Translater

25 مارچ 2017

برطانوی پارلیمنٹ پرحملہ

بلجیم کی راجدھانی بروسیلزپر آتنکی حملہ کی پہلی برسی پر بدھوار کو لندن برطانوی پارلیمنٹ کو نشانہ بنایا گیا۔ حملہ آور نے فرانس کے نیس شہر میں ہوئے ٹرک حملے جیسا حملہ کرنے کی کوشش کی۔ کار سوار حملہ آور نے تیز رفتار سے کار پارلیمنٹ کی طرف جانے والے ویسٹ مسٹر برج پر درجن بھر پیدل مسافروں کو کچل دیا۔ چشم دید گواہوں کے مطابق کار کی ٹکر اتنی زبردست تھی کہ کچھ لوگ ٹیمس ندی میں جا گرے۔ یاد رہے جولائی 2016ء میں نیس میں ٹرک سوار خودکش حملہ آور نے 83 لوگوں کو کچل ڈالا تھا۔ برطانیہ کی پارلیمنٹ کو بدھوار بروسیلز کے ہوائی اڈے پرہوئے فدائی حملے کی پہلی برسی پر نشانہ بنایا گیا۔ برسیلز حملے میں تین فدائی حملہ آوروں نے دھماکہ کیا تھا جس میں 36 لوگ مارے گئے تھے۔ لندن حملے کی ذمہ داری اسلامک اسٹیٹ نے لی ہے۔ آتنکی تنظیم کی طرف سے کہا گیا ہے کہ خلیفہ کے سپاہی نے اس حملے کو انجام دیا۔ برطانوی پرائم منسٹر ٹیزا نے ہاؤس آف کامنس کو بتایا کہ حملہ آور آئی ایس کی آئیڈیالوجی سے متاثر تھا اور اس نے اکیلے ہی واردات کو انجام دیا تھا۔ برطانوی پولیس کے مطابق 52 سالہ خالد مصطفی برطانیہ میں پیدا ہوا تھا اور یہاں کٹر پسندی خطرے کو لیکر ایک بار پھر اس کی جانچ بھی کی گئی تھی۔ واردات میں ایک حملہ آور سمیت 4 لوگوں کی موت ہوچکی ہے اور 40 لوگ زخمی ہوئے۔ برطانیہ کی پارلیمنٹ پر حملے کی کوشش کے درمیان ہاؤس آف کامنس میں قریب400 ممبران پارلیمنٹ موجود تھے ۔ وہ سبھی آس پاس ہورہی وارداتوں اور اس کے بعد پولیس چھان بین کے درمیان کئی گھروں تک پارلیمنٹ بھون کے اندر بند رہے۔ ٹیریزا حکومت نے خارجی امور کے وزیر ٹیبیس ایلبٹ نے پارلیمنٹ کمپلیکس کے باہر آکر حملہ آور کے چاقو سے زخمی ہوئے پولیس ملازم کا بہتا خون روکنے کی کوشش بھی کی۔ بتایا جاتا ہے تمام کوششوں کے باوجود بری طرح زخمی پولیس والے نے بعد میں دم توڑ دیا۔ آئی ایس کے خلاف مہم کے بعد برطانیہ آتنکی حملے کو لیکر دوسرے سب سے زبردست الرٹ پر تھا۔
لندن میں مئی 2013ء میں ایسے ہی ایک واقعہ میں دو برطانوی آتنک وادیوں نے ایک فوجی پر چاقو سے حملہ کر اس کی جان لے لی تھی جبکہ جولائی2005ء میں لندن کے ایک میٹرو اسٹیشن پر ہوئے حملے میں 22 لوگوں کی جان چلی گئی تھی۔ پچھلے کچھ عرصے پورا یوروپ آئی ایس کے نشانے پرہے۔ کبھی بروسیلز تو کبھی فرانس تو کبھی برطانیہ تو کبھی جرمنی۔ تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ برطانیہ میں ہورہے آتنکی حملے برطانیہ میں پیدا ہوئے شہری ہی کررہے ہیں۔
(انل نریندر)

جتنابڑاجرائم پیشہ اتنی بڑی اس کی پہنچ

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جسٹس جے۔ ایس۔ کھیر کے ایک تبصرے نے ہمارے عدلیہ سسٹم کی بدنصیبی اجاگر کردی ہے۔ جسٹس کھیر نے خود کہا ہے کہ ہمارا دیش بھی عجب ہے جہاں جرائم پیشہ شخص جتنابڑا ہوتا ہے اس کی پہنچ بھی اتنی ہی ہوتی ہے۔ جسٹس کھیر نے بدفعلی کے متاثرین اور تیزاب حملہ کے شکار یا اپنے گھر کے ایک واحد روزی روٹی کمانے والے شخص کو گنوانے والوں کے حالات پر حیرانی ظاہر کرتے ہوئے کہا جرائم پیشہ افراد کے آخری قدم تک انصاف کے لئے پہنچ ہوتی ہے لیکن متاثرین کو یہ سہولت نہیں ملتی۔ ادارے کے سرپرست کے طور پر میری اپیل ہے کہ اس برس کو متاثرین کیلئے کام کا برس بنایا جائے۔ اس کے لئے معاون قانونی ورکروں کو بھی نچلی عدالت میں بھیج کر متاثروں کو ان کے حقوق کے بارے میں واقفیت کرائیں۔
چیف جسٹس نے کہا کہ آتنکی معاملوں کے قصورواروں کے لئے قانون کے تحت ہر ضروری قانونی مدد دستیاب ہے یہاں تک کہ سپریم کورٹ نے بھی ہر متبادل کا استعمال کرنے کے بعد ہی انہیں قانونی مدد ملتی ہے۔ حقیقت میں چیف جسٹس 1993ء بم دھماکوں کے قصوروار یعقوب میمن کا ذکر کررہے تھے حالانکہ انہوں نے کسی خاص معاملے کا ذکر تو نہیں کیا لیکن ان کا اشارہ صاف تھا۔ جسٹس کھیر نے کہا کہ ہمارا دیش بھی عجب ہے جرائم پیشہ جتنا بڑا ہو ،بے چینی اتنی ہی بڑی ہوتی ہے۔ ہم پہلے دیکھ چکے ہیں کہ دہشت گردانہ سرگرمیوں میں قصوروار جس کی نظرثانی عرضی بھی خارج ہوگئی ،کے باوجود اس کے سپریم کورٹ انصاف کی اس حدتک گیا جہاں تک پہنچا جاسکتا تھا۔ بتادیں چیف جسٹس کا اشارہ ممبئی دھماکہ کے قصوروار یعقوب میمن کی طرف تھا جس معاملے میں رات کو آخری سماعت ہوئی کیونکہ اگلی صبح اسے پھانسی ہونی تھی۔ چیف جسٹس آف انڈیا نے کہا کہ کسی متاثر کو قانونی حق کیلئے اس کے پاس جانے کی بات نہیں کرتا۔ عام طور پر ہوتا یہی ہے کہ سبھی ملزمان کوئی وکیل دیاجاتا ہے۔ گرفتاری کے بعد سے ہی اس کے پاس قانونی مدد پہنچتی ہے۔ 
بدفعلی کا شکار متاثرہ کے بارے میں بھی چیف جسٹس آف انڈیا نے کہا کہ انہیں برسوں سے اس بات کا تعجب ہے کہ متاثرہ کا کیا ہوتا ہو؟ اس فیملی کا کیا ہوتا ہوگا جسے دیکھنے والا کوئی نہیں رہا؟ ہم کیوں نہیں ایسے متاثر تک پہنچ سکتے ہیں؟ جسٹس کھیر نے کہا کہ متاثروں کے لئے قومی سطح اور ریاستی سطح پر فنڈ تیار کرنے کیلئے پارلیمنٹ نے سی آر پی سی کی دفعہ 357-A شروع کی ہے۔ متاثروں کو معاوضے کے ساتھ ساتھ کسی بھی معاملے میں خاص کر جرائم کے معاملے میں نمائندگی ملنی چاہئے۔
(انل نریندر)

24 مارچ 2017

ایودھیا سیاست کا معاملہ نہیں بلکہ عقیدت کا ہے

یہ صحیح ہے کہ رام مندر۔ بابری مسجدتنازعہ پر کئی بار سمجھوتہ کی کوشش ہوئیں ہیں لیکن وہ سبھی ناکام رہیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ برسوں سے چلے آرہے اس مسئلہ کا حل نکالنے کی کوشش چھوڑدی جائے۔ سپریم کورٹ نے اس حساس ترین اور عقیدت سے وابستہ اشو پر فریقوں سے بات چیت کرکے مسئلے کا حل اتفاق رائے سے نکالنے کو کہا ہے۔ اگر ضرورت پڑی تو عدالت کوئی حل نکالنے کیلئے ثالثی کو بھی تیار ہے۔ یہ ریمارکس منگلوار کو چیف جسٹس جے ۔ ایس ۔کھیر ، جسٹس ڈی۔ وائی چندرچور اور جسٹس سنجے کشن کول کی بنچ نے بھاجپا نیتا ڈاکٹر سبرامنیم سوامی کی رام جنم بھومی تنازعہ معاملہ کی جلد سماعت کرنے کی مانگ پر دئے ہیں۔سوامی نے کورٹ سے کہا کہ معاملہ چھ برسوں سے التوا میں پڑا ہے اس مسئلے پر روزانہ سماعت کر جلد نپٹارہ کرناچاہئے۔ چیف جسٹس کھیر نے سوامی سے کہا کہ اتفاق رائے سے کسی حل پر پہنچنے کے لئے آپ نئے سرے سے کوشش کرسکتے ہیں۔ اگر ضرورت پڑی تو آپ کو اس تنازعے کو ختم کرنے کے لئے کوئی ثالث بھی چننا چاہئے۔ اگر فریق چاہیں تو میں دونوں فریقین کے ذریعے چنے گئے ثالثوں کے ساتھ بیٹھوں تو میں اس کے لئے تیار ہوں۔ انہوں نے یہاں تک کہا کہ اس مقصد کیلئے میرے ساتھی ججوں کی خدمات بھی لی جاسکتی ہیں۔ عزت مآب عدالت نے 31 مارچ کو اگلی تاریخ مقرر کی ہے۔ یہ پہلا موقعہ نہیں ہے جب سپریم کورٹ نے معاملہ کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے عدالتی کارروائی کی حد کو سمجھا ہے۔ اس سے پہلے 1994ء میں مرکز میں نرسمہا راؤ سرکار نے آئین کے سیکشن 143(A) کے تحت سپریم کورٹ کی رائے مانگی تھی اس پر پانچ ججوں کی بنچ نے سرکار سے پوچھا تھا کیا اس کی رائے کو حکم مان کر لاگو کیا جائے گا؟ مرکز کا کہناتھا کہ ایسی صورت میں وہ اپنی رائے نہیں دے گی کیونکہ معاملہ کافی حساس ترین ہے اس لئے یہ مانا جاسکتا ہے کہ سپریم کورٹ نے منگلوار کو جو کہا وہ ایک طرح سے اس کی پہلی کی گئی بات کا ہی توسیع شدہ حصہ ہے۔فرق اتنا آیا ہے کہ اس درمیان اس مسئلے پر ہائی کورٹ کا فیصلہ آچکا ہے اور اس فیصلے کو چنوتی دینے والی بہت ساری عرضیاں سپریم کورٹ میں پہنچ چکی ہیں ساتھ ہی یہ دباؤ بھی ہے کہ فیصلہ جلد ہونا چاہئے۔ دیش کی آزادی کے دو تین سال بعد سے چلے آرہے اس تنازعہ کو سلجھانے کا اس سے بہتر متبادل نہیں ہوسکتا لیکن جیسا کہ پہلے ہوتا آیا ہے سپریم کورٹ کی یہ رائے آنے کے ساتھ ہی اس مسئلے پر سیاست شروع ہوگئی ہے۔ سرکار کے ساتھ راشٹریہ مسلم منچ نے عدالت کی صلاح کا خیر مقدم کیا ہے لیکن بابری مسجد ایکشن کمیٹی کے کنوینر ظفریاب جیلانی اور آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کا مثبت رویہ نہیں رہا۔ یہ کوئی ظاہرانہ نہیں ہے بلکہ ایک غیر معمولی بات ہے کہ ایسا کوئی مسئلہ نہیں ہے جس کا کوئی حل نہ ہو۔ آخر دنیا کے بڑے بڑے مسئلے یہاں تک کہ برسوں سے لڑی جا رہی جنگوں کا بھی مسئلہ میز پر بیٹھنے سے نکلتا ہے لیکن اب دقت یہ ہے کہ اس مسئلے سے پوری تاریخ جوڑ دی گئی ہے۔ تنازعہ کی تاریخ اور کشیدگی اور سیاست ، دوکانداری کی تاریخ جڑ گئی ہے۔ یہ لڑائی جو کبھی مقامی ہوسکتی تھی جذبات کے کھیل نے اسے قومی اشو بنا دیا ہے۔ ایسے بہت سے لوگ ہیں جن کے سیاسی مفادات اب اس مسئلے سے جڑ گئے ہیں۔ ان کے لئے اس مسئلے کے ختم ہوجانے کا مطلب ہوگا کہ ان کی دوکانداری و سیاست ختم ہوجائے گی۔عدالت کے باہر بات چیت کے ذریعے مسئلہ کے حل کی بات تبھی آگے بڑھ پاتی ہے جب دونوں فریقوں میں اتفاق رائے قائم ہوجائے۔ 
بابری مسجد ایکشن کمیٹی کے وکیل ظفریاب جیلانی کا بیان تو یہی بتاتا ہے کہ مسئلہ آسان نہیں ہے۔ 60 سال کی قانون لڑائی کے بعد یکم اکتوبر 2010ء کو الہ آباد ہائی کورٹ نے فیصلہ سنایا تھا کہ متنازعہ2.77 ایکڑ زمین کا ایک تہائی حصہ مسجد بنانے کے لئے وقف بورڈ کو دے دیا جائے حالانکہ اس فیصلے پر ہندوتووادی تنظیموں کے دعوے کومضبوط کرنے والا مانا گیا لیکن کوئی بھی فریق اس فیصلے سے مطمئن نہیں تھا۔ اس کے بعدسے مسئلہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے جہاں فیصلہ کب آئے گا کون بتا سکتا ہے اس لئے بات چیت سے حل نکالنے کی چیف جسٹس کی تجویز کی اہمیت ظاہر ہے لیکن جہاں کوئی بھی فریق ذرا بھی پیچھے ہٹنے کو تیار نہ ہو وہاں بات چیت کی پہل کرنا بھی ایک بہت ہی مشکل کام ہے۔ فی الحال یہ کہنا مشکل ہے کہ ایودھیا تنازعہ کو آپسی اتفاق رائے سے حل کرنے کی کوئی سنجیدہ کوشش شروع ہو پائے گی یا نہیں لیکن یہ خیال رہے کہ ایسی کوئی کوشش تبھی کامیاب ہوسکتی ہے جب بابری مسجد کے پیروکار رام جنم بھومی پر اپنا دعوی چھوڑنے کو تیار ہوں گے۔ جب تاریخی و آثار قدیمہ کے ثبوت متنازعہ جگہ میں مندر ہونے کی گواہی دے رہے ہیں اس کی کچھ حد تک تصدیق الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے میں بھی ہوچکی ہے لیکن وشو ہندو پریشد اور نرموہی اکھاڑے سے ایسی کوئی توقع کا مطلب نہیں کہ وہ بھائی چارگی کے نام پر مندر کے دعوے سے پیچھے ہٹ جائیں۔ ایسی توقع کی حیثیت اس لئے بھی نہیں ہے کیونکہ یہ معاملہ صدیوں پرانا ہے اور زمانے سے مسجد کے حمایتی بھی اچھی طرح واقف ہیں کہ رام کا جنم ایودھیا میں ہوا تھا حالانکہ بابر یا پھر اس کے سیناپتی کا ایودھیا سے کوئی لینا دینا ہی نہیں تھا پھر بھی اس قدیم نگری میں مسجد کی تعمیر ہوسکتی ہے یہ ٹھیک ہے ایودھیا تنازعہ کا حل نکالنے کی تمام کوششیں ناکام رہی ہیں، لیکن اسی بنیاد پر ایک اور کوشش سے پیچھے ہٹنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ سپریم کورٹ کی تجویز کو ایک نئے موقعہ کے طور پر لیا جانا چاہئے۔ یہ موقعہ توقع کے حساب سے نتیجہ دے سکتا ہے۔ کیونکہ ایودھیا مسئلہ اب سیاست کا اشو نہ رہ کر عقیدت کا اشو بن گیا ہے ۔ اگر بھگوان رام کا مندر ایودھیا میں نہیں بنے گا تو کہاں بنے گا؟
(انل نریندر)

23 مارچ 2017

مودی سے خوفزہ مسلمان،صبر و امید رکھیں

فائر بینڈ ہندوتو لیڈر کی ساکھ رکھنے والے یوگی آدتیہ ناتھ اتر پردیش کی کمان سنبھالتے ہی ایکشن میں آگئے ہیں۔ ان کے وزیر اعلی بننے سے جہاں عام طور پر خوشی اور امید کا ماحول ہے وہیں مسلم فرقے میں تشویش پائی جاتی ہے کہ اب آگے کیا ہوگا؟ یوگی کی ساکھ سے یہ طبقہ خوفزدہ ہے۔ یوگی کے عہدہ سنبھالتے ہی کچھ مسلم کٹر پسند لیڈروں نے انہیں اور ڈرانا شرو ع کردیا ہے جبکہ ایسا کرنے کی فی الحال ہمیں کوئی وجہ نظر نہیں آتی۔ بیشک یوگی کی ساکھ ایک فائر بینڈ ہندوتو وادی کی ہے لیکن حلف لینے کے بعد اپنے پہلے خطاب میں انہوں نے سب کو ساتھ لیکر چلنے اور بغیرامتیاز کے کام کرنے کا جو وعدہ کیا ہے اس پر بھروسہ کرنا چاہئے۔ یہ خوشی کی بات ہے کہ مسلمانوں کی تشویش دور کرنے کیلئے کئی مسلم دانشور بھی آگے آئے ہیں اور انہوں نے مثبت نظریئے کے ساتھ آگے بڑھ کر نئی حکومت کا خیر مقدم کرنے کی اپیل کی ہے اور امید جتائی ہے کہ بغیر امتیاز کے کام کاج ہوگا اور اکثریتی اور اقلیت میں کوئی فرق نہیں سمجھا جائے گا۔ ان کی رائے میں مسلمانوں کو خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ ایک مثبت نظریئے کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا۔ بھاجپا’ سب کا ساتھ سب کا وکاس ‘ کے نعرے کے ساتھ اقتدار میں آئی ہے اس لئے امید کی جاسکتی ہے یوگی کسی کے ساتھ بھید بھاؤ نہیں کریں گے۔ مسلم دانشوروں کا کہنا ہے کہ کئی بار سیاست میں سخت الفاظ کا استعمال ہوتا ہے لیکن جب ذمہ داری ملتی ہے تو پھر سب کو ساتھ لیکر چلنا پڑتا ہے۔ مشہور شاعر اور اردو سے وابستہ انور جلال پوری کہتے ہیں جمہوریت میں جنتا جو فیصلہ کرتی ہے اسے تسلیم کرنا چاہئے۔ کسی کے بارے میں اس کا کام دیکھے بغیر رائے قائم کرلینا غلط ہے۔ چناؤ کے وقت زبان الگ ہوتی ہے جیت کے بعد الگ۔ جب ذمہ داری ملتی ہے تو توازن بنا کرچلنا پڑتا ہے اس لئے کوئی وجہ نہیں ہے کہ مسلمان مایوس ہوں۔ ان کا کہنا ہے کہ ملک آئین سے چلتا ہے امید کیجئے کہ سب اچھا ہوگا۔ کرامت حسین پی جی کالج کے سابق پرنسپل اور مصنف صبا انور کہتی ہیں کہ ہم ایک جمہوری ملک میں رہتے ہیں اور جنتا کا مینڈیٹ سر آنکھوں پر ہے۔ امید کی جاسکتی ہے کہ یوپی کو بدلنے سے پہلے یوگی آدتیہ ناتھ خود کو بدلیں گے۔ ابھی تک یوگی بھلے ہی ایک ہندو وادی لیڈر رہے ہوں لیکن اب وہ یوپی کے وزیر اعلی ہیں۔ ریاست کے ہر طبقے کی ذمہ داری اب ان کے کندھوں پر ہے۔ اس میں ہندو مسلمان کو ہم الگ کرکے نہیں دیکھ سکتے۔ مجھے یقین ہے یوگی بھی ایسا ہی کریں گے۔ شیعہ کالج کے سینئر لیکچرر طالب زیدی کہتے ہیں کہ یوپی کی جنتا نے تبدیلی کے نام پر بھاجپا کو اقتدار سونپا ہے۔ باقاعدہ طور سے یوگی ایک کٹر وادی ہندو لیڈر ہیں مگر جو بھی اپنے مذہب کے تئیں کٹر ہوتا ہے وہ دوسرے مذہب کی بے حرمتی نہیں کرتا کیونکہ مذہب انسانیت کے خلاف بات نہیں کرتا۔ مسلمانوں کو بھاجپا یا یوگی کے تئیں اپنے نظریئے سے اوپر اٹھ کر مثبت آئیڈیالوجی کے ساتھ بڑھنا چاہئے۔ مہنت آدتیہ ناتھ کے وزیر اعلی بننے پر اسلامی درسگاہ دارالعلوم سمیت دیو بند کے علماؤں نے کہا ہے کہ وزیر اعلی بنے کے بعد مہنت کی ذمہ داری بڑھ گئی ہے سب کو ساتھ لیکر چلنے کا حلف لیا ہے اس لئے وہ اس کی عزت رکھیں۔ بتادیں مہنت آدتیہ ناتھ کا ٹریک ریکارڈ بھی اس معاملے میں بہت حوصلہ افزاء ہے۔ ان کا سب سے بھروسے مند سیوک ایک ہندوستانی بے سہارا مسلمان ہے جو بچپن سے ہی مہنت کے ساتھ رہا ہے۔ مہنت جی نے اسے اپنے مذہب کے مطابق زندگی بسر کرنے کی چھوٹ دے رکھی ہے۔ گورکھ ناتھ مندر کو عام طور پر لوگ صرف ہندوتو کا مرکز مانتے ہیں لیکن مندر کمپلیکس فرقہ وارانہ بھائی چارے کا مرکز بھی ہے۔ کمپلیکس میں کئی مسلم کنبے پیڑھیوں سے رہتے ہیں۔ گورکھ ناتھ مندر کا سب سے پرانا ملازم دوارکا تیواری ہے۔ گورکھ پیٹ کو اصلاح پسند روایت کا حصہ بتاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جو لوگ گورکھ پیٹ کو اپنے ڈھنگ سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں انہیں سماجی خدمت کے تئیں اشتراک کو دیکھنا ضروری ہے۔ ہم بس اتنا کہتے ہیں مسلمان بھائیوں مہنت آدتیہ ناتھ کو وقت دیں ، ابھی سے کوئی رائے قائم نہ کریں۔ یوگی جی کو بھی یہ ثابت کرنا ہوگا کہ مذہب کے نام پر، ذات کے نام پر اور فرقے کے نام پر اترپردیش میں کوئی بھید بھاؤ نہیں ہوگا۔ سبھی کو یکساں مواقع ملیں گے۔
(انل نریندر)

پہلی بار مسلم خواتین نے حقوق کی آواز اٹھائی

تین طلاق کے اشو پر یہ خوشی کی بات ہے کہ مرکزی سرکار کی مہم رنگ لانے لگی ہے۔ اب تو مرکزی سرکار کو کھل کر مسلم خواتین کی حمایت ملنے لگی ہے۔ اترپردیش اسمبلی چناؤ میں اپنے چناؤ مینوفیسٹو میں شامل کر جہاں تین طلاق کے اشو کو سامنے رکھا وہیں اب آر ایس ایس سے جڑے ہوئے مسلم راشٹریہ منچ نے اس معاملے پر بڑی تعداد میں مسلم خواتین کی حمایت حاصل کرنے کا دعوی کیا ہے۔ سنیچر کو دہلی کے کانسٹیٹیوشن کلب میں مسلم ویلفیئر منچ کے ذریعے منعقدہ مسلم خواتین کانفرنس میں پہلی بار سینکڑوں کی تعداد میں مسلم عورتیں پردے سے باہر نکلیں اور تین طلاق کے خلاف اپنی آوازیں بلند کیں۔ مسلم عورتوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کا بھی شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے برابری کے حق کے ساتھ تعلیم اور اقتصادی انحصاریت پر زوردیا۔ کانفرنس پوری طرح سے قومیت کے رنگ میں رنگی نظر آئی۔ بھارت ماتا کی جے کے نعرے گونجے، وندے ماترم کا گائن ہوا۔ مسلم راشٹریہ منچ مہلا ونگ کی صدر شہناز حسین نے کہا کہ اترپردیش میں جس طرح سے مسلم بہنوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کی حمایت کی ہے اس سے دیش کی بہت سے مسلم بہنوں کے حوصلے بلند ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا ہمارے سماج میں عورتیں تین طلاق کو لیکر ڈری سہمی رہتی ہیں۔ پتہ نہیں کہ کب شوہر طلاق طلاق کہہ کر انہیں اپنی زندگی سے نکال دے۔ اب مرکز میں ایک ایسی حکومت ہے جس نے مسلم خواتین کی بے رحمانہ حالت پر توجہ دی ہے اس سے ان کا حوصلہ بڑھا ہے۔ کانفرنس میں سپریم کورٹ کی ایڈیشنل سالیسٹرجنرل پنکی آنند سے عورتوں نے خاص طور پر قانون پر جانکاری لی۔ پنکی آنند نے بتایا بھارت کے آئین میں مرد اور عورتوں کو برابر کا درجہ حاصل ہے ، لیکن مسلم خواتین کو اس درجے سے محروم رکھا گیا ہے۔ مسلم ویلفیئر منچ کے کنوینر یاسر گیلانی نے کہا کہ مسلم خواتین تین طلاق کے حق میں نہیں ہیں اور اس اشو پر وزیر اعظم کے ساتھ ہیں۔ وہ ہر صورت میں ان کے ساتھ کھڑی ہیں۔ سپریم کورٹ اور ضلع کورٹ میں تین طلاق کے اشو پر قانونی لڑائی لڑنے والی سہارنپور کی عطیہ صابری نے دعوی کیا کہ اسمبلی چناؤ میں انہوں نے بی جے پی کو ووٹ دیا ۔ اب پی ایم مودی تین طلاق کے اشو پر اپنا وعدہ نبھائیں۔ عطیہ کا کہنا ہے بیٹا پیدا نہ ہونے پر ان کے شوہرنے نہ صرف مجھے مارا پیٹا بلکہ بدچلن بھی ٹھہرادیا۔ میرے ماں کے گھر لوٹنے پر شوہر واجد نے ایک کاغذ پر تین طلاق لکھ کر بھیج دیا۔ دارالعلوم دیوبند نے بغیر ان کی رائے جانے تین طلاق پر میرے شوہر کے رخ کی حمایت کردی اور اسے صحیح ٹھہرایا۔ اب معاملہ سپریم کورٹ میں ہے۔
(انل نریندر)

22 مارچ 2017

سنگھ کے پرچارک سے وزیر اعلی بننے تک ترویندر سنگھ راوت

اتراکھنڈ میں ترویندر سنگھ راوت کی رہنمائی میں نئی حکومت نے ذمہ داری سنبھال لی ہے۔ آر ایس ایس سے لیکر اتراکھنڈ کے 9ویں وزیر اعلی تک کا سفر طے کرنے والے ترویندر سنگھ راوت کے بارے میں کچھ باتیں بتانا چاہتا ہوں۔ ترویندر سنگھ راوت پوڑی ضلع کے جہری کھال بلاک خیراسون گاؤں کے رہنے والے ہیں۔ دیو بھومی مانے جانے والے اتراکھنڈ نے ایک نہیں دو وزیر اعلی دئے ہیں ترویندر اور یوگی آدتیہ ناتھ۔یوگی کی بھی پیدائش اتراکھنڈ کی ہی ہے۔ ترویندر سنگھ کے والد پرتاپ سنگھ راوت ہندوستانی فوج کی بی ای جی رڑکی کور میں ملازم تھے۔ ترویندر سنگھ 9 بھائی بہنوں میں سب سے چھوٹے ہیں۔ شروع سے ہی خاموش طبعیت والے ترویندر نے لیس ڈاؤن کے جہری کھال ڈگری کالج سے گریجویٹ اور گڑھوال یونیورسٹی شری نگر سے ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔شری نگریونیورسٹی سے ہی صحافت میں ایم اے کرنے کے بعد 1984 ء میں دہرہ دون چلے گئے۔ یہاں بھی انہیں آر ایس ایس میں اہم عہدوں پر ذمہ داری سونپی گئی۔ وہاں سنگھ کے پرچارک کا کردار نبھانے کے بعد ترویندر سنگھ راوت میرٹھ ضلع کے پرچارک بنے۔ ان کے کام سے سنگھ اتنا متاثر ہوا کہ انہیں اتراکھنڈ بننے کے بعد 2002ء میں بھاجپا ٹکٹ پر کانگریس کے ویریندر موہن انیال کے خلاف اتار دیا گیا۔ 2002ء میں ترویندر سنگھ نے ڈوئی والا سے پہلی بار اسمبلی چناؤ لڑا اور کامیابی حاصل کی۔ 2017ء کے اسمبلی چناؤ میں راوت ایک بار پھرڈوئی والا اسمبلی چناؤ میں میدان میں اترے اور انہوں نے کانگریس کے ہیرا سنگھ بشٹ کو کراری شکست دی۔ بھاجپا کے قومی صدر امت شاہ اور پردھان نریندر مودی سے راوت کی نزدیکیوں اور سنگھ کے بھروسے مند سیوک ہونے کی وجہ سے وہ آج وزیر اعلی کی کرسی تک پہنچے ہیں۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کو اور وزیر اعظم کو بھروسہ ہے کہ اتراکھنڈ ترویندر سنگھ راوت کے راج میں تیزی سے بدلے گا۔ اس لئے بھی ہریش راوت کے مقابلہ میں ترویندر ایک بیلاگ اور تیزی سے کوالٹی تبدیلیوں کے فیصلے لینے والے نیتا ہیں۔ لو پروفائل کے ہوتے ہوئے بھی کام کرنے میں استاد مانے جاتے ہیں پھر آج بھرپور اکثریت کے چلتے ان کی پوزیشن ہریش راوت جیسی ڈانواڈول یا حریفوں کی سازشوں کے اندیشے سے بھی آزاد ہے۔یہ ٹھیک ہے کہ اتراکھنڈ میں بھاجپا کی غیر معمولی کامیابی کانگریس کے سرکردہ باغیوں کی مقبولیت و مضبوط مینڈیٹ کا بہت یوگدان رہا اسی وجہ سے 9 نفری کیبنٹ جس میں 7 کیبنٹ اور 2 وزیر مملکت کے وزیر ہیں۔کانگریس کے5 باغیوں کو بھی جگہ مل گئی ہے۔ دراصل اس چھوٹی سی پہاڑی ریاست کی بہادر جنتا نے جتنی قربانیاں اپنے ایک اعلی ریاست کے خواب کی تعبیر میں دی ہیں اس تناسب میں ان کی توقعات پوری کرنے کی آدھی ادھوری کوشش بھی اس ریاست کی لیڈر شپ نے نہیں کی ہے۔ امید یہی تھی کہ الگ ریاست بننے کے بعد اتراکھنڈ کی لیڈرشپ یہاں کے جغرافیائی پیچیدگیوں کے مطابق ترقی کا نیا ماڈل کھڑا کرے گی مگر ترقی کے محاذ پرکوشش تراہی کے علاقوں میں ٹیکس چھوٹ کا فائدہ حاصل کرنے میں لگے کچھ کارخانوں تک محدود رہی۔ یہاں کے لیڈر اپنی گدی کی پریشانی سے نہیں نکل پائے جیسا کہ چھوٹی ریاستوں کے ساتھ عام طور پر ہوتا ہے۔ ممبران اسمبلی کا چھوٹا سا گروپ بھی سرکار مضبوط کرنے کی صلاحیت پا کر سودے بازی میں لگ جاتا ہے۔ ذات اور علاقائیت کی بنیاد پر ترویندر سنگھ راوت کیبنٹ میں راوت عہد میں ٹھہر گئے اتراکھنڈ کو ترقی کے راستے پر لے جانے کے ساتھ ساتھ مودی کے اہم ٹارگیٹ 2019ء میں اقتدار کی واپسی طے کرنے کی دوہری ذمہ داری ہے۔ حلف برداری میں مودی سمیت بھاجپا کے تمام سرکردہ لیڈروں کی موجودگی کا یہی مطلب ہے۔ ہم شری ترویندر سنگھ راوت کو بدھائی دیتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ جنتا نے ان میں جو بھروسہ ظاہر کیا ہے وہ اس پر کھرا اتریں گے۔
(انل نریندر)

بھارت میں 2050ء تک ہوں گے سب سے زیادہ مسلمان

امریکہ میں واقع نیو ریسرچ سینٹر کی رپورٹ میں سال 2010ء سے 2050ء کے درمیان پوری دنیا میں مسلمانوں کی آبادی میں تقریباً 73 فیصدی اضافہ ہونے کی بات کہیں گئی ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو سال2050ء میں بھارت دنیا کا سب سے زیادہ آبادی والا دیش بن جائے گا۔ بھارت انڈونیشیا کو پچھاڑ دے گا ساتھ ہی دنیامیں تیسری بڑی آبادی ہندوؤں کی ہوگی۔ امریکی ایجنسی نیو ریسرچ سینٹر نے پچھلے دنوں جاری رپورٹ میں یہ دعوی کیا تھا۔ اس وقت دنیا میں ابھی سب سے زیادہ آبادی عیسائیوں کی ہے ، دوسرے نمبر پر مسلمان ، تیسرے نمبر پر ناستک، چوتھے نمبر پر ہندو ہیں۔ رپورٹ میں 2010ء سے 2050ء کے دوران الگ الگ مذاہب کو ماننے والوں کی آبادی میں جو اندازہ پیش کیا گیا ہے اس کے مطابق دنیا میں ہندوؤں اور عیسائیوں کے مقابلے میں مسلم آبادی بڑھ کر دوگنی کے قریب ہوگی۔ رپورٹ کے مطابق صدی کے آخر تک دنیا میں سب سے زیادہ مسلمان73 فیصد ہوں گے جبکہ عیسائی 35 اور ہندو 34 فیصد بڑھیں گے۔ یعنی 2050 ء تک مسلمانوں کی آبادی کا قریب 30 فیصد (2.8 ارب) اور عیسائی آبادی 31 فیصدی (2.9 ارب) ہوگی۔ 2010ء میں دنیا میں 1.6 ارب (قریب 23 فیصدی) مسلمان جبکہ 2.17 ارب عیسائی تھے لیکن اگر سال 2050ء کے بعد کی موجودہ بڑھت اسی حساب سے رہی تو مسلمانوں کی آبادی 2070 ء تک دنیا میں سب سے زیادہ ہوجائے گی۔ ابھی دنیا میں سب سے زیادہ آبادی عیسائیوں کی مانی جاتی ہے لیکن اگر یہ آبادی کی رفتار بڑھتی رہی تو جلد ہی وہ دوسرے نمبر پر پہنچ جائیں گے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے بھارت میں 2050ء تک مسلمانوں کی آبادی 30 کروڑ تک پہنچ جائے گی لیکن وہ اقلیت بنے رہیں گے۔ اس میعاد میں امریکہ میں بھی مسلمانوں کی آبادی بڑھے گی۔ مسلمانوں کی آبادی اضافی شرح باقی مذاہب سے زیادہ ہے۔ سب سے زیادہ پیدائش کی وجہ سے مسلم آبادی تیزی سے بڑھ سکتی ہے۔ عالمی سطح پر ایک مسلم خاتون کے اوسطاً 3 بچے ہوتے ہیں جبکہ باقی مذاہب میں یہ اوسط 2 یا 3 کا ہے۔مسلم آبادی میں سب سے زیادہ نوجوان آبادی ہے۔ 2010ء میں نوجوانوں کی اوسط عمر 23 سال تھی۔ غیر مسلم لڑکوں کی اوسطاً عمر 30 سال تھی۔ نوجوان آبادی کا مطلب ہے کہ مسلمانوں کی بڑھی آبادی یا تو بچے پیدا کررہی ہے یا مستقبل میں کرے گی لیکن بودھ اکلوتا مذہب ہے جس کی آبادی گھٹنے کی بات کہی گئی ہے۔ بودھ آبادی 2050ء تک -0.3 فیصدی گھٹنے کا اندازہ ہے۔ چین ، جاپان اور تھائی لینڈ جیسے ملکوں میں آبادی بودھ دھرم ماننے والوں کی ہے لیکن یہ آبادی لگاتار گھٹ رہی ہے۔
(انل نریندر)

21 مارچ 2017

جیتے تو جنتا کا مینڈیٹ۔ہارے تو ای وی ایم قصوروار

جیتے تو جنتا کا مینڈیٹ۔ہارے تو ای وی ایم سے چھیڑ چھاڑ کے الزام۔ اس طرح کے الزام عام طور پر چناؤ میں بری طرح سے ناکارہ ثابت ہوئے ہیں۔ نیتا و سیاسی پارٹیاں ایسے الزام لگاتے رہے ہیں۔ تازہ معاملہ حال ہی میں ہوئے پانچ ریاستوں کے اسمبلی چناؤ کا ہے۔ بسپا چیف مایاوتی نے سب سے پہلے اپنی ہار کے پیچھے ای وی ایم میں چھیڑ چھاڑ کو وجہ بتایا تو اکھلیش یادو نے کہا انہوں نے جوکا ہے اس کی جانچ ہونی چاہئے۔ کانگریس نے بھی اس کا نوٹس لیا تو اروند کیجریوال نے بھی الزام لگادیا کہ ای وی ایم کے ذریعے سے ان کے ووٹ اکالی دل اور کانگریس کو ٹرانسفر کردئے گئے حالانکہ اگر مشین کی کرپاسے ہی جیت اور ہار ہوتی تو بھاجپا کو کہیں بھی چناؤ ہارنا نہیں تھا۔ چناؤ کمیشن بار بار صفائی دے رہا ہے کہ اس طرح کے الزام بے بنیاد ہیں اور ای وی ایم کے ذریعے پولنگ پوری طرح سے محفوظ ہے۔ دکھ کی بات تو یہ ہے کہ ای وی ایم سے چناؤ کرانے میں24 سال لگے ہیں، ہیکنگ کا آج تک کوئی ثبوت نہیں دے پایا پھر بھی یہ لوگ ایسے بیہودہ اور بے بنیاد الزامات لگانے سے باز نہیں آتے۔ انہیں اس بات کی بھی کوئی فکر نہیں کہ آپ کے الزاموں سے بھارت کا جمہوری عمل کمزور ہوتا ہے۔ چناؤ سسٹم میں جنتا کا اعتماد اور یقین بالاتر ہے۔ ای وی ایم کے نام پر اسے داغدار کرنے کی اجازت کسی کو نہیں دی جانی چاہئے۔ ای وی ایم کے بارے میں کچھ بنیادی حقائق میں قارئین کے سامنے پیش کرنا چاہتا ہوں۔ ای وی ایم میں انٹر نیٹ کا کوئی کنکشن نہیں ہوتا اس لئے اسے آن لائن ہوکر ہیک نہیں کیا جاسکتا۔ کس بوتھ پر کونسی ای وی ایم جائے گی اس کے لئے ریڈ مائی زون کی کارروائی ہوتی ہے اور سبھی ای وی ایم کو پہلے سے لوک سبھا حلقے کے مطابق پھر اسمبلی کے حلقے کے مطابق اور سب سے آخرمیں بوتھ وار مقرر کیا جاتا ہے اور پولنگ پارٹی کو ایک دن پہلے ہی ان مشینوں کو بھیجنے کے وقت کا پتہ چلتا ہے اور اس کے پاس کس سیریز کی ای وی ایم آئی ہے ایسے میں آخری وقت تک پولنگ پارٹی کو پتہ نہیں رہتا کہ ان کے ہاتھ میں کونسی ای وی ایم آنے والی ہے۔ بنیادی طور پر ای وی ایم میں دو مشینیں ہوتی ہیں، بیلٹ یونٹ اور کنٹرول یونٹ۔ حال ہی میں اس میں ایک تیسری یونٹ بھی وی وی پی اے ٹی کو بھی جوڑا گیا ہے جو 7سیکنڈ کے لئے ووٹر کو ایک پرچہ دکھاتی ہے جس میں لکھا ہوتا ہے کہ ووٹر نے اپنا ووٹ کس پارٹی کو دیا ہے۔ ایسے میں پولنگ بوتھ پر ہی معلومات ہوسکتی ہے کہ اس کا ووٹ صحیح پڑا ہے یا نہیں۔ ووٹنگ سے پہلے سبھی ای وی ایم کی خفیہ طور پر جانچ کی جاتی ہے اور سبھی طرح سے صحیح پائے جانے کے بعد ہی ای وی ایم کو ووٹنگ کیلئے استعمال میں لایا جاتا ہے۔ سب سے بڑی بات ووٹنگ کے دن صبح پولنگ شروع ہونے سے پہلے پولنگ مرکز کی پولنگ پارٹی کے ذریعے سبھی امیدواروں کو پولنگ مرکز انچارج یا پولنگ ایجنٹ کے سامنے پولنگ شرو ع کرانے سے پہلے بناوٹی پولنگ کی جاتی ہے اور سبھی پولنگ ایجنٹ سے مشین میں ووٹ ڈالنے کو کہا جاتا ہے تاکہ یہ جانچا جا سکے کہ سبھی امیدواروں کے حق میں ووٹ پڑ رہا ہے یا نہیں۔ ایسے میں اگر کسی مشین میں ٹیمپنگ یا تکنیکی گڑبڑی ہوگی تو پولنگ شروع ہونے سے پہلے ہی پکڑ لی جائے گی۔ ’موک‘ پولنگ کے بعد سبھی امیدواروں کے پولنگ ایجنٹ پولنگ مرکز کی پولنگ پارٹی کے انچارج کو صحیح موک پول کا سرٹیفکیٹ دیتے ہیں۔ اس سرٹیفکیٹ کے ملنے کے بعد ہی متعلقہ پولنگ سینٹرمیں ووٹنگ شروچ کی جاتی ہے۔ ایسے میں جو امیدوار ای وی ایم میں ٹیمپرنگ کی بات کررہا ہے وہ اپنے پولنگ ایجنٹ سے اس بارے میں واقف ہوسکتے ہیں۔ پولنگ شروع ہونے کے بعد پولنگ مرکز میں مشین کی بیٹری ڈاؤن یا کوئی دیگر تکنیکی خرابی ہو لیکن ووٹر کے ذریعے مطلع کیا جاتا ہے ہر پولنگ مرکز میں ایک رجسٹر بنایا جاتا ہے اس رجسٹر میں پولنگ کرنے والے ووٹروں کی تفصیلات رہتی ہیں اور رجسٹر میں جتنے ووٹر کی تفصیل ہوتی ہے اتنے ہی ووٹروں کی تعداد ای وی ایم میں بھی ہوتی ہے ۔گنتی والے دن ان کا آپس میں ملان پولنگ انچارج کی رپورٹ کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ سپریم کورٹ میں ای وی ایم ٹمپرنگ سے متعلق جتنے بھی معاملے آج تک گئے ہیں ان میں سے کسی بھی معاملے میں ای وی ایم میں ٹمپرنگ ثابت نہیں ہوپائی۔ خود چناؤ کمیشن عام لوگوں کو بلاتا ہے کہ وہ لوگ چناؤ کمیشن میں جاکر ای وی ایم کی تکنیک کو غلط ثابت کرنے کے لئے اپنے دعوے پیش کریں لیکن پچھلے24 سال سے جب سے ای وی ایم ووٹنگ شروع ہوئی ہے آج تک کوئی بھی دعوی ثابت نہیں ہوا۔ جو لوگ اپنی ہار کے لئے ای وی ایم کو قصور وار ٹھہرارہے ہیں وہ بغیرثبوت ایسا صرف اس لئے کررہے ہیں تاکہ اپنے حمایتیوں کو گمراہ کر سکیں۔ شاید وہ محاسبہ کرنے سے بھی بچنا چاہ رہے ہوں اور اس سچائی کو تسلیم کرنے سے بھی اپنے ہار کے لئے وہ خود ذمہ دار ہیں ان نیتاؤں کو اپنی چناوی حکمت عملی کا تجزیہ کرنا چاہئے اور جمہوریت کی بنیاد پر بیہودہ الزامات سے بچنا چاہئے۔
(انل نریندر)

جسٹس کرنن نے عدلیہ کی ساکھ داؤں پر لگائی

ہماری جوڈیشیری کی کامیابی یقینی طور سے بہت وسیع ہیں اور ہماری عدلیہ نے کئی طرح سے تاریخ رقم کی ہے لیکن گزشتہ ہفتے جو واقعہ ہوا ہے وہ ضرور پریشان کرنے والا ہے۔ اگر اسے مضحکہ خیز کہا جائے تو شاید غلط نہ ہوگا۔ میں بات کررہا ہوں کولکتہ ہائی کورٹ کے جسٹس سی۔ ایس۔ کرنن کی۔ ان کے خلاف توہین عدالت کا معاملہ ایسے مقام پر پہنچ گیا ہے ، جس میں ہمیں سمجھ نہیں آرہا ہے سپریم کورٹ آگے کیا کرے گا؟ مغربی بنگال کے ڈی جی پی سجیت دھر پرکائست جمعہ کو جب جسٹس کرنن کے خلاف ان کے گھر ضمانتی وارنٹ لے کر پہنچے تو جسٹس کرنن نے یہ وارنٹ لینے سے صاف انکار کردیا اور نہ ہی جسٹس کرنن نے کسی کاغذ پر دستخط کئے نہ ہی 31 مارچ کو سپریم کورٹ میں پیش ہوں گے۔ الٹے جسٹس کرنن نے سپریم کورٹ کی آئینی بنچ کو خط لکھ کرضمانتی وارنٹ خارج کرنے کی اطلاع دی۔ خط کو حکم بتاتے ہوئے انہوں نے لکھا جائز اسباب کی بنیاد پر وارنٹ (ضمانتی) خارج کرتا ہوں۔ ایک دلت جج کو پریشان کرنے کے لئے اسے نیچا دکھانے والے کام کئے جارہے ہیں۔ میری اپیل ہے کہ یہ ٹارچر بند کر ہماری عدالتوں کی ساکھ اور عزت بحال کریں۔ میڈیا سے بات چیت میں انہوں نے کہا کہ میرے خلاف سپریم کورٹ نے وارنٹ جاری کر خود کو مذاق کا موضوع بنا لیا ہے۔ اب اس معاملے میں سپریم کورٹ کے سامنے بھی دھرم سنکٹ کھڑا کردیا ہے۔ سپریم کورٹ کسی بھی ہائی کورٹ کے جج کو ہٹا نہیں سکتا۔ کسی بھی جج کو ہٹانے کا ایک واحد طریقہ یہی ہے کہ اس کے خلاف پارلیمنٹ سے امپیچمنٹ پاس کیا جائے۔ ابھی تک ایک ہی موقعہ پر ایسا ہوا ہے اس میں بھی معاملہ پارلیمٹ کے ایک ایوان سے دوسرے ایوان تک پہنچتا ہے اس کے پہلے ہی جج موصوف نے خود ہی استعفیٰ دے دیا تھا۔ معامہ اتنے آگے جائے یہ کبھی کوئی نہیں چاہتا لیکن یہ معاملہ جس سطح پر پہنچ گیا ہے اس سے بہتر تو شاید امپیچمنٹ ہی رہتا۔ کچھ بھی ہو اس معاملے کو جلد ہی کسی انجام پر پہنچا کر ختم کرنا ہوگا ورنہ خود عدلیہ کی ساکھ بھی داؤں پر لگے گی۔ اس وجہ سے اس بار کوئی باہری عناصر نہیں ہے بلکہ اس کی اندرونی مکینیزم ہی ہوگی۔
(انل نریندر)

19 مارچ 2017

بھاجپا کے سبھی کونسلروں کے ٹکٹ کاٹنے پر ناراضگی

اترپردیش۔ اتراکھنڈ میں زبردست کامیابی کے بعد بھاجپا کی اب پوری توجہ دہلی میونسپل کارپوریشن کے انتخابات پر ہے۔ ان میں بھاجپا اقتدار میں ہے۔ بیشک ایم سی ڈی چناؤ میں اشو مختلف ہوتے ہیں اور ان کی اہمیت اسمبلی انتخابات جتنی نہیں ہوتی لیکن دہلی اسمبلی چناؤ میں نہ بھولنے والی ہار کے بعد ان کارپوریشن چناؤ کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔ لگتا ہے کہ بھاجپا ہائی کمان اس بار میونسپل چناؤ جیتنے کیلئے پوری طاقت لگا دے گا۔ راجدھانی میں تین میونسپل کارپوریشنوں میں بھاجپا کے 153 کونسلر ہیں۔ ان میں سے کئی کونسلر ایسے بھی ہیں، جو کئی بار کونسلری کا چناؤ لڑے اور کامیاب بھی ہوئے۔ خبر ہے کہ بھاجپا اعلی کمان سبھی کونسلروں کو بدلنا چاہتی ہے۔ بھاجپا اعلی کمان کے فیصلے پر اگر عمل ہوا تو سبھی 153 کونسلروں کا ٹکٹ کٹ جائے گا۔ اس سے کونسلر سکتے میں آگئے ہیں۔ دہلی میونسپل کارپوریشن میں کامیابی کا پرچم لہرانے کے مقصد سے بھاجپا نے پارشد بندی کا داؤں چلا۔ بھاجپا اسے وزیر اعظم نریندر مودی کا’نیو انڈیا‘کا نظریہ بتا کر ناراض موجودہ کونسلروں کے زخموں پر مرہم لگانے کی حتی الامکان کوشش میں لگا ہوا ہے۔ لیکن حقیقت یہی ہے کہ ناراض کونسلروں نے نیا ٹھکانا تلاش کرنا شروع کردیا ہے۔ کئی موجودہ کونسلروں نے تو کانگریس ، عام آدمی پارٹی اور سوراج انڈیا میں اپنی گوٹیاں بٹھانی شروع کردی ہیں۔ کانگریس کے کئی لیڈروں نے بھاجپا کے کئی کونسلروں سے رابطہ قائم کرنا بھی شروع کردیا ہے۔ کئی کونسلروں کا کہنا ہے پارٹی اعلی کمان نے انہیں ٹکٹ نہ دینے کا فیصلہ کرکے ایک طرح سے ان کے دامن پر کرپٹ ہونے کا دھبہ لگا دیا ہے۔ بھاجپا کے دو کمیٹیوں کے چیئرمین نے کانگریس کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے۔ اتنا ہی نہیں بسپا کے ایک کونسلر نے بھی کانگریس اعلی کمان سے گزارش کی ہے۔ حالانکہ کانگریس ان کونسلروں پر داؤں لگانے سے ہچکچا رہی ہے۔ بھاجپا اعلی کمان کا یہ فیصلہ صحیح نہیں لگتا۔ سبھی کونسلر کرپٹ نہیں ہیں۔ بتادیں کہ میونسپل چناؤ کو لیکر کرائے گئے انٹرنل سروے میں 153 میں سے 25 کونسلروں کو ان کے کام اور پہچان کی بنیاد پر اول مانا گیا ہے اور چناؤ میں زبردست اکثریت سے جیت حاصل کرتے بتائے گئے ہیں۔ پارٹی کے ذرائع کے مطابق اقتدار میں آنے کے بعد میونسپل سسٹم کو چلانے میں تجربے کی کمی کا بحران کھڑا ہوسکتا ہے ایسے میں بہتر یہی ہوگا کہ اچھی ساکھ اور تجربہ کار ان 25 میونسپل کونسلروں کو ٹکٹ دے دیا جائے۔ اس سے پارٹی میں ٹکٹ کٹنے کی مخالفت اور پرانے لیڈروں کی ناراضگی کافی حد تک دور ہوسکتی ہے۔ عام طور پر یہ خیال ہے کہ بھاجپا کے 153 میونسپل کونسلروں میں سے زیادہ تر ایم سی ڈی کے کام کاج میں پوری طرح سے ناکام ہوئے ہیں۔ بھاجپا نے یہ بھی اعتراف کیا ہے کہ اس کے کونسلروں نے کارپوریشن کے ذریعے سے دہلی کی جنتا کو لوٹا ہے۔ اس لئے بھاجپا اب انہیں دوبارہ موقعہ نہیں دے رہی ہے۔ عام آدمی کے ترجمان دلیپ پانڈے نے کہا کہ ان کونسلروں کے خلاف جنتا میں زبردست ناراضگی ہے۔ بھاجپا اور کانگریس نے پچھلے 20 برسوں سے میونسپل کارپوریشن کو کرپشن کا اڈہ اور دہلی کو کچرے کا ڈبہ بنا دیا ہے۔ بھاجپا اعلی کمان کے لئے اس بار امیدواروں کے انتخاب کا عمل آسان نہیں ہوگا۔ بھاجپا کے قومی صدر امت شاہ 19 مارچ کو دہلی کے رام لیلا میدان میں ایک ریلی کرنے والے تھے جس کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ ملتوی کردی گئی ہے۔ کونسلروں میں اتنا غصہ اور بے چینی ہے کہ گزشتہ جمعرات کو پردیش آفس میں منعقدہ کونسلروں کی ماہانہ میٹنگ میں 80 فیصدی کونسلر شامل نہیں ہوئے۔ موجودہ کونسلروں اور ان کے رشتے داروں کا ٹکٹ کاٹنے جانے کے فیصلے کے بعد میونسپل کونسلروں کی یہ پہلی ماہانہ میٹنگ تھی۔ امید کی جاتی ہے بھاجپا اعلی کمان اس بار یوپی کی غلطی نہیں دوہرائے گا۔ میونسپل کارپوریشن میں قابل اقلیتی امیدواروں کو بھی ٹکٹ دینا چاہئے۔ مسلمانوں نے جو بھروسہ بھاجپا پر جتایا ہے اسے آگے بڑھانا چاہئے۔
(انل نریندر)

نظام الدین درگاہ کے گدی نشیں پاک میں لاپتہ

دنیا کی مشہور درگاہ حضرت نظام الدین اولیا کے گدی نشیں سمیت دو ہندوستانی سجادوں کے غائب ہونے کی خبر سے ڈپلومیٹک اور مذہبی حلقوں میں ہلچل مچنا فطری ہی ہے۔ آصف نظامی اور ناظم نظامی نامی یہ دو سجادے نظام الدین درگاہ کے بہت اہم ترین نام ہیں اور وہ پاکستان میں لاہور کے داتادربار درگاہ کے بلاوے پر وہاں گئے تھے۔ لاہور سے کراچی کے لئے فلائٹ میں سوار ہوئے تھے۔ ان کے گھروالوں کے مطابق آصف کو کراچی جانے کی اجازت دے دی گئی لیکن ادھورے سفری کاغذات کی وجہ سے ناظم کو لاہور ہوائی اڈے پر ہی روک لیا گیا۔ ایک ذرائع کے مطابق اس کے بعد ناظم لاہور ایئر پورٹ سے لاپتہ ہوگئے جبکہ آصف کراچی ایئرپورٹ پہنچنے کے بعد سے لاپتہ ہیں۔غور طلب ہے کہ آصف اور ناظم لاہور میں اس درگاہ کی زیارت سے پہلے 8 مارچ کو کراچی میں اپنے رشتے داروں سے ملنے گئے تھے۔ نظام الدین درگاہ اور داتا دربار کے گدی نشینوں کو ایک دوسرے کے یہاں زیارت کے لئے آنے جانے کی روایت رہی ہے۔ دراصل حکومت دونوں سجادوں کی سکیورٹی کو لیکر فکر مند ہے۔ حضرت نظام الدین اولیا ؒ کی درگاہ کے یہ دونوں سجادے صوفی روایت کو ماننے والے ہیں۔ حکومت کو اندیشہ ہے کہ آئی ایس آئی ایس یا کسی دیگر کٹر پسند تنظیم نے پاکستان میں انہیں اغوا کرلیا ہو؟ غور طلب ہے کہ حال ہی میں پاکستان نے کٹر پسندوں نے ایک صوفی کی درگاہ پر حملہ کرکے 72 لوگوں کو مار ڈالا تھا۔ پاکستان حکومت بھی اس معاملے کو لیکر کافی پریشان ہے۔ ہم حضرت نظام الدین اولیاؒ کی درگاہ کے ان دو عمر دراز پیر زادوں آصف علی نظامی اور ناظم نظامی کی بخیریت واپسی کے لئے دعا کرتے ہیں اور ان کے کنبے والوں کے مطابق نظامی کو کچھ لوگوں نے لاہور ایئر پورٹ پر جہاز سے اتار لیا جبکہ آصف علی نظامی کراچی ایئر پورٹ پہنچنے کے بعد وہاں سے لاپتہ ہوگئے۔ دونوں ٹورسٹ ویزا پر پاکستان گئے تھے۔ خیال رہے کہ پاکستان میں دہشت گرد مسلسل اسلام کی صوفی ازم کو ماننے والوں کے خلاف حملہ کرتے رہے ہیں۔ داتا دربار پر بھی دہشت گرد حملہ پہلے ہی کرچکے ہیں۔ پچھلے سال داتادربار میں ہمیشہ قوالی گانے والے امجد صابری کا بھی قتل کردیا گیا تھا جبکہ ابھی حال ہی میں صوبہ سندھ میں واقعہ بیحد پرانی و سبھی مذاہب کے لوگوں میں احترام کے طور پر مقبول لال شاہ باز مست قلند درگاہ پر فدائی حملے میں 100 سے زیادہ بے قصور لوگوں کا قتل ہوا تھا۔ ہم امیدکرتے ہیں ہندوستان سے گئے پیر زادوں کی بخیریت واپسی کیلئے حکومت ہند اپنی طرف سے کوشش میں کوئی کسر باقی نہ رکھے گی۔
(انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...