31 دسمبر 2011

ایران پر حملہ کرنے کیلئے امریکہ تیار ہے


Published On 31st December 2011
انل نریندر
ایران اور امریکہ کے رشتے دراصل تب سے زیادہ خراب ہوئے ہیں جب سے ایران نے امریکی ڈرون جہاز گراکر اس کا کھلا مظاہرہ کیا۔ ایرانی ٹی وی نے دکھایا ہے کہ کس طرح ایرانی فوجی افسر آرکیو 170 سے ٹنیل ڈرون کا معائنہ کررہے ہیں۔ امریکہ کے صدر براک اوبامہ نے ایرانی صدر مسٹر احمدی نژاد سے اپیل کی کہ وہ ڈرون کو لوٹادیں لیکن ایران اس کے لئے تیار نہیں تھا۔ اس کے بعد آیا یوروپی یونین کے ایران پر پابندی کا معاملہ۔ یوروپی یونین نے ایران کے متنازعہ نیوکلیائی پروگرام کی وجہ سے 180 ایرانی افسران اور کمپنیوں پر تازہ پابندیاں لگانے کا فیصلہ کرلیا۔ یوروپی یونین کے وزراء خارجہ کی حال میں برسیلز میں ہوئی میٹنگ میں ایران کے توانائی سیکٹر کو نشانہ بنا کر کچھ دیگر قدموں پر بھی اتفاق رائے ہوا۔ یہ پابندی اقوام متحدہ کی اس رپورٹ کے بعد لگائی جارہی ہے جس میں ایران کے نیوکلیائی پروگرام کو نیوکلیائی ہتھیاروں کے فروغ سے جوڑا گیا تھا۔ برطانیہ نے پہلے ہی اعلان کردیا تھا کہ وہ لندن سے ایران کے ساتھ سبھی سفارتی تعلقات کو فروغ دے رہا ہے ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے کہا اگر اس کے نیوکلیائی پروگرام پر پابندی لگانے کے ارادے سے اس کے تیل درآمدات پر بین الاقوامی برادری نے روک لگائی تو وہ اسٹیٹ آف ہامرزکو بند کردے گا۔ ایران کی طرف سے یہ وارننگ دیش کے نائب صدر رضا رحیمی نے دی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اگر مغربی ممالک نے ایران کے تیل درآمدات پر پابندی لگائی تو پھر خلیجی ملکوں کو ایک بھی بوند تیل اسٹیٹ آف ہامرزنہیں کھلے گا۔ ایران دنیا کا چوتھا سب سے بڑا تیل سپلائی کرنے والا ملک ہے۔ تیل کی بکری سے ایرانی حکومت کو پیسہ اور پیسے سے سیاسی طاقت ملتی ہے اور ساتھ ہی نیوکلیائی پروگرام کو جاری رکھنے کے لئے ضروری مدد بھی ملتی ہے۔ بین الاقوامی برادری کو بھی ایران کی اس حکمت عملی کے بارے میں واقفیت ہے۔ اسی کے جاری رہتے یوروپی یونین کے وزراء خارجہ نے ایران کے تیل برآمدات پر پابندی لگانے کا امکان ظاہر کیا ہے۔ حالانکہ اسٹیٹ آف ہرمزبند کرنا ایران کے لئے آسان نہ ہوگا۔ خلیج میں ایران کے علاوہ اور بھی ممالک کے فوجی تعینات ہیں۔ایران کی دھمکی پر امریکہ نے سخت جوابی رد عمل ظاہر کیا ہے۔ امریکی وزارت دفاع پینٹاگان کے ترجمان جارج لٹل کا کہنا ہے کہ اسٹیٹ آف ہرمز نہ صرف اس علاقے کی سلامتی اور استحکام کے لئے اہم ہے بلکہ یہ ایران سمیت خلیجی ملکوں کی معیشت کی زندگی کی ایک ریکھا بھی ہے۔ امریکہ کیلئے یہ راستہ بہت اہم ہے کیونکہ اسی راستے سے امریکہ تیل لے جاتا ہے۔ امریکی بحریہ نے کہا ہے کہ وہ اس کو برداشت نہیں کرے گا۔ ہرمز خلیج اور تیل پیدا کرنے والے ملکوں بہرین، کویت، قطر، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات کو بحر ہند سے جوڑتا ہے۔ ایران کی دھمکی پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے امریکی فوج کے پانچویں بیڑے کے ترجمان نے کہا کہ ہم لوگ غلط نیت سے اٹھائے گئے کسی بھی قدم سے نمٹنے کیلئے تیار ہیں۔ تیل کے آمدو رفت کو جاری رکھنے کے لئے امریکہ خلیج میں اپنا جنگی بحری بیڑہ رکھتا ہے۔ اس سے پہلے امریکی وزارت خارجہ کے نائب ترجمان مارک ٹونر نے کہا تھا کہ ایرانی دھمکی کا اہم مقصد ان کے نیوکلیائی پروگرام کے اصل اشو سے توجہ ہٹانا ہے۔
America, Anil Narendra, Daily Pratap, Iran, USA, Vir Arjun

کئی معنوں میں تاریخی رہا سال 2011


Published On 31st December 2011
انل نریندر
سال 2011 کئی معنوں میں تاریخی سال رہا۔2011 میں جو کچھ ہوا وہ آزاد بھارت کی تاریخ میں شاید پہلے کبھی ہوا ہو۔ اگر اس سال کو گھوٹالوں کے پردہ فاش ہونے کا سال کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ ایک طرف گھوٹالے تو دوسری طرف بڑھتے کرپشن کے خلاف جن آندولن ،کرپشن کے خلاف مضبوط لوکپال کی مانگ کو لیکر سماج سیوی انا ہزارے کی غیر سیاسی تحریک نے یقینی طور سے دیش کی سیاست کو اس سال سب سے زیادہ متاثر کیاہے۔حکومت ہی نہیں دوسری پارٹیاں بھی انا کو ملی وسیع حمایت کے آگے بونی نظر آئیں۔ انا کے دباؤ کا ہی نتیجہ تھا کہ سرکار پارلیمنٹ میں لوکپال بل پیش کرنے پر مجبور ہوئی۔ اس کو سال کے بڑے واقعات میں سوامی رام دیو کا کالے دھن کے خلاف چلایا جارہا آندولن بیشک ابھی تک رنگ نہیں لاسکا لیکن اس نے ایک ماحول بنانے میں تو مدد کی۔4 جون کی وہ یاد بھی برسوں تک رہے گی جب پولیس نے رام لیلا میدان پر پرامن طور پر دھرنا دے رہے رام دیو حمایتیوں کو اتنی بے رحمی سے پیٹا کہ ایک بھکت راج بالا تو اس مار سے چل بسی۔ مغربی بنگال اسمبلی چناؤ میں ترنمول کانگریس کی جیت اس سال کی ایک بہت بڑی گھٹنا تھی۔ ممتا بنرجی نے صوبے میں 34 برسوں سے کمیونسٹ راج کا خاتمہ کرکے تاریخ ہی بدل دی۔کامریڈوں کو اقتدار سے باہر کا راستہ دکھا دیا۔ تاملناڈو میں کرناندھی اینڈ کمپنی کا بوریا بستر سمیٹ دیا۔ کروناندھی کے لئے تو سال2011 نہ بھولنے والا سال رہا۔ ٹوجی اسپیکٹرم گھوٹالے میں ان کی پارٹی کے اے راجہ تہاڑ پہنچے، رہی سہی کثر کروناندھی کی بیٹی کنی موجھی کے تہاڑ جیل پہنچ سے پوری ہوگئی۔ کامن ویلتھ گیمس کے انعقاد کی کامیابی کا سہرہ سرکار کو نہیں ملا کیونکہ ممبر پارلیمنٹ اور کھیل آرگنائزننگ کمیٹی کے چیئر مین سریش کلماڑی کو کرپشن کے معاملے میں جیل جانا پڑا۔ ٹو جی گھوٹالے میں تو کئی نامی گرامی لیڈر، افسرتہاڑ جیل گئے۔ تہاڑ وی آئی پی جیل بن گئی۔ جنتا پارٹی کے نیتا سبرامنیم سوامی نے ٹو جی اسپیکٹرم معاملے میں وزیر داخلہ پی چدمبرم کے کردار کو عدالت میں چنوتی دی ہے۔ چدمبرم جنہوں نے مضبوطی سے اپنا کام شروع کیا تھا سال ختم ہوتے ہوتے وہ ایک بہت کمزور ،لاچار اور منہ لٹکائے وزیر داخلہ ثابت ہوئے۔ ابھی تو عدالت میں جاری کارروائی کا نتیجہ سامنے آنا ہے۔کیش فار ووٹ معاملے میں راجیہ سبھا ایم پی امرسنگھ و بھاجپا کے سابق ایم پی مہاویر بھگوڑا اور پھگن سنگھ کلستے کو تہاڑ جیل جانا پڑا۔ بھاجپا کے سینئر لیڈر لال کرشن اڈوانی نے کالی کمائی اور کرپشن کو لیکر ملک گیر دورہ کیا۔راجستھان میں بھنوری دیوی کا معاملہ سارے سال سرخیوں میں رہا۔ انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کی طاقت کا پہلی بار اس بار احساس ہوا۔ مشرقی وسطیٰ کے کئی ملکوں میں عوامی انقلاب کا آغاز ہوا اور کئی ملکوں میں تبدیلی اقتدار ہوئی۔ یقینی طور سے سال 2011ء سوشل میڈیا کے لئے میل کا پتھر رہا۔ فیس بک کے لئے تو وہ بیحد خاص تھا۔ سوشل میڈیا کی شکل میں عام آدمی کے ہاتھوں میں آئی اس توپ کا دھماکہ 2011ء میں سنائی دے چکا ہے۔ اور آنے والے برسوں میں یہ اور طاقتور ہوگی۔ کل ملاکر کئی معنوں میں گذرا یہ سال اہمیت کا حامل رہا۔ میں اپنی اور اپنے تمام ساتھیوں کی جانب سے آپ کو نئے سال کی نیک خواہشات پیش کرتا ہو اور اوپر والے سے پرارتھنا کرتا ہوں کہ سال2012 سب کے لئے منگل مے رہے۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Happy New Year, Roundup 2011, Vir Arjun

30 دسمبر 2011

لوکپال بل کا یہ حشر ہوگا سبھی کو معلوم تھا


Published On 30th December 2011
انل نریندر
حقیقت تو یہ ہے کہ لوکپال بل کو لیکر نہ تو منموہن سرکار سنجیدہ تھی اور نہ ہی اپوزیشن۔ ہمیں تو لگتا یہ ہے کہ حکومت اور کانگریس پارٹی لوکپال بل کو صرف لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں پیش کرنا چاہتی تھی۔ پاس ہو جاتا تو بھی ٹھیک تھا نہ ہوتا تو بھی ٹھیک تھا۔ زور زبردستی سے لوک سبھا میں اس کو پاس کروالیا لیکن آئینی درجہ دلوانے میں وہ نا کام رہی۔ ادھر اپوزیشن کا کبھی بھی ارادہ اسے پاس کرانے اور آئینی درجہ دلانے کا نہیں تھا اس لئے اس نے بحث میں حصہ تو لیا لیکن ووٹنگ کے وقت بٹن نہیں دبایا۔ بھارتیہ جنتا پارٹی اور مارکسوادی پارٹی کو لوکپال کے موجودہ خاکے پراعتراض تھا اور اس نے لوکپال کی بنیادی شکل میں کچھ ترامیم چاہیں لیکن حکومت ان ترمیمات کو نہیں مانی اس لئے اپوزیشن نے بل کی حمایت میں ووٹ نہیں دیا۔ کانگریس اب یہ کہہ رہی ہے کہ ہم نے تو لوکپال بل پاس کروادیا ہے لیکن بھاجپا نے حمایت نہ کر اپنے آپ کو بے نقاب کرلیا ہے۔ بھاجپا کا کہنا ہے کہ ایسے بے اثر لوکپال بل کی حمایت کرکے ہمیں اپنی ناک تھوڑی ہی کٹوانی تھی۔ ہم ایسے کھوکھلے لوکپال بل کی حمایت کیسے کرسکتے ہیں؟ کانگریس کامقصد موثر لوکپال لانے کا نہیں تھا وہ تو بس پارلیمنٹ میں اسے پیش کرنا چاہتی تھی تاکہ پانچ ریاستوں کے اسمبلی چناؤ میں اس کا پارٹی کوفائدہ ملے تاکہ وہ عوام کے درمیان یہ کہہ سکے دیکھو ہم تو لوکپال لے آئے لیکن بھاجپا نے بٹن نہیں دبایا اور اپنے آپ کو بے نقاب کرلیا ہے۔ لوک سبھا میں جس طرح سرکار کی اس بل کو آئینی درجہ دینے کی کوشش میں کرکری ہوئی اس سے بھی زیادہ کرکری راجیہ سبھا میں ہوسکتی ہے۔ اس ایوان میں تو اپوزیشن کا بول بالا ہے۔ کانگریس اور ان کی ساری ساتھی پارٹیوں کی تعداد 99 بنتی ہے۔ 8 نامزد ہوتے ہیں اور 6 آزار ہوتے ہیں تو اگر ان کو بھی ملالیں تو تب بھی کانگریس کو ہار کا سامنا کرنا پڑے گا کیونکہ اپوزیشن کے کل ممبروں کی تعداد131 ہے اور ان میں ایسی پارٹیاں ہیں جو کسی بھی حالت میں حکومت کا ساتھ نہیں دے سکتیں اس لئے راجیہ سبھا میں بھی سرکار اس بل کو آئینی درجہ نہیں دلوا سکتی۔ اس پورے معاملے کو کیسے دیکھا جائے؟ ایک نکتہ نظر سے سوائے دو تین نکات کے باقی میں تو کامیابی مل رہی ہے۔ جو کام پچھلے 40 سالوں میں نہیں ہوسکا وہ پہلی بار یہاں تک پہنچا ہے۔ اس کے ساتھ یہ بھی ٹھیک ہے کہ جس مقصد سے انا ہزارے نے اپنی تحریک چلائی تھی اس کا بھی مقصد پورا نہیں ہوا۔ لوک سبھا میں نمبروں کے کھیل میں اگنی پریکشا کے بعد سرکاری لوکپال کی تصویر بدل چکی ہے۔ ترمیمات کے ساتھ راجیہ سبھا کی مہر کا جنتا کو بے صبری سے انتظار ہے۔ لوکپال اب نہ تو آئینی ادارہ ہوگا اور نہ ہی اس کے ذریعے لوک آیکت کی تقرری ریاستوں کے لئے ضروری ہوگی۔ لوکپال میں ممبران کے خلاف شکایت پر کارروائی کو لیکر لوک سبھا اسپیکر یا راجیہ سبھا چیئرمین کی رپورٹ کے تقاضوں پر سخت احتجاج کے بعد سرکار نے اسے واپس لے لیا۔ بدلے ہوئے تقاضوں کے مطابق وزیر اعظم کے خلاف کسی شکایت کی جانچ شروع کرنے کیلئے 9 نفری لوکپال میں اب دو تہائی ممبروں کی رضامندی ضروری ہوگی۔ پہلے اس کے لئے تین چوتھائی ممبروں کی منظوری کی بات کہی گئی تھی۔ لوکپال بل کا ٹکراؤ کا سب سے بڑا نکتہ رہا لوک آیکت کی تقرری میں ریاستوں کے اختیارات پر قبضے کا۔ صوبوں میں لوک آیکت کے قیام کی پابندی ختم کر اسے متبادل بنانے کی بات بھی سرکار کو ماننی پڑی۔ لوکپال کے دائرے سے مسلح افواج کو بھی باہر کردیا گیا ہے۔ گویا 40 برسوں سے دیش کے ساتھ آنکھ مچولی کا کھیل کھیل رہا لوکپال پر اب زیادہ اپوزیشن ٹکراؤ کے موڈ میں نظر نہیں آرہی ہے۔ وہ تو بھلا ہو انا ہزارے اور ان کے انشن کی تحریک کا کہ بدعنوانی پر پہلی بار عام آدمی کے تیور چڑھے اور لوکپال قانون عوام کی آواز کا حصہ بن گیا۔اب سرکار لوکپال بل راجیہ سبھا میں پاس کرانے کے بجائے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلا سکتی ہے۔ یہ راستہ بھی سرکار کے لئے آسان نہ ہوگا کیونکہ ایک تو وہ آئینی طور طریقوں کا سوال کھڑا ہوتا ہے اور دوسرے سرکار کی اتحادی پارٹیوں کی ناراضگی بھی ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی ہے۔ یہ عجب ہے کہ خود حکمراں سرکار میں سانجھیدار سیاسی پارٹی لوکپال کے موجودہ شقوں سے متفق نہیں۔ ترنمول کانگریس کو اب لگ رہا ہے کہ یہ بل ریاستوں کے اختیارات پر قبضہ کرنے والا ہے۔ لوکپال کو آئینی درجہ نہ حاصل ہوپانے کیلئے مخالف پارٹیوں میں ناراضی پیدا ہورہی ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ حکمراں فریق کو پہلے اس سوال کا جواب دینا چاہئے کہ کیا ان کی ساتھی پارٹیاں پوری طرح اس مسئلے پر ان کے ساتھ ہیں؟ لوک سبھا میں بحث کے رنگ دیکھ کر تعجب ہوا کے دیش کی بنیاد کھود رہے کرپشن کے خاتمے کو لیکر ہمارے جمہوری نظام کے سپریم ادارے اتنی کشیدگی میں کیوں ہیں؟ ایسی دلیلیں گڑھی جارہی ہیں۔ ایک اثر دار لوکپال ہماری جمہوریت کے لئے خطرے کی گھنٹی ہے جو توانائی کرپشن کے خاتمے کے انتظام ڈھونڈنے میں لگنی چاہئے اسے انا کی سول سوسائٹی کو نشانہ بنانے میں کیوں خرچ کی گئی۔ یہ بھی تعجب ہوا کہ سخت ہدایات جاری کرنے کے باوجود حکمراں پارٹی کے دو درجن سے زیادہ ممبران پارلیمنٹ کیسے عین موقعے سے لوک سبھا سے غائب ملے اور اپنی ہی سرکار کی کرکری کروانے کے لئے ذمہ دار بنے۔ ان میں خود کانگریس کے قریب ڈیڑھ درجن ایم پی شامل ہیں۔ دیش جس اشو پر جل رہا ہے اس پر ہمارے نمائندے کیا اتنے غیر ذمہ دار ہیں کہ اسے لوک سبھا میں لوکپال بل پاس ہوجانے کا دباؤ کہیں یا پھر غیر متوقع حمایتیوں کی بھیڑ نہ جٹانے پانے کا اثر۔ بدھوار کو انا ہزارے نے اپنا انشن بیچ میں ہی توڑدیا۔ یہ ہی نہیں انہوں نے30 دسمبر سے ممبران پارلیمنٹ کے گھروں پر اپنا مجوزہ دھرنا اور جیل بھرو تحریک بھی ملتوی کردی۔ تحریک سے اس طرح پیچھے ہٹنے کو ٹیم انا کا حوصلہ ٹوٹنے کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔ انا ممبئی میں تین دن کے انشن پر بیٹھے تھے۔ حالانکہ انہیں پہلے ہی سے بخار کی شکایت تھی لیکن وہ اپنے انشن کے فیصلے پر اڑے رہے۔ اس کے بعد کئی بار ان کی حالت کافی بگڑی اور ڈاکٹروں اور ساتھیوں نے ان کا انشن ختم کرانے کیلئے صلاح دی تھی لیکن وہ انکار کرتے رہے۔ بدھ کی شام انا نے اسٹیج پر آکر لوگوں سے خطاب کیا اور اسی دوران اپنا انشن توڑنے کا اعلان کیا۔ انا نے کہا ''سنسد میں جو کچھ ہوا وہ افسوسناک ہے۔ اب ہمارے پاس ایک ہی راستہ ہے ہم اب نیا پروگرام بنائیں گے اور ریاستوں میں جا کر کرپشن کے خلاف عوامی بیداری مہم چلائیں گے۔ لوگوں کو بتایا جائے گا کہ موجودہ حکومت نے کس طرح دیش کی جنتا کے ساتھ دھوکہ کیا ہے''۔ لوکپال بل کا یہ حشر ہوگا اس کا ہمیں پہلے ہی سے اندازہ تھا۔
Anil Narendra, Anna Hazare, BJP, Congress, Daily Pratap, Lokpal Bill, Manmohan Singh, Parliament, Vir Arjun

بھاگوت گیتاپر پابندی کی تلوار ہٹی


Published On 30th December 2011
انل نریندر
روس میں مقیم ہندوؤں نے ایک بڑی قانونی لڑائی جیت لی ہے۔ روسی صوبے سائبیریا کے شہر تومس کی ایک عدالت نے ہندو دھرم گرنتھ شری مد بھاگوت گیتاکے روسی ایڈیشن پر پابندی عائد کرنے سے متعلق دائر عرضی کو خارج کردیا۔عدالت کے اس فیصلے سے روس سمیت دنیا بھر کے ہندوؤں اور ہندوستانیوں میں خوشی کی لہر دوڑنا فطری ہی تھی۔ فیصلے سے خوش روسی ہندو کونسل کے چیئرمین اور اسکون کے لیڈر سادھو پریہ داس نے بتایا کہ چھ مہینے تک چلے قانونی داؤ پیچ کے بعد ہم جیت گئے۔ جسٹس نے گیتا پر پابندی عائد کرنے کے لئے دائر عرضی میں کہا گیا تھا کہ بھاگوت گیتا کے روسی زبان کے ایڈیشن میں تہذیبی تلخی بڑھانے اور دوسرے مذاہب کے لوگوں کے تئیں نفرت پھیلائی گئی ہے اور گیتا کے روسی ایڈیشن کو ایک مشتعل مواد میں شامل کیا جائے۔ اس کو عدالت نے نہ مانتے ہوئے عرضی کو خارج کردیا۔ اسکون کی طرف سے دلیل دی گئی تھی کہ بھاگوت گیتا ہندو دھرم کی ایک مقدس کتاب ہے اور اس مترجم ایڈیشن میں بھکتی ویدان سوامی پربھو پت کی اپنی رائے ہیں۔ اسکون کے ممبران نے الزام لگایا کہ روس کا آرتھوڈکس چرچ عدالتی معاملے میں پیچھے ہے اور وہ ہماری سرگرمیوں پر پابندی چاہتا ہے۔ فیصلے پر وزارت خارجہ کے ترجمان سید اکبرالدین نے کہا کہ ہم اس حساس مسئلے پر ذمہ دارانہ طریقے پر اس حل کی قدر کرتے ہیں اور معاملے کے خاتمے کا خیر مقدم بھی۔ ان کا کہنا ہے بھارت روس میں اپنے سبھی دوستوں کی تعریف کرنا چاہتے ہیں جن کی وجہ سے یہ نتیجہ ممکن ہوسکا ہے اور اس معاملے میں اتحاد یہ ظاہر کرتا ہے کہ بھارت اور روس کے لوگوں کو ایک دوسرے کی تہذیب کی گہری سمجھ ہے اور ہمارے معاشرے کی سانجھہ اقدار کی اہمیت کو کم کرنے کی کسی بھی کوشش کو ہمیشہ خارج کریں گے۔ہم روس کی عوام اور روس کی حکومت کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ اس بلا وجہ کی بحث کو ختم کرنے میں انہوں نے ہماری مدد کی ۔جے شری کرشن۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Vir Arjun, Russia,

29 دسمبر 2011

مایاوتی کو رائٹ آف کرنا بھاری بھول ہوگی



Published On 29th December 2011
انل نریندر
اترپردیش اسمبلی چناؤ کی تاریخوں کے اعلان سے یوپی کی تمام اپوزیشن پارٹیوں میں جوش آگیا ہے۔ سب اپنی اپنی ہانکنے میں لگ گئے ہیں۔ حکمراں بہوجن سماج پارٹی کو تو انہوں نے مان لیا ہے کہ وہ آنے والے چناؤ میں منہ کی کھا جائیں گی۔لیکن ہمیں نہیں لگتا کہ مایاوتی کو ایک خاتمہ فورس مان کر چلنا سمجھداری ہوگی۔ اندازے بھلے ہی مایاوتی سرکار کے بارے میں انتظامیہ مخالف ماحول کے لگائے جارہے ہوں لیکن بنیاد پر بسپا اتنی کمزور نہیں ہے جتنی اسے کانگریس، سپا اور بھاجپا مان کر چل رہی ہیں۔ مایاوتی نے اپنی چناؤ تیاریاں ایک سال پہلے سے ہی شروع کردی تھیں۔ صوبے کی سبھی403 سیٹوں پر بسپا نے اپنے امیدوار ڈیڑھ سال پہلے ہی طے کردئے تھے یہ الگ بات ہے کہ بہن جی نے ان میں سے کچھ کو بعد میں بدلا ہے۔ کانگریس ، سپا اور بھاجپا کوتو اپنے امیدوار فائنل کرنے میں ہیں بھاری دقتیں آرہی ہیں اور ان میں بغاوت کی حالت بنی ہوئی ہے۔ یہ صحیح ہے کہ بہن جی اس بار ووٹروں کے سامنے اپنی کسی ناکامی کا بہانا نہیں بنا پائیں گی۔معجزہ پیش کرتے ہوئے ووٹروں نے 2007 کے چناؤ میں بسپا کو206 سیٹیں دے کر واضح اکثریت دلا دی تھی۔ اسی کے دم پر مایاوتی حکومت نے اپنی میعاد پوری کی ہے۔ جبکہ ان سے پہلے تین سرکاریں نہ صرف اپنی میعاد پوری کرپائیں بلکہ بھاجپا کی حمایت پر ٹکی رہیں۔ اس بار مایاوتی کو پورے پانچ سال تک کام کرنے کی کھلی اجازت ملی ہوئی تھی اس لئے وہ ووٹروں سے اپنے کام کی بنیاد پر ہی ایک اور موقعہ پانے کی اپیل کریں گے۔ جہاں تک کانگریس کا سوال ہے بیشک راہل گاندھی اپنے مشن 2012 کے لئے دن رات ایک کئے ہوئے ہیں ۔ یوپی سیاست پر نظر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ کانگریس کی زیادہ پوزیشن ہوائی ہے۔2009 کے لوک سبھا چناؤ میں21 سیٹوں پر کامیابی مل جانے سے کانگریس یہ خوش فہمی میں بیٹھی ہے کہ یوپی کے ووٹر آنے والے 1989 سے پہلے کی مضبوط مینڈیڈ پوزیشن میں لادیں گے لیکن کانگریس اس سچائی کو نظر انداز کیسے کرسکتی ہے کہ 2009کے لوک سبھا چناؤ کے بعد جتنے بھی اسمبلی کے ضمنی چناؤ ہوئے ہیں ان میں کانگریس ایک بھی سیٹ نہیں جیت سکی۔ کہیں دوسرے نمبر پر رہی تو کہیں تیسرے نمبر پر۔ شاید یہ جانتے ہوئے کہ پارٹی نے اجیت سنگھ کے آگے گھٹنے ٹیکتے ہوئے ان سے چناوی تال میل کیا اس تال میل سے اجیت سنگھ کی پارٹی کو زیادہ فائدہ ہوگا۔ کانگریس کی پوزیشن تو وہیں کی وہیں رہنے کا امکان ہے۔ مایاوتی سوچی سمجھی حکمت عملی کے تحت مسلسل کانگریس پر حملے کررہی ہے۔دراصل وہ چاہتی ہیں کہ ووٹروں کو لگے کہ مقابلہ بس بسپا اور کانگریس کے درمیان ہے۔ بھاجپا اور سپا دونوں کو جان بوجھ کر مایاوتی نظر انداز کررہی ہیں۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ اصل ٹکر بسپا اور سپا کے درمیان ہوگی۔ پچھلے چناؤ میں بسپا کو206 ، سپا کو2 ، بھاجپا کو51، کانگریس کو22 راشٹریہ لوک دل کو 10 سیٹیں ملی تھیں۔ ملائم کو کمزور کرنے کے لئے مایاوتی اسی حکمت عملی پر چل رہی ہیں۔ مسلمان ووٹ یکمشت کسی کو نہ ملے۔ سپا سے ٹوٹ کر یہ یا تو ان کے ساتھ آیا تھا یا پھر کانگریس کے ساتھ چلا جائے۔ ویسے اس بار پیس پارٹی بھی اپنے دم خم کے ساتھ میدان میں اتر رہی ہے۔ یقینی طور سے وہ مسلمان ووٹوں پر منحصر کرے گی۔ اس لئے کہا جاسکتا ہے کہ اس مرتبہ مسلم ووٹ یکمشت کسی پارٹی کو شاید ہی ملیں۔ جہاں تک بسپا کے پختہ ووٹ بینک کا سوا ل ہے ہمیں نہیں لگتا کہ یہ کہیں اور جانے والا ہے۔''سرو جن ہتائے سرو جن سکھائے'' کا بہن جی کا نعرہ بھلے ہی بڑی ذاتوں کو راغب کرنے کے اندیشے سے اس بار اتنا کامیاب نہ رہے۔ دلت اور انتہائی پسماندہ طبقات آج بھی ان کے ساتھ ہیں کیونکہ مقابلہ کثیر پارٹی ہوگا اس لئے جس کو بھی مسلم ووٹ یکمشت ملے گا وہی جیت جائے گا۔ لیکن ایک دو علاقے ہیں جہاں ضرور بسپا کمزور پڑرہی ہے۔ پہلا تو ان کی پارٹی میں زبردست کرپشن ہے، جس کے چلتے مایاوتی کو بہت سے وزرا اور موجودہ ممبران اسمبلی کے ٹکٹ اور کرسیاں چھیننی پڑی ہیں۔ اس سے انہیں نقصان ہوسکتا ہے۔ بسپا اپنی سرکار کی بدعنوانی کو معاملوں کی قراردے کر ہلکا کرنے کی کوشش میں ہے لیکن انا کی تحریک کا اتنا اثر ضرور ہوا ہے کہ آج پورے دیش میں ایک بدعنوان مخالف ماحول بن گیا ہے۔ بابا رام دیو بھی اس بار یوپی میں دبا کر پرچار کریں گے۔ اس کا خمیازہ کانگریس کو بھگتنا پڑ سکتا ہے۔ کل ملاکر بہوجن سماج پارٹی بیشک آج کے حالات کو دیکھتے ہوئے سرکار اپنے بوتے پر نہ بنا سکے لیکن اس میں ہمیں تو کوئی شبہ نہیں بسپا یوپی اسمبلی چناؤ2012 میں سب سے بڑی پارٹی بن کر سامنے آئے گی۔
Ajit Singh, Anil Narendra, Baba Ram Dev, Bahujan Samaj Party, BJP, Congress, Daily Pratap, Mayawati, RLD, Samajwadi Party, Vir Arjun

ماتا ویشنودیوی کی بڑھتی مہما:ایک کروڑ افراد کریں گے درشن



Published On 29th December 2011
انل نریندر
ماتا ویشنو دیوی کی آستھابڑھتی جارہی ہے۔حالانکہ یہ سفر آسان نہیں لیکن اس سے ماتا کے بھکتوں پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ شمالی ہندوستان کا یہ یقینی طور سے سب سے بڑا تیرتھ استھل بن گیا ہے۔2011 میں یہاں شردھالوؤں کی تعداد ایک کروڑ کو پار کر گئی۔ حالانکہ ویشنو دیوی بور ڈ کو پچھلے سال یہ تعداد پارکرنے کی امیدتھی لیکن یہ تعداد87 لاکھ افراد کے ریکارڈ پر ہی تسلی کرنا پڑی لیکن اس سال یہ تعداد 31 دسمبر تک ایک کروڑ تک پار کرلے گی۔ یہ تب ہے جب اس وقت کشمیر کے ساتھ ساتھ کٹراور ویشنودیوی میں کڑاکے کی سردی پڑ رہی ہے۔ سال کے آخری ہفتے میں اتنی بھیڑ تو ہوتی ہے شردھالوؤں کے لئے رہنے کی جگہ کم پڑ جاتی ہے۔بیشک بورڈ نے سارے راستے بھاری انتظام کئے ہوئے ہیں لیکن پہاڑی علاقہ ہونے کے سبب انتظامی مشکلیں تو آتی ہی ہیں۔ بھاری سردی، بارش کے سبب پھسلن بھی ماتا کے بھکتوں کے قدم نہیں روک پا رہی ہے۔ یہ اسی سے ثابت ہوتا ہے کہ ابھی بھی یومیہ 15 سے16 ہزار شردھالو درشن کے لئے آرہے ہیں۔ ویسے ماتا ویشنو دیوی شرائن بورڈ کے حکام کو سردی کی چھٹیوں میں اس بھیڑ میں اضافہ ہونے کی امید ہے اور اسی امید کے ساتھ یہ بھی امید بندھ گئی ہے کہ اس یاترا کا نیا ریکارڈ بنے گا۔ ویسے تو یہ ریکارڈ پچھلے سال ہی بن جاتا لیکن پچھلے سال وادی میں بدامنی ، پتھر بازی وغیرہ کے واقعات سے شردھالو بہت ڈرے ہوئے تھے اور یہ نہیں سمجھ پائے کہ کشمیر وادی کے حالات کا کٹڑا ویشنو دیوی پر اثر نہیں پڑتا۔ پھر کئی بار یہ وارننگ بھی دی گئی کہ ویشنو دیوی آتنکیوں کے نشانے پر ہے۔ اس وارننگ نے بھی شردھالوؤں کے بڑھتے قدموں کو روکا۔ لوگوں نے اپنی طے یاترا منسوخ کردیں۔ لیکن اس سال ایک کروڑ شردھالوؤں کی تعداد پار کرنے سے شرائن بورڈ میں کافی جوش ہے اور ہونا بھی چاہئے مسافروں کی سہولت میں ہمیشہ بہتری پر گامزن شرائن بورڈ نئی نئی اسکیمیں لا رہا ہے ان میں ایک ہے کٹڑا بیس کیمپ۔کٹڑا بیس کیمپ سے لیکر ویشنو دیوی بھون اور بھون سے لیکر بھیرو وادی تک ٹرالی کی اسکیم پرکام چل رہا ہے۔ اس سے ان مسافروں کو سہولت ہوجائے گی جو عمر یا بیماری کی وجہ سے پہاڑ پر نہیں چڑھ سکتے۔ اس کے ساتھ ہی کٹڑا سے لیکر بھون تک کے13 کلو میٹر کے راستے پر سہولیات کو بڑھایا جارہا ہے۔ دراصل بڑھتی بھیڑ کے سبب ہر بار شرائن بورڈ کے انتظامات کم پڑ جاتے ہیں۔ خاص کر گرمیوں کی چھٹیوں، نوراتروں میں بھیڑ کے سبب بورڈ کے افسران کو ہر بار شرمندہ ہونا پڑتا ہے لیکن یہ بھی سچائی ہے کہ شرائن بورڈ کی تمام کوششوں کے باوجود بھکتوں کی شکایتیں اب بھی برقرار ہیں۔ سب سے زیادہ شکایتیں بھکتوں کی پوتر گپھا کے اندر ماتا کی پنڈیوں کے درشن ملنے کے وقت پر منحصر ہیں۔ بھاری بھیڑ بھاڑ کے سبب پنڈت انہیں اتنا بھی وقت ماتا کے دربار کے سامنے نہیں دیتے کہ وہ اپنے دل کی مراد سامنے رکھ سکیں۔ اس لئے کچھ بھکت تو گپھا میں گھستے ہی اپنی مراد مانگنا شروع کردیتے ہیں۔ لیکن پنڈوں کو بھی قصوروار نہیں ٹھہرایا جاسکتا۔ جب بھکتوں کی بھیڑ اتنی زیادہ ہوجائے گی تو انہیں جلد بازی کرنی ہی پڑتی ہے۔ کچھ برس پہلے سپریم کورٹ نے ایک تاریخی فیصلے میں ماتا ویشنو دیوی قیام بورڈ کے سرکاری ادارہ ہونے کا دعوی کرنے والی ایک خصوصی اجازت عرضی کو خارج کردیا۔ اس کے بعد اب ویشنو دیوی قیام بورڈ ایک غیر سرکاری تنظیم بن گئی ہے اور اس کے خلاف کوئی بھی عرضی نہیں داخل کی جاسکتی۔جے ماتا دی۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Jammu Kashmir, Mata Vaishno Devi, Vir Arjun

28 دسمبر 2011

لندن پیرس سے بھی زیادہ ٹھنڈ دہلی میں


Published On 28th December 2011
انل نریندر
دہلی کے شہریوں کو لگ رہا تھا کہ اس سال دہلی میں سردی اتنی نہیں پڑے گی جتنی پڑتی ہے۔ لیکن دیر سے ہی صحیح جب ٹھنڈ اپنے رنگ میںآئی تو اس نے سارے ریکارڈ توڑ دئے۔ گذرتے سال میں اگر آپ لندن ،پیرس یا نیویارک گئے ہوں تو اپنی یادیں تازہ کرلیں۔ اس سال نیا سال منانے کے لئے آپ کو لندن، پیرس جانے کی ضرورت نہیں ہوگی کیونکہ دہلی میں لندن، پیرس و نیویارک سے زیادہ سردی ہے۔ وہاں گئے بغیر آپ دہلی میں ہی یوروپ کا مزہ اٹھا سکتے ہیں۔ دراصل سورج غروب ہوتے ہی اپنی دہلی بھی انہی شہروں کی طرح ٹھنڈی ہوتی جارہی ہے۔ قومی راجدھانی دہلی میں ایتوار کو کم از کم درجہ حرارت 2.9 ڈگری تک پہنچ گیا تھا۔ پچھلے 10 سالوں میں دہلی میں سردی کا یہ ریکارڈ ہے۔ دہلی کا کم از کم درجہ حرارت لندن اور پیرس سے بھی کم ہوگیا۔ ان دونوں شہروں میں کم از کم 4 ڈگری سیلسیس درجہ حرارت رہا۔ یہ اور بات ہے کہ وہاں کا زیادہ تر درجہ حرارت دہلی کی بہ نسبت کم ہوتا ہے۔ لندن میں یہ 7 اور پیرس میں11 ڈگری سیلسیس رہا اس کی وجہ وہاں کی راتیں تو سرد ہیں لیکن دن میں یہ راحت ملنے والی نہیں۔ دہلی میں تو کم سے کم تھوڑی راحت ہے کہ دن کا درجہ حرارت یہاں 19 سے 20 ڈگری سیلسیس کے درمیان رہتا ہے۔ ہاں دہلی کے شہریوں کے لئے تھوڑے سکون کی بات یہ ضرور رہی کہ ان دنوں کہرے کا زور اتنا نہیں جتنا گذشتہ برسوں میں دیکھا جاتا رہا ہے۔ دن میں سوریہ دیو کے درشن ہوجاتے ہیں یہ ہی وجہ ہے کہ دن کا درجہ حرارت زیادہ ہے یعنی دن میں مزے کی دھوپ سینکئے اور تیار ہوجائے رات میں لندن پیرس کا مزہ اٹھانے کے لئے ۔ یہ سلسلہ اور کتنے دن چلتا ہے دیکھئے۔ دلچسپ اور عجب بات تو یہ ہے کہ نارتھ انڈیاکے میدانی علاقے میں پہاڑوں سے بھی زیادہ سردی پڑ رہی ہے۔ مثال کے طور پرراجستھان کے چورو میں ایتوار کو درجہ حرارت 1.4 ڈگری تھا۔ ہریانہ کے جھجھر میں 0.3 اور حصار میں 0.0 تھا جبکہ امرتسر میں یہ 0.6 رہا۔ ادھر ہماچل کے شملہ میں 6 ڈگری درجہ حرارت تھا۔ نینی تال میں بھی 6 ڈگری اور مسوری میں 4.3 رہا۔اگر ہم یوروپ کی بات کریں تو روم میں 8، لندن میں 7، پیرس میں 5، برلن میں 2 ڈگری سیلسیس رہا۔ موسم کی بھی عجب بازی گری ہے جہاں کرسمس میں برف کی امید ہوجاتی ہے وہاں درجہ حرارت اوپر چڑھ رہا ہے۔ اس کے برعکس ہریانہ کے جھجھر کے کھیتوں میں برف کی دو سینٹی میٹر موٹی پرت جم گئی تھی۔ تقریباً پورے شمالی ہند میں مسلسل سرد ہواؤں سے عام زندگی متاثر ہوئی ہے۔سردی کی وجہ سے 131 لوگ مر چکے ہیں۔ محکمہ موسمیات کے مطابق آنے والے دنوں میں بھی ٹھنڈ سے کوئی راحت ملنے کی امید نہیں ہے۔ ماؤنٹ آبومیں تو ٹھنڈ نے تو 75 سال پرانا ریکارڈ توڑدیا ہے۔ یہاں درجہ حرارت0 سے 4.3 ڈگری نیچے آگئے۔ اس سے یہاں مکانوں کی کھڑکیوں ، کاروں اور شیشوں ، پیڑ کی پتیوں اور جھیل میں برف کی چادر چڑھ گئی ہے۔ لداخ کے لیہہ میں بھی اس موسم کا سب سے سرد ترین دن رہا یہاں0 سے18.2 ڈگری درجہ حرارت نیچے رہا۔ گلمرگ ،پہلگام میں کم از کم درجہ حرارت0 سے8.4 اور 7.4 ڈگری سیلسیس نیچے رہا۔ اترپردیش میں کانپور سب سے ٹھنڈا رہا جہاں درجہ حرارت0.5 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا۔ پچھلے 24 گھنٹے میں آگرہ میں کم از کم درجہ حرارت1 ڈگری رہا جو عام 7 ڈگری سے کم تھا۔ راجدھانی لکھنؤ کا درجہ حرارت2.9 ڈگری، فیض آباد میں 3.3 ، گورکھپور میں 4.9 ڈگری سیلسیس رہا۔ کیا یہ گلوبل وارمنگ کا اثر ہے؟ اس حساب سے وہ دن بھی آسکتے ہیں جب دہلی میں برف پڑنے لگے گی۔
Anil Narendra, Cold Wave, Daily Pratap, India, London, Paris, Vir Arjun

کیا پاکستان میں آیا سیاسی بھونچال تھمے گا؟


Published On 28th December 2011
انل نریندر
پاکستان کی سیاست نہایت خطرناک دور سے گذر رہی ہے۔ لڑائی اب زرداری یعنی کہ چنی ہوئی سرکار بنام ایک طرف جنرل کیانی ، احمدشجاع پاشاتو دوسری طرف انصاف پارٹی کے عمران خاں کے بیچ چھڑ گئی ہے۔پہلے بات کرتے ہیں زرداری بنام کیانی جنگ کی۔ پاکستانی وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے ملک کی فوج کو دو ٹوک وارننگ دے دی ہے کہ فوج خود کو ملک میں اقتدار کا دوسرا مرکز نہ مانے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہماری سرکار کے خلاف تختہ پلٹ کی سازش رچی جارہی ہے۔ گیلانی نے جمعرات کو ملک میں اسامہ بن لادن کی موجودگی کا پتہ لگانے کے لئے ناکام رہی فوج کو آڑے ہاتھوں لیا تھا۔ ان کا کہنا ہے2008 میں ممبئی حملوں کے بعد ہماری سرکار دیگر اداروں کے ساتھ کھڑی رہی تھی۔ ان کا اشارہ فوج اور آئی ایس آئی کی طرف تھا۔ خبر یہ ہے کہ پاکستان حکومت طاقتور فوجی سربراہ جنرل اشفاق کیانی اور آئی ایس آئی چیف لیفٹیننٹ جنرل احمد شجاع پاشا کو ہٹانے پر بھی اب سنجیدگی سے غور کررہی ہے۔ اخبار دی نیوز نے ذرائع کے حوالے سے خبر دی ہے کہ سرکار کیانی اور پاشا سے نا خوش ہے اور یہ اب کھلا راز ہے۔ کیانی کو تین سال کی سروس میں توسیع دی گئی ہے۔ پاشا کے عہدے کی میعاد پچھلے سال ایک سال کے لئے بڑھائی گئی تھی۔ گیلانی نے یہ بھی مانا کوئی بھی ادارہ دیش کے نظام کے اندر دوسرے سسٹم کی طرح نہیں ہوسکتا۔ اس دیش کا ہر ادارہ وزیر اعظم کے تحت آتا ہے۔ ایسا دعوی کوئی نہیں کرسکتا کہ وہ سرکار کے کنٹرول سے باہر ہے۔ ہم منتخبہ اور پاکستان کی عوام کے چنے ہوئے نمائندے ہیں۔ گیلانی کا صاف اشارہ پاکستانی فوج اور آئی ایس آئی کی طرف تھا ادھر سیاسی مورچے پر پاکستان کے سابق کرکٹر اور تحریک انصاف پارٹی کے سربراہ عمران خاں نے لاہور ، قصور اور پاکستان کے دیگر شہروں کے بعد اب کراچی میں اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا ہے۔ عمران نے پاکستان کے بانی قائد اعظم محمد علی جناح کے مزار کے پاس ایک عظیم الشان ریلی میں ایک بار پھر حکمراں پاکستان پیپلز پارٹی اور بڑی اپوزیشن پارٹی مسلم لیگ نواز پر سخت نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ اگلے عام چناؤ میں کسی امیدوار کو اس وقت تک ان کی پارٹی کا ٹکٹ نہیں ملے گا جب تک وہ اپنی جائیداد کے بارے میں اعلان نہیں کرتی یا کرتا۔ انہوں نے عہد کیا کہ وہ پاکستان کو فلاحیت اور اسلامی ملک بنائیں گے۔ ان کی ٹیم میں کسی سفارشی کو جگہ نہیں ملے گی۔انہوں نے کہا کہ ان کی سرکار کی پالیسیاں90 فیصد جنتا کے لئے ہوں گی جن کے تحت ہیلتھ اور تعلیم اور انصاف مفت میں ملے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا زرداری اب زیادہ دنوں کے مہمان نہیں ہیں۔ نواز شریف کو للکارتے ہوئے عمران نے کہا کہ وہ میرے ساتھ میچ کھیلنا چاہتے ہیں تو جلدی کریں۔ ایسا نہ ہو کہ انہیں کسی ٹیم میں بھی جگہ نہ ملے۔ ان کے مطابق وہ آصف زرداری کے ساتھ بھی میچ کھیلنا چاہتے تھے لیکن وہ اب بوڑھے ہوگئے ہیں۔ عمران کو جیسی عوامی حمایت مل رہی ہے اس سے کہا جاسکتا ہے کہ مستقبل وہ ایک بڑے سیاسی کھلاڑی بن سکتے ہیں۔ دوسری طرف پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل کیانی پہلی بار خفیہ میموگیٹ دستاویز کی اصلیت کو مانتے ہوئے اسے فوج کے ساتھ ہی قومی سلامتی کے خلاف سازش قرار دے کر اس پورے معاملے کی گہری جانچ کا مطالبہ کیا ہے۔ میڈیا میں شائع خبروں میں کہا گیا ہے کہ کیانی نے یہ تبصرہ سپریم کورٹ میں دائر اپنے جواب میں کیا ہے۔ آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل شجاع پاشا نے الگ سے دئے گئے جواب میں کہا کہ وہ خفیہ میمو گیٹ کے بارے میں بھی منصور اعجاز کی طرف سے دئے گئے ثبوتوں سے مطمئن ہیں۔ کیانی نے کہا کہ خفیہ میموگیٹ کی سچائی سامنے آنی چاہئے جو کہ امریکی فوج کو بھیجا گیا تھا۔ جی او نیوز چینل نے کیانی کے حوالے سے کہا کہ اس پورے معاملے میں پاکستان کی سلامتی کو متاثر کیا ہے۔ خفیہ میموگیٹ کا مقصد ان فوجیوں کے حوصلے کو متاثر کرتا تھا جو جمہوریت ،آزادی اور قومی سلامتی کے لئے قربان کررہے ہیں۔ پاکستانی سیاست میں آیا بھونچال اب تھمنے والا نہیں لگتا۔ سیاست کے نظریئے سے آصف زرداری ،گیلانی کی سرکار بہت کمزور وکٹ پر ہے؟ اسے ایک طرف عمران خاں سے خطرہ ہے تو دوسری طرف نواز و دیگر سے۔ کٹر پسند پارٹیاں بھی اس کے امریکی پریم سے ناراض ہیں۔ دوسری طرف جنرل کیانی اور جنرل پاشا ہر حالت میں زرداری کو ہٹانے پر تلے ہوئے ہیں۔ حالانکہ کیانی یہ بھی کہہ رہے ہیں ان کا تختہ پلٹ کا کوئی ارادہ نہیں۔ اس کا مطلب صاف ہے کہ وہ پاکستان میں جمہوری نظام کو تو برقرار رکھنا چاہتے ہیں لیکن زرداری کو ہٹانے پر تلے ہوئے ہیں۔
Anil Narendra, Asif Ali Zardari, Daily Pratap, General Kayani, Pakistan, Vir Arjun

27 دسمبر 2011

لو بچھ گئی ہے 5 ریاستوں میں چناوی بساط


Published On 27th December 2011
انل نریندر
دیش کی آئندہ کی حکمت عملی طے کرنے والی اترپردیش سمیت پانچ ریاستوں میں بچھ گئی ہے چناؤ کی بساط۔ سنیچر کو چناؤ کمیشن نے پانچوں ریاستوں میں اسمبلی انتخابات کی تاریخوں کا اعلان کردیا ہے۔ اترپردیش میں پانچ مرحلوں میں چناؤ ہوں گے۔ یہاں 4-8-11-15-19-23 اور 28 فروری کو چناؤ ہوگا جبکہ اتراکھنڈ اور پنجاب میں ایک ہی مرحلے میں 30 جنوری کو پولنگ ہوگی۔ گوا میں 3 مارچ اور منی پور میں28 جنوری کو پولنگ کرایا جائے گا۔ پانچ ریاستوں کے چناؤ کی گنتی ایک ہی دن4 مارچ کوہوگی۔ چناؤ کمیشن کے ذریعے طے کردہ پانچ ریاستوں کی تاریخوں سے کانگریس پارٹی تو خوش ہوگی۔ اسے مرکزی حکومت کے ذریعے اعلان کردہ حالیہ عوام کو لبھانے والی اسکیموں کا فائدہ ملنے کی امید ہے اور سردی کا موسم ہونے کے چلتے ساگ سبزی اور دوسری غذائی چیزوں کے دام کم ہوجانے کا بھی فائدہ اسے ملتا نظر آرہا ہے۔ منی پور اور گوا جیسے چھوٹے راجیوں میں اسے اقتدار مخالف مینڈیڈ کا سامنا کرنا ہے۔ وہیں پنجاب ،اتراکھنڈ میں وہ حکمراں پارٹیوں کی اکیلی متبادل بن کر سامنے آسکتی ہے یعنی اقتدار مخالف ووٹوں کا اسے براہ راست فائدہ ملے گا۔ اگرچہ منی پور، گوا میں حکومت ہونے پر اسے نقصان ہوتا ہے تو اس کی کچھ حد تک بھرپا ئی وہ پنجاب اور اتراکھنڈ میں کر سکتی ہے۔ منی پور ،گوا کے مقابلے میں یہ دونوں ریاستیں زیادہ سیاسی اہمیت نہیں رکھتیں۔کانگریس صدر تو یہاں تک کہہ چکی ہیں کہ پنجاب، اتراکھنڈ میں ان کی پارٹی اقتدار میں آئے گی۔ اصل سوال تو اترپردیش کا ہے۔ یہاں کسی طرح کھوئی ہوئی اپنی زمین واپس حاصل کرنے کی کوشش میں لگی دونوں بڑی پارٹیاں کانگریس اور بھاجپا کی چناوی تیاریاں باقی ریاستوں سے پچھڑی ہوئی ہیں۔ خاص طور سے پنجاب اتراکھنڈ میں جہاں دونوں پارٹیوں کا سیدھا مقابلہ ہے یہاں دونوں پارٹیاں ابھی تک اپنے امیدواروں کا انتخاب تک نہیں کرسکیں۔ دراصل چناوی کلینڈر کے لحاظ سے پنجاب ،اتراکھنڈ میں پہلے چناؤ ہونے تھے لیکن سبھی نے بھانپ لیا تھا کہ اترپردیش میں بھی وقت سے پہلے چناؤ ہوسکتے ہیں یہ ہی وجہ ہے ریاست کی دو بڑی پارٹیاں بسپا اور سپا ہوں یا پھر بھاجپا کانگریس سبھی نے اپنی پوری طاقت اترپردیش میں جھونک دی تھی۔ روڈ شو سے لیکرریلیاں ، الزام تراشیاں، داؤ اور ریاست کی بسپا و مرکزکی کانگریس سرکار کے درمیان عوامی فائدے والے اعلانات کی جنگ قریب تین مہینے پہلے ہی سے چھڑ گئی تھی۔ اترپردیش میں28 فروری تک چلنے والے چناؤ کا اثر مرکزی بجٹ کے پروگراموں پر بھی پڑ سکتا ہے۔ دراصل گوا چناؤ کے سبب تین مارچ تک نافذ چناؤ ضابطے کے دوران ہی بجٹ اجلاس رہے گا اور 29 فروری تک دونوں ریل اور بجٹ پاس کرنا ضروری ہوتا ہے لہٰذا مرکز کو چناؤ ضابطے کی آنچ سے بچنے کیلئے متبادل راستوں کو تلاشنا ہوگا جس میں ممکنہ ریاستوں کے لئے اعلانات کے چلتے یا برعکس حالات میں ریل اور عام بجٹ پیش کرنے کا وقت یا تاریخ بدلنے کے امکان سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا۔ اتراکھنڈ کے وزیر اعلی نے ریاست میں چناؤ کی تاریخوں میں تبدیلی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے جنوری میں اتراکھنڈ میں کڑاکے کی ٹھنڈ ہوتی ہے دوسرا30 جنوری کو شہیدی دوس ہوتا ہے ، اس دن چناؤ کرانا ٹھیک نہیں ہیں۔ اتراکھنڈ میں30 جنوری کو ہی پولنگ ہے جبکہ وہاں کی اسمبلی کی میعاد12 مارچ تک ہے۔ اترپردیش کی موجودہ اسمبلی کی میعاد 20 مئی 2012 ء، پنجاب اسمبلی کی 14مارچ، اتراکھنڈ کی 12 مارچ، منی پور کی 15 مارچ اور گوا اسمبلی کی میعاد14 جون تک ہے۔ عام طور پر اتراکھنڈ کے چناؤ فروری اور ماچ کے پہلے ہفتے میں کرائے جاتے ہیں لیکن اس مرتبہ جنوری میں ہی کرائے جارہے ہیں۔ کانگریس نے یوپی میں ساری طاقت جھونکی ہوئی ہے۔ پارٹی کے دونوں سینئر لیڈر سونیا گاندھی ، راہل گاندھی اسی صوبے سے ممبر پارلیمنٹ ہیں اس لئے جم کر محنت کررہے ہیں۔مغربی اترپردیش میں اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کے لئے پارٹی نے راشٹریہ لوک دل سے ہاتھ ملا لیا ہے۔ مسلم ووٹوں کو گھیرنے کیلئے پارٹی نے ساڑھے چار فیصدی ریزرویشن کا کارڈ بھی کھیلا ہے۔ پچھلی بار کانگریس کو12 فیصدی مسلمانوں نے ووٹ دیا تھا اس مرتبہ یہ تعداد بڑھنے کی امید ہے۔ بنکروں کے لئے موٹا اقتصادی پیکیج، کسانوں کے لئے دو بڑی سنچائی اسکیموں کا اعلان مرکزی حکومت کرچکی ہے اس کا فائدہ بھی اسے ملنے کی امید ہے۔ ایسے میں اسے بڑی ذاتوں خاص کر براہمنوں کو بسپا سے توڑنے میں کامیابیملنے کی امید ہے۔ پارٹی کے دونوں پردیش اور ودھان منڈل کے نیتا براہمن ہیں۔ ریتا بہوگنا جوشی اور پرمود تیواری ٹھاکر نیتا کی شکل میں پردیش کے انچارج ہیں۔ دگوجے سنگھ کانگریس کے ایک طبقے کی یہ مراد پوری کردی ہے کہ جلد ہی چناؤ ہوں۔ اس کا اعلان چناؤ کمیشن نے کرکے پورا کردیا ہے۔
ہر برسر اقتدار پارٹی کو اقتدار مخالف فیکٹر کو بنیادی طور سے نمٹنا ہوتا ہے۔ کچھ حد تک بہوجن سماج پارٹی کو بھی نقصان ہوسکتا ہے۔ بہن جی کے ذریعے کافی موجودہ ممبران اسمبلی کو ٹکٹ کاٹنے سے پارٹی میں بغاوت کی پوزیشن بنی ہوئی ہے۔ بسپا کی بنیاد غریب اور کمزور دلت طبقہ ہے۔ اسے آج بھی اس کا پختہ ووٹ مانا جاسکتا ہے۔ کرپشن ، پارک، مورتیاں بنانا بھی بسپا کے خلاف چناوی اشو ہوں گے۔ سپا سپریموں ملائم سنگھ یادو کی پارٹی پہلے سے اچھی پوزیشن میں ہے۔ ان کے نوجوان بیٹے اکھلیش یادو ایک نوجوان لیڈر کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ انہوں نے اپنے دوروں سے پارٹی کے لئے اچھا ماحول بنایا ہے۔ انہوں نے اپنی اچھی دھاک جمائی ہے۔ مسلم ووٹوں پر اب بھی ملائم سنگھ کی پکڑ برقرار ہے ، راجپوت بھی ان کے ساتھ ہیں۔ بسپا کا مقابلہ ملائم سنگھ ہی کرسکتے ہیں۔ ایسی ہوا بنا کر سپا کو فائدہ ملنے کی امید ہے۔ ملائم کی ملنسار ساکھ حریفوں کو بھاری پڑ سکتی ہے لیکن ان کی تاریخ ان کے خلاف ضرور رہے گی۔ پارٹی تھانے چلاتی ہے، یہ ساکھ ابھی تک ٹوٹنے نہیں پائی۔ مسلمان ووٹوں کا بٹوارہ طے ہے۔ کانگریس ۔ بسپا میں یہ ووٹ بٹے گا۔ ملائم یہ نہیں مان کر چل سکتے کے مسلم ووٹ ایک طرفہ انہیں ملے گا۔ رہی بات بھاجپا کی پارٹی کو امید ہے کہ مسلمانوں کو ریزرویشن کے اشو پر ان کے حق میں مخالف ووٹ جائے گا اور سورن ووٹ کا پولارائزیشن ہوگا۔ انا ہزارے کی تحریک کا سب سے زیادہ فائدہ اسے ہی ملنے کی امید ہے۔ راجناتھ سنگھ ، کلراج مشر، اڈوانی کے دوروں سے سرکار مخالف ماحول جوڑنا ہے۔ بھاجپا کو امید ہے کہ چناؤ میں پارٹی کو اس کا فائدہ ضرور ملنے والا ہے لیکن ریاست میں مقامی لیڈروں کی اپنی رسہ کشی پارٹی کو بھاری پڑ سکتی ہے۔ کل ملاکر اب جب پولنگ کی تاریخیں اعلان ہوچکی ہیں سبھی کی ریاست کی سیاست میں تیزی آئے گی۔ کانگریس کے لئے جہاں اترپردیش سب سے بڑی چنوتی ہوگی وہیں بھارتیہ جنتا پارٹی کے لئے پنجاب ، اتراکھنڈ میں اپنی سرکاروں کو دوبارہ سے برسر اقتدار لانا ہوگا۔ ویسے اتراکھنڈ میں آج تک کوئی حکمراں پارٹی پھر سے اگلی مرتبہ جیت کرنہیں آئی۔ کیا پتہ اس مرتبہ یہ تاریخ بھون چندر کھنڈوری بدل دیں۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Goa, Manipur, Punjab, Rahul Gandhi, Sonia Gandhi, State Elections, Uttar Pradesh, Uttara Khand, Vir Arjun

سی بی آئی کا سرکار کے چنگل سے نجات پانے کا خواب ٹوٹا


Published On 27th December 2011
انل نریندر
سی بی آئی کے مستقبل کو لیکر حکومت و ٹیم انا اور اپوزیشن آمنے سامنے آگئے ہیں۔ سی بی آئی پر انا ہزارے کی مانگ مسترد کردی گئی ہے۔ حکومت نے اسے لوکپال کے دائرے سے باہر رکھا ہے۔ سی بی آئی کا کوئی آزادانہ مقدمے میں سیدھے طور پر استعمال کے لئے لوک پال کے دائرے میں نہیں رکھا گیا ہے۔ لیکن لوکپال کرپشن سے جڑے کسی معاملے کی جانچ کی سفارش سی بی آئی سے کرسکتا ہے۔ سی بی آئی آزادانہ پینل قائم کرے گا۔ جس میں وزیراعظم اپوزیشن لیڈر، چیف جسٹس شامل ہوں گے۔ سی بی آئی میں ایس پی و ا س سے اوپر کے اعلی افسروں کی مقرر ایک کمیٹی کرے گی۔ اس میں سی بی سی کمشنر، ہوم سکریٹری، محکمہ پرسنل کے سکریٹری شامل ہوں گے۔ سی بی آئی جانچ کے لئے جانچ ڈائریکٹر کا عہدہ بنایا گیا ہے۔ لوکپال کے مجوزہ خاکے میں سی بی آئی میں گہری مایوسی ہے۔اس سے جانچ ایجنسی کی سرکار کے چنگل سے نجات پانے کی امیدوں پر پانی پھر گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی لوکپال کے ذریعے سونپے گئے معاملوں میں چارج شیٹ کے لئے پہلے اجازت لینے کی سہولت سے اس کی موجودہ آزادی پر بھی سوالیہ نشان لگ رہے ہیں۔ راحت کی بات صرف اتنی ہے کہ تقرری کے عمل میں وزیر اعظم ، اپوزیشن لیڈر اور ہندوستان کے چیف جسٹس کے شامل ہونے سے سی بی آئی ڈائریکٹر کے عہدے کا وقار بڑھ گیا ہے۔ ایک افسر کے مطابق ایجنسی کی مختاری کی بات بے معنی ہے۔ سی بی آئی کے حکام کوترقی یا معذولی سے لیکر چھوٹے چھوٹے خرچ تک کے لئے سرکار کا منہ تاکنا پڑے گا۔ ایسے میں جانچ ایجنسی سے پارلیمنٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹی کے ذریعے بنائے گئے لوکپال کے خاکے پر 6 اعتراضات درج کرائے گئے ہیں۔ اسے لیکر سی بی آئی ڈائریکٹر خود وزیر اعظم سے ملے تھے۔ لیکن ان 6 اعتراضات میں تھے ایک پوری اور ایک ادھوری خامی دور کی گئی ہے۔ سی بی آئی ڈائریکٹر کی تقرری میں وزیر اعظم، اپوزیشن لیڈر اور آئینی ادارے کے چیف کو شامل کرنے کی مانگ پوری کی گئی لیکن ایف آئی آر اور چارج شیٹ داخل کرنے کی مختاری میں جانچ ایجنسی کو سمجھوتہ کرنے کے لئے مجبور کیا گیا ہے اس کے تحت لوکپال کے ذریعے سونپے گئے معاملوں میں سی بی آئی چارج شیٹ کرنے کے لئے آزادنہ ہوگی۔ سی بی آئی کاکہنا ہے جانچ ایجنسی(پولیس یا سی بی آئی) کے افسر معاملے کی چھان بین کرتے ہیں اور چھان بین کی بنیاد پر تفتیشی افسر اپنی قطعی رپورٹ عدالت میں پیش کرتا ہے ۔ یہ رپورٹ چارج شیٹ یا کلوزر رپورٹ دونوں میں سے کچھ بھی ہوسکتی ہے۔ آئی او چھان بین کی بنیاد پر یہ طے کرتا ہے کہ چارج شیٹ ہوگی یا کلوزر رپورٹ۔ لیکن لوکپال بل کی دفعہ20(7) میں یہ سہولت شامل کی گئی ہے کہ اس رپورٹ کو کورٹ میں پیش کئے جانے سے پہلے لوکپال کے سامنے رکھا جائے اور وہ طے کرے گا معاملے میں کیا کرنا ہے۔جبکہ لوکپال سے وابستہ شخص پولیس افسر نہیں ہوگا اور اسی طرح یہ سی آر پی سی کی دفعہ173 کے تقاضوں کے برعکس ہوگا۔ سی بی آئی کے مطابق اسے اقتصادی اور انتظامی مختاری کی ضرورت ہے۔ سی بی آئی ابھی بھی سرکار پر اقتصادی اور انتظامی طور پر منحصر ہے۔ اسی سبب لوگوں میں یہ خیال ہے کہ سی بی آئی کو متاثر کیا جاسکتا ہے۔ لوکپال بل میں اس کے بارے میں کوئی بھی سہولت نہیں ہے۔ کل ملاکر لوکپال کے موجودہ اور مجوزہ ڈرافٹسے سی بی آئی میں گہری مایوسی ہے اور اس سے جانچ ایجنسی کے سرکار کے چنگل سے نجات پانے کی امیدوں پر پانی پھر گیا۔
Anil Narendra, CBI, Daily Pratap, Lokpal Bill, Vir Arjun

25 دسمبر 2011

نو سال بعد امریکی عراق سے کھسکے


Published On 25th December 2011
انل نریندر
صدام حسین کو اقتدار سے ہٹانے کیلئے چھیڑی گئی جنگ کے 9 سال بعد امریکہ کی آخری فوجی ایتوار کی صبح عراق کی سرحد پار کرکویت میں داخل ہوا اور اس کے ساتھ ہی امریکہ کا عراق پر حملہ ایک طرح سے ختم ہوگیا ہے۔ ایک سادہ تقریب میں اپنے فوجی بیڑے کو اتارنے کے ساتھ ہی پچھلے 9 سال سے جاری امریکی فوجی کارروائی کا خاتمہ ہوگیا۔ بدقسمتی دیکھئے کہ جب امریکی فوجیوں کی آخری ٹکڑی عراق چھوڑ رہی تھی اس وقت عراقی فوجی بیرکوں میں سو رہے تھے۔ جن فوجیوں نے 9 سال تک امریکی اتحاد کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر 'دہشت گردی کے خلاف لڑائی ' لڑی تھی انہوں نے شکر منایا کہ امریکی ان کے دیش سے چلے گئے۔ اب امریکی سفارتخانے پر 100 کے قریب سینک ہی بچے ہیں۔ ایک وقت تھا جب عراق میں 505 ٹھکانوں میں تقریباً1 لاکھ70 ہزار فوجی تھے۔ سارجنٹ ہومان آسٹن نے کویت میں اپنی گاڑی سے نکلنے کے بعد کہا کہ عراق سے نکلنا اچھا لگا۔ سابق صدر جارج بش دوئم کے ذریعے 'وار آن ٹریرر اینڈ ڈسٹکشن آف ماسک آف ماسک ڈسٹکشن کمپین' میں قریب ساڑھے چار ہزار قریبی اور ایک لاکھ عراقی لوگوں کی جانیں گئیں۔ اس کے ساتھ ہی اس خطرناک جنگ نے امریکہ کو دیوالیہ بنوادیا اور امریکہ کے خزانے سے800 ارب ڈالر خرچ ہوئے۔ 17.5 کروڑ عراقی بے گھر ہوگئے۔ امریکی فوجیوں کی واپسی کے ساتھ ہی عراق میں فرقہ وارانہ کشیدگی، تشدد اور سیاسی عدم استحکام کی پریشانی ستا رہی ہے۔ امریکہ اپنی پیٹھ ٹھونک رہا ہے۔ امریکی وزیر دفاع لیون پینیٹا نے کہا کہ امریکی اور عراقی لوگوں کے خون بہانے کے بعد آخر کار عراق کے خود پر حکومت کرپانے اور اپنی سلامتی یقینی کرنے کا مقصد پورا ہوگیا ہے۔ صدام حسین کو تو پھانسی پر لٹکادیا گیا لیکن نتیجہ کیا نکلا؟پہلے سے زیادہ عدم استحکام ہوگیا ہے اور آج دیش میں سیاسی ٹکراؤ کے حالات بنے ہوئے ہیں۔ عراق میں آج بھی سنی ۔شیعہ لڑائی ، نازک اقتدار میں سانجھیداری، بدعنوانی اور کمزور معیشت کے ساتھ جنگ لڑ رہا ہے۔ القاعدہ نے عراق کے فالوجا کو اپنا گڑھ بنا لیا ہے اور وہاں امریکی فوج کی واپسی کا باقاعدہ جشن منایا گیا۔ لوگوں نے امریکی جھنڈے جلائے اور اپنے بدعنوانی رشتے دارو ں کی تصویریں ہوا میں لہرائیں۔ صدر براک اوبامہ نے عراقی وزیر اعظم نوری المالکی کو بتایا کہ واشنگٹن اپنے فوجیوں کی واپسی کے بعدبھی اس کا رائل پارٹنر بنا رہے گا۔ آج تک ہمیں یہ نہیں سمجھ میں آیا کہ بش نے آخر عراق پر حملہ کیوں کیا؟ کہا گیا تھا کہ عراق میں صدام کے پاس تباہی کے ہتھیار ہیں اور ان پر قبضہ کرنا ضروری ہے لیکن 9 سال میں امریکہ ایک بھی ایسا ہتھیار یا فیکٹری نہیں دکھا سکا جس سے یہ الزام ثابت ہوتا۔ نہ تو عراق میں کوئی نیوکلیائی ہتھیار ملا اور نہ ہی وہاں کی عوام کو'' نجات'' ملی۔ اس کے برعکس' حملہ آور فوج' کے خلاف عراق میں بغاوت تب تک جاری رہی جب تک آخری غیر ملکی فوجی نے خاموشی سے ملک نہیں چھوڑا۔ کیا امریکہ کو یہ ڈر تھا کہ جاتے ہوئے فوجیوں پرباغی حملہ کردیں گے؟ حقیقی معنی میں امریکہ یہ جنگ جیت نہیں پایا اور نہ ہی اسے سیاسی کامیابی ملی۔ جو امریکہ کے حق میں کھڑے تھے وہ بھی ساتھ چھوڑ گئے۔ نئے حکمراں جو درپردہ طور سے امریکہ کی مدد سے اقتدار میں آئے تھے زیادہ دنوں تک امریکہ کے مشورے سے بندھے ہوئے نہیں رہے۔ ایسا لگتا ہے کہ عراق کو امریکہ نے گنوا دیا ہے۔ صحیح بات تو یہ ہے کہ واشنگٹن کبھی بھی بغداد کو جیت نہیں سکا۔ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ عراقیوں نے غیر ملکی قبضے کے خلاف لڑائی چھوڑدی ہے۔ کیا یہ مانا جائے کے امریکی فوجی مہم کا بھی وہی حشر ہوا جو ویتنام میں ہوا تھا۔ بیشک آج امریکہ دعوی کرے اس نے یہ جنگ جیت لی ہے لیکن حقیقت یہ ہے امریکہ یہاں بھی جنگ ہارگیا ہے۔ کم سے کم وہ مقصد پورا نہیں کرسکا جس کے لئے وہ عراق گیا تھا۔ عراق کے سامنے شاید آج سب سے بڑی چنوتی دیش میں عدم استحکام لانے کی ہے۔ سیاسی استحکام اور اقتصادی مضبوطی اور یہ کام آسان نہیں ہوگا۔ امریکی فوجی مہم کے سبب پورے مشرقی وسطیٰ میں کٹر واد کو بڑھاوا ملا ہے۔ القاعدہ کو پاؤں پھیلانے کا موقعہ ملا ہے پھر شیعہ، سنی ، کرد لڑائی تیز ہوئی ہے۔ آج عراق میں اقتدار کے کئی مرکز بن گئے ہیں۔دیکھا جائے تو جنگ کے بعد عراقی قوم پرستی کے نام پر کچھ بھی نہیں بچا ہے بلکہ بٹا ہوا سماج چھوڑ کر امریکی بھاگ گئے ہیں۔ امریکی اپنے پیچھے 30 کرور ڈالر کے ہتھیار عراقی فوج کے ممکنہ استعمال کے لئے بھی چھوڑ گئے ہیں کیونکہ انہیں افغانستان واپس امریکہ لے جانے کا خرچ بہت زیادہ ہوسکتا تھا۔ امریکی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو اس میں کوئی شبہ نہیں کہ صدر براک اوبامہ نے اپنا وعدہ نبھایا ہے۔ اوبامہ نے چناؤ مہم کے دوران انہوں نے عراق جنگ کے خلاف آپریشن چلایا تھا اور 2012 ء کے صدارتی چناؤ کا سامنا کرنے سے کافی پہلے ہی انہوں نے یہ وعدہ نبھادیا۔ امید ہے کہ عراق میں اس خطرناک فوجی آپریشن کے خاتمے سے امریکی معیشت پر بھی مرہم لگے گی۔ اور اس پر جو بوجھ تھا وہ بھی کم ہوگا۔ امریکی تاریخ میں یہ ضرور پوچھا جائے گا کہ امریکہ نے عراقی فوجی آپریشن میں کیا کھویا اور کیا پایا؟ جارج برش جونیئر ہیرو تھے یا ویلن؟
Anil Narendra, Daily Pratap, Iraq, Labels: America, Obama, USA, Vir Arjun

پاکستان کے ستائے ہندو کنبوں کو ہندوستان میں پناہ کیوں نہیں؟


Published On 25th December 2011
انل نریندر
گذشتہ ہفتے راجیہ سبھا میں پاکستان میں ستائے ہندو کنبوں کا بھارت آنااور یہاں کی شہریت لینے کا معاملہ اٹھا۔قابل ذکر ہے کہ پاکستان میں بسے ہندوؤں پر وہاں بہت مظالم اور سختیاں ہورہی ہیں۔ آئین کے اندر اپنی سلامتی کو لیکرکافی پریشان ہیں۔ یہ ہندو کنبے ہندوستانی ویزا پر بھارت آئے تھے۔ لیکن اب یہ چاہتے ہیں کہ اپنے دیش میں ہی رہ جائیں۔ اس لئے انہوں نے سرکار سے ہندوستانی شہریت مانگی ہے۔ دہلی ہائیکورٹ میں اس مانگ کو لیکر ایک عرضی بھی دائر ہوئی ہے۔ دہلی ہائی کورٹ نے ان 151 پاکستانی ہندوؤں کو پاکستان واپس بھیجنے پر فی الحال روک لگا دی ہے۔ ان کے ویزا تین مہینے پہلے ختم ہوگئے تھے۔ عدالت نے سرکار سے پوچھا ہے کہ انہیں بھارت کی شہریت کیوں نہ دی جائے؟ سرکار کے پاس فروری تک کا وقت ہے اس سوال کا جواب دینے کا۔ لیکن کیونکہ بھارت سرکار کی اس معاملے میں کوئی طے شدہ پالیسی نہیں ہے اور وہ کیس ٹو کیس ہی فیصلہ کرتی ہے اس لئے ان ڈرے کنبوں میں سرکار کے فیصلے کولیکر خدشہ بنا ہوا ہے۔ ہماری رائے میں تو سرکار کو ایسے معاملوں سے نمٹنے کے لئے کوئی ٹھوس نیتی بنانی چاہئے۔ ہندوستانی نژاد دیش واسی جو بیرونی ملک میں رہتے ہیں چاہے وہ کسی بھی مذہب کے کیوں نہ ہوں ،اگر وہ بھارت واپس آکر بسنا چاہتے ہیں تو انہیں ایسا کرنے دینا چاہئے۔ ہو یہ رہا ہے کہ یہ کسی ٹھوس پالیسی کی کمی میں چھوری چھپے غلط راستوں سے واپس آجاتے ہیں اور یہاں ہی رہنے لگ جاتے ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ ایسا پہلے بھی دیکھنے کو ملا ہے۔ جب1971ء کی بنگلہ دیش جنگ کے بعد لاکھوں بنگلہ دیشی ہندو جنہیں شبہ تھا پاکستانی فوج ان کا قتل عام کرے گی۔ افغانستان میں طالبان کے قہر سے بچنے کیلئے سینکڑوں سکھ پریوار بھارت آئے ہیں۔ تبت میں چینی مظالم سے بچنے کے لئے لاکھوں بودھ بھارت آ بسے ہیں۔ ایسے میں پاکستان سے آئے ہندو کنبے بھارت میں کیوں نہیں بس سکتے۔ ہم بھارت سرکار کو یاد دلانا چاہتے ہیں کہ آج کی تاریخ میں لاکھوں کی تعداد میں بنگلہ دیشی مسلمان بھارت میں آکر بس گئے ہیں۔ یہ سب غیر آئینی طریقے سے بسے ہوئے ہیں ان کے راشن کارڈ بھی بن گئے ہیں شناختی کارڈ بھی بن گئے ہیں اور بھارت سرکار میں اتنی ہمت نہیں کہ انہیں باہر نکال سکے۔ کئی مرتبہ عدالتوں میں بھی یہ معاملہ اٹھا ہے لیکن ہر بار دو چار بنگلہ دیشیوں کو نکالنے پرکارروائی رک جاتی ہے۔ ہماری سرکار سے درخواست ہے کہ قسمت کے مارے ان 151 ہندوکنبوں کو جو پاکستان سے اجڑ کر آئے ہیں انہیں بھارت میں بسنے کی اجازت دی جائے تاکہ وہ اپنی زندگی پھر سے شروع کرسکیں۔ بھارت سرکار نے حالیہ برسوں میں بیرونی ممالک میں بسے ہندوستانی نژاد لوگوں سے رابطہ قائم کیا ہے۔ سرکار کی منسٹری آف اوور سیز انڈینز کو پہل کرنی ہوگی کیونکہ وہ ہی سب سے رابطے میں ہے اورا نکا دکھ درد سمجھتی ہے۔ وزارت ک ایسی پالیسی بنانی ہوگی جس سے بیرونی ممالک میں بسے ہندوستانی اپنی سرزمین سے ہمیشہ جڑے رہیں اور جب وہ واپس آکر یہاں سیٹل ہونا چاہیں تو انہیں ایسا کرنے کی اجازت ہونی چاہئے۔ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ بہت سے غیر ہندوستانی بیرونی ممالک میں کسی نہ کسی مجبوری کے چلتے ہی جاتے ہیں۔ ہمیں اپنے ہندو، سکھ، مسلم و دیگر کسی بھی مذہب سے وابستہ ہندوستانیوں کا خیر مقدم کرنا چاہئے۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Pakistan, Pakistani Hindu, Vir Arjun

24 دسمبر 2011

اور اب مسلم ریزرویشن کاپتاّ


Published On 24th December 2011
انل نریندر
مرکزی کیبنٹ نے جمعرات کو اقلیتوں کے لئے ساڑھے چار فیصد ریزرویشن دیکر مسلمانوں میں کارڈ کھیل دیا ہے۔ اب پسماندہ طبقوں کے لئے مقرر 27 فیصدی ریزرویشن میں سے یہ ساڑھے چار فیصدی حصہ اقلیتوں کے لئے ہوگا۔ اسے آنے والے اسمبلی چناؤ میں کانگریس کا مینڈیٹ بڑھنے کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔بدعنوانی، لوکپال ، بلیک منی جیسے برننگ اشوز سے گھری یوپی اے حکومت نے اپوزیشن میں تقسیم اور دیش کی توجہ پیچیدہ مسائل سے ہٹانے کیلئے یہ قدم اٹھایالگتا ہے۔ جمعرات کو غذا کا حق دینے والے بل کو پارلیمنٹ میں پیش کرنے والی منموہن سنگھ حکومت نے شام کو ہی تعلیمی اداروں اور سرکاری نوکریوں میں اقلیتوں کو ریزرویشن کاتحفہ دے کر ایک تیر سے کئی نشانے لگانے کی کوشش کی ہے۔ کچھ برس پہلے رنگناتھ مشر کمیشن نے مسلمانوں کی حالت کو بہتر کرنے کیلئے ریزرویشن کی سفارش کی تھی لیکن آئین مذہب کی بنیاد پر ریزرویشن دینے کی اجازت نہیں دیتا۔ اس لئے پسماندہ طبقوں کی فہرست میں اقلیتوں کو ریزرویشن دے کر مسلمانوں کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کتنی کارگر ہوگی یہ تو مستقبل ہی بتائے گا۔ سیاسی مجبوریوں کے چلتے حکومت نے مسلم ریزرویشن بیشک کردیا ہے یا کرنے کی نیت صاف کردی ہے لیکن سپریم کورٹ میں یہ معاملہ ٹھہرپاتا ہے یا نہیں؟ سپریم کورٹ دس سال پہلے اترپردیش کی اس وقت کی بھاجپا سرکار کی ایسی پہل پر روک لگا چکی ہے۔
اترپردیش کے وزیر اعلی رہنے کے دوران راجناتھ سنگھ نے پچھڑے طبقوں کو27 فیصدی کوٹے سے ہی انتہائی پسماندہ طبقوں کو الگ سے ریزرویشن کے لئے سماجی انصاف کمیٹی بنائی تھی۔ کمیٹی کی ہی سفارش پر اترپردیش حکومت نے اسمبلی سے پاس یوپی لوک سیوا (درجہ فہرست ذاتوں و شیڈول قبائل ریزرویشن) ترمیم ایکٹ 2001 ء لاگو تو کردیا لیکن اسی حکومت کے وزیر سیاحت رہے اشوک یادو نے اسے سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا جبکہ کچھ دیگر تنظیمیں بھی سرکار کے خلاف سپریم کورٹ گئی تھیں۔ اس معاملے میں سپریم کورٹ نے راجناتھ سنگھ سرکار کے اس فیصلے پر روک لگا دی تھی۔ اس درمیان پسماندہ طبقوں کے ہی کوٹے سے مسلمانوں کو ریزرویشن کی پہل پر یادو نے کہا کیونکہ کوٹے کے اندر ایک اور کوٹے پر سپریم کورٹ 10 سال پہلے روک لگا چکا ہے۔ ایسے میں مرکزی حکومت مسلم ریزرویشن کو لیکر اگر واقعی سنجیدہ ہے تو آئین میں ترمیم لائے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ الگ الگ پارٹیوں کی رہنمائی کرنے والے پسماندہ طبقوں کے کئی نیتا جن میں مسلمان بھی شامل ہیں۔ پسماندہ طبقے کے کوٹے سے مسلم ریزرویشن کے خلاف ہیں۔ لیکن مسلم کوٹے کے چلتے وہ کھل کر اس کی مخالفت نہیں کرنا چاہتے۔ سیاسی پارٹیاں صرف ایسا اس لئے کررہی ہیں کیونکہ وہ آنے والے چناؤ میں مسلم فرقے کے تھوک میں ووٹ حاصل کرنا چاہتی ہیں۔ مسلم ریزرویشن کی وکالت کرنے والی پارٹیوں کے پاس اس سوال کا شاید ہی کوئی جواب ہو کے انہیں ابھی تک اس فرقے کی پسماندگی کیوں نہیں نظر آئی؟ کیا ریزرویشن سے مسلم فرقے کے مسائل ختم ہوجائیں گے؟ ہمارے مسلمان بھائیوں کی ایک بڑی پریشانی یہ ہے کہ اتنے برسوں بعد بھی انہیں صحیح لیڈر شپ نہیں مل سکی۔ جو نیتا خود کو ان کا ہتیشی بتاتے ہیں ان کی دلچسپی صرف ان کے ووٹ لینے میں ہے یہ ایک سچائی ہے۔ مسلم فرقہ پسماندگی سے دوچار ہے لیکن اس بنیاد پراسے قومی دھارا سے باہر قراردینا اور اسے جان بوجھ کر ایک دائرے میں محدود کرنا ہے۔
تعلیم کا ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔ پچھلے دنوں ایک کانفرنس ہوئی تھی اس میں بتایا گیا کہ دہلی کے اسکولوں میں سینکڑوں ٹیچروں کی اسامیاں خالی ہیں۔ انہیں بھرنے کی کوئی کوشش نہیں کی۔ سچر کمیٹی کی سفارشیں بھی مسلم فرقے کا معیار بڑھا سکتی ہیں۔ لیکن افسوس سے کہا جائے گا کہ اس پر کوئی عمل نہیں ہوا۔ جب تک مسلم سماج میں تعلیم نہیں بڑھائی جاتی تو اس کی فلاح مشکل ہوتی لگ رہی ہے۔ ضرورت تو آج اس کی ہے کہ ایسا کوئی سسٹم بنائیں جس میں ہندوستانی سماج کے جو محروم غریب ہیں ان سبھی کی بھلائی ہو۔کسی بھی ذات یا فرقے یا سیکٹر یا کسی بھی مذہب کے ہوں؟
Anil Narendra, Congress, Daily Pratap, Minority, Muslim Reservation, Rangnath Misra, Uttar Pradesh, Vir Arjun

جج انکل! جنک فوڈ کو پلیز بین کرو


Published On 24th December 2011
انل نریندر
بدھوار کو دہلی ہائیکورٹ میں ایک عجیب و غریب نظارہ دیکھنے کو ملا۔ معاملہ تھا دہلی کے اسکولوں اور کالجوں میں جنک فوڈ پر پابندی لگانے کا۔ عام طور پر ہائیکورٹ میں بچاؤ اور مخالف وکلاء اپنی اپنی دلیلیں پیش کرتے نظرآتے ہیں لیکن بدھ کو کچھ اسکولی بچے خود عدالت میں پیش ہوئے اور جنک فوڈ کو بین کرنے کے لئے عدالت سے درخواست کی۔ قائم مقام چیف جسٹس اے کے سیکری کی رہنمائی والی ڈویژن بنچ نے بچوں کی دلیلوں کو کافی سنجیدگی سے لیا اور دوسرے فریقین سے جواب داخل کرنے کو کہا۔
بچوں نے جج انکل سے کہا جنک فوڈ کو بین کرو پلیز۔ بچوں نے درخواست کی جنک فوڈ پر اسکولوں کی کینٹین اور اس کے آس پاس بکری پر بھی پابندی لگائی جانی چاہئے۔ عدالت کے سامنے گوتم نگر کے فادر ایگنل اسکول کے کچھ بچے دہلی ہائی کورٹ میں آئے۔ ان کی عمر قریب12 سے16 سال ہوگی۔ ان اسکولی بچوں کے ساتھ ان کی ٹیچر بھی تھیں۔ اسکولی بچوں کے وکیل نے عزت مآب جج صاحبان سے کہا کہ ان بچوں نے جنک فوڈ کے خلاف ایک مہم چلائی ہے اور عدالت سے کچھ کہنا چاہتے ہیں۔ پھر ہائیکورٹ کی ڈبل بینچ ان سے مخاطب ہوئی۔ بچوں کے گروپ سے ایک لڑکی آگے بڑھی اور کہا کہ ہم سب فادر ایگنل اسکول سے ہیں اور ہم جنک فوڈ پر پابندی لگوانا چاہتے ہیں۔ ساتھ ہی اس نے جج صاحبان کی طرف اپنی نمائندگی اور پوسٹ کارڈ بڑھایا۔ قریب15 سال کی اس لڑکی نے ہائیکورٹ کے ججوں سے کہا کہ وہ تمام طلبا کی طرف سے اپیل کررہی ہے جس پر غور کیا جانا چاہئے۔
بچوں کی اس نمائندگی میں کہا گیا ہے کہ یہ معاملہ کافی اہمیت کا حامل ہے۔ جنک فوڈ کھانے سے بچے کاہل ہورہے ہیں اور مستقبل کے لئے یہ جنک فوڈ خطرناک ہے۔تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ جنک فوڈ سے بچوں کی ذہانت کمزور ہوتی ہے اور ان کی صلاحیت بھی کمزور ہورہی ہے۔ جنک فوڈ ایک لت کی طرح ہوتے ہیں جو سلو موت کی طرف لے جاتے ہیں۔ اپنی نمائندگی میں بچوں نے کہا کہ سرکار کی یہ آئینی ذمہ داری ہے کہ بچوں کے حقوق کی حفاظت کرے۔ بچوں کو تو یہ پتہ نہیں ہوتا کہ ان کے لئے کیا اچھا ہے کیا برا؟ اقوام متحدہ کے چارٹر میں بھی بچوں کے حقوق کے تحفظ کی بات کہی گئی ہے۔
اگر بچوں کی صحت خراب ہوگی تو دیش کا مستقبل متاثر ہوگا اور دیش کو دور رس نقصان ہوگا۔ عزت مآب جج صاحبان نے کہا بچوں کے ذریعے اٹھائے گئے سوال کافی اہم ہیں۔ انہوں نے فوڈ پروسننگ و تقسیم کار کمپنیوں کی ایسوسی ایشن و مرکزی حکومت سے اس معاملے پر ایک ہفتے میں جواب مانگا ہے۔ اتنا ہی نہیں ڈویژن بنچ نے ان کمپنیوں کی ایسوسی ایشن سے ذائقہ دار غذاکا متبادل بھی تیار کرنے کو کہا ۔ وہیں مرکزی حکومت کی جانب سے ایڈیشنل سالیسٹر یعنی سرکاری وکیل ایس مدھوک نے کہا کہ تعلیمی اداروں و اس کے آس پاس جنک فوڈ کی بکری پر پابندی لگانے کے لئے سبھی ریاستی سرکاروں اور یونیورسٹیوں کے وائس چانسلر کو ہدایات جاری کی گئی تھیں جس کا جواب آنے لگا ہے۔ انہوں نے کہا اگلی سماعت11 جنوری کو ہے اسی دن یہ سب حقائق پیش کردئے جائیں گے۔ جنک فوڈ سے نہ صرف موٹاپا بڑھتا ہے بلکہ شگر جیسی سنگین بیماریاں بھی ہورہی ہیں۔ حال ہی میں ایک سروے میں یہ ثابت ہوا ہے بچوں نے اب خود ہی اس کا بیڑا اٹھایاہے دیکھیں ان کی یہ مہم کیا رنگ لاتی ہے۔ ساری دنیا میں اب اس جنک فوڈ کی مخالفت ہورہی ہے۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Delhi High Court, Junk Food, Vir Arjun

23 دسمبر 2011

لوکپال بل پر ٹکراؤ کا پورا امکان ہے


Published On 23rd December 2011
انل نریندر
حکومت اور انا ہزارے کا ٹکراؤ اب ہونا یقینی ہے۔ کیونکہ حکومت نے واضح کردیا ہے کہ نہ تو اسے ٹیم انا سے کوئی ڈر ہے اور نہ ہی اب وہ اس کے سامنے جھکنے کو تیار ہے۔ وہ ٹیم انا سے لمبی لڑائی لڑنے کو بھی تیار ہے۔ یہ وارننگ کانگریس صدر سونیا گاندھی بھی دے کر میدان میں آگئی ہیں۔ انہوں نے معاملے میں پوری کمان سنبھال لی ہے۔ سونیا گاندھی نے لوکپال کو بنیاد بناتے ہوئے انا ہزارے اور دیگر اپوزیشن پارٹیوں کو سیدھا چیلنج کردیا ہے کہ سرکاری لوکپال بل کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اب انا اور اپوزیشن کو مان لینا چاہئے اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو کانگریس پانچ ریاستوں کے آنے والے چناؤ میں ان دونوں کی چنوتیوں سے نمٹنے اور لمبی لڑائی کے لئے تیار ہے۔ کانگریس پارلیمانی پارٹی کی میٹنگ میں جارحانہ تیور دکھاتے ہوئے سونیا گاندھی نے پہلی بار لوکپال پر اپنے نظریات رکھے۔ حکومت اور تنظیم کے درمیان کسی بھی اختلافات کو درکنار کرتے ہوئے صاف کہا یہ بل بہت اچھا بنا ہے اور اسے پاس کرانے میں اپوزیشن کو اڑچن نہیں پیدا کرنی چاہئے اور انا ہزارے کو بھی قبول کرلینا چاہئے۔ لیکن انا ہزارے کو موجودہ شکل میں لوکپال بل منظور نہیں ہے۔ سب سے بڑا اختلاف سی بی آئی اور گروپ سی کے افسر شاہوں کو لوکپال کے دائرے سے باہر رکھنے کو لیکر ہے۔ انا نے اپنی مہم تیز کرتے ہوئے کہا کہ سی بی آئی کو لوکپال کے دائرے سے باہررکھنے کیلئے سرکار کی منشانیتاؤں کو بچانے کی ہے۔ اگر سی بی آئی لوکپال سے باہر رہے گی تو لوکپال کیسے مضبوط ہوگا؟اگر سی بی آئی لوکپال کے ماتحت آجاتی ہے تو وزیرداخلہ پی چدمبرم جیل کے اندر ہوں گے۔ آپ کرپٹ نیتاؤں کو بچا رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ یہ مضبوط لوکپال ہے۔ ان کا کہنا ہے یہ سرکار لوگوں کو دھوکہ دے رہی ہے۔ جنتا اسے سبق سکھا دے گی۔ انا کا کہنا ہے اگلے سال اترپردیش اور دیگر چارریاستوں میں اسمبلی چناؤ ہونے جارہے ہیں وہاں یوپی اے سرکار کے خلاف مہم چلائی جائے گی۔ بل کو مسترد کرتے ہوئے انا نے کہا الگ سے سٹیزن چارٹر بل لانے کے لئے بھی سرکار نے جنتا کے مفادات کو نظرانداز کیا ہے۔
عام آدمی کو اپنی شکایت کے ازالے کے لئے مجوزہ مشینری کے تحت بے مطلب یہاں وہاں دوڑنا پڑے گا، یہ لوگوں سے دھوکہ ہے۔ ادھر سرکار نے منگلوار کو کرپشن پر روک لگانے کے لئے اپنی حکمت عملی کے تحت لوک سبھا میں سٹیزن چارٹر بل پیش کردیا۔ بل میں ہر شہری کو طے میعاد طریقے سے یکساں خدمات دستیاب تھیں ساتھ ساتھ شکایتوں کے ازالے کا بھی اختیار دیا گیا ہے۔ یعنی سرکاری محکموں میں کونسے کام کتنے دنوں میں ہوں گے ، اس کے لئے کون ذمہ دار ہے یہ پہلے سے بتانا ہوگا۔ ایسا نہ ہونے پرمتعلقہ افسر کے خلاف شکایت کی جاسکے گی۔ ہمیں نہیں لگتا لوک سبھا میں اسی اجلاس میں یہ بل پاس ہوسکے گا؟ کرسمس کی چھٹی کے بعد ایوان کی کارروائی 27،28 اور29 دسمبر تک بڑھانے کو لیکر ممبران میں بھاری اختلاف پایا جاتا ہے۔ کرسمس کے بعد ایوان چلنے کو لیکر خاص طور سے کیرل، اروناچل پردیش کے ممبران کا احتجاج اس لئے ہے کہ انہوں نے پہلے ہی سے سال کے آخر میں گھروالوں کے ساتھ چھٹی منانے اور دیگر پروگرام بنا رکھے ہیں۔ ان میں بیرونی ملک کے دورے بھی شامل ہیں۔
ادھر بھاجپا سمیت دیگر اپوزیشن پارٹیوں کا بھی لوکپال بل پر موقف واضح نہیں ہے۔لوکپال کی کئی شقوں پر اب بھی اتفاق رائے نہیں ہے۔سرکاری ترجمان کہہ رہے ہیں کہ صرف دو دن میں ہی لوکپال پاس ہوسکتا ہے بشرطیکہ اپوزیشن ساتھ دے اور پاس کرانے میں تعاون دے۔ لیکن سرکاری مسودے کو دیکھنے سے پہلے اپوزیشن خاص طور سے بھاجپا کوئی بھی یقین دہانی کرانے کو تیار نہیں تھی۔ دوسری اپوزیشن پارٹیاں بھی اپنے سخت تیور بنائے ہوئے ہیں ایسے میں23 دسمبر تک مفصل بحث کے بعد لوکپال بل پاس کرانا ممکن نہیں لگتا۔ اگر پارلیمنٹ میں بل کو لیکر اتفاق رائے نہیں بنا تو آگے کیا ہوگا؟ ممکن ہے کہ بل کو سلیکٹ کمیٹی کو سونپ دیا جائے۔ اس سے سبھی فریقین کا موقف درکار رہے گا۔
Anil Narendra, Anna Hazare, BJP, CBI, Daily Pratap, Lokpal Bill, P. Chidambaram, Sonia Gandhi, Vir Arjun

ایک کمیونسٹ تاناشاہ کی موت


Published On 23rd December 2011
انل نریندر
دنیا میں ایک اور تاناشاہ کا خاتمہ ہوگیا ہے۔ نارتھ کوریا کے 69 سالہ سپریم لیڈر اور ورکرس پارٹی آف کوریا کے چیف کم جونگ ال کا انتقال ہوگیا۔ کم جونگ ال کا انتقال تو13 دسمبر کوہوا تھا لیکن سرکاری طور پر اعلان دو دن بعد ہوا۔ کسی دیش کا نیتا جب دنیا کو الوداع کہتا ہے تو اکثر غم کا ماحول بن جاتا ہے لیکن تاناشاہوں کے معاملوں میں ایسا نہیں ہوتا۔ ان کے جانے سے دنیا راحت کی سانس لیتی ہے۔ کم جونگ کے بارے میں بھی ایسا ہی خیال پایا جاتا ہے۔ جاپان نے تو اس کے انتقال کی خبر سننے کے بعد باقاعدہ سکیورٹی کمیٹی کی میٹنگ بلائی اور پورے دیش سے کسی بھی حالات سے نمٹنے کیلئے تیار رہنے کو کہا گیا۔ امریکہ اور مغربی ممالک نے راحت کی سانس لی۔ نارتھ کوریا کا ایک واحد دوست چین بھی فکرمند ہے چونکہ پیوگ ینگ کے اقتدار میں کوئی تبدیلی اس کے ان تجزیوں کو بگاڑ سکتی ہے جس کے بھروسے چین نے جاپان، ویتنام جیسے پڑوسیوں کے خلاف مورچہ کھولا ہواہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ کم جونگ ال کے عہد میں نارتھ کوریا ایک نیوکلیائی طاقت کی شکل میں ابھرا ۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی سچائی ہے کہ انہیں کے عہد میں نارتھ کوریا نے تاریخ کی سب سے بڑی ٹریجڈی کو بھی جھیلا جس میں لاکھوں لوگ بھوک سے بے موت مارے گئے تھے۔ نارتھ کوریا ویسے تو ایک سماجوادی ملک مانا جاتا تھا لیکن اگر غور سے دیکھیں تو وہ کسی دھارمک کلچر جیسا لگتا ہے جہاں ایک شخص اور اس کا خاندان دیش کی علامت بن جاتا ہے۔ 1994ء میں والد کی موت کے بعد وہ آسانی سے اپنے دیش کے سپریم لیڈر بن گئے۔ تب لگتا تھا کہ وہ زیادہ دن حکومت نہیں چلا پائیں گے۔ مغربی سیاسی ماہرین دراصل موجودہ حکمراں کم یونگ کی ناتجربہ کاری اور خاندان کے دوسرے ممبران سے انہیں ملنے والی چنوتیوں کے اندیشات کے سبب ان نتیجوں پر پہنچے تھے لیکن تب سے ان کا ایک واحد عہد نارتھ کوریا میں چل رہا ہے۔ والد نے دیش کو جس لوہے کی دیوار میں قید کردیا تھا بیٹے نے اسے اور مضبوط بنایا۔ کم جونگ ال رنگین مزاج کے تاناشاہ تھے۔ جونگ نے دو ہزار لڑکیوں کی بھرتی کی تھی۔ انہیں پلیجر گروپوں میں رکھا گیا تھا۔ ایک سے ایک سیکسول سروسوں کے لئے دوسرا مساج اور تیسری ڈانسنگ اور پھر سنگنگ کے لئے ۔جونگ سے ملنے آنے والوں کی تواضع کیا کرتی تھیں۔ جونگ سنیما کے بھی جنونی تھے۔1978 ء میں انہوں نے جنوبی کوریا ئی مقبول فلم ڈائریکٹر شم سانگ آ کے اور اس کی ایکٹریس کو اغوا کروایا۔ دونوں کو پیونگ یانگ لایا گیا جہاں انہیں پانچ سال تک قید رکھا گیا۔ دونوں کو اس شرط پر چھوڑا گیا کہ وہ نارتھ کوریائی فلم صنعت کے فروغ کے لئے مدد کریں گے۔
نیوکلیائی ہتھیار اکٹھا کرنے کی کوشش میں بین الاقوامی برادری سے الگ تھلگ پڑے کم جونگ نے اپنی حرکتوں سے مغربی ملکوں کی ناک میں دم کررکھا تھا۔ سرد جنگ کے بعد اپنا وجود بنائے رکھنے والا نارتھ کوریا اکیلا پرانے ڈھنگ کا کمیونسٹ ملک ہے۔ وہاں کے سیاسی ڈھانچے نے بھی ابھی نیا چولا نہیں پہنا ہے۔ کام کا ج کا خفیہ طریقہ بھی پرانے دور کا ہے۔ حالانکہ کم جونگ کے جانشین 28 سالہ کم جونگ وون کو چنوتی دینے کی کوئی خبر نہیں ہے لیکن نارتھ کوریا میں کسی بھی طرح کی ہلچل چین، جنوبی کوریا، جاپان، امریکہ اور بھارت کے لئے اہم ہوگی۔ نئے حکمراں کی نیوکلیائی پالیسی جنوبی کوریا جاپان ، امریکہ کے لئے تشویش کا باعث بن سکتی ہے۔ بھارت کی چنتا کوریا کی پاکستان کے ساتھ نیوکلیائی میزائل رشتے کو لیکر ہوگی۔ بینظیر بھٹو کے دوسرے عہد میں یہ رشتہ پروان چڑھا تھا۔ تب سے جاری ہے۔ پاکستان کی زیادہ تر میزائلیں نارتھ کوریائی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا کم جونگ وون اس رشتے کو آگے قائم رکھتے ہیں یا اس سے آگے کوئی رشتہ بنائیں گے۔ امکان ہے کہ اگر کم جونگ وون نئے حکمراں کی شکل میں محفوظ محسوس کرتے ہیں تو کیا وہ اپنے والد کی ہی پالیسیوں کے مطابق چین سے قریبی رشتے رکھیں گے اور نیوکلیائی مسئلے پر فوج اور پاکستان کی امیدوں کے مطابق کام کریں گے لیکن یہ سب کچھ منحصرکرتا ہے نارتھ کوریا کے اقتدار میں ان کی پکڑ کتنی مضبوط ہے۔
Anil Narendra, Daily Pratap, kim jong il, Pakistan, South Korea, Vir Arjun

22 دسمبر 2011

روس میں کیوں ہورہی ہے بھاگوت گیتا کی مخالفت؟



Published On 22nd December 2011
انل نریندر
یہ انتہائی دکھ کی بات ہے روس میں بھاگوت گیتا جیسے مہان دھارمک گرنتھ کو کچھ لوگ ایک انتہا پسند گرنتھ بتا کر اس پر پابندی لگوانے کی کوشش کررہے ہیں۔ روس کے سائبریا کے تومس کی عدالت میں اسکان کے بانی اے سی بھگت ویدانت سوامی پربھو پات کی لکھی کتاب بھاگوت گیتا یتھا رتھ کے روسی ایڈیشن پر پابندی لگانے کے لئے جون سے ہی معاملہ چل رہا ہے۔ اس معاملے میں عدالت نے پیر کو فیصلہ دینا تھا لیکن اب یہ 28 دسمبر تک ٹال دیا گیا ہے۔ عدالت میں یہ دلیل بھی دی جارہی ہے کہ اس کا مواد سماج میں بے چینی پھیلانے والا ہے۔ روس کے لوک پال امبو سیمن ولادیمیر لکن نے اپنا بیان جاری کرکے اعلان کیا تھا کہ اسکان کے بانی اے سی بھگت ویدانت سوامی پربھو پات کی لکھی کتاب 'بھاگوت گیتا از اٹ از'دنیا بھر میں ممنوع کتاب ہے۔ اس پر پابندی لگانے کی مانگ ناقابل قبول ہے۔ ادھر روس میں رہ رہے بھارت ، بنگلہ دیش، ماریشس، نیپال وغیرہ ملکوں کے ہندوؤں نے ایمرجنسی میٹنگ میں اپنے مذہبی حقوق کی حفاظت کے لئے ''ہندو کونسل آف روس'' بنائی ہے۔ ادھر بھارت میں سڑک سے لیکر پارلیمنٹ میں یہ اشو گرمایا ہوا ہے۔ لوک سبھا میں جب اس مسئلے پر بحث چل رہی تھی تو پابندی کے خلاف ایسے نیتا کھڑے ہوئے جن سے کبھی بھی یہ امید نہیں تھی کہ وہ اس پر احتجاج کریں گے۔ میں راشٹریہ جنتا دل کے پردھان لالو پرساد یادو کی بات کررہا ہوں۔ لوک سبھا میں گیتا اور گنگا پر چل رہی بحث کے دوران لالو سرکار پر بپھر پڑے۔ ادھر سماج وادی لالو پر اچانک دھرم کا رنگ چڑھ جانے سے ان کے مخالفین بھی دنگ رہ گئے اور کچھ نے تو چٹکی بھی لی ۔ بھاجپا نے کہا جنتا نے انہیں ریٹائرڈ کردیا ہے اس لئے اب ان پر روحانی رنگ چڑھ گیا ہے۔ حالانکہ کافی ممبران نے روس میں بھاگوت گیتا پر مجوزہ پابندی کے خلاف احتجاج کیا لیکن لالو جی کا انداز سب سے جدا رہا۔ انہوں نے گیتا کے خلاف احتجاج روس میں چلائی جارہی مہم کو ایک گہری سازش قراردیا۔
ممبران کی جانب سے اس بارے میں ناراضگی ظاہر کئے جانے کے دوران لالو بیچ بیچ میں کرشن بھگوان کی جے کرتے رہے۔ اس مسئلے کو لالو کے ساتھ ہی ملائم سنگھ اور بھاجپا کے سینئر لیڈر مرلی منوہر جوشی نے بیحد سنگین مانتے ہوئے وزیر اعظم سے معاملے میں مداخلت کرنے کی مانگ کی۔ ہنگامے کے دوران لوک سبھا دو گھنٹے تک ملتوی رہی لیکن لالو اس مسئلے کو ایوان کے باہر سرکار پر دباؤ بنانے کے لئے اپنے مخالفین کو سمجھاتے نظر آئے، میڈیا سے بھی انہوں نے مدد مانگی۔ جب ان سے پوچھا گیا لالو جی آپ تو سماج وادی نیتا ہیں ، گیتا پر آپ اس قدر کیوں مہربان ہیں؟ پھر کیا تھا لالو بھاجپا پر بھی بگڑ گئے اور کہا بھگوان کرشن رام اور گیتا ، رامائن، بھاجپا کا ٹریڈ مارک ہیں کیا؟ انہوں نے کہا کرشن اور گیتا تو یدوواریوں سے جڑی ہیں۔ ہمارے ارادھیہ ہیں۔ بھاجپا والے رام اورکرشن کو بھول چکے ہیں۔ بھگوان رام، گیتا ،رامائن ہزاروں برسوں سے ہندوستانی تہذیب کا حصہ رہے ہیں۔ ان پر حملہ بھارت کی تہذیب اور بھارت کے لوگوں کے مذہبی حقوق پر حملہ ہے لیکن یہاں ایک بات جو مجھے لگتی ہے کہ روس میں جو مخالفت ہورہی ہے وہ سوامی پربھوپت کی مترجم بھاگوت گیتا پر ہورہی ہے۔ ہوسکتا ہے روس میں ایک طبقہ گیتا کے اس ترجمے سے متفق نہ ہو۔ انہوں نے سنسکرت اور ہندی میں گیتا کی مخالفت نہیں کی۔مجھے یقین ہے جو گرنتھ صدیوں سے انسان کا مارگ درشک رہے ہیں ان پر نامناسب واویلا جلدختم ہوجائے گا۔ روسی سرکار اس احتجاج کو ناجائز مان رہی ہے اور یقینی طور سے روسی عدالت بھی اس احتجاج کو مسترد کردے گی۔ جے کرشن۔ پھر مجھے بھروسہ ہی نہیں یقین ہے کہ ہمارے روسی بھائی اس کٹر پسند کی طرف دیش کو پھر سے نہیں لے جانا چاہیں گے جسے انہوں نے اتنی محنت اور مشقت سے باہر نکالا ہے۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Geeta, Russia, Vir Arjun

سونیا گاندھی کا ڈریم پروجیکٹ غذائی سکیورٹی بل



Published On 22nd December 2011
انل نریندر
کانگریس صدر سونیا گاندھی کا ایک ڈریم پروجیکٹ حقیقت بننے جارہا ہے۔ سونیا گاندھی کے ویٹو سے غذائی سکیورٹی بل کو مرکزی کیبنٹ نے منظور کرلیا ہے۔ وزیر اعظم کی سربراہی میں ہوئی کیبنٹ کی میٹنگ میں اس بل پر زیادہ بحث نہیں ہوئی۔ اس بل کو لیکر پوری حکومت پر اتنا زیادہ دباؤ تھا کہ میٹنگ میں اس پر آناً فاناً میں مہر لگ گئی۔ وزیر خوراک شرد پوار اور دوسری ساتھی پارٹیوں کی تشویشات کو بھی یوپی اے صدر کا ''ڈریم'' بتاتے ہوئے اسے اب نہ روکنے کے لئے منموہن سنگھ نے سبھی ساتھیوں کو منالیا۔ ہم سونیا جی کے جذبات کی قدر کرتے ہیں۔دیش میں تقریباً47 فیصدی بچے بھکمری کا شکار ہیں اور ہر سال ہزاروں لوگوں کی بھکمری اور غذا کی قلت کی وجہ سے موت ہوجاتی ہے۔ پچھلے دنوں آئی اقوام متحدہ کی انسانی فروغ رپورٹ بتاتی ہے کہ بھارت میں فی شخص آمدنی تو بڑھی ہے مگر اسی کے ساتھ بھوکے لوگوں کی بھی تعداد بڑھی ہے۔ اس سنگین مسئلے کے پیش نظر اگر حکومت نے دیش کے تقریباً 63.5فیصدی آبادی یعنی گاؤں اور شہر کے تقریباً80 کروڑ غریب لوگوں کو کھانے کا بنیادی حق دلانے والا قانون بنانے کی سمت میں پہل کرتے ہوئے اس غذائی سکیورٹی بل کو منظوری دی ہے تو اس کو ایک فلاحی قدم کے طور پر مانا جائے گا۔ اس کا اس حد تک خیر مقدم کیا جانا چاہئے لیکن نیک ارادے رکھنا اور انہیں حقیقت میں بدلنا آسان نہیں ہوتا۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ اتنا روپیہ آئے گا کہاں سے؟ اس قانون کے نافذ کرنے میں سرکار پر پہلے سال میں 95 ہزار کروڑ روپے کی سبسڈی کا بوجھ آئے گااور یہ تیسرے سال تک ڈیڑھ لاکھ کروڑ ہوجائے گا۔حال میں سرکار31 ہزار کروڑ روپے غذائی سبسڈی پر خرچ کررہی ہے۔ اس کے علاوہ تیسرے سال میں دیش کی زرعی پیداوار کے ذخیروں کے لئے گودام بنانے کیلئے 50 ہزار کروڑ روپے کی مزید رقم کی ضرورت ہوگی۔ ہمارے موجودہ سسٹم میں ہمارے پاس اتنے گودام نہیں کہ گیہوں اور سبزی کے ذخیروں کو محفوظ رکھا جائے۔ کسان اپنی فصل ضائع کرنے کے لئے مجبور ہیں۔ ویسے بھی دیہات میں ہر شخص کو دو وقت کی روٹی روزی مل ہی جاتی ہے۔ ایک حقیقت ہمارے دیش کی یہ بھی ہے کہ سرکار کے ذریعے چلائی جارہی کسی بھی اسکیم فائدہ اس صارفین تک نہیں پہنچتا جس کے لئے یہ لاگو کی گئی ہیں۔ تباہ کن راشن سسٹم پر غذائی سکیورٹی بل کا بوجھ ڈالنے کا کہیں یہ مطلب نہ نکلے کہ غذائی سبسڈی میں لوٹ مار دوگنی ہوجائے؟ سرکار اسی بیمار راشننگ سسٹم کے بھروسے دیش کی تین چوتھائی عوام کو کفایتی دام پر اناج باٹنے کی اسکیم اتنی آسان نہیں ہوگی کہ اناج کی یہ لوٹ فوڈ کارپوریشن آف انڈیا کے گوداموں سے لیکر راشن کی دوکانوں تک ہوتی ہے۔
راشن سسٹم میں فی الحال 35 کروڑ لوگوں کو سستا اناج چاول تقسیم کیا جاتا ہے؟ مجوزہ بل میں اب 80 کروڑ لوگوں کو راشن دینے کی سہولت رکھی گئی ہے ظاہر ہے کہ موجودہ راشن سسٹم کیلئے یہ بڑا بوجھ ہوگا۔ اس کے باوجود سرکار نے راشن سسٹم میں قابل غور اصلاحات کرنے پر زور نہیں دیا۔ جب تک پبلک سسٹم کو چست درست نہیں کیا جاتا ہمیں نہیں لگتا سونیا جی اپنے مقصد میں کامیاب ہوسکیں گی۔ یہ کم تعجب کی بات نہیں کہ جب سرکار اور اپوزیشن ٹیم انا کے درمیان لوک پال بل کو لیکر ہونے والی کھینچ تان کے شورو غل میں دیش ڈوبا تھا تب کانگریس صدر سونیا گاندھی اپنے غذائی سکیورٹی بل کو لیکر سب سے زیادہ سنجیدہ تھیں۔ کیا یہ اس لئے لایا گیا ہے کہ لوکپال سے بڑی لکیر کھینچی جاسکے یا پھر اس لئے لایا گیا ہے کہ اترپردیش کے سیاسی دنگل میں راہل کو غذائی سکیورٹی بل کا ہتھیار مہیا کرایا جائے ۔تاکہ آنے والے اسمبلی چناؤ میں کانگریس پارٹی کو اس کا سیاسی فائدہ مل سکے؟
Anil Narendra, Congress, Daily Pratap, Food Security Bill, Manmohan Singh, Sonia Gandhi, Vir Arjun

21 دسمبر 2011

اجیت سنگھ یوپی میں کانگریس کی طاقت بڑھائیں گے


Published On 21th December 2011
انل نریندر
راشٹریہ لوک دل کے صدر اجیت سنگھ نے اس بار بھی ایتوار کو ہی مرکزی وزیر کی شکل میں عہدہ سنبھالا ہے۔ یہ اتفاق ہے وہ چوتھی بار مرکز میں وزیر بنے ہیں اور ہر بار ان کی حلف برداری ایتوار کو ہی ہوئی ہے۔ راشٹرپتی بھون میں ایک مختصر اور سادہ تقریب میں صدر محترمہ پرتیبھا پاٹل صاحبہ نے انہیں عہدۂ راز داری کا حلف دلایا۔ اجیت سنگھ کے لوک سبھا میں پانچ ممبر ہیں۔ منموہن سنگھ سرکار کی یہ تیسری کیبنٹ ردو بدل تھی۔ 73 سالہ اجیت سنگھ مرکزی کیبنٹ میں 33 ویں وزیر بنے ہیں۔ اس موقع پر کانگریس جنرل سکریٹری راہل گاندھی کی موجودگی اہم تھی کیونکہ ان کی پہل پر ہی راشٹریہ لوکدل اور کانگریس کے درمیان اگلے سال ہونے والے اترپردیش اسمبلی چناؤ کو مل کر لڑنے کا معاہدہ پروان چڑھا ہے۔ اجیت سنگھ کے یوپی اے میں آنے سے لوک سبھا میں272 سے بڑھ کر277 ہوگئی ہیں۔اجیت سنگھ کو یوپی اے میں شامل کرکے راہل گاندھی نے اپنی خود اعتمادی کا مظاہرہ کیا ہے۔ کیبنٹ کی اس مختصر توسیع کے بعد کانگریس اترپردیش کے مغربی اضلاع کی تقریباً140 اسمبلی سیٹوں پر خود مضبوط مان رہی ہے۔حال ہی میں یوپی کے اپنے رابطہ مہم کے بعد لوٹے راہل گاندھی نے تقریب میں اجیت کے بیٹے جیانت سے بھی کافی دیر تک بات چیت کی۔ راہل اور جیانت ایک ساتھ ہی بیٹھے تھے۔ بعد میں چائے پانی کے بعد بھی راہل نے اجیت سنگھ کا ہاتھ پکڑ کر انہیں مبارکباد دی۔ اخبار نویسوں کی جانب سے راہل سے اترپردیش کے دورہ کے بارے میں پوچھے جانے پر انہوں نے کہا کہ میرا دورہ کامیاب رہا۔ خاص کر کانپور کی ان کی ریلی میں سب سے زیادہ بھیڑ آئی جہاں مایاوتی کا ووٹ بینک انتہائی پسماندہ طبقے کے لوگ بھاری تعداد میں آئے۔ لیکن جب راہل کی فروخ آبادکی ریلی میں خوردہ کاروبار میں سرمایہ کاری کے ان کے اعلان کے بارے میں پوچھا گیا تو وہ یہ کہتے ہوئے چلے گئے ابھی اس مسئلے پر زیادہ بات نہیں کریں گے۔ اجیت سنگھ بھی مانتے ہیں کہ راشٹریہ لوکدل کانگریس اتحاد سے اترپردیش اسمبلی چناؤ کی تصویر بدل جائے گی۔کانگریس یوپی چناؤ کو لیکر کافی حوصلہ افزا ہے اس کی ایک وجہ اور بھی ہے۔ اسٹار نیوز اور اے سی نیلسن نے حال ہی میں ایک چناؤ سروے کیا ہے جس میں اترپردیش کے لوگوں کی رائے جاننے کیلئے نومبر۔ دسمبر کے مہینے میں یہ سروے کیا تھا۔ اس کے مطابق بسپا کی حالت پتلی ہے۔ انہیں120 سیٹیں مل سکتی ہیں۔ جبکہ پچھلی بار بسپا کو206 سیٹیں ملی تھیں۔ سب سے زیادہ فائدہ سماجوادی پارٹی کو ہوتا نظر آرہا ہے۔ سپا کی سیٹیں 97 سے بڑھ کر135 تک پہنچ سکتی ہیں۔ چناؤ میں سب سے زیادہ ووٹ فیصد کانگریس کا بڑھنے کا اندازہ ہے۔ کانگریس کو 17 فیصدی ووٹ اور 68 سیٹیں مل سکتی ہیں۔ سال2007 ء میں ہوئے اسمبلی انتخابات میں کانگریس کو8.6 فیصد ووٹ ملے تھے اور سیٹیں 22 ملی تھیں۔ کانگریس راشٹریہ لوکدل اتحاد کے بعد یہ تعداد (کانگریس70، آر ایل ڈی15) سیٹیں تک پہنچ سکتی ہے۔ بھاجپا کی سیٹ اور ووٹ فیصد بھی بڑھنے کا امکان ہے۔ بھاجپا کو پانچ فیصد ووٹ زیادہ ملے گا اس کے ساتھ 65سیٹیں اس کو مل سکتی ہیں۔ ابھی چناؤ میں وقت ہے یوپی کی سیاست شباب پر ہے دعوے سے ابھی کچھ نہیں کہا جاسکتا ۔ چناؤ آتے آتے تصویر بدل سکتی ہے لیکن اتنا ضرور کہا جاسکتا ہے کہ راہل گاندھی کی کڑی محنت سے کانگریس کو ریاست میں ضرور فائدہ ہونے جارہا ہے۔
Ajit Singh, Anil Narendra, Congress, Daily Pratap, RLD, Uttar Pradesh, Vir Arjun

سیاسی بھونچال کے درمیان زرداری کا لوٹنا آگ میں گھی کا کام کرے گا


Published On 21th December 2011
انل نریندر
پاکستان میں یہ افواہ غش کررہی تھی کہ صدر آصف علی زرداری ملک چھوڑ کر بھاگ گئے ہیں وہ غلط اور بے بنیاد ثابت ہوئی ہے۔ کہا تو یہ جارہا تھا کہ فوج کے دباؤ میں زرداری دوبئی بھاگ گئے ہیں اور وہاں سے لندن جائیں گے، انہیں کوئی بیماری نہیں۔ لیکن زرداری نے وطن لوٹ کر سب قیاس آرائیوں کو غلط ثابت کردیا ہے۔ وہ پیر کے روز دوبئی سے پاکستان لوٹ آئے ہیں۔ زرداری تقریباً15 دن دوبئی میں رہے۔ صدارتی محل کے ترجمان اعجاز درانی نے ایک بیان میں کہا زرداری صاحب پوری طرح صحت یاب ہوچکے ہیں اور اب وہ تندرست ہیں۔ اسلام آباد جانے سے پہلے وہ کراچی میں ہیں رہیں گے اور جلد سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لیں گے۔ حالانکہ جنوری میں واپسی سے ان کے تختہ پلٹ کی قیاس آرائیاں تھم گئی ہیں۔ لیکن پاکستان کے زیادہ تر لیڈر ایک بار جب ملک سے باہر جاتے ہیں تو دوبارہ خالی ہاتھ ہی لوٹتے ہیں۔ ہمارے سامنے دو مثالیں ہیں پہلی بینظیر بھٹو کی ہے جو کرپشن کے الزام لگنے کے بعد جب صدر نے بے نظیر کی حکومت کو برخاست کیا تھا اور 1997ء کے انتخابات میں بھٹو کو ہار ملی تو وہ خود جلاوطن کی زندگی بسر کرنے کے لئے دوبئی چلی گئی تھیں۔ کسی طرح2001 سے2008 تک صدر رہے جنرل پرویز مشرف کے خلاف جب تحریک ملامت کی تجویز لائی جانی تھی تو وہ 18 اگست2008ء کو استعفیٰ دے کر لندن چلے گئے اور تب سے وہی مقیم ہیں۔ حالانکہ وہ اب کہہ رہے ہیں کہ جنوری2012ء میں وہ وطن لوٹ رہے ہیں۔ زرداری کی واپسی سے پاکستان کی سیاست میں آیا طوفان شاید ہی رک پائے۔ یہ کسی سے پوشیدہ نہیں کہ میموگیٹ کے بعد پاکستانی فوج زرداری اور ان کی حکومت کے پیچھے ہاتھ دھوکر پڑی ہے۔ القاعدہ سرغنہ اسامہ بن لادن کے مارے جانے کے بعد آئی ایس آئی چیف احمد شجاع پاشا خفیہ طور پر خلیجی ممالک کے دورے پر گئے تھے۔ اس دوران انہوں نے صدر زرداری کو معزول کرنے کی پوری اسکیم بنا لی تھی۔ اس کے لئے انہوں نے عرب ممالک کے لیڈروں سے اجازت بھی لے لی تھی۔ پاکستانی نژاد امریکی کاروباری منصور اعجاز نے گذشتہ مئی میں اپنے بلاگ میں یہ سنسنی خیز انکشاف کیا تھا اور دعوی کیا تھا کہ 2 مئی کو ایبٹ آباد میں اسامہ کے مارے جانے کے بعد جب اچانک شجاع پاشا غائب ہوئے تھے تب وہ عرب ممالک کے دورے پر تھے۔ اعجاز نے ہی تختہ پلٹ کے اندیشے کے چلتے زرداری کے ذریعے امریکہ سے مدد کے لئے لکھے گئے خفیہ خط کو اجاگر کیا تھا۔ برطانوی اخبار 'دی انڈیپینڈنٹ ' کے صحافی عمر ورائچ کے حوالے سے ٹی وی چینل جی او نیوز نے یہ خبر دی ہے۔ ادھر پاکستانی فوج کے سربراہ اشفاق کیانی نے پہلی بار خفیہ میمورنڈم کے وجود کو مانتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فوج اور قومی سلامتی کے خلاف سازش تھی اور اس کی گہری جانچ ہونی چاہئے۔ کیانی نے یہ بات اس معاملے کو لیکر پاکستانی سپریم کورٹ میں دائر اپنے حلف نامے میں کہی ہے۔ عدالت ہذا میں اس معاملے کی جانچ کرانے سے متعلق 9 عرضیاں دائر ہوئی ہیں۔ عدالت نے اس معاملے میں صدر آصف علی زرداری سمیت 10 فریقین کو15 دسمبر تک اپنے جواب داخل کرنے کا حکم دیا تھا۔ ایبٹ آباد میں امریکی کمانڈو کے ذریعے اسامہ بن لادن کے مارے جانے کے بعد فوجی تختہ پلٹ کے اندیشے کے چلتے زرداری نے مدد کے لئے اسامہ انتظامیہ کو ایک خفیہ خط لکھا تھا جس کے آؤٹ ہونے کے بعد پاکستانی سیاست میں بھونچال آگیا تھا۔ اس معاملے میں پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے چیف احمد شجاع پاشا نے اپنے جواب میں کہا کہ وہ خفیہ میمورنڈم کے بارے میں پاکستانی نژاد امریکی کاروباری منصور اعجاز کی جانب سے دئے گئے ثبوتوں سے مطمئن ہے جبکہ کیانی کا مطالبہ ہے کہ امریکی فوج کو بھیجے گئے خفیہ میمو سے وابستہ ساری سچائی سامنے لائی جائے۔ ان کا کہنا ہے اس معاملے سے ان کے فوجیوں کا حوصلہ پست ہوا ہے۔ حالانکہ زرداری کی جانب سے عدالت میں کوئی جواب نہیں پیش کیا گیا ہے۔ حکومت چاہتی ہے معاملے کی جانچ کرنے والی اپیلیں خارج کردی جائیں کیونکہ جانچ سے پہلے ہی ایک پارلیمانی کمیٹی بنا دی گئی ہے۔ میموگیٹ کو لیکر پاکستان میں کشیدگی بنی ہوئی ہے۔ پاکستانی وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ اگلے سال ہونے والے سینٹ چناؤ کے ٹال مٹول کے لئے ان کی حکومت کے خلاف سازشیں رچی جارہی ہیں۔ لاہور میں ایک پرائیویٹ پروگرام میں اخبار نویسوں سے بات چیت میں گیلانی نے کہا سبھی سازشیں چناؤ کو روکنے کے لئے ہیں ۔ ان کا کہنا ہے پاکستان میں مارشل لاء کے لئے کوئی جگہ نہیں۔ گیلانی نے کہا سازشوں کے پیچھے کون ہے۔ لیکنان کے بیان سے صاف ہے ان کا اشارہ فوج کی طرف ہے۔ پاکستان کی سیاست میں بھونچال رکنے والا نہیں۔یہ لڑائی فوج بنام منتخب جمہوری زرداری حکومت کے درمیان ہے۔ فوج کی خفیہ حمایتی دوسری سیاستی پارٹیاں ہیں۔ نواز شریف اور عمران خاں اپنی اپنی روٹیاں سینکنا چاہتے ہیں۔ پاکستانی فوج ہر حالت میں زرداری اینڈ کمپنی کی چھٹی کرنی چاہتی ہے۔ اس لئے کچھ کہا نہیں جاسکتا کہ آنے والے دنوں میں کیا ہوگا؟ ایک بار پھر پاکستان سیاسی چوراہے پر کھڑا ہوا ہے۔
Anil Narendra, Asif Ali Zardari, Daily Pratap, Pakistan, Vir Arjun

20 دسمبر 2011

کسان اپنی فصل خود ضائع کریں یہ ہے میرا بھارت مہان


Published On 20th December 2011
انل نریندر
ہندوستان ایک زرعی کفیل ملک ہے اور ملک کی قریب70 فیصد عوام کھیتی پر منحصر ہے۔ اس نکتہ نظر سے زراعت اور کسان دیش کے لئے سب سے اہم ہونے چاہئیں۔ ہماری سبھی سیاسی پارٹیاں کسانوں کے لئے آنسو بہانے میں کبھی پیچھے نہیں رہیں۔ ان کو حقیقت میں کسانوں سے کتنی دلچسپی ہے اس کا نمونہ ہمیں پارلیمنٹ سے ملتا ہے۔ جمعرات کو راجیہ سبھا میں کسانوں کے بحران پر بحث ہورہی تھی۔ قارئین کو یہ جان کر تعجب و دکھ بھی ہوگا کہ بحث کے دوران راجیہ سبھا کے245 ممبران میں سے صرف قریب50 ممبران ہی موجودتھے۔ یہ ہی نہیں کئی ممبر اپنی بات کہنے کے بعد ایوان چھوڑ کر چلے گئے۔ یہ پہلا موقعہ نہیں ہے جب عوامی اہمیت کے کسی مسئلے پر بحث میں اتنے کم ممبران ایوان میں موجود رہیں۔ جب اتنی معمولی موجودگی ہو تو بحث کا معیار کیا ہوگا اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ چونکانے والے حقائق یہ ہیں کہ نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کے مطابق 1994 سے2010 تک یعنی 16 برسوں میں ڈھائی لاکھ سے زیادہ کسان خودکشی کرنے پر مجبور ہوئے ہیں۔ پچھلے کچھ برسوں میں خودکشی کا یہ سلسلہ تیزی سے بڑھا ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ کسانوں کی حالت گذشتہ برسوں میں زیادہ خراب ہوئی ہے۔ یہ دکھ کی بات ہے کہ مرکزی وزیر زراعت شرد پوار کی آبائی ریاست مہاراشٹر اس معاملے میں سب سے اول ہے۔ آج زراعت کی یہ حالت ہے کہ کسان اپنی فصلیں خود ضائع کرنے پر مجبور ہورہے ہیں۔ آلو کی پیداوار کرنے والے کسانوں نے جمعرات کو پنجاب کے کئی شہروں میں اپنی آلو کی فصل کو سڑک پر بکھیر دیا۔ حالانکہ پولیس و انتظامیہ نے 200 ٹرالی الٹنے سے روک لیا۔ پھر بھی ناراض آلو کسانوں نے 45 ٹرالی سڑکوں پر الٹ دیں۔ اس وقت ہریانہ، پنجاب میں آلو کی اتنی درگتی ہورہی ہے کہ کسان انہیں مفت میں دے رہے ہیں۔ 50 کلو کی ایک بوری کی قیمت محض30 سے40 روپے رہ گئی ہے۔ کسان بیج کے لئے کولڈ اسٹوریج میں رکھے آلو تک نہیں اٹھا رہے ہیں۔ کسانوں کے ذریعے آلو کی فصل کو سڑکوں پر پھینکنے جانے کے سبب امرتسر میں قریب دو گھنٹے تک ٹریفک جام رہا۔ جالندھر آلو پروڈیکٹ ایسوسی ایشن و آل کسان یونین نے دو دن پہلے حکومت کو اس معاملے میں کارروائی کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ اگر ان کی بات نہیں سنی گئی تو وہ آلو کی فصل کو سڑکوں پر بکھیر دیں گے اور اپنی ناراضگی ظاہر کریں گے۔ ایسوسی ایشن کے صدر نے بتایا کہ اس وقت قریب 20 لاکھ کوئنٹل آلو کولڈ اسٹوریج میں پڑا ہوا ہے۔ جالندھر کے علاوہ راجستھان، چنڈی گڑھ سے ملحق پنجاب کے موہالی میں بھی کسانوں نے آلو کو سڑکوں پر ڈال کر سرکار کے خلاف اپنی ناراضگی ظاہر کی۔ بدقسمتی دیکھئے جمعرات کو جس آلو کی تھوک قیمت80 پیسے کلو رہی ،کیرل کی منڈی میں وہی آلو18 روپے کے بھاؤ پر بکا، راجدھانی دہلی میں یہ 10-12 روپے کلو بک رہا ہے۔ یہ بازار کی اور ہمارے سرکاری سسٹم کی پول کھولنے کی اس سے بہتر مثال نہیں ہوسکتی۔ تلخ حقیقت تو یہ ہے کہ ہماری ساری کوشش کے باوجود، ہماری ساری اسکیموں کے باوجود کسان کو اس کی پیداوار کی مناسب قیمت نہیں مل پاتی۔ کسان خودکشی کرنے پر اور اپنی فصل کو ضائع کرنے پر مجبور ہورہے ہیں اور صارفین بڑھتی قیمتوں سے پریشان ہیں۔ کسانوں کی خودکشی کے اعدادو شمار چونکانے والے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہماری زراعت گہرے بحرانی دور سے گذر رہی ہے۔ جب کسی وجہ سے فصل چوپٹ ہوتی ہے تب تو کسان مصیبت میں ہوتا ہی ہے جب پیدوار اچھی ہوتی ہے تب بھی پیداوار کے واجب دام نہ مل پانے کے سبب پریشانی کھڑی ہوجاتی ہے اور وہ خود اپنے پاؤں پر کلہاڑی مارنے پر مجبور ہوجاتا ہے۔ کسانوں کی پریشانی کے پیش نظر سوامی ناتھن کمیشن نے کئی اہم سفارشیں کی تھیں لیکن انہیں آج تک نافذ نہیں کیا گیا۔ اس مسئلے پر پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس بلایا جائے اور سبھی پارٹیوں کو چاہئے کہ وہ وہپ جاری کریں تاکہ بحث کے دوران سارے ایم پی موجود ہوں۔ یاد رہے دیش کی اصلی ترقی تبھی ہوگی جب ہمارے کسانوں کی ترقی ہوگی۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Farmers Agitation, Farmers Suicide, Vir Arjun

18 دسمبر 2011

یوپی میں راہل گاندھی نے چلا اپنا مسلم کارڈ



Published On 18th December 2011
انل نریندر
کانگریس جنرل سکریٹری راہل گاندھی آج کل اترپردیش کے دورے پر ہیں۔ جیسا کہ میں نے اسی کالم میں کچھ دن پہلے لکھا تھا۔ جیسے جیسے اترپردیش اسمبلی چناؤ قریب آئیں گے۔ سیاسی پارٹیاں اپنے ترکش سے سبھی جمع تیر چلائیں گی۔ ان میں مسلم کارڈ بھی شامل ہیں۔ راہل گاندھی نے مسلم کارڈ چل دیا ہے۔ بدایوں میں ایک ریلی میں راہل نے یہ کارڈ چلا۔راہل گاندھی نے اترپردیش کی مایاوتی سرکار پر سچر کمیٹی کی سفارشوں پر جان بوجھ کر عمل نہ کرنے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کیا آپ کو سچر کمیٹی کی رپورٹ کا فائدہ ملا؟ ہریانہ، دہلی اور مہاراشٹر جائیے وہاں اس رپورٹ پر عمل ہورہا ہے۔ راہل نے اپنے خطاب میں کہا کہ پردیش کے تین لاکھ بنکروں کے 50 ہزار روپے تک کے قرضے معاف کئے تھے۔ اسمبلی چناؤ سے پہلے پسماندہ کے کوٹے میں مسلمانوں کو الگ ریزرویشن دینے کا اعلان۔ راہل گاندھی کے لکھنؤ دورہ کے دوران دگوجے سنگھ کا پبلک اسٹیج سے ریزرویشن میں مذہبی بنیاد پر امتیاز ختم کرنے کی پیروی کرنے کا وعدہ کرنا اور ایک دن بعد دہلی کے مدرسوں کے ٹیچروں کے مطالبات کو لیکر ان کی قیادت میں کانگریسیوں کی وزیر اعظم منموہن سنگھ سے ملاقات۔ کانگریس پارٹی کے ذریعے پچھلے دنوں اٹھائے گئے کچھ ایسے قدم ہیں جن سے اشارے مل رہے ہیں کانگریس اپنے اور مسلمانوں کے بیچ رشتوں کی برف کو پگھلانا چاہتی ہے۔فطری طور سے اس پہل کا زیادہ سہرہ راہل گاندھی کے سر جاتا ہوا نظر آرہا ہے۔ راہل گاندھی نے دونوں ملائم سنگھ یادو اور مایاوتی کے گڑھ میں بھی حملہ بول دیا ہے۔ سماجوادی پارٹی کے گڑھ بدایوں ضلع میں مسلمانوں سے کہا کہ ملائم سنگھ یادو انگریزی اور کمپیوٹر کی پڑھائی کو غیر ضروری بتاتے ہیں جبکہ ان کے اپنے بیٹے اکھلیش یادو کو ان دونوں ہی چیزوں کی تعلیم ملی ہوئی ہے۔اس مسلم اکثریتی علاقے کے ووٹروں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے سچر کمیٹی کی سفارشوں کو لاگو کردیا ہے؟ کیا آپ کو اس کا فائدہ ملا؟اترپردیش کی سرکار ہاتھ پر ہاتھ دھر کر بیٹھی ہوئی ہے۔ وہ کچھ کرنا ہی نہیں چاہتی۔ یہاں 20 سال کے دوران دور اندیشی نہیں دکھائی۔ اس کا نقصان یوپی کی جنتا کو ہی ہوا ہے۔ اترپردیش سرکار پر مرکز کی مختلف ترقیاتی اسکیموں کے لئے بھیجے گئے پیسے کا بیجا استعمال کا الزام لگاتے ہوئے یوپی سرکار کے بارے میں کہا کہ راجیو گاندھی کہا کرتے تھے کہ سرکار کے بھیجے گئے ایک روپے میں سے صرف15 پیسے ہی جنتا تک پہنچتے ہیں۔ لیکن اترپردیش میں تو ایک بھی پیسہ جنتا تک نہیں پہنتا۔ راہل نے کہا لکھنؤ میں بیٹھا ہاتھی پیسہ کھاتا ہے۔ یہ دھن نہ تو اترپردیش سرکار کا ہے اور نہ ہی مرکز کا یہ پیسہ ریاست کی ترقی میں آپ کے تعاون سے آیا ہے۔
ہم وہ پیسہ ریاست کی جنتا کے لئے بھیجتے ہیں لیکن اسے ہاتھی کھا جاتا ہے۔ راہل اپنی طرف سے ہر مسلم پہلو کو دیکھ رہے ہیں۔ مسلمانوں کے سب سے بڑے ادارے ندوۃ العلماء کے صدرمولانا رابع حسنی ندوی سے ملاقات کی تھی۔ اس ملاقات کے بعد مولانا نے کہا اچھا لگتا ہے جب ملک کے لیڈر اپنی عوام کے لئے فکر مند نظر آتے ہیں۔ غریبوں کے لئے جذبہ ہونا چاہئے۔ راہل کے لئے یہ موقعہ اچھا تھا اپنے کو مولانا کے سامنے پیش کرنے کا۔راہل نے کہا کہ میں غریب امیر میں فرق نہیں سمجھتا میرے لئے سب انسان ہیں۔ میری کوشش ہے کہ میں ہندوستان کے زیادہ سے زیادہ لوگوں سے مل سکوں۔ سچر کمیٹی سے لیکر مسلم ریزرویشن تک کے اشو پر مولانا سے بات ہوئی۔ انہوں نے اپنے بیباک انداز میں کہا کہ شاہجاں پور میں مایاوتی سرکار پر حملہ بولا اور کہا کہ مایاوتی کا ہاتھی چارا نہیں عام جنتا کا پیسہ کھا رہا ہے۔ یہ سب آپ کا ہی پیسہ ہے جو بسپا سرکار کے وزیروں کی تجوریوں میں جمع ہورہا ہے۔ انہوں نے بسپا کو سب سے بدعنوان بتاتے ہوئے کہا یہاں کوئی بھی کام رشوت کے بغیر نہیں ہوتا۔ مرکز سے یوپی کے لئے کوئی بھی اسکیم آتی ہے تو اس کا فائدہ لینے والوں کو رشوت دینی پڑتی ہے۔ اندرا آواس یوجنا کا فائدہ حاصل کرنے والے غریبوں سے افسر 10-10 ہزار روپے وصولتے ہیں۔ منریگا کا حال بھی کسی سے پوشیدہ نہیں۔
راہل نے عام جنتا سے اپیل کی کے اس بار پانچ سال کے لئے کانگریس کو موقعہ دیجئے کیونکہ جہاں اس کی سرکار چلتی ہے وہاں ترقی ہوتی ہے۔ پہلے آپ نے سپا کو چنا کچھ نہیں ملا، بسپا پر بھروسہ کیا بدعنوانی گھوٹالے ملے، ذات پات کے جال میں پھنس کر22 سالوں میں یوپی لٹ گئی۔ جیسا میں نے کہا راہل گاندھی سبھی پتے چل رہے ہیں۔ ان کا خاص نشانہ اب مسلم ووٹروں کو راغب کرنا ہے اور انہیں پٹانے کے لئے وہ سب کچھ کررہے ہیں۔
Anil Narendra, Bahujan Samaj Party, Congress, Daily Pratap, Muslim, Muslim Reservation, Rahul Gandhi, Uttar Pradesh, Vir Arjun

میرے بھارت مہان کی ایک تصویر یہ بھی ہے



Published On 18th December 2011
انل نریندر
جمعرات کو اس موسم کا دہلی میں سب سے سرد دن رہا۔ کم از کم درجہ حرارت3 ڈگری سے کم 5.9 ڈگری سیلسیس رہا۔ محکمہ موسمیات کے مطابق اگلے تین چار دن تک درجہ حرارت5 سے6 ڈگری سیلسیس کے آس پاس بنا رہے گالیکن اگلے ہفتے سے اس میں اور گراوٹ آئے گی اور ٹھنڈ پڑے گی۔22 دسمبر تک راجدھانی میں بارش ہونے کا بھی امکان ہے۔ اس کڑاکے کی سردی میں میں جب سوچتا ہوں کہ ہزاروں لوگ آج بھی فٹ پاتھ ، سڑکوں پر سونے کے لئے مجبور ہیں تو میرا دل یہ پوچھنے پر مجبور ہوجاتا ہے کہ کس بات کے لئے ہم یہ کہتے نہیں تھکتے میرا بھارت مہان ہے؟ ایک طرف تو کہا جاتا ہے ہندوستان دنیا کی گنی چنی بڑھتی معیشت کی علامت ہے اور دوسری جانب آج تک ہم غریب، بے سہارا آدمیوں کے لئے ٹھیک ڈھنگ سے رین بسیرے تک نہیں بنا سکے؟ یہ تسلی کی بات ہے کہ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ دونوں کو ان غریبوں کی فکر ضرور ہوئی ہے۔ سپریم کورٹ کے بعد دہلی ہائیکورٹ نے کہا کہ کڑاکے کی اس ٹھنڈ میں ہزاروں بے سہارا لوگوں سڑکوں پر راتیں گذارنے کو مجبور ہے لیکن سرکار اس طرف توجہ نہیں دے رہی ہے۔ اسے باعث تشویش قرار دیتے ہوئے عدالت نے ان 84 عارضی نائٹ شیلٹروں کو دوبارہ سے قائم کرنے کا حکم دیا ہے۔ اپنے9 اگست کے حکم کو درکنار کر انہیں بند کردیا گیا تھا۔ اس کے ساتھ ہی ہائیکورٹ نے ماسٹر پلان2021ء کے حساب سے مستقبل کی ضرورتوں کو دیکھنے کیلئے 184 پختہ رین بسیرے بنانے کی بھی ہدایت دی ہے۔ عدالت نے پیر کو اس سے وابستہ معاملوں میں سبھی ریاستوں کے چیف سکریٹریوں کو بھی سبھی شہروں میں رین بسیروں کے مناسب انتظام کرنے کو کہا تھا۔
دہلی ہائیکورٹ کی پھٹکار کھانے کے بعد دہلی سرکار کو رین بسیروں کا خیال آیا ہے۔ سرکار کے ملازمین جمعرات کی دیر شام تک عارضی رین بسیرے بنانے اور ان کی تعداد 30 تک پہنچانے میں لگ گئے ۔ پانچ اور رین بسیرے اگلے تین دنوں میں بنائے جائیں گے۔ سرکاری اعدادو شمار کے مطابق میرے بھارت مہان کی راجدھانی دہلی میں پونے دو لاکھ لوگ آج بھی بے گھر ہیں۔ ان کے لئے بڑی تعداد میں تین بسیروں کی ضرورت ہے لیکن دہلی سرکار کے پاس محض64 رین بسیرے ہیں۔ اگر ہم یومیہ رین بسیرے کا حساب لگائیں تو ان میں 27035 لوگ روزانہ رہ سکتے ہیں لیکن اتنی تعداد نہ ہونے کے باوجود سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ان64 رین بسیروں میں زیادہ تر بند پڑے ہیں۔ پچھلے سال84 عارضی رین بسیرے بسائے گئے تھے جن میں17 جل گئے۔52 عارضی رین بسیروں کو یہ دلیل دے کر بند کردیا گیا کے بے گھر لوگ اس میں رہنے کے لئے نہیں آرہے ہیں اور15 رین بسیرے اب بھی چالوہیں۔
یہ دکھ کی بات ہے دہلی سرکار ان بے سہارا لوگوں کے تئیں اتنی لاپرواہ ہے۔ آخر انہیں بھی کڑاکے کی ٹھنڈ میں اپنے آپ کو محفوظ رکھنے کا حق ہے۔ یہ سرکار کا کام ہے انہیں کم سے کم کھلے آسمان میں راتیں گذارنے سے بچائے اور مناسب انتظام کرے۔ سرکار کو خود بھی سوچنا چاہئے اس بات کا انتظار نہیں کرنا چاہئے کہ سپریم کورٹ یا ہائیکورٹ ہی پھٹکار لگائے تب جاکر وہ کام کرے۔ میرے بھارت مہان کا ایک اصلی چہرہ یہ بھی ہے۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Delhi Government, Delhi High Court, India, MCD, Night Shelters, Poor, Vir Arjun