16 مارچ 2019

ان علاقائی پارٹیوں سے نمٹنا ہوگا مودی-راہل کو...لوک پروو2019 ...(4)

اترپردیش کی 80لوک سبھا سیٹیں دہلی دربار کے لئے جانے کا راستہ مانی جاتی ہیں تو یہاں اس لئے سیٹیں ہی مرکز میں حکومت بنانے کی بنیاد تیار کرتی ہیں ۔عام طور پر دہلی کی گدی نشیں طے کرنے والے اس صوبے میں خاص کر بھاجپا کی ساخ داﺅں پر ہوگی ۔سپا بسپا،اتحاد کے لئے بھی یہ چناﺅ کسی سخت امتحان سے کم نہیں ہوگا ۔سال2014میں بھاجپا نے71سیٹیں اور اس کی اتحادی پارٹی نے 02سیٹیں جیتی تھیں خود امت شاہ نے اس مرتبہ پھر 73سے زیادہ سیٹیں جیتنے کا دعوی کیا ہے ۔ہمیں نہیں لگتا کہ بھاجپا2014کو یوپی میں دہرا سکے گی ایسے میں بھاجپا کی ساخ سب سے زیادہ داﺅں پر لگی ہے کبھی کٹر حریف رہے سپا اور بسپا نے تمام گلے شکوئے بھلا کر اس چناﺅ میں بھاجپا کو ہرانے کے لئے ہاتھ ملایا ہے ۔26سال بعد یہاں سپا بسپا نے اتحاد کر کے چناﺅ کو دلچسپ بنا دیا ہے ۔تو بھاجپا اپنے نیٹورک کے سہارے پچھلی تاریخی پرفارمینس کو دہرانے کی کوشش میں ہے ۔پرینکا گاندھی واڈرا کی آمد کے بعد کانگریس نئے حوصلے کے ساتھ چناﺅ ی رتھ پر سوا ر ہے اس طرح لگتا ہے کہ اترپردیش میں چناﺅ میں تکونہ مقابلہ ہوگا۔ہاں اگر سپا بسپا اور کانگریس کا اتحاد ہو جاتا ہے تو مقابلہ بھاجپا بنام گٹھ بندھن ہو جائے گا اگر 2014کے چناﺅ پر نظر ڈالیں تو بھاجپا نے ج71سیٹیں جیتیں تھیں اور اس کا ووٹ فیصد 42.63تھا ۔ اور اس کا ووٹ فیصد 42.63تھا ۔اپنا دل نے 2سیٹیں جیت کر 0.02فیصد ووٹ پایا تھا ۔سپا کو 5سیٹیں ملیں اور اس کو 22.35فیصد ووٹ ملے تھے ۔بسپا کو کوئی سیٹ نہیں ملی تھی ۔تب بھی اسے 19.77فیصد ووٹ ملا تھا کانگریس دو سیٹیں جیت کر 07.55فیصد ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب رہی تھی ۔راشٹریہ لوک دل کو کوئی سیٹ نہیں ملی تھی اور اسے 00.86فیصد ووٹ ملے تھے اس طرح سپا بسپا ،راشٹریہ لوک دل اور کانگریس کا ووٹ مل کر 49.67فیصد بنتا ہے جو کہ بھاجپا کے 42.65فیصد سے زیادہ ہے دیکھنا یہ ہوگا کہ اپوزیشن اتحاد کتنا مضبوطی سے ووٹ ڈلواتا ہے ؟بہار کی کل 40سیٹیوں کے لئے جو سیاسی پس منظر بن کر تیار ہو رہا ہے اس سے صاف ہے یہاں بھاجپا ،جے ڈی یو ،اور ایل جے پی کی قیادت والے این ڈی اے اور آر جے ڈی کانگریس راشٹریہ لوک سمتا پارٹی اور ہم ،وی آئی پی کی قیادت والے مہا گٹھ بندھن کے درمیان مہا سنگرام ہوگا ۔این ڈی اے کے حق میں یہ بات بہت اہم ہے کہ اس کا چناﺅ ی گٹھ جوڑ نہ صرف وقت سے ہو گیا ہے جس وجہ سے ان پارٹیوں میں سیٹیوں کے بٹوارے کو لے کر کسی طرح کی کچ کچ نہیں ہوئی بھاجپا اور جے ڈی یو کو 17-17ایل جے پی کو 6سیٹیں دینے کا فارمولہ طے ہو ا ہے ۔توجہ طلب بات یہ ہے کہ بھاجپا کو پچھلی بار اپنی کئی جیتی ہوئی سیٹیں چھوڑنی پڑ رہی ہیں اس سب سے باوجود این ڈی اے کی راہ کو ایک دم آسان نہیں مانا جا سکتا سیٹیوں کا بٹوارہ بے شک ہو گیا ہو لیکن کئی علاقائی پارٹیاں ایسی ہیں جہاں گٹھ بندھن کی ایکتا سے زیادہ ذات بات کا فیکٹر حاوی ہوتا دکھائی دیتا ہے اگرچہ اپوزیشن مہاگٹھ بندھن کی بات کریں وہاں ابھی سب کچھ طے نہیں دکھائی دے رہا ہے ۔سیٹیوں کا فارمولہ کیا ہوگا این ڈی اے و دیگر اتحادی پارٹیوں خاص کر کانگریس کس حد تک مانے گی یہ ابھی طے نہیں ہو پایا ہے پردیش کی 40سیٹیوں میں بھاجپا کو 2014میں 22سیٹیں ملی تھیں اور ووٹ فیصد 29.86تھا ۔آر جے ڈی کو 4سیٹیں اور ووٹ 20.46فیصد جے ڈی یو کو 2سیٹیں ووٹ16.4فیصدکانگریس کو دو سیٹیں ووٹ8.56فیصد ایل جے پی کو چھ سیٹیں اور ووٹ6.50فیصد ووٹ ملے تھے ۔این سی پی کو تین فیصد ووٹ ملے تھے اور سیٹیں تین تھیں بہرحال اس لحاظ سے سیٹوں کے حساب سے تیسرے نمبر پر سب سے بڑے صوبے مغربی بنگال میں 2019کا چناﺅ ی مہا سنگرام بہت دلچسپ ہونے والا ہے 42سیٹوں والی اس ریاست میں ترنمول کانگریس نے اپنے سبھی 42امیدواروں کو میدان میں اتارا ہے وہیں بھاجپا بھی دوسری پارٹیوں کے بڑے نیتاﺅں کو توڑ کر اپنی پوزیشن مسلسل مضبوط کر رہی ہے 2014کے لوک سبھا چناﺅ میں ترنمول کانگریس نے 34سیٹیں جیتیں تھیں جبکہ کانگریس چار پر کمینسٹ پارٹی دو بھاجپا دو سیٹوں پر کامیاب رہی تھی ترنمول کانگریس بھاجپا کے درمیان ریاست کا مقابلہ چکور سطحی نہ ہو اس لئے کانگریس اور لیفٹ پارٹیوں میں اتحاد کی بات بھی چل رہی ہے حالانکہ ان دونوں پارٹیاں اس پر کھلے طور سے کوئی نہیں بول رہی ہیں ۔فی الحال سیدھی لڑائی مودی لہر میں بھی چونتیس سیٹیں جیتنے والی دی دی اور ائیراسٹرائیک اور راشٹر واد کی تیز آندھی لانے والی بھاجپا کے درمیان دکھائی دے رہی ہے اپوزیشن مہا گٹھ بندھن کا چہرہ بننے کی کوشش کر رہی ٹی ایم سی صدر اور وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی زیادہ سے زیادہ چالیس سیٹیں جیت کر وزیر اعظم بننے کے لئے مضبوط دعویے داری کی کوشش میں ہیں دوسری طرف بھاجپا شمالی ہندوستانی ریاستوں میں ہونے والے نقصان کی بھرپائی کے لئے بنگا ل پر نگاہ لگائے ہوئے ہے ۔لوک سبھا ،ودھان سبھا چناﺅ میں ملے ووٹ کے حساب سے ترنمول کانگریس اور بھاجپا کے درمیان فرق بہت زیادہ ہے اس کے باوجود بھاجپا کے حکمت عملی سازوں کا کہنا ہے کہ لیفٹ پارٹیاں اور کانگریس کو تیسرے چوتھے نمبر پر دھکیلنے کے بعد پارٹی ترپورہ کے طرز پر یہاں بھی چمتکار دکھا سکتی ہے پارٹی صدر امت شاہ نے بنگال میں کم سے کم 23سیٹیں جیتنے کا نشانہ طے کیا ہوا ہے ۔آنے والے لوک سبھا چناﺅ میں جہاں دو سو سے زیادہ سیٹوں پر علاقائی چھوٹی پارٹیاں بھاجپا اور کانگریس کو ٹکر دیں گی وہیں چناﺅ بعد بھی یہی سرکردہ لیڈر دیش کی اگلی سرکار کے قیام میں اہم ترین رول نبھا سکتے ہیں دیش کی کل لوک سبھا کی 543سیٹیوں میں سے اترپردیش ،مغربی بنگال ،کیرل،آندھرا پردیش ،تلنگانہ ،اڑیسہ،جموں وکشمیر ،اور دہلی پر مشتمل 218لوک سبھا سیٹوں پر بھاجپا اور کانگریس میں سیدھی لڑائی ان علاقائی چھوٹی پارٹیوں سے ہونی ہے ان ریاستوں میں یہ پارٹیاں نریندر مودی اور راہل گاندھی دونوں کے خلاف خم ٹھوکنے کو تیار ہیں اترپردیش میں مایا وتی اکھلیش ،آندھرا پردیش میں چندرا بابو نائیڈو ،وائی ایس آر کے جگن موہن ریڈی دہلی میں اروند کجریوال ممتا بنرجی مودی کو سیدھی چنوتی دینا چاہیں گے مغربی بنگال آندھرا پردیش اڑیشہ کیرل تلنگانہ ،پنجاب،دہلی ،اور جموں کشمیر میں سہہ رخی مقابلہ ہونے کی امید ہے ۔ان سب ریاستوں میں 232سیٹیں ہیں جو سرکار بنانے گرانے کے تجزئے بنا رہی ہیں ۔144سیٹوں والی آٹھ ریاستوں میں بھاجپا کانگریس ،مدھیہ پردیش راجستھان،آسام،چھتیس گڑھ سے بھاجپا کو کڑی چنوتی ملئے گی مودی سرکار کے تئیں غصے میں مودی کے متابادل کئی نیتا سامنے آئے ہیں اگر سیدھی لڑائی ہوتی ہے تو بھاجپا کی مشکلیں بڑھ سکتی ہیں اس لئے ان چھوٹی موٹی علاقائی پارٹیوں کے اپنی نجی توقعات کہیں اس لڑائی پر حاوی نہ ہو جائیں ؟

(انل نریندر)

15 مارچ 2019

مودی کے گڑھ میں پرینکا کی دھماکے دار انٹری :لوک پروو.. 3

2019لوک سبھا چنا و ¿مےں جو بڑے نکتے ہونگے ان مےں پرےنکا گاندھی واڈرا اےک بڑا فےکٹرہوگاعام چناو ¿ کے اعلان کے ساتھ وزےر اعظم نرےندر مودی اور بھاجپا صدرامت شاہ کے گڑھ مےں کانگرےس نے اپنا ترپ کا پتہ پھےنک دےا ہے ۔پرےنکا گاندھی نے گاندھی نگر مےں اےک بڑی رےلی کے ذرےعہ دھماکے دار انکے گڑھ مےں انٹری کی ہے ۔رائے برےلی اور امےٹھی سے باہر پہلی بار پرےنکا نے احمد آباد مےں تقرےر کی ےہ پہلی بار تھا کہ مودی کے گڑھ مےں پرےنکا سونےا اور راہل گاندھی موجود تھے ۔نےلے باڈر کی سفےد ساڑی مےں پرےنکا کے نئے انداز بےاں مےں کانگرےس ورکران کی دادی اندراگاندھی کی جھلک دےکھ رہے تھے ۔پرےنکا خود اعتمادی سے لبرےز نظر آئےں انہوں نے ساڑھے سات منٹ رےلی سے خطاب کےا انہوں نے ےہ بھی صاف کردےا کہ وہ صرف اترپردےش تک محدود نہےں رہےں گی ۔پلوامہ حملے کے بعد بنے ماحول پر تنقےد کرتے ہوئے انہوں نے کہا جاگروپتا سب سے بڑی دےش بھگتی ہے دےش مےں نفرت بڑھ رہی ہے ۔لےکن دےش کی فطرت ذرہ ذرہ سے سچائی تلاش رہی ہے وزےر اعظم مودی ناکامےوں کو چھپانے کےلئے راشٹرواد کی آڑ لے رہے ہےں ۔پرےنکا نے کہا کہ عام چناو ¿ کو اےک اور تحرےک آزاد ی کی شکل مےں لےنا ہوگا انہوں نے کہا کہ وہ فضول کے اشوز مےں پھنسانے کے بجائے اصل اشوکو اٹھائےں جن سے انہےں مشکلوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔انہوں نے لوگوں سے کہا کہ آپ کا سب سے بڑا ہتھےار ووٹ ہے ۔دےش جن حالات کا سامنا کررہا ہے انکے بارے مےں بےدار ہونا ہے آپ لوگ نظرےات اور ضمےر سے اپنے ووٹ کا استعمال کرےں ۔کانگرےس سےکرےٹری جنرل نے کہا کہ کھوکھلے وعدے پرکھنے کا وقت ہے ۔ پرےنکا گاندھی نے کہا کہ مودی اور بی جے پی بتائے کہ دوکروڑ نوکرےاں کہاں ہے؟آپ کے کھاتے مےں 15لاکھ کہاں ہے ؟مہےلا سرکشا کہاںہے ؟ا س بارے مےں سوچئے ےہ سوال پوچھئے انکا کہنا ہے کہ اصلی بھارت ہر جگہ نفرت پھےلانے والا نہےں ہے بھارت کا اصلی چہرہ سبھی کے تئےں محبت اور بھائی چارہ ہے نفرت نہےں ےہ اس دےش کی فطرت ہے جسے تباہ کےا جارہا ہے اس کا سبھی کو ملکر مقابلہ کرناہے ۔پرےنکا گاندھی کی انٹری کا 2019چناو ¿ مےں کتنا اثر پڑے گا ےہ تو وقت ہی بتائے گا اتنا ضرور ہے کہ پرےنکا کے آنے سے کانگرےس مےں نئی جان پڑ گئی ہے ۔پرےنکا نے مودی اور بی جے پی کا راشٹر واد کو حاوی کرنے کی کوشش کی بھی کاٹ ہوئی ہے ۔وہ بےروز گاری ،کسانوں ،مہلا سرکشا ،رافےل ،نوٹ بندی ،جی اےس ٹی ،اقلےتوں مےں عدم تحفظ سمےت سب اشو اٹھائےں گی جن سے دےش کی کروڑوں عوام متاثر ہے ۔سرجےکل اسٹرائےک وراشٹرواد کو اس چناو ¿ مےں حاوی ہونے سے کانگرےس اسے پےچھے دھکےلنے کی کوشش کرےں گی ۔اور جنتا کو متاثر کرنے والا اشوز کو آگے لائے گی ۔پرےنکا گاندھی کو بےشک حکمراں پارٹی ہوا مےں اڑا نے کی کوشش کرے لےکن تلخ سچائی ےہ ہے ان کی انٹری سے چناو ¿ کمپےن مےں بہت بڑا فرق پڑے گا ۔(جاری )

(انل نریندر)

بھگوڑ ے نیروومودی پر کستا قانونی شکنجہ!

پنجاب نےشنل بےنک کے 13700کروڑروپے لےکر فرار نےروو مودی پر آہستہ آہستہ قانونی شکنجہ کستا جارہا ہے اےک طرف جہاں اس کا ممبئی مےں سمندری ساحل پر 30ہزار مربع پر مبنی زمےن پر بنا بنگلہ کچھ ہی منٹوں مےں دھماکہ کرکے نےست ونابود کردےا گےا وہےں اےک انگرےزی اخبار دی ٹےلی گراف کے نامہ نگار نے اس کو لندن مےں ڈھونڈ لےا ہے اور چہل قدمی کررہے نےروومودی سے سڑ ک پرہی سوال پوچھے وہ پچھلے 14مہےنہ سے روپوش تھا ۔نےروومودی کا جو عالےشان بنگلہ تھا اس کی قےمت 40کروڑ روپے لگائی گئی ہے ای ڈی نے بتاےا کہ بنگلہ کے سامان کی نےلامی کی جائے گی جس مےں کار اور کوئی مورتی ہے اس کو الگ رکھا گےا ہے ۔کار جکوجی کی قےمت 15لاکھ سے 20لاکھ روپے ہے اور مورتی کی قےمت 10لاکھ روپے مانی گئی ہے ۔لندن مےں نےروومودی وےسٹ اےنڈ علاقہ مےں رہتا ہے جو لندن مےں عالےشان علاقوں مےں سے اےک مانا جاتاہے ۔مےں اےک اپارٹمنٹ مےں رہ رہا تھا اخبار کی رپورٹ کی مطابق نےروومودی ےہےں اپنا آفس چلارہا ہے اور وہ ہےروکا ہی کاروبار کرتاہے ۔لےکن برائنڈ کا نام بدل لےا ہے وہ جنوری 2018مےں انگلےنڈ گےا تھا جولائی مےں انٹر پول نے اس کے خلاف رےڈ کارنر نوٹس جاری کےا ۔اخبار کے رپوٹر کے ہر پوچھے سوال پر نےروومودی نے کہا نوکمنٹ کہتے ہوئے سات آٹھ سوالوں ک ا ےک ہی جواب تھا اس نے اپنا حلےہ بھی بدل لےا ہے اس نے گھوماو ¿ دار مونچھ رکھ لےا ہے اور کالے رنگ کی جےکٹ مےں تھا ۔اس کی قےمت 9لاکھ روپے بتائی جاتی ہے جو شترمرغ کے چمڑے سے بنا ئی ہوئی تھی ۔وہ جس مکان مےں رہتا ہے اس کی قےمت 75کروڑ روپے اور ماہانہ کراےہ ساڑھے پندرہ لاکھ روپے بتاےا جاتاہے ۔برطانےہ کے وزےر داخلہ نے بےنک قرض جعلسازی کے ملزم نےروو کے خلاف قانونی کارروائی شروع کراسے حوالے کرنے کی بھارت کی درخواست کو وہاں کی عدالت نے داخل کےا ہے ۔حکومت ہند کے ای ڈی کے ترجمان نے بتاےا کہ ےہ درخواست جولائی 2018مےں بھےجی گئی تھی اس کی وزارت داخلہ کے حکا م نے بھارت کے درخواست کی تصدےق کی ہے ۔واضح ہو سی بی آئی نے اتوار کو کہا کہ نےروومودی اپنے رشتہ دار مہول چوکسی سے مل کر پنجاب نےشنل بےنک مےں 13ہزار کروڑ روپے کی دھوکہ دڑی کے معاملہ مطلوب بھگوڑے ہےرا تاجر نےروومودی حوالگی کے لئے برطانےہ کے حکام کو ہر ضروری مدد دے گی آہستہ آہستہ ہی صحےح نےروو،مہول چوکسی مہتا کی جوڑی پر قانونی شکنجہ کسنے لگا ہے اور اسے دےگر بھگوڑوں پر بھی اثر پڑے گا ۔قانون کا شکنجہ آہستہ آہستہ لےکن مضبوطی سے کستا ہے ۔

(انل نریندر)

14 مارچ 2019

لوک پروو2019:اب جنتا کی باری ہے.. 2

لوک سبھا چناﺅ کی تاریخوں کی اعلان کے ساتھ ہی تمام پارٹیاں اپنی اپنی جیت کا بے شک دعوی کر رہی ہوں لیکن ایک سروے کے مطابق پچھلے چناﺅ میں مکمل اکثریت حاصل کرنے والی این ڈی اے اس مرتبہ اکثریت سے کچھ پیچھے رہ سکتی ہے ۔کانگریس کی رہنمائی والی یو پی اے کو بہتر پرفارمینس کرنے کے باوجود اقتدار تک پہنچنا مشکل دکھائی دے رہا ہے جبکہ علاقائی پارٹیاں کافی تعداد میں سیٹ جیت سکتی ہیں جس سے اگلی حکومت کی تشکیل میں ان کا رول اہم ہوگا یہ سروے اے بی پی نیوز سی ووٹر نے کیا ہے ۔اس کے مطابق543لوک سبھا سیٹ کے لئے ہونے والے چناﺅ میں بھاجپا کی قیادت والے این ڈی اے کو 264سیٹیں ملتی نظر آرہی ہیں جبکہ یو پی اے 141سیٹ پر کامیابی حاصل کر سکتی ہے دیگر پارٹیوں کو 138سیٹیں ملنے کا امکان ہے کیونکہ یہ سروے چناﺅ کی تاریخ کے اعلان کے ساتھ ساتھ کیا گیا ہے جیسے جیسے چناﺅ کی کارروائی آگے بڑھے گی بنیادی صورت حال بدلے گی اس لئے اسے ضرورت سے زیادہ اہمیت دینے کی ضرورت نہیں ہے سبھی سیاسی پارٹیاں بے لہر چناﺅ میں اپنے دل کے مطابق نتیجے پانے کی حسرت سے سیاسی گوٹیاں بچھانے میں لگی ہیں لیکن میرے حساب سے اس مہا دنگل میں جو فیکٹر اہم ہوگا وہ کچھ اس طرح ہے وزیر اعظم نریندر مودی اور ان کی بی جے پی کو جن اشوز کا جواب جنتا کو دینا ہوگا۔ان میں نوٹ بندی ،جی ایس ٹی ،بے روزگاری،سماجی اور آر بی آئی آئینی بحران وغیرہ شامل ہیں نوٹ بندی:یہ سب سے چونکانے والا فیصلہ تھا سرکار نے پانچ سو اور ہزار روپئے کے نوٹوں پر راتوں رات پابندی لگا دی گئی عوام کو اپنا پیسہ بدلوانے کے لئے لمبی لمبی لائنوں میں کھڑا ہونا پڑا سو سے زیادہ لوگوں کی تو بینکوں کی لائن میں لگتے لگتے ہی موت ہو گئی ۔بلیک منی جس کے لئے نوٹ بندی نافذ ہوئی تھی وہ آج سے پہلے سے بھی زیادہ ہو گئی ہے اس طرح دہشتگردی پر لگام لگے گا لیکن بنیادی حقیقت تو یہ ہے کہ پچھلے ایک سال میں جتنے آتنکی حملے ہوئے ہیں اور جوان مرے ہیں وہ پچھلے برسوں کے مقابلے زیادہ ہیں نوٹ بندی جی ایس ٹی کے سبب ہزاروں کارخانے بند ہوگئے لاکھوں کنبے تباہ ہو گئے ۔مودی نے ہر سال میں دو کروڑنوکریاں دینے کا وعدہ کیا تھا لیکن کانگریس کا الزام ہے کہ پچھلے سال ایک کروڑ لوگوں نے اپنی نوکریاں گنوا دی ہیں ۔این ایس ایس او کی رپورٹ کے مطابق 2017-18میں 6.1فیصد تھی جبکہ 1972-73کے بعد یہ سب سے زیادہ ہے اب تو آر بی آئی نے بھی صاف کر دیا ہے کہ اس نے نوٹ بندی نہ کرنے کی صلاح دی تھی لیکن وزیر اعظم نے ان کی صلاح کو بھی در کنار کر دیا ہے موب لنچنگ ،گائے کا اشو بھی اچھلے گا ۔کانگریس کے مطابق اس وقت آئینی بحران کھڑا ہو گیا ہے ۔پہلی بار جب سپریم کورٹ کے جج تنازعوں کو لے کر میڈیا کے سامنے آئے تو انہوںنے جمہوریت کو خطرہ بتایا اس وقت کے چیف جسٹس دیپک مشر اکے طور طریقوں پر سوال اُٹھائے گئے آر بی آئی کے اندرونی رشہ کشی کھل کر اس وقت سامنے آئی جب آر بی آئی کے گورنر ارجت پٹیل نے عہدہ چھوڑا ،آلوک ورما کو سی بی آئی کے عہدے سے ہٹانے پر بھاری تنازع کھڑا ہو ا بھارت کے عام چناﺅ کو لے کر پہلے سے کوئی پیش گوئی آج تک اس لئے صحیح ثابت نہیں ہو سکی کیونکہ یہ الگ الگ مجاز کے ریاستوں کا ملک ہے ان کی سیاسی پسند نہ پسند ان کے کھانے پینے رہن سہن بول چال بھروسہ اور عقیدت سے جڑا ہوتا ہے یہ وہی فیکٹر ہے جن کے چلتے ووٹوں کے نتیجے آنے تک پختگی کے ساتھ یہ نہیں کہا جا سکتا کہ کس کی سرکار بننے والی ہے ؟ووٹروں کو کسی آخری نتیجے پر پہنچنے کے بجائے 2014اور2019کے فرق کو سمجھنا چاہیے ۔شاید اس لئے ضروری ہو جاتا ہے کہ 2014کا چناﺅ مسلسل دس سال تک حکمراں یو پی اے سرکار کے خلاف تھا کئی بڑے گھوٹالے اجاگر ہو چکے تھے جن میں کچھ وزراءکو جیل تک جانا پڑا تھا اور کچھ کو استعفی دینا پڑا تھا اس کے چلتے عوام انہیں اقتدار سے باہر کرنے کا من بنا چکی تھی اور اس نے کیا بھی 2014کا چناﺅ اس ماحول میں مودی لہر چل گئی اور وہ ایک جھونکے کی طرح سامنے آئے تھے وہ چناﺅ بی جے پی نہیں لڑ رہی تھی وہ مودی لڑ رہے تھے ۔2019میں کانگریس کو ئی فیکٹر نہیں ہوگا چناﺅ ہمیشہ سرکار کے خلاف لڑا جاتا ہے ظاہر سی بات ہے ووٹروں کی کسوٹی پر پارٹی لیڈر کی شخصی ساکھ ہوگی این ڈی اے سرکار کے پانچ سال کا اشو بھی ہوگا 2014میں بی جے پی یا مودی کے پاس نہ تو کچھ کھونے کے لئے تھا اور نہ ہی کچھ ثابت کرنے کے لئے تھا لیکن اس بار کھونے کا ڈر بھی ہوگا اور اپنے آپ کو ثابت کرنے کی چنوتی بھی ہوگی مودی کے لئے یہ بھی ثابت کرنا ایک بڑ ا چلینج ہوگا کہ اچھے دن کا جووعدہ کیا تھا وہ کب آ ¾یں گے ؟2014کے چناﺅ میں تکونا مقابلہ تھا اپوزیشن بٹی ہوئی تھی ریاستوں میں علاقائی پارٹیوں کا بڑا حصہ بی جے پی اور کانگریس سے ہی مقابل تھا اس بار بی جے پی کے مقابلے اپوزیشن متحد ہو کر براہے راست ٹکر دینے کی کوشش میں دکھائی پڑ رہی ہے اگر آمنے سامنے چناﺅ کرانے کے اپوزیشن کی کوشش کامیاب ہوتی ہے تو مودی اور بی جے پی کے لئے تلخ مقابلہ ہو جائے گا چناﺅ سے پہلے پلوامہ کانڈ اور اس کے بعد پاکستان کے خلاف ائیر اسٹرائک سے ماحول راشٹر واد کی ہوا محسوس کی جا رہی ہے یہ ایسا اشو ہے جس کے آگے تمام اشو بونے ہو جاتے ہیں ۔2014میں کرپشن کا اشو سب سے اہم تھا بی جے پی کی پوری کوشش ہوگی کہ راشٹر واد کے اشو کو حاوی ہونے دیا جائے اور اپوزیشن اس کے اثر کو سمجھتے ہوئے اسے حاوی ہونے سے روکنے کی کوشش میں ہے 2014میں مودی کے خلاف لے دے کر راہل گاندھی کا چہر ہ تھا جسے رسمی طور پر اعلان نہیں کیا گیا تھا ۔علاقائی پارٹیوں سے کوئی گٹھ بندھن نہیں ہوا تھا اس لئے اس خیمے میں وزیر اعظم کی امیدوار کی شکل میں کوئی نام آنے کا سوال نہیں تھا لیکن اس بار تو ممتا بنرجی سے لے کر مایا وتی تک کے نام اپوزیشن کے پی ایم امیدوار کی شکل میں زیر بحث ہیں پھر راہل اب پوری طرح سے بطور کانگریس صدر سرگرم ہو چکے ہیں انہوںنے حال ہی میں پانچ ریاستوں کے اسمبلی چناﺅ میں یہ ثابت بھی کر دیا ہے کہ اب نہ تو انہیں اور نہ ہی کانگریس کو حلقے میں لیا جا سکتا ہے ۔(جاری)

(انل نریندر)

13 مارچ 2019

پھر بے نقاب ہوا پاکستان اپنے دوہرے رویہ سے

ونگ کمانڈر ابھینندن کو واپس کر امن کی دہائی دینے والے پاکستان کا ایک بار پھر دوہرا رویہ اجاگر ہو گیا ہے ۔ایک طرف تو ابھینندن کو واپس کر رہا ہے تو دوسری طرف پاکستان مسسلس سرحد پر گولا باری کر رہا ہے ۔اور جھوٹ پر جھوٹ بولے جا رہا ہے ۔کنٹرول لائن پر پاک فوج کی طرف سے مسلسل فائرنگ جاری ہے تقریبا جنگ کا ماحول بنا ہوا ہے ہر جگہ ناراضگی اور ہمارے لوگ مارے جا رہے ہیں پلوامہ حملے کے ملزم جیش محمد کی مذمت سے بچ رہا ہے پاکستان اب تو ان کے الٹے بچاﺅ میں اتر آیا ہے پاکستان کے جھوٹے وزیر خارجہ محمود قریشی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ حملے سے جیش کے کردار کو لے کر شش و پنج کے حالات ہیں پلوامہ حملے کی ذمہ داری جیش کے ذریعہ لئے جانے کے سوال کے بارے میں قریشی نے کہا کہ جب جیش لیڈر شپ سے بات کی گئی تو اس نے حملے سے انکار کر دیا قریشی سے پوچھا گیا کہ جیش لیڈر شپ سے کس نے بات کی تھی اور کس سے کی تھی تو انہوںنے کہا کہ جیش کو جاننے والے لوگوںنے پھر بتا دیں پلوامہ حملے میں جیش کے شامل ہونے کے پختہ ثبوت ڈوزیر پاکستان کو دے دئے ہیں ہم ا س کا جائزہ لے رہے ہیں ۔پاکستان اتنا بے شرم ہوچکا ہے کہ وہ اپنے پائلٹ کی موت کو بھی نہیں مان رہا ہے بھارت کے ذریعہ بالا کوٹ میں آتنکیوں کے خلاف کی گئی کارروائی کے اگلے دن پاکستان نے ایف 16جنگی جہاز کے ذریعہ ہندوستانی سرحد کی خلاف ورزی کی تھی اس کے جواب میں ہندوستانی ونگ کمانڈر ابھینندن وردھمان نے اپنے میگ 21سے اس ایف 16کو مار گرایا تھا جس وجہ سے تباہ ہو گیا تھا ۔پاک ایف 16کا جنگی پائلٹ شہزاد الدین ہے بھی پیراشوٹ سے کود گیا تھا حالانکہ پاکستان نے کہا کہ اس کے کسی ایف 16جنگی جہاز نے جوابی کارروائی میں حصہ نہیں لیا میڈیا رپورٹ اور پائلٹ کے قریبی لندن میں مقیم وکیل عمر خالد کی فیس بک پوسٹ کے مطابق جس ایف 16کو گرانے کی بات کہی گئی اس کے پائلٹ شہزادالدین کو پاکستانیوں کی بھیڑ نے ہی ہندوستانی پائلٹ سمجھ کر مار ڈالا تھا خالد نے لکھا ہے ابھینندن صحیح سلامت پی او کے میں اتر گئے شہزاد الدین بھی دیگر جگہ پر گرے تھے اب کسی سے پوشیدہ نہیں کہ پاکستان ان آتنکی گرپوں کو نہ صرف پالتا ہے بلکہ پوری طرح سرپرستی دیتا ہے آج تک جتنے بھی آتنکی اس نے آئی ایس آئی کے اشارے پر بھارت میں تباہی مچانے کے لئے بھیجے یہ ہماری سیکورٹی ایجنسیوں کے ہاتھوں مارے گئے ان کی لاشوں کو پاکستان نے کبھی نہیں قبولا ہے ۔اجمل قصاب کوبھی اپنا شہری نہیں مانا تھا اب اگر جیش کے پاکستان میں ہونے اور پلوامہ حملے کی تصدیق کرتا ہے تو وہ پھنستا ہے اس لئے وہ اپنے ایف 16جنگی جہاز کی اور نہ ہی اس کے پائلٹ شہزاد الدین کی کسی طرح سے تصدیق نہیں کر رہا ہے ۔ہم جانتے ہیں کہ پاکستان کے قول اور فعل میں کتنا فرق ہے ۔

(انل نریندر)

لوک پروو2019:اب جنتا کی باری ہے.. 1

عام چناﺅ کا بیگل بج گیا ہے چناﺅ کمیشن نے لوک سبھا اور چار ریاستوں میں اسمبلی انتخابات کے لئے تاریخوں کا اعلان کر دیا ہے لوک سبھا کی 543سیٹوں کے لئے گیارہ اپریل سے 19مئی تک سات مرحلوں میں ووٹ پڑیں گے نتیجے 23مئی کو آئیں گے تین جون تک نئے لوک سبھا تشکیل ہو جائے گی چناﺅ کمیشن نے اس مرتبہ سو فیصدی وی وی پیٹ کے استعمال کا اعلان کر ان سبھی لوگوں کا منھ بند کرنے کی کوشش کی ہے جو ای وی ایم پر سوال کھڑا کرتے ہیں ۔کل 90کروڑ ووٹر یہ کسی دیش میں ووٹروں کی سب سے زیادہ تعداد ہے پہلی بار 21ویں صدی میں پیدا ہوئے اٹھارہ سے 19سال کے 1.6کروڑ ووٹر سرکار چنیں گے ۔دیش کی اگلی حکومت و لوک سبھا چناﺅ کا بگل بجنے سے اہم مقابلہ وزیر اعظم نریندر مودی اور مودی مخالف نام پر در پردہ طور سے متحد ہوئی اپوزیشن ہوگی ترقی میں راشٹر واد کا چھونک لگا کر میدان میں اتری بھاجپا پورے چناﺅ کو موجودہ سیاست میں سب سے بڑے قد والے لیڈر نریندر مودی پر مرکوز کرنا چاہتی ہے ۔بھاجپا کا ترپ کا پتہ ہے نریندر مودی کی بے داغ ساکھ اور سال 2014میں جب لوک سبھا کا چناﺅ ہوا تھا تب نریندر مودی کی لہر تھی آج وہ لہر گھٹی ہے بے شک فی الحال اپوزیشن بٹی ہوئی لگتی ہے اگر اپوزیشن مہا گٹھ بندھن صحیح معنوں میں ٹھیک طرح سے بن جاتا ہے تو بھاجپا کو سخت چنوتی کی شکل میں پیش کر سکتا ہے۔2014میں لوک سبھا چناﺅ ہوئے تھے تو یو پی اے کو اقتدار میں دس سال ہو چکے تھے کرپشن اور دیگر اسباب کے چلتے اقتدار مخالف لہر چل پڑی تھی بھاجپا کو یو پی کے تئیں ناراضگی کی وجہ سے اقتدار سے باہر ہونے کی ہمدردی کا فائدہ ملا ۔اس نے قومی سطح پر ابھر رہی مودی کی ساکھ کو پورے دیش میں بھنایا اور تیس سال کے بعد کوئی پارٹی یعنی بھاجپا واضح اکثریت سے سرکار بنانے میں کامیاب رہی لیکن اب سیاسی حالات کافی بدل چکے ہیں تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ گجرات ،دہلی،ہماچل پردیش،اترپردیش، اتراکھنڈ جیسی ریاستوں میں ساری سیٹیں اس کے لئے جیتنا بھی آسان نہیں ہے گذشتہ پانچ سال میں بدلے سیاسی حالات نے 2014اور 2019کے عام چناﺅ میں بڑا فرق پیدا کر دیا ہے ۔چناﺅ میں ایک طرف بلا تنازعہ اور سب سے بڑا چہرہ مانے جانے والے وزیر اعظم نریندر مودی ہیں دوسری طرف پانچ سال سے وجود کے لئے لڑتی کانگریس کی بانگ ڈور سنبھال کر حکمراں بھاجپا سے اچانک تین ریاستیں چھین کر اپنی پوزیشن مضبوط کرنے والے راہل گاندھی ہیں پہلی بار کھیتی کسانی،ودیہی ہندوستان اور بڑی برادریوں کے مفاد چناﺅی اشو کے مرکز میں ہیں تو دوسری طرف رام مندر کے نام پر بالا کوٹ کے نام سے پیدا قومیت رہے گا ۔بے روزگاری نوٹ بندی،جی ایس ٹی،رافیل جیسے اشو اپوزیشن کا بڑے ہتھیار ہوں گے ۔پچھلے چناﺅ میں کانگریس کے اقتدار کی گاڑی سے اتارنے والے مودی تھے تو اس بار ان کے مقابلے میں راہل گاندھی ہیں نرم ہندتو اپنانے کے ساتھ عین چناﺅ کے وقت بہن پرینکا گاندھی واڈرا کو سیاست میں اتار کر مقابلہ کو بے حد دلچسپ بنا دیا ہے چار سال پہلے کی سرکار اور اپوزیشن کی سیاست دیکھیں تو منموہن سنگھ کے مقابلے موجودہ مودی سرکار زیادہ چوکس و مضبوط ہے مودی سرکار نے پورے پانچ سال رہنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے ۔جبکہ کانگریس اپوزیشن خیموں میں پانچویں سال دھار آئی ہے ۔(جاری)

(انل نریندر)

12 مارچ 2019

آتنکیوں کے نشانے پر جموں

جموں و کشمیر کے پلوامہ حملے کے بعد دعوی کیا جا رہا تھا کہ ریاست میں سیکورٹی فورسیز چوکس ہیں سب جگہ چوکسی ہے لیکن جمعرات کے روز دوپہر میں جموں کے بس اسٹینڈ پر کھڑی بس میں ایک دستی بم پھٹا ۔حملہ ظاہر کرتا ہے کہ ریاست میں فی الحال دہشتگردوں کو کمتر سمجھنا بھول ہوگی بے شک ہم نے سرحد پار سے فی الحال حملے روک دئے ہوں لیکن جموں و کشمیر کے اندر پھل پھول رہے ان دہشتگردوں کا کیا کروگے ؟غور طلب ہے کہ جموں کے ایک جموں میں دھماکے میں ایک لڑکے کی موت اور 31لوگ زخمی ہو گئے تھے اس واردات کے پانچ گھنٹے کے اندر ہی پولس نے کل گاﺅں کے باشندے ایک لڑکے یاسر جاوید کو گرفتار کیا ہے پولس کا دعوی ہے کہ حزب المجاہدین نے حملہ کروایا تھا اور اس کے لئے اس نے 50ہزار روپئے دیئے تھے ۔دہشتگرد یاسر نے بیگ میں کپڑے اور کھانے کے ٹفن میں دستی بم چھپا رکھا تھا جموں کے بڑے بس اڈے پر پچھلے دس دن میں یہ تیسرا دستی بم حملہ ہے ۔بتایا جاتا ہے کہ پنجاب روڈویز کی بس جموں ریلوئے اسٹیشن سے جانے کے لئے نکلی تب صبح بس اسٹینڈ سے بی سی روڈ کی طرف پہنچی تو اچانک زوردار دھماکہ ہو گیا دھماکے کی آواز سے بسوں کے شیشے ٹوٹ گئے ۔وہیں جمعہ کو جموں ائیر پورٹ کے انٹری گیٹ کے نزدیک ایک بم نما پیکٹ ملا جس سے کھلبلی مچ گئی اور بم اسکوائڈ نے ہوشیار ی کے ساتھ روبوٹ کی مدد سے پیکٹ کو خالی جنگل میں لے جا کر اسے ناکار ہ کر دیا ۔سیکورٹی ایجنسیاں اس بات سے انکار نہیں کر رہی ہیں کہ اس کی مدد سے آتنکی جموں سے ہوائی جہاز کو اغوا کرنے کی فراق میں تھے ۔دراصل پلوامہ میں حملے کے بعد بھارت نے پاک کے خلاف سرجیکل اسٹرائک کیا تھا تب سے ہی پاکستان کی طرف سے کسی کارروائی کا اندیشہ بنا ہوا تھا لیکن بھارت کے رخ کو دیکھتے ہوئے شاید پھر سے دہشتگردوں کے ذریعہ در پردہ طور سے یہ پیغام دینے کی کوشش کی گئی ہے ۔ان کو یہ اندازہ ہے کہ ایسے چھوٹے موٹے حملے بھی شہریوں میں خوف کا ماحول بنائے رکھ سکتے ہیں لیکن یہ دھیان رکھنے کی ضرورت ہے کہ انڈین ائیرفورس اور پیرا ملٹری فورس کے بڑے حملوں سے فی الحال راحت ضرور پائی ہے لیکن دہشتگردوں کا خطرہ برقرار ہے لگتا بھی ہے کہ اب پاک اور اس کے ہمائیتی آتنکی گروپ جموں کو نشانہ بنانے سے کترائیں گے نہیں اس لئے اسپیشل سیکورٹی اور پختہ جانکاری ضروری ہو گئی ہے ۔لیکن اگر دہشتگردوں اور ان کے ہمایتوں کی ہمایت کرنے والے علیحدگی پسندوں کو یہ سمجھنا ضروری نہیں لگتا ہے کہ ان کی سرگرمیوں سے کیسے حالات پیدا ہوں گے تو ہماری سیکورٹی فورسیز کے سامنے ان دہشتگردوں کا سامنا کرنے یا انہیں مناسب جواب دینے کے لئے کیا راستہ بچے گا۔

(انل نریندر)

بالا کوٹ میں جیش کے ٹھکانوں کی تباہی کے ثبوت

پاکستان میں گھس کر دہشتگرد ٹھکانوں پر انڈین ائیرفورس کے ہوائی حملے کو لے کر کئی اپوزیشن پارٹیاں سرکار سے پروف مانگ رہی ہیں ۔دراصل یہ پورا تنازع کچھ بین الااقوامی میڈیا کی اس رپورٹ کے بعد شروع ہوا جس میں تصویروں کی بنیاد پر دعویٰ کیا گیا کہ ائیر اسٹرائک کے بعد بھی جیش محمد کی ٹرینگ کیمپ کی عمارت برقرار ہے ۔صحیح سلا مت ہے جیش کے ٹھکانوں پر حملے سے نقصان کے ثبوت مودی سرکار کے پاس ہیں ۔ ان ثبوتوں کو صحیح وقت آنے پر دنیا کے سامنے رکھے گی حملے سے پہلے اور بعد کی سیٹیلائٹ سے کھینچی گئی تصویریں اور الکٹرانک سرویلنس اور موبائل سگنل جیسے کئی ثبوت ہیں ۔حال ہی میں غیر ملکی میڈیا کے دعوں پر بات کرتے ہوئے وائس ائیر مارشل آر جی کے کپور نے صاف کہا کہ ائیرفورس کے پاس پختہ ثبوت ہیں اور حملے سے آتنکی کیمپوں کو بھاری نقصان پہنچا ہے جو ٹارگیٹ ہمیں دیا گیا تھا ہم نے اسے پور اکیا اس ٹارگیٹ کو جتنا ہمیں نقصان پہچانا تھا وہ پہنچا دیا ہے ۔ایک ٹی وی چینل نے پہلی مرتبہ ائیراسٹرائک کے ثبوت کے طور پر بارہ تصویریں سامنے رکھی ہیں جن کی بنیاد پر بتایا ہے کہ ہوائی حملے کے نقصان کے نشان صاف دکھائی دے رہے ہیں ۔رپورٹ کے مطابق بھارت نے بھاری تباہی مچائی ہے ۔تصویروں کے جائزہ سے بھی دیکھا جا سکتا ہے ۔انڈین میزائل نے جیش محمد کے ٹرینگ کیمپ کی بلڈنگ تباہ کر دی تھی ۔رپورٹ میں دعوی کیا گیا ہے کہ ضروری نہیں کہ بنکر اڑانے والے میزائلوں کے حملے سے عمارت پوری طرح سے تباہ ہو جائے جس میزائل کا انڈین ائیرفورس نے استعمال کیا تھا وہ سیدھے عمارت پر لگا ہے اور چار کالے نشان دکھائی دیتے ہیں ۔رپورٹ میں میزائل کے ٹریکشن ویڈیو کو بھی دکھایا گیا ہے ۔جس میںصاف نظر آتا ہے کہ میزائل لگنے کے بعد پوری بلڈنگ تباہ نہیں ہوتی ائیرفورس نے جو رپورٹ سرکار کو سونپی ہے اس میں دعوی کیا گیا ہے کہ 26فروری کو پاکستانی خیبر صبح میں گھس کر کئے گئے ہوائی حملوں میں اس کے 80فیصد نشانے صحیح لگے ہیں ۔اس دوران جن بموں کو داغا گیا وہاں موجود عمارتوں کی چھتوں میں چھید کر کے سیدھے اندر گھسے ہیں اسی وجہ سے جو بھی تباہی ہوئی ہے وہ اندر ہوئی ہے ۔ضروری نہیں بنکر اڑانے والی میزائلوں کے حملے میں عمارت پوری طرح تباہ ہو جائے ۔پاکستان کے بالا کوٹ میں آتنکی ٹرینگ کیمپ کی تباہی کی تصدیق خود جیش سرغنہ مسعود اظہر کے چھوٹے بھائی مولانا عمار نے بھی کی ہے ۔اس کا ویڈیو سامنے آیا ہے جس میں وہ انڈین ائیر فورس کے حملوں سے ہوئی تباہی کا رونا رو رہا ہے ۔مسعود اظہر کا بھائی عمار جیش کی جہادی سرگرمیوں کا حصہ ہے اور جہاد کی فیکٹری کی دیکھ ریکھ میں بھی عمار کا اہم رول ہوتا تھا ۔جیش کے تمام آتنکی ٹرینگ کیمپ میں کشمیر کے نام پر نوجوانوں میں بھارت کے تئیں نفرت بھرنے کا کام بھی کرتا ہے ۔بالا کوٹ میں آتنکی ٹرینگ کیمپ پر انڈین ائیر فورس کے حملے کے دو دن بعد یعنی 28فروری کو پیشاور میں ایک جلسے میں عمار نے اپنا دکھڑا رویا جلسے میں موجود کچھ بلوچ لوگوںنے ہندوستانی خفیہ ایجنسیوں کو عمار کی تقریروں کا آڈیو دستیاب کرایا ہے ۔جس میں اس نے ائیرفورس کے حملے کو دشمن کی طرف سے اعلان جنگ قرار دیا اور مانا کہ انڈین ائیر فورس نے جیش کے ہیڈ کوراٹر پر حملہ نہیں کیا بلکہ یہ حملہ اس شہر پر کیا گیا جہاں جیش کے حکام کی میٹنگ ہوا کرتی تھی اور جہاد کی تعلیم دی جاتی تھی ۔ایجنسیوں کے ذرائع کا کہنا ہے کہ بھارت کو یہ ویڈیو مقامی لوگوںنے دستیاب کرایا ہے پیشاور میں جیش کا یہ جلسہ پوری طرح سے پاکستان کی فوجی ایجنسیوں کی سرپرستی میں کیا گیا۔اس کا مقصد بھارت کی طرف سے ہوئے حملے کے بعد جیش کے آتنکیوں کے درمیان بھروسہ قائم کرنا تھا مسعود اظہر بھی یہاں دہشتگردوں کو کئی بار خطاب کر چکا ہے انڈین ائیر اسٹرائک میں مارے گئے آتنکیوں کی تعداد پر ہندوستان میں جاری تنازع کے درمیان یہ پتہ چل رہا ہے کہ پاکستان نے پہلے حملے کے نشان ،ثبوت مٹا کر ہی وہاں پاک میڈیا کو لے جایا گیا ۔جس وجہ سے میڈیا کے لوگوں کو وہاں کچھ زیادہ ثبوت نہیں ملے 26فروری کے حملے کے فورا بعد دن میں میڈیا کو بالا کوٹ نہیں لے جایا گیا تھا ۔وہاں موجود فوج کے ترجمان نے میڈیا کے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ بالا کوٹ پہنچتے پہنچتے اندھیرا ہو جائے گا ۔اور کچھ دکھائی نہیں دے گا اگلے دن میڈیا سے کہا گیا کہ بالا کوٹ میں موسم خراب ہے اس کے بعد ہی جب وہاں ساری صفائی ہو گئی تو وہاں میڈیا والوں کو لے جایا گیا ہمیں اپنی انڈین فورس کے دعوں پر پورا یقین ہے اگر وہ دعوہ کر رہی ہے کہ بالا کوٹ میں اس کا حملہ صحیح نشانے پر تھا تو اس میں کوئی شبہ کی گنجائش نہیں ہونی چاہیے ۔

(انل نریندر)

10 مارچ 2019

پاک کے ذریعہ آتنکوادیوں پر کارروائی محض ڈھونگ ہے یا چھلاوہ

پلوامہ آتنکی حملے کے بعد بھارت نے بھارت نے جس طرح سرحد پر دہشتگردی پر سخت رویہ اختیار کیا ہے اس سے پاکستان پر بین الاقوامی دباﺅ بڑھا ہے اسی کا ایک نتیجہ یہ ہوا کہ پاک حکومت نے منگل کو جیش محمد سمیت کئی دہشتگرد تنظیموں کے 44لوگوں کو گرفتار کیا ہے ۔ان میں جیش کے سرغنہ مولانا مسعود اظہر کا بیٹا ہماد اظہر دو بھائی مولانا عمار و مفتی عبدالروف شامل ہیں حافظ سعید کی تنظیم جماعت الدوہ اور فلاح انسانیت فاﺅنڈیشن پر بھی پابندی لگا دی گئی ہے ۔بھارت کا خیال ہے کہ ایسے ڈھونگ پاکستان دکھاﺅے کے لئے پہلے بھی کرتا آیا ہے ۔امن تبھی مطمئن ہوں گے جب ان دہشتگردوں کے خلاف مقدمے اور سزا دلانے کا کام ہو پاکستان کے وزیر داخلہ شہر یار خان آفریدی نے منگل کو کہا کہ یہ کارروائی کسی دباو میں نہیں کی گئی ہے پاک کسی دیس کے خلاف اپنی زمین کا استعمال نہیں ہونے دیے گا بتا دیں کہ یہ وہی وزیر ہیں جنہوںنے کچھ وقت پہلے کہا تھا کہ جب تک ان کی پارٹی (پی ٹی آئی)اقتدار میں ہے کوئی مائی کا لال جہادیوں کے خلاف کارروائی نہیں کر سکتا پاکستان کے ذریعہ جیش سرغنہ سمیت دہشتگردوں کی گرفتاری کا اعلان بھارت کے ساتھ پوری دنیا کے آنکھوں میں دھول جھونکنے کی ایک اور کوشش کے علاوہ ہمیں تو چھلاوے سے سوا کچھ نہیں لگتا یہ اچھا ہوا کہ بھارت نے پاکستان کی اس دکھاوٹی کارروائی کو اہمیت نہیں دی ہے لیکن ضرور ت اس بات کی ہے کہ بھارت عالمی برادری کو اس سے واقف کرائے کہ پاکستان چوطرفہ دباﺅپڑنے پر ان دہشتگرد تنظیموں پر پابندی لگانے اور دہشتگردوں کو گرفتار کرنے کا دھونگ کرتا ہے ۔پاکستان کو یہ بھی پتا چلنا چاہیے کہ وہ اس طرح کے چھل کپٹ کا کھیل لمبے عرصے تک جاری نہیں رکھ سکتا ۔اگر اسے بار بار دہشتگردوں کو گرفتار کرنے کی ضرورت پڑتی ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ان دہشتگردوں پر شکنجہ کسنے کا محض ڈرامہ کرتا ہے آخر بھارت باقی دنیا اس بات کو کیسے نظر انداز کر سکتی ہے کہ دبئی حملے کے گنہگار کو ابھی تک کھلے عام گھوم رہے ہیں لیکن امریکہ کو اسامہ بن لادین کا سراغ دینے والوں کو نہ جانے کب تک سزا دی گئی ہے ؟اس سے یہی پتہ چلتا ہے کہ عدالتوں میں بھی پاکستانی فوج اور خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی اپنا اثر رکھتی ہے ۔اور یہ ہر بار چھوٹ جاتے ہیں پاکستان کی عدالتیں بھی ا ن کے خلاف فیصلہ سنانے سے بچتی ہیں دراصل دہشتگردی پاک حکومت ،فوج،آئی ایس آئی کی قومی پالیسی کا حصہ ہے یہ دہشتگرد تنظیم اور ان کے سرغنہ پاکستان کے ہی پیدائش ہیں ۔یہی لوگ انہیں پالتے ہیں سرپرستی دیتے ہیں ہر طرح کی ہمایت دیتے ہیں ایسے میں یہ انہیں کے خلاف سخت کاروائی کیسے کر سکتے ہیں ؟بھارت پاکستان کی ان چال بازیوں سے پوری طرح واقف ہے یہ سب دکھاوا ہے اور ان کے جھانسے میں اب دنیا آنے والی نہیں ہے ۔

(انل نریندر)

اپنے پیروں پر کھڑا ہونے کی کوشش میں کانگریس نے گٹھ بندھن ٹھکرایا

دہلی میں لوک سبھا اتنخابات کو لے کر عام آدمی پارٹی اور کانگریس نے اتحاد کے امکانات ختم ہو گئے جب کانگریس صدر راہل گاندھی کے ساتھ ہوئی دہلی پردیش کے لیڈروں کی میٹنگ میں اکیلے چناﺅ لڑنے کا اعلان کر دیا کیونکہ موجودہ صدر شیلا دکشت دہلی کی ساتوں سیٹوں پر پارٹی کو اکیلے لڑنے پر بضد تھیں ۔انہوںنے دلیل دی کہ چناﺅ کے آٹھ ماہ بعد دہلی اسمبلی کے انتخابات ہونے ہیں اگر چناﺅی گٹھ بندھن ہوتا ہے تو ہم خود کو کھڑا نہیں کر پائیں گے ۔عام چناﺅ کے بہانے ہم اسمبلی حلقوں میں تیاری کر سکتے ہیں اس کے بعد راہل گاندھی نے دہلی پردیش کے لیڈروں کی اس خواہش پر کہ چناﺅ اکیلے لڑا جائے حامی بھر دی ۔مرکزی سطح پر اپوزیشن پارٹیوں سے اتحاد کے حامی راہل نے نیتاﺅں سے رائے شماری کرائی اور اکثریت کو دیکھتے ہوئے کہا کہ میں فیصلہ نہیں تھوپوں گا ۔اتحاد کی تجویز مسترد کرنے پر کانگریس نے بتا دیا ہے کہ وہ بےساکھی کے سہارے چلنے کے بجائے خود اپنے پیروں پر کھڑا ہونا پسند کرئے گی ۔دیر شام کانگریس نے اترپردیش میں سپا بسپا کی 9سیٹوں کی پیشکش کو بھی خارج کر دیا ۔جبکہ پارٹی کا ایک گروپ مانتا ہے کہ اکیلے اترپردیش میں پارٹی کو زیادہ کامیابی نہیں ملے گی ۔مغربی بنگال میں پارٹی لیفٹ فرنٹ کے ساتھ اتحاد کو تیار نہیں ہے ۔جبکہ کمیونسٹ پارٹی نے اعلان کر دیا ہے کہ وہ کانگریس کے قبضے والی سیٹوں پر امیدوار نہیں اتارے گی ۔کرناٹک میں بھی اتحادی پارٹیاں جب اس کے ساتھ سیٹیوں کے بٹوارے کو لے کر آگے نہیں بڑھ پا رہی ہیں ۔کانگریس 28سیٹوں میں سے صرف8سیٹیں ہی جے ڈی ایس کے لئے چھوڑنا چاہتی ہے ۔جبکہ وہ کم سے کم بارہ سیٹوں پر لڑنا چاہتی ہے ۔اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ دہلی میں عام آدمی پارٹی کانگریس سے اتحاد کو لے کر خواہش مند رہی ہے ۔اس کے نقطہ نظر سے یہ شاید مناسب بھی ہے کیونکہ دہلی میں بھاجپا کو ہرانے کی کوشش میں لگی عآپ کے لئے کانگریس کو ساتھ لینے سے لڑائی کچھ حد تک آسان ہو جاتی جبکہ فطری طور پر یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ دہلی میں عآپ کا ماینڈیڈکم ہوا ہے ۔اور کانگریس کا بڑھا ہے اس بات کی تصدیق ان اعداد شمار سے ہوتی ہے کہ 2017میں ہوئے بلدیاتی چناﺅ میں 22فیصد ووٹ حاصل کیا تھا وہیں عآپ کی کمزور ہوتی زمین کے بارے میں ایک اور اعداد شمار 2015کے بعد ہوئے اسمبلی کے ضمنی چناﺅ میں دیکھا جا سکتا ہے ۔ان چناﺅ میں جہاں آپ کو 70میں سے 67سیٹوں پر کامیابی حاصل ہوئی تھی وہیں 56فیصد ووٹ بھی ملے تھے ۔جبکہ ضمنی چناﺅ میں راجیو ری گارڈن سیٹ پر اس کے امیدوار کی ضمانت ضبط ہو گئی ۔کہنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ کے کانگریس سے اتحاد کے لئے لگتا ہے کہ جی حضوری کہیں نہ کہیں عآپ پارٹی کی خستہ تصویر بیان کرنے کے لئے کافی ہے ۔مگر اس سے جڑی بات یہ ہے کہ کیا کانگریس اکیلے چلو کے اصول کو لاگو کرنے سے اس کی ساکھ ووٹروں کے درمیان بڑھے گی؟اتحاد کے مسئلے پر میٹنگ میں کانگریس صدر راہل کے سامنے دس لیڈروں میں سے آٹھ لیڈر نے آپ سے کسی قیمت پر سمجھوتہ نہ کرنے کی دلیل کو اس بنیاد پر مسترد کر دیا کیونکہ سیاست میں کچھ بھی مستقل نہیں ہوتا ۔اس لئے ابھی بھی ایک گروپ صرف اس دلیل کی بنیاد پر بھاجپا کو ہرانے کے واسطے اور آپ کانگریس کو مل کر چناﺅی میدان میں اترنا ہوگا ۔دونوں پارٹیوں کے درمیان اتحاد پیدا کرنے کی زوردار کوشش میں ہے ۔وہ خود کو فائدے کی جگہ دیکھ رہی ہے ۔پلوامہ حملے کے بعد سے بھاجپا کے حق میں ہوا چل رہی ہے ۔عآپ اور کانگریس میں اتحاد محض دہلی ،ہریانہ،پنجاب کی حکمت عملی پر گٹھ بندھن نہ ہونے سے اثر پڑ سکتا ہے ۔ہم کانگریس کی حکمت عملی کو سمجھ سکتے ہیں کانگریس لوک سبھا چناﺅ سے آگے 2020میں ہونے والے دہلی اسمبلی چناﺅ کو دیکھ رہی ہے ۔وہ اپنی عآپ کے ہاتھوں کھوئی زمین کو واپس لانے کی کوشش کرئے گی ۔جو ورکر مایوس ہو کر بیٹھ گیا تھا پارٹی پھر سے سرگرم کرنے کی کوشش کر ئے گی بےشک اکیلے کھڑا ہونے سے اسے لوک سبھا چناﺅ میں خاص کامیابی نہ بھی ملے کم سے کم اکیلے لڑنے سے کانگریس اپنا کھویا ہوا ووٹ بینک پھر سے واپس لا سکتی ہے ۔عام آدمی پارٹی کے اندونی سروے میں وہ 81فیصد دہلی کے شہریوں نے دہلی کو مکمل ریاست کا درجہ دینے کی وکالت کی ہے اس لئے وہ دہلی کی ساتوں سیٹوں پر جیتنے کا دعوی کر رہی ہے ۔اب اسے صحیح ثابت کرنے کا بھی وقت آرہا ہے اب جیت کے دکھاﺅ دہلی کی ساتوں سیٹیں۔

(انل نریندر)