Translater

27 جولائی 2023

تین سال میں 20ہزار چھوٹے اور منجھولے کارخانے بند !

حکومت نے لوگ سبھا میںپچھلے جمعرات کو بتایا تھا کہ ماہ جولائی 2020سے مارچ 2023تک قریب تین برسوںمیں دیش میں 19687چھوٹی اور منجھولی اور درمیانی قسم کے کارخانے یا صنعتیں بند ہوئیں ہےں یا انہوںنے اپنا پروڈکشن بند کر دیا ۔ لوک سبھا میں ایک ممبرا کلیوگ بنرجی کے سوال کے تحریری جواب میں وزیر مملکت چھوٹی صنعتیں بھانو پرتاپ سنگھ ورما نے یہ جانکاری دی تھی۔ ممبرموصوف نے پوچھا تھا کہ کیا مالی سال2022-23کے دوران 10655ایم ایس ایم ای بند ہوئے ہیں جو پچھلے چاربرسوںمیں سب سے زیادہ ہیں۔ وزیر موصوف نے بتایا کہ انڈسٹریل رجسٹریشن پورٹل کے یہ اعداد و شمار ہیں ۔ انے کے مطابق جولائی2020سے مارچ 2021تک 175ایم ایس ایم ای بند ہوئے یا انہوںنے کام بند کر دیا ۔ وہیں اپریل 2021سے مارچ2022تک 63322ایم ایس ایم ای بند ہوئے تھے ۔ ایسے ہی یکم اپریل 2022سے مارچ 2023تک 13290ایم ایس ایم ای بند ہوئے یا انہوںنے پروڈکشن بند کر دی ۔ اس طرح سے جولائی 2020سے مارچ 2023تک قریب تین برسومیں 19687چھوٹی ،بڑی درمیانی فیکٹریاں بند ہوئیں یا کام بند ہوگیا ۔ مرکزی وزیر نے بتایا کہ این ایس ایم ای کی وزارت دیش ایم ایس ایم ای کو ہر ممد ٹکنالوجی مدد اور اسٹرکچر ڈیولپمنٹ ،ٹیلنٹ ڈیولپمنٹ اور ٹریننگ اور مارکیٹ مدد کے سیکٹروں میں مختلف اسکیموں پر عمل در آمن کرتا ہے ان کے مطابق سرکار نے دیش میں ایم ایس ایم ای کی مدد فراہم کرانے کی کئی پہل کیں ہیں۔ جس میں کاروبار کیلئے5لاکھ روپے کی فوری قرض سہولت ،گارنٹی اسکی،آتم نربھر بھارت فنڈ کے ذریعے سے 50ہزار روپے ریڑی پٹری والوں کو مدد اور ان کیلئے کاروبار کی آسانی کیلئے ایم ایس ایم ای کیلئے فیکٹری رجسٹریشن ایم ایس ایم ای کی کلاسیفیکیشن کی نئی ترمیم ،معیارات اور قواید شامل ہیں۔ یہ نہایت ہی تشویشناک حالت ہے کہ فیکٹریاں بند ہوتی جا رہی ہیں ۔ بے روزگاری بڑھتی جا رہی ہے اور نئی فیکٹریاں قائم نہیں ہو رہی ہیں۔ جو لوگ برسوں سے ان چھوٹے چھوٹے دھندھو میں لگے تھے وہ سب سڑک پر آگئے ۔ جب تک نئی فیکٹریاں نہیں لگیںگے یا پرانی میں کاروبار پھر سے شروع نہیں ہوتے ،بے روزگاری کے مسئلے کا حل نہیں ہو سکتا ۔ دکھ کی بات یہ ہے کہ سرکار کا اس طرف دھیان نہیں ہے ۔ بے روزگار خاندان کن حالات میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔ (انل نریندر)

اس لئے شہریت چھوڑ رہے ہیںہندوستانی !

یوں تو دیش کے باہر پڑھنا اور بسنا ہندوستانیوں کیلئے نیا نہیں ہے، لیکن حالیہ برسوںمیں بڑی تعداد میں ہندوستانیوںنے اپنی شہریت چھوڑی ہے ۔ جب شخصی سہولیات ،روزی روزگار اور معیار زندگی گزر بسر کرنے کی خواہش میں کسی دیش کے لوگ اپنی شہریت چھوڑ کر دوسرے ملکوںمیں جاکر بسنے لگیں تو یہ یقینی طور سے اس دیش کیلئے تشویش کا موضوع ہونا چاہئے۔ شہریوں کی ہجرت کو لیکر لمبے عرصے سے تشویش جتائی جا رہی ہے ۔اب حالت یہ ہو گئی ہے کہ جمے جمائے کاروبار کو چھوڑ کر دوسرے ملکوںمیں جانا اب عام بات ہو گئی ہے ۔پارلیمنٹ میں دئے گئے ایک تحریری جواب کے مطابق مرکز ی حکومت نے کہا ہے کہ سال 2011سے لیکر اب تک قریب 17لاکھ 50ہزار ہندوستانی اپنی شہریت چھوڑ چکے ہیں۔ اس سال ہی جون تک 87,026لوگ یعنی ہندوستانی ایسا کر چکے ہیں۔ حالاںکہ وزیر خارجہ نے مانا کہ سرکار مانتی ہے کہ دیش کے باہر رہ رہے لوگ ہمارے لئے بہت معنی رکھتے ہیں ان کی کامیابی اور دبدبے سے دیش کو فائدہ پہنچتا ہے ۔وزیر خارجہ نے بتایا کہ ہندوستانیوںنے کل 130سے زیادہ ملکوں کی شہریت حاصل کی ہے ۔ حالاںکہ ہندوستانیوںمیں ابھی بھی امریکن ڈریم سب سے زیادہ پسند ہے اس لئے سال2021میں 78ہزار سے زیادہ ہندوستانیوںنے وہاں کی شہریت لی اس کے بعد آسٹریلیا ،کینیڈا اور برطانیہ کا نمبر ہے ۔ سرکار ی اعداد و شمار کے مطابق پختہ ڈیٹا یہ بھی بتاتا ہے کہ حال میں دیش کا امیر طبقہ دوسرے دیشوںمیں جاکر بس رہا ہے۔ اسی سال کی رپورٹ بتاتی ہے کہ اس سال دیش 6500سپر رچ یعنی کروڑ پتی دیش چھوڑ کر جا سکتے ہیں۔ رپورٹ آگے مزید کہتی ہے کہ بھارت ایسے دیشوںمیں لسٹ میں دوسرے نمبر پر ہو سکتا ہے۔ جہاں سب سے زیادہ کروڑ پتی ملک چھوڑ رہے ہیں اس لسٹ میں پہلے نمبرپر چین ہے ۔ حالیہ برسوںمیں آسٹریلیا میں ہندوستانیوں کے تعداد تیزی سے بڑھی رہی ہے ۔ وہاں اب ہندوستانی نژاد لوگوں کی تعدا د چین سے زیادہ ہے ۔ اوراب وہ صرف انگریزوں سے ہی پیچھے ہیں۔ اس سے پہلے ہندوستانی بسنے کے لحاظ سے کینیڈا اور برطانیہ کو خاص تر جیح دے رہے تھے۔ اچھے روزگار کے موقع کیلئے ہندوستانی درمیانی کلاس کی ہجرت برسوں سے ہو رہی ہے ۔لیکن کروڑ پتی طبقہ دبئی اور سنگاپور جیسے ملکوںمیں بسنا پسند کر رہا ہے ۔ ان لوگوںکو بھارت میں گھٹن محسوس ہو رہی ہے ۔ سرکاروں کی خانہ پوری کاروائی ،ٹیکس کا شکنجہ وغیر کچھ وجوہات ہیں۔ جس سے یہ طبقہ پریشان ہے ۔ ای ڈی،سی بی آئی اور انکم ٹیکس کے چھاپوں سے یہ فکر مند ہے۔ روزگار کے گھٹتے مواقع پڑھے لکھے نوجوانوں کا دیش سے باہر جانا اور نوکری کی تلاش کرنا ایک بڑی وجہ ہے ۔ چالیس فیصدی کو ان کی خواہش اور صلاحیت کے مطابق روزگار نہیں ملتا ۔ اس کے علاوہ کئی لوگ عدم تحفظ کے چلتے بھی کہیں اور جانا اور وہاں جاکر بسنا ہے۔ (انل نریندر)

25 جولائی 2023

کیا سیکس رضامندی کی عمر کم ہونی چاہیے ؟

کیا 18سال سے کم عمر کے لڑکوں کو جنسی تعلق بنانے کی اجازت دینے کا حق ملنا چاہئے؟ خاص کر جب بھارت میں 18سال سے کم عمر والے لڑکے کو بالغ نہیں مانا جاتا ہے ۔بھارت میں انڈین میچوریٹی ایکٹ1875کے مطابق 18سالہ نوجوان بالغ یا نابالغ مانے گئے ہیں۔اور اس کے ساتھ ہی انہیں کئی حقوق بھی دئے گئے ہیں۔ آئین کی 61ویں ترمیم میں18سال کے لڑکوںکو ووٹ ڈالنے ،ڈرائیونگ لائسنس بنوانے کا حق دیا گیا ہے ۔وہیں اطفال شادی انسداد ایکٹ 2006کے مطابق شادی کیلئے بھارت میں لڑکی کی عمر 18اور لڑکے کی عمر 21سال ضروری بتائی گئی ہے ۔ حالاںکہ اب شادی کی عمر کو بڑھائے جانے پر بھی مرکزی سرکار غور کر رہی ہے۔ اب یہ بحث تیز ہو گئی ہے کہ رضامندی کی عمر کو 18سال سے کم کیا جا نا چاہئے۔ مدھیہ پر دیش ،کرناٹک ہائی کورٹ اس پر اپنا مو قف رکھ چکی ہیں۔ بھارت کے چیف جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ رضامندی سے بنے رومانی رشتوںکو پاکسو ایکٹ کے دائرے میں لانے کو لیکر تشویش ظاہر کر چکے ہیں۔ رضامندی کی عمر پر لاءکمیشن نے خاتون اور فروغ وزارت سے اپنے نظریات رکھنے کو کہا ہے لیکن اس پر ایک سوال یہ بھی کھڑا ہوا ہے کہ اگر رضامندی کی عمر گھٹائی جاتی ہے تو اس سے جنسی جرائم سے بچوں کی حفاظت کیلئے بنے قانون(پاکسو) کے تقاضوں اور بالغ اور نابالغ سے متعلق دیگر قوانین پر بھی اثر پڑے گا۔ جنسی جرائم سے بچوں کی حفاظت کیلئے پاکسو ایکٹ 2012میں لایا گیا تھا ۔ اس میں 18سال سے کم عمر کے لڑکے کو بچہ بتایا گیا ہے۔اور اگر 18سال سے کم عمر کے ساتھ رضامندی سے بھی رشتہ بنائے جاتے ہیں تووہ کرائم کی ضمرے میں آتا ہے ۔ ایسی حالت میں دونوں اگر نابالغ ہیں تب بھی یہی قانون نافذ ہوتا ہے۔ چیف جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ نے ایک پروگرام میں رضامندی سے بنے رومانی رشتوں کے معاملوں کو پاکسو قانون کے دائرے میں لانے پر تشویش ظاہر کی تھی ۔ ایک پروگرام میں چیف جسٹس نے کہا تھا کہ آپ جانتے ہیں کہ پاکسو ایکٹ کے تحت 18سال سے کم عمر کے لوگوں کے درمیان سبھی طرح کی جنسی حرکات جرم ہیں۔ بھلے ہی نابالغوں میں درمیان رضامندی ہو لیکن قانون کی رائے یہ ہے کہ 18سال سے کم عمر کے لڑکوںکے درمیان قانونی معنی میں کوئی رضامندی نہیں ہوتی ۔ انہوںنے کہا کہ جج کے طور پر میں نے دیکھا ہے کہ ایسے معاملے جج صاحبان کے سامنے مشکل سوال کھڑے کر تے ہیں اس مسئلے پر چنتا بڑھ رہی ہے کہ لڑکے لڑکیوں پر ہیلتھ ماہرین کے ذریعے کی گئی ریسرچ کو دیکھتے ہوئے آئین سازیہ کو اس معاملے پر غور کرنا چاہئے۔ اسی پس منظر میں آئینی کمیشن نے مہلا اطفال ڈیولپمنٹ وزارت سے رائے مانگی ہے کہ رضامندی کی عمر گھٹائے جانے کو لیکر الگ الگ رائے سامنے آرہی ہے۔ ایک فریق جہاں چاہتا ہے کہ آج کل کے ماحول میں رضامندی کی عمر گھٹائی جانی چاہئے ۔ وہیں دوسرا فریق اس سے ہونے والی پریشانیوںکے بارے میں تفصیل گنوانے لگ جا تا ہے۔ (انل نریندر)

دیش کیلئے لڑا پر بیوی کو نہ بچا سکا!

عورتوں کو برہنہ گھمانے کا ویڈیو سامنے آنے کے بعد دیش حیرت میں ہے ۔پچھلے تقریباً ڈھائی مہینے سے تشدد سے پریشان حال منی پور میں سب سے زیادہ تشدد عورتوں کو جھیلنا پڑ رہا ہے اور ریاست میں روزانہ تقریباً 100سے اوپر ایف آئی آر درج کی جارہی ہیں۔ مئی سے 28جون تک کے اعداد و شمار کے مطابق منی پور میں 5960ایف آئی درج ہوئیں ہیں۔ ان میں سے 1771معاملوںمیں 0ایف آئی آر کی شکل میں درج ہوئے ۔ این سی آر بی کی تفصیلات کے مطابق منی پور میں 2019میں 2830،2020میں 2349اور 2021میں 2404ایف آئی آر درج ہوئیں تھیں ۔ اسی سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ منی پور کے حالات کیا ہیں۔ ایک دوسرے غیر مصدقہ ذرائع کے مطابق ایف آئی آر میں سے زیادہ تر خواتین ٹارچر کے معاملے ہیں۔ ریاست کے وزیر اعلیٰ این بیرن سنگھ نے خود مانا ہے کہ ایسے معاملے آئے دن ہوتے رہے ہیں۔ آنکھوںمیں غصہ اور بے بسی کارگل کے محاذ پر دشمن سے لوہا لینے والے جانباز تھاو¿بل کے واقعے کے ڈھائی مہینے بعد بھی صدمے میں ہیں۔ یوراچاند پور ریلیف کیمپ میں آسام رائفلس کے ریٹائرڈ صوبہ دار کا کہنا ہے کہ میں نے کارگل میں دیش کے دشمن کے ناپاک ارادوں سے بچایا لیکن بلوایوںسے اپنی بیوی کو نہیں بچا پایا ۔ دو عورتوں کو بر ہنہ کر گھومانے کے معاملے میں ایک عورت اس صوبہ دار کی بیوی ہے ۔انہوںنے بتایا کہ 1000کی بھیڑ سے میں گھر بیوی اور گاو¿ں والوں کو نہیں بچا پایا ۔پولیس والوںنے بھی ہمیں سیکورٹی نہیں دی ۔ تین گھنٹے تک بھیڑ درندگی کرتی رہی ۔سوال یہ ہے کہ آخر منی پور کے حالات قابو میں کیوں نہیں آرہے ہیں؟ وزیر اعلیٰ بیرن سنگھ ناکارہ ثابت ہو چکے ہیں۔ انہیں ہٹایا کیوں نہیں جا رہا ہے؟ سب سبھی فریقوں کا بھروسہ کھو چکے ہیں۔ اگر بی جے پی متئی فرقے کی ووٹوں کی فکر کر رہی ہے تو کیوں نہیں اسی فرقے سے کسی قابل شخص کو وزیر اعلیٰ بنا دیتی ؟ بیرن سنگھ کے رہتے جھگڑا رکنے والا نہیں ۔ ساری لڑائی کی جڑ ہائی کورٹ کا فیصلہ ہے ۔سپریم کورٹ میں جاکر اس فیصلے کو سرکار منسوخ کیوںنہیں کراتی؟ اگر اس فیصلے کو منسوخ کر دیں تو جھگڑا ٹھنڈا ہو سکتا ہے۔ منی پور تشدد سے دیش کی ساری دنیامیں بد نامی ہو رہی ہے ۔ برطانیہ کی پارلیمنٹ میں بھی یہ اشو اٹھ گیا ۔ برطانیہ میں مذہبی آزادی سے جڑے معاملوںمیں اسپیشل سفیر اور ایم پی فیونا دروس نے جمعرات کو بی بی سی پر منی پور تشدد کی ٹھیک سے رپورٹنگ نہ کرنے کا الزام لگایا ۔ بروس کا کہنا تھا منی پور میں مئی سے اب تک سیکڑوں گرجا گھر جلائے جا چکے ہیں اور ان جھگڑومیں 100سے زیادہ لوگ مارے جا چکے ہیں۔ اور 50ہزار سے زیادہ لوگوں کو گھر چھوڑنا پڑا ہے ۔نہ صرف گرجا گھر بلکہ ان سے جڑے اسکولوںکو بھی نشانہ بنایا جا رہاہے ۔ اس سے صاف لگتا ہے کہ یہ سب پلاننگ کے تحت کیا جا رہا ہے ۔ دھرم ان حملوںمیں بڑا فیکٹر ہے۔منی پور کے لوگ مدد کی دوخواست کر رہے ہیںمرکزی سرکار اور بی جے پی کو فوراً ایکشن میں آنا چاہئے اور منی پور کو شانت کرانا چاہئے۔ (انل نریندر)

میلانیا نے امریکہ میں یہ نئی جنگ چھیڑ دی

ایران جنگ میں سیز فائر ہوتے ہی امریکہ کے اندر ایک اور جنگ شروع ہو گئی ہے ۔آپ حیران ہوں گے کہ یہ کون سی جنگ ہے ؟ بتادیں کہ ایپسٹین فائلس کی ...