Translater
27 نومبر 2021
ترنمول کانگریس میں شامل ہونے کی دوڑ لگی!
ترنمول کانگریس کی چیف ممتا بنر جی کے دہلی میشن کے تحت دیگر پارٹیوں سے نیتا و¿وں پارٹی میں لینے کا سلسلہ جاری ہے کانگریس کے نیتا کر تی آزاد ہر یانہ کانگریس کے سابق صدر اشوک تنور اور جنتا دل یو کے سابق جنرل سیکریٹری پون ور ما ٹی ایم سی میں شامل ہوگئے ۔ پارٹی کے چیف ممتا بنر جی نے پارٹی میں ان نیتاو¿وں خیر مقدم کیا ۔مانا جارہا ہے کہ مختلف پارٹیوں کے اور لیڈر بھی لائن میں ہیں ۔ ممتا کے میشن دہلی اور بڑے لیڈروں کو ٹی ایم سی میں لانے کے پیچھے پر شانت کشورکا دماغ بتایا جاتا ہے ۔ ذرائع نے کہا کہ ابھی یوپی ،چھتیس گڑھ اور جھارکھنڈ کے علاوہ کچھ دیگر جگہوں پر سینئر لیڈروں سے رابطہ قائم کیا گیاہے ۔ ممتا کی مہم کا مقصد ٹی ایم سی کو بڑی اپوزیشن پارٹی کے طور قومی سطح پر ابھار نا ہے ۔ جس کے چلتے کانگریس میں سب سے زیادہ اتھل پتھل ہورہی ہے۔ ٹی ایم سی میں آنے والے نتیش کمار کے سابق مشیر اور راجیہ سبھا کے سابق ممبر پون ورما کو 2020میں ریاست میں حکمر اں جے ڈی یو سے نکال دیا گیا تھا ۔ پون ورما کا کہنا ہے کہ میں ٹی ایم سی جوئن کی ہے اور میں نے جے ڈی یو چھوڑنے کے بعد میںسیا سی حالات کو دیکھتے ہوئے جمہوریت میں ایک مضبوط اپوریشن کا ہونا ضروری ہے یہ میں نے محسوس کیا ہے ۔ حکومت کو جمہوری طریقے سے چیلنج کر نا ضروری ہے میںامید کر تا ہوں کہ سال 2024میں ممتا بنرجی قومی چنا و¿ جیت کر دہلی ہوںگی ۔ کرتی آزاد نے کہا کہ ممتا بنرجی نے زمین پر اتر کر لڑائی لڑی ہے اور میں نے بھی ہمیشہ کوشش کی ہے کہ لوگوں کیلئے لڑائی سیدھے زمین پر اتر کر لڑی جائے جو لوگ دیش کو بانٹنے کا کام کررہے ہیں میں ان کے خلاف لڑائی لڑوں گا ۔ ایسے ہی ٹی ایم سی میں شامل ہوئے اشوک تنور نے کہا کہ موجودہ حالات میں ممتا بنر جی اپوزیشن کی سب سے بڑی لیڈر ہیں ۔ ان کی قیادت میں بھاجپا کے خلا ف قومی سطح پر لڑا یہ لڑی جاسکتی ہے۔
(انل نریندر)
آبادی سینسس :ایک ہزار مر دوں پر 1020خواتین !
دیش کیلئے سکون بھری خبر ہے پہلی بار بھارت کی کل آبادی میں فی 1000مر دوں پر عورتوں کی تعداد 1020پہونچ گئی ہے ۔ بدھوار کو جاری نیشنل ہیلتھ سروے 5-کے اعداد و شمار سے پتا چلتا ہے اس سے پہلے 2015-16میں یہ اعداد و شمار 1000مر دوں پر 991عورتیں تھی ۔یہی نہیں پیدائش کے وقت کا جنسی تناسب میں بہتری آئی ہے ۔تا زہ سروے میں یہ ٹیلی 1000ہزار بچوں پر 929بچیو ں تک پہونچ گئی ہے ۔ خا ص بات یہ ہے کہ کل آبادی میں مر د عورت جنس شہروں کے بجائے گاو¿ں میں بہتر ہے ۔ دیہات میں 1000مر دوں پر 1037عورتیں ہیں جبکہ یہ تعداد شہروں میں 985کی ہے ۔ آبادی میںعورتوں کا تنا سب بھلے بڑھ گیا ہے لیکن ان کی پیدائشی پوزیشن بہت اچھی نہیں ہے آج بھی دیش میں 41فیصد عورتیں ایسی ہیں جن نے 10برس سے زیادہ اسکول میں تعلیم حاصل کی ہیں یعنی 9ویں کلاس تک پڑھ کر آگے کی تعلیم چھوڑ دی ہیں ۔ 59فیصد عورتیں 10ویں کلا س سے آگے نہیں بڑھ سکیں ۔ ایسی دیہاتی علاقوں میں33.7فیصد عورتیں ہی چھٹی کلا س سے آگے نہ بڑھ سکیں ۔ 5جی کے دور میں انٹر نیٹ کی پہونچ صر ف 37.7فیصد عورتوں تک ہو پائی ہے۔
(انل نریندر )
نشانے پر گوتم گمبھیر !
دہشت گر تنظیم آئی ایس آئی ایس کشمیر نے 24گھنٹے کے اندر دو مرتبہ ای میل بھیج کر بھا جپا ایم پی اور سابق کر کٹر گوتم گمبھیر اور ان کے پریوار کو جان سے مارنےکی دھمکی دی ہے ممبر پارلیمنٹ کی طرف سے بدھوار کو اس بارے پولیس سے شکایت کی گئی ہے ۔ فی الحال پولیس نے ایم پی سیکورٹی بڑھاتے ہوئے معاملے کی جانچ شروع کردی ہے گوتم گمبھیر کے پرائیویٹ سیکریٹری گورو اراڑا نے سنٹرل ضلع پولیس سے شکایت کی کہ ان کو آئی ایس آئی ایس کشمیر نام کی تنظیم نے ای میل بھیج کر دھمکی دی ہے ۔شکایت میں بتایا گیا کہ دوسرا ای میل بدھوار 2.30بجے دوبارا ایم پی کو ای میل سے دھمکی ملی ہے۔ ڈی سی پی شویتا چوہان نے بتایا کہ اس معاملے میں اسپیشل سیل ،آئی بی اور دیگر سکورٹی ایجنسیوں سے اپنی سطح پر جانچ کرنے کو کہا گیا اور ہی فوٹیج بھی دیکھی جارہی ہے ۔ دھمکی آئی ایس آئی ایس کشمیر کے سرکاری ای میل سے بھیجی گئی دوسری دھمکی گوتم گمبھیر کے گھر کا 6سیکنڈ کے ویڈیو میں ہے اور یہ ویڈیو ایم پی کے گھر کے سامنے والے پارک میں بنا یا گیا ہے ۔ اس کے آس پاس لگے کیمرے دیکھے جارہے ہیں تاکہ سراغ ہاتھ لگے غور طلب ہے کہ پچھلے سال 27مئی کو اسی علاقے سے گوتم گمبھیر کے والد کی کار چوری ہو گئی تھی اس کے ٹھیک 6مہینے بعد ایم پی کے معاون سنیت نر وال کی کار بھی چوری ہوئی تھی حالاں کہ پولیس اب دعویٰ کر رہی ہے کہ اس نے معاملہ سلجھا لیا ہے۔
(انل نریندر)
26 نومبر 2021
جن دھن کھا تے دار غربا ءکو 164کروڑ کا چنا لگا !
بھارتیہ اسٹیٹ بینک یعنی ایس بی آئی نے پچھلے کچھ بر سوں میں غلط طریقے سے جن دھن کھاتوں کے ذریعے ڈیجیٹل لین دین پر ٹرانزیکشن جارجیز وصولے ہیں ۔سرکار احکامات کے بعد حالاں کہ بینک کی طرف سے 90کروڑ روپے کھاتے داروں کو لوٹا دیے گئے ہیں لیکن اندیشہ ہے ابھی بھی بینک کھاتے داروں کے 150سو کروڑ روپے سے زیا دہ بینک کے پاس ہیں ۔ آئی آ ئی ٹی بمبے کی رپورٹ میں دعو یٰ کیا گیا ہے کہ ایس بی آئی یہ رقم اپریل 2017سے ستمبر 2020کے دوران وصولی ہے اس دوران بینک نے کھاتے داروں کے یوپی آئی اور ڈیبٹ کارڈ کے ذریعے 5614کروڑ ڈیجیٹل لین دین پر 2500کروڑ سے زیا دہ وصولے گئے ہیں ۔ رپورٹ بنا نے والے آئی آئی ٹی بمبے کے پروفیسر آشیش داس نے بتایا کہ بینک نے کھاتے داروں سے 17.70روپے کا چا رج فی ڈیجیٹل ٹرانزیکشن پر نا جائز طریقے سے وصولا ہے اس حساب سے اندازہ لگا یا ہے کہ اپریل 2017سے ستمبر 2020کے دوران جن دھن کھاتا داروں کے ذریعے کل 14کروڑ ڈیجیٹل لین دین پر 254کروڑ روپے وصولے گئے ۔ پروفیسر داس کا ماننا ہے کہ اس چارج کو لینا بینک بورڈ کی طرف سے ایک بھول تھی ۔حالاں کہ اکتوبر 2020سے بینک نے چارج لگانا بند کر دیا ۔ حالاں کہ زیادہ کمزور طبقے سے وصولے گئے 164کروڑ روپے کے ناجا ئز چارجیز کے بینک کے پاس ابھی تک پیسے بقا یا ہیں ۔
(انل نریندر )
مٹھ مندروں کو سرکاری قبضے سے نجا ت ملے !
راجدھانی دہلی میں ابھی کسانوں کے آندولن سے نجات نہیں مل پائی تھی کہ اب سادھو سنتوں نے سرکار کو ملک گیر آندولن چھیڑنے کی وارننگ دے دی ہے ۔ دیش کے کئی حصوں سے سادھوسنت ساو¿تھ دہلی کے کالکا جی مندر میں اکٹھے ہوئے اور مٹھ مندر مکتی آندولن کی شروعات کی ان کا کہنا ہے کہ ہم مرکزی اور ریاستی سرکاروں کو پر امن طریقے سے منائیں گے اگر نہیں مانے تو ہتھیا ر اٹھائیں گے سادھو سنتوں نے جارحانہ تیور دکھائے اور کسان آندولن کا بھی ذکر ہو ا زیادہ تر سادھو سنتو ں کہنا تھا کہ جب مٹھی بھر کسان راستہ روک کر بیٹھ گئے تو سرکار کو جھکنا پڑا پھر بھلا سادھو سنتوں سے زیادہ اڑیل کون ہوگا؟ اگر ضرورت پڑی تو راستوں پر اپنا ڈیرا بنائیں گے ۔ یعنی کو صاف اشارہ ہے کہ ایک اور بڑی تحریک کیلئے تیا ررہو ۔ دھرم اور عقیدت سے تعلق ہونے سے یہ تحریک جتنی اہم ہے اس سے بھی زیادہ تحریک چلانے کا ذمہ لینے والے مہنت کا تعارف ہے ۔ بھارتیہ سنگھ سمیتی نے پروگرام کا انعقاد کیا تھا ۔ سمیتی کے صدر مہنت سریندر نا تھا اودوت ہیں اور وہ ورلڈ سنستھا ،وشو ہندو مہا سنگھ کے قو می انترم صدر بھی ہیں ۔ سنت تحریک کے بارے بتایا کہ جب ہمدرد سرکار اقتدار میں آئی تو رام مندر بننے کا راستہ کھلا ہماری تحریک رام مند ر تحریک جیسی لمبی نہیں چلے گی ۔ انہوں نے کہا کہ دیش کے اگلے چناو¿ سے پہلے پہلے ہم ایک بڑی تحریک کھڑی کریں گے تاکہ جب دوبارہ سرکار بنے تو سب سے پہلے مٹھ مندروں کوسرکا رسے نجات کا قانون بن سکے ۔ ساھو سنتوں نے مندر وں اور مٹھوں کو آزاد کرانے کا عزم کیا ہے انہوں نے کہا کہ مرکزی سرکار قانون بنا کر سر کاری کنٹر ول والے سبھی مٹھ مندروں کو متعلقہ سنتوں کے گروپوں اور انجمنوں کو سونپنے کا فیصلہ لے ۔ مہنت اودوت نے کہا کہ کرناٹک میں کئی مند ر بند ہونے کے دہانے پر ہیں جبکہ مندرں سے پر سرکار کا کنٹرول ہے وہیں مندروں کے بورڈ ممبران اسمبلی کو سرکا ر نے جگہ دی جنہیں مذہب اور مندر کوئی واسطہ نہیں ہے ۔ ایسے میں سرکار مندروں کو ان سے متعلق فرقوں اور انجمنوں کو سونپے جائیں ۔
(انل نریندر)
پٹھان کوٹ آرمی کیمپ پرآتنکی حملہ!
پنجاب کے پٹھان کوٹ آرمی کیمپ میں پیر صبح سویر ے گرینو سے حملہ کیا گیا ۔ دستی بم کیمپ کے ترویدی گیٹ پر پھینکا گیا حالاںکہ اس حملے میں کوئی جان ومال کا نقصا ن نہیں ہو الیکن پٹھان کوٹ میں ہائی الرٹ ہے اسی درمیان پولیس کو ایک لاوارش آئی 20-کار ملی جس کے آگے پیچھلے کی نمبر پلیٹ کو شاطرانہ طریقے سے بدلا گیا تاکہ آگے کا نمبر PB10GJ6780اور پیچھے کی پلیٹ پر PB10GL6781لگا یا گیا ہے اس میں صر ف بیچ کے Gکے بعد اور دو میں فرق رکھا گیا ہے ۔ ایس ایس پی سکھوندر سنگھ لانبا نے سنتری سے ملی معلومات کی بنیا دپر بتایا کہ رات کو کیمپ کے سامنے سے ایک بائک گزری تھی اس پر سوار لوگوں گیٹ کی طرف گرینیڈ پھینکا جو پھٹ گیا ۔ اس دھماکہ کے بعد علاقے کو سیل کرکے جانچ پڑ تال کی جارہی ہے ۔ واضح ہو کہ پنجاب کا پٹھا ن کوٹ ضلع ہندوستانی فوج کے سب سے زیا دہ حساس ٹھکانوں میں سے ایک ہے یہاں پر انڈین ایئر فورس کا اسٹیشن ہے ، فوج کا گولا بارود ڈپو اور دو بختر بند بریگیڈ کے دفتر ہیں ۔پٹھا ن کوٹ میں ایئر فور س کے ایئر بیس پر 2جنوری 2016کو آتنکی حملہ ہو ا تھا اور ہندوستانی فوج کی وردی میں آئے آتنک وادیوں نے حملہ انجام دیا تھا ۔ اس میں سات جوان شہید ہو گئے تھے یہ سبھی آتنکی بھارت پاکستان بارڈر پر بہہ رہی راوی ندی کے راستے سے آئے تھے ۔ اور انہوں نے ہندوستانی علاقے میں کچھ گاڑیوں کو قبضہ میں لیا تھا اور پٹھان کوٹ ایئر بیس پہونچے تھے ۔ دو دن پہلے ہی فیروز پور ضلع کے گاو¿ں سریوا سے ٹفن بم ملا تھا جو زمین کے نیچے دبایا گیا تھا ۔ پودا لگانے کے دوران یہ ملا تھا ۔ اس سے پہلے بھی پنجاب میں آ دھا درجن سے زیادہ ٹفن بم اور ہینڈ گرینیڈ مل چکے ہیں ۔ یہی نہیں پولیس نے ایسی تین سازشوں کو بے نقا ب کیا ہے جس میں لوگ پیسے کیلئے آتنکی واردات انجام دینے کو تیا ر ہوئے ۔ سیکورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کے دہشت گرد تنظیموں کے چھپے ورکر بھی آتنکی واردات انجام دے سکتے ہیں ۔ پٹھا ن کوٹ کے تازہ حملے کے پیچھے پاکستانی حمایتی وکشمیری آتنکی بھی ہو سکتے ہیں ۔ اس وادات کو پنجاب میں والے چنا و¿ سے پہلے دہشت گردانہ تشدد کو لیکر ایک اشارہ کے طور دیکھا جا سکتا ہے۔ پاکستان کی جانب سے کافی عرصے پنجاب کے پٹھا ن کوٹ و جموںوکشمیر میں آتنکی وارداتوں کو انجام دینے کی لگا تار سازشیں ہو رہی ہیں ۔ اور اس طرح کی خبریں مل رہی ہےں کہ پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی اپنی پالتوں آتنکی تنظیموں جیش محمد لشکر طیبہ اب البدر و غیر تنظیموں کے ذریعے سیکورٹی فورس کے کیمپوں پر بڑے حملے کی کو شش کررہے ہیں ۔ اور وادی کا ماحول خراب کرکے وہاں ہا ئی بریڈدہشت گردوں کے ذریعے تاک لگا کر حملے کئے جا رہے ہیں ۔ ان سے صاف ظاہر ہوتاہے کہ پاکستان پنجاب اور جموں و کشمیر میں دہشت گردی کو بڑھانے کیلئے تمام طرح کے ہتھکنڈے اپنا نے میںلگا ہے ۔ پٹھا ن کوٹ میں تازہ واقعے سے سیکورٹی ملازمین کیلئے چیلنج اور بڑھا دیئے ہیں۔
(انل نریندر)
25 نومبر 2021
رشوت جوکھم فہرست میں بھار ت کا 82واں مقام ہے !
تجارت رشوت خوری کو پرکھنے والی ورلڈ فہرست میں اس برس بھار ت پانچویں سیڑھی نیچے کھسک کر 82ویں مقام پر آگیا ہے ۔ پچھلے سال یہ 77ویں پر تھا ۔ رشوت کے خلا ف پیمانہ قائم کرنے والی انجمن ٹریس کی 194ملکوں خطوں اور مخطات و اقتصادی سیکٹر میں تجارت رشوت خوری خطرے کو دکھا تی ہے ۔ اس برس کے اعداد وشمار کے مطابق نارتھ کوریا، ترکمنستان ،وینزویلا وغیر ہ دیش سب سے زیا دہ کاروباری رشوت خور ی کے خطرے میں شمارہیں ۔ جبکہ ڈینمارک ، ناروے ،فنلنڈ ،سویڈن اور نیو زیلنڈ میں سب سے کم خطرہ ہے ان اعداد وشمار سے پتا چلتا ہے کہ بھارت 2020میں 45نمبروں کے ساتھ 73ویں مقا م پر تھا جبکہ اس برس 44نمبروں کے ساتھ 82ویں مقا م آ گیا ۔ سرکار کے متعلق تجار ت بات چیت اور رشو ت اژالہ اور انفورسمنٹ سرکار اور سول سروس شفا فیت و شہری سماج کی نگرانی صلاحیت جس میں میڈیا کا رول شامل ہے ۔ ٹیلی سے پتا چلتا ہے کہ بھار ت نے اپنے پڑ وسیوں پاکستان ، چین ،نیپال اور بنگلہ دیش سے بہتر کام انجام دیا ہے ۔ پچھلے پانچ سالوں جن دیشوں نے کمر شل رشوت خوری کے خطرے بہتری لائی ہے سب سے کام کیا ہے وہ دیش ہیں ازبکستان ،ارمینیا ، ملیشیا ،انگولا اور زا مبیا شامل ہیں۔
(انل نریندر)
آبرو ریز کو نا مر د بنا نے والا بل !
پاکستان کی پارلیمنٹ بد فعلی کے کئی معاملوں میں قصور وار جنسی جرائم کو کیمیا ئی طریقوں سے نا مرد بنا نے سے متعلق بل پاس کیا ہے ۔ یہ بل دیش میں خواتین اور بچیوں کے ساتھ بد فعلی کی وارداتوں میں حالیہ اضافے کے خلاف لوگوں میں ناراضگی اور جرائم پر موثر طریقے سے لگام لگا نے کی بڑھتی مانگوں کے پیش نظر لایا گیا ۔ پاکستانی کیبنٹ کے پاس فرمان پر صدر عارف علوی کی مہر کے تقریبا ایک سال بعد یہ بل پاس ہوا ہے اس بل میں قصوروار کی رضامندی سے کیمیا ئی علاج سے نامر د بنا نے اور فوراًسماعت کیلئے اسپیشل عدالتوں کی تشکیل کی گئی ہے ۔ انگریزی اخبار ڈان کے مطابق جرائم قانون (ترمیم) بل 2021کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلا س میں 33ممبران کی مخالفت کے ساتھ پاس کر دیا گیا ۔ اس کا نام پاکستان پی پی سی ایکٹ میں ترمیم کی کو شش ہے بل کے مطا بق کیمیا ئی طریقے سے نا مر د بنا نا ایسا عمل ہے جسے وزیر اعظم عمران خان کے ذریعے بنا ئے گئے قواعد کے تحت باقاعدہ طور پر نوٹیفائی کیا جاتا ہے ۔ اس کے تحت ملزم کو کیمیا ئی طریقے انجیکشن دیا جاتا ہے جس سے اس کی جنسی خواہش کو معذور بنا دیا جاتاہے ۔ عدالت کی ہدایت کی مطابق میڈیکل بورڈ دواو¿ں کے ذریعے نامر د بنا نے کی کاروائی کو انجام دیتا ہے وہیں تنقید نگاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان میں جنسی اذیت یا بد فعلی کے معاملوں میں چار فیصد سے بھی کم معاملوں میں قصور وار کو سز ا ہوتی ہے ۔ جما عت اسلامی کے ایم پی مشتاق احمد نے اس بل کی مخالفت کی اور اسے غیر اسلامی اور شریعت کے خلا ف بتایا انہوں نے کہا کہ بد فعلی کے ملزم کو بپلک طور پر پھا نسی دی جانی چاہئے ۔ لیکن شریعت میں مر د کو نامر د بنائے جانے کا تذکرہ نہیں ہے میڈیا رپورٹ کے مطابق کیمیائی طریقے سے آبروریز کو نامر د بنانے کی سزا کئی دیشوں میں بحال ہے ۔ ان میں ساو¿تھ کوریا ، پولینڈ اور امریکہ کی کچھ ریا ستیں شامل ہیں ۔
(انل نریندر)
اب ایم ایس پی پر اڑے کسان !
حکومت نے تینو ں متنا زعہ زرعی قوانین کو واپس لینے کا اعلان بھلے ہی کر دیا ہے لیکن کسان تحر یک ختم ہونے کے آثار فی الحال نظر نہیں آ رہے ہیں ۔ لکھنو¿کی مہا پنچا یت میں کسا ن تنظیموں نے اپنی مانگو ں کے دوران صاف اشارہ دے دیا ہے کہ جب تک سبھی مانگیں مان نہیں لیں جاتیں تب تک تحریک ختم ہونے کا سوال ہی نہیں اٹھتا ابھی تک مانا جا رہا تھا کہ تینو ں متنا زعہ قوانین واپسی کے فیصلے کے بعد کسان اپنا مظا ہر ہ یا دھرنا ختم کر دیں گے۔ لیکن پیر کو لکھنو¿ میں مہا پنچا یت میں کسان لیڈروں نے ایک آواز میں تحریک جار ی رکھنے کا اعلان کر دیا ہے کئی ایسے برننگ اشو بھی ہیں جن کا نپٹا رہ ضروری ہے ۔ ان میں ایم ایس پی قانو ن بنا نے کی مانگ سب سے اہم ہے ۔ اس لئے آندولن مر حلہ وار جاری رہے گا کسان یونین کے نیتا راکیش ٹکیت نے وزیر اعظم پر طنز کر تے ہوئے کہا کہ سرکار کو اپنی زبان میں سمجھا نے میں ایک سال لگ گیا اور سرکار کو اب سمجھ میں آگیا کہ تینو ں قوانین کسانی مفادات کے منفی ہیں انہوں نے کہا کہ معافی مانگنے سے کسانوں کا بھلا ہونے والا نہیں ہے ان کا بھلا ایم ایس پی کیلئے قانو ن بنانے سے ہوگا ۔ اس قانون کو لیکر مر کزی حکومت جھو ٹ بول رہی ہے کہ کمیٹی بنا رہے ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ 2011میں مودی گجرات کے وزیر اعلیٰ تھے تب ان کی سربراہی میں بنی کمیٹی نے اس وقت کی منموہن سرکار کو رپورٹ سونپی تھی کہ کسانوں کے لیے ایم ایس پی لاگو کریں یہ رپورٹ پی ایم او میں رکھی ہے ۔ اسے تو فی الحا ل لاگو کردیں سوال یہ ہے کہ ایسے میں ہو کیا ؟ بغیر حل نکالے تو آگے بڑھ پانا ٹھیک نہیں ہو گا۔ سرکا ر کے سامنے ایک مسئلہ ہے کہ اگر ایم ایس پی قانو ن بن گیا تو اس کے لئے کسانوں کی اپج زیادہ دام میں خریدنا مجبوری ہو جائے گی ۔ یہ دلیل بھی دی جارہی ہے کہ ایم ایس پی قانون کے بعد اگر سرکار نے طے دام پر ان کی اجنا س خرید نے کیلئے کاروباریوں کو مجبور کیا تو تاجر در آمد کم دام پر کر نے جیسا قدم اٹھا سکتے ہیں ۔ مشکل یہی ہے کہ جب سرکار پوری پید ا فصل خرید نہیں پائی تو تاجر مقرر ایم ایس پی پر فصل خرید نے سے بچیں گے تو کسان کیا کریگا ؟ حیرانی کی بات یہ ہے کہ ایم ایس پی کو لیکر آج تک کوئی ایسا فیصلہ نہیں ہو پایا جس سے کسان مطمئن ہوں ایم ایس پی کے بارے میں اب تک جو دلیلیں دی جارہی ہیں ان میں سے ایک یہ ہے غذ ائیت کی قلت نہیں ہے اگر ایم ایس پی پر قانون بنا دیا گیا تو سرکا ر کیلئے فصل خریدنا اور اس کا ذخیرہ کر نا مشکل ہو جا ئے گا۔ ذخیرے کی انتظام میں کمی کے چلتے بھاری مقدار میں اناج خراب ہونے کا مسئلہ بنا ہوا ہے ۔ کہا یہ بھی جارہا ہے کہ اگر ایم ایس پی قانون بن گیا تو بڑے کسان ہی چھو ٹے کسانوں سے پید ا وار خرید کر سرکا ر کو بیچ دیں گے ۔ جس وجہ سے چھوٹے کسان مشکل میں پڑ جائیں گے کوئی اس بات سے انکار نہیں کرئے گا کہ کسانوں ان کی فصل کا پور ا دام ملنا چاہئے ۔ اگر موجودہ سسٹم سے مسئلے کا حل نہیں نکل رہا ہے تو نئے اقداما ت پر غو ر کیا جانا چاہئے ۔ سرکار کو چاہئے کہ زرعی اور کسانوں کا مسئلے کو لیکر اب جو بھی پہل اسے نیک نیتی اور ایمانداری سے حل نکالنے کی کو شش ہو ۔
(انل نریندر)
24 نومبر 2021
وزیر اعظم مودی کا بھگوڑے مالیا تی جرائم پیشہ کو سخت پیغام !
وزیر اعظم نریند ر مودی نے کہا کہ سرکار ہائی پروفائل بھگوڑے مالیا تی جرائم پیشہ افراد کو وطن واپس لانے کیلئے سبھی قانو نی طریقو ں کا استعمال کر رہی ہے اور ان سامنے دیش لوٹنے کے سیوا کوئی متبادل راستہ نہیں بچا ہے ۔ وزیر اعظم نے اقتصا دی ترقی اور قرضو ں کے لین دین پر ایک مباحثے میں خطاب میں کہا کہ بھگوڑے مالی ڈیفالٹروں کو واپس لانے کیلئے ہم پالیسی و قانون کی خا نہ پوری کر نے پر منحصر ہیں اور ہم نے سفارتی ذریعے کا بھی استعمال کیا ۔ پیغا م ایک دم صاف ہے کہ وہ دیش لوٹ آئیں اور کوئی چارہ نہیں ہے ۔ حالاں کہ وزیر اعظم نے اپنی تقریر میں کسی بھی جرائم پیشہ شخص کا نام نہیں لیا مرکزی سرکار نے پچھلے کچھ وقت میں رجئے مالیہ اور نیرو مودی جیسے بھگوڑے مالی جرائم پیشہ افراد کی ملک کو حوالگی کی کو شیشیں تیز کر دی ہیں وزیر اعظم نے کہا کہ سرکار کی دلچسپی دکھانے سے قرض دہندگان سے پانچ لاکھ کروڑ روپے کی وصولی کر چکی ہے حال ہی میں نیشنل اے آر سی ایل کمپنی بھی دو لاکھ کروڑ روپے معاملو ں کو نپٹانے میں مدد کرے گی ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ سا ل2014میں بھاجپا سرکار کے آنے کے بعد سے بینکوں کے حالات کافی سدھرے ہیں ۔ ہندوستانی بینک دیش کی معیشت میں نئی روح ڈالنے کیلئے اب مضبوط پوزیشن میں ہے ۔ بھار ت کے خود کفیل بننے کی راہ آسان ہوگی ۔ اس موقع پر وزیر اعظم مودی نے بینکوں سے مالی وروزگار کے موقع پید کرنے والوں کو قرض دینے میں سر گرمی دکھا نے کو بھی کہا ہے ۔ بینکوں کو اپنے ساتھ دیش کے بھی بہی کھاتے ٹھیک ٹھاک کر کے کیلئے سرگر می دکھا نی ہوگی ۔ بینکوں کو کاروبار سیکٹر کے پھلنے پھولنے میں پرانے کلچر کو ترک کر کے قرض کی منظوری دینے کی سوچ سے خو د کو الگ کر نا ہوگا ۔ انہوں کار باری دنیا کو ساجھداری کا موڈل اپنا نے کی بینکوں کو صلاح دی ۔ پچھلے چھ سات سال میں کی گئی اقتصادی اصلاحات سے بنکنگ سیکٹر کو مضبوط ہونے کی بات بھی کہی۔ ہم نے بینکوں کی واجب الادا قرض کے مسئلے کا حل بھی نکالا ہے اور ہم نے ان بینکوں میں نیا سرمایہ ڈالا ہے جو دیوالیہ ہونے کے دہانے پر تھے اور قرض وصولی کیلئے قانونی خانہ پوری کو مضبو ط کیا ہے ۔ اور بینکروں کو کمپنیوں اور چھوٹی و منجھو لی صنعتوں کیلئے ان کی ضرور ت کے حساب سے وسائل مہیہ کرانے کی کوشش کی ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ آپ گراہکوں کا بینک آنے کا انتظار نہ کریں آپ کو ان کے پاس جانا ہوگا ۔
(انل نریند ر)
کیا آرین خان کے خلا ف ڈرگس معاملہ فرضی تھا ؟
ممبئی ہائی کورٹ نے کروز ڈرگس کیس میں کہا ہے کہ شارخ خان کے بیٹے آرین خان کے خلاف ثبو ت نہیں ملے ہیں ۔ آرین اور دو دیگر کو ضمانت دینے والے اپنے تفصیلی حکم میں کور ٹ نے کہا کہ ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا ہے جو یہ دکھاتے ہوں کہ ملزمان نے جرم کی سازش رچی تھی ۔ جسٹس این ڈبلیو سامبرے کی ایک نفری بنچ نے 28اکتو بر کو آرین خان اور اسکے دوست ارباز مرچنٹ اور ماڈ ل ململ دھمیا کو ایک لاکھ روپے کے مچلکے پر ضمانت دی تھی ۔ ہائی کورٹ کا کہنا کہ آرین خان کے موبائل فون سے لئے گئے وہاٹس ایپ چیٹ سے پتا چلتا ہے کہ اس میں کوئی بات قابل اعتراض نہیں پائی گئی جو یہ دکھاتی ہو کہ اس نے مرچنٹ اور دھمیا کے معالے میں دیگر ملزمان نے جرم کر نے سازش رچی ہو اس میں یہ بھی کہا گیا ہے این سی بی نے آرین خان کی منظوری بیان درج کیا ہے۔ اس پر صرف جانچ کے مقصد سے غور کیا جا سکتا ہے اور اس کا استعمال یا نتیجہ نکالنے کیلئے ہتھیا ر کے طور پر نہیں کیا جا سکتا کہ ملزم نے این ڈی پی ایس ایکٹ کے تحت کوئی جرم کیا ہے۔14صفحات کے حکم میں کہا گیا ہے کہ ایسا کوئی بھی مثبت ثبو ت ریکارڈ میں نہیں ہے جو عدالت کو اس بات پر راضی کر سکے ایک رائے والے سبھی ملزم غیر قانونی کام کر نے کیلئے راضی ہوں حکم میں کہا گیا ہے کہ تینوں نے پہلے ہی 25دن قید میں کاٹ لیے ہیں اور ملزمان کی ابھی تک میڈیکل تک نہیں کرایا گیا تاکہ یہ پتا چل سکے کہ انہوںنے ڈرگس کا استعمال کیا گیا ، انہوں نے ابھی کہا تھا کہ آرین خان کے پاس کوئی قابل اعتراض چیز نہیں ملی اور اس حقیقت پر کوئی تنازعہ بھی نہیں ہے۔ مر چنٹ اور دھمیا کے پاس ناجائز ڈرگس ملی جس کی مقدار بہت کم تھی ۔ جسٹس سامبرے نے کہا کہ کورٹ کو اس حقیقت کے تئیں حساس ہو نے کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ ملزموں کے خلاف سازش کرنے کیلئے ثبوت کے طور پر کچھ میٹر تو موجودہو۔ جسٹس سامبرے نے کہا کہ اگر مقدمہ فریق کے معاملے پر غور بھی کیا جائے توبھی اس طرح کے جرم میں سزا زیادہ نہیںہے ۔ مہاراشٹر کے وزیر اور این سی پی کے لیڈر نواب ملک نے کہا کہ ممبے ہائی کورٹ کے حکم سے صاف ہے آرین خان کے خلاف معاملہ فرضی تھا تو این سی بی کے جنرل ڈائریکٹر ثمیر وانکھڑے کو معطل کر دیا جانا چاہئے ۔ نواب ملک نے یہ بھی کہ آرین کے گرفتاری پر بھی سوال کھڑا کر تا ہے ۔ انہوںنے اپنے اس سوال کو بھی دہرایا کہ آرین کا اغوا رشوت مانگنے کیلئے کیا گیا تھا لوگوں کے پیسے و اس طرح کی بربادی بند ہونی چاہئے ۔ ثمیر وانکھڑے نے کہا کہ وہ ہائی کورٹ کے حکم پر رائے زنی نہین کر سکتے کیوںکہ معاملہ زیر سماعت ہے ۔ وہ نواب ملک کے الزامات کو اہمیت دینا نہیں چاہتے ۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ بھی کہا کہ صرف درخواست گزار کرور پر کیا کر رہے تھے ۔ این ڈی پی ایس کی دفعہ 29کے تحت کاروائی کر نا تسلی بخش بنیا د نہیں کہا جا سکتا ۔
(انل نریندر)
23 نومبر 2021
زرعی قانون واپسی پر مودی کا ماسٹر اسٹروک؟
میگھالیہ کے گورنر ستیہ پال ملک نے 20اکتوبر کو بی بی سی کو دیئے گئے ایک انٹر ویو میں کہا تھا کہ زرعی قوانین پر مرکزی سرکار کو ہی ماننا پڑے گا ، کسان نہیں مانیں گے اور ایک مہینے بعد ان کی یہ بات سچ ثابت ہو گئی ۔ مودی سرکار نے نئی زرعی قوانین واپس لینے کا فیصلہ لے لیا ہے اس کی ٹائمنگ کو لیکر خوب بحث چھڑی ہوئی ہے دس دن بعد پارلیمنٹ کا سرمائی اجلاس شرو ع ہونے والا ہے پانچ ریاستوں میں اگلے سال اسمبلی چناو¿ ہونے والے ہیں جن میں اتر پردیش سب سے بڑی ریاست ہے جہاں ایک دن پہلے ہی امت شاہ کو مغری اتر پردیش کی کمان سونپی گئی تھی ۔ لیکن گرو نانک دیو کے پرکاش پرم کے دن وزیر اعظم مودی نے اس کا اعلان کر کے سب کو چونکا دیا۔ سوشل میڈیا پر اس کے ساتھ ہی ماسٹر اسٹروک ٹرینڈ کرنے لگا جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ فیصلہ ایک ماسٹر اسٹروک ہے اس وجہ سے اب اس ٹائمنگ میں پنجاب اینگل بھی جڑ گیا ہے سالوں سے بی جے پی کور کر رہی ایک سینئر صحافی کہتی ہیں کہ مودی سرکار کے اس فیصلے کے پیچھے اتر پردیش اور پنجاب اور دونوں ہی وجوہات ہیں ظاہر ہے کہ اتر پردیش چناو¿ پر اثر اہم وجہ ہے لیکن پنجاب بھی کئی لحاظ سے بھاجپا کے لئے اہم ریاست ہے ۔ پنجاب بھارت کی سر حد سے لگی ہوئی ریاست ہے ۔ بہت سارے خالستانی گروپ اچانک سر گرم ہو گئے ہیں ایسے میں چناو¿ سے پہلے کئی گروپ پنجاب میں سر گرم ہیں جو موقع کو فائدہ اٹھانے کے فراق میں ہیں جب بی جے پی اور اکالی دل کا اتحاد ہوا تھا تو دونوں پارٹیوں کے سینئر لیڈر لال کرشن اڈوانی اور پرکاش سنگھ بادل کا نظریہ یہ تھا کہ اگر سکھوں کی نمائندگی کرنے والی پارٹی اکالی دل اور خود کو ہندو ں کے ساتھ جوڑنے والی پارٹی ہندوں کے ساتھ مل کر چناو¿ لڑے تو ریاست اور دیش کی سیکورٹی کے لحاظ سے یہ بہتر ہوگا یہ اس وجہ سے سالوں تک اتحاد چلا پنجاب لانگ ٹرم کے لئے بی جے پی کے لئے بہت اہم ہے ۔ 80کی دہائی کا دعویٰ دوبارہ کہیں شروع نہ ہو جائے ایسا کوئی نہیں چاہتا اسی وجہ سے بھی مرکزی سرکار نے یہ فیصلہ لیا نئے زرعی قوانین کی وجہ سے اکالی دل نے پچھلے سال بی جے پی سے ناطہ توڑ لیا تھا اور این ڈی اے سے الگ ہو گئے تھے اکالی دل بی جے پی کی سب سے پرانی ساتھی رہی ۔ ایک سیاسی ماہر نے رائے زنی کی کہ :دیر آید درست آید یہ فیصلہ سات سو کسانوں کی بلی دینے کے بعد آیا ہے ۔ مودی سرکار نے نئے زرعی قانون منسوخ خودنہیں کئے ان کو کسانوں کے غصے کی وجہ سے ایسا کرنا پڑا اس فیصلے سے ان کے مطابق پنجاب میں بی جے پی کو کوئی سیاسی فائدہ نہیں ہو نے والا ہے بیشک کیپٹن امریندر سنگھ کے ساتھ آنے سے شاید پنجاب میں بی جے پی کی دال گلے یہ دیکھنا باقی ہے کہ مودی سرکار کے اس فیصلے کے بعد اکالی دل واپس این ڈی اے کے ساتھ آتی ہے یا نہیں ایک دن پہلے ہی یوپی کو کئی ژون میں بانٹتے ہوئے مغربی اتر پردیش کی کمان امت شاہ کو سونپی گئی تھی یہ اس بات میں صاف اشارہ تھا کہ اس علاقے کو بی جے پی اتنا اہم مانتی ہے کچھ تجزیہ نگاروں کے مطابق کسان آندولن کا اثر اتر پردیش میں سو سیٹوں پر پڑ سکتا ہے ۔ کل ملا کر بی جے پی حمایتی اسے وزیر اعظم نریندر مودی کا ماسٹر اسٹروک مان رہے ہیں اور یہ تو باقی یہ تو وقت ہی بتائے گا ۔
(انل نریندر)
اسکن ٹچ کے بنا بھی پاسکو !
سپریم کورٹ نے پاسکو ایکٹ کو لیکر ایک اہم ترین فیصلہ دیا ہے عدالت نے کہا پاسکو ایکٹ کی دفعہ 7کے تحت متاثر ہ کے ساتھ اسکن ٹو اسکن ملا نہیں ہوا تب بھی اسے جنسی استحصال مانا جائے گا سپریم کورٹ نے بامبے ہوئی کورٹ کے اس حکم کو خارج کر دیا جس میں کہا گیا تھا اسکن ٹو اسکن ٹچ نہ ہونے کے سبب کپڑے کے اوپر سے صاف جنسی استحصال نہیں کیا جا سکتا ۔ اس فیصلے کو اٹورنی جنرل کے کے وینو گوپال ، مہاراشٹر حکومت اور نیشنل وویمن کمیشن نے سپریم کورٹ میں چیلنچ کیا تھا ۔ جسٹس یو یو للت ، جسٹس روندر بھٹ اور جسٹس بیلا ایم تریویدی نے اس معاملے میں فیصلہ سنایا جسٹس ایم ترویدی نے 38صفحات کے اس فیصلے کاپی ٹو پارٹی کو پڑھتے ہوئے کہا کہ ایسے معاملے میں جنسی تشدد کا ارادہ زیادہ معنیٰ رکھتا ہے ، بجائے اس کے اسکن ٹو اسکن ٹچ ہو ایا نہیں ۔پاسکو ایکٹ کی دفعہ سات کے تحت اسپرش کو محدود کرنا بے تکا ہے یہ اس قانون کا مقصد ضائع کر دے گا ۔ یہ بھی کہا کہ اگر بامبے ہائی کورٹ کے ذریعے دیئے گئے فیصلے کو مانا جاتا ہے تو کل کو کوئی مجرم جنسی استحصال کرتے وقت دستانے کا استعمال کرے اور اسے جرمکے لئے قصور وار نہیں ٹھہرایا جا سکے گا ۔ یہ ایک بے تکی حالت ہوگی ، در اصل بارہ سال کی لڑکی کے جنسی معاملے میں سیشن کورٹ نے 29سالہ ملزم ستیس کو پاسکو ایکٹ میں تین سال و آئی پی سی کی دفعہ 354میں ایک سال کی سزا سنائی تھی متاثر ہ کے مطابق 16دسمبر کو ستیس اسے کھانا دینے کے بہانے لے آیا تھا ۔ وہ غلط طریقے سے ہو ا تھا بتادیں کہ بچوں کے طئیں جنسی اذیت اور بچوں کی پورنو گرافی جیسے گھنوانے جرائم کو روکنے کے لئے 2012میں پاسکو ایکٹ بنایا گیا تھااس میں کم سے کم تین سال اور زیادہ سے زیادہ عمر قید تک کی سزا ہے سپریم کورٹ تک کے وکیل چراغ گپتا نے بتایا کہ پاسکو ایکٹ کے تحت بچوں سے جنسی ارادے سے گھورنا ، فحاشی میسیج بھیجنا ، فحاشی میسجیج پڑھوانا ، فحاشی لٹریچر دکھانا وغیرہ باتوں کو بھی جرم مانا گیا ہے ۔ بامبے ہائی کورٹ کی ناگ پور بنچ نے متعلقہ ایک معاملے میں حکم دیا تھا کیونکہ ملزم اور متاثرہ کے درمیان اسکین ٹو ٹچ نہیں ہوا تھا یعنی نا بالغ کے پوشیدہ حصے کو بنا کپڑے چھونا سیکسول حملہ نہیں ہے تو پاسکو ایکٹ کے تحت جنسی اذیت کا جرم نہیں بنتا اس فیصلے کی بھاری مخالفت ہوئی تھی اوراس کے خلاف سپریم کورٹ میں تین عرضاں لگا دی گئیں تھیں ۔ سپریم کورٹ نے ان پر سماعت کرتے ہوئے کہا سیکس ارادے سے کیا گیا جسمانی رابطہ پاسکو ایکٹ کے تحت جنسی ٹارچر ہی مانا جائے گا ۔ جب قانون بنانے والی آئین سازیہ نے اسے بناتے وقت اپنا صاف ارادہ ظاہر کیا ہو ا ہو تو عدالتیں اس میں گمراہ کن پوزیشن پید انہیں کر سکتی ۔ عدالت نے بڑا سوال اٹھایا کہ اگر کوئی دستانے پہن کر چھیڑ چھاڑ گمراہ اسپرستا پیدا نہیں کر سکتی ۔ عدالت نے بڑا سوال اٹھایا کہا اگر کوئی دستانے پہن کر جرم کرے تو سزا کیسے ہوگی؟بچوں کے معاملے بہت حساس نوعیت کے ہوتے ہیں اکثر وہ اپنے ساتھ ہو رہی حرکتوں کو سمجھ نہیں پاتے یا کسی کو بتا نہیں پاتے انہیں ہر حال میں جنسی مجرموں سے محفوظ رکھا جانا انتہائی ضروری ہے ۔
(انل نریندر)
سبسکرائب کریں در:
تبصرے (Atom)
میلانیا نے امریکہ میں یہ نئی جنگ چھیڑ دی
ایران جنگ میں سیز فائر ہوتے ہی امریکہ کے اندر ایک اور جنگ شروع ہو گئی ہے ۔آپ حیران ہوں گے کہ یہ کون سی جنگ ہے ؟ بتادیں کہ ایپسٹین فائلس کی ...
-
سپریم کورٹ میں بھی عجیب و غریب مقدمات آرہے ہیں۔ تازہ مثال بحریہ کے کچھ افسروں پر بیویوں کی ادلہ بدلی سے متعلق معاملات ہیں۔ بحریہ کے ایک اف...
-
ہندوتو اور دھرم پریورتن، گھر واپسی سمیت تمام معاملوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس پریوار سے جڑے لیڈروں کے متنازعہ بیانات سے وزیر...
-
مدھیہ پردیش کے ہائی پروفائل ہنی ٹریپ معاملے سے نہ صرف ریاست کی بلکہ دہلی کے سیاسی حلقوں میں مچا دئے معاملے میں اہم سازشی گرفتار ہو چکی شیو...