Translater

30 اگست 2014

بھاجپا نہیں مودی ۔شاہ پرائیویٹ لمیٹڈ کہئے!

بھارتیہ جنتا پارٹی اب مودی ۔شاہ پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی بنتی جارہی ہے۔ یہ دونوں جس طرح چاہتے ہیں ویسے ہی حکومت اور پارٹی چل رہی ہے۔ بھاجپا پارلیمانی بورڈ کی تشکیل پراس طرح کی بحث چھڑنا فطری ہے جس طرح اٹل جی اڈوانی جی اور ڈاکٹر مرلی منوہر جوشی کو پارلیمانی بورڈ میں نہ شامل کرانہیں مارگ درشک منڈل میں رکھا گیا ہے ، اس سے نریندر مودی اور امت شاہ کے ارادہ پر سوال اٹھنے لگے ہیں۔ بھاجپا کا کہنا ہے کہ وہ بزرگ لیڈروں کے بدلے جوان لیڈر شپ کو ذمہ داری سونپنے کی پالیسی پر چل رہی ہے۔اگر اتنا ہوتا تو شاید کسی کو تنقید کرنے کا موقعہ نہیں ملتا جس طریقے سے امت شاہ نے باگ ڈور سنبھالی اسی سے پتہ لگ گیا تھا کہ یہ دونوں مل کر سب سے پہلے ان لیڈروں کو پارٹی امور سے ہٹائیں گے جن سے ان کو خطرہ ہے۔ پہلے اپوزیشن کو ختم کیا اور اب پارٹی کے اندر کسی بھی طرح کا چیلنج کرنے والوں کو باہر کا راستہ دکھایا جارہا ہے۔ نریندر مودی نے ان لال کرشن اڈوانی کو بے عزت کیا ہے جنہوں نے مودی کو ہاتھ پکڑ کر سیاست سکھائی تھی۔ امت شاہ نے بھاجپا کی باگ ڈور سنبھالی تبھی طے ہوگیا تھا کہ پارٹی کے فیصلے گجرات منڈل کی طرز پر ہوں گے۔ ان دونوں نے گجرات میں بھی یہی کیا ہے۔ 
سب سے پہلا کام گجرات میں یہ ہوا کہ بھاجپا آر ایس ایس کے ان لیڈروں کو ہٹایا جو مودی کی رائے سے متفق نہیں تھے۔اٹل بہاری واجپئی جی کی طبیعت ٹھیک نہ ہونے کی وجہ سے وہ پارٹی کی سرگرمیوں میں شریک نہیں ہوپاتے مگر یہ ہی بات شری لال کرشن اڈوانی اور ڈاکٹر مرلی منوہر جوشی معاملے میں صحیح نہیں ہے۔ ان کی عمر ضرور زیادہ ہوچلی ہے لیکن پارٹی میں ان کی سرگرمی مسلسل جاری ہے۔ میں اڈوانی جی کے ساتھ کئی دوروں پر گیا ہوں جن میں ملک اور بیرون ملک شامل ہیں۔میں دعوے سے کہہ سکتا ہوں کہ اٹل جی نوجوانوں سے بھی زیادہ تندرست ہیں۔چاہے وہ اڈوانی ہوں چاہے مرلی منوہر جوشی ہوں دونوں پارٹی کے قیام سے اہم فیصلوں میں سانجھیدار رہے ہیں۔ اس بار بھی وہ لوک سبھا جیت کر آئے ہیں اس لئے انہیں پارلیمانی بورڈ سے باہر رکھناچونکانے والا قدم ہے۔ صاف ہے کہ اڈوانی اور ڈاکٹر جوشی کو مودی کو کچھ سمجھانا چاہئے اور اپنا احتجاج جتانا چاہئے لیکن اس سے پہلے انہوں نے انہیں پارلیمانی بورڈ سے ہی باہر کردیا۔ اڈوانی اسی ہٹلرشاہی کے طریقے کی مخالفت کررہے تھے۔ وہ مودی کے وزیر اعظم بننے کی مخالفت نہیں کررہے تھے لیکن ان کے کام کرنے اور بدلہ لینے کے طریقے پر احتجاج کررہے تھے۔ وہ پارٹی ورکروں کو سمجھا رہے تھے کہ مودی کو اتنی فرصت نہیں کہ وہ اڈوانی جی کی بات کو نہیں سمجھ سکے اور یہ کہہ کر بات ٹال دی کہ کیونکہ وہ پردھان منتری بننے کا خواب دیکھ رہے ہیں اس لئے وہ مودی کی مخالفت کررہے ہیں۔ 
آج مودی جی کا کیا حال ہے ،آتے ہی انہوں نے سب سے پہلا کام میڈیا سے دوری بنائی۔ وہ نہ تو میڈیا سے ملتے ہیں اور نہ ہی میڈیا کو وہ کہیں لے جاتے ہیں۔ معمولی ورکر تو دور وزیر تک وزیر اعظم سے نہیں مل سکتے۔ اگر وزرا کو پی ایم تک کچھ ضروری بات پہنچانی ہے تو انہیں امت شاہ کو بتانی پڑتی ہے۔ جہاں تک ڈاکٹر جوشی کا سوال ہے انہیں اس لئے بے عزت کیا جارہا ہے کیونکہ انہوں نے نریندر مودی کیلئے اپنی بنارس کی لوک سبھا سیٹ چھوڑنے سے منع کردیا تھا۔ اس کی کسک نریندر مودی کو ضرور ہوگی اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ سرکار بننے کے بعد اس کے اشارے ملنے لگے تھے۔ ڈاکٹر جوشی ایک کامیاب وزیرانسانی وسائل ترقی کی حیثیت سے کامیاب رہنے کے باوجود انہیں وزارت میں جگہ نہیں دی گئی اور ان کو بے عزت کرنے اور زخم پر نمک چھڑکنے کی ایک نو سکھیا اسمرتی ایرانی کوکیبنٹ کا وزیر بنا دیا گیا۔ اڈوانی کو لوک سبھا اسپیکر بنا سکتے تھے ان کا سیاسی تجربہ پارٹی و سرکار کے کام آتا اور پھر جہاں تک مجھے یاد ہے اڈوانی نے کبھی بھی مودی کی پالیسیوں کی مخالفت نہیں کی۔ پارٹی میں سینئر لیڈر ہونے کے باوجود انہیں لوک سبھا میں وزیر اعظم کے پاس والی سیٹ پر بھی نہیں بیٹھنے دیا گیا۔ یہ سب انہیں عزت دینے کی علامت نہیں مانا جاسکتا۔ اب یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں کہ نریندر مودی اپنے دائرے میں ایسے کسی بھی شخص کو نہیں رکھنا چاہتے جو ان کا کٹر مخالف رہا ہو اور آگے احتجاج کرسکتا ہو اور اس بات میں بھی دم لگتا ہے کہ آر ایس ایس بھی اڈوانی کے مخالفانہ تیوروں سے ناراض چل رہا تھا اور وہ انہیں کنارے کرنے کے موقعے کی تلاش میں تھا اس لئے امت شاہ نے اس کے لئے صحیح موقعہ تلاش لیا ہے اور اپنے صاحب کی خواہش پوری کردی۔ 
اڈوانی ۔ جوشی کے آنسو پوچھنے کے لئے انہیں مارگ درشک منڈل میں بھیج کر پالیسی ساز متعلق اختیارات سے دور کردیا گیا۔ مارگ درشک منڈل جیسا کوئی سسٹم بھاجپا کے آئین میں نہیں ہے ا س لئے ان سے کتنی رائے لی جائے گی اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ کانگریس کے ترجمان راشد علوی نے چٹکی لیتے ہوئے کہا کہ مارگ درشک منڈل نہیں یہ تو موک درشک منڈل اور اولڈ ایج ہوم ہے۔34 سال کی بھاجپا میں پہلی بار مارگ درشک منڈل جیسی کمیٹی بنائی گئی ہے۔ اس سے ان تینوں بزرگ لیڈروں کی باعزت الوداعی کے اسٹیج کی شکل میں دیکھا جارہا ہے۔ دراصل بھاجپا یہ پیغام نہیں دیناچاہتی کہ اس نے پارٹی کے تینوں بانی لیڈروں کو در کنارکردیا ہے۔ بھاجپا نے مارگ درشک منڈل کی جانکاری والی جو پریس ریلیز جاری کی ہے اس میں جن ناموں کی فہرست دی گئی ہے اس میں اڈوانی سے پہلے نریندر مودی کا نام ہے۔ فہرست کا سلسلہ اس طرح ہے (1) اٹل بہاری واجپئی،(2) نریندر مودی،(3) لال کرشن اڈوانی ،(4) مرلی منوہر جوشی،(5) راجناتھ سنگھ اور اڈوانی۔ جوشی کے بعد اب نمبر رام لال کا ہے۔ صاف ہے کہ مودی ۔ شاہ پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی ہی اب بھارت پر راج کرے گی۔
(انل نریندر)

29 اگست 2014

سپریم کورٹ نے منسوخ کئے کوئلہ الاٹمنٹ کے سارے بلاک

ہندوستان کے سابق کمپٹرولر و آڈیٹر جنرل(سی اے جی) ونود رائے نے جب کولہ گھوٹالے کو اجاکر کرتے ہوئے دیش کے خزانے کو ایک لاکھ 86ہزار کی چپت لگنے کی بات کہی تھی کو منموہن سنگھ سرکار اور کانگریس نہ جانے کن کن دلائل اور ہڑپوں کے ساتھ ان پر برسی تھی اب سپریم کورٹ نے ایک طرح سے ان انکشافات پر اپنی مہر لگا دی ہے اس کے آثار پہلے ہی نظر آرہے تھے کہ سپریم کورٹ کوئلہ الاٹمنٹ کو صحیح نہیں پائے گی کیونکہ ان کا الاٹمنٹ منمانی کی کہانی بیان کررہا تھا اس پر شاید ہی کسی کو تعجب ہو کہ سپریم کورٹ نے 1993 کے بعد سبھی کوئلہ بلاک کے الاٹمنٹ کو غیر قانونی ٹھہرا دیا ہے اقتصادی اصلاحات کی بنیاد کیا کرپشن کے پاؤں پر رکھی گئی تھی؟ دیش کی نایاب ذریعہ کوئلہ کے ساتھ ڈیرھ ڈھائی سے جو سرکاری کھیل چل رہا تھا اس کو بے نقاب دیش کی سب سے بڑی عدالت نے کردیا ہے۔ عدالت نے کوئلہ الاٹمنٹ کے عمل پر ہی سوال اٹھاتے ہوئے اسے غیرقانونی بتا دیا جس میں دیش کا یہ نایاب معدنیات کو چوری چھپے منمانے طریقے سے بانٹ دیا جاتا تھا۔ دیش میں دستیاب توانائی ذرائع میں سب سے اہم کوئلہ کو اقتصادی ترقی کاانجن ماناجاتا ہے جس میں بجلی بنانے اور صنعتی پروڈکٹس کے بڑھاوے میں لگایاجاتا ہے اس لئے اصلاحات کے نام پر انسپکٹر راج کی جگہ ا سکرین کمیٹی کے ذریعہ حوالے کردیا گیا جو منمانی کرنے کو آزاد تھی لیکن ترقی کے نام پر جس طرح دیش کے اس کالے ہیرے کی بندر بانٹ کی گئی اس سے خفا سپریم کورٹ نے پورے سودے کو ہی غیرقانونی قرار دے دیا ہے بجلی کی قلت کے چلتے دیش اور کوئلے کے لئے ترستے بجلی گھروں کے لئے بے شک یہ فیصلہ ایک ہتھوڑے کی چوٹ جیسا ہوگا لیکن ایک اثردار سبق بھی ثابت ہوگا کوئلہ ہوتے ہوئے بھی آج ہمارے بجلی گھر اس کے بحران سے شکار ہے تو اس کی ذمہ داری یہی پالیسی ہے کہ جس میں ہمارے سیاست داں افسر شاہ سیٹ اور دلال وہ کوئلہ مافیہ مل کر کھیلتے ہیں اور بھاری منافع جیببوں میں بھرتے ہیں لیکن خمیازہ دیش کے عام آدمی بھگتنا پڑتا ہے جو شہروں میں بھی رہ کر 12 گھنٹے بجلی کے لئے ترستے ہیں سپریم کورٹ کے اس اہم فیصلے کے بعد 1993 سے لے کر2008کے درمیان ہوئے سبھی کوئلہ الاٹمنٹ سودوں کے مستقبل پر قیاس آرائیوں کا دور شروع ہوگیا ہے۔ کیونکہ عدالت نے ان کا الاٹمنٹ منسوخ ہی نہیں کیا ہے بلکہ اس کے بارے میں اگلی سماعت میں اپنا موقف طے کریں گی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ عدالت انہیں منسوخ کرتی ہے یا نہیں؟ یہ ممکن ہے کہ وہ ان کمپنیوں کے معاملے میں فراخ دلی سے غور کریں جنہوں نے کوئلے کو کھدائی شروع کردی ہے یا ایسا کرنے کے لئے کافی تیاری کرلی ہے جو بھی ہو سپریم کورٹ کا فیصلہ سی اے جی کے تغذیہ کے ساتھ ساتھ سی بی آئی کے نتیجہ کی بھی تصدیق کرتا ہے سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد سابق وزیراعظم منموہن سنگھ کے پورے معاملے میں رول پر بھی سوال کھڑے ہونگے کیونکہ منموہن سنگھ کافی وقت تک کوئلہ وزیر رہے تھے۔
(انل نریندر)

شیلا دیکشت کی واپسی سے کیا کانگریس کو سنجیونی مل سکتی ہے؟

کیرل کے گورنر کے عہدے سے استعفی دینے کے بعد سابق وزیراعلی شیلادیکشت کے پھر سے سرگرم سیاست میں اترنے کی قیاس آرائیاں تیز ہوگئی ہیں۔ انہو ں نے اپنا استعفی صدر کو بھیج دیاہے اور وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ کے عہدے پر بنے رہنے کی یقین دہانی کے باوجود شیلا جی نے منگل کو استعفی دے کر بھاجپا کی کوششوں پر پانی پھیر دیا ہے یوپی اے کے دوران کانگریس کے وفادار گورنروں کی فہرست میں شیلادیکشت واحد ایک ایسی گورنر تھی جنہیں بھاجپا فی الحال ہٹانا نہیں چاہ رہی تھی بھاجپا کے حکمت عملی ساز نے اشارہ کردیا ہے کہ ترویندرم راج بھون میں برقرار رکھ کر دہلی کی سیاست سے دور رکھا جائے ۔ محترمہ شیلادیکشت کے اس فیصلے نے دہلی کے دس سال پرانی تاریخ کو دہرایا ہے 2004میں مرکز میں منموہن حکومت بننے کے بعد بھاجپا لیڈر مدن لال کھورانہ راجستھان کے گورنری کا عہدہ چھوڑ کر دہلی کی سیاست میں گود پڑے تھے اس وقت بھی یوپی اے سرکار کھورانہ کو دہلی نہیں آنے دیناچاہتی تھی دہلی کی سیاست کی نبض کو باریکی سے سمجھنے والی شیلادیکشت آنیوالے اسمبلی چناؤ میں بھاجپا کے لئے مصیبت کھڑی کرسکتی ہے یہی وجہ تھی پیر کو راجناتھ سے ملاقات کرنے کے بعد شیلادیکشت پر دیگر گورنروں کی طرح استعفی دینے کا کوئی دباؤ نہیں ڈالا گیا تھا۔ لیکن دہلی کی مسلسل پندرہ سال تک وزیراعلی رہی شیلادیکشت نے آنیوالے چناؤ کے پیش نظر استعفی دے کر اپناسیاسی کارڈ کھیل دیا ہے شیلا کے علاوہ ا ب تک استعفی دے چکے ہیں کانگریس کے وفادار کوئی ایسا نہیں تھا جو بھاجپا کو کسی ریاست میں سیاسی سطح پر چنوتی دے سکے پیر کو اٹھارہ سیٹوں کے ضمنی کے نتیجہ میں ناقص کارکردگی کے بعد بھاجپا آنے والے اسمبلی چناؤ چوکس ہوگئی ہے یہی وجہ ہے کہ بھاجپا دہلی چناوی میدان سے شیلا دیکشت کو دور رکھنا چاہ رہی تھی لیکن اس کاایک دوسرا پہلو بھی ہے شیلادیکشت کی کی مشکلیں بھی بڑھ سکتی ہیں جب وہ دہلی کی وزیراعلی تھی تو اس کے عہد میں کئی طرح سے گھوٹالے ہوئے جیسے ان کی فائلیں کھل سکتی ہے کامن ویلتھ گیمز کے گھوٹالے کو لے کر یہ الزام لگتے رہے ہیں کہ جل بورڈ میں کئی گھوٹالے کو لے کر سی بی آئی جانچ کررہی ہے دہلی میں میں دوبارہ چناؤ ہونے ہے کہ ایسے بھی بی جے پی چناؤ میں شیلادیکشت کو نشانہ بنائے گی پردیش بھاجپا پردھان ستیش ا پادھیائے کا کہنا ہے کہ شیلا دیکشت کے وقت میں ہوئے گھوٹالے کے اشو میں اٹھائیں گے آنے والے دنوں میں دہلی کی سیاست میں اگر شیلادیکشت کا دبدبہ بڑھتا ہے تو یہ کوئی حیرانی والی بات نہیں ہوگی۔ کہا جائے گا کہ شیلادیکشت کے علاوہ کوئی متبادل کانگریس کے پاس نہیں ہے اگر ایسا ہوتا ہے کہ تو دیکھنا ہوگا کہ کانگریس کے شیلادیکشت سنجیونی کا کام کرے گی؟ اور دہلی کی زمین پر کافی اشو ہے اورانہیں یہ ماننا اور انہیں بھنانا شریمتی شیلادیکشت اچھی طرح جانتی ہے۔

(انل نریندر)

28 اگست 2014

ضمنی چناؤ نتائج سے ظاہر ہے مودی لہر دھیمی پڑ گئی!

چار ریاستوں کی18 اسمبلی سیٹو ں پر ہوئے ضمنی چناؤ کو بنیادبنا کر کوئی بڑا نتیجہ نکالنا ٹھیک نہیں ہے لیکن نتیجوں سے کچھ اہم اشارے تو مل رہے ہیں۔ عام طور پر اسمبلیوں کے ضمنی چناؤ وہاں کی حکمراں پارٹی کے حق میں جاتے ہیں لیکن بھاری اکثریت سے مرکز میں اقتدار میں آنے کے سبب ہر ایک چناؤ کو نریندر مودی کی ہار جیت کی شکل میں دیکھا جارہا ہے۔ محض100 دن کی میعاد میں مودی کو دو ضمنی چناؤ جھیلنے پڑے اور دونوں ہی نتیجے ان کے حق میں نہیں رہے۔ بہار میں لالو نتیش اتحاد بی جے پی پر بھاری ثابت ہو۔ کانگریس کو سبھی جگہ راحت ملی ہے۔ عام آدمی پارٹی سیاسی منظر سے تقریباً غائب ہوچکی ہے لیکن سب سے بڑی بات یہ ہے بی جے پی پر چھایا اقتدار کا نشہ ان نتائج سے ٹوٹ گیا ہے۔ تفصیل میں جائیں تو ان18 سیٹوں میں سے 7 بی جے پی کو 5 کانگریس کو،3 آر جے ڈی کو ،2 جے ڈی یو کو ملی ہیں۔ اس سے پہلے اتراکھنڈ کے ضمنی چناؤ میں تینوں سیٹیں کانگریس کی جھولی میں گئی تھیں جھارکھنڈ کے بعد بہار میں ہوئے اسمبلی ضمنی چناؤ کے نتیجے جہاں بھاجپا کی مقامی لیڈر شپ کیلئے محاسبہ کرنے کا وقت ہے وہیں بھاجپا کی مخالف پارٹیوں اور اتحاد کیلئے ایک آکسیجن ہے۔ 20 سال بعد بھاجپا کے مقابلے کیلئے ایک اسٹیج پر آئے کٹر مخالف لالو اور نتیش کے مہا گٹھ بندھن نے بہار کی 10 سیٹوں میں سے6 پر کامیابی حاصل کی ہے اور ثابت کردیا ہے کہ مودی کی ہوا اب ختم ہوچکی ہے۔100 دنوں میں ہی دھیمی پڑ گئی ہے مودی کی آندھی۔ مہاگٹھ بندھن کی تیسری اتحادی جماعت کانگریس کی بھی لاٹری کھل گئی بھاگلپور کی سیٹ اسے ملی ہے۔ کرناٹک میں کانگریس بھاری پڑی اور بی جے پی بلاری جیسی اہم سیٹ بھی ہار گئی اور ایک جگہ مقابلہ برابری پر چھوٹا تو مدھیہ پردیش میں ضروری بھاجپا آگے رہی لیکن لوگوں کی سب سے زیادہ دلچسپی بہار کے10 اسمبلی حلقوں کے ضمنی چناؤ پر تھی جنہیں اگلے سال ہونے والے اسمبلی چناؤ کا سیمی فائنل مانا جارہا تھا۔ سب کی نظریں اس بات پر لگی تھیں کہ نیا اتحاد لالو ۔نتیش کتنا کامیاب ہوتا ہے۔ چناؤ کے نتیجے بتاتے ہیں کہ اس اتحاد کو تین مہینے میں اچھی کامیابی ملی جبکہ بھاجپا کو ہار دیکھنے پڑی۔ ووٹ فیصد میں بھی کمی آئی ہے۔ بہار میں وجود کی لڑائی لڑ رہے آر جے ڈی اور جنتادل(یو) اور کانگریس آنے والے اسمبلی چناؤ کیلئے اور مضبوطی سے متحد ہوں گے تو بھاجپا کو زبردست مشکل کا سامنا کرنا پڑے گا۔حالانکہ اندرونی مخالفتوں کو دور کرنا ہوگا۔ بہاربھاجپا کی بڑی کمزوری وہاں ایک اچھے نیتا کی کمی ہے۔ مرکزی لیڈرشپ اور امت شاہ کو وقت رہتے اس مسئلے کا بلا تاخیر حل نکالنا ہوگا اگر اسمبلی چناؤ میں جیتنا چاہتے ہیں۔یہ اس لئے بھی ضروری ہے کہ تین چار مہینے میں ہی مودی کی جو ہوا چل رہی تھی وہ اب ختم ہوگئی۔ تازہ نتائج سے کانگریس میں کافی جوش ہے۔ کانگریس کا خیال ہے کہ لوک سبھا کے بعد این ڈی اے سرکار کے اقتدارمیں آنے کے محض100 دنوں میں ہی مودی لہر کا اثر ختم ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔پیر کو سامنے آئے نتیجے کے بارے میں کانگریس سکریٹری جنرل و ترجمان شکیل احمد کا کہنا ہے اس ضمنی چناؤ میں عوام نے نہ صرف مودی لہر کو مسترد کردیا بلکہ اس کی ہوا بھی نکال دی ہے۔ مسلسل دو ضمنی چناؤ میں بھاجپا کو لگے جھٹکے کو کانگریس آنے والے چناؤ کے پیش نظر ایک اچھا اشارہ مان رہی ہے۔ ان ضمنی چناؤ کا اگر کوئی بڑا نتیجہ نریندر مودی اور بی جے پی کے لئے نکلتا ہے تو وہ یہ ہے کہ مودی نے چناؤ سے پہلے جو وعدے کئے تھے اور لوگوں میں امیدیں جگائی تھیں ان کو انہیں پورا کرنا ہوگا۔ مہنگائی ایک ایسا اشو ہے جو سارے دیش کو متاثر کرتا ہے۔یقین دہانیوں کے باوجود نریندر مودی 90 دنوں میں اسے کم کرنا تو دور رہا بلکہ کنٹرول بھی نہیں کرسکے۔ دیش میں یہ پیغام جارہا ہے کہ بی جے پی کے قول اور فعل میں کافی فرق آرہا ہے۔ اگر یہی رخ رہا تو آنے والے اسمبلی چناؤ میں بی جے پی کو ہار کا منہ دیکھنا پڑسکتا ہے۔
(انل نریندر)

عورتوں کیخلاف جنسی حملوں میں اضافہ اور بے اثر قدم!

یہ انتہائی تشویش کا باعث ہے کہ راجدھانی دہلی میں عورتوں کے خلاف جاری جرائم میں کمی آنے کی جگہ مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ بڑھتے واقعات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ اس حالت میں کوئی خاص فرق نہیں آیا۔ جو بھی قدم اٹھائے گئے ہیں وہ بے اثر ثابت ہورہے ہیں۔ پچھلی پیر کو دہلی کے ایک پانچ ستارہ ہوٹل میں ایک نرس سے اجتماعی بدفعلی کے واقعے نے راجدھانی کو ایک بار پھر شرمسار کردیا ہے۔ عورتوں کی عصمت پر لڑکوں کے ذریعے ہورہے حملوں کے معاملے میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ نیشنل کرائم بیورو کی تازہ رپورٹ بتاتی ہے کہ ایسے معاملوں کی تعداد میں پچھلے سال کے مقابلے میں132 فیصد اضافہ ہوا ہے اور لڑکوں کے ذریعے آبروریزی کے معاملے میں60.3 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ تازہ رپورٹ بتاتی ہے کہ لڑکوں کے ذریعے انجام دینے والے جرائم میں سب سے زیادہ اضافہ عورتوں کی عزت پر ہونے والے حملوں میں ہوا ہے۔ یہ اضافہ132.3 فیصد ہے۔جہاں تک عورتوں کی بے عزتی کے معاملے ہیں اس میں 70.5 فیصداور آبروریزی کے معاملے 60.3 فیصد بڑھے ہیں۔ انڈین پینل کوڈ کے تحت گرفتار لڑکوں میں سے66.3 فیصد کی عمر16 سال سے18 برس کے درمیان ہے۔ مرکزی وزیرخاتون و اطفال ترقی مینگاگاندھی نے آبروریزی جیسے گھناؤنے جرائم کے ملزموں کے ساتھ ویسا ہی برتاؤ کرنے کی وکالت کی تھی جیسا کہ بالغ ملزمان کے ساتھ پولیس کرتی آئی ہے۔انہوں نے کہا کہ سبھی جنسی جرائم میں سے 50 فیصد ایسے ہیں جو16 سال کی عمر کے لڑکوں نے انجام دئے ہیں۔ جو لڑکے انصاف و قانون کو سمجھتے ہیں اس لئے وہ ایسا کرسکتے ہیں۔ آئے دن ہو رہے واقعات سے یہ تو صاف ہے کہ وسنت وہار اجتماعی آبروریزی کے واقعہ کے بعد سے راجدھانی میں عورتوں کی سلامتی کو لیکر اٹھائے گئے اقدام کا کوئی خاص اثر نہیں پڑا ہے۔ جرائم پیشہ لوگوں کے ارادے بلند ہیں اور پولیس کے حوصلے پست ہیں۔ اس واقعے کو گزرے ڈیڑھ سال سے زیادہ عرصہ ہوچکا ہے اور ملزمان کو سزا تو ملنی دور کی بات ہے ابھی عدالتوں میں ہی معاملہ پھنسا ہوا ہے۔ اس دل دہلانے والے واقعے کے بعد مرکزی سرکار دہلی حکومت اور دہلی پولیس نے عورتوں کے خلاف ہورہے مظالم میں کمی لانے کے لئے کچھ ضروری قدم اٹھائے ہیں لیکن آج کے حالات ان دعوؤں کی حقیقت صاف بیاں کرتے ہیں۔ یہ بھی طے لگتا ہے کہ صرف قانون پولیس اور بڑھتے واقعات کو ہی روک سکتی ہے جب تک ایسے جرائم پیشہ کو پھانسی پر نہیں لٹکایاجاتا ان میں خوف پیدا نہیں کیا جاتا ، یہ باز آنے والے نہیں ہیں۔ اس کے ساتھ سماج کو بھی اپنا رول نبھانا ہوگا جیسا وزیر اعظم نریندر مودی نے یوم آزادی پر کہا تھا کہ ماں باپ کو اپنے بیٹے کی حرکتوں پر بھی توجہ دینی ہوگی۔ ٹیچروں و سماج کے لوگوں کو بھی اس برائی کو دور کرنے کیلئے آگے آنا ہوگا۔ ایک صحتمند ذہنیت والا سماج بنانے کی کوشش کرنی ہوگی جس سے بدفعلی یا چھیڑ چھاڑ کے واقعات پر روک لگ سکے۔
(انل نریندر)

27 اگست 2014

’’لو جہاد ‘‘سے ہندو ووٹوں کو متحد کرنے کی تیاری!

اب تک شمال مشرقی اورمشرقی ریاستوں میں خاص طور پر عیسائی مشنریوں کے خلاف تبدیلی مذہب کا الزام لگاتی رہی بھارتیہ جنتا پارٹی نے اب اترپردیش میں اپنی قومی ایگزیکٹو میں ’’لو جہاد‘‘ کا ریزولوشن لاکر تبدیلی مذہب کے خلاف وسیع تحریک چھیڑنے کی تیاری کرلی ہے۔بھاجپا کے سینئر لیڈروں کی مانیں تو غیر ملکی طاقتوں کے اشارے پر اور مالی مدد کے چلتے مغربی اترپردیش، آندھرا پردیش سمیت دیش کے کئی بڑے علاقوں میں کچھ مسلم تنظیموں کے ذریعے ہندو لڑکیوں کا مذہب تبدیل کراکران سے شادی کرنے والے مسلم لڑکوں کو اچھی خاصی رقم دینے کے ساتھ ساتھ ہی ان کے روزگار کا انتظام کرنے کا کھلا کھیل اس وقت چل رہا ہے۔ اس کا نمونہ پچھلے دنوں سہارنپور کی ایک مسجد سے بھاگی ایک ہندو لڑکی کے بیان سے ملتا ہے لیکن خوشامدی کے چلتے ریاست کی سماج وادی پارٹی سرکار اسے ایک لو افیئر مان کر رفع دفع کرنے میں لگی ہے۔ بھاجپا نے پردیش ورکنگ کمیٹی کی میٹنگ کے پہلے ہی دن صاف کردیا پارٹی اسمبلی چناؤ میں طبقہ خاص کے ذریعے دوسرے طبقے کی لڑکیوں کا مذہب تبدیل کرانے کے واقعات ’لو جہاذ‘ کو اشو بنائے گی۔ بھلے ہی میٹنگ کے اندر عہدیداروں نے سیدھے سیدھے اس نام کا ذکر نہ کیا ہو لیکن مرکزی لیڈر شپ کے تلخ تیوروں پر براہ راست اس لفظ کا ریاسی پردھان نے تقریر میں استعمال نہ کیا ہو لیکن اندر سے باہر تک درپردہ طور پر یہی اشو چھایا رہا۔ بھاجپا نے ا س مسئلے کے سہارے ہندوتو کی دھار تیز کر اقتدار پانے کا خواب دیکھ لیا ہے۔ پردیش کے پردھان ڈاکٹر لکشمی کانب باجپئی نے بھلے ہی ’لو جہاد‘ لفظ کا ذکر نہیں کیا لیکن انہوں نے باہر اور اندر جو کچھ کہا اس کا اشارہ اسی طرف تھا۔انہوں نے اندر کہا کہ قانون و نظام پوری طرح تباہ ہے۔ سپا سرکارکی پالیسی مذہبی رنگ دے کر فسادیوں کو تحفظ و مذہب دیکھ کر بے قصوروں کو ٹارچر کرنا ہے۔ میرٹھ اور عزیز گنج (فیض آباد) لونی(غازی آباد) کے واقعات سے صاف ہے کہ سرکار طبقہ خاص کے ملزمان کے تئیں نرم رویہ رکھتی ہے۔ طبقہ خاص ہونے کی وجہ سے انہیں سپا سرکار کی سرپرستی میں ذیادتی کرنے یا لڑکیوں کا مذہب تبدیل کرانے کا لائسنس مل گیا ہے۔ جو حقائق سامنے آرہے ہیں اس سے تو یہ ہی امکان بڑھتا جارہا ہے کہ مسلمانوں کے ذریعے ہندو لڑکیوں کو جیسے بھی ہو پھنسا کر ،چاہے محبت کے جال میں یا اغوا کر ، یا کسی طرح کے تبدیلی مذہب کراکر مسلمان بنا لیا جائے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ایسا کرنے والے مسلمان لڑکوں کو بھاری رقم دی جارہی ہے جو مولوی لڑکیوں کا مذہب تبدیل کراکر نکاح پڑھا رہے ہیں ان کو کافی پیسہ دیا جارہا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے اس کا سلسلہ ہر ریاست میں مسلم اکثریتی علاقوں کے کچھ چنے ہوئے مدرسے و مساجد ہیں اس کے لئے پیسہ باہر سے آرہاہے۔ غیر بھاجپا حکمراں ریاستوں میں یہ کام تیزی سے چل رہا ہے کیونکہ وہاں دوسری سرکاریں مسلمان پرستی والی ووٹ کی سیاست کررہی ہیں جس کے چلتے مسلمانوں کے خلاف جلدی کیس درج نہیں ہوتے اور انہیں بچانے کی کوشش ہوتی ہے جب تک ایسا کوئی معاملہ نہ بڑھ جائے۔ذرائع کے مطابق غریب لیکن گھنی آبادی والی ہندو بستیوں میں مکان خرید کر ان میں مسجد مدرسے کھولے جا رہے ہیں۔اس کے لئے فنڈ زیادہ تر پاکستان، دوبئی، ایران، سعودی عرب کے امیرمسلم ملکوں سے آتا ہے۔ بھارت کے بھی مسلم کاروباری بہت مدد کررہے ہیں۔ آئی ایس آئی بھی ایک بڑی رقم دینے والا ذریعہ ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ایک مسلم لڑکا شفیع الحسن نے اپنا نام رنجیت کمار کوہلی رکھا اور ہندو بن کر قومی شوٹر تارا سہدیو کو اپنے جال میں پھنسا کر شادی کرلی۔ اس کے بعد اس پر تبدیلی مذہب کراکر مسلمان بننے کا دباؤ بنانے لگا۔ تارا سہدیو کے ساتھ رونما واقعہ سے بھی یہ صاف ہوتا ہے کہ ’لو جہاد‘ بھارت میں ہندو آبادی کے خلاف سوچی سمجھی سازش کا حصہ ہے۔ حالانکہ لو جہاد کو اٹھانے کے بھاجپا کے سیاسی قدم کو دارالعلوم دیوبند نے سازش قراردیا ہے۔ مولاناؤں کا کہنا ہے اسلام میں ’ لوجہاد‘ جیسا کوئی لفظ نہیں ہے۔ یہ فرقہ پرست طاقتیں من گھڑت لفظ سامنے لائی ہیں۔ ہندو مسلم اتحاد کو خراب کرنے کے لئے کچھ لوگ ایسا کررہے ہیں۔ دنیا کی مشہور اسلام یونیورسٹی دارالعلوم اور دیگر مولاناؤں کی رائے میں یہ اسلام مذہب کو بدنام کرنے کی سازش ہے۔
(انل نریندر)

ایک اور ’’کتاب بم‘‘ آگیا کانگریسی کی مشکلیں بڑھانے کیلئے!

کانگریس اور سابقہ یوپی اے II- سرکار اور خاص کر سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ پر ایک اور ’’کتاب بم‘‘ پھوٹنے والا ہے۔ ٹو جی سی ڈبلیو جی اور کوئلہ گھوٹالے کو لیکر منموہن سرکار کی پریشانی کا سبب بن رہے سابق سی اے جی ونود رائے بھی اپنی آنے والی کتاب کے ذریعے کانگریس اور یوپی اے سرکار کی پریشانی بڑھانے جارہے ہیں یہ کتاب اکتوبر میں شائع ہوسکتی ہے۔ اپنی کتاب ’’ناٹ جسٹ ان اکاؤنٹینٹ‘(Not just an accountant) میں رائے نے دعوی کیا ہے کہ کامن ویلتھ گیمس اور کوئلہ گھوٹالے میں شامل مبینہ شخصیتوں کا نام آڈٹ رپورٹ سے ہٹانے کیلئے یوپی اے سرکار نے ان پر دباؤ ڈالا تھا۔ انہوں نے آگے کہا ہے گھوٹالے بازوں کو بچانے کے لئے اس وقت کی سرکار کے لوگوں نے ان پر دباؤ بنایا تھا۔ رائے کے خلاصے کے بعد کانگریس نے جہاں سابق سی اے جی کو آڑے ہاتھوں لیا ہے وہیں بھاجپا کا کہنا ہے رائے کے انکشاف سے سابقہ یوپی اے حکومت میں انتہا پر پہنچے کرپشن کی ایک بار پھر سے تصدیق ہوئی ہے۔ عام چناؤ کی کمپین کے دوران اس وقت کے وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کے میڈیا مشیر رہے سنجے بارو نے بھی اپنی کتاب لکھی تھی۔ جس نے چناؤ کے وقت کانگریس کی مشکلیں بڑھا دی تھیں اس کے بعد سابق کوئلہ سکریٹری پی سی پاریکھ اور سابق وزیر خارجہ نٹور سنگھ نے اپنی کتاب کے ذریعے پچھلی سرکار اور سابق وزیر اعظم اور سونیا گاندھی کو کٹہرے میں کھڑا کیا تھا۔ قابل ذکر ہے کہ پچھلے سال سی اے جی کا عہدہ چھوڑنے والے رائے نے اپنی رپورٹ میں ٹو جی اسپیکٹرم الاٹمنٹ گھوٹالے میں 1.76 لاکھ کروڑ اور کوئلہ بلاک الاٹمنٹ گھوٹالے میں 1.86 لاکھ کروڑ روپے کے نقصان کا اندازہ پیش کیا تھا۔ ونود رائے کا کہنا ہے اس وقت کی یوپی اے سرکار سے وابستہ لوگوں نے ان سے گھوٹالے میں شامل لوگوں کے نام اپنی رپورٹ سے ہٹانے کیلئے دباؤ ڈالا تھا۔ بقول رائے اس سلسلے میں یوپی اے سرکار سے وابستہ لوگوں نے سی اے جی بننے سے پہلے ان کے آئی اے ایس دوست کے ذریعے بھی درخواست بھجوائی تھی۔ سنجے بارو کی کتاب سے پتہ چلتا ہے کہ حکومت چلانے اور سرکاری کام کاج میں سونیا گاندھی کی براہ راست مداخلت تھی۔ نٹور سنگھ کی کتاب نے کافی کچھ ایسا انکشاف کیا جو کانگریس اور اس کی لیڈر شپ والی مرکزی حکومت کی ساکھ ملیا میٹ کرنے والا تھا۔ رہی صحیح کثر سابق سی اے جی ونود رائے نے پوری کردی۔ منیش تیواری (کانگریس) نے رائے کو بحث کے لئے چیلنج کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے رائے صاحب جہاں چاہیں بحث کرلیں ان کی میعاد سنسنی پھیلانی والی ہے۔حقائق سے ان کا کوئی ناطہ نہیں۔ یہ کتاب بیچنے کے لئے پبلسٹی اسٹنٹ کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں ہے۔ ہوسکتا ہے جب رائے کی کتاب بازار میں آئے گی اور اس کے اور کچھ حقائق کانگریسیوں کو پریشان ہیں اور وہ ہمیشہ کی طرح اس سے کنی کاٹیں لیکن اس سے حقیقت بدلنے والی نہیں ہے۔ یوپی اے سرکار نے اپنی دوسری میعاد میں نہ صرف اپنے ساتھ بلکہ دیش کے ساتھ بھی ناانصافی کی ہے اور اس کا ثبوت چناؤ میں بری ہار سے مل گیا ہے۔ دلچسپ یہ ہے کہ کانگریسی سب سے بری ہار سے دوچار ہونے کے باوجود سچائی کو تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں اور یہ بھی تعجب ہے کہ خود سونیا گاندھی یہ ثابت کرنے میں لگی ہیں کہ بھاجپا نے عوام سے جھوٹے وعدے کئے اور عوام اس کے جال میں پھنس گئی ہے۔
(انل نریندر)

26 اگست 2014

مودی حکومت کے آپریشن گورنربدل مہم کو جھٹکا!

گورنروں کو ہٹانے کی کارروائی پر اتراکھنڈ کے گورنر عزیز قریشی نے سپریم کورٹ جاکر مودی سرکار کی آپریشن گورنر مہم کو جھٹکا دیا ہے۔ اس کے چلتے سرکار کے نشانے پر آئے کئی گورنروں کی تبدیلی کا معاملہ پھنس گیا ہے۔ گورنر عزیز قریشی نے اب سیدھے طور پر مودی حکومت کو چیلنج کردیا ہے۔ وہ اس بات سے خاص طور سے ناراض ہیں کہ مرکزی ہوم سکریٹری نے کیسے ان سے استعفے کی مانگ کرڈالی۔ گورنر نے اس معاملے میں سپریم کورٹ میں عرضی دائر کرکے سرکار کے برتاؤ کو چیلنج کردیا ہے۔ گورنر قریشی نے آئین کی دفعہ157(A) کا حوالہ دیکر عرضی دائر کی ہے۔ اس میں مئی2010ء میں سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کا حوالہ دیکر بتایا گیا ہے کہ گورنر مرکزی حکومت کا ملازم نہیں ہوتا۔ ایسے میں اسے آئینی عہدے پر بیٹھے گورنر سے استعفیٰ مانگنے کا حق نہیں ہے۔ قابل غور ہے کہ مئی 2010ء میں گورنروں کی برخاستگی سے وابستہ ایک معاملہ میں آئینی بنچ نے یہ فیصلہ سنایا۔ اسی فیصلے کو بنیاد بنا کر گورنر قریشی کے وکلا نے چنوتی دی ہے۔ عرضی میں کہا گیا ہے کہ مرکزی ہوم سکریٹری نے ان کو استعفیٰ دینے کے لئے کہا تھا جبکہ ایسا حق صرف صدر کے پاس ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ سرکار نے ایسا کرکے غیر قانونی کام کیا ہے اس لئے عدالت ضروری ہدایت جاری کرے۔ اس پر عدالت نے مرکزی حکومت اور ہوم سکریٹری کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 6 ہفتے میں جواب دینے کا حکم دیا ہے۔ ساتھ ہی عدالت نے اس معاملے کو پانچ نفری آئینی بنچ کے سامنے بھیج دیا ہے کیونکہ یہ سیکشن156 (گورنر کی میعاد) کی تشبیہ سے متعلق ہے۔ بہرحال عدالت میں جس طرح گورنر کے حق میں پیش ہوئے وکیل فوراً سابقہ کیبنٹ کے دو ممبر موجود رہے۔ان سے صاف ہے کہ یہ لڑائی قانونی کم سیاسی زیادہ ہے لیکن جس طرح گورنر اور مرکزی حکومت آمنے سامنے ہے وہ یقیناًبیحد افسوسناک ہے۔ دراصل عام طور پر یہی ہوتا آرہا ہے کہ جب مرکز میں نئی حکومت بنتی ہے تو سابقہ سرکار کے ذریعے گورنروں کی تقرری ختم ہوجاتی ہے۔ سابقہ حکومت کے ذریعے مقرر گورنر یا تو استعفیٰ دے دیتے ہیں یا پھر انہیں بدل دیا جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ویسے تو گورنر کا عہدہ آئینی ہے لیکن اس پر عام طور پر مرکز میں حکمراں پارٹی کے ریٹائرڈ لیڈر یا ریٹائرڈ افسر وغیرہ معمور ہوتے رہے ہیں۔ 2004ء میں جب یوپی اے سرکار اقتدار میں آئی تھی تو اس نے این ڈی اے کے عہد میں مقرر زیادہ تر گورنروں کو ہٹا دیا تھا۔ دراصل یہ معاملہ جتنا آئینی ہے اس سے زیادہ سیاسی نفع نقصان سے وابستہ ہے۔ اس سے یہ بات بھی ظاہر ہوتی ہے کہ ہماری سیاسی پارٹیاں اور سیاستداں آئینی تقاضوں کو اپنے فائدے کے مطابق تشریح کرنے میں زیادہ لگے رہتے ہیں لیکن کسی بھی تقاضے کے پیچھے آئینی مریادا ہے اس سے وہ یہ تو سمجھتے نہیں یا سمجھنا نہیں چاہتے۔ بہتر ہوگا کہ دن رات قسمیں کھانے والی ہماری سیاسی پارٹیاں گورنر کے عہدے کوابن الوقتی کی سیاست میں گھسیٹنے سے باز آئیں۔ اتنا طے ہے کہ معاملہ اب سپریم کورٹ میں پہنچ گیا ہے اس لئے مودی سرکار کو باقی گورنر کو ہٹانے کی مہم کو جھٹکا ضرور لگا ہے۔
(انل نریندر)

نہ تو وزراء اعلی کی ہٹنگ ٹھیک ہے اور نہ ہی پی ایم کا بائیکاٹ!

وزیر اعظم نریندر مودی کے پروگراموں میں وزرا ء اعلی کی ہٹنگ کا معاملہ اور ان کے پروگراموں کا کانگریسی وزراء اعلی کے ذریعے بائیکاٹ کرنے ا فیصلہ ایک غلط شروعات تو ہے ہی بلکہ ایک غلط سیاسی رویت کو جنم دینا ہے۔ ہریانہ کے وزیر اعلی بھوپندر سنگھ ہڈا کے بعد جھارکھنڈ کے وزیر اعلی ہیمنت سورین کی ہٹنگ ہوئی ہے اور یہ تب ہوئی جب وزیر اعظم خود اسٹیج پر موجود تھے۔ اس معاملے میں کانگریس نے طے کرلیا ہے کہ مستقبل میں وہ اپنی پارٹی کی سرکاروں کے وزراء اعلی کو وزیر اعظم کے پروگراموں سے دور رکھے گی۔ یعنی وہ وزیر اعظم کے پروگراموں کا بائیکاٹ کریں گے۔ اس کا ایک نتیجہ یہ بھی ہوا ہے کہ جھارکھنڈ میں مرکزی وزیر محنت و فولاد اور معدنیات نریندر سنگھ تومر کو رانچی میں جھارکھنڈ مکتی مورچہ کے ورکروں نے کالے جھنڈے دکھا کر ان کے خلاف نعرے بازی بھی کی۔ دراصل دونوں طرف سے غلطی ہوئی ہے۔ پہلی غلطی ان سیاسی ورکروں کی طرف سے جو یقیناًبھارتیہ جنتا پارٹی یا این ڈی اے سے وابستہ ہوں گے ،کیونکہ کم از کم پروٹوکول کی تعمیل نہیں کررہے ہیں۔ دیش کے وزیر اعظم کی موجودگی میں کسی بھی سینئر شخص کو بولنے کے دوران اس کو سننے کے بجائے ہٹنگ کرناغلط ہے مگر اس کے ساتھ یہ بھی کہنا ضروری ہے کہ وزیر اعظم کو بھی انہیں روکنے کی کوشش کرنا چاہئے تھی اور اس کی مخالفت کرتے۔ بیشک انہوں نے ایک دو بار روکنے کا اشارہ بھی کیا لیکن ہڑدنگ مچانے والوں کو سختی سے روکنا چاہئے تھے۔ اس کے ساتھ وزراء اعلی یا سیاستدانوں کی بھی کم ذمہ داری نہیں ہے کہ پردیش میں قانون و نظم کو لیکرسرکاری کام کاج یا دفاتر میں پیدا کرپشن سے عام آدمی جس طرح سے عاجز آچکا ہے اس کی وجہ سے وہ اپنے حکمرانوں و سیاستدانوں کے تئیں ان کے دل میں عزت و احترامکا جذبہ ختم ہورہا ہے اس لئے کانگریس نے اپنے وزراء اعلی کووزیر اعظم کے ساتھ اسٹیج شیئر نہ کرنے کی جو ہدایت دی ہے وہ بھی پروٹوکول کی خلاف ورزی ہے ساتھ ساتھ کانگریس کی مایوسی کا بھی نمونہ ہے۔ اسے اپنے ہی وزراء اعلی کے۔ سدا رمیا سے سیکھنا چاہئے جنہوں نے پروٹوکول کی تعمیل کرنے کے تئیں عزم دکھایا۔اس معاملے میں یہ بات خاص طور پر غور کرنے کی ہے کہ قوم کی ترقی کیلئے مرکز اور ریاست کے بیچ کا رشتہ خوشگوار اور تعاون دینے والا ہونا چاہئے۔ یوم آزادی پر اپنی تقریر میں بھی نریندر مودی نے اس بات پر زور دیا تھا لہٰذا یہ ماننے کی نہ تو کوئی وجہ ہے اور نہ ہی بنیاد کے وزیر اعظم کی ریلیوں میں جو کچھ ہورہا ہے وہ اسے اچھا مان رہے ہوں گے۔ مرکز میں تبدیلی اقتدار کے بعد ابھی کچھ ریاستوں میں اسمبلی چناؤ ہونے ہیں جو حالت نظر آرہی ہے اس میں زیادہ تر صوبوں میں موجودہ سرکاروں کے کام کاج سے وہاں کی عوام خاصی ناراض ہے ایسے میں تبدیلی چاہ رہی عوام اپنے طریقے سے اپنی رائے ظاہرکررہی ہے۔ بہتر ہو کہ اس سچائی کو بھی سیاسی پارٹیاں سمجھیں۔ البتہ یہ ضرور ہے کہ ابھی جو کچھ ہورہا ہے اسے اگر کسی سیاسی فائدے کے لئے اورطول دیا گیا تو اس سے مرکز اور سیاتوں کے درمیان ٹکراؤ کی ایک خطرناک شروعات ہوگی جو ہماری جمہوریت کیلئے اچھا نہیں ہے۔

 (انل نریندر)

24 اگست 2014

بیدرد اور بے رحموں کی تنظیم آئی ایس آئی ایس!

آئی ایس آئی ایس کے ذریعے امریکی صحافی جیمس فالی کا قتل اس پیشے سے جڑے بڑھتے خطرے کی تازہ مثا ل ہے۔ اس انٹرنیٹ اور آن لائن دور میں دہشت گرد تنظیمیں صحافیوں کو دشمن سمجھتی ہیں اور میدان جنگ کی رپورٹینگ پہلے سے کہیں زیادہ خطرناک اور جوکھم بھری ہوگئی ہے۔ اسلامک اسٹیٹ کے دہشت گردوں نے دو سال پہلے سیریا میں اغوا ہوئے امریکی صحافی کا سر قلم کردیا۔دہشت گردوں نے صحافی جیمس فالی کے قتل کا ایک 4 منٹ40 سیکنڈ کا ویڈیو بھی جاری کیا۔ اس ویڈیو کو یوٹیوب پر بھی پوسٹ کیا گیا حالانکہ بعد میں اسے ہٹا دیا گیا۔ جیمس فالی کا سر قلم کرنے کا جو ویڈیو عراق کے دہشت گرد آئی ایس آئی ایس نے جاری کیا ہے وہ دل دہلا دینے والا ہے۔ آئی ایس آئی ایس کی بیدردی اور بے رحمی کے بارے میں تو سب پہلے سے ہی جانتے ہیں وہ ایسی تنظیم ہے جس کی بیدردی کی وجہ سے القاعدہ نے بھی اس سے رشتے توڑ لئے تھے۔ اس تنظیم نے چیتاونی دی ہے کہ ایک دوسرے امریکی صحافی کے ساتھ بھی یہی سلوک کیا جائے گا۔ جولائی کے آخر میں دی واشنگٹن پوسٹ کے ایک صحافی جیسن ریزن کو ایران میں ایک شخص نے گرفتاری وارنٹ دکھا کر اغوا کرلیا تھا ،تب سے ان کی کوئی خبر نہیں ہے۔ آئی ایس آئی ایس کی ہربیدرد سرگرمی سوچی سمجھی ہوتی ہے اور اس سے جو دہشت پیدا ہوتی ہے اس کا استعمال وہ اپنی طاقت سے کہیں زیادہ اثر پیدا کرنے کیلئے کرتا ہے۔ اپنی چتورائی کے چلتے اس نے عراق اور سیریا کے بہت بڑے حصے پر قبضہ کررکھا ہے جبکہ اس کے لڑاکوں کی تعداد 10 ہزار کے آس پاس ہی ہے۔صحافی جیمس فالی کو اس تنظیم نے سیریا میں اغوا کیا تھا امریکہ کے لئے پیغام نام سے جاری ویڈیو میں نارنگی رنگ کا کپڑا پہنے جیمس فالی کو ریگستان میں گھٹنوں کے بل بیٹھے دکھایا گیا ہے۔کچھ اسی طرح کی یونیفارم امریکہ کی جیل گوانتاناموبے میں بند قیدی پہنتے ہیں۔ صحافی کے دائیں طرف کھڑا نقاب پوش آتنکی انگریزی میں بولتا دکھائی دیتا ہے۔ اس کا لہجہ پوربی لندن میں بولی جانے والی بولی سے میل کھاتا ہے۔ہاتھ میں چاقو لئے دہشت گرد کہتا ہے عراق میں ہمارے لڑاکوں کے خلاف صدر اوبامہ کے ذریعے کئے گئے ہوائی حملے کے حکم کا بدلہ لینے کیلئے فالی کا قتل کیا جارہا ہے۔ویڈیودیکھنے کے بعد امریکی راشٹرپتی براک اوبامہ نے کہا صحافی جیمس فالی کے بے رحمی سے کئے گئے قتل نے پوری دنیا کے ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔کوئی بھی ایشور اسلامک اسٹیٹ کے اس گھناؤنی حرکت کی حمایت نہیں کرسکتا۔ دہشت گرد تنظیم آئی ایس آئی ایس کا نظریہ دیوالیہ ہوگیا ہے۔ ایسا نہیں کہ امریکہ نے جیمس فالی کو ان کے چنگل سے بچانے کیلئے کوششیں نہیں کیں۔ امریکہ کی اسپیشل آپریشن ٹیم نے اوبامہ کی ہدایت پر سیریا میں گرفتار کئے گئے جیمس فالی اور دیگر امریکی شہریوں کو بچانے کے لئے خفیہ چھاپہ ماری مہم چلائی تھی لیکن یہ مشکل مہم ناکام رہی اور اسپیشل ٹیم کو خالی ہاتھ لوٹنا پڑا۔ میڈیا میں یہ بھی رپورٹ آئی کہ جیمس فالی کی رہائی کے لئے آئی ایس آئی ایس نے قریب840 کروڑ روپے کا زر فدیہ مانگا تھا۔یہ زر فدیہ فالی کی خاندان اور آن لائن پورٹل گلوبل پوسٹ سے مانگا گیا تھا۔ گلوبل پوسٹ کے پریسیڈنٹ و سی ای او فلپ بالبینی کے مطابق جیمس کی رہائی کے لئے دہشت گردوں نے پہلے زرفدیہ مانگا تھا لیکن جیمس کی ہتیا سے پہلے آخری پیغام میں کوئی مانگ نہیں رکھی تھی۔ فالی گلوبل پوسٹ کیلئے ہی کام کرتے تھے۔ عراق اور سیریا کے بڑے حصے پر قبضہ کر چکے آئی ایس آئی ایس میں جیمس فالی کے قتل کے بعد ایک نیا وشواس آیا ہے اور اب اس نے امریکہ پر حملے کرنے کی تنبیہ دی ہے۔ اس کے نیتا ابو بکر البغدادی کا نشانہ امریکی ہتوں اور اگر ممکن ہوتو امریکی زمین پر حملہ کرنے کا ہوگیا ہے۔ البغدادی کا مقصد کیا ہے اور اس کا مستقبل کیا ہوگا یہ بتانا مشکل ہے۔ خلافت قائم کرنے کا اس کا مقصدتو ہوائی قلعہ ہے کیونکہ دنیا کی اکثریتی سنی مسلم آبادی اس کی حمایت میں نہیں ہے۔ سیریا ، عراق اور ایران کی شیعہ حکومتوں کو کمزور کرنے کے لئے سعودی عرب اور قطر جیسے سنی دیش آئی ایس آئی ایس کی حمایت ضرور کررہے ہیں لیکن اب یہ تنظیم ان کیلئے بھی خطرہ بنتی جارہی ہے۔ وقت کا تقاضہ ہے کہ دنیا کے سبھی ملک خاص کر ارب دیش اپنی تنگ نظری ،سیاسی مفاد کو چھوڑ کر آئی ایس آئی ایس کی دہشت کو ختم کرنے کے لئے متحد ہوں۔
(انل نریندر)

سہارنپور فساد رپورٹ لیپا پوتی کے سوائے کچھ نہیں ہے!

سہارنپور میں گذشتہ مہینے ہوئے فساد پر اترپردیش سرکار کے ذریعے تشکیل شدہ شیو پال یادو کمیٹی کی رپورٹ کے جو بیورے سامنے آئے ہیں اس سے لگتا ہے کہ اکھلیش یادو سرکار ابھی جوابدہی سے نکلنا چاہتی ہے۔کمیٹی کی یہ رپورٹ لیپا پوتی کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے۔ راجیہ سرکار دکھانا چاہتی ہے کہ فساد سے نمٹنے کو لیکر وہ سنجیدہ ہے لیکن شاید ہی کوئی اس رپورٹ کو سنجیدگی سے لے گا۔ شیو پال یادو کی قیادت والی سپا نیتاؤں کی جانچ رپورٹ کو سرکاری رپورٹ بتانے سے بھڑکی بھاجپا نے اسے ماننے سے انکار کردیا ہے۔ پارٹی نے کہا سیاسی طور سے متاثر اس رپورٹ میں ریاستی سرکار اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لئے بھاجپا کو کٹہرے میں کھڑا کررہی ہے۔ رپورٹ پر کانگریس نے پردھان منتری نریندر مودی سے جواب مانگا ہے جبکہ مایاوتی نے بھاجپا و سپا دونوں کو فرقہ وارانہ تناؤ کے لئے ذمہ دار بتایا ہے۔ اس کمیٹی کی غیر جانبداری ہی شک کے گھیرے میں ہے کیونکہ اس میں صرف سرکار اور سماجوادی پارٹی کے لوگ شامل ہیں۔ اس رپورٹ کی سفارش سیاسی رنگ سے رنگی ہے۔ سچائی تو یہ ہے کہ یہ رپورٹ فساد متاثروں اور قانونی انتظام کی بدحالی جھیل رہی یوپی کی جنتا کو کوئی راحت پہنچانے یا امید بندھانے کے بجائے ان کے جلے پر نمک چھڑکنے کا کام کررہی ہے۔ سب سے بڑی وڈمبنا یہ ہے کہ دیش کی سب سے بڑی ریاست کی سرکار کو بھی اس سستے سیاسی ڈرامے کا حصہ بنا دیا گیا ہے۔ راجیہ سرکار فساد کیلئے بی جے پی کو تو ذمہ دار ٹھہراتی ہے لیکن اپنے پرشاسن کو مستعد کرنے کی کوشش نہیں کرتی۔ مظفر نگر کے واقعے سے اگر اس نے کوئی سبق لیا ہوتا تو سہارنپور کا واقعہ نہیں ہوتا اور پشچمی اترپردیش میں لگاتار فرقہ وارانہ تناؤ کی حالت بھی نہیں بنی رہتی۔ وزارت داخلہ کے اعدادو شمار کے مطابق اس سال جولائی تک اترپردیش میں فرقہ وارانہ تشدد کی تقریباً65 واقعات سامنے آچکے ہیں۔ سہارنپور فساد کی جانچ کے لئے ایک آزاد ہائی پاور کمیٹی کا قیام ہونا چاہئے تاکہ سچ سامنے آئے۔ اگر اکھلیش سرکار کو ریاست کی تھوڑی بہت بھی فکر ہے تو اسے فساد کی غیر جانبدار جانچ کروا کر قصورواروں کو سزا دلانی چاہئے۔ لیکن فی الحال اس سے بھی زیادہ فکر اسے اپنی ساکھ کی کرنی چاہئے کیونکہ یوپی کی اکھلیش سرکار اب صرف سیاست کرنے والی سرکار بنتی جارہی ہے جو بھائی بھائی کو اپنے سیاسی مفاد کیلئے لڑوا رہی ہے۔ مجھے نہیں لگتا کہ اترپردیش کے عوام میں اس سرکار کی کچھ عزت بچی ہے۔
(انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...