Translater
06 اپریل 2023
جیل میں جھاڑ و لگائے گا ،بھینس نہلائے گا!
سابرمتی سینٹرل جیل میں بند عتیق احمد جھاڑو لگانے کے ساتھ بھینس کو بھی نہلائے گا۔ اس کے لئے اسے روزانہ 25روپے محنتانہ کے طور پر ملیںگے ۔ اسے امیش پال اغوا معاملے میں با مشقت عمر قید کی سزا ہوئی ہے۔ عتیق جیل میں قید نمبر 17052ہے ۔جھاڑو لگانے ،بھینس کا دودھ نکالنے کے ساتھ ہی اسے کارپینٹر کاکام بھی کرنا ہوگا۔اس کے ساتھ ہی اسے کھیتی بھی کرنی ہوگی۔اور دیگر مویشیوں کا بھی دھیان رکھنا ہوگا ۔عتیق کو دو جوڑی قیدیوں کے کپڑے دئے گئے ہیں اس میں سفید کرتا ،پاجامہ ،ٹوپی اور شال بھی شامل ہے۔عتیق کا بینک کھاتہ بھی کھول دیا گیا ہے جس میں اسے یومیہ اجرت کے طور پر ملنے 25روپے جمع کرائے جائیںگے ۔عتیق کو جیل میں بے ہنر کاریگر کے زمرے میں رکھا گیا ہے۔ اگر اسے ہنر مند کاریگر کے زمرے میں رکھا جاتا تو چالیس روپے یومیہ ملتے ۔ اسے جیل کا کھانا بھی کھا نا پڑ رہا ہے ۔ امیش پال قتل کانڈ میں شامل شوٹروں کی کار میں رائفل رکھنے والے عتیق احمد کے بھروسے مند نوکر ساروپ عرف شارخ فرزند شمشیر ،باشندہ پنڈوری ،ضلع کوشامبی کو ایس ٹی ایف نے گرفتار کر لیا ہے ۔ اس کے پاس سے طمنچہ دوکارتوس بھی بر آمد ہوئے ہیں۔ قتل کے بعد عتیق کی بیوی شائشتہ پروین نے اسے 50ہزار روپے دئے تھے جو شاہ رخ ارمان کے بھائی تک پہنچائے تھے۔وہ چکیہ میں عتیق کے سسر سے مل کر لوٹ رہا تھا،کو میرٹھ سے گرفتار کیا ۔ مافیا عتیق کا بہنوئی ڈاکٹر اخلاق بھی امیش پال قتل کی شازس میں 24فروری کو قتل سے پہلے شوٹر اس کے گھر پر روکے تھے ۔قتل کے اگلے دن 25فروری کو شوٹر گڈو مسلم دو ساتھیوں کے ساتھ یہاں پہنچا ،تینوں شوٹر وںنے رات بھر ڈاکٹراخلاق کے گھر گزاری ۔واردات کے بعدروڈویز بس سے فرار ہو گئے تھے ۔ یہاں ٹھہر نے تک کا واقعہ سی سی ٹی وی میں بھی قید ہے۔ایس ٹی ایف نے سنیچر کی رات میرٹھ سے اخلاق کو گرفتار کیا تھا ۔ اس نے قبولہ ہے کہ گڈو مسلم کے دوسری جگہ بھاگنے سے پہلے اسے 50ہزار روپے دئے تھے ،۔ اخلاق سابرمتی جیل میں بند عتیق احمد اور بریلی جیل میں بند اشرف سے موبائل پر مسلسل باتیں کیا کرتا تھا۔
(انل نریندر)
04 اپریل 2023
کیا ولادیمیر پوتن گرفتار ہوںگے؟
روس کے صدر ولادیمیر پوتن کو گرفتار کرنے کے انٹر نیشنل کرمنل کورٹ آئی سی آئی نے 17مارچ 2023کو روسی صدر پوتن اور چلڈرن رائٹس کیلئے روس کی کمشنر ماریا لاوووا،بیلوباکے خلاف گرفتاری وارنٹ جاری کیا ہے ۔ آئی سی سی میں فروری2022میں یوکرین میں روس کا حملہ ہونے کے بعد یوکرین کے بچوں کے مجرمانہ جلاوطنی معاملے میں دونوں پر ذاتی طور پر ذمہ دارہونے کا الزام لگایا ہے ۔ آئی سی سی نے پوتن پر اسے روکنے کیلئے صدر کے طور پر اپنے اختیارات کا استعمال نہ کرنے کا الزام لگایا ۔اور کہا کہ ان کے خلاف معاملے چلانے کے کافی ثبوت موجو دہیں ۔ آئی سی سی نے کہا کہ یوکرین کے سیکڑوں بچوں کو تیم خانوں اطفال ہوم سے روس لایا گیا تاکہ روس میں پریوار انہیں گود لے سکیں ۔ یوکرین کے نیشنل انفورمیشن بیورو کے مطابق 16221بچوں کو زبردستی روس لے جایا گیا ہے ۔ کورٹ نے کہا کہ جس وقت بچوں کوڈیپورٹ کیا گیا ،انہیں جنیوا کنوینشن کے تحت سیکورٹی دی گئی تھی۔یوکرین نے انٹرنیشنل کرمنل کورٹ سے اپنی سرزمین پر جنگی جرائم کی جانچ کرنے کی گذارش کی تھی ۔ جس کے اس کی سماعت کی گئی ہے۔ یہ پہلی بار ہے جب کورٹ نے سیکورٹی کاو¿نسل کے پانچ مستقل ممبروںمیں سے ایک نیتا کے خلاف گرفتاری وارنٹ جاری کیا ہے ۔یوکرینی صد رزیلینسکی نے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے ۔ یہ تاریخی فیصلہ بتایا ہے ۔جو اس معاملے ذمہ داری طے کرئے گا۔ روس نے عدالت کے اس فیصلے کو نامنظور کر دیا اور کہا کہ گرفتاری وارنٹ کسی کام کا نہیں ہے ۔آئی سی آئی کورٹ کا ہنڈ کوارٹر نیدرلنڈمیں ہے کورٹ جنگی جرائم ،قتل عام ،اور انسانیت کے خلاف جرائم کی جانچ کرتی ہے۔ اس کیلئے ذمہ دار شخص پر مقدمہ چلاتی ہے ۔ 1988روم معاعدے کے تحت اس کو قائم کیا گیا تھا اور 2002میں اس نے اپنا کام شروع کیا ۔ اس کا سالانہ بجٹ 13کروڑ پانڈ کا ہے جو معاملوں کی جانچ پرخرچ کرتی ہے اب تک کورٹ میں 21معاملوں کی سماعت کرچکی ہے ۔اور 10لوگوں کو سز ہو چکی ہے ۔آئی سی آئی نے اب تک دوسرے ملکوں کی مدد سے 40وارنٹ جاری کئے ہیں ۔ جبکہ ابھی 18افراد گرفتار نہیں ہو سکے ۔آئی سی سی وارنٹ جاری کر سکتی ہے ،لیکن اس کے پاس کسی شخص کو گرفتار کرنے کا حق نہیں ہے ۔کورٹ کے جج ٹیوٹر ہاف مینسکی نے کہا کہ پوتن کو گرفتار کر نا بین الاقوامی برادری پر منحصر کرتا ہے لیکن روس میں موجو دہ وقت میں پوتن کا جو رتبہ ہے انہیں کوئی بھی چیلنج نہیں کرسکتا ۔ ویسے بھی آئی سی سی میں سگنیٹری نہیں ہے۔
(انل نریندر)
دھرم کا سیاست میں استعمال بند ہو!
نفرتی تقریر کو معاملہ پچھلے کئی دنوں سے سرخیوں میں ہے ۔آخر کار عزت مآب سپریم کورٹ نے کہا کہ جس لمحے دھرم اور سیاست کو الگ کر دیا جائے گا اور سیاستداں سیاست میں مذہب کا استعمال کرنا بند کردیںگے اسی لمحے نفرتی بھاشن بند ہو جائیںگے ۔ یہ رائے زنی آج کے پس منظر میں بہت اہم ہے ،آنکھیں کھولنے والی ہے ۔ جب سیاست اور مذہب الگ ہو جائیںگے اور نیتا دھرم کے ذریعے سیاست میں اونچے مقام حاصل کرنے کا خواب چھوڑ دیںگے تبھی ہیٹ اسپیچ کو ختم کیا جا سکتا ہے ۔ہر فریق کے خرافاتی عناصر کی طرف سے ایسی تقریر کی جا رہی ہیں۔ لوگوں کو بھی خود کو تحمل برتنا چاہئے ۔ جسٹس کے ایف جوزیف اور جسٹس بی بی رتنا کی بنچ نے نفرتی تقریروں پر سنگین اعتراض جتاتے ہوئے کہا کہ آخر عدالتیں کتنے لوگوں کے خلاف توہین عدالت کے معاملے شروع کرسکتی ہیں ۔ دیش کے ہی لوگ دوسرے لوگوں یا فرقوں کے خلاف غلط نہ بولنے کا عہد کیوں نہیں لیتے ؟ بنچ نے کہا کہ ہر ایک دن خرافاتی عناصر ٹی وی اور پبلک مقامات سمیت دیگر جگہوں پر لوگوں کے تئیں نفرت پھیلانے والی تقریریں کر رہے ہیں۔ اس میں ہر طرف کے لوگ ہیں ۔ بیان بازی کے بعد عدالت پہنچتے ہیں اور ایک دوسرے کے خلاف ہتک عزت کاروائی کی مانگ کرتے ہیں۔ بڑی عدالت شاہین عبدللہ کی عرضی پر سماعت کر رہی تھی میں کہا گیا تھا کہ پچھلے چار مہینے میں 50سے زیادہ نفرتی تقریر دینے کے معاملے سامنے آئے ہیں ۔ بنچ نے مہا راشٹر سرکار کو جواب دینے کیلئے نوٹس جاری کرنے کے ساتھ ہی معاملے کی اگلی سماعت 28اپریل تک ملتوی کر دی ہے۔نفرتی تقریر کو ناسور بتاتے ہوئے کورٹ نے کہا کہ اس سے فائدہ اٹھانے کی کوشش میں اوچھی ذہنیت کے لوگ ایسی ایسی تقریریں کرتے ہیں جس سے حالات میں کشیدگی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا ۔کورٹ کی رائے زنیاں نفرتی تقریر کرنے والوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے میں ناکام رہنے کو لیکر ریاستوں کے خلاف توہین عدالت عرضی پر سماعت کے دوران ناکامی سامنے آئی ہے ۔جسٹس ناگ رتنا نے کہا کہ ہم کہاں جا رہے ہیں؟ ہمارے پاس سابق وزیر اعظم جواہر لال نہراور اٹل بہاری واجپائی جیسے مقرر ہوتے تھے ۔ لوگ دور دراز کے علاقوں سے، دیہاتوں سے، نکر چوراہوں سے انہیں سننے کیلئے آتے تھے۔ جب جن کے پاس کوئی جانکاری نہیں ہے وہ اس طرح کی نفرتی تقریریں کر رہے ہیں۔ یہ کام پوری طرح سے سرکاروں کا ہے ۔ ایسے واقعات پر نظر رکھیں۔ اور ضروری کاروائی کریں ۔ اسی فرض کو نبھاتے ہوئے بنچ نے پوچھا کہ ایف آئی آر درج کرنے کے بعد کیا کاروائی کی گئیں۔ پچھلے سال اکتوبر میں سپریم کورٹ نے زور دیکر کہا تھا کہ آئین بھارت کو سیکولر فریق ملک کی شکل میں دیکھتا ہے ۔اور دہلی یوپی ،اتراکھنڈ سرکاروں کو انتظار کئے بغیر قصورواروں کے خلاف مقدمہ درج کرنے چاہیے ۔
(انل نریندر)
سبسکرائب کریں در:
تبصرے (Atom)
ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...
-
سپریم کورٹ میں بھی عجیب و غریب مقدمات آرہے ہیں۔ تازہ مثال بحریہ کے کچھ افسروں پر بیویوں کی ادلہ بدلی سے متعلق معاملات ہیں۔ بحریہ کے ایک اف...
-
ہندوتو اور دھرم پریورتن، گھر واپسی سمیت تمام معاملوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس پریوار سے جڑے لیڈروں کے متنازعہ بیانات سے وزیر...
-
مدھیہ پردیش کے ہائی پروفائل ہنی ٹریپ معاملے سے نہ صرف ریاست کی بلکہ دہلی کے سیاسی حلقوں میں مچا دئے معاملے میں اہم سازشی گرفتار ہو چکی شیو...