Translater

05 جنوری 2023

اقتدارمیں آئے تو پہلے یہ تین کام کریںگے!

اپنی بھارت جوڑو یاترا کے دہلی پڑاو¿ میں راہل گاندھی اعتماد سے لبریز نظر آئے ۔ لاکھوں لوگوں سے سیدھی بات چیت کرنے کے بعد ان میں ایک نئی چمک نظر آئی۔ سنیچر کو راہل گاندھی نے دیش میں بی جے پی کے خلاف بڑے پیمانے پر ایک کاو¿نٹر کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن نے مضبوط طریقے سے متبادل نظریہ سامنے رکھا تو اگلے لوک سبھا چناو¿میں کامیابی بہت مشکل ہو جائے گی ۔ راہل گاندھی سے سنیچر کو ایک پریس کانفرنس میں ان سے پوچھا گیاکہ اگر وہ پی ایم بنے تو وہ کونسے پہلے تین کام کریںگے ؟راہل نے بتایا کہ ہم یہ کام کریںگے سب سے پہلے تعلیم کا سسٹم بدلنا چاہوںگاہمارا تعلیمی نظام ٹھیک نہیں ہے ۔ 99.9فیصد بچے کہتے ہیں کہ ڈاکٹر ،وکیل ،انجینئر ،پائلٹ یا آئی پی ایس بننا چاہتے ہیں ۔سسٹم بتارہا ہے کہ اس پانچ کچھ بھی نہیں کرسکتے ۔دوسرا ہم بنا اسکل کا سمان پائے نوجوانوں کو روز گار نہیں دے سکتے ابھی جن کے پاس ہنر ہے ہم ان کی مدد نہیں کرتے بلکہ ہم ان کے ہنر کو ختم کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ تیسرا ہمیں دیش میں بھائی چارہ اور محبت بڑھانا ہے دیش میں تشدد ،نفرت کا بول بالا ہے جس کا دوسرے دیش فائدہ اٹھاتے ہیں ۔ ہماری خارجہ پالیسی گمراہ کرنے والی ہے ۔اس سے دیش کو نقصان ہوگا۔راہل گاندھی نے کہا کہ آج پاکستان اورچین ایک ہو گئے ہیں یہ خطرناک ہے جب ہماری سرکارتھی ہم نے انہیں ایک نہیں ہونے دیا تھا۔سرکار کو فوج کا سیاسی استعمال بند کرنا ہوگااور اس کے لئے اسپیشل قدم اٹھانے ہوںگے جو سرحد پار میں ہو رہا ہے اسے چھپائیے مت انہوں نے کہ میں بی جے پی اور آر ایس ایس کو اپنا گورو مانتا ہوں وہمیں سکھارہے ہیں کہ ہمیں کیا کیا کرنا چاہئے ۔ سرکار چاہتی ہے کہ میں بلیٹ پروف گاڑی میں بیٹھ کر یاترا کروں ایسا کرنا مجھے قبول نہیں ہے ۔ بی جے پی کے نیتا روڈ شو کرتے ہیں اور بلیٹ پروف گاڑی سے باہر نکلتے ہیں پروٹوکال توڑتے ہیں تو ان کے لئے قائدہ الگ ہے میرے لئے الگ ۔ راہل نے کہا یاترا کے بعد ویڈیوبناو¿ں گا کہ ٹی شرٹ میں کیسے چلا جاتا ہے ۔میں جانتا ہوں اپوزیشن کے لیڈ ر ہمارے ساتھ کھڑے ہیں آج کے ہندوستان میں سیاسی مجبوری اور دوسری مجبوریاں ہوتی ہیں ۔میںاس طرح نہیں کرنا چاہتا ۔کون آرہا ہے کون نہیں میں اپوزیشن کا بہت احترام کرتا ہوں اگر آپ سماج وادی پارٹی کو دیکھیں تو ان کے پاس قومی نظریہ نہیں ہے ان کی اترپریش میں جگہ ہے شاید وہ اپنی اسی جگہ کی حفاظت کرتے ہیں۔اس لئے وہ ہمارے ساتھ نہیں آئے ادھر بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے سنیچر کو صاف کیا کہ ریاست میں ان کی اتحادی کانگریس کے ذریعے اگلے عام چناو¿ میں راہل گاندھی پی ایم امیدوار بنانے پر روز دے رہے ہیں۔انہیں کوئی پریشانی نہیں ۔ (انل نریندر)

نوٹ بندی پر سپریم کورٹ کی مہر !

دیش کی سپریم کورٹ نے سال 2016میں ہوئی نوٹ بندی کے خلاف دائر عرضیوںپر اپنا فیصلہ سنا دیا ہے۔ عدالت میں اس معاملے میں مرکزی سرکار کے فیصلے سے جڑے الگ الگ پہلوو¿ں کو چنوتی دی گئی تھی ۔ سپریم کورٹ نے جسٹس این نذیر کی سربرراہی والی پانچ رکنی بنچ نے اپنے فیصلے میں نوٹ بندی کے فیصلے کو صحیح ٹھہرایا ہے ۔ حالانکہ جسٹس ناگ رتنا نے فیصلے میں اسے غیر قانونی بتایا ہے ۔ جسٹس این نذیر کی بنچ نے کن وجوہات سے عرضی گزاروں کی دلیلوں کو خارج کیا اور کس بنیاد پر نوٹ بندی کے فیصلے کو صحیح ٹھہرایا یہ جاننا ضروری ہے ۔ لائیو لاءمیں شائع خبر کے مطابق جسٹس گوئی نے کہا ہے کہ ریزرو بینک آف انڈیا قانو ن کی دفعہ 26/2میں دئے گئے اختیارات کی بنیاد پر کسی بینک نوٹس سیریز کو پابندی لگایا یا بند کیا جاسکتا ہے ۔ اور اس دفعہ میں استعمال کئے گئے لفظ کسی طرح سے منفی ذہنیت کے ساتھ نہیں دیکھا جاسکتا ۔ انہوںنے کہا کہ اس دفعہ میں جس کسی لفظ کا استعمال کیا گیا ہے اس کی پابندی تشریح نہیں کی جاسکتی ۔ جدید چلن اور موجودہ تشریح کرنا ہے ایسے تشریح سے بچنا چاہئے ۔جس سے بد مزگی پیدا ہو اور تشریح کے دوران قانون کے مقاصد کو ذہن میں رکھا جانا چاہئے اس کے ساتھ ہی انہوںنے کہ مرکزی سرکار کو سینٹرل بورڈ کے ساتھ صلاح مشورہ کرنے کی ضرورت ہوتی ہے ایسے میں ان ولٹ سے فوگاڈ ہے ۔ اقتصادی پالیسی کے مسئلے پر بے حد تحمل برتنے کی ضرورت ہے ۔ حالانکہ جسٹس ناگ رتنا نے کہا کہ سبھی نوٹوںپر پابندی لگایا جانا بینک کی طرف سے کسی بینک نوٹ کی کسی سیریز کو چلن سے باہر کئے جانے سے زیادہ سنگین ہے ۔ایسے میں اس معاملے میں سرکار کو قانون پاس کرانا چاہئے تھا ۔جسٹس ناگ رتنا نے کہا کہ جب نوٹ بندی کی تجویز مرکزی سرکار کی طرف سے آتی ہے تو آر بی آئی کی کی دفعہ (22)کے تحت نہیں آتی ۔اس معاملے میں قانون پاس کیا جانا چاہئے تھا۔ اگر راز رکھنے کی ضرورت ہوتی تو اس میں آرڈیننس لانے کا راستہ اپنایا جا سکتا تھا۔وہیں جسٹس گوئی نے کہا کہ اس قدم کیلئے جن مقاصد کو ذمہ دار بتایا گیا تھا وہ صحیح مقاصد تھے ۔مرکزی سرکار نے سال2016میں 8نومبر کی رات اچانک 500اور 1000روپے کے نوٹ کو بند کردیا تھا۔ اس کے بعد کئی ہفتوں تک دیش بھر میں بینکوں اور ای ٹی ایم کے سامنے پرانے نوٹ بدل کر نئے نوٹ حاصل کرنے والوں کی لمبی قطاریں دیکھی گئیںتھیں ۔ اس کے بعد کئی فریقین نے سپریم کورٹ میں اس کے خلاف عرضیاں دائر کی تھی۔ سپریم کورٹ نے 58ایسے عرضیوں پر سماعت کرتے ہوئے فیصلہ سنایا ۔ سماعت سے پہلے کہہ دیا گیا تھا کہ اگر یہ اشو واجب ہے تو عدالت کا وقت برباد کرنے کا کوئی مطلب نہیں ہے ۔کیا ہمیں وقت گرزنے کے بعد ہمیں اس سطح پر معاملہ اٹھانا چاہئے تھا ۔ اس کے بعد عرضی گزاروں کی طرف سے کہا گیا تھا ۔ سوال اس بات کا ہے کہ کیا مستقبل میں اس قانون اس طرح استعمال کیا جا سکتاہے؟آر بی آئی کے وکیل جیدیپ گپتا نے کہا کہ عرضی گزار اس عدالت سے مانگ کر رہے ہیں کہ یہ مرکزی سرکار کی اس پاور کو چھین لیں جس کے ذریعے وہ آر بی آئی کی تجویز پر افراط زر جیسے موقعوں پر چلن میں موجودہ پوری کرنسی واپس لے سکتی ہے۔ (انل نریندر)

03 جنوری 2023

کھلاڑی تو بہت ہوئے پیلے جیسا کوئی نہ ہوا!

خود کو فٹبال کا بیتھووین کہنے والے پیلے کے فن میں ایسیکشش تھی کہ دنیا کو اس خوبصورت کھیل سے پیار ہو گیا۔کرپشن فوجی تختہ پلٹ اور کچلنے والی سرکاروں کو جھیل رہے برازیل جیسے دیش کو فٹبال کے کھیل کو ایک نئی پہچان پیلے نے دلائی ۔فٹبال کھیلنا اگر فن ہے تو ان سے بڑا فنکار دنیا میں شاید کوئی دوسرا نہیں ہوا 60سال سے زیادہ وقت تک کھیل شائقین کے دلوںپر فٹبال کے بھگوان پیلے کا جانا واقعی گزرتے سال کی سب سے تکلیف دہ خبر رہی۔ پیلے یعنی اڈیشن اورانٹس ہو نیسی منٹو صر ف ایک کھلاڑی ہی نہیں تھے بلکہ ایک بہترین قابل تعریف انسان بھی تھے ۔وہ دوسرے بہت سے کھلاڑیوں کی طرح بے جواز نہیں ہو جاتے تھے ۔ نیمار جیسے نوجوان برازیلی کھلاڑیوں کے ساتھ بھی ان کا واسطہ مسلسل بڑھتا گیا ۔ وہ 82برس کی عمر میں طویل علالت کے بعد دنیا سے گئے ہیں ان کے ریکارڈ کو توڑنا ہمیشہ مشکل ہوگا۔ پیلے اپنے دیش برازیل کو تین ورلڈ کپ جیتانے میں کامیاب رہے ۔یہ ایک ایسی تاریخ ہے جو فٹبال کی دنیامیں لائٹ ہاو¿س کی طرح ہے ۔ جس کھلاڑی کو بھی غرور ہوگا وہ پیلے کے کریئر پر غور کرے گاتو اسے محسوس ہوگا کہ پیلے کس خاص مٹی کے بنے تھے ۔ وہ دہائیوںسے دنیا کے بچوں کے تعلیمی نصاف میں حصہ بنے رہے اور شاید ہمیشہ رہیںگے ۔ سرکر دہ کھلاڑی بھی اکثر کہتے ہیں کہ کھلاڑی تو بہت ہوئے لیکن پیلے جیسا کوئی نہ ہوا ۔ وہ دنیا کے عظیم فٹبال کھلاڑی کے طور پر یاد کئے جائیںگے ۔ ان کی شخصیت بلاشبہ اپنے مودجودہ کھلاڑی یا بعد کے کھلاڑیوں سے بڑی ہے ۔پہلے فٹبال میں تین ایس (اسپیڈ ،اسکل اور اسٹیمینا ) کی اہم کردار تھا ۔ مگر پیلے نے اس کڑی میں ایک اور ایس جوڑا (اسٹرینتھ) (طاقت) کھیل کے میدان میں ان کی پھرتی اور ان کے ہنرداد ان کے حریف کھلاڑی بھی دیتے ہیں ۔ یہ واقعی حیرت میں ڈالنے والا وقعہ ہے ۔بے حد غریبی میں پڑھے لکھے بڑے ہوئے پیلے کا کھیل جب عروج پر تھا تو ان کے کھیل کا کوئی ثانی نہیں تھا ۔ اور ان پے پیسے کی بوجھار کرنے کیلئے دنیا کے تمام امیر اور مشہور کلب کچھ بھی رقم خرچ کرنے کو تیار ہو جاتے تھے ۔ تب برازیل حکومت نے انہیں نیشنل ورثہ ڈکلیئر کر دیا ۔ یہ تھا پیلے کا رتبہ اور مقبولیت یہ بھی کم تعجب کی بات نہیں کہ جس نام پیلے سے وہ مشہور ہوئے اس کا مطلب نہ تو انہیں اور نہ ان کے دوستوں کو معلوم تھا۔ میدان میں ان کا جلوہ اور گیم پر ان کا کنٹرول اور کھلاڑیوں کو چکما دینے کے ان کے فن کو دیکھتے بنتی تھی۔پیلے سال 1958میں محض 17سال کے تھے لیکن فٹبال ورلڈ کپ کے فائنل میں دو گول کئے تھے ۔وہ جیت آج بھی برازیل اور دنیا کیلئے مثال ہے ۔ آج پیلے ہمارے درمیا ن نہیں ہیں تو فٹبال اداس ہے ۔ پیلے کا ایک قول آج بھی گونج رہا ہے ’کامیابی کوئی حادثہ نہیںہے یہ سخت محنت،عزم ،سیکھنا ،پڑھنا،قربانی دینااور سب سے بڑھ کر آپ جو کر رہے ہیں یا کرنا سیکھ رہے ہیں ،اس سے پیار کرنا ہے‘۔ (انل نریندر)

انٹرٹینمنٹ انڈسٹری پر موت کا سایہ!

ٹیلی ویژن اداکارہ تنوشا شرما کی موت کے بعد ہندوستانی انٹر ٹینمنٹ صنعت میں بے چینی ہونا فطری ہے ایک بعد ایک اس طرح کے واقعات نے انڈسٹری کو ہلا کر رکھ دیا ہے ۔پچھلے ہفتے ٹیلی سیرئل کے سیٹ پر تنوشا شرما پھندے سے لٹکی ملی تھی ۔یہ اداکارہ دنیا میں اپنا مقام بنانے کی خواہش رکھنے والی ایک اور اداکارہ کا اپنی جان گنوانے کا قدم تھا ۔علی بابا :داستان کابل کی اداکارہ 21سالہ تنوشا شرما کے خودکشی کرنے کے معاملے اس کے ساتھ ایکٹر شیزان خان کو خودکشی کیلئے اکسانے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ۔ تفریحی دنیامیں خودکشی کے واقعات نئے نہیں ہیں ۔ پچھلے سال16اکتوبر کو یہ رشتہ کیا کہلاتا ہے کی اداکارہ ویشالی ٹھکر اندور میں اپنے گھر میں پھندے سے لٹکی ملی تھی ۔پولیس کا دعویٰ تھا کہ ان کے پاس ثبوت ہیں ۔ٹھکر کے سابق دوست راہل نولانی نے انہیں خودکشی کیلئے مجبور کیا ہے ۔ وہیں جب مرے بس اپنائیں ٹائم ان ممبئی اور کوئی دو یہ میں اداکاری سے سرخیوںمیں آئے آصف بصرا نومبر 2020میں دھرم شالہ میں اپنے گھر میں پھندے سے لٹکے ملے وہ 53سال کے تھے۔ انہوں نے آخری بار دی فیملی مین 2-اور سوریہ ونشی میں بھی اداکاری کی تھی۔ سنیل شرما اکیلے رہتے تھے اور 6اگست 2020کو ممبئی کے ملاڈ میں اپنے کچن کے پنکھے سے لٹکے ملے ۔ انہوں نے ’کیوں کہ ساس بھی کبھی بہو تھی‘اور کہانی رائٹ کو لیکر جیسے مشہور سیرئل میں کام کیا تھا۔ سوشانت سنگھ راجپوت کی موت کو لوگ آج بھی نہیں بھولا پائے ۔ چھچھورے فلم میں اداکاری کا لوہا منوانے والے راجپوت باندرا میں اپنے گھر میں لٹکے ملے ۔ اس کی چھایہ لمبے وقت سے فلم انڈسٹری پر چھائی رہی 34سالہ اداکا ر کی موت سے آج بھی فلم انڈسٹری میں بھائی بھتیجا واد دو پروڈکشن گھرانوں کی طاقت کو لیکر بحث ہو رہی ہے ۔منگلوار کو اداکار موڈل کشل پنجابی کی تیسری برسی ہے 27دسمبر 2019کو باندرا میں اپنے گھر میں پھندے سے لٹکے ملے تھے ۔ وہ کال اور لکشیہ جیسی فلموں میں اداکاری اور رئیلیٹی شو فیئر فیکٹر کیلئے جانے جاتے ہیں۔ انہوںنے موت سے پہلے خط میں لکھا تھا کہ کسی کو ان کی موت کیلئے ذمہ دار نہ مانا جائے ۔کرائم پیٹرول اداکارہ پریکشا مہتا اندور میں اپنے گھر میں مری ملی تھی ۔وہ 29سال کی تھی ایسے ہی پرتیوشا بینرجی بالیکا بدھو سیرئل سے گھر گھر میں مقبول ہوئی 1اپریل 2016میں ممبئی میں اپنے اپارٹمنٹ میںپھندے سے لٹکی ملی ۔ وہ 24سال کی تھی ان کے دوست راہل راج پر خودکشی کیلئے مجبور کرنے کا الزام لگا تھا۔ امریکی اداکارہ اور نشد اور غزنی جیسی فلموں کی وجہ سے مشہور ہوئی جیا خان 3جون 2013کو ممبئی میں اپنے گھر میں پھندے سے لٹکی ملی ان کی عمر 25سال تھی۔تمل سنیما کی اداکاروںمیں شامل سلک اسمیتا عرف وجئے نندنی 1996میں مردہ ملی تھی۔ انہوںنے خودکشی کی تھی ۔سابق مس انڈیا 2004میں برسواں کے اپنے گھر میںپھند ے سے لٹکی ملی ۔1997میں مس انڈیا کا خطاب ملاتھا۔پتا نہیں کیا وجہ ہے کہ اتنے ایکٹروں کی خودکشی ہو رہی ہے ۔ فلموں کا گلیمر اور نوجوان چکا چوند خطرناک ثابت ہو رہی ہے۔ (انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...