Translater

16 فروری 2019

چندر بابو نے انشن کر دکھائی اپوزیشن کی ایکتا

آندھرا پردیش کے وزیر اعلیٰ چندر بابو نائیڈو نے پیر کو دہلی میں آندھرا بھون میں ایک بار پھر انشن کے ذریعہ اپوزیشن ایکتا دکھانے کی کوشش کی اور وزیر اعظم پر الزام لگایا کہ ریاست کو خصوصی درجہ نہ دے کر انہوںنے راجیہ دھرم کا پالن نہیں کیا ۔چندر بابو نے کہا کہ ہمیں وہ درجہ دینے سے انکار کیا جا رہا ہے جو جائز طور پر ہمارا ہے ۔بتا دیں کہ آندھرا پردیش کو خصوصی ریاست کا درجہ دئے جانے کی مانگ کو لے کر ٹی ڈی پی مارچ 2018میں این ڈی اے سرکار سے الگ ہو گئی تھی اس کی مانگ ہے کہ مرکز 2014میں خصوصی درجوں کو لے کر کئے گئے اپنے وعدے کو پورا کرئے آگے نائیڈو نے مرکز کو وارنگ دی کہ ان کے راجیہ کے لوگوں کے خلاف نجی حملے کئے گئے ہیں اس کا منھ توڑ جواب دیا جائے گا ۔اگر کوئی ہمارے ضمیر پر حملہ کرے گا تو اسے برداشت نہیں کریں گے ۔ان کی پارٹی کو پارلیمنٹ کمپلیکس میں مظاہرہ کرنے کی اجازت نہیں دی گئی اس لئے ہم یہاں آئے ہیں ۔انشن پر چندر بابو نائیڈو کی حمایت کرنے پہنچے اپوزیشن لیڈروں میں سابق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ،کانگریس صدر راہل گاندھی،نیشنل کانفرنس لیڈر ،فاروق عبداللہ ،این سی پی لیڈر ماجد میمن،ترنمول کانگریس لیڈر ڈے ریک اوبرائن ،دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کجریوال اور ملائم سنگھ یادو اور ڈی ایم کے لیڈر شامل تھے ۔بتا دیں کہ پچھلی بار اپوزیشن لیڈروں نے 19جنوری کو اپنی ایکتا دکھائی تھی ۔22پارٹیوں کے نیتا سی بی آئی کے قدم کے خلاف وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کو حمایت دینے پہنچے تھے ۔نائیڈو کے تیں حمایت جتانے کے لئے راہل گاندھی نے کہا کہ آنے والے لوک سبھا چناﺅ میں اپوزیشن پارٹیاں پی ایم کو ہرائیں گی ۔وزیر اعظم کو اپنے وعدے پر قائم رہنا چاہئے آندھرا کے لوگوں کے ساتھ کھڑا ہوں انہوںنے کہا کہ مودی آندھرا پردیش جاتے ہیں جھوٹ بولتے ہیں جب وہ نارتھ ایسٹ کی ریاستوں میں جاتے ہیں تو جھوٹ بولتے ہیں ایسے ہی مہاراشٹر میں بھی جھوٹ بول آتے ہیں ۔اب دو مہینے بچے ہیں اپوزیشن پارٹیاں دکھایں گی کہ پردھان منتری کی کوئی ساکھ نہیں ہے ۔سابق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ نے کہا کہ مرکزی سرکار کے کئے گئے وعدے کے مطابق آندھرا کو خصوصی درجہ ملنا چاہئے ۔دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کجریوال نے کہا تھا کہ نائیڈو کے دہلی آکر مظاہر کرنا فیڈرل ڈھانچے کے لئے سوال پیدا کرتا ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ مرکز کی مودی سرکار جو وعدے کرتی ہے اسے کبھی پورا نہیں کرتی ہم مرکز کی مجبوری کو سمجھ سکتے ہیں آندھرا کو خصوصی درجہ نہ دینے کے پیچھے مرکز کی اپنی دشواریاں ہیں کئی ریاستیں یہ سمجھے سکتی ہیں کہ آندھرا کو خصوصی درجے کی مانگ کی طرح ایسے ہی بہار ،راجستھان،جارکھنڈ،اڑیشہ،چھتیس گڑھ،بھی کر سکتے ہیں ۔حالانکہ آندھرا کو معاملہ الگ ہے تمام تکنیکی باتیں ایک طرف لیکن یہ طے ہے کہ نئے سرے سے کسی ریاست کی تشکیل آسان نہیں ہوتی وہیں بھاجپا صدر امت شاہ نے الزام لگایا کہ آندھرا پردیش کے وزیر اعلیٰ چندر بابو نائیڈو نے جنتا کا بھروسہ توڑا ہے اور ان کی چھلاوے کی سیاست اب ختم ہو گئی ہے ۔خصوصی درجے کی مانگ کو لے کر نائیڈو کا انشن در اصل دہلی میں آکر ایکتا کا مظاہر بھی کرنا تھا ۔جس میں وہ کسی حد تک کامیاب رہے ۔

(انل نریندر)

ملائم کے مودی بچھاڑ دواﺅں کے معنیٰ

سماج وادی پارٹی کے سرپرست اور سابق وزیر دفاع ملائم سنگھ یادو نے بدھ کو ایک بار پھر چونکا دیا ہے ۔سولہویں لوک سبھا کے آخری دن حکمراں فریق اور اپوزیشن اپنے اپنے ہتھیار چناﺅ ی سنگرام کے لئے جہاں اُٹھاتے دکھائی دیئے وہیں ملائم سنگھ یادو نے غیر متوقع طور سے یہ کہہ کر سیاسی حلقوں میں بحث چھیڑ دی ہے کہ میں نریندر مودی کے دوبارہ پردھان منتری بننے کی کامنا کرتا ہوں ساتھ ہی یہ کہہ کر مہا گٹھ بندھن کی کوشش پر بھی سوال کھڑے کر دئے کہ ہم لوگ تو اتنی اکثریت لا نہیں سکتے ملائم سنگھ جب الوادائی تقریر کر رہے تھے تو یو پی اے کی چیف سونیا گاندھی ان کے ٹھیک سامنے بیٹھی تھیں ۔جیسے ہی ملائم نے مودی کی تعریف کی تھی تو وہ پریشان سی ہو گئیں ۔ملائم نے کہا کہ میں چاہتا ہوں سبھی ممبران پھر کامیاب ہو کر آئیں اس پر پورے ایوان میں تالیاں بج گئیں ۔آگے انہوںنے کہا کہ ہم پی ایم کو شکریہ دینا چاہتے ہیں کہ آپ نے سب کے ساتھ مل کر کام کیا ۔ہم لوگوںنے جب جب آپ سے کسی کام کے لئے کہا تو آپ نے اسی وقت حکم دے دیا اس لئے ہم آپ کا احترام کرتے ہیں اس پر وزیر اعظم نے ہاتھ جوڑ کر شکریہ ادا کیا ۔ایوان نے میزیں تھپ تھپا کر سپا ایم پی کی بات کی ہمایت کی ساتھ ہی جے شری رام کے نعرے بھی لگے ۔سیاسی حلقوں میں پھر بحث چھڑ گئی ہے کہ پی ایم پر پھر آئے پریم کا راز کیا ہے ؟کیا وہ حقیقت میں چاہتے ہیں کہ مودی دوبارہ پی ایم بنیں یا ان کی زبان پھسل گئی تھی ۔ملائم کے قریبیوں کا دعوی ہے۔کہ وہ سپا بسپا گٹھ بندھن سے خوش نہیں ہیں ۔وہیں اپوزیشن گٹھ بندھن کی کی کوششوں میں جس طرح انہیں کنارے کیا گیا اس سے بھی وہ دکھی ہیں ۔لیکن یہ بھی سچ ہے کہ و ہ بیٹے اکھلیش کو ہارتے ہوئے بھی دیکھنا نہیں چاہتے بدھ کے روز پارلیمنٹ میں دئے گئے بیان کے پچھے ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ وہیں جس کام کے لئے وہ مودی کے شکر گزار ہیں کہ وہ ان کے خلاف سی بی آئی میں چل رہے آمدنی سے زیادہ اثاثے کے معاملے ہیں جو پچھلے پانچ برسوں سے ٹھنڈے بستے میں پڑے ہیں سی بی آئی نے 200سے 2005کے درمیان ان کے خاندان کے سبھی ممبروں کو انکم ٹیکس ریٹرن کی جانچ کی اور پایا کہ ان کی علان کردہ آمدنی سے 2.68کروڑ روپئے کی پراپرٹی زیادہ پائی گئی ہے ۔بھارت امریکہ نیو کلیائی سودے کو لے کر لیف پارٹیوں نے 2008میں منموہن سرکار سے ہمایت واپس لی تھی تو اسے گرانے کی کوشش کو فیل کرتے ہوئے ملائم نے ہی سرکار کو بچایا تھا ۔مانا جاتا ہے کہ سابقہ منموہن سرکار کے اشارے پر سی بی آئی نے 2014تک ڈی اے معاملے میں کوئی کارروائی نہیں کی مودی سرکار نے بھی یہی پوزیشن بنائے رکھا ۔دس سال سے سی بی آئی نے معاملے کو بند کرنے کے لئے عدالت میں درخواست بھی نہیں دی یعنی یادو پریوار پر کارروائی کی تلوار رکھی ہوئی ہے ۔ملائم نے چاہے جو بھی ہو ایسا کرنے کی پیچھے کیا وجوہات رہے ہوں انہوں نے سرکار کے خلاف حملہ آور اپوزیشن کو بیک فٹ پر لا دیا ہے ۔ملائم نے جب مودی کے دوبارہ پی ایم بننے کی کامنا کی تھی تو اپوزیشن کی بنچوں پر سناٹا چھا گیا کہا جا رہا ہے کہ ملائم کے مودی پچھاڑ سے ان کے بیٹے کو ہی فائدہ ہو سکتا ہے ۔کہیں نہ کہیں ملائم کو لگتا ہے کہ 2019کے چناﺅ کے لئے اپوزیشن کی تیاری اتنی دھار دار نہیں ہے اس کی بھی تمام وجہ ہو سکتی ہے ۔جیسے گٹھ بندھن کا کوئی نیتا نہ ہونا آئے دن الگ الگ پارٹیوں میں کھینچ تان ہونا ان کا مقصد یہ بھی ہو سکتا ہے ۔سپا صدر اور بیٹے اکھلیش کے تئیں بی جے پی کا رخ نرم ہو اور انہیں سی بی آئی سے بچاتے رہیں ویسے یہ پہلی بار نہیں جب ملائم نے کسی پی ایم کی تعریف کی ہو ۔

(انل نریندر)

15 فروری 2019

بے ایمان بنام ایماندار پر لڑا جائے گا لوک سبھا چناﺅ

صدر کے اےڈرےس پر شکرےہ کی تحرےک پر ہوئی بحث کاجواب دےتے ہوئے بدھوار کے روز پارلےمنٹ مےں وزےر اعظم نرےندر مودی نے سب سے لمی تقرےر کی وہ قرےب اےک گھنٹہ چالےس منٹ تک لوک سبھا مےں بولے ۔مانا جارہا ہے کہ ےہ پارلےمنٹ مےں سب سے لمی تقرےر ہے اس سے پہلے پچھلے سال صدر کے اےڈرےس پر شکرےہ کی تحرےک کے جواب مےں پی اےم مودی نے اےک گھنٹہ اکتےس منٹ تقرےر کی تھی ۔اٹل بہاری واجپئی اےک شاندار مقرر کے طور پر جانے جاتے تھے انہوں نے 27مئی 1996کو پارلےمنٹ مےں اےک گھنٹہ تےس منٹ کی تقرےر کی تھی اپنی اس لمبی تقرےر مےں وزےر اعظم نرےندر مودی نے صاف اشارہ دےا ہے کہ 2019کا لوک سبھا چناو ¿ کو بی جے پی بے اےمان بنام اےماندار کی لڑا ئی کی شکل مےں پےش کرے گی ۔گھوٹالوں کے ذرےعہ اپوزےشن پر تلخ نکتہ چےنی کی جائے گی ۔وزےر اعظم نے کہا کانگرےس نے 55برسوں کی حکومت کو برباد کردےا کےونکہ نا تو اس کی نےت تھی اور نا ہی وےژن ۔جوکام دودہائےوں مےں ہونا چاہئے تھا اسے اب انہےں اقتدار مےں آنے کے بعد کرنا پڑرہا ہے مودی نے ےہ بھی صاف کےا کہ وہ رافےل پر اپوزےش کے سوالوں کا جواب نہےں دےں گے کےو نکہ لوک سبھا مےں اس معاملے پر وزےر دفاع نرملا سےتا رمن پہلے ہی صفائی دے چکی ہےں۔راہل گاندھی نے جمعہ کو وزےر اعظم نرےندر مودی پر اےک بار تلخ نکتہ چےنی کی اور دعوی کےا کہ مودی نے سپرےم کورٹ سے ثبوت چھپاےا ہے اب وہ جنتا کی عدالت سے بچ نہےں سکتے گاندھی نے ےہ بھی الزا م لگاےا کہ اس جنگی جہاز سودے کولےکر مودی نے فرانس کے ساتھ مسلسل بات چےت کر وزارت دفاع کے موقوف کو کمزور کےا ہے ۔اور پوری خانہ پوری کو درکنار کرتے ہوئے اپنے دوست انل امبانی کو 30ہزار کروڑ وپے کا ٹھےکہ دلوادےا ۔انہوں نے کانگرےس ہےڈ کوارٹر مےں اخبار نوےسوں سے کہا کہ ہم ےہ بات اےک سال سے کہہ رہے ہےں کہ وزےر اعظم رافےل گھوٹالے مےں سےدھے طور پر شامل ہےں دےش کے نوجوانوں اور سےکورٹی فورسےز سے کہنا چاہتا ہوں کہ اب صاف ہوچکا ہے کہ وزےر اعظم نے خانہ پوری کو درکنار کرتے ہوئے 30ہزار کروڑ روپے چرائے اور اپنے دوست انل امبانی کو دے دےئے ۔رابرٹ واڈر اسے اثاثہ بنانے کے معاملہ مےں ای ڈی کی پوچھ تاچھ پر راہل گاندھی نے کہا جس کے خلاف آپ کارروائی کرنا چاہتے ہوتو کرو کےونکہ آپ سرکار مےں ہو لےکن رافےل کی کارروائی بھی کرو ۔وہےں دہلی کے وزےر اعلی اروند کجرےوال نے وزےر اعظم کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ مودی او رشاہ کی جوڑی دےش کے لئے خطرناک ہے او رپچھلے پانچ سالوں مےں مودی شاہ نے جتنا بےڑا غرق کےا 70سال مےں ےہ کسی نے نہےں کےا اگر 2019کے چناو ¿ مےں مودی اور امت شاہ جےت گئے تو جمہورےت خطرے مےں پڑجائے گی اور 2019لوک سبھا چناو ¿اشو طے ہوتے جارہے ہےں ۔آنے والے دنوں مےں ےہ صاف ہوجائے گا کہ کونسی پارٹی کون کون سے اشوز پر چناو ¿ لڑے گی ۔

  1. (انل نریندر)

اقلیت کی تشریح طے ہونی چاہئے

سپرےم کورٹ نے قومی اقلےتی کمےشن کو جو ہداےت دی ہے کی آباد ی کی بنےاد پر کسی فرقے کو اقلےت تشرےح کرنے کے لئے گائڈ لائنس بنانے سے متعلق معاملہ ہر 3مہےنے کے اندر فےصلہ لے کافی اہم ہے ۔عرضی مےں اپےل کی گئی تھی کہ سپرےم کورٹ اقلےت کی تشرےح نئے سرے سے طے کرے ۔چےف جسٹس رنجن گگوئی اور سنجےوکھنہ کی بےنچ نے بھاجپا نےتا اور وکےل اشونی اپادھےائے سے کہا کہ وہ اقلےت کمےشن مےں پھر اپنی اپےل داخل کرے ۔کمےشن کو اپنی رائے دےنی ہوگی ہندو ملکی سطح پر اکثرےت تو ہے لےکن کئی رےاست اےسی ہےں جہاں ہندو اقلےت ہےں باوجود اسکے وہا ں انہےں اقلےت کا درجہ حاصل نہےں ہے ۔عدالت نے قومی اقلےت سے کہا ہے کہ وہاں 5فرقوں کو اقلےت اعلان کرنے کی 1993کا نوٹےفےکشن منسوخ کرنے ،اقلےتوں کی تشرےح وپہچان طے کرنے اور جن 8رےاستوں مےں ہندوو ¿ں کی تعداد بہت کم ہے وہاں ہندوو ¿وں کو اقلےت قرار دےنے کی مانگ پر 3مہےنے مےں فےصلہ لے ۔اس سے پہلے اشونی اپادھےائے کی جانب سے پےش ہوئے وکےل نے عدالت سے کہا انھوں نے کورٹ کے 10نومبر 1917کے حکم کے مطابق قومی اقلےتی کمےشن کو ممورےنڈ م دےا تھا لےکن اقلےتی کمےشن نے آج تک اس کا جواب نہےں دےا ۔اسلئے انھوں نے ےہ اپےل داخل کی ہے ۔دراصل اپادھےائے نے 2017مےں 8رےاستوں (2011مردم شماری کے مطابق)لکشدےپ ،مےزورم ،ناگالےنڈ ،مےگھالےہ ،جموں کشمےر ،اروناچل پردےش ،منی پور ،پنچاب مےں ہندوو ¿ںکو اقلےت بتاتے ہوئے رےاست وائز اقلےتوںکی پہچان کرنے کی مانگ سے متعلق عرضی داخل کی تھی ۔سچ ےہ ہے کہ 2011کی مردم شماری کے مطابق ان 8رےاستوں مےں ہندوفرقے اقلےت ہےں ۔تواگر قومی سطح ہر آباد کے مطابق کسی کو اقلےت کا درجہ اور اس سے متعلق سارے فائدے ملتے ہےں تو رےاستی سطح پر انکے ساتھ ےہی ہونا چاہئے ۔ےہاں وہ اقلےت مےں ہے ۔اس سلسلے مےں آئےن الگ سے کچھ نہےں کہتا اقلےت اور اکثرےت کی تشرےح کو لےکر ہمارے دےش مےں 1977کی دہائی سے بحث شروع ہوئی تھی لےکن ےہ اےسا موضوع ہے جس پر زےادہ تر سےاسی پارٹےاں کچھ بولنے سے بچتی رہی ہےں ۔بھاجپا نے اس پر زور دار طرےقے سے آواز ضرور اٹھائی کےونکہ اس کی پالےسی بھی دوسری پارٹےوں کے برار ہی رہی ۔پارلےمنٹ نے بھی اس پر کبھی کوئی فےصلہ نہےں لےا وےسے بہتر تو ےہ ہوتا کہ پارلےمنٹ ہی اس پر اپنا فےصلہ دے دےتی اس کےلئے اگر ہمےں آئےن مےں ترمےم بھی کرنا پڑتی تو وہ بھی کی جاسکتی ہے ۔لےکن تلخ سچائی تو ےہ ہے کہ ےہ سےاسی پارٹےاں اپنے ووٹ بےنک کی سےاست کو ذہن مےں رکھتے ہوئے اس سے بچنے کی کوشش کرتی رہی ہےں اور اس سے لگتا ہےکہ اس اہم ترےن اشو کا فےصلہ ےاتو قومی اقلےتی کمےشن کرے ےا پھر عدالت اب دونوں کا ہی رول سامنے آگےا ہے۔امےد کرنی چاہئے کہ برسوںسے لٹکے اس مسئلے کا اب کوئی حل نکل سکے گا ۔اگرچہ ان رےاستوں مےں ہندوو ¿ں کو اقلےت کا درجہ مل جاتا ہے تو انہےں آئےن کے تحت مخصوص سرپرستی اور حق مل جائےں گے ۔جو ہم سمجھتے ہےں اور ضروری بھی اور انکا حق بھی ۔

(انل نریندر)

14 فروری 2019

کیا راہل-پرینکا کی جوڑی یوپی میں پانسہ پلٹ دئےگی؟

حال میں اترپردیش کے انچارج بنائے گئے دونوں سیکریٹری جنرل پرینکا گاندھی جوتر آدتیہ سندھیا نے پیر کے روز پارٹی صدر راہل گاندھی کے ساتھ لکھنﺅ میں ایک روڈ شو کر کے ریاست میں پارٹی کی چناﺅ مہم کا با قاعدہ آغاز کردیا ہے ۔لکھنﺅ آنے سے ٹھیک ایک دن پہلے پرینکا گاندھی اور سندھیا نے ایک آڈیو سندیش جاری کیا ۔قریب آدھا منٹ کے اپنے آڈیو سندیش میں پرینکا نے کہا کہ میں پرینکا گاندھی واڈرا بول رہی ہوں آپ سب سے ملنے کے لئے لکھنﺅ آرہی ہوں میرے دل میں یہ امید ہے کہ ہم سب مل کر ایک نئی سیاست کی شروعات کریں گے ایک ایسی سیاست جس میں آپ سب ساجھیدار ہوں گے ۔میرے نوجوان دوست میری بہنیں اور سب سے کمزور شخص کی آواز سنائی دے گی ۔آئیے میرے ساتھ مل کر اس نئے مستقبل اور نئی سیاست کی تعمیر کریں ۔پرینکا نے پیر کو لکھنﺅ میں تقریبا پانچ گھنٹے روڈ شو کیا اور پرینکا اور راہل گاندھی کا یہ روڈ شو تقریبا پندرہ کلو میٹر لمبا تھا اور شہر کے کئی اہم علاقوں سے ہو کر گزرا ۔یوپی میں کھوئی ہوئی سیاسی زمین پھر سے حاصل کرنے اور پرینکا گاندھی میدان میں اتری ہیں ۔یوپی میں کنارے لگ چکی کانگریس کو قومی دھارا میں لانے کے لئے پرینکا گاندھی واڈرا نے یہاں کی سخت زمین پر پاﺅں رکھ دیے ہیں ۔پرینکا کا لکھنو میں کانگریسی لیڈروں اور ورکروں نے زبردست خیر مقدم کیا ۔روڑ شو تقریبا 37جگہوں پر رکا جہاں نیتاﺅں کا خیر مقدم ہوا جس بس پر پرینکا گاندھی راہل گاندھی سمیت دیگر نیتا سوار تھے۔وہاں سے ہی راہل نے پرینکا کے ساتھ رافیل جنگی جہاز کی ڈمی لوگوں کو دکھائی معلوم ہو کہ اس جنگی جہاز کے سودے کو لے کر راہل گاندھی کافی عرصے سے وزیر اعظم نریندر مودی کو گھیرتے رہے ہیں ۔رائے بریلی کے پارٹی ورکر 51کلو کی مالا لے کر پہنچے رتھ کے اوپر سے ہی پرینکا گاندھی نے مالا کو قبول کر لیا ۔کانگریس کی سیکریٹری جنرل اور یوپی کے انچارج پرینکا گاندھی کے میگا روڈ شو میں ورکروں کا عوامی سیلاب امڑ پڑا ورکر بینر اور تختیاں لے کر پرینکا کے ساتھ چل رہے تھے ۔اسی بھیڑ میں ایک ایسا گروپ بھی نظر آیا جس نے اپنے جسم پر ٹیٹو بنوایا ہوا تھا جس میں لکھا تھا چوکیدار چور ہے ۔اس موقع پر راہل گاندھی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کی پارٹی کا ٹارگیٹ لوک سبھا چناﺅ کے بعد یوپی میں پارٹی کی حکومت بنانے کا ہے ۔ایک عظیم الشان گروپ کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر اس دیش کا دل ہے تو یہ اترپردیش ہے اب میں نے پرینکا اور جوتر آدتیہ سندھیا جی کو یہاں جنرل سیکریٹری بنایا ہے ۔میں نے کہا ہے کہ یوپی میں جو برسوں سے نا انصافی ہو رہی ہے اس کے خلاف ان دونوں کو لڑانا ہے اور اترپردیش میں انصاف والی سرکار لانی ہے ۔ان کا ٹارگیٹ لوک سبھا میں جیت ضرور ہے مگر ان کا بڑا نشانہ اسمبلی چناﺅ میں کانگریس کی سرکار بنانے کا ہے ۔یہاں پر ہم فرنٹ فٹ پر کھیلیں گے بیک فٹ پر نہیں کھیلنے والے جب تک یہاں پارٹی کی آئیڈیا لوجی والی حکومت نہیں بنتی تب تک سندھیا جی پرینکا اور میں چین سے نہیں بیٹھیں گے ۔ہم اترپردیش میں نوجوانوں ،غریبوں ،اور کسانوں کی سرکار لائیں گے ۔راہل نے کہا کہ سپا چیف اکھلیش یادو کا ہم بہت سمان کرتے ہیں لیکن کانگریس پوری طاقت سے چناﺅ لڑئے گی اترپردیش کی سیاست میں پرینکا گاندھی کی دھماکے دار انٹری سے جہاں ٹھنڈے پڑے کانگریسی ورکروں میں نیا جوش آیا ہے وہیں سپا ،بسپا اتحاد بھی بیک فٹ پر آگیا ہے ۔ریاست کی سیاست میں فرنٹ فٹ پر کھیلنے کے کانگریس صدر راہل گاندھی کے بیانوں سے جہاں بھاجاکے حکمت سازوں کے چہروں پر پریشانی کی لکیریں کھنچنے کا کام کیا ہے وہیں ریاست کی سیاست کے دو دھرندر پارٹیوں کے اتحاد کی پیشانی پر بھی بل ڈال دیا ہے ۔ریاست میں مودی و شاہ کے وجے رتھ کو روکنے کے نام پر کانگریس تو اتحاد سے درکنار کرنے والی سپا بسپا کو تیزی سے بڑھت ہی سیاسی فضا میں چنتا ستانے لگی ہے کہ کہیں پرینکا فیکٹر ان کے گٹھ بندھن کی امیدوں پر پانی نہ پھیر دیں ۔نوجوانوں میں پرینکا کے جادو اور ان کی حکمت عملی سے ایک بات صاف ہے کہ اترپردیش کی سیاست میں ان کی موجودگی نہ صرف کانگریسی ورکروں میں سنجیونی کا کام کرئے گی بلکہ ایک بڑے ووٹ بینک کو کانگریس کی جھولی میں ڈالنے میں بھی مددگار ہوگی ۔اگر سپا ،بسپا اتحاد میں کانگریس کو قابل قدر سیٹیں نہ ملیں تو صوبے میں جو لڑائی دو پاریوں میں نظر آرہی تھی پرینکا کے آنے کے بعد وہ سہ رخی بن جائے گی ۔جس کا فائدہ سب سے زیادہ بی جے پی کو ہوگا لیکن تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ پرینکا کے لئے یوپی میں مشن 2019جیتنا آسان نہیں ہے چونکہ یوپی میں پچھلے 29برسوں سے کانگریس اقتدار سے باہر ہے کانگریس کے ریاست میں صرف دو ایم پی ہیں ایک ماں سونیا اور بیٹا راہل گاندھی 403ممبری اسمبلی میں پارٹی کے صرف سات ممبر اسمبلی ہیں 2009کے لوک سبھا چناﺅ (21سیٹیں(کے مقابلے 2014میں کانگریس 7.5ووٹوں کے ساتھ دو سیٹوں پر سمٹ گئی ہے ۔2017کے اسمبلی چناﺅ میں راہل نے سپا کے ساتھ چناﺅ لڑا لیکن سیٹیوں اور ووٹ فیصد دونوں ہی گر گئے ۔تصویر صاف ہے پرینکا کو یوپی میں کانگریس کو کھڑا کرنے کے لئے کرشما ہی دکھانا ہوگا ورنہ یوپی کے بھروسے بھائی کی راہ آسان نہیں ہونے والی ہے ۔راجیو گاندھی کے سرکار میں دیش میں کمنیوکیشن انقلاب لانے والے وزیر سیم پترودا حالانکہ دعوی کر رہے ہیں کہ بھائی بہن کی جوڑی لوک سبھا چناﺅ میں پارٹی کے لئے پانسہ پلٹنے والی ثابت ہوگی ۔کیونکہ دیش کو نوجوان ٹیم کی ضرورت ہے بہرحال فی الحال تو کانگریس کے لئے سب سے بڑی چنوتی بوتھ سطح پر پارٹی کو کھڑا کرنے کی ہوگی ۔کیونکہ کئی ضلعوں میں تنظیم صرف کاغذوں پر چل رہی ہے ۔اور اسے نئی شکل دینے کے لئے با مشکل تین مہینے ہی مل پائیں گے ۔دیکھیں پرینکا فیکٹر اترپردیش کی سیاست میں کیا اثر دکھاتا ہے ۔

(انل نریندر)

13 فروری 2019

موت کے یہ ناجائز شراب کے ٹھیکے

 اترپردیش اور اتراکھنڈ میں زہریلی شراب نے ایک بار پھر کھلبلی مچا دی ہے ان دونوں ریاستوں میں پچھلے کئی دنوں میں اب تک100سے زائد لوگوں کی موت ہو چکی ہے ۔زہریلی شراب سے اکیلے سہانپور میں 35اور علاج کے دوران میرٹھ میں 18موتیں ہریدوار میں 34کشی نگر میں 11لوگوں کے مرنے کی تصدیق ہوئی ہے ۔مرے زیادہ تر وہ لوگ ہیں جنہوںنے ہریدوار کے بالوپور گاﺅں میں ایک پروگرام کے دوران شراب پی تھی ۔اترپردیش حکومت نے لاپرواہی برتنے کے سبب سہانپور میں پولس اور محکمہ شراب کے 15ملازمین کو معطل کر دیا ہے ۔جبکہ کشی نگر میں 46پولس والوں کو لائن حاضر کیا ہے اتراکھنڈ سرکار نے بھی شراب محکمے کے تیرہ ملازمین اور چار پولس والوں کو معطل کرنے کا فرمان جاری کر دیا ہے ۔لاکھ کوششوں کے بعد بھی ناجائز شراب کے دھندھے پر لگام نہ لگ پانے سے ایک بار پھر یہ پتہ چلتا ہے کہ شراب بکری کے ناجائز کاروبار سے ریاستی حکومتیں آنکھیں بند کئے رہتی ہیں ۔اس سے بڑی بدقسمتی اور کوئی نہیں کہ زہریلی شراب سے درجنوں لوگ مارے جائیں اور پھر بھی پولس انتظامیہ یہ بتانے کی پوزیشن میں نہ ہو کہ کتنے لوگ کس کی لا پرواہی کے سبب موت کی آغوش میں چلے گئے؟سہانپور کانڈ میں مرنے والوں کی تعداد کو لے کر سنیچر کو دن بھر گہما گہمی رہی۔شام تک انتظامیہ نے مرنے والوں کی تعداد کو مبہم انداز میں پیش کر دیا ۔سوال یہ ہے کہ مرنے والوں کی فہرست بنانے میں جس میں 46اور 52بتائی گئی کیا یہ پولس اور انتظامیہ اس بارے میں چھپا رہی ہے ۔سنیچر کو سہانپور انتظامیہ کے ذریعہ مرنے والوں کی فہرست میں 46لوگوں کے نام دئے گئے تھے ان میں مرنے والے دیوبند تھانے کے تحت 8ناگل علاقہ اور 22گاگل ہیڑی میں 16بتائے گئے ہیں ۔یہ شراب بکری کی مشینری کے کمی کا نتیجہ ہے ۔جس کے چلتے ملاوٹی شراب کا دھندھہ بلا روک ٹوک پھلتا پھولتا ہے ۔اس طرح کے دھندھے میں ملوث لوگ جب جب زیادہ کمائی کے لالچ میں آتے ہیں تب تب لاکھوں کے ڈھیر لگ جاتے ہیں ۔اترپردیش اتراکھنڈ دونوں ہی ریاستوں میں ناجائز شراب کا دھندھہ من مانی طریقہ سے چل رہا ہے ۔ریاستی حکومتوں میں ناجائز شراب کے دھندے کو نہ روک پانے کی بڑی وجہ ہے سیاسی و انتظامی قوطیں کی کمی یہی وجہ ہے کہ دیش کے کسی نہ کسی حصہ سے زہریلی شراب سے ہوئی موتوں کی خبریں آتی رہتی ہیں ۔اس طرح سے شراب بنانے ،بیچنے کا دھندھہ تب تک بند نہیں ہونے والا جب تک اس دھندھے کے بنیادی اسباب کا ازالہ نہیں کیا جائے گا ۔آخر یہ سمجھنا مشکل ہے کہ آخر موت کے اس دھندھے کو بند کرنے میں کوتاہی کا ثبوت کیوں دیا جاتا ہے ۔اترپردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے پردیش میں کچی شراب سے ہوئی موتوں پر سپا کی سازش پر اندیشہ ظاہر کیا ہے ۔انہوںنے کہا کہ ماضی میں بارہ بنکی ،ہردوئی ،اعظم گڑھ ،کانپور میں جیسی سازش ہوئی تھی ویسا ہوا تو اسے انجام دینے والے افراد کے خلاف سخت کارروائی ہوگی ۔دکھ سے کہنا پڑتا ہے تمام یقین دہانیوں کے باوجود ایسی موتوں پر روک لگے ہمیں نہیں لگتا کہ یہ سلسلہ بد قسمتی سے چلتا رہے گا ۔

(انل نریندر)

ممبراسمبلی کا قتل اندرونی سازش کی وجہ سے یا پھر ...؟

مغربی بنگال کے ندیہ ضلع میں ترنمول کانگریس کے ممبر اسمبلی ستیہ جیت وسواس کے قتل کا معاملہ سیاسی جنگ میں تبدیل ہوتا جا رہا ہے ٹی ایم سی ایم ایل اے کے قتل میں بی جے پی نیتا مکل رائے سمیت چار افراد کے خلاف معاملہ درج کیا گیا ہے ۔پولس کا کہنا ہے کہ دو افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ دو حراست میں لیا گیا ہے ۔ایک ملزم کے بنگلہ دیش فرار ہونے کا بھی اندیشہ چونکہ ندیہ ضلع کی سرحد بنگلہ دیش سے لگی ہوئی ہے ۔ہنس کھلی پولس اسٹیشن کے انچارج کو معطل کر دیا گیا ہے ۔کرشن گنج کے ممبر اسمبلی 41سالہ وسواس سنیچر کی شام ضلع کے پھول واڑی علاقہ میں گولی مارے سے ہلاک ہو گئے تھے ریاست کے وزیر جیل اوجول وشواس نے ممبر اسمبلی کے قتل کے لئے وزیر اعظم نریندر مودی اور بی جے پی کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے ۔ان کا کہنا ہے کہ وشواس ملوا فرقہ سے وابسطہ تھے جس کا بنگال میں اچھا اثر ہے ۔اس فرقہ کی تقریبا 30لاکھ آبادی کو بی جے پی اپنی طرف کھینچنا چاہتی ہے نارتھ اور ساﺅتھ 24پرگنہ کی پانچ لوک سبھا سیٹوں پر بھی اس کا خاصہ اثر ہے ٹی ایم سی ممبر اسمبلی کا قتل کا ایسے وقت ہوا ہے جب لوک سبھا چناﺅ کو لے کر ریاست میں پہلے سے ہی بی جے پی اور ٹی ایم سی کے درمیان سیاسی ٹکراﺅ بنا ہوا ہے ۔بی جے پی نیتا مکل رائے نے کہا کہ ایف آئی آر میں نام جوڑنے کا فیصلہ سیاسی ہے ۔ممبراسمبلی کے قتل کی وجہ ٹی ایم سی کے اندرونی لڑائی ہو سکتی ہے ۔وہیں بی جے پی پردیش صدر دلیب گھوش نے قتل کی سی بی آئی سے جانچ کی مانگ کی ہے ۔ویسے شاہر عام ایک پروگرام جس میں ریاست کی ایک وزیر بھی موجود رہے ایسے میں حکمراں ٹی ایم سی پارٹی کے ممبرا سمبلی کا قتل ہو جانا اندیشات کو پیدا کرنے والا ہے ۔سرکاری حکمراں فریق کا ممبرا سمبلی محفوظ نہیں تو پھر دوسرے کیسے محفوظ ہوں گے ؟اس کی امید کہاں سے کیسے کی جا سکتی ہے ؟پھول واڑی علاقہ میں سرسوتی پوجا پنڈال میں پروگرام چل رہا تھا ۔بھاری تعداد میں لوگ موجود تھے اس میں نقاب پوش بائک سوار گھسے اور سیدھے ممبر اسمبلی کو گولی مار کر بھاگ جائیں ایک دم ایسا یقین کر نا مشکل ہے ایسے میں پروگراموں میں عام طور پر پولس کی سخت چوکسی ہوتی ہے ۔یہ عجب ہے کہ قاتلوں نے قتل میں استعمال ریوالور بھی کچھ دوری پر پھینک دیا ۔بدمعاش واردات کرنے کے بعد اپنا کوئی نشان نہیں چھوڑتا یہاں الٹی پوزیشن ہے ۔پانچ لوگوں کے خلاف ایف آئی آر میں مکل رائے کا نام ترنمول کے نیتاﺅں کے کہنے پر شامل کیا گیا ہے ۔مکل کا نام ڈالنے کے باوجودان کے خلاف پولس کوئی ثبوت نہیں دے پائی ۔جس طرح کسی بھی فریق کو سیاسی قتل نامنظور ہے اسی طرح اپوزیشن پارٹی کے نیتا کو بغیر ثبوت گھسیٹنا بھی ۔ایک نوجوان ممبرا سمبلی کا قتل ظاہر کرتا ہے کہ مغربی بنگال میں قانون اور نظم کی اصلی صورت حال کیا ہے ۔آخر کیوں مغربی بنگال سیاسی قتلوں کا مرکز بنا ہوا ہے کیا ممتا اپنے پولس کمشنر کی سی بی آئی سے پوچھ تاچھ پر ناراض ہونے کے سبب بی جے پی سے بدلہ لینے کے لئے اس قتل میں مکل رائے کا نام شامل تو نہیں کر رہی ہیں ؟مکل رائے اندرونی سیاست کا شکار ہوئے یا کسی اور سازش کے شاید ہی اس کا پتہ چلے ؟

(انل نریندر)

12 فروری 2019

مورتیوں پر عدالتی ریمارکس سے مایاوتی کی مشکلیں بڑھیں

لوک سبھا چناﺅ سے ٹھیک پہلے سپریم کورٹ کے ذریعہ بہوجن سماج پارٹی (بسپا )سرکار میں بنی یادگاروں میں لگی مورتیوں پر ہوئے خرچ کو سرکاری خزانے میں جمع کرانے کے ریمارکس نے بسپا صدر مایاوتی کے پی ایم بننے کے خواب پر مشکلیں کھڑی ہو گئی ہیں بسپا حکومت میں لکھنﺅ ،نوئیڈا،گریٹر نوئیڈا میں بنے اسمارکوں میں مایا وتی ،ڈاکٹر امبیڈکر ،کاشی رام،اور بسپا کے چناﺅ نشان سے ملتی بڑی تعداد میں مورتیاں لگائی گئی ہیں ۔ان مورتیوں لگانے پر 5919کروڑ روپئے خرچ ہوئے تھے سپریم کورٹ اس اشو پر 2009میں ایک شخص روی کانت کی دائر کردہ عرضی پر سماعت کر رہا تھا جمع کو سپریم کورٹ کے چیف جسٹس رنجن گگوئی ،جسٹس دیپک گپتا،اور جسٹس کھنہ نے سماعت کے دوران کہا کہ ہمارا یسا نظریہ ہے کہ مایا وتی کو اپنی اور اپنی پارٹی کے چناﺅ نشان کی مورتیاں بنوانے پر خرچ ہوا سرکاری پیسہ سرکاری خزانے میں واپس جمع کرانا ہوگا اتنا ہی نہیں جج صاحبان نے مایاوتی کے وکیل ستیش چندر مشرا کے ذریعہ معاملے کی اگلی سماعت 2019کے بعد کرنے کی درخواست کو خارج کر دیا اور کہا کہ وہ اگلی سماعت 2اپریل کو ہوگی ۔سپریم کورٹ نے ستیش مشرا کو کہا کہ آپ اپنی کلائنٹ کو بتا دیں کہ انہیں مورتیوں پر خرچ پیسے کو پردیش کے سرکاری خزانے میں واپس کر کے جمع کرانا چاہیے ۔چیف جسٹس رنجن گگوئی نے مشرا سے کہا کہ ہمار اپہلا نظریہ ہے کہ میڈم مایا وتی کو مورتیوں کا سارا پیسہ اپنی جیب سے ادا کرنا چاہیے ۔ہمیں کچھ اور کہنے کے لئے مجبور نہ کریں ۔بڑی عدات کا یہ ریمارکس تمام سیاسی پارٹیوں کے لئے سبق بن سکتا ہے ۔آخر ہر سرکار اپنی پارٹی کے ہیرو اور نیتاﺅں اور ان کی مورتیاں لگانے کی دوڑ میں رہتی ہیں ۔اس سے کوئی پارٹی چھوٹی نہیں ہے ۔اپنی سرکار میں اپنے حساب سے مورتیاں لگوانے کا سلسلہ بہرحال کوئی نئی بات نہیں ہے ۔بلکہ آزادی کے بعد سے ہی یہ سلسلہ شروع ہو گیا تھا ۔اس دور میں گاندھی جی کی مورتیاں زیادہ لگائی گئیں تھیں ۔بد قسمتی یہ بھی ہے کہ ہر سرکار زور شور سے یہ کام کرتی ہے لیکن جب وہ اپوزیشن میں ہوتی ہے تو س کام کی مخالفت کرتی ہے ۔بتا دیں کہ وزیر اعلیٰ مایاوتی کے بنوائے اسمارکوں میں لگی مورتیوں ہاتھیوں اور پارکوں کی مرمت پر ہی پچھلے پانچ برسوں میں تیس کروڑ روپئے خرچ ہوئے ہیں ۔سپا حکومت میں جہاں اسمارکوں و مورتیاں بد حالی میں تھیں وہیں 2007میں بھاجپا سرکار بننے کے بعد ان کے رکھ رکھاﺅ کا کام شروع ہوا اسمارکوں کی دیکھ ریکھ کے لئے سابق وزیر اعلیٰ مایاوتی نے قریب سو کروڑ روپئے کا الگ فنڈ بنایا تھا ۔اسکے سود سے اسمارکوں کی دیکھ بھال کئے جانے کی سہولت تھی لیکن سال 2012میں اکھلیش یادو کے وزیر اعلیٰ بننے کے بعد اسمارکوں کی رکھ رکھاﺅ کا بجٹ روک دیا گیا تھا ۔ہمار خیال ہے کہ عام شہریوں کا پیسہ ترقیاتی کاموں کے علاوہ اور کہیں خرچ نہیں ہونا چاہیے ۔اگر وہ خرچ ہوتا ہے تو یہ ایک اخلاقی جرم ہے اپنے دیش کا عام آدمی اچھی حالت میں نہیں ہے ،سڑک ،بجلی ،پانی،ٹریفک،ہیلتھ اور ڈھانچ بندی پر ابھی یوپی میں بہت کام ہونا باقی ہے عام آدمی کے لئے اب بھی اپنا علاج کرا پانا آسان نہیں ہے جمع کو اپنے فیصلے میں چیف جسٹس رنجن گگوئی کی بنچ سے یہ بھی کہا کہ اسمارکوں پر خرچ ہوا پیسہ سرکاری خزانے میں لوٹانا چاہیے ۔یہ صرف ان کا نظریہ ہے ،ابھی حکم نہیں دیا جا رہا ہے ۔

(انل نریندر)

رافیل پر نئے انکشاف سے تکرار بڑھی

فرانس سے رافیل جنگی جہازوں کے سودے کو لے کر وزیر اعظم نریندر مودی پر مسلسل حملے کر رہی کانگریس کو اس وقت نیا ہتھیار مل گیا جب وزارت دفاع کے ایک نوٹ کے حوالے سے میڈیا رپورٹ میں یہ الزام لگایا گیا کہ وزیر اعظم کے دفتر (پی ایم او)فرانس کے ساتھ مسلسل بات چیت کر رہا تھا اور اس سے دفینس وزارت اور ہندوستانی مذاکرات کاروں کا موقوف کمزور ہو گیا تھا میڈیا میں تازہ انکشاف میں دعوی کیا گیا ہے کہ فرانس سے رافیل جنگی جہاز سودے کو فائنل کرنے میں پی ایم او نے مداخلت کی تھی ۔کانگریس صدر راہل گاندھی نے کہا کہ اس نوٹ سے صاف ہے کہ وزیر اعظم نے رافیل سودے میں بچولیے کا کام کر کے وزارت دفاع کا موقوف کمزور کیا اور اپنے دوست انل امبانی کو ٹھیکا دلوایا میں یہ کہنے پر مجبور ہوں کہ وزیر اعظم چور ہیں ۔راہل نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ آپ (نریندر مودی )رابرٹ واڈرا ،چتمبرم یا کسی اور کے خلاف قانونی کارروائی چلانا چاہتے ہیں تو چلائیے ۔لیکن رافیل سودے پر جواب دیجئے ۔اپوزیشن پارٹیوں نے بھی لوک سبھا میں یہ اشو اُٹھاتے ہوئے جے پی سی سے جانچ کرانے اور پی ایم کے اسعفیٰ کی مانگ کی تھی ۔حکومت کی جانب سے جواب دیتے ہوئے وزیر دفاع نرملا سیتا رمن نے جواب میں کہا کہ یہ گڑے مردے اکھاڑنے جیسا ہے پی ایم او کے ذریعہ معاملوں کی جانکاری لینے کو دخل اندازی نہیں کہا جا سکتا ۔وزیر دفاع نے اخبار کی رپورٹ کو یک طرفہ بتایا۔وزیر دفاع نے مزید کہا کہ نہ تو اخبار اور نہ ہی اپوزیشن نے نوٹ کے نیچے لکھے اس ریمارکس کو بتایا جس میں طبقہ وزیر دفاع منوہر پاریکر نے ایسے اندیشات کو بے فضول رد عمل بتایا تھا ۔انگریزی اخبار دی ہندو میں شائع ایک رپورٹ میں وزارت دفاع میں ڈپٹی سیکریٹری ایس کے شرما نے 24نومبر2015کو یہ نوٹ لکھا تھا جس میں بیان کیا گیا تھا کہ رافیل پر پی ایم او کی برابر بات چیت سے وزارت دفاع اور مذاکرات کاروں کی ہندوستانی ٹیم کا موقوف کمزور ہو ا ہے ۔ہمیں پی ایم او سے ایسا نہ کرنے کو کہنا چاہیے ۔دعوی کیا گیا ہے کہ 24نومبر2015کے اس نوٹ میں پی ایم او کی جانب سے بات چیت پر غیر رضامندی ظاہر کی گئی کہا گیا ہے کہ پی ایم او کے جو افسر فرانس سے بات چیت ٹیم میں شامل نہیں ہیں انہیں فرانس سرکار کے افسروں سے برابر بات چیت نہیں کرنی چاہیے ۔حالانکہ اس وقت کے وزیر دفاع منوہر پاریکر نے اس اعتراض کو ضروری بتایا تھا راہل گاندھی نے جو دستاویز پیش کئے ہیں ان کے جواز پر کوئی شبہ نہیں ۔بیشک حکومت اپنے بچاﺅ میں کوئی بھی دلیل دے لیکن سوال تو یہ ہے کہ اس پورے معاملے کا بھارت کی عوام پر کیا اثر ہوگا؟در اصل کانگریس کی پوری کوشش یہ ثابت کرنے کی ہے کہ سودے میں کرپشن ہوا ہے انل امبانی کو سودا دلانے میں وزیر اعظم کا سیدھا ہاتھ ہے ۔وزیر اعظم کی صاف ستھری بے داغ ساکھ کو غلط ثابت کرنے کے لئے یہ کوشش ہو رہی ہے ۔کانگریس نے طے کر لیا ہے کہ وہ لوک سبھا چناﺅ میں یہ اپنے اہم اشوز میں سے رافیل سودے کو بھی بنائے رکھے گی ۔لگتا تو یہ ہے کہ نوٹ اشارہ کرتا ہے کہ اس وقت کے وزیر دفاع منوہر پاریکر اور وزارت دفاع دونوں ہی رافیل سودے میں قطعی بات چیت یا سمجھوتے کی کوئی جانکاری نہیں تھی ۔فائنل شرطیں پی ایم نے خود طے کی تھیں ۔

(انل نریندر)

10 فروری 2019

بھاجپا کے 80موجودہ ایم پی کا ٹکٹخطرے میں

مشن 2019کے چکر کو بھانپ کر پھر سے 2014کی طرز پر بھاجپا کو فتح دلانے کے فارمولے پر وزیر اعظم نریندر مودی اور پارٹی صدر امت شاہ نے جائزہ لینا شروع کر دیا ہے ۔امت شاہ نے جمعرات کو اس سلسلے میں دہلی کے ممبران پارلیمنٹ کی کاررکردگی کی رپورٹ لی ہے ۔ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ امت شاہ نے بھاجپا پردیش صدر تنظیمی سیکریٹری پردیش انچارج ،مختلف مورچوں کے چیر مینوں سے بات کر ممبران پارلیمنٹ کے کام کاج کا جائزہ بھی لیا ۔پردیش بھاجپا صدر منوج تیواری نے امت شاہ کو بتایا کہ 12فروری سے 22فروری تک پوری دہلی میں پانچ لاکھ گھروں پر بھاجپا کا جھنڈا لہرانے کی تیاری کی جا رہی ہے ۔اس کے بعد 26فروری کو کمل جوتی پروگرام کیا جائے گا ۔جس میں دہلی کے لاکھوں گھروں میں جا کر بھاجپا ورکر ایک دیپک جلائیں گے اور لوگوں کو مرکزی سرکار کی چار برسوں کے کام کاج کو بتائیں گے 28فروری کو وزیر اعظم نریندر مودی دہلی میں بوتھ سطح کے ورکروں سے سیدھی بات چیت بھی کریں گے اور اس پروگرام کو ''میر ابوتھ سب سے مضبوط''کا نام دیا گیا ہے ۔ذرایع کا کہنا ہے کہ سنگھ سے رائے مشورہ کرنے کے ساتھ منتھن کر کے جیتنے والوں کو ہی ٹکٹ دیا جائے گا ۔یہ پیمانہ دہلی سمیت سبھی ریاستوں پر لاگو ہوگا ۔اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ موجودہ ممبران پارلیمنٹ میں 80ایسے چہرے ہیں جن کا ریکارڈ خطرے میں ہے اور ٹکٹ بھی اترپردیش ،راجستھان،مدھیہ پردیش،چتھیس گڑھ میں امیدواروں کی سی آر رپورٹ کا جائزہ لیا جا رہا ہے ۔دہلی میں بھی سب کچھ ٹھیک ٹھا ک نہیں جبکہ ہریانہ میں پہلی بار کمل کھلنے سے جہاں سی ایم کھٹر کو آکسیجن ملی ہے وہیں ہریانہ کے ممبران پارلیمنٹ کا حساب کتاب بھی اچھا رہا ۔اس درمیان بحث چھڑی ہے کہ سابق نائب وزیر اعظم لال کرشن اڈوانی ایم پی و سابق وزیر اعلیٰ شانتا کمار و ڈاکٹر مرلی منوہر جوشی ،کلراج مشرا،سمیت عمر دراز موجودہ ممبران پارلیمنٹ کو پھر سے ٹکٹ دیا جا سکتا ہے ۔ان کے تجربے کا بھاجپا فائدہ اُٹھانا چاہتی ہے پھر یہ بھی ترجیح رہے گی کہ کون سی سیٹ کون نکال سکتا ہے 2019کے لوک سبھا چناﺅ میں ہر سیٹ کی اہمیت ہوگی ۔مختلف ٹی وی چینلوں کے سروے میں یہ صاف اشارے ہیں کہ بھاجپا کی اس بار سیٹیں کم ہوں گی اس لئے کون امیدوار اپنے دم خم پر سیٹ نکال سکتا ہے یہ دیکھنا ضروری ہو گیا ہے ۔واجپائی کے عہد تک اسٹار کمپینر رہے ایم پی و فلم اداکار شتر گھن سنہا کا اس مرتبہ پتہ کٹے گا ۔بات تو یہ گرم ہے کہ راجستھان کی سابق وزیر اعلی وسندھرا راجے شیوراج سنگھ ،اور ڈاکٹر رمن سنگھ ،کو بھی لوک سبھا چناﺅ میں اتارا جا سکتا ہے ۔ان ریاستوں میں بھی چھٹائی کی تجویز ہے جبکہ اترپردیش میں موجودہ ممبران پارلیمنٹ کے مقابلے میں پارٹی نئے چہروں کو میدان میں اتارنے پر غور کر رہی ہے ۔اس درمیان یہ بھی خبر ہے کہ بہار کے ایم پی و کرکٹر کیرتی آزاد کا ٹکٹ بھی خطرے میں ہے مرکزی وزیر ارون جیٹلی کے سامنے سیاست کی پچ پر ہٹ وکٹ ہوئے کیرتی آزاد بارہ فروری کو کانگریس میں شامل ہو سکتے ہیں ۔کل ملا کر دہلی میں ممبران پارلیمنٹ کی رپورٹ بھی زیادہ اچھی نہیں ہے ممکن ہے یہاں نئے امیدوار اتارے جا سکتے ہیں ۔بھارتیہ جنتا پارٹی کے لئے 2019لوک سبھا چناﺅ زندگی اور موت کا سوال ہے اس لئے پارٹی لیڈر شپ پاﺅں پھونک پھونک کر ہی قدم بڑھائے گی ۔

(انل نریندر)

دہلی کی تنگ گلیوں میںپہنچے گی بائک ایمبولینس

راجدھانی کی تنگ گلیوں اور جام کے درمیان اب امرجنسی میں اسپتال پہنچنے سے پہلے سے ہی کیٹس بائک ایمبولینس کی شروعات کر کے دہلی حکومت نے وہ کمی پوری کر دی ہے جس کی بہت ضرورت تھی ہم اس قدم کا خیر مقدم کرتے ہیں ۔وزیر اعلیٰ اروند کجریوال نے پائلٹ پروجکٹ کے طور پر سولہ بائک ایمبولینس کو دہلی سچیوالیہ سے ہر ی جھنڈی دکھا کر روانہ کیا سرکار نے اس بائک ایمبولینس کو فرسٹ ریسپانڈر ویکل (ایف آر وی)کا نام دیا ہے یہ بائک ایمبولینس ضرورت مندوں کو نہ صرف اسپتال پہنچانے کا کام ہی نہیں کرئے گی بلکہ ایمرجنسی کی صورت میں اسپتال لے جانے کے لئے ایمبولینس آنے تک موقع پر ہی ابتدائی طبی علاج بھی موقع پر ہی دستیاب کرائے گی ۔سبھی بائک ایمبولینس میں جی پی ایس لگا ہے جس سے ان کی لوکیشن سینٹرل کنٹرول روم کو پتہ لگتی رہے گی ۔اس اسیکم کے لئے چالیس لاکھ روپئے پاس کئے گئے ۔لیکن دہلی سرکار نے اسے صرف 23لاکھ روپئے میں ہی پورا کر دیا ۔بائک ایمبولینس سڑک حادثوں کی وجہ سے جان گنوانے والوں کی تعداد کم کرنے میں کارگر ثابت ہو سکتی ہے ۔اکثر دیکھا گیا ہے کہ سڑک حادثے کے بعد زخمی شخص موقع پر تڑپ تڑپ پر موقع پر ہی دم توڑ دیتا ہے۔کیونکہ اسے موقع پر مدد نہیں مل پاتی اور اسپتال لے جاتے لے جاتے بہت دیر ہو جاتی ہے ۔ماہرین کے مطابق کسی بھی سڑک حادثے کے بعد زخمی شخص کے لئے اگلے ساٹھ منٹ کا وقت گولڈن آورکہلاتا ہے ۔دہلی میں کئی بار جام کے چلتے عام ایمبولینس موقع پر نہیں پہنچ پاتی ہے ۔ایسے میں دہلی سرکار کی بائک ایمبولینس کے جام کے درمیان چھوٹی گاڑی ہونے کے سبب جلدی پہنچ کر ابتدائی علاج شروع کرا سکتی ہے ۔اس سے حادثے میں زخمی لوگوں کی جان بچانے میں مدد ملے گی ۔بائک ایمبولینس کی سہولت پانے کے لئے بھی 102نمبر پر ہی کال کرنی ہوگی اور جگہ نشان دہی کرنے کے بعد سہولت دستیاب کرائی جائے گی ۔فی الحال یہ سہولت صرف دن میں ہی دستیاب ہوگی ۔اس بائک ایمبولینس میں آکسیجن سلینڈر ،پرائمری ہیلتھ کٹ،ائیر اسپلٹس ،ایمبو بیگ،گلوکو میٹر ،وغیر ہ ہیلتھ کے سازو سامان موجود ہوں گے ۔جس پر ایک پورٹیبل ٹرانسفر سیٹ ہوگی ۔جس پر مریض کو لٹایا جاتا ہے ۔دستیاب ہوں گی ۔دہلی کے یمنا پار علاقہ کے ساتھ دوسرے علاقوں غیر منظور کالونیوں کی تنگ گلیوں میں بڑی تعداد میں لوگ رہتے ہیں یہاں قبضوں کے سبب چار پہیوں والی گاڑی گلیوں میں نہیں جا پاتی ایسے میں ایمرجنسی میں لوگوں کو ان کے گھر پر دستیاب کرانا انتہائی مشکل کام ہے ۔جمنا پار کے للتا پارک جیسے علاقوں میں عمارت ڈھنے یا کرول باغ کے بیدن پورا ،غیر منظور صنعتی کارخانے میں آگ لگنے کے واقعات پر یہاں ایمبولینس تک نہیں پہنچ پاتی کیٹس ایمبولینس کی مدد سے گنجان گلیوں میں عمارت ڈھنے یا آگ لگنے جیسی ایمرجنسی کی حالت میں بائک ایمولینس لوگوں کی جان بچانے میں مددگار ثابت ہوگی ۔ہم اس اسیکم کا خیر مقدم کرتے ہیں ۔

(انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...