Translater

02 جون 2012

جذباتی جواب دیکر منموہن سنگھ اپنی ذمہ داری ٹال نہیں سکتے


ٹیم انا کے الزامات پر وزیر اعظم منموہن سنگھ کا جواب شاید کسی کو تسلی بخش نہ لگے۔ وزیر اعظم کا یہ جذباتی قول کے اگر ان کے خلاف کرپشن کا کوئی الزام ثابت کرسکتا ہے تو وہ سیاست سے سنیاس لے لیں گے۔ یہ بیان ہمارے گلے سے نہیں اترتا نظر آرہا۔ ہمیں تو وزیر اعظم کا جواب خاص اشو سے ہٹ کر اپنے سارے داغی ساتھیوں کو بچانے کا لگتا ہے۔ ٹیم انا نے وزیر اعظم اور ان کے 15 وزرا کی فہرست جاری کی ہے۔ انہوں نے بس یہ ہی تو کہا ہے کہ کوئلہ کھدائی الاٹمنٹ کو لیکر سی اے جی کی ایک رپورٹ میں کچھ کرپشن کی بو آرہی ہے اور کیونکہ یہ وزارت وزیر اعظم کے ماتحت ہے اس لہٰذا سے وہ ذمہ دار ہیں۔ اگر وزیر اعظم بے قصور ہیں تو وہ جانچ کیوں نہیں کروالیتے؟ ڈاکٹر منموہن سنگھ اس دیش کے وزیر اعظم بھی ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ سانجھہ ذمہ داری کی بنیاد پر سربراہ ہونے کے ناطے وہ اپنی کیبنٹ ساتھیوں کے برتاؤ کے لئے بھی ذمہ دار ہیں۔ ٹیم انا نے ان کی کیبنٹ کے 15 افراد پر کرپشن کا الزام لگایا ہے۔ اگر سرکار کا سربراہ اپنی ٹیم کے لئے ذمہ دار نہیں توکون ذمہ دار ہے۔ یہ وقت جذباتی بیان دینے اور خود کو ٹیم انا سے دکھی دکھانے کا نہیں بلکہ دیش کے سامنے وضاحت کرنے کا ہے۔ آپ پچھلے آٹھ برسوں سے وزیر اعظم چلے آرہے ہیں۔ اس دوران آپ گھوٹالوں پر روک لگانے میں ناکام کیوں ہیں؟غبنو گھوٹالوں کا سلسلہ پچ نہیں رہا ہے۔ کامن ویلتھ کھیلوں کی تیاری کے نام پر بے قاعدگیوں کے ساتھ ہی ٹو جی اسپیکٹرم گھوٹالہ سامنے آیا۔ اس کے بعد تو ایک کے بعد ایک گھپلوں کی لائن سی لگ گئی۔ کبھی 16 آنے ایماندار مانے جانے والے منموہن سنگھ اس سودے میں شامل ہوں گے یہ آج بھی کسی کو یقین آنے والا نہیں لیکن وہ سب کچھ جان بوجھ کر آنکھ بند کئے ہوئے ہیں یا اتحاد کی مجبوری یا پھر صرف راج کرنے کے لالچ میں خاموش ہیں۔ اس بات پر شک ضرور ہونے لگا ہے آخر سربراہ ہونے کے ناطے منموہن جی نے کوئی بھی گھوٹالہ روکنے کی کوشش کیوں نہیں کی اور یہ جانتے ہوئے گھوٹالے پر گھوٹالہ ہورہا ہے وہ چپ چاپ تماشہ دیکھتے رہے، کا مطلب صاف ہے کہ انہیں نہ تو اس کی پرواہ ہے اور نہ ہی وہ اسے روکنے کے خواہش مند ہیں۔ وہ تو بس وزیر اعظم بنے رہنا چاہتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ اب اگر وزیر اعظم کی کرسی سے ہٹ گئے تو اور کوئی دوسرا راستہ ان کے لئے نہیں ہوگا۔ جب تک ممکن ہو کرسی سے چپکے رہو۔ آج حالت یہ بن گئی ہے کہ اپنے کرپٹ ساتھیوں کو بچاتے بچاتے خودشکھنڈی کا خطاب دینے والے پرشانت بھوشن کو بھی کچھ کہنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ الٹا جذبات سے بھرے بیانات سے سارے معاملے کو دبانا چاہ رہے ہیں۔ ٹیم انا کے اہم مشیر اروند کیجریوال نے کہا کہ وزیر اعظم کسی جانچ کے بغیر اپنے آپ کو پاک صاف کیسے ثابت کررہے ہیں؟ وہ یہ کیوں نہیں کہتے کہ معاملے کی جانچ کروالو ۔ لیکن وزیر اعظم کی ذمہ داری سے کہیں بڑا سوال یہ ہے کہ اس یو پی اےII- سرکار کی جوابدہی جو نظر نہیں آتی اور نہ ہی وہ ایسا قدم اٹھانے کو تیار ہیں جس سے دودھ کا دودھ ، پانی کا پانی ہوجائے۔
(انل نریندر)

عامر کے ’ستیہ مے جیتے ‘ شوسے بوکھلائے ڈاکٹر


عامر خاں کے تازہ ’ستیہ مے جیتے‘ پروگرام سے ڈاکٹر برادری کا بوکھلانا فطری ہے۔ عامر نے وہ کڑوی سچائی دکھائی ہے جو آج کل ہورہی ہے۔ پیسوں کی خاطر زبردستی ٹیسٹ کروانا۔ ضرورت نہ ہونے پر بھی آپریشن کرنا، غلط سرجری کرنا وغیرہ وغیرہ یہ سب دھاندلیاں جاری ہیں۔ ڈاکٹروں کی جوابدہی کچھ بھی نہیں ہے۔ عامر خاں نے اپنے بیحد مقبول پروگرام ’ستیہ مے جیتے‘ میں ڈاکٹر برادری کی دکھتی رکھ پر ہاتھ رکھ دیا ہے۔ وہ تلملا اٹھے ہیں۔ اس معاملے میں ہمارا بھی بہت خراب تجربہ ہے۔ ہمیں اپنے والد سورگیہ شری کے ۔نریندر کو مشرقی دہلی کے ایک نامور ہسپتال میں بھرتی کروانا پڑا۔ انہیں زکام کی شکایت تھی جس سے انہیں نمونیہ ہوگیا تھا اور اس کے علاج کے لئے بھرتی کرایا لیکن واپس ان کا مردہ جسم ہی ہسپتال سے لیکر آئے۔ اس چکر میں لاکھوں روپیہ کا بل بن گیا۔ بہت ناراضگی تھی۔ پہلے ہسپتال پر کیس کرنے کی سوچی، پھر ہمیں بتایا گیا کہ ہر بڑا ہسپتال کورٹ معاملوں کے لئے تیار رہتا ہے اور اس کام کے لئے انہوں نے وکیلوں کی فوج بھی رکھی ہوئی ہے۔ جہاں تک ریکارڈ کا سوال ہے وہ اتنا پکا بنا کر رکھتے ہیں کہ عدالت میں اسے غلط ثابت کرنا آسان نہیں ہے۔ ہار کر ہم چپ بیٹھ گئے۔ ہم نے ہسپتال میں دیکھا کہ کس طرح مریض کو بھرتی نہیں کیا جاتا اگر وہ ہزاروں روپے ایڈوانس نہیں دیتا۔ڈاکٹر برادری عامر خاں پر پروگرام کے بعد الٹے الزام لگا رہی ہے۔ ڈاکٹر برادری ان کے پروگرام کو سچائی سے دور مانتی ہے۔ وہ یہ الزام لگا رہی ہے کہ انہیں مرکزی وزیر صحت غلام نبی آزاد کی شے ملی ہوئی ہے۔ آزاد اور ڈاکٹروں کی سب سے بڑی تنظیم انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن کے درمیان طویل عرصے سے جھگڑا چل رہا ہے جو دنیا جانتی ہے۔ ڈاکٹر اتنے غصے میں ہیں کہ عامر خاں پر جوابی حملہ بھی کرسکتے ہیں۔ ان کے غصے کو دیکھ کر عامر خاں کو یہ اندیشہ لازمی ہے کہ ابھی انہیں کچھ ہوجائے تو اس کا علاج ملنا مشکل ہوجائے گا۔ کبھی بھگوان کا روپ مانے جانے والے ڈاکٹروں کی عام لوگوں میں پہلے ہی سے ساکھ خراب تھی۔ پروگرام کے بعد اپنے لئے شیطان جیسا لفظ انہیں پگھلے سیسے کی طرح لگ رہا ہے۔ انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن کے ذرائع کی مانیں تو ان ڈاکٹروں کی برادری کو ویژن پینٹ کرنا اچھا نہیں لگا جس کے اچھے کاموں پر پروگرام میں تالیاں بجی تھیں۔ انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن کے جوائنٹ سکریٹری بنسل کلی ڈاکٹروں کے خلاف طویل عرصے سے چل رہی مہم کو دیکھ رہے ہیں۔ انہیں بھی عامر خاں کے پروگرام پر اعتراض ہے۔ کہتے ہیں کہ عامر اپنے پروگرام ’ستیہ مے جیتے‘ میں جو دکھا رہے ہیں اس کا حقیقت سے دور کا بھی واستہ نہیں۔ انہوں نے اپنی سستی مقبولیت کے لئے صرف ڈگری یافتہ ڈاکٹروں کو نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے دیش میں لوگوں کی جانچ سے ہرسیکنڈ کھلواڑ کررہے جھولہ چھاپہ ڈاکٹروں و ایک دوا کی دوکان میں علاج کررہے کیمسٹوں کو کیوں نہیں بحث کا موضوع بنایا اور انہیں کیوں بخش دیا؟ دیش میں اگر آٹھ لاکھ ڈگری یافتہ ڈاکٹر ہیں تو15 لاکھ فرضی ڈاکٹر ہیں۔ وہ بتائیں کہ ان کی ڈگری کیسے چھنوائیں گے؟ عامر خاں بتائیں کے وہ کسے ڈاکٹر مانتے ہیں؟ کیا یووراج سنگھ کو غلط دوا دینے والے ان کے خود ساختہ فیزیو ڈاکٹر جتند چودھری کو وہ ڈاکٹر مانتے ہیںیا نہیں؟ انل بنسل کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ 90 فیصد سے زیادہ ڈاکٹر ایمانداری سے اپنا کام کررہے ہیں۔10 فیصد اگر گڑ بڑی کررہے ہیں تو انہیں سزا دینے سے کون روک رہا ہے۔ عامر خاں پہلے لاکھوں نقلی ڈاکٹروں سے دیش کو نجات دلائیں جو لوگوں کے ڈاکٹر کے نام پر لوٹ رہے ہیں ان کی جان بھی لے رہے ہیں۔ ہارٹ کیئر فاؤنڈیشن کے چیئرمین ڈاکٹر کے۔ کے اگروال نے کہا عامر خاں کو ڈاکٹروں کی جگہ سسٹم کو نشانے پر لینا چاہئے تھا انہوں نے سرکار کو کیوں بخش دیا؟ ہیلتھ سروس کو بہتر بنانے میں کیا سرکار کا کوئی کردار نہیں ہونا چاہئے؟ ڈاکٹر اگروال بتاتے ہیں کہ میں نے آج10 مریضوں کو جینیٹک دوا لکھی ہے۔ سب واپس آگئے انہیں وہ دوائیں کہیں نہیں ملیں۔ جینیٹک دوا کی دوکانیں سرکار کیوں نہیں کھولتی؟ مجھے تو لگتا ہے کہ پورا ’ستیہ مے جیتے‘ پروگرام ہی ڈاکٹروں کو نشانے پر لینے کیلئے بنایا گیا ہے۔ ابھی تک پروگرام گمراہ کن ہے اور ان چار میں سے تین ڈاکٹروں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
(انل نریندر)

01 جون 2012

لادن کی خبر دینے والے ڈاکٹر افریدی کو 33 سال کی قید


پچھلے سال القاعدہ سرغنہ اسامہ بن لادن کو مارگرانے کی کارروائی میں امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کا ساتھ دینے والے پاکستانی ڈاکٹر شکیل افریدی کو ایک عدالت نے ملکی بغاوت کا قصوروار قرار دیتے ہوئے 33 سال کی قید کی سزا سنائی ہے۔ ہمیں یہ فیصلہ سن کر تعجب بھی ہوا اور عجیب غریب بھی لگا۔ خبر قبائلی علاقے کے سیاسی نمائندے مطاہر زیب خان نے پاکستانی اخبار ڈان کو بتایا کہ شکیل کو چار نفری قبائلی عدالت میں پیش کیاگیا۔ عدالت نے انہیں33 سال کی قید اور 3.2 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی۔ سزا سنائے جانے کے بعد شکیل کو پیشاور کی سینٹرل جیل میں بھیج دیا گیا۔ شکیل کو پاکستان جرائم دفعہ کے بجائے برطانوی قانون فرنٹئر کرائم ریگولیشن ایکٹ کے تحت قصوروار قرار دیا گیا ہے۔ اس ایکٹ کے تحت دیش سے بغاوت کے معاملے میں موت کی سزا کی سہولت نہیں ہے۔ ڈاکٹر شکیل نے سی آئی اے کی ہدایت پر ایبٹ آباد میں ایک ٹیکا مہم چلائی تھی تاکہ اس کی مدد سے اسامہ اور اس کے خاندان کے لوگوں کے ڈی این اے نمونے لئے جاسکیں۔ مہم سے ملے ثبوتوں کی بنیاد پر ہی امریکہ نے اسامہ بن لادن کے خلاف گذشتہ مئی مہینے میں کارروائی کرکے مار گرایا تھا۔ پاکستان کے ذریعے اٹھائے گئے اس قدم سے یہ ثابت ہوجاتا ہے پاکستان آتنک واد سے لڑنے کے تئیں سنجیدہ نہیں ہے۔ یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اندر خانے پاکستان ہر طبقے کے آتنک وادی چاہے وہ القاعدہ کا ہو یا پھر لشکر طیبہ سے وابستہ، اس سے ہمدردی رکھتا ہے۔ پاکستان اس آدمی سے بدلہ لے رہا ہے جس نے دنیا کے انتہائی مطلوب دہشت گرد کو ختم کرنے میں مدد کی تھی۔ دنیا کے کسی اور کونے میں شاید ڈاکٹر افریدی کا سنمان کیا جاتا ہو لیکن پاکستان میں وہ ایک ملک دشمن ہے جس نے دیش کے خلاف غیر ملکی خفیہ ایجنسی کی مدد کی تھی۔ اگر پاکستان کے دوہرے گیم اس قصے سے بے نقاب ہوتے ہیں تو امریکہ پر بھی سوال اٹھتے ہیں کہ وہ اپنے ذرائع یعنی مخبر کو بچا نہیں پایا۔ اس قصے سے پاکستان اور امریکی رشتوں میں مزید کشیدگی بڑھے گی۔ امریکہ کی وزیر خارجہ ہلیری بل کلنٹن نے فیصلے کو غیر انصافی اور دشمنی پر مبنی بتایا۔ ساتھ ہی امریکی سینیٹ کے ایک پینل نے اسلام آباد کو دی جانے والی مدد میں کٹوتی بھی کردی ہے۔ ہلیری نے کہا کہ افریدی کے ساتھ جو کیا گیا ہے وہ انصاف پر مبنی نہیں ہے انہیں قصوروار ٹھہرائے جانے پر افسوس ہے، انہوں نے جو مدد کی وہ دنیا کے سب سے خطرناک قاتلوں میں سے ایک کا خاتمہ کرنے میں کی، یہ صاف طور پر پاکستان کے اور ہمارے اور پوری دنیا کے مفاد میں تھا۔ دوسری طرف پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے کہا غیر ملکی خفیہ ایجنسیوں کے ساتھ تعاون کرنا کسی بھی دیش کے قانون کے خلاف ہے۔ امریکہ میں اسرائیل کے لئے جاسوسی کرنے پر عمر قید کی سزا دی گئی ہے۔ ہماری آزادانہ عدلیہ ہے جس کو پاکستان پیپلز پارٹی بحال کیا ہے۔ پاکستان اور امریکہ کے پہلے سے کشیدہ رشتوں میں ایک اور باب جڑ گیا ہے۔ ہماری رائے میں پاکستان کا یہ قدم آتنک وادیوں کے حوصلے کو بڑھانے والا ہے۔
(انل نریندر)

ریزرویشن کے نام پر اقلیتوں کو گمراہ کرنے کی ناکام کوشش


مرکزی سرکار کو یہ معلوم تھا کہ اترپردیش اسمبلی چناؤ سے ٹھیک پہلے اس نے جو کانگریس پارٹی کو اقلیتی ووٹ دلانے کی امید سے اقلیتوں کے لئے جو ساڑھے چار فیصد ریزرویشن دیا ہے اسے عدالت منسوخ کرسکتی ہے ۔ لیکن پھر بھی مرکز نے ایسا کیا جیسا کے امید تھی اور ویسا ہی ہوا۔ آندھرا پردیش ہائی کورٹ نے مرکزی سرکار کو زبردست جھٹکا دیتے ہوئے مذہب کی بنیاد پر ریزرویشن دینے سے انکار کردیا۔ قابل ذکر ہے کہ اترپردیش اسمبلی چناؤ کے دوران مرکز نے او بی سی کے 27 فیصد کوٹے سے ساڑھے چار فیصدی ریزرویشن دینے کا اعلان کیا تھا۔ یہ ریزرویشن سبھی اقلیتی طبقوں کے لئے تھا۔ حالانکہ مانا جارہا تھا کہ اس اعلان کے پیچھے مسلم ووٹ بینک کو لبھانا تھا۔ عین وقت پر کئے گئے اعلان پر چناؤ کمیشن نے اسمبلی چناؤ تک عمل کرنے پر روک لگا دی تھی۔ سرکار نے نتیجہ اعلان ہونے کے ساتھ ہی اس کو نافذ کردیا۔ مرکزی حکومت نے ایک شگوفہ چھوڑا تھا جو اب عدالت نے منسوخ کردیا ہے۔ سبھی جانتے ہیں بھارت کے آئین میں مذہب کی بنیاد پر ریزرویشن کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے۔ مرکزی سرکار کا یوپی اسمبلی سے ٹھیک پہلے اٹھایا گیا یہ قدم مفادی سیاست پر مبنی تھا اور اقلیتوں کو خاص طور سے یوپی کے مسلمانوں کو بے وقوف بنانے کی ایک کوشش تھی۔ ہائی کورٹ نے صاف کہا ہے کہ مرکزی سرکار کا یہ فیصلہ محض مذہبی بنیاد پر لیا گیا ہے۔ اتنا ہی نہیں ہائی کورٹ نے اس اشو پر لاپروائی سے کام کرنے کیلئے مرکزی سرکار کو آڑے ہاتھوں لیا۔ مرکز کی جانب سے یہ دلیل دی گئی کہ یہ فیصلہ سچر کمیٹی کی سفارشوں کی بنیاد پر لیا گیا اور ایسا کرکے اس نے 2009ء کے چناؤ منشور میں درج اپنے وعدے کو پورا کیا ہے۔ باوجود اس سب کے یہ نہیں بتا سکی کہ جو وعدہ 2009 ء میں کیا گیا تھا اسے پورا کرنے میں 2012 ء تک اتنا عرصہ کیوں لگا۔ جب پانچ ریاستوں کے اسمبلی چناؤ کے پروگرام کا اعلان ہونے والا تھا تب یہ کیوں اعلان کیا گیا؟ شاید یہ ہی وجہ رہی ہو کہ چناؤ کمیشن نے چناؤ ہونے تک اس فیصلے پر عمل کیلئے روک لگادی۔ چناؤ کمیشن کے ذریعے اس پر روک لگانے سے ثابت ہوگیا ہے کہ یہ چناوی فائدے کے لئے لیا گیا ایک سیاسی فیصلہ تھا۔اب سرکار اور کانگریس دونوں اقلیتی ریزرویشن پر ہائی کورٹ کی اس چابک کی مار سے نکلنے کا راستہ تلاشنے میں لگ گئے ہیں۔ سلمان خورشید نے کہا ہے کہ سرکار آندھرا ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرے گی۔ دلیل یہ دی جائے گی کہ یہ فیصلہ مذہبی نہیں زبان کی بنیاد پر لیا گیا تھا۔ سرکار اپنی پارٹی کانگریس کو دلاسہ دے رہی ہے کہ سپریم کورٹ میں صحیح سے اپنا موقف رکھنے سے اقلیتی ریزرویشن کا معاملہ سلجھ جائے گا۔ سرکار اپنی ہار کو وکیلوں کے ذریعے ٹھیک طرح سے پیش نہ کرپانے کی وجہ مان رہی ہے۔ سپریم کورٹ میں پچھڑوں کے لئے کوٹے کے اندر مسلمانوں کے لئے ایک یقینی کوٹے ہی بات رکھنے کی مضبوط دلیل دینی ہوگی۔ ہائی کورٹ چاہے گی کہ سرکار بتائے کہ اقلیتوں کو جو پسماندہ ہیں حقیقت میں کتنے پچھڑے ہوئے ہیں؟ وزیر قانون سلمان خورشید سے جب یہ ہی سوال پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ وہ اٹارنی جنرل کے لئے عدالت کو سمجھانے کی مشکل نہیں ہوگی کیونکہ سرکار اقلیتی پسماندوں کے لئے الگ سے فہرست نہیں بنانے جارہی ہے۔ انہوں نے کہا پسماندوں کے لئے ریزرویشن طے کرنے والے منڈل کمیشن نے جو خاکہ دیا سرکار اس کے دائرے کے اندر ہی کورٹ میں بات رکھے گی۔ وزیر قانون نے تسلیم کیاکہ سرکار آئین سے باہر نہیں جارہی ہے۔ سپریم کورٹ اس مسئلے پر کیا رخ اختیار کرتی ہے وقت ہی بتائے گا۔ اس سے انکار نہیں کہ اقلیتوں اور خاص طور پر مسلم سماج کی سماجی، اقتصادی سلامتی کے لئے مزید قدم اٹھائے جانے کی ضرورت ہے لیکن اس کا یہ بھی مطلب نہیں کہ ایسا صرف چناوی فائدے یا ووٹ حاصل کرنے کے لئے کیا جائے۔ مسلم سماج اب سیاسی چال بازیوں میں پھنسنے والا نہیں۔ اس نے دیکھ لیا ہے کہ پچھلی چھ دہائیوں سے ان سیاسی پارٹیوں نے انہیں کیسے گمراہ کر محض ووٹ بینک کی خاطر استعمال کیا ہے۔
(انل نریندر)

31 مئی 2012

مارکسوادی اپنے حریفوں کو مارنے سے بھی نہیں کتراتے


مغربی بنگال کی وزیر اعلی ممتا بنرجی اکثر مارکسوادیوں پر الزام لگاتی رہتی ہیں کہ یہ اپنے سیاسی حریفوں کو قتل کرنے تک سے بھی گریز نہیں کرتے۔ اب خود مارکسوادی پارٹی کے ایک سینئر لیڈر نے کیرل کی ایک ریلی میں یہ بات تسلیم کی ہے کہ ایسے موقعے آئے تھے جب مارکسوادی کمیونسٹ پارٹی نے اپنے مخالفین کو قتل کرنے سے کوئی پرہیز نہیں کیا۔ کیرل کے سینئر مارکسوادی لیڈر ایم ایم منی جو مارکسوادی کمیونسٹ پارٹی کے اڈوکی ضلع کے سکریٹری ہیں، انہوں نے کاڈوپاجا میں ایک جلسہ عام کے دوران یہ متنازعہ بیان دیا ہے۔ سنیچر کی رات ایک پبلک ریلی میں کہا کہ پارٹی کی جانب سے اپنے سیاسی حریفوں کا صفایا کرنے کی مثالیں رہی ہیں۔ منی نے یہ بیان اس وقت دیا جب پارٹی کو کوکیورڈ اور کنور ضلع کے کچھ ورکروں کی گرفتاری کے دوران دفاع کی شکل میں آئی ہے۔ ورکروں کو مارکسوادی پارٹی لیڈر ٹی پی چندر شیکھرن کے قتل کے سلسلے میں گرفتار کیا گیا ہے۔ منی نے حالانکہ یہ کھلے طور پر یہ وضاحت کرنے کے لئے ریلی بلائی تھی کہ چندر شیکھرن کے قتل میں پارٹی کا کوئی ہاتھ نہیں ہے۔ بعد میں انہوں نے کہا کہ ان کا مطلب جسمانی قتل سے نہیں ہے بلکہ تب جھگڑے کے لئے زمین تیار ہوچکی تھی۔ مارکسوادی پارٹی کے ریاستی سکریٹری پنارئی وجین نے کہا کہ منی کی تقریر پارٹی کے نظریئے سے میل نہیں کھاتی اور انہوں نے یہ بات کہہ کر غلطی کی ہے۔ وجین کا کہنا ہے کہ منی کے نظریات پارٹی کے سیاسی نظریئے سے الگ ہیں ان کے بیان پر ریاست میں کانگریس اور بھاجپا نے سخت نکتہ چینی کی ہے اور کہا ہے کہ لیفٹ پارٹیوں کے تشدد پر سے پردہ اٹھ گیا ہے۔ ایم ایم منی یہ بیان دیکر پھنس گئے ہیں۔ پولیس نے ان کے خلاف قتل اور دیگر معاملوں میں مقدمہ درج کرلیا ہے۔ اس بیان کے پیش نظر ایڈوکی ضلع میں 1980ء کی دہائی میں سیاسی قتل عام کے پیچھے سی پی آئی ایم کا ہاتھ تھا۔ ریاست کے وزیر داخلہ رادھا کرشن نے کہا کہ سرکار قانون کو اپنا کام کرنے دے گی۔ پارٹی کے سینئر لیڈر اچھوتا نندن نے منی کے تبصرے پر کہا کہ اس کی مذمت کی جانی چاہئے۔ منی جس وقت ایڈوکی ضلع میں سیاسی قتل عام کا ذکر کررہے تھے اس وقت اچھوتا نندن پارٹی کے ریاستی سکریٹری تھے۔ شری منی نے اپنی پارٹی کے تشدد کے طور طریقوں کا جوخلاصہ کیا ہے وہ سن کر سب کو حیرت زدہ کرنے والا ہے۔ اس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے لیفٹ واد کے خاتمے کی بات کرنے والا لیفٹ اس طرح اپنے مخالفوں کو ہی ختم کرنے میں بھروسہ کرتا ہے۔ یہ معاملہ دراصل مارکسوادی پارٹی کے ایک باغی نیتا ٹی پی چندر شیکھرن کے پچھلے دنوں ہوئے قتل سے وابستہ ہے جس کے سلسلے میں مارکسوادی پارٹی کے کئی ورکر گرفتار کئے گئے ہیں۔ یہ اتفاق نہیں ہے کہ منی کے سنسنی خیز خلاصے سے کچھ ہی وقت پہلے مغربی بنگال میں مارکسوادی پارٹی کے اس سابق وزیر کو اس لئے گرفتار کیا گیا کیونکہ ان کے گھر کے سامنے ایک جانور کا ڈھانچہ برآمد ہوا تھا۔ کیرل سرکار نے منی کے خلاصے کی بنیاد پر جانچ کے احکامات دئے ہیں۔ لازمی ہے کہ بند ہوچکے پرانے سبھی معاملے کھل جائیں گے اور کتنے ڈھانچے اور ملیں گے، ہمارے کامریڈ اپنے حریفوں کی آواز کو بند کرنے کے لئے قتل کا ہتھیار استعمال کرنے سے بھی گریز نہ کریں۔
(انل نریندر)

کانگریس کے ہاتھ سے پھسلتا آندھرا پردیش: گرفتاری کی سیاست


مدھیہ پردیش کے سابق مقبول وزیر اعلی راج شیکھر ریڈی کے ممبر پارلیمنٹ بیٹے جگموہن ریڈی کی کرپشن کے الزامات میں گرفتاری پر ہمیں کوئی تعجب نہیں ہوا یہ ہونا ہی تھا۔ جگموہن ریڈی بہت دنوں سے کانگریس لیڈر شپ کی آنکھ کی کرکری بنے ہوئے تھے۔ تین دن کی گہری پوچھ تاچھ کے بعد سی بی آئی نے آمدنی سے زائد اثاثہ کمانے کے الزام میں انہیں گرفتار کرلیا۔ ا س سیپہلے آندھرا ہائی کورٹ نے بھی جگن کو پیشگی ضمانت دینے سے انکارکردیا تھا۔ جگن سے وابستہ کرپشن کے معاملوں میں ریاست کے بہت سے لیڈر، افسر، صنعتکار اور بچولئے پہلے ہی سی بی آئی کے شکنجے میں آچکے تھے اس لئے جگن کی پوچھ تاچھ اور گرفتاری کی پیشگوئی پہلے سے ہی چل رہی تھی۔ بحث تو یہ تھی کہ والد کی کرسی کی طاقت پر راتوں رات ارب پتی بنے اس نوجوان لیڈر کو سی بی آئی پہلے ہی دن سلاخوں کے پیچھے ڈال دے گی لیکن سی بی آئی نے یہ کام تیسرے دن کیا۔ اس تاخیر کے پیچھے کہیں اس نظریئے کو دور کرنا تو نہیں تھا کہ جگن کو سلاخوں میں ڈالنے کے سبب کے پیچھے کرپشن سے زیادہ سیاست چھپی ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ راج شیکھر ریڈی کی حادثے میں موت کے بعد بیٹے جگن نے کانگریس کی ناک میں دم کیا ہوا تھا۔ کہتے ہیں کہ ہیلی کاپٹر حادثے سے موت کے باعد راج شیکھر ریڈی کا انتم سنسکار بھی نہیں ہوا تھا کہ وہاں غم ظاہر کرنے گئے کانگریس کے اعلی نیتاؤں کے آگے جگن نے خود کو والد کی کرسی کا وارث بننے کی خواہش ظاہر کردی۔ پارٹی اعلی کمان کو یہ گوارہ نہیں تھا کیونکہ والد کی طاقت پر وسیع دولت کے مالک بن بیٹھے جگن کے کرپشن کے قصوں سے زیادہ اسے جگن کی آسمانی توقعات کا ڈر تھا۔ یہ جب ہے کہ گرفتاری سے جگن کو ہمدردی کا فائدہ ملنے اور کانگریس کو سیاسی نقصان ہونے کے آثار ظاہر کئے جارہے ہیں۔ اس تضاد کے لئے کسی حد تک خود کانگریس ذمہ دار ہے۔ اس نے کبھی یہ نہیں ظاہر ہونے دیا کہ جگن موہن ریڈی کو ناجائز کمائی اس کیلئے فکر کی کوئی بات نہیں ہے۔ اسے پریشانی تب محسوس ہوئی جب جگن بڑی توقعات کے خواب دیکھنے لگے۔ وہ اپنے والد کے سیاسی جانشین ہونے کا دعوی کر بیٹھے یہ محض اتفاق نہیں کہا جاسکتا۔ جگن موہن ریڈی کے خلاف سی بی آئی جانچ اس وقت شروع ہوئی جب انہوں نے کانگریس سے الگ ہوکر وائی ایس آر کانگریس کے نام سے الگ پارٹی بنا لی۔ آندھرا پردیش کانگریس کا گڑھ رہا ہے۔ 2004ء اور پچھلے انتخابات میں بھی اسے سب سے زیادہ سیٹیں اسی ریاست سے ملی تھیں لیکن راج شیکھر ریڈی کے مرنے کے بعد ریاست میں جتنے بھی ضمنی چناؤ ہوئے ان سب میں کانگریس کو بری طرح منہ کی کھانی پڑی۔ تلنگانہ میں ٹی ایس آر کی بڑی طاقت اس کے لئے الگ درد سر بنی ہوئی ہے۔ 12 جون کو ریاست میں لوک سبھا کی 1 اور اسمبلی کی 18 سیٹوں پر ضمنی چناؤ ہونے ہیں۔ سیاسی پنڈتوں کا خیال ہے کہ ضمنی چناؤ میں بھی کانگریس کی جھولی خالی رہ سکتی ہے۔ اگلے لوک سبھا چناؤ میں بھی اب کانگریس وہ امید نہیں کرسکتی۔ اسے پچھلے چناؤ میں کامیابی ملی تھی۔ کل ملاکر کانگریس کے آندھرا پردیش ایک چنوتی بنتا جارہا ہے۔
(انل نریندر)

30 مئی 2012

ڈنر ڈپلومیسی سے ایک تیر سے کئی شکار کرنے کی کوشش


جوڑ توڑ کی سیاست میں ماہر کانگریس نے ایک بار پھر ایک تیر سے کئی نشانے لگانے کی کوشش کی ہے۔ یوپی اے II- کے تین برس پورے ہونے کے موقعہ پر منعقدہ تقریب میں ملائم سنگھ یادو کو دئے احترام کی فوراًاہمیت بھلے ہی نہ ہو لیکن اس سے کانگریس کی حکمت عملی صاف جھلکتی ملی۔ مزیدار بات یہ ہے کہ نوجوان راہل گاندھی نے جس سماجوادی پارٹی کا حال میں ہوئے یوپی چناؤ میں چناؤ منشور پھاڑا تھا ،اسی ملائم سنگھ یادو نے صرف یوپی اے سرکار کی کارناموں کی رپورٹ کارڈ ہی جاری کی بلکہ ڈنر ٹیبل پر انہیں سونیا گاندھی نے اپنی ٹیبل پر جگہ دی۔ یوپی اے خاص طور سے کانگریس اور سپا کے رشتوں کو 1999 ء کی نظر سے دیکھنا چاہئے جب ملائم سنگھ یادو نے این ڈی اے سرکار کے ایک ووٹ سے گرنے کے بعد عین موقعہ پر سونیا گاندھی کو حمایت دینے کا خط دینے سے انکار کردیا تھا۔ اگر اس وقت سونیا گاندھی وزیر اعظم نہیں بن سکیں تو اس کی ایک وجہ ملائم کی مخالفت تھی ۔ اس کے بعد2004ء کو دوسرا موڑ آیا۔ جب ملائم اور اترپردیش میں تاریخی جیت حاصل کرنے کے بعد بھی یوپی اے سرکار کے بلاوے کا انتظار کرتے رہ گئے۔ اب یہ تیسرا دور شروع ہوا ہے۔ سیاست میں نہ تو کوئی مستقل دشمن ہوتا ہے اور نہ ہی دوست۔اس لئے ہمیں تعجب نہیں ہوا جس سماجوادی پارٹی کا چناؤ منشور راہل گاندھی نے پھاڑا تھا آج اسی کے چیف کو عزت وہی پارٹی دے رہی ہے۔ کانگریس نے ملائم سنگھ کا اعزاز کرکے سیدھا سندیش ممتا بنرجی کو دینے کی کوشش کی ہے۔ بات بات پر یوپی اے سرکار کو آنکھیں دکھانے والی ممتا کے لئے یہ اشارہ ہے کہ اگر وہ کسی بات پر سرکار سے حمایت واپس لیتی ہے تو سپا کی ٹھنڈی چھاؤں میں سرکار کو سہارا مل سکتا ہے۔ ملائم کے سہارے سے کانگریس نے اتحادی پارٹی ترنمول کانگریس کو یہ احساس کرادیا ہے کہ اس نے بات بات پر مرکزی سرکار پر زیادہ دباؤ بنایا تو سپا سرکار کا حصہ بن سکتی ہے۔ مگر اسکے باوجود آج ملائم کا پلڑا بھاری دکھائی پڑتا ہے۔ یوپی اسمبلی چناؤ میں 225 سیٹیں جیتنے کے بعد اگر ان کی پارٹی انہیں پردھان منتری کے عہدے کے دعویدار کے طور پر دیکھ رہی ہے تو اس میں آنے والی سیاست کی کنجی بھی چھپی ہے۔ اس لئے ہمیں نہیں لگتا کہ ملائم سنگھ جیسا سیاست کا ماہر کھلاڑی کانگریسیوں کی چال بازی میں اتنی آسانی سے پھنس جائے گا۔ اترپردیش میں مرکز کی مدد کے لئے یوپی اے کے ساتھ خوشگوار تعلقات رکھنا ہمیشہ کی مجبوری ہے لیکن اگر وہ یوپی اے میں شامل ہوتے ہیں تو یہ ان کے لئے ایک طرح سے خودکشی کے مترادف ہوسکتا ہے۔ یہ ہی بات ممتا بہن جی پر لاگو ہوتی ہے جن کی قیمت پر ملائم کے ساتھ آنے کی قیاس آرائیاں ہیں۔ ممتا بھی جانتی ہیں کہ آج یوپی میں بنے رہنا ہی ان کے لئے فائدے مند ہے کیونکہ سرکار میں رہ کر مغربی بنگال کے لئے وہ جوابدہ بن سکتی ہیں اور وہ سرکار سے باہر نکلنے پر نہیں بن سکیں گی۔ کانگریس کا ملائم کو اعزاز دینے کے پیچھے ایک اور وجہ یہ ہی ہوسکتی ہے کہ صدارتی چناؤ سر پر ہیں بغیرسپا کی حمایت سے کانگریس اپنا امیدوار چنوانے میں دقت محسوس کرسکتی ہے۔
(انل نریندر)

آئی پی ایل 5- دلچسپ رہا مگر شک کے دائرے میں


آئی پی ایل 5- شاندار طریقے سے ختم ہوا۔ ایتوار کو کھیلا گیا فائنل میچ بہت ہی دلچسپ تھا۔ اگر یہ کہیں کہ آئی پی ایل 5- کا اختتامی میچ اس سے اچھا نہیں ہوسکتا تھا تو شاید غلط نہ ہوگا۔ شاہ رخ خاں کی ٹیم کولکتہ نائٹ رائڈرز آخر کار پانچویں کوشش میں پاس ہوہی گئی۔ ایتوار کو کھیلے گئے فائنل میں کے۔ کے ۔آر نے پچھلے دو بار رہی چمپئن چنئی سپر کنگز کو پانچ وکٹ سے ہرادیا۔ میچ کا فیصلہ آخری اوور کی چوتھی گیند پر ہوا۔ ونر ٹیم کو 10 کروڑ اور ضمنی کامیاب ٹیم کو 7.50 کروڑ روپے کے انعامی رقم ملی۔ قسمت نے کے۔ کے ۔ آر کا یقینی طور سے ساتھ دیا۔ کم سے کم دو قصے ایسے ہوئے جس سے کے۔کے۔آر کی جیت ممکن ہوسکی۔ پہلا تب ہوا جب کیلس نے ایک شارٹ مارا اور باؤنڈری پر کھڑے مائک ہسی نے کیچ لپک تو لیا لیکن وہ باؤنڈری لائن کراس کرگئے۔ جس بال پر کیلس کو آؤٹ ہونا تھا وہ چھکے میں بدل گئی۔ دوسرا قصہ تب ہوا جب فین ہگس نے شکیب الحسن کو گیند پھینکی شکیب نے شارٹ مارا اور کیچ ہوگئے۔ لیکن کیچ ہونے سے پہلے وہ دو رن بنا چکے تھے۔ ایمپائر نے اس بال کو کمرسے اوپر ہونے کے سبب وائڈ قراردیا۔ وائڈ ہونے کے سبب ہلفین ہگس کو دوبارہ بال کرنی پڑی اور اس بار شکیب نے چوکا مار دیا۔ اس طرح ایک ہی بال میں کے۔ کے ۔ آر کو 7 رن مل گئے اور کے۔ کے۔ آر کو7بالوں میں 16 رن درکار تھے۔ انہی 7 رنوں نے آخری اوور کا نشانہ آسان کردیا۔ منوج تیواری نے دو چوکے لگادئے اور کے کے آر چمپئن بن گیا۔ کے کے آر کی یہ پہلی جیت تھی۔مالک شاہ رخ خان کی خوشی دیکھنے لائق تھی۔ شاندار ٹورنامنٹ کا شاندار کلائمکس رہا لیکن آئی پی ایل5- تنازعوں سے نہیں بچ سکا۔ سب سے بڑا تنازعہ تو دلی ڈیئر ڈیولس کی پرفارمنس کو لیکر تھا۔ متنازعہ کرکٹ لیگ بن کر ابھری آئی پی ایل میں گڑ بڑی کا شک ہونے لگا ہے۔ کیا آئی پی ایل کا رزلٹ پہلے ہی طے تھا۔شک کرنے کی کوئی وجہ دکھائی نہیں دیتی۔ کوالیفائی اور کوالیفائر ٹو میں دلی ڈیئر ڈیولس کے عجیب و غریب فیصلوں اور آئی پی ایل کی ویب سائٹ میں کوالیفائر 2 کے رزلٹ کے پہلے ہی دونوں فائنلسٹوں کے نام آنے کے بعد شک ہونا لازمی ہے۔22 مئی کو کے کے آر کے خلاف کوالیفائر میں بھی سہواگ کی کپتانی میں ایسے فیصلے دیکھنے کو ملے جس سے لگا کہ دلی ہارنے کے لئے ہی اتری ہے۔ اسپن ٹریک ہونے کے باوجود سہواگ نے اس میچ میں صرف ایک اسپنر کو کھلایا جبکہ کے کے آر کی طرف سے تین اسپنر اترے۔ یہ ہی نہیں نشانے کا پیچھا کرنے اتری دلی نے رائے ٹیلر اور عرفان پٹھان سے پہلے غیر متوقعہ دھیمی بالنگ کرنے والے وینو گوپال راؤ اور پون نیگی کو بلے بازی کے لئے اتارا۔ ان دونوں کی دھیمی بلے بازی کی وجہ سے بعد میں ٹیلر اور عرفان کے لئے نشانے کو پانا بہت مشکل ہوگیا تھا۔ یہ سلسلہ یہیں نہیں رکا۔ کوالیفائر 2 میں تو سہواگ نے بی سی سی آئی چیئرمین این سرینواسن کی ٹیم چنئی سپر کنگ کے فائنل میں جانے کے راستے کھول دئے۔ جمعہ کو ہوئے اس میچ میں سہواگ سے چنئی کو پچ پر ٹاس جیتنے کے باوجود پہلے گیند بازی کی۔ یہ ہی نہیں پورے ٹورنامنٹ میں ٹاپ فارم میں رہے ساؤتھ افریقہ کے تیز گیند باز یورنی مارکل کو اس میچ میں نہیں کھلایا گیا۔ ان کی جگہ کوریائی آل راؤنڈر ادیرسل کو شامل کردیا۔سہواگ کے اس فیصلے پر دھونی نے بھی تعجب ظاہر کیا۔ یہ ہی نہیں پورے ٹورنامنٹ میں شاندار کارکردگی کرنے والے اسپنر شاہباز ندیم کی جگہ اس میچ میں سنی گپتا کو شامل کیا گیا اور ان سے پہلا ہی اوور کرواڈالا۔ گپتا نے تین اوور میں 47 رن لوٹائے اور ایک بھی کامیابی ان کے ہاتھ نہیں لگی۔ یہ ہی نہیں سہواگ نے اس ٹورنامنٹ میں پہلی بار گیند بازی میں ہاتھ آزمائے اور ایک ہی اوور میں21 رن لئے۔ سب سے تعجب کی بات یہ رہی کہ 223 رن کا وسیع نشانہ پورا کرنے اتری دلی کے اوپنگ بلے باز وریندر سہواگ ندارد تھے۔ انہوں نے وارنر کے ساتھ اوپنگ میں مہیلا جے وردھنے کو اتارا۔ ان میں نہ تو ایسی ڈوز نظر آئی اور ان کی باڈی لنگویج نے ساری کہانی بیان کردی۔ وہ صرف ایک رن بنا کر چلتے بنے۔ مہیلا جے وردھنے نے اچھا کھیل کھیلا لیکن ایک بال پر جب وہ بیٹ ہوئے تو وہ کھڑے تماشہ دیکھتے رہے۔ انہوں نے واپس بیٹ رکھنے کی کوئی کوشش نہیں کی جبکہ ممکن ہے کہ وہ اسٹمپ ہونے سے بچ سکتے تھے۔ دلی ڈیئر ڈیولس نے اپنے دلی کے فینس کو نہ صرف ناراض کیا بلکہ سہواگ کے برتاؤ سے شک بھی پیدا کیا ہے۔ لیکن کل ملاکر آئی پی ایل5- کامیاب رہا اور سب نے اس کا خوب مزہ لیا۔ ایسا نہیں کہ ٹورنامنٹ میں کچھ اچھا نہیں ہوا۔ کئی نوجوان کھلاڑی سامنے آئے۔ بورڈ نے میں فیصلہ کیا ہے کہ آئی پی ایل نیلامی کا جائزہ لیا جائے گا اور اگلے سیشن میں سبھی کھلاڑیوں کی بھی نیلامی ہوگی۔
(انل نریندر)

29 مئی 2012

آروشی قتل معاملے میں والدین پر چلے گا قتل کا مقدمہ


آروشی ہیمراج قتل کے معاملے میں آخر کار مقدمہ باقاعدہ شروع ہوگیا ہے۔ جمعرات کو سی بی آئی عدالت نے آروشی کے والدین ڈاکٹر راجیش تلوار ،ڈاکٹر نپور تلوار کے خلاف ثبوتوں کو ضائع کرنے اور عدالت و پولیس کو گمراہ کرنے کے الزامات طے کرنے کا فیصلہ سنایا ہے اور اس کے ساتھ ہی نوئیڈا میں چار برس پہلے آروشی تلوار اور ہیمراج کے قتل کے سنسنی خیز معاملے کا مقدمہ شروع ہوا ہے۔ یہ واقعہ18مئی2008 ء کو رونما ہوا تھا۔ اس سے اگلے ہی دن نوکر ہیمراج کی لاش مکان کی چھت پر پڑی ملی تھی۔ سی بی آئی کی اسپیشل جج شیام لال نے مخالف فریق اور بچاؤ فریق کی دلیلیں سننے کے بعد فیصلہ سنایا کہ ڈاکٹر میاں بیوی کے خلاف آئی پی سی کی دفعہ302(قتل) اور دفعہ201 (ثبوت کو ضائع کرنا) کے تحت مقدمہ چلے گا۔ ملزمان کے خلاف دفعہ 34 بھی لگائی گئی ہے جس کے تحت دیگر لوگوں کے ساتھ مل کر واردات کو انجام دینا بھی شامل ہے۔ جب عدالت نے یہ فرمان سنایا تو ملزمان کے چہروں پر کشیدگی صاف دکھائی پڑی۔ سی بی آئی عدالت میں تلوار جوڑے کے وکیل نے عدالت میں عرضی دائر کرکے چارج شیٹ داخل کرنے کو 15 دن ٹالنے کی کوشش کی مگر اس کی مخالفت سی بی آئی کے وکیل نے کی۔ بحث کے بعد اسپیشل جج نے تلوار جوڑے کے وکیل کی عرضی کو خارج کردیا اور اس کے بعد ڈاسنا جیل کے اندر چل رہے مقدمے میں جج نے نپور۔ راجیش تلوار سے پوچھا، آروشی ہیمراج قتل کیس میں آپ کے خلاف آئی پی سی کی دفعہ302 سیکشن 34 (ایک جیسے مقصد سے قتل کرنا)اور 201 دفعہ34 (ایک جیسے مقصد سے ثبوت مٹانے) کے الزام ہیں۔ اس کے علاوہ راجیش تلوار پر آئی پی سی کی دفعہ203 (پولیس کو گمراہ کرنے) کا الزام ہے۔کیا یہ الزام آپ کو قبول ہیں۔ تلوار جوڑے نے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مقدمے کاسامنا کرنے کی بات کہی۔ عدالت نے ان پر الزامات طے کرتے ہوئے 4 جون سے باقاعدہ مقدمہ چلانے کا حکم دیا۔ مخالف وکیل نے تلوار جوڑے پر قتل کے ثبوتوں کو ضائع کرنے کا الزام لگاتے ہوئے عدالت سے کہا کہ آروشی کے کمرے کی دیواروں کو دھوکر خون کے دھبوں کو مٹانے کی کوشش کی تھی۔ آروشی کے بستر کی چادر بدلی گئی۔ آروشی کی پورسٹ مارٹم رپورٹ بھی بدلنے کی کوشش کی گئی تھی۔ جج نے کہا کہ تلوار جوڑے پر مقدمہ چلانے کیلئے پہلی نظر میں ثبوت کافی ہیں۔ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے کئی فیصلوں کی مثال دیتے ہوئے جج نے کہا کہ الزام طے کئے جانے کے وقت ثبوتوں کی گہرائی سے جانچ ضروری نہیں ہوتی اور اس معاملے میں ایسے کافی ثبوت دستیاب ہیں جن کی بنیاد پر الزام طے ہوسکتے ہیں۔ تلوار جوڑے نے الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مقدمہ کا سامنا کرنے کی بات کہی۔ ان کے وکیل نے کہا معاملے کو بند کرنے سے متعلق رپورٹ میں خود اقبال کیا گیا تھا کہ تلوار جوڑے کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ہے۔ بچاؤ کے فریق کی دلیل تھی کہ جانچ ایجنسی واردات کو ثابت کرنے میں ناکام رہی اور درپردہ اور دیگر حالات کے ثبوتوں سے سی بی آئی کے الزام ثابت نہیں ہوتے۔ 4 جون سے مقدمے کی سماعت ہورہی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ کیا سی بی آئی تلوار جوڑے پرلگے الزامات کو ثابت کرپاتی ہے یا نہیں؟
(انل نریندر)

ٹیم انا کی نئی چارج شیٹ میں نشانے پر وزیر اعظم


بس اب اسی کی کسر بچی تھی کہ ٹیم انا نے وہ کام کردیا جو کسی نے نہیں کیا۔ وزیر اعظم منموہن سنگھ پر پہلی بار کرپٹ ہونے کا الزام جڑدیا۔ وزیر اعظم کے بارے میں اکثر یہ ہی کہا جاتا تھا کہ وہ ایک کرپٹ حکومت میں ایک ایماندار لیڈر ہیں لیکن ٹیم انا نے تو پہلی بار براہ راست وزیر اعظم اور وزیر خزانہ پر سیدھا حملہ کردیا۔ ٹیم انا نے منموہن سنگھ کیبنٹ میں شامل دیگر13 وزرا کو بھی اپنی فہرست میں ڈال لیا ہے جنہیں وہ کرپٹ مانتی ہے۔ وزیر اعظم کو اس لئے کرپٹ کہا گیا ہے کیونکہ کوئلہ سے متعلق سی اے جی کی ایک رپورٹ میں کچھ تبصرے کئے گئے ہیں اس مبینہ رپورٹ میں کوئلہ وزارت کے جس دور کی گڑ بڑی کا ذکر کیا گیا ہے اس وقت یہ وزارت خود وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کے پاس ہوا کرتی تھی۔ جن وزراء پر الزام لگائے گئے ہیں ان میں وزیر داخلہ پی چدمبرم، (ٹو جی اسپیکٹرم ،ایئر سیل ،میکسس سودہ) شردپوار (گیہوں درآمد، لواسہ اسکیم) تیلگی اسٹام پیپر معاملہ، ایس ایم کرشنا وزیر اعلی کی شکل میں نجی کھدائی کمپنیوں کو نامناسب فائدہ پہنچانا۔ کملناتھ (چاول درآمدات گھوٹالہ) پرفل پٹیل (ایئر انڈیا۔ انڈین ایئرلائنس کے انضمام میں گھوٹالہ) ولاس راؤ دیشمکھ (آدرش سوسائٹی، سبھاش گھئی کو زمین الاٹمنٹ) ویر بھدر سنگھ (ہماچل کے وزیر اعلی رہتے ہوئے غیر قانونی تقرریاں) کپل سبل (ریلائنس ٹیلی کام پر لگے جرمانے کو کم کرنا) سلمان خورشید (ٹوجی اسپیکٹرم میں ریلائنس اور ایسار کو بچانا) جی کے واسن (کانڈلا بندرگاہ کی زمین کوڑیوں کے بھاؤ پٹے پر دینا)، فاروق عبداللہ( جموں کشمیر کرکٹ ایسوسی ایشن گھوٹالہ) اے ۔کے آلہ گری(مندر کی زمین ہڑپنا،چناؤ افسر کو دھمکانا)، سشیل کمار شنڈے(آدرش ہاؤسنگ سوسائٹی گھوٹالہ) ۔ ٹیم انا نے آگے کہا کہ وزیر اعظم سمیت سرکار کے ان 15 وزرا کے خلاف کارروائی کرنے کیلئے ایک مخصوص تفتیشی ٹیم بنائی جائے۔ انہوں نے کہا ایسا نہ کرنے پر وہ 25 جولائی سے تحریک چلائیں گے۔ وزیر اعظم کو لکھے خط میں انا اور اس کی ٹیم نے کہا کہ انہیں سرکار کی جانچ ایجنسیوں پر بھروسہ نہیں اس لئے جانچ سپریم کورٹ کے تین ریٹائرڈ ججوں کی خصوصی ٹیم سے کروائی جائے۔ انہوں نے 6 ججوں کے نام بھی گنائے ہیں۔ یہ امکان تھا کہ جس طرح لوکپال اشو پر منموہن سرکار نے ٹال مٹول کا رویہ اپنایا سول سوسائٹی نے تو اب ایک نیا مورچہ ہی کھول دیا ہے حالانکہ وزرا کے نام اور ان پر کرپشن کے نام وہی پرانے ہیں جو انا پہلے لگا چکے ہیں لیکن وزیر اعظم کا نام لینا پوری لڑائی کو ایک نیا موڑ ضرور دیتا ہے ۔ اب یہ لڑائی ایک تلخ موڑ لیتی جارہی ہے۔ ٹیم انا نے سیدھا ٹکراؤ کا راستہ اختیار کرلیا ہے۔ ہم نے دیکھا کہ اترپردیش اسمبلی چناؤ میں ٹیم انا کا کوئی زیادہ اثر نہیں پڑا۔ اس کی طرف سے داغے گئے الزامات کے مبینہ ثبوتوں کے ساتھ وزرا کے نام کھلے عام طور سے لینے سے یوپی اے سرکار خاص کر وزیر اعظم منموہن سنگھ کی ساکھ پر یہ ایک اور داغ لگا ہے اور اس کا نقصان یہ ضرور ہوا ہے کہ اس پر کرپشن کے کچھ اور چھینٹے پڑے ہیں۔ یہ اس سرکار کے لئے اچھا اشارہ نہیں مانا جاسکتا۔ منموہن سنگھ پر پہلی بار سیدھا حملہ کیاگیا ہے۔ ویسے ٹیم اناکی اپنی بات سے مکرنے کی عادت بن چکی ہے۔دیکھتے ہیں وزیر اعظم پر جو الزام ان کی ٹیم نے لگائے ہیں انا اس بارے میں کیا بولتے ہیں۔
(انل نریندر)

27 مئی 2012

پیٹرول کی قیمتیں:سمجھیں اس سرکار کے بہانے،چھلاوے اور چالاکی... (2)


اس منموہن سنگھ کی یوپی اے سرکار کی چال بازیوں اور چھل اور ان کے ہی غرور کی ان تیل کمپنیوں نے آج بھارت میں پیٹرول دنیا میں سب سے مہنگا بنا دیا ہے۔ آج کی تاریخ میں دہلی میں پیٹرول کے دام 71 روپے18 پیسے فی لیٹر ہیں جبکہ دیگر میٹرو شہروں میں یہ اس سے بھی زیادہ ہیں۔ امریکہ جیسے ملک میں جہاں عام آدمی کی آمدنی ہم سے بہت زیادہ ہے، میں پیٹرول 44.88 روپے فی لیٹر بک رہا ہے۔ کراچی میں یہ بھاؤ 48.64 روپے ، بیجنگ میں 48.05 روپے، دھاکہ میں52.42 ، کولکاتہ میں 61.38 اور نیپال جیسے چھوٹے ملک میں بھی یہ 65.26 روپے فی لیٹر فروخت ہورہا ہے۔ پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے سے ساری چیزوں کے دام پر سیدھا اثر ہوتا ہے۔ تیز رفتار شہروں کی طرز زندگی اور مہنگی ہوگی۔ بیشک کار، آٹو رکشہ، ٹیکسیاں مہنگی ہوں گی۔ ٹیکسی والوں نے تو ہڑتال کرنے کا بھی اعلان کردیا ہے۔ ظاہر سی بات ہے ٹرانسپورٹ سیوائیں ٹھپ ہوں گی۔ خوردہ قیمت میں ان چیزوں اور سروسوں کے دام بڑھیں گے جن میں پیٹرول کا استعمال ہوتا ہے اور اس کا سیدھا اثر صارفین کی جیب پر پڑے گا۔ افراط زر میں اضافہ چوطرفہ مہنگائی کاانڈیکس ہے۔ مہنگائی غصے کی طرح منہ پھیلائے ہوئے ہے اب اس میں اور بھی اضافہ ہوگا۔ صحیح بات تو یہ ہے کہ ہمارے دیش میں مرکز اور ریاستی حکومتوں نے تیلسے پیسہ کماکر خزانہ بھرنے کا ذریعہ بنا لیا ہے۔ پیٹرول پر تو ٹیکس کا بوجھ اتنا ہے کہ گراہوں سے اس کی دوگنی قیمت وصولی جاتی ہے۔ تازہ اضافے کے بعد دہلی میں پیٹرول کی قیمت71.18 روپے جبکہ تیل سپلائی کرنے والی کمپنیوں کے سارے خرچ کو جوڑ کر پیٹرول کی فی لیٹر لاگت30 روپے کے آس پاس بنتی ہے۔ مرکزی حکومت جہاں کسٹم ڈیوٹی کی شکل میں ساڑھے سات فیصدی لیتی ہے وہیں ایڈیشنل کسٹم ڈیوٹی کی مد میں دو روپے لیٹر اور ایکسائز ڈیوٹی کی شکل میں ساڑھے چھ روپے فی لیٹر اسپیشل ڈیوٹی کی مد میں چھ روپے لیٹر،ویٹ کی مد میں 6.35 روپے فی لیٹر لیتی ہے۔ ریاستی سرکاریں بھی دوہری چال اور دیگر ٹیکس لگاتی ہیں۔ دہلی میں پیٹرول پر20 فیصدی ویٹ ہے جبکہ مدھیہ پردیش میں 28.75 فیصدی، راجستھان میں 20 فیصدی، چھتیس گڑھ میں 22 فیصدی ہے۔ مدھیہ پردیش سرکار 1 فیصدی اینٹری ٹیکس لیتی ہے اور راجستھان میں ویٹ کے علاوہ 50 پیسے فی لیٹر سیس لیا جاتا ہے۔بھارت دنیا کا اکیلا دیش ہے جہاں کی سرکار کی گمراہ کن پالیسیوں کے سبب طیارے میں استعمال ہونے والا ٹربائن فیول پیٹرول سے سستا ہے۔ دہلی میں پیٹرول اور اے ٹی ایف کی قیمتوں میں تین روپے کا فرق ہے۔ ناگپور جیسے شہر میں اے ٹی ایف پیٹرول سے 15 روپے تک سستا ہے۔ اقتصادی معاملوں میں کس طرح سیاست چلتی ہے اس کا تازہ معاملہ ہے قیمت میں ساڑھے سات روپے کا بھاری اضافہ۔ صرف پیٹرول مہنگا کرنے کا فیصلہ اس کی گواہی دیتا ہے کہ سرکار ووٹ بینک پالیسی کے چلتے صارفین پر مزید بوجھ ڈال رہی ہے۔ ایسا کرکے ایک طرح سے آبادی سے وہ بھاری بھرکم سبسڈی بھی وصولی جارہی ہے جو ڈیزل ، مٹی کا تیل وغیرہ پر دی جاتی ہے۔ جس کے بارے میں یہ پتہ ہے اس کا بڑے پیمانے پر بیجا استعمال ہوتا ہے۔ دراصل اس کی وجہ وقت کی مانگ طکے باوجود ڈیزل ،مٹی کے تیل اور رسوئی گیس کے داموں کو بڑھانے سے سرکار کتراتی ہے کیونکہ یہ اپوزیشن کو چھوڑو ان کی ساتھی پارٹیوں کو بھی قبول نہیں ہے اور اس میں کسی بھی طرح کے اضافے سے کانگریس پارٹی کا ووٹ بینک متاثر ہوگا۔
(انل نریندر)

دنیا جھکتی ہے جھکانے والا چاہئے


بھارتیہ جنتا پارٹی کے صدر نتن گڈکری اورآر ایس ایس دونوں پرگجرات کے وزیر اعلی نریندر مودی بھاری پڑ گئے۔ پارٹی کو سنگھ کے چہیتی سنجے جوشی کو بھاجپا ورکنگ کمیٹی کی میٹنگ سے پہلے باہر کا راستہ دکھانا پڑا۔ مودی کے دباؤ میں گڈکری اور سنگھ سرخم دکھے۔ پارٹی کے ذرائع نے بتایا کہ مودی نے صاف کہا کہ اگر ورکنگ کمیٹی میں سنجے جوشی آئے تو وہ میٹنگ سے خود کو دور رکھنے کے لئے مجبور ہوں گے۔ گڈکری نے بدھوار کی شام فون سے بات کی تھی۔ گڈکری نے کور کمیٹی کی میٹنگ میں مودی سے بات چیت کی تفصیل رکھی۔ ذرائع کے مطابق کچھ سینئر لیڈر بھاجپا نیتا مودی کی دھمکی کو قبول کرنے کے خواہش مند نہیں تھے مگر گڈکری اور آر ایس ایس کے دباؤ کے چلتے سنجے جوشی کو دو لائن کا استعفیٰ فیکس سے بھیجنا پڑا۔ دراصل مودی اور گڈکری میں سودے کی خوشبو آرہی ہے۔ مودی نے شرط رکھی کے جوشی کو باہر کرو اور گڈکری نے شرط رکھی کے مجھے دوسری میعاد دینے کیلئے آپ حمایت کریں۔ اب لگتا ہے کہ گڈکری کی دوسری میعاد ملنے میں تمام رکاوٹیں دور ہوگئی ہیں۔ انہیں اب دوبارہ صدر بنانا طے ہوچکا ہے۔ گڈکری کی تین سالہ میعاد25 دسمبر کو پوری ہونے جارہی ہے۔ اس تجویز کے لئے باقاعدہ بھاجپا کے آئین میں ترمیم کی گئی جسے عملی جامہ پہنا دیا گیا ہے۔ پارٹی کے سابق صدر راجناتھ سنگھ نے رسمی طور پر میٹنگ میں صدر کی میعاد میں توسیع کے لئے ایک تجویز رکھی جس کی دوسرے سابق صدر وینکیانائیڈو توثیق کردی۔ جس کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ مرکزی لیڈرشپ میں جلدی ہی یہ منظور کرلی گئی۔یہ نہ تو بھاجپا کے لئے اچھا اشارہ ہے اور نہ ہی آر ایس ایس کے لئے۔ قومی پارٹی کی ساکھ کو لیکر جس بھاجپا کو قومیت اور ڈسپلن کے لئے جانا جاتا تھا اب وہ بے اصولی راستے پر چلتی نظر آرہی ہے۔ بھاجپا کی بونی ہوتی لیڈر شپ اور اس پر حاوی ہوتے ریاستی نیتا سنگھ کے لئے چنوتی بن گئے ہیں۔ راجستھان میں بیک فٹ پر وسندھرا راجے ،گجرات میں نریندر مودی، کرناٹک میں بی ایس یدی یروپا سے تو چنوتی مل رہی ہے وہ بھاجپا کو کانگریس کے متبادل کے طور پر ابھر نے میں آڑے آرہی ہے۔ بھاجپا صدر گڈکری کی میعاد کو بڑھا کر سنگھ بھاجپا پر اپنی پکڑ ضرور ثابت کرنا چاہ رہی ہے لیکن وہ شعور اور وہ استقبال نہیں نظر آرہا ہے جو بھاجپا میں پہلے ہوا کرتا تھا۔ بھاجپا کی تاریخ میں یہ پہلا موقعہ ہے جب بھاجپا کو سنگھ کی جانب سے مقرر کرائے گئے شخص کو ہرانا پڑا ہے۔ اس سے بھی ثابت ہوتا ہے سنگھ کی بھاجپا پر پکڑ کمزور ہوتی جارہی ہے۔ ہمیں لگتا ہے کہ بھاجپا کے اوپر ایسے بھی لیڈر ہیں جو چاہتے ہیں کہ سنگھ کی بھاجپا معاملوں میں دخل اندازی کم ہو۔ پورے معاملے میں جہاں نریندر مودی کی جیت ہوئی ہے وہیں آر ایس ایس کی ایک معنی میں ہار بھی ہوئی ہے۔ اس سے نریندر مودی کا عہدہ اور قد بڑھے گا اور دنیا کے سامنے انہوں نے ثابت کردیا ہے کہ دنیا جھکتی ہے جھکانے والا چاہئے۔
(انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...