Translater
04 اکتوبر 2024
کم سے کم بھگوان کو تو سیاست سے دور رکھو !
تروپتی بالاجی مندر میں لڈو تنازعہ پر سپریم کورٹ نے سخت نصیحت دی ۔سیاست دانوں سے کہا کہ بھگوان کو تو سیاست سے دور رکھو یہ لوگوں کی آستھا کا معاملہ ہے ۔ساتھ ہی سپریم کورٹ نے ثبوت مانگتے ہوئے آندھرا پردیش کے وزیراعلیٰ این چندربابو نائیڈو کے اس دعوے پرسوال اٹھایا کہ تروپتی مندرکے لڈو بنانے میں جانوروں کی چربی کا استعمال کیاگیا۔سپریم کورٹ نے ٹھیک اسی پر سخت رخ اپناتے ہوئے چندربابو نائیڈو سرکار پر سخت نکتہ چینی کی ،تروپتی پرساد کیس سے جڑے اس تنازعہ کو بنیاد بناتے ہوئے جو پانچ عرضیاں دائر ہوئی ہیں ان پر سپریم کورٹ میں سماعت جاری ہے لیکن پہلے ہی دن کورٹ کی نظر میں یہ ثبوت سامنے آگیا کہ پرساد میں ملاوٹی گھی استعمال کا کوئی ٹھوس ثبوت ابھی تک نہیں ملا ہے ۔اس سے نہ صرف پورا معاملہ یا تنازعہ بے بنیاد ثابت ہو رہا ہے بلکہ یہ سوال بھی سامنے آیا آخر کیوں اس تنازعہ کو طول دیا گیا ۔جسٹس وی ا ٓر گوئی اور جسٹس کے وی وشوناتھن کی بنچ نے کہا کہ وزیراعلیٰ سے متعلقہ دعویٰ 18 ستمبر کو کیا جبکہ معاملہ کی ایف آئی آر 25 ستمبر کو درج کی گئی اور ایس آئی ٹی کی تشکیل 26 ستمبر کو کی گئی ۔بنچ نے کہا ایک بڑا آئینی عہدیدار کے لئے پبلک طور سے ایسا بیان دینا مناسب نہیں ہے جو کروڑوں لوگوں کے جذبات کو متاثر کرتا ہے ۔سیاست اور دھرم کو ملانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ۔نائیڈو نے دعویٰ کیا تھا کہ پچھلی سرکار کے دوران تروپتی لڈو بنانے میں استعمال کیا گیا گھی اصلی ہونے کے بجائے جانوروں کی چربی ملا ہوا تھا ۔عدالت نے سوال کیا جانچ جب جاری ہے تو رپورٹ آنے سے پہلے میڈیا میں آپ کیوں گئے ؟ لڈو کا ذائقہ خراب ہونے کی شردھالوو¿ں کی شکایت کی بات اٹھانے پر ریاستی سرکار سے سوال کیا کہ آپ کہہ سکتے ہیں کہ ٹنڈر غلط طریقہ سے دیا گیا مگر یہ کہنا کہ ملاوٹی گھی کا استعمال کیا گیا اس کا ثبوت کہاں ہے ؟ تروپتی مندر دیش کا ایک ایسا بڑا شردھا کا کیندر ہے جہاں سے کروڑوں شردھالوو¿ں کی آستھا جڑی ہے ۔حالانکہ اس وقت کے وزیراعلیٰ جگن موہن ریڈی نے چندربابو نائیڈو پر سیاست کے لئے بھگوان کا یوز کرنے اور جنتا کی توجہ سرکار کے کاموں سے ہٹانے کا الزام لگایا ہے ۔مندر کی پوترتا کو ٹھیس لگانے والی یہ خبریں شردھالوو¿ں کے لئے کسی صدمہ سے کم نہیں مانی جاسکتی ۔مگر جیسا بڑی عدالت نے کہا ہے دھرم کو سیاست سے جوڑنے کی ضرورت نہیں ہے ۔آستھا اور یقین کے تئیں سیاست دانوں کو خاص چوکسی برتنی چاہیے ۔سیاسی فائدے کے لئے لوگ دھر م کو بیجا استعمال ،جنتا کو گمراہ کرنے اور فرقوں کے درمیان نفرت ڈالنے والوں پر سختی کی جانی ضروری ہے ۔سنسنی پھیلانے والے قصور سے بری نہیں ہوسکتے ۔اگر حقیقت میں کسی طرح کی ملاوٹ ہوئی تھی آستا سے کھلواڑ کرنے والوں کو بخشا نہیں جانا چاہیے ۔اس طرح سے لوگوں کی آستھا سے کھیل کر سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش ویسے بھی ہمارے آئینی اصولوں پر چوٹ ہے ۔
(انل نریندر)
وانگچک کو حراست میں لینے پر سیاسی سنگرام!
لداخ کو مکمل ریاست کا درجہ دینے اور اسے آئین کی چھٹی دفعہ میں شامل کرنے کی مانگ کو لے کر 700 کلومیٹر لمبی دہلی چلو یاترا کو لے کر سونم وانگچک کو دہلی کے سندھو بارڈر پر پولیس نے حراست میں لیا ۔حراست میں لئے جانے سے ناراض سونم وانگچک بھوک ہڑتال پر بیٹھ گئے ۔دراصل سونم وانگچک 125 ساتھیوں کے ساتھ پیر کی دیررات قریب 11 بجے سندھو بارڈر پہنچے تھے ۔اس دوران آو¿ٹر نارتھ ضلع پولیس نے ان کے قافلے کو روک لیا اور واپس جانے کے لئے کہا جب وہ نہیں مانے تو پولیس نے سونم وانگچک اور ان کے ساتھیوں کو حراست میں لے لیا ۔اور بوانہ تھانے لے گئی اس کے علاوہ دیگر کو الگ الگ تھانوں میں رکھا گیا ۔سونم وانگچک کو حراست میں لینے کے بعد سیاست گرم ہو گئی ۔جموں کشمیر کے سابق گورنر ستیہ پال ملک اور دہلی کی وزیراعلیٰ آتشی وانگچک سے ملنے بوانہ تھانے پہنچی لیکن انہیں ملنے نہیں دیا گیا ۔سابق وزیراعلیٰ ا روند کیجریوال نے پولیس کی کاروئای کو غلط بتایا ہے ۔ادھر اس مسئلے پر جارحانہ رخ اپنا رہی کانگریس نے مرکزی سرکار کو کٹھگھرے میں کھڑا کرتے ہوئے اسے تاناشاہی کا رویہ قرار دیا ۔وزیراعلیٰ آتشی نے وانگچک کی گرفتاری اور پولیس کے رویہ پر سوال اٹھائے اور مطالبہ کیا کہ دہلی اور لداخ کو ایل جی راج ختم ہو اور دونوں کو مکمل ریاست کادرجہ ملنا چاہیے ۔چنی ہوئی سرکار کی نمائندہ کو وانگچک سے ملنے نہیں دینا قابل ملامت ہے ۔عآپ کے چیف اروند کیجریوا ل اور سینئر لیڈر منیش سسودیا نے بھی بھاجپا اور مرکز پر نکتہ چینی کی ۔کیجریوال نے کہا دہلی میں آنے سے کبھی کسانوں کو روکاجاتا ہے تو کبھی لداخ کے لوگوں کو ۔دہلی آنے کا حق سبھی کو ہے بلامفاد پر امن لوگوں سے آخر انہیں کیا ڈر لگ رہا ہے ؟ وہیں لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے راجدھانی میں داخل ہونے سے روکنے کے لئے وانگچک کو حراست میں لینے کے قدم کو ناقابل قبول قرار دیا اور کہا وزیراعظم نریندر مودی کو لداخ کے لوگوں کی آواز سننی پڑے گی ۔لداخ میں وانگچک کے لئے پبلک لہر بڑھ رہی ہے اور آئین کی چھٹی فہرست لسٹ کے تحت قبائلی فرقوں کی حفاظت کی وسیع مانگ ہو رہی ہے مگر مودی سرکار اپنے قریبی دوستوں کو فائدہ پہنچانے کے لئے لداخ کی حالت سے سنجیدگی اور ہمالیائی گلیاروں کا گاڑی کے لئے استعمال کرنا چاہتی ہے ۔راہل گاندھی نے کہا ماحولیات اور آئینی حقوق کے لئے پر امن پدیاترائیں کررہے سونم وانگچک اور لداخ کے لوگوں کو حراست میں لینا قبول نہیں ہے ۔ماحولیاتی مسئلے پر کام کررہی سونم وانگچک اور کئی دیگر کو دہلی کی سرحد پر حراست میں لیئے جانے کے خلاف منگلوار کو دہلی ہائی کورٹ میں مفاد عامہ کی عرضی دائر کی گئی ۔عرضی گزار کے وکیل نے چیف جسٹس منموہن اور سرکاری وکیل جسٹس تشار راو¿ گڈیلا کی بنچ کے سامنے معاملے کو فہرست میں درج کرنے کا فیصلہ کیا ۔عدالت نے معاملے کی سماعت منگلوار کو طے کرنے سے انکار کرنے پر اس بات پر رضامندی ظاہر کی ہے کہ اس دن ساڑے تین بجے تک اسکے کام کم ہو جاتے ہیں تو وہ معاملہ کو تین اکتوبر کے لئے پھر لسٹڈ کر دے گی ۔ادھر وانگچک اپنے حمایتیوں کے ساتھ بوانہ تھانے میں بے میعادی بھوک ہڑتال پر بیٹھ گئے ہیں۔وانگچک کو بدھوار کو رہا کر دیاگیا۔
(انل نریندر)
03 اکتوبر 2024
نصراللہ ولن یا ہیرو؟
اگرچہ لبنان پر اسرائیلی حملے ستمبر کے وسط سے جاری ہیں لیکن 27 ستمبر کی شام دارالحکومت بیروت کے گنجان آباد جنوبی حصے میں واقع حزب اللہ کے ہیڈ کوارٹر پر حملے میں حزب اللہ کے سربراہ سید حسن نصر اللہ کی ہلاکت نے مزید عدم استحکام پیدا کر دیا ہے۔ پہلے سے ہی غیر مستحکم مغربی ایشیا نے نہ صرف صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے بلکہ اس نے بین الاقوامی سطح پر جنگ بندی کے حامیوں کو بھی بہت بڑا دھچکا پہنچایا ہے۔ نصراللہ کا قتل حزب اللہ کے لیے ایک ایسا دھچکا ہے جس سے نکلنا اس کے لیے آسان نہیں ہوگا۔ نصراللہ کے انتقال پر پوری عرب دنیا میں سوگ کی فضا ہے۔ کئی اسلامی ممالک انہیں اپنا ہیرو سمجھتے تھے جو گزشتہ تین دہائیوں سے اسرائیل کا مقابلہ کر رہے تھے۔ نصراللہ تین دہائیوں سے زائد عرصے سے حزب اللہ کی قیادت کر رہے تھے۔ نصراللہ، اپنے لبنانی شیعہ پیروکاروں میں ایک آئکن اور عرب اور اسلامی دنیا میں لاکھوں لوگوں کی طرف سے قابل احترام ہیں، کو سید کا خطاب دیا گیا۔ دوسری طرف مغربی ممالک اور اسرائیل اسے دنیا کا سب سے بڑا دہشت گرد سمجھتے تھے۔ ان کی وفات کے بعد کئی ممالک نے جشن منایا اور مٹھائیاں تقسیم کیں۔ اسرائیل نے جس کارکردگی سے نصر اللہ کو ہلاک کیا وہ بھی حیران کن ہے۔ اسرائیل کی خفیہ ایجنسی موساد نے اپنے مخبروں سے معلوم کیا تھا کہ نصراللہ کس دن، کس وقت اور کس گھر میں ہوگا۔ کہا جا رہا ہے کہ موساد کا جاسوس ایرانی ہو سکتا ہے کیونکہ ایران کے پاس نصر اللہ کے بارے میں مکمل معلومات ہوں گی۔ ٹھیک ہے، عین وقت پر اسرائیل نے اپنے طیاروں سے بنکر بسٹر بم گرائے۔ جب بم گرا تو نصراللہ اپنے گھر کے تہہ خانے میں کنکریٹ کے بنکر میں میٹنگ میں گئے تھے۔ اسرائیل نے 80 سے زیادہ بنکر بسٹر بم گرائے۔ یہ بم اتنے طاقتور ہیں کہ زمین کے اندر 60 فٹ تک کی گہرائی میں موجود اشیاء کو تباہ کر سکتے ہیں۔ یہ بم سٹیل اور کنکریٹ کی موٹی دیواروں کو توڑ سکتے ہیں۔ یہ گائیڈڈ بم امریکہ نے صرف تہہ خانوں، بنکروں یا سرنگوں کو اڑانے کے لیے تیار کیے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ اسرائیل کی طرف سے گرائے گئے بم اسے امریکہ نے دیے تھے۔ اسے اسرائیلی فوج اور نیتن یاہو حکومت کی بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے لیکن مجھے اس کا بھی افسوس ہے۔ سمجھی جانے والی ناکامیوں یا کامیابیوں کے باوجود خطے میں اب بھی امن نہیں ہے۔امکان زیادہ مضبوط نہیں ہوا ہے۔ اس کے برعکس تنازعہ کے قابو سے باہر ہونے کا خطرہ ہے۔ تین دہائیوں سے زائد عرصے تک حزب اللہ کی قیادت کرنے والے نصر اللہ کو مشرق وسطیٰ کی سب سے بااثر شخصیات میں شمار کیا جاتا تھا۔ اس کی کمی کو جلدی پورا کرنا آسان نہیں۔ لیکن حزب اللہ کے لیے یہ واحد دھچکا نہیں ہے۔ حالیہ حملوں میں اس کے ایک درجن سے زیادہ اعلیٰ کمانڈر مارے جا چکے ہیں۔ بہت زیادہ زیر بحث پیجر اور واکی ٹاکی حملوں نے بھی اس کا انٹر کمیونیکیشن سسٹم تقریباً تباہ کر دیا ہے۔ تازہ ترین دھچکا کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو، یہ خیال کرنا غلط ہو گا کہ یہ حزب اللہ کو اسرائیل کے سامنے ہتھیار ڈالنے پر مجبور کر دے گا۔ کچھ عرصہ پہلے تک 12 ممالک کی طرف سے تجویز کردہ جنگ بندی کے بارے میں جو بھی امید تھی وہ اب ختم ہو گئی ہے۔ اسرائیل ابھی نہیں رکا، اب وہ لبنان کے اندر گھس کر مکمل حملہ کرنے والا ہے، اس کا آغاز ہوچکا ہے۔ نظریں ایران پر بھی ہیں، اسے تہران کے گیسٹ ہاؤس میں حماس کے رہنما اسماعیل ہانیہ کی ہلاکت کا بدلہ بھی لینا ہے، نصر اللہ کی موت اس کے لیے بھی صدمہ ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ اس کا ردعمل کتنا اور کیا ہو گا۔
-انیل نریندر
وزیر خزانہ سیتا رمن کے خلاف ایف آئی آر
آزاد ہندوستان کی تاریخ میں شاید یہ پہلی بار ہو رہا ہے کہ کسی مرکزی وزیر خزانہ کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہو۔ اس سے پہلے، جہاں تک میں جانتا ہوں، کسی مرکزی وزیر خزانہ کے خلاف کبھی کوئی ایف آئی آر درج نہیں ہوئی تھی۔ معاملہ انتخابی بانڈز سے متعلق ہے۔ انتخابی بانڈ کے معاملے پر وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن اور انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کے خلاف بھتہ خوری اور مجرمانہ سازش کا ایک مقدمہ درج کیا گیا ہے جس کے بعد بنگلورو کے منتخب نمائندوں کے لیے نامزد مجسٹریٹ عدالت نے اب ناکارہ الیکٹورل بانڈ اسکیم سے متعلق شکایت کی ہے۔ لیا گیا ہے. عدالت نے یہ فیصلہ آدرش ائیر کی عرضی پر دیا تھا۔ آدرش جنادھیکر سنگھرش پریشد (جے ایس پی) کے شریک چیئرمین ہیں۔ اس نے مارچ میں مقامی پولیس کو شکایت دی تھی جس پر کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ ایف آئی آر ہائی کورٹ کے حکم کے اگلے ہی دن یعنی ہفتہ کی سہ پہر 3 بجے درج کی گئی۔ اس میں مرکزی وزیر نرملا سیتا رمن، ای ڈی کے افسران، ریاستی اور قومی سطح پر بی جے پی کے عہدیداروں کے خلاف دفعہ 304 (بھتہ خوری)، 120 بی (مجرمانہ سازش) اور 34 (مشترکہ نیت سے کئی افراد کی طرف سے کیے گئے کام) کے تحت مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ تعزیرات ہند کی ایف آئی آر درج کی گئی۔ جنادھیکر سنگھرش پریشد کے شریک چیئرمین آدرش آر آئیر نے شکایت درج کرائی تھی، جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ ملزمان نے انتخابی بانڈز کی آڑ میں جبری وصولی کی اور 8000 کروڑ روپے سے زیادہ کا فائدہ اٹھایا۔ شکایت کنندہ نے الزام لگایا کہ سیتا رمن نے ای ڈی حکام کی خفیہ امداد اور مدد کے ذریعے ریاستی اور قومی سطح پر دوسروں کے فائدے کے لیے ہزاروں کروڑ روپے کی خورد برد کی۔ شکایت میں کہا گیا ہے کہ انتخابی بانڈز کی آڑ میں بھتہ خوری کا کام مختلف سطحوں پر بی جے پی عہدیداروں کی ملی بھگت سے چلایا جارہا ہے۔ فروری میں، سپریم کورٹ نے انتخابی بانڈ اسکیم کو یہ کہتے ہوئے خارج کر دیا تھا کہ یہ آئین کے تحت معلومات کے حق اور اظہار رائے کی آزادی کی خلاف ورزی ہے۔ جیسے ہی اس معاملے کی معلومات سامنے آئی بی جے پی اور کانگریس نے ایک دوسرے پر نشانہ لگانا شروع کر دیا۔ کرناٹک اسمبلی میں قائد حزب اختلاف آر اشوکا نے کہا کہ کانگریس بھی انتخابی بانڈز سے فائدہ اٹھانے والی رہی ہے اور نرملا سیتارامن نے وزیر اعلیٰ سدارامیا کی طرح اپنے ہی خاندان کو فائدہ پہنچانے کے لیے رقم نہیں لی ہے۔ جب سے گورنر گہلوت نے موڈا معاملے میں سی ایم سدارامیا کے خلاف مقدمہ چلانے کی منظوری دی ہے، تب سے بی جے پی ان سے استعفیٰ مانگ رہی ہے۔ کرناٹک ہائی کورٹ نے گورنر کی طرف سے دی گئی منظوری کو منسوخ کرنے کی درخواست کو مسترد کر دیا تھا۔ دوسری جانب کانگریس نے اس حوالے سے کہا کہ جمہوریت کو کمزور کرنے کے لیے وزیر خزانہ کو استعفیٰ دے دینا چاہیے۔ کانگریس نے کہا کہ وزیر خزانہ یہ کام خود نہیں کر سکتے۔ ہم جانتے ہیں کہ نمبر-1 اور نمبر-2 کون ہیں اور یہ کس کی ہدایت پر کیا گیا ہے۔ اسے ای بی ایس (انٹٹینسٹ بی جے پی اسکیم) قرار دیتے ہوئے سنگھوی نے کہا تھا کہ سب سے بڑا مسئلہ برابری کا میدان فراہم کرنا ہے، جو آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کے لیے ضروری ہے۔ دریں اثنا، کرناٹک ہائی کورٹ نے پیر کو وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن اور دیگر کے خلاف کیس کی تحقیقات پر روک لگا دی۔ بی جے پی لیڈر نلین کمار نے ایف آئی آر کو چیلنج کیا تھا جس میں انہیں ملزم نامزد کیا گیا تھا۔ اگلی سماعت 22 اکتوبر کو ہوگی۔ دیکھتے ہیں آگے کیا ہوتا ہے۔ ویسے یہ ایک بے مثال معاملہ ہے جہاں ایک مرکزی وزیر کو ایک کیس میں ملزم بنایا گیا ہے۔
01 اکتوبر 2024
امریکہ کی دہلیز تک پہونچنے والی چینی میزائل
چین نے پرشانت مہا ساگر میں بدھوار کو ایک انتر مہادیپ بیلسٹک میزائل کا تجربہ کیا ۔چینی وزارت کی جانب سے بیان میں کہا گیا ہے کہ میزائل پر ڈمی وار ہیڈ لگایا گیا تھا جسے سمندر کے ایک علاقہ میں گرایا گیا ۔چین کی اس ڈی ایف 41- میزائل کو سال 2017 میں فوج میںشامل کیا گیا تھا ۔اس کی مار صلاحیت 12000 کلو میٹر سے لے کر 15000 کلو میٹر تک ہے ۔ایسے میں میزائل امریکہ کی خاص سرزمین کے اندر تباہی مچا سکتی ہے ۔چینی ا خبار ساو¿تھ چائنہ مارننگ پوسٹ میں شائع خبر کے مطابق اس سے پہلے چین نے 1980 میں انتر مہادیپ بیلسٹ میزائل ڈی F-5 کا تجربہ کیا تھا ۔چین کی اس پہلی میزائل کی مار صلاحیت 9000 کلو میٹر تھی حالانکہ تازہ لانچ بین ا لاقوامی قانون اور بین الاقوای ریہرسل کے مطابق ہے اور کسی بھی دیش کی جانب سے اسے ٹارگیٹ نہیں کیا گیا لیکن جاپان ،آسٹریلیا ،نیوزی لینڈ نے اس تجربہ پر تشویش ظاہر کی ہے ۔اس لانچ سے ہند پرشانت خطہ میں بڑی کشیدگی ہے ۔واقف کاروں کاخیال ہے کہ اس سے پتہ چلتا ہے چین کی لمبی دور تک حملہ کرنے کی نیوکلین صلاحیت بڑھی ہے ۔امریکہ نے پچھلے سال آگاہ کیا تھا کہ چین میں ڈیفنس اپگریڈ کے تحت اپنی نیوکلیائی صلاحیتوں کو مضبوط کیا ہے ۔چین نے جس میزائل آئی سی بی ایم کا تجربہ کیا ہے وہ 5000 سے 12000 کلو میٹر تک مار کر سکتی ہے اس سے چین کی پہونچ اب امریکہ اور ہوائی پٹی تک طے ہو گئی ہے ۔لیکن چین کی فوجی طاقت اب بھی روس اور امریکہ سے قریب 5گنا کم ہے ۔چین کہتا رہا ہے کہ اس کا نیوکلیئر رکھ رکھاو¿ صرف اس لئے ہے کہ کوئی اور حملہ نہ کرے ۔تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ عام طور پر چین میں تجربہ دیش کے اندر ہی کسی حصہ میں کیا جاتا رہتا ہے ۔ماضی میں شنگ زیان صوبہ کے ریگستان میں ایسے تجربہ کئے گئے تھے ۔نیوکلیئر میزائل ایکسپرٹ انکت پانڈے نے بی بی سی کو بتایا کہ اس طرح کے تجربہ امریکہ نے جیسے دوسرے ملکوں کے لئے عام نہیں ہیں ۔اگر چین کے معاملے میں یہ عام بات نہیں ہے ۔انکت نے کہا کہ چین کے نیوکلیائی ساز وسامان کے نتائج کے چلتے پہلے ہی کافی بدل چکے ہیں ۔یہ لانچ چین کے رخ کی تبدیلی کو دکھاتا ہے ۔جاپان نے بھی سنگین تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ چین کی جانب سے کوئی نوٹس نہیں دیا گیا تھا ۔آسٹریلیا نے کہا کہ اس قدم سے خطہ میں عدم استحکام اور غلط روایت کا خطرہ بڑھتا ہے ۔آسٹریلیا نے بھی اس معاملہ میں چین سے جواب مانگا ہے ۔نیوزی لینڈنے چین کے تجربوں کا خیر مقدم نہیں کیا ہے اور اسے تشویش پیدا کرنے والی حرکت بتایا ہے ۔بین الاقوامی معاملوں کے پروفیسر لپ ایرک ایسلے نے کہا کہ امریکہ کے لئے صاف سندیش ہے کہ طائبان اسٹریٹ لڑائی میں کسی بھی طرح کا سیدھا دخل امریکہ کی سرزمین کو بھی خطرے میں ڈال سکتا ہے ۔انہوں نے کہا چین کا یہ تجربہ امریکہ اور ا یشیا میں اس کے ساتھیوں کو بھی یہ دکھاتا ہے کہ چین کئی محاذوں پر ایک ساتھ لڑ سکتا ہے ۔بتا دیں کہ یہ میزائل تجربہ طائبان فلپائن اور گوابا کے پاس سے گزرتی ہوئی پرشانت مہا ساگر میں جا گری ۔یہ بھارت کے لئے بھی تشویش کا باعث ہے ۔
(انل نریندر)
ہریانہ میں باغی اور چھوٹی پارٹیاں بگاڑ رہی ہیں حساب!
گروپ بندی بھاجپا اور کانگریس میں دونوں میں ہے ۔دیکھنا یہ ہوگا کہ کون بلوان ہے۔پہلے اس پر قابو پاسکتا ہے کہا تو جارہا ہے کہ ہریانہ میں ماحول کانگریس کے حق میں ہے لیکن آپسی گروپ بندی جیتی ہوئی بازی کو نقصان میں بھی بد ل سکتی ہے ۔راہل گاندھی کی ریلی میں بیشک کماری شیلجا و بھوپندر سنگھ ہڈا ایک اسٹیج پر نظر آئے ہوں لیکن اس سے کیا گروپ بندی کا سلسلہ تھم گیا ہے ۔وہیں بھاجپا میں بھی گروپ بندی زوروں پر ہے وہاں تو کئی لیڈروں نے ابھی سے ا پنے آپ کو وزیراعلیٰ عہدے کا دعویدار اعلان کر د یا ہے ۔گاو¿ں دیہات میں بھاجپا امیدواروں کو سخت ناراضگی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔کئی دیہات میں تو بھاجپا امیدواروں کو گاو¿ں میں بھی داخل ہونے نہیں دیا۔بڑے بڑے سرکردہ لیڈروں کو اپنی جان بچانے کے لئے موقع سے بھاگنا پڑا ۔بھاجپا کا سب سے بڑا ووٹ کیئر وزیراعظم نریندر مودی کی ابھی تک ہوئی دو ریلیوں میں بھیڑ ندارد تھی ۔پانچ سے دس ہزار لوگ ہی موجود رہے ۔جہاں دو ڈھائی لاکھ ا ٓدمیوں کی بھیڑ وزیراعظم کو سننے کو آتی رہی ہے ۔ایک طرف وزیراعلیٰ نایب سینی گروپ ہے دوسری طرف منوہر لال کھٹر کا گروپ ہے تو تیسری طرف انل وج کا گروپ ڈٹا ہوا ہے ۔سنگھ الگ ناراض چل رہا ہے ورکروں کا حوصلہ گرا ہوا ہے ۔وہیں رہی سہی کسر باغی اور آزاد امیدواروں نے اتار کر پوری کر دی ہے ۔دونوں اہم پارٹیوں کے موازنہ کرتے وقت کہا جاتا ہے کہ بھاجپا کے پاس ایک منظم اور ا یک ڈسپلن تنظیم ہے یہ تنظیم بالکل بنیاد تک ہے ۔بوتھ انچارج سے لے کر پنہ چیف تک سارے عہدوں پر لوگ تیار ہیں ۔ان کا رول طے ہے ۔کہا تو یہ بھی جاتا ہے کہ بھاجپا ہر وقت چناو¿ لڑتے رہنے والی دنیا کی سب سے بڑی مشین ہے اس کے برعکس کانگریس میں تنظیم برائے نام ہے ۔جیسا کہ ہم نے مدھیہ پردیش کے پچھلے اسمبلی چناو¿ میںدیکھا تھا ۔ماحول حق میں ہونے کے باوجود زیادہ ہی اعتماد بھی کانگریس کے لئے بھاری پڑ سکتا ہے ۔جیسا کہ ہم نے چھتیس گڑھ میں جیسے جیسے چناو¿ کمپین زور پکڑرہی ہے ہریانہ میں مقابلے سخت ہوتے جارہے ہیں ۔بیشک اہم مقابلہ کانگریس اور بھاجپا کے درمیان ہے ۔چنندہ سیٹوں کو چھوڑ دیا جائے تو ریاست کی 90 سیٹوں میں سے زیادہ تر مقابلہ ڈائرکٹ بتایاجارہا ہے ۔اس کی اہم وجہ دونوں پارٹیوں کے امیدواروں کے علاوہ آزاد اور انڈین نیشنل لوک دل ججپا اورعآپ امیدواروں کا بھی پورا زور لگانا ہے ۔30 سے زیادہ سیٹوں پر مقابلہ سہ رخی ہے یا تین سے زیادہ امیدواروں میں ہو گیا ہے ۔اس وجہ سے مقابلہ قریب سے ہوتا جارہا ہے ۔15 سیٹوں پر بھاجپا ا ور دس سیٹوں پر کانگریس کے 29 باغی میدان میں ہیں ۔مضبوط علاقائی پارٹیوں کی پہچان کرنے والے اس راجیہ میں ایک رواج میں ایک بار میں حاشیہ پر ہیں ۔ان کے چنندہ امیدوار ہی مضبوط دکھائی پڑرہے ہیں اس سے زیادہ آزاد ا ور باغی سرخیوں میں چھائے ہوئے ہیں ۔انڈین نیشنل لوک دل کی ججپا اور آزاد امیدوار ڈٹے ہیں ۔دیوی لال پریوارکے آٹھ امیدوار میدان میں ہیں ۔اب چناو¿ کمپین شواب پر ہے ۔ریلیاںروڈ شو ہورہی ہیں ۔کانگریس ،بھاجپا اپنی اپنی گارنٹی اور سنکلپ پتر کے ساتھ ساتھ عام جنتا کے بیچ میں ہیں ۔پولنگ میں مشکل سے چند دن بچے ہیں ۔کمپین اور اشو جارحانہ طور پر حاوی ہوتے جارہے ہیں ۔ایسے میں مقابلوں کی سمت بدل سکتی ہے ۔ویسے ماناجاتا ہے کہ ہریانہ میں تین اشو سب سے اثر ا ندازہوتے ہیں ،کسان ،جوان ،پہلوان ۔
(انل نریندر)
سبسکرائب کریں در:
تبصرے (Atom)
میلانیا نے امریکہ میں یہ نئی جنگ چھیڑ دی
ایران جنگ میں سیز فائر ہوتے ہی امریکہ کے اندر ایک اور جنگ شروع ہو گئی ہے ۔آپ حیران ہوں گے کہ یہ کون سی جنگ ہے ؟ بتادیں کہ ایپسٹین فائلس کی ...
-
سپریم کورٹ میں بھی عجیب و غریب مقدمات آرہے ہیں۔ تازہ مثال بحریہ کے کچھ افسروں پر بیویوں کی ادلہ بدلی سے متعلق معاملات ہیں۔ بحریہ کے ایک اف...
-
ہندوتو اور دھرم پریورتن، گھر واپسی سمیت تمام معاملوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس پریوار سے جڑے لیڈروں کے متنازعہ بیانات سے وزیر...
-
مدھیہ پردیش کے ہائی پروفائل ہنی ٹریپ معاملے سے نہ صرف ریاست کی بلکہ دہلی کے سیاسی حلقوں میں مچا دئے معاملے میں اہم سازشی گرفتار ہو چکی شیو...