Translater
04 اپریل 2026
ٹرمپ نکلنے کی کوشش میں پھنس گئے ہیں!
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہندوستانی وقت کے مطابق جمعرات کی صبح 6.30بجے وائٹ ہاؤس میں ایران جنگ پر ایڈریس کیا ۔ٹرمپ نے پھر دھمکی دی ہے کہ امریکہ آنے والے ہفتوں پر ایران پر اتنی بمباری کرے گا اسے دورہ قدیم میں پہنچا دے گا ۔20 منٹ کی اس پرائم ٹائم ایڈریس میں زیادہ تر وہی باتیں دہرائیں جو وہ کئی بار پہلے بھی کہہ چکے تھے ۔اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ہم اگلے دو سے تین ہفتوں میں ان (ایران پر)بہت بڑا حملہ کرنے جارہے ہیں ۔ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکہ ،اسرائیل فوجی آپریشن خاص حکمت عملی مقاصد کو لے کر تقریباً پورا ہونے کے قریب ہے۔ انہوں نے اندازہ لگایا کہ یہ جنگ ابھی 2 سے 3 ہفتے مزید چل سکتی ہے اگر آپ پچھلے ایک ہفتے میں ٹرمپ کے ٹوتھ سوشل پر ڈالی گئی پوسٹ کو جائزہ لیں تو وہ اس اپنے دیش کے نام ان کی تقریر سے کافی کچھ ملتی جلتی پائیں گے ۔ صدر ٹرمپ نے اس جنگ کے فائدے امریکی عوام کے سامنے رکھنے کی کوشش بھی کی ۔اس کی وجہ بھی ہے ، چونکہ امریکہ کے کئی سروے بتاتے ہیں کہ 28 فروری کو شروع کی گئی اس فوجی کاروائی کو لے کر زیادہ تر ووٹروں نے عدم اتفاق جتایا ہے ۔ٹرمپ نے امریکی عوام سے اس جنگ کو اپنے مستقبل میں ایک سرمایہ کی شکل میں دیکھنے کی اپیل کی اور کہا یہ پچھلی ایک صدی یا اس سے زیادہ وقت سے ہوئی فوجی لڑائی کے موازنے میں کچھ بھی نہیں ہے جن میں امریکہ کے کہیں زیادہ لمبے عرصے تک شامل رہا ہے لیکن ٹرمپ کی تقریر سے امریکی عوام ناراض ہوئی ۔وہ جاننا چاہتی تھی کہ یہ جنگ کس سمت میں جارہی ہے ۔یا امریکہ کے لئے اس سے باہر نکلنے کے امکانی راستے کیا ہوسکتے ہیں ۔اس میں کئی سوالوں کے جواب نہیں مل پائے پہلا : اسرائیل ابھی بھی ایران پر حملے کررہا ہے ؟ ساتھ ہی اسرائیل کو ایران کے ڈرون اور میزائل حملوں کا سامنا بھی کرنا پڑرہا ہے ۔جس میں بدھوار کو تل ابیب کے پاس کچھ حملے بھی شامل ہیں ۔ایک اہم سوال یہ ہے کہ کیا اسرائیلی وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو کی سرکار ٹرمپ کے بتائے گئے کچھ حملوں کی وقت میعاد سے متفق ہیں ۔فی الحال اس بارے میں کوئی واضح معلومات نہیں ہے کم سے کم موجودہ حالات میں تو اس بارے میں کچھ نہیں کہا گیا ہے ۔پھر اس 15 نکاتی امن پلان کا کیا ہوا؟جسے وائٹ ہاؤس کچھ دن پہلے ایران سے تسلیم کرنے کے لئے کہہ رہا تھا ؟ اپنے خطاب میں ٹرمپ نے اس کا کوئی ذکر نہیں کیا ۔کیا اب امریکہ اپنی مانگوں سے پیچھے ہٹ رہا ہے ، جس میں مکمل یورینیم کے ذخیرے کو واپس لینے کی مانگ بھی شامل تھی ؟ اسرائیل نے ابھی ایران پر حملے نہیں روکے ہیں ۔اب دنیا کے سب سے تیل شپنگ راستون میں اسے ایک ہرمز اسٹریٹ اس لڑائی کا فوکس بن گیا ہے ۔ایران نے اس تیل راستہ کو بند کر رکھا ہے ۔حالانکہ صدر کا اس پر کوئی ٹھوس اور طے رخ سامنے نہیں آتا ۔کبھی وہ ایران سے ٹینکروں کو راستہ دینے کی مانگ کرتے ہیں اور اگلے پل ہی ساتھی ملکوں سے کہتے ہیں کہ وہ خود جاکر اسے سنبھالیں ۔بدھوار کو انہوں نے کہا کہ ہرمز پر جاؤ اور بس اسے اپنے کنٹرول میں لے لو ۔اس کی حفاظت کرو اور اپنے استعمال کے لئے اسے کھولو ۔ مشکل حصہ پورا ہو چکا ہے اس لئے یہ آسان ہونا چاہیے ۔انہوں نے برطانیہ اور فرانس جیسے اپنے ساتھیوں کو ہرمز جاکر خود تیل حاصل کرنے کی نصیحت دے ڈالی ہے ۔اس کے بعد انہوں نے بغیر زیادہ تصویر بتائے صرف اتنا کہا کہ جنگ ختم ہونے پر ہرمز فطری طور سے پھر سے کھل جائے گا ۔تیل کی قیمتوں کو لے کر فکرمندلوگوں کے لئے یہ بات شاید زیادہ بھروسہ دینے والی نہیں ہوگی ۔وائٹ ہاؤس میں دئیے گئے تازہ بیان میں ٹرمپ کا وہ تیور پوری طرح غائب تھا ، جب بریفنگ میں اشارے دئیے گئے تھے یہ ان کے خطاب کا ایک اہم حصہ ہوگا۔ ایک طرف بڑا سلجھا سوال میدان میں فوجیوں کی موجودگی کو لے کر ہے ۔خطہ میں لگاتار پہنچ رہے ہزاروں مرین اور پیرا ٹروپس وہان کیا کررہی ہیں یا کرنے والی ہیں ؟ٹرمپ کے بیان ہر اگلے دن بدل رہے ہیں یا یوں کہیں صبح کچھ کہتے ہیں اور شام کو کچھ کہتے ہیں ۔اس درمیان امریکہ میں گیس کی اوسط قیمت تقریباً 4 سال میں پہلی بار 4 ڈالر فی گیلن سے پار کر گئی ہے ۔اور اسے مفاد عامہ کی ریٹنگ تیزی سے گررہی ہے ۔
(انل نریندر)
02 اپریل 2026
دبئی کو چکانی پڑی سب سے بڑی قیمت !
یو اے ای یعنی متحدہ عرب امارات کو بنانے میں 40 سال لگے اور تباہ ہونے میں مشکل سے 10 دن لگے ۔دبئی جو دنیا کے سب سے جدید ترین شہروں میں سے ایک ماناجاتا تھا ،محفوظ ماناجاتا تھا جو دنیا نیا ہب بن گیا تھا اس کو ایران نے ایسا تباہ کیا کہ وہ اتنے پیچھے چلا گیا کہ اب اسے برسوں لگیں گے اسی حالت میں پہنچنے پر ۔امریکہ اسرائیل کے ساتھ جنگ کے درمیان ایران مسلسل خلیجی ممالک پر حملہ کررہا ہے ایک خاص بات سامنے آئی ہے کہ ایران سب سے زیادہ یو اے ای کو نشانہ بنا رہا ہے ۔جس دن سے (28 فروری )جنگ شروع ہوئی تب ایرا ن نے 1714 ڈرون 334 بیلسٹک میزائل داغ کر تباہی کی عبارت لکھ دی ہے ۔آخر ایران دبئی ،ابو ظہبی پر مسلسل حملے کیوں کررہا ہے ۔امریکہ،اسرائیل -ایران کی اس جنگ میں ایران نے ان حملوں میں دبئی کے عالیشان ہوٹل ریفائنری ،ایئر پورٹ اور اہم کمرشیل زون کو کافی متاثر کیا ہے ۔
آخر دبئی کو تباہ کرنے کے پیچھے ایران کی حکمت عملی کیا ہے ؟ کیا اس کی وجہ صرف اتنی ہے کہ امریکہ وہاں سے اپنے فوجی اڈے چلاتا ہے ؟ یا ان حملوں کے پیچھے ایران کے کچھ اور ارادے ہیں؟ تو اس کا جواب ہتھیاروں سے زیادہ اکونامکس اور انویسٹمنٹ کے آس پاس گھومتی ہے۔ دہشت ، وائٹ ہاؤس میں بیٹھے ہونے کی لگتی ہے ۔میگا (میک امریکہ گریٹ یگن) کے نعروں کے ساتھ ڈونلڈ ٹرمپ کی امریکی اقتدار میں دوسری مرتبہ واپسی ہوئی جب سے وہ اقتدار میں لوٹے ہیں ، ان کا پورا فوکس امریکہ کی معیشت کومضبوط کرنے اور بڑے پیمانہ پر غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے پر ہورہا ہے ۔وائٹ ہاؤس کے اعدادشمار کے مطابق 2025 میں امریکہ کو اگلے 10 برسوں میں سرمایہ کاری کے لئے 5.2 ٹریلین ڈالر کی سرمایہ کاری عہد میں ملی ہے تو اس 5.2ٹریلین ڈالر میں سے سب سے بڑا حصہ یو اے ای لگارہا ہے ۔اکیلے یو اے ای 1.4ٹریلین ڈالر یعنی کل سرمایہ کا 27 فیصد) صرف یو اے ای نے وعدہ کیا ہے ۔سیدھے الفاظ میں کہا جائے تو یو اے ای امریکہ کے لئے انکلیس ہیل بنا گیا ہے جس کا مطلب امریکہ کی کمزور کڑی بن گیا ہے۔ ایران اچھی طرح جانتا ہے کہ اگر دبئی پر میزائلیں گریں گی تو وہاں کی معیشت ڈگمگائے گی اور اگر دبئی کی معیشت ہلی تو امریکہ میں آنے والے 1.4ٹریلین کا وہ سرمایہ سیدھے طور پر خطرے میں پڑ جائے گا ۔جس پر ٹرمپ اپنی سیاسی روٹیاں سینک رہا ہے ۔ایران کا نشانہ صرف امریکہ میں جانے والاہے۔دبئی کا پیسہ نہیں ہے بلکہ گلوبل انویسٹمنٹ ہب کی شکل میں دبئی اور یو اے ای کی پہچان کو تباہ کرنا ہے۔دبئی جو خطہ کا زون تھا اقتصادی ،ڈیجیٹل اور میڈیا ہب رہا ہے ۔اس جنگ میں بری طرح متاثر ہوا ہے ۔اہم شیئر انڈیکس ایڈکز جنرل میں پچھلے مہینے میں 11.42 فیصد کی گراوٹ آئی ہے ۔ہوائی سیکٹربند ہونے لگے اور پروازیں منسوخ ہونے سے سیاحت اور ایویشن سیکٹر میں دبئی کو قریب کروڑوں ڈالر کا نقصان ہوا ہے ۔یو اے ای سرکار اور میڈیا نے دیش کو محفوظ جگہ والی ساکھ بنائے رکھنی کی کوشش کی تھی ۔
صدر محمد زائد نے لوگوں کو بھروسہ دلایا کہ سب کچھ کنٹرول میں ہے اور دیش ہر خطرے سے نمٹنے کے لئے تیار ہے ۔ساتھ ہی اٹارنی جنرل حمد شیخ الشمسی نے حملوں کی تصویریں اور ویڈیو شیئر کرنے پر سخت وارننگ دی ۔اس حکم کے تحت کئی غیر ملکی شہریوں کو گرفتار کیا گیا جن پر کم سے کم ایک سال کی سزا اور بھاری جرمانہ کی سہولت ہے ۔ایران دنیا کو یہ بڑا سندیش دے رہا ہے کہ جنگ کے میدان سے ہزاروں کلو میٹر دور بیٹھ کر بھی وہ امریکہ کی دکھتی معاشی نس کو کاٹ سکتا ہے ۔ہر ڈرون حملہ،میزائل اسٹرائک دبئی اور یو اے ای اور خلیجی ملکوں کی اس محفوظ اور مضبوط سسٹم پر ایک زبردست حملہ ہے جسے انہوں نے سالوں سے ریفارم اور شاندار ڈھانچہ بندی کے دم پر بنایا ہے ۔
(انل نریندر)
31 مارچ 2026
زمینی جنگ کی تیاری کررہا ہےامریکہ؟
مغربی ایشیا میں جنگ بندی کی کوششیں کمزور پڑتی جارہی ہیں امریکہ اور ایران کی جنگ بندی کی شرائط ایسی ہیں کہ ہمیں نہیں لگتا کہ ان پر کوئی بھی جھکنے کو تیار ہوگا ۔تو کیاا ب امریکہ منھ چھپانے کے لئے کوئی امریکی جنتاکو اس حماقت جنگ کو جسٹیفائی کرنے کے لئے زمینی جنگ پر اتر سکتا ہے ؟امریکہ اور ایران دونوں نے ہی اپنے رخ مزید سخت کر لئے ہیں ۔امریکہ مغربی ایشیا میں مزید فوج بھیج کر فوجی تعیناتی بڑھاتا چلاجارہا ہے ۔قریب 2500 مرین کمانڈو کے ساتھ امریکی وار شپ یو ایس ایس ٹریپولی مغربی ایشیا کے قریب پہنچ چکا ہے ۔اسی طرح 82V ایئر بارن ڈویژن کے 2000 پیرائی پر بھیج رہے ہیں ۔دوسرا وارشپ یو ایس ایس باکسر بھی 2300 مرین کمانڈو کے ساتھ اپریل میں پہنچ رہا ہے اس طرح قریب 7000 امریکی فوجی علاقہ میں پہنچ جائیں گے۔ اس کے علاوہ 50000 فوجی پہلے سے ہی وسط مشرق میں موجود ہیں اس سے اشارے مل رہے ہیں کہ امریکی ڈپلومیسی کے ساتھ زمینی حملے سمیت سبھی متبادل کھلے رکھنا چاہتا ہے ۔واقف کاروں کا کہنا ہے کہ اگر حکمت عملی ناکام رہتی ہے تو ان امریکی فوجیوں کا استعمال خاص طور سے 4 مقاصد کی تکمیل ہو سکتی ہے ۔پہلا ایران کے اہم تیل ایکسپورٹ سنٹرکھرگ جزیرہ پر قبضہ یا اس کی ناکابندی اس جزیرہ پر حال میں امریکی فوج نے 90 سے زیادہ ٹارگیٹ پر حملے کئے دوسرا ہرمز جل ڈروم وسط کو محفوظ رکھنا اور اس راستے میں جہازوںکی آمد ورفت کو پھر سے شروع کرنا ۔نمبر 3 ایران کے ساحلی علاقوں پر کاروائی چوتھا : اس کے ایٹمی ٹھکانوں کو محفوظ کرنا اور ایران کے یورینیم زخیرہ پر قبضہ کر لینا ۔ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے زمینی جنگ کے منصوبوں کے جواب میں ایران نے بڑی تیاری کر لی ہے ۔ایران نے 10 لاکھ جوانوںکی فوج اکٹھی کی ہے ساتھ ہی ایران نے قسم کھائی ہے کہ اگر امریکی فوجی ایران کی سرزمین پر جنگ کے لئے اترتے ہیں تو ان کے لئے ہم یہ فیصلہ تاریخی جہنم تیار کر دیں گے۔ چلیے ایک نظر اس بات پر ڈالتے ہیں کہ اگر امریکہ ایران پر اپنے فوجی اتاردیتا ہے اور خلیجی جزیرہ اور ایران کے ساؤتھ تیل ذخیرہ پر قبضہ کرنے میں ناکام ہو جاتا ہے تو اس سے ایران کے تیل ایکسپورٹ کو تقریباً پوری طرح الگ تھلگ کیاجاسکتا ہے شاید اس سے ہرمز جل ڈروم وسط کا ایشو پوری طرح حل نہیں ہو پایا ۔امریکہ اس کے کچھ حصوں پر قبضہ کر سکتا ہے لیکن ایران اچانک جنگ کی حکمت عملی (جیسے گوریلا وار) کا استعمال کرکے اس کے کچھ حصوں پر کنٹرول بنائے رکھ سکتا ہے ۔دونوں فریقین میں بھاری فوجی مریں گے یا زخمی ہوتے ہیں اور ایران میں شہری زخمی یا مرتے ہیں تو اس کے خطرناک نتیجے ہوں گے ۔یہ امکان ہے کہ امریکی فوج محدود یا وسیع پیمانہ پر ایران میں پھنس سکتی ہے۔ مثال کے لئے ویتنام اور افغانستان ہمارے سامنے ہیں فوجی کاروائی آسان راستہ نہیں ہوسکتا ہے یہ کبھی بھی صاف ستھری مہم نہیں ہوسکتی ایسی مہم کبھی پوری طرح کامیاب نہیں ہوتی اوریہی اس جنگ کی سچائی ہے ۔
(انل نریندر)
سبسکرائب کریں در:
تبصرے (Atom)
ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...
-
سپریم کورٹ میں بھی عجیب و غریب مقدمات آرہے ہیں۔ تازہ مثال بحریہ کے کچھ افسروں پر بیویوں کی ادلہ بدلی سے متعلق معاملات ہیں۔ بحریہ کے ایک اف...
-
ہندوتو اور دھرم پریورتن، گھر واپسی سمیت تمام معاملوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس پریوار سے جڑے لیڈروں کے متنازعہ بیانات سے وزیر...
-
مدھیہ پردیش کے ہائی پروفائل ہنی ٹریپ معاملے سے نہ صرف ریاست کی بلکہ دہلی کے سیاسی حلقوں میں مچا دئے معاملے میں اہم سازشی گرفتار ہو چکی شیو...