Translater
29 اگست 2023
ترنگے کے نیچے نہیں کھیلیںگے پہلوان !
سربیا کے ویلگریڈ میں 16سے 24ستمبر تک منعقد ہونے والی ورلڈ کشتی چیمپیئن شپ میں سیکڑوں پہلوان اپنا دم خم دکھائیںگے ۔یہ دم خم دکھانے کا موقع کن ہندوستانی کھلاڑیوں کو ملے گا۔ اس کا پتہ پنجا ب کے پٹیالہ میں 25اور 26اگست کو ٹرائل کے دوران بجرنگ پونیا کو چلا گیا ہے ۔وہ دیگر کھلاڑیوںمیں شامل ہیں ۔ ورلڈ کشتی چیمپیئن شپ اس لئے بھی اہم ترین ہے کیوں کہ یہاں میڈل جیتنے والے کھلاڑیوں کو 2024میں پیرس میں ہونے والے اولمپک کھیلوںمیں سیدھی انٹری نہیں ملے گی۔ لیکن ان سب کے درمیان 24اگست کو ایک آئی خبر نے سبھی ہندوستانی کھلاڑیوں کو مایوس کر دیا کیوںکہ اب ہندوستانی پہلوان قومی ترنگے کے نیچے نہیں کھیل پائیںگے اور نہ ہی میڈل جیتنے پر قومی ترانہ بجے گا۔ پیرس اولمپک میں سیدھی انٹری کی بات تو بھول جائیں ایسا اس لئے ہو رہا ہے کیوں کہ انڈین کشتی فیڈریشن وقت سے چناو¿ نہیں کروا پایا جس کے چلتے ورلڈ کشتی فیڈریشن نے اس کی ممبر شپ کو عارضی طورپر معطل کردیا ہے ۔ لیکن سوال یہ ہے کہ وارننگ ملنے کے باوجود بھی انڈین کشتی فیڈریشن وقت پر چناو¿ کیوں نہیں کروا پایا؟ اس کے لئے کون لوگ ذمہ دار ہیں؟ اولمپک میڈل ونر ساکشی ملک نے معطلی کے فیصلے کے بعد 24اگست کو انڈین کشتی فیڈریشن کیلئے بلیک ڈے کہا ۔ برج بھوشن شرن سنگھ اور ان کے گرگوں کی وجہ سے دیش کے پہلوان ترنگے کے ساتھ نہیں کھیل پائیںگے ۔ ترنگا دیش کی آن بان شان ہے اور ہر کھلاڑی کا خواب ہوتا ہے کہ وہ کامیاب ہونے کے بعد ترنگا لیکر میدان میں دوڑے ۔ یہ برج بھوشن اور ان کے آدمی دیش کا مل کر نقصان کر یںگے۔ یوگیشور دتہ نے کشتی کی کھیل کیلئے بڑا دھچکا بتاتے ہوئے کہا کہ ہمیں سب سے بڑی پریشانی ان نوجوان کھلاڑیوں کی ہے جن کے ریاستی سطح پر یا قومی سطح پر ہونے والے مقابلوں کا مستقبل بھنور میں پھنس گیا ہے ۔ بجرنگ پونیا نے بھی ٹویٹ کر کے بھاجپا ایم پی اور انڈین کشتی فیڈریشن کے موجودہ صدر برج بھوشن شرن سنگھ کو اس کیلئے ذمہ دار بتایا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ یہ حالت انہیں کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے ۔ خاتون پہلوانوں کے ساتھ جنسی اذیت رسانی کو لیکر پوری دنیا میںبد نامی ہوئی تھی،تب یو ڈبلیو ڈبلیو نے کہا تھا کہ سرکار اس معاملے کو جلدی سے سلجھائے اور خاتون پہلوانوں کی ساکھ کو محفوظ رکھے گی۔ لیکن کوئی مثبت پہل نہیں دیکھی گئی ۔ یہ بھی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے کہ کشتی فیڈریشن کے عہدیداران کے چناو¿ میں تاخیر کے پیچھے یہی سیاسی منشا کام کرتی رہی ۔ حالاںکہ برج بھوشن شرن سنگھ کو فروری میں ہی ان کے عہدے سے ہٹایا دیا گیا تھا۔ کیوں کہ ان مدت مئی میں ہی ختم ہوگئی تھی۔ ایسے میں چناو¿ پروسیس اسی وقت شروع ہو جانا چاہئے تھا۔ مگر شاید کچھ لوگوں کو امید رہی ہوگی کہ برج بھوشن شرن سنگھ پر لگے الزامات جلدی ختم ہو جائیںگے اور وہ پھر سے اپنے عہدے پر واپس آجائیںگے ، لیکن ایسا نہ ہو سکا ۔اب دیش کو یہ آواز سننی پڑ رہی ہے کہ کشتی فیڈریشن کی اندرونی گڑبڑیاں اور سیاسی داو¿ پیچ کی وجہ سے آج پورادیش بے عزت ہو رہا ہے ۔امید کی جاتی ہے کہ حکومت ہند اس معاملے کو جلدی سلجھا لے گی اور پہلوانوں کے ساتھ ساتھ دیش کا وقار بڑھانے کا موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا جائے گا۔
(انل نریندر)
پریگوزن تلوار کی دھار پر جی رہے تھے؟
روس کی پرائیویٹ آرمی ویگنر کے چیف ییوگینی پریگوزن نے اب سے ٹھیک دو مہینے پہلے بغاوتی تیوروں کے ساتھ ماسکو پر چڑھائی کی تھی اس کے بعد سے روسی تجزیہ نگار ان کی تشریح تلوار کی دھار پر جینے والے شخص کی شکل میں کر رہے تھے ۔ امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے ڈائریکٹر ویلیم برنس نے حال ہی میں پریگوزن کے مستقبل پر رائے زنی کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر میں پریگوزن ہوتا تو میں اپنے کھانے ٹیسٹ کرانے والے کو میکٹی سے نہیں نکالتا ۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن کے خلاف اسی برس جون میں بغاوت کرنے والے پرائیویٹ آرمی چیف ییو گینی پریگوزن کی جہاز حادثے میں موت کی امریکی صدر سمیت کئی ملکوں کی لیڈروں نے اسے عام موت ماننے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ قتل کا مشتبہ معاملہ ہے ۔ امریکی صدر جو بائیڈن نے اسے حادثہ ماننے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ پریگوزن کی موت کی خبرسے ہمیں کوئی تعجب نہیں ہوا ۔ دو امریکی افسروں کے مطابق امریکی سرکار مانتی ہے کہ روس کے اندر سے ہی زمین سے آسمان تک مار کرنے والی میزائل سے جہاز پر حملہ کیا گیا ہے ۔وہیں روس نے بھی پریگوزن کی موت کو حادثے کے بجائے قتل مان لینے کی چہ میگوئیاں شروع ہو گئیں ہیں۔ ان اقدامات پر لیپا پوتی کی کوشش میں پوتن نے ییو گینی پریگوزن کی موت کی ایک دن بعد اپنی خاموشی توڑتے ہوئے دکھ کا اظہار کیا ہے۔ روسی صدر پوتن کے اقتدار میں آنے کے بعد سے روس انتظامیہ 62سالہ پریگوزن کو ایک بڑے چیلنج کی شکل میں دیکھ رہا تھا۔ لہذا امریکی صدر جو بائیڈن نے اپنے رد عمل میں کہا کہ روس میں ایک جہاز حادثے میں پریگوزن کی موت کی خبر سے انہیں کوئی تعجب نہیں ہے ۔ کیوں کہ روس میں ایسا کچھ نہیں ہوتا جس کے پیچھے پوتن کا ہاتھ نہ ہو۔ یوکرین کے صدر کے معاون میخائلوں پوتولمائف نے انٹرنیٹ میڈیاپر لکھا کہ جہاز حادثہ کریملن کی طرف سے یہ اشارہ ہے کہ وفاداری نہ کرنے والے کے ساتھ کیا ہو سکتا ہے۔ پولینڈ کے وزیر خارجہ نیڈ راو¿ٹ ایک نیوز چینل سے کہا کہ جو پوتن کی طاقت کو چیلنج کرتے ہیں ان کی فطری موت نہیں ہوتی ایسے ہی اسٹونیا کے وزیر اعظم کزاکلاز کا کہنا ہے کہ پوتن اپنے سب حریفوں کو ختم کردیںگے اور جو بھی ان کی رائے سے الگ رائے رکھتا ہے انہیں وہ خبر دار کر رہے ہیں۔ ولادیمیر پوتن خود کو چنوتی دینے والوں کو معاف نہیں کرتے ۔ پالا بدلنے والے روس کے سابق خفیہ افسر الیگزینڈر پر سال 2006میں ریڈیوایکٹیو کیمیکل پولیشم 200سے حملہ کیا گیا تھا۔ جس کے بعد لندن کے ہسپتال میں ان کی موت ہو گئی ۔ اچانک اموات کا سلسلہ بہت لمبا ہے ۔ صدر پوتن کے کٹر نکتہ چینی کرنے والے الیکسی نویل مبینہ طور سے سیاسی اغراض پر مبنی الزامات کے چلتے ایک روسی جیل میں سزا کاٹ رہے ہیں۔ نیو لینی پر بھی ایک فلائٹ کے دوران نوویجوک ناروے ایجنٹ پر حملہ کیا گیا تھا لیکن ان کی جان بچ گئی لیکن پریگوزن کا معاملہ الگ ہے ۔ اور اسی سبب روسی لوگوںمیں اسے لیکر تنازعہ پیدا ہو گیا ہے ۔
(انل نریندر)
سبسکرائب کریں در:
تبصرے (Atom)
ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...
-
سپریم کورٹ میں بھی عجیب و غریب مقدمات آرہے ہیں۔ تازہ مثال بحریہ کے کچھ افسروں پر بیویوں کی ادلہ بدلی سے متعلق معاملات ہیں۔ بحریہ کے ایک اف...
-
ہندوتو اور دھرم پریورتن، گھر واپسی سمیت تمام معاملوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس پریوار سے جڑے لیڈروں کے متنازعہ بیانات سے وزیر...
-
مدھیہ پردیش کے ہائی پروفائل ہنی ٹریپ معاملے سے نہ صرف ریاست کی بلکہ دہلی کے سیاسی حلقوں میں مچا دئے معاملے میں اہم سازشی گرفتار ہو چکی شیو...