Translater

28 مارچ 2015

سڈنی سے ہندوستان تک کروڑوں کے سپنے ٹوٹے

بھارت کیلئے کرک ورلڈ کپ2015 کا سفر ختم ہوگیا ہے۔ سیمی فائنل میچ میں ٹیم انڈیا آسٹریلیائی ٹیم سے95 رنوں سے ہار گئی ہے۔ اسی کے ساتھ ٹوٹ گئے وہ سپنے جو سڈنی سے بھارت تک کروڑوں ہندوستانی کرکٹ شائقین نے دیکھے تھے ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں آسٹریلیا کے ہاتھوں ٹیم انڈیا کی ہار سے کرکٹ شائقین غم اور غصے میں ہیں۔ اترپردیش۔ بہار میں بھارت کے میچ ہارنے کے بعد لوگوں نے ٹی وی سیٹ توڑ ڈالے۔وہیں کچھ کھلاڑیوں کے پوسٹر جلا دئے گئے۔ لکھنؤ میں میچ ہارنے کے بعد سچیوالیہ کے ایک ملازم نے بابو بھون کی ساتویں منزل سے کود کر خودکشی کرلی۔ سیمی فائنل کے چلتے سڑکوں پر سناٹا چھایا رہا۔ لوگ صبح سے ہی ٹی وی اسکرین سے چپکے بیٹھے رہے۔ بازاروں میں چہل پہل کم رہی تو سرکاری دفاتر ، ہاسٹل، دوکانوں و نکڑ پر لوگ ورلڈ کپ میچ دیکھنے میں لگے ہوئے تھے۔ ہار کے بعد کئی کھلاڑیوں کے گھر سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔ کپتان مہندر سنگھ دھونی کے گھر کے باہر کمانڈو تعینات کئے گئے ہیں۔ ممبئی پولیس نے روہت شرما کے گھر کے باہر حفاظت سخت کردی ہے۔ میچ میں 4 وکٹ لینے والے تیز گیند باز امیش یادو کے والد تلک یادو سے اخبار نویسوں نے سوال کیا کیا آپ مانتے ہیں کہ آپ کے بیٹے نے اچھا کھیلا ہے؟ اس سوال پر یادو کے والد نے جواب دیا کیسا اچھا کھیل؟ جب ٹیم انڈیا ہار گئی ہے۔ ٹیم انڈیا کیوں ہاری اس کا تجزیہ کرنے پر پتے چلے گا لیکن کچھ باتیں تو صاف ہیں۔ مسلسل 7 میچوں میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے ہندوستانی تیز گیند باز بھی فائنل میں امیدوں پر کھرے نہیں اترے۔ آسٹریلیا کے خلاف تینوں ہندوستانی کھلاڑیوں نے 6 سے زیادہ کی اوسط سے زیادہ رن دئے وہیں بیٹنگ پاور پلے میں تو ہندوستانی پیسروں کی گیند بازی بیحد خراب رہی اور انہوں نے قریب62 رن دئے۔ ہندوستانی ٹیم کی ہار کی ایک بڑی وجہ سینئرٹی سلسلہ بلے بازی کا خراب شاٹ کا انتخاب رہا۔ آسٹریلیائی بالروں نے اتنی اچھی بالنگ نہیں کی، ہندوستانی بلے بازوں نے تو اپنی وکٹ تھرو کی اچھی پاری کھیل رہے شکھر دھون نے ہیزل وڈ کی گیند پر خراب شاٹ کھیل کر وکٹ گنوائی وہیں ویراٹ کوہلی نے جانسن کی شاٹ پچ گیند پر خطرہ مول لیا اور 1 رن بنا کر لوٹ گئے۔ سریش رینا نے فوکنر کی آف اسٹمپ پر سینے تک اٹھی گیند پر وکٹ کیپر کو کیش تھما بیٹھے۔ہندوستانی بلے بازوں کو شاٹ پچ گیند نہ کھیل پانے کی کمزوری کا فائدہ آسٹریلیائی پیسروں نے اٹھایا۔ ہندوستانی گیند باز اسٹیو اسمت کا توڑ اس بار بھی نہیں ڈھونڈ پائے۔ ٹیسٹ اور سہ روخی سیریز میں بھارت کے خلاف شاندار کھیلنے والے اسمت نے اپنی لے کو سیمی فائنل میں بھی قائم رکھا اور 105 رن کی پاری کھیلی۔ ٹیم انڈیا کی ہار میں تھرڈ امپائر کا ایک غلط فیصلے کا ہونا بھی رہا۔جڈیجہ نے ایرون فنچ کے خلاف ایل بی ڈبلیو کی اپیل کی جب وہ 43 رن پر کھیل رہے تھے، میدان امپائر نے ناٹ آؤٹ قراردیا۔ جس کے بعد دھونی نے ڈی آر ایس کا استعمال کیا۔ صاف دکھائی دے رہا تھا گیند مڈل اسٹمپ پر ٹکرار رہی ہے لیکن تھرڈ امپائر نے فیصلہ ناٹ آؤٹ ہی لیا۔ کمپنٹری کررہے سرکردہ کمپنٹیٹروں نے بھی اس فیصلے کی تنقید کی۔ ٹیم انڈیا دو تین موقعوں پر چوک گئی۔ 37 ویں اوور کے بعد آسٹریلیا کا اسکور 2 وکٹ پر 231 رن تھا مگر اس نے اگلے 6 اووروں میں19 رن جوڑ کر3 وکٹ گنوا دئے۔ہندوستانی گیند بازوں کے پاس آسٹریلیا کو 300 سے کم اسکور پر روکنے کا بڑھیا موقعہ تھا لیکن آخری 7 اوور میں 78 رن جوڑ کر اسکور کو 328 تک پہنچا نے میں آسٹریلیائی ٹیم کامیاب رہی۔ روہت اور شکھر کی سلامی جوڑی نے 76 رنوں کی بہترین پارٹنر شپ کی مگر ٹیم انڈیا نے 13 سے23 ویں اوور کے درمیان35 رن جوڑ کر شکھر، ویراٹ، روہت اور رینا کے وکٹ گنوادئے۔ کم فرق میں 4 وکٹ گنوانے کا خمیازہ ٹیم انڈیا کو بھگتنا پڑا۔ 24ویں اوور میں ونڈے کے فنیشر کہے جانے والے ایم ایس دھونی بیٹنگ کرنے اترے۔ دھونی نے رہانے کے ساتھ پانچویں وکٹ کے لئے80 بال میں70 رنوں کی پارٹنر شپ کی یہ پارٹنر شپ 37 ویں اوور میں رہانے کے آؤٹ ہونے سے ٹوٹی۔ دھونی کا ساتھ دینے کے لئے کوئی اسپیشلسٹ بلے باز نہیں بچا تھا۔ رہانے کے آؤٹ ہونے سے انڈیا کی جیت کی امیدیں ٹوٹ گئیں۔ بھارت کا یہ آسٹریلیائی دورہ اب تک کے سب سے خراب دوروں میں سے ایک ہے۔ٹیسٹ میچ ، سہ رخی سیریز میں ہارنے کا سلسلہ سیمی فائنل میں بھی چلا۔ چلوں ہمیں اس بات کی خوشی تو ہے کہ ہم اپنے سے بہتر ٹیم سے ہارے۔ یہ صحیح ہے کہ جیت اور ہار کھیل کا حصہ ہے لیکن ٹیم انڈیا جس طرح 95 رنوں کے بڑے فرق سے ہار کر ورلڈ کپ سے باہر ہوئی ، یہ بات لوگوں کو عرصے تک ستاتی رہے گی۔ 1987ء ورلڈ کپ کے بعد یہ پہلی بار ہوگا جب کوئی ایشیائی ٹیم فائنل مقابلے میں کھیلتی نظر نہیں آئے گی۔ کیا کریں قسمت نے بھی ہمارا ساتھ نہیں دیا، دھونی ٹاس ہار گئے۔
(انل نریندر)

دفعہ66 اے کو سپریم کورٹ نے دی سزائے موت

جمہوریت کی حفاظت میں دیش کی سپریم عدالت اور عام آدمی کی آزادی کے لئے خوش آئین اشارہ ہے۔ سپریم کورٹ نے انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ کی دفعہ66A کو جس طرح سے غیر آئینی قرار دیا اس سے یہ صاف ہوگیا ہے کہ اس قانون کا بیجا استعمال اس لئے ہورہا تھا ، کیونکہ اس کو بنایا ہی غلط نیت سے گیا تھا۔متنازعہ دفعہ 66A کو منسوخ کرکے آئین کی دفعہ19 کے تحت ملے نظریات اور اظہار خیال کی آزادی کو ہی نیا باب دے دیا ہے۔ دراصل انٹر نیٹ کے بڑھتے دائرے کے ساتھ ہی اس کے ذریعے نشر ہونے والے مضر مواد کو کنٹرول کرنے کے لئے قانون کی ضرورت محسوس کی گئی تھی جس کے نتیجے میں آئی ٹی ایکٹ وجود میں آیا مگر اس کی دفعہ66A کی ٹھیک سے تشریح نہ کئے جانے سے سرکاروں اور پولیس کو سوشل نیٹ ورکنگ یا دیگر سائٹ پر مبینہ قابل اعتراض خیالات یا مواد ڈالنے سے متعلق شخص کے خلاف کارروائی کا منمانا اختیار مل گیا تھا۔ سپریم کورٹ نے آئی ٹی ایکٹ قانون کے جس ہتھیار کو مہرہ بنایا ہے اس کے خلاف آواز قانون کے ہی ایک نوجوان طالبا نے اٹھائی تھی۔ عدالت نے بھی اپنی آواز کو جوڑتے ہوئے جمہوریت کی بنیاد کو ہلنے سے بچا لیا۔ اظہار خیال کی آزادی بغیرکیسا پرجاتنتر اور کیسالوک تنتر؟ دفعہ66A کو غیر آئینی اور اظہار خیال کی آزادی کے خلاف بتاتے ہوئے اسے منسوخ کرنے کا فیصلے کا عام طور پر خیر مقدم ہی ہوا ہے کیونکہ پچھلے دنوں اس کے بیجا استعمال کے کئی معاملے سامنے آئے تھے۔ اس قانون کے تحت یہ ممکن تھا کہ اگر کسی لیڈر کے کسی کارٹون یا اس کے خلاف رائے زنی کو فیس بک پر کسی نے لائک کرلیا یا فارورڈ کردیا تو اسے گرفتار کیا جاسکتا تھا۔ یہ اندیشے نہیں تھا ۔اس طرح کے کئی قصے سامنے آئے تھے یہ قصے کسی ایک علاقے یا ریاست کے نہیں ہیں نہ ہی اس قانون کا بیجا استعمال کرنے میں صرف ایک پارٹی کی سرکار قصور وار ہے۔ بلکہ مغربی بنگال، مہاراشٹر، اترپردیش جیسی کئی ریاستوں میں ایسے تبصروں کے لئے لوگوں کو جیل کی سزا بھگتنی پڑی ہے جنہیں عام سیاسی اظہار خیال کہا جاسکتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ دیش کی دونوں۶بڑی سیاسی پارٹیوں، بھاجپا اور کانگریس کے بڑے لیڈروں نے دفعہ66A کی نکتہ چینی کی تھی لیکن دونوں پارٹیوں نے اسے ختم کرنے کی پہل نہیں کی، بلکہ یہ کام سپریم کورٹ نے کیا ہے۔ عدالت عظمیٰ کا فیصلہ حکومتوں اور سیاسی طبقے کیلئے ہی نہیں بلکہ اخلاقیات کے خود ساختہ جھنڈا برداروں کیلئے بھی ایک سخت پیغام ہے لیکن اظہار خیال کی آزادی کا یہ مطلب بھی قطعی نہیں ہے کہ دوسروں کے جذبات کو ٹھیس پہنچایا جائے۔اس کے ساتھ ہی یہ سمجھنے کی بھی ضرورت ہے نظریات اور اظہار خیال کی آزادی غیر محدود نہیں ہے بلکہ وہ قانون اور آئین کے دائرے میں ہے۔ حالانکہ سائبر دنیا کے بیجا استعمال کا اندیشہ اب بھی بنا ہوا ہے۔ اسے صرف استعمال کرنے والے کے ضمیر کے بھروسے نہیں چھوڑا جاسکتا لیکن اس کو دیکھنے کے لئے اور بھی ضمیر چاہئے۔
(انل نریندر)

27 مارچ 2015

The Big Question: Who is responsible for Hashimpura massacre?

Anil Narendra

According to prosecution, Police, PAC and the Army had run a search operation during Meerut riots in the month of Ramzaan on 22nd March,1987 at Hashimpura Mohalla in front of Gulmarg Cinema on Hapur road and arrested around 50 persons of a particular community and took them in trucks to Police Line. After sunset, PAC personnel took the trucks to Ganga Cannal in Murad Nagar. Here the PAC shot them dead one by one and dumped their dead bodies in canal.  Hearing the sound of bullets, other youths sitting in a truck tried to rebel but the PAC open fired them with bullets. After the mass execution the truck was taken to Hindon River in Ghaziabad and the dead bodies were thrown into the River. Few of those who were shot survived. Babudin, one of the survivors, reached Link Road Police Station and lodged a report. Only after that Hashimpura incident came into the limelight. The death of 42 innocents was an example of horrifying killing in custody. And even the judgment that came after 28 years is very disappointing where all the accused are let free due to the inability of the witnesses to identify the accused. This court decision that came after 28 years can be called a distortion of justice. The reason of saying this is not to question the intention of the Judiciary system in India. The courts depend on facts and proof for delivering justice, which are to be firmly submitted to the court by the search agencies. If 28 years ago the case has not been boldly build to give justice to the deceased 42 people then it is the fault of intentional sluggishness in investigation or the uselessness of CID.  The court released all the accused due to the failure of all the five witness to recognize the culprits.  It is to be considered that all the five witnesses were the people who were allegedly taken prisoner with the other 42 people by the police. When the final judgment came at 3.30 pm on Saturday, thousands of people here were taken aback. People were expecting that the accused will face strict punishment but nobody ever expected that they will be released due to lack of evidence. Some people believed that at least the accused will get lifelong imprisonment. The devastated families regarded the Government as well as administration responsible in this matter and said that they will keep up their fight for justice. They will knock the doors of High Court. In the regime of Government, administration and justice, we will get very less examples of such incidences where in-between communal animosity the police arrest some innocent people and then kill them one by one in the darkness of the night. Such a barbaric act can be compared to Nazi and Hitler Regime or to the recent manslaughter in cast wars in Bathani Tola, Lakshmanpur Bathe and Shankar Bigha areas of Bihar, where the weaker section of the society have been repeatedly attacked by bullets of the elite casts. The Hashimpura case has happened not in some remote place but only within 50 to 60 kilometers from the country’s Capital. The massacre that pressed the then Prime Minister Rajiv Gandhi to come to Hashimpura, the then ruling congress party had insisted to give this case to CID for investigation instead of the CBI. If the case had been properly investigated then today the situation would have been absolutely different. If CID could not find the uniformed culprits and punish them then it showcases its incompetence or its bad intentions. Anyway this judgment can impart a wrong message. Country’s internal and external enemies can try to cite this decision and manipulate a certain community. But the truth is that such incident occurred not due to the support or non support of a certain community but due to the flaws of the system.  This decision has underlined the implication of sluggishness of the law and the need of improvement of the Police force.  Until the flaws in the Police and Judiciary system are removed, the fear of such decisions will remain which will make a jest of justice. Undoubtedly the doors of upper courts are open to the unfortunate families of Hashimpura but such incidences where a minority community is targeted and then the investigation is handled with a slack, gives a wrong image of such a country which is proud of its democratic rule and law and order. 

Sent from BlackBerry® on Airtel

عام آدمی پارٹی میں شے مات کا کھیل انتہا پر پہنچا

عام آدمی پارٹی میں سطح پر بیشک صلح سمجھوتے کی کوشش چل رہی ہے لیکن اندر خانے شے مات کا سیاسی کھیل جاری ہے۔ دونوں گروپ دمدار طریقے سے اپنی چالیں چل رہے ہیں۔ نظر قومی کونسل کی میٹنگ ہے۔ بنگلورو سے علاج کے بعداروند کیجریوال نے دہلی کی کمان کیا سنبھالی ، ایسا لگ رہا ہے کے عام آدمی پارٹی میں سارے تنازعے ختم ہوگئے اور سب کچھ خاموش سا دکھائی دے رہا ہے لیکن یہ خاموشی کہیں طوفان سے پہلے کی تو نہیں ہے۔کیونکہ نہ تو اب یوگیندر یادو کچھ بولتے دکھائی دے رہے ہیں، اور نہ ہی اروند کیجریوال کے خیمے میں کوئی رسہ کشی ۔ ذرائع کی مانیں تو دہلی میں 28 مارچ کو ہونے والی قومی کونسل کی میٹنگ میں سب کچھ ٹھیک ٹھاک نہیں رہنے والا ہے۔ بتایا جارہا ہے کہ دونوں گروپ اپنے اپنے حمایتیوں کو جوڑنے میں لگے ہوئے ہیں۔ ایک طرف یوگیندر یادو عام آدمی پارٹی کی قومی کونسل کے ممبران کو اپنے خیمے میں جوڑنے کی کوشش کررہے ہیں تو ’مشن توسیع‘ کے اعلان کے ذریعے پارٹی نے بھی قومی کونسل کے لوگوں کو عہدہ اور چناؤ کا لالچ دے کر پارٹی میں اور اروند کیجریوال کے خیمے میں رہنے کا اشارہ دے دیا ہے۔ لیکن ذرائع کی مانیں تو یوگیند ر یادو اور پرشانت بھوشن کو پارٹی اتنی آسانی سے معاف نہیں کرے گی۔ بتایا جارہا ہے دہلی یونٹ کی رپورٹ کی بنیاد پرپارٹی یوگیندر یادو اور پرشانت بھوشن کو پارٹی سے باہر تو نہیں نکالے گی، لیکن دہلی سے باہر کسی اور ریاست کی ذمہ داری دے سکتی ہے۔ پی اے سی سے نکالے جانے کے بعد یوگیندر یادو اور پرشانت بھوشن خیمہ ورکروں سے سیدھی بات کررہا ہے۔ اس میں عام ورکروں کی دکھتی رگ ٹٹولی جاتی ہے۔سیدھا سوال یہی ہوتا ہے کہ پارٹی فی الحال ان سے بات چیت کررہی ہے یا نہیں؟ منگلوار کو اروند کیجریوال کو بھیجے گئے ایک خط میں یوگیندریادو اور پرشانت بھوشن نے ایک بار پھر دوہرایا ہے کہ پارٹی میں ورکروں کو عزت ملے ۔ دوسری ریاستوں میں پارٹی میں فروغ و شفافیت کی بات کہی ہے۔ ہمیں نہیں لگتا کہ قریب تین سال پہلے بنی عام آدمی پارٹی میں گھمسان میں اب صلح کا کوئی امکان نہیں بچا ہے۔28 تاریخ کو نیشنل کونسل کے لئے تلواریں کھنچ چکی ہیں۔ پارٹی کے آئین کے مطابق قومی کنوینر ہی نیشنل کونسل کی میٹنگ کی صدارت کرتا ہے۔ اگر وہ موجود نہیں ہے تو اس کی جگہ کوئی اور صدارت کر سکتا ہے۔ اگر ذرائع کی مانیں تو یہ تقریباً طے ہوچکا ہے کہ پرشانت بھوشن اور یوگیندر یادو کو پارٹی سے باہر نکالا جائے گا۔ نیشنل کونسل کی میٹنگ میں پالیٹیکل آفیئرز کمیٹی کا کوئی ممبر ایک لائن کا ریزولوشن رکھے گا جس میں کہا جائے گا کہ اگر پرشانت بھوشن اور یوگیندر یادو پارٹی میں رہتے ہیں تو اروند کیجریوال قومی کنوینر کے طور پر کام نہیں کر پائیں گے؟ حالانکہ پارٹی کے نیتا اس بارے میں کھل کر کچھ بولنے سے کترا رہے ہیں۔ کیجریوال مخالف گروپ کے ایک ممبر نے بتایا کہ پارٹی کے آئین کو چناؤ کمیشن سے منظوری ملی ہوئی ہے۔ اس آئین کے مطابق ایک شخص دو عہدوں پر نہیں رہ سکتا۔ کل ملا کر 28 مارچ کی قومی کونسل کی میٹنگ ہنگامے دار ہوگی۔ اس میں کچھ بھی ہوسکتا ہے۔
(انل نریندر)

کسان خودکشی کرنے پر کیوں مجبور ہیں؟

دیش کے کسانو ں نے بڑی امیدوں سے وزیر اعظم نریندر مودی کو اپنے من کی بات شیئر کرتے سنا ہوگا، ورنہ گاؤں دیہات سے آج کون بات چیت کرتا ہے؟ موقعہ معقول تھا کیونکہ بے موسم برسات اور اولوں کی مار سے برباد ہوئی فصلوں سے کسان بیزار ہے۔ بارش و زالہ باری کے سبب فصلیں برباد ہونے سے کسانوں کی موت کا سلسلہ رک نہیں رہا ہے۔ حال ہی میں 6 کسانوں سے مایوسی کے سبب خودکشی کرلی ہے۔اورئی میں 3 ،مہوبا، للت پور اور باندا میں ایک ایک کسان کی موت ہوگئی ہے۔ یہ سبھی اترپردیش میں ہوئی ہیں۔جمن پور ؍ڈکور(اورئی) کے رامپورہ کے قصبہ جگت پور میں بھگوان داس (65) سال کی فصل چوپٹ ہونے کے غم میں موت ہوگئی۔ اس کے پاس چار ایکڑ زمین تھی ، گیہوں کی فصل پک کر تیار تھی۔ بارش سے فصل چوپٹ ہوگئی۔ڈکور کے موضع قابل پورہ کے باشندے رام بہاری(38) سال نے بھی زہر کھا کر جان دے دی۔ رام بہاری پر 8 لاکھ کا قرض تھا۔چرکی کے موضع کھاکھڑی کے باشندہ مہاویر فرزندگوچرن سنگھ کی برباد فصلیں دیکھ کر دل کا دورہ پڑنے سے موت ہوگئی۔ کسانوں کو امید بندھانے کی سخت ضرورت ہے اور یہ کام وزیر اعظم سے بہتر اور کون کر سکتا تھا۔ مودی کی ’من کی بات ‘ کے بیشک اپنے سیاسی مفادات رہے ہوں ، جو تحویل اراضی قانون کے حق میں وزیر اعظم کے الفاظ سے جھلکے بھی لیکن کسانوں کے سروکاروں سے سیدھے بات چیت کی اس پہل کی انتہائی ضرورت تھی، چاہے آپ اسے سیاسی، سماجی یا سرکاری کسی بھی نظریئے کے چشمے سے دیکھیں۔ تیزی سے صنعتوں کے پھیلاؤ سے آج زراعت کی اہمیت اور بالادستی گھٹتی جارہی ہے۔ دیش کی جی ڈی پی میں اس کا اشتراک اب 20 فیصدی سے بھی نیچے آگیا ہے۔ لیکن ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ آج بھی ہماری آبادی انہی کھیت کھلیانوں کی بدولت اپنا پیٹ بھرتی ہے۔ وزیر اعظم کی یہ پہل اس لئے بھی اہم ہے کیونکہ زیادہ تر سیاستدانوں کو ہمارے ان داتاؤں کی تبھی یاد آتی ہے جب انہیں چناؤ میں ان کے ووٹ چاہئے ہوتے ہیں۔ لیکن اقتدار کی چابی ہاتھوں تک پہنچتے ہی دیش کی سب سے بڑی بے وسائل آبادی کو ان کی تقدیر پر چھوڑدیا جاتا ہے کہ وہ قدرت کے بدلتے تیوروں کا مقابلہ ننگے ہاتھ اور خون پسینے سے کرے تاکہ خوشحال آبادی تک کھانا پانی کا سامان بلارکاوٹ پہنچتا رہے۔خود حالات سے پریشان ہوکر خودکشی کرنے پر مجبور ہو۔ مہاراشٹر میں پچھلے 7 مہینے میں کسانوں کی خودکشی کے معاملے 40 فیصد بڑھ گئے ہیں۔ پہلے زبردست خشک سالی سے کھیتوں میں کھڑی فصلیں جل گئیں،خوشک سالی نے کھیتوں میں کھڑی فصلیں جلا ڈالیں اور پچھلے دنوں آئی بے موسم بارش اور زالہ باری نے دوسرے دور کی فصلوں کو بھی زمین دوز کردیا۔ مہنگی کھاد ،بیج، کیڑے مار دواؤں کے بڑھتے خرچ سے پریشان کسان بھاری قرض کا بوجھ کیسے جھیلیں یہ سوال سب کے لئے باعث تشویش ہونا چاہئے۔ آدی صدی پہلے تک اتم پیشہ مانے جانے والی کھیتی آج سب سے زوال پذیر اور خطرناک کیوں ہوگئی ہے، پیداوار کا فائدہ ، قیمتیں کیسے وقت پر سیدھے کسان تک پہنچیں، پیداوار کو محفوظ رکھنے کیلئے آسان اور اثر دار طریقے سے مناسب بیمے کا انتظام کرنا سب سے بڑی چنوتی ہے۔ان داتا کی اس دردشا پر سبھی کو تشویش ہونی چاہئے۔ 
(انل نریندر)

26 مارچ 2015

اسکول کالجوں میں جنک فوڈ پر پابندی کا سوال

دہلی ہائی کورٹ کی مرکزی سرکار سے جنک فوڈ پر پابندی لگانے کے لئے طے گائیڈ لائنس کو لاگو کرنے کی ہدایت لائق خیر مقدم ہیں۔ ہائی کورٹ نے اس کے لئے انڈین فوڈ سکیورٹی اسٹینڈرڈ اتھارٹی (ایف ایس ایس آئی)کو تین ماہ کی مہلت دی ہے۔ ہائی کورٹ کی ہدایت پر اسے دیش بھر کے اسکولوں اور کالجوں میں نافذ کیا جائے گا۔چیف جسٹس جی۔روہنی اور جسٹس راجیو سہائے اینڈلے کی بنچ نے یہ فیصلہ غیر سرکاری انجمن ’’ادے فاؤنڈیشن ‘‘ کی طرف سے پیش وکیل امت سکسینہ کی داخل کردہ مفاد عامہ کی عرضی کا نپٹارہ کرتے ہوئے دیا ہے۔ حالانکہ عدالت ہذا نے عرضی گزار انجمن اور معاملے میں مشورہ دینے کے لئے مقرر ’’نیائے متر‘‘ کی تجاویزوں کو درکنار کردیا ہے۔ ہائیکورٹ نے اسے تیار کیا ہے اور اس پر اب غور کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ جنک فوڈ سے نہ صرف بچے موٹاپے کا شکار ہورہے ہیں بلکہ چڑچڑے پن ،کشیدگی اور شگر جیسی بیماریوں کی زد میں بھی آرہے ہیں۔ 
ہائی کورٹ کے ذریعے منظور کی گئی اسپیشل کمیٹی نے جنک فوڈ سے بچوں کو دور رکھنے کیلئے ٹیلی ویژن ، اخبارات کے علاوہ سوشل میڈیا کا بھی سہارا لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ ہائی کورٹ کے حکم پر جنک فوڈ پر تیار نئی گائیڈ لائنس کے خاکہ کے تحت اطلاعات و نشریات وزارت ایک چھوٹی دستاویزی فلم بھی جاری کرے گی ، جو سبھی اسکولوں میں بچوں کو دکھائی جائے گی۔ سرکار سیدھے طور پر اسکولوں و کینٹینوں میں جنک فوڈ پر پابندی نہیں لگانے کے پیچھے کا مقصد یہ بتایا جاتا تھا کہ اگر کینٹین میں جنک فوڈ کی بکری پر پابندی لگادی جائے تو بچے باہر جاکر اس کا استعمال کریں گے۔ کمیٹی نے کہا تھا اس لئے ضروری ہے کہ بچوں میں جنک فوڈ کے تئیں ان کے والدین کو بھی واقف کرایا جائے۔ادے فاؤنڈیشن نے اپنی عرضی میں اپیل کی تھی کہ 2011ء میں اسکولوں کالجوں کی کینٹین میں جنک فوڈ پر پابندی اور اس کے 500 میٹر کے دائرے میں فروخت پر پابندی لگانے کی مانگ کی تھی۔ اس میں کہا گیا تھا کہ جنک فوڈ سے بچوں میں موٹاپا اور کئی بیماریاں پیدا ہورہی ہیں۔ ہائی کورٹ کے حکم پر 22 نفری اسپیشل کمیٹی نے اگست2013ء میں اپنی رپورٹ پیش کی تھی۔ادے فاؤنڈیشن نے اس اسپیشل کمیٹی کی رپورٹ پر احتجاج کرتے ہوئے جنک فوڈ پر پوری طرح پابندی لگانے کا مطالبہ کیا تھا اور اسکولوں کی مانیتا کے لئے کینٹین میں جنک فوڈ سے توبہ اور پوشٹک غذا مہیا کرانا اہم شرط ہوگی۔ ہائی کورٹ نے سی بی ایس سی کو کسی بھی اسکول کی منظوری دیتے وقت بچوں کو کینٹین میں صرف ’’پوشٹک آہار‘‘ مہیا کرانے کی شرط نافذ کرنے کو کہا ہے کہ ہمیں ایسا لگتا ہے کہ اسکولوں کو منظوری دیتے وقت جنک فوڈ سے توبہ اور پوشٹک آہار مہیا کرانے کی شرط لگنے سے اس گائیڈ لائنس کو نافذ کرنے سے وسیع اور مثبت اثر پڑے گا۔ حالانکہ ہائی کورٹ نے یہ ضرور کہا ہے کہ سی بی ایس سی کا موقف نہیں سنا گیا ہے ایسے میں اسے نافذ کرنا ممکن ہے یا نہیں اس پر غور کرنا ہوگا۔ ہائی کورٹ نے سی بی ایس سی ایجوکیشن بورڈ سے 30 اپریل تک اس بارے میں سبھی پہلوؤں پر غور کر مناسب فیصلہ لینے کا حکم دیا ہے۔
(انل نریندر)

اکھلیش یادو اپنی ساکھ بدلنا چاہتے ہیں

تین برس کی حکمرانی کے بعد اترپردیش میں سماجوادی پارٹی کی سرکار اپنی ساکھ بدلنے کی کوشش میں ہے۔ دو سال بعد ریاست میں ہونے والے اسمبلی چناؤ سے پہلے پارٹی ایک طبقہ خاص کے ساتھ جوڑ کر دیکھی جانے والی اپنی پہچان سے آگے نکلنا چاہتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اکھلیش یادو نے شرون یاترا کی شروعات کرکے بزرگوں کیلئے تیرتھ یاترا کی اسکیم شروع کی ہے تاکہ وہ سبھی کے دلوں میں سرکار کیلئے جگہ بنا سکیں۔اس کے علاوہ اپریل میں وزیر اعلی کا ریاست کا اچانک معائنہ کرنے کا بھی پروگرام ہے تاکہ ترقی کے سچ کی زمینی تصدیق کی جاسکے۔ تین سال پہلے یوپی میں مکمل اکثریت کے ساتھ سرکار بنانے کے بعد وزیر اعلی اکھلیش یادو اور ان کی سرکار پر ایک طبق�ۂ خاص مذہب اور ذات پات کے مفادات پر زیادہ توجہ دینے کے الزامات لگتے رہے ہیں۔ اپوزیشن وقتاً فوقتاً سپا سرکار پر یہ الزام مڑھتی رہی ہے کہ اس نے سرکار بنانے کے بعد ایک خاص برادری کی ترقی کو زیادہ ترجیح دی ہے۔ خود پارٹی چیف ملائم سنگھ یادو کو صفائی دینی پڑی تھی کہ سماج کا جو طبقہ سب سے پسماندہ ہے اس کا وکاس کرنا سرکار کی اولین ترجیح ہے۔ ایک ذات و مذہبی طبقے کے تئیں ہمدردی کی ساکھ سے آنے والے اسمبلی چناؤ میں سپا کو نقصان ہو سکتا ہے اس لئے اب اپنی ساکھ بدلنا چاہتے ہیں۔ تین برس پہلے اسمبلی چناؤ میں سپا کو ملی 224 سیٹیں اس بات کا اشارہ ہیں کہ پارٹی کو سبھی مذاہب اور ذاتوں نے برابری سے تسلیم کیا تھا لیکن گزشتہ برس ہوئے لوک سبھا چناؤ میں اترپردیش میں پارٹی کو ملی کراری شکست کے بعد ہار کے اسباب پر سینئر لیڈروں نے کئی مرحلے وار منتھن اور چنتن میٹنگیں کیں۔ ان میٹنگوں میں پارٹی کی ہار کی بڑی وجہ اس کی مسلمانوں اور یادوؤں سے قریبی ہونے و نظرآنے والی ساکھ کو ٹھہرایا گیا ہے۔ اس کے بعد سپا اعلی کمان نے سبھی مذاہب اور برادریوں تک خود کو پہنچانے کی حکمت عملی تیار کی ہے۔ اسی سلسلے میں وزیر اعلی اکھلیش یادو نے کئی قدم اٹھائے ہیں اور اٹھانے جارہے ہیں۔ اسی سلسلے میں’’ سندھو درشن یاترا‘‘ پر جانے والے ریاست کے باشندوں کو 10 ہزار روپے کی گرانٹ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ ’’سندھو درشن یاترا ‘‘ ہرسال جون میں منعقد کی جاتی ہے۔ اکھلیش یادو بھی اب وزیر اعظم نریندر مودی کی راہ پر چل نکلے ہیں۔ انہوں نے بھی عام لوگوں تک اپنی پہنچ بنانے کی اسکیم بائی ہے۔ اسی کے تحت وہ بھی ’’من کی بات‘‘ پروگرام کا انعقاد کریں گے۔ جلد ہی وہ اترپردیش کے طلبا سے من کی بات کریں گے۔ پچھلے دنوں پی ایم مودی نے بھی طلبہ سے من کی بات کی تھی۔ ذرائع کی مانیں تو اکھلیش یادو صرف ان طلبہ سے ہی من کی بات کریں گے جن کو ان کی سرکار نے لیپ ٹاپ دئے تھے۔
ایسے قریب 15 لاکھ طالبعلم ہیں۔ انہیں تین سال پہلے لیپ ٹاپ دئے گئے تھے۔ 2017 ء کے اسمبلی چناؤ میں ان طلبا کا بڑا رول ہو سکتا ہے۔ وہ 2017 ء تک ووٹر بن جائیں گے۔ غور طلب ہے کہ سپا نے 2012ء اسمبلی چناؤ کے دوران 12ویں پاس طلبا کو لیپ ٹاپ دینے کا وعدہ کیا تھا۔ سرکار بنی تو ان سبھی طلبا کو لیپ ٹاپ بانٹے گئے جنہوں نے 2012ء میں انٹر پاس کیا تھا۔ اکھلیش یادو سرکار کو اپنی ساکھ بدلنی ہوگی اور یہی کرنا چاہ رہے ہیں وزیر اعلی اکھلیش یادو۔ 
(انل نریندر)

25 مارچ 2015

بڑا سوال: ہاشم پورہ قتل سانحہ کا ذمہ دار کون

مقدمے لڑنے والے فریق کے مطابق میرٹھ فسادات کے دوران ماہ رمضان میں 22 مئی1987ء کو ہاپوڑروڈ پر گلمرگ سنیما کے سامنے ہاشم پورہ محلے میں پولیس ، پی اے سی اور ملٹری نے تلاشی مہم چلائی اور یہاں سے ایک فرقہ خاص کے قریب 50 لوگوں کو ٹرکوں میں بھر کر پولیس لائن میں لے جایا گیاتھا۔ ایک ٹرک کو دن چھپتے ہی پی اے سی کے جوان مراد نگر گنگ نہر پر لے گئے تھے۔ وہاں پی اے سی کے جوانوں نے ٹرک سے اتار کر لوگ کو گولی مارنے کے بعدایک ایک کر لاشوں کو گنگ نہر میں پھینک دیا۔ گولیوں کی آواز سن کر ٹرک میں بیٹھے دوسرے لڑکوں نے بغاوت کرنے کی کوشش کی تو جوانوں نے ٹرک کے اندر اندھا دھند گولی چلا دی۔ بعد میں ٹرک غازی آباد میں ہنڈن ندی پر لے جایا گیا اور لاشوں کو وہاں پھینک دیا۔ ان میں سے کچھ لوگ گولی لگنے کے باوجود بچ گئے تھے۔ انہی میں سے ایک شخص بابو الدین نے غازی آباد کے لنک روڈ تھانے پہنچ کر رپورٹ درج کرائی تھی جس کے بعد ہاشم پورہ سانحہ پورے دیش میں موضوع بحث بن گیا۔ ہاشم پورہ کے 42 بے گناہوں کی موت حراست میں قتل کی خوفناک ترین مثال تھی ۔ قریب28 برس کے بعد آیا اس کا فیصلہ اس سے کم مایوسی پیدا کرنے والا نہیں ہے جس میں استغاثہ کے ذریعے شناخت ثابت کرنے میں ناکام رہنے کی وجہ سے سبھی ملزمان رہا ہوئے ہیں۔28 سال بعد آئے عدالت کے اس فیصلے کو اگر انصاف کا مذاق کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا۔ ایسا کہنے کے پیچھے مقصد عدلیہ کے ارادے پر سوال اٹھانا نہیں ہے۔ عدالتوں کے فیصلے تو دلائل اور ثبوتوں کی روشنی پر مبنی ہوتے ہیں، جنہیں مضبوطی سے پیش کرنے کی ذمہ داری جانچ ایجنسیوں کی ہوتی ہے۔ اگر گزرے28 سال میں 42 بے گناہوں کے گناہگاروں کو سزا دلانے لائق مقدمہ کھڑا نہیں کیا جاسکا تو یہ یا تو جانچ میں جان بوجھ کر برتی گئی لاپرواہی کا نتیجہ ہے یا سی بی سی آئی ڈی کی کوتاہی کا۔ عدلت نے اس بنیاد پر ملزمان کو بری کیا کہ سبھی پانچ گواہ انہیں پہچان نہیں پائے۔ غور طلب ہے کہ یہ وہ پانچ لوگ تھے جنہیں الزام کے مطابق مارے گئے لوگوں کے ساتھ ہی پولیس اٹھا کر لے گئی تھی۔ سنیچر کی دوپہر تین بجکر 30 منٹ کے بعد عدالت کے فیصلے کی جانکاری ملی تو یہاں کے ہزاروں لوگ ہکا بکا رہ گئے۔ لوگ امید لگائے بیٹھے تھے کہ ملزمان کو سخت سزا ہوگی لیکن انہیں ثبوت کی کمی کی وجہ سے بری کردیا جائے گا ایسا کسی نے سوچا تک نہیں تھا۔ کچھ لوگ اندازہ لگا رہے تھے کہ کم سے کم عمد قید تو ہوگی ہی۔ متاثرہ کنبوں نے سرکار کے ساتھ انتظامیہ کو اس کے لئے ذمہ دار ٹھہرایا اور کہا کہ وہ انصاف کیلئے جدوجہد جاری رکھیں گے۔ ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹائیں گے۔ سرکار انتظامیہ اور قانون کے راج میں ایسی مثالیں بہت کم ملیں گی جس میں فرقہ خاص کے درمیان ہمارے نظام کے محافظ کچھ لوگ کچھ بے قصور لوگوں کو پکڑ کر لے جائیں، پھر رات کے اندھیرے میں انہیں ایک ایک کر گولی مار دیں۔ ایسی بربریت کا موازنہ یا تو ہٹلر نازی کے مظالم سے کیا جاسکتا ہے یا جدید دور میں ذات پات کے لئے خطرناک بہار کے بتھانی ٹولہ، لکشمن پور باتھے اور شنکر دگا میں ہوئے قتل عام سے جہاں سماج کے کمزور لوگ بار بار اعلی برادریوں کی گولیوں کا نشانہ بنے۔ ہاشم پورہ سانحہ کو دیش کے کسی ناقابل پہنچ علاقے میں نہیں، قومی راجدھانی سے محض50-60 کلو میٹر دور انجام دیا گیا تھا۔ جس قتل سانحہ نے اس وقت کے وزیر اعظم راجیو گاندھی کو ہاشم پورہ کا دورہ کرنے کے لئے مجبور کیا تھا اس کی جانچ کی ذمہ داری سی بی آئی کو دینے کے بجائے کانگریس کی ہی اس وقت کی ریاستی سرکار نے سی آئی ڈی کو دی تھی۔ اگر تفتیش صحیح ڈھنگ سے ہوتی تو آج حالات الگ ہوتے۔ اگر سی بی سی آئی ڈی وردی پہنے گناہگاروں کو تلاش کر انہیں سزا نہیں دلا پائی تو اس میں یا تو اس کی نا اہلیت ظاہر ہوتی ہے یا بد نیتی۔ بہرحال اس فیصلے سے بہت غلط پیغام جانے کا خطرہ ہے۔ دیش کے اندرونی اور باہری دشمن اس کا حوالہ دے کر ایک طبقے کو ورغلانے کی کوشش کرسکتے ہیں لیکن سچائی یہ ہے اس کالینا دینا کسی فرقے کے تئیں اپیل در اپیل سے نہیں بلکہ سسٹم کے کردار سے ہے۔ اس فیصلے نے عدلیہ مشینری کی سستی کی کوتاہی اور پولیس اصلاح کو درکنار کرنے کی پھر سے نشاندہی کی ہے۔جب تک پولیس اور عدلیہ مشینری کی ان خامیوں کو دور نہیں کیا جاتاانصاف کا مذاق اڑانے والے ایسے فیصلوں کے آتے رہنے کا اندیشہ بنا رہے گا۔ بیشک ہاشم پورہ کے متاثرین کیلئے بڑی عدالت میں جانے کا دروازہ کھلا ہے لیکن سماج کے کمزور طبقوں کو اجتماعی طور پر نشانہ بنانا پھر استغاثہ کے ذریعے لاپروائی برتنے جس میں متاثرہ انصاف سے محروم رہ جاتے ہیں ،اس طرح کے واقعاتکو دیش کی ساکھ کے لئے ٹھیک نہیں مانا جاسکتا جو اپنی جمہوری شفافیت اور قانون کے راز پر فخر کرتا ہے۔
(انل نریندر)

بال ٹو بال پر کرکٹ ورلڈ کپ کا سٹہ

کرکٹ ورلڈ کپ 2015 کے فائنل میں اب صرف کچھ دن ہی باقی ہیں اور پوری دنیا کی نظریں اس پر لگی ہوئی ہیں۔ دھڑکتے دل سے لوگوں کو اب اس دن کا انتظار ہے جب فائنل میچ میں دنیا کے دو مہارتھی ایک دوسرے کو ٹکر دیں گے۔ یہ سبھی جانتے ہیں ایسے کھیل مقابلے میں بھاری سٹہ بھی لگتا ہے۔ کرکٹ کے خمار کے درمیان دہلی پولیس کی کرائم برانچ نے کرکٹ سٹے بازی کا ایک بڑا ریکیٹ پکڑا ہے، ممکن ہے کہ آپ نے سٹے بازی کے ایسے کنٹرول روم کی فوٹو کبھی نہیں دیکھی ہوگی۔ یہی ہے وہ کنٹرول روم جہاں سے سٹے بازوں کو100 سے زیادہ لائنیں دے رکھی ہیں۔ ا س کنٹرول روم سے چل رہی سٹے بازی کے تار دیش کے کئی بڑے شہروں سے جڑے ہوئے بتائے جارہے ہیں۔ کرائم برانچ نے ایک ملزم کو گرفتار کیا ہے اور تفتیش جاری ہے۔ کرائم برانچ کے جوائنٹ پولیس کمشنر رویندر یادو نے بتایا کہ کرکٹ ورلڈ کپ کی سٹے بازی کا کنٹرول روم ویسٹ دہلی کے پچھم وہار میں واقع گھر نمبرBG-6/198c سے آپریٹ ہورہا تھا۔ یہاں سے پکڑا گیا ملزم 57 سالہ شانتی سروپ ہے۔کرائم برانچ نے جس وقت چھاپے ماری کی وہاں سے انڈیا۔ بنگلہ دیش کے کوارٹر فائنل میچ پر سٹہ لگ رہا تھا۔ سٹے بازوں کی لائنیں آن تھیں۔ ہتھے چڑھا سٹے باز ورلڈ کپ کے میچوں کی ہر گیند پر داؤ لگا رہا تھا۔ اسے ہر بال کا ریٹ ممبئی سے ملتا تھا۔ کرائم برانچ کو شبہ ہے کہ ممبئی کا سٹے باز دوبئی سے ان پٹ لے رہا تھا۔ کرائم برانچ کو سیکریٹ انپٹ یہ ملا تھا کہ پچھم وہار کے ایک مکان میں انڈیا بنگلہ دیش کے درمیان کوارٹر فائنل میچ میں سیدھے سٹے بازی چل رہی ہے۔ سٹے باز کو رنگے ہاتھ دبوچنے کے لئے کرائم برانچ کے ڈی سی پی ڈی۔ کے گپتا کی سربراہی میں یہاں چھاپہ مارا گیا۔ کمرے کے اندر کانظارہ دلچسپ اور چونکانے والا تھا۔ سٹے باز شانتی سروپ نے لکڑی کی ایک الماری میں کنٹرول روم بنا رکھا تھا۔ اس میں 109 موبائل فون، ایئر فون اور موبائل چارجر کے ساتھ اٹیچ کرکے لگائے ہوئے تھے۔ممبئی کے سٹے باز سے ہر گیند کا ریٹ ملنے کے بعد شانتی سروپ اس کا اعلان کرتا تھا۔ الماری میں لگے فون کے ذریعے جانکاریاں باقی سٹے بازوں تک پہنچتی تھیں۔ اس طرح ہر گیند پر داؤ لگانے کا یہ گورکھ دھندہ جاری تھا۔ پوچھ تاچھ میں شانتی سروپ نے بتایا کہ اسے ہر گیند پر ریٹ مین لائن پرووائڈر سورس (ممبئی میں بیٹھا سٹے باز) دیتا تھا۔ وہ اس ریٹ کو فوراً بازی لگانے والوں تک پہنچاتا تھا۔ کرائم برانچ نے اس کے پاس سے 110 موبائل فون، ایک ایل سی ڈی، ایک لیپ ٹاپ، 81 موبائل چارجر،109 ایئر فون، 1 ہیڈ فون ، 20 ایکسٹینشن کارڈ،2 سیٹپ باکس اور2 چارجنگ بورڈ ضبط کئے ہیں۔ سڈنی میں آسٹریلیا و بھارت کے درمیان ہونے والے سیمی فائنل میچ میں سٹہ بازار میں کافی ہلچل ہے۔اس میچ میں آسٹریلیا کو 32 جبکہ بھارت کو 36 پیسے کا بھاؤ دیا گیا ہے۔ سٹے بازوں کا دوسرا گروپ 45/47 کا بھاؤ دے رہا ہے۔ یعنی دونوں ہی گروپ آسٹریلیا کو ہارکا فیوریٹ مان رہے ہیں۔ یہ ریٹ 1 روپے پر ہے۔ ٹاس پر بھی داؤ لگ رہا ہے۔ آسٹریلیا اگر ٹاس جیتا تو بیٹنگ کرے گا۔ بازار کا کہنا ہے کہ بھارت کو اپنی گیند بازی پر بھروسہ زیادہ ہے۔ ویسے اسکور چیز کرنے میں بھارت کا ریکارڈ اچھا ہے۔ سیمی فائنل کا اسکور282 کے آس پاس رہنے کی امید ہے۔ انگلینڈ جیسے دیشوں میں بیٹنگ لیگل ہے ہمیں بھی اس پر غور کرنا چاہئے۔
(انل نریندر)

24 مارچ 2015

بیشک آسٹریلیا سے بہتر فارم میں ہے ٹیم انڈیالیکن مقابلہ سخت ہے

آسٹریلیا نے جمعہ کے روز پاکستان کو 6 وکٹ سے ہرا کر سیمی فائنل میں بھارت سے آر پار کی لڑائی طے کرلی۔ ورلڈ کپ میں بھارت کا اب سب سے بڑا امتحان جمعرات کے روز ہونے والا ہے جب وہ سیمی فائنل مقابلے میں ٹیم آسٹریلیا سے ٹکر لے گا۔پاکستانیوں میں آسٹریلیا کے ہاتھوں اپنی ٹیم کی درگتی پر خوفناک ردعمل سامنے آیا ہے۔ کراچی میں کرکٹ شائقین نے اپنے ٹی وی سیٹ توڑ ڈالے۔ انہوں نے پاکستانی کرکٹ ٹیم کا علامتی جنازہ بھی نکالا۔ ملتان میں قریب 50 افراد نے کرکٹ بلوں اور گیندوں سے پاک کرکٹ کا جنازہ نکالا اور بعد میں اسے جلا دیا۔ دو ناراض پرستارو نے تو میچ کے بعد ٹی وی سیٹ ہی توڑ ڈالے۔ اب ایشیا کی ایک ہی ٹیم مقابلے میں بچی ہے۔سری لنکا ، بنگلہ دیش اور پاکستان باہر ہوچکے ہیں۔ اب سب کی نظریں جمعرات کے سیمی فائنل میں لگی ہیں۔ ٹیم انڈیا نے امیدوں سے بہتر کھیل کا مظاہرہ کیا ہے۔ پاکستان سے جیت کے بعد آسٹریلیا نے میدان کے باہر مائنڈ گیم شروع بھی کردیا ہے۔کپتان مائیکل کلارک نے کہاکہ اگلا میچ ہمارے لئے ایک دوسرے میچ کی طرح ہوگا۔ ادھر ہندوستانی کپتان مہندر سنگھ دھونی نے کہا کہ چنوتی اچھے کرکٹ کھیل کی ہے تبھی ہم 29 مارچ کو فائنل میں کھیل پائیں گے۔ بلا شبہ آسٹریلیا اپنے گھریلو میدان میں کسی شیر کی مانند ہے، لیکن جس طرح سے پاکستان کے خلاف چھوٹا ٹارگیٹ حاصل کرنے میں ان کے پسینے چھوٹ گئے اس سے یہ ہی ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ٹیم اجے نہیں ہے۔زبردست فارم میں چل رہی ٹیم انڈیا یہ رکاوٹ پار کرسکتی ہے۔ ٹیم انڈیا اپنے سارے اور کل7 مقابلے جیت کر سیمی فائنل میں جگہ بنانے میں کامیاب ہوئی ہے، جبکہ آسٹریلیا ٹیم نے اپنے سیمی فائنل تک کے سفر میں 7 میں سے5 مقابلے جیتے ہیں۔ ٹیم آسٹریلیا کے خلاف ہماری پچھلی یاد جوش بڑھانے والی ہے۔ دونوں ٹیمیں پچھلے ورلڈ کپ(2011) کے کوارٹر فائنل میچ میں محاذ آرا ہوئی تھیں۔ تب آسٹریلیا تین بار کا چمپئن تھا25 میچ میں سے کوئی نہیں ہارا تھا لیکن میزبان بھارت نے اس کے وجے رتھ کو روک کر خطاب بھی جیتا تھا۔سابق بلے باز وی وی ایس لکشمن کا خیال ہے کہ گیند بازوں کی شاندار فارم برقرار رہنے پر بھارت سیمی فائنل میں آسٹریلیا کو ہرا سکتا ہے۔ لکشمن نے ایک ٹی وی چینل سے بات چیت میں کہا کہ آسٹریلیا کے بلے باز اپنی سب سے عمدہ فارم میں نہیں ہیں۔لہٰذا ہندوستانی گیند باز ان پر دباؤ بنا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا پاکستان کے خلاف اسمت کو چھوڑ کر سبھی آسٹریلیائی کھلاڑی دباؤ میں دکھائی دئے۔وہ وہاب ریاض کا سامنا نہیں کررہے تھے جو بھارت کیلئے اچھا اشارہ ہیں۔اگر ٹیم انڈیا کو خطاب بچائے رکھنا ہے تو اسے چار بار و نر رہے آسٹریلیا پر عبور پانا ہوگا اور یہ کام آسان نہیں ہے۔ پاکستان کی ہار سے ہندوستان نے ضرور سبق لیا ہوگا۔ ان باتوں پر ٹیم انڈیا کو غور کرنا ہوگا۔۔۔پہلا آسٹریلیا کی سب سے بڑی طاقت اس کے تین بڑے خطرناک گیند باز ہیں۔ مشیل اسٹارک ، مشیل جانسن اور جان ہیزلووڈ۔ ہندوستانیوں کو ابتدائی 10 اووروں میں ہوشیاری سے کھیلنا ہوگا۔ بیشک رن زیادہ نہ بنیں لیکن اپنے وکٹ کو بچاکر رکھنا ہوگا۔ دوسرا پاکستان نے آسٹریلیائی پیسروں کے بعد اسپنروں کے خلاف تیزی سے رن بٹورنے کی جلد بازی دکھائی۔ اس جلدبازی میں پاکستان نے اپنے وکٹ گنوائے۔ ہندوستانی بلے بازوں نے ایسی ہی غلطی انگلینڈ دورے پر معین علی کے خلاف کی تھی۔ تیسرا۔ آسٹریلیائی بلے باز ڈیوڈ وارنر، ایرون فنچ اور شین واٹسن پاک پیسروں کی تیز اور باؤنس گیندوں پر لڑکھڑاتے دکھائی دئے۔ ہندوستانی پیسروں کو ابتدائی اوور میں بالکل صحیح باؤنسر ڈال کر آسٹریلیائی بلے بازوں میں خوف پیدا کرنا چاہئے۔ چوتھا۔ پاکستان نے دو بیش قیمتی کیچ چھوڑے۔ ہندوستانی فیلڈر کسی بھی حالت میں کیچ چھوڑنے کی بھول نہ کریں۔ حالانکہ ابھی تک ہندوستانی فیلڈنگ اچھی رہے ہیں۔ فائدہ۔ گلین میکسول اپنے دھماکے دار بلے بازی سے کسی بھی وقت میچ کا رخ موڑدیتے ہیں۔ کپتان دھونی کو میکسول کو جلد آؤٹ کرنے کی مخصوص حکمت عملی بنانی ہوگی ۔آخر بھارت کو ایک اچھا آپسنگ اسٹینڈ دینا ہوگا۔ شکھردھون، روہت شرما، وراٹ کوہلی اوراجیت کے رہانے میں سے ایک کو سنچری بنانی ہوگی اور باقی کو 50 رن سے زیادہ بنانے ہوں گے۔ سڈنی میں ٹیم انڈیا کا ریکارڈ اچھا نہیں ہے۔ 17 میچوں میں سے صرف4 ہی میچ جیتے ہیں اور12 ہارے ہیں۔ سٹوریوں کی نظروں میں آسٹریلیا فیوریٹ ہے ۔ امید کی جاتی ہے کہ ٹیم انڈیا اپنے وجے رتھ کو آگے بڑھائے گی اور آسٹریلیاپر عبور پا لے گی۔ بیسٹ آف لک ٹیم انڈیا۔
(انل نریندر)

اعظم کا فرضی بیان پوسٹ کرنے والے لڑکے کو جیل

سپریم کورٹ نے جمعہ کے روز اترپردیش پولیس سے ان حالات کی تفصیل بتانے کو کہا ہے جن کی وجہ سے سماجی وادی پارٹی کے سینئر لیڈر اعظم خاں کے خلاف فیس بک پر مبینہ طور پر قابل اعتراض بیان پوسٹ کرنے کے الزام میں ایک لڑکے کو گرفتار کیا گیا۔ جسٹس جے چیلمیشور اور جسٹس آر ۔ایف نریمن کی بنچ نے اترپردیش پولیس سے عرضی پر جواب داخل کرنے کو کہا ہے۔ عرضی میں الزام ہے کہ اس میں آئی جی اور ڈی آئی جی جیسے اعلی سطح کے پولیس افسران سے مشورے کے انفارمیشن ٹیکنالوجی قانون و دفعہ66A نہیں لگانے کے سپریم کورٹ کی گائڈ لائنس کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔ بنچ نے کہا کہ ہم غور کریں گے۔ پھر اس نے معاملے کی سماعت چار ہفتے بعد مقرر کی۔ وکیل منالی سنگھل نے عرضی کے متعلق زبانی تذکرہ کیا کہ خبر آئی کہ 19 سالہ لڑکے کو ضمانت مل گئی ہے اورخانہ پوری مکمل ہونے کے بعد جلد ہی وہ رہا ہوگا۔ ایک مقامی عدالت نے18 مارچ کو بریلی کے ایک لڑکے کو 14 دن کی جوڈیشیل حراست میں بھیج دیا تھا۔ اس کی گرفتاری پر سوال اٹھانے والی موجودہ عرضی دہلی کی قانون کی طالبہ شریا سنگھل نے دائر کی ہے۔ آئی ٹی قانون کی دفعہ66a کے جواز کو چیلنج کرتے ہوئے مفاد عامہ عرضی دائر کرنے والی وہ پہلی شخص ہیں۔ انہوں نے شیو سینا لیڈر بال ٹھاکرے کی موت پر ممبئی میں بند کے خلاف رائے زنی پوسٹ کرنے اور اسے لائک کرنے کے معاملے میں ٹھانے ضلع کے پال گھر میں دو لڑکیوں شاہین اور رینو کی گرفتاری کے بعد قانون کی دفعہ66a میں ترمیم کی مانگ اٹھائی۔ عدالت نے 2013ء میں کہا تھا کہ سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس پر اعتراض آمیز بیان پوسٹ کرنے کے ملزمان کو پولیس تب تک گرفتار نہیں کرسکتی جب تک سینئر افسر اس کی اجازت نہیں دیتے۔ فیس بک رائے زنی کے لئے بریلی کے ایک طالبعلم کی گرفتاری سے دکھی کمیونی کیشن و اطلاعات ٹیکنالوجی روی شنکر پرساد نے جمعہ کو کہا لا انفارسمنٹ ایجنسیوں کو آئی ٹی قانون کا بیجا استعمال نہیں کرنا چاہئے۔ اس کے علاوہ انہوں نے سیاستدانوں سے کہا کہ وہ خاص طور سے سوشل میڈیا پر تنقیدوں کو سہنے کی صلاحیت رکھیں۔ پرساد نے کہا میں دیش کی چار لاء ایجنسیوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ آئی ٹی کی دفعہ66a کے تحت گرفتاری کے حق کا استعمال کرتے وقت سنجیدگی برتیں۔ اس متنازعہ دفعہ کے تحت اپنے لیپ ٹاپ سے اعتراض آمیزپیغام بھیجنے والے شخص کو تین سال کی جیل ہوسکتی ہے۔ روی شنکر پرساد نے کہا کہ سرکار سوشل میڈیا پر شہریوں کے حق کی پوری حمایت کرتی ہے۔ اس کے علاوہ ریاستوں کو مرکز کی اس صلاح کی تعمیل کرنا چاہئے۔ انفارمیشن ٹکنالوجی قانون کی دفعہ66(A) کا بیجا استعمال نہ کیا جائے۔ قابل غور ہے کہ فیس بک پر اعظم خاں کے فرضی بیان پوسٹ کرنے والے بریلی کے ایک لڑکے کو مذہبی شورش پھیلانے سمیت کئی سنگین دفعات میں جیل بھیج دیا گیا ہے۔ بدھوار کو رام پور میں گیارھویں کلاس میں پڑھنے والے لڑکے کے بالغ ہونے پر بحث دن بھر چلی۔ اب معاملہ سپریم کورٹ میں آگیا ہے۔
(انل نریندر)

22 مارچ 2015

گؤ کشی پر روک پھر بھی 61 لاکھ کلو یومیہ بیف کی کھپت

ہندوستان میں ہندوؤں کیلئے گائے کی خاص اہمیت ہے۔ یہ خوشی کی بات ہے کہ کچھ ریاستوں نے آخر کار گؤ کشی پرپابندی لگا دی ہے۔ 20 سال کی لمبی لڑائی کے بعد آخر کار مہاراشٹر حکومت گؤ نسل کشی پر پوری طرح سے پابندی لگانے میں کامیاب ہوئی ۔ ریاست میں گؤ کشی 1976 ء سے ممنوع ہے، اب بیل ،بچھڑے کاذبحہ بھی غیر قانونی ہے۔ اس طرح دیش کی 29 ریاستوں میں سے 24 میں گؤ کشی پر پابندی ہے۔ ادھر ہریانہ اسمبلی میں پیر کے روز ہریانہ گؤ ونش تحفظ و گؤ سنوردھن(پروسسنگ) بل 2015ء کو ایک آواز سے منظوری مل گئی ہے۔ ساتھ ہی اب پردیش میں گؤ کشی غیر ضمانتی جرم مانا جائے گا اور قصورواروں کو 3 سے10 سال کی قید و 1 لاکھ روپے تک جرمانے کی سزا ہوسکتی ہے۔ ایک طرف تو پابندی لگ رہی ہے لیکن زمینی حقیقت تو دوسری ہی تصویر پیش کرتی ہے۔ جارکھنڈ،مہاراشٹر، دہلی ،اترپردیش، پنجاب میں پابندی کے باوجود گؤکشی جاری ہے۔ مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ، گجرات اور راجستھان میں گؤوں کے ذبحہ کرنے کے معاملے تو سامنے نہیں آئے ہیں، لیکن یہاں گؤوں کی اسمگلنگ ہوتی رہتی ہے۔ بہار میں گؤوں کے ذبحہ پر پابندی نہیں ہے لیکن یہاں غیر لائسنسی ذبحہ خانوں میں غیر قانونی گؤ کشی ہوتی ہے۔ جارکھنڈ میں یومیہ 500 گائے ذبحہ کی جارہی ہیں۔ سال میں گؤ کشی۔ اسمگلنگ کے 312 معاملے درج ہوئے۔ جارکھنڈ میں اوسطاً 500 سے1000 گؤ کی اسمگلنگ ہوتی ہے۔پنجاب میں ایک برس میں 4 ہزار گائے چھڑائی گئیں۔ حالت یہ ہے کہ گزرے چار برسوں میں بھارت میں بیف یعنی گؤ نسل اور بھینس کے میٹ کی کھپت میں قریب10 فیصد اضافہ ہوا ہے 2011 ء میں بیف کی کھپت2.4 لاکھ ٹن تھی جو 2014ء میں بڑھ کر 22.5 لاکھ ٹن ہوگئی ہے۔اس کے برعکس جانور شماری کے مطابق گؤ نسل کی تعداد میں 2007ء کے مقابلے2012ء میں 4.1 فیصد کمی آئی ہے۔ بھارت نے پچھلے برس 19.5 لاکھ ٹن بیف کا ایکسپورٹ کیا۔ بھارت بیف برآمدات میں دنیا میں نمبر دو پر ہے۔ چونکانے والا اعدادو شمار یہ ہے کہ روز ہندوستان میں 61 لاکھ کلو بیف کی کھپت ہے۔ کیرل میں کانگریس لیڈر شپ والی حکمراں یو ڈی ایف اور مارکسوادی پارٹی کی قیادت والا اپوزیشن ایل ڈی ایف بھلے ہی مختلف اشوز پر ایک دوسرے سے اختلاف رکھتے ہوں، لیکن گؤ کشی اور گؤ میٹ پر ملک گیر پابندی لگانے کے این ڈی اے حکومت کے قدم کے خلاف متحد ہوکر سامنے آئے ہیں۔ یوڈی ایف اور ایل ڈی ایف دونوں نے ہی ریاستی سرکار کے اس قدم کونجی آزادی کی خلاف ورزی قراردیا ہے۔ وزیراعظم کے دفتر میں حال ہی میں وزارت قانون سے مشورہ مانگا ہے کہ کیا مرکز گجرات سمیت کئی ریاستوں میں گؤ کشی کے خلاف نافذ کئے گئے قوانین کو ماڈل بل کے طور پر دیگر ریاستوں کے پاس بھی بھیج سکتی ہے تاکہ وہ اپنے یہاں ایسے قوانین کے بارے میں غور کرسکیں۔ جیسا کہ میں نے کہا گائے کی ہر ہندو کیلئے خاص اہمیت ہے وہ گائے کو ماتا کا ایک روپ مانتے ہیں۔ گؤ کشی پر پابندی لگنا چاہئے اور گؤ میٹ کے ایکسپورٹ پر بھی پابندی لگنی چاہئے۔ بہار، کیرل، مغربی بنگال، میگھالیہ اور ناگالینڈ میں ابھی بھی گؤ کشی پر پابندی نہیں ہے۔
(انل نریندر)

ٹرینوں میں لوٹ مار کے بڑھتے واقعات

ٹرین کا سفر کتنا غیر محفوظ ہوتا جارہا ہے یہ جبلپور ۔نظام الدین ایکسپریس ٹرین کے اس واقعہ سے پتہ چلتا ہے۔ مدھیہ پردیش کے وزیر خزانہ جینت ملیّا اور ان کی اہلیہ سے چلتی ٹرین میں لوٹ مار کرنے کا واقعہ سامنے آیا ہے۔ چلتی ٹرین میں وہ بھی ایئرکنڈیشن ڈبے میں چاقو دکھا کر لٹیروں نے سونے کی چین ،انگوٹھی اور کچھ نقدی لوٹ لی۔ میاں بیوی دہلی آنے کے لئے دموہ سے ٹرین میں سوار ہوئے تھے۔ اپنے تکلیف دہ تجربے کے بارے میں بیان کرتے ہوئے پارلیمنٹ کے باہر جینت ملیا کی اہلیہ سدھا نے بتایا کہ ہم دہلی آنے کے لئے جبلپور۔ نظام الدین ٹرین میں سفر کررہے تھے اور ہم ٹرین میں دموہ سے سوار ہوئے تھے۔ صبح قریب 4 بجے ہمارے کوچ کے دروازے پر دستک دی گئی، جب میں نے دروازہ کھولا تو ایک شخص خنجر لیکر زبردستی اندر گھس آیا اور اس کے ساتھ چار دیگر لوگ بھی آ گئے۔ سدھا خود بھاجپا کی ورکر ہیں، انہوں نے بتایا پھر انہوں نے میرا پرس ،چین اور انگوٹھی چھین لی۔ وہ میرے شوہر کے پرس میں رکھے پیسے بھی لے گئے ۔ میرے بائیں ہاتھ کی انگلی میں ایک دوسری انگوٹھی تھی جو نہیں نکل پا رہی تھی تو انہوں نے میری انگلی ہی کاٹنے کی دھمکی دی، حالانکہ ان میں سے ایک لٹیرے نے انگوٹھی کو نکالنے کی کوشش کی، لیکن اسے کامیابی نہیں ملی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ لٹیروں نے آس پاس کے کوچ کے مسافروں کو بھی لوٹا۔ آر پی ایف کے ایک رد عمل کے بارے میں پوچھنے پر انہوں نے بتایا کہ آر پی ایف کی وجہ سے ہی دیگر مسافر محفوظ رہے۔چین کھینچنے کی وجہ سے ٹرین رکی تھی اور آر پی ایف کے جوان آئے تو لٹیرے بھاگ گئے۔ممبر پارلیمنٹ پرہلاد پٹیل نے یہ معاملہ پارلیمنٹ میں بھی اٹھایا۔ اس درمیان بھوپال سے ملی اطلاع کے مطابق ریلوے سکیورٹی فورس کے ایک افسر نے بتایا کہ منتری سے لٹیرے قریب 20 سے22 ہزار روپے نقد اور کچھ سونے کے زیورات لے گئے۔ ریلوے کے ترجمان انل سکسینہ کے مطابق ٹرین میں موجود رہے تین آر پی ایف ملازمین کو معطل کردیا گیا ہے۔ ساتھ ہی ریلوے نے اس واقعہ کی جانچ کے احکامات بھی دے دئے ہیں، ادھر تھانہ دھراعلاقے میں واقع دہلی۔آگرہ ریلوے ٹریک پر ایکسپریس ٹرین کو روک کر بدمعاشوں نے ہتھیاروں کا خوف دکھا کر لوٹ مار کی اور چین کھینچ کر بھاگ گئے۔ گیٹ مین کی اطلاع پر پہنچی جی آر پی ایف تھانہ دھرا میں جانچ کے بعد گاڑی کو آگے روانہ کردیا۔ موصولہ اطلاع کے مطابق نئی دہلی سے چل کر حیدر آباد جا رہی دکشن ایکسپریس کو ہتھیاروں سے مسلح چار بدمعاشوں نے جمعرات کی رات قریب سوا دو بجے تھانہ دھراعلاقے کے گاؤں دھتیا کے قریب گیٹ نمبر 577 پر چین پلنگ پر روک لیا اور ایئر کنڈیشن کوچ نمبرD-2 میں لوٹ مار شروع کردی۔ ریل منتری سریش پربھو کو مسافروں کی حفاظت پر خاص توجہ دینی ہوگی۔ اب تو ایئر کنڈیشن ڈبوں میں گھس کر بھی لوٹ مار ہونے لگی ہے۔ مسافروں کو لٹیروں سے کیسے بچایا جائے یہ ریلوے حکام کے لئے ایک چیلنج ہے۔ فی الحال ریل سفر کرنا خطرے بھرا ہے اور مسافر بھگوان کے بھروسے ہیں۔
(انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...