Translater

19 جولائی 2025

بہار میں نظرثانی مہم بنی ایک مذاق

بہار میں ووٹر لسٹ (ایس آئی آر) کی خصوصی نظر ثانی میں لاپرواہی، بدنظمی اور گڑبڑ کے واقعات اب منظر عام پر آ گئے ہیں۔ اب یہ ساری مشق ایک مذاق بن گئی ہے۔ اس مہم میں کئی سطحوں پر بے ضابطگیاں کی گئی ہیں اور کی جارہی ہیں۔ صحافیوں سے لے کر اپوزیشن جماعتوں تک سبھی نے ان بے ضابطگیوں پر سوالات اٹھائے ہیں۔ بھاسکر کی زمینی جانچ میں بی ایل او کھیتوں میں بیٹھ کر فارم بھرتے ہوئے پائے گئے اور کچھ جگہوں پر وہ واٹس ایپ کے ذریعے شناختی کارڈ مانگ رہے تھے۔ پٹنہ میں دو طرح کے فارم بہت سے ووٹروں کے گھر پہنچے۔ میونسپل کارپوریشن کے ملازمین اور بی ایل او مختلف فارم دے رہے ہیں۔ اعترافی فارم نہیں دیے گئے ، حالانکہ قواعد کے مطابق یہ ضروری ہے۔ دوسری طرف، تیلگو دیشم پارٹی (ٹی ڈی پی)، جو این ڈی اے حکومت کا حصہ ہے، نے الیکشن کمیشن کو خط لکھ کر ایس آئی آر سے متعلق کئی سوالات پوچھے ہیں۔ ٹی ڈی پی کے ایک وفد نے الیکشن کمیشن سے ملاقات کی اور اس میں شمولیت کے تصور کی حمایت کی کہ ووٹر پہلے سے ہی تازہ ترین تصدیق شدہ ووٹر لسٹ میں درج ہیں۔ انہیں اپنی اہلیت کو دوبارہ قائم کرنے کی ضرورت نہیں ہونی چاہئے۔ جب تک کہ مخصوص اور قابل تصدیق وجوہات درج نہ کی جائیں۔ سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے، اس نے کہا کہ ووٹر لسٹ میں کسی شخص کا نام شامل کرنے سے اس کی درستگی کا اندازہ ہوتا ہے اور نام ہٹانے سے پہلے اس کی درست جانچ کی جانی چاہیے۔ ٹی ڈی پی نے کہا کہ ثبوت کا بوجھ الیکٹورل رجسٹریشن آفیسر یا اعتراض کرنے والے پر ہے۔ ووٹر پر نہیں، خاص طور پر جب نام سرکاری فہرست میں موجود ہو۔ ٹی ڈی پی کے اس وفد نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار اور الیکشن کمشنر سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی سے ملاقات کی۔ دریں اثنا، الیکشن کمیشن نے بدھ کو کہا کہ بہار میں 7.9 کروڑ ووٹروں میں سے صرف 6.85 فیصد نے ابھی تک اسپیشل انٹینسیو ریویژن (ایس آئی آر) کے تحت گنتی کے فارم نہیں بھرے ہیں۔ یعنی کمیشن نے آخری تاریخ سے نو دن پہلے 93 فیصد کام مکمل کر لیا ہے۔ دوسری جانب انڈیا الائنس میں شامل جماعتوں کے رہنماو¿ں راہل گاندھی، ممتا بنرجی اور تیجسوی یادو نے الیکشن کمیشن اور بی جے پی پر سخت حملہ کیا۔ آسام کے گوہاٹی میں کانگریس کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے راہل گاندھی نے الزام لگایا کہ بی جے پی اور الیکشن کمیشن کے درمیان ملی بھگت ہے۔ یہ اس حقیقت سے ثابت ہوتا ہے کہ مہاراشٹر میں لوک سبھا انتخابات کے چار ماہ بعد ہوئے اسمبلی انتخابات میں تقریباً ایک کروڑ نئے ووٹروں کا اضافہ ہوا اور بی جے پی نے انتخابات میں کامیابی حاصل کی۔ اپوزیشن کے مطالبے پر بھی الیکشن کمیشن نے ووٹرز کی فہرست اور پولنگ اسٹیشنز کی ویڈیو گرافی دینے سے انکار کردیا۔ انہوں نے کہا کہ مہاراشٹر کی طرح اب بہار میں بھی الیکشن چرانے کی سازش رچی جارہی ہے۔ بہار میں ووٹر لسٹ سے غریبوں، مزدوروں اور کانگریس-آر جے ڈی کے حامیوں کے نام ہٹانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ الیکشن کمیشن کھلے عام بی جے پی کے کہنے پر کام کر رہا ہے۔ ترنمول کانگریس کی صدر ممتا بنرجی نے بہار میں اسمبلی انتخابات سے قبل الیکشن کمیشن کی طرف سے ووٹر لسٹ پر خصوصی نظر ثانی کی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جب بھی انتخابات آتے ہیں، بی جے پی ووٹر لسٹ سے نام ہٹانا شروع کر دیتی ہے۔ میں نے سنا ہے کہ انہوں نے بہار میں 30.5 لاکھ ووٹروں کے نام ہٹا دیے ہیں۔ اسی طرح بی جے پی نے مہاراشٹر، ہریانہ اور دہلی کے انتخابات میں کامیابی حاصل کی۔ وہ اسی منصوبہ کو بہار اور بنگال کے لیے نافذ کر رہے ہیں۔ اسی طرح راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) لیڈر تیجسوی یادو نے ایکس پر لکھا کہ بہار میں کل 7 کروڑ 90 لاکھ ووٹر ہیں۔ سوچیں، اگر بی جے پی کی ہدایت پر ایک فیصد ووٹروں کو بھی ہٹا دیا جائے تو تقریباً 7 لاکھ 90 ہزار ووٹروں کے نام کٹ جائیں گے۔ یہاں ہم نے صرف ایک فیصد کی بات کی ہے جبکہ ان کی نیت اس سے بھی زیادہ ہے، چار پانچ فیصد۔ اس کے مطابق ہر اسمبلی میں 3200 سے زائد ووٹروں کے نام کاٹے جائیں گے۔ گزشتہ انتخابات میں ووٹ بڑھے تھے، اس بار کم کیے جا رہے ہیں۔ تیجسوی نے کہا، اگر ہم گزشتہ دو اسمبلی انتخابات میں جیت کے کم مارجن والی سیٹوں کے اعداد و شمار پر نظر ڈالیں تو 2015 کے اسمبلی انتخابات میں 3000 سے کم ووٹوں والی کل 15 سیٹیں تھیں، جب کہ 2020 میں یہ 35 سیٹیں ہو گئی تھیں۔ الیکشن کمیشن جیسے آئینی ادارے پر ایسے سنگین الزامات لگنا شروع ہو جائیں تو اس ادارے کی ساکھ پر سوالیہ نشان لگنا فطری امر ہے۔الیکشن کمیشن پر اس لیے بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ جب سپریم کورٹ نے وقت کی کمی اور نظرثانی کے عمل کی درستگی پر سوال اٹھائے اور اگلی سماعت کی تاریخ 28 جولائی مقرر کی ہے۔آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کرانا الیکشن کمیشن کا آئینی فرض ہے۔ اگر اس عمل میں کوئی اعتراض ہے تو الیکشن کمیشن کا فرض ہے کہ وہ اسے درست کرے، اس میں ترمیم کرے، غلط حکم کو واپس لے۔ -انل نریندر

17 جولائی 2025

اقتدار کےلئے لمبی کھینچی گئی غزہ جنگ !

اسرائیل میں سب سے زیادہ وقت اقتدار میں رہنے کا ریکارڈ بنجامن نیتن یاہو کے نام ہے ۔وہ 17 سال 9 مہینے سے اسرائیل کے وزیراعظم ہیں ۔دسمبر 2022 کے بعد نیتن یاہو کے تیسرے عہد کے تیس ماہ میں سے اکیس ماہ تک اسرائیل جنگ میں گھرا رہا۔نیویارک ٹائمس میں شائع رپورٹ کے مطابق نیتن یاہو نے گھٹتی مقبولیت اور کرپشن کے الزامات سے اور عدالتوں میں چل رہی ان کے خلاف کرپشن کے مقدموں سے بچنے و توجہ ہٹانے کے لئے غزہ جنگ کو لمبا کھینچا گیا ۔الزام ہے کہ انہوں نے قطر کے ذریعے حماس کی باقاعدہ فنڈنگ بھی کی تھی ۔جانیے کیسے نیتن یاہو نے پی ایم کے عہدے پر بنے رہنے اور اپنے فائدے کے لئے باقاعدہ جنگ کا استعمال کیا ۔نیتن یا ہو نے خفیہ جانکاری کو نظر انداز کیا جس سے حماس مضبوط ہوا اور اسے تیاریوںکا موقع ملا ۔بنجامن نیتن یاہو 2020 سے کرپشن کے الزامات کا سامنا کررہے تھے ۔جس سے ان کی سیاسی پکڑ کمزور ہوئی اور اقتدار میںبنے رہنے کے لئے ساو¿تھ پنتھی اور علیحدگی پسند پارٹیوں کے ساتھ اتحاد کیا ۔نیتن یاہو نے قطر کے ذریعے سے غزہ کو اقتصادی مدد دینے کی پالیسی اپنائی جسے وہ امن خریدنے کا طریقہ مانتے تھے ۔لیکن اس سے حماس کو فوجی تیاریوں کے لئے وسائل جمع کرنے کا موقع مل گیا ۔جولائی 2023فوجی خفیہ یونٹ نے خبردار کیا کہ نیتن یاہو کی عدلیہ اصلاح ٹیم نے دیش کو کمزور کر دیا ہے ۔جس سے حماس ،حزب اللہ اور ایران کو حملے کا موقع مل سکتا ہے ۔سنبیٹ شون نے حکمت عملی جنگ کی وارننگ دی لیکن نیتن یاہو نے اسے مسترد کردیا اور مظاہرین کو کنٹرول کرنے پر توجہ مرکوز کر دی ۔اس سے حماس کو فائدہ ملا ۔نتین یاہو کا دہرا کھیل علاقائیت کے لئے جنگ کا اعلان ،ناکامی کا ٹھیکرا فوج اور ایجنسیوں کے سرپر پھوڑ دیا ۔7اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے نے اسرائیل کو چونکا دیا ۔حملے میں 1195 اسرائیلی شہری مارے گئے ۔اور 25 کا اغوا کیا گیا اس کے بعد بنجامن نیتن یاہو نے حماس لیڈر شپ کو ختم کرنے کے احکامات دیے ۔خفیہ ناکامی کی ذمہ داری سے بچنے کے لئے انہوں نے فوج اور خفیہ ایجنسیوں کو ذمہ دارامانا ۔ان کی پہلی حکمت عملی تھی فوجی کاروائی کو تیز کرنا ۔جس میں غزہ پر وسیع پیمانہ پر حملے شامل تھے ۔درمیانی مارگی بینی گینٹس اور گادی اور جین کورٹ کو سرکار نے شامل کیا ۔اس قدم نے اتحادی سرکار کو مضبوطی دی اور جنگ کو لمبا کھینچنے کی ان کی حکمت عملی کی حمایت کی ۔پی ایم نے دہرا کھیل کھیلتے ہوئے حماس حملے کے لئے کھلے طور پر دعویٰ کیا کہ انہیں حماس کے ارادوں کے بارے میں کوئی وارننگ نہیں ملی تھی جس سے ان کی ساکھ کو بچانے کی کوشش کی ۔نیتن یاہو نے اپنی سیاسی ساکھ کو چمکانے اوراقتدار میں بنے رہنے کے لئے جنگ کا استعمال کیا ۔ستمبر 2024 میں یرغمالوں کے قتل کے بعد احتجاجی مظاہرے بڑھے ان کے ترجمان نے ایک حماس دستاویز کو جرمن اخبار ورلڈ میں لیگ کر دیا جس میں دعویٰ کیا گیا تھا مظاہرین حماس کے ایجنڈے کوبڑھاوا دے رہے تھے اور اس حکمت عملی نے جنتا کی توجہ جنگ بندی کی مانگ سے ہٹاکر حماس کے خلاف اتحاد اور حزب اللہ وایران کے خلاف فوجی کامیابیوں نے نیتن یاہو کی مقبولیت بڑھا دی ۔حماس نیتا یحیٰ سنوار اور حزب اللہ چیف نصر اللہ کی موت او رلبنان پر واکی ٹاکی حملے اور ایران پر نیوکلیائی پلانٹ پر حملے نے نیتن یا ہو کی پوزیشن کو اور مضبوط کیا ۔اپریل 2024 میں نیتن یاہو نے جنگ بندی اسکیم کو منظوری دی ۔جس سے ستر سے زیادہ اسرائیلی یرغمالوں کی رہائی اور سعودی عرب کے ساتھ امن سمجھوتہ کا امکان شامل تھا ۔کابینہ میٹنگ میں کٹر ساو¿تھ پنتھی اور وزیر مالیات ایموٹرتھ نے دھمکی دی کہ اگر یہ اسکیم آگے بڑھی تو سرکار گر جائے گی ۔نیتن یاہو نے فوراً اقتدار کو ترجیح دیتے ہوئے اس اسکیم کو منسوخ کردیا ۔جولائی 2024 میں ایک اور جنگ بندی معاہدے کے قریب تھا لیکن نیشنل سیکورٹی وزیر بین گروٹ کے دباو¿ نے نیتن یاہو نے غزہ ،مصر سرحد پر نئی شرطیں جوڑ دیں جس سے بات فیل ہو گئی ۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دباو¿ میں نیتن یاہو نے جنوری 2025 میں غزہ جنگ بندی لاگو تو کیا لیکن اپنااقتدار بچانے کے لئے معاہدہ بیچ میں ہی توڑ دیا ۔الٹرا آرتھو ڈکس کے ممبران پارلیمنٹ کے احتجاج جس کی شرط تھی کہ غزہ میں بمباری جاری رہے ۔18 مارچ کو حملے شروع ہوئے اور 19 کو اتحاد بحال ہوا اور بجٹ پاس ہو گیا ۔نیتن یاہو نے ٹرمپ کو ایران پر حملے کے لئے منا لیا ۔ٹرمپ نے فوجی ایکشن کی حمایت کی اور اسرائیل کا ساتھ دے کر ایران کے نیوکلیائی اڈوں پر زبردست بمباری کی تھی ۔اسی کے بعد نتین یاہو نے ڈونلڈ ٹرمپ کو نوبل ایوارڈ کے لئے نامزد کیا ۔صاف ہے کہ بنجامن نیتن یاہو نے اپنااقتدار بچانے کے لئے غزہ جنگ جاری رکھی ہے ۔تیس ہزار سے زیادہ لوگ مارے جاچکے ہیں جن میں 20 ہزار بچے اور عورتیں بھی شامل ہیں ۔اقتدار کی خاطر یہ تاناشاہ کچھ بھی کر سکتے ہیں ۔اوپر والا سب دیکھ رہا ہے ۔اور صحیح وقت پر ان کے کوکرموں کی سزا دے گا ۔ (انل نریندر)

15 جولائی 2025

کیا ٹرمپ اور نیتن یاہو نے پھر حملے کی تیاری کر لی ہے ؟

نیتن یاہو کے حالیہ امریکی دورہ کے بعد ایران پر پھر حملے کا اندیشہ منڈگیا ہے۔وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو کا وہ مقصد پورا ہوگیا ہے لگتا ہے جس کے لئے وہ خاص طور پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملنے امریکہ گئے تھے ۔مانا جارہا ہے کہ ٹرمپ نے اسرائیل کو ایران پر پھر سے حملہ کرنے کی اجازت دے دی ہے ۔سوال یہی ہے کہ کیا نیتن یاہو ایران پر حملے کا دوسرا مرحلہ شروع کرنے جارہے ہیں ؟ ایران پر حملے کا خطرہ اس لئے بڑھ گیا ہے کیوں کہ ٹرمپ اور نیتن یاہو ایران پر حملہ کرنے کا بلو پرنٹ تیار کر چکے ہیں ۔ایسا امریکی میڈیا بھی دعویٰ کررہا ہے ۔نیتن یاہو جب واشنگٹن گئے تھے تبھی صاف ہو گیا تھا کہ وہ ٹرمپ سے ایران پر حملے کی اجازت لیں گے ۔اب جبکہ نیتن یاہو کا دورہ پورا ہو گیا ہے تو ماناجارہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیتن یاہو کو ایران پر حملے کے لئے ہری جھنڈی دے دی ہے ۔اس کے اشارے اس بات سے بھی مل رہے ہیں کہ پچھلے کچھ دنوں میں واشنگٹن میں سب کچھ ویسا ہی ہورہا ہے جیسا پچھلی بار حملے سے پہلے ہوا تھا ۔ٹرمپ اور نیتن یاہو میں واشنگٹن دورہ کے دوران دو ایمرجنسی میٹنگیں ہوئیں ایک میں تو ٹرمپ کے ساتھ تمام امریکی فوج کے سربراہ بھی شامل ہوئے تھے ۔یعنی فوجی نظریہ سے بھی حملے کے سارے پہلوو¿ں پر غور ہواہوگا ۔نیتن یاہو کے دورہ کے بعد ٹرمپ نے خفیہ ایجنسیوںکے سربراہوں سے ملے تھے ۔ٹرمپ پچھلی بار ایران پر ہوئے حملے سے پہلے اسی طرح کے پروگرام پر تھے ۔اسرائیل نے جس دن ایران پر حملہ کیا تھا اس دن بھی ٹرمپ نے انٹیلی جینس بریفنگ دی تھی ۔نیتن یاہو کے حملے کا رخ تو اس بات کا اشارہ دے رہا ہے کہ ایران پر حملے کا دوسرا دور کبھی بھی شروع ہو سکتا ہے۔امریکہ اور اسرائیل کے ہمیں دوربارہ جنگ چھڑنے کے پیچھے دو مقصد نظر آتے ہیں ۔پہلا ایران کو ہر حملے میں نیوکلیائی طاقت بننے سے روکنا ہے ۔اور اسی راو¿نڈ میں جب امریکہ B-2 اسٹیلتھ بامبر سے بینکر واٹر بم گرائے تھے تو ایران کے نیوکلیائی کارخانوں کو اتنا نقصان نہیں ہواتھا ماہرین کا دعویٰ تھا کہ ایران نیوکلیائی بم بنانے میں صرف دو تین مہینے پیچھے ہی رہ گیا ۔کہاتو یہ بھی جارہا ہے کہ ایران نے اپنے 400 کلو اینرچ یورونیم کو امریکی حملے سے پہلے ہی کسی محفوظ جگہ پہنچا دیا تھا۔بین الاقوامی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران جب تک چاہے کم سے کم 10 نیوکلیائی بم بنا سکتا ہے ۔ٹرمپ نیتن یاہو اس بات ایران کے نیوکلیائی پلانٹس کو ہمیشہ کے لئے ختم کرنا چاہتے ہیں ۔دوسر ا مقصد ایران کو اتنا کمزور کر دیں کہ وہ مشرقی وسطیٰ میں محض ایک بڑا بیج کا اثر دار دیش بن کر رہ جائے ۔تیسرا مقصد ایران سے آیت اللہ علی خامنہ ای عہد کو ہمیشہ کے لئے ختم کرنا ۔اس میں خامنہ ای کا قتل بھی پلان ہے ۔اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ اس نے ایران کے زیادہ تر یورینیم کا پتہ لگا لیا ہے۔ماناجارہا ہے کہ جنگ بندی کے بعد موساد نے اس لوکیشن کا بھی پتہ لگا لیا ہے جہاں ایران نے اپنا سب سے زیادہ یورینیم چھپایا ہوا ہے ۔ادھر امریکہ اس بات سے بھی بھڑکا ہوا ہے کہ ایران نے اپنے ایٹمی مشن کا معائنہ نہیں کرنے دے رہا ہے۔انٹرنیشنل ایٹامک اینرجی (آئی اے ای اے ) کے چیف رافال گروسی نے ایران کے سبھی ایٹمی مشن کو لے کر کہا ہے کہ ایران کے پاس ایٹمی ہتھیار ہیں ۔ اس بات کے ثبوت تو نہیں ہیں لیکن خطرہ ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتاجارہا ہے ۔گروسی کے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ایران اتنا اہل ہو چکا ہے کہ وہ بہت جلد نیوکلیائی تجربہ کر سکتا ہے ۔غیر مصدقہ دعووں میں تو یہاں تک کہاجارہا ہے کہ ایران نے نیوکلیائی بم تیار کر لئے ہیں ۔ادھر ایران بھی اگلے راو¿نڈ کے لئے پوری طرح تیار ہے ۔وہ چنوتی دے رہا ہے اور کہہ رہا ہے کہ اگر اس بار امریکہ اسرائیل نے پھر ایران پر حملہ کیا تو انہیں ایسا سبق سکھایا جائے گا جسے وہ نہیں بھولیں گے۔ہم پوری طاقت سے جواب دیں گے ۔پچھلے 12 دن چلی لڑائی میں ہم نے ثابت کر دیا تھا کہ ہم کتنی تباہی مچا سکتے ہیں ۔اس بار تو ایران زیادہ مضبوط حالت میں نظر آرہا ہے کیوںکہ چین ،روس اور نارتھ کوریا کا بھی اس کو پوری کھلی حمایت مل چکی ہے ۔کل ملا کر صورتحال بہت کشیدہ ہے ۔ہم امید کرتے ہیں اوپر والے سبھی فریقین کو عقل دے تاکہ کہیں تیسری جنگ کی شروعات نہ ہو جائے ۔ (انل نریندر)

میلانیا نے امریکہ میں یہ نئی جنگ چھیڑ دی

ایران جنگ میں سیز فائر ہوتے ہی امریکہ کے اندر ایک اور جنگ شروع ہو گئی ہے ۔آپ حیران ہوں گے کہ یہ کون سی جنگ ہے ؟ بتادیں کہ ایپسٹین فائلس کی ...