Translater

28 نومبر 2015

بھارت کا اسلام جہاد کی تلقین نہیں دیتا: آئی ایس

2011 تک سادہ زندگی بسر کرنے والے شام کو نہ جانے کس کی نظر لگی کہ وہ جدید یت سے بربریت کی دلدل میں پھنستا چلا گیا۔ ایک وقت خوشحالی کی علامت رہا یہ دیش خون سے لت پت ہوکر کھنڈر میں بدل گیا ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ ہے اسلامک اسٹیٹ کا عروج ہوگا۔ اسلامک اسٹیٹ یا آئی ایس آج دنیا کی سب سے خطرناک دہشت گرد تنظیم بن گئی ہے جس کی بربریت کے قصے آئے دن سننے کو مل رہے ہیں۔ نوجوان بڑی تعداد میں آئی ایس میں تمام دنیا کے دیشوں سے شامل ہورہے ہیں لیکن جب وہ ان کی بربریت اور غیر انسانی حرکات کو دیکھتے ہیں، فحشیت کو دیکھتے ہیں تو وہاں سے بھاگتے ہیں۔ پچھلے دو برسوں میں18 دیشوں کے 58 لوگوں آئی ایس چھوڑ چکے ہیں۔ بھارت کیساتھ کچھ غیر ملکی ایجنسیوں نے ایک مشترکہ ڈوزیئر تیار کیا ہے۔ اس کے مطابق جن 23 ہندوستانیوں نے آئی ایس میں شمولیت اختیار کی تھی ان میں صرف2 لوٹے ہیں۔ ان میں کلیان شہر کا نوجوان عریب مجید اور17 سال کی ایک لڑکی شامل ہے۔ اسے قطر سے نکال دیا گیا تھا۔ مجید فی الحال جوڈیشیل حراست میں ہے اور مقدمے کا سامنا کررہا ہے۔ڈوزیئر کے مطابق سب سے زیادہ لوگ شام(21) ہیں، اس کے بعد سعودی عرب کا نمبر ہے۔ آئی ایس چھوڑنے کی وجہ خراب برتاؤ، پریشان کیا جانا اور زبردستی چھوٹے موٹے کام کروانا ہے۔ رپورٹ کے مطابق آئی ایس میں تیونس ،فلسطین، سعودی عرب، عراق اور شام کے لڑاکوں کو سب سے زیادہ پسند کیا جاتا ہے اور ان پر سب سے زیادہ بھروسہ کیا جاتا ہے۔ یوروپ سے آئے لڑاکو کو بھی کافی عزت دی جاتی ہے۔ آئی ایس اپنے ہندوستانی لڑاکوکو بزدل مانتی ہے۔ اسے لگتا ہے کہ بھارت سے شامل ہوئے نوجوان عراق اور شام میں لڑنے لائق نہیں ہیں اسی وجہ سے آئی ایس ان ہندوستانیوں کے ساتھ نمبر2 درجے جیسا برتاؤ کرتا ہے۔ خفیہ رپورٹ کے مطابق آئی ایس بھارت، پاکستان و بنگلہ دیش کے لڑاکو کو عرب کے لڑاکو کے مقابلے میں کمزور سمجھتا ہے۔ اسی وجہ سے دہشت گرد تنظیم ہندوستانیوں کو بہلا پھسلا کر فدائی حملے کیلئے اکساتی ہے۔ ہندوستانیوں کو کئی بار اس بات کی جانکاری نہیں ہوتی کہ ان کا فدائی کی طرح استعمال ہوگا۔ انہیں کہا جاتا ہے کہ سامان لیکر کسی سے ملنے جائیں جب وہ وہاں پہنچتے ہیں تو انہیں ریمورٹ کنٹرول سے اڑادیا جاتا ہے۔ ایک دلچسپ بات یہ بھی سامنے آئی ہے کہ آئی ایس کی رائے میں بھارت کا اسلام جہاد کی تلقین نہیں دیتا۔ دراصل آئی ایس کے مطابق بھارت، پاکستان اور بنگلہ دیش میں جو اسلام کی تعلیم دی جاتی ہے اسے قرآن پاک اور حدیث کی بنیادی تعلیم سے الگ بتاتا ہے۔ اس لئے یہاں کے مسلمان نوجوان اسلامی جہاد کی طرف نہیں جاتے۔ خفیہ رپورٹوں کے مطابق ساؤتھ ایشیا سے آنے والے رنگروٹوں کے دلوں میں’’ جن‘‘ کا ڈر بٹھایا جاتا ہے ان سے کہا جاتا ہے کہ اگر وہ اپنے دیش لوٹیں گے تو انہیں تمام عمر جن پریشان کرے گا۔انہیں نہ ہی بہتر ہتھیار دئے جاتے ہیں اور نہ ہی عرب کے لڑاکو کی طرح تنخواہ۔ آئی ایس ساؤتھ ایشیا کے لڑکوں کو’ فٹ سولجر‘ کی طرح استعمال کرتا ہے۔ عرب کے لڑاکے اس کے پیچھے رہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عرب نژاد لڑاکوں کے مقابلے ساؤتھ ایشیائی نژاد نوجوان جنگ میں زیادہ مرتے ہیں۔ موصولہ رپورٹ کے مطابق اب تک23 ہندوستانی نوجوان آئی ایس میں شامل ہوچکے ہیں۔ ان میں اب تک مختلف واقعات میں 6 مارے جاچکے ہیں۔ بھارت سے گئے تین لڑکے کرناٹک کے ہیں، محمد عمر، سبحان اور فیض مسعود۔ اترپردیش کے اعظم گڑھ کا لڑکا محمد ساجد عرف بڑا ساجد ہے جو مارا جاچکا ہے۔ اس کے علاوہ عادل آباد(تلنگانہ) کاباشندہ عتیق وسیم محمد اور تھانے مہاراشٹر کا رحیم فاروق کی موت ہوچکی ہے۔ زیادہ تر ہندوستانی لڑکے حوروں کے چکر میں جہاد سے جڑتے ہیں کیونکہ آئی ایس میں عورتیں کم ہیں اس لئے ایشیا کے لڑکوں کو بیویاں نہیں ملتیں۔ آئی ایس سے بچ کر ہندوستانیوں کے مطابق آئی ایس سوشل میڈیا کے سہارے لڑکوں کو شامل کرتا ہے، لبھاتا ہے۔
(انل نریندر)

دیش میں نقلی نوٹوں کا بڑھتا مسئلہ

جعلی نوٹوں کا مسئلہ بڑھتا ہی جارہا ہے۔ پاکستان اپنی حرکتوں سے باز نہیں آرہا ہے۔ ہندوستانی معیشت کو نقصان پہنچانے کیلئے وہ کروڑوں روپے کے جعلی نوٹ ہندوستانی بازاروں میں بھیج رہا ہے۔ قومی جانچ ایجنسی (این آئی اے) کے ذریعے ہندوستانی سانکھیکھی ادارے کے ذریعے کئی گئی ایک اسٹڈی میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ دیش میں اس وقت قریب400 کروڑ روپے کے نقلی نوٹ چل رہے ہیں۔ اس سے پالیسی سازوں کو اس مسئلے کا حل تلاشنے میں کافی مدد ملے گی۔ سانکھیکھی ادارے کے مطابق دیش میں ہر سال تقریباً70 کروڑ روپے کے نقلی نوٹ جھونکے جارہے ہیں۔ خفیہ ایجنسیوں کے مطابق یہ اعدادو شمار قریب2500 کروڑ روپے تھی۔ ابھی تک دیش میں نقلی نوٹوں کا کوئی پختہ شمار سامنے نہیں آیاتھا لیکن اتنا تو طے تھا کہ اس میں پاکستان کا ہاتھ ہے۔ وزارت داخلہ کے ایک افسر کے مطابق کرنسی چینج ایجنسی کو نقلی نوٹوں کی فورنسک جانچ سے پتہ چلا ہے کہ ان میں استعمال ہونے والی سیاہی ،کاغذ و کئی دوسری چیزیں پاکستان کی کرنسی سے ہوبہو میل کھاتی ہیں۔ ہمیں بس دیش میں چلنے والے نقلی نوٹوں کا ایک اتھانٹک ثبوت چاہئے تھا جس کے لئے یہ اسٹڈی کرائی گئی تھی۔ سانکھیکھی ادارے نے آر بی آئی ،نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو، سینٹرل اکنامک انٹیلی جنس بیورو،آئی بی، سی بی آئی اور دیگر مقامات سے اعدادو شمار اکھٹے کئے ہیں۔ ان کے جواز پر اس لئے شبہ نہیں کیا جاسکتا کیونکہ مثلاً نقلی نوٹ ضبط کرنے والی سبھی مرکزی ایجنسیاں سینٹرل اکانامک انٹیلی جنس بیورو اعدادو شمار بھیجتی ہیں نہ کے نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کو۔ کمرشل بینک ایسے نوٹوں کی پوری رپورٹ آر بی آئی کے مقامی دفاتر کو دیتی ہے لیکن دیگر غیر بینکنگ مالیاتی ادارے،جو بھاری بھرکم نقدی ٹرانسفر میں شامل ہوتے ہیں، نقلی نوٹوں کی تعداد دینے کو مجبور نہیں ہوتے۔ اسٹڈی میں یہ بھی پتہ چلا ہے کہ یومیہ 10 لاکھ نوٹوں میں 250 نقلی نوٹ پائے جاتے ہیں۔ تقریباً26 سے46 کروڑ کے نقلی نوٹ گزشتہ پانچ برس میں ہر سال ضبط ہوئے ہیں۔ 1 ہزار روپے کے نوٹوں کی بہ نسبت 10 فیصد زیادہ پکڑے جاتے ہیں100 اور 500 روپے کے نوٹ کے 80فیصدی نقلی نوٹ، ایکسیس، آئی سی آئی سی آئی، ایچ ڈی ایف سی بینکوں نے پکڑے ہیں۔ عام طور پر اصلی اور نقلی نوٹ میں 12 طرح کے فرق ہوتے ہیں۔ نقلی نوٹ کی چھپائی زیادہ تر ایک کاغذ پر ہوتی ہے جبکہ اصلی نوٹ دو کاغذوں کو چپکا کر بنائے جاتے ہیں۔ اسٹڈی میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ضبط ہوئے نقلی نوٹوں کی رپورٹ دینے میں مقامی پولیس لاپرواہ ہے۔
(انل نریندر)

27 نومبر 2015

پوتن کی پالیسیوں اور ساکھ کی اگنی پریکشا

اسلامک اسٹیٹ کی بڑھتی دہشت کے درمیان منگل کے روز اس مسئلے میں ایک نیا خطرناک موڑ آگیا۔ ترکی نے شام سرحد کے پاس روس کے ایک جنگی جہاز اس۔ یو 24- کو مار گرایا۔ ترکی کا دعوی ہے کہ یہ روسی جنگی جہاز اس کی ہوائی حدود میں داخل ہوگیا تھا اور کئی بار وارننگ دینے کے بعد بھی جب وہ واپس نہیں لوٹا تو ہمارے ایف۔16 جہاز نے کارروائی کرتے ہوئے اسے مار گرایا۔ وہیں روس نے اس سے انکار کرتے ہوئے کہا نہ تو کوئی وارننگ دی گئی اور نہ ہی ہمارا جنگی جہاز ترکی کی سرحد میں گھسا۔ وہ پورے وقت تک شام ہی میں تھا۔دہائیوں کے بعد نیٹو کے کسی اتحادی دیش (ترکی) نے کسی روسی جنگی جہاز کو گرایا۔ ظاہر سی بات ہے کہ روس اور ترکی میں اس سے کشیدگی پیدا ہوگئی ہے۔ حملے سے آگ بگولہ روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے کہا کہ یہ واقعہ پیٹھ میں چھرا گھونپنے جیسا ہے۔ اس واقعہ سے ترکی اور روس کے رشتوں پر سنگین نتائج دکھائی پڑیں گے۔ پوتن نے کہا کہ روسی جہاز پر شام کی سرحد کے اندر ہی حملہ کیا گیا۔ جب یہ ترکی کی حد سے ایک کلو میٹر دور تھا۔ یہ جہاز شام کی سرحد کے4 کلو میٹر اندر گرا۔ پوتن کا بیان ترکی کے اس دعوے کے ٹھیک الٹ ہے کہ روسی جہاز کو مار گرانے سے پہلے کئی بار اس بات کی وارننگ دی گئی تھی کہ وہ ترکی کی ہوائی حدود میں اڑان بھر رہا تھا۔ غصے میں نظر آئے پوتن نے کہا کہ یہ واقعہ ہماری پیٹھ میں چھرا گھونپنے جیسا ہے جسے دہشت گردوں کے ساتھیوں نے انجام دیا ہے۔آج جو بھی ہوا ہے اسے کچھ اور نہیں کہہ سکتے۔
ہمارا جہاز شام کی حدود میں ایک ایف۔16 جہاز سے چھوڑے گئے ہوا سے ہوا میں مار کرنے والے میزائل سے اڑایا گیا اور یہ ترکی کی سرحد سے 4 کلو میٹر دور شام میں ہی تھا۔ یہ جہاز 6 ہزار میٹر کی اونچائی پر اڑ رہا تھا اور جب اس پر حملہ کیا گیا تب یہ ترکی سرحد سے ایک کلو میٹر دور تھا۔ پوتن کا کہنا ہے کہ روسی پائلٹوں اور جہازوں نے ترکی کو کوئی دھمکی نہیں دی وہ تو شام میں آئی ایس سے لڑنے کا فرض نبھا رہے تھے۔ انہوں نے آتنک وادیوں کی فنڈنگ کے بارے میں کہا کہ کافی پہلے ہم نے ثابت کیا تھا کہ آئی ایس کے قبضے والے علاقے میں تیل اور تیل کی پیداوار بڑی مقدار میں ہے جو ترکی کے علاقے میں آتے ہیں۔اب دہشت گردی سے لڑنے والے، ہمارے جیسوں کی پیٹھ میں چھرا گھونپا جاتا ہے اور جہاز گرائے جاتے ہیں۔ دوسری طرف ترکی کی فوج کا دعوی ہے کہ اس کے ہوائی علاقے میں گھسنے پر روسی فوج نے بھی یہی بات کہی ۔ترکی کے وزیر اعظم نے کہا جو کوئی ہماری سرحد میں گھسے گا اسے مارگرانے کا ہمیں پورا حق ہے۔ یہ واقعہ ایسے وقت ہوا ہے جب پچھلے ہفتے ہی ترکی نے روسی سفیر کو طلب کر وارننگ دی تھی کہ اگر روسی ایئر فورس نے ترکی کے دیہاتوں میں بمباری نہیں روکی تو اس کے سنگین نتائج ہوں گے۔ حالانکہ اس واقعہ کے بعد دونوں ملکوں نے اشارے دئے ہیں کہ وہ اس معاملے کو آگے نہیں بڑھانا چاہتے اور یہ نہیں چاہتے کہ دونوں میں ٹکراؤ بڑھے لیکن پوتن کو جاننے والوں کا خیال ہے کہ وہ اس بے عزتی کا بدلہ ضرور لے گا۔ دیکھا جائے تو اس واقعہ سے روس کو بھاری دھکا لگا ہے۔ ترکی جیسا چھوٹا دیش آج روس کو چنوتی دینے لگا ہے۔ اس سے روس کی ساکھ کو دھکا لگا ہے۔ پھر ایک امریکی جہاز(ایف۔16 ) نے جدید روسی جنگی جہاز (ایس ۔یو۔24) کو مار گرایا ہے۔ اس سے روسی فوجی ہتھیاروں کی مارکیٹ گرے گی۔ تیسرا خطرہ یہ ہے کہ اب روس اور نیٹو دیش آمنے سامنے آگئے ہیں۔
نیٹو کے 28 ملک ممبر ہیں۔ نارتھ اٹلانٹک ٹریٹی آرگنائزیشن اور روس دہائیوں بعد ایسی خطرناک صورتحال میں پہنچے ہیں۔ روسی جنگی جہاز کو اس واقعہ پر ماہرین کے مطابق یہ واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ شام میں لڑ رہے دیشوں کا غرور کس قدر انتہا پر ہے۔ اس کے سنگین نتائج ہوسکتے ہیں۔ مغربی دنیا کو شام میں روس کے ہوائی حملے شروع سے ہی ناگوار گزر رہے ہیں۔ دراصل امریکہ اور اس کے ساتھیوں کا کہنا ہے کہ شام میں صدر بشر الاسد کو ہٹائے بغیر حالات ٹھیک نہیں ہوں گے۔ یہ اسد کا خاتمہ کرنا چاہتے ہیں۔ وہیں ماسکو پوری طرح اسد کی حمایت میں کھڑا ہوا ہے۔ اس وجہ سے اس پر یہ الزام لگتے رہے ہیں کہ وہ آئی ایس کے بجائے اسد باغیوں پر بم برسارہا ہے۔ ترکی نے جب روسی جنگی جہاز گرایا تو تصویروں میں نظر آرہا ہے کہ جنگی جہاز میں ہوا میں ہی دھماکہ ہوگیا تھا۔
اس علاقے پر آئی ایس سے الگ دوسرے لڑاکو گروپوں کا قبضہ ہے۔اس میں القاعدہ کی برانچ نصرہ فرنٹ بھی شامل ہیں۔ تصویروں میں جنگی جہاز کے دونوں پائلٹ باہر نکلتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔ باغی ترکمان فورس کے ایک ڈپٹی کمانڈر کا کہنا ہے کہ اس کے لڑاکوں نے دونوں پائلٹوں کو گولی مار دی ہے۔ حالانکہ ابھی پائلٹوں کے مستقبل کی تصویر صاف نہیں ہوئی۔ کل ملاکر حالات بے قابو اور کشیدہ ہیں۔ کچھ بھی ہوسکتا ہے۔ مشرقی وسطیٰ میں لڑائی اور تیز ہوسکتی ہے۔ میں نے پہلے بھی اسی کالم میں لکھا تھا کہ اب لڑائی اسد بنام آئی ایس سے زیادہ روس بنام امریکہ اور نیٹو میں تبدیل ہوتی جارہی ہے۔
(انل نریندر)

26 نومبر 2015

Aamir Khan now feels suffocated in India

-        Anil Narendra

Every citizen of India has a right to express his views by his wisdom in a democracy and nobody should be deprived of it. This applies on a common man, an actor and Aamir Khan also but when you make a public statement it’s natural to have a reaction and particularly if a high quality actor like Aamir Khan states something it would attract both pros and cons reactions. Therefore it is said that actors should think many times before making an public statement. Before it is said by Aamir and his fans that media has distorted his statement, I would like to tell the readers what exactly and where Aamir Khan has said. During Ramnath Goenka Journalism Award Ceremony on Monday, Aamir said that whatever is happening in India, we read it in newspapers, watch live on TV.  The actor said that he himself feels that the feeling of insecurity has increased within the past six or eight month. Aamir said that when he talked about this with his wife Kiran in this regard she said that should we leave India? He added that Kiran is concerned about the security of her child. She is concerned over the surrounding atmosphere. She fears reading the newspaper every day. This proves that intolerance is increasing in the country. You can understand yourself why this is happening? Billions of Indians gave their heart to a common man like Aamir and have gifted him with wealth of crores, making his every film a hit. India was incredible till yesterday, now all of a sudden you and your wife are afraid here? One viewer reacted – Aamir’s statement has filled me with passion and guilt, why are we so tolerant that anyone may abuse us, our nation and we keep silent for the sake of freedom of expression and tolerance? Why we are insulting our nation for the sake of safeguarding his rights? If Aamir feels insecure, he should visit and see what is the tolerance level in Iraq, Syria, Afghanistan, and Sudan and even in Pakistan is? Another one says that it’s our tolerance that despite the partition of India on Hindu-Muslim bases people like Aamir Khan are superstars. Secondly if Kiran Rao had talked of leaving the country was it necessary for Aamir to tell it in the media? This home matter should have been confined to the home, but it was to be publicized. In fact, this anti-government environment has been created by so-called writers, artists, opposition parties jointly. Well-known actor Anupam Kher has strongly criticized actor Aamir Khan statement on intolerance. Kher has pasted on twitter that Dear Aamir Khan, have you ever asked Kiran that in which country she wants to go? Did you tell Kiran that the country has made you Aamir Khan? Anupam didn’t stop here, he asked Aamir in another tweet that Dear Aamir Khan have you told Kiran that you’ve seen a worse time in this country, but the idea of leaving the country never came in your mind, Incredible India has become intolerant just in 7-8 months? What will you suggest to two million Indians in this round of intolerance? Leaving the country or changing the regime? Famous writer Tasleema Nasreen asked , Mr. Aamir Khan, how can such a country be intolerant where you can earn Rs. 300 crore by producing a film like PK insulting the Hindu Gods? Could you have produced such a film in Pakistan or Saudi Arabia? Aamir Khan, you get Rs. 3 crore for each episode of Incredible India and what do you give to the nation in return? You get Rs. 3 crore for Satyamev Jayate and talk about intolerance in India. Akshay Kumar is far better Indian than you who helps 15,000 poor families, 180 farmer families and has helped drought affected farmers of Maharashtra with Rs. 90 lakhs monetary help. What have you done for the poor and needy Mr Khan? Aamir has not only left his fans speechless but also has let down the nation. Leaving the country is not a matter of a joke or casual off the cuff remark. You should have thought ten times before uttering these words. You  should have been aware about the circumstances of the  persons who are resorting to leave their country. They are the people of Syria and Iraq. They are also minorities of Pakistan and Bangladesh. Do Aamir and his wife find themselves in the same condition? It would be better that Aamir should tell that which is the tolerant nation of his dreams? It is really sad  that Aamir has taken a serious matter like leaving the country in such a lighter tone. Even Dawood Ibrahim has also fled from the county, this is not a big deal.

 

بھارت میں گھٹن محسوس کرنے لگا عامرخاں

جمہوریت میں سب کو اپنے حساب سے اپنی سوچ سمجھ سے اپنے نظریات رکھنے کا اختیار ہوتا ہے اور اس پر کسی طرح کی روک نہیں ہے۔ یہ اختیار عام آدمی سے لیکر اداکار تک کو ہے۔ اداکار عامر خاں کو بھی ہے لیکن جب پبلک میں ایک بیان دیتے ہیں تو اس کا ردعمل ہونا بھی فطری ہے اور خاص طور پر عامر خاں جیسے بڑے اداکار کچھ کہیں گے تو اس کی حمایت اور مخالفت میں دونوں طرح کا ردعمل ہوگا۔اس لئے کہتے ہیں کہ اداکاروں کو بہت سوچ سمجھ کر پبلک میں بیان دینا چاہئے۔ اس سے پہلے عامر اور اس کے حمایتی یہ کہیں کہ میڈیا نے ان کی باتوں کوتوڑ مروڑ کر پیش کیا ہے میں قارئین کو بتانا چاہتا ہوں کہ عامر خاں نے کہاں اور کیا کہا۔ پیرکو رام ناتھ گوئنکاجرنلزم ایوارڈ تقریب میں عامر نے کہا کہ دیش میں جو کچھ بھی ہورہا ہے، ہم اخباروں میں اس کے بارے میں پڑھتے رہتے ہیں، ٹی وی پر دیکھتے رہتے ہیں، اداکار نے کہا کہ وہ خود کو بھی محسوس کرتے ہیں کہ پچھلے 6 یا8 مہینوں میں عدم تحفظ کااحساس بڑھا ہے۔
عامر نے بتایا کہ جب میں نے گھر پر کیرن سے اس بارے میں بات کی توانہوں نے کہا کہ کیا ہمیں بھارت چھوڑ کر چلے جانا چاہئے؟ انہوں نے آگے کہا کہ کیرن اپنے بچوں کی سلامتی کیلئے فکر مند ہے وہ آس پاس کے ماحول سے بھی فکر مند ہے،وہ روزانہ اخبار کھولنے سے ڈرتی ہے اس سے پتہ چلتا ہے کہ اس دیش میں بے چینی بڑھ رہی ہے۔ آپ خود سمجھ سکتے ہیں کہ ایسا کیوں ہورہا ہے؟ بھارت دیش کے کروڑوں لوگوں میں ایک معمولی آدمی رہے عامر خاں کو دلوں میں بسایا۔ اربوں کی املاک کا مالک بنایا۔ ایک ایک فلم کو ہٹ کیا۔ کل تک بھارت اتولیہ تھا آج دیش میں اچانک آپ کو اور آپ کی بیوی کو خوف نظر آرہا ہے؟ ایک ناظرین کا ردعمل تھا کہ عامر خاں کے بیان نے مجھے مایوس کردیا۔ مجھے اپنی رواداری یا عدم رواداری جو بھی کہیں، لیکن شرم آنے لگی ہے کہ ہم اتنے صبر آزما کیوں ہے۔
کوئی بھی ہمیں اس دیش کو کتنی بھی گالی دے لے اور ہم اظہار آزادی اور رواداری کے نام پر صرف چپ اس لئے ہیں کہ وہ ہمیں پھر سے عدم رواداری کاعلمبردار نہ کہہ دے۔ ہم اس کے اختیارات کی حفاظت کی خاطر اپنے دیش کی بے عزتی کیوں کروا رہے ہیں؟ اگر عامر کو ڈر کا ماحول محسوس ہوتا ہے تو انہیں عراق،شام، افغانستان، سوڈان جاکر دیکھناچاہئے، پاکستان بھی جاسکتے ہیں۔ ایک طرف ایک اور شخص کا کہنا ہے کہ ہماری رواداری کا یہی حل ہے کہ بھارت کے ہندو مسلمان بڑے بٹوارے کے بعد بھی عامر جیسے لوگ سپر اسٹار ہیں دوسری بات اگر کیرن راؤ نے دیش چھوڑنے کی کہی بھی تھی توعامر کو میڈیا میں اسے بتانے کی کیا ضرورت تھی؟ گھر کی بات گھر پر ہی رہنے دیتے مگر اسے ہوا دینے تھی۔ دراصل یہ سارا سرکار مخالف ماحول نام نہادمصنفوں ،آرٹسٹوں، اپوزیشن پارٹیوں نے میڈیا کے ساتھ مل کر بنایا ہے۔ بالی ووڈ اداکار عامر خاں کے عدم رواداری کے مسئلے پر کھلبلی مچانے والے اس بیان پر جانے مانے اداکار انوپم کھیر نے زور دار حملہ کیا ہے۔ کھیر نے ٹوئٹر پر لکھا ہے پریہ عامر خاں، کیا آپ نے کبھی کیرن سے پوچھا ہے کہ وہ کس دیش میں جانا چاہتی ہیں؟ کیا آپ نے انہیں یہ بتایا کہ اس دیش نے آپ کو عامرخاں بنایا ہے؟ انوپم یہیں نہیں رکے ایک دوسرے ٹوئٹ میں انہوں نے عامر خاں سے پوچھا کہ پریہ عامر خاں کیا آپ نے کیرن راؤ کو یہ بتایا ہے کہ آپ نے دیش میں اس سے برے دور کو بھی دیکھا ہے لیکن کبھی دیش چھوڑنے کا خیال آپ کے من میں نہیں آیا۔
انکریٹیبل انڈیا آپ کیلئے 7-8 مہینے میں ہی عدم رواداری کا بن گیا ہے؟عدم رواداری کے اس ماحول میں آپ 2 ملین ہندوستانیوں کو کیا صلاح دیں گے؟ دیش چھوڑنے یا تبدیلی اقتدار کی؟ مشہور مصنفہ تسلیمہ نسرین نے پوچھا عامر خاں صاحب آپ جس دیش میں ہندو بھگوانوں کا اپمان کرکے پی کے جیسی فلم سے 300 کروڑ روپے کما سکتے ہیں وہ دیش عدم رواداری کا کیسے ہوسکتا ہے؟ کیا آپ ایسی فلم پاکستان یا سعودی عرب میں بنا سکتے تھے؟ عامر خاں انکریٹیبل انڈیا کے ہر قسط کے لئے 3 کروڑ روپے لیتے ہیں۔آپ واپس دیش کو کیا دیتے ہیں؟ ’ستیہ میں جیتے ‘ کے لئے3 کروڑ روپے لیتے ہیں۔
آپ بات کرتے ہیں بھارت میں عدم رواداری کی آپ سے تو اکشے کمار کئی درجہ بہتر ہندوستانی ہیں جو15 ہزار غریب کنبوں کو، 180 کسان کنبوں کو مدد کرتے ہیں۔جس میں سوکھے سے متاثرہ مہاراشٹر کے کسانوں کو90 لاکھ روپے کی مدد دی؟ عامر نے صرف اپنے پرستاروں کو ہی ٹھیس نہیں پہنچائی بلکہ دیش کو بھی نیچا دکھایا۔ دیش چھوڑنا معمولی بات نہیں ہوتی۔ بیوی کی بات کا ڈھول پیٹنے سے پہلے انہیں پتہ ہوناچاہئے تھا کہ وہ کون لوگ ہیں جن کے سامنے حقیقت میں دیش چھوڑ جانے کی نوبت آگئی ہے۔وہ شام یا عراق کے لوگ ہیں ،وہ پاکستان اور بنگلہ دیش کی اقلیتیں بھی ہیں ، کیا عامر اور ان کی بیوی خود کو بھی اسی حالت میں پارہے ہیں؟ اچھا ہوکہ عامر یہ بھی بتادیں ان کے خوابوں کو رواداری کون دینے والا ہے؟ افسوس تو اس بات کا ہے کہ عامر خاں نے دیش چھوڑ جانے کے انتہائی سنگین موضوع پر اتنے ہلکے طریقے سے بات کرڈالی۔ دیش چھوڑ کر داؤد ابراہیم بھی بھاگے ہیں۔اس میں بڑی بات کیا ہے۔
(انل نریندر)

25 نومبر 2015

بشرالاسد کو لیکر امریکہ اور روس میں ٹکراؤ

اقوام متحدہ سکیورٹی کونسل نے اتفاق رائے سے ایک ریزولوشن پاس کر سبھی ملکوں کو اسلامک اسٹیٹ (آئی ایس) جیسی دہشت گرد تنظیموں کو کچلنے کیلئے ہر ممکن قدم اٹھانے کی اپیل کی ہے۔ آئی ایس سے سنگین خطرے کا اندیشہ ظاہر کرتے ہوئے ممبر ملکوں سے حملے روکنے کی کوششیں دوگنی کرنے کو کہا ہے۔ ادھر برسیلز میں دہشت گردانہ حملے کے بارے میں ٹاپ الرٹ جاری کرتے ہوئے میٹرو سروس بند کردی گئی ہے کیونکہ پیرس حملے کا ایک حملہ آور ابھی بھی فرار ہے۔ مالی کے ہوٹل میں ہوئے حملے کے معاملے میں تین مشتبہ لوگوں کی تلاش جاری ہے۔ پیرس حملوں کے بعدروس کے صدر ولادیمیرپوتن کی اہمیت اچانک بڑھ گئی ہے۔ پہلے یہ مغربی ملک انہیں ایک ویلن کی شکل میں پیش کرتے تھے۔ شام میں صدر بشرالاسد کو لیکر امریکہ اور روس آمنے سامنے آگئے ہیں۔ امریکی صدر براک اوبامہ نے جمعرات کوکہا کہ شام کی خانہ جنگی تب تک ختم نہیں ہوگی جب تک بشرالاسد اقتدار نہیں چھوڑدیتے۔جب تک اسد اقتدار میں رہتے ہیں تب تک مجھے شام میں خانہ جنگی ختم ہونے کا امکان نہیں نظر آتا۔اوبامہ شام میں امن کے راستے میں اسد کو ایک بڑا روڑا مانتے ہیں اور مغربی ممالک اور اسد کے حمایتی ماسکو اور تہران کے درمیان تنازعہ کا معاملہ بنا ہوا ہے۔ روس شام میں اپنی پکڑ بنائے رکھنا چاہتا ہے اس لئے وہ اسد کو اقتدار سے بے دخل کئے جانے کی سخت مخالفت کررہا ہے۔ وہیں روس کی طرف سے کہا گیا ہے کہ مغربی ملکوں کو اسد کو اقتدار سے بے دخل کرنے کی ضد چھوڑنی ہوگی ، تبھی آئی ایس کے خلاف ایک مضبوط بین الاقوامی اتحاد بن سکتا ہے۔ وہیں شام کے صدر اسد نے کہا کے آئی ایس کو شام نے جنم نہیں دیا ہے بلکہ اس کے لئے مغربی دیش ذمہ دار ہیں۔ پوتن نے یہ سنسنی خیز انکشاف بھی کیا ہے کہ40 ملکوں سے آئی ایس کو اقتصادی مدد مل رہی ہے اور ان میں ایسے بھی دیش ہیں جو جی۔20 کے ممبر ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ آئی ایس کے تیل کے کاروبار پر روک لگانا ضروری ہے کیونکہ یہ اس کی آمدنی کا بڑا ذریعہ ہے۔ پوتن نے ان 40 ملکوں کے نام تو نہیں بتائے لیکن کچھ ناموں کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے۔ پہلے بھی اس طرح کی خبریں آئی تھیں کہ سعودی عرب، کویت اور قطر کے کچھ لوگ آئی ایس کو پیسہ دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ بھی دیگر ملکوں میں کٹر وہابی اسلام کے حمایتی بھی ہیں جو آئی ایس کے لئے پیسہ اور ہتھیار اکٹھا کرتے ہیں۔ یہ بھی کسی سے پوشیدہ نہیں ہے امریکہ آئی ایس کو ہتھیار مہیا کراتا رہا ہے۔ ترکی کا پورے معاملے میں رول مشتبہ ہے اور اس کی اور سعودی عرب کی خفیہ ملی بھگت بنی ہوئی ہے وہ آئی ایس سے نہیں بلکہ آئی ایس سے لڑنے والے کردوں کے خلاف زیادہ سرگرم ہے۔ سنی عرب ممالک شیعہ ایران کے اثر کو اس لئے بھی نہیں بڑھنے دینا چاہتے اور اس کے نتیجے میں سنی آئی ایس کے خلاف نرم رویہ اپناتے ہیں۔ امریکی صدر براک اوبامہ نے پھر دوہرایا ہے کہ وہ اپنی حکمت عملی پر قائم ہیں۔ اس کا مطلب ہمارے سمجھ سے تو باہر ہے کہ امریکہ کا اصل مقصد کیا ہے؟ آئی ایس کتنا امیر ہے پیرس حملے سے تھوڑا اندازہ ہوتا ہے۔ پیرس حملے کے چلتے پہلے فائننشیل ایکشن ٹاسک فورس نے اپنی رپورٹ میں بھی اس مشتبہ دہشت فنڈنگ پیٹرن کی طرف اشارہ کیا تھا جو ممکنہ طور پر فرانس میں آئی ایس سے جڑا ہواتھا۔ فرانس کے خلاف آتنکی حملہ کرنے سے پہلے آتنک وادیوں کی ٹیرر فنڈنگ پیٹرن سے ٹیلی کمیونی کیشن کمپنی کے ذریعے 6 لاکھ یورو تقریباً( 4 کروڑ 20 لاکھ روپے) کی رقم ٹرانسفر کی گئی تھی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نقدی لگاتار آتنکی کارروائیوں کا بہت اہم پہلو بنی ہوئی ہے۔ بیشک اقوام متحدہ نے آئی ایس و دیگر ایسی آتنکی تنظیموں پر سخت قدم اٹھانے کی بات تو کہی ہے لیکن دیکھنا یہ ہے کہ کون کونسا دیش اس پر عمل کرتا ہے؟
(انل نریندر)

آوارہ کتوں کی بڑھتی تعداد کے مسئلے سے کیسے نمٹا جائے

آوارہ کتوں کا مسئلہ دن بدن بڑھ رہا ہے بیشک جانوروں کی زندگی کا خاتمہ کرناشاید صحیح نہ ہو لیکن جب یہ جانور آدمی کی جان کے لئے خطرہ بن جائیں تو کیا کیا جائے؟ عزت مآب سپریم کورٹ کے سامنے ایک معاملہ پچھلے دنوں آیا۔ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ جانور کے تئیں سختی اور انسانی زندگی کے درمیان توازن کو بنانا ہوگا۔ کتے کی جان انسانی زندگی سے زیادہ قیمتی نہیں ہے۔ انسان کے لئے خطرہ بن چکے آوارہ کتوں سے سختی سے نمٹنے کی ضرورت ہے۔اس ضرورت کو کسی پرانے مقامی قانون کے بہانے ٹالا نہیں جاسکتا۔ جسٹس دیپک مشرا اور جسٹس شیو کیرتی سنگھ کی بنچ نے صاف کیا کہ خاص قسم کے آوارہ جانوروں کو ختم کرنے کی کارروائی جانوروں کے تئیں بے رحمی کی روک تھام قانون کے تحت بنے جانور پیدائش کنٹرول قواعد 201 کے مطابق ہی کی جانی چاہئے۔ بنچ نے کہا کہ زندگی قدرت کا انمول تحفہ ہے اور جانوروں کے تئیں سختی اور انسانی زندگی میں تال میل ہونا چاہئے۔ ججوں نے کہا فی الحال وہ اس معاملے پر مہاراشٹر ، کیرل کی میونسپل کارپوریشن قانون سے متعلق تقاضوں پر غور نہیں کررہے ہیں اور درکار قانون کے تحت 2001ء میں بنائے گئے قواعد کے مطابق ہی کارروائی کرنے کا حکم دیا جارہا ہے۔ عدالت نے دلیل کنندگان سے یہ بھی کہا کہ آوارہ کتوں کی بہبود کے لئے اٹھائے گئے قدموں سے اسے واقف کرایا جائے۔ قواعد کے تحت چنندہ قسم کے آوارہ کتوں کے لئے الگ سے باڑہ بنانے کی ضرورت ہے۔ عدالت اس معاملے میں مرکز اور ریاستی سرکاروں کے ذریعے بنائے گئے قوانین کو لیکر جانور بہبود بورڈ سمیت کئی انجمنوں کی عرضوں پر سماعت کررہی تھی۔ادھر دہلی ہائی کورٹ میں بھی کتوں کو لیکر ایک عرضی دائر کی گئی ہے۔ عرضی میں کہا گیا ہے کہ آوارہ کتوں کو انجکشن لگانے کے بعد اسی کمپلیکس میں چھوڑا جانا چاہئے جہاں وہ پہلے سے رہ رہے ہوں۔ چیف جسٹس روہنی کی رہنمائی والی بنچ کے سامنے دراصل سنگل بنچ کے اس حکم کو بھی چیلنج کیا گیا جس میں این ڈی ایم سی کو ہدایت دی گئی تھی کہ دہلی گولف کلب کمپلیکس سے ایک ماہ کے اندر کتوں کو ہٹا کر دوسری جگہ بھیجا جائے۔ اینیمل ویلفیئر بورڈ آف انڈیا نے بنچ کے سامنے اینیمل ویلفیئر برتھ کنٹرول (ڈاگ) رولز2001 پی سی ایکٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آوارہ کتوں کو کسی دوسری جگہ پر ٹیکہ لگانے کے بعد چھوڑا جاسکتا ہے۔ بنچ نے کہا کہ اگر ہائی کورٹ کمپلیکس میں 25 آوارہ کتے ہیں تو ان کو اسی قاعدے کے مطابق اس طرح سے نمٹا جائے گا۔ اس پر بورڈ کے وکیل کا جواب تھا کہ اس صورت سے ہائی کورٹ کمپلیکس میں معاملہ نمٹادیاگیا ہے۔ بورڈ نے بتایا کہ سپریم کورٹ میں صرف ان کتوں کو مارنے کی اجازت دی ہے جو کسی بیماری یا زخمی ہونے کے چلتے مرنے کے دہانے پر ہیں۔ آوارہ کتوں سے جنتا پریشان ہے۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ تیزی سے بڑھتے ان آوارہ کتوں کے مسئلے سے کیسے نمٹا جائے؟
(انل نریندر)

24 نومبر 2015

Widening Network of terrorism captures the entire world

-        Anil Narendra

With the terrorist attack on Kenyan University campus in April, Nigerian streets in July, during November suicide attack at Beirut, terrorist attack at Paris and now terrorist attack on the capital city Bamako in African country Mali, the entire world is slowly falling prey to the terrorism. The terrorists attacked on a five star hotel Radisson Blue on Friday last and took 170 people as hostage. Security personnel of Mali and the UN encountered the attackers for nearly nine hours. 18 dead bodies were recovered from the hotel. Two terrorists were also killed. Remaining hostages were released.  The attack occurred one week after the big terrorist attack on Paris. In 2008 the Taj Hotel at Mumbai was also attacked in the same manner.  As per reports an organization affiliated with Al Qaida, Al Murabitun has on the twitter claimed responsibility of this attack. Mali is under terror of self acclaimed jihadist extremists since 2012. Some of them are related to the terrorist group Al Qaida. Islamic State (IS) also exists in Mali which attacks at times. Terrorism is nourishing here due to weak government, army and the administrative machinery. The UN has also posted its soldiers to keep peace here which have been fallen prey to these terrorists. Besides this, some soldiers from the US and France have been posted here. In this attack in Mali, a lot of Indians were also trapped in the hotel. All Indians are confirmed to be released.  The hostages reciting the hymns of Quran were being released. IS itself is ravenous. The entire world is talking about it but there is also such an organization, ravenous and dangerous, but talked lesser of. A new report states IS and Boko Haram collectively responsible for more than half of the deaths happening due to terrorist attacks in the world. I am talking about Boko Haram. Undoubtedly the world has focused on IS but it is Boko Haram who has created the havoc of deaths. Boko Haram has so far put 6644 people to death in 453 attacks while IS put 6073 people to death in 1071 attacks. Terrorism has become a tremendous challenge for the entire world today. As per Global Terrorism Index (GTI), India stood at sixth place in 162 countries most affected from terrorism in 2014. In India terrorism related deaths have increased by 1.2 per cent and the death toll stood at 416. Now the entire world is affected by the ideology of these Islamic fundamentalists and seeks salvation from it. It is in our interest to destroy the outfits like Islamic State, Boko Haram. But the experience from Afghanistan to Iraq, Libya and Syria doesn’t confirm it that how far the western nations will be able to do so? Russian President Vladimir Putin has made a sensational disclosure that the terrorist outfit Islamic State (IS) is getting money from some nations including G-20 nations also. He claimed that this list of funding to IS contains 40 names. Putin also shared the intelligence information about the funding nations. Due to the dual policies of some nations, the entire world has become vulnerable to the terrorism.

 

تاجپوشی بیشک نتیش کی پر اقتدار لالو کے ہاتھوں میں

تمام سیاسی سرگرمیوں کے گواہ رہے پٹنہ کے تاریخ میدا ن میں نتیش کمار نے امیدوں کے مطابق زبردست عوام کے بھیڑ کے سامنے ایک بار پھر سے بہار کے وزیر اعلی کا حلف لیا۔ ا ن کے علاوہ جنتا دل (یو) اور راشٹریہ جنتا دل کے 12-12 اور کانگریس کے4ممبران اسمبلی نے بھی وزیر کے عہدے کا حلف لیا۔ حلف برداری کی دو باتیں خاص طور پر غور طلب ہیں ۔ ایک تو کہ لالو پرساد یادو کے دونوں بیٹوں کووزیر بنایا گیا۔ بیٹے کیبنٹ میں نمبر دو اور تین رینک کے وزیر بنے۔ جہاں تیجسوی یادو ڈپٹی سی ایم ہونے کے ساتھ ساتھ پی ڈبلیو ڈی محکمہ سنبھالیں گے تو وہیں تیج پرتاپ یادو کو اسمال سنچائی جیسا ملائی دار محکمہ دیا گیا ہے۔کیبنٹ کے وزراء کے درمیان وزارتوں کے بٹوارے پر اگر ہم غور کریں تو یہ صاف ہوتا ہے کہ بہار میں تاجپوشی بھلے ہی نتیش کمار کی ہوئی ہو لیکن اصل اقتدار تو کہیں نہ کہیں لالو پرساد یادو کے ہاتھوں میں ہی رہے گا۔ دونوں بیٹوں کو انتہائی عہدے دلانے میں کامیاب رہے لالو یہیں نہیں رکے۔ انہوں نے اپنے خاص عبدالباری صدیقی کو وزیر مالیات بنوانے میں بھی کامیابی پا لی۔ شکر ہے داخلہ محکمہ خود نتیش کمار نے اپنے ہاتھوں میں رکھا ہے۔ کم سے کم قانون و نظام تو ٹھیک چلے گا، جنگل راج کا دور دورہ دوبارہ نہیں عروج پائے گا۔ سپا ، بسپا جیسی دو تین پارٹیوں کو چھوڑدیں تو شاید ہی کوئی بڑی پارٹی رہی ہو جس کے بڑے لیڈر گاندھی میدان میں نہ دکھائی دئے ہوں۔ اس موقعے پر لیفٹ پارٹیوں کے نیتاؤں کے ساتھ جس طرح ممتا نظر آئیں اس سے مستقبل میں نئے سیاسی تجزیئے سامنے آنے کے امکان بڑھ گئے ہیں۔ 28 نفری نتیش کیبنٹ میں ذات پات کے پہلو پر نظر ڈالیں تو کیبنٹ کا ہر چوتھا وزیر یادو ہے۔ سرکار بنانے میں اہم رول نبھانے والی آر جے ڈی کے ذات پات والے ووٹ بینک کا خیال رکھتے ہوئے نتیش کمار نے 7 یادو چہروں کو اپی کیبنٹ میں جگہ دی ہے۔ کیبنٹ میں حالانکہ اقلیتوں اور براہمنوں کو برابر کا موقعہ دیا گیا ہے۔ نتیش نے 4-4 سورن اور مسلمانوں کو موقعہ دیا ہے۔ کیبنٹ میں 5 دلتوں کو بھی لیا گیا ہے۔ اس طرح سے دیکھا جائے تو سبھی طبقات کو نمائندگی دی گئی ہے۔ نتیش کی ساکھ صاف ستھری ہے اور مہا گٹھ بندھن کو چناؤ میں اس بات کا ہی فائدہ ملالیکن اب نتیش کے سامنے نئی چنوتیاں ہوں گی۔ کیا وہ لالو کے ریموٹ کنٹرول سے بچ پائیں گے؟ کیا وہ لالو کے لوگوں کو مریادہ میں رکھ پائیں گے جو لمبے عرصے بعد اقتدار کے گلیاروں میں آنے پر موقعے کی تاک میں رہیں ہوں گے۔ چناؤ کے دوران ڈیولپمنٹ ماڈل کو بھی نتیش نے بحث کا موضوع بنانے کی کوشش کی تھی، جو ایک اچھی بات ہے۔ اب اس کے سامنے وکاس کے اپنے ماڈل کو آگے بڑھانے کی چنوتی ہے۔ اس میں وہ اگر کامیاب ہوتے ہیں تبھی قومی سطح پر سیاست میں وہ بڑا رول نبھانے کے حقدار ہوں گے۔ پہلی چنوتی تو یہ ہے بہار کو اچھا انتظامیہ دینے کو برقرار رکھنے اور ان اندیشات کو دور کرے کی ہے جو لالو جی کے ساتھ ابھر آئے ہیں۔ مرکز سے خوشگوار تعلقات بنانے ہوں گے ۔ اگر انہوں نے مودی سے ٹکراؤ کا راستہ اپنایاتو دوسرے کیجریوال بن سکتے ہیں اور اس کا خمیازہ بہار کی عوام کو بھگتا پڑے گا۔ نتیش کمار کو پانچویں بہار کے وزیر اعلی بننے پر ہماری مبارکباد۔
(انل نریدر)

لالو ۔کیجریوال کے گلے ملن پر مچا واویلا

نتیش کمار کی حلف برداری تقریب میں دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال نے حالانکہ بہت کوشش کی کہ اسٹیج پر وہ لالو پرساد یادو سے دور رہیں لیکن لالو تو اس بات کیلئے بے چین تھے کہ اپنے نکتہ چیں شخص اروند کیجریوال کو اسٹیج پر گلے لگائیں اور انہوں نے اروند کو نہ چاہتے ہوئے بھی گلے لگا لیا۔ اگر آپ نے غور سے دیکھا ہو کہ گلے لگاتے وقت بھی اروند کچھ کھنچ رہے تھے لیکن لالو نے کیجریوال کو تنقید کا موضوع ہی بنا ڈالا۔ اسٹیج پر لالو سے گلے ملنے پر آپ کے سابق لیڈر یوگیندر یادو نے اروند کیجریوال پر طنز کستے ہوئے کہا کہ فوٹو کے پیچھے ایک بے تحریر سمی کرن جاری ہے۔ یہی نہیں انہوں نے لکھا کہ لالو ۔ کیجریوال کی تصویر دیکھ مجھے دکھ ہوا، شرمندگی محسوس ہوئی۔ بس یہی دن دیکھنا تھا۔ یادو نے کہا کہ سیاست میں تال میل اور دعا سلام ضروری ہے۔ حریفوں کے ساتھ بھی خوش مزاجی اور بات چیت اور دعا سلام ہونی چاہئے اور اروند یہ سیکھ رہے ہیں تو اس میں کوئی برائی نہیں ہے لیکن پٹنہ کی تقریب میں لالو سے ملاقات کوئی اتفاق نہیں تھایہ دو مہینے سے جاری تھا۔اس ایک غیر رسمی اتحاد کا پریویو ہے جو قومی محاذ کا اشارہ کررہی ہے۔یوگیندر یادو کے مطابق اروند اینڈ کمپنی دو مہینے سے صرف نتیش کے لئے کمپین کررہی تھی اور کہا تھا کہ وہ لالو کے ساتھ کبھی اسٹیج پر نہیں جائیں گے۔ ایسے میں لالو پرساد یادو، شرد پوار، دیو گوڑا، فاروق عبداللہ اور راہل گاندھی کے ساتھ اسٹیج پر بیٹھنا صرف ایک میل ملاپ نہیں تھا۔مگر یوگیندر یادو نے اس فوٹو کے سیاسی مطلب نکالے تو حریف پارٹی بھارتیہ جنتا پارٹی نے تو سیدھا حملہ بول دیا۔ پردیش بھاجپا کے نیتا اس ملن کی فوٹو کو لیکر خوب طنز کس رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اب یہ ثابت ہوگیا ہے کہ کیجریوال کو بدعنوان افراد سے کوئی پرہیز نہیں ہے۔ سیاسی فائدے کیلئے وہ کسی سے بھی ہاتھ ملاسکتے ہیں۔ آپ پارٹی کی گرتی اخلاقی اقتدار کو دیکھ کر جنتاکو تعجب ہونے لگا ہے۔ کیجریوال کو سماجی کارکن انا ہزارے کی آشیش سے زیادہ چارہ گھوٹالے میں سزا یافتہ لالو یادو کی پارٹی کا ساتھ دینا پسند آنے لگا ہے۔ اروند پر حملہ کرنے والوں میں عام آدمی پارٹی کے بانی ممبران میں رہے شانتی بھوشن بھی شمار ہوگئے۔ حالانکہ ان کو الگ الگ اشوز پر شکایت ہے۔ ایتوار کو نوئیڈا میں واقع اپنی رہائشگاہ پر شانتی بھوشن نے کیجریوال پر کرپشن کو گلے لگانے و تاناشاہی سے پارٹی چلانے کا سنگین الزام بھی لگایا۔ کرنال روڈ پر قومی کونسل کی میٹنگ منعقدہ کرنے پر بھی سوالیہ نشان لگایا۔ اگر طے شدہ کانسٹیٹیوشن کلب میں میٹنگ ہوتی تو اس میں سب آسکتے تھے بہت سی سرگرمیوں کو دیکھ سکتے تھے۔ اندیشہ ہے کہ اس بار پھر پچھلی بار کی طرح بانسروں کا سہارا لیاجاسکتا ہے اس لئے کرنال روڈ پر یہ میٹنگ رکھی گئی تھی۔ کیجریوال کا بطور قومی کنوینر میعاد 24 نومبر کو ختم ہونے والی ہے اسی لئے 23 نومبر کو میٹنگ بلائی گئی۔ اس میں توقع ہے کیجریوال کو دوبارہ سے قومی کنوینر چن لیا جائے۔ نتیش حلف برداری تقریب میں کیجریوال کے ذریعے لالو یادو کو گلے لگانے کے مسئلے پر شانتی بھوشن ان سے ناراض ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جو آدمی کرپشن کے خلاف جنگ لڑنے کی باتیں کرتا تھا آج وہی کرپشن کی علامت لالو یادو سے گلے مل رہا ہے۔ متبادل سیاست کی امید سے پارٹی بنائی گئی تھی لیکن یہ اب سنگل مین پارٹی بن کر رہ گئی ہے۔ اسے کھاپ پنچایت کی طرح چلایا جاتا ہے۔
(انل نریندر)

23 نومبر 2015

Diwali Bomb : Advani leads revolt against Modi-Shah

Anil Narendra

When Narendra Modi took oath of the post of the 15th Prime Minister of the country on 26th May 2014 he ushered in a new hope, a new dawn in India.  People gave him an unprecedented mandate (I included) with a hope that he would change India’s destiny.  The millions voted for him expecting a quality change in their life, employment for the youth, protection from exploitation etc.  But their dreams were shattered within 18 months of Modi’s coming to power. 

No doubt his popularity is still intact as was exhibited in his recent visit to the United Kingdom and the rallies he has had in this country but his party’s defeat in Bihar has come as a big blow to Modi.  It is a verdict against the PM’s style of working and his failure to deliver.  The country did not vote for Amit Shah or for that matter Arun Jaitley.  Modi has been concentrating only on his foreign tours and has left the running of the country and his party to Shah and the country to Jaitley. 

Elections come and go, state elections are not an indicator of the central governments popularity but it does reflect what the mood of the people is.  Mr. George Bush (senior) once came to New Delhi for a very brief visit.  I was also invited to American Embassy to meet him.  After his speech I went up to him and said ‘Sir, you were very popular in the U.S.  The American prestige was sky high after you led the country through operation Desert Storm, then why did you lose the next Presidential Elections?  Bush replied “I guess I was looking more outward than inwards”.  This is precisely what Mr. Modi is doing. 

Delhi assembly elections were a wake-up call but Amit Shah and Arun Jaitley instead of changing their arrogant and aristocratic style of working brushed the defeat under the carpet and went on to repeat the same mistakes in Bihar.  I don’t blame Modi for the defeat as much as Shah-Jaitley duo.  The revolt in the party was brewing up for sometime but the lid was finally lifted after the crushing defeat of BJP in Bihar.  Knives were out in BJP when veteran leaders L.K. Advani, M.M. Joshi, Yashwant Sinha and Shanta Kumar raised a banner of revolt against the leadership of Prime Minister Modi and Party President Amit Shah in the wake of Bihar debacle. 

This is the first, direct and biggest internal challenge to Modi and his confidents Shah and Jaitley.  Arun Shourie’s open statement against Modi was a clear indication that something was brewing in the party.  It is because of the knowledge of this brewing revolt that Modi made it a point to visit Advani’s house on counting day, also the octogenarian’s birthday to wish him.  Modi and Shah were clearly anticipating trouble of the Bihar elections bombed and bombed it did.  The results were not just bad, but terrible.  The statement, which named no names, was clearly directed at the Prime Minister and BJP President.  The veteran party stalwarts came out openly against the BJP leadership calling for a ‘thorough review’ of the influence being wielded by what they called ‘a handful’.

To say that everyone is responsible for the defeat in Bihar is to ensure that no one is held responsible.  “It shows those who would have appropriated credit if the party had won are bent on shrugging off responsibility for the disastrous showing in Bihar,” the four leaders said.  “The main reason for Bihar drubbing is the way the party has been emasculated in the last year.”  “A thorough review must be done of the reasons of the defeat as well as of the way the party is being forced to kowtow to a handful, and how its consensual character has been destroyed said Advani & Co. 

Let’s talk of some of the mistakes committed by Amit Shah due to his arrogant attitude in the elections.  Instead of relying on local BJP leaders to fight the election on local issues, Modi was advised to take personal control of the campaign in the hope that his reputation and popularity would seal the victory.  From polarization to development Shah tried every trick in the book to win, R.S.S. Chief Mohan Bhagwat’s controversial remark on reservations, failure of NDA partners, LJP, HAM and RLSP to transfer their votes to BJP candidates, the failed attempt of polarizing the votes, wrong distributors of tickets including giving it to the wrong caste, too much reliance on central leadership in running the campaigning was the planning and execution has been attributed to Party President Amit Shah.  BJP’s campaign went haywire as it switched from making development the main plank by playing the caste card and then attempting to polarize the elections.

BJP’s attack on Lalu’s jungle Raj further alienated the Yadav’s.  BJP Chief Amit Shah’s attempt to polarize the elections with his “crackers will be burst in Pakistan if BJP loses also backfired as did the beef eating controversy.  Nitish and Lalu used PM’s DNA remarks to win sympathy of the Bihar votes.  It is thus clear that this fight within BJP IS A FIGHT TO THE FINISH.  The veterans are obviously going to push things and I doubt that they will stop now till matters are taken to the logical conclusions. 

Eighteen months in power, and Modi and the BJP are already at the crossroads.  The PM needs to regain the initiative and this can only be done by accepting his and his lieutenant’s shortcomings.  The Bihar results are a big blow to Modi’s momentum.  His future now depends on how he responds.  If he uses this verdict as a wakeup call and cleans his ugly side, he could turn it around.  But if he decides to crush dissidence it could be a disaster.

22 نومبر 2015

آتنک واد کا پھیلتا جال پوری دنیا چپیٹ میں

اپریل میں کینیا کی یونیورسٹی ، جولائی میں نائیجریا کی سڑکوں پر نومبر میں بیروت میں خودکش حملہ ، پیرس میں آتنکی حملہ اور اب افریقی دیش مالے کی راجدھانی بماکو میں آتنکی حملہ دھیرے دھیرے پوری دنیا میں آتنک کا جال پھیلتا جارہا ہے۔ شکروار کو آتنکیوں نے پانچ ستارہ ریڈیسن بلو ہوٹل پر حملہ کر 170 لوگوں کو یرغمال بنالیا۔ مالے اور اقوام متحدہ کی سکیورٹی فورس نے حملہ آوروں سے قریب9 گھنٹے تک مڈبھیڑ کی۔ اس کے بعد ہوٹل سے 18 لوگوں کی لاشیں ملیں۔ دو آتنکی بھی مارے گئے باقی بچے یرغمالوں کو چھڑالیاگیا۔ پیرس میں بڑے آتنکی حملے کے ایک ہفتے بعد یہ حملہ ہوا۔ ٹھیک اسی انداز میں 2008ء میں ممبئی کے تاج ہوٹل پر بھی حملہ کیا گیا تھا۔ رپورٹوں کے مطابق القاعدہ سے جڑی تنظیم المورابتون نے ٹوئٹر پر حملے کی ذمہ داری لی ہے۔مالے میں 2012ء سے خودکو جہادی بتانے والے کٹر پنتھیوں کا سنکٹ ہے۔ ان میں سے کچھ کا تعلق آتنک وادی تنظیم القاعدہ سے ہے۔ مالے میں اسلامک اسٹیٹ (آئی ایس) بھی موجود ہے، جو وقت وقت پر حملہ کرتا رہتا ہے۔کمزور سرکار ،کمزور فوج و انتظامیہ نظام کی وجہ سے آتنک یہاں پھل پھول رہا ہے۔ امن بنائے رکھنے کیلئے اقوام متحدہ نے یہاں اپنے فوجی بھی تعینات کئے ہیں جو ان آتنکیوں کا نشانہ بن رہے ہیں۔ اس کے علاوہ امریکہ اور فرانس کے کچھ فوجی سکیورٹی کے لئے تعینات ہیں مالے کے اس حملے میں بڑی تعداد میں ہندوستانی بھی ہوٹل میں پھنس گئے تھے۔ سبھی ہندوستانیوں کو بچانے کی تصدیق ہوگئی ہے۔
یرغمالوں میں جو قرآن کی آیتیں پڑھ پا رہے تھے انہیں رہا کیا جارہا تھا۔ آئی ایس تو خونخوار ہے ہی اس کی چرچا ساری دنیا کررہی ہے پر ایک اور ایسی تنظیم بھی ہے جو اتنی ہی خونخوار اور خطرناک ہے جس کی چرچا کم ہوتی ہے۔ایک نئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دنیا میں آتنکی حملوں سے ہونے والی موتوں میں سے آدھی سے زیادہ کے لئے آئی ایس اور بوکوحرام مشترکہ طور سے ذمہ دار ہیں۔ میں بوکوحرام کی بات کررہا ہوں۔ دنیا کافوکس بیشک آئی ایس پر ہو مگر موت کا قہر بوکوحرام نے زیادہ مچایا ہے۔بوکوحرام نے اب تک453 حملوں میں 6644 لوگوں کو موت کی گھاٹ اتارا ہے جبکہ آئی ایس نے 1071 حملوں میں 6073 کو موت کے گھاٹ اتارا۔ آج پوری دنیا کیلئے آتنک واد ایک زبردست چنوتی بن گیا ہے۔ گلوبل ٹیررازم انڈیکس (جی ٹی آئی) کے مطابق 2014ء میں آتنک واد سے سب سے زیادہ متاثر 162 دیشوں میں ہندوستان کا چھٹا مقام رہا۔ ہندوستان میں آتنک واد سے متعلق موتوں میں 1.2فیصد کا اضافہ ہوا ہے اور مرنے والوں کی تعداد416 رہی۔ آج پوری دنیا اس اسلامی کٹر پنتھیوں کی وچار دھارا سے پربھاوت ہے اور آزادی چاہتی ہے۔ اسلامک اسٹیٹ، بوکوحرام جیسی آتنکی تنظیموں کو تباہ کرنے میں ہم سب کا مفاد ہے لیکن افغانستان سے لیکر عراق اور لیبیا، سیریا کا جو تجربہ ہے اس سے یقین نہیں ہو پاتا کہ پشچمی دیش اس میں کس حد تک کامیاب ہوپائیں گے؟ روس کے راشٹرپتی ولادیمیر پوتن نے سنسنی خیز دعوی کیا ہے کہ آتنکی تنظیم اسلامک اسٹیٹ کو کچھ دیشوں سے پیسہ پہنچ رہا ہے جن میں جی20 سے جڑے ملک بھی شامل ہیں۔ انہوں نے دعوی کیا کہ آئی ایس کو فنڈنگ کرنے کی اس فہرست میں 40 دیشوں کا نام ہے۔ جن دیشوں سے پیسہ پہنچ رہا ہے اسے لیکر پوتن نے خفیہ جانکاریاں بھی سانجھا کی ہیں۔کئی دیشوں کی دوہری نیتیوں کی وجہ سے ہی پوری دنیا آج آتنک واد کی چپیٹ میں آگئی ہے۔
(انل نریندر)

شمشان گھاٹ سے تاج کو خطرہ!

شمشان گھاٹ کی وجہ سے تاج پر ممکنہ خطرے کو لیکر سپریم کورٹ نے اترپردیش سرکار سے جواب مانگا ہے۔ ساتھ ہی عدالت عالیہ نے سینٹرل امپاورمنٹ کمیٹی (پی آئی سی) کو اس جگہ کا معائنہ کر رپورٹ داخل کرنے کو بھی کہا ہے۔ سپریم کورٹ نے تاریخی تاج محل کو آلودگی سے بچانے کیلئے نزدیک کے شمشان گھاٹ کو دوسری جگہ منتقل کرنے پر اترپردیش سرکار سے جواب مانگا ہے۔تاج کے تحفظ پر سنوائی کررہی جسٹس ٹی ایس ٹھاکر کی صدارت والی بنچ نے کورٹ کے ہی ایک جج جسٹس کورین جوزف کے خط پر نوٹس لیتے ہوئے شمشان گھاٹ منتقل کرنے پر سرکار سے جواب و سجھاؤ مانگے ہیں۔ جسٹس جوزف نے چیف جسٹس کوخط لکھ کر تاج محل کے نزدیک شمشان گھاٹ کے دھوئیں سے تاریخی یاد گار کو ہورہے نقصان پر فکر جتاتے ہوئے اسے منتقل کرے کی گزارش کی ہے۔ 
عزت مآب عدالت نے اس کے علاوہ مرکزی آلودگی کنٹرول بورڈ سے بھی جسٹس جوزف کے خط کا جواب مانگا ہے۔ بنچ نے پایا کہ شمشان گھاٹ کو لیکر عدالت عالیہ نے 7 دسمبر 1998ء اور 12 اپریل 1999ء کو بھی احکام جاری کئے تھے۔ بنچ نے کہا کہ ہدایات کے باوجود آگرہ نگر نگم اور آگرہ ڈولپمنٹ اتھارٹی نے شمشان گھاٹ کو منتقل کرنے کی سمت میں کوئی مثبت کوشش نہیں کی۔ یہی وجہ ہے کہ شمشان گھاٹ اب بھی اسی جگہ قائم ہے جس سے تاج محل کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ ہم سپریم کورٹ کی ہدایات سے متفق ہیں۔ تاج محل کو آلودگی سے بچانا بہت ہی ضروری ہے۔ شمشان گھاٹ کو شفٹ کیا جاسکتا ہے۔ امید کرتے ہیں کہ اترپردیش سرکار اور آگرہ ایڈمنسٹریشن سپریم کورٹ کی بات پر سنجیدگی سے غور کرے گا اور اس پر عمل کرے گا۔ تاج کو بچانا لازمی ہے۔
(انل نریندر)

میلانیا نے امریکہ میں یہ نئی جنگ چھیڑ دی

ایران جنگ میں سیز فائر ہوتے ہی امریکہ کے اندر ایک اور جنگ شروع ہو گئی ہے ۔آپ حیران ہوں گے کہ یہ کون سی جنگ ہے ؟ بتادیں کہ ایپسٹین فائلس کی ...