Translater
14 دسمبر 2024
خودکشی کیس میں انصاف مانگتا پریوار!
بنگلورو میں مبینہ خودکشی کرنے والے اے آئی انجینئر اتل سبھاش کے خاندان نے ا ن کے لئے انصاف اور ٹارچر کرنے والوں کے خلاف سخت کاروائی کی مانگ کی ہے ۔اتل کا خاندان صدمہ میں ہے ۔والد پون مودی کچھ بھی بولنے کے بجائے انصاف مانگ رہے ہیں ۔ان کا کہنا ہے کہ بہو اور اس کے ماں باپ کی اذیت کے سبب ہم نے اپنا ہونہار بیٹا کھودیا ہے ہمیں صرف اور صرف انصاف چاہیے ۔انہوں نے بہو کی غلطیاں گناتے ہوئے اپنی سمدھن کو اس واردات کے لئے قصوروار ٹھہرایا ہے ۔کرناٹک کے بنگلورو میں ایک نامور کمپنی میں انفارمیشن ٹیکنالوجی انجینئر اتل سبھاش نے ویروار کی رات پھندہ لگا کر خودکشی کرلی تھی ۔انہوں نے قریب سوا گھنٹے کا ویڈیو بنایا اور 24 پیج کا سوسائٹ نوٹ کے ساتھ اسے شوشل میڈیا کے ایک گروپ میں شیئر کر دیا ۔ویڈیو میں انہوں نے خودکشی کرنے کے پیچھے اپنی بیوی نکتا اور سسرال والوں سے ملنے والی دماغی اذیت کو وجہ بتایا ہے ۔اتل کے والد پون مودی نے فون پر بتایا کہ ہمارے گھر میں سب کچھ ٹھیک ٹھاک چل رہا تھا لیکن کورونا کے دوران پورا ماحول بدل گیا ۔ 2019 میں ہم نے بیٹے کی شادی جون پور کے باشندے سنگھانیا پریوار کی بیٹی نکتا سے کی تھی اس کے بعد رخصتی کے بعد بہو صرف ایک دن ہمارے گھر سمستی پور میں رہی اس کے بعد بیٹے کے ساتھ بنگلورو چلی گئی ۔اس درمیان 2020 میں پوتا پیدا ہو گیا ۔تب تک سب ٹھیک تھا ۔2020 کووڈ آیا تو بیٹے اتل نے ساس کو بنگلورو بلا لیا اسی وقت سے ماحول بدلا اور معاملہ یہاں تک بڑھ گیا کہ ہم نے بیٹا ہی کھو دیا۔اتل سبھاش نے اپنے سوا گھنٹے کے ویڈیو میں مقدمہ کا بھی ذکر کیا تھا اور الزام لگایا تھا کہ کبھی کیس واپس لینا کبھی کیس دائر کرنا بیوی کے لئے عادت بن گئی تھی۔جونپور سے لے کر ہائی کورٹ تک ایک ہی طرح کے معاملے میں کیس فائل کرکے پریشنا کیا گیا ۔اتل کی طرف سے سنگھانیہ معاملہ میں موجودہ وقت چار معاملے عدالت میں التوا میں ہیں ۔دسمبر ،جنوری میں لگاتار تین تاریخیں لگیں ۔اتل سبھاش مودی نے اپنے خودکشی نامہ میں اپنے چار سالہ بیٹے کو لکھا ہے ۔دعویٰ کیاجارہا ہے کہ اس نے یہ خط موت کو گلے لگانے سے کچھ دیر پہلے ہی لکھا تھا ۔خط کے نیچے 9 دسمبرکی تاریخ درج کرتے ہوئے دستخط بھی کئے ۔اتل بیٹے ویوگ کو خط میں لکھا ہے کہ کسی پر بھروسہ مت کرنا تمہارے لئے میں خود ایک ہزار بار قربان ہوسکتا ہوں میں کچھ کہنا چاہتا ہوں مجھے امید ہے ایک دن اسے سمجھنے کے لئے کافی سمجھدار ہو جائے گا ۔بیٹا آج میں نے تمہیں پہلی بار دیکھا تو سوچا کہ میں تمہارے لئے کبھی بھی جان دے سکتاہوں لیکن دکھ کی بات ہے کہ میں اب تمہاری وجہ سے جان دے رہا ہوں ۔آگے لکھا ہے کہ میرے جانے کے بعد کوئی پیسہ نہیں رہے گا ایک دن تم اپنی ماں کا اصلی چہرہ ضرور جان جاو¿گے ۔اتل کے 24 صفحے کے خودکشی نامہ میں شادی شدہ زندگی میں طویل کشیدگی اور ان کے خلاف بنائے گئے معاملے اور اپنی بیوی اور سسرال والوں اور اترپردیش کے ایک جج کے ذریعے ٹارچر کئے جانے کی تفصیل ہے ۔سبھاش کے بھائی وکاس نے کہا کہ اس دیش میں ایک ایسی قانونی چارہ جوئی ہے جس کے لئے مردوں کو بھی انصاف ملے میں ان کے خلاف سخت کاروائی چاہتاہوں جو عدلیہ کے عہدے پر بیٹھے اور کرپشن کررہے ہیں ۔مردوں کو لگنے لگا ہے کہ اگر انہوں نے شادی کر لی تو وہ اے ٹی ایم بن کر رہ جائیں گے ۔
(انل نریندر)
الہ آباد ہائی کورٹ جج کا متنازعہ تبصرہ!
جسٹس شیکھر کمار یادو الہ آباد ہائی کورٹ کے جج ہیں ۔وہ اتوار کو وی ایچ پی کے ایک پروگرام میں شامل تھے ۔انہوں نے اس موقع پر جسٹس یادو نے ایک نہیں کئی اہم ترین متنازعہ اور افسوسناک کمنٹس کئے اور کہایونیفارمس سول کوڈ کے مسئلے پرہندوستان میں رہنے والے اکثریتی لوگوں کے مطابق ہی دیش چلے گا۔یہیں نہیں رکے آگے کہا ایک سے زیادہ بیویاں رکھنے ،تین طلاق اور ہلالہ کے لئے کوئی بہانہ نہیں ہے اور اب یہ دقیانوسی روایتیں نہیں چلیںگی۔دراصل 8 دسمبر کو وی ایچ پی عدلیہ سیل نے الہ آباد ہائی کورٹ کی لائبریری ہال میں ایک پروگرا م میں وقف بورڈ ایکٹ ، تبدیلی مذہب ازالہ اور یونیفارم سول کوڈ ایک ضروری مسئلے پر بولتے ہوئے جسٹس شیکھر یادو نے کہا کہنے میں بالکل پرہیز نہیں ہے کہ یہ ہندوستان ہے اور ہندوستان میں رہنے والے اکثریتی لوگوں کے مطابق ہی دیش چلے گا ۔یہی قانون ہے آپ یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ ہائی کورٹ جج ایسے بول رہے ہیں ۔قانون تو بھئیا اکثریت سے ہی چلتا ہے ۔جسٹس شیکھر آگے کہتے ہیں کٹ ملے دیش کے لئے خطرناک ہیں ۔جسٹس یادو کہتے ہیں جو کٹھ ملا ہے لفظ غلط ہے لیکن یہ کہنے میں گریز نہیں ہے کیوں کہ دیش کے لئے یہ خطرناک ہیں۔جنتا کو بہکانے والے لوگ ہیں اور ان سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے ۔جسٹس شیکھر کمار یادو نے اور بھی بہت کچھ کہا ۔اگر جسٹس یادو کے بیان پر تلخ رد عمل مل رہے ہیں تو وہ فطری ہی ہیں ۔جج صاحب جس طرح کی باتیں کہتے نظر آرہے ہیں وہ دیش کے آئیں کے خلاف تو ہیں ہی ساتھ ساتھ ع دلیہ پر بھی سوال اٹھتا ہے ۔ایک موجودہ جج کے لئے اپنے سیاسی ایجنڈے پر ایک ہندو تنظیم کے ذریعے منعقدہ پروگرام میں سرگرم طریقہ سے شامل ہونا نا صرف شرم کی بات ہے بلکہ جج کے ذریعے لیے گئے حلف کی بھی خلاف ورزی ہے ۔یہ صحیح میں پریشان کرنے والی بات ہے اورحیرت کی بھی ہے کہ آئین کے سرپرست کا رول نبھانے والی عدلیہ کا سینئر ممبر ایک پبلک پروگرام میں کہتا نظرا ٓتا ہے کہ دیش (آئین قانون کے حساب سے نہیں ) اکثریتی لوگوں کی مرضی کے مطابق ہی چلے گا اور اس کا کوئی تردید بھی نہیں آتی خیال رہے یہ جوڈیشیری کے سینئر ممبروں کے ذڑیعے جانے انجانے میں آئینی ہتک سے جڑا پہلا معاملہ نہیں ہے ۔کچھ دنوں پہلے کرناٹک ہائی کورٹ کے ایک جج کے ذریعے ایک مسلم اکثریتی علاقہ کا ذکر پاکستان کی شکل میں کئے جانے کا معاملہ سامنے آیا تھا جس میں سپریم کورٹ نے کاروائی بھی شروع کی تھی ۔حالانکہ بعد میں اس جج کے معافی مانگنے پر کاروائی روک دی گئی تھی ۔یہ تسلی کی بات ہے کہ جسٹس شیکھر یادو کے بیان پر سپریم کورٹ نے سنجیدگی سے نوٹس لیا ہے اور اس نے منگلوار کو ہائی کورٹ سے جسٹس یادو کے بیان پر مفصل رپورٹ دینے کو کہا ہے ۔سپریم کورٹ بار ایسو سی ایشن کے چیئرمین کپل سبل نے جسٹس یادو کے خلاف باقاعدہ مقدمہ چلانے کی مانگ کی ہے اور کہا کہ میں چاہوں گا کہ ہم ایک اکٹھے ہو کر جسٹس یادو کے خلاف مقدمہ لائیں۔سرکاری وکیل پرشانت بھوشن نے چیف جسٹس سنجیو کھنہ کو خط لکھ کر جسٹس یادو کے رویہ پر اور ان کی بیہودہ تبصروں کی جانچ کرائی جائے وہیں خبر یہ بھی ہے پارلیمنٹ کے اپوزیشن کے لیڈر اپوزیشن کے ایم پی بھی جسٹس کمار یادو کے خلاف پارلیمنٹ میں مقدمہ چلانے کی پرستاو¿ لانے کی تیاری کررہے ہیں اور اب تک 35 ایم پی نے اس پر دستخط کر دئے ہیں ۔ایک تجویز یہ بھی آئی ہے کہ الہ آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس شیکھر سے سارے کیس واپس لے لئے جائیں اور انہیں انصاف دیو کہنا بند کر دیں ۔
(انل نریندر)
12 دسمبر 2024
اپاسنا استھل ایکٹ کو چنوتی!
سپریم کورٹ 12 دسمبر کو پیلیسس آف ورشپ (عبادت مقام)ایکٹ 1991 کی آئینی جواز کو چنوتی دینے والی عرضیوں پر سماعت کرے گا اس پر پورے دیش کی نگاہیں ٹکی ہوئی ہے ۔پتہ چلا ہے کے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سنجیو کھنا اور جسٹس سنجے کمار اور جسٹس کے وی وشوا ناتھن کی اسپیشل بینچ اس معاملے کی سماعت کریں گی ۔بتا دیں عبادت گاہ ایکٹ 1991 کا فیصلہ 5 ججوں کی بینچ نے کیا تھا اور اب اس پر سماعت 3 ججوں کی بینچ کرے گی ۔بڑی عدالت کے سامنے وکیل اشونی اپادھیائے اور دیگر نے عرضیوں میں درخواست کی ہے کے عبادت گاہ (اسپیشل سہولت)ایکٹ 1991 کی دفعہ 2,3 اور 4 کو منسوخ کر دیا جائے ۔یہ سہولت کسی شخص یا مذہبی عبادت گاہ مقام کو پھر حاصل کرنے کے لئے ادلیہ کے ضابطہ کے اختیارات چینتے ہیں ایسا دعوی کیا ہے کے عرضی گزاروں نے اس معاملے کی سماعت بنارس میں گیان واپی مسجد متھرا میں شاہی عید گاہ مسجد اور سنبھل میں شاہی مسجد سمیت مختلف عدالتوں میں دائر مقدموں کے پس منظر میں کی جائے گی ۔عرضی گزوں نے دعوی کیا ہے کے ان مسجدوں کی تعمیر گدیمی مندروں کی توڑ کر کی گئی تھی اور ہندوﺅ کو وہاں پوجا ارچنا کرنے کی اجازت دی جائے ۔ بتا دیں کے عبادت گاہ مقام ایکٹ 1991 میں سہولت ہے کے 15 اگست 1947 کو جو دھامک استھل جس صورت میں تھا اور جس فرقہ کا تھا مستقبل میں اسی کا رہے گا ۔اس سہولت کو چنوتی دی گئی ہے ۔سپریم کورٹ نے 20 مئی 2022 کو گیان واپی مسجد معاملے کی سماعت کی تھی اس کے بعد اس وقت کے چیف جسٹس چندر چوڑ نے زبانی رائے زنی کی تھی کے اپاسنا استھل ایکٹ کے تحت مذہبی کریکٹر کا پتہ لگانے پر روک نہیں ہے وہیں کمیٹی کی جانب سے کہا گیا ہے کے اس ایکٹ کے تحت اس طرح کے تنازعہ کو نہیں لایا جا سکتا ہے ۔جمیعت علماءہند نے رام جنم بھومی بابری مسجد مالیکانہ حق کے معاملے میں 5 ججوں کی آئینی بینچ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کے عبادت گاہ ایکٹ 1991 کے سلسلہ میں کو دھیان میں رکھتے ہوئے دلیل دی گئی تھی کے اب قانون کو درکنار نہیں کیا جا سکتا ۔1991 کا عبادت گاہ ایکٹ کا مقصد 15 اگست 1947 کے بعد کے مذہبی مقامات کی پوزیشن بنائے رکھنا تھا اور کسی بھی عبادت گاہ مقام میں تبدیلی کو روکنا تھا ۔ساتھ ہی ان کے مذہبی کردار کی حفاظت کرنا تھا ۔15 اگست 1947 بھارت کے لئے اہم ترین دن ہے ۔جب بھارت ایک آزاد جمہوری او رمختار ملک بنا تھا جس میں کوئی سرکاری مذہب نہیں ہے اور سبھی مذاہب کو برابری سے دیکھا جا سکتا ہے ۔آر ایس ایس چیف موہن بھاگوت نے بھی حال میں کے اب ہمیں ہر مسجد کے نیچے مندر نہیں ڈھونڈنا چاہئے ۔اس سے دیش کا بھائی چارہ بگڑتا ہے اور یہ سلسلہ رکنا چاہئے نہیں تو یہ بہت نقصان دیگا ۔ساتھ ساتھ یہ بھی کہنا ضروری ہے کے وقف بورڈ کو ہر پراپرٹی کو وقف کی ملکیت کہنا بند کرنا ہوگا ۔اسی کا رد عمل ہے ہر مسجد کے نیچے مندر تلاشنے کا سلسلہ !
(انل نریندر)
انڈیا اتحاد ساتھیوں میں بے چینی!
پارلیمنٹ کے اندر اور باہر دونوں ہی جگہوں پر انڈیا اتحاد کی ساتھی پارٹیوں کے درمیان اختلافات دکھائی دے رہے ہیں ۔ہریانہ اور مہاراشٹر کے چناﺅ میں کانگریس کی کراری ہار کے بعد اب پارٹیاں اتحاد کے اندر اپنی آواز اٹھانے لگی ہے ساتھی ہی راہل گاندھی کے رول کو لیکر بھی سوال کھڑے کئے جا رہے ہیں ۔کوئی ان پر سیدھے سوال کھڑے کر رہا ہے تو کوئی انڈیا کا کنوینر کو لیکر اپنے مشورے دے رہا ہے۔مہامیں سپا کا شیو سینا ادھو ٹھاکرے گروپ سے ناراضگی جتاتے ہوئے ایم وی اے سے ناتہ توڑنے سے ریاست کی سیاست پر بھلے ہی اثر نہ ہو ۔لیکن اس کے گہرے معنی ہیں ۔اسی طرح ترنمول کانگریس صدر اور بنگال کے وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کا انڈیا اتحاد کو لیڈ کرنے کی خوائش ظاہر کرنا بھی بہت ک چھ کہتا ہے ان دونوں کی ناراضگی اتحاد کی لیڈر شپ اور اس طرح سے سیدھے کانگریس کو لیکر ہے ۔انڈیا اتحاد میں شامل پارٹیوں کے لیڈروں کے بیانوں پر غور کیا جائے تو ایسا لگتا ہے کے ان میں بھی کہیں نہ کہیں بے چینی ہے ۔تلخ حقیقت تو یہ ہے کانگریس چاہے لوک سبھا کا چناﺅ ہو ہا پھر اسمبلی چناﺅ ہو کانگریس کہیں بھی اچھی جیت نہیں حال کر پائی۔در اصل کانگریس تنظیم کمزور ہے بے شک سونیا گاندھی ،راہل گاندھی ،پرینکاکاندھی ،ملیکا ارجن کھڑگے کتنا ہی زور لگا لیں اور ہوا بنا لیں ۔لیکن تنظیم نام کی کوئی چیز کانگریس کے پاس نہیں ہے ۔خود کانگریس کے اندر راہل کو فیل کرنے میں لگے ہیں ۔جہاں کہیں بھی کانگریس اور بی جے پی کی ڈائریکٹ لڑائی ہوتی ہے کانگریس بری طرح سے ہار جاتی ہے ۔راہل بی شک جنتا سے جڑے اشو اٹھاتے ہیں لیکن ان کا پارٹی کے اندر کوئی دبدبہ نہیں ہے اور پارٹی لیڈر شپ میں بھاری رد بدل کی بھی قوت ارادی نہیں ہے ۔آج تک صحیح طرےقے سے ہریانہ اور مہاراشٹر میں بری ہار کی ذمہ داری طے نہیںہو سکی کسی پارٹی کے اندر بیٹھے جے چندوں کی چھٹی ہو سکی اس لئے اگر ان کا انڈیا اتحاد کی قیادت کرتی ہے تو اس میں برائی کیا ہے ؟ مقصد تو بی جے پی کو ہرانا ہے یہ کام کانگریس یا راہل گاندھی موجودہ حالات میں نہیں کر سکتے ہر ہار سے اپوزیشن کمزور ہوتی جا رہی ہے۔اور حکمراءفریق مضبوط ہوتا جا رہا ہے ۔راہل گاندھی کو اپنی حکمت عملی بھی بدلنی ہوگی انہیں اب گوتم اڈانی پر اتنا فوکس کرنا چاہئے یہ میری نیچی رائے ہے ۔کیوں کے اڈانی مسئلہ پر نہ تو ان کی پارٹی کے اندر انہیں حمایت مل رہی ہے اور نہ ہی اتحادی پارٹیوں سے سب اپنے مفادات کو دیکھتے ہیں۔گوتم اڈانی اب پوری طرح ایکس پوز ہو چکے ہیں ان کے کالے کارنامے پوری دنیا میں اجاگر ہو رہے ہیں اڈانی سے امریکہ ،کینیاں اور بنگلہ دیش وغیرہ دیش نمٹ لیں گے اور راہل کو دوسرے درکار اشو بے روزگاری مہنگائی کرپشن اور آئین کی حفاظت ،بھائی چارہ جیسے مسئلوں پر توجہ دینی چاہئے۔ بے شک آج ایسا لگتا ہو کے انڈیا اتحاد سے اتحاد میں درار پڑ گئی ہے ۔ایسا نہیں ہے آج بھی سب اپنے اپنے طریقہ سے حکمراءپارٹی سے نمٹنے میں لگے ہوئے ہیں ۔رہا سوال اتحاد کی لیڈر شپ کا تو سبھی پارٹیوں کو مل بیٹھ کر آپسی مشروہ کر لینا چاہئے۔
(انل نریندر)
10 دسمبر 2024
ٹرمپ کے آنے کا خوف !
امریکی صدر جو بائیڈن سنگین الزامات سے گھرے اپنے بیٹے ہنٹر بائیڈن کو مافی دینے کے بعد اب ایک اور قدم اٹھانے کی تیاری میں ہے ۔رپورٹ ہے کی نومنتخب صدر ڈونالٹ ٹرمپ کی بدلے کی کارروائی سے اپنے حکام اور ڈیمو کریٹک نیتاﺅ کو بچانے کے لئے بائیڈن اجتمائی مافی دینے پر غور کر رہے ہیں ۔واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق بائیڈن انتظامیہ نے ایسے لوگوں کی فہرست تیار کر لی ہے جو ٹرمپ کے بدلے کی کارروائی کا شکار بن سکتے ہیں ۔اب ان سبھی لوگوں کو جرائم یا پہلے مافی دے دی جائے گی ےاکے ٹرمپ ان پر کوئی کارروائی کریں تو ان کا بچاﺅ ہو سکے ۔بائیڈن انتظامیہ کو لگتا ہے کے نو منتخب صدر ٹرمپ نے بڑے قانون تبدیلی افسر کی شکل میں کاش پٹیل کا انتخاب کیا ہے اس سے صاف ہے کے ٹرمپ اپنے دشمنوں کے خلاف کارروائی کا وعدہ پورا کریں گے ۔بتا دیں کے اپنے چناﺅ مہم میں ٹرمپ نے اپنے آپ کو نشانہ بنانے والے حکام کو جیل بھیجنے کی دھمکی بھی دی تھی۔اگر بائیڈن ان پر مقدمہ لگانے سے پہلے مافی دیں دےتے ہیں تو امریکہ میں 47 سال بعد ایسی نظیر ہوگی ۔اس سے پہلے 1977 میں امریکی صدر جمنی کارٹر نے ویتنام جنگ کے ملزیمان کو مقدمہ سے پہلے ہی مافی دی تھی ۔اس کے علاوہ 1974 میں صدر گرالڈ فورٹ نے سابق صدر کو پہلے مافی دی تھی حلانکہ بعد ان پر الزام ثابت نہیں ہو پائے تھے حلانکہ بائیڈن کی مقدمہ قائم سے پہلے مافی کو لیکر ڈیموکریٹک پارٹی بھی متفق نہیں ہے ۔اس سے ان کی پارٹی کی امیج کو نقصان ہوگا ۔کپیٹل ہیل تشدد کی جانچ کرنے والے سینیٹر ایڈم فش اور لزینی کا نام سب سے اوپر ہے ۔صدر جو بائیڈن کی اتحادی اور نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف الرجی ایڈ انفیکشن ڈزیز محکمہ کے سابق انجاچ کا نام بھی مافی لسٹ میں شامل ہے جو کووڈ 19 وبا کے دوران جنوب نظریہ والی ریپبلکن پارٹی کی نقتہ چینی کا مرکز بن گئے تھے ۔وائٹ ہاﺅس کے وکیل جےف کو بھی کارروائی کا ڈر ہے ادھر امریکی فیڈرل فائیلنگ سے خلاصہ ہوا کے ٹیسلا کے سی ای او ایلن مسک نے ڈونلٹ ٹرمپ کے صدارتی چناﺅ کیمپئن پر 2 ہزار کروڑ سے زیادہ کی رقم دی ہے ۔بھلے ہی یہ رقم کی مسک کی اثاثہ کا ایک جھوٹا حصہ ہے لیکن پھر بھی یہ کسی سنگل عطیہ کنندہ کی جانب سے دی گئی بہت بڑی رقم ہے ۔جس میں سبھی کو چوکا دیا ہے ۔حالانکہ ٹرمپ کی جیت کا اعلان ہوتے ہی مسک کی اثاثہ میں کئی گنہ اضافہ ہو گیا اور چناﺅ میں لگائے گئے پیسے سے اس سے کئی گنا کما بھی لیا ہے اور آج ٹرمپ کا داہینہ ہاتھ بنے ہوئے ہیں۔(انل نریندر)
آسام میں بیف کھانے پر پابندی!
پچھلے ہفتے کی شروعات میں آسام میں ریسترو اور شادیوں میں گائے کا میٹ یعنی بیف کھانے پر پابندی لگا دی ہے۔مخالفین نے اس قدم کو اقلیتی مخالف قرار دیا ہے اور اس کے پیچھے آسام میں ہیمنت بسوا سرما کی بھاجپا سرکار کا مقصد فرقوں کے درمیان پولارائیزیشن کرنا بتایا ہے بھارت میں سب سے زیادہ آبادی کشمیر کے بعد مشرقی ریاستوں میں ہے ۔وزیراعلیٰ نے کہا اب کسی بھی ہوٹل میں بیف نہیں کھلایا جا سکیں گا یہ فیصلہ 2021 کے اس قانون کو نافض کرنے کے لئے کیا گیا ہے ۔اس سے ان کی سرکار آسام میں مویشیوں کا کاروبار کو رگولیٹ کرنے کے لئے لیکر آئی تھی ۔آسام کیٹل روکتھام ایکٹ 2021 ،مویشیوں کے ٹرانسپورٹ پر پابندی کو سخت کرتا ہے اور مویشیوں کی قربانی کے ساتھ ساتھ ہندو دھرم کے مندروں کے 5 کلومیٹر دائرے کے میں بیف خرید وفروخت پر بھی پابندی لگاتا ہے ۔ہم 3 سال پہلے اس قانون کولائے تھے اور اب اسے کافی کارگر کہا جاتا ہے ۔مسلم مفادات نمائندوں کی کرنے والی سیول سوسائٹی انجمنوں کے ساتھ ساتھ آسام میں اپوزیشن پارٹیوں نے بھی وزیراعلیٰ کے اعلان کی مخالفت کی ہے ۔وہ اسے سال 2026 میں ہونے والے اسمبلی چناﺅ کے خاطر ہٹھایا قدم مانتی ہے کانگریس نیتا گورو گوگئی نے کہا کے وزیراعلیٰ جھارکھنڈ میں بی جے پی کی توہین آمیز ہار کے بعد اپنی ناقامی چھپانے کی کوشش کر رہے ہےں ۔وہیں آسام کانگریس صدر پھوپین نے کہا کے اس فیصلہ کا مقصد ،مالی بہران ،منگائی اور بے روزگاری جیسے اہم اشو سے دھیان ہٹانا ہے ۔آسام کانگریس کے ترجمان امن ودود نے کہا کے بی جے پی نے حالیہ چناﺅ میں جیتنے کے لئے چھوٹو ہتھکنڈے اپنائے جس میں دھاندلی اور حکام کی کوتاہیاںشامل ہیں۔اب وزیراعلیٰ بیک فٹ پر آ گئے ہیں انہوںنے کبنیٹ کے اس فیصلہ کو آگے بڑھانے کی شکل میں بیف کا حوالہ دیا ہے ۔سیاسی بیان بازیوں کو الگ بھی رکھ دیں تو مسلمانوں کے قریب 34 فیصدی آبادی آسام میں بیف کھانے پر پوری طرح پابندی سے وابستہ کئی اہم پہلوں ہیں اسے سب سے زیادہ ریاست کا بنگالی مسلم فرقہ محسوس کرتا ہے ۔جو آسام میں مسلم آبادی کا ایک اہم حصہ ہے انہیں اکثر یہ باہری بنگلہ دیسی غیر قانونی پرواسی بتایا جاتا ہے ۔اس کے علاوہ ایسے قدموں میں ریاست میں چلنے والے مدرسوں کو ختم کرنا کثیر شادی پر پابندی اور لو جہاد سے نپٹنے کے لئے قانون لانے کی اسکیم شامل ہیں۔بنگالی مسلمانوں کی نمائندگی کرنے والے طلبہ یونین آل اسم مائینورٹیز اسٹوڈینٹ یونین کے صدر رضاالکریم نے پابندی کو اقلیتی فرقہ کو الگ تھلگ کرنے اور انہیں نشانہ بنانے کا ایک اور قدم بتایا ہے اگر بیف کھانے والوں کی ہم بات کریں تو ایسا نہیں کے بہت سے ہندو بھی بیف کھاتے ہیں گوا ریاست میں بیف کھلے عام کھایا جاتا ہے شمال مشرق کی کئی ریاستوں میں بیف کھانے کا چلن ہے ۔بیف نہ کھانا ایک مذہبی اشو تو ہو سکتا ہے ۔لیکن کس کو کیا کھاناپہننا ہے یہ تھوپہ نہیں جا سکتا۔سب سے دلچسپ یہ پہلو یہ ہے کے بھارت سے بیف زیادہ ایکسپورٹ ہوتا ہے ۔یہاں کی 4 سب سے بڑی کمپنیاں ہندوﺅ کی ہیں ۔پے شک نام انہوںنے گمراہ کرنے کے لئے اردو اور عربی ٹائپ کے رکھے ہوئے ہیں ۔کھانہ پینا یہ شخصی فیصلہ ہے جسے قانون سے لاگو کرنا ٹھیک نہیں ہے۔
(انل نریندر)
سبسکرائب کریں در:
تبصرے (Atom)
ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...
-
سپریم کورٹ میں بھی عجیب و غریب مقدمات آرہے ہیں۔ تازہ مثال بحریہ کے کچھ افسروں پر بیویوں کی ادلہ بدلی سے متعلق معاملات ہیں۔ بحریہ کے ایک اف...
-
ہندوتو اور دھرم پریورتن، گھر واپسی سمیت تمام معاملوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس پریوار سے جڑے لیڈروں کے متنازعہ بیانات سے وزیر...
-
مدھیہ پردیش کے ہائی پروفائل ہنی ٹریپ معاملے سے نہ صرف ریاست کی بلکہ دہلی کے سیاسی حلقوں میں مچا دئے معاملے میں اہم سازشی گرفتار ہو چکی شیو...