Translater
05 جون 2021
اکنامی کی مار سے دہائی میں سب سے بری حالت!
دیش کی معیشت پچھلے مالی برس (2020-21) میں ترقی کرنے کی جگہ ریکارڈ 3.7 فیصدی تک سکڑ گئی ۔یہ مار دہائیوں میں سب سے بری پرفارمنس ہے ۔معیشت اس سال جنوری سے مارچ کے درمیان 1.6 فیصدی بڑھی تو لیکن اس کے پیچھے سرکاری خرچ کا ہاتھ مانا جارہا ہے ۔معیشت پر ماہرین مانتے ہیں کہ کورونا کی دوسری لہر کے سبب نئے مالی برس کی پہلی سہہ مائی کی حالت بہت خراب ہو سکتی ہے کورونا کی دوسری لہر میں زندگی بچانے کی جنگ کے درمیان ریکارڈ بے روزگاری موت پر بھاری بڑھتی دکھائی دے رہی ہے ۔سی ایم آئی ای کی رپورٹ کے مطابق دوسری لہر میں دیش میں ایک کروڑ سے زیادہ لوگوں کا نوکری سے ہاتھ دھونا ہے ۔مشہور ماہر اقتصادیات ارون کمار نے بتایا کہ آنے والے دنوں میں مالی تنگی کے سبب بے روزگاری کی حالت اور بھی زیادہ خراب ہو سکتی ہے ۔یہ موت کی تعداد پر بھاری پڑ سکتی ہے یعنی لوگوں کی مالی حالت مزید بگڑ سکتی ہے اس سے بچنے کے لئے وقت رہتے مرکزی حکومت اور عدالت مالیات کو قدم اٹھانے کی ضرورت ہے ۔سینٹر فار مانیٹرنگ انڈین اکانمی کے چیف آڈیٹر جنرل مہرا ویاس نے کہا کہ جن لوگوں کی نوکری گئی ہے انہیں دوبارہ روزگار ملنا بہت مشکل ہو رہا ہے ۔کیوں کہ انفارمل سیکٹر میں تو کچھ حد تک بہتری آڑہی ہے لیکن منظم سیکٹر میں ابھی وقت لگے لگا ۔سی ایم آئی ای کے مطابق اپریل مئی کے مہینہ میں ایک کروڑ سے زیادہ لوگ بے روزگار ہوئے ہیں جبکہ اپریل میں ہی یہ تعداد 73 لاکھ پہونچ گئی ہے اور 30 مئی کو ختم ہوئے ہفتہ میں شہری بے روزگاری شرح 7.88 فیصد پہونچ گئی ہے اس دوران دیہی علاقوں کی بے روزگاری شرح 9.58 فیصد ی رہی ۔سی ایم آئی ای نے اپریل میں 1.75 لاکھ پریواروں پر ملک گیر سروے کیا تھا ۔اس میں شامل 3 فیصدی پریواروں نے بھی آمدنی بڑھنے کی بات کہی ۔جبکہ 97 فیصدی کمائی گھٹ گئی ہے ۔مئی میں پیٹرول ڈیزل کی فروخت میں بھی 17 فیصد کمی آئی جبکہ بجلی گھپت 8.20 فیصد رہی ۔اس کی وجہ پچھلے سال کی یکساں میعاد میں بجلی کی کم کھپت ہونا رہا ۔ریلوے نے بھی اس دوران 114.8 میٹرک ٹن کی ڈھلائی کا ریکارڈ بنایا جو پچھلے ریکارڈ سے 9.7 فیصد زیادہ رہا ۔پچھلے سال اپریل سے جون میں معیشت 24.4 فیصد تک محدود ہو گئی ۔کیوں کہ لاک ڈاو¿ن تھا اس کے بعد معیشت میں مندی درج کی گئی ۔لیکن پھر معاشی سرگرمیاں رفتار پکڑنے لگیں لیکن اپریل میں کورونا کی دوسری لہر کے بعد اقتصادی سرگرمیوں پر پابندی لگا دی گئی ۔جس سے آمدنی میں کمی آئی اور سرکار مالی پیکج دینے کی صورت میں نہیں ہے مانا جا رہا ہے معیشت خستہ حال رہی توبی جے پی کے لئے مشکل ہوگا ۔جو مستقبل میں اسمبلی چناو¿ میں ایک اشو بن کر ابھر سکتا ہے ۔
(انل نریندر)
ہمارے لئے تو مسیحا ثابت ہوئے ہیں!
کورونا کی مار کا میڈیا پر بھی گہرا اثرہوا ہے ۔کئی فریلانس جنرلسٹ اور فوٹو گرافر کام نہ ہونے کی صورت میں زبردست مالی تنگی سے گزر رہے ہیں ۔میڈیا رپوٹرس کے مطابق ایسے ضرورت مند صحافیوں کی مدد کیلئے سبھی کے مہا نائک امیتابھ بچن آگے آئے ہیں انہوں نے ان صحافیوں کو کئی مہینہ گھر کے خرچ کے لئے مالی مدد کی ہے ۔کورونا وائرس وبا کے قہر کے درمیان متاثرین اور ضرورت مندوں کی مدد کے لئے بالی وڈ کے ستارے اپنے اپنے حساب سے آگے آئے ہیں ۔اسی درمیان امیتابھ بچن مسلسل الگ الگ سیکٹروں کے محروم اور ضرورت مند لوگوں کی مدد میں لگے ہوئے ہیں ۔ذرائع سے پتہ چلا ہے بگ بی نے حال ہی میں کئی فریلانس جنرلسٹوں کی کئی مہینوں کی بنیادی ضرورتوں کو پورا کیاہے اور ان کو مالی مدد دے کر راشن پانی بجلی کا بل مکان کرایہ بچوں کے اسکول فیس جیسی بنیادی ضرورتوں کو پورا کررہے ہیں ۔جس سے انہوں نے راحت کی سانس لی ہے ۔جانے مانے چینل کے صحافی ایس قدوائی نے بتایا کہ بگ بی نے ضرورت مند فری لانس صحافیوں کی مدد کی خواہش ظاہر کی تھی ان کے پاس ایک لسٹ تھی۔ اور وہ اس بارے میں معلومات حاصل کررہے تھے کہ مدد صحیح شخص کو ہی ملے اور وہ لسٹ ویریفائی کر کے دی ہے ۔وہ اس بات کو لیکر فکر مند تھے ۔کام نہ ہونے کی صورت میں میڈیا ملازمین کا گزارہ کیسے ہو رہا ہوگا ۔بہت سے صحافیوں کو تین تین مہینوں کا ضروری خرچہ مہیا کرایا اور جن کو مدد ملی ہے وہ سبھی سینئر جنرلسٹ ہیں ۔اور تقریباً بیس سے پچیس سال سے اس پروفیشن میںہیں ۔بگ بی نے یہ کام بغیر کسی شور شرابہ کے کیا کیوں کہ وہ نہیں چاہتے تھے اس کی پبلسٹی ہو میں کسی سے پیسہ نہیں مانگ سکتا پیسہ دینے پر بولے کہ انہوں نے اکیلئے 25 کروڑ روپے ڈونیٹ کئے ہیں ہمارے لئے تو وہ مسیحا ثابت ہوئے ہیں سینئر فریلانس جنرلسٹ کہتے ہیں ۔بتاتے ہیں کہ کورونا دور میں حال میں میری ماتا جی چل بسیں مجھے ان کے انتم سنسکار پریاگ آنا پڑا میں زبردست مالی تنگی سے گزر رہا تھا ایسے میں بگ وی کی مدد سے بہت سہارا ملا ۔حالانکہ کورونا دور میں ڈونئیٹ کرنے اور لوگوں کی مدد نہ کرنے کیلئے شوشل میڈیا پر ان کی تنقید ہو رہی ہے اب اپنی بلاگ میں بگ بی نے ٹرول کرنے والوں کا جواب دیا ہے اور کہا کہ ان کا خاندان چیریٹی کرتے ہیں ۔لیکن میرا خیال ہے کہ بولنے سے زیادہ بہتر ہے مدد کرا دو وہ لکھتے ہیں کہ انہوں نے اور ان کے خاندان نے گزشتہ کچھ برسوں میں جو فلاحی کام کئے ہیں ان کا شوشل میڈیا پر بکھان نہیں کیا ۔صرف لینے والے ہی کو پتہ ہے جب بھی ضرورت پڑی امیتابھ پیچھے نہیں ہٹے ۔چاہے کسانوں کے قرض چکانے کا معاملہ ہو یا دیہاڑی مزدوروں کو اپنے گھر پہوچانے کا ہو ۔کوئی آکسیجن اور وینیٹی لیٹر ڈونیٹ کرنے کا ہو وہ ہمیشہ آگے رہے ہیں ۔
(انل نریندر)
04 جون 2021
امریکہ میں ہتھیاروں کیلئے اندھی دوڑ !
سال 2016 میں امریکہ میں 32 فیصدی گھروں میں بندوقیں تھیں ۔دیش کے جنرل شوشل سروے کے مطابق آج یہ تعداد 39 فیصدی تک پہونچ چکی ہے یعنی ہر دس میں سے چار گھر میں ہتھیار پہونچ چکے ہیں اور اسے امریکہ میں ہتھیاروں کی اندھی دوڑ مانا جا رہا ہے ۔ایسے وقت میں جب شہروں میں لوگوں کو کسی نہ کسی وجہ سے رقابت میں گولی مار کر ہلاک کئے جانے کا سلسلہ جاری ہے اس کے باوجود ہتھیاروں کی اس بڑھتی خرید نے پالیسی سازوں کی پریشانی میں اضافہ کر دیا ہے پچھلے چناوی برس میں نسلی تشدد اور خونی مظاہرے اور کورونا وبا کے دوران بندقوں کی خرید بڑھی تھی ۔اب جبکہ چناو¿ ہو چکے ہیں تب بھی ہتھیاروں کی خرید کم نہیں ہو رہی ہے ۔کیلیفورنیا یونیورسٹی میں ہتھیاروں کے پھیلاو¿ ور ریسرچ کنندہ ڈاکٹر گیرم جی ویٹنوٹ تعجب ظاہر کرتے ہیں کہ چناو¿ کے بعد بندوقوں کی خرید کم ہوجاتی ہے لیکن اس بار ایسا نہیں ہو رہا ہے ۔اینجس کی سٹی کونسل میں نمائندہ مارکی ہیرث کہتے ہیں کہ امریکہ میں خطرناک ہتھیارں کی دوڑ شروع ہو چکی ہے لیکن اشارہ یہ بھی ہے کہ امریکہ ایک دوسرے کو کس طرح بے اعتمادی سے دیکھ رہے ہیں اور اپنی حفاظت کے بارے میں کیسے سوچ رہے ہیں دعویٰ ہے کہ امریکہ میں شہریوں کے پاس قریب 40 کروڑ بندقیں ہین ۔لاءاینجلس میں سب سے زیادہ بندوقیں خریدی گئیں جس وجہ سے وہاں قتل کی وارداتیں 76 فیصدی فائرنگ میں ہوئی ہیں ۔
(انل نریندر)
چناو ڈیوٹی پر جان گنوانے والوں کو کورونا وارئیر مانیں!
الہ آباد ہائی کورٹ نے ریاستی سرکار سے پنچایت چناو¿ میں ڈیوٹی کے دوران کورونا انفیکشن سے جان گنوانے والے اساتذہ و سرکاری ملازمین کو کورونا وارئیر مان کر ان کے متاثرہ کنبوں کو ان کے برابر معاوضہ دینے کے معاملے میں غور کرنے پر جواب داخل کیا جائے یہ حکم جسٹس شدھارتھ ورما جسٹس اجیت کمار کی بنچ نے از خود داخل مفاد عامہ کی عرضی پرسماعت کے دوران حکم دیا ۔ٹیچر راہل گوگلے کی جانب سے دائر عرضی میں کہا گیا ہے پنچایت چناو¿ کی ڈیوٹی پر انفیکشن سے جان گنوانے والے سرکار ی ملازمین کے پریوار کو تیس لاکھ روپے کی مدد دی جارہی ہے ۔وہیں کورونا یودھاو¿ں کے لئے پچاس لاکھ روپے معاوضہ طے ہے یہ پالیسی امتیاز پر مبنی ہے انہوں نے بتایا چناو¿ کے باوجودانفیکشن سے متاثر ملازمین کو کوئی میڈیکل سہولت نہیں دی گئی نتیجتاً کئی ملازم پریواروں نے گھر کے اکلوتے کمانے والے کو کھو دیا ہے ایسے میں متاثرہ کنبوں کو معاوضہ پانے کا حق ہے ریاستی سرکار کے جواب کا انتظار ہے قاعدے کے مطابق یہ مانگ ٹھیک ہے کورونا وبا کے دوران چناو¿ ڈیوٹی پر جان گنوانے والوں کو مناسب معاوضہ ان کے پریواروں کو ہی ملنا چاہیے ۔
(انل نریندر)
سعودی عرب : مساجد کو لاوڈ اسپیکر دھیما رکھنے کا حکم!
سعودی عرب کے شہزادہ ولی عہد (حاکم اعلیٰ محمد بن سلمان نے سبھی مساجد کو اذان اور دیگر مواقعوں پر لاڈ اسپیکر کی آواز دھیما رکھنے کے احکامات دئیے ہیں۔سبھی مساجد سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے لاو¿ڈ اسپیکروں کی آواز مقرر زیادہ آواز سے ایک تہائی کم رکھیں سعودی عرب میں اسلامی امور کے وزیر ڈاکٹر عبد اللطیف بن عبد اللہ عزیز الشیخ نے پچھلے ہفتہ ہی ان پابندیوں کا اعلان کیا تھا جس میں مساجد میں لگے لاو¿ڈ اسپیکر کی آواز زیادہ نہیں ہونی چاہیے ۔انہوں نے کہا کہ لوگوں سے مسلسل مل رہی شکایت کے بعد یہ فیصلہ لیا گیا ۔ان شکایتوں میں کچھ والدین نے لکھا کہ لاو¿ڈ اسپیکر کی تیز آواز سے بچوں کی نیند خراب ہوتی ہے ۔ڈاکٹر عبد اللہ عزیز شیخ نے لکھا کہ مساجد پر لگے لاو¿ڈ اسپیکر کا استعمال اماموں کو یا مو¿ذنوں کو نماز کے لئے ہی بلانے اور اقامت کیلئے لاو¿ڈ اسپیکر کا استعمال کیا جائے اور اس کی آواز ایک تہائی سے زیادہ نہ ہو انہوں نے اس حکم پر تعمیل نہ کرنے والوں کے خلاف انتظامیہ کی طرف سے سخت کاروائی سے بھی خبردار کیا ہے ۔اسلام مذہب کے ماننے والوں کے مطابق اذان اور اقامت کا مقصد یہ بتانا ہوتا ہے کہ امام اپنی جگہ پر بیٹھ چکے ہیں اور نماز بس شروع ہونے والی ہے ۔اسلامی امور کی وزارت نے اس فرمان کے پیچھے شرعی دلیل دی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ سعودی انتظامیہ کا یہ حکم پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت پر مبنی ہے جنہوں نے کہا کہ ہر انسان چپ چاپ اپنے رب کو پکار رہا ہے اس لئے کسی دوسرے کو پریشان نہیں کرنا چاہیے اور نہ ہی سبق میں یا دعا میں دوسرے کی آواز پرآواز نہیں اٹھانی چاہیے سعودی انتظامیہ نے اپنے حکم میں دلیل دی ہے کہ امام شروع کرنے والے ہیں اس کا پتہ مسجد میں موجود لوگوں کو چلنا چاہیے نہ کہ پڑوس میں رہنے والے گھروں میں مقیم لوگوں کو بلکہ قرآن شریف کی توہین ہے کہ آپ اسے لاو¿ڈ اسپیکر پر چلائیں کوئی اسے سننا چاہے یا نہ چاہے ۔اس سلسلے میں پہلے ایک مشہور عالم محمد بن صالح نے ایک فتویٰ بھی جاری کیا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ مساجد میں لگے لاو¿ڈ اسپکروں کا استعمال اذان اور اقامت کے علاوہ نہیں ہونا چاہیے ۔بی بی سی اس رپورٹ کے مطابق سعودی عرب نے مذہب کے کئی بڑے مفتی صاحبان نے سرکار کے اس حکم کو صحیح مانا ہے ۔جبکہ زیادہ تر دقیانوش مسلمان سعودی سرکار کے اس فیصلے کی مخالفت کرر ہے ہیں اور شوشل میڈیا پر اس کے خلاف مہم چھیڑے ہوئے ہیں ۔یہ پابندی ایسے دور میں لگائی گئی ہے جب شہزادہ ولی عہد محمد بن سلمان سعودی عرب کے ایک اصلاح پسند دیش بنانے کی کوشش میں لگے ہیں ۔وہ چاہتے ہیں کہ عام آدمی کی زندگی میں مذہب کا رول محدود رہے ۔کچھ مہینہ پہلے سعودی عرب نے کار چلانے پر پابندی ہٹائی گئی تھی جسے ایک بڑی تبدیلی مانا جا رہا تھا احتجاج کرنے والوں سے انتظامیہ سختی سے پیش آرہا ہے انہیں گرفتار بھی کیا جارہا ہے اور جیلوں میں ڈالا جارہا ہے ۔
(انل نریندر)
03 جون 2021
چین این سی اے پر نئے ہتھیاروں کو تعیناتی میں لگا ہے !
سرحدی تنازعہ کو پر امن طریقہ سے سلجھانے کو لیکر بھارت کے ساتھ جاری بات چیت کے درمیان چین ایکچول کنٹرول لائن کے قریب نئے ہتھیاروں کی تعیناتی کررہا ہے ۔معلوم ہوا ہے کہ قبضہ والی ہندوستانی سرزمین پر چین نئے ہتھیار نصب کررہا ہے ۔اس سے حالات اور پیچیدہ ہونے کا اندیشہ ہو رہا ہے ایشیا ٹائمس کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ چین کی پیوپلس لبریشن آرمی نے ایل او سی ایل اے سی پر نئے سیلف پروپیڈ ریپڈ فائر مورٹار تعیناتی کا اعلان کیا ہے ۔اس موبائل سسٹم کو ہٹ اینڈ رن پوزیشن کے لئے بنایا گیا ہے ۔اس سے پہلے چینی فوج نے ایل اے سی کے قریب 122 ایم ایم کی کیلیبر والی سیلف توپیں اور حملہ آور وہیکل اور لمبی دوری کے راکٹ چھوڑنے کے لئے تعیناتی کی ہے اس کے علاوہ MQ17A ائیر ڈیفنس میزائل سسٹم اور وغیرہ ہتھیاروں کو ہندوستان کی سرحد کے قریب تعینات کیا گیا ہے ۔پہاڑی علاقوں سے گزر رہی ایل اے سی کے قریب ان بھاری ہتھیاروں کی تعیناتی عام اور آسان نہیں ہے ۔کئی علاقوں میں مال بردار ہیلی کاپٹرون کے ذریعے لاکر انہیں اتارا گیا ہے ۔پچھلے ہفتہ وزیرخارجہ ایس جے شنکر نے کہا تھا سرحد پر چل رہے تنازعہ کے درمیان چین کے ساتھ بھارت کے رشتے چین کی قوت ارادی پر نصر کرتے ہیں چین کو دیکھنا ہے کہ وہ کس حد تک بھارت کے ساتھ سرحدی مسئلے پر باہمی سمجھوتوں کی تعمیل کرتا ہے ۔قابل ذکر ہے کہ بھارت چین کے فوجی آپسی بات چیت کے ساتھ پینگونگ جھیل کے کنارے سے تو ہٹ گئے تھے لیکن چین کے ساتھی گوگرا ہارٹ اسپرنگ اور ڈیٹ سانگ بھی ابھی قبضة جمائے بیٹھے ہیں اس لئے دونون فریقین میں کئی دور کی بات چیت ہو چکی ہے لیکن چین پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ہے ۔پیچھے ہٹنا تو دور کی بات اب وہ نئے نئے خطرناک ہتھیاروں کی تعیناتی میں لگا ہوا ہے ۔
(انل نریندر)
ٹی وی میڈیا کو نئے آئی ٹی قانون کے دائرے سے باہر رکھا جائے !
دیش میں حال ہی میں نافذ آئی ٹی ایکٹ 2021 کو لیکر نیشنل براڈ کاشٹرس ایسو سی ایشن (این بی اے )نے وزارت اطلاعات و نشریات سے دیش بھر میں چل رہے روایتی ٹی وی نیوز میڈیا کو ڈیجیٹل نیوز پلیٹ فارم کو اس کے دائرے سے باہر رکھنے کی اپیل کی ہے ۔جمعرات کو این بی اے کی طرف سے اس کے چیئرمین رجت شرما نے وزارت وزیر اطلاعات و نشریات پرکاش جاوڈیکر کو ایک خط لکھ کر یہ اپیل کی ہے جب تک آئی ٹی قاعدہ 2021 کو لیکر دیش کے مختلف عدالتوں میں چل رہے معاملے زیر غور ہیں تب تک این بی اے کے سلسلے میں اسے معطل رکھا جائے ۔رجت شرما نے کہا کہ ٹی وی نیوز میڈیا کے ذریعے چلائے جار ہے ڈیجیٹل نیوز پلیٹ فارم کو آئی ٹی رول 2021 کے دائرے میں آزاد آئی ٹی قانون 2000 کو چنوتی دی گئی تھی ۔ان کا کہنا تھا کہ حالانکہ آئی ٹی قانون 2000 ڈیجیٹل نیوز میڈیا ریگولیٹری کی بات نہیں کرتا ۔پھر بھی ٹی وی نیوز میڈیا کے ڈیجیٹل نیوز پلیٹ فارم کو اس میں رکھنا اس لئے مناسب نہیں ہوگا کیوں کہ ٹی وی نیوز میڈیا کے ڈیجیٹل نیوز پلیٹ فارم بھی ان تمام قواعد اور طریقوں کی تعمیل کرتا ہے ۔جو ٹی وی نیوز میڈیا پر لاگو ہوتے ہیں ۔این بی اے کی دلیل تھی کہ الیکٹرانک میڈیا پرنٹ میڈیا سے الگ نہیں ہے اس کے لئے ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر جانے والی زیادہ تر نیوز میٹر اسی براڈ کاسٹ کا حصہ ہوتی ہے جو تمام قواعد و ضوابط کی کسوٹی سے گزرتے ہوئے نکلتا ہے ۔ایسے میں نیوز میڈیا کے ذریعے کنٹرول ڈیجیٹل نیوز میڈیا آئی ٹی قواعد 2012 کے دائرے میں نہیں رکھا جانا چاہیے ۔این بی اے کا کہنا ہے ان پر آئی ٹی قواعد 2021 لاگو کرنے کا مطلب میڈیا کے بولنے کی آزادی اور میڈیا کی اظہار رائے کی آزادی پر گہرا اثر پڑے گا ۔یہ اسکے بولنے کی آزادی اور اظہار رائے کی آزادی کے بنیادی حقوق پر دباو¿ اور خلاف ورزی ہونے کے ساتھ ساتھ منصفانہ طریقہ سے خبروں کی رپورٹنگ پر بھی اثر پڑے گا۔
(انل نریندر)
ٹکراو انتہا پر :چیف سکریٹری کو دہلی نہیں بھیجے گی !
مرکزی سرکار سے ٹکراو¿ کے درمیان مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ ممتا بنرجی نے پیر کو بڑا داو¿ چلا اور کہا کہ چیف سکریٹری الپن بندوپادھیائے ریٹائرڈ ہو گئے ہیں اب وہ ان کے چیف مشیر کے طور پر کام کریں گے ۔وہیں ذرائع کے مطابق بندوپادھیائے اگر دہلی نہیں پہونچے تو انہیں وجہ بتاو¿ نوٹس کے ساتھ صفائی مانگی جا سکتی ہے ۔اب تازہ رپورٹ کے مطابق مرکزی حکومت نے وجہ بتاو¿ نوٹس جاری کر دیا ہے اور سننے میں آیا ہے اگر اس کا جواب نہیں دیتے تو ان کے خلاف فوجداری کی کاروائی ہوسکتی ہے وہیں مرکز دیگر متبادل کی تلاش میں ہے ممتا بنرجی نے مرکز کے ذریعے طلب کئے گئے ریاست کے چیف سکریٹری بند وپادھیائے کو وہاں بھیجنے سے انکار ہی نہیں کیا بلکہ انہیں ریٹائرمنٹ کے بعد اپنا چیف مشیر بھی مقررکرکے مرکزی حکومت کو اور ناراض کر دیا ہے ۔ممتا بنرجی نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ وہ چیف سکریٹری کو رخصت حاصل کرنے کی اجازت کے بعد انہیںتین سال کیلئے اپنا مشیر کار مقرر کررہی ہیں ۔وہیں ہوم سکریٹری ایم کے دیویدی ریاست کے نئے چیف سکریٹری اس سے پہلے بندواپادھیائے کو دہلی بلانے کے مرکزی حکم کو نظرانداز کر ممتا نے وزیراعظم نریندر مودی کو خط لکھ کر حکم واپس لینے کی درخواست کی تھی ۔مرکزی حکومت نے 28 مئی کی رات بندوپادھیائے کی سیوائیں مانگی تھیں اورانہیں پیر کی صبح دہلی میں ذمہ داری سنبھالنے کو کہا تھا ۔مرکزی حکومت نے مغربی بنگال کے سابق چیف سکریٹری بندوپادھیائے کو وجہ بتاو¿ نوٹس جاری کرد یا فی الحال معاملہ رکتا نظر نہیں آرہا ہے ۔مرکز نے وجہ بتاو¿ نوٹس بھیجتے ہوئے بندوپادھیائے کے نہ آنے کی وجہ پوچھی ہے ۔مرکزاپنے حکم کی تعمیل نہ ہونے کی وجہ سے ایکشن کے کئی متبادل تلاش رہا ہے ۔یاس طوفان پر وزیر اعظم نریندر مودی کی میٹنگ میں شامل نہ ہونے والے مغربی بنگال کے چیف سکریٹری کو دہلی طلب کیا گیا تھا لیکن وہ نہیں گئے کیوں کہ ممتا سرکار نے انہیں ریلیو نہیں کیا ۔وزیراعلیٰ ممتا بنرجی کے ساتھ میٹنگوں میں شامل ہوئے تازہ واقعہ کے بعد قاعدہ کے مطابق دیگر امکانات پر بھی غور کیا جارہا ہے لیکن آخری فیصلہ سیاسی سطح پر ہی ہونا ہے ۔بنگال کے چیف سکریٹری کو ریاستی حکومت کے کہنے پر مرکزی حکومت کی رضامندی کی بنیاد پر انہیں تین مہینہ کی توسیع دی گئی تھی ۔دلیل دی جارہی ہے انہوں نے ایکشٹنشن نہیں مانگا تھا بلکہ یہ ریاستی سرکار کی تجویز تھی ۔انہوں نے ریٹائرمنٹ کافصلہ لیا ۔اب جب ان کا استعفیٰ ہوگیا ہے تو یہ سمجھا جا سکتا ہے یہ قدم انہوں نے امکانی کاروائی سے بچنے کے لئے اٹھایا ۔یہ پہلا موقع نہیں ہے جب ممتا سرکار کا مرکزکے ساتھ حکام کے تبادلہ یا ان کے ترقی کو لیکر ٹکراو¿ ہوا ہو ۔اس سے پہلے پچھلے سال دسمبر میں بھاجپا صدر جے پی نڈاکے قافلے پر ہوئے حملے کے بعد مرکزی وزارت داخلہ نے بنگال کے تین آئی پی ایس افسروں کو طلب کیا تھا ۔لیکن ممتا سرکار نے انہیں ذمہ داری سے آزاد نہیں کیا اور مرکزاور ریاستی سرکار کے درمیان نظریاتی اختلاف ہو سکتا ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ انتظامی افسران کو سیاسی مہرے کیطرح استعمال کیا جائے ۔کیا کہتا ہے قاعدہ : واقف کاروں کے مطابق کوئی افسر ریست میں تعینات ہے تو اس پر مرکز کو تقرری کرنے کی کاروائی کے لئے ریاست کی اجازت لینی ہوتی ہے ۔ریاست حکم کو ماننے سے انکار کر سکتی ہے کسی افسر کو دہلی طلب کرنے پر بھی ریاست کی منظوری ضروری ہے ۔اس لئے ممتا نے بندوپادھیائے کو ریلیو نہ کرنے کا یہی قاعدہ اپنایا ہوگا ۔
(انل نریندر)
02 جون 2021
محبوبہ کو گھمانے کے چکر میں پکڑا گیا میحول چوکسی!
ہندوستانی بینک سے قرض جعلسازی معاملے میں مطلوب مفرور ہیرا کاروابری میحول چوکسی کے بارے میں اینٹی گوا اور بار بوڈا کے وزیراعظم گیشٹن براو¿نٹ نے کہا شاید میحول چوکسی اپنی محبوبہ کو ڈنر کرانے ہا ان کے ساتھ رنگین پل بتانے کے لئے کشتی کے ذریعے پڑوسی دیش ڈومی نکہ گیاتھا ۔وزیراعظم کے مطابق میحول چوکسی کو اس وقت گرفتار کیاگیا جب وہ اپنی محبوبہ کے ساتھ رومینٹک ٹرپ ڈومینکا گئے تھے ۔اب اسے بھارت واپس بھیجا جا سکتا ہے ۔انہوں نے دعویٰ کیا بھارت نے میحول چوکیس کی حوالگی کے دستاویزات کے ساتھ ساتھ ایک پرائیویٹ جہاز کو ڈومنیکا بھیجا ہے ۔اینٹی گوا کے وزیراعظم کے مطابق ہندوستانی حکام ،دستاویزات کی شکل میں ثبوتوں کے ساتھ ڈومینیکا گئے ہیں ۔جس سے وہاں یہ ثابت ہو سکے کہ میحول چوکسی ایک سنگین مالی جعلسازی کاملزم ہے اور اسے بھارت بھیج دینا چاہیے ۔پی ایم گیشٹن نے ڈومینیکن سرکار سے کہا ہے کہ میحول چوکسی کو اینٹی گوا نہیںبھارت بھیجا جاناچاہیے ۔وہیں چوکسی کے وکیلوں نے کہا ان کا23 مئی 2021 کو بھارت کے لئے کام کررہے لوگوں اور اینٹی گوا کے حکام نے اغوا کر لیا ہے ۔اسے بری طرح مارا پیٹا گیا اس لئے ایک جہاز کے ذریعے ڈومینیکا لے جایا گیا ۔جہاں سے گرفتار کر لیا گیا وہیںاینٹی گوا پولیس چیف نے صاف کیا میحول چوکسی کا نہ تو اغوا ہوا ہے اور نہ ہی اسے ٹارچر کیاگیا ہے ۔اس کی ایک تصویر سامنے آئی ہے جس میں اس کی آنکھ سوجھی ہوئی تھی اس کے ہاتھ پہ خرونچ کے نشان تھے میحول چوکسی کی حوالگی دستاویزات کے ساتھ بھارت نے ایک پرائیویٹ جہاز ڈومنیکا بھیجا ہے حالانکہ ہندوستانی حکام نے تصدیق نہیں کی ہے اینٹی گوا نیوز روم کے مطابق قطر ائیر ویز کا ایک پرائیویٹ جہاز ڈگلس چارلس ہوائی اڈے پر اترا جس کے بعد چوکسی کی ہوالگی کو لیکر قیاس آرائیاں جاری ہیں ۔
(انل نریندر)
فوج کی بردی پہن نکیتانے شوہر کی بڑائی شان !
پلوامہ حملے میں شہید ہوئے میجر وبھوتی شنکر ڈھونڈیال کی بیوی نکیتا کول سنیچر کے روز فوج میں لیفٹننٹ بن گئیں انہوں نے 8 سروس کمیشن ایگزام پاس کرنے کے بعد پچھلے سال انٹر ویو میں سلیکٹ ہونے کے بعد ٹریننگ لینا شروع کی تھی چنئی کی آفیشیل ٹریننگ اکیڈمی میں ٹریننگ پوری ہونے کے بعدانہیں فوج میں لیفٹننٹ عہدے پر کمیشن ملا ۔فوج کی نارتھ کمانڈ کے کمانڈر لیفٹننٹ جنرل وائی کے جوشی نے اکیڈمی میں ان کے کندھے پر اسٹار لگایا ڈیفنٹ وزارت ادھم پور کے پی آر او نے سرکار ی ٹوئیٹر ہینڈل پر اس تقریب کا ایک مختصر ویڈیوشیئر کیا ہے نکیتا کے شوہر میجر وبھوتی سمیت سکورٹی فورس کے پانچ جوان پلوامہ میں 18 فروری 2019 کو دہشت گردوں کے ساتھ ہوئی مڈبھیڑ میں شہید ہو گئے اس میں دہشت گرد تنظیم جیش محمد کے تین آتنکی بھی مارے گئے پی آر او ادھم پور نے ٹوئیٹ کیا کہ جان قربان کرنے والے میجر وبھوتی شنکر ڈھونڈیال کو بعد از مرگ شوریہ میڈل سے سمانت کیا گیا تھا انہیں سب سے شاندار شردھانجلی دیتے ہوئے آج ان کی بیوی نکیتا کول نے فوج کی بردی پہن لی یہ ان کے لئے فخر کا موقع ہوگا کیوں کہ ملیٹری کمانڈ ر وائی کے جوشی نے ان کے کاندھے پر اسٹار لگایا ۔شوہر سے تلقین لیتے ہوئے دہلی میں ایک ملٹی نیشنل کمپنی کی نوکری چھوڑ کر نکیتا کول نے فوج میں شامل ہونے کا فیصلہ لیا تھا ۔انہیں شارٹ سروس کمیشن کے بعد ٹریننگ لینا شروع کی تھی ۔اس کو لیکر کئی لوگوں نے شوشل میڈیا پر فوج اور شہید فوجی ملازم کی بیوی کی تعریف کی ہے ۔او ٹی اے میں چنے جانے کے بعد نکیتا کول نے کہا تھا کہ میںبڑے نقصان سے نکلنے کے لئے اپنا وقت لیا اور شارٹ سروس کمیشن کے امتحان میں بیٹھنے کا فیصلہ آہستہ آہستہ شروع ہوا پچھلے سال ستمبر میںفارم بھرنا بڑا فیصلہ تھا لیکن میں نے طے کر لیا تھا کہ میں بھی اپنے پتی کیطرح اسی راستہ پر چلنا چاہتی ہوں ۔ہم نکیتا کے جذبہ کو سلام کرتے ہیں ۔اس سے بہتر اور کوئی طریقہ نہیں ہو سکتا تھا کہ اپنے شہید پتی کو شردھانجلی دینے کا ۔
(انل نریندر)
ایک بار پھر زہریلی شراب کا قہر!
زہریلی شراب پینے سے بڑے پیمانہ پر لوگوں کے مارے جانے کے واقعات آئے دن دیش کے مختلف حصوں میں ہوتے رہتے ہیں ۔لیکن ہر بار کچھ جانچ اور کچھ لوگوں کے خلا ف سزا کی کاروائیاں وغیرہ کی کھانا پوری کے بعد معاملے کو رفع دفع مان لیا جاتا ہے ۔ناجائز شراب بنانے اور اس کے کاروبار پر نکیل کسنے کی جو پہل ہونی چاہیے وہ کہیں ہوتی نظر نہیں آتی اسی کا نتیجہ ہمارے سامنے ہے ۔اتر پردیش کے علی گڑھ میں زہریلی شراب پینے سے 71 لوگوں کی مو ت ہو چکی ہے وہیں 12 سے زیادہ استپال میں زیر علاج ہیں تین دن میں انتظامیہ متاثرہ دیہات کا جائزہ تک نہ لے پایا اتوار کی دوپہر پوسٹ مارٹم سینٹر پہونچے ایم ایل سی مان وندر پرتاپ سنگھ نے 65 موتوں کی بات مانی ہے ۔حالانکہ پولیس و انتظامیہ کا زور تعداد چھپانے پر رہا ۔اتوار کو ہی 15 موتیں درج ہوئی ہیں ا س معاملے میں انتظامیہ نے کچھ شراب محکمہ کے افسران اور ملازمین کو معطل کر اپنی ذمہ دار ی پوری کر لی ہے ۔دلچشپ یہ ہے کہ تازہ واردات میں زہریلی شراب لوگوں نے ایک اتھرائز دوکان سے یعنی ٹھیکہ سے خریدی تھی ۔بہت سال پہلے دیسی شراب کی بکری کے لئے بھی ٹھیکہ دئیے جانے لگے تھے ۔مانا گیا تھا کہ اس سے دیسی شراب کی کوالٹی ، اس میں زہریلے اجزاءوغیرہ کی جانچ میں مدد ملے گی ۔لوگوں کو چوری چھپہ جہاں تہاں گاو¿ں در گاو¿ں بننے والی شراب دیسی پی کر موت کے آغوش میں سما جانے کے واقعات پر روک لگے گی ۔لیکن ایساہوتا نظر نہیں آرہا ہے اس درمیان بنیادی ملزمان میں سے ایک پچاس ہزار کے انعامی ملزم وپن یادو کو گرفتار کیا ہے ۔پنوٹھی نے پولیس کی ناک کے نیچے چل رہی ناجائز شراب کی فیکٹری پر چھاپہ مارا گیا اور دو تھانہ انچارج رجت شرما ،پروین مان اور دوداروغہ چوکی کے انچارج سدھارتھ کمار و شکتی راٹھی کومعطل کر دیا گیاہے وہیں متوفین کے رشتہ داروں سے بے ہودگی کی شکایت پر پوسٹ مارٹم سینٹر کے انچارج کو بھی ہٹا دیا گیا ہے ۔پولیس نے سرغنہ راشٹریہ لوک دل لیڈر انل چودھری و ٹھیکیدار نریندر سنگھ کو تین دن کے پولیس ریمانڈ پر لے لیا ہے ۔ناجائز طور سے بنائی جا رہی شراب میں تو اس کی کوالٹی کنٹرول وغیرہ کا کوئی اسٹنڈرڈ ہے نہیں ہے اس لئے اس میں من مانے طریقہ سے ایسے اجزاءکو ملا دیا جاتا ہے جس سے شراب زہریلی ہو جاتی ہے ایسا نہیں کہ انتظامیہ ان حقائق سے انجان ہے یا ناجائز طور سے بننے والی شراب کے ٹھکانون کی جانکاری نہیں ہے مگر وہ کسی لالچ یا دباو¿ میں اپنی آنکھیں بن رکھتے ہیں اسی طرح زہریلی شراب پی کر لوگوں کا مرنا کسی آفت سے کم نہیں ان موتوں کو صرف اس لئے رفع دفع نہیں کیا جاسکتا کہ وہ لوگ غریب تھے اور اپنی نشہ کی بری عادت کی وجہ سے مارے گئے ۔
(انل نریندر)
01 جون 2021
انلاک میں تعمیرات کیسے شروع ہونگی یہ بڑی چنوتی ہے !
دہلی سرکار نے 31 مئی سے بھلے ہی راجدھانی میں تعمیراتی کاموں کو انلاک کرنے کا اعلان کر دیا ہے مگر بڑا سوال یہ ہے کہ کام کیسے شروع ہوگا جب زیادہ تر مزدور شہر چھوڑ کر جاچکے ہیں اور ان کے لوٹنے میں کئی ماہ لگ جائیں گے ایسے میں کام تیزی پکڑ پائے گا اس طرح کے حالات نظر نہیں آرہے ہیں ۔دہلی میں 19 اپریل کی رات سے لگے لاک ڈاو¿ن میں اب دو معاملوں میں دہلی سرکار نے جمع کو چھوٹ دے دی ہے یہاں غور کرنے والی بات یہ ہے کہ دہلی سرکار کی طرف سے اس بار لگائے گئے لاک ڈاو¿ن میں تعمیراتی سرگرمیوں پر پابندی نہیں لگائی گئی تھی ۔پی ڈبلیو ڈی نے اپنے انجینئروں کو ہدایت دی تھی کہ جس کے بھی پاس مزدور یا تعمیرات سے متعلق مٹیریل یا دیگر سامان دستیاب ہے وہ کام جاری رکھیں جس کے چلتے کام کچھ وقت تک جاری رہا ۔ویسے زیادہ تر مزدور اپنے گاو¿ں جا چکے ہیں۔دہلی ٹرانپورٹ کارپوریشن کی رپورٹ بتاتی ہے لاک ڈاو¿ن کے دوران آٹھ لاکھ سے زیادہ لوگ دہلی چھوڑ گئے ہیں ان میں بڑی تعداد میں تعمیراتی مزدور تھے ان میں اتر پردیش بہار جھارکھنڈ کے لیبر زیادہ تھے آج حالت یہ ہے کہ دہلی کی کسی بھی تعمیراتی جگہ پر پہلے کے مقابلے میں چار سے آٹھ فیصدی تک مزدور رہ گئے ہیں ایسے میں دہلی میں ڈولپمنٹل کام کی زیر تعمیر پروجیکٹوں پر کام جاری رکھنا مشکل بھرا کام ہے ۔پی ڈبلیو ڈی محکمہ کے ایک سینئر افسر کہتے ہیں کہ کچھ تعمیراتی جگہوں پر اکا دکہ لیبر موجود ہے لاک ڈاو¿ن کے دوران آہستہ آہستہ مزدور اپنے گاو¿ں جا چکے ہیں اب جب لیبر واپس لوٹے گی تبھی کام رفتار پکڑ سکے گا ۔
(انل نریندر)
بھیک مانگیں ،چوری کریں یا ادھار لیں تنخواہ ادا کریں!
ہائی کورٹ کے حکم کے باوجود ،میونسپل ملازمین و ریٹائرڈ ملازمین کو پنشن و بقایا پیسہ کی ادائیگی نہ کرنے پر سخت ناراضگی جتائی ہے ۔عدالت نے نارتھ ایم سی ڈی کے کمشنر کو بھی طلب کیا ہے ۔جسٹس وپن سانجھی اور جسٹس جسمیت سنگھ کی بنچ نے کہا کہ آپ بھیک مانگیں ، ادھار لیں یا چوری کریں لیکن آپ کو ملازمین کو پیسہ اداکرنا ہی ہوگا عدالت نے صاف کیا اگر اگلی تاریخ تک یعنی 5 اپریل کے حکم کی تعمیل نہیں کی جاتی ہے تو نارتھ ایم سی ڈی کمشنر سنجے گوئل سماعت میں موجود رہیں گے ۔یہ ھدایت آل انڈیا دہلی پرائمری ٹیچرس سنگھ کی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے دیا ۔مورچہ کے وکیل رنجیت شرما نے عدالت کو بتایا کہ عدالتی احکامات کے باوجد ریٹائرڈ ملازمین کو پنشن نہیں دی گئی اور انہوں نے نارتھ ایم سی ڈی کے خلاف توہین عدالت کا کیس شروع کرنے کی مانگ کی عدالت نے اس معاملے میں نوٹس جاری کرکے ایم سی ڈی کو دو دن میں اپنا موقف رکھنے کی اجازت دی ۔نارتھ ایم سی ڈی کی طرف سے پیش سرکاری وکیل دووے پرکاش پانڈے نے کہا کہ وہ تنخواہ کے معاملے میں رپورٹ داخل کرنے کی کاروائی میں لگے ہیں اور تنخواہ اور پنشن کے لئے پیسہ تقسیم کرنے کی کوشش کی ہے اور اپریل تک کی تنخواہ ادا کر دی گئی ہے بنچ نے ان کی دلیل کو خارج کرتے ہوئے کہا ہم اس بارے میں فکر مند نہیں ہیں آپ بھیک مانگتے ہیں ادھار لیتے ہیں یا چوری کرتے ہیں لیکن پیسہ کی تو ادائیگی کرنی ہوگی ۔
(انل نریندر)
کسانوں کے احتجاجی مظاہرے کو ہوئے 6 مہینے!
کسانوں کے تین زرعی قوانین کے خلاف کسانوں کے احتجاجی مظاہرہ ابھی بھی جاری ہے ۔سندھو بارڈر پر کسانوں کا احتجاج کرتے ہوئے 6 مہینے سے اوپر ہو گئے ہیں ۔اتوار کو مظاہرے کا 185 واں دن تھا ۔کسانوں کا کہنا ہے کہ جب تک ان کی مانگیں پوری نہیں ہو جاتی تب تک وہ مظاہرہ کرتے رہیں گے ۔دہلی کی سرحدوں پر کسانوں کی رہنمائی کررہے مشترکہ کسان مورچہ کی طرف سے جمع کو بیان جاری کر کے کہا گیا کہ ان کو آندولن کرتے ہوئے 6 مہینے پورے ہو چکے ہیں ۔آندولن کو دیکھتے ہوئے ہم نے سندھو بارڈر پر پہلے پا نی لنگر اور رہنے کی سہولت تھی اب یہاں پر سینکڑوں کلو دودھ کی سیوا روز ہو رہی ہے ساتھ ہی دیگر سماجی انجمنوں نے بھی دہلی کی سرحدوں پر کسانوں کے رہنے اور کھانے اور طبی اور دیگر ضروری سیوا کا انتظام کیا ہے ۔یہ آندولن ایک لمبی لڑائی ہے مرکزی سرکار ان قوانین کو واپس نہ لیتے ہوئے کسانوں کو دیگر مسئلوں میں الجھا کر ان کے صبر کا امتحان لے رہی ہے لیکن کسانوں کے لگاتار جوش نے سرکار کو مجبور کیا ہوا ہے آنے والے وقت میں یہ لڑائی اور مضبوط ہوگی ۔لگتاہے کہ سرکار نے کسانوں کی فکر کو وزیراعظم کسان امدادی رقم تک محدود مان لیا ہے ۔اور آندولن کررہے کسانوں کو چند سرپھرے لوگوں کا آندولن ما ن کر ان کی فکر کرنا چھوڑ دی ہے دونوں طرف ضد سوا ر ہے ۔کسانوں کا کہنا ہے کہ سرکار تینوں قوانین واپس لے تو وہ گھر واپس لوٹ جائیں گے ۔جبکہ سرکار کا کہناہے کہ کسان تینوں قوانین کو واپس لینے کی مانگ چھوڑ دے تو زرعی قوانین میں کچھ ترمیم کی جا سکتی ہے ۔کسان لیڈروں کا کہنا ہے کہ ہم بھی اپنے گھر جانا چاہتے ہیں لیکن کورونا کی پہلی لہر میں بھی سرکار نے ہماری نہیں سنی تو اب دوسری لہر سے کسے ڈرا رہے ہیں کسان لیڈر راکیش ٹکیت کا کہنا ہے کہ سرکار نے کسانوں کو پتلے پھوکنے پر مجبور کیا ہے ۔سرکار کو پہلے طے کرنا ہوگا کورونا وبا بڑی ہے یا تینوں زرعی قوانین اگر بیماری بڑی ہے تو سرکار تینوں زرعی قوانین منسوخ کرکے کسانوں کی گھر واپسی کا راستہ کیوں نہیں کھولتی ۔ٹکیت نے تلخ لہجہ میں آگاہ کیا کہ سرکار اپنی ضد پر اڑی ہے تو کسان اگلے عام چناو¿ یعنی 2024 تک سرحدوں پر ڈٹے رہیں گے لمبی خاموشی کے بعد دہلی کی سرحدوں پر پھر آندولن کی گونج سنائی دی ہے اس سے لگتاہے کہ کسان کھیتوں سے اپنے ضروری کام نپٹا کر لوٹنے لگے ہیں ۔جب معیشت کے دوسرے سیکٹر مضر نتیجہ دے رہے ہوں تو ایسے میں کساوں کی بات غور سے سنی جانی چاہیے ۔اور اس معاملے کو نپٹا دینا چاہیے ۔
(انل نریندر)
30 مئی 2021
ارادے اچھے لیکن ذمہ داری پوری نہیں!
دہلی ہائی کورٹ نے پیر کو ڈرگ کنٹرولر کو ہدایت دی کہ وہ کووڈ 19 کے علاج میں استعمال دباو¿ کی کمی کے درمیان نیتاو¿ں کے ذریعے وسیع پیمانہ پر خریدی گئی دواو¿ں کے معاملے میں جانچ کریں ۔دوسری عدالت نے یہ تبصرہ کیا ہے بھاجپا ایم پی گوتم گمبھیر اچھی منشا سے دوائیں بانٹ رہے تھے لیکن ان کے جذبہ نے انجانے میں ہی نقصان کیا ہے جسٹس وپن سانجھی اور جسٹس جسمیت سنگھ کی بنچ نے دہلی کے ڈرگ کنٹرولر کو اسی طرح کی جانچ آف ممبر اسمبلی پریتی تومر و پروین کمار کھے ذریعے آکسیجن خریدنے اور جمع کرنے کے الزامت کے معاملے میں صفائی پیش کرنے کی ہدایت دی ہے ۔بنچ نے کہا ڈرگ کنٹرولر کو یہ پتہ لگانا چاہیے کہ کیسے کسی شخص کے لئے فیوی فلو دوا کی 2000ڈوز خریدنا ممکن ہوا جبکہ پہلے سے ہی دوا کی کمی ہے ۔اور دوکاندار نے کیسے اتنی دوا دے دی ؟ بنچ نے یہ بھی کہا ایم پی گوتم گمبھیر نے اس اچھی منشا سے کیا ا س پر عدالت کو کوئی شق نہیں لیکن ہمارا سوال یہ ہے کہ کیا یہ ذمہ دارانہ برتاو¿ ہے ۔جب آپ جانتے تھے کہ دوا کی کمی ہے اور حقیقت میں یہ نقصان دہ قدم تھا ۔بھلے ہی وہ انجانے میں ہوا ہوگا یہ طریقہ ٹھیک نہیں ہے ۔طریقہ نہیں ہے کہ آپ بازار سے اتنی دوائیں خریدیں باقاعدہ طور پر نہیں عدالت نے یہ تبصرہ مفاد عامہ کی عرضی پر کیا اور جس میں نیتاو¿ں کے ذریعہ دوائیں خریدنے اور تقسیم کرنے کے الزامات کو لیکر ایف آئی آر درج کرنے کی ہدایت دینے کی درخواست کی گئی ۔جب لوگ دواو¿ں کی کمی کا سامنا کررہے تھے ایسے میں دوا بازار سے کثیر مقدار میں خرید کر اکھٹا کرنا یہ طریقہ صحیح نہیں مانا جا سکتا ۔
(انل نریندر)
ٹرمپ کے بعد بائیڈن نے بھی چین کےخلاف مورچہ کھولا!
کورونا وائرس کی اپج کو لیکر امریکہ نے چین کے خلا ف مورچہ کھو ل دیا ہے ۔امریکی صدر جوبائیڈن نے بدھوار کی رات خفیہ ایجنسیوں سے سارس- کوو 2- وائرس کا ذریعہ ڈھونڈنے کی کوشش میں تیزی لانے کو کہا ہے ۔معاملے میں 90 دن کے اندر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی ہے صدر بائیڈن نے یہ حکم اس خفیہ رپورٹ کے سلسلے میں جاری کیا ہے جس میں وبا کے انکشاف سے پہلے نومبر 2019 میں ووہان انسٹی ٹیوٹ اینڈ سائنس کے تین تحقیق کنندگان کے کورونا سے ملتے جلتے اثرات سامنے آنے کے بعد اسپتال میں بھرتی ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے ۔امریکی صدر نے کہا ، میں نے خفیہ ایجنسیوں کو ہدایت دے دی ہے کہ وہ پیدا وائرس سے متعلق اطلاعات اکھٹی کرنے اور ان کا تجزیہ کرنے کی کوشش کریں تاکہ ہم اس معاملے میں فیصلہ کن نتیجہ پر پہونچ سکیں ۔اسی کوشش میں امریکی لیبوٹری اور سرکاری ایجنسیوں کی طرف سے کی گئی تحقیقات بھی شامل کرنے کو کہا گیا ہے ۔تاکہ وائرس کی گہری معلومات حاصل ہو سکیں بائیڈن نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ یکساں خیالات رکھنے والے سبھی دنیا کے ساجھیداروں کے ساتھ کام کرنا جاری رکھے گا وہ چین پر مکمل صفافیت اور ثبوت پر مبنی بین الاقوامی جانچ میں شامل ہونے اور سبھی ثبوتوں کی تہہ تک پہونچنے اور انہیں دستیاب کرانے کا دباو¿ بناتا رہے گا جانکاری اکھٹی کر امریکہ اس سے اور مو¿ثر ڈھنگ سے لڑ سکے ۔چین نے بائیڈن انتظامیہ پر ذمہ داری سے بھاگنے اور سیاست کرنے کا الزام لگایا ۔چین کے وزارت خارجہ کے ترجمان ماو¿لیان نے کہا کہ بائیڈن کا حکم دکھاتا ہے کہ امریکہ ثبوت کی پرواہ نہیں کرتا ۔امریکہ کو خود سبھی جیو لیباٹریز کو جانچ کے لئے کھولنا چاہیے ۔
(انل نریندر)
جوڈیشیل حکام کے ورثاءکو مدد و روزگار دینے پر غور ہو !
دہلی ہائی کورٹ نے کووڈ کے سبب جان گنوانے والے جوڈیشیل افسران کے ورثاءکو ایکس گریشیا مدد و دوسری گرانٹ کے مجاذ کی بنیاد پر روزگار دینے پر ہمدردی اور حساسیت کے ساتھ غور کرنے کی ہدایت دہلی حکومت کو دی ہے ۔ان حکام کو دہلی سرکار نے خود فرنٹ لائن ورکر مانا ہے ۔معاملے کی سماعت کے دوران دہلی جوڈیشیل سروسز ایسوسی ایشن نے کورٹ کو بتایا کہ دہلی سرکار نے ویکسی نیشن کے لئے جوڈیشیل حکام کو فرنٹ لائن ورکر نہیں مانا ہے ۔انجمن نے درخواست کی کہ دیگر فرنٹ لائن ورکروں کو جو فائدے حاصل ہیں وہ جودیشیل حکام کو دئیے جانے چاہیے ۔انہوں نے بتایا کہ یہ کٹیگری صرف ویکسی نیشن کے مقصد سے بنائی گئی ہے ۔اگر مستقبل میں اس میں کوئی دوسرا پہلو شامل کئے جائیں گے تو اس کا فائدہ جودیشیل افسران کو بھی دیا جائے گا ۔سرکار کی طرف سے کورٹ کو بتایا گیا ہے جن ججوں کے رشتہ داروں کو ایگریشیا مدد اور سفارش کی بنیاد پر روزگار دینے کے اشو پر سرکار غور کررہی ہے بنچ نے کہا کہ وہ امید کرتے ہیں دہلی سرکار اس مسئلے پر ہمدردانہ طور پر غور کر ے گی کیوں کہ دہلی سرکار نے خود جوڈیشیل حکام کو فرنٹ لائن ورکر کی شکل میں منظوری دی ہے ۔یہ بات ہائی کورٹ نے شوبھا گپتا راجیش سجدیو سمیت کئی وکیلوں کے گروپ کی طرف سے دائر عرضی پر سماعت کی جس میں کہا گیا تھا کہ جوڈیشیل حکام کی مدد کے لئے مکینزم بنائی جائے چونکہ انہیں کورونا کا علاج و اسپتالوں میں بیڈ نہیں مل رہے ہیں ۔اس عرضی اور کورٹ اسٹاف کے لئے کچھ راحتوں کی مانگ کا نپٹارہ کرتے ہوئے کہا کہ دہلی سرکار نے اس مسئلے پر مناسب غور کیا ہے ایسوسی ایشن کی طرف سے سینئر وکیل دیان کرشن نے کہا کہ کورٹ پچھلے حکم کے بعد دہلی سرکار نے اس مسئلے پر مثبت غور کیا اور کورونا سے متاثر جج صاحبان کو علاج دستیاب کرانے کے لئے سبھی ضلع ججوں کے ساتھ بات چیت کے لئے چیف آئینی سکریٹری کو نوڈل افسر مقرر کیا ہے ۔بنچ نے بتایا ہائی کورٹ نے جسٹس مکتا گپتا کی رہنمائی میں ایک بنی کمیٹی نے جوڈیشیل حکام کے کورونا علاج سے متعلق خرچ کے سلسلے میں ہدایت جاری کی تھی اس مسئلے کو سرکار نے سلجھا لیا ہے وہیں عدالت نے جوڈیشیل حکام و کورٹ اسٹاف کے لئے غیر نوٹیفائی اسپتال میں علاج کے خرچ کی واپسی کے مسئلے پر کہا اس پر کوئی حکم جاری کرنا جلدبازی ہوگی ۔اس سلسلے میں پہلے ہی سے کئی عدالتی فیصلے موجود ہیں اس لئے ابھی بڑا آدیش جاری کرنا ٹھیک نہیں ہوگا ۔
(انل نریندر)
سبسکرائب کریں در:
تبصرے (Atom)
میلانیا نے امریکہ میں یہ نئی جنگ چھیڑ دی
ایران جنگ میں سیز فائر ہوتے ہی امریکہ کے اندر ایک اور جنگ شروع ہو گئی ہے ۔آپ حیران ہوں گے کہ یہ کون سی جنگ ہے ؟ بتادیں کہ ایپسٹین فائلس کی ...
-
سپریم کورٹ میں بھی عجیب و غریب مقدمات آرہے ہیں۔ تازہ مثال بحریہ کے کچھ افسروں پر بیویوں کی ادلہ بدلی سے متعلق معاملات ہیں۔ بحریہ کے ایک اف...
-
ہندوتو اور دھرم پریورتن، گھر واپسی سمیت تمام معاملوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس پریوار سے جڑے لیڈروں کے متنازعہ بیانات سے وزیر...
-
مدھیہ پردیش کے ہائی پروفائل ہنی ٹریپ معاملے سے نہ صرف ریاست کی بلکہ دہلی کے سیاسی حلقوں میں مچا دئے معاملے میں اہم سازشی گرفتار ہو چکی شیو...