Translater

29 جون 2013

روپیہ ،سونااور شیئر سب میں گراوٹ

اترا کھنڈ میں اگر ندیوں کے قہر کے سامنے پہاڑ چٹخ رہے ہیں تو اقتصادی دنیا میں مندی کی سونامی میں روپیہ ،شیئر اور سونے پر زور دار حملہ ہوا ہے ۔روپیہ سونا اور سیئر سبھی میں بھاری گراوٹ دیکھی گئی ہے امریکی معیشت کی بہتری کے ساتھ عالمی کرنسیوں کی بنسبت مضبوط ہوئے ڈالر نے روپے شیئر اور بازار اور صرافہ کی حالت پتلی کی دی ہے آخر کار بینکنگ کرنسی بازار میں روپیہ 60.72فی ڈالر ریکارڈ سطح پر اوندھے منہ گرا۔شیئر بازار میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کی کمی سے سنسیکس 77.ٹوٹا سنا فی 10گرام 620روپے گرا اور چاندی 1000روپے اترکر 20مہینوں کے اندر 40500فی کیلو گرام تک آگئی ڈالر کے سامنے کمزور ہوئے روپے کا اثر ہوگا ڈالر کے مقابلے کمزوری کے مسلسل نئے دور میں چھو رہا روپیہ سرکاری خزانے پر چوٹ کرنے کے ساتھ ساتھ مہنگائی بھی بڑھائے گا پیٹرول اور سونے چاندی کے معاملے میں دیش پوری طرح درآمد پر منحصر ہے لیکن پچھلے کچھ برسوں میں غذائی تیل اور دالوں کی در آمد جس طرح بڑھی ہے اس سے کمزور روپیہ عام آدمی کے نوالے پر بھاری پڑے گا۔
سونے کے علاوہ کھاد اور کوئلہ بھی منگایا جاتا ہے روپیہ کی کمزوری کا سیدھا اثر ان پر بھیپڑے گاجس سے مہنگائی کو قابو رکھنا مشکل ہو جائے گا کھانے پینے سے لرکر ڈیزل پیٹرول اور الیکٹرونک سامان اور بیرونی ممالک میں علاج گھومنا پھرنا بھی مہنگا ہوگا چونکہ بیرونی ممالک میں پیسے کی ادائیگی ڈالر میں ہوتی ہے ڈالر کے مقابلے مئی سے اب تک 12فی صد تک گر چکا ہے اقتصادی ماہرین اس گراوٹ کے کچھ اسباب بتارہے ہیں روپے کی کمزوری کی اہم وجہ مہینے آخر میں ادئگی کیلئے ڈالر کی مانگ اور ہندستانی شیئر بازار می ںلگا پیسہ غیر ملکی کمپنیا ں نکال رہی ہیں امریکہ میں حوصلہ افزا پیکج واپس لینے کو فیڈ رزرو کے اشارے بین الاقوامی مارکیٹ میں سونا 2010کے بعد سے سب سے نچلے سطح پر پہنچا ہے اب وہاں بھاؤ1228ڈالر فی آنس ہے فی لحال بھارت میں روپیہ سنبھلنے کے آثار نہیں ہیں سونا 25ہزار کے نیچے آسکتا ہے چونکہ ہمارے روپیہ کی قیمت اس دوران زیادہ گری ہے جس وجہ سے سونا سستا ہورہا ہے روپے میں گراوٹ ابھی جاری رہے گی۔ریزرو بینک کے پاس ابھی کوئی خاص متبادل نہیں ہے 291عرب ڈالر کی غیر ملکی کرنسی کا ذخیرہ ہے اس سے صرف 7مہینے کے درآمد ضروریا ت پوری کی جاسکتی ہے پچھلے دنوں وزیر خزانہ پی چدمبرم نے اپیل کی تھی کہ پلیز سونان نہ خریدیں چدمبرنے کہا کہ لوگ بڑی تعداد میں سونا خریدتے ہیں جن میں ہمیں درآمد کرنی پڑتی ہے اور اس کے بدلے ڈالر دینے پڑتے ہیں کچے تیل کے بعد سب سے زیادہ درآمد سب سے زیادہ بھارت سونے کی کرتا ہے دیش میں جتنی سونے کی مانگ اس کی  پانچ فی صد ہی درآمد ہوتی  ہے قابل ذلر ہے کہ بھارت دنیا کا سب سے بڑا خریدار ہے سونے کا  ہمارے لئے مذہبی اقتصادی اور سماجی اہمیت بھی ہے۔ایک رپورٹ کے مطابق ہر ایک ہندستانی پوری زندگی میں کم از کم پانچ سے 10لاکھ روپے تک کا سونا خریدتا ہے ۔
(انل نریندر)

جان کیری کا دورہ رسمی اور مایوس کن رہا

امریکہ کے وزیر خارجہ جان کیری بطور سنیٹر کئی مرتبہ بھارت آئے ہیں لیکن امریکہ کے وزیر خارجہ کے طور پر پہلی بار ہندستان آئے ہیں اور وہ بھی اہم ترین سیاسی مذاکرات کے مقصد سے ۔باہمی اور بین القوامی اہمیت کے کئی ایشو پر ہند اور امریکہ متفق نہیں ہیں دونوں ملکوں کے درمیان چوتھے دور کی حکمت عملی بات چیت کا یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ شاید کوئی مثبت بات چیت کی امید کم ہی تھی چونکہ کچھ دنوں سے دونوں ملکوں میں کئی معاملوں پر تلخی دکھائی دے رہی تھی ملکوں کے رشتوں یا آپسی بات چیت کو کافی اہمیت دینی ہوتو اسے حکمت عملی کہنے لا پچھلے کچھ برسوں سے چلن ہو گیا ہے لیکن اگر بات چیت کے اجنڈے پر بنیادی اختلافات پہلے سے ہی دکھائی دے رہے ہوں تو اس پر ہونے والی بات چیت کو فطری طور سے حکمت عملی یا ڈپلومیٹک نہیں کہا جاسکتا جان کیری کا دورہ بھارت سے پہلے ہندستان کو راس نہ آنے والی باتیں شروع ہو گئیں تھیں  ویسے بھی تو بھارت امریکہ کے درمیان کئی ایشو ہیں جن پر غور وخوض کر نا ضروری ہے ۔لیکن اہم ایشو اس وقت امریکہ کے افغانستان پالیسی ہے اس اشو پر جان کیری کے دہلی میں دئے گئے بیانوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ افغانستان سے ہٹنے کا مقصد پورا کرنے کیلئے طالبان سے بات چیت کرنے کو تیار ہوا ہے امریکہ فی الحال ایسا کچھ نہیں کرنا چاہتا جو پاکستان کو اچھا نہ لگے ۔ممکن اس لئے کہ طالبان کی ڈور کچھ حد تک پاکستان کے ہاتھ میں ہے ۔
نتیجے کے طور پر 26/11کے دہشت گردانہ حملے میں مارے گئے لوگوں کے یاد کرنے کی روایت کیری بھول گئے الٹے یہ صلاح دے ڈالی کہ بھارت اور پاکستان ایک  دوسرے کے ساتھ اپنے رشتوں میں  بہتری لائیں تبھی دنیا ان میں سرمایہ کاری کرے گی نصیحت تو ٹھیک ہے لیکن اس بیان سے اس سوال کا جواب نہیں ملتا کہ اگر پاکستان اپنی سر زمین سے دہشت گردی کی سر گرمیوں کی اجازت دیتا رہے گا  اور ان کے ذریعے اپنے حکمت عملی مقاصد کو پانے کا ارادہ نہیں چھوڑے گا اور افغانستان کو اپنی فوجی پالیسی کی محاذی چوکی بنانے کی کوشش میں لگا رہے گا۔تو بھارت اس میں بھروسے کرکے سرمایہ کاری کیسے کر سکتا ہے؟بات چیت کے بات مشترکہ جاری بیان میں ایران ،شام اور امریکہ کے ذریعہ بڑے دورے میں بھارت کی جاسوسی کرنے جیسے اشو پر ذکر تک نہ ہونا اس بات کا شارہ ہے بھارت اور امریکہ کے درمیان اختلافات ابھی بھی قائم ہے۔صدر براک اوبامہ کے پہلے عہد میں ہند وامریکہ تعلقات میں گرم جوشی دکھائی دیتی تھی لیکن یہ عام خیال رہا ہے کہ ان کی دوسرے عہد کی پاری میں ٹھہراؤ آیا ہے ہو سکتا ہے کہ اس کی ایک وجہ دونوں ملکوں میں معیشت کا سست روی سے گزرنا ہے۔
امریکی تجارت و باہری  سرمایہ کاری ٹھپ پڑی ہوئی ہے امریکہ میں اس کو مضبوط کرنے کیلئے بڑا دباؤ پڑ رہا ہے۔نیوکلائی معاہدے کو آگے بڑھانے کیلئے امریکہ چاہتا ہے بھارت اپنے ایٹمی جواب دہی قانون اور نرم کرے کافی تنازعہ کے بعد اس قانون کو پارلیمنٹ کی منظوری دلا پانے میں کامیاب ہوئی یو پی اے سرکار کیلئے اس میں اور ترمیم کرا پانا آسان نہیں ہوگا دوسری طرف بھارت چاہتا ہے اسے نیوکلائی عدم  توسیع ایجنسی میں جگہ دلانے میںامریکہ مدد کرے لہذا ڈپلومیٹک بات چیت کے نام پر تعلقات اور مضبوط کرنے کی خانہ پوری کے اعلان ہوئے ہیں یہ بات چیت محض بھارتیہ آئی ٹی کمپنیوں کو لے کر اور آؤٹ سورسنگ کیخلاف اوبامہ انتظامیہ کی پالیسی وغیرہ اشو میں دونوں ملکوں کے کارباری رشتوں کو پیچیدہ بنا دیا ہے ان کے دور ہونے کا کوئی بھروسہ کیری نے نہیں دیا۔امریکہ کے نائب صدر جوئے بائڈن اگلے مہینے بھارت آئیں گے تو ستمبر میں وزیر اعظم منموہن سنگھ کا دورہ امریکہ تقریباً طے ہو گیا ہے اب دیکھنے کی بات ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان متنازعہ اشو حل ہوپاتے ہیں یا نہیں جان کیری کے اس دورے سے تو کچھ حاصؒ نہیں ہوااور یہ مایوس کن ہی رہا۔
(انل نریندر)

28 جون 2013

سڑکوں پر بائیکرس کے ہڑدنگ مچانے کا سوال


انڈیا گیٹ پر ہڑدنگ مچانا اور گاڑیوںپر اسٹنٹ کرنے کی نئی بیماری پچھلے کچھ عرصے سے ایک نیا مسئلہ بن گیا ہے۔ کچھ لوگ نہ تو قانون کی پرواہ کرتے ہیںاور نہ ہی اپنی جان کی۔ نومبر2002ء میں ہڑدنگیوں نے انڈیا گیٹ کے پاس ٹریفک قواعد کی جم کر خلاف ورزی کرتے ہوئے اسٹنٹ بازی دکھائی۔ گاڑیوں کی ٹکر کی زد میں آنے سے اس دوران کئی پولیس والے بھی زخمی ہوئے تھے۔ پولیس نے کئی لوگوں کو گرفتار کر ان کی گاڑیوں کو ضبط کیا تھا۔ پیر کو شب ِ برات کی رات انڈیا گیٹ کے آس پاس ہڑدنگیوں نے جم کر ہڑدنگ مچایا اور پولیس پر پتھرائو سے افراتفری کا ماحول بن گیا ہے۔ پولیس کو کئی جگہ لاٹھی چارج کرنا پڑا۔ کافی تعداد میں بائیکرس نے قریب4 گھنٹے تک راجدھانی کی سڑکوں پر اپنا قبضہ جمائے رکھا۔ اس میں انڈیا گیٹ سمیت آس پاس کے علاقوںمیں جام کی حالت بنی رہی۔ وہیں شاستری پارک علاقے میں بائیکرس نے ایک کار کو آگ کے حوالے کردیا۔ اسٹنٹ بازی کرنے کے چکر میں جامع مسجد علاقے سے آئے ایک شخص کی موت ہوگئی۔ معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے خود پولیس کمشنر کو سڑک پر آنا پڑا۔ پولیس کے مطابق شب ِ برات کے چلتے لوگوں کی کافی بھیڑ انڈیا گیٹ کے آس پاس کے علاقوں میں رات 11 بجے سے بائیکرس آنے لگے تھے۔ آدھی رات ہوتے ہوتے یہ سینکڑوں کی تعداد میںہوگئے حالانکہ پولیس نے انڈیا گیٹ جانے والے راستوں پر بیریکیٹ لگا رکھی تھی لیکن وہ انڈیا گیٹ کسی طرح پہنچنے میں کامیاب رہے۔ وہاں انہوں نے خطرناک اسٹنٹ کرتے ہوئے بھاری ہنگامہ کیا۔اتنا ہی نہیں وہاں سے گزر رہے لوگوں اور عورتوںسے بھی بدسلوکی کی۔ پولیس نے اس رات88 موٹر سائیکلیں بھی ضبط کی ہیں۔ ہڑدنگ مچانے ،غنڈہ گردی کے الزام میں پانچ بائیکرس کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ پہلے بائیکرس آئی ٹی او پر جمع ہوئے اور دیکھتے ہی دیکھتے ہزاروںکی تعداد میں پہنچ گئے۔ یہ سبھی بائیکرس جتھوں سے تلک مارگ، بہادر شاہ ظفر مارگ، وکاس مارگ، رنگ روڈ، سبھاش مارگ، جواہر لال نہرو مارگ، آصف علی روڈ کے راستے سے نکلے تھے۔ راستوں میں یہ کبھی بائیک کو ایک پہئے پر دوڑاتے دکھائی دئے۔ انہیںسڑکوں پر گول گول گھمانا شروع کردیتے۔ پولیس کو حالات پر قابو کرنے میں 4 گھنٹے سے زیادہ لگ گئے۔چشم دید گواہوں کے مطابق سڑکوںپر خطرناک اسٹنٹ اور بدتمیزی کرتے بائیکرس نے مانوشہر پر اپنا قبضہ جما لیا ہو۔ یہ بائیکرس کھلے عام قانون کی دھجیاں اڑا رہے تھے۔ سڑکوں پر لوگ کافی ڈر گئے تھے۔ اس درمیان فتح پوری مسجد کے شاہی امام مولانا مفتی مکرم کا کہنا ہے کہ اسلام قطعی ہڑدنگ کی اجازت نہیں دیتا۔ ہم سمجھ سکتے ہیں نوجوان بائیکرس میں جوش ہوتا ہے لیکن کیا انڈیا گیٹ صحیح جگہ ہے اس جوش کو دکھانے کی۔ بہتر یہی ہے کہ بائیکرس کچھ کھلی جگہوں پر جاکر اسٹنٹ بازی کریںتاکہ کسی اور کو کوئی تکلیف نہ ہو اور نہ ہی قانون و نظام کی حالت بگڑے۔
(انل نریندر)

گربھ گرہ کی تصویریں کھینچنے سے پرانی روایات اور تقدس ٹوٹیں،ذمہ دار کون


یہ انتہائی دکھ اور مایوسی کا موضوع ہے کہ قدرتی آفت کے بعد کیدارناتھ مندر کے تقدس اور یہاں کی برسوںپرانی روایات اور رسموں کو تار تار کیا جارہا ہے۔ کئی نیتائوں کی شے پر ٹی وی میں ان دنوں پورے دیش اور دنیا میں گربھ گرہ کی تازہ تصویریں دکھائی جارہی ہیں۔ پچھلے سال اگست میں جب میںاور میرے ساتھی کیدارناتھ درشن کے لئے گئے تھے تو ہم نے گربھ گرہ کی تصویریں نہیں کھینچیں تھیں صرف باہر سے ہی تصویریں لی تھیں۔ سبھی مسافر و شردھالو ہزاروں برسوں سے اسی روایت پر عمل پیرا ہیں۔ آج تک کسی نے گربھ گرہ کی تصویر نہیں دیکھی تھی لیکن پچھلے کچھ دنوں سے ہر ٹی وی چینل میں یہ بریکنگ نیوز بنی ہوئی ہے۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ اس کے لئے ذمہ دار کون ہے؟ وہاں ان ٹی وی والوں کو روکنے والا کون ہے؟مندر کے پجاری ،وہاں کے مندر کمیٹی کے لوگ، سیوادار سبھی تو اپنی جان بچانے کے لئے بھگوان کو چھوڑ کر بھاگ گئے ہیں۔ اپنی اپنی رائے ہوسکتی ہے میری رائے میں مندر کے بڑے پجاری و دیگر پجاریوں کو مندر چھوڑ کر بھاگنا نہیں چاہئے تھے۔ ہماری روایتیں یہی کہتی ہیں۔ آخر وہ تو کیدار بابا کی سیوا، پوجا ارچنا کے لئے ہی موجود تھے۔ ان کی اور ان کے کنبے کی پرورش کیدارناتھ مندر سے ہی ہوتی ہے۔ جب پانی آیا تو سب اپنی جان بچانے میںلگ گئے بھگوان کی کسی کو فکر نہیں ہوئی اور پہلا موقعہ پاتے ہیں ہیلی کاپٹر پر چڑھ گئے انہیں وہیں رہنا چاہئے تھا چاہے اس میں ان کی جان ہی کیوں نہ چلی جاتی۔ انہیں اپنی آن اوربھگوان پر بھروسہ کرنا چاہئے تھا۔ آخر اس نے کئی سینکڑوں لوگوں کو بھی بچایا ہے دور کی بات کیا کریں ٹیہری کے باشندے ویجندر سنگھ نیگی اتراکھنڈ میں زبردست سیلاب کے اس خوفناک منظر کو شاید اس زندگی میں نہ بھولیں۔ اس نے کیدارناتھ مندر کی گھنٹی سے 9 گھنٹے تک لٹک کر اور اپنی گردن تک گہری پانی میں تیرتی لاشوں پر کھڑے ہوکر جیسے تیسے اپنی جان بچائی۔ 36 سالہ نیگی کے رشتے دار اور دہلی کے ٹورزم آپریٹر گنگا سنگھ بھنڈاری نے کہا کے سیلاب کے دوران وہ صبح 7 بجے سے شام4 بجے تک مندر کی گھنٹی سے لٹکا رہا۔ نیگی مندر کے پاس بنے تین منزلہ ہوٹل کی چھت سے پانی میں کودا اور اس کے بعد مندر میں پناہ لے لی۔ ایک اخبار میں مندر کے بڑے پجاری واگیش لنک کی آب بیتی شائع ہوئی ہے۔ کبھی شیو کی جٹائوں میں سما جانے والی گنگا جب اپنے رودر روپ میں آنے لگی تو لگا کے وہ ایک بار شیو سمیت پوری کائنات کو نگلنے کے لئے مچل رہی ہو لیکن ان کے اس طوفانی چہرے کے بعد بھی (شیو) کیدار بابا کی مہیما میں نئی کڑیاں جڑ گئی ہیں۔ بھاری تباہی کے درمیان کیدارناتھ کے مندرکے حیرت انگیز طور پر بچ جانے کی بات ہو یا پھرتباہ کن حالات میں ارتھ پوجا کا باقاعدہ جاری رہنا۔ مندر کے چیف راول (پجاری) جنہیں ہموت کیدار بھی کہا جاتا ہے، انہوں نے اس آفت کی گھڑی میں پوجا کی اور مسلسل جو خلاصہ کیا ہے اس سے شیو کے تئیں بھگتی کا جذبہ اور بڑھ جاتا ہے۔آفت کی اس گھڑی میں شیو بھگت کے من میں اٹھ رہے سوالوں کا جواب یہی ہے کے گیارویں جوترلنک کیدارناتھ میں آئی بھاری قیامت کے بعد بھی پوجا نہیں رکی۔آفت کے تین دن جب16 جون کو سیلاب کا پانی مندر میں گھسا تو اس سے پہلے بڑے پجاری واگیش لنک پوجا کرچکے تھے۔ وہاں قدرتی مار پہلی بار16 جون کی شام کو8 بجے آئی۔ اس وقت تک پوجا ہوچکی تھی۔ رات کو سب کچھ ٹھیک ٹھاک ہوگیا تھا۔ اس کے بعد 17 جون کو صبح 4 بجے پوجا ہوچکی تھی پھر قریب پونے آٹھ بجے جب سیلاب کا پانی مندر میں داخل ہوا تو پجاری واگیش لنک گربھ گرہ میں پانی میں پھنس گئے۔ اس کے بعد پانی چڑھتے چڑھتے ان کے گلے تک آگیا۔ انہوں نے مورتی کوداہنے ہاتھ پر اٹھا لیا اور اس کے بعد وہ ڈوب جاتے کے اس سے پہلے ہی گربھ گرہ کا مغربی دروازہ ٹوٹ گیا اور پانی باہر کی طرف نکل گیا۔ اس کے بعد بڑے پجاری کو لگا کے جنوبی دروازے کی دیوار ٹوٹ سکتی ہے اور وہ وہاں دب سکتے ہیں اس لئے وہاں سے ہٹ کر گربھ گرہ کے ستون پر چڑھ گئے۔ ان کے ہاتھ میں وگرہ کی مورتی تھی۔ اسی صورت میں وہ قریب پانچ گھنٹے تک رہے۔ اس دوران انہوں نے مورتی نہیں چھوڑی ۔ اس کے بعد وہاںبچے کچھ لوگوں نے مندر کے گربھ گرہ میں مورتی کو سنبھالے کو پجاری کو نکالا۔ گوروچڑہٹی میں ہی 18 جون کو پوجا کی گئی اس کے بعد اگلے دن وگرہ مورتی کو گپت کاشی کے وشواناتھ مندر میں لایا گیا جہاں 23 جون تک باقاعدہ پوجا ارچنا ہوتی رہی۔ 24 جون کے بعد اکھی مٹھ کے اکیشور مندر میں بابا کیدارکی پوجا شروع ہوگئی جو تب تک چلے گی جب تک بابا کیدارناتھ کا شدھی کرن نہیںہوجاتا۔ اس بارے میں انکشاف دکھی دل سے کیدارناتھ مندر کے بڑے راول شری ویراگے سنگھ ، سنادھیشور بھیم، شنکر لنگ شیو آچاریہ و مہا سوامی جیٹھ ہموت کیدار نے کیا ہے۔ اوم نمہ شیوائے۔
(انل نریندر)

27 جون 2013

دھونی کی نوجوان بریگیڈ نے تو جھنڈے گاڑھ دئے ہیں


ٹیم انڈیا کے کپتان مہندر سنگھ دھونی کا کامیابیوں سے ناطہ ہمیشہ ہی گہرا رہا ہے اور اب برنگھم میں منعقدہ آئی سی سی چمپئن ٹرافی جیتنے کے بعد ان کے کارناموں میں ایک اور ٹرافی جڑ گئی ہے۔ بھارت اس کامیابی کے ساتھ مسلسل ونڈے ،ورلڈ کپ اور چمپئن ٹرافی جیتنے والا آسٹریلیا کے بعد دوسرا ملک بن گیا ہے۔ بھارت نے 2011ء میں ورلڈ کپ پر قبضہ جمایا تھا۔ برنگھم میں ٹیم انڈیا نے جس طرح کے کھیل کا مظاہرہ کیا اور فائنل میں انگلینڈ کی ٹیم کو ہرا کر کپ پر قبضہ کیا، اس سے دیش کے کرکٹ شائقین کا حوصلہ بڑھنا فطری ہی ہے۔ دراصل آئی پی ایل کے چھٹے ایڈیشن میں اسپاٹ فکسنگ سے اٹھے تنازعے کے سبب کرکٹ کے امیج کو گہرہ دھکا لگا ہے۔ اس دورہ لوگوں میں کرکٹ سے جو دلچسپی تھی وہ کم ہونے لگی تھی لیکن انگلینڈ میں اس شاندار کامیابی نے وہ تصور ختم کرکے نیا حوصلہ پیدا کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ ایسا نہیں کے بھارت پہلی بار ورلڈ چمپئن بنا۔ آج سے ٹھیک30 سال پہلے انگلینڈ میں ہی ورلڈ کپ چمپئن بنا تھا۔ کپتان کپل دیو کی رہنمائی میں اس وقت کی دھماکیدار ٹیم نے کرکٹ کے مکا کہے جانے والے لارڈس میدان پر مضبوط حریف ویسٹ انڈیز کو ہرا کر پہلی بار ورلڈ کپ اپنے نام کیا تھا لیکن 30 سال میں ہندوستانی کرکٹ میں بہت تبدیلیاں آئی ہیں۔ مہندر سنگھ دھونی کے سبھی قائل ہوگئے ہیں۔ نکتہ چینی کرنے والوں کو کرارا جواب دیا ہے۔ دھونی نے کہا کہ انہیں سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ اب وہ کریں تو کیا کریں؟ صرف چھ سال میں آئی سی سی کے تین ٹورنامنٹ جیتنا کوئی ہنسی مذاق نہیں ہے۔ دھونی کے مینجمنٹ اور صلاحیت کا تو اب بزنس اسکول بھی جائزہ لے رہے ہیں۔ دھونی میں اور کئی خوبیاں ہوں گی لیکن تین اہم باتیں ہیں ۔ یہ ہیں تعاون دینا، خود اعتمادی دکھانا اور ہر صورت میں تحمل برتنا۔ جب انگلینڈ کے مارگن اور گوگرا بالوں کو پیٹنے میں جٹے تھے تو دھونی بغیر ہڑبڑائے آگے کی حکمت عملی بنا رہے تھے۔ جب دھونی نے ایشانت شرما کو گیند تھمائی تو میں چونک گیا اور میرے دل میں آیا کے اب میچ گیا۔ لیکن دھونی نے پٹ رہے ایشانت سے ان کا آخری اوور کرایا تو میدان کے باہر بھی انہیں سب کوس رہے تھے مگر اسی اوور میں انہیں دو وکٹیں ملیں اور میچ کا پاسہ پلٹ گیا۔ ان دونوں گیندوں نے انگلینڈ کو ہراکر بھارت کو چمپئن بننے میں مدد کی۔ دھونی اپنا کنٹرول نہیں بگڑنے دیتے۔ جیت کے بعد دھونی نے کہا وہ کوئی ریکارڈ بنانے میدان پر نہیں اترتے ان کے لئے ٹیم کی جیت کا سلسلہ ضروری ہے۔ دھونی کی ینگ بریگیڈ نے کمال کردکھایا ہے۔ پورے ٹورنامنٹ کے دوران کیا آپ کو ایک بار بھی سچن تندولکر، ویریندر سہواگ، یوراج، گوتم گمبھیر، ظہیر خان اور بھجی کی کمی کھلی؟ انگلینڈ میں کھیلے گئے 7 میں سے7 میچ جیت کر26 سال کی اوسطاً عمر والی نوجوان بریگیڈ نے اپنا دم خم ثابت کردکھایا۔ شیکھردھون ٹیم انڈیا کی سب سے نئی سنسنی بن چکے ہیں۔ مونچھوں کو تاؤ دینے والا ان کا دھاکڑ انداز نوجوانوں میں فیشن بن گیا ہے۔ انہوں نے ایک بار پھر سہواگ، گمبھیر اور یوراج کی کمی محسوس نہیں ہونے دی۔ آئی پی ایل کے درمیان دھونی نے روندر جڈیجہ کو سر جڈیجہ کہا تھا۔ جڈیجہ نے بھی اپنے کھیل سے صحیح معنوں میں خود کو سر ثابت کردیا۔ طویل عرصے سے چلی آرہی آل راؤنڈ کی کمی پوری کردی ہے۔ ٹورنامنٹ میں سب سے زیادہ 12 وکٹ لے کر گولڈن بال کے حقدار بھی بنے۔ دھونی کی ٹیم کے جذبے کی داد دینی پڑے گی۔ انہوں نے دونوں آزمائشی میچوں میں سنچری بنانے والے دنیش کارتک کو ٹیم میں جگہ دینے کے لئے مرلی وجے کو باہر بٹھا دیا۔ درمیانی بلے باز روہت شرما سے اوپنگ کرانے کا داؤ چلا ، پھر اشون سے سلپ میں فیلڈنگ کروائی۔ دیتھ اووروں میں اشون اور جڈیجہ سے بالنگ کروائی۔ دھونی کے دھرندروں نے اتراکھنڈ کی قدرتی آفات سے دکھی دیش واسیوں کو خوش ہونے کا ایک موقعہ فراہم کرایا۔ اب اس نوجوان بریگیڈ پر ہندوستانی کرکٹ کا مستقبل ٹکا ہوا ہے۔ انہیں ابھی بین الاقوامی کرکٹ دنیا میں کافی امتحان دینے پڑیں گے لیکن کامیابی کئی بار سرچڑھ کر بولنے لگتی ہے کبھی کبھی نوجوانوں کی سمت بھٹک جاتی ہے۔ آئی پی ایل 6 میں ہم نے دیکھا۔ اس لئے ان نوجوانوں کو ڈسپلن میں رہتے ہوئے آگے بڑھتے جانا ہے اور دیش کے وقار کو نئی اونچائیاں دلانا ہیں۔ مہندر سنگھ دھونی اور ان کی نوجوان ٹیم کو دیش واسیوں کا سلام۔
(انل نریندر)

کہیں کانگریس کو ہی نہ بہا لے جائے اتراکھنڈ کا سیلاب

اتراکھنڈ میں قدرت کے قہر کے بعد شروع ہوئے راحت رسانی کے کام میں اب سیاست شامل ہوگئی ہے۔ ابتدائی بدانتظامی کے الزامات سے لڑ رہی مرکز میں اتراکھنڈ سرکار نے اب دوسری ریاستوں سے براہ راست راحت اور بچاؤ کے کام میں لگنے پر روک لگادی ہے۔ حکومت نے یہ صاف کردیا ہے کوئی بھی راحت یا بچاؤ کا کام اب اتراکھنڈ سرکار کی نگرانی میں ہی ہوگا۔ مرکز اور اتراکھنڈ سرکار کے تازہ فیصلے کو سیدھے طور پر نریندر مودی نے اتراکھنڈ میں پھنسے گجراتیوں کو واپس لانے کے لئے ریاست کی جانب سے ہیلی کاپٹرا ور جہازوں کے انتظام کا سہرہ لینے کی کوشش کی شکل میں کانگریس دیکھ رہی ہے۔ ظاہر ہے راحت رسانی کے کام میں بدانتظامی کے الزامات جھیل رہی کانگریس کی مرکزی و ریاستی سرکار کو یہ قطعی پسند نہیں آیا۔ یہ ہی نہیں نریندر مودی کے اتراکھنڈ دورے سے کانگریس نائب صدر راہل گاندھی کی غیر حاضری پر بھی کانگریس میں بے چینی بڑھ گئی ہے۔ راہل گاندھی اتراکھنڈ میں ہوئی تباہی کے9 دن بعد دکھائی پڑے۔ جب گوچر دورے پر گئے تو شام ہونے پر انہیں وہاں رکنا ہی پڑا۔ بیرونی ملک سے لوٹتے ہی راہل گاندھی نے نہ صرف اتراکھنڈ جانے کا پروگرام بنایا بلکہ کانگریس صدر سونیا گاندھی کے ساتھ ریاست کے متاثرین کے لئے راحت سامان سے لدی گاڑیوں کو بھی ہری جھنڈی دکھا کر روانہ کیا۔ اس معاملے میں ڈیمیج کنٹرول کے لئے پارٹی نے ریاست میں چلائی جارہی راحت رسانی کا ذمہ بھی راہل کو سونپ دیا ہے۔ نریندر مودی کی دیکھا دیکھی اتراکھنڈ کی تباہی کا معائنہ کرنے نکلے راہل گاندھی کا یہ داؤ بھی الٹا پڑتا دکھائی دے رہا ہے۔ ان کی اس بات کے لئے سخت نکتہ چینی بھی کی جارہی ہے۔ 9 دن تک بیرونی ملک میں رہنے کے بعد انہیں اتراکھنڈ کے متاثرین کا درد کیوں یاد آیا۔ جب انتظامیہ کسی بھی وی آئی پی کے دورے کے لئے سختی سے منع کرچکا ہے۔ کانگریس نریندر مودی پر اسی دلیل کو بنیاد بنا کر حملہ بول رہی تھی کے وہ تو راحت رسانی اور لاشوں پرسیاست کررہے ہیں لیکن اب ٹریجڈی کے 9 دن بعد خود اسی کے نائب صدر نے بھی مودی کے نقش قدم پر چل کر خود کو بیک فٹ پر لادیا ہے۔ اتراکھنڈ کا بڑا حصہ قدرت کی مار سے اجڑ گیا ہے۔ وہ کچھ عرصے بعد بھلے ہی بس جائے لیکن اس دوران ریاستی سرکار کی بد انتظامی کا خمیازہ کانگریس کو پورے دیش میں بھگتنا پڑ سکتا ہے۔ پورے دیش سے آئے سیلانیوں اور شردھالوؤں کو تلخ تجربہ صرف اترا کھنڈ کی حد تک نہیں رکنے والا ہے۔ اتراکھنڈ میں قدرت کے قہر سے بچ نکلنے والے ہر شخص فوج یا آئی ٹی بی یا ایئر فورس کے جانبازوں کا گنگان کررہا ہے۔ ریاستی سرکار یا مقامی انتظامیہ نام کی کوئی چیز کسی کے لئے سہارے کا سبب نہیں بنی۔ ریاستی انتظامیہ کی نا اہلیت اور لچرتا پر سیلانیوں سے لیکر مقامی لوگوں کی ناراضگی بھی بار بار پریرشان کررہی ہے اور یہ سندیش جارہا ہے کہ راحت کے کاموں میں ابتدائی دور میں تمام جانیں چلی گئیں۔ اتراکھنڈ آنے والوں میں ساؤتھ انڈیا سے لیکر پورب، پچھم اور نارتھ کے سبھی علاقوں کے لوگ آئے ہیں۔ سبھی ریاستوں میں اتراکھنڈ حکومت و انتظامیہ کی کوتاہی کا پیغام جارہا ہے۔ دیو بھومی پر احترام کے ساتھ انتم سنسکار نہ ہوپانے کا ہندو سماج میں درد صرف کنبے تک محدود نہیں رہے گا۔ پہلے جو زندہ بچے ہوئے ہیں ان کو ان علاقوں سے ہٹایا جارہا ہے۔ ایسے میں لاشوں کی درگت کا جذباتی اشو بھی پورے دیش کے لوگوں کو بے چین کرسکتا ہے۔ جیسا کے میں نے کہا کہ کہیں کانگریس کو ہی نہ بہا لے جائے اتراکھنڈ کا سیلاب؟
(انل نریندر)


26 جون 2013

خراب موسم اور وبا کی دوہری چنوتی!

اتراکھنڈ میں قدرت کا قہر ابھی رکا نہیں۔ حادثے کو8 دن سے زیادہ گذر چکے ہیں لیکن ابھی بھی وہاں لوگ مصیبت میں پھنسے ہیں۔ ان کی تعداد15 ہزار سے زائد ہے۔ شردھالوؤں اپنی جان کی حفاظت کے لئے امیدیں لگائے بیٹھے ہیں۔ موسم پھر خراب ہوگیا ہے اور کئی حصوں میں پھر بارش شروع ہوگئی ہے۔ فوج اور سکیورٹی فورس کے جوانوں نے اپنی جان کی بازی لگا کر ہزاروں بھگتوں کو بچایا ہے۔ بیشک خراب موسم کی وجہ سے ہوائی راحت رسانی و بچاؤ کا کام رک گیا ہے کیونکہ ہیلی کاپٹر ایسے موسم میں اڑان نہیں بھر سکتے لیکن زمینی بچاؤ مہم جاری ہے۔ کیدار وادی میں بچاؤ کے کام میں لگے 258 میں سے 150 پولیس والے لا پتہ ہیں جن میں سے 15 خاتون کانسٹیبل بھی ہیں۔ راحتی ٹیموں میں شامل کئی پولیس والے بیمار بھی ہوگئے ہیں۔ اتراکھنڈ میں اب تک سب سے بڑی راحت رسانی مہم آپریشن سرچ چل رہا ہے۔ ایئر فورس نے کہا ہے کہ پھنسے لوگوں کو نکالنے میں کم سے کم ایک ہفتہ اور لگ جائے گا، وہ بھی جب موسم ساتھ دے۔ یہ ہمارے دیش کی بدقسمتی ہی کہا جائے گا کہ اتنی بڑی قدرتی آفت سے نمٹنے کے لئے سرکاری ایجنسیوں میں اصلی تال میل کی کمی ہے۔ دیش تو متحد ہوگیا ہے اورمدد کے لئے ہاتھ اٹھ رہے ہیں لیکن حالات کی بدقسمتی دیکھئے مرکزی حکومت اور ریاستی سرکار کے درمیان تال میل ہی گڑ بڑ ہورہا ہے۔ ریاستی حکومت کی غیر دور اندیشی اور لاپروائی تو پہلے ہی سامنے آچکی ہے۔ وزیر داخلہ سشیل کمار شندے نے بھی تسلیم کیا ہے اتراکھنڈ میں راحت کے کام میں لگی سرکاری ایجنسیوں میں تال میل کی کمی ہے۔ اتراکھنڈ میں باڑ متاثرین کی مدد کے لئے جہاں سارا دیش کوشش میں لگا ہوا ہے اور ان کی حفاظت کے لئے دعائیں کررہے ہیں ایسے میں قدرتی آفت کی مار جھیل رہے لوگوں کے تئیں لوٹ کھسوٹ کی شرمناک خبریں بھی سامنے آرہی ہیں۔ سیلاب میں پھنسے لوگوں کو ایک پراٹھے کے لئے250 روپے اور چپس کے چھوٹے پیکٹ کے لئے 100 روپے دینے پڑ رہے ہیں۔ ٹیکسی ڈرائیور پہلے جہاں جانے کے لئے1 ہزار روپے لیاکرتے تھے اب وہ3 سے4 ہزار روپے لے رہے ہیں۔ 200 روپے کا پراٹھا اور 200 روپے کی پانی کی بوتل بک رہی ہے وہیں لاشوں سے زیور، نقدی کی لوٹ پاٹ کے واقعات بھی سامنے آئے ہیں۔ کیدار وادی میں 16-17 جون کو برسے آسمانے قہر میں کیدارناتھ دھام، گوری مندر اور قریبی مندروں میں پوجا ارچنا کرانے والے پجاریوں اور منی گاؤں گرام سبھا کے 42 پجاری دیگر کل51 مرد لٹیرے بن چکے ہیں۔ اس گرام سبھا میں بچوں کو چھوڑ کر مردوں کی تعداد51 بتائی گئی ہے۔ ان دونوں گاؤں میں مرد نہیں بچے ہیں اور اتنی عورتیں بیوہ کی زندگی جینے اور خاندان کا گذارہ کیسے کریں ،کی مشکلات جھیلنے کو مجبور ہیں۔ ان خاندانوں کی پرورش مندروں کی سیوا سے چلتی ہے یہ سیوا محض 6 مہینے کی کرپاتے ہیں کیونکہ برفباری کے سبب وہاں کے مندر 6 مہینے کے لئے بند رہتے ہیں۔ کچھ سادھوؤں نے کیدار علاقے سے لوٹنے سے انکارکردیا تھا۔ آئی ٹی بی پی کے ڈی آئی جی نے بتایا کے 15 سے 20 سادھوؤں نے وہاں لوٹنے سے منع کردیا اور کہا کے بھلے ہی ہم مہادیو کی سیوا میں مرجائیں لیکن یہاں سے ہٹیں گے نہیں لیکن ہم نے بتایا کے لاشوں کے درمیان رہنا ٹھیک نہیں ہوگا کیونکہ اس سے بیماری پھیلنے کا اندیشہ ہے۔ بڑی مشکل سے وہ مانے۔ اب پتہ چل رہا ہے کہ کیدارناتھ مندر میں کتنی تباہی ہوئی ہے۔ مندر کے گربھ گرہ میں اور شیولنک ٹوٹ پھوٹ گیا ہے۔ 
کیدارناتھ مندرکے بڑے تیرتھ پروہت دنیش باگڑی نے بتایا کہ احاطے میں ملبہ کافی مقدار میں بھرا پڑا ہے۔گربھ گرہ میں اب تک ملبے کا انبارلگا ہوا ہے۔ بھگوان شیو کے مصنوعی جوترلنک کا صرف کچھ حصہ ہی دکھائی دے رہا ہے۔ انہوں نے کہا مندر کمپلیکس میں 6 فٹ سے زیادہ ملبے کے نیچے کافی تعداد میں لاشیں دبی ہوئی ہیں۔ یہ پوچھے جانے پر کے کیا عارضی طور پر پوجا کی جگہ بدلنے پر غور ہورہا ہے، تو انہوں نے کہا سرکار کے ذریعے مقرر چیف پجاری کے حوالے سے اس پر غور کرنے کے بعد ہی کوئی فیصلہ لیا جائے گا۔ اس بارے میں ابھی صاف طور پرمعلومات نہیں ہیں۔ پہلا کام مندر کمپلیکس تک پہنچنا ہے اور اسے بحال کرنا پہلا چیلنج ہے اور یہ بہت بڑا کام ہے۔ ادھر کیدارناتھ ٹریجڈی کے بعد مندر کے راول (بڑے پجاری) بھیم راؤ لنگم اروی مٹھ پہنچ گئے ہیں۔ انہوں نے کیدارناتھ مندر کا ہوائی سروے سے جائزہ بھی لیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ موجودہ حالات میں پوجا گپت کاشی کے وشواناتھ مندر میں ہورہی ہے۔ اکھی مٹھ اونکاریشور مندر ،پنتھ کیداروں کا گٹھی استھل ہے اس لئے پوجا اکھی مٹھ میں شروع کرائے جانے پر غور ہورہا ہے۔ کیدارناتھ مندر میں شدھی کرن کے بعد ہی پوجا کی جائے گی۔ قدرت کے قہر کے بعد اب دوسرا خطرہ حادثے والے علاقوں میں وبا کی شکل میں منڈرانے لگا ہے۔ لاشیں سڑنے لگی ہیں جس وجہ سے ان سے اٹھ رہی بدبو سے انفکشن پھیلنے کا خطرہ پیدا ہونے لگا ہے۔ راحت بچاؤ کے لئے ہندوستانی فوج کے جانباز دیو دوت بن کر آئے ہیں۔ 
آخر میں قارئین کو کیدارناتھ دھام کی اہمیت بتا دیں۔ مندر کیسے وجود میںآیا؟ میں اس بارے میں تفصیل بتاؤں ۔ کیدارناتھ کی تعمیر پانڈوؤ یا ان کے آباؤ اجداد نے کرائی تھی۔ جیرنودھار آدی گورو شنکر آچاریہ نے کرایا۔ مہابھارت کی جنگ میں کامیاب ہونے پر پانڈؤ لوٹ مار اور قتل غارت گری سے نجات پانا چاہتے تھے اس کے لئے آشیرواد حاصل کرنا چاہتے تھے اور درشن کے لئے کیدار پہاڑی پر پہنچ گئے لیکن جب تک انہوں نے بیل کی شکل اختیار کرلی اور وہاں انہیں دیگر جانوروں کا ساتھ مل گیا لیکن پانڈوؤں کو شبہ ہوا۔ بھیم نے اپنی وسیع شکل اختیار کر پہاڑوں پر اپنے پیر پھیلا دئے باقی جانور تو نکل گئے لیکن میملا کیسے نکل پاتا۔ بھیم بھی سمجھ گئے اور میملا زمین کے اندر جانے لگااور بھگتی اور پختہ عزم کو دیکھ کر میملے نے انہیں درشن دے کر پاپ سے نجات دے دی۔ تب سے لیکر آج تک بیل کی پیٹھ پر مورتی پنڈ کی شکل میں ہے۔ کیدارناتھ مندر کے گربھ گرہ میں اس کو پوجا جاتا ہے۔ ایسا مانا جاتا ہے جب بھگوان شنکر بیل کی شکل میں سامنے آئے تو ان کے دھڑ کے اوپر کا حصہ کاٹھمنڈو میں ظاہر ہوا۔ وہاں یہ پشوپتی ناتھ کی شکل میں پوجا جاتا ہے۔ میری بھجائیں سنگھ ناتھ میں بڑے رودرناتھ میں نابھی، ملیشور میں کلپیشور میں پرکٹ ہوئیں اس لئے ان دھاموں سمیت کیدارناتھ کو پنچ کیدار بھی کہا جاتا ہے۔ ہر ہر مہادیو۔
(انل نریندر)

25 جون 2013

افغانستان چھوڑنے پر امریکیوں کی بیتابی

امریکی صدر براک اوبامہ نے اعلان کیا ہوا ہے کہ 2014ء میں امریکہ افغانستان سے اپنی فوجیں ہٹا لے گا۔ جیسے جیسے یہ تاریخ قریب آرہی ہے ، امریکہ بے چین ہورہا ہے۔ اب وہ اس حد تک جانے کو تیار ہے کہ اپنے کٹر دشمن جس کے خلاف وہ برسوں سے لڑ رہا ہے ، سے بھی بات چیت کو تیار ہے۔ 9/11 کے آتنکی حملے کے بعد امریکہ نے افغانستان میں طالبان کو ختم کرنے کا عہد کیا تھا۔ طالبان تو ختم نہ ہوپائے مگر اس کا سرغنہ اسامہ بن لادن ضرور مارا گیا۔2011ء کی گرمیوں میں ناٹو فوجوں کی واپسی شروع ہوئی تھی اور اب تک 10 ہزار امریکی فوجی وطن لوٹ چکے ہیں۔ 2013ء میں باقاعدہ طور سے ناٹو افواج نے افغانستان کی سکیورٹی کی ذمہ داری افغانی فوجیوں کو سونپ دہی ہے۔ امریکہ چاہتا ہے طالبان القاعدہ سے اپنے رشتے توڑ لیں لیکن طالبان کی ضد ہے کہ پہلے غیر ملکی افواج افغانستان خالی کریں۔ وہ امریکی قید میں پڑے اپنے کمانڈروں کی رہائی چاہتا ہے۔ اسی کو لیکر بات چیت ہوگی۔ افغانستان میں امن اور استحکام کے لئے امریکہ اپنے کٹر مخالف طالبان سے بات چیت کرنے کو ایک بار پھر رضامند ہوگیا ہے۔ امریکی صدر براک اوبامہ نے امریکہ کی طالبان کے ساتھ طے بات چیت کو افغانستان میں جنگ بندی کی سمت میں اٹھایا گیا پہلا اہم قدم قراردیا ہے۔ لیکن ساتھ ہی آگے کی مشکل کا سفر کو لیکر آگاہ کیا ہے کہ امریکی حکام قطر میں کھولے طالبان کے نئے دفتر میں اس کے نمائندوں سے ملنے کا پلان ہے۔ طالبان نے قطر کی راجدھانی دوحہ میں گذشتہ دنوں باقاعدہ طور پر اپنا دفتر قائم کیا ہے۔ امریکی حکام اس دفتر کے ذریعے طالبان کمانڈروں سے رابطہ قائم کریں گے۔ اس پہل میں افغانستان کے صدر حامد کرزئی کی منظوری بھی حاصل ہے۔ امریکی وزیر خارجہ جان کیری پیر کو ہند۔ امریکہ حکمت عملی بات چیت کے چوتھے دور کے لئے نئی دہلی تشریف لا چکے ہیں۔کیری افغانستان سے متعلق بھارت کی تشویشات کے بارے میں دو ٹوک بتانا چاہئے۔ تشویش کی بات تو یہ ہے طالبان نے کسی بنیادی شرط پر اپنا موقف نہیں بدلا اس کے باوجود امریکہ اس سے سیدھی بات چیت کے لئے تیار ہے۔ طالبان نے صرف یہ شکایت کی کہ کرزئی حکومت کے نمائندوں کے سامنے بات چیت کی میز پر بیٹھنے کو تیار ہوگیا ہے جسے پہلے وہ مغربی ممالک کی کٹھ پتلی بتاتا رہا ہے۔ اس کے باوجود اپنے بیان میں اس نے افغانستان کو’’اسلامی امارات‘‘ کہہ کرمخاطب کیا ہے۔ سیکولرازم موجودہ آئین کی حفاظت کے تئیں اپنے کوئی وعدے کے بارے میں عہد نہیں ظاہر کیا ہے نہ ہی اقلیتوں و خواتین کے مفادا کی حفاظت کا کوئی وعدہ کیا ہے۔ دراصل وہ امریکی منشا کے مطابق القاعدہ سے الگ ہے اور اعلان کرنے پر بھی راضی نہیں ہوا ہے۔ بس اتنا کہا ہے کہ وہ دوسرے ملکوں کے لئے خطرہ پیدا کرنے کے لئے افغانستان کی سرزمین کا استعمال نہیں ہونے دے گا۔ اس کے باوجود امریکہ بات چیت کے لئے تیار ہوگیا ہے اس کی وجہ یہ ہی مانی جاسکتی ہے کہ وہ کسی بھی قیمت پر اگلے سال کے درمیان تک افغانستان سے پیچھا چھڑانے کے لئے بیتاب ہے۔ بھارت کا افغانستان کے اندرونی حالات پر بہت کچھ داؤ لگا ہوا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ کے سامنے بھارت کو اپنے اندیشات کو کھل کر ظاہر کرنا چاہئے۔ اقوام متحدہ میں بھارت کے ڈپٹی ناظم الامور منجیت پوری نے کہا کہ افغانستان میں پچھلے دو مہینوں میں کئی آتنکی حملے یہ ظاہرکرتے ہیں کہ اس دیش میں سکیورٹی کے حالات کمزور ہوئے ہیں۔ پوری نے کہا کہ طالبان القاعدہ اور لشکر طیبہ اور دیگر آتنکی کٹر گروپوں کو الگ الگ کرنے اور ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کے ممبروں سے کہا کہ یہ ضروری ہے کہ افغانستان میں ہورہی تبدیلی اور اس کی قیادت میں اور اسی طرح سے کی جائے۔ یہ تبدیلی کثیر الراحت ہونی چاہئے۔ اسے افغانستان کے سبھی لوگوں کی سلامتی یقینی کرنی چاہئے۔انسانی حقوق کا احترام ہونا چاہئے۔ اسے افغانستان سرکار اور اس کے اداروں کو مضبوط بنانا چاہئے۔ انہوں نے کہا افغانستان میں حالات اور اقتصادی ترقی اس کے پڑوسی ملکوں پر کافی منحصر کرتی ہے۔ امریکہ بھلے ہی طالبان کی کٹر پسند حکومت کی واپسی کے اندیشے سے فکرمند نہ ہو افغانستان جن طاقتوں اور آس پاس کے ملکوں کے مفادات پر اس سے چوٹ پہنچے گی اور وہ چپ نہیں رہ سکتے۔ ان دیشوں میں بھارت بھی ہے جس میں پچھلے ایک دہائی میں وہاں اندرونی سکیورٹی اور بنیادی ڈھانچے میں کافی پیسہ لگایا ہے۔ پھر طالبان کے ذریعے افغانستان۔ پاکستان فوجی گٹھ جوڑ نہ بن جائے یہ قطعی بھارت کے مفاد میں نہیں ہے اس لئے یہ مناسب ہوگا کہ ان اشوز پر جان کیری سے بیلاگ بات کی جائے۔
(انل نریندر)

الیکٹرونک مشینوں میں بہتری کی تجویز:ووٹر کوپتہ لگ سکے گا اس کا ووٹ کہاں پڑا

دیش کے ووٹروں کو اب جلد ہی یہ پتہ لگ سکے گا کے اس نے چناؤ میں الیکٹرونک مشین کے ذریعے جو ووٹ ڈالا ہے وہ اسی امید وار کے حق میں گیا ہے یا نہیں جس کے لئے اس نے ووٹ کیا تھا۔ اس کارروائی میں ووٹر کی تصدیق کے لئے ایک پرنٹڈ پرچی دی جائے گی اور چناؤ کمیشن کی جانب سے ووٹ ویریفائی پیپر آڈٹ سسٹم لاگو کیا جانے پر جلد ہی یہ اسکیم حقیقت کی شکل لے لے گی۔ چناؤ کمیشن نے حال ہی میں سپریم کورٹ کو بتایا تھا کہ اس نے وی وی پی اے ٹی ڈیزائن کو منظوری دے دی ہے اور اسے پوری طرح ٹھیک کرنے کے لئے اس میں کچھ نوک پلک درست کرنے کی ضرورت ہے۔ کمیشن نے اس نئے سسٹم پر غور وخوض کے لئے سیاسی پارٹیوں کے نما ئندوں کو بھی بلایا ہے۔ چناؤ کمیشن کے اعلی ترین ذرائع کے مطابق پی وی این مشینوں سے جوڑنے کے لئے جون میں قریب250 پرنٹر حاصل کئے جائیں گے۔ تجربے کے بعد ضمنی چناؤ میں انہیں تجرباتی طور پراستعمال کیا جائے گا اور نیا سسٹم ممکن ہے دیش میں اگلے عام چناؤ تک لاگو ہوپائے۔ کیونکہ ہائی ٹیک ای وی این مشین سے جوڑنے کے لئے اس طرح کے 13 لاکھ نئے کل پرزوں کی ضرورت ہوگی۔ اس پر قریب 17 کروڑ روپے خرچ آنے کا امکان ہے۔ نئے سسٹم کے تحت ایک ووٹ ای وی ایم مشین میں ایک بٹن دبا کر اس امیدوار کا نام اور پارٹی کا نام اور شمار نمبر کی تفصیل کی پرچی حاصل کر سکیں گے جس کے حق میں اس نے اپنا ووٹ ڈالا ہے۔ اس سسٹم کے ذریعے ووٹر اپنے ووٹ کی تصدیق کرسکے گا لیکن ووٹ کو راز میں رکھنے کے لئے ووٹر کو یہ پرچی اپنے ساتھ لے جانے کی اجازت نہ ہوگی۔ کچھ سیاسی پارٹیوں نے اس نئے سسٹم کے حق میں اس سسٹم کی حمایت کی ہے لیکن ای وی ایم سسٹم میں طویل عرصے سک بہتری لانے کا مطالبہ کررہی سیاسی پارٹیاں نئے سسٹم کو جانچ پرکھے بغیر اس پر اپنی کوئی رائے دینے سے بچ رہی ہیں۔ بھاجپا کافی پہلے سے اس طرح کے سسٹم کو اپنائے جانے کی وکالت کررہی تھی لیکن اس کی سیاسی پارٹیوں نے اس بارے میں ابھی کوئی رائے نہیں دی ہے۔ بھاجپا کے نائب صدر مختار عباس نقوی نے کہا کہ ہم اس کے حق میں ہیں اور چناؤ کمیشن نے آنے والے لوک سبھا چناؤ میں اس نئے سسٹم کو اس کی خامیوں کو دور کرنے کو کہتے رہے ہیں۔ کانگریس نے حالانکہ اس نظریئے کی حمایت تو کی ہے لیکن اس نئے سسٹم کے بارے میں ابھی اپنی کوئی رائے نہیں رکھی ہے۔ کانگریس کے ترجمان نے کہا نیا سسٹم کیسے کام کرتا ہے ہم اس پر غور کریں گے اور اس کے بعد رائے زنی۔ جنتادل یونائیٹڈ کے شرد یادو نے کہا پہلے ہم نئے سسٹم کو دیکھیں گے پھر اس کے بعد اپنی بات رکھیں گے۔ مارکسوادی پارٹی کے سکریٹری ڈی راجہ نے کہا کے لیفٹ پارٹیاں ای وی ایم کے بھروسے کوبڑھائے جانے کی مانگ کرتی رہی ہیں اور لگتا ہے کے اس سلسلے میں یہ ایک حل ہے۔ قابل غور ہے ای وی ایم مشینوں کو لیکر اکثر تنازعہ بنا رہتا ہے اور بیرونی ممالک نے اس کا استعمال کرکے اس کو مسترد کردیا ہے۔ بھارت میں یہ معاملہ مختلف عدالتوں میں اٹھاہے۔ اگر ای وی ایم مشین کی بھروسے مندی مضبوط ثابت ہوتی ہے تو اسکا خیر مقدم۔
(انل نریندر)

23 جون 2013

آؤ سب مل کر راحت میں ہاتھ بٹائیں

اتراکھنڈ کے جو حالات اب سامنے آرہے ہیں اس سے صاف ہے کہ دیش قومی آفت کی زد میں آچکا ہے۔جان مال کے بڑھتے نقصان کے اعدادو شمارسنسنی پیدا کرنے والے ہیں مشکل یہ ہے کہ پانچ چھ دن ہونے کے بعد بھی یہ جاننا مشکل ہے کہ تباہی کی حد کیا ہے؟ اتراکھنڈ کی کسی بھی سرکاری ایجنسی کو یہ معلوم نہیں کہ 11759 فٹ کی اونچائی پر کیدارناتھ کے درشن کے لئے کتنے لوگ آئے اور کتنے لاپتہ ہوگئے ہیں اور کتنوں کی موت ہوچکی ہے۔ لگتا یہ ہے کہ دراصل یہاں مسافروں کی صحیح تفصیل رکھنے کا کوئی سسٹم نہیں ہے۔ تباہی والی رات کیدارناتھ اور بدری ناتھ میں قریب30 ہزارلوگ تھے۔ ابھی تک 10 ہزار کے قریب لوگ باہر نکالے گئے ہیں۔ اکیلے کیدارناتھ اور بدری ناتھ میں 20 ہزارسے زیادہ لوگوں کو ابھی تک پتہ نہیں چل سکا۔ اگر ہم پورے اتراکھنڈ کی بات کریں تو اندازہ ہے کہ50422 لوگ پھنسے ہوئے ہیں۔ ردر پریاگ میں 22429 ، چمولی میں 18162 اور اترکاشی میں 98316 لوگ ہیں۔ راحت رسانی میں فوج اور آئی ٹی بی پی کے 6 ہزار جوان لگے ہوئے ہیں۔
ٹی وی اور اخباروں میں ہم نے دیکھا کے کس طرح فوج کے جوانوں نے جان کی بازی لگا کر لوگوں کو بچایا۔ انڈین ایئرفورس نے ہر ہندوستانی کا سر فخر سے اونچا کردیا ہے۔ فوج اگر اتنی سرگرم نہ ہوتی تو پتہ نہیں کتنے اور مرتے۔ بہار کے سابق وزیرصحت اشونی چوبے نے اپنی آنکھوں دیکھی کچھ اس طرح بیان کی ہے۔ میں چارراتوں تک کیدارناتھ میں پھنسا رہا۔ میرے خاندان کے 5 لوگ لاپتہ ہیں۔ میں نے لاشوں پر رات گذاری ہے۔ 1800 سے زیادہ لوگ میرے ساتھ مندر میں تھے۔ کئی تو میری آنکھوں کے سامنے مر گئے۔ 
مندر کے اندر لاشیں تیر رہی تھیں۔ میں نے زندگی میں ایسی قدرتی آفت نہیں دیکھی۔ 15-20 ہزار سے زیادہ لوگوں کی موت ہوئی ہیں۔ دہلی کے باشندے شکنتلا گوسائی نے اپنی آپ بیتی اس طرح سنائی جس سے پتہ چلتا ہے کہ منظر کتنا خوفناک رہا ہوگا۔ہم 16 جون کو کیدارناتھ درشن کے بعد واپس لوٹ رہے تھے۔ بیچ میں موسم خراب ہوا تو رام باڑہ میں ہم رک گئے۔ بارش تیز ہورہی تھی، مارکیٹ میں چہل پہل تھی،لوگ چائے کی چسکیاں لے رہے تھے، اچانک پہاڑ ہلنے لگا۔ ہم نے سوچا نیچے والا گیسٹ ہاؤس، جس میں قریب500 لوگ تھے دھماکے کے ساتھ ندی میں سما گئے اور قدرتی آفات کے وقت رام باڑہ میں قریب تین ہزارلوگ تھے۔پہاڑ کے نقشے سے غائب ہوچکے رام باڑہ سے لوٹی شکنتلا آگے کہتی ہیں کے اس کے دونوں پیر سوجے ہوئے ہیں۔ انہوں نے بتایا جب جان بچانے کو بھاگے قریب 100 لوگ تھے۔ پہاڑ کی چوٹی پر پہنچے تو ہم پانچ عورتوں کے ساتھ کل 3 لوگ بچے تھے۔ 
تیز بارش سے بچنے کے لئے انہوں نے پڑی لاشوں کی پولیتھین اور گھوڑوں کے کپڑے اپنے اوپر ڈھکے۔ چار دن تک بغیر کھائے، کسی جگہ پہنچے جہاں سے فوج کے ہیلی کاپٹر نے انہیں پتہ لگا لیا ۔انہوں نے بتایا بھگدڑ کے وقت جو بھی نیچے گر گیا وہ بچ نہیں پایا۔ رام باڑہ میں 50 نہیں بلکہ3 ہزار سے زیادہ لوگوں کی موت ہوئی ہیں۔ وہاں ہر کوئی اپنی زندگی بچانے کے لئے افراتفری کا شکار تھا۔ فوج کے لوگ اپنی جان بچانے کے لئے ہدایت دے رہے تھے۔
قدرتی آفت کے سبب اترکاشی میں نہ بجلی اور نہ پانی، بیمار لوگوں کے علاج کے لئے نہ کوئی ڈاکٹر ہے نہ دوائیاں۔مسافروں نے سرکار کو جم کر کوسا ان کا کہنا تھا لگتا ہے گنگوتری دھام میں سرکاری مشینری نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔ اگر ہم سرکاری افسروں کی بات کریں تو دیکھئے ان کا رویہ اپنوں کو کھو چکے ہزاروں پست حال بیمار تیرتھ یاتری مدد کی اپیل کررہے تھے۔ سبھی چاہتے تھے کہ انہیں پہلے نکالا جائے۔ اگر راجستھان کے تیرتھ یاتریوں کی مانیں تو موقع پر موجود پولیس اور انتظامی افسروں کا برتاؤ شرمناک رہا۔ سب سے پہلے وہی ہیلی کاپٹر سے نکل بھاگے۔ یہ داستاں بتائی کیدارناتھ سے بچ کر ہری دوار پہنچے راجستھان کے تیرتھ یاتریوں کے ایک گروپ نے۔ اور تو اور سپریم کورٹ نے ریاستی حکومت کو پھٹکار لگائی۔ 
عدالت نے راحت کے کام میں تیزی لانے کی سخت ہدایت دی ہے۔ انتہائی دکھ سے کہنا پڑتا ہے کے ہمارے کچھ بھائی لاشوں کو بھی پیسوں کی خاطرنہیں چھوڑتے۔ کیدار وادی کی تباہی نے پورے دیش کو ہلا کر رکھ دیا ہے لیکن کیدار دھام میں تپسیا کے نام پر رہ رہے کچھ چور اچکے سادھوؤں نے دھرم کے نام پر ایسی کرتوت کی ہے جسے سن کر ہر کوئی شرمندہ ہوگا۔ یہ حرکت ایسی ہے جو سادھوؤں نے بھگوان شیو کی تپسیا کے نام پر موسم گرما میں چھ مہینے تک کیدارناتھ میں تپسیا میں مگن رہنے کا ڈھونگ کررہے ہیں لیکن قدرتی آفت کے وقت ایسا کام کیا جو کسی نے کبھی سوچا نہیں تھا۔ ٹریجڈی کی رات سادھوؤں نے تیرتھ یاتریوں کو اس قدر لوٹا اورپولیس نے جب ان کی تلاشی لی تو لاشوں سے اتارے زیور اور نقدی ان کے پاس سے ملے۔ ان کے پاس 3 کروڑ روپے نقدی ملی۔ ابھی جانچ جاری ہے۔ سرکار تو اپنی سطح پر کام کررہی ہے ہم سبھی کو اپنے اپنے ڈھنگ سے ہاتھ بٹانا ہوگا۔ خاص کر وزیراعلی کے رویئے سے بھی لوگوں میں غصہ اور مایوسی ہے۔ کام اتنا بڑا ہے کہ سبھی لوگوں کو وہاں جاکر پھنسے خاندانوں کی مدد کرنی ہوگی۔
ہم بھی اس جنگ میں کود پڑے ہیں۔ ہماری ایک تنظیم شری دیو ستھان سمیتی نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم کم سے کم 500 کنبوں کو راحت سامان پہنچائیں گے۔ ہر خاندان کو ایک پیکٹ دیا جائے گا جس میں 1 کلو آٹا،1 کلو چاول،1 کلو دال اور1 کلو چینی اور مسالے کا پیکٹ ہوگا۔ ہماری کوشش ہے کہ ہماری ٹیم خود جاکر متاثرہ کنبوں کو یہ سامان پہنچائے گی۔ بہت چھوٹی سی کوشش ہے لیکن کوئی تو شروع کرے۔ اور اگر سبھی بھائی ایسا کریں تو کچھ تباہ ہوئے کنبوں کی مدد ہوگی۔ آپ بھی ہمارے ساتھ ہاتھ بٹائیں۔ ویرارجن، دینک پرتاپ، ساندھیہ ویر ارجن کے اس نیک کام میں پیسہ یا سامان دینے کی کرپا کریں۔ اوم نمہ شوائے، ہرہر مہادیو۔
(انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...