Translater

27 اپریل 2023

بہار میں ریت کی ناجائز کھدائی !

ماحولیات پر نظر رکھنے والی اقوام متحدہ کی انجمن یو این ای پی کے مطابق پانی کے بعد لوگوں کے استعمال میں آنے والا دوسرا قدرتی وسائل ریت اور کنکری ہے ۔دنیا بھر میں ہر سال پچاس بلین ٹن ریت اور کنکری کا استعمال تعمیراتی کام میں ہوتا ہے ۔کچھ دہائی پہلے تک ریت کی کھندائی گھاٹوں کے پاس رہنے والے غریب خاندان کا کام تھا ۔عام طور پر وہی لوگ بیل گاڑیوں اور بگّی پر لاد کر اسے شہر اور قصبات میں فروخت کیا کرتے تھے ۔ٹریکٹر اور ٹرک سے بھی ریت کی خرید نے پر اس کی ڈھلائی اور مزدوری کا یہ خرچ چکانا ہوتا تھا ڈیمانڈ بڑھنے کے ساتھ ہی ریت کی بھی قیمت طے ہونے لگی ہے ۔پھر شروع ہوئی اس پر بالا دستی کی لڑائی ۔واقف کاروں کا دعویٰ ہے بہار میں سرکار کو بھی بڑا منافع نظر آنے لگا ہے اور اس نے ریت کی کھدائی کے پکّے لائسنس اور نیلامی کے ذریعے اسے کمائی کا ذریعہ بنا لیا ہے ۔ریت اب مفت چیز نہ رہ کر پیلا سونا کہلانے لگا ہے ۔اس دھندے میں بڑی بڑی کمپنیاں شامل ہو گئی ہیں ۔حال ہی میں بہار کی راجدھانی پٹنہ کے بہٹا کے علاقے میں کچھ لوگوں نے پولیس اور محکمہ کھدائی کی لیڈی افسر پر حملہ کر دیا ۔حملہ کرنے والے ریت کی ناجائز کھدائی سے جڑے ہوئے بتائے گئے ہیں اور یہ ٹیم ریت کے ناجائز کاروبار کی جانچ کرنے کیلئے پہونچی تھی ۔اس چھاپہ ماری میں پولیس کے 25 جوان سرکاری ٹیم کی مدد کیلئے موجود تھے ۔اور اتنی بڑی ٹیم کی موجودگی میں ریت کی کھدائی کے کاروبار سے جڑے لوگوں نے سرکاری حکام کے ساتھ مارپیٹ کی اور محکمہ کی لیڈی انسپکٹر کو زمین پر گھسیٹ گھسیٹ کر پیٹا ۔دراصل چھاپہ ماروں نے ریت کی ناجائز کھدائی ۔ٹرکوں پر اوور لوڈنگ کے معاملے میں قریب 50 ٹرکوں کو ضبط کیا گیا تھا ۔اسی کے احتجاج میں کئی ٹرک ڈرائیور کنڈکٹر نے پتھر بازی اور ہنگامہ شروع کر دیا ۔بہار میں سون ندی کے ریت کے علاقے میں تعمیرات کے لحاظ سے بہتر مانا جاتا ہے ۔چونکہ اس میں مٹی کی مقدار کم ہوتی ہے اس لئے اس ندی کے ریت کی مانگ بہت زیادہ ہوتی ہے یہ وہار کے علاوہ پڑوسی ریاستوں تک پہونچایا جاتا ہے ۔پٹنہ ،بھوجپور،روہتاش،اورنگ آباد ،سہارن ،ویشالی علاقے میں ریت مافیہ کے حملوں کے واقعات بڑھتے جا رہے ہیں ۔ریت کا ناجائز کاروبار اتنا بڑا ہے کہ کئی بار دو گروپوں کے درمیان کئی گینگ وار ہو چکی ہیں ۔سال 2022-23 میں ریاست میں ریت کے ناجائز کاروبار کے سلسلے میں 4435 ایف آئی آر درج ہو چکی ہیں ۔2439 لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے اور 20 ہزار سے زیادہ گاڑیوں بھی ضبط کی گئی ہیں ۔اب سرکار کو ریت کھدائی میں منافع نظر آنے لگا ہے اور سرکار نے کھدائی پر ٹیکس لگا کر کمائی کا راستہ تلاش کر لیا ہے ۔بہار میں سال 2016 میں شراب پر پابندی لگنے کے بعد سے ریت کی کھدائی سرکار کیلئے بھی مالی محصول کا ایک بڑا ذریعہ بن گیا ہے ۔بہار کے ریت کھدان وزمین دیکھ بھال محکمہ کے مطابق پچھلے مالی سال یعنی 2022-23 میں سرکار نے ریت کے کاروبار میں 2650 کروڑ روپے کی کمائی کی ۔اس میں اینٹ کا کاروبار بھی ایک چھوٹا ساحصہ شامل ہے ۔ (انل نریندر)

پھر دھرنے پر پہلوان!

دیش کے سرکردہ پہلوان بجرنگ پونیا ،ونیش پھوگاٹ ،ساکشی ملک تین ماہ بعد اتوار کو انڈین کشتی فیڈریشن کے چیئرمین برج بھوشن شرن سنگھ کیخلاف پھر جنتر منتر پر دھرنے پر بیٹھ گئے ہیں ۔پہلوانوں کا الزام ہے کہ شکایت کے باوجود پولیس نے جنسی چھیڑ چھاڑ کی ایف آئی آر تک درج نہیں کی ۔پہلوانوں کے مطابق ایک نابالغ سمیت سات خاتون پہلوانوں نے دو دن پہلے کشتی فیڈریشن کے چیئرمین کیخلاف کناٹ پلیس تھانے میں جنسی چھیڑ چھاڑ اور پاسکو ایکٹ کے تحت شکایت درج کرائی تھی ۔متاثرہ پہلوانوں نے ایک نابالغ پہلوان لڑکی بھی ہے اس لئے فوراً کیس درج ہونا چاہئے ۔بجرنگ نے کہا کیس درج ہونے پر وہ اپنا دھرنا ختم کر دیں گے ۔وہیں وزارت کھیل کے ذرائع نے بتایا جانچ کے درمیان میں وزیر یا افسروں کا کسی سے بات چیت کرنا ٹھیک نہیں تھا ۔اس سے جانچ متاثر کرنے کے الزام لگتے ہیں ۔وزارت نے پہلوانون کی ہر بات مانی ان کے کہنے پر ببیتا پھوگاٹ کو کمیٹی میں رکھا گیا ہے ۔کمیٹی نے کہا کھیل وزارت کی جانب سے میریکام کی رہنمائی والی کمیٹی جانچ رپورٹ پبلک نہ کرنے اور برج بھوشن سرن کیخلاف ایف آئی آر درج نہ کرنے کے چلتے انہیں پھرنے سے دھرنے پر بیٹھنے کیلئے مجبور ہونا پڑا ہے ۔پہلوان اس سے پہلے جنوری میں اسی معاملے کو لیکر دھرنے پر بیٹھے تھے۔تب برج بھوشن سنگھ نے الزامات کو بے بنیاد قرار دیا تھا ۔ونیش پھوگاٹ کا کہنا تھا کہ ہم تین مہینے سے جسمانی اذیت کے دور سے گزر رہے ہیں اب خاتون پہلوانوں کے وقار کا سوال بن گیا ہے ۔وزارت اور نگرانی کمیٹی کے افسران فون نہیں اٹھا رہے ہیں ۔وہی بجرنگ پونیا نے کہا کہ ہمارے ساتھ دھوکہ ہوا ہے ۔کشتی فیڈریشن اب پھر کام کرنے لگی ہے ۔آفس کھل گیا ہے کیڈر نیشنل کشتی چیمپئن شپ برج بھوشن کے گھر میٹنگیں ہو رہی ہیں ۔یہ ہمارے ساتھ دھوکہ ہے ۔پچھلے بار پہلوانوں نے سیاسی پارٹیوں سے مدد نہیں مانگی تھی ۔لیکن اس بار پہلوانوں نے سیاسی پارٹیوں کے لیڈروں سے سپورٹ مانگی ہے ۔پچھلی بار کہا تھا کہ کسی پولیٹیکل پارٹی کے نیتا کو اسٹیج پر نہیں آنے دیا جائے گا ۔بجرنگ پونیا نے کہا شکایت کئے ہوئے گھنٹوں گزر چکے ہیں مگر ایف آئی آر تک درج نہیں ہوئی ۔اس بار سبھی کا خیر مقدم ہے ۔چاہے بی جے پی ،کانگریس یا عآپ یا کوئی بھی پارٹی آئے اس کا خیر مقدم ہے ۔کیوں کہ جب پہلوان تمغہ جیتتے ہیں تو کسی پارٹی کا جھنڈا نہیں لہراتا بلکہ ترنگا لہراتے ہیں جب میڈل حاصل کرتے ہیں تو سب مبارکباد دینے کیلئے آتے ہیں نا کہ ایک پارٹی کا کوئی اٹا ہے ۔ہم کسی پارٹی سے نہیں جڑے ہیں بکہ دیش سے جڑیں ہیں۔سبھی دیش واسیوں کا خیر مقدم ہے ۔اگر ہم آج اپنی بیٹیوں کے لئے نہیں لڑیں گے تو کبھی ہم کسی کے خلاف نہیں لڑ سکتے ۔سرکار کو پہلوانوں کی مانگوں پر سنجیدگی سے غور کرکے کوئی تسلی حل نکالنا چاہئے ۔ (انل نریندر)

25 اپریل 2023

جامتاڑہ کے ٹھگ!

نیٹ فلکس پر ایک ویب سیریز دیکھنے کا موقع ملا اس میں دکھایا گیا ہے کہ کس طرح جامتاڑہ جگہ سے یہ بھولے بھالے لوگوں کو فون کرکے انہیں پہلے لالچ دے کر پھنساتے ہیں اور پھر جب وہ پھنس جاتا ہے تو اس کا بینک خالی کر لیتے ہیں ۔آپ کی گاڑی کمائی سے جامتاڑہ کے سائبر ٹھگوں کی عالیشان کوٹھیاں کھڑی ہیں ۔آج سے ٹھگی گئی رقم سے عالیشان کاروں سے جام تاڑہ کے سائبر ٹھگ چلتے ہیں ۔نارتھ ضلع کے سائبر تھانے کے شکنجے میں پھنسے جامتاڑہ ریکٹ لائف اسٹائل اور اسٹیٹس کو دیکھ کر پولیس بھی حیرت میں تھی جانچ ٹیم کے ذرائع نے بتایا کہ میٹرو سٹی کی طرح سہولیات سے آراستہ ان کی کوٹھیاں ہیں ۔پچھلے پانچ سال میں ہی ان کے رہن سہن میں تیزی سے تبدیلی آئی ہے ۔یہ جاب فشنگ سے لیکر اوٹی پی کے ماسٹر مائنڈ ہیں ۔اب بجلی بل اپڈیٹ سے لیکر فائیو جی سم اپگریڈ کا ہتھکنڈہ اپنا رہے ہیں یہ تو ملزمان سے پوچھ تاچھ میں انکشاف ہوا ہے کہ جامتاڑہ کے ہیلو گینگ کا ایک ممبر مہینے میں قریب 25/30 لاکھ روپے آسانی سے کما رہا ہے ۔یہ لوگ سالانہ کروڑوں کی کمائی کا ٹارگیٹ لیکر چلتے ہیں ۔ان کی جتنی کمائی ان کا اتنا ہی عالیشان رہن سہن ۔کمائی کا پیسہ ہر روز موج مستی میں جی بھر کر اڑاتے ہیں ۔دہلی ممبئی یہاں تک دبئی تک ہوائی جہازوں میں آئے دن سیر وتفریح کرتے ہیں ۔آئی پی ایل میچ کہیں بھی ہو باقاعدہ یہ لوگ فلائٹ سے جاتے ہیں ۔مغربی بنگال کے باشندہ نسیم ملک کی کوٹھی بھی جامتاڑہ گینگ سے کم نہیں ہے ۔ذرائع نے بتایا اس کا گھر عالیشان قلعہ کی طرح ہے ۔ذرائع نے بتایا اس کیس میں سب سے اہم کڑی ہے صابر کو فرار ہے ۔نسیم کو آن ڈیمانڈ ہزاروں کی تعداد میں سم دستیاب کراتا ہے ۔ذرائع نے بتایا صابر گھر سے محض 20 کلو میٹر دور ہے ۔بنگلہ دیش فی الحال اس کے بھاگنے کا چانس ہے ۔جامتاڑہ ریکٹ کا ماسٹر مائنڈ ضیاءالدین انصاری ہے جو مغربی بنگال کے مرشد آباد کے باشندے سے سیم کارڈ خریدتا تھا۔نسیم کے پاس سے برآمد 21761 سم کارڈ برآمد ہوئے ۔اس میں 1300 سم کارڈ پہلے بھی لئے تھے ۔پولیس کو ان کے پاس سے 774 غیر ملکی سم کارڈ بھی ملے ہیں جو نیپال ،بھوٹان ،اور چین کے بتائے جا تے ہیں ۔صابر ہی سم کارڈ نسیم کو دستیاب کراتا ہے ۔ملزمان نے بتایا یہ لوگ مغربی بنگال میں ملزم نسیم سے موبائل کیلئے پریپیڈ سم کارڈ منگوا لیتے تھے انہیں حاصل کرنے کے بعد ملزم ان نمبروں کو تقریباً سبھی بینک کے علاوہ فلپ کارڈ ،ایمازون ،میشو، اور دوسرے ای کامرس پلیٹ فارم پر ڈال دیتے تھے اس کے بعد جیسے ہی متاثرہ سے نمبروں پر کال کرتا تو ملزم بہت پیشہ ور آواز سے بات چیت کرکے بعد میں دھوکے سے ان کے اینیڈیکس کوک سپورس جیسے ایپ ڈاو¿ن لوڈ کروانے کے بعد ان کے موبائل سے ان کا کھاتا صاف کرلیتے ہیں ۔اس لئے عام لوگوں کو اس طرح کے جعلسازی سے بچنا چاہئے ۔ (انل نریندر)

امرناتھ یاترا سے پہلے دہشت پھیلانا!

جموں کے علاقے پونچھ میں فوج کی اس گاڑی کو دہشت گردون کے ذریعے دستی بموں اور راکٹوں سے اڑا دیا گیا ۔یہ واردات کے بعد فوج بہت غصے میں ہے جس میں سوار فوجی رمضان میں روزہ رکھنے والوں کیلئے سامان لے کر جا رہے تھے ۔اس حملے میں پانچ سے سات دہشت گرد شامل تھے ۔فوج اور پولیس اور دیگر سیکورٹی ایجنسیوں کی تفتیش میں یہ بات سامنے آئی ہے ۔ذرائع کے مطابق ان میں سے چار دہشت گرد سرحد پار یعنی پاکستان کے ہیں جنہوں نے اپنے پاکستانی آقاو¿ں کے ذریعے مقامی دہشت گردوں کو شامل اس کرتوت کو انجام دیا ۔اس اطلاع کی بنیاد پر پونچھ حملے کی جانچ نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے ) کو سونپ دی گئی ہے اس ٹیم کے سربراہ ڈی آئی جی سطرح کے افسر قیادت کررہے ہیں ۔فوج کے بقول سات سے دس پاک حمایتی دہشت گردوں کے دو گروپوں نے اس کرتوت کو انجام دیا ہے ۔جن کو ڈھیر کرنے کی خاطر بھٹا دورائی علاقے میں سینکڑوں کی تعداد میں جوانوں کو اتار دیا گیا ہے ۔ان کی مدد کے لئے نہ صرف کھوجی کتے ،ڈرون اور جنگی ہتھیار لگائے گئے ہیں ۔بلکہ این آئی اے کی ٹیم بھی پہونچی ہوئی ہے ۔اتنا ضرور تھا کہ اس کرتوت کے خلاف پورے جموں وکشمیر میں ناراضگی ہے اور جگہ پاکستان مخالف مظاہروں کی خبریں ہیں ۔سیکورٹی ذرائع کی مانیں تو اس حملے میں وہ دہشت گرد شامل ہیں جو پچھلے قریب ڈیڑھ سال سے سرگرم ہیں اور ایک بار اکتوبر 2021 میں وہ فوج کے سینکڑوں جوانوں کو بیس سے زیادہ دنوں تک تھکا چکے ہیں تب بھی فوج کے نوجوان مارے گئے تھے ۔حملے کے بعد علاقے میں ہائی الرٹ جاری کرنے کے ساتھ ہی اس راستے پر آمد ورفت بند کی جا چکی ہے جبکہ مقامی لوگوں کو تب تک گھر سے باہر نہ نکلنے یا گھومنے پھرنے کی ہدایت دی گئی ہیں ۔جب تک تلاشی کاروائی ختم نہیں ہو جاتی پونچھ کے اس واقعے کے بعد پورے دیش میں ناراضگی پائی جاتی ہے ۔ابتدائی جانچ میں پتہ چلا ہے دہشت گردوں نے فوج کی گاڑی پر پہلے ایک طرف سے فائرنگ کی اور افرا تفری مچنے کے بعد دوسری طرف اور پیچھے سے فائرنگ شروع کر دی ۔اینٹی ٹینگ کو استعمال کیا گیا ہے ۔ذرائع کے مطابق فوج کی گاڑیوں پر حملے کا یہ طریقہ نارتھ ایسٹ کی علیحدگی پسند تنظیموں جیسا ہے ۔کشمیر میں ممکنہ طور پر یہ بات پہلی بار سامنے آئی ہے ۔پونچھ کے بھٹہ دوریاں علاقے میں اکتوبر 2022 میں بھی فوج پر دہشت گردوں نے حملہ کیا ہے ۔اس میں بھی فوج کے چار جوان شہید ہوئے تھے تقریباً پندرہ روز تک تلاشی کاروائی چلی لیکن اب تک کوئی گرفتاری نہ ہو پائی ۔دراصل بھٹہ دوریاں میں گھنے جنگل ہیں ۔یہاں چھپنے کی کئی غار نماں جگہ ہیں ھالانکہ ایل او سی پر صرف 20 کلو میٹر دوری پر ہے ۔واردات کے بعد سرحد کے اس پار بھاگ جانا آسان ہے ۔راجوری اور پونچھ میںابھی اپنی غزنوی فورس کی دہشت ہے ۔جیش کی معاون تنظیم ای اے ایف ایف نے اس واردات کی ذمہ داری لی ہے لیکن اندیشہ ہے کہ اس کے پیچھے لشکر کا ہاتھ ہو سکتا ہے ۔امرناتھ یاترا سے پہلے عام لوگوں میں دہشت پیدا کرنے کی نیت سے یہ حملہ انجام دیا گیا ہے ۔ (انل نریندر)

میلانیا نے امریکہ میں یہ نئی جنگ چھیڑ دی

ایران جنگ میں سیز فائر ہوتے ہی امریکہ کے اندر ایک اور جنگ شروع ہو گئی ہے ۔آپ حیران ہوں گے کہ یہ کون سی جنگ ہے ؟ بتادیں کہ ایپسٹین فائلس کی ...