03 مارچ 2012

لشکر طیبہ کی حکمت عملی میں تبدیلی



Published On 3 March 2012
انل نریندر

90کی دہائی میں لشکر طیبہ آتنکوادیوں کو پاکستان کے جہادی اڈوں سے بھارت بھیجتا رہا ہے۔ مقصدتھا کشمیر میں تخریبی سرگرمیاں پھیلانا۔ اس کے بعد پاک حکومت نے دہشت گردی کو باقاعدہ ایک اسٹیٹ پالیسی بنا کر آتنک وادیوں کو بھارت کے باقی حصوں میں حملے کروانے کی نئی پالیسی بنائی۔ اسی کے تحت 2000ء میں لال قلعہ پر حملہ ہوا اور 2001ء میں ہندوستانی پارلیمنٹ پر اور 2008ء میں ممبئی حملے ہوئے۔ ان حملوں میں آئی ایس آئی نے لشکر کے ذریعے سے بھارت اسٹیٹ کے خلاف حملے کروائے ۔ ان حملوں میں کچھ دہشت گرد پاکستان سے خاص طور سے آئے تو کچھ یہیں بھارت سے شامل ہوئے لیکن اب لگتا ہے لشکر طیبہ نے اپنی حکمت میں تھوڑی تبدیلی کی ہے۔ 26/11 حملوں کے بعد اس نے 10 آتنک وادیوں کو ممبئی میں حملہ کرنے بھیجا تھا لیکن اب وہ پاکستان سے آتنکی نہ بھیج تک یہیں بھارت سے ہی جہادیوں سے حملے کروا رہا ہے۔ وہ بھارت سے ہمدرد جہادیوں کو اٹھاتا ہے اور انہیں پاکستان بلاکر پوری ٹریننگ دے کر واپس بھیج کر حملہ کروا رہا ہے۔ بدھ کے روز دہلی پولیس نے جن دو دہشت گردوں کو گرفتار کیا ہے اس سے آئی ایس آئی اور لشکر کی نئی پالیسی کے اشارے ملتے ہیں راجدھانی دہلی کے ایک مشہور بازار سمیت 18 مقامات پر دھماکے کرنے کی سازش تھی لیکن جموں و کشمیر جھارکھنڈ اور دہلی پولیس کی سانجھہ کارروائی میں بروقت بڑے دھماکے ہونے سے راجدھانی کو بچا لیا ہے۔ سازش کو انجام دینے کی تیاری میں جٹے لشکر طیبہ کے دو آتنک وادیوں کو دبوچ لیا گیا ہے۔بنیادی طور سے جموں وکشمیر کے باشندے بتائے جارہے دونوں بم بنانے میں ماہر ہیں ان کے پاس سے برآمد میموری کارڈ میں کچھ ایسی تصویریں قید ہیں جو سکیورٹی ایجنسیوں کے لئے ثبوت کے طور پر کام آئیں گی۔ مثلاً پاکستان میں چل رہے آتنکی ٹریننگ کیمپ اور آئی ڈی ، بناتے ہوئے ان کے قبضے سے اے ۔47 رائفلز ،دھماکوں سامان اور قابل اعتراض دستاویز سمیت بہت کچھ سامان برآمدہوا ہے۔ ان کا ارادہ دہلی کے چاندنی چوک بازار میں دھماکے کرنا تھا۔ ذرائع کے مطابق ان میں ایک جموں و کشمیر کا باشندہ احتشام ہے اور دوسرا ہزاری باغ کا باشندہ شفاعت ہے۔ یہ دونوں پاکستان میں لشکر کے کیمپوں میں ٹریننگ لے چکے ہیں۔ جانکاری ملی ہے کہ ہزاری باغ کے جس شخض کو حراست میں لیا گیا ہے وہ احتشام کا قریبی رشتے دار ہے اور کئی برسوں سے جھارکھنڈ میں مقیم تھا۔ جھارکھنڈ پولیس نے اس شخص سے لمبی پوچھ تاچھ کی ہے۔ اس نے بتایا کہ لشکر کے آقا دہلی سمیت کئی بڑے شہروں میں خطرناک بم دھماکے کرنے کی تیاری میں لگے ہوئے ہیں۔ احتشام ہزاری باغ میں شفاعت اور کچھ دیگر لوگوں کی مدد سے وہیں پر خطرناک بم تیار کراتا تھا جنہیں دیش کے الگ الگ حصوں میں بھیجا جانا تھا۔ بدھوار کو جن دہشت گردوں کو پکڑا گیا ہے وہ دہلی کے تغلق آباد میں کرائے پر رہتے تھے۔ جب انہیں سرحد پار سے ہدایت ملتی تھی تو وہ دہلی کے کسی بھیڑ بھاڑ والے علاقے میں بم دھماکے کریں، تو اس کے لئے ان لوگوں نے چاندنی چوک کی کپڑا مارکیٹ کا انتخاب کیا۔ یہاں شام کے وقت ہزاروں لوگوں کی بھیڑ ہوتی ہے۔ پوچھ تاچھ کے دوران پکڑے گئے آتنک وادیوں نے بتایا کہ اگر وہ لوگ پولیس کے قبضے میں نہ آتے تو بدھوار کی شام چاندنی چوک دھماکوں سے دہلانے کا پلان تھا۔ 18 مقامات پر دھماکے کرنے کا ارادہ تھا۔ ان کے نشانے پر کوئی اہم شخصیات نہیں تھیں بلکہ وہ بھیڑ بھاڑ والے مقامات پر دھماکے کرکے دہشت پھیلانا چاہتے تھے۔ دہشت گردی مشنوں کو ناکام کرنے کے لئے دہلی، جھارکھنڈ، جموں و کشمیر کی پولیس اور مرکز کی سکیورٹی ایجنسیوں کو مبارکباد۔ بہتر تال میل سے یہ سازش ناکام کی جا سکی ہے۔
Anil Narendra, Bomb Blast, Daily Pratap, Delhi, ISI, Lashkar e Toeba, Terrorist, Vir Arjun

درندگی کی ساری حدیں پار کرتے ہوئے دہلی کے شہری



Published On 3 March 2012
انل نریندر

پچھلے کئی دنوں سے اخبارات میں دہلی کے بدنام زمانہ لوگوں کی درندگی کی خبریں شائع ہوئی ہیں۔ان میں بچیوں سے بدفعلی کے واقعات نے ایک بار پھر دہلی واسیوں کو شرمسار کردیا ہے۔ ان واقعات سے سوال اٹھ رہا ہے کہ آخر دہلی میں اتنی درندگی کیوں بڑھ رہی ہے؟ منڈکا کے ایک سکیورٹی گارڈ پر ایک چھ سال کی بچی سے بد تمیزی کا الزام ہے۔ پولیس نے اجے پرساد نامی مجرم کو گرفتار کرلیا ہے۔ 20 سالہ اجے ایتوار کی شام 4 بجے ایک پھل فروش کی بچی کو مچھلی کھلانے کے بہانے لے گیا۔ بچی کے والد کو پہلے اس پر شبہ نہیں ہوا لیکن جب معاملہ ہوا تو وہ حیرت زدہ رہ گیا۔ پولیس کے مطابق اجے بچی کو ایک کھلے میدان میں لے گیا وہاں اس کے ساتھ بدفعلی کی کوشش کی گئی بعد میں بچی روتی ہوئی آئی اور اپنی ماں کو سارے واقعے کے بارے میں بتایا۔ اس سے ایک دن پہلے دوارکا علاقے میں ایک 16 سال کی لڑکی کے ساتھ آبروریزی کا معاملہ سامنے آیا۔ ایک فارم ہاؤس کے 50 سالہ سکیورٹی گارڈ نند کمار نے پاس میں مقیم لڑکی کو اغوا کرلیا اور پاس کے میدان میں لے جاکر اس کی آبروریزی کی۔ اس نے لڑکی کو دھمکی دی کہ اگر اس نے گھر پر بتایا تو وہ اسے جان سے ماردے گا۔ پولیس کے مطابق نندکمار لڑکی کا رشتے دار ہے اور اسے کافی وقت سے جانتا تھا۔ دہلی چھاؤنی میں ایک فوج کے ملازم پر اپنے دوست کی بیوی کے ساتھ آبروریزی کا الزام ہے۔ پولیس کے مطابق روندر فوج میں سول محکمے میں کام کرتا ہے اور خاتون اور اس کے شوہر کو پہلے سے جانتا تھا۔ واقعہ پیر کی صبح قریب11:30 بجے کا ہے۔ روندر صدر بازار میں واقع اپنے دوست کے یہاں گیا تھا۔ وہاں اس کی بیوی گھر میں اکیلی تھی پولیس کے مطابق آبروریزی کے بعد روندر غائب ہوگیا لیکن پولیس نے اسے پکڑ لیا۔ بتایا جاتا ہے کہ خاتون کا شوہر فوج میں ہیڈ کانسٹیبل ہے۔ روندر خاتون کے گاؤں کا رہنے والا ہے اور وہ اکثر گھر پر آتا جاتا تھا۔ گوڑگاؤں میں مالک کی ہونڈا سٹی کار میں ہی ڈرائیور نے نوکرانی کے ساتھ آبروریزی کردی۔ پولیس نے ایک گاؤں سے ڈرائیور کو گرفتار کرلیا ہے اسے 14 دن کی جوڈیشیل ریمانڈپر بھیج دیا گیا ہے۔ سیکٹر 48 کے باشندے ایئر فورس سے ریٹائرڈ افسر مکیش کی بیٹی کی شادی ایتوار کی رات ڈھولہ کنواں میں ہورہی تھی ۔ شادی کے بعد مکیش ناتھ نے اپنے ڈرائیور سونی کے ساتھ تین گھریلو نوکروں کو گوڑ گاؤں بھیجا۔ اس میں اس کی ساس کی نوکرانی بھی تھی۔ سونو نے دونوکروں کو ساہنا روڈ پر اتاردیا۔ الزام ہے کہ اس کے بعد ڈرائیور نے ان کے ساتھ آبروریزی کی۔ دہلی کی ایک عدالت نے پچھلے دنوں پارک میں بنی چھتری کے نیچے رہ رہی 50 سالہ خاتون کو اغوا کر اور آبروریزی معاملے میں19 سالہ لڑکے پرہلاد کو10 سال کی قید مشقت کی سزا سنائی ہے۔ایڈیشنل سیشن جج کامنی لا کی عدالت نے قصوروار پر17 ہزار روپے کا جرمانہ بھی کیا ہے۔ دکھ سے کہنا پڑتا ہے دہلی میں حیوانیت کی ساری حدیں پار ہورہی ہیں اور اب تو راجدھانی کو 'ریپ کیپیٹل ' کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ خواتین سے متعلق کرائم تو ساری دنیا میں ہوتے ہیں لیکن 6 سال کی بچی سے لیکر80 سال کی بوڑھیا کے ساتھ جب آبروریزی یا بد فعلی ہو تو یہ چونکا دیتا ہے کہ ہم کس طرف جارہے ہیں۔ اس طرح تو آدمی اور جانور میں کوئی فرق نہیں رہے گا۔
Anil Narendra, Crime, Criminals, Daily Pratap, Delhi, delhi Police, Vir Arjun

02 مارچ 2012

چین کو دیا انٹونی نے کرارا جواب



Published On 2 March 2012
انل نریندر

چین بھارت سے ٹکر لینے سے باز نہیں آتا، کچھ نہ کچھ شوشہ چھوڑتا رہتا ہے۔ تازہ قصہ ہندوستان کے وزیر دفاع اے کے انٹونی کے دورہ اروناچل پردیش کو لیکر ہے۔ اروناچل پردیش پر دعوی جتاتے ہوئے چین نے پھر ہندوستان کو آنکھیں دکھانے کی کوشش کی ہے۔اس مرتبہ ڈریگن وزیر دفاع اے کے انٹونی کے دورہ اروناچل پردیش سے لیکر بوکھلا گیا ہے۔ اس نے ہندوستان کو کھلے عام آگاہ کیا ہے کہ بھارت کو ایسے کسی بھی قدم سے بچنا چاہئے جس سے سرحدی تنازعہ مزید پیچیدہ ہونے کا اندیشہ ہو۔ چینی وزارت خارجہ کے ترجمان ہانگلی نے سرحدی علاقوں میں امن اور استحکام بنائے رکھنے کے لئے بھارت سے چین کے ساتھ مل کر کام کرنے کوکہا ہے۔ چین کی سرکاری ایجنسی ژنہوا کے مطابق انہوں نے کہا کہ سرحدی تنازعے پر چین اپنے موقف پر قائم ہے اور اس کا نظریہ بالکل صاف ہے۔ دراصل اروناچل جنوبی تبت کا حصہ ہونے کا دعوی کررہا ہے۔ چین کسی بھی سینئر ہندوستانی سرکاری نمائندے کی ریاست کے دورہ پر اپنا اعتراض جتا رہا ہے۔ وہ اروناچل کے لوگوں کو ویزا دینے سے بھی انکار کرتا رہا ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ دونوں ملکوں کے مخصوص نمائندوں کے درمیان سرحدی تنازعے پر بات چیت کے 15 دور ہوچکے ہیں۔ جنوری سے جون2010 میں سکم سے لگے علاقے میں چینی فوج نے 65 بار ہندوستانی علاقے میں گھس پیٹھ کی کوشش کی۔ حالانکہ حکومت ہند نے ہمیشہ تنازعے کو ٹھنڈا کرنے اور اسے ہل کرنے کی کوشش کی ہے لیکن اس بار ہمیں تسلیم کرنا ہوگا کہ وزیر دفاع اے ۔ کے انٹونی نے چین کو منہ توڑ جواب دیا ہے۔ ایسی زبان چین سمجھ سمجھتا ہے۔ اے ۔ کے انٹونی نے چین کو اس اشو کو لیکر پیر کو کھری کھوٹی سنائی۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی رائے زنی بیحد افسوسناک اور قابل اعتراض ہے۔ چین کے اس رویئے پر سخت نکتہ چینی کرتے ہوئے وزیر دفاع اے ۔ کے انٹونی نے کہا کشمیر کی طرح ہی اروناچل بھی بھارت کا اٹوٹ حصہ ہے اور بطور وزیر دفاع وہاں جانا ان کا حق اور فرض ہے۔ ایک پروگرام سے نمٹنے کے بعد اخبار نویسوں کے سوالوں کے جواب میں وزیر موصوف نے کہا کہ وہ اروناچل پردیش کی یوم تاسیس کی 25 ویں سالگرہ پر منعقدہ تقریب میں حصہ لینے گئے تھے اور یہ ان کا حق بنتا ہے۔ وزیر دفاع نے کہا مجھے یہ رد عمل دیکھ کر کافی حیرانی ہوئی ہے اس طرح کا تبصرہ عام طور پر افسوسناک ہی مانا جاتا ہے اور اس پر انہیں اعتراض ہے۔ ایتوار کو بنگلورو سے وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا نے چین کے رد عمل پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا تھا کہ اروناچل پردیش بھارت کا اٹوٹ حصہ ہے اور اس معاملے میں اسے دخل اندازی نہیں کرنی چاہئے۔ وزارت خارجہ کے اعلی ذرائع نے تو بیجنگ کو یہ کہہ کر پیغام دیا کہ اروناچل میں جنتا نے ہندوستانی لیڈروں کو جمہوری طریقے سے ہوئے چناؤ میں ووٹ دیا ہے اس میں اپنے آپ میں ہی بیجنگ کو جواب دیکھ لینا چاہئے۔ چین کو کھری کھوٹی سناتے ہوئے وزیر دفاع نے نیوکلیائی آبدوز کو ہندوستانی بحریہ میں شامل کرنے پر اعتراض جتا رہے پاکستان کو بھی دو ٹوک انداز میں جواب دیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اپنی سلامتی کے لئے اپنی فوجی صلاحیت بڑھا رہا ہے نہ کہ اس کا ارادہ کسی سے ٹکراؤ کا ہے۔ ابھرتے سلامتی پس منظر میں بھارت ہر ضروری فوجی قدم اٹھائے گا۔ ہم وزیر دفاع اے ۔ کے انٹونی کے چین اور پاکستان دونوں کو دو ٹوک جواب دینے کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ امید کرتے ہیں کہ مستقبل میں بھی ایسا ہی ہوگا تاکہ چین کو سمجھ میں آجائے کہ وہ اب بھارت کو اتنی آسانی سے نہیں ڈانٹ سکتا۔
A K Antony, Aksai Chin, Anil Narendra, China, Daily Pratap, Sikkim Chief Minister, Vir Arjun

آیا تو تھا قبر سے سونا نکالنے پر بن گیا پاکستانی جاسوس



Published On 2 March 2012
انل نریندر

پاکستان کی خفیہ ایجنسی نے پچھلے کچھ دنوں سے بھارت میں جاسوسی کرنے کے طور طریقوں میں تھوڑی تبدیلی کی ہے۔ پچھلے کچھ دنوں میں پکڑے گئے پاکستانی جاسوسوں سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ آئی ایس آئی اب ایسے لوگوں کو بھارت جاسوسی کرنے کے لئے بھیج رہی ہے جن کے پکڑے جانے سے انہیں کوئی زیادہ فرق نہ پڑے۔ وہ ایسے لوگوں کو تلاشتی ہے جن کا بھارت سے کوئی رشتہ ہوتا ہے اور جوکرمنل ذہنیت کے ہوتے ہیں۔ جو پیسہ کمانے کے لئے کچھ بھی کرنے کو تیار ہوجاتے ہیں۔ وہ بھارت میں ہی آکر بس جاتے ہیں اور اپنا کام تب تک کرتے رہتے ہیں جب تک وہ پکڑے نہ جائیں۔ حال ہی میں دہلی پولیس نے ایک ایسے ہی جاسوس کو پکڑا ہے۔ اس کی کہانی کسی بالی ووڈ فلم کی کہانی سے کم نہیں ہے۔ آیا تو وہ گووا کی ایک قبر میں دبے سونے کو نکالنے تھا لیکن وقت نے ایسی پلٹی ماری کے وہ جاسوس بن گیا۔ ای میل اور چیٹنگ سے یہ شخص پاکستان میں بیٹھے اپنے آقاؤں کو انڈین آرمی کے متعلق اہم جانکاریاں پہنچا رہا تھا۔ہندوستانی سکیورٹی ایجنسیوں کو گمراہ کرنے کیلئے اس نے باقاعدہ کولکتہ میں شادی بھی کرلی تھی ا س کے دو بچے بھی ہیں۔ اپنا کام کرنے کے لئے اس نے فوج کے ایک ریٹائرڈ افسر کے یہاں ڈرائیور کی نوکری کر لی تھی۔ اس شخص کا نام ہے کامران اختر۔ اس کی کہانی تب شروع ہوئی جب اسے ملنے اس کا چاچا محمد سلیم پاکستان گیا تھا۔ کامران کراچی میں چوری کیا کرتا تھا۔ چاچا نے گووا میں چوری کرنے کے لئے کامران کو بھارت آنے کی دعوت دی۔ 1992ء میں کامران پاکستانی پاسپورٹ پر ہندوستان آیا۔ اٹاری بارڈر کے راستے کامران کولکتہ آیا اور چاچا سلیم کے یہاں رکا۔ یہاں سے دونوں گووا گئے ۔ سلیم کا ایک واقف کار اشرف خاں بھی ان کے ساتھ گیا۔ جس جگہ پر بنی قبر میں دبے سونے کو انہیں چرانا تھا وہاں ایک علیشان عمارت بن چکی تھی لہٰذا ان کا پلان فیل ہوگیا۔ اس کے بعد انہوں نے وہاں چوریاں شروع کردیں لیکن دوسری ہی چوری میں وہ پکڑے گئے اور تین سال تک جیل میں رہے۔جیل سے چھوٹنے کے بعد کامران کولکتہ پہنچا اور وہاں پر اس نے آصف حسین نام سے ہندوستانی پاسپورٹ بنوا لیا۔ایک مہینے کا پاکستانی ویزا لیکر وہ پاکستان چلا گیا لیکن اس کے بارے میں آئی ایس آئی اور پاکستان فوجی انٹیلی جنس کو پتہ چل گیا۔ انہوں نے اسے پکڑ کر جاسوس بنانے کا فیصلہ کیا۔ ٹریننگ کے ساتھ ساتھ اسے ہندی بھی سکھائی گئی۔ اس کے بعد آصف حسین کو نیپال بھیجا گیا اور وہاں سے 1997ء میں وہ سڑک کے راستے کولکتہ پہنچا۔اس کے بعد اس نے ریڈیمیٹ گارمینٹ کا کام شروع کا۔ دو سال بعد اس نے 24 پرگنہ کی باشندہ ایک لڑکی سے شادی کرلی۔ اس نے آصف حسین نام سے شناختی کارڈ، پین کارڈ، ڈرائیوننگ لائسنس بھی بنوا لیا۔ بینک اکاؤنٹ کھول لیا۔ بینک کھاتے میں پاکستان سے سعودی عرب ہوتے ہوئے آیا پیسہ جمع کرالیا۔ کولکتہ میں اس نے ایک فوجی افسر کے یہاں ڈرائیور کی نوکری حاصل کرلی۔ افسر کے ساتھ اسے ایسٹرن کمان ہیڈ کوارٹر ولیم فورٹ جانے کا بھی موقعہ ملا۔ یہاں دودھ بیچنے والوں اور ڈاک دینے والوں کو اس نے اپنا ذریعہ بنا لیا۔ دہلی میں ایسے ہی کسی سورس سے خفیہ دستاویز حاصل کرنے کے لئے وہ آیا تھا۔ دستاویز حاصل کرنے کے بعد وہ نئی دہلی ریلوے اسٹیشن پر پہنچا تھا جہاں اسے دہلی پولیس کی کرائم برانچ نے گرفتار کرلیا ہے۔ یہیں سے ایک دلچسپ کہانی شروع ہوئی۔ آیا تو تھا سونا نکالنے اور بن گیا جاسوس۔
Anil Narendra, Daily Pratap, ISI, Pakistan, Spy, Vir Arjun

01 مارچ 2012

ہم جنس رشتوں کے آئینی جواز پر گرمایا معاملہ



Published On 1 March 2012
انل نریندر
ہم جنس رشتوں کو نہایت غیر اخلاقی قرار دے کر انہیں جرائم کے زمرے سے باہر رکھنے پر نامنظوری ظاہر کرنے کے بعد حکومت ہند نے اپنا موقف پلٹ لیا ہے۔ وزارت داخلہ کی جانب سے ایڈیشنل سالیسٹر جنرل پی پی ملہوترہ نے سپریم کورٹ میں دلیل پیش کی کہ سیملنگ تعلقات سماجی نظام کے منافی ہیں اور ہندوستانی سماج بیرونی ممالک میں رائج روایتوں کو نہیں اپنا سکتا۔ ملہوترہ نے جسٹس جی ایس سنگھوی اور جسٹس ایس جے مکھ اپادھیائے کی ڈویژن بنچ کے سامنے کہا ہم جنس رشتوں سے بیماریاں پھیلنے کے کافی امکانات ہیں۔ سپریم کورٹ نے گذشتہ بدھ کو اس سلسلے میں ہم جنس حق مخالف گروپوں سے سوال جواب کئے تھے۔ عدالت عظمیٰ نے سیملنگ حق مخالف گروپ سے دہلی ہائی کورٹ کے فیصلے سے اختلاف کرتے ہوئے طے میعاد کا دائرہ بڑھانے اور اپنی دلیلوں کو صرف جسمانی رشتوں تک محدود نہ رکھنے کو کہا تھا کیونکہ اشو پر قطعی فیصلے میں وسیع پیچیدگیاں کھڑی ہوں گی۔ عدالت نے یہ بھی سوال کیا کہ دیش میں ہم جنس لوگوں کے خلاف اس طرح کی سرگرمیوں میں شامل ہونے کے لئے درج معاملوں کی تعداد کتنی ہے؟ عدالت نے یہ بھی کہا کہ دو بالغوں کے درمیان رضامندی کی بنیاد پر سیملنگ تعلق کو کرائم کے زمرے سے الگ کرنے کا دہلی ہائی کورٹ کا فیصلہ دور رس اثر ڈالنے والا ہے۔ اس کے سبھی پہلوؤں پر سنجیدگی سے غور ہونا چاہئے۔ بنچ نے جاننا چاہا مرد ہم جنس (گے سیکس) کو کون کون سے دیشوں میں جرائم مانا گیا ہے۔ سیملنگ کمیونٹی کے خلاف آئی پی سی کی دفعہ 377 کے تحت مقدمہ درج کرنے کی اجازت ہے۔ سیملنگ کمیونٹی دفعہ 377 کو غلط مانتی ہے۔کا کہنا ہے کہ اس قانون کے ذریعے انہیں بے وجہ پریشان کیا جاتا ہے۔ بنچ کی رائے تھی کہ ہائی کورٹ کے فیصلے کا اثر دیگر قوانین پر بھی پڑے گا۔ قابل ذکر ہے کہ 2009ء میں سیملنگ رشتوں کو جب جائز مان لیا گیا تھا جب دہلی ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں ایسے رشتوں کو جرائم کے زمرے سے باہر کردیاتھا۔ دیش کی کئی سماجی ،سیاسی اور مذہبی تنظیموں نے اس فیصلے پر سخت اعتراض ظاہر کیا تھا۔
اس فیصلے کے خلاف آدھا درجن اپیلیں سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہیں۔ عدالت عظمیٰ نے ہائی کورٹ کے فیصلے کی مخالفت کرتے ہوئے وقت اور نظریئے کے دائرے کو بڑھانے کو کہا تھا۔ اس سے پہلے بنچ نے کہا تھا کہ ہم جنسی کو بدلتے سماج کے پس منظر میں دیکھا جانا چاہئے۔ بنچ نے 'لو ان ریلیشن شپ' سنگل پیرنٹ اور سروگیسی کا حوالہ دیا تھا۔ اطفال تحفظ کمیشن کی جانب سے کورٹ کے فیصلے کی مخالفت میں دلیل دی تھی کہ ہائی کورٹ کا فیصلہ غیر ملکی عدالتوں کے فیصلے پر منحصر کرتا ہے۔ بھارت کی تہذیب بیرونی ممالک سے الگ ہے۔ اسے ہندوستانی معاشرے سے دیکھا جانا چاہئے۔ سماعت کی پچھلی تاریخ پر سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ غیر معمولی اور غیر فطری ہم جنس پرستی میں فرق ہے۔ قدرت کے برعکس جنسی خواہشات کو غیر فطری طریقے سے کہا جاسکتا ہے لیکن اسے غیر فطری کہنا مناسب نہیں ہوگا۔ سیملنگ کو بدلتے ہوئے سماجی پس منظر کے ساتھ دیکھنے کی ضرورت ہے۔ آج سے 20-25 سال پہلے تک ان چیزوں کو غیر اخلاقی مانا جاتا تھا اب یہ قابل قبول ہیں۔ ہائی کورٹ کے 2 جولائی 2009ء کے فیصلے پر دیش بھر میں سخت منفی رد عمل سامنے آیا تھا۔ عدالت نے رضامندی کی بنیاد پر دو مردوں کے درمیان ہم جنسی کو منظوری دے دی تھی۔ راضی بالغوں کے پس منظر میں دفعہ377 کے تحت اسے غیر قانونی قرار دینے کی سہولت کو ہائی کورٹ نے غیر آئینی قرار دیا تھا۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Gay, Sex, Supreme Court, Vir Arjun

ناروے سرکارکے قانون قدرت کے قانون سے بالاتر نہیں ہیں



Published On 1 March 2012
انل نریندر
ہم ناروے کے قوانین اور دیش کا احترام کرتے ہیں اور یہ بھی مانتے ہیں کہ ہر ملک کو اپنا قانون بنانے کی آزادی ہے۔ اگر وہاں کی عوام کسی قانون پر عمل کرتی ہے تو حکومت اسے اسی روایت کی حمایت کرتی ہے تو سرکار اسے قانون بنا سکتی ہے لیکن کچھ ایسے قانون بھی ہوتے ہیں جو اوپر والا بناتا ہے اور اسے ہر آدمی ، حکومت و دیش کو ماننا چاہئے۔ ایسے ہی قوانین میں بچوں کی پرورش ماں باپ کوکرنے کا حق ہے۔ آپ چھوٹے بچوں کو ان کے ماں باپ سے الگ کررہے ہیں تو یہ کیسا عجیب قانون ہے۔ ایسا ہی ایک قانون آج کل موضوع بحث ہے۔ دراصل پچھلے سال نومبر میں ناروے کے حکام نے ایک شخص انوروپ اور ان کی اہلیہ سگاریکا مہاچاریہ کے ساتھ رہ رہے اس کے بچوں کو سرکار کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا۔ بچوں کے نام ہیں ابھیگیان تین سال اور ایشوریہ ایک سال۔ پیشے سے جغرافیائی سائنسداں انوروپ بھٹاچاریہ پر ناروے سرکار کا الزام ہے کہ وہ اپنے ہاتھوں سے بچوں کو کھانا کھلاتے تھے، انہیں اپنے ساتھ ہی بستر پر سلاتے تھے، بچوں کے نانا منتوش چکرورتی نے کہا کہ انہیں اپنے بچوں کو واپس لانے کی مہم میں ساری دنیا کی حمایت مل رہی ہے۔ ادھر نئی دہلی میں ناروے سفارتخانے کے سامنے چار روزہ دھرنا شروع ہوچکا ہے۔ پہلے دن لوگوں اور سیاستدانوں سے ملی حمایت سے لگتا ہے کہ اگر ناروے حکومت انوروپ بھٹاچاریہ کے تین سال کے بیٹے ابھیگیان اور ایک سال کی بیٹی ایشوریہ کو بھارت بھیجنے میں اپنی بندشوں کو نہیں چھوڑتی تو یہ تحریک ملک گیر ہوسکتی ہے۔ پیر کو امریکہ، برطانیہ، جرمنی، آسٹریلیا، فرانس، کینیڈا، سوئٹزرلینڈ سمیت 14 سے زائد ممالک میں اڈوپٹ کرنے والے اور ان کے خاندانوں کے افراد نے میل کے ذریعے ناروے کی حکومت کی مذمت کی ہے۔ پیغامات میں کہا گیا ہے کہ وہ ان کے ساتھ ہیں۔ یہ لڑائی انسانیت کے تحفظ کے لئے ہے۔ پہلے سے طے پروگرام کے تحت پیر کو صبح 11 بجے لوگ ناروے سفارتخانے کے باہر پہنچے اور کچھ وقت کے بعد ہی پولیس نے انہیں چانکیہ پوری مارگ کی طرف بھیج دیا جہاں پر وہ دھرنے پر بیٹھ گئے۔ دھرنے کے پہلے دن ابھیگیان اور ایشوریہ کے نانا ،نانی اور ان کے کنبے کے افراد ،لوک سبھا میں اپوزیشن کی لیڈر سشما سوراج ،مارکسی ایم پی برندا کرات اور مارکسوادی لیڈر عینی راجہ ، مقامی ناروے سفارتخانے کے سامنے دھرنے پر بیٹھ گئے۔مظاہرے میں شرکت کررہے لیڈروں نے کہا کہ وہ اس مسئلے کو 12 مارچ سے شروع ہونے والے پارلیمنٹ کے اجلاس کے دوران بھی اٹھائیں گے۔
سشما جی نے کہا کہ ناروے حکومت کا یہ قدم انسانیت مخالف ہے اس لئے اسے چاہئے کہ بغیر وقت گنوائے بچے کو ان کے رشتے داروں کو سونپنے کی پہل کرے۔ مارکسی لیڈر برندا کرات کا کہنا ہے کہ جب بچوں کے والدین و رشتے دار اپنے بچوں کو بھارت لانا چاہتے ہیں تو پھر انہیں کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہئے۔ حکومت ہند نے بھی معاملے میں سرگرمی دکھاتے ہوئے وزارت داخلہ میں سکریٹری نے ناروے کے وزیر خارجہ جونس گار اسٹور سے ملاقات کی۔ انہوں نے بچوں کو ان کے والدین کو لوٹانے کیلئے درخواست کی۔ ذرائع کے مطابق اس پورے معاملے پر ناروے کے رویئے سے بھارت بہت مایوس ہے۔ ملاقات مثبت رہی اور امید کی جانی چاہئے کہ ناروے کی حکومت جلد بچوں کو ماں باپ کو سونپ دے گی۔ وہ بیشک ایسا بے تکا قانون اپنے شہریوں پر تھونپے لیکن اس دیش میں رہ رہے غیر ملکیوں پر نہیں تھونپ سکتی۔

Anil Narendra, Children Separated, Daily Pratap, Norway, Vir Arjun

29 فروری 2012

Check out Daily Pratap Urdu Newspaper

facebook
46 people like this

Check out Daily Pratap Urdu Newspaper


Hi,

Daily Pratap Urdu Newspaper is inviting you to join Facebook.

Once you join, you'll be able to connect with the Daily Pratap Urdu Newspaper Page, along with people you care about and other things that interest you.

Thanks,
Daily Pratap Urdu Newspaper

To sign up for Facebook, follow the link below:

باغی یدی یروپا بنے گڈکری کا درد سر



Published On 29 February 2012
انل نریندر
کرناٹک میں بھاجپا کے سامنے عجیب و غریب صورتحال کھڑی ہوگئی ہے۔ ابھی اسمبلی انتخابات میں تین ممبران کا ایوان کے اندر فحاشی فلمیں دیکھنے کا معاملہ رکا نہیں تھا کہ سابق وزیر اعلی بی ایس یدی یروپا نے نیا ہنگامہ کھڑا کردیا ہے۔ انہوں نے اپنا دوبارہ تقرر کئے جانے کے معاملے کو لیکر کھلی بغاوت کردی ہے۔ ادھر بھاجپا پردھان نتن گڈکری نے ان کی دھمکیوں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے صاف کہہ دیا ہے کرناٹک میں کوئی سیاسی بحران نہیں اور ریاست میں موجودہ وزیر اعلی ڈی وی سدانند گوڑا کو بدلنے کے امکان سے انکار کردیا ہے۔ حالانکہ گڈکری نے ناراض چل رہے یروپا کو یہ کہہ کر مطمئن کرنے کی کوشش کی کہ پارٹی ان کا احترام کرتی ہے اور سدانند گوڑا فی الحال سرکار کی قیادت کررہے ہیں اس لئے لیڈر شپ میں تبدیلی کا سوال ہی نہیں اٹھتا۔ یدی یروپا نے اپنی طاقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ممبران اسمبلی ، ودھان پریشدوں کے ممبروں اور ممبران پارلیمنٹ کو دوپہر کا ظہرانہ بھی دیا۔یدی یروپا نے بنگلورو میں پارٹی لیڈر شپ پر نشانہ لگاتے ہوئے کہا پچھلے سال جب انہیں وزیر اعلی کا عہدہ چھوڑنے کیلئے کہا گیا تھا تب پارٹی اعلی کمان نے وعدہ کیا تھا کہ انہیں چھ مہینے میں پھر وزیر اعلی بنادیا جائے گا۔ پہلے پارٹی لیڈر شپ کو 27 فروری تک خود کو وزیر اعلی بنانے کا وقت دینے والے یدی یروپا نے کہا میں وزیر اعلی کے عہدے کا بھوکا نہیں ہوں لیکن مرکزی لیڈرشپ نے مجھے چھ مہینے کے بعد پھر وزیر اعلی کے عہدے پر بٹھانے کا وعدہ کیا تھا اس لئے میں کرسی پانے کے لئے دہلی گیا تھا۔ انہوں نے اپنی 70 ویں سالگرہ پر پسماندہ طبقہ فورم کی جانب سے منعقدہ ریلی کو خطاب کیا تھا۔
مرکزی لیڈر شپ سے ناراض سابق وزیر اعلی نے کہا وہ لیڈر شپ تبدیلی کا اشو سلجھانے کیلئے دہلی میں تین مارچ کو منعقدہ منتھن کور کمیٹی کی میٹنگ میں شامل نہیں ہوں گے۔اس کی جگہ وہ پوری ریاست کا دورہ کریں گے تاکہ پارٹی مضبوط ہو۔ خبر تو یہ بھی ہے کہ کچھ کانگریسی لیڈر بھاجپا کو جھٹکا دینے کیلئے باغی یدی یروپا کو کانگریس میں شامل کرانے کیلئے زور دار کوشش میں لگ گئے ہیں۔
کانگریس میں آنے کی بات چیت بھی ان سے کی گئی ہے لیکن 10 جن پتھ نے کرناٹک کے اپنے لیڈروں کو صاف پیغام بھیج دیا ہے کہ کرپشن کی کیچڑ میں لت پت یدی یروپا کوکسی حالت میں کانگریس میں کسی حالت میں اینٹری نہیں دی جاسکتی۔ ذرائع کے مطابق ایک سابق مرکزی وزیر اور کرناٹک کانگریس کے سینئر لیڈر یدی یروپا کے سلسلے میں ایک سیاسی تجویز لے کر آئے تھے۔ انہوں نے پارٹی کے دو قومی جنرل سکریٹریوں کو بھی اس کے لئے تیار کرلیا تھا لیکن یدی یروپا کو کانگریس میں لیا جائے تو ریاست میں بھاجپا ہمیشہ کے لئے کمزور پڑ جائے گی لیکن ہائی کمان اس کے لئے تیار نہیں ہے۔ جو لوگ اس تجویز کی پیروی کررہے تھے انہیں ڈانٹ پڑی ہے۔ ان سے کہا گیا ہے کہ اربوں روپے کے کرپشن میں شامل سابق وزیر اعلی کو کانگریس میں لے لیا گیا تو اس سے قومی سطح پر کانگریس کے لئے غلط پیغام جائے گا۔ بھاجپا لیڈر شپ کے لئے کرناٹک ایک چنوتی بن گئی ہے۔ جنوبی ہندوستان میں واحد بھاجپا سرکار کو بچانے کیلئے پارٹی لیڈر شپ کو اس معاملے میں جلد سے جلد صلح نامہ پارٹی کے مفاد میں ہی ہوگا۔ اقتدار کے بھوکے یدی یروپا کو کیسے کنٹرول کیا جائے یہ گڈکری کے لئے ایک چیلنج ہے۔
 Anil Narendra, BJP, Congress, Daily Pratap, Karnataka, Nitin Gadkari, Vir Arjun, Yadyurappa

کیجری ۔۔۔۔ بوال



Published On 29 February 2012
انل نریندر
ٹیم انا کے بڑبولے ممبر اروند کیجریوال نے تو ساری حدیں پار کردی ہیں۔ گریٹر نوئیڈا میں ایک چناؤ ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ میں چور، لٹیرے اور آبروریز بیٹھے ہیں ان سے انہیں کوئی امید نہیں ہے۔ کیجریوال نے کہا پارلیمنٹ میں 163 ایم پی ایسے ہیں جن کے خلاف گھناؤنے جرائم کے مقدمے چل رہے ہیں۔ کیجریوال کے مطابق پارلیمنٹ دیش کا سب سے بڑا مسئلہ بنتا جارہا ہے اور جب تک اس کا کردار نہیں بدلا جائے گا دیش میں بہتری نہیں آسکتی۔ انہوں نے آر جے ڈی کے لالو پرساد یادو ، سپا کے ملائم سنگھ یادو پر جم کر نشانہ لگایا اور کہا کہ ایسے لوگ پارلیمنٹ میں کبھی بھی لوکپال بل پاس نہیں ہونے دیں گے۔ کیجریوال کے اس تلخ رویئے کے خلاف سبھی پارٹیوں نے ایک آواز میں ناراضگی ظاہر کی لیکن کیجریوال کو شاید اس سے کوئی فرق نہیں پڑا۔ اگلے ہی دن انہوں نے ٹوئٹر پر لکھ دیا کہ پارلیمنٹ اور سرکار مجرموں کے ہاتھ یرغمال ہے۔
انہوں نے میڈیا سے کہہ دیا کے چناؤ ریلی میں کچھ بھی غلط نہیں کہا تھا ایسے میں معافی مانگنے کی کیا ضرورت ہے؟ انہوں نے دوہرایا کہ اگر پارلیمنٹ میں سینکڑوں جرائم پیشہ بیٹھے ہیں تو اس حقیقت کے بارے میں بولنا گناہ کیسے ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ میں چور، گریکٹ جیسے معمولی جرائم پیشہ نہیں وہاں تو 15 ایسے ایم پی ہیں جن پر قتل کا مقدمہ چل رہا ہے۔ 23 ایسے ایم پی ہیں جن پر اقدام قتل کے معاملے چل رہے ہیں،13 ایم پی ایسے ہیں جن پر اغوا کے مقدمے چل رہے ہیں،11 پر دھوکہ دھڑی کے معاملے ہیں۔ اروند کیجریوال کے اس بیان سے سیاسی پارٹیوں کا بھڑکنا سمجھ میں آتا ہے۔ کیجریوال نے ساری حدیں پار کردی ہیں۔ کچھ ایم پی مجرمانہ پس منظر کے ہو سکتے ہیں لیکن یہ کہنا کے پارلیمنٹ ہی چوروں اور لٹیروں کا ڈیرا ہے، غلط ہے۔ آخر یہ پارلیمنٹ پہنچے کیسے؟ جنتا نے انہیں کیونکر بھیجا۔قصور جنتا کا زیادہ ہے یا ان قوانان کا جو ایسے کردار کے امیدواروں کو چناؤ لڑنے سے نہیں روکتے۔ پھر پارلیمنٹ میں صاف ستھری ساکھ والے ممبران پارلیمنٹ کی بھی اکثریت ہے۔ ہر ایک کو ایک ہی تھالی کا چٹا بٹا کہنا غلط ہے اور یہ اخلاقیات سے پرے ہے۔ ظاہر ہے کہ جیسے ہی پارلیمنٹ کا اجلاس چلے گا پہلا کام ممبران اروند کیجریوال کو کٹہرے میں کھڑا کریں گے اور انہیں سزا ملنا طے ہے۔ کانگری کے ترجمان راشد علوی نے کہا کہ کیجریوال کا بیان رائے زنی کے لائق نہیں لیکن اس طرح کے بیان جمہوریت اور پارلیمنٹ کی ہی نہیں جنتا کی بھی بے عزتی ہے۔ سپا کے سکریٹری جنرل موہن سنگھ کا کہنا ہے کیجریوال کے منہ سے ایسے الفاظ کا استعمال قابل مذمت ہے۔ باہری اشاروں پر اپنے این جی او کے لئے پیسے بٹورنے کے لئے وہ پارلیمنٹ کو بدنام کررہے ہیں۔ ان کی خبر لی جانی چاہئے کیونکہ کیجریوال تو جمہوری نظام کے ہی دشمن بن گئے ہیں۔ آر جے ڈی پردھان لالو پرساد یادو نے کل کہا کہ کیجریوال تو غیر ملکی ایجنٹ ہیں۔ لگتا ہے ان کی پارٹی لوک سبھا میں کیجریوال کے خلاف تحریک ملامت لائے گی۔ بھاجپا کے ترجمان پرکاش جاویڈکر نے بھی کیجریوال کے بیان کی نکتہ چینی کی ہے۔ اسے قابل مذمت اور لوگوں کی جمہوریت کے تئیں عقیدت کمزور کرنے والا بتایا ہے جبکہ ٹیم انا کے اہم ممبر کمار بشواس کو سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ کیجریوال کے بیان پر ہنگامہ کیوں برپا ہے؟
Anil Narendra, Arvind Kejriwal, BJP, Congress, Corruption, Daily Pratap, Lalu Prasad Yadav, Parliament, Vir Arjun

28 فروری 2012

کانگریس نے چناؤ مریادا کو تار تار کردیا ہے



Published On 28nd February 2012
انل نریندر
اب کی بار اترپردیش چناؤ میں کچھ کانگریسی لیڈروں نے تو ساری حدیں پار کردی ہیں نہ تو انہیں چناؤ کمیشن کی فکر ہے اور نہ اس کی مان مریادا کی۔ جو منہ میں آتا ہے بول دیتے ہیں یہ نہیں سوچتے کے اس کا پارٹی کے مستقبل پر کیا اثر پڑے گا؟ اس زمرے میں ایک نام ہے مرکزی وزیر شری پرکاش جیسوال کا۔ ابھی آپ کے اس تنازعے کا طوفان رکا نہیں تھا کہ کانگریس کی صوبے میں سرکار نہیں بنی تو صدر راج لگا دیا جائے گا، کہ انہوں نے ایک اور متنازعہ بیان دے ڈالا۔ اترپردیش اسمبلی چناؤ میں لگتا ہے جو زبان مرکزی وزیر بول رہے ہیں یا جو اپنا برتاؤ ظاہر کررہے ہیں کیا وہ کانگریس کی کوئی نئی حکمت عملی تو نہیں ہے؟ اس زبان اور کانگریس کے مرکزی لیڈروں کے برتاؤ میں اس چناؤ کو چناؤ کمیشن بنام کانگریس میں بدل دیا ہے۔ سنیچر کو پھر مرکزی وزیر شری پرکاش جیسوال نے متھرا میں چناؤ ریلی میں کہہ ڈالا کہ راہل اگر چاہیں تو آج آدھی رات کو ہی وزیر اعظم بن سکتے ہیں اور کوئی انہیں ایسا کرنے سے نہیں روک سکتا ، لیکن وہ نہ وزیر اعظم بننا چاہتے ہیں اور نہ وزیر اعلی۔ جیسوال اس سے پہلے وزیر اعلی بننے کی بھی خواہش جتا چکے ہیں۔ چناؤ مہم کے دوران ہی انہوں نے یہ کہہ کر واویلا کھڑا کردیا تھا کہ یوپی میں کانگریس کی سرکار بنتی ہے تو مکھیہ منتری بھلے ہی کوئی بنے لیکن ریمورٹ کنٹرول توراہل گاندھی کے ہی ہاتھ میں ہوگا۔ اپوزیشن نے اس پر سخت رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ہارتی ہوئی کانگریس نے جمہوریت کو مذاق بنا کر رکھ دیا ہے۔ یہ پہلا چناؤ ہے جس میں کانگریس کے سینئر لیڈر الگ الگ زبان بول رہے ہیں۔ راہل گاندھی خود لگاتار دو حکومتوں کو غنڈوں اور چوروں کی حکومت بتا چکے ہیں۔ یہ بات الگ ہے کامن ویلتھ گیمز سے لیکر ٹوجی گھوٹالے میں مرکزی حکومت پر کوئی تبصرہ نہیں کرتے۔ الہ آباد ہائی کورٹ کے سینئر وکیل ستیش شکل نے کہا کہ قانون میں غنڈہ چور کی تشریح طے ہے ، اگر اس دائرے میں کوئی نیتا آتا ہے تو اس کے خلاف کارروائی ہوتی ہے۔ ایسے میں ان الفاظ کا استعمال پوری سرکار کے لئے کیا جانا سمجھ سے پرے ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ اپوزیشن اسے چناؤ میں کانگریسی رویئے کو نیا ضابطہ بتا رہا ہے۔ ایسا لگ رہا ہے کہ مانو کانگریس چناؤ کمیشن سے دو دو ہاتھ کرنے پر تلی ہوئی ہے۔ کانگریس لیڈروں کے بیان پر تمام اپوزیشن پارٹیوں کا احتجاج فطری ہی ہے ۔ سپا کے ترجمان راجندر چودھری نے کہا کہ کانگریس کے نیتا اور وزیر یہاں تک کہ راہل گاندھی جو زبان بول رہے ہیں اس میں پورے چناؤ کی مریادا کو تار تار کردیا ہے۔ اس بار تو لگ رہا ہے کانگریس پارٹی چناؤ کمیشن سے ہی لڑ رہی ہے مرکزی وزیر کیا بول رہے ہیں انہیں پتہ ہی نہیں۔ کوئی ایک وزیر اعظم کے رہتے آدھی رات میں راہل گاندھی کو وزیر اعظم بنانے کا اعلان کرتا ہے تو کوئی دھمکاتا ہے کانگریس کو ووٹ نہیں دیا تو صدر راج لگا دیں گے۔ بعد میں یہ سب اپنے بیانوں سے مکر جاتے ہیں۔ بینی پرساد ورما ،سلمان خورشید اور سری پرکاش جیسوال اس طرح کے بیان دے چکے ہیں۔ بسپا چیف مایاوتی نے کہا کہ کانگریس اس چناؤ میں مختلف طرح کی سازشیں رچ کر جنتا کو گمراہ کررہی ہے۔ کانگریس پارٹی اب پوری طرح سے مایوس اور بیزار ہوچکی ہے۔ بھاجپا کے ترجمان وجے پاٹھک کا کہنا ہے سری پرکاش جیسوال رات میں 12 بجے راہل کو وزیر اعظم بنا کر کیا سندیش دینا چاہتے ہیں؟ جب ایک وزیر اعظم کام کررہا ہے تو اس طرح کی بات کرنے سے اپنی سرکار کی ہی کھلی اڑوا نا ہے۔
Anil Narendra, Congress, Daily Pratap, Election Commission, Elections, Uttar Pradesh, Vir Arjun

امریکی کانگریس میں ریزولوشن کے بعد بلوچستان معاملہ گرمایا



Published On 28nd February 2012
انل نریندر
پاکستان سپریم کورٹ نے بلوچستان میں قتل عام کے معاملوں کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے آئی ایس آئی اور ملٹری انٹیلی جنس کو واقعات سمیت سکیورٹی حالات کے بارے میں رپورٹ سونپنے کی ہدایت دی ہے۔ جسٹس میاں شفیع اللہ جان کی سربراہی میں تین ججوں کی ایک ڈویژن بنچ نے ملٹری انٹیلی جنس ایجنسیوں کو 7 مارچ تک یہ رپورٹ پیش کرنے کو کہا ہے۔ میڈیا میں آئی خبروں کے مطابق معاملے کی بند کمرے میں سماعت ہوگی۔ قابل ذکر ہے کہ امریکہ کے ایک کانگریس ممبر نے ایوان نمائندگان میں ایک ریزولوشن پیش کر بلوچ عوام کو حق خود ارادیت کا اختیار دینے کا مطالبہ کیا تھا۔ پاکستان حکومت نے اس ریزولوشن کو دیش کی سرداری پر حملہ قراردیتے ہوئے اس ریزولوشن کو مسترد کردیا تھا۔ اس سے گھبرا کر پاکستان حکومت نے بلوچ لیڈروں سے بات چیت کی تجویز رکھی ہے۔ پاک حکومت نے عام معافی دینے کی پیشکش بھی کی ہے۔ بلوش نیشنلسٹ لیڈروں نے انہیں معافی دینے کی پیشکش کرنے والی حکومت پاکستان سے بات چیت شروع کرنے کیلئے سخت شرائط پیش کی ہیں۔ معذولی کی زندگی بسر کرتے ہوئے بلوچ لیڈروں کے لئے وزی داخلہ رحمان ملک کی عام معافی سے متعلق پیشکش پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے جمہوری وطن پارٹی کے نیتا اور 2006ء میں ایک فوجی آپریشن میں مارے گئے اکبر خاں بکتی کے پوتے شاہزین بکتی نے بات چیت شروع کرنے کے لئے آٹھ شرطیں رکھی ہیں ۔ اس میں بلوچستان میں فوجی آپریشن بند کرنا، صوبے میں نئی فوجی چھاؤنیاں بنانے پر پابندی، اکبر خاں بکتی کے قتل میں رول کے لئے سابق صدر پرویز مشرف کو گرفتار کرنے، ان پر مقدمہ چلانے کا مطالبہ شامل ہے۔ شاہزین بکتی نے کہا کہ بلوچستان میں نئی فوجی چھاؤنی بنانا بند ہونا چاہئے ساتھ ہی خفیہ ایجنسیوں کے رول پر بھی پابندی لگنی چاہئے۔ بلوچ ورکروں کی لاشوں کو نئی دیکھنا چاہتے انہوں نے کہا فوج کا آپریشن بند ہونا چاہئے اور 13 ہزار لاپتہ بلوچ لڑکوں کا پتہ لگانا چاہئے۔ مشرف کو اپنے والد کاقاتل بتاتے ہوئے انہیں بلوچستان لاکر مقدمہ چلانے کی مانگ پیش کی تھی۔ سوئٹزرلینڈ میں رہ رہے بلوچ نیشنلسٹ لیڈر اور بلوچ ری پبلکن پارٹی کے چیف برہمدت بکتی بلوچ لوگوں کے حق خود ارادیت کے حق کے لئے امریکی کانگریس میں پیش ہوئے ایک بل کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ پاکستان کے شورش زدہ بلوچستان صوبے میں کسی بھی غیر ملکی مداخلت کی حمایت کریں گے۔ انہوں نے ٹیلی فون پر کوئٹہ پریس کلب میں موجود اخباری نمائندوں سے کہا کہ امریکہ کو وزیرستان میں ضرور مداخلت کرنی چاہئے اور بلوچوں کے نسلی صفائے کے آپریشن کو روکنا چاہئے۔ امریکی کانگریس میں بلوچستان آف نگم کا اختیار فراہم کرنے سے متعلق ریزولوشن کے پیش ہونے کے بعد بلوچستان میں سیاسی حالات میں تیزی سے اتار چڑھاؤ ہوتا نظر آرہا ہے۔ پاکستان میں اس ریزولوشن کے خلاف سخت ناراضگی ہے ۔ پاکستان حکومت میں روہرا باشیر کے ریزولوشن پر سخت اعتراض جتایا ہے اور وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے اسے دیش کی سرداری پر حملہ قراردیا ہے۔ ریزولوشن کے اثر کو کم کرنے کے لئے پی پی محاذ سرکار اب بلوچستان کے لئے ایک سیاسی اقتصادی اور سلامتی سے متعلق پیکیج کے لئے آل پارٹی میٹنگ بھی بلانا چاہ رہی ہے حالانکہ ریزولوشن سے پاکستان لگتا ہے ہل گیا ہے۔
America, Anil Narendra, Balochistan, Daily Pratap, Pakistan, USA, Vir Arjun, Yousuf Raza Gilani

26 فروری 2012

4 جون کی رات رام لیلا میدان میں ہوا تھا ظلم

ہمیں اس بات کی خوشی ہے کہ عزت مآب سپریم کورٹ نے بابا رام دیو حمایتیوں پر4 جون 2011ء کو ہوئے لاٹھی چارج پر سرکار کو کڑی پھٹکار لگائی اور مانا کہ اس رات پولیس کارروائی غلط تھی۔ کالی کمائی اور کرپشن کے اشو پر رام لیلا میدان میں ستیہ گرہ کررہے بابا رام دیو اور ان کے حمایتیوں کو رام لیلا میدان سے طاقت کے بل پر نکال باہر کرنے کی دہلی پولیس کی کارروائی کو سپریم کورٹ نے جمہوریت پر حملہ قرار دیتے ہوئے اس کے لئے قصوروار پولیس افسران کے خلاف ڈسپلنری کارروائی کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ رام لیلا میدان میں رات میں سو رہے احتجاجیوں پر دہلی پولیس کی بربریت آمیز کارروائی اور جنتا اور سرکار کے درمیان کم ہورہے اعتماد کی تازہ مثال ہے۔ جسٹس بلبیر سنگھ چوہان اور سوتنتر کمار کی ڈویژن بنچ نے جمعرات کو اپنے فیصلے میں کہا کہ احتجاجیوں کے خلاف طاقت کا استعمال کرکے دہلی پولیس نے اپنے اختیارات کا بیجا استعمال کیا ۔ سرکار کو قصوروار پولیس افسران کے ساتھ ہی پتھراؤ کرنے والوں کے خلاف بھی کارروائی کرنے کا حکم دیا۔ حکومت کو کارروائی کے بارے میں تین مہینے کے اندر عدالت میں رپورٹ دینی ہے۔ جج صاحبان نے کہا کہ4 جون کی رات میں ہوئے واقعہ کو ٹالا جاسکتا تھا لیکن پولیس اور انتظامیہ نے طاقت کا استعمال کرتے ہوئے سوتے ہوئے احتجاجیوں پر لاٹھیاں برسائیں، جس سے ایک خاتون کی موت ہوگئی اور کئی دیگر زخمی ہوئے۔ عدالت نے سخت الفاظ میں کہا پولیس کا کام امن بنائے رکھنا ہے لیکن رام لیلا میدان میں اس نے شانتی بھنگ کرنے کا کام ہی نہیں کیا بلکہ سوتے ہوئے احتجاجیوں پر لاٹھیاں برسا کر شہریوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی بھی کی ہے ۔
ججوں نے کہا کہ اس میں کوئی دو رائے نہیں دہلی پولیس نے احتجاجیوں کو رام لیلا میدان سے نکال باہر کرنے کے لئے بیحد تشدد آمیز طریقہ اپنایا۔ لیکن دوسری طرف بابا رام دیو کے حمایتیوں نے بھی پولیس پر جوابی کارروائی کرتے ہوئے پتھراؤ کیا جس سے حالات بگڑ گئے۔ عدالت نے جان گنوانے والی راج بالا کے رشتے داروں کو پانچ لاکھ روپے اور زخمیوں کو 50-50 ہزار روپے اور معمولی چوٹ والے افراد کو 25-25 ہزار روپے بطور معاوضہ ادا کرنے کا حکم دیا۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ معاوضے کی اس رقم کا 25 فیصدی حصے کی ادائیگی بابا رام دیو ٹرسٹ کرے گا۔
ہم ہمیشہ کہتے آرہے ہیں کہ مرکزی وزیر داخلہ پی چدمبرم اور کچھ دیگر وزرا کے اشاروں پر دہلی پولیس نے 4 جون کو سوتے ہوئے لوگوں پر لاٹھی برسائی سرکار اور پولیس بھلے ہی کہتی رہے کہ کوئی لاٹھی چارج نہیں ہوا ، نہ کوئی جبراً کارروائی ہوئی سپریم کورٹ کے فیصلے سے دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہوگیا ہے۔ ہمارا یہ خیال ہے کہ دہلی پولیس نے اس رات جو بھی کیا وہ وزارت داخلہ کے احکامات پر کیا۔ اصل قصوروار تو احکامات دینے والے ہیں۔ دہلی پولیس نے کارروائی کی مخالفت بھی کی تھی۔ پولیس نے کہا تھا کہ ہم صبح ہوتے ہی پرامن طریقے سے رام لیلا میدان خالی کروا لیں گے لیکن منموہن سرکار کے کچھ وزرا نے تو ٹھان لی تھی کہ بابا رام دیو اور ان کے حمایتیوں کو ایسی مار مارنی ہے جو دوبارہ ایسا کرنے کی جرأت نہ کریں۔
Anil Narendra, Baba Ram Dev, Daily Pratap, Delhi, delhi Police, Ram Lila Maidan, Supreme Court, Vir Arjun

افغانستان میں امریکی فوجیوں کی نہایت نیچ و گھناؤنی حرکت

افغانستان میں تعینات امریکی فوجیوں نے ایک ایسی حرکت کی ہے جس سے ساری دنیا کا سر شرم سے جھک گیا ہے۔ اس حرکت کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ افغانستان کی راجدھانی کابل میں نیٹو کے بگرام ایئر بیس پر اسلام کی مقدس کتاب قرآن شریف جلانے کی رپورٹ آئی ہے۔ اس غیر انسانی حرکت سے ساری دنیا میں مظاہرے ہورہے ہیں۔ افغانستان میں تو رپورٹ آنے کے بعد سے مظاہروں کا سلسلہ روکنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ اس واقعے کو لیکر اب تک جھڑپوں میں12 افراد کی موت ہوچکی ہے۔ افغانستان کے وزارت داخلہ نے بدھوار کو ہوئی اموات میں سے کم سے کم ایک کے لئے غیرملکی سکیورٹی فورس ٹو ذمہ دار ٹھہرایا ہے کیونکہ کابل میں امریکی فوجی کیمپ نے مظاہرین پر حملہ بول دیا تھا اس کے علاوہ مقامی حکام کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ زیادہ تر اموات پولیس کے ساتھ مڈبھیڑوں کے سبب ہوئی۔ نیٹو کے ترجمان برگیڈیئر جنرل کاسٹن جیک بنسن نے کہا کہ غیر متوقع طور پر یہ کام ہوگیا تھا لیکن اس غلطی کے سنگین نتائج ہیں۔
ایک امریکی افسر نے بتایا کہ قرآن شریف کی ان کاپیوں کو بگرام کی جیل میں بند قیدیوں سے لیا گیا تھا کیونکہ جیل حکام کو شبہ تھا کہ قیدی اس مقدس کتاب کا استعمال ایک دوسرے کو پیغام بھیجنے کے لئے کررہے تھے۔ امریکی مخالف آگ کو ہوا دیتے ہوئے طالبان آتنکیوں نے افغان شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ صرف مظاہروں تک محدود نہ رہیں۔ طالبان نے اپنی اپیل میں کہا کہ آپ کو فوجی کیمپوں پر حملہ کرنا اور ان کے فوجی قافلوں پر حملے کئے جائیں۔ ان کو قتل کیا جائے۔ انہیں یرغمال بنائیں اور ماریں، انہیں سبق سکھائیں تاکہ وہ دوبارہ قرآن پاک کی بے حرمتی کرنے کی جرأت نہ کریں۔ افغانستان کے صدر حامد کرزئی جو پہلے ہی مشکل دور سے گذر رہے ہیں اس واقعے کولیکر زیادہ پریشان ہیں۔ حامد کرزئی نے جمعرات کو بتایا کہ امریکی صدر براک اوبامہ نے امریکی کیمپ میں قرآن پاک کی کاپیاں جلانے کیلئے معافی مانگتے ہوئے انہیں ایک خط لکھا ہے۔ خط میں اوبامہ نے لکھا ہے کہ واقعہ جان بوجھ کر نہیں ہوا اور انہوں نے معاملے ہی مفصل جانچ کرنے کے لئے کہا ہے۔
امریکی سفیر رومن کروکر کی جانب سے کرزئی کو سونپے خط کے مطابق ملی اطلاع کے لئے میں افسوس جتانا چاہتا ہوں۔ اوبامہ نے آگے لکھا ہے کہ میں آپ سے اور افغانستان کے لوگوں سے معافی مانگتا ہوں۔ حامد کرزئی نے اس مسئلے کو لیکر لوگوں سے امن بنائے رکھنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا امریکی لیڈر شپ والی نیٹو سکیورٹی فورس اس کی جانچ کررہی ہے۔ انہوں نے اپنے دیش کی سکیورٹی فورسز کو حکم دیا ہے کہ وہ تشدد سے بچیں اور لوگوں کی جان اور مال کی حفاظت کریں لیکن آگ تیزی سے پھیل رہی ہے۔ اس کا سارے اسلامی ملکوں میں رد عمل ہوسکتا ہے۔ پہلے ہی سے نشانے پر امریکہ سے ساری دنیا کے مسلمانوں کے غصے میں اضافہ ہوگا۔ یہ دوسری ایسی گھناؤنی حرکت ہے پچھلے سال ایک امریکی پادری نے فلوریڈا میں بھی قرآن پاک کو نظر آتش کیا تھا۔ ہم اس کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہیں اور مانگ کرتے ہیں قصورواروں کو سزا ملے۔
  Afghanistan, America, Anil Narendra, Daily Pratap, Quran Majeed, USA, Vir Arjun