Translater

15 اکتوبر 2021

تائبان کا چین کو منھ توڑ جواب!

پچھلے کچھ دنوں سے چین نے تائبان کے خلاف جارحانہ رخ اپنایا ہواہے وہ دعویٰ کرتا ہے کہ تائبان چین کا حصہ ہے اور وہ 2024 تک چین میں شامل کرلے گا ۔چین کے اس جارحانہ رویہ کے خلاف تائبا ن کی صدر سائیں ان وینگ نے بیجنگ کے بڑھتے دباو¿ کے درمیان صاف کر دیا ہے کہ تائبان کو ملنے کے چین کی کسی بھی کوشش کو منھ توڑ جواب دیا جائے گا ان کا یہ بیان چین کے صدر شی جنپنگ کے اس بیان کے بعد آیا ہے جس میں انہوں نے یقینئی طور پر تائبان کو چین سے ملانے کو کہا تھا حالانکہ اس بار ان کا لہجہ نرم تھا تائبان کو لیکر اپنے سابقیہ بیانوں کے برعکس اس بار انہوں نے اس کے لئے فوجی ایکشن کرنے کا منع کیا ہے ۔دونون دیشون کے درمیان متحدہ عمل پرامن دھنگ سے ہوگا ۔وینگ نے نیشنل ڈے پریڈ پر کہا کہ ہم مسلسل اپنی فوجی صلاحیت کو مضبو ط بنائیں گے اور یہ یقینی کریں گے کہ چین نے ہمارے لئے جو راستہ اپنایا ہے اس پر چلنے کے لئے ہم پر دباو¿ نہ بن سکے ۔حالانکہ 1949 میں لمبے عرصہ تک بھلے ہی خانہ جنگی کے بعد تائبان نے چینی کمیونشٹ پارٹی حکومت نے الگ ہو کر جزیرہ میں خود حکمرانی کی شروعات کی تھی وینگ نے کہا کہ تائبان میں ایک زندہ مثال جمہوریت ہے جبکہ چین میں ایک پارٹی کی تانہ شاہی کی حکومت ہے چین کا رابطہ تائبان کو لیکر اوراس کے 23 کروڑ لوگوں کی سرداری سے سمجھوتہ ہے انہوں نے صاف کر دیا کہ چین کو اس غلط فہمی میں نہیں رہنا چاہیے کہ تائبان کسی بھی طرح کے دباو¿ کے آگے نہیں جھکے گا ۔دراصل پچھلے جمعہ سے مسلسل چین کے جنگی جہاز تائبان جزیرہ کے قریب دیکھے گئے ہیں ۔ (انل نریندر)

اڈانی بندرگاہ پر ایران پاک اور افغانستان کنٹینروں پر روک!

گجرات کے مندرا بندرگاہ پر قریب 21 ہزار کروڑ مالیت کی ہیروئین برآمد ہونے کے بعد اڈانی بندرگاہ نے اپنے سبھی ٹرمنلوں پر 15 نومبر سے ایران ،پاکستان ،افغانستان کے کنٹینروں کی آمد ورفت پر روک لگا دی ہے ۔یعنی دیش بھر میں پھیلے اڈانی پورٹ سے ان تینوں ملکوں کے لئے نہ تو کنٹینر اتارے جائیں گے اور نہ ہی بھیجے جائیں گے ۔دیش کے سب سے بڑے پورٹ آپریٹر اڈانی پورٹ و اکنامک زون نے پیر کو مندرا کی اس سلسلے میں ایک ایڈوائزری جاری کی ہے کہ اڈانی پورٹ کے ذریعے سبھی ٹرمنلوں اور اس کے کسی پورٹ پر تیسرے فریق کے ٹرمنلوں سمیت اگلی اطلاع تک روک لاگو رہے گی ۔کمپنی نے اس کاروائی کی وجہ نہین بتائی ہے ۔حالانکہ مانا جا رہا ہے کہ مغربی گجرات کے اس کے مندراپورٹ پر بھاری مقدار میں ہیروئین پکڑے جانے کا رکھتے ہوئے کمپنی نے یہ فیصلہ لیا ہے ۔13 ستمبر کر اڈانی گروپ کے ذریعے کنٹرول بندرگاہ پر دو کنٹینروں سے تین ہزار کلو گرام ہیروئن ضبط کی گئی تھی اور یہ افغانستان سے آئی تھی ۔افغانستان افیم کا سب سے زیادہ ناجائز پیداوار کرنے والے ملکوں میں سے ایک ہے ۔ہیروئن کو بڑے بڑے تھیلوں میں چھپایا گیاتھا اور کہا گیا تھا کہ اس میں کیلکم پوڈر تھی ہیروئن کو بیگ کی نچلی پرتوں میں چھپایا گیا تھا اور اسے چھپانے کے لئے اوپر سے ویلکم پتھر بھرے گئے تھے ضبط ہیروئن کی قیمت قریب 21 ہزار کروڑ روپے بتائی گئی تھی ۔کمپنی نے یہ بھی کہا تھا کہ مندرا یا اس کے کسی بھی بندرگاہ میں ٹرمنلوں سے گزرنے والے کنٹینروں یا لاکھوں ٹن کارگو پرا س کی کوئی پہریداری کا حق نہیں ہے ۔مدرا پورٹ پر برآمد ہیروئن کے اس معاملے میں سنیچروار کو این آئی نے کئی جگہ چھاپہ ماری کی تھی ۔ایجنسی کے مطابق چنئی کوئم بٹرور وجے باڑہ میں ملزم کے مشتبہ ٹھکانوں پر چھاپہ ماری کی گئی اور تلاشی میں مختلف قابل اعتراض دستاویز اور دیگر سامان ضبط کیا گیا ۔عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ اس طرح کے ڈرگس سپلائی میں کورٹ کے حکام کی ملی بھگت ہوتی ہے ۔یہ افیم چنئی جانی تھی پھر اسے گجرات کے مندر ا کورٹ پر بھیجا گیا ۔دیکھنا یہ ہے کہ این آئی اے صحیح معنوں میں جانچ کرتی ہے یا دکھاوے کے لئے اور معاملے کو لیپا پوتی کرکے دباتی ہے یا نہیں ؟ (انل نریندر)

یہ اتراکھنڈ میں الٹی گنگا کیسے بہنے لگی؟

اتراکھنڈ سے آیا بھونچال بھاجپا اور اس کی سرکار کو قطعی نہیں بھایا ہوگا ۔یہ الٹی گنگا کیسے بہنے لگی؟ عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ کانگریس اور دیگر اپوزیشن پارٹیوں سے اپوزیشن لیڈر نیتا بھاجپا میں شامل ہوتے نظر آتے ہیں ۔لیکن اتراکھنڈ میںالٹا ہی ہوا ہے آنے والے چناو¿ میں جیت یقینی کرنے کے لئے اتراکھنڈ بھاجپا کانگریس میں ایک دوسرے کے ممبران اسمبلی کو توڑنے کی دوڑ لگی ہوئی ہے ۔ریاست کے سینئر دلت نیتا اور بھاجپا سرکار میں منتری یشپال آریہ اپنے ممبر اسمبلی صاحبزادے کے ساتھ کانگریس میں واپس آگئے ہیں ۔پانچ سال پہلے چناو¿ کے وقت ہی کانگریس چھوڑ کر بھاجپا میں شامل ہوئے تھے ۔بھاجپا کے ایک اور ممبر اسمبلی امیش شرما کانگریس میں شامل ہونے جا رہے تھے لیکن بھاجپا ممبر پارلیمنٹ انل برونی نے انہیں گھر کے باہر سے اپنی گاڑی میں بٹھا کر اپنے گھر لے گئے ۔کانگریس ہیڈ کوارٹر میں کانگریس جنرل سکریٹری کیسی تیواری اتراکھنڈ کے سابق وزیراعلیٰ ہریش راوت ،اپوزیشن لیڈر پریتم سنگھ ۔پردیش صدر گنیش پردیش کے انچارج جنرل سکریٹری دیوندر سنگھ یادو اور کمیو نیکیشن محکمہ کے چیف رندیپ سنگھ سرجیوالا نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ اتراکھنڈ سرکار کے اہم ترین وزیر یشپال سنگھ آریہ اور اتراکھنڈ اسمبلی کے ممبر سرجیو آریہ کانگریس میں شامل ہو گئے ۔وینو گوپال نے کہا یشپال آریہ اتراکھنڈ کے چھ بار ممبر اسمبلی رہے اور ریاستی سرکار کے ٹرانسپورٹ وزیر رہے ۔اور نوجوان ممبر اسمبلی سنجیو تیز ترار نیتا ہیں اور کانگریس میں ان کی واپسی ہو گئی ہے اس سے ان کی کانگریس میں واپسی ہو گئی ہے ۔اس سے اتراکھنڈ میں کانگریس مضبوط ہوگی اور اگلے چناو¿ میں اتراکھنڈ میں تبدیلی ہونے جا رہی ہے انہوں نے کہا کہ سنجیو آریہ نینی تال کے تیز ترار ممبر اسمبلی ہیں جبکہ یشپال آریہ باجپور سے ممبر اسمبلی ہیں ۔بھاجپامیں جانے سے پہلے سات سال تک پردیش کے صدر رہے یسپال آریہ کی گھر واپسی سے پردیش کانگریس مضبوط ہو گی ۔راوت نے کہا کہ 2012 میں اتراکھنڈ میں کانگریس آئی تھی تو اس میں ہسپال آریہ کا اہم ترین رول تھا اور وہ پردیش کانگریس کے صدر اور اسمبلی ک اسپیکر بھی رہے ۔اس دوران انہوں نے اہم ترین کام کئے تھے ۔ان لیڈروں کے کانگریس میں شامل ہونے سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ اگلے چناو¿ میں وہ بھاجپا کو زور دار چنوتی دینے جا رہی ہے ۔تبھی تو یہ نیتا کانگریس میں شامل ہوئے ہیں ۔ان نیتاو¿ں کی کانگریس میں جانے کی قیاس آرائیاں کئی دنوں سے لگائی جا رہی تھیں ۔وزیراعلیٰ پشکر دھامی نے اس واقعہ کو ٹالنے کی کوشش کی تھی ۔15 دن پہلے وزیراعلیٰ پشکر دھامی کے آریہ کے گھر پہونچنے اور ان کے ساتھ ناشتے پر ہوئی قریب ایک گھنٹے کی بات چیت کو ان قیاس آرائیوں سے جوڑ کر دیکھا گیا تھا ۔وزیراعلیٰ پشکر سنگھ دھامی نے کہا کہ شخصی مفادات آڑے آنے کے ہاتھوں انہوں نے ایسا کیا ہوگا۔ (انل نریندر)

14 اکتوبر 2021

رام رحیم ڈیرے کے سابق ملازم کے قتل میں قصوروار قرار!

روہتک کی شمالیہ جیل میں عمر قید کی سزا کاٹ رہے ڈیرا سچا سودہ چیف رام رحیم سنگھ کو ڈیرے کے سابق منتظم رنجیت سنگھ قتل کانڈ میں قصوروار قرار دیا ہے ۔عدالت جمعہ کو پنجکولہ کی سی بی آئی عدالت نے 19 سال پرانے اس معاملے میں پانچ لوگوں کو قصوروار پایا تھا ۔رام رحیم سنگھ کے ماننے والوں کے ساتھ آبرو ریزی کے معاملے میں 2017 میں قصوروار ٹھہرائے جانے کے بعد جیل میں بند ہیں سی بی آئی کے اسپیشل سرکار ی وکیل ایم پی برما نے بتایا کہ خصوصی عدالت گرمیت رام رحیم سمیت اور دیگر چار کو قتل کا قصوروار پایا ہے ۔پتہ چلا ہے ان کو کئی برس کی سزا ہو گئی ہے ۔پنجاب ہریانہ ہائی کورٹ نے رنجیت سنگھ قتل معاملے میں پنجکولہ میں سی بی آئی عدالت سے کسی اسپیشل سی بی آئی عدلات میں منتقل کرنے کی عرضی خارج کر دی تھی ۔ڈیرا چیف ہیڈ کوارٹر میں کس طرح کی عورتوں کا ڈیرا چیف ہیڈ کوارٹر میں عورتوں کا جنسی استحصال کرتا ہے ۔سی بی آئی کی چارشیٹ کے مطابق ڈیرا چیف کا کہنا تھا کہ وہ اس نامعلوم خط کو اجاگر کرنے میں رنجیت سنگھ کا ہاتھ تھا ۔اور اس نے اس کے قتل کی سازش رچی ۔اسپیشل عدالت نے جیسے ہی گرمیت رام رحیم کو قصوروار ٹھہرایا تو وہ پریشان ہو گیا اور وہ کافی وقت تک جج کی طرف ہاتھ جوڑکر کھڑا رہا اور پھر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا ۔ (انل نریندر)

شہیدوں کے کنبوں کو ایک ایک کروڑ کی مالی امداد!

دہلی حکومت نے جمعہ کو چھ شہیدوں کے کنبوں کو ایک ایک کروڑ کی مالی مدد دی ہے ۔اس کا یہ کام قابل تحسین ہے ۔دہلی کے ریس کورٹ کلب میں رہ رہے شہید راجیش کمار کے کنبہ سے ملاقات میں وزیراعلیٰ اروند کیجریوال نے راجیش کے گھر والوں کو ایک کروڑ روپے کا چیک دیا ۔راجیش کمار انڈین ایئر فورس میں تعینات تھے اور تین جون 2019 کو اروناچل پردیش میں ایک جہاز حادثہ میں شہید ہو گئے تھے اس دوران غم زدہ کنبہ کے افراد اپنے درمیان وزیراعلیٰ کو پاکر آنسو نہیں روک پائے وزیر اعلیٰ نے کہا راجیش کمار کی جان کی قیمت تو ہم نہیں لگا سکتے ۔لیکن امید کرتا ہوں کہ اس سے پریوار کو تھوڑی مدد ملے گی ۔ہم نے راجیش کمار کی ایک بہن کو پہلے ہی سول ڈیفنس میں شامل کر لیا ہے اور مستقبل میں بھی ان کے پریوار کا خیال رکھیں گے اس کے علاوہ کیجریوال نے شہیو ہونے والے شہیدوں کو ایک ایک کروڑ کی مالی مدد دی ۔راجیہ سبھا کے ممبر ششیل گپتا نے گھر جاکر دہلی پولیس کے شہید سپاہی وکاس کمار کو ایک کروڑ روپے کا چیک دیا ۔آر کے پورم کے ممبر اسمبلی پرمیلا ٹوکس نے دہلی پولیس کے شہید ایس پی سنکیت کوشک کے گھر جاکر ان کے رشتہ داروں کو چیک دیا ۔بہرھال ادھر ائیر فورس کے سمت مہنتی کے رشتہ دار کو بھی ایک کروڑ روپے کا چیک دیا جارہا ہے لیکن کسی بھی وجہ سے دوارکہ میں ان کے مکان پر جاکر چیک نہیں سونپا جا سکا ۔ہم دہلی سرکار کی اس انوکھی پہل کی تعریف کرتے ہیں اور شہید ہوئے اشخاص کے گھر جاکر ان کی مالی مدد کرنا بلا شبہ بہت نیک کام ہے ۔دہلی سرکار مبارکباد کی مستحق ہے ۔ (انل نریندر)

کشمیر میں بڑھتے آتنکی حملے ایک دن میں 5 جگہ انکاو ¿نٹر!

جموں کشمیر میں دہشت گردوں کے خلاف چل رہی کاروائی کے دوران مڈبھیڑ اور اس میں ہمارے جوانوں کی شہادت کے جو واقعات سامنے آرہے ہیں اس سے ایک بات صاف ہو گئی ہے کہ وادی میں دہشت گردی کی جڑیں ابھی تک کمزور نہیں پڑ ی ہیں آتنکی حملے میں سی او سمیت پانچ فوجی شہید ہو گئے ۔حملہ آور آتنکی اندھیرے کا فائدہ اٹھا کر بھاگ گئے اس سے پہلے ایک دن میں پانچ حملوں میں پانچ فوجی شہید ہو گئے ۔ واردات کا پیٹرن ایک جیسا تھا ۔اطلاعات کی بنیاد پر فوجی ٹکڑیوں میں تلاشی کاروائی شروع کی اسی دوران دہشت گردوں نے فائرنگ شروع کر دی ۔دوجگہوں پر ایک ایک آتنکی کو مار گرایا دو جگہوں پر پانچ سے زیادہ چھپے آتنکی بتائے جا رہے تھے ان کی گھیرا بندی کی گئی ۔رات بھر سرچ آپریشن چلا ۔حملوں کے بعد حملوں کی دو اہم وجہیں بتائی جاتی ہیں ۔پہلی سرکار نے کشمیری بے گھر وں کو مغربی پاکستانی پناہ گزینوں کے 45 لاکھ باشندوں کو سرٹیفکیٹ بانٹے اس سے غیر مسلم بہت خوش تھے اسی سے آتنکیوں کے بوکھلانے کی وجہ ہے اس لئے نہ صرف ہندوو¿ں بلکہ سکھوں کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔تاکہ ان میں دہشت پھیلے دوسری وجہ پانچ اگست 2019 کو آرٹیکل 370 ہٹا اس کے بعد سے پانچ اگست تک ایک بھی ہندو پریوار نہیں گیا ۔جموں کشمیر انتظامیہ سے اپنی کامیابی بتا رہا ہے تھا یہ بات دہشت گردوں کو مسلسل پریشان کررہی تھی اس لئے انہوں نے غیر مسلموں پر حملے شروع کر دئیے ایل او سی پر سخطی کی وجہ سے فوج کو در اندازی روکنے میں کامیابی ملی دوسری طرف بادی میں فوج نے مشتبہ نوجوانوں کے پریوار کے ساتھ مل کر آتنکیوں کی بھرتی پر لگام لگا دی ۔کئی نوجوانوں کو قومی دھارا میں لایا گیا ان وجوہات سے آتنکی تنظیموں کے پاس وادی میں مستقل لڑکوں کی کمی ہوتی چلی گئی ۔اس لئے پاکستان سے کنٹرول آتنکی تنظیموں نے پارٹ ٹائم آتنکیوں سے حملے کرانے کا طریقہ اپنایا ۔یہ بات ملیٹری خفیہ ایجنسیوں کو ملی ۔کہ وادی میں بیٹھے ہینڈلرس کو پاکستان سے بھیجے گئے پیغام پکڑنے سے پتہ چلا ہے ۔بدقسمتی یہ ہے جموں کشمیر میں دہشت گردی کے خاتمہ کو لیکر جاری کوششیں جب بھی کارگر ہوتی دکھائی دیتی ہیں ۔تبھی آتنکی گروپوں کے ذریعے حملے بڑھ جاتے ہیں ۔آتنکی تنظیمیں شاید دنیا کو یہ دکھانا چاہتی ہیں کہ جموں کشمیر ابھی بھی دہشت گردی کی گرفت ہے ۔دراصل اس پیچیدہ مسئلے کی جڑیں سرحدپار سے جاری سرگرمیوں میں چھپی ہیں ۔بھارت کے علاوہ عالمی محاذ پر بھی ایسے سوال مسلسل اٹھائے جاتے رہے ہیں کہ پاکستان میں سرگرم آتنکی ٹھکانوں سے دہشت گرد اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں ۔اس کے لئے آئے دن پاکستان بے حد مشکل حالت سے دوچار ہوتاہے اس کے باوجود وہ اس مسئلے پر کوئی سخط اور ٹھوس نتیجے والے قدم اٹھانے سے بچتا رہا ہے ۔خاص طور پر افغانستان میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد پاکستان کا دہرہ کھیل شروع ہو چکا ہے ۔جموں کشمیر میں دہشت گردی انسداد حکمت عملی پر نئے سرے سے غور اس لئے ہونچا چاہیے کیوں کہ وادی میں ہندوو¿ں اور سکھوں کو نشانہ بنایا جانے کا سلسلہ تیز ہوگیا ہے ۔اس کے چلتے ان کے ہجرت کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے ۔کشمیر کے تازہ حالات علاقہ کے لئے تو چنوتی تو ہے ہی ساتھ ساتھ مرکزی سرکار کے لئے بھی ایک بڑی چنوتی بن گئی ہے ۔ (انل نریندر)

13 اکتوبر 2021

ممبئی پولیس نے سی بی آئی ڈائرکٹر کو بھیجا سمن !

ممبئی پولیس کے سائبر سیل نے پولیس حکام کے تبادلے سے وابسطہ فون ٹریپنگ اور تفصیلات لیک ہونے کے معاملے میں سنیچر کو مہاراشٹر کے سابق ڈی جی پی اور سی بی آئی کے دائرکٹر سوبودھ جیسوال کو سمن بھیجا ہے ان کو 14اکتوبر کو پیش ہونے کو کہا ہے کہ وہ اپنا بیان درج کرائیں ۔فون ٹیپنگ ہونے کے وقت جیسوال ریاست کے ڈی جی پی ہوا کرتے تھے اور ممبئی پولیس کی سائبر سیل سرکار سیکریٹ ایکٹ کے تحت اس معاملے کی جانچ کررہی ہے وہیں اس کی سماعت ممبئی ہائی کورٹ بھی کررہا ہے ۔پولیس نے عدالت میں بتایا کہ جیسوال کو سمن ای میل کے ذریعے بھیجا گیا ہے ۔مہاراشٹر جیڈر کے 1985 بیچ کے پولیس افسر جیسوال کو اس سال مئی میں سی بی آئی کا چیف مقرر کیا گیا ہے وہ ممبئی پولیس کے کمشنر بھی رہ چکے ہیں ۔یہ پورا معاملہ 2020 کا ہے ۔مہاراشٹر پولیس خفیہ محکمہ کے چیف آئی پی ایس افسر ریشنگ شکلا نے ایک خفیہ رپورٹ تیار کی تھی جسے انہوں نے 25 اگست 2020 کو اس وقت کے ڈی جی پی سوبودھ جیسوال کو بھیجی تھی جس مین پولیس افسروں کے تبادلے میں کرپشن کا الزام لگایا گیاتھا کئی افسر اور وزراءکے فون ٹیپ کئے جانے کے بعد ان کی بات چیت کی تفصیل رکھی تھی ۔اپنی رپورٹ کی بنیاد پر مہاراشٹر کے سابق وزیر اعلیٰ دیوندر فڑنویس نے ریاست میں بڑے تبادلوں میں انہیں گڑ بڑگھوٹالے کا الزام لگایا تھا انہیں کئی گھنٹوں کی ریکارڈنگ مرکزی ہوم سیکریٹری کو سونپی تھی الزام ہے جانچ کے دوران سینئر افسروں اور نیتاو¿ں کے فون ٹیپ کئے گئے ۔اس رپورٹ کو جا ن بوجھ کر لیک کیا گیا ہے ۔ (انل نریندر)

ایک بار پھر چینی فوجیوں کو کھدیڑا!

چین اپنی حرکتوں سے باز نہیں آرہا ہے ۔مشرقی لداخ میں بری طرح سے منھ کی کھانے کے بعد وہ ہندوستانی سیکٹر میں قبضہ کی کوشش کر رہا ہے ۔اس بار چینی فوجیوں نے اروناچل پردیش کے تیانگ سیکٹر میں گھس پیٹھ کی کوشش کی لیکن مستعد ہندوستانی جوانوں نے چینی فوجیوں کو بھگا دیا اس دوران کچھ وقت کے لئے فوجی آمنے سامنے بھی آگئے اور ان کے درمیان جھڑپ بھی ہوئی لیکن ہندوستانی جوانوں کو کوئی نقصان نہیں ہوا بلکہ جوانوں نے کچھ چینی فوجیوں کو پکڑ بھی لیا تھا جنہیں طے پروٹوکول کے تحت زونل کمانڈر سطح پر دونوں فریقین کے درمیان بات چیت میں معاملہ سلجھانے کے بعد چھوڑ دیا گیا ۔یہ واقعہ ہفتہ بھر پہلے توانگ سیکٹرمیں ہوا تھا بتایا جاتا ہے چینی فوجی تقریباً 200 جوان گشت کرتے ہوے سرحد پار کرکے ہدوستانی علاقہ میں گھسنے کی کوشش کرنے لگے ان کی سرگرمیوں پر نگاہ رکھ رہے ہندوستانی فوجیوں نے سرحد کا قبضہ کرنے کی چینی فوجیوں کے ارادوں کو بھانپتے ہوئے انہیں فوراً ایسا نہ کرنے کے لئے خبردار کیا ۔لیکن چینی فوجیوں نے وارننگ کو نظرانداز کرکے ہندوستانی علاقہ میں گھسنے کی کوشش کی تب ہندوستانی فوجیوں نے مورچہ سنبھال لیا اور انہیں وہیں روک دیا حالانکہ دونوں ملکوں کے مقامی کمانڈروں نے بات چیت سے معاملے کو سلجھا دیا ۔ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ چینی فوجی ہندوستانی علاقہ میں گھس آئے تھے اس کے بعد دونوں فریقین نے تعیناتی بڑھا دی تھی اورکشیدگی کچھ گھنٹوں تک بنی رہی لیکن کسی طرح کا کوئی نقصان نہیں ہوا ۔بہرحال چینی فوجی اکثر بھارت سے لگی سرحد پر ایل اے سی پر بھارت کے بنائے بنکروں کا باقی طرح کے ڈھانچے کو تباہ کرکے چلے جاتے تھے ۔ارادے کیا ہیں پڑوسی کے؟ چین سرکار کے پروپیگنڈے کو چلانے والی پیچنگ نیوز ویب سائٹ شوڈو نے دعویٰ کیا تھا کہ چین سال 2024 تک اروناچل پردیش پر قبضہ کی تیاری کررہا ہے یہ متنازعہ جھیل سال 2013 میں شروع ہوا تھا ۔لیکن پچھل دنوں پھر سے چین کے شوشل میڈیا میں یہ وائرل ہو گیا جس میں اس میں کہا گیا ہے تین سال 2020 سے 2026 کے درمیان طائبان بھارت جاپان اور روس سے فوجی ٹکر لینے کی تیاری کررہا ہے چین کا مقصد 2025 تک تائبان پر قبضہ کر لینا ہے ۔پچھلے سال 5 مئی کو لداخ والی جھڑپ کے بعد سے چین کا قبضہ کا رخ بڑھتا جا رہا ہے ۔دس مئی سکھم نے بھار ت چین فوجیوں کی جھڑپ بھی ہوئی جون میں چینی مشرقی لداخ میں ایل اے سی پر کئی جگہ آگے بڑھ گیا تھا ۔15 جون کو گلوان میں خونی جھڑپیں ہوئی تھیں اس سال اگست میں بھی چینی اتراکھنڈ میں گھس آئے تھے چین کی نیت صاف ہے لیکن اسے سمجھنا ہوگا کہ بھارت بھی اس کو کھدیڑنے کے لئے پوری طرح تیار بیٹھا ہے ۔جے ہند ! (انل نریندر)

آشیش مشرا پوچھ تاچھ کے بعد گرفتار کیا گیا!

لکھیم پور کھیری کانٹ کے اہم ملزم مرکزی وزیر مملکت داخلہ اجے کمار مشرا ٹینی کے لڑکے آشیش کمار مشر امانو کو سنیچر کی دیر رات آخر کار گرفتار کر لیا گیا ۔یہ کاروائی سپریم کورٹ کے سخت حکم کے بعد ہوئی ہے ۔ایس آئی ٹی کے انچارج ڈی آئی جی اپندر اگروال نے شنیچر کو رات قریب 11 بجے بتایا کہ جانچ میں تعاون نہ کرنے کے الزام میں آشیش مشرا کوگرفتار کیا گیا ۔اس کو 14 دن کی جودیشیل حراست میں بھیج دیا گیا ۔ایس آئی ٹی نے قریب اس سے 12 گھنٹے تک پوچھ تاچھ کی اس کے بعد اسے لکھیم پور کورٹ میں پیش کیا گیا ۔اور جہان سے اسے جیل بھیجا گیا ۔پوچھ تاچھ میں آشیش سے ایس آئی ٹی نے 150 سے زیادہ سوال پوچھے لیکن زیادہ تر سوالوں کے تسلی بخش جواب نہ ملنے پر انہیں گرفتار کیا گیا ۔ملزم نے ایس آئی ٹی کے سامنے 12 پینڈرائب میں کئی ویڈیو فوٹو اور درجن بھر گواہی دینے سے متعلق حلف نامہ ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے ۔جس میں بتایا گیا کہ واردات کے دن آشیش گاو¿ں بنویر پورم میں ہوئے ایک دنگل میں موجود تھے اور مہندرا کار میں واردات کے وقت موجود نہیں تھے حالانکہ کئی ویڈیو میں یہ صاف دکھائی دے رہا ہے ۔کہ وہ کار میں موجود تھے ۔حالانکہ کئی ویڈیو میں یہ صاف دکھائی دے رہا ہے کہ مہندرا کار میں وہ ہی موجود تھے اسی کار سے کچل کر چار کسانوں کی موت ہو گئی تھی ۔واردات کو کور کرتے اپنی پوری ڈیوتی نبھاتے ایک بہادر صحافی بھی اس جھگڑے میں مارے گئے تھے ۔بہرائج کے باشندے جگجیت سنگھ کے ذریعے دائر ایف آئی آر میں ارون مشراور 15-20 نا معلوم لوگوں کے خلاف آئی پی سی کی دفعہ 147 (بلوہ) 148 (خطرناک ہھیاروں کا استعمال ) 149 ( ہجومی تشدد ) و 279 وغیرہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا ۔آندولن کرنے والے کسانوں نے مانگ کی ہے وزیر پتا کو مرکزی کیبنیٹ سے برخواست کیا جائے ۔اجے مشرا ٹینی نے پچھلے دنوں مرکزی وزیر داخلہ سے ملنے کے بعد مشرا ٹینی نے صاف کہا کہ وہ استعفیٰ نہیں دیں گے ۔کیوں کہ ابھی معاملہ عدالت میں ہے پولیس کو ثابت کرنا ہوگا کہ آشیش ان چار کسانوں کے قتل کا قصور وار ہے اور وہ اس دن کارمیں موجود تھے ۔جس دن چار کسانوں کار سے کچلا گیا تھا ۔یہ بھی ثابت کرنا ہوگا کہ یہ ارادتاً کیا گیا ۔آشیش کی کوشش ہوگی کہ وہ یہ ثابت کرے کہ وہ اس دن مہندراکار میں موجود نہیں تھے ۔ (انل نریندر)

12 اکتوبر 2021

نواب ملک کا سنسنی خیز الزام !

کروز پر چھاپہ ماری کرنے والے نارکوٹس کنٹرول بیور (این سی بی ) کے حکام پرحملہ جاری رکھتے ہوئے این سی پی کے ترجمان اور مہاراشٹر کے اقلیتی امور کے ترجمان نواب ملک نے اتوار کو ایک اور انکشاف کرنے کی وارننگ دے ڈالی اور دعویٰ کیا کہ کیسے بی جے پی سے جڑے ایک شخص کو ایجنسی نے مبینہ طور سے بھاگنے میں مدد کی وہیں اداکار شاہ رخ خاں کو کورٹ سے زبردست جھٹکا لگا ایڈیشنل چیف میٹرو پولیٹن مجسٹریٹ کی عدالت نے کروز شپ پر ڈرگ پارٹی کرنے کے الزام میں آرین ارباز مرٹن اور من من کی ضمانت عرضی خارج کر دی ۔ملک نے کہا کہ میرے پاس فوٹو اور ویڈیو سمیت پورے ثبوت ہیں این سی بی جے زونل ڈائرکٹر ثمیر وانکھیڑے نے خود کہا تھا کہ انہوں نے 2 اکتوبر کو 8-10 ملزمان کو حراست میں لیا تھا ۔صرف 8 نام سامنے آئے باقی دو کا کیا ہوا ۔دیگر دو کو دو لوگوں کی مدد کرنے کا الزام لگایا جن میں سے ایک بے جی پی نیتا سے وابسطہ ہے ملک نے سوال کیا کہ بی جے پی کے کونسے نیتا وانکھیڑے کے رابطہ میں تھے ۔پارٹی اور متعلقہ پہلوو¿ں کے ساتھ ان کے کیا تعلق ہے ۔یہ سب کیسے بالی وڈ اور ریاستی سرکار کو بدنام کرنے کے لئے کا م کررہے ہیں ؟ ادھر آرین خاں سمیت دیگر ملزمان کے وکیلوں نے میڈیا کو بتایا کہ سماعت پر پیر کو ضمانت کے لئے کورٹ میں درخواست دائر کریں گے ۔لیکن پتہ چلا ہے کہ عدالت نے اب سماعت بدھ تک ٹال دی ہے ۔این سی پی کا دعویٰ ہے کہ آرین خان ڈرگ ریکٹ کا حصہ ہیں ۔اب ملزمان کو آتھر روڈ جیل سے باہر نکلانے کے لئے سیشن کورٹ کا درواہ کھٹکھٹانا ہوگا۔
(انل نریندر)

ایئر انڈیا کی گھر واپسی !

ہر سال کی جدو جہد کے بعد قرض میں ڈوبی پبلک سیکٹر کی ہوائی جہازکی ایئر انڈیا کو نہ صرف خریدار ملا ہے بلکہ اس سے بھی اہم ترین بات یہ ہے کہ ٹاٹا گروپ کے پاس جانا ایئر انڈیا کی 63 سال بعد واپسی ہے ایئر انڈیا کی بکری شاید اس لئے ضروری ہو گئی تھی کیوں کہ اس کے خسارے سے نکلنے کا کوئی آثار نہیں تھا اس لمبے عرصہ سے سرکار گہرائی سے غور و خوض کررہی تھی لیکن وہ خسارے سے باہر آنے میں کامیابی نہیں لے پارہی تھی مشہور صنعتکار جے آر ڈی ٹاٹا نے 1932 میں ٹاٹا ایئر سروسز نام سے جہاز کمپنی شروع کی تھی ۔لیکن 1953 میں بھارت سرکار نے ایئر کارپوریشن ایکٹ پاس کرکے ٹاٹا سنس سے اس کا مالکانہ خرید لیا تھا ۔سال 1962 میں اس کا نام ایئر اندیا ہوا اور پبلک سیکٹر کی یہ کمپنی جہازی سیکٹر میں دیش کی شان تھی شاید یہ غلط قدم تھا اس کی کوئی ضرورت نہیں تھی کیوں کہ اس وقت یہ ایئر لائن دنیا کی بڑی جہاز رانی کمپنیوں میں شامل تھی ۔بدقسمتی سے اس وقت کے ہمارے حکمران اس نظریہ سے دوچار تھے کہ سب کچھ اور یہاں تک صنعتی دھندے بھی سرکار کو چلانے چاہیے ۔اس خیال میں کل ملا کر پرائیویٹ سیکٹر کو کمزور کیا ۔رہی سہی کسر ایکٹ نے پوری کر دی ایئر انڈیا کا ٹاٹا گروپ کے پاس جانے کا فیصلہ کئی معنوں میں تاریخی ہے یہ واقعہ صرف اتنا ہی نہیں ہے بلکہ ملسل قرض میں ڈوبتی ایک ایئر لائنس کا زندگی دلاتا ہے یہ انڈیا کی اور انڈیا کے اندر ہوائی سفرکرنے کی کایا پلٹ کرنے والا ہے ٹاٹا کو جانے سے ایئر انڈیا کی ساکھ کی امید کی جاتی ہے کہ وہ بدلے گی اوربھارت کی شاکھ بھی نکھرے گی ۔ٹاٹا کی پہلی چنوتی اس انٹر نیشنل ایئر لائن کو نئی لیڈرشپ اور بہتر انتظامیہ دینے کا ہے ۔اس کے لئے جو نالج و پنشن اور پیسہ چاہیے وہ سب ٹاٹا کے پاس ہے ۔ایک کمزور ایئر انڈیا دیش کی پرائیویٹ ایئر لائنس کو کوئی ٹکر نہیں دے پارہی تھی ۔اب پرائیویٹ سیکٹر کی ایئر لائنس کو بھی بدلنا پڑے گا دنیا کی کئی منزلیں ہیں جہاں بھارت سے ایئر انڈیا کے جہاز ہی جاتے ہیں ۔دراصل سرکار نے پارلیمنٹ کو بتایا تھا کہ اگر ایئر انڈیا بک نہیں پاتی تو اسے بند کرنابھی ایک محض قدم ہے ایسے میں دیکھیں تو دیر سے ہی صحیح بہر حال انڈیا کو ٹاٹا گروپ جیسا بہتر خریدار ملا ہے اس سے خود ٹاٹا گروپ کی پوزیشن مضبوط ہوگی جوپہلے سے ہی سنگاپور ایئر لائنس کے ساتھ ہوائی سروس وستارہ کو چلا رہی ہے اس سودہ کا فائدن وستارہ کو وسیع شکل دینے سے ہی ہو سکتا ہے ۔پبلک سیکٹر کی کمپنی ایئر انڈیا کے نجی کرن دیش میں صنعتی فروغ کی بدلتی ترقی اورپالیس کی تشویشات کی بدلتی ترجیحات کے بارے میں بتاتی ہے ٹاٹا گروپ ویسے ہی اس وقت وستارہ اور ایئر ایشیا کوچلانے کا اچھا خاصہ تجربہ رکھتی ہے اس طرح سے ٹاٹا کے پاس اب تین ایئر لائن ہو گئی ہیں ۔یہ تو مستقبل ہی بتائے گا کہ ٹاٹا انتظامیہ کیسے ایئر انڈیا کو پھر سے پٹری پر لاتا ہے لیکن یہ تو تشفی بخش ہے کہ سرکار نے اس کمپنی کے ملازمین کے مفادات کو دھیان میں رکھنے کا یقین دلایا ہے ۔ 
(انل نریندر)

اظہار رائے کی آزادی کے نام پر صحافیوں کو اعزاز!

جان کی بازی لگا کر اظہار رائے کی آزادی ، غلط اطلاعات سے مقابلہ اور ناکارہ حکومتوں کو ذمہ دار ٹھہرانے کی جد و جہد کررہے دو صحافیوں کو اس مرتبہ پیس نوبل ایوارڈ کے لئے چنا گیا ہے ۔نوبل کمیٹی نے جمعہ کو روس کے صحافی دیمتری یو را توف (59 برس ) اور فلپائن کی ماریہ ریسا (58 برس ) کو یہ اہم ترین ایوارڈ دینے کا اعلان کیا ہے ان دونوں نے بولنے کی آزادی کی حفاظت کی پرزور کوشش کی ۔یہ جمہوریت اور امن کے لئے ضروری شرط ہے ۔یہ دنیا کے ان صحافیوں کے نمائندے ہیں جو اپنی اپنی جگہوں پر ناگزیں حالات میں جدو جہد کرتے ہوئے جمہوریت اور پریس کی آزادی کے لئے لڑائی لڑرہے ہیں ۔80 سال بعد کسی صحافی کو نوبل ایوارڈ ملا ہے اس سے پہلے 1935 میں جرمن صحافی کارل وانا کو دوبارہ تقویت کی وکالت کے لئے نوبل ملا تھا ۔126 سال کی تاریخ میں ماریہ 18 ویں خاتون ہیں جنہیں یہ نوبل ایوارڈ ملا ہے ۔ماریہ فلپائن کے صدر روڈریگو و ان کے غلط فیصلوں اور غلط اطلاعات کے لئے مسلسل ذمہ دار ٹھہراتی رہی ہیں ۔ٹائم میگزین نے پرسن آف دی ایئر انہیں نامزد کیا تھا ۔ماریہ نے 2012 میں پورٹل شروع کیا اور دودنتا سرکار سے لوہا لیتی رہیں ۔اپنے پورٹل کے لئے وہ مسلسل سرکاری کرپشن کا پردہ فاش کررہی ہیں ۔ماریہ نے دیش میں ڈکٹیٹرشپ تانا شاہی اور اقتدار کے بیجا استعمال کے بارے میں انکشاف کیا۔نشہ کےخلاف ہوئی جنگ میں انسانی حقوق اور قتل عام کی سچائی سامنے لائی ۔سرکار نے شوشل میڈیا سے فرضی خبریں چھپوائیں اور حریفوں کو پریشان کیا ۔اور پبلک رائے کو اپنے مطابق اپنی حمایت میں کرنے کے لئے کھیل کیا ۔ماریہ نے کہا یہ ایوارڈ یہ نشاندھی کرے گا کہ آج صحافت کتنی مشکل ہے اور سچ کی قیمت 28 سال میں اخبار کے روس میں 6 صحافیوں کا قتل ہو چکا ہے ۔ نوبل کمیٹی کہتی ہے اس کے باوجود دمتری نے اخبار کی آزاد پالیسی چھوڑنے سے انکار کر دیا انہوں نے صحافت کے پیشہ ور اور اخلاقی تقاضوں کی تکمیل کرتے ہوئے اپنے صحافیوں کو کچھ بھی لکھنے کا اختیار ہمیشہ بچاو¿ کیا ۔دمتری متاتوف کہتے ہیں کہ اس ایوارڈ کا کریڈٹ صرف میں نہیں لے سکتا یہ ان کا ہے جنہوں نے بولنے کی آزادی کی حفاظت کرتے ہوئے اپنی جانیں قربان کر دیں ہم ان دونوں صحافیوں کو مبارکباد دیتے ہیں اور نوبل کمیٹی کا شکریہ ادار کرتے ہیں کہ آخر کار انہوں نے صحافت کا سمان کیا انہوں نے نشاندھی کی کہ اس وقت صحافت کتنا خطرے بھرا کام ہے ۔ (انل نریندر)

10 اکتوبر 2021

سی آئی اے کے مخبروں کو ٹھکانے لگایا !

سی آئی اے نے اعتراف کیا ہے کہ دنیا بھر میں اس کے کئی مخبروںکو مارا جا رہا ہے انہیں پکڑا جا رہا ہے یا ان کے جاسوسوں کو کے لئے ایک خفیہ مورچہ بنایا جا رہا ہے ڈیلی میل کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے سبھی سی آئی اے اسٹیشنوں اور ٹھکانوں پر بھیجی گئی ہے جانکاری میں بتایا گیا کاو¿نٹر اینٹلی جنس سینٹر نے پچھلے کئی برسوں میں درجنوں معاملوں کا جائزہ لیا ہے ۔ نیو یارک ٹائمس کے مطابق مارے گئے مخبروں کی تصدیق شدہ تعداد دی ہے عام طور پر کلاسی فائیڈ جانکاری ایسے معاملوں میں شیئر نہیں کی جاتی ۔ سابق حکام نے یہ بھی بتایا کہ چین اور ایران نے ایجنسی کے کلاسی فائیڈ کمیونیکشن یا کیبل قوم کو توڑ دیا اور نیٹورک میں شامل مخبروں کو مار ڈالا میموں خراب ڈیڈ کرافٹ کے لئے جاسوسی کرتا ہے غیر ملکی خفیہ ایجنسی کو کم پرکھا جا تاہے سمجھا جا تاہے روس چین ایران اور پاکستان نے حالیہ برسوں میں مخبروں کو مارنے میںکافی کامیابی حاصل کی ہے کچھ معاملوں میں انہیں دہرے ایجنٹوں میں بدل دیا گیا ہے ایران اور چین میں کچھ خفیہ حکام کا خیال ہے کہ امریکہ نے ان مخالف ایجنسیوں کو جانکاری دے دی ہے جو مخبروں کو بے نقاب کرنے میں مدد کر سکتی ہیں امریکی حکام کو شبہ ہے کہ چین نے ملی جانکاری کو رو س سے شیئر کر دیا جس نے اس کا استعمال امریکی جاسوسوں کو بے نقاب کرنے اور مارنے کے لئے کیا رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے ان نتائج نے سی آئی اے کو چین میں انسانی جاسوسی کو مستقل طور پر بند کرنے اور دنیا بھر میں خفیہ دفاتر کے ساتھ کمیونیکشن کرنے کے طریقے کو دوبارہ سے جائزہ لینے کے لئے مجبور کر دیا ہے ۔ (انل نریندر)

این سی بی کے سنگھم !

کروز پارٹی کا پردہ فاش ہونے کے بعد نارکوٹکس کنٹرول بیرو (این سی بی )ممبئی کے زونل ڈائریکٹر ثمیر وانکھڑے پھر سر خیوں میں ہیں پچھلے سال اداکار سوشانت سنگھ موت کے معاملے میں ڈرگس اینگل کی جانچ کو لے کر سر خیوں میں آئے وانکھڑے ممئی کے سنگھم کہے جا تے ہیں وہ سخت افسر مانے جاتے ہیں ان سے بڑے بڑے سلیبریٹی بھی ڈرتے ہیں ثمیر وانکھڑے 2008بیچ کے آئی آر ایس افسر ہیں اس سروس میں آنے کے بعد ان کی پہلی تقرری چھترپتی سوا جی مہاراج انٹرنیشنل ایئر پورٹ ڈپٹی کسٹم کمشنر کے طور پر ہوئی تھی وہ ایئر اینٹلی جینس اور این آئی اے کے ڈپٹی کمشنر بھی رہ چکے ہیں اس کے بعد انہیں این سی بی کا زونل ڈائریکٹر بنایا گیا کیونکہ انہیں ڈرگس سے جڑے امور کا ماہر مانا جاتا ہے این سی بی میں آنے کے بعد اب تک تین سو جگہوں پر چھاپے مارے ہیں اور قریب 17ہزار کروڑ روپئے کی نشیلی چیزوں کے دھندے کا پردہ فاش کیا ہے ساتھ ہی کئی مشہور ڈرگس پیڈلروں کو جیل کی ہوا کھلائی ہے کسٹم محکمے میں رہتے ہوئے مبینہ طور پر کئی مشہور ہستیوں کو کسٹم مشین تک نہیں پکڑ پا رہی تھی لیکن جب تک انہوں نے غیر ملکی کرنسی میں خریدے گئے سامان کی پوری جانکاری نہیں دے دی تب تک ان کو چھوڑا نہیں انہوں نے 2017میں مراٹھی اداکارہ کرانتی ریٹکر سے شادی کی کرانتی نے فلم گنگاجل میں کام کیا تھا ۔ ثمیر وانکھڑے اس وقت بالی ووڈ کے ڈرگس کنیکشن کی جانچ میںجڑے ہیں انہوں نے ہی کروز ریڈ پارٹی پر چھاپہ مارا اور اس دوران شارخ خان کے بیٹے آرین اور دیگر کو دبوچ لیا ہے انہون نے حال ہی میں دئےے گئے ایک انٹر ویو میں کرانتی نے بتایا کہ ثمیر بہت محنتی ہیں جو بھی وہ کاروائی کو انجام دیتے ہیں یا کچھ جانچ میںلگے ہوتے تو میں ان سے کبھی نہیں پوچھتی کیا ہوا کیسے ہوا کیونکہ میں ان کے کام کو پرائیوسی سمجھتی ہوں ۔ کرانتی کا کہنا ہے ان کے پتی بہت خاموش مزاج اور فرد سناش ہیں وہ اپنے کام کے بارے میں کبھی کسی کو کچھ نہیں بتاتے اور نہ ہی کبھی ہنستے ہیں لیکن انٹر ویو کے دوران وہ جو باتیں بتا رہی ہیں اور ثبوت دے رہی ہیں اس سے بدنامی ہوتی ہے۔ (انل نریندر)

وبا سے تو بچ گئے ، لیکن یہ مہنگائی مار ڈالے گی!

کورونا وبا کی دوسری لہر جیسے جیسے دیش میں دم توڑ رہی ہے مگر آفت کی ایک نئی لہر پروان چڑھ رہی ہے کورونا لہر سے تو لوگ بچ گئے لیکن اب جو لہر بڑھ رہی ہے اس سے کوئی بچنے والا نہیں یہ ہے زبردست مہنگائی کی جس کے اثر سے اب ہر کوئی پریشان ہے لیکن دکھ ہے کہ کوئی ہائے توبہ نہیں کر رہا ہے سب اپنی قسمت کو کوس رہے ہیں اور ہاتھ مل رہے ہیں کورونا لاکھوں لوگوں کی نوکریاں کھا گیا لاکھوں لو گوں کی بیروزگاری بڑھ گئی ہے لوگ رشتہ داروں سے پیسہ مانگ کر یا قرض لیکر گزارا کر رہے ہیں چونکہ مزدوروں کو تنخواہ ملنے کا سنکٹ ہے ۔ پچھلے دو تین دنوں سے پیڑول ڈیزل کے دام بڑھتے جا رہے ہیں اس کے لئے لوگ اپنا بجٹ بیلنس محدود کر رہے ہیں اب رسوئی گیس سلینڈر کے دام بھی پندرہ روپئے بڑھ گئے ہیں جس وجہ سے رسوئی گیس سلینڈر نو سو روپئے تک پہونچ گیا ےہ جس وجہ سے لوگ چاہ کر بھی اپنا بجٹ بر قرار نہیں رکھ پا رہے ہیں سمجھ میں نہیں آپا رہا ہے کہ کہاں سے بجٹ میں کٹوتی کریں اور کہاں جوڑیں ؟دہلی کے بازار میں جمعہ کو پیڑول 103.54روپئے فی لیٹر پار چلا گیا جب کی ڈیزل 92.12روپئے فی لیٹر کے بھاو¿ پر مل رہا ہے پچھلے گیارہ دنوں میں پیٹرول کے دام میں 2.35فی لیٹر اضافہ ہوا ہے گیس سلینڈر کے دام کے بڑھنے کی وجہ سے رسوئی کا بجٹ بھی بڑھ رہا ہے سبزی سے لیکر سرسو تیل سب کے دام بڑھے ہیں کاروبار پر ابھی بھی کوویڈ وبا کا اثر ہے اس سال بھی رسوئی گیس کے دام جنوری سے ہر پندرہ مہینے 25-25روپئے کے حساب سے بڑھائے جا تے رہے ہیں اب اس میں اور پندرہ روپئے کا اضافہ ہو گیا غریبوں کے کام آنے والے پانچ کلو کا سلینڈر بھی پانچ سو روپئے سے بھی زیادہ مہنگا ہو گیا چاہے سب سڈی والا ہو یا کمرشیل اس کے ہر طرح کے سلینڈر کے دام آسمان چھو رہے ہیں حکومت کی ایک معصوم سی دلیل ہے تیل اور گیس کے دام پیٹرولیم کمپنیاں طے کر تی ہیں اور یہ ریٹ بین الاقوامی بازار کی بنیاد پر طے ہوتے ہیں ان پر کنٹرول کسی سرکار کے بس میں نہیں ہے یہ مانا جا سکتا ہے کہ فی الحال پیٹرولیم مصنوعات کے دام بین الاقوامی بازار سے بھی اونچے چل رہے ہیں لیکن کورونا دور میں یہ کافی نیچے آگئے تھے لیکن دیش میں کنزیومر پر دام بڑھا بڑھا کر مسلسل بوجھ ڈالا گیا تھا یہ صحیح ہے کہ انٹر نیشنل مارکیٹ میں رسوئی گیس اورکچلے تیل کے داموں کو کنٹرول کر پانا سرکار کے بس سے باہر ہے لیکن دیش کے زیادہ تر لوگوں کو مناسب داموں پر چیزیں کیسے ملیں اس کے اقدام تو کئے جا سکتے ہیں پیٹرول اور ڈیزل پر لگائے جانے والے بھاری بھرکم ٹیکسوں پر لمبے وقت سے آواز اٹھتی رہی ہے سرکاروں نے اسے خزانہ بھرنے کا ذریعہ بنا لیا ہے در اصل سرکاریں جانتی ہیں کہ ایندھن رسوئی گیس دودھ کھانے پینے کی چیزوں کا سامان کتنا بھی مہنگا کیوں نہ کر دیا جائے لوگ بغیر خریدے رہ نہیں سکتے پیٹرول ڈیزل پر جی ایس ٹی کے دائرے میں لانے پر کوئی رضا مندی نہیں ہوتی یہ بات سامنے آرہی ہے کہ مستقبل میں پیٹرول اور رسوئی گیس اور مہنگے ہوں گے جنتا پریشان ہے کیونکہ ایندھن اور دودھ اور گھر چلانے کے لئے راشن خریدنا اس کی مجبوری ہے چاہے دام کتنے ہی بڑھ جائیں لیکن جنتا کب تک ایسا چلنے دے گی ؟ایسا نہ ہوکہ لوگوں کی بگڑتی مالی حالت سرکاروں کا ہی پسینہ نہ چھڑا دے ۔ (انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...