Translater

04 جنوری 2014

بجلی کمپنیوں کا سی اے جی آڈٹ کرانے کا لائق تحسین فیصلہ!

یہ خوشی کی بات ہے کہ عام آدمی پارٹی کی سرکار نے چناؤ کے دوران کیا گیا ایک اور وعدہ پورا کردیا ہے۔ دہلی کی پرائیویٹ بجلی تقسیم کمپنیوں کے کھاتوں کی جانچ سی اے جی سے کرائی جائے گی۔ ریاستی سرکار کی سفارش پر دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر نجیب جنگ نے بدھوار کی شام بجلی کمپنیوں کو احکامات دئے ہیں۔ جن کمپنیوں کی جانچ سی اے جی کرے گی وہ ہیں بی ایس ای ایس یمنا پاور لمیٹڈ، بی ایس ای ایس راجدھانی پاور لمیٹڈ، ٹاٹا پاور دہلی ڈسٹریبیوشن لمیٹڈ۔ ان میں سے بی ایس ای ایس یمنا پاور لمیٹڈ مشرقی دہلی میں بجلی تقسیم کا کام دیکھتی ہے۔ اسی طرح بی ایس ای ایس راجدھانی پاور لمیٹڈ ساؤتھ دہلی اور ٹاٹا پاور دہلی ڈسٹریبیوشن لمیٹڈ نارتھ دہلی کے علاقے میں بجلی تقسیم کرتی ہے۔ بی ایس ای ایس کی دونوں کمپنیاں ریلائنس گروپ کی ہیں۔ یہ سچ ہے کہ عام آدمی پارٹی نے دہلی اسمبلی چناؤ کے دوران یہ وعدہ کیا تھا کہ وہ بجلی کمپنیوں کے بلوں کی جانچ کرائے گی اور وہ وعدہ اس تصور پر مبنی تھا کہ بجلی کمپنیاں گڑ بڑی کرتی ہیں۔ بجلی میٹرکافی تیز چلتے ہیں اور بلوں میں دھاندلی ہوتی ہے۔ ممکن ہے کے اس میں سچائی بھی ہو اس کی جانچ کا جو فیصلہ اروند کیجریوال نے کیا ہے وہ لائق خیر مقدم ہے۔ اسی طرح بجلی کے میٹروں کی جانچ بھی ضروری ہے۔ ٹرانسمیشن میں ہونے والے نقصان بھی ہے۔ یہ ایسا کام ہے جو دہلی سرکار کو کرنا چاہئے تھا لیکن ایسی کسی جانچ کے نتیجے آنے سے پہلے صرف چناوی وعدہ نبھانے کے نام پربجلی کے دام آدھے کرنے کا فیصلہ کسی بھی طرح سے دلیل آمیز نہیں کہا جاسکتا۔ خاص کر اس لئے کے ابھی ہمیں معلوم نہیں کہ یہ سبسڈی دی جارہی ہے اس کا پیسہ کہاں سے آئے گا؟ ماہرین کا کہنا ہے کہ سرکار نے بجلی کی شرحوں کو آدھے کرنے کے بجائے سبسڈی 50 فیصدی تک بڑھا کر 400 یونٹ تک کی کھپت والوں کو 31 مارچ تک فوری راحت دے دی ہے۔دہلی سے متعلق مسائل دور کرنے کا وعدہ پورا کرنا ابھی باقی ہے۔ بجلی کے دام آدھے کرنے سے سرکار پر سبسڈی کا بوجھ 200 کروڑ روپے پڑے گا۔ تقسیم کرنے والی کمپنیوں پر پڑنے والے بوجھ کو پورا کرنے کے لئے ٹاٹا پاور کو61 کروڑ اور ٹرانسکو کو 139 کروڑ روپے دئے جائیں گے۔ بی ایس ای ایس راجدھانی اور بی ایس ای ایس یمنا پاور کو کچھ نہیں ملے گا کیونکہ ان پر 45000 کروڑ روپے پہلے ہی سے باقی ہیں۔ بجلی کمپنیوں سے سبسڈی دینا ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ کو دینے جیسا ہے۔ ان سے ریٹ پلٹوانے کی بجائے انہیں ہی سبسڈی دی جارہی ہے۔ سبسڈی کا یہ بوجھ ٹیکس کی شکل میں دہلی والوں کی جیب سے ہی نکلا پیسہ ہوگا۔ دہلی والوں کا اصلی غصہ تیز بھاگتے میٹروں اور بے تکے چارجز کو لیکر تھا کسی ایک ماہ میں گھریلو تقریب کے سبب بڑھی کھپت کی بنیاد پر بڑھاہوا لوڈ ہمیشہ کے لئے برقراررکھنا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ مسائل کب دور ہوں گے یہ کوئی نہیں جانتا۔ بہرحال بجلی کمپنیوں کے کھاتوں کی جانچ سی اے جی سے کروانے سے آر ڈبلیو اے بہت خوش ہیں۔ راجو ککاریا جو آر ڈبلیو اے گریٹر کیلاش کے پردھان ہیں، کہنا ہے کہ سی اے جی آڈٹ کا خیرمقدم ہے لیکن اس بات کی سی اے جی کو جانچ کرنی چاہئے کہ ٹیکس اتھارٹی میں ڈسکوم میں کیا اسٹیٹمنٹ داخل کیا ہے۔ کیونکہ اتھارٹی میں ڈسکوم کی طرف سے فائدہ دکھایا گیا ہے اور ڈی ای آر سی میں خسارہ۔سورب گاندھی جو یونائیٹڈ ریزیڈنٹ آف دہلی کے جنرل سکریٹری ہیں کا کہنا ہے سی اے جی آڈٹ کا خیر مقدم ہے۔ لڑائی شروع سے آر ڈبلیو اے ہی لڑ رہا ہے جسے وزیراعلی اروند کیجریوال نے پورا کردیا ہے۔ سی اے جی کے ذرائع کے مطابق جیسے ہی آڈٹ کے لئے باقاعدہ خط ملے گا اس سمت میں کام شروع کردیا جائے گا۔ تینوں بجلی کمپنیوں سے جولائی2002 ء سے لیکر اب تک کے کھاتوں سے متعلق دستاویز اور آمدنی خرچ سے وابستہ کاغذات مانگے جائیں گے۔ یہ ملنے کے بعد ان کے کھاتوں کی جانچ شروع ہوگی ابھی تک ان بجلی کمپنیوں کو لگ رہا تھا کہ پرائیویٹ کمپنی ہونے کے ناطے ان کا سی اے جی آڈٹ نہیں ہوسکتا لیکن سرکار کی سختی کے سامنے ڈسکوم کے دعوے دھرے رہ گئے۔اور کئی برسوں سے دہلی کے عام بجلی صارفین کے ساتھ ساتھ ڈی آر سی بھی درپردہ طور سے ڈسکوم کے کھاتوں کی جانچ کی مانگ سی اے جی سے کرانے پر متفق تھی لیکن سابق دہلی سرکار کی کمزور قوت ارادی یا دیگر اسباب سے وہ اسے ٹالتی رہی۔ مسئلہ محض بجلی کمپنیوں کے آڈٹ کا نہیں بیشک اس کے اچھے نتائج ملنے کی امید ہے لیکن اصل ضرورت بجلی سیکٹر میں بڑے سدھار کی ہے۔ بجلی پیدا کیسے ہو؟ ٹرانسمیشن کیسے ہو؟ کم چوری کیسے ہو؟ اس کو روکا جائے وغیرہ وغیرہ اس پر غور کرنا انتہائی ضروری ہے۔
(انل نریندر)

ملائم سنگھ یادو اور لالو پرساد یادو میں نوک جھونک !

جب سے لالو پرساد یادو جیل سے باہر آئے ہیں طرح طرح کے عجیب و غریب بیان دے رہے ہیں۔ آج کل وہ کانگریس پارٹی اور اس کے نائب صدر سے اتنا متاثر ہیں کہتے ہیں راہل گاندھی بھاجپا کی طرف سے پردھان منتری کے امیدوار نریندر مودی اور آپ پارٹی کے نیتا اروند کیجریوال سے لاکھ گنا بہتر ہیں۔ انہوں نے بھروسہ جتایا کے سبھی سیکولر پارٹیاں فرقہ وارانہ طاقتوں کے خلاف متحد ہوں گی۔ کانگریس ایک قومی پارٹی ہے ہم سبھی متحد ہوکر لڑائی لڑیں گے۔ آر جے ڈی چیف نے کہا کہ وہ کسی بھی قیمت پر فرقہ وارانہ طاقتوں کو اقتدار تک پہنچنے نہیں دیں گے۔ لالو جی نے کانگریس صدر سونیا گاندھی سے بھی ملاقات کی اور پچھلے چناؤ میں تال میل نہ کرنے پر افسوس جتایا اور کہا کہ وہ 2009ء کی غلطی نہیں دوہرائیں گے۔ آنے والے لوک سبھا چناؤ میں کانگریس لوک جن شکتی پارٹی کے ساتھ مل کر چناؤ میدان میں اتریں گے۔ قابل ذکر ہے کہ 2009ء کے لوک سبھا چناؤ میں آر جے ڈی اور لوک جن شکتی پارٹی نے اتحاد کر کانگریس کو صرف تین سیٹیں دینے کی پیشکش کی تھی۔ اس کے چلتے دونوں پارٹیوں کے بیچ اتحاد ٹوٹ گیا۔ اس کے بعد سماجوادی پارٹی کے چیف ملائم سنگھ یادو کو ایک چاٹو بھائی کہہ ڈالا۔ وہ لالو سے خاصے ناراض ہیں۔ پچھلے دنوں لالو مظفر نگر فساد متاثرین سے ملے تھے۔ اس دوران اکھلیش سرکار پر کچھ اعتراض آمیز تبصرے بھی کئے اس پر ملائم نے انہیں جم کر کوسا۔ دراصل ملائم نے لکھنؤ میں ورکروں کے بیچ کہہ دیا تھا کہ کانگریس کے اشارے پر لالو یادو نے مظفر نگر کے دنگا متاثرین کے کیمپوں کا دورہ کیا اور جیل سے چھوٹ کر اترپردیش میں سپا کے خلاف سیاست کرنے کی کوشش میں ہیں۔ انہیں اچھی طرح پتہ ہے کہ وہ یہ سب کانگریس کی چاپلوسی کررہے ہیں۔ ناراضگی میں انہوں نے یہاں تک کہہ ڈالا کے لالو تو کانگریس کے تلوے چاٹنے پر اتارو ہوگئے ہیں۔ ایسے میں لالو کی سیاست سے سپا ورکروں کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ بہار میں فلاپ ہونے کے بعد وہ یوپی میں سیاسی جوکر کی طرح حرکتیں کررہے ہیں۔ ملائم سنگھ یادو کے تلخ تبصرے سے ناراض لالو یادو نے تیور دکھانے شروع کردئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملائم ان کے بڑے بھائی جیسے ہیں ایسے میں وہ ان کا لحاظ کررہے ہیں اس لئے وہ ٹھیٹ جواب دینا نہیں چاہتے۔ لالو نے اپنے خاص انداز میں کہا کہ میڈیا نے یہ دکھا دیا ہے کہ ملائم سنگھ دو تین ہفتوں سے سو نہیں پائے کیونکہ وہ اپنے گاؤں سیفئی میں بالی ووڈ کی عریاں لڑکیوں کا ناچ دیکھنے میں لگے رہے۔ ہو سکتا ہے کہ وہ نیند کی غفلت میں اس طرح کی باتیں کررہے ہوں۔ لالو نے ملائم کو خبردار انداز میں کہا تلوے چاٹنے جیسی باتیں نہ کریں ورنہ ان کی بھی زبان کھل جائے گی تو انہیں جواب دیتے نہیں بنے گا۔ دونوں یادو کے یہ لڑائی دلچسپ بن گئی ہے۔ لالو پوری طرح سے کانگریس میں رم گئے ہیں۔ کانگریس کے گن گان کرتے نہیں تھکتے اس نئے کانگریس پریم کی کیا وجہ ہے ہماری سمجھ میں تو نہیں آیا۔ جیل جانے کے بعد لالو کی بہار میں پوزیشن پہلے سے بہتر ہوئی ہے جبکہ کانگریس کی وہیں کے وہیں ہے۔ آج بہار میں کانگریس کو لالو کی زیادہ ضرورت ہے نہ کہ لالو کو کانگریس کی۔ پھر پتہ نہیں لالو جیسے سرکردہ لیڈر یوں چمچوں کی طرح کانگریس کا گن گان کیوں کررہے ہیں؟
(انل نریندر)

03 جنوری 2014

ویر بھدر اشو پر بری پھنسی کانگریس:ہٹائے تب نہ ہٹائے تب مشکل میں

راجیہ سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر ارون جیٹلی نے نہ صرف ہماچل پردیش کے وزیر اعلی کی مشکلیں بڑھا دی ہیں بلکہ کانگریس اعلی کمان کے لئے ایک نیا درد سر کھڑا کردیا ہے۔ مسٹر جیٹلی نے وزیر اعظم منموہن سنگھ کو خط لکھا تھا جس کی ایک کاپی سی بی آئی ڈائریکٹر رنجیت سنہا کو بھی بھیجی گئی۔ قابل ذکر ہے کہ چناؤ کمیشن کو اپنی املاک کی غلط جانکاری دینے اور سائیں کوٹھی پن بجلی گھر معاملے میں دھاندلی کر کروڑوں روپے بطور کمیشن کھانے اور ممبئی کی ایک فولاد کمپنی کو پیسوں کے بدلے رعایت دینے سے متعلق کئی گھوٹالوں کے انکشاف کے بعد ویر بھدر سنگھ اور ان کی بیوی پرتیما بری طرح سے پھنس گئے ہیں۔ ویر بھدر پر کارروائی کی مانگ کو لیکر بھاجپا یووا مورچہ نے منگلوار کو کانگریس نائب صدر راہل گاندھی کے گھر کے سامنے مظاہرہ بھی کیا۔ مشتعل مظاہرین پر پولیس نے پانی کی بوچھار کر بھیڑ کو منتشر کیا۔ بھاجپا یووا مورچہ کے پردھان انوراگ ٹھاکر، پردیش بھاجپا یووا مورچہ کے نائب پردھان گورو کھاٹی کی قیادت میں بھاجپا ورکروں نے راہل گاندھی اور ویر بھدر سنگھ کا مظاہرے کی جگہ پتلا بھی پھونکا۔ اس موقعے پر انوراگ ٹھاکر نے بتایا کے کرپشن کے اشو پر کانگریس دوہری باتیں کرتی ہے۔ ایک طرف راہل گاندھی لوکپال بل کو پاس کرانے کا سہرہ لینے کو بیتاب ہیں تو دوسری طرف کانگریس حمایت کے وزیر اعلی کو بچانے میں جٹی ہے۔ معاملے کی سنجیدگی کو دیکھتے ہوئے کانگریس اعلی کمان نے ویر بھدر سے جب اس معاملے میں صفائی مانگی تو ان کی ایم پی بیوی نے ان کی طرف سے سات صفحات کا ایک وضاحت نامہ پارٹی ہیڈ کوارٹر سے جاری کردیا۔ اس صفائی نامے سے سینئرلیڈر شپ مطمئن نہیں ہے۔ لہٰذا انہوں نے ویر بھدر کو دہلی طلب کیا۔راہل گاندھی کے گھر پر مظاہرے کے بعد کانگریس ہائی کمان کافی دباؤ میں نظر آیا کیونکہ اس سے پہلے آدرش ہاؤسنگ سوسائٹی کی جانچ رپورٹ کو کوڑے دان میں ڈالنے والے وزیر اعلی پرتھوی راج چوہان کو راہل کڑی پھٹکار لگا چکے ہیں ایسے میں ویربھدر سنگھ کا اتنے بڑے گھوٹالے پر بچاؤ راہل کی نئی امیج خراب کرسکتا ہے۔ویربھدر دہلی آئے بدھوار کو نہ تو سونیا گاندھی ان سے ملیں اور نہ ہی راہل گاندھی۔ انہیں امبیکا سونی سے مل کر اپنی صفائی پیش کرنی پڑی اور سبھی الزامات کو بے بنیاد بتایا اور معاملے سے متعلق کچھ دستاویز دکھائے۔ انہوں نے اپوزیشن پارٹی کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے ان کے و ان کے خاندان کیخلاف اندھی نفرت کا الزام لگایا۔ انہوں نے الزامات سے انکارکرتے ہوئے کہا یہ سب سیاسی اغراض پر مبنی ہے۔ کانگریس اعلی کمان کی اب مشکل یہ ہے کہ وہ ایک حد تک ویربھدر سنگھ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی کیونکہ ہماچل کانگریس کا مطلب ہے ویربھدر سنگھ اور انہیں عہدے سے ہٹانے کا مطلب پارٹی میں تقسیم۔ ایک پہاڑی ریاست میں اپنی سرکارکھوبیٹے ہیں لہٰذا پارٹی کے سامنے نیا درد سر ویر بھدر سنگھ کے سبب کھڑا ہوگیا ہے۔ سوال یہاں یہ بھی اٹھتا ہے جو الزام بھاجپا نے ویربھدر سنگھ پر لگائے ہیں یہ سبھی تب کے ہیں جب وہ مرکزی حکومت میں وزیر فولاد ہوا کرتے تھے۔ انہی الزامات کے چلتے کانگریس اعلی کمان نے انہیں ہٹادیا۔ پھر ویربھدر کو ہماچل کی کمان سونپ دی۔ ویربھدر نے پارٹی کو چناؤ جتادیا اور کانگریس کی جھولی میں ایک اور ریاست آگئی۔ اگر ویربھدر قصوروار تھے تو انہیں ہماچل کی کمان کیوں سونپی گئی۔ آج دراصل اروند کیجریوال کے ڈر اور مہم سے کانگریس اعلی کمان گھبراگئی ہے۔ اگر ہٹاتی ہے تو تب مرتی ہے نہیں ہٹاتی تب مرتی ہے۔ ادھر کنواں تو ادھر کھائی۔
(انل نریندر)

آتنک واد کی زد میں روس: 24 گھنٹے میں دو دھماکے

روس میں لگاتار دو دھماکوں نے چونکادیا۔ جنوبی روس کے وولگو گراد شہرمیں مسلسل دوسرے دن ہوئے فدائی بم حملے میں کم سے کم 15 لوگ مارے گئے اور23 زخمی ہوئے۔ سکیورٹی حکام نے بتایا کہ شہر کے جیریسکی ضلع کے بازارکے پاس ایک ٹرالی بس میں دھماکہ ہوا تھا جس میں15 لوگ مارے گئے تھے۔دھماکہ جس وقت ہوا اس وقت بازار میں بہت بھیڑ تھی جس کی وجہ سے زیادہ تعداد میں لوگ زخمی ہوئے۔ اس سے ایک دن پہلے وولووگراد میں ایک ریلوے اسٹیشن پر خود کش بم حملے میں18 لوگ مرے تھے۔اس شہر میں آنے والی فروری2014 میں سرمائی اولمپک کھیل ہونے والے ہیں۔ یہ کھیل روس حکومت کے لئے ناک کا سوال بن گئے ہیں۔ جنوبی روس کے کچھ حصوں میں آزاد اسلامی دیش کی شکل میں الگ کرنے کی وکالت کرنے والے دہشت گرد ان کھیلوں کو نہ ہونے دینے کی پوری کوشش کررہے ہیں۔ گزشتہ جولائی میں انہوں نے ایک ویب سائٹ پرکھیلوں کو روکنے کے لئے پوری طاقت لگانے کی دھمکی بھی دی تھی۔ ابھی تک کسی تنظیم نے ان دھماکوں کی ذمہ داری نہیں لی ہے۔ریلوے اسٹیشن پر ہوئے حملے کے پیچھے ’’بلیک ونڈو‘‘ نام کی ایک خطرناک سائبیریائی خاتون تھی۔اس میں اس کا نام اوکسانا اسلانوا بتایا جاتا ہے ، اس کا ہاتھ ہے۔ ’دی سائبیرین ٹائمس‘ کی رپورٹ کے مطابق پولیس حکام کو حملے کی ابتدائی جانچ میں26سال کی اس خاتون کا پتہ لگایا جارہا ہے۔وولگو گراڈ شہر کی تاریخ بھی اہمیت کی حامل ہے۔ جب سوویت روس ہوا کرتا تھا تو اسے اسٹالن گراڈ کہا جاتا تھا اور دوسری جنگ عظیم کی ایک اہم لڑائی یہاں لڑی گئی تھی۔ ہٹلر نے ڈھائی برسوں تک اس شہر کو گھیرے رکھا تھا اور اسٹالن نے یہاں ہٹلر کی فوجوں کو ہرایا تھا۔ دوسری جنگ عظیم میں اسٹالن گراڈ کی لڑائی ایک فیصلہ کن موڑ ثابت ہوئی اور پھر ہٹلر ہارتا ہی چلا گیا۔ دیش کے جنوبی حصے کو ایک آزاد اسلامی ملک کی شکل میں الگ کرنے کی وکالت کرنے والی مسلم دہشت گرد تنظیم اولمپک کھیل نہیں ہونے دینا چاہتی۔ یہ روس کے صدر پوتن کے لئے ایک ساکھ کا سوال بن گیا ہے۔ سکیورٹی چاق چوبند کرنے کے حکامات دے کر انہوں نے عالمی دنیا کو یہ بھروسہ دلانے کی کوشش کی ہے کہ روس ہزاروں آنے والوں کی حفاظت کرنے میں ہر طرح سے اہل ہے۔ تازہ خبر کے مطابق وولگو گراڈ میں ہوئے ان دو خودکش حملوں میں زخمی دو لوگوں کے دم توڑنے کے بعد مرنے والوں کی تعداد34 تک پہنچ گئی ہے۔ وزارت نے ایمرجنسی کا اعلان کیا ہے۔دو فدائی حملوں نے پورے دیش میں خوف کا ماحول بنا دیا ہے۔ اسی کے چلتے فروری میں ہونے والے سرمائی اولمپکس کی سلامتی کو لیکر اندیشات جتائے جارہے ہیں۔ وولگوگراڈ شہر سوچی سے 690 کلو میٹر دور ہے۔ صدر ولادیمیر پوتن کی پوری کوشش ہے کہ ان کھیلوں کو کامیاب بنانے کے ساتھ ساتھ پوری دنیا کو یہ دکھانا ہے کہ روس ایک جدید اور ایک کامیاب ملک ہے۔ لیکن ان دھماکوں نے دنیا کے ساتھ ساتھ روسیوں کے دل میں عدم سلامتی کو لیکر اندیشات پیدا کردئے ہیں۔ ہم امید کرتے ہیں کے ان دہشت گردوں کا صدر پوتن بروقت صفایا کردیں گے اور کیونکہ ٹرانسپورٹ سینٹر اور دوسری جنگ عظیم میں روس کی یہ کامیابی کی علامت ہے۔
(انل نریندر)

02 جنوری 2014

دفعہ377 پر سپریم کورٹ میں دائر عرضی کا راستہ آسان نہیں!

مرکزی سرکار نے ہم جنسوں کے رشتوں کو جرم ماننے والے عدالت کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں نظرثانی عرضی داخل کردی ہے۔ حکومت نے فیصلے سے ہم جنسوں اور ہیجڑوں کو ہو رہی پریشانی کی دہائی دیتے ہوئے اپنے فیصلے پر نظرثانی کی درخواست کی ہے۔ عدالت پہنچی سرکار کا کہنا ہے دفعہ 377 یکساں اور آزادانہ بنیادی حقوق کے خلاف ہے۔ سپریم کورٹ نے 11 دسمبر کو ہم جنسی کو جرم کے زمرے سے باہر کرنے والے دہلی ہائی کورٹ کے فیصلے کو منسوخ کردیا تھا اور آئی پی سی کی دفعہ377 کو آئینی ٹھہرایا تھا۔ سینئر عدالت کے فیصلے سے ہم جنسی کے رشتے ایک بار پھر جرائم کے زمرے میں آگیا ہے۔ اس معاملے میں جسٹس جے۔ ایس سنگھوی اور جسٹس سدھانشو جوتی نے فیصلہ سنایا تھا۔ جسٹس سنگھوی ریٹائر ہوچکے ہیں ایسے میں نظرثانی عرضی پر سماعت کے لئے جسٹس مکھوپادھیائے کے ساتھ ایک نئے جج معاملے کی سماعت کریں گے۔ حکومت نے اپنی نظرثانی عرضی میں بڑی عدالت کے فیصلے کو صحیح نہیں مانتے ہوئے اس سے ہم جنسوں اور ہیجڑے متاثر ہوتے ہیں۔ ان کے ساتھ نا انصافی کو روکنے کے لئے ہی سرکار نے یہ قدم اٹھایا ہے۔ مرکزی سرکار کو ان کی ضرورتوں کو دیکھتے ہوئے ان کی عرضی پر نظرثانی کرنی چاہئے۔ کچھ انچاہے سوالوں کا جواب دینا پڑ سکتا ہے۔ ہندو، مسلم ،عیسائی اور سکھوں کے مذہبی اداروں نے اس کی مخالفت کی ہے۔ حکومت نے ہائی کورٹ میں کہا تھا کہ دفعہ377 کے بیجا استعمال ہونے کا ثبوت نہیں ہے۔ جب سے یہ وجود میں آئی ہے تب سے صرف15 برس میں صرف200 معاملوں میں لوگوں کو سزا دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ ہم جنسی سیکس کرنے والے لوگوں کی تعداد پورے ملک میں25 لاکھ کے قریب ہے۔ ان لوگوں میں ایڈس کا فروغ بھی زیادہ نہیں ہے۔ سماعت کے دوران وزارت داخلہ نے ہائی کورٹ میں دئے گئے اپنے حلف نامے میں کہا تھا کہ آئینی کمیشن نے اپنی 42 ویں رپورٹ میں دفعہ377 کو برقرار رکھنے کی سفارش کی تھی۔ کیونکہ سماج میں اس کے خلاف ناراضگی ہے۔ سماعت کے دوران سرکار نے کہا تھا دفعہ کسی بھی حساب سے غیر آئینی نہیں ہے۔ ایک غیر قانونی کام صرف اس وجہ سے قانونی نہیں ہوجاتا کے اسے کرنے والے آپسی رضامندی سے کررہے ہیں۔ دفعہ377 متاثرہ کی شکایت پر عائد ہوتی ہے اس لئے اس کے لئے منمانے طریقے سے استعمال ہونے کی کوئی مثال نہیں ہے۔ آئین کے سیکشن 14,21 (برابری اور زندگی )کے حق کے برعکس نہیں ہے۔ عوام کے جذبات کا احترام کرتے ہوئے آئین سازیہ نے اس دفعہ کو برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ عدالت کا کام نہیں ہے وہ سماعت پر غیر معمولی اخلاقی تقاضوں و قدرتی نظام کے خلاف ایک ناقابل برداشت دفعہ جرم کو فروغ دینے والی ہے جو برطانوی دور کے قوانین سے میل کھاتی ہے جسے بھارت میں 1860 میں لایا گیا تھا۔ اب آگے کیا ہوگا؟ جسٹس مکھوپادھیائے کے ساتھ اب دوسرے جج اس عرضی پر اسی ماہ سماعت کرنے والے ہیں۔ نظرثانی عرضیوں کی کامیابی کا ریکارڈ مشکل سے ایک فیصدی ہے کیونکہ جن نکتوں پر بحث پہلے ہو چکی ہوتی ہے ان پر بحث کے بعد فیصلہ پلٹنا مشکل ہوتاہے۔ راجیہ سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر ارون جیٹلی کا کہنا ہے کہ معاملے پر بحث ختم نہیں ہوئی ہے۔ عدالت نے دفعہ377 کے جواز کو صحیح ٹھہرایا ہے۔ اس دفعہ کے تحت کیا آتا ہے اور کیا نہیں اسے لیکر ابھی پوزیشن واضح نہیں ہے۔ آخر کار سرکار آگے بڑھے اور راستہ نکالے۔
(انل نریندر)

عام آدمی پارٹی سرکار نے پورا کیا اپنا مفت پانی کا وعدہ!

ماننا پڑے گا کہ عام آدمی پارٹی کی سرکار نے نئے سال کا آغاز دھماکیدار انداز میں کیا ہے۔ سال شروع ہونے سے دو دن پہلے ہی دہلی کے نئے وزیر اعلی اروند کیجریوال نے تیز بخار کے سبب گھر میں تھے لیکن ان کے سیاسی جذبے کو ذرا بھی کمزوری نہیں ملی۔ انہوں نے گھر پر ہی جل بورڈ کے حکام کی میٹنگ بلا کر مفت پانی دینے کا ایک بڑا فیصلہ دہلی کے شہریوں کو دیا ہے۔ خیال رہے یہ اشو کیجریوال کے ایجنڈے میں سب سے اوپر تھا۔ وزیر اعلی بننے کے تین دن بعد ی کیجریوال نے یکم جنوری 2014 سے ہر گھر میں کنکشن پر 20 ہزار لیٹر مفت پانی دینے کا اعلان کیا۔ یعنی ہر کنبے کو روزانہ666 لیٹر پانی مفت ملے گا۔لیکن اس پر سیور اور دیگر سروس ٹیکس نہیں لگیں گے۔جل بورڈ کے حکام نے بتایا تین مہینے تک مفت پانی دینے کا خرچ جل بورڈ اٹھائے گا جو قریب41 کروڑ روپے ہوگا۔ تین مہینے کے بعد یہ خرچ دہلی سرکار اٹھائے گی۔ اس اسکیم پر سالانہ 165 کروڑ روپے خرچ ہوں گے اور اس سہولیت سے دہلی کے چار لاکھ کنبوں کو مفت پانی کی سہولت ملے گی۔ ابھی 218.20 روپے کا بل 20 ہزار لیٹر پانی پر آتا تھا۔جہاں میٹر نہیں ہیں وہاں سے310 روپے کا بل آتا ہے۔ جنوری سے اس ریٹ میں 10 فیصدی اضافہ ہوگیا ہے۔ ان کنبوں کو پانی کے چارجز 66.50 سیور چارجز 39.50 سروس چارجز 133.10 اور سیلس1.33 کل ملاکر 240 روپے43 پیسے فی ماہ کی بچت ہوگی۔ سٹی زن فرنٹ واٹر ڈیموکریسی کے کنوینر ایس۔اے۔ نقوی کا دعوی ہے کہ 666 لیٹر پانی دینے والا دہلی دنیا کا پہلا شہر ہوگا۔ ابھی ساؤتھ افریقہ کے سووتو شہر میں عدالت کے حکم پر غریبوں کو 40 لیٹر پانی مفت دیا جاتا ہے۔ دہلی سرکار نے ہر کنبے کو 666 لیٹر مفت پانی دینے کا اعلان تو کردیا ہے لیکن گروپ ہاؤسنگ سوسائٹی کے بارے میں کوئی ذکر نہیں کیا۔ کئی آر ڈبلیو اے اس پر سوال اٹھا رہی ہیں کہ آخر اس اعلان سے کتنے صارفین کو حقیقت میں فائدہ ہوگا؟ سوسائٹیوں میں پانی کا میٹر عام ہوتا ہے ہر سوسائٹی میں 100 سے لیکر700 فلیٹ ہوتے ہیں اور مشترکہ میٹر ہونے کی وجہ سے ہر سوسائٹی کا مہینے کا خرچ 1000 لیٹر سے اوپر ہی ہوگا ایسے میں کیا گروپ سوسائٹی مینجمنٹ کو پورے بل کی ادائیگی کرنی پڑے گی؟یہ دوہرا رویہ ہے اور برابری کے حق کی خلاف ورزی ہے۔ دہلی میں 2ہزار سے یادہ گروپ ہاؤسنگ سوسائٹی ہیں۔ دہلی جل بورڈ کے اعدادو شمار پر غور فرمائیں تو محض9 لاکھ پانی کے کنکشن پر ہی میٹر لگے ہیں ۔ واقف کاروں کے مطابق مہینے میں 20 ہزار لیٹر پانی کا استعمال کرنے والے محض 3-4 لاکھ میٹر ہی ہوں گے۔ ان ناجائز کالونیوں میں جہاں پائپ لائن کے ذریعے پانی کی سپلائی نہیں ہوتی ان کا کیا ہوگا؟ صرف انہی لوگوں کو فائدہ ملتا نظر آرہا ہے جہاں پہلے سے پانی کے کنکشن لگے ہوئے ہیں۔ پانی کے کنکشن جل بورڈ ریگولر کالونیوں کو ہی دیتی ہے۔ ایسے میں شبہ ہے کہ غریب لوگوں کو مفت پانی مل پائے گا پھر سب سے اہم بات یہ ہے کہ پانی بھی تو برابر آئے۔ پانی پہنچانے کی ذمہ داری تو پھر بھی جل بورڈ کی ہے یہ سسٹم کیسا ہے کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اپوزیشن بھاجپا اور کانگریس سرکار کے اس فیصلے کو جنتا کی سوچ کا چھلاوا بتا رہے ہیں۔ کانگریس ترجمان سندیپ دیکشت نے انہیں اعدادو شمار کی بازیگری بتاتے ہوئے کہا کہ 20 کلو لیٹر کی مقدار پر پہلے ہی سبسڈی دی جارہی تھی وہیں بھاجپا کے ترجمان ہریش کھرانہ نے بتایا کہ دہلی میں ابھی بھی تقریباً 20 فیصدی صارفین بغیر میٹر والے ہیں۔ ساتھ ہی 40 فیصد لیکیج کو دیکھتے ہوئے اس کا فائدہ محدود طبقے تک ہی رہے گا۔ وہیں غیر سیاسی جماعت اس فیصلے کا خیر مقدم کررہی ہیں۔ کئی سماجی انجمنوں نے کہا اس سے لوگوں کو فائدہ ہوگا۔ ہمارا خیال ہے کہ اروند کیجریوال مبارکباد کے مستحق ہیں۔ انہوں نے اپنا وعدہ پورا کیا ہے۔ یہ گورننس کی صحیح سمت میں صحیح قدم ہے۔ کمیوں تو ہر اسکیم میں رہتی ہیں لیکن اس سے ان کے مقصد کو دبایا نہیں جاسکتا۔ جنتا کو راحت ملنی ہی چاہئے تھی۔
(انل نریندر)

01 جنوری 2014

کھٹی میٹھی یادو کے ساتھ الوداع2013 !

الوداع 2013 کا سال کئی مہینوں سے کافی اہمیت کا حامل رہا۔ یہ سال کچھ کھٹی میٹھی یادوں کے ساتھ چلا گیا۔ پچھلے کچھ دنوں سے دہلی اور شمالی بھارت میں کڑاکے کی سردی نے جنتا کو ہمیشہ پریشان کیا رکھا۔ راجدھانی میں ٹھنڈ کا قہر دکھائی دینے لگا ہے۔ درجہ حرارت 4 ڈگری سے بھی کم ہے۔ یہ ہی حال شمالی ہند کا بھی ہے۔ حالت یہ ہے کہ پہاڑوں سے زیادہ سردی میدانی علاقوں میں بڑھتی جارہی ہے۔ ایتوار کو شملہ سے زیادہ سردی ہریانہ کے حصار اور نارنول میں تھی۔ جہاں درجہ حرارت کم سے کم2.1 ڈگری رہا۔ نارنول میں تو 0.1 ڈگری تک درجہ حرارت نیچے آگیا۔2013ء میں اتنے واقعات رونما ہوئے ہیں سب کو بیان کرنا مشکل ہے لیکن کچھ اہم واقعات ایسے ہیں جنہوں نے دیش کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا اور جس کا اثر طویل المدت دیکھنے کو ملے گا۔ جارکھنڈ کی قدرتی آفت اس سال کی سب سے بڑی ٹریجڈی رہی۔ 16-17 جون کو آئی قیامت خیز آبی لہر نے اتراکھنڈ میں درد اور آنسوؤں کی ایسی یادیں چھوڑی ہیں جن کو بھولنا آسان نہیں ہوگا۔ اس واقعے میں کتنے مرے ہیں یہ شاید کبھی بھی پتہ نہ چلے۔ اس سال کئی اہم ہستیوں نے ہمارا ساتھ چھوڑا ہے ان میں نیلسن منڈیلا، پران صاحب اور فاروق شیخ ، راجیش کھنہ اور وینزویلا میں 14 سال تک دیش پر راج کرنے والے تیز طرار لیڈر اونگوشہاویزشامل رہے جن کی95 سال میں موت ہوگئی۔ مشہور گائک اور دھروپد کے استاد ضیا ء الدین ڈاگر ہمیں 9 مئی کو چھوڑ کر چلے گئے۔ سابق مرکزی وزیر اور سینئر کانگریسی لیڈر ودیا چرن شکل کا نکسلی حملے کے بعد دیہانت ہوگیا۔ سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی کے قریبی اور رشتے دار ارون نہرو چلے گئے اس کے بعد نامور گلوکار منا ڈے 24 اکتوبر کو دنیا چھوڑ گئے۔ دنیا کی رائفلوں میں شامل اے کے۔47 کے خالق میخائل کلاشنکوف کا 23 دسمبر کو ماسکو میں دیہانت ہوگیا۔گرم ہوا ، شطرنج وغیرہ جیسی یادگار فلموں میں زور دار اداکاری کرنے والے فاروق شیخ دسمبر کے جاتے جاتے چلے گئے۔ اگر یہ کہا جائے سال 2013 اسکینڈلوں کے بھی نام رہا تو کہنا غلط نہ ہوگا۔16 دسمبر2012 کو نربھیا گینگ ریپ چھایا رہا۔ 2013ء میں خودساختہ گورو آسا رام ، صحافی ترون تیج پال اور سیاستداں جنسی اسکینڈل میں چھائے رہے۔ اس کی آنچ عدلیہ تک بھی پہنچ گئی۔ سپریم کورٹ کے سابق جسٹس اے۔ کے ۔گانگولی پر قانون کی ایک انٹرن نے جنسی استحصال کا الزام لگایا توادھر سیاست کے گلیاروں میں غیر فطری ہم جنسی کے الزام میں کئی پکڑے گئے۔ ایک دہائی تک دیش ودیش کے لاکھوں بھکتوں کے خودساختہ سوامی نارائن سائیں بھی آبروریزی کے الزام میں سلاخوں کے پیچھے پہنچ گئے ہیں۔
اگر ہم کچھ دیگر گھوٹالوں کی بات کریں تو 10 مئی کو ریلوے میں رشوت دینے کے کانڈ میں ریل منتری پون کمار بنسل کو اپنے عہدے سے استعفیٰ دینا پڑا تھا۔ ادھر لاٹری اسکیم کے ذریعے مغربی بنگال میں سرمایہ کاروں کی گاڑھی کمائی کی لوٹ کا معاملہ سامنے آنے پر چٹ فنڈ گروپ کے چیئرمین پکڑے گئے۔ مدھیہ پردیش کے وزیر خزانہ رہے راگھو جی پر ان کے ہی ایک نوکر نے لمبے عرصے تک لگاتار بدفعلی کے الزام لگنے کے بعد ان کے خلاف غیر فطری جنسی تعلق قائم کرنے کا مقدمہ درج کرایا۔ بھاجپا نے انہیں پارٹی سے نکال دیا۔ سپریم کورٹ اور ماتحت عدالتوں نے کئی اہم فیصلے دئے اور تلخ تبصرے کئے جو ویسے تو سسٹم کو درست کرنے کی جدوجہد کا حصہ تھے لیکن ان سے کہیں نہ کہیں عام آدمی کا درد بھی جڑتا چلا گیا۔27 دسمبر کو فیصلہ دیا کہ کسی بھی حلقے میں منفی ووٹنگ یعنی نوٹا کا بٹن دبا کر سبھی امیدواروں کو مسترد کرنے کا حق ووٹروں کو دیا گیا۔ کوئلہ کانڈ الاٹمنٹ گھوٹالہ کی جانچ رپورٹ میں تبدیلی کرنے کے لئے 8مئی کو سی بی آئی وزیر اعظم دفتر اور کوئلہ وزارت کو کڑی پھٹکار لگائی اور سی بی آئی کو باہری مداخلت سے نجات دلانے کے احکامات دئے۔ اب بات سیاست کی کرتے ہیں۔ یوپی اے کے ذریعے ہری جھنڈی کے بعد تلنگانہ کوہندوستان کی 29 ویں ریاست بنانے کا کام شروع ہوگیا۔ 13 ستمبر کو لال کرشن اڈوانی کے اعتراضات کے باوجود گجرات کے وزیر اعلی نریندر مودی کو پارٹی نے پی ایم امیدوار اعلان کردیا۔ پارلیمنٹ میں حملے کے قصوروار افضل گورو کو 19 فروری کو تہاڑ جیل میں پھانسی دے کر دفنایا گیا۔ 
ہریانہ کے سابق وزیر اعلی اوم پرکاش چوٹالہ ان کے بیٹے اجے چوٹالہ کو ٹیچنگ بھرتی گھوٹالے میں 10 سال کی سزا سنائی۔ بالی ووڈ اداکار سنجے دت کو 1993 میں ممبئی دھماکوں سے جڑے معاملے میں اسلحہ ایکٹ کے تحت قصوروار قرار دئے جانے کے بعد پانچ سال کی سزا ملی۔ پانچ ریاستوں کے اسمبلی چناؤ میں ایک کو چھوڑ کر کانگریس پارٹی کو کراری شکست کا منہ دیکھنا پڑا۔ مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ میں شیو راج سنگھ چوہان، رمن سنگھ دوبارہ وزیر اعلی بنے۔ دہلی میں معلق اسمبلی کے چلتے کئی دنوں سے کشمکش کے بعد اروند کیجریوال کی عام آدمی پارٹی نے اقتدار سنبھالا اور اروند کیجریوال 46 سال کی عمر میں دہلی کے سب سے نوجوان وزیر اعلی بنے۔ عام آدمی پارٹی نے اقتدار میں آنے سے سیاست میں صاف ستھرا اور اہم قدم اٹھایا۔ کرکٹ کے بھگوان سچن تندولکر کرکٹ سے رخصت ہوگئے۔ لیفٹ مورچہ نے چناؤ میں میزورم میں اہم جیت درج کی اور منِک سرکار نے چوتھی بار وزیر اعلی کے طور پر حلف لیا۔ اسپورٹ فکسنگ کے الزام میں تین کرکٹر سری سنت، اجیت چندیلا، انکت چوہان سمیت کئی گرفتاریاں عمل میں آئیں۔ پارلیمنٹ کے اندر باہر احتجاج کے بعد لوکپال بل پاس ہوا۔ مئی میں کانگریس کرناٹک میں اقتدار میں لوٹی اور اسمبلی چناؤ میں بھاجپا دو نمبروں پر سمٹ گئی۔ 
جنگی بیڑا آئی این ایس وکرم آدتیہ پانچ سال کی تاخیر کے بعد بحریہ میں شامل کیا گیا، جس سے بھارت کی سمندری طاقت بڑھی۔ اس سال 14 جولائی کو کانگریس نائب صدر راہل گاندھی کو بھیجے گئے آخری ٹیلی گرام کے ساتھ 163 سال پرانی ٹیلی گرام سروس ہندوستان کی تاریخ کے پنوں میں سماں گئی۔ کل ملاکر سال 2013ء کھٹی میٹھی یادوں کے ساتھ ہمیں الوداع کہہ گیا۔ اب امید کرتے ہیں نیا سال2014ء سبھی قارئین اور دیش کے شہریوں کیلئے خوش آئین ہوگا۔ میں اپنی جانب سے روزنامہ پرتاپ ،ویر ارجن اور ساندھیہ ویر ارجن کی طرف سے نیک خواہشات پیش کرتا ہوں اور توقع کرتا ہوں کے نیا سال خوش آئین ہو۔ ترقی کا سال ہو، میں نئے سال پر تمام قارئین کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔
(انل نریندر)

31 دسمبر 2013

راہل کا بیان! ہم تو ڈوبیں گے ہی ساتھ کانگریس کو بھی ڈوبادیں گے!

کانگریس نائب صدر راہل گاندھی نے لگتا ہے کہ نئے اوتار کے روپ میں جنم لیا ہے۔ راہل گاندھی کے نئے اوتار کو نہ تو ہم سمجھ سکے ہیں اور نہ ہی پارٹی کے کئی سینئر نیتا۔ وہ کب کیا کہہ دیں ،کردیں اس سے پارٹی میں ہڑکم مچا ہوا ہے۔ راہل گاندھی کی برشٹاچارکے داغ سے خراب ہوچکی کانگریس کی ساکھ کو نکھارنے کی اسے کوشش کہاجائے یا پھر جنتا کی نظر پہچاننے کی حکمت عملی سمجھا جائے۔سزا یافتہ سانسدوں اور ودھایکوں کو بچانے کیلئے کیندر کے ایک آدیش کو بکواس و پھاڑنے لائق بتا کر سرکار کا فیصلہ بدلوا چکے راہل نے اس بار مہاراشٹر سرکارکو ہلاکر رکھ دیا ہے۔ مہاراشٹر کے مکھیہ منتری پرتھوی راج چوہان کی موجودگی میں شکروار کو راہل نے کہا کہ آدرش گھوٹالے کی جانچ رپورٹ خارج کرنے کے فیصلے پر راجیہ سرکار کو دوبارہ غور کرنا چاہئے۔ کانگریسی حکومت والی ایک درجن ریاستوں کی بیٹھک کے بعد راہل گاندھی نے یہ ٹپنی کی۔ رپورٹ میں کئی سابق مکھیہ منتری و دیگر پھنسے ہوئے ہیں۔مہاراشٹر سرکار نے چوہان کی سربراہی میں کیبنٹ کی بیٹھک میں اسے سب کی منظوری سے رپورٹ کو خارج کیاگیا۔ راہل کی ٹپنی کے بعد اسہمت محسوس کررہے چوہان نے کہا کہ اپنے منتری منڈل سہیوگیوں سے اس بارے میں بات کریں گے۔ 
کیا راہل کو یہ سمجھ نہیں آرہا کہ ان کے اس اسٹنٹ سے اثر پارٹی کے بڑے نیتا سشیل کمار شندے اور سابق مکھیہ منتری اشوک چوہان پر بھی پڑ سکتا ہے۔ یہ دونوں مہاراشٹر کے مکھیہ منتری رہ چکے ہیں۔ دونوں نیتاؤں پر رپورٹ میں منفی ٹپنیاں ہیں۔آدرش جانچ سمیتی کی رپورٹ میں دونوں نیتاؤں کے خلاف کارروائی کی سفارش کی گئی ہے۔ شکروار کو اپنے سبھی مکھیہ منتریوں کی بیٹھک راہل نے خود اکیلے لیں جبکہ کانگریس ادھیکش سونیا گاندھی دہلی میں ہونے کے باوجود بیٹھک سے دور رہیں۔ آدرش جانچ سمیتی کی رپورٹ کو مہاراشٹر سرکار کے خارج کرنے کے فیصلے پر اعتراض جتایا اور دو ٹوک کہا کہ آدرش گھوٹالے میں کانگریس کی چوہان سرکار کے ملزم نیتاؤں کو نہیں بچا سکتی۔راہل کے غصے اور سخت انداز سے مکھیہ منتریوں اور سینئر پارٹی نیتاؤں میں ہڑکم مچ گیا ہے۔پارٹی کے اندر دو طرح کی سوچ چل رہی ہے۔ ایک سوچ یہ کہ کانگریس نائب صدر ایک طرف لوکپال بل کو اپنی کامیابیاں بتانا چاہ رہے ہیں وہیں دوسری طرف وپکش ان پر ملزموں کو بچانے کا الزام لگا رہا ہے،یہ کیسے چلے گا۔راہل گاندھی کی منشا کو دھیان میں رکھتے ہوئے اگر آدرش گھوٹالے کی جانچ رپورٹ نامنظور کرنے کا ٹھیکرا اگر مکھیہ منتری چوہان پر پھوٹا تو اس کا اثر ہونا لازمی ہے۔ اگر جانچ رپورٹ کے حساب سے کارروائی شروع ہوئی تو مہاراشٹر سے دہلی تک کانگریس کو اس کی آنچ میں جھلسنا پڑے گا۔مہاراشٹر کے مسٹر کلین کہے جانے والے مکھیہ منتری اشوک چوہان کی مصیبتیں اور کانگریس کی مصیبتیں کئی گنا بڑھ جائیں گی۔ راہل کے دہلی میں دکھائے تیوروں کے فوراً بعد مہاراشٹر بھاجپا کے جنرل سکریٹری ونود تاوڑے نے چوہان کے استعفے کی مانگ شروع کردی۔ کانگریس کے اندر ایک طبقے نے تو یہاں تک کہنا شروع کردیا کہ ’راہل کو ہٹاؤ ۔کانگریس بچاؤ‘۔ راہل گاندھی کے ’آپ‘ آدمی پارٹی کے سمرتھن کے حکم نامے کو تو کھلی چنوتی دہلی پردیش کانگریس کے نیتاؤں نے دی ہے جس سے پردیش کے نیتا دبے سر میں راہل گاندھی کے خلاف کامیاب ہوئے ہیں۔ کانگریس کے ایک سینئر ادھیکاری نے یہ حیرت انگیز خلاصہ کیا ہے کہ پارٹی سنگٹھن اور سرکار میں تین ایک جیسے ستا کیندر ادھیکش سونیا گاندھی ،نائب صدر راہل گاندھی اور پردھان منتری ڈاکٹر منموہن سنگھ ہونے سے آپسی نااتفاقی کی حالت پیدا ہوگئی ہے۔ یووراج راہل گاندھی کے غیر سیاسی نورتنوں کے فیصلے پارٹی کی جڑوں میں دیمک کا کام کررہے ہیں۔ اکھل بھارتیہ کانگریس کمیٹی کے ذرائع نے راہل گاندھی کو ہٹانے کے کھلے خط کے سماچار کی مخالفت کی ہے لیکن بھروسے مند ذرائع کے مطابق حال ہی میں ختم ہوئے راجستھان ،دہلی، آندھرا پردیش، چھتیس گڑھ ودھان سبھاؤں میں کانگریس کی بری طرح ہار کے لئے پارٹی کارڈر راہل گاندھی کو ہی ذمہ دار ٹھہرارہے ہیں۔یہ طبقہ کہہ رہا ہے کہ ’فی الحال دبے لفظوں میں‘ راہل گاندھی ہٹاؤ ۔کانگریس بچاؤ۔ اگر راہل اینڈ پارٹی کا رویہ ایسا ہی رہا تو یہ کانگریس پارٹی کو لے ڈوبیں گے۔
(انل نریندر)

اور اب راحت کیمپوں پر چلائے بلڈوزر!

مظفر نگر فساد اور غدر کے بعد پیدا ہوئے حالات نے اترپردیش کی سماجوادی سرکار کے ناک میں دم کررکھا ہے۔ ہمیں نہیں لگتا کہ اکھلیش سرکار اس موجودہ حالات سے نمٹنے میں کامیاب دکھائی دے رہی ہے۔ اس سرکار کا نہ تو اپنے کاریکرتاؤں پر کوئی کنٹرول ہے نہ منتریوں پر اور نہ ہی ادھیکاریوں پر۔ غیر سیاسی حالت بنی ہوئی ہے۔اگر ہم بات کریں مظفر نگر اور شاملی کے دنگا راحت کیمپوں کی بدانتظامی کی تو ان کیمپوں میں بچوں کی ٹھنڈ سے موت ہورہی ہے۔ ان کے ٹینکوں پر بلڈوزر چلائے جارہے ہیں۔ ان کیمپوں میں ٹھنڈ سے 74 بچوں کی موت ہوچکی ہے لیکن یوپی کے پرنسپل سکریٹری کا کہنا ہے کہ ٹھنڈ سے کوئی کبھی نہیں مرتا۔ اگر ایسا ہوتا تو سائبریا میں کوئی زندہ نہیں بچتا جو دنیا کا سب سے ٹھنڈا علاقہ ہے۔ محکمہ داخلہ کے پرنسپل سکریٹری اے ۔ کے گپتا جمعرات کو راحت کیمپوں میں بچوں کی موت سے متعلق سمیتی کی رپورٹ کی جانکاری دے رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ٹھنڈ سے کوئی نہیں مرتا۔ رپورٹ میں کچھ موتوں کی وجہ فوڈ پوائزنگ اور نمونیہ بتائی گئی ہے۔ نمونیہ گپتا صاحب ٹھنڈ سے ہوتا ہے۔ اس سے پہلے سپا پرمکھ ملائم سنگھ یادو نے کہا تھا کہ کیمپوں میں کوئی متاثر نہیں رہ رہا ہے جو ہیں بھاجپا اور کانگریس کے لوگ ہیں۔وہ سازش کے تحت وہاں ٹکے ہوئے ہیں حالانکہ پردیش کے ایک سینئر ادھیکاری نے بتایا کہ راحت کیمپوں میں اب بھی4785 لوگ رہ رہے ہیں۔ برہانہ میں واقع راحت کیمپ میں دیش بھر میں پردیش سرکار کی ہورہی بدنامی کے بیچ پرشاسن نے شکروار کو یہاں رہ رہے لوگوں پر خاصا دباؤ بنایا۔ اس پر یہاں رہ رہے 17 پریواروں کے قریب 100 لوگوں نے اپنے ٹینٹ ہٹا لئے۔ ٹینٹ لگی جگہوں کو بلڈوزروں سے برابرکردیا گیا۔ اس دوران متاثرہ پریواروں نے ورودھ بھی کیا لیکن پرشاسن کے سخت رویئے کے آگے وہ بے اثر رہا۔شاہ پور قصبے کے پاس تمبو میں رہ رہے 10 پریوار بھی تمبو اکھاڑ کر چلے گئے۔ ان سبھی کو راحت معاوضہ مل چکا ہے۔ مظفر نگر و شاملی کے راحت کیمپوں میں رہ رہے لوگوں کو پرشاسن نے صاف کردیا ہے کہ دوہرے معاوضے کی مانگ قابل قبول نہیں ہے۔ مکھیہ سچیو جاوید عثمانی نے کہا کہ انہیں رقم یا زمین نہیں دی جائے گی۔ انہیں واپس بسانے میں سرکار جو مدد کرسکتی ہے وہ کرے گی۔ جو لوگ ابھی کیمپ میں رہنا چاہتے ہیں انہیں سبھی سویدھائیں پہلے کی طرح ہی مہیا کرائی جائیں گی۔ مکھیہ سچیو نے راحت کیمپوں میں رہ رہے لوگوں کو ان کے گھر واپس بسانے کے لئے تیار کاریہ یوجنا پر بلائی گئی بیٹھک کی ادھیکشتا کرنے کے بعد میٹنگ سینٹر میں سرکار کا پکش رکھا۔ انہوں نے کہا کہ لوگ روپے یا زمین ملنے کی امید میں نہ رہیں۔ زمین نہیں مل پائے گی۔ مکھیہ سچیو نے کہا کہ سمبندھت ضلعوں کے ادھیکاریوں کو ذمہ داری سونپی گئی ہے کہ وہ لوگوں کو واپس گھر جانے کے لئے راضی کریں اور انہیں یقین دلائیں کے ان کی سرکشا و بہتری کے لئے سرکار کوشش کررہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کئی خاندان ایسے بھی ہیں جن کے مکھیہ پانچ لاکھ روپے کا معاوضہ لینے کے بعد کیمپ سے چلے گئے ہیں لیکن ان کے پتر کیمپ کو یہ کہتے ہوئے چھوڑنے سے انکارکررہے ہیں کہ وہ بالغ اور اپنے پریوار کے مکھیہ ہیں اس لئے انہیں بھی معاوضے کی رقم دی جائے۔ اس دوران پایا گیا کہ زیادہ تر لوگ ایسے ہیں جنہیں بھڑکادیا گیا ہے کہ کیمپ باغ باغیچے کی زمین پر بنے ہیں اور اگر وہ کیمپوں میں ہی رہیں گے تو وہاں کی زمین سرکار ان کے نام کردے گی۔ 
(انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...