20 جولائی 2019

اپوزیشن خواتین ممبران پارلیمنٹ پر رائے کر پھر گھرے ڈونلڈ ٹرمپ

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا تنازعات سے پرانا رشتہ ہے اپنی رائے زنیوں کے چلتے وہ کئی بار تنقیدوں کا شکار ہو چکے ہیں ۔تازہ تنازعہ کچھ اپوزیشن خواتین ممبران پارلیمنٹ پر کئے گئے تبصرے کو لے کر ہے۔ڈیموکریٹک پارٹی کی چار اقلیتی خواتین ممبران پارلیمنٹ پر طنز کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ سرکار کیسے چلائی جائے ،امریکہ لوگوں کو یہ بتانے کے بجائے وہ جن ملکوں سے آئی ہیں وہیں لوٹ جائیں ٹرمپ نے سنیچر کو اپنے ٹوئیٹر پر لکھا :یہ ان ترقی پسند ڈیموکریٹس خواتین ممبران پارلیمنٹ کے لئے دیکھنا کتنا دلچسپ ہے جو بنیادی طور سے جن ملکوں سے آئی ہیں وہاں کی سرکار پوری طرح تباہ،اور سب سے کرپٹ اور دنیا میں سب سے نا اہل ہیں ۔وہ امریکی لوگوں سے چلا کر اور نفرت آمیز لہجے میں کہہ رہی ہیں کہ ہماری سرکار کو اس طرح چلایا جائے ؟وہ جہاں سے آئی ہیں وہیں واپس کیوں نہیں چلی جاتیں اور ان تباہ اور جرائم سے متاثرہ مقامات پر مسئلے کو دور کرنے میں مدد کیوں نہیں کرتیں جن چار ممبران پارلیمنٹ کو ٹرمپ نے آڑے ہاتھوں لیا ہے وہ پہلی مرتبہ پارلیمنٹ میں پہنچنے والی ایم پی راشدہ طالب ،الہان عمر،الیکزنڈریا اوکاسیہ ،اور کارٹیج و ایان پراسلی شامل ہیں ان خواتین ممبران پارلیمنٹ نے ٹرمپ کی امیگریشن پالیسی اور پناہ گزینوں کے خلاف چلائی جا رہی مہم کی تنقید کی تھی ۔امریکہ میں غیر طور سے رہ رہے پناہ گزینوں کو نکالنے کے اتوار سے یہ مہم شروع کی گئی ہے راشدہ طالب کئی مرتبہ اس رائے پر بھی نکتہ چینی کر چکی ہیں عمر نے سیاہ فام قومیت کو بڑھاوا دینے کا بھی الزام لگایا عمر کی پیدائش صومالیہ میں ہوئی تھی ۔طالب کی پیدائش فلسطین اور ایلگزنڈریا کی پیدائش شیکاگو سے تعلق ہے ۔چوتھی خاتون پریسلی پہلی افریقی ایم پی ہیں ۔اور پارلیمنٹ کے نچلے ایوان نمائندگان میں اسپیکر اور ڈیموکریٹ لیڈر نینسی پلونسی سمیت ان کی پارٹی کے کئی لیڈوں نے ٹرمپ کی رائے زنی پر تلخ رد عمل ظاہر کیا ہے ان کہنا ہے کہ ہماری وراثت اور اتحاد ہی امریکہ کی طاقت ہے ۔ممبران پارلیمنٹ پر حملہ کرنے کے بجائے ٹرمپ کو ہمارے ساتھ امیگریشن پالیسی اور امریکہ اقدار پر کام کرنا چاہیے ۔امریکی پارلیمنٹ کی اسپیکر پلونسی آگے کہتی ہیں جب ٹرمپ امریکی کانگریس کی چار خواتین ممبران پارلیمنٹ کو اپنے دیش واپس جانے کے لئے کہتے ہیں تو اس سے ان کی میک امریکہ گریٹ اگین کی اسکیم صاف ہو جاتی ہے وہ ہمیشہ امریکہ کو سفید فام بنانا چاہتے ہیں لیکن ٹرمپ بھی چپ رہنے والے کہاں انہوںنے اسپیکر کے تبصرے کے بعد پیر کو بھی اپنا جارحانہ رخ اپناتے ہوئے کہا ان چار خواتین نے اسرائل ،امریکہ کے لوگوں کو بے عزت کیا اور ان کی غلط زبان سے پریسی ڈینٹ ہاﺅس بھی شرم سار ہے ۔معاملہ آگے بڑھتا چلا گیا اور امریکی ایوان نمائندگان نے صدر ٹرمپ کی اس نسلی تعصب آمیز تبصرے کے خلاف منگل کے روز ملامتی تجویز پاس کر دی ۔امریکی کانگریس کے نچلے ایوان نمائندگان نے پیش کئے گئے ریزولیشن کے حق میں 240ووٹ پڑے جبکہ مخالفت میں 184ووٹ پڑے ممبر پارلیمنٹ کے ذریعہ پیش ریزولیشن پر بولتے ہوئے کہا کہ یہ آگ سے کھیلنا جیسا ہے کیونکہ صدر جن الفاظ کا استعمال کر رہے ہیں انہیں پریشان دماغ جیسے لوگ ہی سن رہے ہیں جو اچانک چیخا کرتے ہیں اور تشدد برپا کرنے کی باتیں کرتے ہیں اور اس کی حد طے کرنے کی بھی ضرورت ہے انہوںنے کہا اس لئے ہم یہی کرنے کی امید رکھتے ہیں خواتین ممبرپارلیمنٹ گریک مینگ نے کہا صدر ٹرمپ کے تبصرے نسل پرستی پر مبنی ہیں ۔یہ صورتحال بنی ہوئی ہے کہ نہ تو صدر ٹرمپ اپنی رائے زنی کو واپس لیتے یا کسی طرح کا افسوس ظاہر کرنے لگ جاتے اور نہ امریکی پارلیمنٹ کے نچلے ایوان نمائندگان اپنے موقوف سے بدلتا نظر آرہا ہے نیوزی لینڈ اور کناڈا سمیت کئی ساتھیوںنے ٹرمپ کے ان تبصروں پر نکتہ چینی کی ہے ۔یہ تنازعیہ امریکی میڈیا کی سرخی بنا ہوا ہے ۔

(انل نریندر)

دہشت گردی صرف ہوتی ہے صرف دہشت گردی

انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے بلا روک ٹوک نشریات و فروغ کے سبب دہشتگردی آج عالمی حیثیت لے چکی ہے ۔شام میں بیٹھا آئی ایس آئی ایس کیرل کے لڑکوں کو اپنی طرف راغب کر رہا ہے تو دبئی میں بیٹھا پاکستانی آئی ایس آئی کا کرتا دھرتا بھارت سمیت دنیا کے کسی بھی کونے میں دھماکہ کرا سکتا ہے ۔دہشتگردی تو دہشتگردی ہی ہوتی ہے لیکن یہ حقیقت سمجھنا بہت ضروری ہے کہ وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا کہ پاکستان نے دہشتگردی پر قابو پانے کے لئے سارک ممالک کے علاقائی سمجھوتے (سارک ریجنل کنونشن آن سیپریشن آف ٹیریرزم )پر دستخط نہیں کئے ہیں ۔پاکستان کو ایک دن دنیا کے دباﺅ میں اس معاہدے پر دستخط کرنے ہوں گے اگر نہیں کرتا ہے تو ہمارے پاس اس سے نمٹنے کے طریقہ حملے ائیر اسٹرائک وغیر ہیں ۔این آئی اے ترمیمی بل 2019پر لوک سبھا میں بحث کے دوران کچھ ممبران کے ذریعہ مانگی گئی وضاحت پر امت شاہ نے کہا کہ دہشتگردی کا کوئی رائٹ یا لیفٹ نہیں ہوتا ۔دہشتگردی صرف دہشتگری ہوتی ہے ۔بحث کے دوران وزیر داخلہ اور آل انڈیا اتحاد المسلیمن کے صدر اسد الدین اویسی کی ان سے بار بار نوک جھونک بھی ہوئی بحث میں حصہ لیتے ہوئے بھاجپا کے ایم پی ستیہ پال سنگھ نے کہا کہ حیدرآباد کے ایک پولیس چیف کو ایک نیتا نے ایک ملزم کے خلاف کارروائی نہ کرنے سے روکا تھا اور کہا کہ وہ اگر کارروائی کو آگے بڑھاتے ہیں تو ان کے لئے مشکل ہو جائے گی اس پر اسد الدین اویسی اپنی کرسی سے کھڑے ہوئے اور بولے بھاجپا ممبر ذاتی بات چیت کا تذکرہ کر رہے ہیں ۔اور جن کی بات کر رہے ہیں وہ ایوان میں موجود نہیں ہیں کیا بھاجپا ممبر اس کے ثبوت ایوان میں رکھ سکتے ہیں ؟ایوان میں موجود وزیر داخلہ امت شاہ نے اویسی کو تلخ لہجے میں کہا کہ جب ڈی ایم کے ممبر اے راجا بول رہے تھے تو آپ نے کیوں نہیں ٹوکا؟آپ بھاجپا ممبر کو کیوں ٹوک رہے ہیں ؟اور اس بارے میں الگ الگ پیمانے نہیں ہونے چاہیں ۔شاہ نے کہا کہ سننے کی عادت ڈالیئے اس طرح سے نہیں چلے گا اس پر اویسی نے کہا کہ آپ وزیر داخلہ ہیں تو مجھے ڈرائیے مت میں ڈرنے والا نہیں ہوں شاہ نے اویسی کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ کسی کو ڈرایا نہیں جا رہا ہے لیکن اگر ڈر ذہن میں ہے تو کیا کیا جا سکتا ہے ؟شاہ نے اویسی کے ایک دوسرے سوال پر کہا بھاجپا کی سرکار قانون سے چلتی ہے اس میں جانچ اور مقدمہ اور فیصلے الگ الگ سطح پر ہوتے ہیں ۔بل پیش کئے جانے پر اویسی نے ووٹ ڈویزن کی مانگ کی اس کو قبول کرتے ہوئے شاہ نے دو ٹوک کہا کہ ووٹ ڈویزن ہونا ہے ہو جانا چاہیے دیش کو بھی پتہ چلنا چاہیے کہ کون دہشتگردی کے خلاف ہے اور کون ساتھ ہے ۔اس پر بل کے حق میں 278و مخالف میں 6ووٹ پڑے بعد میں ایوان میں ایک آواز سے بل کو منظوری دے دی ۔بھارت کی کم سے کم ایک ایجنسی کو پوری طرح مضبوط کرنا ضروری ہو تا جا رہا ہے ۔اگر صحیح معنوں میں ہم دہشتگردی سے نمٹنا چاہتے ہیں تو لوک سبھا سے این آئی اے قانو ن میں اس مسئلے کا ترمیم پاس کرنے میں تقریبا سبھی پارٹیوں کی رضامندی ہے اور اس مشکل کی گھڑی میں سیاسی پارٹیوں کی حساسیت جھلکتی ہے ۔امید ہے کہ راجیہ سبھا میں بھی یہی سنجیدگی دکھائی پڑئے گی اور این آئی اے کو مزید مضبوط بنانے کا راستہ ہموار ہوگا۔

(انل نریندر)

19 جولائی 2019

بیشک ضمانت ملی پھربھی لالو جیل میں ہی رہیں گے !

آخر کار چارہ گھوٹالہ مقدمے میں سزا یافتہ آر جے ڈی چیف لالو پرساد یادو کو جھارکھنڈ ہائی کورٹ سے راحت ملی ہے ۔عدالت نے سز اکی آدھی میعاد جیل میں گذار نے کی بنیاد پر پچھلے جمعہ کے روز لالو کو ضمانت کی سہولت دیدی ہے اس کے لئے انہیں 50-50ہزار کے دو ذاتی مچلکہ سی بی آئی کورٹ میں داخل کرنے ہونگے اس کے ساتھ ہی سزا کے دوران عدالت سے عائد جرمانہ رقم پانچ لاکھ روپے بھی جمع کرنے ہونگے عدالت کا کہنا تھا کہ لالو کونچلی عدالت نے اپنا پاسپورٹ جمع کرائےں اس سے پہلے سی بی آئی کی جانب سے لالو کی ضمانت کی مخالفت کی گئی عدالت کو بتایاگیاکہ ہائی کورٹ سے جب لالو پرساد یادو کی عرضی خارج ہوئی تھی تو انہیں نے فروری 2019میں سپریم کورٹ نے اسپیشل لیو پٹیشن کے ذریعہ ضمانت کی اپیل کی تھی ۔سی بی آئی کا جواب کے بعد سپریم کورٹ نے اس معاملہ میں مداخلت سے انکا ردیا تھا اور انکی عرضی خارج کردی تھی اور اس کے بعد آدھی سزا کاٹ کر ہائی کورٹ میں عرضی داخل ہوئی وہاں بھی خارج کردی گئی اب اس کے بعد لالو پرساد کے وکیل نے بتایا کہ انھوں نے میرٹ کی بنیاد پر سپریم کورٹ میںاسپیشل لیو پٹیشن داخل کی تھی اس کو سننے کے بعد لولالو کو عدالت نے ضمانت دینے کا فیصلہ لیا لالو پرساد چائے باسا،دیودھر اور دمکا میں ناجائز پیسے نکالنے میں معاملے میں سزا یافتہ ہے فی الحال لالو رانچی کے ایک ہسپتال میں علاج کرارہے ہیں انہیں قلب امراض سمیت کئی بیماریاں ہیں ان کی طبیعت خراب دیکھتے ہوئے ہرایک سنیچر کو گھر والے وسیاسی نیتا ان سے ملنے ہسپتال پہنچتے ہیں ابھی ناجائز نکاسی معاملے میں ضمانت ملنے کے بعد بھی جیل میں ہی رہےں گے دونوں معاملوں میں سپریم کورٹ نے لالو پرساد کی عرضی پہلے ہی خارج کردی ہے ۔دیو دھر معاملے میں بھلے ہی ضمامت مل گئی ہو لیکن لالو پرساد کو ڈیر ھ سال تک جیل میں ہی رہناہوگا ۔اس کے سزا پوری کرنے کے بعد ہی جیل سے رہا ہوپائےں گے ۔
(انل نریندر)

چیف جسٹس رنجن گگوئی کی لائق خیر مقدم پہل !

بچیوںکے ساتھ بدفعلی کے بڑھتے واقعات پر سپریم کورٹ اس قدر فکرمند ہے کہ اس نے اپنی طرف سے نوٹس لیتے ہوئے مفاد عامہ عرضی داخل کرلی عدالت کا کہنا ہے کہ پچھلے 6ماہ میں بچیوں سے عصمت دری کے 24ہزار سے زیادہ معاملے درج ہونا جو اپنے آپ کو جھنجھوڑ کررکھ دینے والے ہیں چیف جسٹس رنجن گگوئی کی بنچ نے بتایا یا کہ یکم جنوری سے جون تک اس سال دیش بھر میں بچیوں سے بدفعلی کے واقعات کے بارے میں 24212ایف آئی آر درج ہوئیں ۔ ان میں سے 11981معاملوں میں جانچ جاری ہے ۔جبکہ 12231معاملوں میں فرد جرم داخل ہوچکی ہے لیکن مقدمہ صرف 6449معاملوں میں ہی شروع ہوسکاہے ان میں بھی صرف چار فیصدی یعنی 911معاملو ںکانپٹارہ ہوا ۔نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کی 2016کی رپورٹ کے مطابق بچیوں کے ساتھ جسمانی چھیڑ چھاڑ کے معاملے اترپردیش میں سب سے زیادہ ہوئے ۔اس کے بعد مہاراشٹر ہے ۔رپورٹ میں بتایا گیاہےکہ 70فیصد بچے جنسی اسحصال کے بارے میں نہیں بتاتے 93فیصد جنسی استحصال کی بچیاں دیہی علاقوں کی ہے مقدمہ اور انصاف دھیمی رفتار کی وجہ سے پولیس جانچ عدلیہ کارروائی کی وجہ سے انصاف میں تاخیر ہوتی ہے آبادی کی تناسب سے پولیس اور ججوں کی تعداد میں بھاری کمی ہے 454لوگوں کیلئے ایک پولیس افسر ہونا چاہےئے ۔اقوام متحدہ کے ضابطوں کے مطابق 514افراد کے لئے ایک پولیس آفسر کا ہونا ضروری ہے ہندوستان میں وزارت داخلہ کے 1916کے اعداد شمار کے مطابق 10لاکھ لوگوں کے لئے صرف 19جج ہےں ۔اقوام متحدہ کے پیمانے کے مطابق 50جج ہونا چاہئے ۔سپریم کورٹ نے سرگرمی دکھاتے ہوئے بچیوں سے بد فعلی کے بڑھتے واقعات کا نوٹس لیکر بالکل صحیح کیا اس میں شبہ ہے کہ مرکز اور ریاستی حکومتوں کو حکم ۔ہدایت دینے سے ایسا ماحول بن سکے گا جو بچیوں سے بدفعلی کے بڑھتے واقعات کو کم کرنے میں ماثر ثابت ہوسکے یہ کسی سے پوشید ہ نہیں کہ بد فعلی روک تھام قانون کو سخت بنانے سے کوئی فائدہ نہیں ہوا ان وجوہات کی تہہ تک جانے کی اشد ضرورت ہے جس کے چلتے نربھیا کانڈ کے بعد بد فعلی قوانین کو سخت محض بنانے سے درکار نتیجے نہیں حاصل ہوسکے ۔ان اسباب کی تہہ تک جانے کا احکام صر ف سپریم کورٹ ہی کرسکتا ہے کیونکہ اتنے برس گذرنے کے بعد بھی نربھیا واقعہ میں ملوث قصو رواروں کو سزا تو سنادی گئی لیکن اس پر ابھی تک عمل نہیں ہوسکا کوئی نہیں جانتا دیش کو دہلانے والے اس گھنونے واقعے کے گناہگاروں کو پھانسی کی سز کب ملے گی ایک بار ایسے واقعے میں شامل دردندوں کو شارع عام پھانسی ہوجائے تو اس کا سب سے زیادہ اثر پڑےگا کیونکہ سپریم کورٹ کو یہ نہیں دیکھنا چاہئے کہ نربھیا واقعے کو سنائی گئی سز ا پر اب تک عمل کیو ں نہیں ہوسکا ؟قانون سخت کرنے کا فائدہ تبھی ہوتا جب ان پر عمل کیا جائے ۔یہ اعداد شمار ایک طرف سماج کے نظریہ پر سوال کھڑا کررہے ہیں تو دوسری طرف جرائم انصاف سسٹم پر بھی انگلیا اٹھ رہی ہیں ۔اسلئے جہاں بدلتے سماج میں اقدار کو بنائے رکھنے کی ضرورت ہے تو وہی جانچ ایجنسیوں اور عدالتوں کو مضبوط بنانا ہوگا تاکہ بچیوں میں سے آبروریزی واقعات کو جلد سے جلد نپٹایاجائے اور انہیں سزاد ی جائے جس سے جرائم پیشہ میں ڈر پید اہو ۔ایسے معاملے روکنے کیلئے خاندان اور سماج کو اپنی ذمہ داری بھی نبھائیں۔اچھے سماج کی تعمیر میں گھر خاندان اور تعلیمی وسائل کے ساتھ سماج کا بھی اہم رول ہوتاہے ۔یہ خو ش آئین بات ہے کہ سپریم کورٹ کے ساتھ مرکزی حکومت بھی انکے تئیں سنجیدہ دکھائی دے رہے ہیں ۔کیونکہ مرکزی حکومت نے حال ہی میں بچیوں سے چھیڑ چھاڑکے واقعات کو روکنے کیلئے پاسکو قانون میں ترمیم کو منظوری دیدی ہے ۔ہم امید کرتے ہیں کہ چیف جسٹس کی یہ پہل ضرور رنگ لائے گی اور دیش میں ایسے گھنونے جرائم پر روک لگ سکے گی۔
(انل نریندر)

18 جولائی 2019

ورلڈ کپ فائنل'' ایسا نہ پہلے دیکھا نہ سنا چھوڑ گیا کئی سوال

انگلینڈ کو کرکٹ کا خالق مانا جاتا ہے اور ورلڈ کپ کرکٹ کی شروعات بھی یہیں سے 1975میں ہوئی تھی لیکن ورلڈ کپ کا خطاب جیتنے میں انگلینڈ کو 44سال لگ گئے لیکن پچھلے اتوار کو جو انگلینڈ اور نیوزی لینڈ کے درمیان فائنل میچ کھیلا گیا ویسا رومانچ اس سے پہلے کبھی کسی فائنل میچ میں دیکھنے کو نہیں ملا ۔پہلی گیند سے 612ویں تک تمام اتار چڑھاﺅ دیکھنے کو ملے باوجود اس کے دونوں ٹیموں کے ایک برابر رن تھے ایک کو ونر اعلان کرنا ہی تھا ۔اس لئے آئی سی سی کے انڈر رول کا سہار ا لیا گیا ۔جو کہتا ہے ورلڈ کپ فائنل میں اگر ٹائی ہوتا ہے تو سپر اوور کھیلا جائے گا ۔شاید یہ کرکٹ کی تاریخ کا پہلا ایسا موقعہ تھا جب سپر اوور بھی ٹائی ہو گیا ۔اور ورلڈ کپ کسے دیا جائے ایک خاص قاعدے سے طے ہوا ۔اگر سپر اوور بھی برابر ی پر چھوٹا تو پھر یہ دیکھا گیا کہ کس ٹیم نے زیادہ چوکے چھکے لگائے ؟پہلے 50اوور کے علاوہ سپر اوور میں لگائی گئی باﺅنڈریز بھی جوڑی جائے گی ۔اس رول سے انگلینڈ 17کے مقابلے 20باﺅنڈریز سے ورلڈ کپ تو جیت گیا لیکن ٹورنامنٹ کی تاریخ میں پہلی بار استعمال ہوئے اس رول پر سوال کھڑے ہونا شروع ہو گئے ورلڈ کپ ونر کے اعلان کے بعد دونوں ٹیموں کے پرستار دو گروپوں میں بٹ گئے ونر ٹیم کی ہمایت کرنے والے پرستاروں کا کہنا تھا کہ قاعدہ تو قاعدہ ہوتا ہے کہ دلیل دے رہے تھے تو ہارنے والی ٹیم کے پرستاراس قاعدے کو غلط ٹھہرا رہے ہیں جس کے تحت سب سے زیادہ باﺅنڈری لگانے والی ٹیم کو ونر اعلان کیا گیا ۔آئی سی سی کے رول بک کے اس قاعدے کی وجہ سے انگلینڈ کی ٹیم پہلی بار ورلڈ کپ ونر بن گئی حالانکہ فائنل مقابلے میں ایک رن بھی خوب تنازعہ میں رہا انگلینڈ کی پاری کے پچاس اوور کی گیند سے یہ تنازعہ جڑا ہوا ہے ۔نیوزی لینڈ کی طرف سے ٹرینٹ بولٹ آخری اوور کی گیند بازی کر رہے تھے آخری اوور میں انگلینڈ کو 15رن بنانے تھے پہلی دو گیندوں پر اسکواٹ سے کوئی رن نہیں بنا تو تیسری گیند پر اسٹاک نے چھکا جڑ دیا اس کے بعد بولٹ نے چوتھی گیند فل ٹاس ڈالی اسٹاکس نے اسے ڈیپ مکڈ کی طرف کھیل دیا ۔مارٹین باوٹیل نے بوال پکڑتے ہی اسے تھرو کیا گواٹل کے تھرو کے باوجود اسٹاکس دوسرے رن کے لئے بھاگ رہے تھے ۔گواٹل نے ڈائرکٹ تھرو کے ذریعہ اسٹوکس کے بلے سے گیند ٹکرایا اور گیند باﺅنڈری کے باہر چلی گئی ۔اپنے ساتھی امپائر سے صلاح کے بعد دوسرے امپائر کمار دھرم سینا (سری لنکا نے بلے بازوں کو چھ رن دے دئے اس فیصلے نے انگلینڈ کی راہ آسان کر دی ۔گیند پر نو رن بنانے کی چنوتی تھی سامنے اب دو گیند رہ گئی تھیں ۔اس چوتھی گیند پر ملے چھ رن کے بارے میں ہی کہا جا رہا ہے کہ اسے پانچ رن ہونا چاہیے تھا ایسا کیوں ہونا چاہیے ایسے معاملوں میں آئی سی سی کے قاعدے 19.8کے مطابق اگر اوور تھرو یا کسی فیلڈر کے چلتے باﺅنڈری ہو گئی تب بلے بازوں کے ذریعہ کئے گئے رن کو بھی جوڑ دیا جانا چاہیے ۔پورے چھ رن کے ساتھ اگر بلے باز تھرو یا ایکٹ کے وقت کوئی رن پورا کرنے کے لئے ایک دوسرے کو کراس کر چکے ہوں تو وہ بھی رن پورا مانا جائے گا ۔قاعدے کا دوسرا حصہ اس میچ کے لحاظ سے بے حد اہم ہے کیونکہ میچ کے ویڈیو فوٹیج میں صاف نظر آرہا ہے کہ گواٹل نے جب ڈائریکٹ تھرو کیا تب بین اسٹوکس اور عادل رشید نے دوسرے رن کے لئے ایک دوسرے کو کراس نہیں کیا تھا حالانکہ بنیادی قاعدے میں تھرو کے ساتھ ایکٹ بھی لکھا ہے جسے اس بات کا امکان بھی بنتا ہے کہ ایکٹ کا مطلب گیند کے بلے سے ٹکرانا یا فلڈر سے ٹکرانا ہو یہ بھی ہو سکتا ہے لیکن قاعدے میں بلے باز کے ایکشن کا کوئی ذکر نہیں ہے ۔وہیں پچاسویں اوور کی چوتھی گیند پر بنے چھ رن میں جو فاضل رن تھا وہ وجہ رہا جس کے چلتے نیوزی لینڈ ورلڈ کپ گنوا بیٹھا اس سے متفق نہ ہونے والے بھی اس بات سے متفق ہوں گے کہ اس اوور کو تھرو کے موقعہ کے چوکے کے چلتے نیوزی لینڈ کے ہاتھوں سے ورلڈ کپ پھسل گیا ۔سابق آئی سی سی امپائر سائمن ٹافل نے بھی ورلڈ کپ کے فائنل میچ میں امپائر کی اس غلطی پر کہا کہ انہیں (امپائروں )یہاں پانچ رن دینے چاہیے تھے چھ نہیں ان کا کہنا تھا کہ اوور تھرو کے اس چوکے کے سبب اگلی گیند کا سامنا رشید کو کرنا تھا لیکن یہاں امپائر نے اسے 2پلس 4رن دئے اور اٹساکس نے یہ گیند فیس کی ٹافل نے کہا بد قسمتی سے وقتاََ فوقتاََ اس طرح کی چیزیں ہوتی رہتی ہیں جو کھیل ہم کھیل رہے ہیں وہ ان کا حصہ ہے ورلڈ کپ جیتنے کا سپا پورا کرنے کےلئے انگلیڈ کی ٹیم کو 44سال لگ گئے اس بیچ 11ورلڈ کپ کا سفر انگریزوں نے طے کیا 1979ا و ر 1987اور1992میں تو انگلینڈ فائنل تک پہنچا لیکن کسی بھی انگلش کپتا ن کو ورلڈ کپ کی ٹرافی چھونے کا فخر حاصل نہیں ہوا تھا کرکٹ کے جنم داتا انگلینڈ کا سپنا پورا ہوا بھی تو ایک ایسی ٹیم سے جس کا کپتان آل راﺅنڈر اور سلامی بلے باز اور یہاں تک کہ بڑا گیند باز تک غیر ملکی نزاد تھے ۔کپتان ایمن میگن،اس دیش کے پیدا ہوئے نہیں ہیں ان کی پیدائش آئیر لینڈ میں ہوئی تھی یہاں تک کہ وہ ورلڈ کپ کے لئے کھیلنے سے پہلے آئیر لینڈ کے لئے بین الااقوامی کرکٹ تک کھیل چکے ہیں ۔انگلینڈ کے پاس آج ورلڈ کپ کا خطاب ہے تو اس میں اہم رول سلامی بلے باز جونس شائع کی ہے لیگ دور میں جونسن شائع چوٹل ہوئے تو انگلینڈ کا سیمی فائنل میں پہنچنا مشکل ہو گیا تھا ۔تب شائع نے واپسی کر ٹیم کو بھارت نیوزی لینڈ کے خلاف جیت دلائی ۔شائع کی پیدائش ساﺅتھ افریقہ کے ڈربن شہر میں ہوئی تھی لیکن اس کے والدین انگلینڈ میں بسنے کے بعد انہوںنے انگلینڈ کے لئے 2015میں کھیل کا آغاز کیا ۔یہ تو بین اسٹوک نے بھی نہیں سوچا ہوگا کہ وہ انگلینڈ کے لئے ورلڈ کپ جیتں گے اور اس دیش کو ہرا کر جیتیں گے جہاں کھیل کی پیدائش ہوئی تھی 28سلاہ بین اسٹوک کا جنم نیوزی لینڈ کے شہر کرائشٹ چرچ میں ہوا تھا ۔ان کے ماں باپ نیوزی لینڈ سے آکر انگلینڈ میں بس گئے لیکن اب وہ دونوں نیوزی لینڈ میں ہی رہ رہے ہیں ۔اسٹوکس انگلینڈ میں ہی پلے بڑھے اور وہیں سے کرکٹ کھیل شروع کیا انہوںنے 25اگست 2011کو آئی لینڈ کے خلاف اپنا پہلا ونڈے کھیلا تھا انگلینڈ کو چمپین بنانے میں ان کا ہی اہم رول رہا اگر اس نے وکٹ پر ٹکنے کا جزبہ نہیں دکھایا ہوتا تو نیوزی لینڈ میں ایک وقت اس کا کام کر دیا تھا ۔جب نوجوان آل راﺅنڈر جوفرا آرچرنے سپر اوور ڈالنے کی ذمہ لی تو انہوںنے اعتراف کیا کہ وہ بہت مایوس تھے تبھی اسٹوکس نے ان کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور ایسا منتر دیا کہ ان کے اندر کا سارا ڈر کافور ہو گیا ۔انگلینڈ ٹیم کے اہم تیز گیند باز جوفرا آرچر جنہوںنے سپر اوور میں اپنی ٹیم کو جتایا ۔وہ کرکٹ کا سپنا لے کر ہی 2016میں پاکستان کے خلاف اسٹوکس کی ٹیم سے اپنا پہلا فسٹ کیٹیگری کا میچ کھیلا تھا ۔ورلڈ کپ شروع ہونے سے کچھ مہینے پہلے قاعدے کے مطابق انگلینڈ میں پانچ برس پورے کرنے کے تبھی انگلینڈ کی قومی ٹیم میں ان کا سیلکشن ہو سکتا تھا وہ انہوںنے پورے کر دئے ورلڈ کپ ٹیم کے حساب سے قسمت بھی ان کے ساتھ رہی ۔پہلی بار ٹیم میں کھیلے جانے پر ورلڈ کپ ونر ٹیم کا حصہ بنے پاکستان کا ورلڈکپ جیتنے کا سپنا ضرور ادھورا رہ گیا لیکن اس دیش سے تعلق رکھنے والے انگلینڈ کو دو کھلاڑیو ںنے یہ کر دکھایا ۔عادل رشید کی پیدائش بھلے ہی انگلینڈ کے یارک شائر میں ہوئی لیکن ان کے پتا پاکستان سے ہیں ایسی ہی کہانی معین علی کی بھی ہے ان کے دادا پاک مقبوضہ کشمیر کے میر پور ضلع سے تھے وہ انگلینڈ میں بس گئے تھے معین کے والد ٹیکسی ڈرائیور اور ماں نرس تھی خیر ورلڈ کپ کرکٹ کی تاریخ میں پہلے کبھی ایسا فائنل میچ نہیں دیکھا ۔اگر انگلینڈ نے ورلڈ کپ جیتا تو نیوزی لینڈ نے دل جیتا ۔یہ میچ کئی دنوں تک تنازعوں میں رہے گا اور اس پر باتیں بھی چلتی رہیں گی آخر میں تو ہم یہی کہہ سکتے ہیں کہ اتوار کو کھیلے گئے اس ورلڈکپ فائنل میں موسم انگلینڈ پر مہربان تھا اسے ورلڈ چمپین بنانا تھا بھارت کا تو اسی بات پر تشفی ہونا پڑا کہ ہم نے پاکستان کو ورلڈکپ میں ہرا دیا ۔

(انل نریندر)

17 جولائی 2019

زمین گھوٹالوں سے بینک دھوکہ دھڑی پر کیاسخت حملہ

سی بی آئی نے منگل کو کرپشن کے خلاف اب تک سب سے بڑی کارروائی کی ہے ۔اس دوران 5سو سے زیادہ حکام کی ٹیم اس کارروائی میں شامل تھی ۔زمین گھوٹالوں سے لے کر بینک دھوکہ دھڑی تک سخت حملہ کیا ہے ۔سی بی آئی نے جن تیس معاملوں میں کارروائی کی ان میں اترپردیش کی شگر مل گھوٹالہ ہریانہ کا زمین گھوٹالہ ،ہری دوار بینک گھوٹالہ ،شملہ میں گھوٹالہ ،اور آئی آر ایس معاملہ شامل تھا ۔منگل کو سی بی آئی نے کارروائی میں دہلی ،ہماچل ،ہریانہ پنجاب،جموں و کشمیر چھتیس گڑھ سمیت 19ریاستوں میں 110دفاتر و گھروں پر 5سو افسران نے چھاپہ مار کر جانچ پڑتال کی یوپی کے سابق وزیر اعلیٰ مایاوتی کے عہد میں چینی مل گھوٹالے میں لکھنﺅ ،سہانپور،این سی آر میں 14جگہ پر چھاپہ ماری کی اور یہ کارروائی 30درج ایف آئی ار کی بنیا د پر ہوئی ان میں دس نئے معاملے بھی ہیں ۔سی بی آئی نے سابق اعلیٰ افسر میترام کے لکھنﺅ میں گومتی نگر اور وینے پریہ دوبے کے علی گنج میں واقع گھر پر چھاپہ مارے نیترام مایاوتی کے سیکریٹری رہ چکے ہیں ۔ہری دوار میں تین کروڑ کے گھوٹالہ کیس میں چھاپہ پڑا ،معاملہ شیوالک نگر اسٹیٹ بینک سے تیرہ قرضہ دینے کا ہے ۔ان قرضوں کو دلانے میں خانہ پوری نہیں کی گئی ۔وہیں سری نگر جموں اودھم پوری میں 980ایکڑ زمین کے سودے معاملے میں کارروائی ہوئی جس میں فرضی اسٹامپ پیپر کا استعمال کیا گیا ۔سی بی آئی نے الگ الگ معاملوں میں جھارکھنڈ کے کئی شہروں میں چھاپہ ماری کی سی بی آئی ٹیم نے راجیہ میں فنڈ میں ریلائنس برکس اینڈ پارٹی نام کی کمپنی کے88ملازمین کی پینشن اور پی ایف رقم میں دھوکہ دھڑی کے الزام میں تین افسران اور سینر سوشل سیکورٹی اسسٹینٹ وجے لاکڑا وغیرہ افسران کو معاملے میں ملزم بنایا گیا ہے ۔لودنا علاقہ کے چھ بی سی سی ایل افسران اور این ٹی ویش پربھا پرائیوٹ لیمٹیڈ کے 13دفاتر پر دھنوان میں سی بی آئی نے چھاپہ ماری کی 2017میں لودنا ائیریا نمبر دس جینہ گورا میں 6756این کول شارٹیز کا معاملہ پکڑا تھا نوٹبندی کے دوران بغیر کے سی وائی کے بینک میں500اور1000کے نوٹ جمعہ کرانے پر بھی افسروں نے غازی آباد اور بلند شہر میں پنجاب نیشنل بینک کے منیجر کے گھر اور ایک دوسری کمپنی کے دفاتر کی تلاشی لی اس دوران سخت پوچھ تاچھ کی گئی ۔میں نے کچھ بڑے چھاپوں کا ذکر کیا ہے ۔مرکزی حکومت نے کسٹم کے خلاف 0ٹالیرنس پالیسی اپنانے کا اعلان کیا ہے ۔اسی کڑی میں یہ چھاپے مارے گئے ہیں ۔انکم ٹیکس محکمہ اور کسٹم کے قریب 25افسران کو زبردستی ریٹائر کر دیا گیا۔

(انل نریندر)

رشی کیش کا تاریخی لکشمن جھولا پل بند ہوا

تاریخی رشی کیش میں گنگا ندی پر بنا لکشمن جھولا بند کر دیا گیا ہے ۔ماہرین کا کہنا ہے کہ 90سال پرانا یہ پل زیادہ بوجھ برداشت نہیں کر سکتا ۔لکشمن جھولا پل ٹہری ضلع کے تبوون گاﺅں کو ندی کے مغربی کنارے پر واقع کوڑی ضلع کے جونک سے جوڑتا ہے ۔پل گنگا ندی پر 1929میں بنا تھا لکشمن جھولا رشی کیش آنے والے شردھالوﺅں اور سیاحوں کے لئے کشش کا اہم مرکز رہا ہے ۔اتراکھنڈ کے ایڈیشنل چیف سیکریٹری اوم پرکاش نے بتایا کہ یہ پل ماہرین کے ٹیم کی سفارش کے بعد بند کیا گیا ہے ۔پل کے زیادہ تر حصہ بہت کمزرو ہیں یا گرنے کی پوزیشن میں ہیں ۔پل پر حال ہی میں لوگوں کی آمد رفت بڑھ جانے سے یہ ایک طرف سے جھکا ہوا محسوس ہوتا ہے ۔اسی کو ذہن میں رکھ کر یہ فیصلہ کیا گیا ہے ۔پل بند ہونے سے پریشانی بڑھ سکتی ہے کیونکہ لکشمن جھولے سے دو کلو میٹر پہلے دوسرا جھولا پل شیو آنند جھولا (رام جھولا)ہے ۔اب اس پر بھیڑ کا دباﺅ بڑھے گا بتایا جاتا ہے کہ لکشمن نے اسی جگہ پر جوٹ کی رسیوں سے ندی پار کی تھی ۔بعد میں اسی جگہ جھولا بنا دیا گیا اس پل پر گنگا کی سوگندھ ،سنیاسی جیسی فلموں کی شوٹنگ ہوئی تھی اور ٹی وی سیریل سی آئی ڈی کی بھی شوٹنگ یہاں ہوئی اس پل کی چھ فٹ چوڑائی ہے ۔یو پی کا پہلا سسپیشن برج تھا جو جیپ کے راستہ کے لائق تھا ۔بعد میں اس پر چار پہیوں کی گاڑیوں کی آمد رفت روک دی گئی ۔1450فٹ اس پل کی لمبائی ہے ۔یہ بغیر کسی سسپیشن تکنیک کے بنا ہے جس میں کوئی پایا نہیں ہے ۔1930میں 11اپریل کو لکشمن جھولا عوام کے لئے کھولا گیا تھا ۔1927سے1929کے درمیان لکشمن جھولا پل کی تعمیر اترپریش(اس وقت یونائیٹڈ پروینس)پی ڈبلیو محکمہ نے بنوایا تھا ۔1924میں پرانا لکشمن جھولا پل سیلاب میں تباہ ہو گیا تھا ۔پرانا پل 284فٹ لمبا تھا جو موجودہ پل سے تھوڑا نیچے تھا یہ پل کو میعاد پوری کر چکے لکشمن جھولا پل کو عام آدمی کے لئے خطرہ مانتے ہوئے انتظامیہ نے اسے بند کرنے کے احکامات دو دن پہلے جاری کئے تھے لیکن لوگوں کی ناراضگی کو دیکھتے ہوئے پی ڈبلیو ڈی نے نریندر نگر کھنڈ کے پل کو دونوں طرف بنیا لگا کر صرف پیدل چلنے کی چھوٹ دینی پڑی اتوار کو پل پر دو پہیہ گاڑی نہ چلے لیکن پیدل آمد رفت پورے دن جاری رہے ۔علاقہ کی ممبر اسمبلی رتو کھنڈی نے بھی افسران کے ساتھ پل کے انتظامات کا جائزہ لیا اس کے بعد ہی پی ڈبیلو ڈی کے افسران پل بند کرنے کا فیصلہ لے چکے ہیں ۔وزیر اعلیٰ تروندر سنگھ راوت نے دھرادون میں اتوار کو کہا کہ رشی کیش کے پوتر شہر گنگا ندی پر لکشمن جھولا پل کے ساتھ ساتھ ایک نیا پل بنایا جائے گا ۔

(انل نریندر)

16 جولائی 2019

ऐतिहासिक लक्ष्मण झूला पुल बंद किया गया

ऐतिहासिक ऋषिकेश में गंगा नदी पर बना लक्ष्मण झूला पुल बंद कर दिया गया है। विशेषज्ञों का मानना है कि 90 साल पुराना यह पुल अधिक भार सहन नहीं कर सकता। लक्ष्मण झूला पुल टिहरी जिले के तपोवन गांव को नदी के पश्चिमी तट पर स्थित पौड़ी जिले के जोंक से जोड़ता है। पुल गंगा नदी पर 1929 में बना था। लक्ष्मण झूला ऋषिकेश आने वाले श्रद्धालुओं और पर्यटकों के लिए आकर्षण का मुख्य केंद्र रहा है। उत्तराखंड के अतिरिक्त मुख्य सचिव ओम प्रकाश ने बताया कि यह पुल विशेषज्ञों की टीम के सुझाव के बाद बंद कर दिया गया है। पुल के ज्यादातर हिस्से बहुत कमजोर हैं या गिरने की स्थिति में हैं। पुल पर हाल में लोगों की आवाजाही बढ़ गई और यह एक तरफ झुका हुआ प्रतीत होता है। इसे ध्यान में रखकर यह फैसला किया गया है। पुल के बंद होने से परेशानी बढ़ सकती है क्योकिं लक्ष्मण झूले से दो किलोमीटर पहले दूसरा झूला पुल शिवानंद झूला (राम झूला) है। अब इस पर दबाव बढ़ेगा। बताया जाता है कि लक्ष्मण ने इसी स्थान पर जूट की रस्सियों से नदी पार की थी। बाद में इसी जगह झूला बना। इस पूल पर गंगा की सौगंध, संन्यासी जैसी फिल्मों की शूटिंग हुई है। टीवी धारावाहिक सीआईडी की शूटिंग भी यहां हुई है। इस पुल की छह फुट चौड़ाई है। उत्तर प्रदेश का पहला सस्पैंशन ब्रिज था जो जीप चलाने योग्य था। बाद में चार पहिया वाहनों का परिचालन रोक दिया गया। 450 फुट है पुल की लंबाई, यह बिना किसी सस्पैंशन तकनीक वाला ब्रिज है जिसमें कोई पाया नहीं है। 11 अप्रैल 1930 को लक्ष्मण झूला जनता के लिए खोला गया था। 1927 से 1929 के बीच लक्ष्मण झूला पुल का निर्माण उत्तर प्रदेश (तब यूनाइटेड प्रोवेंस) पीडब्ल्यूडी विभाग ने कराया था। 1924 में पुराना लक्ष्मण झूला पुल बाढ़ में तबाह हो गया था। पुराना पुल 284 फुट लंबा था, जो वर्तमान पुल से थोड़ा नीचे था। मियाद पूरी कर चुके 90 वर्ष पुराने लक्ष्मण झूला पुल को आमजन के लिए खतरा मानते हुए शासन ने इसे बंद करने के आदेश दो दिन पहले जारी कर दिए थे। लेकिन लोगों के विरोध को देखते हुए लोक निर्माण विभाग नरेंद्र नगर खंड को पुल के दोनों ओर बल्लियां लगाकर सिर्प पैदल चलने की छूट देनी पड़ी। रविवार को पुल पर दोपहिया वाहन नहीं चले, लेकिन पैदल आवाजाही पूरे दिन जारी रही। यमकेश्वर क्षेत्र की विधायक रितु खंडूरी ने भी अधिकारियों के साथ पुल की व्यवस्था का जायजा लिया। इसके बाद ही लोनिवि के अधिकारी भी पुल को बंद करने का फैसला ले चुके हैं। मुख्यमंत्री त्रिवेंद्र सिंह रावत ने देहरादून में शनिवार को कहा कि ऋषिकेश के पवित्र शहर गंगा नदी पर प्रतिष्ठित लक्ष्मण झूला पुल के पास एक नए पुल का निर्माण किया जाएगा।

بزرگوں کو تیرتھ یاترا کرانے کا کجریوال کا سپنا !

 دہلی سرکا رکی تیرتھ یاترا یوجنا کا ہم خیر مقدم کرتے ہیں اس اسکیم کے تحت بزرگوں کو مفت میں تیرتھ یاترا کرانے کا پورا فائدہ دہلی سرکا ر کو ہی ملے گی وزیر اعلی اروند کجریوال اور نائب وزیر اعلی منیش سسودیا اور وزیر محصول کیلاش گہلوت نے تیرتھ یاترا یوجنا کے تحت شردھالووں کی پہلے ٹرین کو 12جولائی کے دن صفدر جنگ ریلوے اسٹیشن روانہ کیا گیا افتتاح میں سلیپر کلا س میں یاترا کرانے اسکیم بنائی گئی تھی لیکن وزیر اعلی اروند کجریوال خود اس میں تبدیلی کرائی اور یقینی کیا کے سبھی سینئر شہری مختلف تیرتھ یاترا ائیر کنڈیشن کوچ میں جائےں گے ۔ٹرین کو روانہ کرتے ہوئے وزیر اعلی کجریوال کا کہنا تھا کہ میرے سپنے ایک قدم پورا ہوا ہے انکا خواب ہے کہ دہلی کے سبھی بزرگوں کو انکی خواہش کے مطابق کم سے کم ایک تیرتھ یاترا کراسکے ۔12جولائی کو ایک ہزار بزرگوں کو یاترا کراکر خود خوش نصیب محسوس کررہے ہیں ماں باپ کا احسان کوئی اولاد ادانہیں کرسکتا لیکن تیرتھ یاترا کردے تو انکا کچھ نا کچھ بھلاہوجاتاہے ۔ابھی تیرتھ یا ترا کے لئے پانچ روٹ طے کئے گئے ہیں ۔دہلی ،متھرا ،ورند اوند ،فتح پو ر سکری ،دہلی ،ہریدوار ،ریشی کیٹ نیل کنٹھ دہلی ۔دہلی اجمیر ،پشکر ،دہلی امرتسر ،وگھا بارڈر ،آنا پور صاحب دہلی ویشنودیوی ،جموں دہلی وغیرہ شامل ہے تیرتھ یاترا کی شروع دہلی ،امرتسر،وادگھا بارڈر سے آنند پور صاحب روٹ سے شروع ہوئی ہے ۔یہ پورا سفر تین دن کا ہوگا اس دوران سارا خرچ دہلی سرکار برداشت کرے گی جس میں کھانا پینا آنا جانا ہوٹل وغیرہ سہولت شامل ہیں کسی میڈیکل ایمرجنسی یا مدد کے لئے ایک میڈیکل ٹیم بھی ساتھ گئی ہے کوچ میں دورضا کار شردھالووںکی مد د کے لئے جارہے ہیں۔ کجریوال کے اس قدم سے میں اتنا خوش ہوں کہ اگر میرے بس میں ہوتا تو دنیا کو سینہ چیر کر دکھاتا کہ میں کتنا خوش ہوں یہ کہتے ہئے 75سال کی باشندہ شکنتلاچہرے سے خوشی جھلکتی ہے کجریول زندہ آباد ۔صفدرجنگ اسٹیشن میں داخل ہوتے بھوگل کے باشندہ راج بالا بھی کہتی ہےں میں بہت خوش ہوں کیوں نا میرا بیٹا (وزیر اعلی اروند کجریوال) تیرتھ یاترا لے جارہے ہیں اس عمر میں کوئی تیرتھ یاتراکرائے اس سے خوشی کی بات کوئی او رکیا ہوگی ۔کچھ بزرگوں کا تو یہاں تک کہنا تھا کہ جو کام ہماری اولاد نے آج تک نہیں کیا وہ کجریوال نے کردکھایا ۔
(انل نریندر)

کر۔ناٹک:کورٹ روم لائیو !

سپریم کورٹ نے بھلے ہی کرناٹک کے سیاسی بحران پر بھلے ہی 16جولائی مقرر کی تھی لیکن اس دوران انہوں نے اسمبلی اسپیکر کوکوئی فیصلہ لینے سے منع کردیا چیف جسٹس رنجن گگوئی کی تین نفری بنچ نے جمعہ کو کرناٹک اسمبلی کے اسپیکر رمیش کمار سے کہاکہ حکمراں اتحاد کے 10باغی ممبران اسمبلی کے استعفے اور ان کی پوزیشن کے مسئلہ پر منگل تک کوئی فیصلہ نہ لیں بنچ کے اہم ترین اشو کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ عدالت اس معاملہ پر 16جولائی کو آگے غٰور کرے گی تب تک اسمبلی میں جوں کی توں پوزیشن برقرار رکھنی چاہئے عدالت نے جمعہ کے روز سوال کیا کہ کیا اسمبلی اسپیکر کو بڑی عدالت کے فیصلہ کو چیلنج کرنے کا حق ہے ؟10باغی ممبران اسمبلی کے استعفے کے معاملہ میں فیصلہ کرنے کی ہدایت دینے کے عدالت کے حکم کے خلاف اسپیکر کے آر شرما کی عرضی پر یہ سو ال کیا تھا ۔سماعت کے دوران باغی ممبران کی طرف میں سینئر وکیل مکل روہتگی اسپیکر کے آر رمیش کی طرف سے وکیل ابھیشک منو سنگھوی اور وزیر اعلی کمار سوامی کی طرف سے راجیو دھون نے پیش ہوکر اپنی دلیلیں رکھیں ۔پیش ہے سماعت کے دوران لائیو کورٹ روم ڈرامہ !سنگھوی کا کہنا تھا کہ استعفی نااہل ٹھہرائے جانے سے بچنے کیلئے واحد ایک پیترا ہے انہوں نے قانونی دفعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسمبلی اسپیکر آئینی عہدہ پر ہیں اور وہ باغی ممبران کو نااہل قرار دینے کیلئے داخل عرضی پر فیصلہ کے لئے آئینی طور پر مجاز ہیں اس دلیل پر چیف جسٹس رنجن گگوئی سخت ریمارکس دیئے اور پوچھا کیا اسپیکر کورٹ کے دائرے اختیارکو چیلنج کررہے ہیں ؟سنگھوی نے بتایا اسپیکر کے پاس کانگریس نے باغی ممبران اسمبلی کی نااہل ٹھہرانے کے لئے عرضی دی ہے اور اسپیکر کی آئینی ذمہ داری ہے کہ وہ کانگریس کے عرضی پر غور کرے ۔اس پر ایک دوسرے وکیل راجیو دھون بولے کے باغی ممبران اسمبلی نے فوری سماعت کی مانگ اس لئے کی تھی کہ انکے کرناٹک سرکار اقلیت میں ہے او رکس بنیاد پر ممبران اسمبلی نے سپریم کورٹ کو دخل دینے کے لئے کہا ؟استعفے کو منظور کرنے سے پہلے اسپیکر کو یہ جانچ کرنی ہوتی ہے کہ یہ استعفی مرضی سے دیا گیا ہے یا نہیں ؟سنگھوی :اسپیکر کو پہلے ممبران اسمبلی نااہلی پر فیصلہ لینا ہے یہ انکا فرض ہے اور انہیں اختیار بھی ہے دھون ممبران نے اسپیکر پر دوہرا رویہ اپنانے کا الزام بھی لگایا ۔عدالت نے وزیر اعلی کا موقوف سنے بنا ہی جمعرات کو حکم دے دیا کہ ممبران اسمبلی عرضی سماعت کے لائق نہیں ہے ۔اسپیکر کی ذمہ داری ہے کہ وہ خود کو مطمئن کرے کہ استعفے مرضی سے دیئے گئے ہیں باغی ممبران کا موقوف رکھ رہے سینئر وکیل مکل روہتگی نے کہا کہ اسپیکر استعفے پر اپنا فیصلہ نہیں لٹکا سکتے اور وہ جان کر فیصلہ میں دیری کررہے ہیں روہتگی نے کہا کہ صر ف ایک لائن کے استعفے ہیں اور ان کی منظور ی میں چند منٹ لگیں گے اور کچھ خاص حالات کو چھوڑ دیں تو اسپیکر کو کورٹ میں جواب دیناہوگا وکیل کا کہنا تھا کہ اسپیکر نے ممبران کو سپریم کورٹ سے وقت دیئے جانے پر سوال اٹھایا اسپیکر کو استعفوں پر فیصلہ کے لئے ایک یا دودن دیئے جاسکتے ہیں ۔معاملہ پر 16جولائی کو سماعت ہوئی ہے ابھی معلوم نہیں کہ سپریم کورٹ نے کیا فیصلہ دیا ہے ۔
(انل نریندر)

باہوبلی کے سہارے چاند چھونے نکلابھارت !

ستیش بھون اسپیس سینٹر کے لانچنگ پیڈ ۔2پرچندر یان ۔2کولے جانے والے بھارت کے بھاری راکٹ کی لانچنگ 15جولائی صبح اندھیرے اتوار کو 6بجکر 51منٹ پر الٹی گنتی شروع ہوگئی ۔ہندوستانی ریسرچ آرگنائزیشن (اسروکے چیئرمین کے سیون نے بتایا کہ تقریبًا 44میٹر لمبا اور 640ٹن وزنی جیوسنکر نس سیٹر لائٹ گاڑی ،مارک تین کا ایک کامیاب فلم کے ہیرو کی طرح کھڑا ہے ۔راکٹ 3.1ٹن کا چندریان چلا ئی گاڑی ہے اس راکٹ کو بہوبلی ضمنی نام دیا گیا ہے 6سے 7ستمبر کو یہ جب چاند کے جنوبی پول پر اترے گا توبھارت ایسا کرنے والا پہلا دیش بن جائے گا اس سے پہلے سویت روس،امریکہ ،چین چاند پر پہنچ چکے ہیں حالانکہ ان کی لینڈنگ ساو ¿تھ پول پر نہیں ہوئی ہے ۔چندریان نے 19پلوڈس ہیں ان میں 25گرام کا ایک اعلی ناسہ کا بھی ہے جو زمین سے چاند تک کی دوری ناپے گا ۔جی ایس ایل وی مارک III جیوسنکر نس سیٹلائٹ وہیکل بھارت میں سب سے طاقتور راکٹ ہے چند ریان ۔2کو چاند کے مدار تک یہی لے جائے گا ۔اس کا نام بہوبلی اس لئے رکھا گیا ہے کیونکہ یہ 4ہزار کلو وزنی سیٹلائٹ لے جانے کی یہ صلاحیت رکھتاہے ۔اس سے بھی دوگنا وزن زمین کے نچلے مدار میں 6کلو میٹر تک لے جاسکتا ہے ۔43.43میٹر کی اونچائی ہے یہ کرایوجینک انجن اور دوبوسٹر سے لیس ہے ۔چاند کو ہم بہت زیادہ نہیں جانتے اور ساو ¿تھ پول کے بارے میں تو جانکاری صفر ہی ہے اب بھارت کا چندریان۔ 2چاند کے اسی پول پر اپنے لینڈر وکرم کو اتارنے جارہا ہے ۔محض پانی کے امکان اور اس علاقے میں اب تک کسی مشن کا نہیں پہنچنا اسے سنسان رہنے والے اس علاقہ میں پہنچ کر بھارت چندریان 2-کے ذریعہ اپنی ہمت کا ثبو ت دے گا چند ریان ۔ون نے پانی کے ذرات تلاشتے ہوئے جہاں اپنا سفر ختم کیا تھا وہیں چند ریان 2-اسکے آگے شروعات کرےگا ۔اسروکے مطابق چاند پر کتنا پانی ہے او رکہاں کہاں ہے اور اس کی سطح در سطح کے نیچے اس کے امکان کیا ہیں چندر یان 2-اس کے لئے آگے کی اسٹڈی کرے گا وکرم لینڈر اور پرگیان راور کومان جینس سی اور سپی لمپس این نام کے دو کریٹروں (وسیع ذخیرہ )کے درمیان آسانی سے اتارا جائے گا سافٹ لینڈنگ یعنی انجن کے سہارے آلات کو باقاعدہ طریقہ سے سطح پر اتار نا وہیں اسرو کے مطابق چند ریان کو ساو ¿تھ پول میں چند ریان 2-مشن کو مرکوز رکھنے کی وجہ یہاں کے زیادہ تر حصہ کا اندھیرے میں رہناہے یہاں چاند کے نارتھ پول سے بھی زیادہ اندھیرا ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ چاند کے اتنے سے دور ساو ¿تھ پول تک آج تک کوئی مشن نہیں اتار اگیا ۔اسرو کے مطابق اس کا سب سے بڑا فائدہ ہندوستانی مشن یہاں کئی نئی چیزوں کی ریسرچ کرسکتا ہے ۔تقریبًا ایک برس تک چند ریان 2-چاند کے چکر لگاتے ہوئے ڈاٹا اکٹھا کرے گا اس مشن پر تقریبًا ایک ہزار کروڑ روپے کی لاگت آئے گی ۔مشن کا مشکل حصہ چاند کی سطح پر کامیاب اور محفوظ لینڈنگ ہے چند ریان 2-چاند کی سطح سے 30کلو میٹر کی اونچائی سے نیچے آئے گا اس میں 15منٹ لگیں گے ۔یہ وقت زندگی اور موت کا ہوا کیونکہ مشن کی کامیابی اسی پر ٹکی ہے ہم اسرو سمیت تمام دیگر ایجنسیوں کے سائنسدانوں کے اس تاریخی مشن پر بدھائی دیتے ہیں او رامید کرتے ہیں چند ریان 2-اپنے مشن میں کامیاب رہے بھارت کا یہ عظیم کارنامہ ہے ساری دنیا نظر یں اس مشن پر لگی ہونگی ۔

(انل نریندر

14 جولائی 2019

امریکی پابندیوں سے ایران بربادی کے دہانے پر

امریکی پابندیوں کے چلتے ایک سمندری ملک ایران بربادی کے دہانے پر پہنچ گیا ہے اور اس کی معیشت اتنی خستہ حال ہو چکی ہے کہ یہاں لوگوں کو پیٹ بھرنے اور پینے کے پانی کے لئے بھی ترسنا پڑ رہا ہے ۔یہاں 25ہزار روپئے کی ایک روٹی بک رہی ہے معیشت کے معاملے میں اس ملک کی حالت بھی وینو زیولا جیسی ہونے والی ہے بس فرق اتنا ہے کہ اس دیش کے لوگ امریکہ کے خلاف متحد ہیں اور سرکار دیش کے شہریوں کو راحت پہنچانے کے لئے ہر ممکن مدد دے رہی ہے ۔ہم یہاں یہ بات کہہ رہے ہیں کہ تیل سے مالا مال والے ملک ایران کی اس دیش کی کل قومی آمدنی کا آدھا حصہ کچے تیل کے فروخت سے آتا ہے ۔امریکہ پابندیوں کی وجہ سے ایران کے تیل باہر فروخت ہونے والی آمدنی بالکل بند ہو چکی ہے ۔اپنے نیوکلیائی پروگراموں کی وجہ سے ایران کو تقریباََ چالیس سال سے مسلسل مختلف طرح کی امریکہ پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔بارہ جون اسی سال امریکہ کے ڈرون کو مار گرائے جانے کے بعد ایران پر پابندیا ں اور سخت کر دی گئی ہیں دراصل امریکہ نہیں چاہتا کہ ایران نیوکلیائی پاور بنے امریکہ کے مطابق ایران کا نیوکلیائی طاقت بننا پوری دنیا کے لئے بڑا خطرہ ثابت ہو سکتا ہے ان پابندیوں کے باوجود ایران امریکہ کو اکسانے میں کوئی کمی نہیں چھوڑ رہا ہے ۔اب ایران کے ذریعہ یورینیم سمجھوتے کے تحت حد کو توڑنے کا اعلان کر دیا گیا ہے ۔ایران کے صدر حسن روحانی پہلے سے ہی یہ وارنگ دے رہے تھے کہ وہ اپنے عزم سے ہٹنے والے نہیں ہیں ۔بھاری دباﺅ کے بعد ایران نے امریکہ سمیت سیکورٹی کونسل کے پانچوں مستقل ممبران جرمنی،اور یوروپی یونین کے ساتھ اپنا نیوکلیائی پروگرام محدود کرنے سے متعلق معاہدے پر 2015میں دستخط کئے تھے لیکن امریکہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے یک طرفہ فیصلہ لیتے ہوئے ایک سا ل پہلے معاہدے سے خود کو الگ کر لیا تھا اور ایران پر نئی اقتصادی پابندیاں لگا دی تھیں در اصل ایران ہمیشہ سے دعوی کرتا آرہا ہے کہ اس کا نیوکلیائی پروگرام اس کی اپنی توانائی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے ہے ۔لیکن سبھی اس کی سرگرمیاں مشتبہ ضرور رہی ہیں ۔حقیقت میں اس نے یونینیم کو 20فیصد تک افزودگی کرنے کے صلاحیت حاصل کر لی ہے جس سے یہ شبہ پیدا ہوا کہ اس کے پاس نیوکلیائی ہتھیار بنانے کی صلاحیت ہے ۔ایرانی صدر حسن روحانی چاہتے ہیں کہ ان کے دیش کی معیشت کے اہم سیکٹر تیل اور دھات کو امریکی دباﺅ سے آزاد کیا جائے مگر وہ جو طریقہ اپنا رہے ہیں اس سے پریشانی بڑھی ہے موجودہ بحران کو دور کرنی کی سمت میں فرانس آگے آگیا ہے ۔اس نے ایران کے صدر سے بات کی ہے اور جلد مغربی ممالک کا ایک نمائندہ وفد ایران جائے گا اور وہاں اس بحران کا پر امن حل نکالا جانا ضروری ہے ۔ایران اور امریکہ کے درمیان موجودہ ٹکراﺅ و کشیدگی پوری دنیا کے لئے خطرہ بنی ہوئی ہے ایران کی حمایت و مخالفت میں کھڑے ملکوں کے درمیان لائن کھینچی ہوئی صاف ہے ۔روس،چین،جیسے دیش امریکی کارروائی کی کھل کر مخالفت کر رہے ہیں جبکہ یوروپی ممالک میں بھی زیادہ تر امریکی کارروائی سے لوگ متفق نہیں ہیں ۔معاملہ شاید اتنا نہیں بگڑتا اگر سبھی دیش 2015کے سمجھوتے کی ایمانداری سے تعیمل کرتے لیکن امریکہ کا مقصد کچھ اور ہے اور کسی نہ کسی بہانے ایران پر حملہ کرکے تیل کے زخائر پر قبضہ کرنا چاہتا ہے اور اس کی یہ ہٹ دھرمی کا اشارہ ہے ۔

(انل نریندر)

بچوں کے سنگین جنسی استحصال پر سزائے موت سے کتنا فرق پڑے گا؟

وزیر اعظم نریندر مودی کی صدارت میں ہوئی مرکزی کیبنیٹ نے بدھ کے روز کئی اہم ترین فیصلے لیے ان میں اطفال جنسی جرائم روک (پاسکو)قانون میں ترمیم کو لے کر بے قابو یوجنا پابندی بل کو منظوری بھی ہے جو اس سے متعلق آرڈینینس کی جگہ لے گی ۔پاسکو قانون میں ترمیم کیا جانا کافی اہم ترین قدم ہے ۔مجوزہ ترامیم میں بچوں سے سنگین جنسی استحصال کرنے والوں سے سزائے موت اور نابالغو کے خلاف دیگر جرائم کے لئے سخت سزا کی سنگین سہولت رکھی گئی ہے ۔پچھلے کچھ برسوں سے نا بالغوں کے ساتھ جنسی استحصال اور تشدد کے واقعات مسلسل بڑھ رہے ہیں اسی کے پیش نظر حکومت نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ پورن سائیٹوں پر بچوں کے ساتھ جنسی استحصال کی فحاشی مناظر نے دنیا بھر میں برائیاں بڑھائی ہیں بھارت بھی اس کا شکار ہو رہا ہے ۔کچھ پیسے والوں اور بااثر لوگوں کے ذریعہ اپنی ذہنی چاہت مٹانے کے لئے بچوں کےساتھ غیر انسانی طریقے سے جنسی استحصال کرنے کے واقعات یا باتیں سامنے آنا ہمارے پورے سماج کے لئے باعث تشویش ہونا چاہیے ۔حالانکہ دہلی میں نربھیا کانڈ کے بعد جنسی اذیت سے متعلق قوانین کو کافی سخت کیا گیا تھا تب مانا تو یہ گیا تھا کہ اس سے جرائم کے کرنے سے لوگوں میں خوف پیدا ہوگا اور جنسی تشدد کے واقعات میں کمی بھی آئے گی لیکن ایسا نہیں ہوا بلکہ اس کے بعد سے کم عمر کے بچوں کے جنسی اذیت اور ان کے قتل کے واقعات بڑھے ہیں اس لئے مانگ کی جا رہی تھی کہ پاسکو قانون کو اور سخت بنایا جائے ۔مودی سرکار کا پاسکو قانون کو سخت کرنے کے لئے ترامیم کو منظوری دیا جانا صحیح سمت میں اُٹھایا جا رہا قدم ہے لیکن سرکار ،عدلیہ ،پولس ،و سماج کو بھی ساتھ کھڑا ہونا ہوگا ،مذوجہ ترامیم میں بچوں کا سنگین جنسی استحصال کرنے والوں کو سزائے اور نا بالغوں کے خلاف دیگر جرائم کے لئے سخت سزا رکھی گئی ہے اس سے اطفال پورن گرافی پر بھی لگام لگانے کے لئے سزار اور جرمانے کے سہولت شامل ہے ۔سخت قانون ایسے جنسی جرائم کے لئے خوف پیدا کرنے کا رول بھی نبھائے گا لیکن قانو ن کافی نہیں ہے بلکہ قانون سخت بنانے کے ساتھ ساتھ عدلیہ ،اور پولس کی جوابدہی بھی ضروری ہے ہمارے دیش میں قانون تو موجود ہے لیکن ساتھ ساتھ اس کو لاگو کرنے کی کاروائی پر جب تک سنجیدگی سے غور نہیں کیا جاتا جب تک بچوں پر جرائم تھمنے والے نہیں ہیں ۔مجرم کو سزا دلانے میں برسوں کا وقت لگ جاتا ہے ۔اور اپیلوں کا ایسا سلسلہ چلتا ہے کہ ابھی تک نربھیا کانڈ میں قصور وار قرار دئے جا چکے جرائم پیشہ لڑکوں کو سزا نہیں مل پائی معاملہ عدالتوں میں لٹکا ہوا ہے۔اس قانون میں یہ سہولت شامل کیا جانا بھی ضروری ہےکہ سزا ملنے کے بعد کتنے مہینوں کے اندر عدالتی کارروائی پوری کر لی جائے چاہے ہمیں اس کے لئے اشپیسل فاسٹ ٹریک عدالتوں کو اتنے اختیار دینے پڑیں کہ ایک مرتبہ عدالت ثبوتوں کی بنیاد پر فیصلہ کرلے اور اس میں اپیلوں کا سلسلہ نہیں چلایا جا سکے ۔بے شک کچھ لوگ انسانی حقوق تنظیم والے کہیں کہ جرائم پیشہ کو اپنا بچاﺅ کرنے کا پورا حق ملنا چاہیے یہ صحیح ہے لیکن ایک مرتبہ سزا ہو جائے تو اپیلوں کا سلسلہ بھی بند ہونا چاہیے۔دنیا کے کچھ ملکوں میں ایسی سہولت ہے جب تک ایسے دو چار درندوں کو پھانسی نہیں ہوتی یہ سلسلہ رکنے والا نہیں ہے ۔سرکار کے قانون میں ترامیم کا خیر مقدم ہے جب تک پولس اور عدالتی کارروائی کو بہتر نہیں بنایا جاتا یہ تھمنے والا نہیں ہے ۔پولس کبھی کبھی جانچ میں اتنی تاخیر کر دیتی ہے کہ تب تک مجرم ثبوتوں کو ہی ضائع کر دیتا ہے پھر کئی بار رسوخ دار لوگوں کے اثر میں آکر بھی کئی معاملے دبا دیئے جاتے ہیں یا فریقین میں سمجھوتہ کروا کر معاملہ رفع دفع کر دیا جاتا ہے ۔ماں باپ کو بھی اپنے بچوں کا خیال رکھنا چاہیے کہ وہ کہاں جاتے ہیں کس کے ساتھ جا رہے ہیں اکیلے نہیں چھوڑنا چاہیے سب کو مل کر اس پیچیدہ مسئلے کو ختم کرنے میں مدد کرنی ہوگی سرکار تو قانو بنا سکتی ہے اسے عمل میں لانے کا کام عام لوگوں کا زیادہ ہے ۔

(انل نریندر)