Translater
07 فروری 2026
ٹریڈ ڈیل میں زراعت سیکٹر پر تنازعہ!
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت اور امریکہ کے درمیان ہوئی ٹریڈ ڈیل پر اتفاق رائے بننے اور ساتھ ہی بھارت پر امریکی ٹیرف کو کم کرتے ہوئے 18 فیصد کرنے کی جانکاری دی ۔حالانکہ اس ٹریڈ ڈیل کی مفصل معلومات آنا ابھی باقی ہیں ۔لیکن وزیراعظم نریندر مودی سمیت بھارت سرکار کے کئی وزراء نے اسے ایک بڑا کارنامہ بتایاہے لیکن اپوزیشن لیڈران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس ٹریڈ ڈیل میں کسانوں اور ڈیری سیکٹر کے مفادات کو نظر انداز کیا گیا ہے اس کا جواب دیتے ہوئے وزیر تجارت و صنعت پیوش گوئل نے پارلیمنٹ میں کہا کہ بھارت نے اپنے ایگریکلچر اور ڈیری سیکٹروں کے مفادات کے ساتھ کوئی سمجھوتہ نہیں کیا گیا ہے ۔گوئل نے کہا کہ ٹریڈ ڈیل پر آخری دور کی بات چیت میں تفصیلات طے کی جارہی ہیں اور بہت جلد بھارت اور امریکہ کی جانب سے اس پر ایک مشترکہ بیان جاری کیا جائے گا ۔ٹرمپ نے دوسری جانب اس کی سوشل میڈیاپر جو جانکاری دی اس میں کہا گیا ہے کہ بھارت امریکی سامانوں پر ٹیرف اور نان ٹیرف بیریئرس کو زیرو کرے گا۔ انہوں نے آگے کہا کہ وزیراعظم مودی نے امریکہ سے زیادہ خرید پر رضامندی جتائی ہے ۔جس میں 500 ارب ڈالر سے زیادہ کی امریکی اینرجی ، ٹیکنالوجی ،زراعت ،کوئلہ اور دیگر چیزوں کی خرید شامل ہے ۔اس کے بعد امریکی وزیر زراعت بروک رولنس نے بھی ا س ڈیل کو امریکی کسانوں کے لئے فائدہ مند بتاتے ہوئے کہا کہ امریکی زرعی چیزوں کے بھارت کے وسیع بازار تک پہنچ بڑھنے اور اس سے 1.3 ارب ڈالر کے بھارت کے ساتھ امریکی زرعی تجارت خسارے کو کم کرنے میں مدد ملے گی ۔بھارت کی تشویشات پر اگر ہم نظر ڈالیں تو ایک رپورٹ کے مطابق ، بھارت میں کھیتی سے دیش کی آدھی آبادی یعنی 70 کروڑ لوگوں کا کھان پان ہورہا ہے اور یہ سیکٹر بھارت کی ریڑھ کی ہڈی بنا ہوا ہے ۔کھیتی بھارت کے قریب آدھے کام گاروں کو روزگار دیتی ہے ۔امریکہ کئی برسوں سے بھارت پر زراعت سیکٹر کی تجارت کھولنے کے لئے دباؤبنا رہا ہے ۔بھارت غذائی سیکورٹی ، گزر بسر اور لاکھوں کسانوں کے مفاد کا حوالہ دے کر اس سے بچتا رہا ہے ۔بھارت اور امریکہ کے درمیان زرعی تجارت 8 ارب ڈالر کی ہے جس میں بھارت چاول ،جھینگا مچھلی ،مسالے ایکسپورٹ کرتا ہے اور امریکہ میوے ، اور اخروٹ اور دالیں بھیجتا ہے ۔امریکہ ان اپنے 45 ارب ڈالر کے تجارت خسارے کو کم کرنے کے لئے مکّا ، سویا بین اور کپاس کے بڑی زرعی ایکسپورٹ کے لئے دروازے کھولے جانے کی بھی مانگ کرتا رہا ہے ۔ماہرین کو ڈر ہے کہ ٹیرف رعایتوں کو لے کر بھارت کو اپنے کم از کم ایم ایس پی اور عام خرید کو کم کرنے کے لئے دباؤ ڈال سکتی ہے ۔یہ دونوں ہندوستانی کسانوں کے اہم کوچ ہیں ، جو انہیں اپنی فصلوں کے مناسب دام کی گارنٹی دے کر انہیں قیمتوں میں اچانک کمی سے بچاتی ہے اور اناج خرید کو یقینی کرتی ہے ۔دلچسپ بات یہ ہے کہ بھارت نیتی آیوگ کے ایک تازہ دستاویز میں مجوزہ بھارت امریکہ تجارت معاہدے کے تحت چاول ، ڈیری ،مرغی پالن ،مکّا ،سیب ،بادام اور جی ایم سویا سمیت امریکی زرعی درآمدات پر ٹیرف کٹوتی کی سفارش کی گئی ہے ۔اس ٹریڈ ڈیل میں کیا کیا شرطیں ہیں یا کیا کچھ امریکہ نے مانگا ہے یا ہم نے قبول کیا ہے اسے صاف کرنا چاہیے ۔کیا بھارت سرکار نے زراعت ،ڈیری سیکٹر کے دروازے بھی کھول دئیے ہیں ۔
(انل نریندر)
06 فروری 2026
منی کارنیکا گھاٹ پر اہلیابائی کی مورتی کو لے کر تنازعہ
اتر پردیش کا وارانسی شہر پچھلے کچھ دنوں سے سرخیوں میں بنا ہوا ہے۔ ہندوؤں کی دھارمک نگری کی شکل میں مشہور وارانسی وزیراعظم نریندر مودی کا پارلیمانی حلقہ بھی ہے۔وہ 2024 کے لوک سبھا چناؤ میں یہاں سے تیسری بار منتخب ہوئے ہیں ۔وزیراعظم کا پارلیمانی حلقہ ہونے کی وجہ سے وارانسی میں ترقی کے کئی پروجیکٹ چل رہے ہیں ۔اسی کڑی میں تاریخی منی کارنیکا گھاٹ کی بھی تزئین کاری کی جارہی ہے ۔کچھ مقامی لوگوں کا کہنا ہے اس کے لئے پہلے پرانے ڈھانچے کو توڑا گیا ہے اس توڑ پھوڑ کو لے کر مقامی لوگ ناراض بھی ہیں ۔کاشی کے پال سماج کے صدر مہندر پال کہتےہیں کہ جب مورتی توڑی گئیں تو انہوں نے احتجاج کیا تھا ۔کئی لوگوں کا الزام ہے کہ وہاں موجود اندور کے سابق شاہی گھرانے کی اہلیہ بائی ہولکر کی مورتی بھی ٹوٹ گئی ہے ۔لیکن وارانسی کے میئر اشوک تیواری اس سے صاف انکار کرتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ مورتی محفوظ رکھی گئی ہے ، جس کے بعد اس کو لگا دیاجائے گا۔ اہلیہ بائی ہولکر کی مورتی ٹوٹنے کے دعوؤں کے بعد وہاں احتجاجی مظاہرے بھی ہوئے ۔پولیس نے اس معاملے میں کئی لوگوں کو حراست میں بھی لیا ۔احتجاجی مظاہرے میں شامل کاشی کے پال سماج کے صدر مہندر پال کہتے ہیں ،اہلیہ بائی ہولکر ہم لوگوں کی آبائی نژاد رہی ہیں ۔اور وہ پال سماج کی خاتون تھیں انہوںنے دعویٰ کیا کہ ہم لوگ موقع پر پہنچے تھے اور توڑ پھوڑ دیکھی تھی ۔جے سی بی لگاکر مورتی کو توڑا جارہا تھا اس لئے جب ان کی مورتی توڑی گئی تو ہم نے احتجاج کیا ۔لیکن پولیس نے ہمیں وہاں جانے نہیں دیا ۔ویسے تو وارانسی میں 80 سےزیادہ گھاٹ ہیں لیکن منی کارنیکا گھاٹ کو دھارمک شکل سے انتہائی اہم ترین ماناجاتا ہے ۔اسی گھاٹ کی تزئین کاری کے لئے کام شروع ہوا ہے ۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ تزئین کاری کے نام پر قدیم روایتوں اور شکلوں سے چھیڑ چھاڑ کی جارہی ہے ۔اجے شرما کاشی میں مورتیوں کو لگانے کا کام کرتے ہیں ۔انہوں نے بی بی سی سے بات چیت میں بتایا جہاں جو ٹوٹی ہے وہ منی ٹوٹی ہے ۔میرا احتجاج قدیم وراثتوں کے تحفظ کے لئے ہے۔ اور وکاس کا کوئی احتجاج نہیں ہے ۔تزئین کاری اور خوبصورت شکل دینے کا بھی یہاں کوئی شخص مخالفت نہیں کرتا ۔اجے شرما کہتے ہیں اہلیہ وائی کی جو مورتی تھی یا گنیش جی کی مورتی تھی یا گنگا سوروپ کی جو مورتی تھی وہ ٹوٹی ہوئی نہیں ہے ۔لیکن وارانسی کے میئر اشوک تیواری نے سبھی الزامات کی تردید کی ہے ۔ان کا کہنا ہے کہ سبھی مورتیاں محفوظ کی گئی ہیں اور گھاٹ کے وکاس کے بعد انہیں لگا دیا جا ئے گا ۔انہوں نے کہا کہ اسے جدید ترین سہولیات سے آراستہ کیا جاسکے ۔اس کے تحت خاص کر برسات کے موسم میں شوداہ میں آسانی ہوگی ۔اشوک تیواری نے بتایا انتم سنسکار کے لئے جانے والے لوگوں کے لئے اپروچ ریمپ ، ریمپ رجسٹریشن ،دفتر اور صاف پانی پینے کا انتظام بھی کیا جائے گا ۔اشوک تیواری کا دعویٰ ہے کہ یہ کام دو م راجہ کے کہنے پر ہی وزیراعظم نے شروع کرایا ہے ۔حالانکہ اس تنازعہ کے درمیان پھر وکاس کا کام جاری ہے ۔اس جگہ پر شوو داہ کا کام چلتا رہتا ہے۔ روایت ہے کہ یہاں انتم سنسکار ہونے سے موکش حاصل ہوتا ہے ۔
-انل نریندر
01 فروری 2026
اجیت پوار پلین کریش سے جڑے سوال!
آخر ہم ان ہوائی حادثات میں کتنی قیمتی جانیں گنوائیں گے؟ اگر حالیہ پلین حادثوں پر نظر ڈالیں تو 2021 میں سی ڈی ایس جنرل وپن راوت جو بھارت کے پہلے چیف آف ڈیفنس اسٹاف تھے ،کا دسمبر 2021میں تاملناڈو کے کنور کے پاس ایئر کریش میں موت ہوگئی تھی۔ 2 دسمبر 2009 آندھرا پردیش کے سابق وزیر اعلی وائی ایس راج شیکھر ریڈی کا ہیلی کاپٹر نلہ مالہ جنگل میں حادثہ کا شکار ہو گیا۔30اپریل2011 کو اروناچل پردیش کے سابق وزیر اعلی ڈورجی کھانڈو کاتوانگ سے ایٹہ نگر جارہا ہیلی کاپٹر کریش ہوگیا اور ان کی موت ہوگئی ۔ 12جون 2025 کو احمد آباد میں ہیلی کاپٹر ایئر کریش میں سابق وزیر اعلی وجے روپانی سمیت242مسافروں کی موت ہوگئی۔ سابق لوک سبھا اسپیکر جی ایم سی بال یوگی کا بھی ندھن ایک ہیلی کاپٹر حادثے میں ہوا۔ اور اب مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلی اجیت دادا پوار کی پلین کریش میں موت ہوگئی۔پونے ضلع میںبارہمتی میں ہوئے اس حادثہ کی کئی پہلوئوں سے جانچ کی جارہی ہے، کیا یہ محض حادثہ تھا، پائلٹ کی غلطی تھی یا پھر کوئی سازش؟ اس کا جواب تو گہری جانچ سے ہی مل سکتاہے،اگر کبھی ملا بھی؟ کیونکہ آج تک جتنے بھی حادثے ہوئے ہیں ان میں سے کسی کا بھی تسلی بخش جواب نہیں ملا۔یہ نہیں پتہ چل سکاحادثے کی اصل وجہ کیا تھی؟اجیت دادا پوار کے پلین کریش پر مرکزی شہری جہاز رانی وزارت کی جانب سے جاری بیان کے مطابق آسمان میں روشنی کم ہونے کی وجہ سے بارہمتی میں رن وے نہیں نظر آیا اور لینڈنگ کی کوشش ناکام ہوگئی ۔ مگر مغربی بنگال کی وزیر اعلی سمیت کئی لیڈروں نے حادثے پر سوال اٹھائے ہیں اور سپریم کورٹ کی نگرانی میں جانچ کی مانگ کی ہے۔ حالانکہ اجیت پوار کے چاچا شرد پوار نے حادثہ کے پیچھے کسی بھی طرح کی سیاست ہونے کی بات سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ یہ محض ایک حادثہ تھا۔ حادثہ کے بعد ابتدائی معلومات بھی سامنے آچکی ہیں، لیکن اب بھی کئی ایسے اہم سوال ہیں جن کے جواب دیش چاہتا ہے۔آخر پلوں میںکیا ہوا؟ لیڈنگ کے دوران کن حالات نے خطرہ بڑھایا اور سکیورٹی پروٹوکال کا پوری طرح سے پالن ہوا؟ یہ وہ سوال ہیں جو پورے معاملہ کو سنگین بنا رہے ہیں۔اب جن سوالوںکا جواب چاہئے ان میں اہم ہیں خراب روشنی میں لینڈنگ کی کوشش کیوں کی گئی؟کیا یہ ممکن تھا کہ جہاز واپس چلاجاتا(اگر اس میں ایندھن کافی تھا) ؟لینڈنگ کلیارینس کے پاس بعد اچانک کیا ہوا؟ کتنا محفوظ ہے لیئرجیٹ ۔45 جہاز؟ شہری جہاز رانی وزارت کے مطابق وی ٹی۔ایس ایس تھے۔ ایل جی۔45 درمیانے سازش کا بزنس جیٹ ہے، جنہیں کینیڈا کی کمپنی بام وارڈیئر ایرو اسپیس نے بنایا ہے، اس میں آٹھ مسافروں کے بیٹھنے کی جگہ ہے۔ یہ جہاز چھوٹے رن وے والے ہوائی اڈوں پر بھی آسانی سے اتر سکتاہے۔ یہ بھی پتہ چلا ہےکہ اس سے پہلے 14 ستمبر 2023 کو ایسا ہی جہاز ممبئی میں لینڈنگ کے بعد رنوے سے پھسل گیا تھا اور دو حصوں میں ٹوٹ گیا تھا۔ بدھوار کے حادثہ کے بعدایک بار پھر سے سوال کھڑا ہوگیا ہے کہ یہ جہاز کتنا محفوظ ہے؟کیا لینڈنگ اپروج محفوظ تھی؟ حادثہ کے چشم دید گواہوں نے بتایا کہ جہاز کو ہوا میں دیکھ کر ہی لگ رہا تھا کہ وہ لینڈ نہیں کر پائے گا۔ ایک چشم دید نے بتایا کہ جب جہاز نیچے آرہا تھا تو ایسا لگ رہا تھا کہ و کریش ہوجائے گا؟تبھی وہ کریش ہوگیا۔ڈی جی سی اے کے بیان میں بتایا گیا ہے کہ جہاز کے پائلٹ نے پہلے رنوے نہ دکھائی دینے کی اطلاع دی اور بعد میں یہ اطلاع دی گئی کہ رنو ے دکھائی دے رہا ہے۔ سوشل میڈیا پر سامنے آیا ہے جس میں یہ جہاز ہوا میں ہی پلٹتے ہوئے نظر آرہا ہے۔ کسی بھی جہاز حادثہ کے بعدمے ڈے لفظ کا استعمال کئی بار ہوتا ہے۔ یہ لفظ ایوی ایشن اور میری ٹائم ایمرجنسی کے لحاظ سے بہت اہم ہے۔ ایک اور پائلٹ نے کہا کہ مے ڈےکال نہ کیا جانا اس طرف اشارہ کرتا ہے کہ آخری وقت تک جہاز پائلٹ کے کنٹرول میں تھا۔ انہوں نے کہا کہ اگر جہاز میں انجن فیل ہوگیا ہوتایا کوئی اور خرابی ہوتی تو پائلٹوں نے مے ڈے کال دی ہوتی۔ ان سوالوں کا جواب دیش چاہتا ہے۔ لیکن پتہ نہیں کبھی ملے یا یہ بھی تاریخ کا ایک ورق بن کر ر ہ جائے گا۔
(انل نریندر)
سبسکرائب کریں در:
تبصرے (Atom)
ایٹمی پلانٹ پر چوتھا حملہ کتنا خطرناک ہے !
ایران کے بشر نیوکلیئر سنٹر کے پاس چوتھی بار امریکی -اسرائیلی حملہ ہوا ہے ۔اس حملے میں ایک شخص کی موت ہو گئی ۔سنیچر کو ایران کے بے حد اہم تری...
-
سپریم کورٹ میں بھی عجیب و غریب مقدمات آرہے ہیں۔ تازہ مثال بحریہ کے کچھ افسروں پر بیویوں کی ادلہ بدلی سے متعلق معاملات ہیں۔ بحریہ کے ایک اف...
-
ہندوتو اور دھرم پریورتن، گھر واپسی سمیت تمام معاملوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس پریوار سے جڑے لیڈروں کے متنازعہ بیانات سے وزیر...
-
مدھیہ پردیش کے ہائی پروفائل ہنی ٹریپ معاملے سے نہ صرف ریاست کی بلکہ دہلی کے سیاسی حلقوں میں مچا دئے معاملے میں اہم سازشی گرفتار ہو چکی شیو...