Translater

19 نومبر 2016

نوٹ بندی یا جینے کی جدو جہدمیں موت

نوٹ بندی کے فیصلے سے آج سارا دیش قطار میں کھڑا ہے۔ بنیادی ضرورتوں و اپنی بھوک مٹانے کے لئے اپنے ہی پیسوں کو پانے کیلئے دوبارہ جدوجہد لوگوں کیلئے جان لیوا ثابت ہورہی ہے۔ 1000-500 کے نوٹ بند کئے جانے کے بعد جس طرح بینکوں و اے ٹی ایم کے آگے قطاریں لگ رہی ہیں اور جس طرح لوگ دشواری کا سامنا کرنے پر مجبور ہورہے ہیں اس سے تو پورے دیش میں قریب37 لوگوں کی اب تک موت ہوچکی ہے۔ اس میں زیادہ تر موتیں صدمے کی وجہ سے ہوئی ہیں۔ کئی لوگوں نے پریشانی کی وجہ سے خودکشی تک کرلی ہے۔ یہ دعوی برطانیہ کی ایک نیوز ویب سائٹ ’ہفنگن پوسٹ ‘ نے تمام میڈیا رپورٹوں کو ریکارڈ بنا کر دعوی کیا ہے کہ مہاراشٹر کے ناندیڑ ضلع میں بدھوار کو بینک کی لائن میں کھڑے 70 سال کے شخص کی موت ہوگئی۔ پولیس کے مطابق دگمبر مرمبا چھپا قصبے میں ایس بی آئی کے باہر لائن میں کھڑا یہ شخص اچانک بے ہوش ہو کر گر گیا اور ہسپتال جاتے وقت دم توڑ دیا۔ پرانی دہلی کے لال کنواں علاقے میں واقع بینک آف انڈیا کی برانچ میں پچھلے تین دنوں سے روزانہ نوٹ بدلوانے کے لئے قطار میں لگنے پر مجبور سعید الرحمان (48 سال) کی قریب 12 بجے لائن میں لگنے سے دل کا دورہ پڑا اور ہسپتال لے جاتے وقت اس کی موت ہوگئی۔ اسی طرح اترپردیش کے بریلی میں ماڈل ٹاؤن کے باشندے کلیم احمد(52 سال) ایس بی آئی کی برانچ میں روپے نکالنے کے لئے لائن میں کھڑے تھے اچانک دل کا دورہ پڑا اور ان کا انتقال ہوگیا ۔ مشرقی اترپردیش کے بلیا ضلع میں نگر پنچایت سہتوار کے وارڈ نمبر 1 کے باشندے سریش سونار (40 سال) کو اپنی بیٹی کی شادی کے سلسلے میں تلک رسم کے لئے پیسے کی سخت ضرورت تھی اس کے پاس پیسے نہ ہونے کی وجہ سے وہ پریشانی میں تھے اسی کشیدگی میں وہ منگلوارکو ایس بی آئی برانچ گئے لیکن پیسہ نہیں ملا توگھر لوٹ آئے اور درمیانی رات میں انہیں دل کا دورہ پڑا اور وہ چل بسے۔ راجدھانی کے بلیماران میں بدھ کو نوٹ بدلنے کے لئے قریب8 گھنٹے قطار میں کھڑے ایک 48 سالہ شخص کی دل کا دورہ پڑنے سے موت ہوگئی وہ تین دن سے لائن میں کھڑا ہورہا تھا لیکن اس کا نمبر نہیں آرہا تھا۔ متوفی سعید کے چچیرے بھائی سراج نے بتایا کہ صبح ساڑھے تین بجے ہی وہ بینک آف انڈیا کے باہر لائن میں لگے تھے۔ صبح قریب ساڑھے گیارہ بجے وہ غش کھا کر گر پڑے۔ اس کے بعد رشتے دار موقعہ پر پہنچے اور انہیں قریبی ہسپتال لے جایا گیا جہاں علاج کے دوران ان کی موت ہوگئی۔ سراج نے بتایا سعید کے رشتے داروں کے ساتھ لال کنواں میں رہتے ہیں۔ خاندان میں بیوی نزہت، تین بیٹیاں اور ایک بیٹا ہے۔ سعود کمپیوٹر آپریٹر ہے ۔ سعود کے گھر میں شادی کا ماحول ماتم میں بدل گیا۔ ایسے ہی مشرقی آسام کے تن سکھیا ضلع میں ایک نامعلوم بندوقچی نے چار باغان مزدوروں کے لئے نقدی لے جارہی ایک وین پر فائرننگ کردی جس سے وین میں سوار شخص ابھیجیت پال کی موت ہوگئی،دیگر دو زخمی ہوگئے۔ ہفنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق زیادہ تر لوگوں کی موت کئی گھنٹوں تک لمبی قطاروں میں لگنے کے دوران ہوئی۔ بڑے نوٹوں کی کمی سے پیدا مسئلے ہیں جنتا کو گھنٹوں لائن میں کھڑا ہونے پر مجبور کیا ہے۔ عام لوگ پانچ سے چھ گھنٹے یا اس سے بھی زیادہ وقت تک لائن میں لگے رہے جس سے ان کی نسوں میں کھنچاؤ کی پریشانی ہوسکتی ہے۔ اس سے گھٹنوں اور کمر پر بھی برا اثر پڑتا ہے۔ اندرپرست اپولو ہسپتال کے بون امراض کے ماہر ڈاکٹر راجیو ویشو نے بتایا کہ لمبے وقت تک کھڑا ہونے سے گھٹنے کے علاوہ ٹخنے،کولہے، کمر اور پیر کی ہڈی پر اثر پڑتا ہے اس سے سنویل جوڑوں میں لوبیکیٹنگ اور ٹشو کو نقصان پہنچتا ہے۔ 8 منٹ سے زیادہ وقت تک کھڑے رہنے سے تمام نسوں پر دباؤ پڑتا ہے اور پیر کی نسوں میں سوجن بھی آجاتی ہے۔ کئی موت خودکشی کرنے سے ہوئی ہیں۔ ہسپتالوں نے علاج کرنے سے منع کردیا ہے، پرائیویٹ ہسپتالوں اور میڈیکل اسٹور پر 500-1000 روپے کے پرانے نوٹوں کے چلن کے اشو پر دیش میں گمراہی اور تنازعے کے حالات بنے ہوئے ہیں۔ دراصل یہ حالات اس لئے بنے کیونکہ ایتوار کی رات وزارت مالیات نے سرکولر جاری کرکے کہا تھا سبھی اہم جگہوں یعنی سرکاری ہسپتالوں، پرائیویٹ میڈیکل اسٹور پر پرانے نوٹ 24 نومبر تک لئے جائیں گے۔ وزارت کے افسر ے جب سرکاری اور پرائیویٹ ہسپتالوں کے بارے میں پوزیشن واضح کرنے کو کہا تو ان کا جواب تھا کہ وزارت نے سرکولر کے کلاز 25 آئی میں نجی میڈیکل اسٹور کو لکھا لیکن ہسپتال نہیں لکھا اس وجہ سے اندور ، جے پور، اورنگ آباد، ناسک وغیرہ سمیت کئی جگہوں پر ہسپتال والوں نے پرانے نوٹ لینے سے انکار کردیا۔راجدھانی میں بھی بڑے پرائیویٹ ہسپتال پرانے نوٹ لینے سے انکار کررہے ہیں۔ کوئی جان لیوا بیماریوں میں مبتلا کینسر مریض، شوگر مریض دیگر بیماریوں سے پریشان ہیں ، کچھ کا ریگولر ڈائلیسس ہوتا ہے ، وہ کہاں جائیں۔ منگلوار کو اقتصادی معاملات کے سکریٹری شکتی کان داس نے پریس کانفرنس میں اس بابت پوچھے گئے سوال پر کہا کونسا ہسپتال پرانے نوٹ نہیں لے رہا ہے مجھے اس کا نام بتاؤ؟ یہ کہہ کر سوال ٹال دیا۔ جب ہیلتھ سکریٹری مشرا سے بات کی گئی تو انہوں نے بتایا یہ ہمیں بھی واضح نہیں ہے کہ معاملہ وزارت مالیات دیکھ رہا ہے اور وہی ہدایت دے گا تو ہم لاگو کریں گے۔ دوسری طرف انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن نے کہا کہ ہم نے وزیر اعظم اور وزیر خزانہ کے سامنے تجویز رکھی ہے اس میں کہا گیا ہے کہ پرائیویٹ ہسپتالوں کو بھی پرانے نوٹ چلانے والی خاص جگہوں میں شمار کیا جائے۔ یہ اس لئے بھی ضروری ہے کہ پرائیویٹ ہسپتالوں میں بڑی تعداد میں عام آدمی علاج کے لئے آتے ہیں۔ ایمرجنسی میں کوئی نزدیکی ہسپتال میں ہی جائے گا یا سرکاری ہسپتال ڈھونڈے گا؟ ایسے میں حالات ٹھیک ہونے تک پرائیویٹ ہسپتالوں میں پرانے نوٹوں آتھورائسٹ کئے جائیں۔ ایک تجویز یہ بھی آئی ہے کہ ایمرجنسی مریضوں سے اس شرط پر پرانے نوٹ لے لیں کہ اگلے دو تین دن میں وہ نئے نوٹ دے کر بدل لیں۔ سرکار پرانے وٹ تسلیم نہیں کرتی ہے تو ہسپتالوں میں بدلنے کا انتظام کردے۔ قارئین کو یاد ہوگا کہ میں نے اسی کالم میں کسانوں اور شادی والے گھروں کی پریشانی کو اٹھایا تھا۔ مجھے خوشی ہے کہ وزیر اعظم نے ان دونوں زمروں میں راحت کا اعلان کیا ہے۔ ربیع اور شادیوں کے موسم کے بیچ ہزار پانچ سو کے پرانے نوٹ بند ہوے کی دقتوں کو دیکھتے ہوئے سرکار نے نقدی نکالنے کی حد بڑھا دی ہے۔ سرکار نے کسانوں اور چھوٹے تاجروں کے لئے ہفتے میں 50000 روپے تک بینک کھاتوں سے نقدی نکالنے اور شادی والے گھروں کے لئے ایک کھاتے سے2.5 لاکھ روپے تک نقدی نکالنے کی منظوری دے دی ہے۔ اسی سلسلے میں ہم امید کرتے ہیں کہ پرائیویٹ ہسپتالوں و کیمسٹوں سے بھی کہا جائے کہ حالات بہتر ہونے تک وہ پرانے نوٹ چلائیں۔
(انل نریندر)

18 نومبر 2016

ایل او سی پر جنگ تو پاکستان تھوپ رہا ہے

ایسا بہت کم ہوا ہے جب جموں و کشمیر میں پاکستان نے خود یہ تسلیم کیا ہو کہ اس کے ہندوستانی فائرننگ میں فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔ کئی برسوں کے بعد پاکستان نے اعتراف کیا ہے کہ جموں و کشمیر میں کنٹرول لائن پر ایتوار کی رات ہندوستانی فوج کی فائرننگ میں اس کے 7 فوجی مارے گئے۔ حقیقت میں جنگ بندی توڑے کی کوشش پاکستان صرف ہندوستانی فریق کو نقصان ہونے کا دعوی کرتا رہا ہے۔ پاکستان کی طرف سے ایل او سی پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا کرارا جواب دیتے ہوئے ہندوستانی فوج نے جوابی کارروائی میں 7 پاک فوجیوں کو مار گرایا ہے۔ پاکستان نے بھی اس کی تصدیق کی ہے۔ پاکستان کی طرف سے گزشتہ ایک ہفتے سے دہشت گردوں کو ہندوستانی علاقے میں دراندازی کرانے کے لئے مسلسل جنگ بندی کی خلاف ورزی کی جارہی ہے۔ ایتوار کی رات بھی پاکستان کی طرف سے دراندازی کرانے کیلئے سمبر میں ہندوستانی چوکیوں پر گولہ باری کی گئی حالانکہ ہندوستانی فوج کے چوکس جوانوں نے ناپاک منصوبوں کو ناکام کردیا ہے۔ اس دوران جوابی کارروائی میں 7 فوجی مارے گئے۔ اپنے جوانوں کے مارے جانے سے بوکھلائے پاکستان نے ہندوستانی ہائی کمشنر گوتم کو طلب کر بھارت پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام لگایا۔ پاکستان نے یہ بھی اعتراف کیا ہے کہ ہندوستانی گولہ باری میں پچھلے2 مہینوں میں اس کے 26 شہری بھی مارے گئے ہیں۔ کئی برسوں کے بعد پاکستان نے اپنے 7 فوجیوں کے مارے جانے کے بارے میں قبول کیا ہے۔ عام طور پر وہ ایسی باتیں چھپاتا رہا ہے یہاں تک کہ پاکستان ہندوستانی فوج کے ذریعے کی گئی سرجیکل اسٹرائک کو بھی غلط قرار دے رہا تھا جبکہ امریکہ نے اعتراف کیا کہ بھارت کی جانب سے سرجیکل اسٹرائک ہواتھا۔ بوکھلائے پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف کہتے ہیں کہ پاکستان کسی بھی طرح کے حملے یا اکساوے کا جواب دینے میں اہل ہے۔ پاک فوج کے چیف راحیل شریف بھی منہ توڑ جواب دینے کی دھمکی دے رہے ہیں۔ پاک یہ کیوں بھول رہا ہے کہ جو کچھ اس نے بویا ہے اسی کا پھل اسے مل رہا ہے۔ بھارت نے کبھی اپنی طرف سے جنگ بندی کی خلاف ورزی نہیں کی ہے لیکن اگر پاکستان کی طرف سے گولہ باری ہوئی تو اس کا جواب دینا ضروری ہوگا۔ جس ڈھنگ سے سرجیکل اسٹرائک کے بعد پاکستان نے لگاتار فائرنگ کی ہے اس سے کئی سرحدی گاؤں کو خالی کرنا پڑا ہے۔ وہاں کی جنتا ہجرت کرنے پر مجبور ہے۔ پاکستانی ہائی کمشنر کہتے ہیں کہ جنگ مسئلے کا حل نہیں ہے۔ اس اپدیش کی ضرورت پاکستان کو زیادہ ہے کہ جنگ کون چاہتا ہے؟ لیکن پاکستان نے خود بھارت پر ایک غیر اعلانیہ جنگ چھیڑ رکھی ہے۔سچ تو یہ ہے کہ پاکستانی مقبوضہ کشمیر میں سرجیکل اسٹرائک کے بعد پاکستان نے 289 بار جنگ بندی توڑی ہے۔ جنگ تو وہ خود تھوپ رہا ہے۔
(انل نریندر)

بہار میں ایک اور قلم کا سپاہی شہید

ایک اور قلم کا سپاہی اپنا فرض نبھاتے ہوئے بہار میں شہید ہوگیا۔ بائیک سوار بدمعاشوں نے روز نامہ اخبار ’دینک بھاسکر‘ کے پترکار دھرمیندر کمار سنگھ35 سال کو گولی سے چھلنی کر قتل کردیا۔ واردات بہار کے روہتاش ضلع کے مفصل تھانہ کے تحت عمرا تالاب کے پاس ہوئی۔ خون سے لت پت دھرمیندر کو مقامی لوگ علاج کے لئے ہسپتال لے گئے۔ ڈاکٹروں نے نازک حالت کو دیکھتے ہوئے اس کو وارانسی ریفر کردیا۔ رشتے دار علاج کے لئے وارانسی لے جا رہے تھے کہ شیو ساگر کے پاس راستے میں انہوں نے دم توڑدیا۔ بتایا جاتا ہے کہ دھرمیندر نے ان جرائم پیشہ کے نام بھی اپنے رشتے داروں کو بتائے تھے جنہوں نے اس واردات کو انجام دیا ہے۔ دھرمیندر کے دو بیٹے اور ایک بیٹی ہے۔ ساسارام میں پتر کار دھرمیندر سنگھ کے قتل کے معاملے میں بہار ورکنگ جرنلسٹ یونین کے جنرل سکریٹری پریم کمار کی قیادت میں صحافیوں کے ایک نمائندہ وفد نے پٹنہ کے زونل آئی جی نیر حسین خاں سے ملاقات کر ان کو میمورنڈم سونپا اور قاتلوں کی گرفتاری کی مانگ کی۔ پتر کار دھرمیندر سنگھ کے قتل کے بعد ان کے رشتے داروں سے ملنے پہنچے ڈی آئی جی اے ۔ رحمان نے کہا کہ اس قتل سے صحافی دنیا کے علاوہ پولیس کی کئی چنوتیاں بھی بڑھی ہیں۔بدمعاش دھرمیندر سے خوف کھاتے تھے۔ اس کے قتل کے بعد ان کے رشتے داروں سے ملنے آبائی گاؤں عمراپہنچے مرکزی وزیر خوراک رام ولاس پاسوان نے کہا کہ اس قتل کانڈ پر وہ وزیراعظم مودی سے بات کریں گے کیونکہ بہار کے حالات مسلسل بگڑتے جارہے ہیں۔ دھرمیندر سنگھ کے قتل کے معاملے میں پولیس نے دو لوگوں کو گرفتار کیا ہے۔ پولیس کے ڈائریکٹر جنرل آفس کے ذریعے جاری ایک بیان کے مطابق قتل کے معاملے کی جانچ کیلئے تشکیل ایس آئی ٹی نے چھاپے ماری کر دو لوگوں کو گرفتار کیا۔ پٹنہ زون کے انسپکٹر جنرل این ایچ خان نے پی ٹی آئی، و بھاشا کو بتایا کہ گرفتار کئے گئے لوگوں کی پہچان رادھیکا رمن رائے اور ملک سنگھ کے طور پر ہوئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ دونوں کو روہتاس ضلع میں دو الگ الگ مقامات سے گرفتار کیا گیا ہے۔ بیان کے مطابق رائے روہتاس ضلع کا رہنے والا ہے منیش روہتاس ضلع میں تین درجن معاملوں میں پولیس کے ذریعے مطلوب ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ گرفتار لوگوں سے ملی اطلاع کی بنیاد پر پولیس نے جرائم میں استعمال کی گئی ایک موٹر سائیکل ضبط کی ہے۔ پولیس دونوں سے پوچھ تاچھ کررہی ہے اور دوسرے فرار بدمعاشوں کو پکڑنے کیلئے چھاپہ ماری کررہی ہے۔ انتہائی تکلیف اور تشویش کی بات یہ ہے کہ نتیش کمار کی چھتر چھایا میں ایک سال میں بہار کے مختلف ضلعوں میں قریب ایک درجن صحافیوں پر جان لیوا حملے کے واقعات ہوچکے ہیں۔ کیا یہ جنگل راج نہیں ہے؟
(انل نریندر)

17 نومبر 2016

اگر کسان فوراً بیج، ڈیزل، کیڑے مار دوائیں نہ خرید سکا تو

شہروں میں تو 500 اور ہزار روپے کے نوٹ بند ہونے سے ہم بینکوں میں لمبی لمبی قطاروں کو دیکھ کر پریشان ہورہے ہیں لیکن ہمارے دیہات میں ہمارے کسانوں کا کتنا برا حال ہورہا ہے اس پر حکومت پر بلا تاخیر توجہ دینی چاہئے کہیں ایسا نہ ہو کہ مستقبل قریب میں دیش میں کھانے کے لالے پڑجائے اور ہنگامی حالات پیدا ہوجائے 500 اور 1000 ہزار کے نوٹ بند ہونے سے کسانوں اور ان کی کھیتی پر دور درس اثر پڑسکتا ہے۔خریف کے سیزن کی پیداوار کی فروخت اور ربیع کی فصلوں کی بوائی متاثر ہونے کا اندیشہ ہے نقدی کے بحران میں اگر بہتری جلد نہ ہوئی تو کسانوں کی مصیبت بڑ سکتی ہیں۔ ایک تو دیہی علاقوں میں اب بھی بینکوں کی کمی ہے دوسرے زیادہ تر کسان بینکوں میں پیسہ نہیں رکھتے اور نہ ہی کریڈیٹ کارڈ کااستعمال کرنے میں یقین رکھتے ہیں ان سب کے اوپر دیہی علاقوں میں نئے نوٹوں کی کم سپلائی زرعی سرگرمیوں کو متاثر کرسکتی ہیں۔ کسان کو ربیع کی فصل کی بوائی کرنی ہے اسے کھاد، بیج اور بجلی و پانی وغیرہ ضروری سامان کی ضرورت ہے اس کے پاس نئے نوٹ نہیں ہے اورپرانے نوٹ لینے کو تیار نہیں ہے وہ کہاں سے بیج خریدے گا؟ اگر ربیع کی فصل نہ بوائی کی گئی تو وہ کھائیں گا کیا ؟آگے چل کر دھان کی کھیتی ہونی ہے اور وہ بھی متاثر ہونی ہے اس کاخمیازہ پورے دیش کو بھگتنا پڑسکتا ہے۔ دیہی علاقوں کے بینک کئی کئی کلومیٹر کی دوری پر ہے کیا کسان اپنی کٹی فصل کی آئی رقم کو میلوں دور واقع بینکوں میں جمع کرانے کاخطرہ مول لے سکتا ہے؟ دیہی علاقوں کے بینکوں میں نقدی نوٹوں کی سپلائی بہت کم ہورہی ہے۔ پچھلے ایک ہفتے سے بینکوں کے اے ٹی ایم خالی پڑے ہیں جب کہ بینکوں میں اپنے پرانے نوٹوں کو نئے نوٹوں میں بدلنے کے لئے لمبی لمبی قطاریں لگی ہوئی ہیں۔ پرتاپ گڑھ کے ایک کسان کا کہناہے کہ وہ شادی و دیگر مواقعوں پر خرچ ہونے والی دقت کھڑی ہوگئی ہیں۔ باقی کھیتی کے لئے کھاد، بیج اور کیڑے ماردواؤں کی سپلائی کو آپریٹو سوسائٹیوں سے ہورہی ہیں۔ یا دکان دار ادھار دینے پر کتنے دن دے گا؟ مؤ کے ایک کسان کے بتایا کہ دھان کی خرید کرنے والے تاجر اپنی منمانی کررہے ہیں اور نقدی نہ ہونے سے ادائیگی کے لئے دو سے تین ہفتے کا وقت مانگ رہے ہیں۔ سبزی منڈیوں میں کسان کی پیداوار کی مانگ کم ہونے سے مناسب قیمت نہیں مل رہی ہیں۔ پیداوار کی فروختگی کے بعد نقدی کی ادائیگی کا سنکٹ بھاری پڑرہا ہے اس وقت کسان کو نقدی کی سخت ضرورت ہے اس سے کسان ڈیزل و کھاد ، بیج اور دوا اورمزدوں کی ادائیگی کرسکے؟ ہمیں سمجھ نہیں آرہا ہے کہ سرکار دیہی علاقوں میں کسانوں کی مشکلات کا کیا حل نکال رہی ہیں؟ کسانوں کااکیلا مسئلہ نہیں ہے اس سے پورے دیش کا غذائیت کا مستقبل جڑا ہوا ہے۔ 
(انل نریندر)

کیا نوٹ بندی سے دیش میں بلیک منی ختم ہوگی

مرکزی سرکار کا 500 اور ہزار روپے کے پرانے نوٹوں کو بند کرنے کابیشک نیک ارادہ رہا ہو لیکن دیش میں بلیک منی یعنی کالی کمائی کا استعمال بند ہو لیکن ہمیں اس میں شبہ ہونے لگا ہے؟ کیا اس سے بلیک منی ختم ہوجائے گی؟ آج جو لوگ بینکوں، اے ٹی ایم، ڈاکخانوں کے باہر لمبائی قطاریں لگائے کھڑے ہیں ان کی جمع پونجی کالی کمائی نہیں ہے جو آپ نکلوانا چاہتے تھے؟ ہر خاندان کے اپنی کمائی سے بیماری و دیگر اخراجات کے لئے کچھ پیسہ جمع کرکے رکھا ہوا تھا؟ یہ کالی کمائی نہیں ہے آپ نے ان کی تو زندگی بھر کی کمائی باہر نکلوالی لیکن اصل قصور وار آج بھی مست ہے۔ بینکوں میں پیسہ کی کمی ہے۔ بینک خالی ہے۔ آپ نے بینکوں میں پیسہ مہیا کرانے کے بھی یہ قدم اٹھایا ہے۔ جو کرنسی گھروں میں تھی وہ اب بینکوں میں جمع ہورہی ہیں۔بینکوں نے اپنا سارا پیسہ ان دھنا سیٹھوں کو لٹا دیا ہے۔ لین دین چکانے والوں پر بینک کتنا سخت ہوجائے لیکن بڑے قرضداروں پر وہ وصولی کے لئے کچھ بھی نہیں کررہا ہے اور آج مرکزی سرکار نے سرکاری بینکوں کو بڑے قرضداروں کے تئیں نرمی برتنے کا فرمان جاری کردیا ہے۔ بینکوں سے کہا ہے کہ ان کی پہچان کریں اور اگر انہیں ری پیمنٹ میں دقت آتی ہے تو انہیں سہولتیں دیں۔ وزارت خزانہ کے ایک افسر نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ اس قدم کا مقصد کریڈیٹ کروتھ اور سرمایہ کاری کو رفتار دینا ہے اب آپ بڑے قرض داروں کی فہرست پر نظر ڈالیں ۔ ریلائنس گروپ 1.25 لاکھ کروڑ ، ویدانتا گروپ 1.30 لاکھ کروڑ ، ایسار گروپ 1.01 لاکھ کروڑ ،اڈانی گروپ 9.6031 کروڑ ۔ جے پی گروپ75163 کروڑ۔ جندل اسٹیل 58171 کروڑ۔ جی ایم آر گروپ 47976 کروڑ۔ لوکو گروپ 47102 کروڑ روپے ۔ ویڈیو کون گروپ 45045 کروڑ ۔ اور جے وی کے گروپ۔34ہزار کروڑ روپے۔ اگر بینکوں کے این پی اے کی بات کریں تو بینک آف بڑودہ نمبر 1پر ہیں۔یعنی 5640 کروڑ روپے واجب ہے۔ بینک آف انڈیا 1034 کروڑ۔ کیندرا بینک 22604 کروڑ، اسٹیٹ بینک 442267 کروڑ اور یونین بینک 6975کروڑ روپے ہے یہ اعداد وشمار بینک کی سالانہ رپورٹ کے ہے پھر بھی آپ نے دو ہزار روپے کا نیا نوٹ نکال دیا۔ 500 اور 1000 کے نوٹ بند کردیئے اور 2000 ہزار کانیا نوٹ جاری کر حکومت نے کالے دھن کیخلاف لڑائی شروع کی ہے یا کالی کمائی جمع کرنے والوں کو سہولت دی ؟ ایک کانگریسی نیتا نے سوال کیا ہے کہ 70ہزار کروڑ روپے کے فرضی نوٹ ختم کرنے کے لئے 16ہزار کروڑ روپے خرچ کرکے نئے نوٹ چھاپنے سے آخر سرکار کیا ملا؟ ریزرو بینک کے سابق گورنر سی رنگا راجن کے مطابق نوٹ بندی کافیصلہ کالی کمائی کے چلن کو کم کرنے کی سمت میں ٹھوس قدم ثابت نہیں ہوگا حالانکہ اس کا بہتر نتیجہ جب ہی نکلے گا جب سرکار کالے دھن کے دیگر ذرائع کو بند کرنے کے لئے لگاتار ایک کے بعد ایک قدم اٹھائے گی۔ بھاجپا ایم پی سبرامنیم سوامی کا خیال ہے اس سے کالی کمائی کے چلن میں کوئی خاص کمی نہیں آئے گی مگر اس فیصلے سے حوالہ ریکیٹ ٹوٹا ہے اس کاسب سے زیادہ اثر دہشت گردی پر پڑا ہے۔ اقتصادی ماہرین و تھینک ٹینک گووند آچاریہ سرکار کے نوٹ بندی کے فیصلے سے متفق نہیں ہے لیکن وہ کہتے ہیں خود سرکار کاخیال ہے کہ کرنسی کی شکل میں دیش میں سب سے کم کالی کمائی ہے اور کالی کمائی خاص طور سے سونا اور بے نامی جائیداد کی شکل میں ہے ایسے میں سرکار کو ان وسائل کے خلاف قدم اٹھاناچاہئے تھا اگر ایسا ہوا ہوتا تو عام لوگوں کو اتنی زیادہ پریشانی کا سامنا نہیں کرناپڑتا۔
(انل نریندر)

15 نومبر 2016

بڑے بے آبرو ہوکر تیرے کوچے سے ہم نکلے

جسٹس ماکنڈے کاٹجو اپنے متنازعہ بیانات کیلئے مشہور ہیں۔ دراصل عدالت میں رہتے ہوئے اور بعد میں پریس کونسل آف انڈیا کے چیئرمین کے طور پر انہوں نے کسی کونہیں بخشا۔ بیباکی کے ساتھ اپنی رائے دی اور لفظوں کے استعمال میں کوئی کنجوسی ہیں کی۔ سیاستداں بھی تو ان سے بچ نہیں پائے لیکن سومیا قتل کانڈ میں سپریم کورٹ کے ججوں کے فیصلے پر سوال اٹھانے والے جسٹس کاٹجو اب کٹہرے میں کھڑے ہیں۔ سپریم کورٹ نے ان کے ریمارکس پر انہیں طلب کیا تھا۔ جمعہ کو وہ سپریم کورٹ میں اپنا بیان درج کرانے پہنچے۔ یہ پہلا موقعہ تھا جب سپریم کورٹ کا کوئی سابق جج اپنا موقف رکھنے عدالت عظمیٰ پہنچا۔ کاٹجو کورٹ روم میں پہنچے جہاں تین ججوں کی بنچ نے تھینک کہہ کران کا خیر مقدم کیا لیکن 10 منٹ کے اندر ہی صورتحال بگڑ گئی اور اتنی بے قابو ہوگئی کہ بنچ نے سکیورٹی بلا کر کاٹجو کو بے عزت کر کورٹ روم سے باہر نکلنے کی ہدایت دے دی۔ ناراض کاٹجو بولے میں ڈرتا نہیں ہوں، باہر نہیں جاؤں گا۔ حالانکہ جب سکیورٹی گارڈ کاٹجو کے پاس پہنچے تو ججوں نے انہیں واپس کردیا۔ سابق جج کاٹجو دوپہر 2 بجے جسٹس رنجن گگوئی کی سربراہی والی تین ججوں کی بنچ کے سامنے پیش ہوئے تھے۔ جسٹس گگوئی نے کاٹجو سے کہا کہ آپ کورٹ کی مدد کررہے ہیں شکریہ۔ اب آپ اپنے بلاگ کے تبصرے کے بارے میں موقف رکھیں۔ کاٹجو نے جواب دیتے ہوئے کہا یہ قتل کا معاملہ تھا، پھر انہوں نے کئی بڑے فیصلوں کی مثال پیش کی۔ اس پر جسٹس رنجن گگوئی نے انہیں ٹوکا۔ کہا کہ مسٹر کاٹجو اگر آپ اپنے بلاگ کے تبصرے کے مطابق ہی دلیلیں دیں تو صحیح ہوگا۔ اگر آپ اس سے ہٹتے ہیں توہم بھی اپنا دائرہ بڑھا کر آپ کے بلاگ کے دیگر تبصروں پر نوٹس لیتے ہوئے سماعت شروع کردیں گے۔ اس پر کاٹجو نے کئی اور دلیلیں دیں لیکن عدالت نے قتل کانڈ کی نظرثانی عرضی خارج کردی۔ جسٹس گگوئی نے کہا کہ اب کورٹ کاٹجو کے تبصرے کے بارے میں اٹارنی جنرل کا موقف جاننا چاہتی ہے؟ اٹارنی جنرل نے تبصرے کو عدالتی فیصلے کی بے عزتی جیسا بتایا۔ اس پر کاٹجو نے یہ کہا کہ یہ میرا بلاگ ہے۔ قانون ہمیں کسی بھی مسئلے پر اپنی رائے دینے کا حق دیتا ہے۔ تب جسٹس گگوئی نے کہا کہ ہم اٹارنی جنرل کی باتوں سے متفق ہیں۔ مسٹر کاٹجو آپ بتائیں کہ آپ پر عدالت کی توہین کا معاملہ کیوں نہ چلایا جائے؟ تبھی اٹارنی جنرل نے کہا میرا نظریہ بدل گیا ہے، اب میرا کہنا ہے اسے جذبات میں بہہ کر کئے گئے تبصرہ ماننا جاسکتا ہے۔ اسے توہین نہ مانا جائے لیکن بنچ نے کاٹجو کے ساتھ توہین کا نوٹس جاری کرنے کا حکم دے دیا۔ کورٹ کا فیصلہ سن کر کاٹجو بھڑک گئے۔ بولے مسٹر گگوئی آپ میرے جونیئر ہیں ایسا برتاؤ آپ کو زیب نہیں دیتا۔ میں عدالت کے بلانے پر یہاں آیا ہوں۔ آپ کا برتاؤ غلط ہے۔ اس کے بعد جسٹس گگوئی سماعت ملتوی کر وہاں سے چلے گئے۔ کاٹجو نے ایک ٹوئٹ میں لکھا۔ جیسے ہی سماعت آگے بڑھی مجھے سمجھ میں آگیا کہ یہ گگوئی کے ذریعے طے کیا گیا پہلے سے تیار کردہ ڈرامہ تھا۔ وہاں سومیا معاملہ کی سماعت کو لیکر سنجیدہ پہل نہیں تھی۔ بتادیں کہ 23 فروری 2011ء کو کیرل کے ایک شخص گوندایامی نے سومیا کو ٹرین سے نیچے پھینک دیا تھا پھر اس سے بدفعلی کی۔ علاج کے دوران سومیا کی موت ہوگئی۔ سپریم کورٹ نے گوندایامی کو عمر قید کی سزا سنائی۔ اس فیصلے کے کچھ دن بعد کاٹجو نے بلاگ میں لکھا ملزم کو موت کی سزا ہونی چاہئے تھی۔ اس فیصلے پر کھلی عدالت میں جائزہ لیا جانا تھا ۔
(انل نریندر)

پیسے کی خاطر جان خطرے میں ڈالنے والے ہتھکنڈے

آج کل پیسہ مائی باپ بن گیا ہے۔ پیسہ کمانے کے لئے کچھ لوگ کچھ بھی کر سکتے ہیں۔ یہاں تک کہ اپنی جان کو بھی داؤ پر لگا کر بڑے سے بڑا خطرہ مول لینے کو تیار ہیں۔ تازہ مثال دہلی کے اندرا گاندھی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ڈرگ اسمگلنگ کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ ہوائی اڈے پر تعینات پولیس نے ایک ایسے افغان شہری کو پکڑا جو ہیروئن کے کیپسول اپنے پیٹ میں چھپا کر افغانستان لے جانے کے فراق میں تھا۔ ہوائی اڈے پر معمور پولیس ڈپٹی کمشنر سنجے بھاٹیا کے مطابق 3 نومبر کو دو افغان شہری افغانستان جانے والے تھے۔ اسی دوران ان میں سے ایک افغانی شہری 43 سالہ غلام ربانی کی اچانک طبیعت بگڑ گئی۔ غلام نے ایئر لائنس حکام سے پیٹ میں درد کی شکایت کی۔ ایئر لائنس ملازم نے فوراً پولیس اور دوسری ایجنسیوں کو اس کی خبر دی۔ پولیس کو افغانی شہری کی حالت دیکھ کر اس پر شبہ ہوا اور اسے کیٹس ایمبولنس میں ایمس میں بھرتی کرایا گیا۔ ڈاکٹروں نے جب غلام کا علاج شروع کیا تو پولیس حکام حیران رہ گئے۔ جانچ میں پتہ چلا کہ اس نے اپنے پیٹ میں ایک بڑی پولیتھین کا پیکٹ چھپایا ہوا تھا۔ فوراً غلام کا آپریشن کیا گیا اور ڈاکٹروں نے 525 گرام کا ایک پیکٹ نکالا جس کے اندر ہیروئن کے57 بڑے کیپسول تھے۔ برآمد ہیروئن کی مالیت قریب 2 کروڑ روپے بتائی جاتی ہے۔ ملزم شہری کے ساتھ افغانستان جا رہا دوسرا شہری فرار ہوگیا۔ جس کی پولیس تلاش کررہی ہے۔ جانچ میں پتہ چلا غلام میڈیکل ویزا پر اکتوبر میں دہلی آیا تھا لیکن اس نے علاج کے لئے کسی بھی ہسپتال سے رابطہ نہیں کیا تھا۔ پولیس کے مطابق غلام ربانی کے ساتھ دوسرا شخص فلائٹ سے اترنے کے بعد غائب ہوگیا۔ اس کے افغانستان کے پتے کے بارے میں پولیس کو جانکاری مل گئی ہے لیکن دونوں دہلی میں کہاں ٹھہرے تھے اور کن لوگوں کے رابطے میں تھے پولیس اس کی جانچ کررہی ہے۔ غلام ربانی سے پہلے بھی پیٹ میں ہیروئن کی اسمگلنگ کرنے والے افغانی شہری عبدالملک زادہ کو گرفتار کیا گیا تھا۔اسے لاجپت نگر تھانہ پولیس نے سال 2015ء اکتوبر میں پکڑا تھا۔ عبداللہ کابل سے ہیروئن کی کھیپ لیکر ہندوستان آیا تھا۔ اس نے پوچھ تاچھ میں بتایا کہ اس نے منہ کے راستے سے نگلا تھا ۔ اس کے لئے اسے 400 ڈالر دینے کی بات کہی گئی تھی۔ اس کے پیٹ سے پولیس کو 35 کیپسول ملے تھے جس میں 240 گرام ہیروئن تھی۔ پیٹ میں کیپسول پھٹنے سے عبداللہ کی طبیعت خراب ہوگئی تھی اور اسے آئی بی ایس ہسپتال میں بھرتی کرایا گیا تھا۔ پیسے کا لالچ آدمی کو کس کس طرح کے ہتھکنڈے اپنانے پر مجبور کرتا ہے۔ چاہے ایسا کرتے ہوئے اس کی جان ہی کیوں نہ چلی جائے۔
(انل نریندر)

13 نومبر 2016

500 اور 1000 روپے کی سرجیکل اسٹرائک

آج ساری دنیا اور دیش کے اندر وزیر اعظم کی اقتصادی سرجیکل اسٹرائک کو ان کا ماسٹر اسٹروک کہا جارہا ہے۔ اس بات کی تو داد دینی پڑے گی کہ وزیر اعظم نے اس سرجیکل اسٹرائک کے ٹائم کو اتنا راز میں رکھا کہ پبلک کوتو چھوڑیئے ان کے اپنے وزرا تک کو اس کی کانوں کان خبر نہیں ہوسکی۔ کالی کمائی کے خلاف سخت قدم اٹھائے تو کرنسی نوٹ پر پابندی کا فیصلہ پوری طرح خفیہ تھا۔ مرکزی وزراتک کو اس کی جانکاری آخری وقت میں دے گئی لیکن عام جنتا کو ہدایت تو لمبی عرصے سے دی جارہی تھی۔ خود وزیر اعظم نریندر مودی نے پانچ مہینے پہلے واضح وارننگ دی تھی کہ خود کالی کمائی اعلان نہیں کرنے والے بعدمیں شکایت نہ کریں اور نہ ہی پیروی اس کے بعد بھی دو تین موقعوں پر انہوں نے صاف اشارہ دیا تھا کہ وہ کالی کمائی کو لیکر بڑی کارروائی کرنے والے ہیں۔ آخری بار تو 15 روز پہلے انہوں نے کالی کمائی کے خلاف سرجیکل اسٹرائک کی بات بھی کہی تھی۔ اس پورے معاملے میں ریزروبینک اور سرکار کی سطح پر 6 مہینے سے تیاری چل رہی تھی، لیکن اعلی سطح پر گنے چنے لوگوں کے علاوہ کسی کو کانوں کان خبر نہیں لگی۔ مرکزی وزراء کو بھی پبلک اعلان سے آدھے گھنٹے پہلے ہی اس کی جانکاری ملی۔ بتاتے ہیں کہ مرکزی کیبنٹ کے ایجنڈے میں اس کی جانکاری نہیں تھی۔ ہاں وزرا ء کو ضرور بتایا گیا تھا کہ اپنے موبائل لیکر میٹنگ میں نہ آئیں اور بند کمرے میں وزیر اعظم نے یہ جانکاری دی کہ 500 اور 1000 کے کرنسی نوٹ بند کئے جارہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ وزراء نے دیش کے نام وزیر اعظم کا ایڈریس میں بھی وہی دیکھا۔ 500 اور 1000 کے نوٹ بند ہونے کے بعد پہلے دن سے ہی بینکوں ،اے ٹی ایم، دوکانداروں، بس اسٹیشن، ریلوے اسٹیشن پر ہی لوگوں کی جو لائنیں لگیں وہ اب تک جاری ہیں۔ لوگوں نے جہاں عام طور پر وزیر اعظم کے اس قدم کا خیر مقدم کیا وہیں اب بہت سے لوگ پریشانی کی وجہ سے گالیاں دینے پر اتر آئے ہیں۔ شروع شروع میں تو ہندوستان کی تاریخ میں پہلی بار زیادہ پیسے والوں سے کم پیسے والے خوش نظر آئے۔ آزاد بھارت میں پہلی بار غریب ہنس رہا تھا اور امیر رو رہا تھا۔ایک9/11 میں امریکہ ہلا تھا دوسرے 9/11 بھارت ہل گیا۔ فیس بک ، ٹوئٹر پر جہاں دن بھر مودی فائٹ کرپشن ، سے 500 اور 1000 روپے ہٹیں گے، ہیش ٹیک سے وزیر اعظم سے متعلق ٹوئٹ پڑھے جاتے رہے۔وہیں واٹس اپ پر مانوں چٹکلوں کی برسات سی ہونے لگی ۔ لوگوں نے اسے کالے دھن کا سرجیکل اسٹرائک قراردیا لیکن دکھ سے کہنا پڑتا ہے شاید حکومت نے اس سرجیکل اسٹرائک سے پہلے اپنا ہوم ورک ٹھیک سے نہیں کیا۔ نہ تو بینکوں میں درکار تعداد میں نوٹ تھے اور نہ ہی جلد عوام کو راحت ملنے کی امید ہے۔پچھلے کئی مہینوں سے بینک سے اگر عام مثال کے طور پر 5 ہزار روپے نکالنا گئے تو بینکوں نے 500 روپے کے نوٹ یا ہزار کے نوٹ تھما دئے۔ اگر 100 کے نوٹ چار پانچ مہینے پہلے سے جاری ہوجاتے تو آج اتنی دقت نہ ہوتی۔ آج بھی بینک میں گھنٹوں لائن میں کھڑے ہونے کے بعد2 ہزار روپے کے نوٹ دئے جارہے ہیں۔سوال یہ ہے کہ جس آدمی کو اپنے بچوں کے لئے دودھ لینا ہے یا راشن لینا ہے وہ 2 ہزار کے نوٹ کاکیا کرے گا؟ کھلے پیسے دو تو دودھ ملے گا۔ کچھ ایسا نظارہ زیادہ تر علاقوں میں بدھ ، جمعہ اور صبح نظر آیا۔ ڈیری کا دوھ بیچنے والوں نے گرہستنوں کے ہاتھ میں 500 یا 1000 کا نوٹ دیکھتے ہی دودھ کے پیکٹ واپس رکھ لئے۔ دودھ ،بریڈ، انڈے، بسکٹ وغیرہ صبح کی روز مرہ کی چیزوں کے لئے لوگ ایک دوسرے سے کھلے پیسے مانگتے نظر آئے۔ جن کے پاس کھلے پیسے نہیں تھے وہ بغیر سامان کے ہی لوٹ گئے۔ آئی پی ایکسٹینشن کے پاس دودھ بیچنے والی ایک خاتون مالتی نے بتایا کہ 20 کریٹ امول اور 20 کریٹ مدر ڈیری کے دودھ کے ساتھ وہ دھرنا اپارٹمنٹ کے پاس دوکان لگاتی ہے۔ صبح 7 بجے تک جو سامان لینے آئے انہیں پھٹکر پیسے دئے جائیں تاکہ اس کے بعد پیسہ نہ ہونے پر ہمیں بھی لوگوں کو سامان دینے سے منع کرنا پڑا یا ادھار دینا پڑا۔ ایک شخص کے گھر میں بیٹی کی شادی 27 نومبر کو طے ہوئی ہے۔ گھر میں شوہر کے علاوہ دو بیٹے ایک بہو ہیں۔ صبح دودھ نہ ملنے کے چلتے کنبہ چائے نہیں پی پایا۔ شادی کی تیاریوں کے چلتے گھر میں مہمانوں کا آنا جانا لگا ہوا ہے۔ شادی کا سارا انتظام کرنا ہے۔ اب جب انتظام کرنے والے پرانے 500 اور 1000 کے نوٹ نہیں لیں گے تو کیسے شادی ہوگی؟ 
حکومت کہتی ہے کہ آپ بینک میں جاکر پرانے نوٹ جمع کرا سکتے ہیں اور 4 ہزا روپے تک کے نوٹ بدل سکتے ہیں۔ لیکن بینکوں ، ڈاک خانوں میں آپ نے لمبی لائن دیکھی ہے؟ دو گھنٹے سے بھی زیادہ وقت لائن میں لگنا پڑتا ہے اپنے نمبر کیلئے۔ جو مزدور روز روزی روٹی کماتا ہے وہ بھلا اگر لائن میں لگا رہے گا تو کھائے گا کیا؟ تلخ حقیقت تو یہ ہے کہ تقریباً ہر گرہستن اپنے گھر کے خرچے سے کچھ پیسہ ہنگامی حالات کے لئے بچاتی ہے جس کی اس کے شوہر کو جانکاری نہیں ہوتی۔ اب اس کرنسی اسٹرائک کے بعد نہ صرف اسے اس جمع پونجی کی جانکاری شوہر کو دینی ہوگی اور بدلوانے کی گھبراہٹ پیدا ہوگئی ہے۔ ہسپتالوں میں مریضوں کو دقت الگ پیش آرہی ہے۔ لوگوں کو اپنوں کی لاشیں تک نہیں مل رہی ہیں کیونکہ زیادہ تر پرائیویٹ بینک پرانے 500 اور 1000 کے نوٹ لینے سے صاف انکار کررہے ہیں۔ لوگوں کو زندگی بخش دوائیوں تک میں دقت آرہی ہے کیونکہ کیمسٹ (سرکار کے حکم کے باوجود ) پرانے نوٹ لینے سے انکار کررہے ہیں۔ جو لے بھی رہے ہیں وہ کھلے پیسے نہیں دے رہے۔ کسی کو 10-20 روپے کی دوا لینی ہو تو وہ کیا کرے؟ اور تو اور ایک شخص تو اپنی ماں کے کفن کے لئے بھٹکتا رہا۔ حالانکہ حکومت نے اعلان کیا تھا کہ 14 نومبر تک سرکاری ہسپتالوں ، ریلوے ٹکٹ کاؤنٹروں اور قبرستان، شمشان گھاٹوں وغیرہ پر500اور 1000 روپے کے نوٹوں کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔باوجود اس کے مدھیہ پورہ کا باشندہ انعام الحق کفن کے لئے 500 روپے کا نوٹ لیکر بھٹکتا رہا۔ بدھ کی صبح کو انعام الحق کی ماں (60 سال ) کی موت ہوگئی تھی لیکن کوئی بھی دوکاندار اس کو کفن دینے کو تیار نہیں ہوا۔ انعام الحق کے پاس صرف 500 اور 1000 روپے کے ہی نوٹ تھے۔ اس معاملے کی جانکاری وارڈ کونسلر کو دی ان کی مدد کے بعد ہی انعام الحق کی ماں کو کفن ملا ۔ (جاری)
(انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...