Translater
18 نومبر 2023
اڈانی کی وجہ سے ممتا مہربان!
ترنمول کانگریس کی چیف ممتا بنرجی نے گوتم اڈانی سے دوری بنانے کے لئے ان کی ایم پی مہوا موئترا کے تئیں اپنے رویہ میں نرمی لائی ہیں ۔انہیں ڈسٹرکٹ چیئرمین بنایا گیا ہے اور آگے لوک سبھا کا ٹکٹ پھر سے دے گی ۔اڈانی بنگال میں کول بلاک کے لئے کوشش میں لگے ہیں ۔اس کا مارکسوادی کمیونسٹ پارٹی اور مقامی تنظیمیں مخالفت کررہی ہیں ۔ویر بھوم ضلع میں دیوچا پچاوی کول بلاک دنیا کی سب سے بڑی کوئلہ کان ہے جس میں تقریباً 1,198 ملین ٹن کوئلہ اور 1400 ملین ٹن سالٹ ہے، اڈانی کی اسی پر نظر ہے ۔اس کوئلہ بلاک سے بڑی تعداد میں قبائلی متاثر ہوں گے ۔ایسے امکانات ظاہر کئے جا رہے ہیں کہ اڈانی کو ہی کوئلہ بلاک ملے گا ۔اس لئے سیاسی پارٹی اور قبائلی تنظیمیں احتجاج کررہی ہیں ۔ایسے میں ترنمول کانگریس کو لگا اگر وہ مہوا موئترا کے خلاف کاروائی کرتی ہیں تو دیش میں یہ پیغام جائے گا اس نے اڈانی کی مخالفت کرنے والی ایم پی کا ساتھ نہیں دیا ۔مہوا اکثر اڈانی پر حملہ آور رہتی ہیں یہی وجہ ہے کہ ترنمول کانگریس نے اڈانی سے دوری دکھانے کے لئے اپنی ایم پی مہوا موئترا کے تئیں نرم رویہ اپنا لیا ہے ۔پارٹی نے انہیں تنظیم میں جگہ دیتے ہوئے کرشنا نگر ضلع کا چیئرمین بنایا ہے ۔آگے لوک سبھا کا ٹکٹ بھی دیں گی ۔ایم پی پارلیمنٹ میں رشوت لے کر سوال پوچھنے کے معاملے میں جب ترنمول ایم پی مہوا موئترا کے خلاف الزام لگتے تھے تو پارٹی نے ان سے دوری بنا لی تھی اس درمیان ترنمول کانگریس کی چیف ممتا بنرجی نے اپنی ایم کے بچاو¿ میں ایک لفظ بھی نہیں بولا۔پہلے ترنمول کانگریس کی لائن یہی تھی کہ جس ایم پی پر الزام لگے ہیں وہی اپنا بچاو¿ کرے ۔اس وجہ سے اپوزیشن پارٹیوں نے مہو اموئترا سے منھ موڑ لیا ۔اس لئے وہ اکیلی پڑ گئی تھیں ۔لوک سبھا کی کمیٹی نے اسپیکر کو ترنمول کانگریس ایم پی مہوا کی ممبر شپ ختم کرنے کی سفارش کی ہے اس سفارش کو پارٹی اب جانب دارانہ مانتی ہے ۔کمیٹی میں کیپٹن امریندر سنگھ کی بیوی اور معطل ایم پی پرنیت کور نے مہوا کے خلاف ووٹ دیا تھا جس سے اکثر مہوا کے خلاف رہیں ۔مہوا نے اپنی نئی تقرری کے لئے پارٹی لیڈر شپ کا شکریہ ادا کیا ہے ۔تنظیمی ذمہ داری دینے کے پیچھے کچھ لوگوں کی رائے ہے کہ اس سے یہ پیغام دیا ہے کہ پارٹی مہوا کے ساتھ ہے۔ایک دوسرے طبقے کے مطابق اگر مہوا کو سزا کے طور پر اگلے لوک سبھا چناو¿ میں نہیں کھڑا کیا گیا تو پارٹی ان کا غلط استعمال کر سکتی ہے ۔حکمراں پارٹی نے ایک انتظامی ضلع کے کئی تنظیمی اضلاع میں تقسیم کر دیا ہے اس سے پہلے مہوا نادیہ ضلع کی صدر تھیں ۔لیکن اب ترنمول نے کرشنا نگر رانا گھاٹ میں بھی تقسیم کر دی تو مہوا کو تنظیم کی ذمہ داری نہیں دی گئی تھی وہ صرف ایم پی کی شکل میں کام کررہی تھیں ۔ترنمول نے ضلع سطح پر بڑی ترمیمی رد وبدل کی ہے ۔ضلعوں کی نئی کمیٹیاں بنائی گئیں اور کئی بڑے لیڈروں کے نام غائب ہیں اور کئی بڑے نام جوڑے گئے ہیں ۔پارٹی نے یہ صاف پیغام دیا ہے کہ وہ اپنی ایم پی مہوا موئترا کے ساتھ مضبوطی سے کھڑی ہیں ۔
(انل نریندر)
اقتصادی جرائم پیشہ افراد کو ہتھکڑی نہ لگائی جائے !
کیا اقتصادی جرائم پیشہ کو ہتھکڑی لگائی جانی چاہیے یہ سوال کئی مرتبہ اٹھ چکا ہے اب پارلیمنٹ کی ایک کمیٹی نے کہا ہے کہ اقتصادی جرائم پیشہ افراد کے لئے حراست میں لئے گئے لوگوں کو آبروریزی اور قتل جیسے گھناو¿نے جرائم کے ملزمان کی طرح ہتھکڑی نہ لگائی جانی چاہیے ۔بھاجپا ایم پی برج لال کی صدارت میں داخلی امور سے متعلق قائمہ پارلیمانی کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں یہ سفارش کی ہے ۔رپورٹ مجوزہ قانون آئی پی سی (بی این ایس2023- ، ہندوستانی سول سیکورٹی کورٹ )بی این ایس 2020- ، 231 اور آئی پی سی ایکٹ یعنی (بی ایس اے 2023- ) سے متعلق ہے۔گزشتہ 11 اگست کو لوک سبھا میںپیش کئے گئے یہ تین بل قانون بننے پر آئی پی سی کی دفعہ 1860 سزا عمل کوڈ اور ہندوستانی ثبوت ایکٹ ، 1872 کی جگہ لیں گے ۔کمیٹی کی رپورٹ گزشتہ جمعہ کو راجیہ سبھا کے چیئرمین جگدیپ دھنکھڑ کو سونپی گئی ہے ۔پارلیمانی کمیٹی کے مطابق اسے لگتا ہے کہ ہتھکڑی کا استعمال سنگین جرائم کے ملزمان کو بھاگنے سے روکنے اور گرفتاری کے دوران پولیس حکام و کرمچاریوں کی سیکورٹی یقینی کرنے کے لئے چنندہ گھناو¿نی جرائم تک محدود ہے ۔بہرحال کمیٹی کا خیال ہے کہ اقتصادی جرم کو اس زمرے میں شامل نہیں کیا جانا چاہیے ۔اس نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ ایسا اس لئے ہے کیوں کہ اقتصادی جرم لفظ میں جرائم کی ایک مفصل سیریز شامل ہے ۔اس کٹیگری کے تحت آنے والے سبھی معاملوں میں ہتھکڑی لگانا مناسب نہیں ہو سکتا ۔کمیٹی نے کہا ہے کہ اس لئے کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ پارٹ 43(3 ) کو اقتصادی جرم کو لفظ سے ہٹانے کے لئے موضوع طور سے ترمیم کیا جا سکتا ہے ۔بی این ایس ایس کے پارٹ 43(3) میں کہا گیا ہے پولیس افسر جرم کی نوعیت اور سنگینی کو ذہن میں رکھتے ہوئے کسی ایسے شخص کو گرفتار کرتے وقت ہتھکڑی کا استعمال کر سکتا ہے جو عادتاً مجرم ہے ۔جو حراست سے بھاگ گیا ہے یا جس نے منظم جرم دہشت گردانہ حرکت جیسے جرم ،نشیلی دباو¿ں سے متعلق جرم کیا ہے ۔کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ بیشک برتاو¿ کو دیکھ کر سنگین سے سنگین جرائم میں قصوروار شخص کے تئیں بھی قانون نرمی برتتا رہا ہے ۔اور رویہ اور اس کے برتاو¿ کے تئیں سنجیدگی دکھانے ،قانون کی سماج کے تئیں حساسیت بھی دکھانی پڑتی ہے ۔لیکن یہاں غور کرنے والی بات یہ بھی ہے کہ معاملہ صرف رویہ بھر کا نہیں ہے ۔زیادہ تر اقتصادی جرم جان بوجھ کر کیا گیا ہوتا ہے اور منظم طریقے سے انجام دیا جاتا ہے ۔ایسے مجرم کے تئیں نرمی سے الگ ہے ۔اس بات کو بھی نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے کہ ایسے جرم میںزیادہ تر مطلوب افراد دیر سے ہی بھاگ کھڑے ہوتے ہیں ۔
(انل نریندر)
16 نومبر 2023
لوک سبھا ،اسمبلیوں کے ایک ساتھ چناو ¿ ؟
لوک سبھا اور اسمبلیوں کے چناو¿ ایک ساتھ کرانے کے لئے الیکشن کمیشن آف انڈیا کو الگ 30 لاکھ الیکٹرونک ووٹنگ مشینوں کی ضرورت ہوگی ۔اور اس کے لئے ڈیڑھ سال کا وقت لگے گا۔ذرائع نے یہ جانکاری دی ہے کہ دیش میں ایک ساتھ چناو¿ کرانے پر غور و خوض تیز ہونے کے درمیان الیکشن کمیشن نے کچھ مہینوں پہلے لاءکمیشن کو مطلع کیا تھا کہ اسے ای وی ایم کو رکھنے کے لئے درکار اسٹور سہولیات کی ضرورت ہوگی ۔ایک ساتھ لوک سبھا اور اسمبلیوں کے چناو¿ کرائے جانے پر ایک طریقہ پر کام کررہے آئینی کمیشن نے الیکن کمیشن کے ساتھ اس کی ضرورتوں اور چیلنجوں پر بات کی تھی ۔اس بات چیت میں واقف ذرائع نے کہا کہ بہت کچھ اس بات پر منحصر کرے گا ۔کہ اس طرح کی قواعد کب ہوگی۔ایک ملک ،ایک چناو¿ پر سابق صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند کی سربراہی میں بنائی گئی اعلیٰ سطحی کمیٹی آئین کے تحت موجود ڈھانچے اور دیگر آئینی تقاضوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے لوک سبھا ریاستی اسمبلیوں اور میونسپل کارپوریشنوں اور پنچایتوں کے چناو¿ ایک ساتھ کرانے پر غور کررہی ہے ۔ذرائع نے بتایا کہ ایک ای وی ایم میں ایک کنٹرول یونٹ کم سے کم ایک بیلٹ (یونٹ)ایک ووٹر ویریول پیپر آڈٹ ٹریل (ریویپیٹ یونٹ ) ہوتا ہے ۔کمیشن کو ایک ساتھ چناو¿ کرانے کے لئے قریب 30 لاکھ کنٹرول یونٹ یعنی تقریباً 43 لاکھ بیلٹ یونٹ اور تقریباً 32 لاکھ وی وی پیڈ کی ضرورت ہوگی۔لوک سبھا اور اسمبلیوں کے چناو¿ ایک ساتھ کرانے کے لئے 35 لاکھ ووٹنگ یونٹ ، بیلٹ یونٹ اور وی وی پیٹ یونٹ کی کمی ہے ۔جب کچھ ریاستوں میں لوک سبھا اور اسمبلی ایک ساتھ ہوتے ہیں تو ووٹر دو الگ الگ ای وی ایم میں اپنا ووٹ ڈالتے ہیں ۔فی الحال لوک سبھا چناو¿ میں 12.50 لاکھ پولنگ مرکز تھے ۔کمیشن کو اب اتنے پولنگ مرکز بوتھ کے لئے تقریباً 15 لاکھ کنٹرول یونٹ ،15 لاکھ وی وی پیٹ یونٹ اور 18 لاکھ بیلٹ یونٹ کی ضروت ہے ۔الیکشن کمیشن نے ایک پروگرام میں اداکار راج کمار راو¿ کو اپنا قوامی آئیکون مقرر کیا ہے ۔عام آدمی کو پولنگ کے لئے وہ راغب کریں گے ۔
(انل نریندر)
ڈیپ فیک ویڈیو کی بھرمار!
بالی ووڈ ایکٹریس رشمیکا مندھانا آج کل شرخیوں میں ہیں اور اس کے ساتھ ڈیپ فیک تکنیک کو لیکر بھی ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے ۔پشپا جیسی کامیاب فلموں سے الگ پہچان بنانے والی رشمیکا مندھانا کی چرچا فی الحال ایک وائرل ویڈیو کو لیکر ہو رہی ہے ۔20 فیک ویڈیو کے ذریعے تیار اس میں نظر آرہی ایک عورت کو رشمیکا مندھانا کی طرح دکھانے کی کوشش کی گئی ۔رشمیکا نے اسے لے کر دکھ ظاہر کیا ہے اور جلدی سے جلدی اس کا حل تلاشنے کی اپیل کی ہے ۔جس سے کسی اور کا اور ان کے جیسی تکلیف نہ جھیلنی پڑے ۔رشمیکا نے شوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا ایمانداری سے ، ایسا کچھ بھی بہت ڈراونا ہے ۔نہ صرف میرے لئے بلکہ ہم سبھی کے لئے ۔انہوں نے آگے لکھا کہ آج تکنیک کا جس طرح سے بے جا استعمال ہو رہا ہے اس سے نہ صرف انہیں بلکہ تمام دوسرے لوگوں کو بھی بھاری نقصان ہو سکتا ہے ۔آج ایک عورت ایک اداکارہ ہونے کے ناطے میں اپنے پریوار ،دوستوں اور اپنے ہمدردوں کی شکر گزار ہوں جو میرے محافظ ا ور سپورٹ سسٹم ہیں لیکن ایسا کچھ تب ہوتا جب میں اسکول یا کالج میں تھی تو میں سچ میں تصور نہیں کر سکتی ہوں تب میں نے اس کا کیسے سامنا کیا ہوتا ۔وہیں مرکزی وزیر راجیو چندر شیکھر نے کہا کہ شوشل میڈیا پلیٹ فارم کو یہ یقینی کرنی چاہیے کہ کس انفارمیشن ،ان کے پلیٹ فارم پر شیئر نہ کیا جائے ۔اداکارہ رشمیکا مندانا کا ڈیپ فیک ویڈیو کا فیکٹ چیک کرنے والے ایک شخص نے دی ہے ۔فیکٹ چیکنگ ویب سائٹ آلٹ نیوز سے جڑے ایکسپرٹ نے ایکس پر بتایا یہ ویڈیو ڈیپ فیک تکنیک کا استعمال کرکے بنایا گیا ہے اور ویڈیو میں نظر آنے والی عورت رشمیکا مندھانا نہیں ہے ۔ڈیپ فیک کیا ہے ؟ڈیپ فیک ایک تکنیک ہے جس میں اے آئی کا استعمال کرکے ویڈیو ایمیجوں کو اور آڈیو میں ہیر پھیر کیا جا سکتاہے۔اس تکنیک کی مدد سے کسی دوسرے شخص کی فوٹو اور ویڈیو پر کسی اور چہرہ لگا کر اسے بدلا جا سکتا ہے ۔آسان زبان میں کہیں تو اس تکنیک میں اے آئی کا استعمال کرکے ڈیپ فیک ویڈیو بنائی جا سکتی ہے جو دیکھنے میں ریئل لگتی ہے لیکن ہوتی فیک ہے اسی وجہ اس کا نام ڈیپ فیک رکھا گیا ۔رپورٹ کے مطابق اس لفظ کا چلن 2017 میں شروع ہوا جب ایک ریڈر یوزر نے فحش ویڈیو میں چہرہ بدلنے کیلئے اس تکنیک کا استعمال کیا تھا بعد میں ریڈر نے ڈیپ فیک پورن کو بین کر دیا تھا ۔ڈیپ فیک بے حد پیچیدہ تکنیک ہے اس کے لئے مشین لرننگ یعنی کمپیوٹر میں صلاحیت ہونی چاہیے ۔ڈیپ فیک کیرٹ ،ڈیپ فیک ہورر ۲ الگوردم کا استعمال کرکے بنائی جاتی ہے جو ایک دوسرے کے ساتھ مقابلہ کرتی ہے ۔ایک ڈکوڈر کہتے ہیں تو دوسرے کو انکوڈر اس میں فیک ڈیجیٹل مواد بناتا ہے اور ڈکوڈر اے یہ پتہ لگانے کو کہتا ہے کہ موجودہ مواد ریئل ہے یا نقلی ۔ہر بار ڈکوڈر کنٹینٹ کو ریئل یا فیک کی شکل میں صحیح ڈھنگ سے پہچانتا ہے پھر وہ اس جانکاری کو انکوڈر کو بھیج دیتی ہے تاکہ اگلے ڈیپ فیک میں غلطیاں سدھار کر اسے اور بہتر کیا جاسکے ۔پورنو گرافی میں اس تکنیک کو کافی استعمال ہوتا ہے ۔ایکسرس اور ایکسٹرینس کا چہرہ بدل کر فحشی مواد پورن سائٹ پر پوسٹ کیا جاتا ہے ۔ڈیپ ڈریس کی رپورٹ کے مطابق 2019 میں آن لائن پائے گئے ڈیپ فیک میں 96 فیصد فحشی مواد کا ڈیپ فیک مواد میں کلرنگ کو دیکھ کر بھی پتہ لگایا جاسکتا ہے کہ تصویر میں یا ویڈیو میں چھیڑ چھاڑ کی گئی ہے ۔اکثر ڈیپ فیک تک کی بنیاد فینس اور سائنس کو پوزیشن میں مات کھاجاتا ہے ۔
(انل نریندر)
14 نومبر 2023
نگرانی کے لئے اسپیشل بینچ بنائے !
سپریم کورٹ نے ایک اہم فیصلے کے تحت دیش بھر کی ہائی کورٹ سے پبلک نمائندوں کے خلاف زےر التوا مجرمانہ موقدموں کی نگرانی کے لئے ایک اسپیشل بینچ بنانے کی ہدایت دی تاکہ ان مقدموں کا جلد نپٹارا یقینی کیا جا سکے ۔اس حکم کا مقصد نیتاﺅ کے خلاف 5 ہزار سے زیادہ معاملوں میں فوری سماعت ہے بڑی عدالت نے خصوصی عدالتوں سے یہ بھی کہا کہ وہ پیچیدہ اور مجبوری اسباب کو چھوڑ کر ایسے معاملوں کی سماعت ملتوی نہ کریں ۔سپریم کورٹ نے کہا معاملوں کی نگرانی کے لئے اسپیشل بےنچ کی سربراہی ےا تو چیف جسٹس خود کریں یا کسی بینچ کو نامزد کریں ۔ان معاملوں کو لیکر سرکاری خاکہ تیار کریں اور ایک ویب سائٹ بنیں جس میں ضلہ وار حالات اور تفصیل ہو کی وہا کتنے مقدمیں لٹکے پڑے ہیں سپریم کورٹ نے یہ بھی کہا کہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ضلع ججوں سے معاملوں کو نپٹانے کے لئے وقتا فو وقتارپورٹ لیتے رہیں ۔اور کہا اس ویب سائٹ میں ممبر پارلیمنٹ اور ممبر اسمبلی کے خلاف لٹکے معاملوں کی رپورٹ مسلسل ڈالی جائے دراصل ایمپیز ایم ایلیز کے خلاف بڑھتے مجرمانہ معاملوں کو دیکھتے ہوئے سپرےم کورٹ نے مرکزی حکومت کو ان سبھی ریاستوں میں ایم پی ایم ایل اے کورٹ بنانے کا حکم دیا تھا جہاں پر ان پبلک نمائندوں کے خلاف 65 سے زیادہ معاملے لٹکے پڑے ہیں ۔سنگین جرائم میں الزام طے ہوئے ہی چناﺅ لڑنے پر روک سے متعلق سپریم کورٹ آگے سماعت کرکے حکم جاری کرے گا ۔اب ریاستی حکومتیں ممبر پارلیمنٹ اور ممبر اسمبلی پر چل رہے مجرمانہ کیس خود واپس نہیں لے سکیں گی اس کے لئے ریاستی ہائی کورٹ کی منظوری لینی ہو گی سپریم کورٹ نے یہ فےصلہ اس عرضی پر کیا ہے جس میں یہ بات کہی گئی تھی ۔بےنچ نے ستمبر 2020 کے بعد ایم پی اور ممبران اسمبلی پر کیس واپس لئے گئے معاملے دوبارہ کھلونے کو کہا ہے چےف جسٹس ڈی وائی چندر چور جسٹس جے بی پاردی والا اور جسٹس منوج مشر کی بینچ نے وکیل اشونی کمار اپادھیائے کی مفاد عامہ کی عرضی پر ایسے کیس جلد نپٹانے کے لئے موت کی سزا والے معاملوں کو ترجحی دینے کے لئے درخواست کی گئی تھی بےنچ نے کہا چیف جسٹس پبلک نمائندوں کے لئے نامزد عدالتوں کے سلسلے میں اب خود نوٹس لیکر مقدمہ درج کریں گے اور معاملوں کو اسپیشل بینچ کے سامنے اندراج کر سکتے ہیں جس میں مقدمہ پر روک کے حکم پاس کئے گئے ہیں تاکہ کیس کی شروعات اور اختتام کے لئے روزانہ کے حکم پاس یقینی ہو ں سکے بڑی عدالت نے بتایا ایسے معاملوں کے لئے دیش بھر کی ٹرائیل عدالتوں کے لئے ےکسہ گائڈ لائنس بنانا اس کے لئے مشکل ہوگا۔ایسے میں حالانکہ نگرانی کے قدم اٹھانے کے ذمہ داری ہائی کورٹ کو دے دی ہے اور اس لئے یہ مناسب بھی ہے کیوں کہ وہیں خانہ پوری اور انتظامی ستح پر ان مقدموں سے نمٹ رہے ہیں اور ہر ضلع عدالتوں میں مقدمات کی پوزیشن کو اچھی طرح سے جانتے ہیں ۔
(انل نرےندر)
اور اب اسپتالوں پر تابڑ توڑ حملے !
شمالی غزہ میں اسرائیلی فوجیوں اور حماس کے درمیان جاری جنگ کے درمیان اسپتالوں زیرعلاج اور عملے سمیت ہزاروں لوگوں کے لئے خطرہ پیدا ہو گیا ہے ہوائی حملوں کے ساتھ زمینی لڑائی بھی جاری ہے ۔اسرائیلی فوج غزہ کے بڑے اسپتالوں الشفہ القدوس الرینتسی انڈونیشیا اسپتال کے قریب پہنچ گئی ہے ان اسپتالوں میں زخمیوں اور مریضوں اور میڈیکل اسٹاف کے علاوہ ایسے لوگ بھی بڑی تعداد میں جن ہوںنے حفاظت کے لئے یہاں پناہ لی ہوئی ہے ۔جشموں دید نے بی بی سی کو بتایا کہ جمعہ کے دن اسپتالوں کے پاس سے گولا باری اور دھماکوں کی آوزیں آتی رہی ہیں اور ایک ویڈیوں میں ایک عورت کہہ رہی تھی الرینتسی اسپتال کو اسرائیلی ٹینکوں نے گھیر لیا ہے اور سب کو نکلنے کو کہا ہے۔اس بات کی تصدیق ہو چکی ہے کہ ویڈیو اس اسپتال کی ہی ہے اس کے علاوہ اسرائیلی فوج کے ٹینکوں نے الشفہ اسپتال کو بھی گھیر لیا ہے اسپتال کے نیچے بنی سرنگوں سے اپنی کارروائیاں چلانے کا الزام اسرائیل حماس پر لگاتا رہا ہے حماس ان الزامات کو غلط بتا رہا ہے۔ریڈ کراس کی انٹرنیشنل کمیٹی نے خبردار کیا ہے کے شمالی غزہ کے اسپتال کے اس دور میں پہنچ گئے ہیں جہاں سے وہ پہلے کبھی نہیں پہنچ پائے اس وجہ سے ہزاروں لوگوں کی جان کو خطرہ پیدا ہو گیا ہے ۔غزہ میں شہر کے چاروں طرف بنے اسپتالوں میں کشیدگی کے حالات بنے ہوئے ہیں غزہ کے ایک شخص خان یونس نے بتایا کہ الشفا اسپتال کے اندر سے موجود لوگوں کو دھماکوں اور گولا بازی کی آوازیں سنائی دیتی ہیں اسپتال کے ڈائرکٹر کے کہنا ہے کہ اسپتال کے اندر 15 ہزار لوگ ہیں ان میں وہ بھی شامل ہیں جو پاس میں بنے پناہ گوزی کیمپ سے بھاگ کر جان بچانے کے لئے آئے ہوئے ہیں کچھ لوگ اسپتال سے جا چکے ہیں کیوں کہ اب وہ ان کے لئے محفوظ نہیں رہا ہے اسپتال میں وہی لوگ ہیں جو بزرگ اور بیمار ہیں ان کی تعداد زیادہ ہے یہ لوگ جنوبی غزہ کی طرف سے جا سکتے جسے اسرائیل محفوظ پتا رہا ہے زخمیوں کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ انہیں برادموں اور فرش پر رکھا ہو اہے غزہ سٹی کے انستر اسپتال کا ایک ویڈیو بھی سامنے آیا ہے جس میں بچوں اور بزرگوں سمیت کچھ لوگ سفید جھنڈے دکھاتے ہوئے نکلنے کی کوشش کر رہے تھے اور دھماکہ کی آواز سنائی دےنے پر یہ لوگ پھر واپس اسپتال آ گئے ۔تقرےباً یہ تئے تھا جب اسرائیل فوج جب اسرائیل میں داخل ہوں گی تو ان بڑے اسپتالوں کی طرف بھی رخ کریں گی ایسا اس لئے کیوں کہ اسرائیل پہلے سے ہی حماس پر اسپتالوں سے اپنی کارروائیاں چلانے کا الزام لگاتا رہا ہے ۔اس جنگ کو 35 دن ہو چکے ہیں حما س کے تحت کام کرنے والے وزارت صحت نے بتایا کہ غزہ میں اسرائیلی حملوں میں اب تک 11 ہزار سے زےادہ لوگوں کی جان گئی ہے اور ہزاروں زخمی ہیں 7 اکتوبر کو ہوئے حماس کے حملے میں 1200 ساہیلیوں کی موت ہو گئی تھی اور 240 لوگوں کو ےلگمار بنا لیا تھا اسرائیلی فوج کا کہنا ہے پچھلے 2 دن میں 1 لاکھ لوگ جنوبی غزہ کی طرف چلے گئے ہیں ۔
(انل نرےندر)
سبسکرائب کریں در:
تبصرے (Atom)
ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...
-
سپریم کورٹ میں بھی عجیب و غریب مقدمات آرہے ہیں۔ تازہ مثال بحریہ کے کچھ افسروں پر بیویوں کی ادلہ بدلی سے متعلق معاملات ہیں۔ بحریہ کے ایک اف...
-
ہندوتو اور دھرم پریورتن، گھر واپسی سمیت تمام معاملوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس پریوار سے جڑے لیڈروں کے متنازعہ بیانات سے وزیر...
-
مدھیہ پردیش کے ہائی پروفائل ہنی ٹریپ معاملے سے نہ صرف ریاست کی بلکہ دہلی کے سیاسی حلقوں میں مچا دئے معاملے میں اہم سازشی گرفتار ہو چکی شیو...