہیں مدن پور کھادر گاﺅں جیت پور و سریتا وہار وغیرہ علاقوں میں لوگوں زبردست پریشانی ہو رہی ہے حالت یہ ہے کہ لوگوں کو مدن پور کھادر کی پلیا و یہاں پر ڈھہ چکے لوہیا پل پر بنے ٹوٹے پوٹے گڈھوں سے ہو کر آنا جانا پڑ رہا ہے ۔12جنوری کو مدن پور کھادر،علی گاﺅں ،پرینکا کیمپ ،موڑ بند ،سریتا وہار،اور آس پاس کی درجنوں جے جے کالونیوں کے لوگ بھی سڑکوں پر اتر کر مظاہرے کو مجبور ہو گئے ہیں اس دوران پولیس نے ان لوگوں کو یہ کہہ کر خاموش کرایا تھا کہ راستہ جلدی کھلوایا جائے گا لیکن اب تک ایسا نہیں ہو پایا کالونیوں کے بچوں کے بورڈ کے امتحان 10فروری سے شروع ہو رہے ہیں۔باقی بچے بھی وقت سے اسکول نہیں پہنچ رہے ہیں جے جے کالونیوں میں مقیم مزدور طبقے کے لوگ جو نوئیڈا فریدا باد جاتے ہیں وہ روز مزدوری پر دیر سے جاتے ہیں ٹھیکیدار انہیں واپس لوٹا دیتا ہے خبر ہے کہ شہریت ترمیم قانون اور این آر سی کے خلاف مظاہرین نے ہٹنا تو دور رہا لڑائی تیز کرنے کا عہد کر لیا ہے ۔مظاہرین نے 29جنوری کو بھارت بند کی اپیل کی ہے ۔شاہین باغ میں مظاہرہ کر رہے لوگوں کا کہنا ہے کہ سرکار اگر کوئی اپنا نمائندہ نہیں بھیجتی تو احتجاج جاری رہے گا اس درمیان دہلی کے ایل جی انل بیجل نے منگل کے رو ز شاہین باغ کے نمائندوں سے ملاقات کی اور مظاہرہ ختم کرنے کی اپیل کی شاہین باغ کے نمائندہ وفد نے ایل جی سے سی اے اے ختم کرنے کی مانگ کی ۔ایل جی نے ان کی بات کو موزوں جگہ پہنچانے کا یقین دلایا ۔ایل جی نے مظاہرین سے اپیل کی کہ وہ علاقہ میں امن و قانون بنانے میں تعاون دیں ۔پچھلے 40دنوں سے راستہ بند ہے اس لئے اسکولی بچوں مریضوں یومیہ وزراءاور مقامی باشندوں کو پریشانی ہو رہی ہے ۔لوگوں کی پریشانی کو دیکھتے ہوئے تحریک ختم دیں ۔اس تحریک سے متاثر ہوئے لوگوں نے کہا کہ وہ 22جنوری کو سپریم کورٹ کے فیصلے کا انتظار کریں گے اس کے بعد وہ اگلے دن وہ پولس مظاہرین کو ہٹانے کا انتظار کریں گے اس کے بعد نوئیڈا فریدآباد اور دہلی کی پچاس آر ڈبلیو اے کے لوگ راستہ کھلوانے کے لئے خود سڑکوں پر اتریں گے اُدھر شاہین باغ میں مظاہرے پر بیٹھی عورتوں کو سی اے اے کے بارے میں صحیح جانکاری نہیں ہے ۔وہ تو بس اس ڈر سے پہنچ رہی ہیں کیونکہ انہیں بتایا گیا ہے کہ اس قانون سے انہیں دیش سے نکال دیا جائےگا افسوس کی بات تو یہ ہے کہ سرکار کی طرف سے کوئی ذمہ دار شخص شاہین باغ نہیں گیا جو صحیح پوزیشن سمجھا سکے ۔

(انل نریندر)

قرض چکانے کےلئے پاکستان پی او کے کا حصہ چین کو دے گا

ایک غیر ملکی انگریزی اخبار دی یورپین ٹائمس کی ہندوستان کے لئے باعث تشویش رپورٹ آئی ہے اس کے مطابق چین کے شن زیانگ صبح کو گوادر بندرگاہ سے جوڑنے والے چین پاکستان اکنامک کوریڈور پروجکٹ کے قرض کا بوجھ پاکستانی معیشت کے لے بھاری ثابت ہونے لگا ہے ۔ماہرین پہلے ہی سی پی ای سی پروجکٹ کو پاکستان کے لئے قرض کے اندھے دھویں کی طرح تشبیہ دے چکے ہیں اس پروجکٹ کی تعمیر کی ساری ذمہ داری چینی کمپنیوں کو دے دی گئی ہے ۔جو چینی ٹرینگ مزدوروں کو ہی لا کر کام کروا رہی ہے اور تعمیر کا سامان بھی چین سے ہی آرہا ہے ۔جس کا بوجھ بھی پاکستانی معیشت کو اُٹھانا پڑ رہا ہے ۔دوسرے الفاظ میں کہا جائے تو اس پروجکٹ کے چلتے پاکستان میں مقامی سطح پر نہ کے برابر روزگار پیدا ہوئے ہیں اور نہ کے برابر ہی وہاں کی معیشت کو سامان خریدنے بیچنے کی رفتار ملی ہے ۔ماہرین نے اندیشہ ظاہر کیا ہے کہ اپنی مسلسل گرتی معیشت سے لڑ رہے پاکستان اس قرض کو اتارنے کے لے اپنے قبضے والے کشمیر (پی او کے )کا کچھ حصہ چین کو سونپ سکتا ہے ۔اخبار کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کی طرف سے یہ قدم اُٹھائے جانے پر چین کو بھارت کی طرف سے سخت مقابلہ کئے جانے کا ڈر ہے ۔جو پہلے ہی سی پی ای سی کو پی او کے کے گلگت بلدستان خطہ سے گزرنے کو اپنے ملک کی سرداری کی خلاف ورزی بتاتے ہوئے احتجاج ظاہر کر چکا ہے ۔بھارت کا دعوی ہے کہ یہ علاقہ ان کے متحد جموں و کشمیر ریاست کا حصہ ہے قریب 60ارب ڈالر کے سی پی ای سی پروجکٹ کے لے پاکستان دسمبر 2019تک چین سے قریب 21.7ارب ڈالر کا قرض لے چکا تھا ۔ان میں سے 15ارب ڈالر کا قرض چین کی سرکار نے اور باقی 6.7ارب ڈالر کا قرض وہاں کے مالیاتی اداروں سے لیا گیا تھا ۔پاکستان کے سامنے اس قرض کو واپس لوٹانا اب بڑا مسئلہ بن گیا ہے ۔چونکہ معیشت کی پوری طرح سے تباہ ہو جانے سے اس کے پاس محض 11.5ارب ڈالر کی ہی غیر ملکی کرنسی کا ذخیرہ ہے ۔بھارت پورے پی او کے کو اپنا حصہ مانتا ہے ا ور یہ بات بھارت کی پارلیمنٹ میں بھی منظور ہو چکی ہے ۔اب سوال یہ اُٹھتا ہے کہ اگر پاکستان نے چین کو پی او کے کا کچھ حصہ قرض چکانے کے لئے دے دیا تو بھارت کے پاس کیا متبادل بچے گا؟

(انل نریندر) 

23 جنوری 2020

دیش میں 1930کی جرمنی میں ہٹلر جیسے حالات

شہریت ترمیم قانون کے خلاف جمعہ کو پنجاب دوسری ریاست بن گئی ہے جس نے اپنے اسمبلی میں اس قانون کو منسوخ کرنے کے لئے اسمبلی میں پرستاﺅ پاس کیا ہے ۔اس سے پہلے کیرل پہلی ریاست تھی اور کانگریس حکمراں ریاستوں میں پنجاب پہلی ریاست بن گئی ہے ۔اسمبلی میں اس قانون کو منسوخ کرنے کے لے ایک با قاعدہ پرستاﺅ پیش کیا گیا ۔حکمراں کانگریس اور بڑی اپوزیشن جماعت عام آدمی پارٹی نے پرستاﺅ کی حمایت کی جبکہ بھاجپا نے اس کی مخالفت کی شرمنی اکالی دل نے قانون کے تحت شہریت دینے کے لے فرقوں کی فہرست میں مسلمانوں کو بھی شامل کرنے کی مانگ کی تھی پرستاﺅ پر شروع بحث میں حصہ لیتے ہوئے وزیر اعلیٰ کیپٹن امریندر سنگھ نے کہا کہ ترمیم شدہ شہریت قانون دیش کے سیکولر ڈھانچے کے خلاف ہے ۔انہوںنے دعوی کیا کہ 1930کی دہائی میں جرمنی کے تانا شاہ اڈالف ہٹلر نے جو جرمنی میں کیا تھا ویسی ہی کارروائی اب ہمارے دیش میں ہو رہی ہے انہوںنے کہا کہ قانون کو تباہ کن اور امتیاز برتنے والا ہے ۔یہ ان کے لئے افسوسناک ہے کہ جو دیش میں واقعات ہو رہے ہیں وہ ان کی زندگی میں ہو رہے ہیں آپ اس دیش کے سیکولر ڈھانچے کو بدلنا چاہتے ہیں اور یہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ بہت تکلیف دہ ہے ہم نے بھی ایسا کبھی نہیں سوچا تھا کہ ہم صرف سیاست کے لے ملک میں بھائی چارے کو ختم کرنا چاہتے ہیں صاف ہے کہ تاریخ سے ہم نے کچھ نہیں سیکھا ۔اسمبلی میں پاس پرستاﺅ میں مرکزی سرکار سے قومی مردم شماری رجسٹر کا کام تب تک روکنے کی درخواست کی گئی ہے جب تک اس سے جڑے کاغذوں یا دستاویزات میں مناسب ترمیم نہیں کی جاتی تاکہ اس اندیشے کو دور کیا جا سکے ۔کہ یہ قومی شہریت رجسٹریشن کا پہلا مرحلہ ہے اور بھارت کی شہریت سے ایک طبقے کو محروم کرنے اور ترمیم شدہ شہریت قانون نافذ کرنے کے لے بنایا گیا ہے ۔وزیر اعلیٰ نے جذباتی لہجے میں کہا کہ غریب کہاں جائیں گے اور کہاں سے اپنی پیدائشی ثبوت لائیں گے یہ ایک بڑی ٹریجڈی ہے اور بڑے دکھ کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ میری زندگی میں .........کاش میں یہاں نہیں ہوتا جب یہ سب میرے دیش میں ہو رہا ہے......سیاست کے لے جب بھائی چارے کو ختم کیا جا رہا ہے ۔ایسی حالات میں ہم کہاں جا رہے ہیں ۔انہوںنے دعوی کیا کہ 1930کی دہائی میں ہٹلر کے جرمنی میں ذاتوں کے صفائے کے لئے جو کیا گیا تھا اب وہی واقعات بھارت میں ہو رہے ہیں ۔

(انل نریندر)

سی اے اے نافذ نہ کرنے پر کچھ ریاستیں اڑیل

آزادی کے بعد کئی بار ایسے موقع آئے ہیں جب مرکز کو کسی قانون کو لے کر سڑک سے پارلیمنٹ تک سوال کھڑے گئے ہیں لیکن شاید یہ پہلی بار ہے کہ پارلیمنٹ کے ذریعہ پاس نئے شہریت ترمیم قانون (سی اے اے )کے خلاف اپوزیشن حکمراں ریاستوں کا عوام کا ایک حصہ احتجاج میں کھڑا ہو گیا ہے ۔لیفٹ فرنٹ کی قیادت والی کیرل اسمبلی اور کانگریس کی بالا دستی والی پنجاب اسمبلی میں اس کے خلاف با قاعدہ پرستاﺅ پاس ہو چکے ہیں ۔معاملے کو آگے بڑھاتے ہوئے کانگریس کے سینر لیڈر احمد پٹیل نے کہا کہ ان کی پارٹی راجستھان ،مدھیہ پردیش ،اور چھتیس گڑھ میں اپنی پارٹی کی حکمراں ریاستوں میں سی اے اے کے خلاف تجویز لانے پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے ۔حالانکہ کانگریس کے ہی سینئر لیڈر کپل سبل نے کہا تھا کہ پارلیمنٹ سے پاس ہو چکے سی اے اے کو نافذ کرنے سے کوئی ریاست انکار نہیں کر سکتی ۔اور ایسا کرنا غیر آئینی ہوگا ۔سبل کا یہ بیان کافی اہم ہے کیونکہ ان کی پارٹی اس مسئلے پر اپوزیشن کو متحد کر کے سرکار پر دباﺅ بنانے میں لگی ہے ۔سینئر وکیل اور کانگریس نیتا نے دلیل پیش کی کہ جب ریاستیں یہ کہتی ہیں کہ وہ سی اے اے نافذ نہیں کریں گی تو ان کا کیا فرض ہوتا ہے اور وہ ایسا کیسے کریں گی کئی اور ماہرین بھی کہہ رہے ہیں کہ مرکز کے قانون کے خلاف کسی اسمبلی کے ذریعہ پرستاﺅ پاس کرنا ایک غلط روایت کی شروعا ت ہے کیرل نے تو سے اے اے کے آئینی جواز کو بھی چیلنج کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے دروازے پر دستک دی ہے ۔کانگریس سمیت دیگر اپوزیشن پارٹی کا ماننا ہے کہ یہ قانون آئین کی بنیادی روح کے خلاف ہے یعنی برابری مذہبی آزادی اور سیکولرزم کے بنیادی ڈھانچے کی خلاف ورزی کرتا ہے حالانکہ آئین کے بنیادی ڈھانچے کا کہیں بھی تذکرہ نہیں ہے لوگوں کو بنیادی حقوق کی حفاظت کے لئے سپریم کورٹ کے ذریعہ وقتا فوقتا آئین کے تقاضوں کا جائزہ اور تشریح کرنے کے دوران بنیادی ڈھانچے کی خلاف ورزی کا فروغ ہوا ہے 1973میں کیشو آنند بھارتی بنام کیرل سرکار معاملے میں سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ پارلیمنٹ کو آئین کے کسی بھی تقاضے کو ترمیم کرنے کا حق ہے لیکن وہ آئین کے بنیادی ڈھانچے میں کسی طرح کی چھیڑ چھاڑ نہیں کر سکتا ۔حالانکہ سپریم کورٹ نے آئین کے بنیادی ڈھانچے کی واضح تشریح نہیں کی لیکن دانشوروں اور جج صاحبان نے جمہوریت بنیادی حقوق آئین کی بالا دستی وغیرہ کو آئین کے بنیادی ڈھانچے کی شکل میں تسلیم کیا ہے اسمبلی کے ذریعہ سی اے اے کے خلاف پاس پرستاﺅ کو مناسب ٹھہرانے والوں کا کہنا ہے کہ شہریت ترمیم قانون میں آئین کی سہولت کے بر خلاف جاتے ہوئے فوری طور پر شہریت کے لئے کچھ خاص طبقوں کی نشاندہی کی گئی ہے ۔اور ایک مذہبی فرقہ کو چھوڑ دیا گیا ہے ۔اب سب کی آنکھیں سپریم کورٹ پر لگی ہیں جو اس قانون کے بارے میں فیصلہ کرئے گی کہ یہ قانون آئین پر مبنی ہے یا نہیں ؟

(انل نریندر)

22 جنوری 2020

روس کا دی جنوری ریولیوشن

روس کی اندرونی سیاست میں کیا کچھ رونما ہو رہا ہے ،عام طور پر اس کی کم ہی خبر سننے کو ملتی ہے ۔پچھلے ہفتے ایک چونکانے والی خبر آئی کہ روس کے صدر ولای میر پوتن نے دیش میں وسیع آئینی اصلاحات کی تجویز رکھنے کے بعد روس کے وزیر اعظم دمتر میدوف اور ان کی پوری کیبنٹ نے استعفی دے دیا ہے ۔وزیر اعظم نے کہا کہ صدر پوتن کی ان تجاویز میں اقتدار میں توازن میں کافی اہم تبدیلی آئیں گی اور یہ تبدیلیاں جب نافذ ہوں گی تو نہ صرف آئین کے سبھی آرٹیکل بدل جائیں بلکہ اقتدار توازن اور انتظام میں بھی تبدیلی آئے گی ۔ایگزیکٹو طاقت اور آئین سازیہ کی طاقت ،عدلیہ کی طاقت سب میں تبدیلی ہوگی اس لئے موجودہ حکومت نے استعفی دے دیا ہے صدر پوتن نے آئین میں تبدیلی کی جو تجاویز رکھی ہیں ان کے لئے دیش بھر میں ووٹ ڈالے جائیں گے اس کے ذریعہ اقتدار کی طاقت پارلیمنٹ کے پاس زیادہ ہوگی پوتن وزیر اعظم کا عہدہ چھوڑ رہے دیمتری میدوف کو قومی سیکورٹی کونسل کا ڈپٹی چیر مین بنانے کا فیصلہ کیا ہے ۔روس میں صدر پوتن نے اپنی پکڑ مضبوط سیاسی پکڑ ثابت کرتے ہوئے وزیر اعظم کے عہدے کے لے میخائل کا نام تجویز کیا ہے اور چند منٹ بعد ہی پارٹی نے ان کے نام پر اتفاق رائے سے مہر لگا دی ۔پارلیمنٹ میں اپنے پہلے خطاب میں میخائل مگسکن نے کہا کہ ہمیں ایسے کام کرنے ہیں جس سے جنتا اپنی زندگی میں بہتری محسوس کرئے پوتن کی خواہش پر وزیر اعظم میذوف نے کیبنٹ سے استعفی دیا تھا ۔روسی پارلیمنٹ کے نچلے ایوان ڈومہ میں اب وزیر اعظم کے طور پر میکس ٹن کے نام کو منظوری کے لے ووٹنگ ہوگی ۔پوتن کی یونایٹیڈ رشیا پارٹی کو ڈوما میں اکثریت حاصل ہے اسی لئے منظوری میں کوئی مشکل نہیں ہوگی ۔مکسٹن روس میں ریونیو افسر تھے جب انہوںنے غیر متوقعہ طریقہ سے دیش میں ریفرنڈم کرایا تو وہ سرخیوں میں آئے اور انہیں لوگوں کی تعریف ملی جس سے وہ پوتن کی نظروں میں آگئے پوتن نے مکسٹن کو علاقائی لحاظ سے دنیا کے سب سے بڑے دیش کا وزیر اعظم بنا دیا نکتہ چینی نگاروں کے مطابق خفیہ افسر رہ چکے پوتن صدر کا عہدہ چھوڑنے کے بعد بھی اقتدار پر اپنی پکڑ مضبوط بنائے رکھنا چاہتے ہیں اسی لئے انہوںنے میدوف کی جگہ سیاسی طور پر کمزور مکسٹن کو وزیر اعظم بنایا ہے ۔آئین میں تبدیلی کر پوتن 2024میں صدارت کی معیاد پوری ہونی کے بعد اقتدار میں رہنے کے لے اہم ترین رول کا انتظام کر سکتے ہیں ۔پوتن روس کے اقتدار پر پچھلے بیس سال سے قابض ہیں اپوزیشن کے لیڈر لیونند والکوف نے کہا کہ پوتن زندگی بھراقتدار پر بنے رہنے کے لے سب کچھ کرنے کے لے سجایا جا رہا ہے ۔ایک انگریزی بجنس ڈیلی نے پوتن کے اس قدم کو دی جنوری ریولیوشن سے تشبیہ دی ہے جس میں انہوںنے بڑی تبدیلی کی بنیاد رکھ دی ہے اسکے تحت ابھی اور کئی کام ہونے ہیں ۔

(انل نریندر)

امت شاہ کی چھایا سے نکلنا نڈا کےلئے بڑی چنوتی!

بی جے پی کو امت شاہ کی جگہ نیا صدر مل گیا ہے ۔سابق مرکزی وزیر جگت پرکاش نڈا بھاجپا کے قومی صدر بن گئے ہیں ۔پچھلے سال جون سے وہ نگراں صدر کے رول میں تھے بی جے پی کو 11ویں صدر بنے نڈا بی جے پی کے بنیادی طور سے ہماچل پردیش سے تعلق رکھتے ہیں ۔پی ایم مودی نے ان کے انتخاب کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ نڈا جی بہت پرانے ساتھی رہے ہیں ۔اسکوٹر پر چلتے تھے اور کام کرتے تھے ان پر جتنا حق ہماچل والوں کا ہے اس سے زیادہ حق بہار والوں کا بھی ہے نڈا کی تعلیم سے لے کر سیاسی کیرئر کا آغاز سب بہار سے ہوا ب امت شاہ کی جگہ ذمہ داری مل جانے سے نڈا جی کے سامنے کئی چنوتیاں ہیں سب سے بڑی چنوتی تو یہ ہے کہ امت شاہ کی چھایا سے نکلنے کی ،انہوںنے بی جے پی کے قومی صدر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد پارٹی کو جس مقام پر پہنچایا نڈا کا موازنہ اس سے ہوگا امت شاہ کے عہد میں بی جے پی نے یوپی جیسے بڑی ریاست میں کامیابی حاصل کی جہاں مانا جا رہا ہے کہ ذات پات تجزیوں کے حساب سے بی جے پی کی راہ آسان نہیں ہے لوک سبھا چناﺅ میں بھی بی جے پی نے پھر سے دھواں دھار واپسی کی تھی پارٹی ورکروں کے درمیان امت شاہ کی امیج ایک سخت نیتا کی رہی ہے ۔نڈا نے غیر رسمی بات چیت میں پارٹی کے کئی نیتا اس بات کو بتا چکے ہیں کہ ان کا پارٹی میں ڈر رہنا چاہیے ۔کیونکہ اس سے ورکروں میں ڈسی پلین بنا رہتا ہے لیکن نڈا کی ساکھ ایک نرم گو لیڈر کی ہے ان کا عہدہ سنبھالنے کے بعد یہ موازنہ ہوگا کہ بی جے پی حکمراں کئی ریاستوں میں گروپ بندی کی خبریں عام ہیں کھل کر تو کہیں اندر خانے بی جے پی کے نیتا دوسرے پارٹی نیتاﺅں کی جڑیں کاٹنے کی فراق میں رہتے ہیں ۔نڈا اسے کتنا روک پائیں گے اور ڈسی پلین شکنی پر کتنی لگام کس پائیں گے یہ بھی نظریں لگی رہیں گی نگراں صدر کے طورپر نڈا کوئی اپنی چھاپ نہیں چھوڑ پائے ان کے عہد میں مہاراشٹر ،جھارکھنڈ،ہریانہ اسمبلی کے انتخابات ہوئے بھلے ہی سارے فیصلوں پر امت شاہ کی چھاپ تھی لیکن نڈا یہاں اپنی مضبوط موجودگی بھی درج نہیں کرا پائے نڈا کی پہلی چنوتی چناﺅ کے نکتہ نظر سے دہلی اسمبلی چناﺅ ہے ۔اسی برس بہار میں بھی چناﺅ ہونے والے ہیں اور دیش کی سب سے بڑی پارٹی اس وقت بڑی چنوتیوں سے گھری ہوئی ہے ۔سی اے اے این آر سی وغیرہ پر دیش بھر میں مظاہرے ہو رہے ہیں ۔کئی ریاستوں میں اقتدار جا چکا ہے ۔نڈا کے لئے اچھا یہ ہے کہ پارٹی کا پہیہ اور برانڈ پی ایم مودی وزیر داخلہ امت شاہ وزیر دفعہ راجناتھ سنگھ جیسے نیتاﺅں کا آشرواد ساتھ ہے ۔بی جے پی ان کے ساتھ دیش بھر میں پوری طرح سے کھڑی ہے ۔لیکن کشمیر میں آرٹیکل 370ہٹانے کے فیصلے سے ملی تقویت کے بعد سی اے اے اور این آر سی تک کی مخالفت کی آوازوں کے درمیان نڈا کو پارٹی ورکروں میں نیا جوش بھرنا ہوگا۔نڈا جی کو بی جے پی کا قومی صدر بننے پر بدھائی ۔

(انل نریندر)

21 جنوری 2020

اشونی چوپڑا (مناّ)کاجانا

 کرنال کے سابق ممبر پارلیمنٹ اور پنجاب کیسری کے سابق ایڈیٹر اشونی چوپڑا (مناّ) کا ہفتہ کے روز گرگرام کے میدنتا اسپتال میں انتقال ہوگیا۔ ایک سینئر صحافی اور دوست مینا اس دنیا سے چل بسے۔ ہمارے خاندان کی طرح ، مینا کا کنبہ بھی ملک کی تقسیم کے بعد ہندوستان میں آباد ہوگیا۔ ہمارا کنبہ دہلی چلا گیا اور مینا کے دادا لالہ جگت نارائن جالندھر میں آباد ہوگئے۔ دونوں خاندانوں نے ہندوستان میں اپنی نئی زندگی کا آغاز کیا۔ لالہ جگت نارائن بھی پنجاب میں دہشت گردی کا نشانہ بنے تھے اور ان کے بیٹے (مینا کے والد) رمیش چندر جی بھی تھے۔ دونوں خاندانوں نے زمین سے ایک نئی زندگی کا آغاز کیا۔ مینا ایک عرصے سے پھیپھڑوں کے کینسر میں مبتلا تھیں۔ اشونی نے ہفتے کی صبح 11.45 بجے آخری سانس لی۔ انہوں نے بیماری کے سبب 2019 میں مقابلہ کرنے سے انکار کردیا تھا۔ 63 سالہ اشونی چوپڑا ہندی اخبار پنجاب کیسری کی ایڈیٹر تھیں۔ وہ مینا کے نام سے بھی جانا جاتا تھا۔ بیرون ملک بھی ان کا طویل عرصہ سے علاج ہوا۔ حال ہی میں ، ہریانہ کے وزیر اعلی منوہر لال کھٹر بھی میدنٹا پہنچے تھے اور اشونی کی حالت کو جانتے تھے۔ وہ 2014 میں کرناال لوک سبھا سے بی جے پی کی سیٹ جیت کر پارلیمنٹ پہنچے تھے۔ 2019 میں ، پارٹی نے انہیں دوبارہ نشست دینا چاہا ، لیکن صحت خراب ہونے کی وجہ سے انہوں نے انکار کردیا۔ اشوانی چوپڑا ایمانداری اور دیانت کے ل people's ہمیشہ لوگوں کے دلوں میں رہیں گے۔ اشونی کی موت کی اطلاع ملتے ہی ملک کے وزیر اعظم سمیت تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین ، ??دانشوروں اور کھیلوں کے کھلاڑیوں میں سوگ کی لہر دوڑ گئی۔ اشونی مننا بھی ایک بہترین کرکٹر تھا۔ انہوں نے پنجاب کی رنجی ٹیم میں کھیلا اور شمالی زون کی ٹیم کا ممبر بھی تھا جس نے سی کے نائیڈو ٹرافی جیتا۔ دائیں ہاتھ کے بریک باو ¿لر اشونی کو جوانی کے دوران ہی ہندوستانی اسپن بالر کا ابھرتا ہوا اسٹار سمجھا جاتا تھا۔ ان کی اسپن بولنگ کی وجہ سے ہندوستان کے ٹاپ اسپنر بشن سنگھ بیدی ، وینکٹا راگھاون اور چندر شیکھر نے انہیں ہندوستان کے آئندہ ٹاپ اسپنرز میں شامل کیا تھا۔ کنبے میں اچانک سانحات نے انہیں اپنا کرکٹ کیریئر چھوڑنے اور صحافت پر چلنے پر مجبور کردیا ، لہذا اس نے یہاں بھی اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔ وہ ہندوستانی ٹیم کے سلیکشن کا دعویدار تھا لیکن اس سے پہلے ہی کرکٹ چھوڑنا پڑا۔ جب اٹلجی اقوام متحدہ سے خطاب کے لئے نیویارک گئے تھے ، تو اشونی (مینا) اور میں بھی اس ٹیم میں شامل تھے۔ ہم نے سفر کے دوران گھنٹوں بات کی۔ اس طرح اشوینی کے آخری دورے کی مقبولیت عام آدمی سے لے کر صحافی تک قائد کی مقبولیت کو ظاہر کرتی ہے۔ ہم غم زدہ کنبہ کے غم میں شامل ہیں۔ میں نے ایک ساتھی صحافی ، ایک دوست کھو دیا۔ اس کی روح کو سکون ملے۔ اوم شانتی شانتی۔

(انل نریندر)

یکم فروری کو پھانسی پر اب بھی بے یقینی برقرار

تہاڑ جیل میں بند نربھیا معاملے کے قصور واروں کی پھانسی کی اگلی تاریخ بھلے ہی یکم فروری طے کردی گئی ہو لیکن ابھی بھی یہ پکہ نہیں کہ اس دن ان کو پھانسی دی جائے گی بھی یا نہیں ؟اگر ان میں سے دو قصورواروں میں سے کسی بھی ایک قیدی نے اپنی اپیل ڈال دی تو پھانسی ٹالنے کے علاوہ کوئی اور چارہ نہیں ہوگا ۔قانون و جیل کے کام کاج کی مانیں تو جیل انتظامیہ کے لاچار رویہ کے سبب بھی معاملہ میں دیری ہوئی ہے ۔جیل کے سابق قانونی افسر سنیل گپتا کا کہنا ہے کہ جیل میں بند ان چاروں قیدیوں کو ایک ہی دن پھانسی ہونی ہے کیونکہ یہ چاروں ایک ہی معاملہ کے قصوروار ہیں اسی لئے ایک دن میں ہی ان سبھی کو پھانسی ہونا ضروری ہے ۔کہ کسی کےخلاف کوئی بھی معاملہ التوا میں نا ہو باقی تین کے معاملے میں رحم کی اپیل کا متبادل کیا ہے اگر ان میں سے کسی نے بھی عرضی ڈالی تو اس میں فیصلہ آنے تک کسی کو پھانسی نہیں ہو سکتی ۔سپریم کورٹ سے فیصلہ آنے کے بعد 7دن کے اندر جیل انتظامیہ کو چاہئے تھا کہ وہ قیدیوں کو نوٹس دیتا کہ اگر ان کو کوئی قانونی متبادل استعمال کرنا ہے تو 7دن میں کر لیں لیکن یہ نہیں کیا گیا ۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ جیل انتظامیہ نے اس معاملے لاچاررویہ اپنایا تو دہلی سرکار کو اس بارے میں آگے کو آکر جیل انتظامیہ کو حکم جاری کرنا چاہئے تھا کیونکہ تہاڑ جیل وزیر اعلیٰ کیجریوال کے دائرے اختیار میں آتی ہے ۔نربھیا کے درندوں کا ڈیتھ وارنٹ باربار ٹلتا جا رہا ہے اس کی ایک بڑی وجہ قانون کے ہی کچھ تقاضے ہیں پھانسی سے بار باربچنے کی سب سے بڑی وجہ جو سامنے آئی ہے وہ پھانسی کا فیصلہ ہو جانے کے بعد اس پر طے وقت میں کاروائی نا ہونا ہے ۔نربھیا کے سمیت سینکڑوں مثالیں ہمارے سامنے موجود ہیں جس میں سزا تو ہو گئی لیکن عمل نہ ہو سکا۔نربھیا معاملے کو چلتے ہوئے سات سال سے زیادہ کا وقفہ ہو گیا ہے اور اب بھی معاملہ قانونی داو ¿ پیچ میں پھنسا ہوا ہے ۔دہلی ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ جج ایس این ڈھینگرا اور جسٹس آڑ ایم سوڈی کا کہنا ہے کہ اس کاروائی کو طے میعاد میں کرنا ہوگا تبھی وقت پر سزا ملے گی اور عدلیہ تنز کا مزاق نہیں بنے گا ایسی قانونی پیچیدگیوں کو دور کرنے کیلئے سابق ججوں نے قانون میں ترمیم کی وکالت کی جسٹس ڈھینگرا نے کہا کہ پھانسی کی سزا سنائے جانے کے بعد نظر ثانی عرضی ،کیوریٹو اور رحم کی عرضی دائر کرنے کیلئے میعاد یقینی وقت طے کرنا ہوگا ۔نربھیا کے معاملے میں یہی ہوا کہ پھانسی سنائے جانے کے بعد نا تو قصورواروں نے عرضیہ دیں اور نا جیل میں یہ کام ہوا کہ پھانسی سنائے جانے کے بعد ناقصورواروں نے عرضیہ دیں اور جیل نے ڈیتھ وارنٹ کی کاروائی شروع کر دی ڈھائی سال بعد نربھیا کی ماں کورٹ پہونچی تو پھانسی کی کاروائی شروع ہوئی اسی لئے قانون میں صاف کرنا ہوگا جیل طے وقت کے تحت پوری کاروائی نہیں کرتا تو اس پر کاروائی ہوگی ۔

(انل نریندر)

19 جنوری 2020

صدام کے بنکروں سے بچی امریکی فوجیوں کی جان

امریکہ سے جاری کشیدگی کے درمیان ایران نے ایک بار پھر امریکی فوج کو نشانہ بنایا اس نے دیر رات بغداد کے قریب ایک فوجی ائیر بیس کو نشانہ بنا کر راکٹ سے حملہ کیا عراقی فوج نے بتایا کہ اس ائیر بیس پر امریکی فوجی تعینات ہیں حالانکہ حملے میں کسی کے زخمی یا مرنے کی کوئی اطلاع نہیں مل سکی ایران کے حملے سے بچنے کے لئے امریکی فوجیوں نے مازول عراقی تانا شاہ اور مرحوم صدام حسین کے وقت میں بنے بنکروں میں چھپ کر اپنی جان بچائی تھی اب سامنے آئی تصویروں سے یہ پتہ چلا ہے ۔عراق میں واقع امریکی ہوائی اڈوں پر ایرانی میزائیلوں نے کس قدر تباہی مچائی امریکی فوجی حکام نے بتایا کہ پہلا میزائل حملہ 7جنوری کو رات قریب1:34پر ہوا اور پھر 15-15منٹ کے وقفے سے دو گھٹے تک میزائلیں گرتی رہیں رات میں خوف اور بے چینی کے ساتھ گزری حالانکہ قریب ڈھائی گھنٹے پہلے ہی حملے کی وارنگ ملنے سے جان بچ گئی امریکی ائیر فورس کمانڈر کیپٹن لوئنگ اسٹن کے مطابق فوج نے اپنا بچاﺅ کیا ہے لیکن میزائل حملے سے بچاﺅ کرنا نا ممکن ہے کئی ٹکڑیوں نے صدام کے راج میں بنے بنکروں میں چھپ کر پناہ لی ان بنکروں کی پھسلن بھری دیواریں دہائیوں پرانی ہیں یہ بنکر 1980سے 1988کے درمیان بغداد اور ایران کے درمیان خونی جنگ کے دواران بنے تھے امریکی فوج جب بنکر وں میں جان بچانے کے لئے پہنی تو اسے علم نہیں تھا کہ ان پر میزائل کا بھی اثر نہیں ہوگا یہ بنکر امریکی فوج کے لئے بنائے گئے بنکروں سے بھی زیادہ مضبوط نکلے جو راکٹ اور موٹار حملے کو بھی جھیل سکتے ہیں ۔امریکی فوجی عقیل فروخ حسن بتاتے ہیں کہ جب پتہ چلا کہ میزائل حملہ ہونے والا ہے تو ہماری ہڈیاں کانپ گئیں بیٹی کی یاد آنے لگی اور میں مرنے کے لئے سو فیصدی تیار ہو چکا تھا لیکن بنکر نے جان بچا لی ۔میزائیلوں سے سات فٹ گہرا گڈھا ہو گیا ہے ایران نے کمانڈر قاسم سلیمانی کے امریکی ائیر اسٹرائیک میں موت کا بدلہ لیتے ہوئے میزائیلیں داغی تھیں ۔ایران نے اس حملے میں کئی فوجیوں کے مرنے یا زخمی ہونے کا دعوی کیا تھا لیکن واشنگٹن نے اس دعوی کو مسترد کر دیا تھا ۔ایران کے رئیو لوشنری گارڈ نے یہ قبول کیا تھا کہ ہم نے میزائلوں کا حملہ امریکی فوجیوں کو نشانہ بنانے کے لئے نہیں کیا تھا ان کا مقصد صرف امریکی فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنانا تھا ۔

(انل نریندر)

امیزن بلین ڈالر سرمایہ کاری کر بھارت پر احسان نہیں کر رہا

ملٹی نیشنل کمپنی امیزن کے چیف بیجوس کے ذریعہ بھارت میں ایک بلین ڈالر سرمایہ لگانے کے بیان پر مرکزی وزیر تجارت و صنعت پیوش گوئل کے کٹاش سے سیاسی سرگرمی بڑھ گئی ہے انہوںنے جمعرات کو کہا کہ امیزن بھارت میں پیسہ لگا کر کوئی اس پر احسان نہیں کر رہی ہے ۔یہ بھی سوال اُٹھایا کہ آن لائن کاروبار اسٹیج دستیاب کرانے والی کمپنی اگر دوسروں کا بازار بگاڑنے والی قیمت پالیسی پر نہیں چل رہی ہے تو اسے اتنا بڑا خسارہ کیسے ہو سکتا ہے ؟دنیا کے سب سے امیر شخص جےف بے جوس کے بھارت میں ایک ارب ڈالر کے پیسہ لگانے کے اعلان کے بعد گوئل نے یہ بات کہی یہی نہیں بے جوس کو ملنے کا وقت بھی نہیں دیا ۔اس سے پہلے اس نے پی ایم مودی سے ملنے کا وقت مانگا تھا لیکن انہوںنے بھی اس سے انکار کر دیا ۔پیوش گوئل کا کہنا تھا کہ ای کامرس کمپنیوں کو ہندوستانی قواعد کی تعمیل کرنی ہوگی ۔انہیں قانون میں سراخ ڈھونڈ کر پچھلے دروازے سے ہندوستانی بڑا برانڈ خوردہ سیکٹر میں انٹری کی کوشش نہیں کر نی چاہیے بھارت کثیر برانڈ خوردہ سیکٹر میں غیر ملکی کمپنیوں کو 49فیصد سے زیادہ سرمایہ کاری کرنے کی اجازت نہیں دیتا اس سیکٹر میں ابھی کسی بھی غیر ملکی خورہ کمپنی کو کاروبار کرنے کی اجازت نہیں دی ہے ۔دہلی میں جاری عالمی ڈائیلاگ کانفرنس میں انہوںنے تلخ لہجے میں کہا کہ امیزن ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کر سکتی ہے لیکن اگر انہیں ارب ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے تو وہ اس ارب ڈالر کا انتظام بھی کر رہی ہوگی ۔اس لئے ایسا نہیں ہے کہ وہ ایک ارب ڈالر کا سرمایہ کاری کر کے بھارت پر کوئی احسان کر رہے ہیں ۔امیزن اور ایک دوسری کمپنی کے ذریعہ بھارت میں خوردہ کاروبار کے دوران غلط پریکٹیس اپنانے کا الزام لگا ۔دیش کے کاروباری طبقے میں تو پہلے ہی سے ناراضگی تھی ۔اب گوئل کے بیان پر کانگریس نیتا پی چدمبرم کا رد عمل ملنے سے سیاست گرم ہونے کا امکان ہے ۔پیوش گوئل کے بیان کو چدمبرم نے غلط بتایا کامرس منسٹر کو بھارت کی معیشت درست کرنے کے لے اسی طرح اوروں کو بھی پرکھنا چاہیے سخت تنقید کے بارے میں کئی جانکار کا کہنا ہے کہ اتنی بڑی کمپنی پر سرکار کے سینئر وزیر کے ذریعہ بیان پر حیرانی ظاہر کی جا رہی ہے ۔اس کے اثر کی باتیں کی جا رہی ہیں ۔لیکن امیزن اور فلپکارڈ کے ذریعہ غلط طریقے اپنانے کے الزامات لگاکر شکایت کرنے والی تنظیم کن فیڈریشن آف انڈین ٹریڈرس نے گوئل کے بیان پر خوشی ظاہر کی ہے ۔کیٹ کی شکایت اور دیش بھر میں تحریک کے بعد سرکار اس معاملے کی جانچ کر رہی ہے ۔کیٹ کے جنرل سیکریٹری پروین کھنڈیلوال کا کہنا ہے کہ چدمبرم کے بیان سے نقصان کانگریس کو دیش بھر میں بھگتنا پڑے گا اور دہلی اسمبلی چناﺅ پر بھی اس کا اثر پڑے گا ۔کیٹ کی رہنمائی میں دہلی کے تاجر اس معاملے کی وجہ سے کانگریس کو ووٹ نہ دینے کا فیصلہ کر سکتے ہیں ۔

(انل نریندر)