Translater

02 دسمبر 2017

ہنی پریت کا قبولنامہ

ڈیرہ چیف رام رحیم کو سادھوی جنسی استحصال معاملہ میں قصوروار قرار دئے جانے کے بعد پنچکولہ میں تشدد بھڑکانے اور ملکی بغاوت کے الزام میں ہنی پریت سمیت 5 لوگوں کے خلاف ایس آئی ٹی نے منگل کے روز سی بی آئی عدالت میں چارج شیٹ داخل کردی ہے۔ اسپیشل انویسٹی گیشن ٹیم نے 1200 صفحات میں ہنی پریت کے گناہوں کی کہانی لکھی ہے۔ کیمرے کے سامنے گھڑیالی آنسو بہانے والی ہنی پریت کا سب سے بڑا سچ بھی سامنے آگیا۔ ملک دشمن ہنی پریت کا ارادہ گورمیت رام رحیم کے ساتھ بیرون ملک جا کر بسنا بھی تھا۔ وہ بیرون ملک میں رہ کر بھارت کو دنیا کے نقشہ سے مٹانے کا خواب دیکھ رہے تھے۔ یہ خلاصہ خود اس نے اپنے قبولنامہ میں کیا ہے۔ 
ہنی پریت کا یہ قبولنامہ پولیس نے 15 دیگر ملزمان کے خلاف دائر کردہ چارج شیٹ کے ساتھ کورٹ میں پیش کیا ہے۔ اس کے مطابق ہنی پریت نے پنچکولہ تشدد گورمیت رام رحیم کو فرار کرانے کی سازش رچنے کا بھی جرم قبول کرلیا ہے۔ ہنی پریت نے کہا کہ اس نے تشدد ،آگزنی، توڑ پھوڑ اور خون خرابہ اس لئے کروایا تھا تاکہ پولیس کی توجہ بابا سے ہٹ جائے اور وہ اپنے پلان کے مطابق بابا کو لیکر نیپال چلی جائے اوروہاں سے بیرون ملک جاکر کہیں بس جائے۔ اس کام کے لئے ہنی پریت نے 7 اگست کو ہی تیاری کرلی تھی اس کے لئے ایک میٹنگ بلا کر ڈیرے کے بڑے کارندوں کی باقاعدہ ڈیوٹی بھی لگائی گئی تھی جس میں کرائے پر غنڈے لانے کی ذمہ داری پنچکولہ میں ڈیرہ کے انچارج چسکور سنگھ کو سونپی تھی۔ سبھی لوگوں کی ڈیوٹی لگانے کے بعد پلان بنایا گیا تھا کہ گورمیت رام رحیم کو حراست سے چھڑواکر اس کے ساتھ نیپال کے راستے بیرون ملک فرار ہوجائے گی۔ ہنی پریت نے بتایا کہ اسی پلان کے تحت میں اپنا اور پتاجی کا پاسپورٹ ڈیرہ پوشیدہ ، پراپرٹی کے دستاویزات کئی بینکوں کے چیک بک اور کریڈٹ کارڈ لیکر ساتھ آئی تھی۔ یہ سارا سامان ایک اٹیچی میں رکھاتھا جو 25 اگست کو بھی ساتھ تھی۔ اسی کار میں رکھا گیا تھا جس میں گورمیت رام رحیم کو پنچکولہ لایا جارہا تھا۔ لیکن بابا کے ساتھ بیرونی ملک میں بسنے کا پلان کامیاب نہیں ہو پایا اور ہنی پریت اٹیچی کے ساتھ 25 اگست کو رات واپس ڈیرہ لوٹ آئی۔ 27 اگست کو دستاویزات کی اٹیچی لیکر جے پور کوروانہ ہوئی۔ اس سے پہلے اس نے اپنا لیپ ٹاپ اور ایپل موبائل فون وپاسنا انسا کو سونپا تھا۔ چالان میں ایس آئی ٹی نے ادتیہ انسا کے نہ پکڑے جانے کا بھی ذکر کیا ہے۔
(انل نریندر)

گجرات کے پہلے مرحلہ میں پاٹیداروں کے گڑھ میں ووٹ پڑیں گے

گجرات اسمبلی چناؤ مہم اپنے شباب پر ہے اسے 2019 کے عام چناؤ کا سیمی فائنل مانا جارہا ہے۔ 22 سال سے ریاست میں بھاجپا کی سرکار ہے ۔ پہلی بار مانا جارہا ہے کہ کانگریس بھاجپا کو ریاست میں سخت ٹکر دے رہی ہے۔ پچھلی کئی چناؤمیں بیک فٹ پرہی کانگریس اس بار جارحانہ انداز میں ہے۔ کانگریس کو اس بار امید ہے کہ راہل گاندھی کے دھنواں دھار چناوی دوروں سے ریاست میں کانگریس کا بنواس ختم ہوگا۔ اس چناؤ میں ایک طرح سے کانگریس کو دیگر سیکولر پارٹیوں واک اوور دیا ہے۔ پچھلے چناؤ میں علاقائی تجزیوں کے چلتے کانگریس کو نقصان اٹھانا پڑا تھا لیکن اس بار ریاست کے سیاسی گھماسان میں چھوٹی چھوٹی پارٹیوں نے ایک طرح سے بھاجپا کو ہٹانے کی کمان راہل گاندھی کے ہاتھ میں سونپ دی ہے۔ راہل،اکھلیش، شرد، اجیت سنگھ جیسے سرکردہ سب کانگریس کے ساتھ ہیں۔ اتنا ہی نہیں عام آدمی پارٹی کا بھی پورا زور ریاست میں بھاجپا کو ہرانے پر ہے۔ وہیں بھاجپا کی پوری لیڈر شپ اور مرکزی کیبنٹ اور ریاستوں کے وزیر اعلی اور سینئر لیڈر بھی مودی کے گڑھ کو بچانے میں لگے ہوئے ہیں۔
کانگریس کی طرف سے چناؤ لڑ رہے نوجوان او بی سی لیڈر اور ٹھاکرسینا کے صدر الپیش ٹھاکر نے دعوی کیا ہے کہ گجرات اس بار وزیر اعلی وجے روپانی اور نائب وزیر اعلی نیرج پٹیل دونوں چناؤ ہار جائیں گے اور کانگریس کو دوتہائی یعنی کل 182 میں سے125 سیٹیں ملیں گی۔ ادھر پارٹیدار ریزرویشن تحریک کمیٹی (پاس) کے نیتا ہاردک پٹیل نے دعوی کیا ہے کانگریس اس بار 22 سال میں اقتدار میں جمی بھاجپا کو ہرا دے گی۔ انہوں نے دعوی کیا کانگریس 182 میں سے قریب100 سیٹیں جیت کر اکثریت کے ساتھ سرکار بنائے گی جبکہ اس بار 150 سے زیادہ سیٹیں جیتنے کا دعوی کررہی بھاجپا محض 70سے75 سیٹوں پر سمٹ جائے گی۔ گجرات اسمبلی چناؤ کے پہلے مرحلہ میں 89 سیٹوں پر 9 دسمبر کو ووٹ پڑیں گے۔ یہ سیٹیں سوراشٹر ،کچھ، ساؤتھ گجرات میں آتی ہیں۔ یہ پارٹیداروں کا گڑھ ہے۔ پچھلے چناؤ میں بھاجپا یہاں 70 سے80 فیصدی تک ووٹ پاتی رہی ہے۔ اس بار مقابلہ سخت ہے۔ بھاجپا نے گجرات میں سماجی تجزیوں کو دیکھتے ہوئے پچھڑا اور پاٹیدار فرقہ کو سب سے زیادہ ٹکٹ دئے ہیں۔ ریاست میں سب سے زیادہ تقریباً 35 فیصدی آبادی والے پسماندہ طبقہ سے 61 و پارٹیدار فرقہ سے 52 لیڈروں کو امیدوار بنایا ہے۔ پاٹیدار آندولن کے بعد چوکس ہوئی بھاجپا نے نہ صرف اس فرقہ کے زیادہ تر موجودہ ممبران اسمبلی کو اتارا ہے بلکہ پچھلی بار سے 7زیادہ پاٹیداروں کو ٹکٹ بھی دیا ہے۔
(انل نریندر)

01 دسمبر 2017

لالو کی سیکورٹی گھٹانے پر واویلا

مرکزی سرکار نے بہار کے سابق وزیر اعلی لالو پرساد یادو کی زیڈ پلس سیکورٹی واپس لے لی ہے جس پر سیاسی ہنگامہ مچ گیا ہے۔ لالو کے بیٹے تیج پرتاپ یادو نے تو غصہ میں ساری حدیں پار کردی ہیں اور وزیر اعظم نریندر مودی کے لئے بیحد نازیبا زبان کا استعمال بھی کیا ہے اور لالو نے بھی کہا کہ یہ فیصلہ صحیح نہیں ہے۔ انہوں نے کہا بی جے پی ان کے خلاف سازش رچ رہی ہے۔ سیکورٹی ہٹانے پر وہ بولے یہ میرا قتل کرانے کی سازش ہے۔ نائب وزیر اعلی سشیل کمار مودی نے حالانکہ لالو کی سیکورٹی کو ہٹانے کے پیچھے کوئی سیاسی بنیاد نہیں ہے۔ مرکز ہو یا ریاستی حکومت ہو مرکزی وزارت داخلہ وقتاً فوقتاً خطرے کا جائزہ لے کر اس کی بنیاد پر سیکورٹی میں اضافہ یا کمی کرتی ہے۔دیش کے سرکردہ لیڈروں ، بڑے حکام اور خاص شخصیتوں کو حکومت کی طرف سے الگ الگ زمرے کی سیکورٹی مہیا کرائی جاتی ہے اور اس کا فیصلہ مرکزی حکومت کرتی ہے۔ ان میں مرکزی وزیر، وزیر اعلی، سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے جج صاحبان ،مشہور لیڈر اور سینئر افسران شامل ہوتے ہیں۔ فی الحال بھارت میں 450 لوگوں کو اس طرح کی سیکورٹی ملی ہوئی ہے۔ حکومت ہند کی طرف سے مہیا کی جانے والی سبھی طرح کی سیکورٹی میں اسپیشل پروٹیکشن گروپ (ایس پی جی) ، نیشنل سیکورٹی گارڈ (این ایس جی)، انڈین تبت باڈر پولیس اور سینٹرل ریزرو پولیس (سی آر پی ایف) ایجنسیاں شامل ہوتی ہیں۔ زیڈ پلس کٹیگری کی سیکورٹی دیش کا سب سے بڑا سیکورٹی سسٹم ہے یہ وی وی آئی پی کیٹگری کی سیکورٹی مانی جاتی ہے۔ اس کیٹگری میں سیکورٹی ملازم تعینات ہوتے ہیں۔فی الحال دیش میں صرف 8 لوگوں کو ہی یہ سیکورٹی ملی ہوئی ہے جس میں وزیر اعظم نریندر مودی، سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ، ان کی اہلیہ گورشرن کور، سابق وزیراعظم اٹل بہاری واجپئی، کانگریس صدر سونیا گاندھی، راہل گاندھی اور ان کی بہن پرینکا گاندھی قابل ذکر ہیں۔ حیران کرنے والی بات یہ ہے کہ مکیش امبانی کو زیڈ کیٹگری کی سیکورٹی ملی ہوئی ہے۔ اتنا امیر آدمی اپنے سیکورٹی گارڈ نہیں رکھ سکتا؟ تیج پرتاپ یادو نے کہا کہ میڈیا میں اتنی ہمت نہیں کہ اس فیصلہ پر سوال اٹھا سکے۔سرکاری سیکورٹی آج کل ایک طرح کا اسٹیٹس سمبل بن گیا ہے۔ دنیا میں شاید کہیں ایسا نہیں کہ 450 لوگوں کو پرائیویٹ سیکورٹی دی جائے۔ اتنے ہزاروں سیکورٹی ملازمین ان چھوٹے بڑے نیتاؤں کی سیکورٹی میں تعینات کئے گئے ہیں اگر ان کو ہٹا کر پبلک کی سیکورٹی پر لگایا جائے تو جنتا کا بھی بھلا ہو۔ کچھ تو کرمنل ٹائپ کے چھٹ بھیوں کو بھی سیکورٹی ملی ہوئی ہے۔
(انل نریندر)

سڑک حادثوں کی بڑھتی تعداد

سرکاری گاڑیوں کی کمی اور پرائیویٹ گاڑیوں کا دباؤ دیش میں زیادہ تر سڑک حادثات کی وجہ ہے۔ شراب پی کر گاڑی چلانا بھی سڑک حادثوں کی بڑی وجہ ہے۔ سستی و آرام دہ بسیں دستیاب نہ ہونے کے سبب زیادہ تر لوگ گاڑی مہنگی ہونے کے باوجود کار یا اسکوٹر خریدنے اور چلانے پر مجبور ہیں۔ سال 2016 میں سڑک حادثات کی رپورٹ سے یہ حقائق سامنے آئے ہیں کہ بھارت میں کاروں اور اسکوٹروں اور ان کے سواروں کی بڑھتی تعداد سیکورٹی کے لئے سب سے بڑا خطرہ ثابت ہورہی ہے۔ 2016 میں دیش میں دوپہیہ گاڑیوں کی 73.5 فیصد حصہ داری درج کی گئی، جبکہ کار، جیپ اور ٹیکسیوں کی حصہ داری 13.6 فیصد پائی گئی۔ پچھلے 10 برسوں کے دوران دیش میں گاڑیوں کی فروخت کی تعداد سے پتہ چلتا ہے کہ 2005 سے 2015کے دوران دیش میں کاروں کی فروخت سالانہ 10.7 فیصد جبکہ موٹر سائیکلوں کی فروخت میں 10.1 فیصد کی شرح سے اضافہ ہوا ہے۔ ٹرکوں کی فروخت 8.8فیصد اور بسوں کی فروخت 8.2 فیصد کی شرح سے بڑھی ہے۔ جس رفتار سے گاڑیوں کی تعداد بڑھ رہی ہے، سڑکوں کی لمبائی نہیں بڑھ پا رہی ہے۔ اس سے چلتے حالات مزید سنگین ہوتے جارہے ہیں۔ 10 برسوں میں جہاں گاڑیوں کی تعداد سالانہ9.8 فیصد کے حساب سے بڑھی ہے وہیں سڑکوں کی لمبائی محض 3.7 فیصد کے حساب سے بڑھ سکی ہے۔ اس سے سڑکوں پر گاڑیوں کی بھیڑ بڑھنے سے حادثات کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔ سال2005 میں جہاں فی ایک کلو میٹر سڑک پر 24 گاڑیاں ہوا کرتی تھیں وہیں 2015 میں 38 گاڑیاں ہوگئی ہیں۔ فی ایک ہزار اشخاص کے درمیان گاڑیوں کی تعداد بھی کئی گنا بڑھ گئی ہے۔ سال1980 میں جہاں فی ہزار اشخاص کے درمیان محض 8 گاڑیاں ہوتی تھیں وہیں 2015 میں یہ تعداد بڑھ کر 167 ہو چکی ہے۔
شراب پی کر گاڑی چلانے سے ہونے والی اموات الگ مسئلہ ہے، مرکزی سرکار کی رپورٹ کے مطابق دہلی میں 2 سال پہلے شراب پی کر گاڑی چلاتے ہوئے صرف پانچ لوگوں کی موت ہوتی تھی، جو 2016 میں بڑھ کر 30 ہوگئی ہے۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق شراب پی کر گاڑی چلانے سے سڑک حادثات میں ہونے والی اموات کی اہم وجہ ہے۔ ترقیافتہ ممالک میں ہونے والے سڑک حادثوں میں تقریباً 20 فیصدی ڈائیوروں کے جسم میں شراب پائی گئی جبکہ ترقی پذیر ممالک میں یہ نمبر 69 فیصدی نکلا، لوگوں کو موت کے چنگل سے بچانے کے لئے مرکزی حکومت نے پچھلے سال شراب پی کر گاڑی چلانے والوں پر 10 ہزار روپے جرمانہ بھی مقرر کیا تھا پھر بھی ایسے حادثات نہیں رک رہے ہیں تو حکمت عملی کو مزید بہتر بنانے پر غور کیا جانا چاہئے۔ گاڑیوں کا اتنی تعداد میں ہر سال اترنے سے مسئلہ مزید سنگین ہوتا جارہا ہے۔
(انل نریندر)

30 نومبر 2017

کیا بھاجپا 2014 دوہرا پائے گی

گجرات اسمبلی چناؤ کیلئے بچے چند دنوں کو بھاجپا و کانگریس دونوں بیش قیمتی مان کر رات دن ایک کررہی ہیں۔ اسی حساب سے دونوں پارٹیوں نے اپنی کمپین کو تیز کردیا ہے۔گجرات میں کیا بھاجپا کیلئے 2014 دوہراپانا آسان ہے؟ دراصل یہ سوال اس لئے اٹھ رہا ہے کہ بھاجپا صدرامت شاہ نے اس بار گجرات کے لئے 150+ کا ٹارگیٹ طے کیا ہے۔ گجرا ت اسمبلی میں 182 سیٹیں ہیں عام طور پر اکثریت سے سرکار بنانے کے لئے محض 92 سیٹوں کی ضرورت ہے۔ بھاجپا گجرات میں 1998 ء سے مسلسل اقتدار میں ہے۔ 2001ء میں نریندر مودی کے گجرات کا وزیر اعلی بننے کے بعد ان کی قیادت میں ہی پارٹی نے وہاں 2002،2007 اور 2012ء کے اسمبلی چناؤ لڑے لیکن پارٹی کی جیت زیادہ سے زیادہ 127 سیٹوں تک رہ گئی۔ کانگریس نے ضرور1985 ء میں 149 سیٹیں جیتی تھیں۔ گجرات میں وہی اس کی آخری جیت بھی ہے۔ بھاجپا کا سب سے بڑا چہرہ نریندر مودی ہیں۔ بھاجپا اپنے مشن 150 کے ٹارگیٹ کو حاصل کرنے کے لئے کوئی کثر چھوڑنا نہیں چاہتی ہے۔ ایسے میں پارٹی نے اس مہینے سے ہی مودی کی 25-30 ریلیاں کرانے اور شہری علاقہ میں روڈ شو کرنے کا پلان بنایا ہے۔ نریندر مودی کی کشش لگاتار بڑھتی جارہی ہے۔ دہلی ، بہار اور پنجاب کے چناوی نتیجوں کو اگر نکال دیں تو اس دوران جن ریاستوں میں بھی اسمبلی چناؤ ہوئے ہیں اس میں نریندر مودی کا جادو سر چڑھ کر بولا ہے۔ بھاجپا کے پاس امت شاہ جیسا حکمت عملی ساز بھی ہے۔ ان کی حکمت عملی کے مقابلہ میں کھڑا ہو پانا حریف پارٹیوں کے لئے بہت مشکل ثابت ہورہا ہے۔ بھاجپا ایم پی شتروگھن سنہا کا کہنا ہے گجرات کی جنتا میں نوٹ بندی اور جی ایس ٹی کو لیکر غصہ ہے۔ یہ بات صاف ہے کہ گجرات اسمبلی چناؤ بھاجپا کے لئے محض ایک چناؤ نہیں بلکہ چنوتی بھی ہے۔ کانگریس کے سینئر لیڈر اشوک گہلوت نے نوٹ بندی و جی ایس ٹی نافذ ہونے کے سبب سبھی طبقوں خاص کر چھوٹے تاجروں کو ہونے والی بھاری مشکلوں کو سرکار کے ذریعے نظراندازکرنے کا الزام لگاتے ہوئے دعوی کیا ہے نوٹ بندی کے فیصلہ کا ایک سال پورا ہونے پر جشن منانا سرکار کے لئے الٹا پڑے گا۔ نوٹ بندی کے نتیجہ الٹے نکل رہے ہیں۔ لوگوں کے کام دھندے نوٹ بندی کے سبب چوپٹ ہوگئے ہیں۔ ان کی نوکریاں جا رہی ہیں۔ کانگریس نائب صدر راہل گاندھی نے بھروچ ریلی میں مرکز کی مودی سرکار اور بھاجپا پر جم کر تنقید کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ووٹنگ کے دن بھاجپا کو کرنٹ لگے گیا۔ بھڑوچ راہل گاندھی کے دادا فیروز گاندھی کا آبائی ضلع بھی ہے۔ یہ وہ علاقہ ہے جو کبھی کانگریس کا گڑھ رہا ہے۔ ریلی میں راہل نے گجرات ماڈل پر بھی حملہ کیا۔ انہوں نے کہا گجرات ماڈل صنعت کاروں کے لئے غریبوں کے لئے نہیں۔ غریبوں سے زمین ، بجلی ، پانی لو اور صنعت کاروں کو دو ،یہی مودی جی اور وجے روپانی جی کا گجرات ماڈل ہے۔ راہل کی ریلیوں میں بھاری بھیڑ آرہی ہے لیکن سوال یہ ہے کیا یہ سب کانگریس کو ووٹ بھی دیں گے؟ کانگریس اگربھیڑ کو ووٹوں میں تبدیل کرنے میں مات کھاتی ہے ۔ سازگار ماحول ہونے کے باوجود بھاجپا کو گجرات میں ہرانا مشکل لگتا ہے۔حالات ٹھیک ہونے کے باوجود 2014 جیسی کارکردگی دوہرا پانے میں بھاجپا کیلئے بھی مشکل اس لئے ہو سکتی ہے کہ اس دوران گجرات کے سیاسی پس منظر میں خاصی تبدیلی آئی ہے۔ دلتوں پر شروع ہوئے حملوں نے گجرات کے اندر پورے دلت سماج کو بھاجپا کے مخالف کھڑا کردیا ہے۔ پارٹیدار اور او بی سی بھی ریزرویشن کے مسئلہ پر سرکار کے خلاف ہوگئے ہیں۔ یہ دونوں بھاجپا کے مضبوط ووٹ بینک رہے ہیں۔ تقریباً 20 سال سے مسلسل اقتدار میں رہنے کی وجہ سے بھاجپا کے خلاف اینٹی ان کمبینسی فیکٹر بھی کام کرے گا۔ کل ملاکر بھاجپا کے لئے 2014 دوہراپانا آسان نہیں ہے۔
(انل نریندر)

وراٹ کوہلی نے ڈان بیڈ مین اور رکی پونٹنگ کو پچھاڑا

ٹیم انڈیا کے کپتان وراٹ کوہلی جب بھی میدان پر اترتے ہیں کرکٹ شائقین ریکارڈ بک کھنگالنے میں لگ جاتے ہیں کہ اب وہ کونسا نیا ریکارڈ بنانے جارہے ہیں۔ بھارت اور سری لنکا کے درمیان ناگپورمیں کھیلے گئے دوسرے ٹیسٹ میچ کے تیسرے دن وراٹ نے اپنے کیریئر کی دوہری سنچری پوری کرکے تاریخ رقم کر دی۔ وراٹ 213 رن بنا کر آؤٹ ہوئے۔ اپنی میراتھن پارٹی میں انہوں نے 267 گیندوں کا سامنا کیا جس میں 17 چوکے اور 2 چھکے شامل رہے۔ کپتان کی شکل میں 5 دوہری سنچری لگانے والے وراٹ کوہلی دوسرے بلے باز بن گئے ہیں۔ انہوں نے اس معاملہ میں ویسٹ انڈیز کے سابق کپتان برائن لارا کی برابری کرلی ہے۔ اپنا 62 واں ٹیسٹ میچ کھیلتے ہوئے وراٹ کوہلی نے اپنے نام 19 سنچریاں درج کی ہیں۔ سال2017ء میں وراٹ کی یہ چوتھی سنچری تھی ساتھ ہی بین الاقوامی کرکٹ کے سبھی فورمیٹ کو ملانے پر 2017 میں یہ ان کا 1091 ویں سنچری تھی۔ اس طرح وہ اس سال بطور کپتان سب سے زیادہ سنچری لگانے والے بلے باز بن گئے۔ ان کے پیچھے 9 سنچریوں کے ساتھ آسٹریلیا کے سابق کپتان رکی پونٹنگ ہیں۔ انہوں نے لگاتار دو سال2005 -06 میں کپتان کی حیثیت سے 9-9 سنچریاں لگائی تھیں۔ وراٹ نے سنیل گواسکر کو بھی پیچھے چھوڑدیا ہے۔ گواسکر نے 47 ٹیسٹوں میں کپتانی کی جس میں 11 سنچریاں لگائیں، وہیں وراٹ کا کپتان کی شکل میں یہ31 واں ٹیسٹ میچ تھا۔ کرکٹ کی دنیا کے سب سے بڑے بلے باز کہے جانے والے سر ڈان بیڈ مین کو بھی وراٹ نے کپتانی کے معاملہ میں پیچھے چھوڑدیا ہے۔ وہ اپنی ہاف سنچریوں کو جس رفتار سے سنچری میں تبدیل کرتے ہیں اس لحاظ سے وہ سب سے بہترین کپتان بن چکے ہیں۔ تقریباً 7 سال بعد ایسا ہوا جب کسی ٹیسٹ میچ کی ایک پاری میں چار ہندوستانی بلے بازوں نے سنچری بنائی۔ بطور بلے باز ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان وراٹ کوہلی کے لئے 2017 کا سال بیحد کامیاب رہا۔ پورے کیریئر کو دیکھتے ہوئے مقابلہ کیا جائے تو اس سال انہوں نے سب سے زیادہ سنچریاں بنائی ہیں۔ بین الاقوامی کرکٹ کے سبھی فارمیٹ میں نمبروں کی بات کریں تو کپتان کوہلی سب سے آگے دکھائی دیتے ہیں۔ اس سال انہوں نے ایک نہیں کئی کرشمائی ریکارڈ توڑ کر اپنا جھنڈا گاڑھ دیا۔ سری لنکا کے خلاف سال کی آخری سیریز میں بھی وہ جم کر کھیلے۔ایک سال میں سب سے زیادہ شاندار کھیل کھیل کر انہوں نے ابھی تک سبھی ہندوستانی کپتانوں کا بھی ریکارڈ توڑدیا ہے۔ 2312 رن بنا کرسورو گانگولی کے 2059 رن کا ریکارڈ توڑدیا۔ وراٹ کوہلی کی بیش قیمت کامیابی کے پیچھے ایک بہت بڑی وجہ ہے ان کی فزیکل فٹنیس ۔ وہ اتنے فٹ ہیں کہ انہیں اتنی لمبی لمبی پاریاں کھیلنے میں کوئی دقت نہیں ہوتی۔ اس وقت دنیا کے سب سے بہترین بلے باز ہیں وراٹ کوہلی۔
(انل نریندر)

29 نومبر 2017

ای وی ایم کا اعتماد

اترپردیش بلدیاتی چناؤ میں مبینہ گڑبڑیوں کی شکایت ملنے کے بعد ای وی ایم مشینوں سے چھیڑ چھاڑ کا معاملہ پھر گرما گیا ہے۔ بلدیاتی انتخابات میں میرٹھ اور کانپور میں بدھ کے روز ہنگامہ بھی ہوا تھا اسی معاملہ کو لیکر کانگریس نے دھاوا بول دیا ہے۔ کانگریس نے الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں (ای وی ایم) میں گڑبڑی کی کچھ نئی شکایتوں کے پیش نظر چناؤ کمیشن سے الجھن کی صورتحال کو ختم کرنے کے لئے گجرات چناؤ میں ای وی ایم مشینوں کی سپریم کورٹ کے جسٹس سے منصفانہ جانچ کرانے کی مانگ کی ہے۔ جس کسی کے بھی حق میں بٹن دبایا جاتا ہے لیکن ووٹ بھاجپا کے کھاتے میں چلا جاتا ہے۔ کانگریس نے اس کو لیکر باقاعدہ پریس کانفرنس بلائی تھی۔ کانگریس کے ترجمان ابھیشیک منو سنگھوی نے کہا کہ اترپردیش ،مہاراشٹر سمیت کچھ دیگر علاقوں میں حال ہی میں ای وی ایم مشینوں میں گڑ بڑی کی شکایتیں ملی ہیں۔
شکایت کے بعد ان میں کچھ مشینوں کی جانچ کرنے پر پتہ چلا ہے کہ بٹن کسی بھی پارٹی کے چناؤ نشان کا دباؤ لیکن ووٹ کمل کے نشان یعنی بھاجپا پرپڑ رہا تھا۔ بھارتیہ جنتا پارٹی ای وی ایم میں گڑبڑی کر چناؤ جیت رہی ہے، یہ الزام لگایا ہے عام آدمی پارٹی ہے۔ عاپ نے کہا کہ اترپردیش میں ہوئے سٹی کارپوریشن چناؤ میں ایک بار پھر ای وی ایم میں گڑبڑی سامنے آئی ہے۔ اس معاملہ میں عاپ نے چناؤ کمیشن سے ای وی ایم کی وسیع پیمانے پر جانچ کی مانگ کرتے ہوئے وائٹ پیپر لانے کی مانگ کی ہے۔ عام آدمی پارٹی کے سینئر لیڈر اور پی اے سی کے ممبر آتشی مرلینا نے کہا کہ ایسا پہلی بار نہیں ہوا ہے کہ ای وی ایم میں خرابی کی خبر سامنے آئی ہو۔ اس سے پہلے بھی بھنڈ، پھولپور اور اتراکھنڈ کے کئی علاقوں میں ای وی ایم ٹمپرنگ کا واقعہ سامنے آچکا ہے۔ آزادانہ اور منصفانہ چناؤ عمل جمہوریت کی جڑ ہے اس میں کسی طرح کی ٹمپرنگ ہماری جمہوریت کی جڑیں کھودنے کے برابر ہے۔ یہ اچھا ہے کہ ای وی ایم میں وی وی پیڈ کی سہولت دی جارہی ہے۔ وقت کا تقاضہ یہ ہے کہ چناؤ کمیشن اپنی اور ان ای وی ایم مشینوں کے اعتماد کو برقرار رکھے۔ ایک قابل قبول راستہ یہ ہے کہ وی وی پیڈپرچیوں کی بھی گنتی ہو، یہ پوری ووٹنگ کی گنتی ہو تاکہ کسی کو یہ کہنے کا موقعہ نہ ملے کہ مشینوں سے چھیڑ چھاڑ کی گئی ہے۔ ای وی ایم کی شفافیت کے لئے صرف پی وی پی اے ٹی یعنی پولنگ کے بعد نکلنے والی پرچی ہے کافی نہیں ہے۔ اس کی پوری گنتی ہونی چاہئے۔ بلا شبہ چناؤ کمیشن کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ہر طرح کے شبہ کا ازالہ کرے تاکہ اس کے اعتماد پرسوالیہ نشان نہ لگ سکے۔
(انل نریندر)

بڑھتامیٹرو کرایہ اور مسافروں کی گھٹتی تعداد

دہلی میٹرو کے کرایہ میں اضافہ کا اثر مسافروں کی تعداد پر پڑنا یقینی تھا۔ تمام مخالفتوں کے باوجود میٹرو نے کرایہ بڑھادیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ میٹرو میں سفر کرنے والوں میں متبادل کا استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔ زیادہ تر نے بسوں میں سفر کرنے بہتر سمجھا۔اکتوبر میں کرایہ بڑھنے کے بعد سے میٹرو سے روزانہ سفر کرنے والے لوگوں کی تعداد میں قریب تین لاکھ کی کمی آئی ہے، اس کا انکشاف ایک آر ٹی آئی سے ہوا ہے۔ ستمبر میں روزانہ قریب 27.7 لاکھ مسافروں کو سفر کرانے والی میٹرو سے اکتوبر میں روزانہ اوسطاً 24.2 لاکھ لوگوں نے سواری کی۔ حالانکہ ڈی ایم آر سی کا دعوی ہے مسافروں کی تعداد میںآئی کمی کا کرایہ اضافہ سے کوئی سیدھا تعلق نہیں ہے۔ آر ٹی آئی سے موصول اطلاع کے مطابق اکتوبر کے کرایہ میں اضافہ کا اثر سبھی لائنوں پر پڑا ہے۔ مئی کے بعد میٹرو نے یہ اضافہ دوسری بار کیا تھا۔میٹرو کرایہ کو لیکر پھر مرکز اور دہلی سرکار کے درمیان زبانی جنگ شروع ہوگئی ہے۔ میٹرو میں یومیہ مسافروں کی تعداد 3 لاکھ گھٹنے پر وزیر اعلی اروند کیجریوال نے سنیچر کو طنز کستے ہوئے کہا کہ بھاڑا بڑھنے سے میٹرو ختم ہوجائے گی۔ دہلی نے عام لوگوں نے میٹرو کا استعمال بند کردیا تو اس کا کیا مطلب رہ جائے گا۔
میٹرو میں ہواکرایہ اضافہ میٹرو کو ہی خاک کردے گا۔دہلی سرکار میٹرو کے کرایہ میں اضافہ کے خلاف تھی لیکن مرکز نے دہلی سرکار کی نہیں مانی ساتھ ہی ان بڑھے ہوئے اضافہ کی شرحوں کو واپس لینے کی بھی دہلی سرکار نے سفارش کی تھی تاکہ لوگ زیادہ سے زیادہ میٹرو کا استعمال کرسکیں۔ معاملہ میں دہلی سرکار کی طرف سے سیدھے مرکزی سرکار کو کئی خط بھیجے گئے تھے۔ دوسری طرف مرکزی وزیر ہردیپ پوری نے دعوی کیا کہ مسافروں کی تعداد میں کمی کو پچھلے ماہ ہوئے کرایہ میں اضافہ سے نہیں جوڑا جاسکتا۔ مرکزی اربن ڈولپمنٹ وزیر نے کہا کہ ڈی ایم آرسی کا کرایہ دنیا میں سب سے کم ہے۔ پوری نے کہا سال 2016 میں ستمبر سے اکتوبر تک مسافروں میں 1.3 لاکھ کی کمی آئی تھی اور اس وقت کرایہ میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی تھی۔ سال میں کچھ ماہ ایسے ہوتے ہیں جب مسافروں کی تعداد میں اضافہ اور کمی ہوتی ہے۔ آج دہلی میٹرو بہت اہم بن چکی ہے۔ آلودگی کی مار سے بچنے کے لئے بہت سے لوگ میٹرو کا ہی سہارا لیتے ہیں۔ چوطرفہ بڑھتی مہنگائی کے سبب بھی میٹرو کرایہ میں اضافہ جنتا کو چبھ رہا ہے۔ بہتر ہوتا کہ دہلی میٹرو اور دیگر اقدامات سوچے جس سے اس کا خسارہ بھی پورا ہوجائے اور جنتا پر بوجھ بھی نہ پڑے۔ جب تک سری دھرن تھے سب ٹھیک تھا ،ان کے جانے کے بعد میٹرو کی کارگزاری میں بھی کمی آئی ہے۔
(انل نریندر)

28 نومبر 2017

راہل گاندھی کی تاجپوشی اور گجرات چناؤ

لمبے سیاسی انتظار کے بعد آخر کار راہل گاندھی کے کانگریس کے صدر بننے کا راستہ صاف ہوگیا ہے۔ حالانکہ راہل کا صدربننا تو طے ہی تھا لیکن اس کی دلچسپی ان کی ٹائمنگ کو لیکر تمام قیاس آرائیاں لگائی جارہی ہیں۔ دو مرحلوں میں گجرات میں ہونے والے چناؤ کے دوران جب9 دسمبر کو پہلے مرحلہ کی پولنگ ہوگی تب تک راہل گاندھی کے کانگریس صدر بننے کا اعلان ہوچکا ہوگا۔ اب جب راہل گاندھی کی تاجپوشی محض ایک خانہ پوری بھر رہ گئی ہے ایسے میں راہل کا مستقبل کا سفر آسان نہیں ہوگا۔ پارٹی کی کمان سنبھالنے کے بعد ان کے سامنے پارٹی کاڈر اور جنتا تینوں کوساتھ لیکر چلنا ہوگا۔ دیش بھر میں چل رہی مودی لہر اوربھاجپا کے کانگریس مکت بھارت کے عزم سے نمٹنا کانگریس کے نئے سپہ سالار کے لئے سب سے بڑا امتحان ہوگا۔ پچھلے تین برسوں میں جس طرح دیش کی سیاست میں اپوزیشن کا کردار سمٹتا جارہا ہے اور خاص کر کانگریس کے ہاتھ سے اس کے ایک کے بعد ایک قلعہ ڈھتے جارہے ہیں ایسے میں کانگریس کو اس کا پرانا گورو دلانا آسان کام نہیں ہوگا۔ 19 برسوں کے لمبے وقفہ کے بعدجب سونیا گاندھی کے ہاتھ سے کمان راہل کے پاس آئے گی تو ان کے سامنے وراثت اور نئی جان ڈالنے اور جدوجہد کے تین بڑے سوال ہوں گے۔ اپنے قیام کے بعد سے مشکل دور سے گزر رہی کانگریس کو نئے سرے سے آکسیجن دینا راہل کے لئے مشکل چنوتی ہوگی۔ پارٹی کے اندر ایک بڑے طبقہ کا خیال ہے کہ راہل کی قیادت میں کانگریس اپنی روایتی سیاست چھوڑکر تیزی سے تبدیلی کی طرف بڑھے گی۔ پارٹی کے طریقہ کار میں وسیع تبدیلیاں دکھائی دیں گی۔ ایسے لوگوں کا خیال ہے کہ راہل نہ صرف پارٹی کو نئی رفتار دیں گے بلکہ جارحانہ تیور بھی دیں گے۔ راہل گجرات میں بہت محنت کررہے ہیں، ان کی ریلیوں میں بھیڑ بھی آرہی ہے۔ ان کی ساکھ میں بھی تبدیلی آرہی ہے اکیلے راہل نے بھاجپا کو ہلا کر رکھ دیا ہے تبھی تو مودی سرکار میں پی ایم سمیت آدھا درجن وزیر گجرات میں ڈیرا ڈالے ہوئے ہیں۔ راہل نے یہ تو ثابت کردیا ہے کہ وہ مورچہ پر سامنے آکرلڑنا چاہتے ہیں اور ہار کا خطرہ لینے کو تیار ہیں۔ دراصل اب تک راہل گاندھی کی سب سے بڑی تنقید اسی بات کو لیکر ہوا کرتی تھی کہ وہ خطرہ مول لینا نہیں چاہتے اور ذمہ داری سے بھاگتے ہیں لیکن گجرات چناؤ کے سلسلہ میں اب تک وہ کئی دن ریاس میں گزار چکے ہیں اور وہ پوری طرح ذمہ داری لیتے دکھائی پڑ رہے ہیں۔ راہل نے اپنی ٹیم میں جوش ہوش کو مکس کئے ہوا ہے۔ گجرات چناؤ کے دوران اپنے پرانے گاڈ احمد پٹیل اور اشوک گہلوت کے مشورہ سن رہے ہیں اور ان پر عمل بھی کررہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اپنی ریلیوں میں راہل ایسے اشو اٹھا رہے ہیں جوجنتا کے دل کو چھوتے ہیں۔ پارٹی کے اندر راہل کو لیکر اکثر پرانے اور نئے لیڈروں کے درمیان نظریاتی ٹکراؤ کی خبریں آتی رہتی تھیں، لیکن راہل نے خوداس لڑائی کو ختم کرنے کی پہل کی ہے۔ انہوں نے گجرات میں اپنی پوری طاقت جھونکی ہے۔ تمام اوپینین پول کانگریس کی دونوں ریاستوں (ہماچل اور گجرات) میں جیت کا امکان نہیں ظاہر کیا گیا ہے۔ ایسے میں محفوظ راستہ نکالتے ہوئے نتیجہ سے ٹھیک پہلے صدر بننے کی خانہ پوری کرنے کا پلان بنایا گیا ہے۔ ویسے بھی پچھلے چار مہینے کے دوران راہل نے پارٹی کے اندر اپنی ٹیم کو نئے سرے سے قائم کیا ہے اور اب بس صدر بننے بھر کی دیری تھی۔
(انل نریندر)

مسجد میں نماز پڑھ رہے لوگوں پر حملہ

مصر میں اب تک کے سب سے بڑے خوفناک دہشت گرد حملہ میں شورش زدہ شمالی سینائی علاقہ کی ایک مسجد میں دہشت گردوں نے جمعہ کی نماز کے وقت قہر برپایا۔ جمعہ کو دہشت گردوں نے پہلے آئی ای ڈی سے دھماکہ کیا اور پھر گولیاں برسائیں۔ اس حملہ میں تقریباً 300 لوگوں کے مرنے کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ 150 سے زائد زخمی ہیں۔ جس کسی نے بھی بچ کر نکلنے کی کوشش کی انہیں مار ڈالا گیا۔ بتایا گیا ہے کہ حملہ آوروں نے مسجد کے باہر کھڑی گاڑیوں کو آگ لگادی تھی جس سے لوگوں کو باہر نکلنے سے روکا جاسکے۔ انہوں نے متاثرین کی مدد کرنے کی کوشش کررہی ایمبولنس گاڑی پر بھی گولی چلائی۔ جدید مصر کی تاریخ میں یہ ابھی تک کا سب سے خطرناک کٹرپسندی حملہ تھا۔ ابھی اس حملہ کی ذمہ داری کسی نے نہیں لی ہے مگر مانا جارہا ہے کہ اس کے پیچھے اسلامک اسٹیٹ (آئی ایس) کا ہاتھ ہوسکتا ہے۔ پچھلے سال سے وہ عام لوگوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ سرکاری نیوز ایجنسی منیٰ کے مطابق حملہ آوروں نے العارش شہر کی الراودہ مسجد کو نشانہ بنایا۔ سینائی جزیرہ 2001 سے ہی تشدد کی آگ میں جل رہا ہے ۔ وہاں تشدد کے واقعات میں 700 جوانوں کی موت ہوچکی ہے۔ 
سال2014 میں دہشت گردوں نے 31 جوانوں کو قتل کردیا تھا۔ اس کے بعد ایمرجنسی لگائی گئی تھی۔ اسی سال مئی میں 26 عیسائیوں کا قتل کردیا گیا تھا۔ واردات کے بعد مصر کے صدر عبدالفتح الیسی نے ٹی وی پر قوم کے نام خطاب میں اس حملہ میں مارے گئے اور زخمی ہوئے لوگوں کے تئیں ہمدردی کا اظہار کیا اور یہ بھی کہا کہ اس واردات کا بدلہ لیا جائے گا۔ تحریر انسٹیٹیوٹ آف مڈل ایسٹ پالیسی کے ریسرچ اسکالر تموتھی کیلداس مانتے ہیں کہ اس کے پیچھے آئی ایس کا ہاتھ ہوسکتا ہے۔ پچھلے سال سے وہ عام لوگوں کو نشانہ بنا رہے ہیں اور خاص کر عیسائیوں کو۔ انہوں نے کہا یہ ایک صوفی مسجد تھی جسے آئی ایس اپنے مذہب کے خلاف مانتا ہے۔ شمالی سینائی میں بہت سے لوگ آئی ایس کے خلاف لڑائی میں حکومت کی مدد بھی کررہے تھے۔ ایسے میں حملہ کی ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے اس علاقہ میں رہنے والے بددو قبائلی اپنے اوپر ہوئے اس حملہ کے بعد اور کھل کر سرکار کی مدد کرسکتے ہیں۔ مصر سرکار کے سامنے یہ ایک بہت بڑی چنوتی ہے۔ اگر اس حملہ کے پیچھے آئی ایس کا ہاتھ ہے تو یہ تشویش کا باعث ہے کیونکہ پچھلے کچھ وقت سے آئی ایس نے عراق ۔شام میں اپنی پکڑ گنوائی ہے۔ ہوسکتا ہے اس طرح کے حملہ کو انجام دے کر آئی ایس اپنے حمایتیوں تک یہ پیغام دینا چاہ رہی ہو کہ وہ ابھی بھی سرگرم ہے اور اپنے دشمنوں سے لڑ رہی ہے۔
(انل نریندر)

26 نومبر 2017

ایک بار پھر پاکستان کا اصلی چہرہ بے نقاب ہوا

حکومت ہند نے جمعرات کو کہا کہ لشکر طیبہ کے بانی اور نومبر 2008 ممبئی حملہ کے ماسٹر مائنڈ حافظ سعید کو رہا کئے جانے کا فیصلہ پاکستان کے اصلی چہرے کو دکھاتا ہے۔ غور طلب ہے کہ اس سال 31 جنوری کو حافظ سعید اور اس کے چار ساتھیوں کو پاکستان کی صوبہ پنجاب حکومت نے گرفتار کیا تھا۔ سعید کو ان کے گھر میں ہی نظر بند رکھا گیا تھا۔ حافظ سعید بھارت کی نگاہ میں تو آتنک وادی۔ جرائم پیشہ ہی ہے امریکہ اور اقوام متحدہ نے بھی اسے عالمی آتنک وادی اعلان کیا ہوا ہے۔ وزارت خارجہ کے ترجمان رویش کمار نے کہا کہ حافظ سعید کی رہائی ایک بار پھر دہشت گردی جیسے نفرت آمیز جرم کے لئے اقوام متحدہ کے ذریعے نامزد شخص یا تنظیم کو سزا دلانے میں پاکستان حکومت کی سنجیدگی میں کمی کی تصدیق کرتی ہے۔ بھارت نے یہ ردعمل لاہور ہائی کورٹ کے ذریعے بدھ کو حافظ کے خلاف ثبوتوں کی کمی سے اسے 10 مہینے گھر میں نظر بندی سے آزاد کرنے کے بعد دیا ہے۔ یہ صاف ہے کہ پاکستان نے غیرسرکاری عناصر کو سرپرستی و حمایت دینے کی اپنی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں کی ہے۔ بھارت سمیت پوری بین الاقوامی برادری اس بات سے ناراض ہے کہ خود ساختہ آتنک وادی کو اقوام متحدہ کے ذریعے یا آتنک وادی قرار دینے کے باوجود پاکستان میں اس کے ناپاک ایجنڈے کو جاری رکھنے اور کھلے عام کرتوت کو انجام دینے کی اجازت دی ہے۔ ایسا لگتا ہے پاکستانی مشینری اعلان کردہ دہشت گردوں کو قومی دھارا میں لانے کی کوشش کررہی ہے۔ یہ واضح ہے کہ پاکستان نے سرکار سے ایسے نا پسندیدہ عناصر کو سرپرستی اور حمایت دینے کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں کی ہے۔ پاکستان نے دہشت گردوں کو بچانے و حمایت کرنے کی پالیسی چھوڑی نہیں ہے۔ لشکر سرغنہ کے وکیل نے بتایا بھارت نے اس کے بارے میں جو ثبوت پاکستان حکومت کو سونپے تھے وہ جوڈیشیل ریویو بورڈکے سامنے داخل ہی نہیں کئے گئے۔ بورڈ نے اسی وجہ سے (ثبوتوں کی کمی) حافظ کی رہائی کا حکم دے دیا۔ سعید لشکر طیبہ کا چہرہ مانا جاتا ہے اور اس آتنکی تنظیم نے کتنا قہر برپایا ہے یہ بھارت کیسے بھول سکتا ہے۔ پھر ممبئی میں ہوئے آتنکی حملہ میں کچھ امریکی شہری بھی مارے گئے تھے۔ ایسا آدمی شار عام سرگرمیوں میں کھلے عام حصہ لے یہ کسی کو قابل قبول نہیں۔ ادھر امریکہ نے حافظ سعید کی رہائی پرتشویش جتائی ہے اور پاکستان سرکار سے اسے فوراً گرفتار کرنے کو کہا ہے۔ امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا حافظ سعید آتنک وادی حملوں کے ذریعے ہزاروں معصوموں کی موت کا ذمہ دار ہے۔ اس پر امریکہ نے ایک کروڑ ڈالر کا انعام بھی رکھا ہوا ہے۔ امریکہ اور اقوام متحدہ نے اس کی تنظیم جماعت الدعوی کو آتنک وادی تنظیم قرار دے رکھا ہے۔ پاکستان حکومت کو یقینی بنانا چاہئے کہ اسے گرفتار کیاجائے اور ڈھنگ سے مقدمہ چلایا جائے۔ جمعرات کی آدھی رات کو آزاد ہونے کے بعد سعید نے بھارت کے خلاف پھر زہر اگلنا شروع کردیا۔ اس نے کہا میری طرح کشمیر بھی ایک طرح آزاد ہوگا، اللہ مجھے اتنی طاقت دے کہ ہم کشمیر کی آزادی کے لئے (بھارت سے) لڑتے رہیں۔
(انل نریندر)

دیش میں منحوس ذیابیطس تیزی سے بڑھ رہی ہے!

امراض قلب کے بعد شوگر یعنی (ذیابیطس) تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ بھارت میں 6کروڑ 68 لاکھ سے زائد ذیابیطس کے مریض ہیں اور 7 کروڑ کے قریب اس بیماری کے خطرے کے نشانہ پر ہیں۔ سب سے بڑی تشویش کی بات یہ ہے کہ یہ منحوس بیماری چھوٹے بچوں میں بھی بڑھ رہی ہے۔ دیش میں یہ مانا جاتا ہے ذیابیطس ٹائپ2 بڑوں کی بیماری ہے اوربچوں و کم عمر میں ذیابیطس ٹائپ1 ہوتی ہے۔ لیکن اب کھانے پینے اور رہن سہن زندگی کے سبب دیش میں ذیابیطس کی شکل تیزی سے بدل رہی ہے۔ بچے و کم عمر کے لوگ بھی ذیابیطس ٹائپ2 کی بیماری سے متاثر ہونے لگے ہیں اور ایسے مریضوں کی تعداد بڑ ھ رہی ہے۔ ماہرین مانتے ہیں کہ امراض قلب سے مریضوں کی بڑھی ہوئی تعداد کی ایک اہم وجہ ذیابیطس ہے۔ آج ذیابیطس کے مریض آنے والے کل میں امراض قلب کے مریض بننے کا بہت زیادہ اندیشہ ہے۔ یوں تو اس مرض سے متاثر لوگ پوری دنیا میں ہیں لیکن چین کے بعد بھارت سب سے زیادہ ذیابیطس کے مریضوں کا دیش بن چکا ہے۔ ایک غیر سرکاری اسٹڈی میں یہ حقیقت سامنے آئی ہے کہ ذیابیطس مریضوں کے ذریعے انجکشن سے لئے جانے والے انسولین کی فروخت میں پچھلے نو برسوں میں پانچ گنا اور منہ سے نگلنے والی دواؤں کی خرید میں چار سال میں ڈھائی گنا اضافہ ہوا ہے اور یہ بھی تشویش کی بات ہے کہ اب یہ مرض عمر بھی نہیں دیکھ رہا ہے۔ نوجوان اور کمسن بچے تک اس کی زد میں آرہے ہیں۔ ذیابیطس بیشک خطرناک بیماری ہے لیکن کھانے پینے اور رہن سہن میں تبدیلی لا کر اسے کافی حد تک کنٹرول کیا جاسکتا ہے۔ ٹائپ1 کے مریض کو انسولین لینی پڑتی ہے لیکن ٹائپ2 کے مریض کھانے پینے و ایکسرسائز سے متعلق ڈسپلن کو اپنا کر اپنے شوگر لیول کی سطح پر کنٹرول رکھ سکتے ہیں۔ ہندوستانی غذائیت میں روایتی خوردنی باجرہ، جوار، لال چاول اور چورا چاول وغیرہ کو ترجیح دی جاتی تھی جو ذیابیطس کی بیماری کو پنپنے سے روکتے تھے لیکن سبز انقلاب کا زور صرف چاول اور گیہوں کی پیداوار پر رہا جو انسولین سے آراستہ غذا ہے۔ساتھ ہی مغربی رہن سہن ، جنگ فوڈ اور فاسٹ فوڈ نے کوڑ میں کھاج کا کام کیا ہے۔ ملاوٹ خوری بھی اس میں معاون ہوئی ہے۔ بڑھتی شہری آبادی کی وجہ سے عام آدمی کے لئے دن رات برابر ہوگئے ہیں۔ اس سے کام کرنے کا بھی رنگ ڈھنگ بدلا ہے اور جسمانی محنت کی قوت بھی گھٹی ہے۔ ان اسباب نے مل کر ذیابیطس کو ایک وسیع بحران بنا دیا ہے۔ ضرورت تو اس بات کی ہے کہ سرکار اس سے نمٹنے کے لئے بڑے پیمانے پر پروگرام تیارکرے اور سنجیدگی سے اس پر عمل کرے۔ بچوں کے لئے ذیابیطس کی دوائیں مفت دی جائیں تاکہ اس پرروک لگ سکے۔
(انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...