Translater
03 جون 2020
فل ہواہسپتالوں کے مردہ گھر کا فریزر!
راجدھانی میں کورونا سے ہوئی موت کے بعد لوگوں کی لاشوں سے مختلف ہسپتالوں کی مورچری(مردہ گھر)ٰ کے فریزر بھرچکے ہیں۔ جگہ نہ ہونے کی وجہ سے چالیس فیصدی لاشوں کو فرش پر ہی رکھا جارہا ہے۔ کورونا رپورٹ نہ آنے کے سبب لاشوں کو ان کے رشتہ داروں کو بھی نہیں دیا جارہاہے اور متاثرہ خاندان تین تین دن سے انتظار کررہے ہیں لیکن لاشوں کو ہسپتال کے ذریعہ سپرد نہیں کیاجارہا ہے۔ روہنی کے امبیڈکر ہسپتال کے مردہ گھر میں 72گھنٹے کورونا مشتبہ شیخ رام کمار کی لاش رکھی ہے اس کی بیوی انکیتا نے بتایا کہ وہ 26مئی کی صبح وہ دودھ لینے کے لئے گئے تھے۔ اسی دوران چکر کھاکر گر گئے اور بے ہوش ہوگئے۔ کام سے خود نکلنے لگا، انہیں پاس کی ایک کلینک میں لے جایا گیا۔ جہاں سے انہیں ایک پرائیویٹ ہسپتال میں ریفر کردیا۔ جہاں ڈاکٹروں نے مردہ قرار دے دیا۔ پولیس نے لاش کو امبیڈکرہسپتال کی مورچری میں رکھ وادیا تین دن بعد رشتہ داروں کو لاش نہیں دی گئی اور بتایا گیا کہ ابھی اس کی کووڈ رپورٹ نہیں آئی ہے۔ آنے کے بعد دیں گے۔ یہی حال راجدھانی کے دوسرے مردہ گھروں کا ہے۔ جہاں 571سے زیادہ مشتبہ کورونا لاشیں ہیں ان کو بھی کورونا رپورٹ کا انتظار ہے۔ لوک نائیک ہسپتال میں 106 لاشیں رکھی ہوئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق 80لاشیں تو مورچری کی ریک میں رکھی گئی ہے۔ جبکہ 26 زمین پر پڑی ہیں۔ اس کے علاوہ صفدر جنگ میں ایک سو تیس، ایمس میں 55، آر ایم ایل میں 35 اور ڈی ڈی یو میں 40اور سبزی منڈی کے اسپتال میں 45اور ایک اورہسپتال ایل ایچ ایم سی میں 35لاشیں رکھی ہوئی ہیں۔ ان سبھی کو کورونا رپورٹ کا انتظار ہے۔ ابھی کورونا انفیکشن بڑھنے کی امید ہے۔ ابھی سے اسپتالوںکا یہ حال ہے تو آگے کیا ہوگا۔
(انل نریندر)
بائیکاٹ میڈ ان چائنا پروڈکٹس!
لداخ میں ایل اوسی پر ایک بارپھر بھارت چین کی فوجیں آمنے سامنے ہیں۔ چین کو سبق سکھانے کے لئے ماہر تعلیم اور انوویٹرس سونم وانگ چک نے میڈ ان چائنا کے سامنا کا بائیکاٹ کر اس کی مالی حالت کمزور کرنے کے لئے مہم شروع کردی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ چینی سامان کا اتنے وسیع پیمانے پر بائیکاٹ کیا جائے کہ اس کی معیشت ہی تباہ ہوجائے اور وہاں کی جنتا غصہ میں چینی لیڈر شپ کا تختہ پلٹ دیں۔ یہ مہم بھارت کے لئے بھی وردان ثابت ہوگی۔ چینی سافٹ ویئر ایک ہفتے چینی ہارڈ ویئر کا ایک سال میں بائیکاٹ کردینا چاہئے۔ ہمیں اتنا عہد بند اور سخت ہونا پڑے گا کہ چین میں بنا کوئی بھی سامان نہیں خریدنا۔ چاہے جو ہوجائے۔ اسی چیز کو ہم بنائیں ہارڈ ویئر ودیگر کچے مال میڈیکل ساز وسامان، چپل جوتے جیسی کئی چیزوں پر آج ہم چین پر منحصر ہیں کیونکہ ان میں سے زیادہ تر سامان کی پیداوار ہمارے دیش میں کم ہوتی ہے لیکن دیش کی عوام کو یہ سمجھنا ہوگا کہ چین سے خریدا مال سے کمایا پیسہ چینی سرکار کی جیب میں جائے گا جس سے وہ بندوقیں خریدکر ہمارے خلاف استعمال کریں گے۔اگر ہم اپنے دیش میں بنا مہنگا سامان بھی خریدتے ہیں تو یہ پیسہ ہمارے مزدور کے لئے کام آئے گا۔ ہمارے دیش کے پیسے کا استعمال چینی سرکار کو ہمارے خلاف استعمال نہیں کرنے دینا ہے۔ چین کے سامان کا بائیکاٹ ہم فوراً نہیں کرسکتے۔ اس منصوبے پر سختی سے عمل کرنا ہوگا اس سے دوسرے ملکوں سے خود ہی آفر آئیں گے اور انہیں نظر آئے گا کہ چین کے سامان کے بائیکاٹ سے ہمارے دیش میں بہت بڑا خلاءہے جس کا فائدہ وہ خود اٹھانا چاہیں گے۔ مرکزی سرکار کو بھی چاہیے کہ وہ چین سے کوئی بھی سامان منگوانے کی اجازت نہ دیں اور میڈ ان چائناکے سامان کا بائیکاٹ کرنے کے معاملہ میں کمی سرکار کی بھی ہے ہم بھی بڑی تصویر نہیں دیکھ پاتے۔ صرف سستا دیکھتے ہیں۔ اگر لوگوں کا نظریہ بدلا تو سرکار کو بھی اپنی پالیسیوں میں خودبخود تبدیلی کرنی ہوگی اور لوگوں کی طرف سے دیش میں بنا سامان اپنانے کی بات سرکار تک پہنچے تو سرکار بھی بڑی پالیسیان بنا پائے گی۔ اگر سرکار اپنی طرف سے میڈ ان چائنا کے سامان پر کوئی سخٹ قدم اٹھاتی ہے تو ہمارے ہی لوگ سرکار پرتانا شاہی ہونے کا الزام لگائےں گے۔ اس لئے مہم کی شروعات نیچے سے ہونی چاہئے
(انل نریندر)
ساڑھے تیرہ کروڑ نوکریاں کورونا نگل جائے گا
کورونا انفیکشن وبا کے سبب جنوری۔ مارچ کے دوران دنیا بھر میں اقتصادی سرگرمیاں سست رہی ہیں جس کا اثر ہندوستانی معیشت پر بھی پڑاہے۔ ریزرو بینک آف انڈیا نے 2019-20 میں اقتصادی ترقی شرح پانچ فیصدی رہنے کا اندازہ لگایا تھا جبکہ این ایس او نے اس سال جنوری اور فروری میں جاری پہلے اور دوسرے ایڈوانس تخمینے میں اضافی شرح 5فیصدی ہی تجویز کیا تھا لیکن کورونا وبا کی وجہ سے جنوری۔مارچ 2020کے دوران چین کی معیشت میں 6.8 فیصدی گراوٹ آئی۔ بھارت میں جی ڈی پی میں جم کر غوطہ کھایا۔ جی ڈی پی اضافہ پچھلے برس 2019-20 کی چوتھی سہ ماہی (جنوری۔ مارچ) میں گھٹ کر تین اعشاریہ ایک فیصدی پر آگئی۔ اس سے پچھلے مالی برس کے برابر سہ ماہی میںیہ پانچ اعشاریہ سات فیصدی تھی۔ نیشنل ٹیلی آفس (این ایس او) نے جمعہ کو یہ جانکاری دی ہے کہ اس سال پورے مالی برس 2019-20 میں جی ڈی پی کی اضافی شرح گرکر 4.2 فیصدی رہ گئی ہے۔ وزارت تجارت کے ذریعے جاری اعدادوشمار کے مطابق کورونا انفیکشن کی وجہ سے اور لاک ڈاو¿ن کے چلتے اپریل میں 8بنیادی صنعتوں کا پروڈکشن 38.1فیصد گھٹا۔ لاک ڈاو¿ن کی بات کریں تو کورونا وائرس نے ہمارے دیش میں نوکریوں پر بھاری اثر دکھایا ہے۔ اس وبا سے پوری دنیا کی معیشت خستہ خال ہونے کا اندیشہ ہے، مانا جارہا ہے کہ اگر حالات ایسے ہی رہتے ہیں تو ہمارے دیش میں کورونا وائرس 13.5 کروڑ نوکریاں نگل جائے گا۔ اس وبا کا سب سے زیادہ اثر سیاحت، ہاسپیٹلٹی، ٹرانسپورٹ اور تعمیراتی سیکٹر پر پڑے گا۔ ان سیکٹروں میں بڑے پیمانے پر سنکٹ کی تلوار لٹکنی شروع ہوگئی اور نوکریوں کا سب سے زیادہ خطرہ ان سیکٹروں میں بڑھا ہے جہاں ملازمین کو ریگولر تنخواہ نہیں ملتی ہے۔ ٹورزم صنعت ایک ایسا ہی سیکٹر ہے اس میں زیادہ تر لوگ ٹھیکے پر کام کرتے ہیں دکانوں ہوٹلوں میں اور ٹریول ایجنسیوں میں کام کرنے والے لاکھوں لوگوں کی روزی روٹی پر خطرہ بڑھ گیا ہے۔ مانا جارہا ہے کہ ٹورزم اور ہاسپیٹلیٹی سیکٹر میں ڈھائی کروڑ لوگوں کو نوکریوں سے ہاتھ دھونا پڑے گا اور وبا کے چلتے لاکھوں لوگ گھروں میں بند ہیں۔ ہوائی وٹریول ایجنسیاں بند ہیں اور اگلے چھ مہینے تک سیاحتی صنعت کے پھلنے پھولنے کے کوئی آثار بھی نہیں ہیں۔ اور یہ سیکٹر پہلے سے ہی مندی کی مار جھیل رہا ہے۔ اس نے پورے طریقے سے کمر توڑ دی ہے اور مانگ میں کمی ہے، پیداوار بند ہے امید کی کوئی کرن دکھائی نہیں پڑتی۔ جس وجہ سے لاکھوں لوگوں پر تلوار لٹک رہی ہے حالانکہ حکومت نے اس سیکٹر کو مندی سے نکالنے کے لئے پیکیج تو دیا ہے لیکن اس سے یہ صنعت کتنی پھل پھول پاتی ہے یہ وقت ہی بتائے گا۔ اسی طریقے سے حالات ٹرانسپورٹ سیکٹر بھی ہیں۔ یہاں لوگوں کی نوکریوں پر خطرہ منڈلا رہا ہے۔ ایسے ہی صنعتی دنیا کے ذرائع بتاتے ہیں کہ ہمارے دیش میں فیکٹریوں میں کروڑوں لوگ دہاڑی مزدوری کی شکل میں کام کرتے ہیں ان سب پر بھی خطرے کے بادل ہیں۔ کل ملاکر حالات بہت خراب ہیں۔
(انل نریندر)
02 جون 2020
دنگے اور آگ زنی کی زد میں 30امریکی شہر
امریکہ میں جم کر دنگے ہورہے ہیں اور یہ آگ زنی امریکہ کے بیس ریاستوں تک پھیل چکی ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اس چناوی سال میں بہت پریشان ہیں۔ ان دنگوں کی شروعات امریکہ کے منی سوٹا ریاست منی پولس میں ایک سیاہ فام شخص جارج فلائیڈ کی موت سے شروع ہوئے۔ گلائیڈ پولیس کے ہاتھوں مارا گیا۔ اس کے مرنے کے بعد پرتشدد مظاہرے ہوئے اور مظاہرین نے دکانوں کو آگ لگادی، دنگوں پر قابو پانے کے لئے پولیس حکام کو آنسو گیس کے گولے چھوڑنے پڑے۔ ربڑ کی گولیاں چلانی پڑیں۔ جمعرات ایک پولیس اسٹیشن میں بھی آگ لگادی گئی یہ مظاہرے 20ریاستوں میں پھیل گئے۔ انہوں نے نامی گرامی کمپنیوں کے شوروم لوٹے۔ بتادیں لوئی بتون کے ایک بیگ کی قیمت ڈھائی لاکھ سے تین لاکھ روپے قیمت ہے۔ یہ شوروم بھی لوٹ لیاگیا۔ معاملہ اس وقت شروع ہواتھا جب ایک سیاہ فام جارج فلائیڈ کو پولیس نے پکڑا اور نیچے گراکر اس کی گردن دبادی۔ اس واقعہ کا ویڈیو وائرل ہوا۔ جس میں زمین پر گرے سیاہ فام شخص کی گردن پر پولیس ملازم گھٹنوں کے بل بیٹھا ہوا ہے۔ فلائیڈ یہ کہتے بھی سنائی دے رہا ہے کہ وہ گردن دبنے سے سانس نہیں لے پارہا ہے۔ لیکن پولیس نے نہیں سنی۔ اور اس نے گردن پر اپنا دباو¿ بنائے رکھا تو تھوڑی دیر بعد اس کی طبیعت بگڑگئی اس کے بعد اسپتال لے جایا گیا۔ جہاں سے مردہ قرار دے دیا۔ اس خبر کے بعد شکاگو، لاس اینجلس سمیت امریکہ متعدد شہروں میں تشدد کا جو دور شروع ہوا وہ رکنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ حالات خراب ہوگئے ہیں۔ جارجیہ کے گورنر منی سوٹا، اٹلانٹا اور درجنوں شہروں میں تشدد بھڑکنے کے بعد فوج کی تعینات کے لئے ایمرجنسی لگادی گئی اور منی پولس اور آس پاس کے شہروں میں نیشنل گارڈ (فوج) کے پانچ سو سے زیادہ جوان تعینات کئے ہیں۔سننے میں آیا ہے کہ وہائٹ ہاو¿س کے باہر بھی بڑی تعداد میں سیاہ فام لوگوں مظاہرے کئے ہیں جو امریکی انتظامیہ کے لئے پریشانی کا باعث بنا ہوا ہے۔
(انل نریندر)
مزدوروں کو سپریم کورٹ سے راحت
گھر جانے کے لئے دومہینے س دردر بھٹکتے مزدوروں کے لئے جمعرات کے روز سپریم کورٹ کو حکم جاری کرنا پڑا۔ یہ اس وقت کیا جب اس نے دیکھا کہ سرکار ان کے لئے کچھ نہیں کررہی ہے اور ان مزدوروں کی پریشانیوں کو سمجھتے ہوئے سپریم کورٹ ومرکزاور ریاستی حکومتوں سے کہاہے کہ اپنے گاو¿ں کی طرف لوٹ رہے شرمک ٹرینوں اور بس کا کرایہ نہ لیں۔ سڑک پر مزدوروں کے سیلاب کوروکا جائے اور انہیں قریب کے شیلٹر ہوم میں لے جاکر رکھا جائے اور جب تک ان کا خرچ سرکار برداشت کرے۔ اور سفر کے لئے مزدوروں کو راستے میں ریلوے کو کھانا دینا ہوگا۔ خیر دیر سے ہی صحیح لیکن سپریم کورٹ کی مداخلت قابل خیر مقدم ہے جوکام سرکاروں کو کرنا چاہئے تھا وہ اب عدالتیں کررہی ہیں۔ کبھی کبھی تو ایسا لگتا ہے کہ سرکاریں پنگو ہوچکی ہیں اور اپنی ذمہ داری نبھانے میں ناکام ہوگئی۔ شاید اس لئے عدالتوں کو سخت فیصلے لینے پڑرہے ہیں۔ سب سے قابل رحم حالت ہندوستانی ریلوے کی ہے جو مزدوروں کو ان کے منزل مقصود تک پہنچانے کے لئے جو شرمک ٹرینیں چلائی ہیں وہ بہت ہی خراب ہیں جو ڈراو¿نی کہانیاں سامنے لارہی ہیں۔ بہار جانے والی ایک ٹرین میں ایک ننھا بچہ اپنی ماں کو جگانے کی کوشش کررہا تھا جو سفر کے دوران بھوک، پیاس اور گرمی سے بحال ہوکر دم توڑ چکی تھی۔ حالانکہ پرواسی شرمکوں کو محفوظ ان کے گھر پہنچانا ساتھ یہ بھی دیکھنا کہ انہیں کورونا وائرس کا انفیکشن نہ ہو۔ یہ بہت چیلنجز بھرا کام ہے۔ فطری طور سے اس مشکل کام کو ہندوستانی ریلوے کو سونپا گیا ہے۔ عدالت نے کہاکہ پرواسی مزدوروں کے رجسٹریشن سسٹم کو چست کرنا ہوگا ریاستی سرکار انتظام کرے جس سے مزدورجلد سے جلد ریل اور بس پکڑ سکیں اور سڑک پر چل رہے مزدوروں کوقریبی شیلٹر ہوم لے جایاجائے۔ عدالت نے یہ بھی کہاکہ ریاستی سرکار نے ہی اپنے مزدوروں کو واپس بلانے کی درخواست کرتی ہے۔ ریلوے کو فوراً سہولت دستیاب کرانی ہوگی۔ سپریم کورٹ میں اس معاملے کی اگلی سماعت 5جون کو مقرر کی ہے۔ بڑی عدالت کے مداخلت کے بعد اب اس سسٹم میں کچھ نہ کچھ تبدیلی ہوگی اور پرواسی مزدوروں کا سفر آسان اور محفوظ ہوگا۔
(انل نریندر)
بالی ووڈ کورونا فرنٹ لائن واریرامیتابھ بچن!
روزی روٹی کا بحران دیکھ کر بڑی تعداد میں لوگ ممبئی چھوڑ کر گاو¿ں جارہے ہیں۔ ان کی مدد کے لئے اس صدی کے مہانائیک امیتابھ بچن اسٹار فرنٹ لائن واریرس بن کر ضرورت مندوں کی مدد کے لئے ہمیشہ کی طرح سامنے آئے ہیں۔ وہ وہ کیا کیا نہیں کررہے ہیں؟ اس کی تفصیل بیان کرنا ممکن نہیں بس اتنا کہہ سکتا ہوں کہ وہ بہت کچھ کررہے ہیں ۔ ان کے ذریعے اٹھائے گئے پبلک سیوا کے کچھ قدم کی تفصیل پیش کرتاہوں۔ ممبئی چھوڑ کر گاو¿ں جانے والے پیشہ ور مزدوروں کے لئے امیتابھ بچن نے بسوں کا انتظام کیا ہے۔ اترپردیش جانے والے ان بسوں میں سے 10بسوں کی کھیپ حاجی علی درگاہ سے روانہ ہوئی۔ 10بسیں یوپی بھیجنے کی اجازت مل گئی ہے۔ امیتابھ بچن لاک ڈاو¿ن کے دوران ضرورت مندون کے لئے ہر 4500 فوڈ پیک بانٹ رہے ہیں۔ انہوں نے اس مشکل گھڑی میں لوگوں کی مدد کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے۔ وہ کووڈ۔19کے بارے میں بیداری پھیلانے کے لئے کئی سرکاری پروجیکٹوں سے جڑے رہے ہیں۔ امیتابھ کی طرح اے بی کارپ لمیٹیڈ کے ایم ڈی راجیش یادو بھی ضرورت مندون کے لئے قابل ستائش کام کررہے ہیں۔ 28مارچ کے بعد سے وہ ممبئی کے الگ الگ مقامات جیسے حاجی علی کی درگاہ اور دھاراوی، جوہو وغیرہ پر روزانہ 4500 پکے ہوئے کھانے کے پیکٹ دے رہے ہیں۔ امیتابھ بچن کی ٹیم ابھی تک بے شمار سینیٹائزر اور 20ہزار سے زیادہ پی پی ای کٹس ممبئی کے اسپتالوں مین بھیج چکے ہیں۔ اس کے علاوہ ان کی ٹیم نے 9مئی سے روزانہ ڈرائی فروٹ پیکٹ 2ہزار پانی کی بوتل اور 1200جوڑے چپل بانٹ رہی ہے۔ ان سب پرواسی مزدوروں کے لئے جو ممبئی سے اپنے گھر جارہے ہیں، ان کے لئے 10بسوں کو لکھنو¿، بستی، گورکھپور کے لئے روانہ کیاگیا۔ ہماری ٹیم نے بھی ممبئی میں سروے کیا جو لوگ اپنے گھر نہیں پہنچ پارہے تھے ان کے دستاویز لئے گئے اور ان کی بنیاد پر انتظامیہ سے اجازت لی اور انہیں بسوں سے روانہ کیاگیا اور ان سے کرایہ نہیں لیا گیا۔ ممبئی سے اترپردیش کے لئے 236لوگوں کو بسوں میں بھیجا گیا۔ اسپتالوں، پولیس تھانوں کو پالیکا کے دفتروں میں بھیجی جارہی پی پی ای کٹس کی تعداد 20ہزار سے اوپر تک پہنچ گئی ہے۔ دیش میں جب جب کوئی پریشانی آتی ہے تو امیتابھ بچن کبھی پیچھے نہیں رہے۔ انہوں نے ہر ممکن متاثرین کی مدد کی ہے۔ مجھے یاد ہے کہ کچھ وقت پہلے انہوں نے اترپردیش کے 100سے زیادہ کسانوں کا قرض ادا کیا تھا۔ ان میں سے کچھ کو خود کشی کرنے سے بچایا تھا۔ بس ہم تو ان کی ستائش ہی کرسکتے ہیں اور پرارتھنا کرتے ہیں کہ بھگوان انہیں لمبی عمر دے اور وہ ایسے نیک کام کرتے رہیں۔ امیتابھ بچن تو پوری ٹرین بھیجنا چاہتے تھے۔ پرواسیوں کے لئے یوپی کے لئے مزید ٹرینیں چلانے کے لئے ریلوے سے بات چل رہی ہے۔
(انل نریندر)
سبسکرائب کریں در:
تبصرے (Atom)
ایران-امریکہ ،اسرائیل جنگ : آگے کیا ہوگا؟
فی الحال 23 اپریل تک جنگ بندی جاری ہے ۔پاکستان دونوں فریقین کے درمیان سمجھوتہ کرانے میں لگا ہوا ہے ۔پاکستانی فوج کے سربراہ عاصم منیر تہران م...
-
سپریم کورٹ میں بھی عجیب و غریب مقدمات آرہے ہیں۔ تازہ مثال بحریہ کے کچھ افسروں پر بیویوں کی ادلہ بدلی سے متعلق معاملات ہیں۔ بحریہ کے ایک اف...
-
ہندوتو اور دھرم پریورتن، گھر واپسی سمیت تمام معاملوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس پریوار سے جڑے لیڈروں کے متنازعہ بیانات سے وزیر...
-
مدھیہ پردیش کے ہائی پروفائل ہنی ٹریپ معاملے سے نہ صرف ریاست کی بلکہ دہلی کے سیاسی حلقوں میں مچا دئے معاملے میں اہم سازشی گرفتار ہو چکی شیو...